5/1/24

اردو—ہندی ناولوں اور ڈراموں پر مبنی فلموں کا مختصر جائزہ: شہزاد بخت

 

فلمسازوں کی بنیادی ضرورت ناول کی ایک ایسی کہانی ہوتی ہے جو دل پذیر ہو اور عوامی مزاج سے ہم آہنگ بھی ہو۔ تفریح کے پیش نظر پردۂ سیمیں پر پیش کرنے کے لیے کہانیوں کی تلاش میں سنیما وقتاً فوقتاً تمام زبانوں کے ادب پر منحصر رہاہے۔ ادب اپنی مقبولیت، شہرت اور عوامی رسائی کے لیے ہمیشہ پردۂ سیمیںکا متلاشی رہتا ہے چونکہ اس کی  اس قدر وسیع پیمانے پر نمائش اور پسندیدگی کا کوئی اور مؤثر ذریعہ میسر نہیں ہے۔کسی ناول کے مواد یا کہانی کو پردۂ سیمیں پرفلمی شکل میں ڈھال کر پیش کرنا اور عوام کو متاثر کرلینانہایت مشکل کام ہے، فلم کی کہانی باوجود تمام کوشش کے اگر کلاسک بنتی ہے تو یہ امر مزید پیچیدہ اور توجہ طلب ہوجاتا ہے۔ یہ ہدایت کار کااپنا وژن ہے کہ وہ کہانی کے ساتھ انصاف کر سکتا ہے یا نہیں۔ ستیہ جیت رے، رتوک گھاٹک، مرنل سین، اور شیام بینگل جیسے فلم سازوں نے بغیر کسی رکاوٹ کے صفحات پر موجود الفاظ کو اسکرین پر چلتے پھرتے منظر ناموں، جذبات و احساسات سے پْر مکالموں میں تبدیل کیا ہے۔

زیر نظرمضمون میں ہم دیگر زبان و ادب کے مقابلے میں اردو ناولوں کا تذکرہ کریں تو مقام تاسف ہے کہ اردو ناول باوصف تمام اپنا لوہا منوانے میں اس قدر کامیاب نظر نہیں آتے جس کے وہ قرار واقعی مستحق ہیں۔ اس مطالعے کا مقصد اس صد سالہ فلمی منظر نامے میں اردو ناول کی بازیافت اورمستقبل میں امکانات کی تلاش و جستجو سے عبارت ہے۔ تقریباً گزشتہ نصف صدی سے زائد عرصے یں اردو زبان ادب کی دھاک جہاں مکالمہ نگاری، نغمہ نگاری، منظر نامے اور کہانی کے حوالے سے قائم تھی اب وہ علاقائی زبان و ادب کی رہین منت بن کر رہ گئی ہے۔اس سلسلے میں از سر نو احیاکے لیے کون سے نتیجہ خیز اور مؤثر اقدامات کرنے ہوں گے یہ قابل تدبر وتفکر نیزغورطلب مسئلہ ہے۔ بہر کیف یہاں ہم کلاسک ناولوں پر مبنی چند نمایاں ہندوستانی فلموں کا جائزہ لیتے ہیں کہ کیسے فلموں کے کردار ایک ناول کے محور پر اپنے تاثر کا جلوہ بکھیرتے ہیں۔

ولیم شیکسپیئر کے ناولوں پر مبنی فلمیں

مشہور زمانہ،صاحب اسلوب اور ڈرامہ صنف کے بے تاج بادشاہ ولیم شیکسپیئر کو کون نہیں جانتا؟ برصغیر ہی نہیں بلکہ دنیا کے تمام زبان و ادب کی عوام میں موصوف یکساں مقبول ہیں۔ذہین ڈرامہ نگار کے ڈرامے زمانہ قدیم سے دنیا بھر کے تھیٹروں میں مختلف زبان و ادب میں پیش کیے جاتے رہے ہیں۔ معروف بھارتی اداکار نصیرالدین شاہ نے ایک مرتبہ کہا تھا۔

’’جڑیں کھوئی ہوئی نظر آتی ہیں، لیکن ہندی فلم انڈسٹری کی ہر بڑی کہانی شیکسپیئر کی ہے۔‘‘

 آئیے ہم ولیم شیکسپیئر کے ڈراموں او ر اردو ادب کے ساتھ ساتھ دیگر زبان و ادب پر مبنی ناولوں کی فلمبندی پر ان کی ضمنیات کے ساتھ دیگر بالی ووڈ فلموں پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔بالی ووڈ میں ولیم شیکسپیئر کے بہت سارے مداح ملے، جنھوں نے ان کے ڈراموں اور کہانیوں (ناولوں) کو بالی ووڈ بلاک بسٹرمیں تبدیل کیا۔

ہیملیٹ کا المیہ1603 میںڈنمارک کے شہزادہ ہیملیٹ کا المیہ پر مبنی ناول لکھاگیا تھا۔

اس سانحے نے ڈرامے ’حیدر‘ کو متاثر کیا، جس میں شاہد کپور، شردھا کپور، تبو ،کے کے مینن، اور عرفان خان شامل تھے۔ فلم کو وشال بھاردواج اور سدھارتھ رائے کپور نے پروڈیوس کیا ہے، اور اس کے ہدایت کار وشال بھاردواج ہیں۔ یہ تیسری فلم ہے جسے بھاردواج نے شیکسپیئر کے ڈراموں سے اخذ کیا ہے۔

میکبتھ کا المیہ اپریل 1611 میں لکھا گیاتھا۔ مقبول اسی پر مبنی ہے۔ممبئی گینگیسٹر کی سیاہ کہانی خونریزی اور فریب سے بھری ہوئی تھی۔  اس فلم میں پنکج کپور، عرفان، تبو، نصیرالدین شاہ، اوم پوری اور پیوش مشرا جیسے کچھ بڑے ہندوستانی سینما ستارے تھے۔ سال 2003 میں ریلیز ہونے والی اس فلم کو بوبی بیدی نے پروڈیوس کیا تھا اور اس کی ہدایت کاری وشال بھادواج نے کی تھی، جنھوں نے فلم کا بیک گراؤنڈ اسکور بھی کمپوز کیا تھا۔ اگرچہ معاشی طور پر آمدنی میں زیادہ مؤثر کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی، لیکن اداکاری اور ہدایت کاری کے فنی لحاظ سے اس فلم کو ایک سنگ میل سمجھا جاتا ہے۔

اوتھیلو کا المیہ پر اومکارا مبنی ہے۔یہ فلم بے حد پسند کی گئی، لنگڑا تیاگی، کیسو فرنگی یا اومکارا کے کرداروں نے ہماری زندگیوں میں اپنے نقوش چھوڑے ہیں۔ اس میں اجے دیوگن، کرینہ کپور، کونکنا سین شرما، سیف علی خان، وویک اوبرائے، نصیر الدین شاہ اور بپاشا باسو نے اداکاری کی۔ 2006 کی فلم کو کمار مانگٹ نے پروڈیوس کیا تھا اور اس کی ہدایت کاری وشال بھاردواج نے کی تھی۔

کامیڈی آف ایررز1594 میں لکھے جانے والے کامیڈی ڈرامے نے چھ تا دس ہندوستانی فلموں کو متاثر کیا ہے۔

