16/11/18

صفی لکھنوی۔ اپنے دور کا ایک ممتاز شاعر. مضمون نگار:۔ حکیم عبدالناصر فاروقی




صفی لکھنوی۔ اپنے دور کا ایک ممتاز شاعر

حکیم عبدالناصر فاروقی

دہلی اور دکن کی طرح لکھنؤ بھی کسی زمانے میں ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں کا عظیم مرکز سمجھا جاتا تھا۔ دہلی کا دبستان شاعری جب زوال پذیر ہوا تو یہاں کے نابغۂ روزگار ادبا و شعرا نے لکھنؤ کے خوشگوار ماحول کی طرف رخ کیا اور وہ یہاں جوق در جوق آکر اپنے اپنے فن کا مظاہرہ کرنے لگے۔ اس طرح دہلی اور لکھنؤ میں علم و ادب کی محفلوں کو فروغ حاصل ہوا۔ یہاں شاعری کا ایک عام ماحول پیدا ہوا اور مشاعروں کی محفلیں آراستہ ہونے لگیں۔ نوابین اودھ اور عوام الناس کی خوش حالی اور فارغ البالی کے سبب یہاں اردو تہذیب و تمدن اور تاریخی ثقافت کو محفوظ رکھنے کے خوب مواقع میسر آئے۔ لکھنؤ کی شاعری کا سب سے بڑا وصف یہ تھا کہ یہاں کے ماحول کے مطابق زبان کی ادائگی، سلاست، نزاکت، الفاظ کی نوک پلک کو سنوارنے اور ان میں سوز و گداز پیدا کرنے کی طرف زیادہ توجہ دی جاتی تھی جس کی وجہ سے لکھنؤ کی شاعری کو ایک عظیم مرتبہ حاصل ہوا۔ یہاں شاعروں، ادیبوں اور نثرنگاروں کی ایک کھیپ ہمیشہ موجود رہی ہے جنھوں نے اپنے کمال فن سے لکھنؤ اور ملک کی فضا میں حب الوطنی، اخوت اور محبت کا ایسا رَس گھولا جس کی مٹھاس آج بھی محسوس کی جارہی ہے۔ ان سب عوامل نے عوامی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہاں کے لوگ شعرا کی قدردانی اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے میں کبھی پیچھے نہیں ہٹے جس کی وجہ سے شعر و شاعری اور اردو ادب کو خوب پھلنے پھولنے کا موقع ملا۔
لکھنؤ کے دبستان شاعری میں صفی لکھنوی کا نام ایک امتیازی حیثیت کا حامل ہے۔ ان کی شاعری میں جو شیرینی، تنوع، لطافت، شگفتگی، برمحل لفظوں کا استعمال اور سادگی دیکھنے کو ملتی ہے اس سے لکھنؤ کے شاعرانہ ماحول کی پوری طرح عکاسی ہوتی ہے۔ صفی کی یہی خوبیاں انھیں لکھنؤ سے وابستہ دوسرے شعرا سے ممتاز کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کو اپنے عہد کا ایک عظیم شاعر تصور کیا جاتا ہے۔
صفی لکھنوی جن کا اصل نام سید علی نقی زیدی تھا۔ 3جنوری 1862 کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے اور لکھنؤ میں ہی 24 جون 1950 کو ان کی وفات ہوئی اور ان کے حسد خاکی کو غفراں مآب کے امام باڑے کے قریب راجہ نواب علی کے مقبرے کے صحن میں سپرد خاک کیا گیا۔ 1 ان کے آبا و اجداد غزنی کے رہنے والے تھے جو شہاب الدین غوری (1160-1206) کے ساتھ ہندوستان آئے اور دہلی میں سکونت اختیار کی۔ نظام الدین اولیا کے قریب حوض شمسی کے گرد و نواح میں ان کے بزرگوں کے مزارات اب بھی موجود ہیں۔ کچھ عرصے کے بعد یہ خاندان دہلی کے مضافاتی علاقہ پنگوڑ منتقل ہوگیا۔ سلطنت مغلیہ کے زوال کے بعد صفی کے پر دادا سید احسان علی نے جاٹوں کے ظلم و ستم سے تنگ آکر پنگوڑ کو چھوڑا اور فیض آباد آگئے لیکن شجاع الدولہ (1732-1775) کی وفات کے بعد آصف الدولہ (1748-1797) نے جب لکھنؤ کو اپنا دارالخلافہ بنایا تو صفی کے دادا سید سلطان حسین (وفات 1317ھ/ 1899ء) بھی لکھنؤ چلے آئے اور یہاں نواب امجد علی شاہ (1801-1847) کے شاہزادہ ولی عہد مرزا سلیمان قدر کے اتالیق کی خدمت پر مامور ہوئے۔2 
صفی کی ابتدائی تعلیم 5 برس کی عمر میں بسم اللہ سے ہوئی۔ ابتدا میں فارسی اور عربی درسیات مولوی احمد علی اور چچا سید حسین سے جو ایک نامور حکیم تھے، حاصل کیں۔ کاکوری کے مولوی شمس الدین سے بھی استفادہ کیا۔ اپنے چچا سے اصول طب سیکھا لیکن اسے ذریعہ معاش نہیں بنایا۔ فارسی اور عربی کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد انگریزی پڑھنے کا شوق ہوا۔ کیننگ کالیجیٹ لکھنؤ سے انٹرنس کا امتحان پاس کیا۔ 1879 میں لال اسکول اور پھر کیننگ کالج کی برانچ میں انگریزی پڑھانے پر مامور ہوئے، پھر 1871 میں اترپردیش گورنمنٹ کے محکمہ دیوانی میں سرشتہ دار کے عہدہ پر ملازم ہوئے اور اس سلسلے میں رائے بریلی، سلطانپور اور پرتاپ گڑھ وغیرہ میں قیام کرنا پڑا مگر ملازمت کا زیادہ تر حصہ لکھنؤ میں ہی گزرا اور یہیں سے 1917 میں سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہوئے۔ سرکاری ملازمت سے سبکدو ش ہونے کے بعد عرصے تک آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں رہا۔ مئی 1940 میں سو روپے ماہوار کا وظیفہ نواب رامپور نے مقرر کیا جو تاعمر جاری رہا۔3
صفی نے 13 سال کی عمر میں شعر کہنا شروع کردیا تھا اور پھر دھیرے دھیرے اس فن میں اتنی ترقی کی کہ تمام اصناف سخن پر قدرت حاصل کرلی۔ صفی کی شاعری 1877 سے 1950 تک آٹھ دور سے گزری اور انھوں نے 1877 سے لے کر اپنی آخری عمر تک لکھنؤ کی بزم ادب کو اپنے فن اور وجود سے رونق بخشی۔
ڈاکٹر عبدالوحید ’جدید شعرا اردو‘ میں صفی کی شاعری پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے فرماتے ہیں: 4 
’’ صفی کی ذات ان مبارک ہستیوں میں سے تھی جنھوں نے لکھنؤ کی اردو شاعری کا رخ بدلا اور غزل کے لیے نئی عمارت تیار کی۔ انھیں شعرگوئی کا شوق بچپن سے تھا لیکن کسی سے اصلاح نہیں لی۔ انھوں نے اپنے ہی وجدان و ذوق شعر کی رہنمائی میں اس فن کی ترقی کی اور ترقی بھی ایسی کہ بہت جلد صفی کا شمار لکھنؤ کے ممتاز شعرا میں ہونے لگا۔‘‘
صفی کی شاعری کی سب سے اہم خصوصیت یہ تھی کہ انھوں نے ایک عام آدمی کی فہم اور لیاقت کو ذہن میں رکھتے ہوئے بہت ہی سادہ اور شیریں الفاظ میں اشعار کو پیش کیا اور اس کی خوبصورتی کو کسی بھی طرح سے کم نہیں ہونے دیا۔ یہی وجہ ہے کہ عام لوگوں کے یہاں ان کی شاعری کو بہت مقبولیت حاصل ہوئی۔ انھوں نے اس سلسلے میں کسی استاد سے مدد نہیں لی۔ اس بات کا تحریری ثبوت کہیں سے نہیں ملتا کہ وہ کسی کے شاگرد تھے۔ شوکت تھانوی (1904-1963) نے بھی انھیں تلمیذ الرحمن کہا ہے لیکن مرزا جعفر حسین ادیب کا کہنا ہے کہ صفی لکھنوی نے علی میاں کامل کے سامنے زانوئے ادب تہہ کیاتھا لیکن شہرت حاصل کرنے کے بعد ان کی شاگردی سے انکار کردیا۔ 5 اس زمانے میں شعرا اپنے کلام کی اصلاح کسی نہ کسی سے ضرور کرایا کرتے تھے۔ صفی کی شاعری میں ایک خاص قسم کی ندرت اور اصلاحی لب و لہجہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ ان کی نظموں میں قومی درد پایا جاتا ہے۔ صفی کو اردو اور فارسی زبانوں پر مکمل طور پر عبور حاصل تھا اور اردو محاوروں کا وہ برمحل استعمال کرتے تھے۔ شاعری کا کوئی میدان ایسا نہیں ہے جس میں صفی نے طبع آزمائی نہ کی ہو لیکن افسوس ہے کہ خانوادہ صفی میں کوئی ایسا فرد نہیں ہے جو میدانِ شاعری میں ان کی جانشینی کا فخر حاصل کرسکے۔
صفی لکھنوی نے لکھنؤ کے شعری مزاج سے ہٹ کر شاعری کی اور ان کا یہی انفرادی پہلوان کی شخصیت کا ایک دلکش سبب بنا۔ مولانا حسرت موہانی (1875-19515) انھیں مصلح طرز لکھنؤ کہا کرتے تھے۔6 صفی تحت اللفظ اور ترنم دونوں لہجوں میں اشعار پڑھتے تھے۔ ان کی خدمات کو دیکھتے ہوئے انجمن بہار ادب کا انھیں صدر بھی نامزد کیا گیا تھا۔ ان کی مثنوی ’تنظیم الحیات‘ شاعری کا ایک اعلیٰ نمونہ تھی جس پر ہندوستانی اکادمی الہ آباد نے 500 روپے کا انعام بھی عطا کیا تھا۔ انھیں کئی بار طلائی تمغے بھی پیش کیے گئے۔ قومی نظموں کے اعتراف میں انھیں ’لسان القوم‘ کا لقب دیا گیا۔ صفی کی شاعری روایتی شاعری سے بالکل الگ تھی۔ انھوں نے روایتی غزلوں کے بجائے نظم لکھنے کو زیادہ ترجیح دی۔ حب الوطنی سے متعلق ان کی نظمیں آج بھی بہت مقبول ہیں۔ ان کی نظموں کے مطالعے سے اس زمانہ کے سماجی، سیاسی اور تہذیبی حالات کا اندازہ ہوتا ہے۔ نظموں کے علاوہ انھوں نے قصیدے، سلام، نوحہ، مثنوی اور رباعی بھی لکھیں۔ صفی کی شاعری کے مطالعے سے اس بات کا بخوبی اندازہ ہوتاہے کہ وہ لکھنؤ کی شاعری میں ایک نمایاں تبدیلی لانے کے خواہش مند تھے۔
ڈاکٹر عبدالوحید صدیقی صفی کی شاعری کودو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ اوّل غزلیات، دوم: منظومات۔ ان کے الفاظ میں:7
’’جہاں تک غزل کا تعلق ہے صفی نے لکھنؤ کے بجائے شعرا دہلی کی اتباع کی۔ بڑی صفائی اور پرزور انداز میں نظم کرنے کا انھیں خاص ملکہ حاصل تھا۔ بیان کی سادگی وہ جوہر ہے جس نے صفی کی غزل کو امتیازی شان عطا کی۔ انھیں اہل زبان ہونے کی حیثیت سے شہرت حاصل ہوئی۔ سادہ و سلیس زبان میں روزمرہ کی چاشنی دے کر انھوں نے اپنی شاعری میں چار چاند لگا دیے۔ وہ محاورات و تشبیہات کو برمحل اور خوبصورت تراکیب کے ساتھ پیش کرتے تھے اور ترکیبوں کو مصرعوں کے سانچے میں ڈھالنے کا فن انھیں خوب آتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ پڑھنے کے بعد کبھی بھی یہ محسوس نہیں ہوتا تھا کہ وہ شعر میں قصداً لائی گئی ہیں۔ صفی نے مغربی خیالات کو اردو زبان میں پیش کرکے نہ صرف ندرت سے کام لیا بلکہ اردو ادب میں خیالات کا اضافہ بھی کیا۔ وہ عصر حاضر کے مختلف مسائل کو اپنی غزلوں میں اس خوبصورتی سے نظم کرتے ہیں کہ ان میں اجنبیت کا احساس باقی نہیں رہتا اور نہ ہی وہ غزل کی زبان و بیان پر بار محسوس ہوتے ہیں۔ وہ کبھی بھی اپنے رقیبوں کا ذکر اپنے اشعار میں نہیں کرتے اور نہ ہی شیخ و برہمن پر طنز کرتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی غزل میں عصرحاضر کے مذاق سے بڑی حد تک مناسبت پیدا ہوگئی ہے۔ غزلیات کی تمام خصوصیات سے متصف ہونے کے باوجود صفی کا طبعی رجحان نظموں پر ہی تھا۔ انھوں نے اپنی نظموں میں دلکشی کو برقرار رکھنے کی حی الامکان کوشش کی۔ ان کی ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ ان کی نظمیں پڑھنے والوں پر بار محسوس نہ ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے شگفتگی بیان کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔‘‘
