10/2/25

تنقید کی زبان، مضمون نگار: شاہد وصی

 اردو دنیا، جنوری 2025


تخلیق اور تنقید کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ادب میں جتنی اہمیت تخلیق کار کی ہے، اتنی ہی ناقد کی بھی ہے۔ تنقید کا بنیادی مقصد تفہیم متن اور فن پارے کی تعیین قدر ہے۔ تنقید نگار قاری اور فن پارے کے درمیان پل کا کام کرتا ہے۔ وہ فن پارے کا ادب میں معیار متعین کرتا ہے، وہیں اس کے محاسن و معائب اور قدر و قیمت کا تعین بھی کرتا ہے۔ کلیم الدین احمد کی نگاہ میں تنقید کی ادب میں وہی حیثیت ہے جو کسی باغ اور گلستان میں مالی اور باغباں کی ہے۔ جس طرح باغباں قینچی کی مدد سے مرجھائے پتے اور خشک ہوچکی شاخوں کو کاٹ کر اسے خوشنما اور جاذب نظر بناتا ہے، بعینہ یہی کام ایک تنقید نگار کے ذریعے بھی انجام پاتا ہے۔ تنقید نگار کی ایک اہم ذمے داری یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ ادب میں کسی فن پارے کے لیے اصول وضع کرے اور اس کے ضابطے بنائے تاکہ ایک تخلیق کار ان اصول و ضوابط کی روشنی میں اپنی تخلیقات کو ادبی منزل تک پہنچا سکے۔ دیگر بہت ساری اصناف سخن کی طرح تنقید کا فن بھی اردو میں مغرب کے زیر اثر پروان چڑھا۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ مغربی ادبیات کی آمد سے پہلے مشرق میں اردو ادبا اور دانشوران کے اندر کوئی تنقیدی شعور نہیں تھا۔ وجہی سے لے کر عہد حاضر تک کے جتنے بھی فنکار و تخلیق کار گزرے ہیں سبھوں کے اندر ایک اچھا تنقیدی شعور موجود تھا، کیونکہ اس کے بغیر کوئی اچھا فن پارہ وجود میں ہی نہیں آسکتا۔ البتہ یہ حقیقت ہے کہ اردو زبان میں تنقید کے باضابطہ اصول مغربی ادبیات کے زیراثر ہی بنائے گئے۔ آل احمد سرور اپنے ایک مضمون میں اس حقیقت کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’مغرب کے اثر سے اردو میں کئی خوشگوار اضافے ہوئے۔ ان میں سب سے اہم فن تنقید ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ مغرب کے اثر سے پہلے اردو ادب میں کوئی تنقیدی شعور نہیں رکھتا تھا یا شعر و ادب کے متعلق گفتگو، شاعروں پر تبصرہ اور زبان و بیان کے محاسن پر بحث نہیں ہوتی تھی۔ بڑے تخلیقی کارنامے بغیر ایک اچھے تنقیدی شعور کے وجود میں نہیں آسکتے۔ ‘‘

( تنقید کیا ہے؟ پروفیسر آل احمد سرور،  ص142)

یہ حقیقت ہے کہ کوئی بھی تخلیقی کارنامہ یا کوئی بھی فن پارہ اسی وقت شاہکار اور ادبی کہلاتا ہے جب اس کے تخلیقی عمل میں تنقیدی شعور اور فنی بصیرت کام کررہی ہوتی ہے۔ اردو میں باضابطہ تنقید کی شروعات خواجہ الطاف حسین حالی کی کتاب ’مقدمہ شعر و شاعری‘ سے ہوتی ہے، لیکن تنقیدی خیالات و افکار ہمیں اس سے پہلے بھی ہر فنکار و تخلیق کار کے یہاں جا بہ جا دیکھنے کو ملتے ہیں۔ حالی سے پہلے بھی وجہی سے لے کر میر و غالب تک بے شمار شہ پارے تخلیق کیے گئے، اگر ان تمام کے تخلیقی عمل کے دوران تنقیدی شعور کارفرما نہ ہوا ہوتا تو یہ فن پارے شاہکار نہیں بن سکتے تھے۔ پروفیسر احتشام حسین کا خیال ہے کہ اردو ادب کی پیدائش ہی اس وقت ہوئی جب پہلے سے بہت ساری زبانوں کے ادب موجود تھے اور اچھے یا برے تنقیدی معیارات وجود میں آچکے تھے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’ہر ادیب کے پاس اعلی یا ادنی تنقید کا کوئی نہ کوئی معیار ضرور ہوتا ہے جو تخلیقی عمل کے ساتھ ساتھ جاری رہتا ہے اگر ایسا نہ ہو تو اچھا تخلیقی عمل بھی وجود میں نہ آئے۔ گویا اچھی تخلیقی قوت، اچھی تنقیدی قوت کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ ‘‘

(ادبی تنقید کے مسائل: مشمولہ روایت اور بغاوت:  سید احتشام حسین، ص14)

تخلیق کار ہو یا تنقید نگار وہ اپنے مافی الضمیر اور اپنے جذبات و خیالات کے اظہار کے لیے جس آلے اور ذریعے کا انتخاب کرتا ہے وہ زبان ہے۔ انسان کو فطرت کی جانب سے جو بہت ساری صلاحیتیں اور خصوصیتیں ودیعت کی گئی ہیں، ان میں سب سے بڑی صلاحیت نطق یعنی بولنے کی صلاحیت ہے۔ زبان اسی صلاحیت نطق کا دوسرا نام ہے اور نثر اسی خاصہ نطق کی مربوط، منظم اور ترقی یافتہ شکل ہے۔ روز اول سے ہی انسان اپنے احساسات و خیالات کی تبلیغ و ترسیل، اپنے مافی الضمیر کے اظہار اور اپنی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے زبان ہی کو ذریعہ بناتا چلا آرہا ہے۔ زبان کے مختلف مشاہیر ادب نے مختلف اقسام بیان کیے ہیں۔ محی الدین قادری زور نے الفاظ کے اعتبار سے اسے چار قسموں میں بانٹا ہے۔ : مرجز :مقفی، :مسجع، :عاری۔ اسی طرح معنی کے اعتبار سے انھوں نے زبان کو چار قسموں میں تقسیم کیا ہے :سلیس سادہ، :سلیس رنگین، :دقیق سادہ،: دقیق رنگین۔ کہیں کہیں اسلوب کو زبان کے مترادف کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن ان دونوں میں قدرے اختلاف ہے۔ زبان جہاں اپنے اندر عمومی مفہوم رکھتی ہے، وہیں اسلوب ایک خاص معنی میں استعمال ہوتا ہے۔

لغوی اعتبار سے اسلوب کو طرز، اسٹائل کہتے ہیں۔ اصطلاح میں اسلوب کسی فن کار کے انفرادی طرز اظہار اور انداز بیان کا نام ہے۔ یہ انفرادی طرز بیان اس فن کار کی شناخت اور پہچان ہوتی ہے۔ اسلوب کی تشکیل میں بہت سارے عناصر کارفرما ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اوائل عمر میں کسی ادیب کا اسلوب کچھ ہوتا ہے اور مشق و تمرین اور مشاہدات و تجربات کے نتیجے میں کچھ اور ہوجاتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ اسلوب انداز بیان ہے جس میں انسان اور فنکار کی شخصیت جھلکتی ہے۔ اسے پڑھنے والا، اسلوب پڑھتے ہی فنکار کو پہچان لیتا ہے۔ ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی نے اردو کے نثری اسالیب میں مختلف مشاہرین ادب کا گہرا مطالعہ کرنے کے بعد اسلوب کو دس خانوں میں تقسیم کیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اس اسلوب کے نمائندہ ادیبوں کا تذکرہ بھی کیا ہے۔