دو دُونی چار (1968) جس میں کشور کمار اور اسیت سین شامل تھے۔

 انگور (1982) سنجیو کمار اور دیون ورما نے اداکاری کی۔شیکسپیئر کی ’کامیڈی آف ایررز‘ پر مبنی فلم ’انگور‘ کی ہدایت کاری گلزار نے کی تھی۔

 بھرنتی بلاس (1963 بنگالی فلم) جس میں اتم کمار اور بھانو بندوپادھیائے نے اداکاری کی۔

 الٹا پلٹا(1997 کنڑ فلم) جس میں رمیش اراوِند اور کریب سوایا نے اس فلم میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔

رام اور شیام  دلیپ کمار وحیدہ رحمان نروپا رائے اور پران  نے اس فلم میں اداکار کی۔

رومیو اینڈ جولیٹ1597 میں لکھا گیا،اس ٹریجڈی ڈرامے نے آج تک کئی بالی ووڈ فلموں کو متاثر کیا ہے۔ رومیو اور جولیٹ سے متاثر ہونے والی کچھ فلموں کے عنوانات درج ذیل ہیں:

 بابی (1973) جس میں رشی کپور اور ڈمپل کپاڈیہ تھی۔

 ایک دوجے کے لیے (1981)  جس میں کمل ہاسن اور رتی اگنی ہوتری نے اداکاری کی۔

صنم تیری قسم (1982) جس میں کمل ہاسن اور رینا رائے شامل ہیں۔

 قیامت سے قیامت تک (1988) جس میں عامر خان اور جوہی چاولہ نے اداکاری کی۔

 سوداگر (1991) جس میں منیشا کوئرالہ اور وویک مشران شامل تھے۔

 عشق زادے(2012) جس میں پرینیتی چوپڑا اور ارجن کپور نے اداکاری کی۔

عشقIssaq (2013) اداکار پرتیک اور عمیرہ دستور اور گولیوں کی راس لیلا: رام لیلا (2013) جس میں دیپیکا پڈوکون اور رنویر سنگھ شامل ہیں۔

منشی پریم چند کے ناولوں پر مبنی فلمیں

شطرنج کے کھلاڑی (1977) :

ہدایت کار:ستیہ جیت رے۔شاید،منشی پریم چند کے ساتھ فخر بنگال ہدایت کار ستیہ جیت رے کے تعاون سے سب سے زیادہ مشہور، 1977 کی کلاسک فلم شطرنج کے کھلاڑی رہے۔ یہ اودھ بادشاہی کے آخری دنوں اور وقت کے بہاؤ میں پھنسے غیر فعال مردوں کی بے حسی پر مصنف کی کہانی پر مبنی فلم تھی۔ جس میں امجد خان، سعید جعفری، سنجیو کمار، شبانہ اعظمی، فاروق شیخ اور رچرڈ ایٹنبرو کی شاندار کاسٹ نے ستیہ جیت رے کے وژن کے جادو میں اضافہ کیا۔ ستیہ جیت رے کی پہلی ہندی فلم، شطرنج کے کھلاڑی، 1977 میں ریلیز ہوئی تھی۔ یہ فلم منشی پریم چند کی اسی نام کے افسانے پر مبنی ہے اور یہ 1857 میں پہلی جنگ آزادی سے عین قبل 1856 کی کہانی پربنائی گئی ہے۔ فلم کی کہانی دو رئیسوں کے گرد مرکوز ہے جو شطرنج کھیلنے میں اس قدر ڈوبے ہوئے ہیں کہ وہ اپنے فرائض اور ذمے داریوں سے غفلت برتتے ہیں۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے ذریعے اپنے گھر، اودھ کے الحاق کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔

غبن (1966) :

ہدایت کا ر : رشی کیش مکھرجی۔ نسبتاً زیادہ بالی ووڈش فلم رشی کیش مکھرجی کی غبن(1966) تھی۔ جو منشی پریم چند کے اسی نام کے کلاسک ناول پر مبنی ہے۔ اس میں سنیل دت اور سادھنا نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ ایک اچھے آدمی کی کہانی جو اپنا راستہ کھو دیتا ہے، غبن میں سنیل دت نے تنقیدی طور پر سراہا جانے والاکردار ادا کیا۔

گئودان (1963):

 ہدایت کار: ترلوک جیٹلی۔ یہ پہلی بار 1936 میں شائع ہوا،  ’گئودان‘ کا شمار ہندی میں لکھے گئے عظیم ناولوں میں ہوتا ہے۔ اس کتاب نے 1963 میں ترلوک جیٹلی کی ہدایت کاری میں بڑے پردے پر اپنا راستہ تلاش کیا۔ راج کمار اور کامنی کوشل، محمود اور شوبھا کھوٹے کے ساتھ معاون کرداروں میں، یہ فلم پریم چند کے ناول کے مطابق تھی۔

مل مزدور: 1934 :

ہدایت کا ر موہن بھونانی۔ مشہور مصنف منشی پریم چند کی لکھی ہوئی یہ واحد فلم ہے جس میں انھوں نے ایک مختصر کردار بھی ادا کیا ہے۔ اس فلم کو تنازعات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اس کی کہانی ایک پرہیزگار مل مزدور کے ایک پرجوش بیٹے کی ہے جو مل کا وارث ہوتا ہے اور اپنے کارکنوں کے ساتھ حقارت کا سلوک کرتا ہے۔ یہ اپنی بہن کے ساتھ تنازعات میں رہتا ہے جو اپنے والد کی میراث کو جاری رکھنے کی خواہشمند ہے۔ بہن کے مزدوروں کو اپنے بے راہرو بھائی کے خلاف ہڑتال پر اکسانے کے منظر نے پورے ملک میں خاص طور پر ٹیکسٹائل ملوں کے مرکز ممبئی میں اشتعال انگیز ردعمل کو جنم دیا اور بہت سے معاملات میں طاقت کے استعمال کے ذریعے فلم کو سینما گھروں سے باہر نکالنا پڑا۔ . پھر بھی اس نے اُس زمانے میں صنعتی زندگی کے ساتھ ساتھ محنت کشوں کی مشکلات کی ایک واضح، درست تصویر کشی ہے۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ بنارس میں پریم چند کے اپنے پریس کے کارکنوں کو اس فلم کے ذریعے اجرت کی عدم ادائیگی کے خلاف ہڑتال کرنے کی تحریک ملی۔کتھا سمراٹ پریم چند نے ہندی فلم انڈسٹری کے لیے اسکرپٹ بھی لکھے، لیکن ان کا کیریئر آگے نہیں بڑھ سکا۔ کون سی طنزیہ تحریر ان کی راہ میں حائل ہوئی؟اس پر کچھ کہنا دشوار ہے۔

 ہیرا موتی (1959):

’دو بیلوں کی کتھا‘ منشی پریم چند کی بہت سی مختصر کہانیوں میں سے ایک ہے۔ کہانی دو بیلوں اور ایک غریب کسان کی زندگی میں ان کی اہمیت کے گرد گھومتی ہے۔ فلم ہیرا موتی (1959) نے ٹکٹ کاؤنٹر پر شاید کوئی نشان نہ بنایا ہو، لیکن اس میں نروپا رائے اور بلراج ساہنی نے کام کیا، جو خود ترقی پسند مصنفین تحریک کی پیداوار تھے۔