صفی کے دل میں حب الوطنی کا جذبہ بہت زیادہ موجزن تھا۔ انھوں نے اس سلسلے میں جو قومی نظمیں کہی ہیں۔ ان میں اس کا بخوبی اظہار ہوتا ہے۔ ان کی یہ نظمیں سبق آموز ہونے کے ساتھ ساتھ دردناک بھی ہیں۔ ان میں وہ نظمیں قابل ذکر ہیں جن میں شہروں کے تاریخی مقامات کا بیان اور معروف عمارتوں کا تذکرہ پایا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں الہ آباد، بمبئی اور جونپور وغیرہ پر ان کی نظمیں شاہکار کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ’تتلی‘ پر بھی ان کی ایک نظم بہت مقبول ہوئی۔ مذکورہ مقامات کا ذکر کرتے وقت ان میں اتنی لطافت اور دلکشی پیدا ہوگئی ہے کہ ان کی ہوبہو تصویر سامنے آجاتی ہے۔
ڈاکٹر عبدالوحید مزید لکھتے ہیں:
’’ان طولانی نظموں کی بدمزگی دور کرنے کے لیے جہاں کہیں تغزل کا رنگ پیدا کیا ہے وہاں پڑھنے یا سننے والے کی زبان سے بے ساختہ تحسین کے کلمات نکل جاتے ہیں۔ بعض جگہ انھوں نے ایسے مواقع پر مزاح سے بھی کام لیا ہے اس طرح کہ نظموں کی متانت و سنجیدگی کو ٹھیس نہیں لگنے پائی اور شگفتگی میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔‘‘
صفی چونکہ طبِّ یونانی سے بھی شُدبُد رکھتے تھے۔ اس لیے انھوں نے اپنی ایک طویل نظم میں طب یونانی کے ماضی کی داستان پر پراثر انداز میں روشنی ڈالی ہے اور طب ویدک سے اسے ہم آہنگ بتایا ہے۔ یہ نظم ویدک اور یونانی کانفرنس میں پڑھی گئی تھی۔ 9صفی کو قطعات تاریخ پر بھی مہارت حاصل تھی۔ کس حروف کے عدد لینے ہیں اور کس کے نہیں اس کے بارے میں اکثر ان سے سوالات پوچھے جاتے تھے۔ اس کے بارے میں اپنے خطوط میں انھوں نے اس کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔ اس طرح علم موسیقی پر بھی انھیں دسترس حاصل تھی۔ اس کا اظہار بھی انھوں نے اپنے بعض خطوط میں کیا ہے۔10 لکھنؤ کے مشہور شاعر عزیز لکھنوی (1882-1935) کے استاد ہونے کا شرف بھی انھیں حاصل ہے۔ حالانکہ بعض اہل علم نے اس سے اختلاف ظاہر کیا ہے لیکن صفی نے نظم اور نثر دونوں میں واضح طور پر لکھا ہے کہ عزیزان کے شاگرد تھے۔ ڈاکٹر مسعود حسن رضوی ردولوی نے اپنی کتاب میں بعض دلائل سے یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ عزیز کا صفی سے شرف تلمذ حاصل تھا۔11
پروفیسرولی الحق انصاری (وفات 29 جنوری 2013) صفی لکھنوی اور ان کی شاعری پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:12
’’عہدملا کے ابتدائی دور کے معاصرین میں صفی لکھنوی اور چکبست لکھنوی وہ حضرات ہیں جنھوں نے شعوری یا غیرشعوری طور سے حالی کا نظریہ شعر قبول کیا یا یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ حالات بھی کچھ ایسے ہوچکے تھے کہ تنگنائے غزل سے باہر آکر انھیں اپنے خیالات کے اظہار کرنے کے لیے نظموں کا سہارا لینا پڑا۔ چکبست وطنی شاعر تھے اور صفی ملی..... چکبست، صفی، عزیز اور مرزا ہادی رسوا وغیرہ نے غزل کے مضامین میں وسعت اور تنوع پیدا کرنے کی کوشش کی بلکہ میں یہ کہنے کی جرأت کرسکتا ہوں کہ یہی حضرات تھے جنھوں نے حسرت، فانی اور اصغر سے بھی پہلے غزل کو معنوی آہنگ بخشا اور لطافت زبان کے ساتھ ساتھ روشن خیالی اور ندرت اظہار کو بھی غزل کا لازمی جز بنا دیا۔ چکبست کی شاعری اگر جذبہ وطنیت کی آئینہ دار ہے تو ان کے معاصر صفی کی شاعری پاکیزہ عشق کی کیفیتوں اور ملی جذبات کی ترجمانی کرتی ہے۔‘‘
تصانیف اور علمی آثار
صفی لکھنوی صاحب تصنیف و تالیف شاعر تھے۔ انھوں نے شعر و ادب پر بڑا وقیع سرمایہ یادگار چھوڑا ہے۔ زائر حسین کاظمی نے اترپردیش اردو اکادمی کی خواہش پر کلام صفی کا ایک مختصر مگر جامع انتخاب مرتب کیا ہے۔ صفی نے باقاعدہ ملی نظمیں 1917 میں ملازمت سے ریٹائر ہونے کے بعد کہنا شروع کیں۔ ان نظموں میں قومی عناصر کے ساتھ ساتھ ملکی اور سیاسی عناصر بھی شامل ہیں۔ نظموں کا ایک حصہ ’لخت جگر‘ کے نام سے شائع ہوچکا ہے۔ صفی کی ایک مثنوی ’تنظیم الحیات‘ ہے جو اکانومی آف ہیومن لائف کی جانب سے شائع ہوچکی ہے۔ اس کے علاوہ ان کے فارسی کلام کا مجموعہ اور کافی تعداد میں متفرق نظمیں اور ایک دیوان بھی طبع ہوچکا ہے۔ عظیم شاعرہ بلبل ہند سروجنی نائیڈو (1879-1949) کی نظم ’شب شہادت عظمیٰ‘ کا ترجمہ بھی صفی کے قلم کارہین ہے۔13 عمر خیام (1048-1131) کی 1236 فارسی رباعیوں کا منظوم ترجمہ بھی صفی نے کیا تھا جس کا مسودّہ رضا لائبریری رامپور میں موجود ہے۔14
(1) انتخابِ کلام صفی: 128 صفحات پر مشتمل یہ صفی کی غزلوں کا مجموعہ ہے جسے سید زائر حسین کاظمی نے مرتب کیا ہے۔ اس میں حروف تہجی کے اعتبار سے غزلوں کو جمع کیا گیا ہے۔ یہ کتاب 1983 میں اترپردیش اردو اکادمی سے شائع ہوئی ہے۔
(2) آہنگ حجازی: 10 صفحات پر مشتمل یہ ایک نظم ہے جسے جلسہ بنائے شیعہ کالج میں 24 اپریل 1916 میں پڑھا گیا۔ یہ مطبع گلشن فیض بہ اہتمام واجد حسین عرف کلن سے شائع ہوچکا ہے۔
(3) جواہر مہرہ: یہ 34 صفحات پر مشتمل صفی کی ایک نظم ہے جو جلسہ آل انڈیا شیعہ کانفرنس 1908 میں پڑھی گئی اور گلشن فیض مولوی گنج لکھنؤ کے نظیر پریس سے شائع ہوئی۔
(4) دیوانِ صفی مع خلاصہ مقدمات: 204 صفحات پر مشتمل یہ کتاب ممتاز حسین جونپوری کی ادارت میں 1952 میں شائع ہوئی جس میں صفی کی شاعری اور ان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اسے انجمن ترقی اردو (ہند) نے شائع کیا ہے۔ اس میں ممتاز حسین جونپوری کے علاوہ مرزا جعفر علی خاں، سید کلب، عباس نقوی، علامہ اختر تلہری، سید احتشام حسین اور سید شہنشاہ حسین کے مقدمات شامل ہیں۔
(5) دیوانجی: یہ 624 صفحات پر مشتمل ظریف لکھنوی کا کلیات ہے جسے صفی نے مرتب کیا ہے۔ یہ کتاب 1949 میں صفدر پریس کیننگ اسٹریٹ لکھنؤ سے شائع ہوچکی ہے۔ اس کے حصہ اوّل میں غزلیات، حصہ دوم میں متفرق اشعار اور حصہ سوم میں منظومات شامل ہیں۔
(6) صحیفۃ القوم: 208 صفحات پر مشتمل یہ صفی کی نظموں کا مجموعہ ہے جو 1907 سے اپریل 1916 تک شیعہ کانفرنس اور شیعہ کالج سے متعلق ہے جسے خود صفی نے مرتب کیا ہے۔ یہ مطبع میتھو ڈسٹ پرنٹنگ ہاؤس لکھنؤ سے شائع ہوا ہے۔
(7) صحیفہ: یہ 186 صفحات پر مشتمل صفی کی یاد میں سید زائر حسین کاظمی کا مرتب کردہ تنقیدی مضامین و نظموں کا مجموعہ ہے جو سرفراز پریس لکھنؤ سے دسمبر 1974 میں شائع ہوچکا ہے۔
(8) لخت جگر: یہ 367 صفحات پر مشتمل نظموں کا مجموعہ ہے جو آل انڈیا شیعہ کانفرنس اور اس کی ادارت سے متعلق ہے۔ اسے صفی لکھنوی نے مرتب کیا ہے اور نظامی پریس لکھنؤ سے شائع ہوچکا ہے۔
(9) مکاتیب صفی: یہ 177 صفحات پر مشتمل صفی کے خطوط کا مجموعہ ہے جسے سید زائر حسین کاظمی نے مرتب کیا ہے اور یہ سرفراز پریس لکھنؤ سے 1988 میں شائع ہوچکا ہے۔
(10) منظومات صفی (حصہ اوّل): یہ 162 صفحا ت پر مشتمل صفی کی نظموں کا مجموعہ ہے جسے سید زائر حسین نے مرتب کیا ہے۔ یہ کتاب اترپردیش اردو اکادمی سے مارچ 1977 میں شائع ہوچکی ہے۔
نمونہ کلام: ذیل کے سطور میں صفی کے اشعار کو بطور نمونہ نقل کیا جارہا ہے جو صفی کی قادرالکلامی اور الفاظ کے بہترین استعمال کی مہارت کو سمجھنے کے لیے کافی ہے ؂
ہم نشینی غیر کی اس بزم میں کام آگئی
ہم تک بھی ایک جام شراب آہی گیا
151151
کل ہم آئینہ میں رخ کی جھریاں دیکھا کیے
کاروان عمر رفتہ کے نشاں دیکھا کیے
زور ہی کیا تھا جفائے باغباں دیکھا کیے
آشیاں اجڑا کیا ہم ناتواں دیکھا کیے
151151
میری لاش کے سرہانے وہ کھڑے یہ کہہ رہے ہیں
اسے نیند یوں نہ آتی اگر انتظار ہوتا
151151
کوئی زہر پی بھی لیتا تو وہ دل لگی سمجھتے
کوئی جان دے بھی دیتا تو نہ اعتبار ہوتا
151151
غزل اس نے چھیڑی مجھے ساز دینا
ذرا عمر رفتہ کو آواز دینا
یہ شکوے دل کی بے تابیوں سے
ہر انجام میں رنگ آغاز دینا
151151
دیکھ لوں دور سے تصویر شباب رفتہ
رخ ادھر بھی کبھی اے عمر گریزاں کرنا
دم تعبیر صد افسوس نہ سمجھے یہ صفی
گھر کا آباد ہی کرنا تو ہے ویراں کرنا
151151
الٰہی زندگی کیا، موت کیا، بیمار ہجراں کی
پریشاں خواب وہ، تعبیر یہ خواب پریشاں کی
151151
وہ کیوں درپردہ میرے چاک پیراہن پہ ہنستے ہیں
ذرا آئینہ لانا دیکھ لوں صورت گریباں کی
صفی حکم رہائی مل چکا پھر کیوں توقف ہے
مگر زنداں سے کنجی کھوگئی ہے قفل زنداں کی
151151
پیغام زندگی نے دیا موت کا مجھے
مرنے کے انتظار میں جینا پڑا مجھے
151151
بناوٹ ہو تو ایسی ہو کہ جس سے سادگی ٹپکے
زیادہ ہو تو اصلی حسن چھپ جاتا ہے زیور سے
151151
دیکھے بغیر حال یہ ہے اضطراب کا
کیا جانے کیا ہو پردہ جو اٹھے نقاب کا
151151
غم نقد حیات لوٹنے کو ہے
یہ رشتۂ عمر ٹوٹنے کو ہے
پیری میں کمر جھکی تو کیا دم کا قیام
اب تیر کماں سے چھوٹنے کو ہے
مولانا ماہرالقادری(1907-1978) نے ماہنامہ ’فاران‘ کراچی اپریل 1951 کے شمارے میں صفی لکھنوی کے بارے میں مندرجہ ذیل الفاظ سے اپنی تعزیت کا اظہار کیا تھا:15
’’حضرت صفی لکھنوی نغزگو شاعر ہی نہیں مستند استاد بھی تھے۔ ان کے شعر زبان کے لیے سند کی حیثیت رکھتے ہیں۔ صفی کے دم سے سچ تو یہ ہے کہ لکھنؤ کی عزت قائم تھی151 اور یہ میں نے ’قائم تھی’ کیا کہا اب بھی قائم ہے کہ صفی دنیا سے چلے گئے مگر ان کا کلام زندہ ہے۔‘‘
حواشی
1؂ دیباچہ انتخاب کلام صفی، ص 9
2؂ جدید شعراء اردو، ص 257
3؂ دیباچہ انتخاب کلام صفی، ص 1 تا 9
4؂ جدید شعرا ء اردو، ص 257
5؂ دیباچہ انتخاب کلام صفی، ص 7
6؂ https.//www.rekhta.org.
7؂ جدید شعراء اردو، ص 257
8؂ ایضاً، ص 258
9؂ ایضاً، ص 263 تا 265
10؂ نقوش خطوط نمبر جلد سوم ص 338
11؂ عزیز لکھنوی، حیات اور کارنامے، ص 88
12؂ http/libbazmeurdu.net
13؂ بوستانِ عقیدت۔کربلا اور غیرمسلم شعراء، ص 112
14؂ دیباچہ انتخاب کلام صفی، ص 8
15؂ یادرفتگاں، حصہ اوّل، ص 373
کتابیات
(1) انتخابِ کلام صفی، مرتبہ: سید زائر حسین کاظمی، اترپردیش اردو اکادمی، 1983
(2) بوستانِ عقیدت (کربلا اور غیرمسلم شعرا)، مرتبہ: نور احمد میرٹھی، بزم اردو لائبریری، ادارہ فکر نو، کراچی 2007
(3) جدید شعراء اردو، چیف اڈیٹر، ڈاکٹر عبدالوحید، فیروز سنز پرنٹر پبلشر سیلرز اینڈاسٹیشنر
(4) عزیز لکھنوی۔ حیات اور کارنامے، طبع اوّل، ڈاکٹر مسعود حسن رضوی ردولوی، نظامی پریس، وکٹوریہ اسٹریٹ، لکھنؤ، 1984
(5) مکاتیب صفی، مرتبہ: سید زائر حسین کاظمی، سرفراز پریس لکھنؤ، 1988
(6) یادرفتگاں، جلد اوّل، ماہرالقادری، مکتبہ نشان راہ، نئی دہلی، 1985 
n
Hakeem Abdun Nasir Farooqui
Sadar Shobaye Jarrahat
Ayurvedic and Unani Tibbia College
Ajmal Khan Road, Block 5
Karol Bagh, New Delhi - 110055





قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

15/11/18

ماحول اور موسمی تبدیلیاں۔ مضمون نگار: رفیع الدین ناصر




ماحول اور موسمی تبدیلیاں
رفیع الدین ناصر
تعارف
دور حاضر میں دنیائے انسانیت دو اہم مسائل سے دوچار ہے۔ ایک ہے ماحول کی بڑھتی ہوئی آلودگی اور دوسرا ہے کرّہ ارض پر حرارت میں غیر متوقع اضافہ جسے Global warmingکہا جاتا ہے۔ 1994 کی اقوام متحدہ کی رپورٹ میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے مطابق دنیا کے سات شہروں میں سے پانچ شہر ایشیا کے ہیں جہاں سب سے زیادہ آلودگی پائی جاتی ہے۔ ان شہرو ں میں کولکتہ، ممبئی، دہلی، بیجنگ اور جکارتا شامل ہیں۔ دہلی اور ممبئی ان شہروں میں سے ہیں جہاں سب سے زیادہ آلودگی پائی جاتی ہے۔ بعد میں سنہ 2000 کی رپورٹ میں چنئی کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق دہلی کی بڑھتی ہوئی آبادی اور ذرائع نقل و حمل میں روز افزوں اضافے نے اس شہر کی فضا کو تشویشناک حد تک آلودہ کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھا جس کی وجہ سے بیجنگ، قاہرہ اور میکسیکو جیسے آلودہ گرین دارالحکومتوں کے صف میں کھڑا کر دیا ہے۔ ہوا میں شامل گرد و غبار، باریک ذرات جن کی پیمائش مائکرو میٹر میں کی جاتی ہے، ہوا میں دس مائکرو میٹر سے کم سائز کے پی ایم 10کہلانے والے ذرات انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہیں۔ عالمی ادارہ صحت عامہ WHO کے مطابق یہ انتہائی باریک ترین ذرات انسانی پھیپھڑوں میں پہنچ جاتے ہیں اور پھر وہاں مستقل طور پر جم جاتے ہیں۔ اس سے ہر سال لاکھوں کی تعداد میں اموات واقع ہوتی ہیں۔ اس عالمی ادارے نے ہوا میں ان ذرات کی زیادہ سے زیادہ مقدار بیس ذرات فی مکعب میٹر مقرر کی ہے۔ دہلی انتظامیہ نے سو ذرات فی مکعب میٹر کی قانونی حد مقرر کی تھی جبکہ اس شہر میں تین سو ذرات فی مکعب میٹر ناپے جاتے ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ہمارا ماحول کس حد تک متاثر ہوا ہے۔ 