’’سادہ اسلوب: ..نمائندہ : سرسید، نذیر احمد، حالی، پریم چند، میر امن، عبد الحق۔

مرصع اسلوب: ..نمائندہ : ملا وجہی، عطا حسین تحسین، رجب علی بیگ سرور

شگفتہ اسلوب: ..نمائندہ : حسن نظامی، نیاز فتحپوری، مہدی افادی، محمد حسین آزاد، کرشن چندر، غالب

طنزیہ اسلوب: ..نمائندہ : غالب، سرشار، رشید احمد صدیقی، پطرس، کرشن ، عصمت، فرحت اللہ بیگ

پرشکوہ اسلوب: .. نمائندہ : شبلی، ابو الکلام آزاد، محمد حسین آزاد، شرر، قاضی عبد الستار،  رسوا

بیانیہ اسلوب: ..نمائندہ : سرسید، شبلی، رسوا، سرشار، نیاز، ابو الکلام آزاد، محمدحسین آزاد، عبد الحق، حیات اللہ

ہیجانی اسلوب: ..نمائندہ : سعادت حسن منٹو، عصمت چغتائی، عزیز احمد

مخلوط اسلوب: ..نمائندہ : عبد الرحمن بجنوری، سجاد انصاری، قاضی عبد الستار، غالب، سرسید، ابو الکلام آزاد، انتظار حسین، محمد حسین آزاد، راجندر سنگھ بیدی، قر العین حیدر وغیرہ

محاوراتی اسلوب: ...نمائندہ : میر امن دہلوی، عصمت چغتائی، راشد الخیری، نذیر احمد وغیرہ

رومانوی اسلوب: ...نمائندہ : کرشن چندر، نیاز فتحپوری، مہدی افادی، عزیز احمد، قاضی عبد الغفار وغیرہ۔ ‘‘

( اردو کے نثری اسالیب، شہاب ظفر اعظمی، ص26-27)

زبان و اسلوب کے مذکورہ بالا اقسام کی روشنی میں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ ہر تخلیق کار و فنکار اپنے تخلیقی اظہار کے لیے کسی نہ کسی قسم کا سہارا لیتا ہے۔ بسا اوقات وہ اپنے ادبی اور تخلیقی اظہار کے لیے اس میں کئی طرح کے تصرفات بھی کرتا ہے۔ کبھی وہ تصرف جدت وندرت پیدا کرتا ہے اور کبھی صنف اس تصرف کی متقاضی ومتحمل نہیں ہوتی ہے۔ ادب میں زبان کے تخلیقی استعمال کی بڑی اہمیت ہے۔ زبان کے منفرد، انوکھے اور مخصوص استعمال سے کسی ادیب کو زبان کی یہ تخلیقیت حاصل ہوتی ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ زبان کے استعمال سے ہی اسلوب کی تشکیل ہوتی ہے۔ چونکہ کوئی بھی ادیب یا تخلیق کار فن پارے کی تعمیر میں زبان کا ہی استعمال کرتا ہے، اس لیے ہر ادبی شہ پارے میں اور ہر ادیب کے یہاں اسلوب کا پایا جانا لازمی ہے۔ اسی طرح زبان کی نوعیت ہر فن پارے اور ادیب کے یہاں بدلتی رہتی ہے، اس میں یکسانیت نہیں رہتی اور زبان کے ساتھ اسلوب بھی بدلتا رہتا ہے۔ داستان ہی کو لے لیں۔ فسانہ عجائب کی زبان مقفی، مرصع اور مسجع ہے۔ رانی کیتکی کی کہانی کی زبان سادہ اور عاری ہے، اسی طرح باغ و بہار میں جو زبان استعمال کی گئی ہے وہ بھی سادہ اور سلیس ہے۔ بیسویں صدی کے اندر عموماً اکثر اصناف میں جوزبان استعمال کی گئی وہ سادہ اور سلیس ہی تھی۔ سبھوں کی یہی کوشش رہی کہ سادگی اور سلاست کے ساتھ اپنے مافی الضمیر کو ادا کردیا جائے۔

تنقید بھی مانند جملہ فنون کے ایک فن ہے۔ تنقید کاریگری اور صناعی کا کام ہے۔ فن تو ہر طرح کے ہوتے ہیں، بعض مشکل تو بعض آسان و سہل، اس میں تنقید ایک مشکل ترین فن ہے۔ ہر فن کی طرح تنقید کے بھی کچھ اصول و ضوابط اور اغراض و مقاصد ہیں۔ ہر کس و ناکس اس کے فرائض کما حقہ ادا نہیں کرسکتا۔ ایک نقاد کے لیے ضروری ہے کہ وہ فن تنقید کے ہر پہلو سے آگاہ ہو، اس کے اندر لطیف اور قوت حاسہ کا ملکہ ہو، اس کی نگاہ وسیع ہو اور وہ اپنی زبان کے ادبی کارناموں سے بھی پوری واقفیت رکھتا ہو۔ اسی کے ساتھ وہ دوسری زبانوں کے شہ پارے سے آگہی رکھتا ہو۔ وہ جو زبان استعمال کرے، اس کے اندر سادگی، متانت اور قطعیت کا عنصر غالب ہو۔ تنقید کی زبان میں پیچیدہ بیانی، تعویق لفظی، دقیق زبان، صنائع و بدائع کا استعمال اور مصنوعی پن سم قاتل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ تنقید میں عبارت آرائی اور رنگینی سے نفس مضمون تک رسائی نہیں ہوپاتی ہے۔ تنقید کے لیے غیر جانب داری انتہائی ضروری ہے۔ ایک ناقد کی یہ شان ہوتی ہے کہ وہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ معروف ادیب و ناقد پروفیسر کلیم الدین احمد نے اپنی کتاب ’اردو تنقید پر ایک نظر‘ میں تنقید کی زبان کی تعیین پر کافی زور دیا ہے۔ وہ تنقید کی زبان کو غزل کی زبان بنا دینے کے سخت خلاف ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اس طرح کی عبارت آرائی اور رنگین زبان چند وقفے کے لیے قاری کو تو چونکا سکتی ہے، لیکن تنقید کا جو فرض منصبی ہے ، اس میں رکاوٹ پیدا ہوجاتی ہے۔ محمد حسین آزاد کی مشہور کتاب ’آب حیات‘ پر تنقید کرتے ہوئے ایک جگہ وہ لکھتے ہیں:

’’ان جملوں کا مقصد سبحان اللہ ہے۔ ہر سمجھ والا جانتا ہے کہ اس عبارت میں مغز کم ہے اور اس کو اختصار اور جامعیت کے ساتھ سیدھے سادے لفظوں میں بیان کیا جاسکتا ہے۔ چند صاف اور معمولی باتوں کو حسین لفظوں اور چمکتے ہوئے نقوش سے آراستہ کیا گیا ہے۔ چمک تو بڑھ گئی ہے، لیکن ان حسین لفظوں اور چمکیلے نقوش نے معانی کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ الفاظ اور نقوش اپنی رنگینی اور چمک کے ساتھ عام، مبہم اور غیر متعین بھی ہیں۔ عبارت آرائی کی جستجو میں مقصد فراموش ہوجاتا ہے اور اس قسم کی عبارت سے کچھ حاصل بھی نہیں ہوتا۔ تنقید کی زبان سیدھی سادی ہوتی ہے۔ صاف اور معین ہوتی ہے۔ تنقید میں اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ زبان کی سلاست اور روانی، رنگینی اور جلا خیالات پر پردہ نہ ڈال دے۔ ‘‘(اردو تنقید پر ایک نظر، کلیم الدین احمد، ص50)

 کلیم الدین احمد تنقید کے لیے ایسی زبان کے سخت خلاف ہیں جس کی وجہ سے موضوع اور مقصد پس پشت چلا جائے۔ وہ زبان میں سادگی اور سلاست کے قائل ہیں۔ کلیم الدین احمد ہی کی طرح اکثر نقاد تنقید کے لیے سادہ زبان کے قائل ہیں۔ لیکن یہاں مسئلہ یہ درپیش ہوتا ہے کہ تنقید میں زبان کا استعمال اگر صرف معنی مقصود تک رسائی کے لیے ہی ہو تو پھر ایسی زبان کاروباری ادارے کے ہی شایان شان ہے۔ تنقید کسی کاروباری ادارے کی نمائندگی نہیں کرتی بلکہ یہ فنون لطیفہ کی ایک شاخ ہے جو اپنے اندر ادبیت اور تخلیقی شان کا متقاضی ہے۔ ورنہ سپاٹ پن اور بدمزگی ذوق سلیم کو نقصان پہنچاسکتی ہے۔

تنقید کا بنیادی کام فن پارے کی تعیین قدر اور استخراج نتائج ہے۔ جب کوئی ناقد کسی فن پارے کو تنقید کی کسوٹی پر پرکھتا ہے اور اس فن پارے کے معائب و محاسن کی نشاندہی کرتا تو اسے سائنسی عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔ فن پارے کے تمام گوشوں کی چھان پھٹک کرکے منطقی دلائل، معروضی انداز، تجزیاتی شواہد، وسعت مطالعہ، ماقبل کے تجربات اور زور بیان کے توسط سے وہ نتیجے تک پہنچتا ہے۔ اسی لیے ادب میں اگر کوئی صنف سائنس سے قریب تر ہے تو وہ تنقید ہی ہے۔ سائنس سے قریب تر ہونے کے باوجود ان دونوں کی زبان میں واضح فرق ہے۔ سائنس میں ادبی شان نہیںہوتی اور نہ ہی اس میں زبان مقصود بالذات ہوتی ہے، اس کے برعکس تنقید میں زبان کی خامی فوراً قابل گرفت ہوجاتی ہے۔ جس طرح سائنس میں کسی چیز کا تجربہ کرنے کے لیے تجربہ گاہ اور مختلف آلات و اوزار کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح تنقید میں بھی استخراج نتائج کے لیے منطقی، استدلالی اور معروضی انداز، حوالے، تجزیہ وتشریح اور زور بیان کی ضرورت ہوتی ہے۔ اپنی تنقیدی نگارشات کے توسط سے کوئی ناقد مصنف کے خیالات و جذبات اور اس کے اندرونی کائنات میں داخل ہوکر نتیجہ اخذ کرنے اور جوہر مقصود پانے کی کوشش کرتا ہے۔ چنانچہ تنقید کی زبان میں گہرائی، تہہ داری، سنجیدگی اور زیریں لہروں کی ترنگ کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔

تنقید کی زبان سیدھی سادی، سلیس اور رواں ہونی چاہیے جو نفس مطلب تک پہنچا دے۔ سارے ناقدین اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں۔ لیکن تنقیدی اظہاریے کا مقصود صرف مفہوم تک رسائی ہو تو پھر اس میں اور صحافتی زبان میں فرق کرنا مشکل ہوجائے گا۔ اسی طرح اگر اس کی زبان میں عبارت آرائی اور رنگینی اس قدر ہو کہ وہی مقصود بالذات نظر آئے، تو پھر تنقید کا مقصد اصلی ہی فوت ہوجائے گا۔ تنقید کی نثر میں حسن اور چاشنی ضروری ہے۔ کیونکہ تنقید ادب کی ایک توانا شاخ ہے، لہٰذا اس کی نثر میں بھی توانائی ضروری ہے۔ رشید احمد صدیقی، فراق گورکھپوری، عبد الرحمن بجنوری، نیاز فتح پوری، آل احمد سرور، کلیم الدین احمد اور اختر اورینوی وغیرہ کی تنقیدی زبان میں سادگی کے ساتھ نثری حسن بھی اس قدر در آیا کہ قاری اکثر ان تحریروں کی چاشنی میں کھو سا جاتا ہے۔ احتشام حسین کی زبان بھی سادہ اور دلکش ہے، لیکن ان کے انداز بیان میں اکثر فلسفیانہ رنگ غالب آجا تاہے۔

تنقید کی زبان کا سب سے اہم پہلو اس کا تعمیری ہونا ہے۔ تعمیری زبان مسائل کی نشاندہی کے ساتھ ان کے حل کی تجاویز بھی فراہم کرتی ہے۔ اس قسم کی زبان قاری کے ساتھ ساتھ مصنف کو بھی حوصلہ دیتی ہے اور اسے اپنی خامیوں کو قبول کرنے اور اسے بہتر بنانے کی ترغیب دیتی ہے۔ تنقید کرتے وقت الفاظ کا انتخاب انتہائی محتاط انداز میں ہونا چاہیے۔ غیر مناسب، توہین آمیز، یا غیر مہذب الفاظ مصنف و قاری کی دل آزاری کر سکتے ہیں۔ اس کے برعکس، موزوں اور مہذب الفاظ کسی بھی سخت بات کو نرم اور قابل قبول بنا دیتے ہیں۔ ادبی تنقید کا بنیادی مقصد کسی ادبی تخلیق کی خوبیاں اور خامیاں اجاگر کرنا ہے۔ اس کے لیے تنقید کی زبان علمی، متوازن، اور معروضی ہونی چاہیے۔ اگر کوئی نقاد محض اپنی ذاتی پسند یا ناپسند کی بنیاد پر تنقید کرے، تو اس کی رائے غیر معتبر تصور کی جائے گی۔ جب تنقید ذاتی جذبات، عناد، یا تعصبات پر مبنی ہو، تو یہ اپنی معروضیت کھو دیتی ہے۔ ایسی زبان تنقید کو بے مقصد اور غیر موثر بنا دیتی ہے۔ بعض اوقات نقاد تنقید کرتے وقت مبالغہ آرائی کا سہارا لیتا ہے، جو کہ حقیقت کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ مبالغہ آمیز زبان تنقید کی ساکھ کو متاثر کرتی ہے۔ ادبی تنقید ادبی تخلیقات کا تجزیہ، ان کی خوبیوں اور خامیوں کو اجاگر کرنے کا فن ہے۔ یہ نہ صرف تخلیق کی گہرائیوں کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے بلکہ ادیب، قاری، اور معاشرے کے درمیان ایک فکری مکالمے کا پل بھی قائم کرتی ہے۔ ادبی تنقید کے لیے ایک خاص اسلوب اور طریقہ کار ضروری ہے، جو انصاف، معروضیت، اور شائستگی کے اصولوں پر مبنی ہو۔