سدگتی (1981)1981 :

 قومی چینل دوردرشن نے ایک فلم بنانے کے لیے ستیہ جیت رے سے رابطہ کیا، اور ماسٹر نے اس کام کے لیے پریم چند کی ایک کلاسک کہانی کا انتخاب کرنے پر مجبور کیا۔ ٹیلی فلم سدگتی ایک ’اچھوت‘ شخص کی کہانی پر مبنی تھی جو ایک برہمن کو خوش کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اچھوت چاہتا ہے کہ برہمن اس کی بیٹی کی شادی کی رسومات ادا کرے۔ یوں بھی ایسا لگتا ہے کہ منشی پریم چند کی کہانیوں کا ستیہ جیت رے پر گہرا اثر تھا، کیونکہ ان کی دوسری ہندی فلم مصنف کی کہانی سدگتی پر مبنی تھی۔ اوم پوری اور سمیتا پاٹل نے اداکاری کی، سدگتی اس ملک میں اچھوتوں کی المناک زندگیوں کا ایک خوفناک واقعہ ہے۔

بازار حسن   2014 ( جسم فروشی):

 گھوش، جیت گوشوامی، اوم پوری اور یشپال شرما، اور دھننجے کمار نے لکھا تھا۔اس کی کاسٹ میںمعروف ٹی وی سٹار ریشمی گھوش بازار حسن میں سمن کے روپ میں نظر آ رہی ہیں۔ جب کہ اوم پوری ان کے والد کشن چند کا کردار نبھا رہے ہیں۔ جیت گوشوامی اور یشپال شرما جیسے اداکار  ریشمی گھوش پر مبنی فلم کی ذات بحیثیت سمن، جیت گوسوامی سدان، اوم پوری بطور کشن چند، یشپال شرما بطور گجادھر، راجیشوری سچدیو دیدی کے طور پرفلم میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

پتی پتنی اور وہ (1978):

پتی پتنی اور وہ، بی آر چوپڑا کی 1978 کی فلم جس میں سنجیو کمار، ودیا سنہا اور رنجیت کور شامل ہیں، یہ ہندی ناول نگار کملیشور کے ناول ’ پتی پتنی اور وہ‘ پر مبنی ہے۔ کملیشور نے فلم کا اسکرین پلے بھی لکھا، جس کے لیے انھیں فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ یہ فلم ماورائے ازدواجی معاملات پر ایک مزاحیہ انداز کی فلم ہے جس میں مرکزی کردار شادی شدہ ہونے کے دوران اپنے سیکرٹری کے ساتھ ناجائز تعلقات میں مشغول ہو جاتا ہے۔ یہ فلم ان مزاحیہ حرکات کی پیروی کرتی ہے جس میں وہ اپنی بیوی اورسکریٹری دونوں سے سچائی چھپانے کے لیے کرتا ہے۔

گلشن ننداکے ناولوں پر مبنی فلمیں

گلشن نندا بالی ووڈ فلموں کا کافی مشہور و معروف نام ہے۔ ناول نگار گلشن نندا، موجودہ دور کے تجربہ کار پبلسٹی ڈیزائنرز راہُل اور ہمانشو نندا کے والد، 60 اور 70 کی دہائی میں اس قدر مقبول تھے کہ ان کے بیشتر ناولوں کو مندرجہ ذیل کامیاب فلموں میں ڈھالاگیا۔

فلم کاجل (1965) :

گلشن ننداکی کامیابی کی کہانی اسی فلم  سے شروع ہوئی جو گلشن نندا کے ناول ’مادھوی‘ پر مبنی تھی۔

پھولوں کی سیج1964 :

یہ ہندوستانی ہندی زبان کی سماجی فلم ہے جسے اندر راج آنند نے لکھا اور ہدایت کاری کی جو گلشن نندا کے اسی نام کے ناول پر مبنی ہے ۔

کاجل (کحل) (1965):

ایک بالی ووڈ فلم ہے جو گلشن نندا کے ناول ’مادھوی‘ سے اخذ کی گئی ہے۔

ساون کی گھٹا  (1966):

ایک بالی ووڈ میوزیکل رومانوی فلم ہے یہ گلشن نندا کے ناول پر مبنی تھی۔

پتھر کے صنم (1967):

بالی ووڈکی ہندوستانی ہندی زبان کی فلم ہے یہ فلم گلشن نندا کے ناول پر مبنی تھی۔

نیل کمل (1968) :

بالی ووڈکی یہ بہترین فلم گلشن ننداکے ناول پر مبنی ہے جس کی ہدایت کاری رام مہیشوری نے کی تھی۔

کھلونا  (1970):

 ایک بالی ووڈ میوزیکل رومانی ہے یہ فلم گلشن نندا کے ناول پر مبنی تھی۔

کٹی پتنگ (1971):

 یہ فلم مشہو ر ہندی ناول نگار گلشن نندہ کے کٹی پتنگ ناول پر مبنی ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ گلشن نندا کو فلم کا اسکرین پلے لکھنے کا موقع ملا۔

شرمیلی  (1971):

ایک بالی ووڈ میوزیکل رومانی ہے یہ فلم گلشن نندا کے ناول پر مبنی تھی۔

نیا زمانہ  (1971) :

ایک بالی ووڈ میوزیکل رومانی ہے یہ فلم گلشن نندا کے ناول پر مبنی تھی۔اسے آغاجانی کشمیری نے لکھا۔

داغ (1973):

 ایک بالی ووڈ میوزیکل رومانی ہے یہ فلم گلشن نندا کے ناول پر مبنی تھی۔

جھیل کے اس پار  (1973):

 ایک بالی ووڈ میوزیکل رومانی فلم ہے یہ فلم گلشن نندا کے ناول پر مبنی تھی۔

جگنو  (1973):

  ایک بالی ووڈ میوزیکل رومانی فلم ہے یہ فلم گلشن نندا کے ناول پر مبنی تھی۔

جوشیلا(1973):

 ایک بالی ووڈ میوزیکل رومانی فلم ہے یہ فلم گلشن نندا کے ناول پر مبنی تھی۔

اجنبی (1974):

 ایک بالی ووڈ میوزیکل رومانی فلم ہے یہ فلم گلشن نندا کے ناول پر مبنی تھی۔

چھوٹے سرکار (1974):

 ایک ہندوستانی بالی ووڈ فلم ہے یہ فلم گلشن نندا کے ناول پر مبنی تھی۔

بھنور  (1976) :

بالی ووڈ کی ایک ہندی فلم ہے گلشن نندا  کے ناول پر مبنی ہے او انھوں نے ہی اسکرین پلے بھی لکھا ہے۔

آزاد (1978):

  یہ بالی ووڈ ایکشن تھرلر فلم ہے۔ تحریر سچن بھومک، گلشن نندا احسان رضوی وغیرہ کی ہے۔

بڑے دل والا (1983):