ماحول کیا ہے؟ 
ماحول (Ecology) لفظ Oikos = house اور Logos = study کا مجموعہ ہے جس کے لفظی معنی ہوتے ہیں Study of houseجس سے مراد دنیا کا مطالعہ کرنا ہے۔ اس اصطلاح کو سب سے پہلے Ernest Haeckel نے 1886 میں استعمال کیا۔ اس کی تعریف ہیکل نے یوں بیان کی کہ جانداروں اور ان کے اطراف کے حیاتی اور غیر حیاتی اجزا کا تعلق ہر چند کہ اس روئے زمین پر موجود تمام جانداروں کا تعلق براہِ راست یا بالواسطہ حیاتی اجزا سے قائم ہے۔ اسی بنیاد پر ہیکل نے ماحول کے مطالعے کی مختصر ترین تعریف ’’دنیا کا مطالعہ‘‘ کیا ہے۔ 
دراصل انسان اور اس کے اطراف کے حیاتی اور غیر حیاتی اجزا کو ماحول کہتے ہیں۔ ایسے حیاتی اور غیر حیاتی اجزا جن کا انسانی زندگی پر اثر ہوتا ہے، انھیں مشترکہ طور پر ماحول کہتے ہیں۔ اس کی تعریف یوں بھی بیان کی جاسکتی ہے ’’ایسا مسکن جس کا اپنا ماحولی نظام ہو ماحول کہلاتا ہے‘‘۔
ہزاروں سال قبل جب سے اس کرہ ارض پر انسانی زندگی کا آغاز ہوا، انسان اپنے ہی اطراف کے قدرتی ماحول سے فائدہ اٹھا کر اپنی زندگی بسر کرتا آیا ہے۔ انسان نے کھانے کے لیے درختوں کی پتیاں، پھل، جانوروں کا گوشت اور تن کو ڈھانپنے کے لیے درختوں کے بڑے بڑے پتوں کا استعمال کیا ہے۔ انسان چونکہ قدرت کا ایک بہترین شاہکار ہے اس لیے اس میں سوچنے، سمجھنے، اچھے بُرے کی تمیز کرنے اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت بدرجہ اتم موجود ہے۔ اس نے انہی خداداد صلاحیتوں کی وجہ سے تہذیب و تمدن کی بنیاد رکھی۔ انہی اوصاف نے اسے ترقی کا راستہ دکھایا اور یہ روز بروز نئے نئے تجربات کا خوگر ہوتا گیا۔ انسان نے ترقی کرکے جہاں تن کو ڈھانپنے کے لیے کپڑوں کی ایجاد کی وہیں کھانوں کے لیے نئے نئے ذائقے دریافت کیے۔ انسانی آبادی میں روز افزوں اضافہ ضروریات زندگی میں بھی اضافے کا متقاضی رہا۔ اس لیے اس نے زراعت کا طریقہ ایجاد کیا اور زمین سے اناج، سبزیاں اور پھل اگا کر اپنے خورد ونوش کا انتظام کرنے لگا۔ زراعت کے لیے کھاد اور پانی کی فراہمی اصل مسئلہ تھی جسے وہ قدرتی وسائل سے حاصل کیا کرتا تھا۔ مثلاً مویشیوں سے کھاد حاصل کرکے اپنی ضرورت پوری کرتا رہا۔ پانی کے لیے اس کا زیادہ ترانحصار بارش پر تھا۔ بارش کی کمی کی وجہ سے اگر کبھی پانی کی کمی ہوجاتی تو یہ کمی کنوؤں کے پانی سے پوری کی جاتی تھی۔ 
پچھلی تقریباً ایک صدی سے انساانی آبادی میں غیرمتوقع اضافہ اس کی ضروریاتِ زندگی کے اضافے کی اصل وجہ ہے لہٰذا جن وسائل پر ہماری زندگی کا دارومدار تھا وہ ناکافی ہوتے جارہے تھے۔ جس سے انسان کا عرصہ حیات تنگ ہوتا نظر آرہا تھا۔ ایسی حالت میں انسان کا اپنے وسائل کے لیے ہاتھ پیر مارنا فطری تھا۔ انسان کے لیے قدرتی وسائل کی کمی نے تجربات کی نئی راہیں ہموار کردی اور یہ نئے نئے تجربات کرنے لگا۔ پچھلی ایک صدی سے خصوصاً ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک صحت اور غذا پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔ نئی نئی اشیاء ایجاد ہورہی ہیں جن کا دن بہ دن استعمال بڑھتا جارہا ہے۔ نتیجے میں قدرتی ماحول میں مداخلت کا عمل روز افزوں بڑھتا جارہا ہے۔ لہٰذا یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ انسان اور اس کے اطراف کا ماحول ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جہاں انسان کا وجود ہے وہیں اس کے ماحول کا بھی وجود ہونا لازمی امر ہے۔ انسان قدرت کی سب سے ترقی یافتہ مخلو ق ہے اس لیے اپنے پاکیزہ ماحول کی پاکیزگی یا آلودگی کی بھی پوری ذمہ داری اسی پر عائد ہوتی ہے۔ 
علم ماحولیات (Ecology)دراصل یہ ایک ایسا علم ہے جس میں خاندان یا سماج یا گروہ اور اس میں رہنے والے ذی حیات کے درمیان باہمی تعلق کا مطالعہ کیا جاتا ہے جس سے حاصل ہونے والے نتائج و اثرات اور اس کے تدارک کی تدابیر پر غور و خوض کیا جاتا ہے۔ اسی سے ماحولیاتی سائنس (Environmental Science)کا وجود ہوا ہے۔ یہ سائنس کی ذیلی شاخ مانی گئی ہے جو ماحولیاتی مسائل کو وسیع پیمانے پر حل کرنے میں معاون ہوئی ہے۔ اس میں موسم اور آب و ہوا کا تفصیلی مطالعہ کیا جاتا ہے۔ 

ماحول کے اقسام
ہمارا ماحول جاندار اور غیر جاندار اشیا کے باہمی عمل سے وجود میں آیا ہے اس لیے اسے ماحولیاتی نظام کہتے ہیں۔ ماحول کے بنیادی طور سے دو اقسام ہیں۔1: قدرتی ماحول اور2: انسانی خود ساختہ ماحول۔
1: قدرتی ماحول: کرہ ارض پر اور اس کے اطراف میں پائے جانے والے مادے ٹھوس، مائع اور گیس کی شکل میں ہمیشہ سے اتنی مقدار میں موجود ہیں جتنی کہ قدرت نے عطا فرمائی ہے۔ نا تو اس میں کمی ہوتی ہے اور نہ ہی زیادتی بلکہ حالات کے بدلنے سے ان کی شکلیں بدل جاتی ہیں۔ ٹھوس مائع میں، اور مائع گیس میں تبدیل ہوکر ہمارے اطراف ہوائی کرہ میں داخل ہوجاتی ہیں۔ بعض گیسیں کسی نا کسی طرح پھر زمین میں جذب ہو جاتی ہیں مثلاً پانی میں حل پذیر گیسیں تیزاب بناتی ہیں۔ یہ تیزاب زمین میں جذب ہوکر نئے مرکبات بناتے ہیں۔ یہ پودوں اور درختوں کی نشوونما میں معاون ہوتے ہیں۔ اس طرح مادے کی مقدار جوں کی توں قائم رہتی ہے۔ اسی لیے قدرتی ماحول کو یوں بیان کیا جاتا ہے کہ ’’ماحول جو اپنی اصل شکل میں بغیر کسی انسانی مداخلت کے موجود ہو، قدرتی ماحول کہلاتا ہے،،۔
2: انسانی خود ساختہ ماحول : زمین پر انسان سب سے زیادہ ترقی یافتہ مخلوق ہے۔ اسے قدرت نے سوچنے سمجھنے او ر فیصلہ کرنے کی صلاحیت عطا کی ہے جس کی وجہ سے یہ اپنی زندگی کو بنانے اور سنوارنے کے لیے نئے نئے تجربات کرتا رہتا ہے۔ اسی وجہ سے انسان اپنی ضروریاتِ زندگی کی حصولیابی کے پیش نظر اس سے ہونے والے نتائج کی پرواہ کیے بغیر اپنے ماحول میں تبدیلی کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔ آبادی کا دھماکہ اور اس کے تقاضوں کی تکمیل کے لیے کارخانوں، فیکٹریوں اور دیگر صنعتی اداروں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے قدرتی ماحول تیز رفتاری کے ساتھ تنزل پذیر ہوتا جارہا ہے۔ اس لیے براہ راست انسانی مداخلت کی وجہ سے ماحول میں جو تبدیلی یا ردوبدل ہورہا ہے اس کو انسانی خود ساختہ ماحول سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ 
قدرتی ماحول میں انسان کی مداخلت روز بروز بڑھتی جارہی ہے جس کی وجہ سے ماحول کی آلودگی میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے اور جس کی وجہ سے انسان کی زندگی سب سے زیادہ متاثر ہورہی ہے۔ صنعتی کارخانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ، فیکٹریوں سے نکلنے والے آلود ہ پانی سے ندیوں کی آلودگی اور ذرائع نقل و حمل میں اضافہ اور اس میں استعمال ہونے والے مختلف اقسام کے ایندھنوں سے فضائی آلودگی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ زراعتی زمینوں پر آباد کاری، فصلوں میں اضافے کے لیے مصنوعی کھاد اور جراثیم کش دواؤں کے کثرت سے استعمال نے ہمارے ماحول کو آلودہ کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ جراثیم کش دواؤں سے نا صرف انسانی زندگی متاثر ہوئی ہے بلکہ کرم خور پرندوں کی جانوں کو بھی خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ 