 

Dr. Shahid Wasi

C/o Book Imporiam, Ashok Rajpath, Sabzibagh, Patna-4

Mob. No.: 9006331029

Email: shahidrahi101@gmail.com

 

اردو غزل میں نظام شمسی، مضمون نگار: ای آر محمد عادل

 اردو دنیا، جنوری 2025


صدیوں سے کائنات کا مشاہدہ اور مطالعہ انسان کے لیے دلچسپی کا موضوع رہا ہے۔ جب ہم غور و فکر کرتے ہیں تو یہ راز آشکار ہوتا ہے کہ یہ کائنات ہماری فہم و ادراک سے بھی زیادہ پر اسرار اور وسیع ہے۔یہاں بے شمارکہکشائیں، لاتعداد ستارے اور سیارے موجود ہیں۔ ہماری یہ کائنات بے شمار عجائبات کی مظہر ہے۔ یہاں ایسی ایسی چیزیں وجود رکھتی ہیں جن کا مشاہدہ انسان روئے زمین پر رہ کر نہیں کر سکتا ہے جس کے لیے ہم کو خلاؤں کا سفر طے کرنا ہوگا۔ موجودہ دور کی سائنس آج اس قابل ہو گئی ہے کہ وہ روز بروز خلاؤں میں تحقیق کرکے اس سے متعلق نئی نئی وضاحتیں کر رہی ہے،جس کے سبب عصر حاضر کا انسان بہت سی سائنسی حقیقتوں سے آشنا ہو سکا ہے۔سائنسدانوں اور ماہرین فلکیات کی کوششوں کے نتیجے میں آج انسان ان سوالات کا جواب بھی حاصل کر چکا ہے جن کو وہ برسوں سے تلاش کر رہا تھا  اور جو کبھی اس کے لیے معمہ بنے ہوئے تھے۔یہ بات پورے وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ صرف ماہرین فلکیات ہی نہیں بلکہ ہمارے معاشرے اور سماج و کائنات کے مسائل پر نظر رکھنے والے شعرا کے اذہان میں بھی فلکیات سے متعلق موضوعات گردش کرتے رہتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ اردو شاعری میں بھی نظام شمسی اور اس سے متعلق سیاروں اور دیگر اجرام فلکی کی بھرپور عکاسی دیکھنے کو ملتی ہے، کیونکہ اس نے عربی اور فارسی سے اپنا خمیر اٹھایا تھا۔ عربی و فارسی کے بہت سے شعرا گزرے ہیں جنھیں علم فلکیات میں گہری دلچسپی تھی۔ اس لیے انھوں نے علامتوں استعاروں میں ڈھال کر علم فلکیات اور اس سے متعلق اجرام فلکی کی منفرد ترجمانی کی۔خود ہندوستان میں علم فلکیات میں دلچسپی رکھنے والے بڑے بڑے عالم تھے۔اس لیے عوام کے لیے بھی یہ موضوع کوئی نیا نہیں تھا۔یہی وجہ ہے کہ شعرا نے اردو شاعری میں علم فلکیات کے مختلف موضوعات کو پیش کیا۔حیرت کی بات یہ ہے کہ ہمارے شعرا نے شعوری اور غیرشعوری طور پر ایسے بہت سے اشعار رقم کر دیے ہیں، جو عصر حاضر کی جدید تحقیقات کے عین مطابق لگتے ہیں۔لہٰذا اس تحقیقی مضمون میں اردو غزل میں ایسے اشعار کا انتخاب کیا گیا ہے جو نظام شمسی اوراس سے متعلق اجرام فلکی کے پر اسرار حقائق کے ترجمان ہیں۔

جب انسان خلا کی وسعتوں سے آشنا ہوا تو اس کے دل میں تجسس پیدا ہوا کہ وہ ستاروں سے آگے جاکر نئے جہان کی تلاش کرے اور خلا میں پیش آنے والے نئے نئے چیلنجز کو حل کرے۔ جیسے جیسے یہ تحقیق کرتا گیا خلائوں سے متعلق نئے نئے راز آشکار ہوتے گئے۔اسی کی تحقیق کا ثمرہ ہے کہ آج ہم نظام شمسی سے متعلق پوشیدہ معلومات کو جان سکے ہیں۔راز بنارسی کا ایک شعر دیکھیں جس میں شاعر  نظام شمسی کا قصیدہ پڑھتا ہوا نظر آتا ہے        ؎

اپنے اس اک نظام شمسی میں

دیکھو پوشیدہ راز کتنے ہیں

شاعر اپنے اس شعر میں نہ صرف نظام شمسی کی تعریف کر رہا ہے بلکہ اس کے پوشیدہ رازوں سے آشکار ہونے کی دعوت بھی دیتا ہوا نظر آتا ہے۔وہ کہتا ہے کہ ہم کو اپنے اس نظام شمسی سے واقفیت رکھناضروری ہے اور اس بات کو بھی سمجھنا ضروری ہے کہ اس میں کتنے راز پوشیدہ ہیں۔ اگر ہم اپنے اس نظام شمسی میں پوشیدہ رازوں سے واقف ہو جاتے ہیں تو اس وسیع کائنات میں موجود اسی طرح کے دوسرے نظاموں کو سمجھنے اور ان کے رازوں کو سلجھانے میں بہت مدد ملے گی۔ در اصل شاعر اپنے اس شعر کے ذریعے ذہنوں کو بیدار کرنا چاہتا ہے، کیونکہ ایک ماہر فلکیات کی طرح اس کے دل و دماغ میں بھی وہ سوالات ہل چل مچا رہے ہیں جن سوالات کا جواب جدید سائنس تلاش کر رہی ہے۔اسی ضمن میں فراق  گورکھپوری کا یہ شعر دیکھیں        ؎

اس میں لاکھوں نظام شمسی ہیں

یوں تو دل تیرہ روز گار بھی ہے

مصرع ’اس میں لاکھوں نظام شمسی ہیں‘ فراق کی علم کونیات سے واقفیت ظاہر کرتا ہے۔ شاعر بخوبی اس بات سے آشنا ہے کہ ہماری کائنات میں صرف ہمارا نظام شمسی ہی نہیں بلکہ اس میں ایسے لاکھوں نظام شمسی وجود رکھتے ہیں۔

نظام ِشمسی سورج اور ان تمام اجرام فلکی کے مجموعے کو کہتے ہیں جو براہ راست یا بالواسطہ طور پر سورج کی ثقلی گرفت میں ہیں۔اس میں 8 سیارے ان کے 162 معلوم چاند، 3شناخت شدہ بونے سیارے (Dwarf Planet) جس میں پلوٹو بھی شامل ہے،ان کے 4 معلوم چاند اور کروڑوں دوسرے چھوٹے اجرام فلکی شامل ہیں۔ ہمارا نظام شمسی آٹھ سیاروں،ہر سیارے کے ارد گرد گردش کرتے متعدد چاند اور اربوں، کھربوں شہاب ثاقب سے مل کر بنا ہے اور آج کی جدید سائنس اور ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ ہماری کہکشاں جسے مِلکی وے کہا جاتا ہے جس میں ہمارا نظام شمسی بھی آتا ہے۔اسی طرح کی اربوں اورکھربوں کہکشائیں بھی اس خلا میں اپنا وجود رکھتی ہیں اور ہر ستارے یعنی سورج کے اپنے اپنے سیارے ہیں۔جو مسلسل اس کے ارد گرد گردش کر رہے ہیں۔