 بالی ووڈکی ہندی زبان کی ایکشن کرائم ڈرامہ فلم ہے۔گلشن نندا (کہانی)، سی جے پاوری (اسکرین پلے)، ڈاکٹر راہی معصوم رضا (مکالمے) نے لکھے۔

بندیا چمکے گی (1984):

بالی ووڈ ایک ہندوستانی ہندی فلم ہے جسے گلشن نندا نے تحریر کیا تھا۔

بادل (1985):

بالی ووڈکی ہندوستانی ہندی زبان کی ڈرامہ فلم جس میں۔ مکالمے گلشن نندا - اسکرین پلے، موتی ساگرنے لکھے ہیں۔

نذرانہ  (1987):

 بالی ووڈکی ایک ہندوستانی ڈرامہ فلم ہے،  اس میںجے کول کا اسکرین پلے گلشن نندا کی کہانی ہے۔

اردو ناولوں پر مبنی فلمیں

گرم ہوایہ‘  معروف ادیبہ عصمت چغتائی کے ناول گرم ہوا پر مبنی ہے۔

انسان اور گدھا1973:

 فلم کا مرکزی خیال کرشن چندر کے ناول ’گدھے کی سرگزشت‘ سے لیا گیا تھا۔

امراؤ جان1972،,1981 ,2006 2003 امراؤ جان ادا (اردو: اُمراؤ جان ادا) مرزا ہادی رسوا (1857-1931) کے ایک اردو ناول پر مبنی فلم ہے، موافقت:  مہندی (1958)،امراؤ جان ادا (1972 فلم)، ایک بالی ووڈ فلم۔امراؤ جان (2006 فلم)، ایک بالی ووڈ فلم۔

انار کلی /مغل اعظم(1960)۔  سید امتیاز علی تاج  (1900-1970)  ایک ڈرامہ نگار تھے جو چچا چھکن جیسے لافانی کردار کے خالق تھے جنھوں نے اردو میں انارکلی ڈرامہ لکھا۔ انھیں ان کے 1922 کے ڈرامے انارکلی کے لیے یاد کیا جاتا ہے، جو انارکلی کی زندگی پر مبنی ہے، جسے سیکڑوں مرتبہ اسٹیج کیا گیا تھا اور اسے ہندوستان اور پاکستان میں فیچر فلموں کے لیے ڈھالاگیا تھا، جس میں ہندوستانی فلم مغل اعظم (1960) بھی شامل تھی۔

کاما سوترا(1996) اس فلم کو میرا نائر نے مشترکہ طور پر لکھا اور ہدایت کاری کی۔ فلم کا پہلا حصہ ہندوستانی مصنفہ واجدہ تبسم کی اردو میں ایک مختصر کہانی ’اترن (Hand Me Downs)  پر مبنی ہے۔

متفرق ناول نگاروں کے ناولوں پر مبنی فلمیں

چترلیکھا (1941، 1964)  یہ فلم بھگوتی چرن ورما کے لکھے ہوئے ہندی ناول چترلیکھا پر مبنی ہے۔

بہو کی آواز (1985)یہ فلم وید پرکاش شرما کے ناول  ’بہو مانگے انصاف ‘پر مبنی ہے۔

تمس (1988)یہ بھیشم ساہنی کی 1975 کی ساہتیہ اکادمی ایوارڈ یافتہ کتاب، تمس پر مبنی ہے۔

محلہ آسی (2018)محلہ آسی ایک 2018 کی بالی ووڈ فلم ہے۔ یہ فلم کاشی ناتھ سنگھ کے 2004 کے ہندی ناول کاشی کا آسی پر مبنی ہے۔

دیوداس 1950, 2002۔ فلم دیوداس بنگالی ناول نگار سرت چندر چٹوپادھیائے کے لکھے ہوئے ناول پر مبنی ہے۔

پرینیتا(2004)فلم پرینیتا بنگالی ناول نگار سرت چندر چٹوپادھیائے کے لکھے گئے ناول پر مبنی ہے۔

صاحب، بیوی اور غلام (1962) بالی ووڈکی فلم ’صاحب، بیوی اور غلام‘ بنگالی مصنف بمل مترا کی لکھی ہوئی ’صاحب، بیوی اور غلام پر مبنی ہے۔

فلم گائیڈ۔(1965) مصنف آر کے نارائن (مالگوڈی ڈیز فیم) کے لکھے گئے ناول پر مبنی فلم  ہے۔

فلم داغ ایک انگریزی ناول نگار تھامس ہارڈی کے لکھے ہوئے ناول ’دی میئر آف کاسٹر برج‘ پر مبنی فلم ہے۔

فلم جنون(1978) رسکن بانڈ کے ناول ’اے فلائٹ آف دی پیجنز‘ پر مبنی فلم ہے۔

فلم پنجر امرتا پریتم کے لکھے گئے ناول ’پنجر‘ پر مبنی فلم ہے۔

فلم تھری ایڈیٹس چیتن بھگت کے لکھے گئے ناول ’5 پوائنٹ سمون‘ پر مبنی فلم ہے۔

فلم کائی پو چے۔ چیتن بھگت کے ناول ’دی تھری میسٹیکس آف مائی لائف‘ پر مبنی فلم ہے۔

فلم تیرے میرے سپنے اے جے کرونین کے لکھے ہوئے ناول ’دی سیٹاڈل‘ پر مبنی فلم ہے۔

فلم ہیلو، چیتن بھگت کے لکھے ہوئے ناول 'ون نائٹ @ دی کال سینٹر‘پر مبنی  فلم ہے۔

فلم عائشہ ،جین آسٹن کے ناول ’ایما‘پر مبنی فلم ہے۔

فلم نیم سیک ہندوستانی امریکی مصنف جھمپا لہری کے لکھے ہوئے ناول پر مبنی میرا نائر کی ہدایت کاری میں تیار فلم ہے۔

فلم بلیو امبریلا، رسکن بانڈ کے لکھے گئے ناول پر مبنی ہے جسے ’دی بلیو امبریلا‘ کہا جاتا ہے۔

فلم بلیک فرائیڈے، ایس حسین زیدی کے لکھے گئے ناول پر مبنی ہے۔

فلم ’ہزار چوراسی کی ماں‘ مہاشویتا دیوی کے ناول پر مبنی تھی۔

فلم سورج کا ساتواں گھوڑا، ڈاکٹر دھرم ویر بھارتی کے لکھے ہوئے ناول پر مبنی ہے۔

فلم رودالی، مہاشویتا دیوی کے لکھے ہوئے ناول پر مبنی ہے۔

فلم معصوم، ایک امریکی مصنف ایرچ وولف سیگل کے لکھے گئے ناول ’مین وومن اینڈ چائلڈ‘ پر مبنی ہے۔

فلم چھوٹی بہو، سرت چندر چٹوپادھیائے کے لکھے ہوئے بنگالی ناول 'بندور چھلے‘ پر مبنی ہے۔

فلم چھوکھر بالی، رابندر ناتھ ٹیگور کے لکھے ہوئے ناول پر مبنی ہے۔

فلم موسم، اسکاٹش ناول نگار اے جے کے لکھے ہوئے ناول ‘دی جوڈاس ٹری‘ پر مبنی ہے۔

فلم اپنے پرائے، بنگالی ناول نگار سرت چندر چٹوپادھیائے کے ناول ‘نشکرتی‘ پر مبنی ہے۔