ماحول کے اجزائے ترکیبی: 
ہمارا ماحول چار کروں پر مشتمل ہے۔ 1۔ ہوائی کرہ، 2۔ آبی کرہ ، 3۔ زمینی کرہ ،4۔ حیاتی کرہ۔
1۔ ہوائی کرہ : کرہ زمین کے اطراف ہوا کا ایک حفاظتی غلاف ہے جو سورج سے آنے والی شعاعوں کو براہ راست زمین تک آنے نہیں دیتا۔ اس کی وجہ سے زمین کے درجہ حرارت کا توازن قائم رہتا ہے۔ اس کے دو اہم اجزا آکسیجن اور نائٹروجن ہیں۔ جبکہ آرگان، کاربن ڈائی آکسائڈ اور دیگر گیسیں قلیل مقدار میں پائی جاتی ہیں۔ آکسیجن حیوانات کے لیے جتنی ضروری ہے اتنی ہی کاربن ڈائی آکسائڈ نباتات کے لیے ضروری ہے۔ پودے شعاعی ترکیب کے ذریعے ہوا سے کاربن ڈائی آکسائڈ اپنے دہن خلیوں کے ذریعے حاصل کرتے ہیں۔ اسی طرح نائٹروجن، امونیا گیس اور نائٹروجنی ترویجی بیکٹیریابھی جانداروں کے لیے اشد ضروری ہیں۔ ہماری بد قسمتی ہے کہ سائنس اور ٹکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ہوا کی آلودگی میں بے تحاشا اضافہ ہورہا ہے۔ یہ اضافہ اس کرہ ارض پر بسنے والے ذی حیات کے لیے مسلسل خطر ہ بنتے جارہے ہیں۔
2۔ آبی کرہ : سمندر، تالاب، ندیاں، نہریں، چشمے، آبشار قطبی برفیلے علاقے اور زمینی پانی آبی کرے کے وسائل ہیں۔ ایک سروے کے مطابق آبشار اور قطبی برفیلے علاقے سے تین فیصد اور بقایا وسائل سے 97فیصد پانی حاصل ہوتا ہے۔ جبکہ صرف ایک فیصد پانی انسان کے خوردونوش کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ پانی کا 30فیصد حصہ آبپاشی کے لیے، 50فیصد حصہ توانائی پیدا کرنے کے لیے، 13فیصد حصہ کارخانوں میں استعمال کرنے کے لیے اور 7فیصد حصہ گھریلو امور کے لیے استعمال میں آتا ہے۔ سمندروں سے غذائی وسائل جیسے مچھلیاں، جھینگے وغیرہ حاصل ہوتے ہیں۔ جبکہ پہاڑوں سے بہتے ہوئے پانی سے بجلی تیار کی جاتی ہے۔ ہم اپنی ضروریات زندگی کے ایک فیصد پانی کو بھی آلودہ کردیں تو ہماری زندگی پر کتنے مضر اثرات پڑیں گے؟ اس کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔
3۔ زمینی کرہ : ہماری زمین اور اس کی مٹّی مختلف نامیاتی اور غیر نامیاتی مرکبات اور پانی پر مشتمل ہے۔ یہ زمینی کرہ ہمارے لیے کتنی اہمیت کا حامل ہے اس کا اندازہ اس طرح لگایا جاسکتا ہے کہ ہم اپنی ضرورت کی ہر چیز مثلاً غذا، معدنیات ، نمکیات، پانی، لکڑی ، کوئلہ اور ہر قسم کے نباتات اسی سے حاصل کرتے ہیں۔
4۔ حیاتی کرہ : زمینی کرے پر بسنے والے تمام جاندار، انسان، حیوانات، نباتات ، خشکی و آبی کے ذی حیات ، زمین میں رہنے والے حشرات اور خوردبینی اجسام حیاتی کرے کے اجزا ہیں۔ یہ ماحول کا سب سے اہم جز ہے جس کا دارومدار ہوائی، آبی اور زمینی کروں پر ہے۔ ان میں کسی بھی طرح کی ناخوشگوار تبدیلی حیاتی کرے کو متاثر کیے بغیر نہیں رہ سکتی۔ 

ماحول اور انسانی زندگی : 
ہم جانتے ہیں کہ ماحول دراصل مختلف خولوں کا مجموعہ ہے۔ زمین کی اوپری سطح سے کچھ سو کلو میٹر تک کی دوری تک کے ایک خول میں جو بھی آتا ہے، وہ ماحول ہے۔ ا س میں جاندار اور غیر جاندار سبھی موجود ہیں۔ زمین کے اوپر کی ہوا، اس کی سطح اور اندر کے پانی اور پانی نما جیسے برف وغیرہ اس کے علاوہ زمین کے اوپر اور اندر کی مٹی سب ماحول میں شامل ہیں۔ اسی میں زندگی ہے اور زندگی کی علامتیں بھی ہیں۔ انسان اسی ماحول میں رہتا ہے جہاں سے وہ اپنے لیے پھل، پھول ، اناج ، کپڑے اور ضروریاتِ زندگی کی تمام چیزیں حاصل کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت عطا کی اور اسی صلاحیت نے انسان کو ترقی یافتہ بنا کر اپنا رنگ دکھانا شروع کیا۔ خوب ترقی کی، کمپیوٹر، موبائل ، نیوکلئیر پلانٹ، لڑاکو جہاز سب کچھ تیار کیا اور ماحول کو آلودہ کرتا گیا۔ 

ماحولیاتی آلودگی : 
اللہ تعالیٰ نے ہمارے ماحول میں مختلف وسائل انسان کے لیے رکھے ہیں لیکن انسان کی بے سوچی سمجھی ترقی، توانائی کی ضرورت اور اس میں جلانے کی وجہ ، طرح طرح کی مشینوں کے بننے اور ان میں ایندھن کے استعمال نے وسائل کو خراب کیا ہے اور ماحول میں آلودگی بڑھائی ہے۔ ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے نباتات، حیوانات، چھوٹے جانوروں،کیڑے مکوڑوں، پانی کے جانداروں کے ساتھ ساتھ ماحول پر بھی بہت خراب اثر ڈالا ہے جس کے نتیجے میں آدھے سے زیادہ قسم کے حیوانات اور نباتات ختم ہوچکے ہیں۔ اور جو موجود ہیں ان کا مستقبل بھی پریشانیوں سے گھرا ہوا ہے۔ ہوا ، مٹی، پانی، آسمان میں، پیڑ پودوں میں، تمام کیمیائی اشیا میں نامناسب اجزاء مل گئے ہیں جس سے وہ اب اتنے فائدہ مند نہیں رہ گئے ہیں، جتنے کہ وہ پہلے ہوا کرتے تھے۔ اس کی وجہ صرف اور صرف آلودگی ہے۔ جدید ترقی یافتہ دور میں ہم سوچتے ہیں کہ ہم ترقی کررہے ہیں لیکن یہ ہماری بھول ہے۔ آلودگی ترقی کی دین ہے اور یہ ترقی کو پیچھے لے جا رہی ہے۔ یہ آلودگی مختلف اقسام کی ہے جیسے کہ ہوا کی آلودگی، مٹی کی آلودگی، آواز کی آلودگی، صنعتی آلودگی، پانی کی آلودگی، درجہ حرارت بڑھنے کی وجہ سے آلودگی، اٹامک اور نیوکلیائی آلودگی، کیڑے مار دواؤں کی وجہ سے آلودگی وغیرہ۔ یہ آلودگی بڑھتی جارہی ہے اور دنیا کا یہ اہم ترین مسئلہ بن گئی ہے۔ اس کا سب سے زیادہ اثر موسم کے بدلاؤ پر ہوا ہے۔

بدلتے موسم 
ماحولیات میں تبدیلی ہم اپنی عقل سے لائے ہیں۔ اس وجہ سے موسم بھی بدلتے جارہے ہیں۔ مگر یہ ہماری مرضی سے نہیں بلکہ اپنی مرضی سے بدل رہے ہیں۔ موسم دھیرے دھیرے بدل رہے ہیں۔ جن لوگوں کی عمریں 50سال سے زیادہ ہوگئی ہیں وہ لوگ اکثر کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ ،سردی اس طرح پڑتی تھی ، گرمی میں ہم لوگ یہ کہا کرتے تھے، بارش تو اتنی ہوتی تھی کہ دسیوں دنوں تک سورج کا دیدار ہی نہیں ہوتا تھا، لوگ گرمی دینے والے سورج کے لیے دعائیں کرتے تھے۔ اور جب بارش نہیں ہوتی تو نمازیں پڑھی جاتی تھیں۔ فصلیں خراب ہوتی تھیں اور کسی سال اتنی بارش ہوتی تھی کہ ساری سڑکیں ڈوب جاتی تھیں۔ انسان نے جب سے حساب رکھنا شروع کیا، تو سب سے پہلے موسم کا ہی حساب رکھا۔ کچھ نہیں کیا تو بھی بس اتنا ہی یاد رکھا کہ بارش زیادہ ہوئی یا کم ہوئی۔ گرمی پڑی تو کتنی زیادہ ہوئی، دن رات برابر میں ہیں یا نہیں، درجہ حرارت زیادہ تو رہا مگر گرمی کم لگی، ہوا چل رہی تھی یا نہیں چل رہی تھی، سورج نکلنے کا وقت، ڈوبنے کا وقت وغیرہ۔ ماحول میں طرح طرح کے گیسوں کی وجہ سے ، گرمی سردی میں فرق کی وجہ سے ، بارش کی کمی زیادتی کی وجہ سے، ہوا کے تیز اور دھیمے ہونے سے، ہوا میں نمی کی کمی یا زیادتی کی وجہ سے بہت فرق آیا ہے۔ بہت سے حیوانات اور نباتات ختم ہورہے ہیں۔ بعض میں کچھ تبدیلیاں آرہی ہیں۔ یعنی کہ موجود تو ہیں لیکن بہت چھوٹے ہیں ، عمریں گھٹ رہی ہیں ، کوئی پیڑ اس وجہ سے ختم ہوگیا کہ اس کا بیج جب کوئی جانور کھا لیتا تھا تو اس کی غلاظت سے جب پھر وہ واپس ہوا میں آتا تھا تو اس میں کچھ فرق آ جاتا تھا جو کہ اس کے دوبارہ پنپنے کے لیے ضروری تھی۔ اور اس میں کونپل نکل آتی تھی۔ اب کسی اور وجہ سے وہ جانور یا چڑیا نہ رہی تو یہ بیج بھی پنپ نا سکا اور اس پیڑ پودے کی بھی نسل ختم ہوگئی۔ بہت سے جانور جیسے ڈیناسور اب باقی نہیں رہے۔ پہلے گدھ اور کوّے بہت ہوتے تھے، اب تو یہ عالم ہے کہ گدھ تو شہروں ، قصبوں میں ہی کیا گاؤں میں بھی دکھائی نہیں دیتے ہیں۔ ہاں کوّے دکھائی دیتے ہیں لیکن کم کم۔ مچھر بہت زیادہ ہوگئے ہیں۔ شہروں میں جنگلی ہاتھی یا چیتے کے بھاگ آنے کی خبریں آئے دن سننے کو ملتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ہاتھی یا چیتے بہت زیادہ ہوگئے ہیں، بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ جہاں یہ رہتے تھے وہاں کے جنگل کٹ گئے ہیں۔ بھاری بھاری مشینوں سے سڑکیں اور دیگر کام اور انتظام ہورہا ہے۔ ان کے گھروں پر آدمی قبضہ کررہا ہے۔ تو یہ راستہ بھول کرشہروں کی طرف آجاتے ہیں۔ 
موسم میں روز بروز تبدیلیاں ہوتی جارہی ہیں جس کی وجہ سے مختلف اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ زمین کے درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے گلیشیر پگھلنے لگے ہیں جس کی وجہ سے سمندر کی سطح میں 15سینٹی میٹر کا اضافہ ہوا ہے۔اکیسویں صدی میں سمندری سطح میں 59سینٹی میٹر کے اضافے کا امکان ہے جس کی وجہ سے سمندری کنارے غرقاب ہونے کا اندیشہ ہے۔ اس کے علاوہ برف پگھلنے کی وجہ سے سمندر غیر متوازن ہوتا جارہا ہے۔ پچھلی کچھ دہائیوں میں اتھلے سمندر کا پانی بھاپ بن کر اڑنے کی وجہ سے سمندر کی اوپر کی فضاء کا درجہ حرارت بڑھ گیا ہے جس کی وجہ سے کئی سمندری جاندار تباہ ہوگئے ہیں اور تیزبارش کی وجہ سے کئی علاقوں میں سیلاب آیا ہے۔ موسم کی تبدیلی کی وجہ سے انھیں 1970 کی بہ نسبت انٹارٹکا کے سمندر میں اضافہ ہوا ہے۔ آلودگی کی وجہ سے کرہ ارض کے درجہ حرارت میں اضافہ ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے زمین پر مختلف ذی حیات کی زندگی متاثر ہوئی ہے۔ 