نظام شمسی اور دیگر اجرام کے اس تعلق سے غزل کا ایک شعر دیکھیں جس میں شاعرنظام شمسی کے درمیان کام کرنے والی قوت سے بندھے ہونے کا ذکر کر رہا ہے       ؎

بندھے ہوئے ہیں بنا ڈور کے سبھی رشتے

نظام شمسی میں جیسے کھنچائو کی صورت

(ایوب خاں بسمل)

 ایوب خاں بسمل اپنے اس شعر کے ذریعے نظام شمسی میں سورج اور دیگر اجسام کے درمیان موجود قوت ثقل (Gravitional force) کی ترجمانی کر رہے ہیں۔ ہمارے نظام شمسی کا محور سورج ہے جس نے ایک خاص قوت کے ذریعے سیاروں کو جکڑ رکھا ہے۔یہی وجہ ہے کہ یہ سیارے ایک مخصوص فاصلے پر اپنے مدار کے اندر رہتے ہوئے سورج کا طواف کرتے ہیں۔

سورج کے گرد مدار میں گردش کرنے والے اجسام کو ماہرین فلکیات تین گروہوں میں تقسیم کرتے ہیں جو اس طرح ہیں۔سیارے،بونے سیارے (Dwarf Planet) اور چھوٹے شمسی اجسام (Small Solar System Bodies)۔

ماہرین کا خیال ہے کہ ہمارا نظام شمسی نیبولائی نظریے کے مطابق وجود میں آیا ہے۔ یہ نظریہ سب سے پہلے عمانویل کینٹ نے 1755 میں پیش کیا تھا۔ اس نظریے کے مطابق 44 ارب 600 کروڑ سال پہلے ایک بہت بڑے مالیکیولی بادل کے ثقلی انہدام (Gravitational collapse)کی وجہ سے نظام شمسی کی تشکیل ہوئی۔ یہ بادل شروع میں اپنی وسعت میں کئی نوری سال پر محیط تھا اور خیال ہے کہ اس کے انہدام سے کئی ستاروں نے جنم لیا ہوگا۔ قدیم شہابیوں میں ایسے عناصر کے معمولی ذرات (Traces) پائے گئے ہیں جو صرف بہت بڑے پھٹنے والے ستاروں (Exploding stars) میں تشکیل پاتے ہیں۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سورج کی تشکیل ستاروں کے کسی ایسے جھرمٹ خوشۂ انجم (Star cluster) میں ہوئی جو اپنے قریب کے کئی سپر نووا دھماکوں کی زد میں تھا۔ ان دھماکوں سے پیدا ہونے والی لہروں (Shock wavess) نے اپنے پاس پڑوس کے نیبولا کے گیسی مادے پر دباؤ ڈال کر زیادہ گیسی کثافت کے خطے پیدا کر دیے جس سے سورج کی تشکیل کی ابتدا ہوئی۔اور پھر اس کے بعد ہمارا نظام شمسی اور اس کے سیارے بنے۔ ندا فاضلی کی غزل کا ایک شعر دیکھیں جس میں شاعر نیبولائی نظریے کی ترجمانی کرتا ہوا نظر آتا ہے         ؎

کہیں نہیں کوئی سورج دھواں دھواں ہے فضا

خود اپنے آپ سے باہر نکل سکو تو چلو

گویا ندا فاضلی سورج بننے سے قبل نیبولائی عمل کی ترجمانی کر رہے ہیں۔اور اس وقت کی منظر کشی کر رہے ہیں جب سورج کا وجود بھی نہیں تھا۔ یعنی وہ اپنے بننے کے ابتدائی مراحل میں تھا۔ان حقائق کی تائید عصر حاضر کے سائنسی انکشافات بھی کرتے ہیں۔ جب سائنسدانوں نے جیم ویب ٹیلسکوپ کی مدد سے اربوں سال پیچھے خلا میں جھانکا تو کائنات کے وجود میں آنے سے متعلق بہت سے راز آشکار ہوئے۔شعر کا پہلا مصرع ’کہیں نہیں کوئی سورج دھواں دھواں ہے فضا‘ نیبولائی بادلوں کا ترجمان ہے۔ دوسرا مصرع ’’خود اپنے آپ سے باہر نکل سکو تو چلو‘‘اپنی محدود کائنات سے باہر نکل کر تحقیق کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ اسی ضمن میں ایک اور شعر دیکھیں         ؎

نہیں ہے کوئی بھی سورج خلا کے صحرا میں

جہاں بھی دیکھیے گرد و غبار چھایا ہے

(عادل فراز)

بہرحال ہماری اس کائنات میں صرف ہمارا ہی نظام شمسی نہیں اس سے بھی بڑے بڑے ستارے اور ان کا نظام وجود رکھتا ہے۔ اگر ہم اپنے نظام شمسی کے محدود دائرے سے باہر نکل کر دیکھیں تو اربوں کھربوں کہکشائیں ہماری منتظر ہیں۔لیکن ان تک رسائی تب ہی ممکن ہے جب ہم لاکھوں نوری سال کی مدت طے کر کے ان تک پہنچیں گے۔لیکن اس کے لیے ہمیں روشنی کی رفتار سے سفر کرنا ہوگا۔اس ضمن میں راحت اندوری کا ایک شعر دیکھیں           ؎

سوال یہ ہے کہ رفتار کس کی کتنی ہے

میں آفتاب سے آگے نکل کے دیکھوں گا

یہاں یہ شعر اپنے دامن میں بہت سے مفاہیم کو سمیٹے ہوئے نظر آتا ہے۔پہلا یہ کہ راحت نظام شمسی میں موجود سورج اور اس سے متعلق اجرام فلکی کی گردش کی رفتار کی پیمائش کی بات کر رہے ہیں۔تبھی کہتے ہیں ’سوال یہ ہے کہ رفتار کس کی کتنی ہے‘دوسرا مطلب یہ بھی لیا جا سکتا ہے کہ وہ خلا میں سفر کرنے کی رفتار یعنی لائٹ کی اسپیڈ سے سفر کرنے کی بات کر رہے ہیں۔یعنی عصر حاضر میں ہمارے خلائی جہاز کی کتنی رفتار ہے۔اور ہمارے موجودہ نظام شمسی میں آفتاب اور اس سے آگے کا سفر طے کرنے میں ہمیں کتنی رفتار سے سفر کرنا ہوگا۔ ان تمام باتوں کی طرف راحت اندوری کا یہ شعر ذہن کو مرکوز کرتا ہے۔

سورج (SUN):سورج ہماری زمین کے لیے روشنی اور حرارت کا ایک اہم ذریعہ ہے۔اس کے ذریعے ہمارے نظام شمسی کا نظام قائم و دائم ہے۔یہ ہماری کہکشاں ’مِلکی وے‘ کے مرکزے سے تقریباً 30 ہزار نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔یہ ہمارے نظامِ شمسی کا مرکز ہے۔