فلم ‘لٹیرا‘ (1907) او ہنری کے لکھے گئے ناول ’دی لاسٹ لیف‘ پر مبنی ہے۔

فلم ‘2 اسٹیٹس‘ یہ چیتن بھگت کے ناول ‘2 سٹیٹس‘ پر مبنی ہے۔

سات خون معاف، رسکن بانڈ کے ناول ’سوزانا کے سات شوہر‘ کو وشال بھاردواج کی بالی ووڈ فلم ’ کے روپ میں پیش کیا ہے ۔

سانوریہ، سنجے لیلا بھنسالی کی طرف سے خوبصورتی سے تصویرکی گئی جادوئی کہانی ہے۔ یہ کہانی فیوڈور دوستوفسکی کی مختصر کہانی 'وائٹ نائٹس‘سے متاثر ہے۔

تیرے میرے سپنے(1971)تیرے میرے سپنے (1971) وجے آنند (دیو آنند کے بھائی) کی لکھی اور ہدایت کاری میں دیو آنند کی پروڈیوس کردہ فلم ہے، کرونن کا 'دی سیٹاڈل، طبی اخلاقیات کے متنازعہ موضوع پر گھومنے والا ایک ناول ہے۔

ارتھ(1998)  دیپا مہتا کی یہ فلم ’ارتھ‘ تقسیم ہند کی ہولناک واقعات کے گرد بنائی گئی بپسی سدھوا کے ناول ’کریکنگ انڈیا‘ پر مبنی یہ فلم ہے ۔

زبان و ادب کے ناولوں پر مبنی فلموں کے تاریخی پس منظر اور زمانہ حال کے منظر نامے کا تفصیلی مطالعہ کرنے پر اس با ت کا ادراک ہوتا ہے کہ اردوادب جتنا فنی طور پر زرخیز، دلچسپ اور تخلیقیت کے جوہر سے مالامال ہونے کے باوجود فلمی دنیا میں اپنا لوہا منوانے میں دیگر زبانوں کی بہ نسبت یکسر ناکام نظر آتا ہے۔

 

Shahzad Bakht Ansari

238, New Ward, Mamletdar Lane

Malegaon- 423203 (Maharashtra)

Mob.: 9326595753

ساحر لدھیانوی کے فلمی نغموں میں محبت و انسانیت: محمد عطاء اللہ


 

ساحرکے اندر شاعری کی بھرپور صلاحیت موجودتھی اور یہی وجہ ہے کہ انھوں نے غزلیں، نظمیں، نغمے، دوہے، حمد، قوالی، بھجن اور دوگانوں وغیرہ کے ذریعے اپنے جذبات و احساسات، افکار و نظریات اور تجربات و مشاہدات کو پیش کرکے اپنے آپ کو ایک مکمل شاعر ثابت کیا۔ ساحر نے تجربات و حوادث کی تلخیاں خود نو ش کی،  لیکن عوام و خواص کے لیے امرت کا پیالہ پیش کیا۔ اُن کا پورا کلام عظمت انسانی، اخوت و محبت، امن و آشتی اور مذہبی رواداری سے لبریز ہے۔ کلام ِ ساحرکی سحر طرازی نے اپنے معاصرین و متاخرین میں نہ صرف ان کا قد بلند کیا، بلکہ انفرادیت کا وقار بھی عطا کیا۔

ساحر کی  شاعری کے موضوعات میں رومان و انقلاب، ہندوستانی تہذیب و معاشرت کی عکاسی، جبر و استحصال کے خلاف احتجاج، کسانوں، مزدوروں اور غریبوں کے مسائل، امن و آشتی، انسان دوستی اور مذہبی رواداری وغیرہ اہم ہیں۔ ان کے کلام کے چار مجموعے تلخیاں، پرچھائیاں، آؤ کہ کوئی خواب بنیں اور ’گاتا جائے بنجارا‘ ہیں۔ مؤخر الذکر ساحر کے فلمی نغموں کا مجموعہ ہے۔

ساحر کی شاعری کا آغاز زمانۂ طالب علمی میں ہی ہو گیا تھا،  لیکن ان کی قسمت کا ستارہ اُس وقت اَوجِ ثریا پر مقیم ہوا جب وہ فلمی دنیا سے وابستہ ہوئے۔ جس وقت ساحر لدھیانوی نے فلمی دنیا میںقدم رکھا ا س وقت فلمی نغموں میں رکیک،  عریاں، فحش اور گھٹیا قسم کی شاعری ہوتی تھی۔ فلمی شاعری تک بندی اور پھوہڑپن تک محدود تھی۔ فلمی شاعری صرف روزی کمانے کا ذریعہ تھی ا ور اسی لیے فلمی گیتوں میں معاشرتی تقاضوں اور تہذیبی قدروں کا فقدان تھا۔ ساحر نے شعوری طور پر فلمی نغموں میں ادبیت کی روح پھونکی۔ شروع شروع میں ساحر کو بھی مروجہ فلمی شاعری سے ملتی جلتی شاعری کرنی پڑی، لیکن جلد ہی انھوں نے اپنے آپ کو سنبھال لیا اور اپنی فکری و فنی صلاحیتوں کی بدولت فلمی نغموں کو ادبیت اور سنجیدگی کا معیار بخشا۔ ساحر سے قبل آرزو لکھنوی ہی ایک ایسے شاعر تھے جنھوں نے فلمی نغموں میںکچھ حد تک ادبیت پیدا کرنے کی کوشش کی اور آرزو لکھنوی کے علاوہ شکیل بدایونی، مجروح سلطانپوری،  قتیل شفائی اور راجہ مہدی علی خاں نے فلم بینوں کے مزاج اور فلمی نغموں کے معیار کو بدلنے کی کوشش کی لیکن خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی۔ ساحر لدھیانوی ہی وہ پہلے شاعر ہیں جنھوں نے اپنے اکابرین و معاصرین کی کوششوں کو عملی جامہ پہنایا اور فلمی دنیا کو ایسے نغمات عطا کیے جن میں مقصدیت اور پیغام کے ساتھ سماجی، سیاسی اور عصری مسائل کی گونج پہلی بار سنائی دی۔ ساحر نے فلمی نغموں کو ذہنی گندگی،  فحاشی و عریانیت سے پاک کرکے صاف ستھرا ادبی ذوق عطا کیا۔

ساحر ایک فطری شاعر تھے اس لیے انھوں نے فلمی گیتوں کو ہی تخلیقی اظہار کا ذریعہ بنایا اور فلمی شاعری اور ادبی شاعری کو ایک دوسرے میں مدغم کرکے فلمی شاعری کو ادبی شاعری کے ہم پلّہ بنا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ساحر کے فلمی نغموں کو عوام کے ساتھ ساتھ ادبی ذوق رکھنے والوں نے بھی خوب سراہا اور ہاتھوں ہاتھ لیا۔ ساحر پہلی بار اپنے فلمی نغموںکو ’ گاتا جائے بنجارا‘ کے نا م سے کتابی صورت میں 1974میں منظر عام پر لائے۔ ’گاتا جائے بنجارا‘  میں کل 169 نغمے شامل ہیں، جو غزل، نظم، دوہے، دوگانے، حمد، قوالیاں اور بھجن، کیرتن وغیرہ کا مجموعہ ہیں۔ اس کتاب کے ابتدائیہ میں اپنی فلمی شاعری کے حوالے سے ساحر لدھیانوی لکھتے ہیں :