بدلتے موسم کے ذمہ دار ہم خود: 
انسان نے اپنی ترقی کے لیے قدرتی ماحول میں بہت بگاڑ پیدا کیا ہے۔ حد سے زیادہ وسائل کا استعمال کیا ہے۔ اس نے سمندر کو اونچے اونچے پہاڑوں میں تبدیل کیا ہے، برفانی پہاڑوں کو سمندر میں تبدیل کیا ہے، ندیوں کو سکھایا، مٹی کو برباد کیا، زمین میں موجود پانی کو برباد کیا، زمین کے درجہ حرارت میں اضافہ کیا، گلیشیر کو پگھلا کر سطح آب میں اضافہ کیا، اس کی وجہ سے موسم میں بہت تبدیلیاں�آئی ہیں۔ راجستھان میں جہاں بارش کم ہوتی تھی ، اب وہاں پر باڑھ آتی ہے۔ جبکہ میگھالیہ اور کیرلہ پانی کو ترستے ہیں۔ بہت سے جنگل اب بنجر ہوچکے ہیں۔ وہاں پانی بھی نہیں برستااور مٹی بھی خراب ہوگئی ہے۔ کروڑوں اقسام کے پیڑ پودے، کیڑے مکوڑے ختم ہوگئے ہیں۔ انسان نے فیکٹریاں قائم کیں جس کے ذریعے کاربن ڈائی آکسائڈ، سلفر ڈائی آکسائڈ، میتھین، کلورو فلورو کاربن کا اخراج ہورہا ہے جس کے نتیجے میں گلوبل وارمنگ ہورہی ہے۔ اوزون کی پرت پتلی ہوتی جارہی ہے۔ پیڑ پودوں کو نقصان ہورہا ہے۔ تیل ، کوئلہ او ر معدنیا ت کا ذخیرہ گھٹتا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ کیمیائی کھاد اور کیڑے مارنے والی دواؤں نے زمین کو برباد کردیا ہے۔ تیزابی بارش نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی ہے۔ انسانی صحت روز بروز متاثر ہوتی جارہی ہے۔ سانس کی، جلد کی، اور کینسر کی بیماریاں عام ہوگئی ہیں۔ شور نے نیند حرام کردی۔ بہرہ پن، جھنجھلاہٹ، نفسیاتی و دماغی امراض میں اضافہ ہوا ہے۔ صاف آکسیجن نہیں مل پا رہی ہے اور انسانی زندگی بہت متاثر ہوگئی ہے۔ 

تدارک : 
ہم آج بھی اگر سنجیدگی سے سوچیں تو ماحولیاتی آلودگی کو روک سکتے ہیں۔ بدلتے موسم کو روک سکتے ہیں۔ ہمارے ماحول کو صاف بنا سکتے ہیں۔ لیکن اس کے لیے ہم کو سنجیدگی سے غور کرکے عملی طور سے کچھ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جیسے شمسی توانائی کا استعمال روشنی کے لیے، کھانا پکانے کے لیے اور الیکٹرانک آلات کے لیے کرنا چاہیے۔ جتنے ہو سکے پیڑ لگائیں۔ تالاب بنائیں۔ پانی کو زمین کے اندر محفوظ کریں۔ زمین سے حاصل ہونے والی قدرتی دولت کا حسب ضرورت اور کم استعمال کریں۔ آبادی پر قابو رکھیں۔ پلاسٹک کا استعمال ، کیمیائی کھاد اور کیڑوں کو مارنے والی ادویات کا استعمال ترک کردیں۔ہم اپنے آپ کو اور اپنے ماحول کو صاف ستھرا اور خوشگوار رکھیں۔ سائیکل کا استعمال، کپڑوں کی تھیلیاں، قدرتی دواؤں اور ضروریات زندگی کا استعمال کریں۔ کیونکہ یہ چیزیں ہم کو قدرتی ذرائع سے مفت ملتی ہیں۔ ان سے پیار کریں۔ زمین سے ، زمین کے گھومنے سے، صبح سے ، شام سے ، آسمان اور اس کے بدلاؤسے ، دھنک سے ، زمین کے لوگوں سے ، چڑیوں اور جانوروں سے ، پھول سے ، پھولوں کی مہک سے ، صاف پانی سے ، سورج سے، چاند سے، جھرنوں سے ، ندیوں سے، پہاڑوں سے، پیڑوں کی چھاؤں سے، آم سے ، آدمیوں سے، عقل سے، سچائی سے، ہندوستان سے ، ہندوستانیوں سے اس طرح سے ہم لاکھوں سالوں تک اس زمین او رماحول کو خوبصورت اور رہنے کے لائق پاتے رہیں گے اور ہمارے موسم جوں کے توں برقرار رہیں گے۔

Mr. Rafiuddin Nasir
Maulana Azad College
Roza Bagh
Aurangabad - 431001 (MS)







قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

14/11/18

ڈپٹی نذیر احمد کے مکتب میں سائنس کی تعلیم مضمون نگار:۔ شاداب تبسم





ڈپٹی نذیر احمد کے مکتب میں سائنس کی تعلیم
شاداب تبسم

دنیائے اردو ادب میں ڈپٹی نذیر احمد کو ناول نگار کی حیثیت سے اولیت حاصل ہے۔ وہ اعلیٰ درجے کے نثر نگار، ماہر زبان داں، مترجم، مقرر اور عالم تھے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم اپنے والد سعادت علی سے حاصل کی لیکن دلی کالج کی تعلیم نے انھیں مولوی نذیر احمد سے ڈپٹی نذیر احمد اور صحیح معنوں میں جدید افکار سے روشناس کرایا۔ دہلی کالج میں ان کی تعلیم کا زمانہ 1845 سے 1854 تک تھا۔ یہاں انھوں نے عربی، فلسفہ، سائنس وغیرہ کی تعلیم حاصل کی۔ دوران ملازمت الہ آباد میں انگریزی بھی سیکھ لی۔
ڈپٹی نذیر احمد ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے۔ معاشرتی اصلاح بالخصوص عورتوں کی اخلاقی تربیت میں گہری دلچسپی تھی۔ جدید تعلیم کی تبلیغ اور اصلاح نسواں ان کا بڑا کارنامہ ہے۔ ان کا خیال تھا کہ راست پندو نصائح کا طریقہ مؤثر نہیں ہوسکتا اس لیے اپنے مقصدکی تکمیل کے لیے مذہبی اور اخلاقی کتابیں تحریر کیں ۔ ایک ماہر نفسیات کی طرح قصے اورکہانیوں کو اصلاح کا ذریعہ بنایا۔ چنانچہ بنات النعش، مراۃ العروس، توبۃ النصوح، فسانۂ مبتلا، ابن الوقت، رویائے صادقہ اور ایامیٰ جیسے ناول لکھے۔ان تمام ناولوں کا مقصد مجموعی طورپر فرسودہ خیالات کو رفع کرنا اور نئے تقاضوں کے تحت داخلی رویوں میں تبدیلی پیدا کرنا تھا۔ ناول’ابن الوقت‘ اور ’رویائے صادقہ‘ میں نذیر احمد انگریزی تعلیم اور تہذیب کے زیر اثر فروغ پانے والے جدید تہذیبی رویوں کے غلبے کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دوسری طرف ناول ’بنات النعش‘ میں لڑکیو ں کے لیے مکتب کھول کر اس میں امور خانہ داری اور اخلاقی تعلیم کے ساتھ مغربی علوم اور سائنسی ادراک سے ہندستانی سماج بالخصوص مسلم خواتین کو روشناس کرانے میں دیگر افراد کے ساتھ نذیر احمد بھی پیش پیش نظر آتے ہیں۔ جس دور میں اسکول کے نظام کی کوئی صورت گری نہیں ہوئی تھی اور لڑکیوں کے لیے اسکول کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا ۔ نذیر احمد نے ناول ’بنات النعش‘ میں لڑکیوں کے لیے مکتب کھول کر تعلیم و تربیت کا بہترین طریقہ اختیار کیا۔
جدید تعلیمی تحریک کی مرکزی حیثیت تو سرسید احمد خاں کی تھی مگر ان کے رفقا میں نذیر احمد کا حصہ سرسید کے بعد سب سے زیادہ نظر آتا ہے۔ سرسید اور ڈپٹی نذیر احمد کی تحریریں اس بات کی گواہ ہیں کہ دونوں قدیم تعلیم سے بیزار اور جدید تعلیم کے حامی تھے۔ 1862 میں سائنٹفک سوسائٹی کا قیام بھی مغربی علوم کو ورناکیولر میں منتقل کرنے کے مقصد سے عمل میں آیا تھا۔ اس سوسائٹی کو سرسید تحریک کا نقطۂ آغاز کہا جاسکتا ہے۔ اس کے تحت انگریزی سے اردو میں ترجمے کا کام شروع ہوا تو مندرجہ ذیل مضامین کا انتخاب کیا گیا۔
حرکیات (Mechanics) برقیات (Electronics)، ریاضی (Mathematics)، فلسفۂ قدرت (Natural Philosophy) اور جدید زراعت (Agriculture) وغیرہ۔ 
سائنس لاطینی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی علم کے ہیںیعنی تجربات ومشا ہدات کے ذریعے حاصل ہو نے والے علم کو سائنس کہتے ہیں۔یوروپ میں انیسویں صدی سے سائنس کا زریں دور شروع ہوتا ہے اس لیے اخلاق اور امور خانہ داری کے ساتھ سائنس کی تعلیم کے پیش نظر ناول ’مراۃ العروس‘ میں ڈپٹی نذیر احمد ناول کے کردار اصغری کے ذریعہ لڑکیوں کے لیے ایک مکتب قائم کراتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں کے حقوق کی پاسبانی ، ان کی فلاح و بہبود اور اس سے زیادہ ان کی تعلیم و تربیت کے جذبات نذیر احمد کے قلب میں موجزن تھے۔ اگرچہ اس کا نقطۂ آغاز ان کی اپنی بیٹیوں کی تعلیم تھی۔ لیکن انھوں نے اپنے مقصد کو اس طرح پھیلایا کہ اس کے فوائد نے اجتماعی صورت اختیار کرلی اوراصغری کے مکتب کی تصویر کشی کر کے اس کی عملی شکل ہمارے سامنے پیش کی ہے۔
ناول ’بنات النعش‘ کا کردار معلمہ اصغری میں علم کے اعتبار سے اتنا وزن اور وقار ہے کہ وہ ابتدائی درجات کے بچوں کو مذہب اور اخلاق جیسے علوم کے ساتھ ابتدائی سائنس ، حساب ، جغرافیہ اور تاریخ جیسے علوم کو اعتماد کے ساتھ پڑھا سکتی ہے۔ ڈپٹی نذیر احمد چاہتے تھے کہ گھر کے اخراجات ، لین دین، آمد و خرچ وغیرہ کے حساب کتا ب میں خواتین کو کسی کا دست نگر نہ ہونا پڑے۔ اس لیے مکتب میں معلمہ ریاضی جیسے خشک مضمون کی ایک شاخ حساب (Arithmatics) کی تعلیم دلچسپ انداز میں دیتی ہے۔ جس سے لڑکیاں ریاضی کی طرف راغب ہوں۔ ناول ’بنات النعش‘ کے ایک باب ’حساب کی دلچسپ باتیں‘ سے چند مثالیں پیش ہیں:
محمودہ: کیوں کلثوم تین اور سات اور نو مل کر کے ہوتے ہیں؟
کلثوم: انیس
محمودہ: اور بھلا آٹھ اور چھ اور دو۔
کلثوم: سولہ‘‘ 1
محمودہ: اچھا زبیدہ تم کلثوم سے زیادہ بڑی ہو۔ بھلا بتاؤ بارہ لڑکیاں اگر ہنڈ کلہیا میں تین تین پیسے کا ساجھا ملائیں تو سب کے آنے ہوں گے
زبیدہ: نو آنے
محمودہ: ڈیڑھ سیر میں اگر چھ لڑکیوں کے برابر حصے لگائے جائیں تو ہر ایک لڑکی کو کتنا کتنا پہنچے گا۔
زبیدہ: پاؤ پاؤ بھر‘‘۔ 2
مکتب میں نہ صرف جوڑنا، باقی نکالنا، ضرب، تقسیم ہی نہیں بلکہ رقبہ (Area)، حجم (Volume) اور اربعہ متناسبہ (Property of ratio and proportion)کا قاعدہ بھی سکھا یا جاتا ہے۔ مثلاً 
محمودہ: بھلا یہ بتاؤ کہ یہ دالان جس میں ہم سب بیٹھے ہیں چھ گز لمبا اور ڈھائی گز چوڑا ہے ، چاندنی میں کتنا مارکین خرچ ہوگا؟
رابعہ: اورمارکین کا عرض
محمودہ: یہی معمولی گز بھر۔
زبیدہ: پورے پندرہ گز۔
محمودہ: ایک سوال بتاؤ تو تم کو بڑی شاباشی دیں۔ یہ بڑی مسجد کا حوض چھ گز مربع ہے یعنی لمبان چوڑان برابر۔ اور دو گز گہرا اور ایک گز مربع میں تین مشک پانی آتا ہے اور ایک مشک میں پچیس لوٹے اور ایک لوٹے میں پندرہ گلاس اور ایک گلاس میں آدھ پاؤ پانی تو سارے حوض میں کتنا پانی ہو ا‘‘۔ 3
معلمہ محمودہ جامع مسجد کی مینار کو بغیر گز، بغیر رسی اور مینار کے اوپر جائے بغیر ناپنے یعنی سایہ (Shade) کے ذریعے لمبائی ناپنے کی بابت متعدد سوالات قائم کرتی ہے تو ہاجرہ اربعہ متناسبہ کے قاعدے سے قطب صاحب کی لاٹ ناپنے کے تعلق سے کہتی ہے:
’’ہاجرہ: ابھی ایک بڑی آسان بات ہے ۔ ایک تنکا لے کر اس کوناپ لیا ۔ پھر اس کو دھوپ میں کھڑا کر کے اس کے سایہ کوناپ لیا، پھر لاٹ کے سایہ کو ناپ ڈالا تو اربعہ متناسبہ کے قاعدے سے جو تم کو معلوم ہے لاٹ کالمبان نکل آئے گا۔ اس طور پر کہ اپنے لمبے تنکے کا سایہ اس قدر لمبا پڑتا ہے تو لاٹ جس کا سایہ اتنالمبا ہے کتنی اونچی ہوگی۔‘‘ 4
معلمہ اصغری کی ساس حرف شناس نہیں تھیں۔ اس لیے ان کو ماما عظمت جیسی عورت تباہ کرتی چلی گئی۔ معقول آمدنی کے باوجود خاندان تنگ دستی میں مبتلا رہا۔ لیکن اصغری کے گھر کا حساب کتاب رکھنے سے اندازہ ہوا کہ موجودہ آمدنی سے گذر بسر آسانی سے ہوسکتی ہے۔ ڈپٹی نذیر احمد کا خیال تھا کہ خواتین روزمرہ کی زندگی میں پیش آنے والی ضرورتوں کے لیے کسی کی محتاج نہ رہیں۔ ان بنیادی باتوں کے علاوہ انھوں نے خواتین کے لیے اوپری درجے کی تعلیم کو بھی پیش نظر رکھا ہے۔ اس لیے مکتب میں ان موضوعات پر گفتگو کی گئی ہے جنھیں حقائق اشیاء کاعلم کہہ سکتے ہیں۔ سائنسی علوم میں حساب کے علاوہ علم جرثقیل کامختصر تذکرہ ملتا ہے۔ مثلاً محمودہ کہتی ہے:
محمودہ: علم جرثقیل میں اسی قسم کی ہزاروں باتیں ہیں۔ حکمت بڑی چیز ہے۔اکیلا آدمی حکمت کے زور سے ہزاروں من کا بوجھ تنکے کی طرح اٹھا کر پھینک دے۔‘‘ 5
ڈپٹی نذیر احمد لڑکیوں کو صرف گھرکی چار دیواری میں محدود نہیں رکھنا چاہتے تھے۔ بلکہ ان کی خواہش تھی کہ خواتین کو علم کی روشنی حاصل ہو اوران کے دماغ روشن ہوں۔ اس لیے ناول میں حساب اور علم جرثقیل کے علاوہ زمین کی کشش، وزن مخصوص، ہوا کا دباؤ، کشش، مقناطیس، زمین کی گردش، خوردبیں، جغرافیہ، سمندر کے منافع، بجلی، بادل وغیرہ کے بارے میں کچھ بنیادی باتیں بتائی گئی ہیں۔
زمین کی کشش یاکشش ثقل (Gravity) یعنی جب کوئی چیز آسمان کی طرف اچھالتے ہیں تو وہ واپس زمین پر آکر گرتی ہے دراصل ثقل وہ پُر اسرار طاقت ہے جو ہر چیز کوزمین کی طرف کھینچتی ہے۔ سب سے پہلے اسحاق نیوٹن (Issac Newton) نے سترہویں صدی میں ریاضی کے ذریعے اجسام کی کشش کے بارے میں دریافت کیا تھا۔ ان کا یہ نظریہ قانون تجاذب (Law of Gravity) کہلاتا ہے۔ کشش ثقل کے بارے میں محمودہ حسن آرا کوبتاتی ہے:
’’جتنی چیزیں ہیں سب کو زمین اپنی طرف کھینچتی ہے ۔ جوچیز اوپر کو پھینکتے ہیں، کچھ دور تک تو پھینکنے والے کے زور اور زبردستی سے اوپر چلی جاتی ہے پھر آخر زمین کی کشش اس کونیچے کھینچ لاتی ہے۔ پتھر کواوپر پھینکو اور دیکھتی رہو تو ایسا معلوم ہوگا کہ جوں جوں اوپر جاتا ہے اس کی چال سست اور دھیمی ہوتی جاتی ہے اور پھر جو الٹتا ہے تو تیر کی طرح زمین کی طرف دوڑتا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ چیزیں زمین کی کشش کے مارے اوپر کو نہیں جانا چاہتیں اور جاتی بھی ہیں تو زبردستی اور بڑی مشکل سے۔‘‘6