سورج زیادہ تر ہائیڈروجن اور ہیلئم گیسوں پر مشتمل ہے۔اس کے مرکزمیں ایک بڑا نیوکلیائی ری ایکٹر ہے۔جس کا درجۂ حرارت کم از کم ایک کروڑ 40 لاکھ سینٹی گریڈ (2 کروڑ 50  لاکھ فارن ہائیٹ) ہے۔ سورج نیوکلیائی فیوژن کے ذریعے توانائی پیدا کرتا ہے۔ نیوکلیائی فیوژن سے مراد وہ عمل ہے جس سے ہائیڈروجن ہیلئم میں تبدیل ہوتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ توانائی کا اخراج بھی ہوتا ہے۔سورج 40  لاکھ ٹن فی سیکنڈ کی شرح سے توانائی کی صورت اپنی کمیت کا اخراج کر رہا ہے۔جو زمین کی کمیت کا 3,30,000  گنا اور نظام شمسی کے تمام سیاروں کی کمیت کا 745 گنا ہے۔سورج کا قطر 13,92,000 کلومیٹر (8,63,000 میل) ہے جو زمین کے قطر سے 109گنا بڑا ہے۔سورج کا حجم زمین سے 13 لاکھ گنا زیادہ ہے۔اس کے اطراف میں 8 بڑے سیارے، ان کے چاند، سیاروں کے مابین واقع چھوٹے اجسام، ہزاروں سیارچے، دمدار تارے، شہابیے گردش کرتے رہتے ہیں۔

اردو غزل میں شعرا نے جہاں سورج کو اپنی شاعری میں علامت اور استعارے کے پیرائے میں ڈھال کر پیش کیاہے وہیں انھوں نے سورج کے اطراف گردش کر رہے اجرام فلکی اور سیاروں کی بھی منظر کشی اپنے اشعار میں منفرد انداز میں کی ہے۔غزل کا ایک شعر دیکھیں جس میں شاعر اسی فکر کا ترجمان نظر آتا ہے۔

 زد میں سیاروں کی کیسے آگیا سورج مرا

سوچتا ہوں بارہا پر راز کھل پاتا نہیں

(محسن فتح پوری)

شاعر اپنے اس شعر میں نظام شمسی میں موجود سورج کے اطراف میں گردش کر رہے سیاروں کے بارے میں بات کرتا ہوا نظر آتا ہے۔اور اس کے پیچھے کے سائنسی عمل کو سمجھنے کی دعوت دیتا ہے۔اردو غزل کا ایک اور شعر ملاحظہ کریں یہ شعر بھی اسی سائنسی فکر کا ترجمان ہے        ؎

سورج یہ نظام شمسی کا دیتا ہے اجالے دنیا کو

کیا راز ہے اس میں پوشیدہ سمجھو تو ہمیں بھی سمجھانا

(جاوید اعظمی)

عطارد (Mercury): عطارد ہمارے نظام شمسی کا سب سے اندرونی سیارہ ہے۔جو سورج کے گرد ایک چکر زمینی اعتبار سے 87.969 دنوں میں پورا کرتا ہے۔اس کے علاوہ سورج کے گرد  لگانے والے ہر دو چکروں میں عطارد اپنے محور کے گرد تین بار گردش کرتا ہے۔چونکہ زمین سے عطارد ہمیشہ سورج کے قریب دکھائی دیتا ہے اس لیے عطارد کا مشاہدہ عموماً سورج گرہن کے دوران ہی کیا جاسکتا ہے۔ شمالی نصف کرے پر عطارد کو دیکھنے کے لیے غروب آفتاب کے فوراً بعد یا طلوع آفتاب سے ذرا قبل کا وقت مناسب ہوتا ہے۔ماہرین فلکیات کے مطابق عطارد کے بارے میں نسبتاً بہت کم معلومات موجود ہیں۔ زمین سے دور بین سے کیے جانے والے مشاہدات سے ہلال کی شکل کا عطارد دکھائی دیتا ہے تاہم زیادہ معلومات حاصل نہیں ہوتی۔ عطارد کو جانے والے دو خلائی جہازوں میں سے پہلا جہاز ’میرینر دہم‘ تھا۔جس نے 1974 سے1975 کے دوران عطارد کے 45فیصد حصے کی نقشہ کشی کی تھی۔دوسرا جہاز میسنجر تھا۔جو عطارد کے مدار میں 17 مارچ 2011 کو  داخل ہوا اور بقیہ حصے کی نقشہ کشی میں مصروف ہو گیا ہے۔ سطح کی درجہ حرارت منفی 183سے 427درجے تک رہتا ہے۔ سورج کی دھوپ والے حصے سب سے زیادہ گرم ہیں جب کہ قطبین کے نزدیک والے گڈھے سب سے سرد مقام ہیں۔ اس کے اندر بہت بڑی مقدار میں لوہا پایا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے اس کا مقناطیسی میدان زمین کے مقناطیسی میدان کا محض ایک فیصد ہے۔اپنے چھوٹے حجم اور لوہے کے اندرونی ڈھانچے کے باعث عطارد کثیف ہے۔عطارد شکل میں ہمارے چاند سے مشابہ ہے اور شہابیوں کے گرنے سے پیدا ہونے والے گڑھے یہاں بے شمار ہیں۔اس کا اپنا کوئی قدرتی چاند نہیں ہے اور نہ ہی کوئی خاص فضاہے۔اردو غزل کا شاعر جب اپنی غزل میں عطارد کا ذکر کرتا ہے تو اس کی اس خصوصیت کو کچھ اس طرح بیان کرتا ہے        ؎

رکھتا نہیں ہوں آج کوئی اپنے پاس چاند

کیا میں بھی ہوگیا ہوں عطارد تری طرح

(زبیر صدیقی)

زمین سے دیکھنے پر عطارد سورج کے سب سے قریب دکھائی دیتا ہے۔اس حقیقت کی ترجمانی میں ایک شعر ملاحظہ کریں:

قربت تری خورشید سے رہتی ہے برابر

اس واسطے ہم تجھ کو عطارد ہی کہیں گے

(شمیم عارف)

زہرہ  (Venus): سورج سے دوسرا سیارہ ہے اور سورج کے گرد ایک چکر زمینی وقت کے مطابق 224.7 دنوں میں مکمل کرتا ہے۔اس کا نام قدیم رومن دیوی ’وینس‘ کے نام پر رکھا گیا ہے جومحبت و حسن کی دیوی کہلاتی تھی۔ رات کے وقت آسمان پر ہمارے چاند کے بعد دوسرا روشن ترین خلائی جسم ہے۔ اس کی روشنی سایہ بناسکتی ہے یہ سیارہ عموماً سورج کے آس پاس ہی دکھائی دیتا ہے۔سورج غروب ہونے سے ذرا بعد یا سورج طلوع ہونے سے ذرا قبل زہرہ کی روشنی تیز ترین ہوتی ہے۔اس وجہ سے اسے صبح یاشام کا ستارہ بھی کہا جاتا ہے۔زہرہ کو ہمارے شعرا نے محبوب کے حسن کی ترجمانی میں بطور علامت بھی استعمال کیا ہے۔ اس سے متعلق اشعار دیکھیں          ؎

نظر جب بھی زہرہ جبیں کوئی آئی

ستارہ صبح کا مجھے یاد آیا

(نوید اشرف)