’’  فلم ہمارے دَور کا سب سے مؤثر اور کارآمد حربہ ہے، جسے اگر تعمیری اور تبلیغی مقصد کے لیے استعمال کیا جائے تو عوامی شعور کی نشوونما اور سماجی ترقی کی رفتار بہت تیز کی جا سکتی ہے۔‘‘  1

ساحر نے فلمی گیتوںکو مسائل حیات سے وابستہ کرکے اپنے مقصد کی ترویج و اشاعت کے پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کیا اور فلمی نغموں کو حصول زر سے زیادہ اپنے مقصد کی تبلیغ کا ذریعہ بنایا۔ فلمیں چونکہ نشر و اشاعت کا بہترین اور مؤثر ذریعہ تھیں جس سے ساحر نے خوب خوب فائدہ اٹھایا۔  ساحر نے فلمی گیتوں میں اپنے مقصد کو شامل کرکے ایک نئی زندگی اور نیا وقار عطا کرنے کے ساتھ فلمی گیتوں کا قلابہ امکانات کی نئی راہوں سے ملا دیا۔ ’گاتا جائے بنجارا ‘ کے ابتدائیہ میں اپنی فلمی نغمہ نگاری کے مقاصد کو واضح کرتے ہوئے ساحر رقم طراز ہیں :

’’ میری ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو فلمی نغموں کو تخلیقی شاعر ی کے قریب لا سکوں اور اس صنف کے ذریعے سیاسی اور سماجی نظریہ عوام تک پہنچا سکوں۔ ‘‘ 2

ساحر کے فلمی کیریئر کا آغاز فلم ’بازی ‘ اور ’پیاسا‘  سے ہوا۔ اس کے بعد اپنے فلمی کیریئر میں ساحر نے تقریباً  ساٹھ ستر فلموں کے نغمے لکھے جن میں سے پیشتر نغمے آج بھی لوگ گنگناتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ساحر کے فلمی  نغموں کے موضوعات میں وسعت اور تنوع ہے۔ ’گاتا جائے بنجارہ ‘ کے نغموں میں جن موضوعات کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، ان میںعشق و محبت، استحصالی نظام کے خلاف احتجاج، انسانی اقدار، امن و آشتی، خود اعتمادی، انسانی زندگی کی ناپائداری، اتحاد و اتفاق اور میل محبت، جنگ آزادی اور عوام کی بیداری، عورت کے تقدس کی پامالی، فرقہ وارانہ ہم آہنگی، سیکولر اقدار اور مذہبی رواداری وغیرہ اہم ہیں۔

مذہبی رواداری پر ساحر کے نغمے لاجواب اور لازوال ہیں جن کی مقبولیت آج بھی بر قرار ہے۔ فلم ’برسات کی رات‘ کی قوالی میں مذہبی رواداری، فرقہ وارانہ ہم آہنگی، وحدت معبود اور پیام ِ ا من کی بات کو ساحر نے مؤثر پیرائے میں بیان کیا ہے۔ یہ اشعار دیکھیں          ؎

کعبہ میں رہو یا کاشی میں نسبت تو اسی کی ذات سے ہے

تم رام کہو کہ رحیم کہو ، مطلب تو اسی کی ذات سے ہے

یہ مسجد ہے وہ بت خانہ چاہے یہ مانو چاہے وہ مانو

مقصد تو ہے دل کو سمجھانا چاہے یہ مانو چاہے وہ مانو

یہ شیخ و برہمن کے جھگڑے سب نا سمجھی کی باتیں ہیں 

ہم نے تو ہے اتنا جانا چاہے یہ مانو چاہے وہ مانو

گر جذب محبت صادق ہو ، ہر در سے مرادیں ملتی ہیں 

ہر گھر ہے اسی کا کا شانہ چاہے یہ مانو چاہے وہ مانو

ساحر کا مقصد یہ ہے کہ ہندو مسلمان دونوں بلا تفریق مذہب و ملت آپس میں شیر و شکر ہوکر زندگی گذاریں اور ان کے درمیان مذہب کولے کر کوئی خلیج باقی نہ رہے۔

ساحر کا ایک مشہور ہندی نغمہ ’ تو ر امن درپن کہلائے‘ ہے۔ اس ہندی گیت میں ساحر لدھیانوی نے من کی صفائی کا پیغام دیا ہے۔ من، دل یا نفس کو کینہ و بغض اور آپسی عداوت سے پاک صاف رکھنے کی تعلیم تقریباً سارے مذاہب میں ملتی ہے۔ من یا دل ہی وہ جگہ ہے جہاں ایشور یا اللہ کا بسیرا ہوتا ہے۔ اسی لیے کبیر داس نے اپنے ایک دوہے میں دل کو پاک، صاف اور سچائی سے سجانے کی تلقین کرتے ہوئے لکھا ہے       ؎

سچ برابر تپ نہیں جھوٹ برابر پاپ

جا کے ہر دئے ساچ ہیں تا کے ہر دئے آپ

من اگر درپن کی طرح صاف نہیں ہے تو اس دل میں ایشور کا بسیرا نہیں ہو سکتا۔ تو رامن درپن کہلائے کا بند دیکھیں         ؎

بھلے برے سارے کرموں کو دیکھے اور دکھائے

من ہی دیوتا من ہی ایشور من سے بڑا نہ کوئے

من اجیارا جب جب پھیلے ، جگ اجیارا ہوئے

جگ سے چاہے بھاگ کوئی لے من سے بھاگ نہ پائے

سکھ کی کلیاں دکھ کے کانٹے من سب کا آدھار

من سے کوئی بات چھپے نا ، من کے نین ہزار

جگ سے چاہے بھاگ لے کوئی من سے بھاگ نہ پائے

تو رامن درپن کہلائے

انسان کا من ہی اس کے اعمال کا آئینہ ہوتا ہے۔ اگر من صاف ہے تو اس کے سارے اعمال اور کرم درست، ٹھیک اور قابل قبول ہیں ورنہ سب بیکار ہے۔ ساحر نے اپنے اس ہندی گیت کے ذریعے تمام انسانوں کو من صاف رکھنے کا آفاقی درس دیا ہے۔

ساحر کا مشہور زمانہ فلمی بھجن ’ اللہ تیرو نام‘ ، ’ ایشور تیرو نام ‘ جو فلم ’ہم دونوں‘ میں شامل ہے ، میں بڑی عقیدت کے ساتھ ایشور اور اللہ کو ایک مان کر سب کی خوش حالی اور خیر سگالی کی دعا کی ہے۔ پہلے بھجن کے بند ملاحظہ فرمائیے     ؎