باب ’وزن مخصو ص ‘کے تحت تیرتے ماأعات (Liquids) یعنی ایک مایع چیز دوسرے مایع پر کیوں تیرتی ہے۔یہ قاعدہ آرکمیڈیز (Archimedes) کی دریافت ہے جسے کثافت (Density) کہتے ہیں۔ محمودہ پانی اور تیل کی مثال دے کر حسن آرا کو سمجھاتی ہے کہ تیل کی کثافت کم ہونے کی وجہ سے تیل پانی کے اوپر تیرتا ہے:
’’کوئی چیز ہلکی ہے کوئی بھاری۔ جتنی ہلکی چیزیں ہیں خود بخود اوپر آجاتی ہیں۔ مثلاً گلاس میں اول تیل ڈال دیجیے، اس کے اوپر پانی ۔ تو چوں کہ تیل پانی کی نسبت ہلکا ہے خود بخود اوپر آجائے گا۔‘‘ 7
طالبات کے فہم و بصیرت میں اضافے کے لیے باب ’ہوا کا داب‘ (Air Pressure)میں استانی محمودہ اور حسن آرا کے درمیان موضوع پر گفتگو مکالمہ اور مذاکرہ کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔ مثلاً ہوا میں وزن ہے تو کیسے، خالی بوتل میں ہوا ہے تو کس طرح۔ غرض اسی نوعیت کے استفسارات کے تسلی بخش جواب دیے جاتے ہیں۔ معلمہ یہ سمجھانے میں کامیاب ہوجاتی ہے کہ دھواں بھی ہوا سے ہلکا ہونے کے سبب اوپر کو ہی جاتا ہے۔
’کشش اتصال ‘(Force of Attraction) باب کے تحت ذکر کیا جاتا ہے کہ کل چیزیں ایک دوسرے کو اپنی طرف کھینچتی ہیں۔ اس کے ساتھ مقناطیس (magnet) جو میگنیس (Magnes) کی دریافت ہے، پر بھی سیر حاصل گفتگو ہوتی ہے کہ مقناطیس کیا ہے اور کس طرح لوہے کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ زمین گول ہے اور آفتاب کے گرد گھومتی ہے۔ مقناطیسی کشش کی مناسبت سے زمین کی گولائی اور آفتاب کے گرد گھومنے کا ذکر کرتے ہوئے محمودہ شاگردہ کو اس بات سے آگاہ کرتی ہے کہ کشش کی وجہ سے زمین گیند کی طرح آفتاب کے گرد چکر لگاتی ہے۔ 
’خوردبیں‘ (Microscope ) یعنی بصری آلہ جس کے ذریعہ انتہائی چھوٹے اجسام جن کو آنکھیں نہیں دیکھ پاتیں آسانی سے دیکھا جاسکتا ہے۔ استانی خوردبیں کا استعمال کرتی ہیں تو شاگردہ مکتب میں حیرت و استعجاب کے انداز میں کہتی ہے: 
’’بدن کے رونگٹے رونگٹے میں چھید مکھی تو دیکھو ہزاروں لاکھوں آنکھیں اور پروں میں اتنے رنگ۔افوہ ہوا میں اتنے بھنگے۔الہ اکبرپانی میں بلا کے کیڑے شیشہ تو عجب طلسمات کا شیشہ ہے۔‘‘8
باب ’’رنگ‘‘ میں رنگوں کے بکھراؤ کے تعلق سے عام معلومات فراہم کرتی ہے۔ اور سمجھاتی ہے کہ آسمان میں نکلنے والی رنگین کمان قوس قزح ( Rainbow )کس طرح بنتی ہے۔ رنگوں کے بیان پر مشتمل ایک کتاب الماری سے نکال کر شاگردہ کو پڑھنے کے لیے دیتی ہے۔
کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ہم آسمان کی طرف دیکھتے ہیں تو پھٹے ہوئے بادل میں چاند بھاگتا ہوا نظر آتا ہے۔ لیکن جب بادل نہیں ہوتا تو چاند میں کوئی حرکت نہیں ہوتی۔ اس تعلق سے مکتب کی لڑکیوں کے ذہنوں میں پنپنے والے سوالات کا جواب استانی اس طرح وضاحت کے ساتھ دیتی ہے کہ کوئی پہلو تشنہ نہ رہے۔متحرک چیزوں میں ’آنکھ کا غلطی کرنا‘ باب کے تحت نہایت ہی تفصیل کے ساتھ تمام باتوں کو اس انداز سے بیان کرتی ہے کہ عام ذہن رکھنے والی لڑکیاں بھی آسانی سے سمجھ سکتی ہیں۔کہتی ہے:
محمودہ: ’’میں بتادوں یہ بھی آنکھ کی ایک غلطی ہے۔ ہوا بادل کو اڑائے لیے چلی جاتی ہے اور بادل چل رہا ہے ، ہم کو ایسا نظر آتا ہے کہ گویا چاند بھاگ رہا ہے۔‘‘ 9
’زمین گول ہے‘ اس بات کی دریافت کا سہرا جان سبسٹین (John Sebastian) اور فرڈیننڈ میگلن (Ferdinand Magellan) کے سر باندھا جاتا ہے۔ مکتب کی استانی زمین کی جسامت، ہیئت اور تقسیم پر بات کر کے شاگردہ حسن آرا کو سمجھانے میں کامیاب ہوجاتی ہے کہ زمین گول ہے ۔ انداز بیان اتنا دلکش اور دلچسپ ہے کہ ثقیل کی باتیں بھی ذہن پر بار نہیں معلوم ہوتیں۔
موجودہ دور میں بدلتی ہوئی آب و ہوا ایک سنگین عالمی مسئلہ ہے۔ ماحولیاتی آلودگی سے نجات پانے کے لیے سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر مختلف اقدامات کیے جارہے ہیں لیکن آلودگی خواہ وہ ہوا کی ہو، پانی کی ہو یا شور کی ہو، بڑھتی آبادی کے سبب خطرناک شکل اختیارکرتی جارہی ہے۔ ناول ’بنات النعش‘ میں ڈپٹی نذیر احمد نے اب سے تقریباً ڈیڑھ سو سال پہلے شہرو دیہات کی آب و ہوا کی آلودگی کے اسباب اور ان سے پیدا ہونے والے مسائل پر روشنی ڈالی ہے۔ معلمہ کے ذریعہ جغرافیہ مثلاً کرۂ ارض کا نقشہ دکھا کر لڑکیوں کو اس کی معلومات فراہم کراتے ہیں۔ سمندر کے فائدے بیان کرنے کے ساتھ بارش، روشنی اور رفتار کی معلومات فراہم کی جاتی ہے کہ کس طرح بھاپ سے بادل اور بادل سے بارش ہوتی ہے اور کس طرح ہوا کی نسبت روشنی کی رفتار تیز ہوتی ہے۔ غرض یہ کہ موسیمات (Climatology) کی بنیادی معلومات مکتب میں دی جاتی ہے۔
اجرام فلکی (Celestial Bodies) کی بناوٹ اور علم ہیئت پر بات کرتے ہوئے استانی کہتی ہیں:
’’جن کتابوں میں چاند اور سورج اور ستاروں کا بیان ہوتا ہے وہ علم ہیئت کی کتابیں کہلاتی ہیں۔‘‘ 10
سورج کے سامنے زمین کی اپنے محور پر گردش کے سبب دن اور رات وجود میں آتے ہیں۔ زمین کی یہ گردش لاکھوں اربوں سالوں سے اسی طرح قائم ہے۔اس لیے ایسا ممکن نہیں کہ سال کے مختلف دنوں میں دن اور رات کے جو اوقات ہیں ان میں کسی بھی قسم کی کوئی تبدیلی آسکے۔حسن آرا استانی سے غروب آفتاب کے بعد دھوپ کے نہ ہو نے کا سبب دریافت کرتی ہے تو استانی دن اور رات کے تعلق سے بیان کرتی ہے:
’’زمین گول ہے جس طرف سے آفتاب کے سامنے ہوتی ہے وہاں دن ہوا اور دوسری طرف اندھیرا جس کو رات کہتے ہیں‘‘۔11
مکتب میں زمین سے آفتاب اور ستاروں کی دوری ، ان کی گردش وغیرہ کی تعلیم بھی دی گئی ہے۔ توہم پرستی کی وجہ سے مدرسے کی شاگردہ سورج گہن (Solar Eclipse) اور چاند گہن (Lunar Eclipse) کو عذاب الٰہی کہتی ہے تو استانی اس کا وہم دورکرنے کی غرض سے رسالہ ’سیرآسمان‘‘ پڑھنے کی تاکید کرتے ہوئے سورج گہن اور چاند گہن کے بارے میں بتاتی ہے:
’’جب سورج اور چاند کے بیچ میں زمین آپڑے گی، چاند گہن ہوگا اور جب سورج اور زمین میں چاند حائل ہوگا تو سورج گہن۔‘‘ 12
ناول ’بنات العنش‘ میں اصل توجہ سائنس کی عام معلومات یا بنیادی باتوں پر مرکوز کی گئی ہے۔ ساتھ ہی ان موضوعات پر بھی گفتگو کی گئی ہے جن سے اخلاق کی درستی مقصود ہے۔
ڈپٹی نذیر احمد کو دہلی کالج میں دوران تعلیم سائنسی علوم میں بہت زیادہ دلچسپی نہ رہی اپنے اوقات کا بیشتر حصہ ادب کے مطالعے میں صرف کیا۔ کالج میں علوم کیمیا و طبعیات کے اسباق و تجربات مختلف آلات کے ذریعے سکھائے جاتے تھے۔ نت نئے انکشافات ، سائنس کے تجربے اور مشاہدے طلبا کے لیے حیرت و مسرت کا باعث ہوتے تھے۔ سائنس سے بے توجہی کے باوجود استاتذہ اور ہم جماعتوں کے مسابقت کے جذبے کی بدولت انھوں نے سائنسی علوم میں کافی دست گاہ بہم پہنچائی۔ان کے خطبات اور خطوط سے بھی اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ بڑے دقیق مسائل ان کے ذہن میں آخری وقت تک محفوظ رہے۔ڈپٹی نذیر احمد سائنس کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے اپنے لکچر بتاریخ 2دسمبر 1888 میں کہتے ہیں: 
’’سائنس نے ایسا سراٹھارکھا ہے کہ زور جسمانی اور بہادری اورپہلوانی کسی کی کوئی حقیقت باقی نہ رہی۔‘‘ 13
ایک خطبے میں ساحل پر موجوں کے زور و شور اور سمندر کے اندرونی سکون کا سبب بیان کیا ہے اور علم طبیعات کے اس مسئلے کو نقشہ بناکر سمجھایا ہے اور ایک خطبے میں قوم کے عروج و زوال کے ضمن میں بطور مثال پتھر کے اوپر پھینکنے اور نیچے گرنے پر اس کی حرکت صعودی اور حرکت ہبوطی کی رفتار کا فرق بھی سمجھایا ہے۔ سائنس کی تعلیم کا اثر یہ ہوا کہ نذیر احمد کے ذہن میں زندگی اور کائنات کے عام حقائق کا صحیح شعور اور ادراک پیدا ہوا۔ اسی شعور کا پیدا ہونا تعلیم کا بنیادی مقصد ہونا چاہیے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر ڈپٹی نذیر احمد نے ناول ’بنات النعش‘ میں سائنس کی عام معلومات کو دلچسپ اور مربوط انداز میں قصے کے پیرائے میں ذہن نشیں کرانے کی کوشش کی ہے۔ سائنس اور تکنیک کے موجودہ دور میں یہ باتیں ہمارے لیے اہم نہ ہوں لیکن آج سے تقریباً ایک سو پچاس سال پہلے یہ باتیں بالخصوص خواتین کے لیے تعجب خیز تھیں۔ ان سے نہ صرف معلومات میں وسعت پیدا ہوئی بلکہ بہت سے توہمات بھی دور ہوئے۔ آخر میں حسن آرا استانی سے کہہ اٹھتی ہے :
’’جتنی باتیں آپ نے فرمائیں سب مرے دل نے قبول کیں۔ اور علم بڑی دلچسپ چیز ہے اور میں رسالہ ’سیر آسمان‘ ضرور پڑھوں گی۔‘‘ 14
مصنف نے ناول کے مختلف کرداروں کے ذریعے نہ صرف علم بلکہ علوم جدیدہ کے متعلق معلومات فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔ تاکہ مستورات کو زندگی کے نشیب و فراز سمجھنے میں آسانی ہو اور ان کا ذہن علوم و فنون کے سیکھنے کی طرف مائل ہو ۔ غرض ڈپٹی نذیر احمد نے اصغری کے مکتب کو مثالی مکتب کی شکل میں پیش کیا ہے۔
حواشی:
1: بنات النعش، ڈپٹی نذیر احمد، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان،2013، ص52
2: ایضاً،ص53 3: ایضاً، ص54
4: ایضاً،ص55 5: ایضاً،ص43
6: ایضاً،ص58 7: ایضاً،ص59
8: ایضاً،ص67 9: ایضاً،ص69
10: ؁ٍایضا،ص139 1: ایضا،ص141
12: ایضاً،ص144
13: لکچروں کا مجموعہ ، مرتبہ: مولوی بشیر الدین احمد، جلد اول، مفید عام پریس آگرہ، ص54، 1918
14: بنات النعش،ص143

Shadab Tabassum
PDF, Depf of Urdu
Jamia Millia Islamia
New Delhi - 110025






قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...