زہرہ دکھائی دینے لگا آسمان پر

سورج نکلنے والا ہے اپنے مکان پر

(جمیل کوثر)

زہرہ زندگی کی علامت بھی ہے اورحسن کا ترجمان بھی۔اس کا دیدار ہونے پر یہ خبر بھی ملتی ہے کہ کچھ دیر میں اندھیرا دور ہو جائے گا  یا سحر نمودار ہوگی کیونکہ سورج طلوع ہونے والا ہے۔اس سے متعلق اشعار دیکھیں          ؎

بنام زہرہ جبینان خطّۂ فردوس

کسی کرن کو جگائو بڑا اندھیرا ہے

(ساغر صدیقی)

نہ تیرگی کے لیے ہوں نہ روشنی کے لیے

ستارہ ٔسحری ہوں میں زندگی کے لیے

(عین سلام)

زمیں کی گود سے سورج نکالنے والو

ستارۂ سحری رہنما نہ ہو جائے

(اسلم فرخی)

زمین (Earth): نظامِ شمسی میں سورج کا تیسرا نزدیک ترین سیارہ ہے۔ زمین کی بیرونی سطح پہاڑوں، ریت اور مٹی کی بنی ہوئی ہے۔ پہاڑ زمین کی سطح کا توازن برقرار رکھنے کے لیے بہت ضروری ہیں۔ اگر زمین کو خلا سے دیکھا جائے تو ہمیں سفید رنگ کے بڑے بڑے نشان نظر آئیں گے۔ زمین کا صرف ایک چاند ہے۔ زمین کا شمالی نصف کرہ زیادہ آباد ہے جبکہ جنوبی نصف کرہ میں سمندروں کی تعداد زیادہ اور خشکی کم ہونے کی وجہ سے کم آبادی ہے۔

قطب شمالی اور قطب جنوبی پر چھ ماہ کا دن اور چھ ماہ کی رات رہتی ہے۔ عام دن اور رات کا دورانیہ چوبیس گھنٹے کا ہوتا ہے۔ماہرین فلکیات کے مطابق نظام شمسی میں واحد ہماری زمین ہی ایک ایسا سیارہ ہے جس پر حیات پائی جاتی ہے۔اس فکر کی ترجمانی میں ایک شعر دیکھیں           ؎

یہی زمین ہے واحد نظام شمسی میں

جہاں حیات کا اک کاروبار چلتا ہے

(عادل فراز)

ماہرین فلکیات کا یہ بھی ماننا ہے کہ ہماری زمین اور سورج کے ارد گرد گردش کر رہے سیارے دراصل سورج کے ہی ٹکڑے ہیں جو اس سے ٹوٹ کر الگ ہوئے تھے۔اس کی عکاسی میں ایک شعر ملاحظہ کریں          ؎

اسی زمین نے سب کو حیات بخشی ہے

جدا ہوئی تھی کبھی آگ کے سمندر سے

(شعلہ بجنوری)

ماہرین فلکیات جہاں اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ اس کائنات میں صرف ہمارا نظام شمسی نہیں بلکہ اس جیسے اور بھی لا تعداد نظام وجود رکھتے ہیں۔جس میں سورج اور اس کے ارد گرد سیارے گردش کر رہے ہوں گے۔ یعنی ہماری زمین کی طرح اور بھی لا تعداد زمینیں ہوں گی۔ اس فکر کی ترجمانی میں کیفی اعظمی کا ایک شعر دیکھیں           ؎    

میں ڈھونڈتا ہوں جسے وہ جہاں نہیں ملتا

نئی زمین نیا آسماں نہیں ملتا

(کیفی اعظمی)

گویا کیفی اعظمی نئے نظام شمسی اور اس میں موجود نئی زمینوں کی تلاش کرنے کی طرف ذہن کو مرکوز کر رہے ہیں۔

مریخ (Mars): مریخ نظام شمسی میں سورج سے فاصلے کے لحاظ سے چوتھا اور عطارد کے بعد دوسرا سب سے چھوٹا سیارہ ہے۔مریخ کی سرخ رنگت کی وجہ سے اسے سرخ سیارہ بھی کہا جاتا ہے۔یہ سرخ رنگ مریخ کی سطح پر آئرن آکسائڈ کی کثرت کی وجہ سے ہے۔مریخ ایک زمین مماثل سیارہ ہے جو زمین کی نسبت ہلکا کرہ ہوائی رکھتا ہے۔مریخ کے دو چاند ہیں جنہیں ’فوبوس‘ اور ’دیموس‘کہتے ہیں۔اردو غزل کا شاعر جب مریخ کو اپنی غزل میں پیش کرتا ہے تو کہتا ہے       ؎

آنکھوں میں اتنی سرخی مریخ لگ رہے ہو

محفل میں چل رہے ہو دو چاند ساتھ لے کر

(خورشید ضیغم)

مشتری (Jupiter): ہمارے نظام شمسی میں مشتری سورج سے پانچواں اور سب سے بڑا سیارہ ہے۔گیس جائنٹ ہونے کے باوجود اس کا وزن سورج کے ایک ہزارویں حصے سے بھی کم ہے۔لیکن نظام شمسی کے دیگر سیاروں کے مجموعی وزن سے زیادہ بھاری ہے۔مشتری آسمان پر سورج، چاند اور زہرہ کے بعد چوتھا روشن ترین اجرام فلکی ہے۔شمیم کرہانی اپنے ایک شعر میں زہرہ، مشتری، اور ماہ کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں           ؎

دل بھی کیا راہ گزر ہے کہ ہمیشہ جس میں

زہرہ و مشتری و ماہ چلا کرتے ہیں

شمیم کرہانی کا یہ شعر اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ شاعر اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ ہمارے نظام شمسی میں مشتری کے علاوہ زہرہ اور چاند بھی روشن ترین اجسام ہیں۔ اور شاعر کے دل میں ہمیشہ ان کے بارے میں جاننے کی خواہش پیدا ہوتی رہتی ہے۔

زحل (Saturn):  زحل ہمارے سورج سے چھٹے نمبر پرہے جب کہ ہمارے نظام شمسی کا دوسرا بڑا سیارہ ہے۔زحل کے گرد 62چاند دریافت ہوچکے ہیں۔اس کے گرد نو دائرے ہیں جو زیادہ تر برفانی ذرات سے بنے ہیں جب کہ کچھ میں پتھر اور دھول بھی موجود ہے۔اردو غزل کا یہ شعر دیکھیں جس میں شاعر منفرد انداز میں زحل اور اس کے اطراف میں پائے جانے والے دائروں کی ترجمانی کرتا ہے        ؎

ایسا گھرا ہوا ہے محفل میں دائروں کی

مثلِ زحل ہواہے وہ مہ جبیں ہمارا

(ہلال نقوی)

صمد رضا بھی اپنی غزل کے ایک شعر میں زحل کے بارے میں جاننے اور تحقیق کرنے کے لیے آمادہ کرتے ہوئے کہتے ہیں         ؎