اللہ تیرو نام ، ایشور تیرو نام

سب کو سمتی دے بھگوان

اللہ تیرو نام، ایشور تیرو نام

او سارے جگ کے رکھوالے

سب کو سمتی دے بھگوان

اللہ تیرو نام، ایشور تیرو نام

بلوانوں کو دے دے گیان

سب کو سمتی دے بھگوان

اللہ تیرو نام، ایشور تیرو نام

ساحر نے ’ سب کو سمتی دے بھگوان ‘ کہہ کر سارے مذاہب کے لوگوں کے لیے عقل سلیم اور خوش حالی و خیر سگالی کی دعا کی ہے۔ ساحر کا ماننا ہے کہ گیان یا عقل سلیم سے ہی مذہبی منافرت ختم ہو سکتی ہے۔

فلم ’دو کلیاں‘ کا نغمہ ’بچے من کے سچے سارے جگ کی آنکھ کے تارے ‘ بظاہر بچوںکی نفسیات پر لکھا گیا نغمہ ہے لیکن اس نغمہ میں بڑی گہری معنویت ہے۔ ساحر نے بچوں کے حوالے سے انسانیت، اخوت و محبت اور مذہبی رواداری کا درس دیا ہے۔ در اصل بچے آنکھ کے تارے اور سب کے دلارے اسی لیے ہوتے ہیں کہ ان کے دل صاف ہوتے ہیں اور صاف دل میں بھگوان کا بسیرا ہوتا ہے اس لیے یہ بچے بھگوان کو بھی پیارے لگتے ہیں۔ اگر انسان بھی ان بچوں کی طرح سیدھے ، سچے اور صاف بن جائیں تو پوری دنیا سے مذہبی منافرت کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ یہ بند دیکھیں         ؎

بچے من کے سچے سارے جگ کی آنکھ کے تارے

یہ وہ ننھے پھول ہیں جو بھگوان کو لگتے پیارے

تن کو مل ، من سندر ہیں، بچے بڑوں سے بہتر ہیں

ان میں چھوت اور چھات نہیں جھوٹی ذات اور پات نہیں

بھاشا کی تکرار نہیں مذہب کی دیوار نہیں

ان کی نظروں میں ایک ہیں مندر مسجد گرو دوارے

فلم ’دھول کا پھول‘ کا نغمہ ’ تو ہندو بنے گا نہ مسلمان بنے گا... انسان کی اولاد ہے انسان بنے گا ‘‘ ہر سننے والوں کے کانوں میں نہ صرف رس گھولتا ہے بلکہ گیت سنتے ہی وہ گیت کی مدھر وانی میں گم ہو جاتا ہے۔ ساحر کا یہ نغمہ ان کی مثبت فکر کی غمازی کرتاہے۔ تقسیم ملک کے وقت سرحد کے دونوں طرف مذہب اور ذات کے نام پر قتل و غارت گری کا ایسا ننگا ناچ ہوا کہ شیطان بھی شرمسار ہو گیا۔ مذہب اور ذات پات کے نام پر خون کی جو ہولی کھیلی گئی اْس سے ساحر لدھیانوی نے دل برداشتہ ہو کر یہ نغمہ لکھا اور ا س نغمے کے توسط سے آنے والی نسلوں کو یہ درس دیا کہ وہ نہ ہندو بنیں اور نہ مسلمان بنیں بلکہ صرف انسان بنیں۔ بند ملاحظہ فرمائیں        ؎

تو ہندو بنے گا نہ مسلمان بنے گا

انسان کی اولاد ہے انسان بنے گا

مالک نے ہر انسان کو انسان بنایا

ہم نے اسے ہندو یا مسلمان بنایا

قدرت نے تو بخشی تھی ہمیں ایک ہی دھرتی

ہم نے کہیں بھارت کہیں ایران بنایا

نفرت جو سکھائے وہ دھرم تیرا نہیں ہے

انسان کو جو روندے وہ قدم تیرا نہیں ہے

قرآں نہ ہو جس میں وہ مندر نہیں تیرا

گیتا نہ ہو جس میں وہ حرم تیرا نہیں ہے

تو امن کا اور صلح کا ارمان بنے گا

انسان کی اولاد ہے انسان بنے گا

ساحر اس مذہب کے متلاشی ہیں جہاں نفرت کا ذرہ برابر بھی نام و نشان نہ ہو جہاں نہ کوئی ہندو ہو نہ مسلمان ہو بلکہ صرف انسانیت کا مذہب ہو۔ اس نغمے کے توسط سے ساحر نے صلح کل کا آفاقی پیغام پیش کیا ہے۔

فلم ’چتر لیکھا‘ کا بھجن ’من رے تو کا ہے نہ دھیردھرے ‘‘  میں دنیاوی موہ مایا کے چکر سے باہر نکلنے کا درس دیا ہے کیونکہ دنیا کی ساری پریشانیوں کی وجہ موہ مایا ہی ہے۔ یہ بند دیکھیں        ؎

من رے تو کاہے نہ دھیر دھرے 

وہ نر موہی موہ نہ جانے ، جن کا موہ کرے

من رے تو کاہے نہ دھیر دھرے

اسی طرح اپنے ایک بھجن میں رام کے جنم اور ان کے بن باس کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیںکہ رام کا اوتار ہر جگ میں ہوتا رہا ہے لیکن دنیا والوں کے رویے سے دل برداشتہ ہو کر رام کو بن باس اختیار کرنا پڑتا ہے کیونکہ رام کی پوجا سب کرتے ہیں لیکن رام کی تعلیمات پر کوئی عمل نہیں کرتا۔ دنیاوالوں کو اگر رام کا صحیح ارتھ معلوم ہو جائے تو سارے مذہبی جھگڑے ختم ہو سکتے ہیں۔ بھجن کے بند ملاحظہ فرمائیں         ؎

رام ہر جگ میں آئے پر کون انھیں پہچانا

رام کی پوجاکی جگ نے پر رام کا ارتھ نہ جانا

تکتے تکتے بوڑھے ہوگئے دھرتی اور آکاس

جب جب رام نے جنم لیا تب تب پایا بن باس

ساحر لدھیانوی نے بھی رام کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے اور رام کے صحیح ارتھ کو سمجھنے کا درس دیا ہے کیونکہ رام کی شخصیت ایک عظیم انسان نمونہ ہے جن سے ہمیں ایثار و قربانی اور محبت و اخوت کا درس ملتا ہے۔ اگر ہم رام کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو جائیں تو ایک صحت مند سماج کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو سکتا ہے۔ ساحر نے اپنے ایک دوسرے گیت میں پریشان حال لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ       ؎

آنا ہے تو آ راہ میںکچھ دیر نہیں ہے

بھگوان کے گھر دیر ہے اندھیر نہیں ہے

دوسرا مصرعہ تو عوام و خوا ص میں اس قدر مشہور ہے کہ ہر غمزدہ انسان اپنے آپ کو یا ایک دوسرے کو تسلّی دیتے ہوئے یہ کہتا ہے کہ ’ ’بھگوان کے گھر دیر ہے اندھیر نہیں ہے ۔‘‘

ایک دوسری جگہ ساحر نے عوام الناس اورمسائل حیات میں الجھے ہوئے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے اپنے تمام مسائل کو بھگوان کے سپرد کرنے کی تلقین کی ہے اور بھگوان کے گھر سے انصاف ملنے تک انتظار کرنے کا درس دیا ہے۔ گیت کے اشعار ملاحظہ فرمائیں          ؎