چاند پر جائو کہ مریخ پہ پہنچو

اس سے آگے کی نہ سوچو کہ زحل پڑتا ہے

یورینس (Uranus):  ہمارے نظام شمسی میں سورج سے ساتواں سیارہ یورینس ہے۔ یہ سیارہ اپنے رقبے کے اعتبار سے تیسرا جب کہ وزن کے اعتبار سے چوتھا بڑا سیارہ تصور کیا جاتا ہے۔ اس سیارے کا نام یونانی دیوتا یورینس کے نام پر رکھا گیا ہے جو آسمان کا دیوتا کہلاتا ہے۔دیگر سیاروں کی طرح  یورینس کے گرد بھی چھلے پائے جاتے ہیں اور اس کا اپنا مقناطیسی فضائی کرہ اور کئی چاند بھی ہیں۔ماہرین کے مطابق یورینس کے اب تک کل 27 قدرتی چاند دریافت ہو چکے ہیں۔جن کے نام شیکسپیئر اور الیگزینڈر پوپ کی تحاریر سے لیے گئے ہیں۔ پانچ بڑے چاندوں کے نام میرانڈا، ایریل، امبریل، ٹائیٹانیہ اور اوبیرون ہیں یورینس کی فضا زحل اور مشتری سے ملتی جلتی ہے اور اس میں ہائیڈروجن اور ہیلیئم پائی جاتی ہے۔ اس کی فضا میں پانی، امونیا اور میتھین سے بنی برف زیادہ پائی جاتی ہے۔ ہمارے نظام شمسی کی یہ سرد ترین فضا ہے جس کا کم سے کم درجہ حرارت منفی 224 ڈگری سینٹری گریڈ ہے۔بناوٹ کے اعتبار سے یورینس نیپچون سے بھی مشابہت رکھتا ہے۔ اردو غزل کا ایک شعر دیکھیں جس میں شاعر اس مشابہت اور نظام شمسی میں ان کے آخر میں ہونے کی بات کرتا ہوا نظر آتا ہے       ؎

سورج تیری محفل میں یہ جڑواں نظر آئے

کیا کام ہے ان کا کوئی بتلائے جہاں کو

(زاہد اسرار)

یورینس نیپچون ہوں کیا

ذکر آیا ہے میرا آخر میں

(حامد مشتاق)

نیپچون (Neptune):  ہمارے نظامِ شمسی میں نیپچون آٹھواں اورسورج سے بعید ترین سیارہ ہے۔ اسے روم کے سمندری دیوتا کے نام پر نیپچون کہا گیا ہے اور نصف قطر کے لحاظ سے چوتھا جبکہ کمیت کے اعتبار سے تیسرا بڑا سیارہ ہے۔ نیپچون زمین سے 17 گنا زیادہ وزن رکھتا ہے اور اپنے جڑواں یورینس سے کچھ زیادہ بھاری ہے۔ زمین کی نسبت اس کا سورج سے اوسط فاصلہ 30 گنا زیادہ ہے۔

سورج سے دوری کی بنا پر اس کی فضا ہمارے نظامِ شمسی کے سرد ترین مقامات میں سے ایک ہے۔ بادلوں کے بالائی سرے پر درجۂ حرارت منفی 218 ڈگری تک پہنچ جاتا ہے جبکہ سطح پر درجۂ حرارت تقریباً 5000 ڈگری سینٹی گریڈ رہتا ہے۔ نیپچون کے گرد مدھم سے حلقے پائے جاتے ہیں جنھیں پہلی بار 1960 کی دہائی میں دریافت کیا گیا۔

نیپچون کے اب تک 14 معلوم چاند ہیں۔ سب سے بڑا اور تمام چاندوں کے مجموعی وزن کے 99.5 فیصد کمیت کا حامل چاند ٹریٹن ہے جو کُروی شکل کا ہے۔ اسے ولیم لاسل نے نیپچون کی دریافت کے محض 17 دن بعد دریافت کیا تھا۔ پورے نظامِ شمسی میں یہ واحد چاند ہے جس کی حرکت سیارے کے مخالف سمت ہے۔اس سے متعلق غزل کا ایک شعر دیکھیں         ؎

سورج کی بزم میں یہی واحد ملا ہے چاند

گردش میں مختلف ہے ہر اک اعتبار سے

(انعام رضا)

غزل کا یہ شعر غور و فکر کرنے کی دعوت دیتا ہے کہ آخر ہمارے نظام شمسی میں نیپچون کا چاند ٹریٹن اپنے سیارے سے مخالف سمت میں گردش کیوں کرتا ہے۔

پلوٹو (Pluto): ایک بونا سیارہ ہے جو 1930 میں دریافت ہوا تھا۔ پلوٹو 1930 سے 2006 تک نظامِ شمسی کے نویں سیارے کے طور پر جانا جاتا رہا ہے۔ لیکن 2006 میں نئی تحقیق کے بعد اس کو نظام شمسی کے سیارے کی حیثیت سے باہر نکال دیا گیا۔ماہرین کا ماننا تھا کہ ایک سیارہ اپنے مدار میں آنے والے تمام سیارچوں کو اپنی جانب کھینچتا ہے یعنی اس کی اپنی بے پناہ کشش ثقل ہونی چاہیے۔چونکہ سیارہ نیپچون کی کشش سیارے پلوٹو پر اثر انداز ہوتی ہے، اور سورج کے گرد گردش کے دوران ان کے مدار دو بار ایک دوسرے کو قطع کرتے ہیں، اس لیے، یونین کے نئے معیاروں کی وجہ سے پلوٹو کو سیارہ نہیں کہا جا سکتا، اور اس کا درجہ کم کر کے اِسے ڈوارف پلینٹ یعنی بونے یا چھوٹے سیارے کا درجہ دیا گیا۔اردو غزل کے اشعار دیکھیں جو پلوٹو کے نظام شمسی کے سیارے کی حیثیت سے باہر نکالے جانے کی ترجمانی کرتا نظر آتا ہے        ؎

کس لیے حسن کی محفل سے نکالا اس کو

کیا کہیں قد میں وہ سورج کے برابر تو نہیں

(سجاد حیدر)

میں انساں ہوں کوئی پلوٹو نہیں ہوں

نکالو نہ محفل سے بونا سمجھ کر

(عطا وارث)

اس میں کوئی شک نہیں کہ عصر ِحاضر کے شعرا نے نئے نئے موضوعات کو غزل کے پیرائے میں شامل کر کے اس کو نئے جہانِ معنی سے آشنا کرایا ہے۔کیونکہ یہ دور سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور ہے اور اب شعر و ادب کے تقاضے بھی بڑی تیزی کے ساتھ تبدیل ہو رہے ہیں اس لیے سائنسی رجحانات کو اردو غزل کے پیرائے میں ڈھال کر پیش کرنا بے حد ضروری ہے۔

غرض یہ کہ اردو غزل کے دامن میں اتنی وسعت ہے جس میں نہ صرف ہمارے نظامِ شمسی کی ترجمانی کی جاسکتی ہے بلکہ اس میں کائنات کے تمام پہلوئوں اور اس کے حسن و جمال کو ایک مختصر سے شعر کے قالب میں ڈھال کر پیش کیا جا سکتا ہے۔

کتابیات

.1                                               کائنات کیسے وجود میں آئی مترجم ’مولانا محمد زکریا اقبال‘

.2                                               تخلیقِ کائنات مترجم’عبدالستار‘

 

E.R Mohd Adil

Hilal House, H. No: 4/114, Jagjeevan Colony

Naglah Mallah, Civil Line

Aligarh- 202001 (UP)

Mob.: 8273672110

mohdadil75@yahoo.com

 

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...