جب تجھ سے نہ سلجھیں تیرے الجھے ہوئے دھندے

بھگوان کے انصاف پہ سب چھوڑ دے بندے

خود ہی تیری مشکل کو وہ آسان کرے گا

جو تو نہیں کر پایاوہ بھگوان کرے گا

ساحر نے اپنے فلمی نغموں میں صرف رام یا بھگوان کی تعلیمات کے ذکر پر ہی اکتفا نہیں کیا ہے بلکہ کرشن بھگتی اور دوسرے مذہبی رہنماؤں کی تعلیمات کے ذریعے بھی مذہبی منافرت ختم کرنے کی نہ صرف کوشش کی ہے بلکہ مختلف مذاہب کے مذہبی پیشواؤں اور رہنماؤں کی تعلیمات کو بھی اپنے فلمی نغموں میں پیش کرکے انسانیت کا مذہب اپنانے کا درس دیا ہے۔

ساحر کے یہ تمام نغمے سماجی و طبقاتی تفریق اور مذہبی منافرت کے خلاف ایک مثبت صدائے احتجاج ہیں۔ ان کے فلمی نغموں کی پذیرائی عوام و خواص اور ہر طبقے کے لوگوں میں خوب خوب ہوئی۔ ساحر کی فلمی شاعری کے حوالے سے جاں نثار اختر رقمطراز ہیں:

’’ کوئی شک نہیں کہ ساحر کا یہ کارنامہ ہے کہ اس نے فلموںکو ایسے گیت دیے جو سیاسی اور سماجی تصور سے لبریز ہیں۔ یہ ایک بڑا قدم ہے جو ساحرنے بڑی دلیری سے اٹھایا۔ ‘‘ 3

اس بات سے کسی کو انکار نہیںکہ ساحر نے فلموں میں بھی آزادانہ طور پر اپنی پسند کی شاعری کی اور فلم کی ضرورتوں کا ایک حد تک ہی خیال رکھا۔ ان کا نقطۂ نظر، ان کے فلمی گیتوں میں صاف طور پر دکھائی اور سنائی دیتا ہے۔ بقول خلیل الرحمٰن اعظمی :

’’  ان کے فلمی گیت ایک طرف نغمہ و ترنم سے لبریز ہوتے ہیں تو دوسری طرف ان میں نئی کیفیات اور نئے مسائل کا احساس بھی ہوتا ہے۔ ‘‘4

ساحر نے اپنے فلمی نغموں کے ذریعے وہ سب کچھ کر دکھایا جو ایک حساس اور بیدار مغز شاعر یا ادیب کو کرنا چاہیے۔ ساحر کے تقریباً سبھی فلمی نغمے حقائق حیات سے وابستہ ہیں اور اپنے عہد کی زندگی سے براہ راست پیوستہ بھی۔ ساحر نے اپنے مذہبی نغموں کے ذریعے ایک منصفانہ سماجی نظام اور امن عالم کے قیام کی مثبت کوشش کی اور اپنے نغموں کے ذریعے مذاہب کے باہمی ٹکراؤکو ختم کرنے کی شعوری طور پر کوشش کی۔ ساحر کے سبھی فلمی نغموں میں مقصدیت حاوی ہے۔ ان کے فلمی نغموں میں جہاں سنجیدہ فکری عناصر ہیں وہیں مسرت و بصیرت سے بھی معمور ہیں۔ ساحر ایک شاعر کے ساتھ ساتھ اپنے وقت کا ایک مفکر و مدبر بھی تھا جس نے اپنے محسوسات کو فلمی نغموں میں ڈھال کر سماجی و سیاسی شعور کا محرک بنا دیا۔

ساحر کی فلمی شاعری ابہام سے پاک ہے۔ ساحر کی شاعری کی بنیاد شدت احساس ہے اور یہی شدت احساس اس کے اسلوب کا حسن بھی ہے۔ ساحر نے اپنے فلمی نغموں کو احساس و فکر اور ادب کا جامہ پہنا کر اپنے اسلوب کے معیار کو بر قرار رکھا۔ ساحر کا بڑا کارنامہ یہ ہے کہ فلمی نغموں کو سامعین و ناظرین کے مزاج اور حسن سماعت کے پیکر میں ڈھال کر ادبی وقار عطا کیا اور عام فہم اور عوامی زبان میں ایسے مسحور کن نغمے لکھے جس کو عوام و خواص اور ادبی ذوق رکھنے والے سب نے پسند کیا۔ ساحر کی فلمی شاعری کی خوبیوں کا اعتراف کرتے ہوئے ڈاکٹر ظ۔ انصاری رقمطراز ہیں

’’ فلمی موسیقی کو اردو شعر کی زبان دینے میں ساحر کا نام ہمیشہ سر فہرست رہے گا۔ ‘‘ 5

فلمی شاعری کو معیار و وقار اور شعری محاسن سے مزین کرنے میں ساحر نے کلیدی رول ادا کیا۔ فلمی دنیا کے کیچڑ میں اپنے نغموں کو عریانیت و فحاشی سے پاک کرکے فلمی نغموں کو ایک نیا وژن عطا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ساحر کی شخصیت بھی فلم انڈسٹری میں ایک کنول کے پھول کی طرح ہمیشہ صاف و شفاف رہی اور ایک فاتح کی طرح ساحر کی سر بلندی اور انفرادیت کا پرچم فلم انڈسٹری میں لہراتا رہا۔

آج ساحر ہمارے درمیان نہیں ہیں لیکن ان کے نغموں کی پرچھائیاں یہ گنگناتے ہوئے ہمارا تعاقب کر رہی ہیں کہ          ؎

بانٹ کے کھاؤ اس دنیا میں بانٹ کے بوجھ اٹھاؤ

جس رستے میں سب کا سکھ ہو وہ رستہ اپناؤ

اس تعلیم سے بڑھ کر جگ میں کوئی نہیں تعلیم

کہہ گئے فادر ابراہیم

حواشی

  1.       ابتدائیہ ، گاتا جائے بنجارا، ساحر لدھیانوی، رابعہ بک ہاؤس، بخشی مارکیٹ، لاہور، ص 11
  2.      ابتدائیہ ، گاتا جائے بنجارا، ساحر لدھیانوی، رابعہ بک ہا‎ؤس، بخشی مارکیٹ، لاہور، ص 13
  3.       بحوالہ ساحر لدھیانوی : حیات اور شاعری ، سید ضیاء  الرحمن ، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس ، دہلی، 2009 ، ص 178
  4.       اردو میں ترقی پسند ادبی تحریک، خلیل الرحمن اعظمی، علی گڑھ،  1972، ص 117
  5.       بحوالہ ’تحفہ‘ (ساحر لدھیانوی کی حیات اور شاعری کاایک جائزہ)  سید احتشام حسین ، بزم ساحر ٹانڈہ ، فیض آباد ، 1989، ص  158

 

Md Ataullah

Research Scholar, Dept of Urdu

Patna University

Patna- (Bihar)

Mob.: 9162715501

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...