26/12/18

اُردورباعی کا سفر (عہدِرفتہ سے عہدِموجودہ تک). مضمون نگار:۔ یوسف رام پوری






اُردورباعی کا سفر

(عہدِرفتہ سے عہدِموجودہ تک)

یوسف رامپوری
’رباعی ‘اردو شاعری کی وہ صنف ہے جسے غزل، قصیدہ ، مرثیہ اور مثنوی کے ہم پلّہ توقرارنہیں دیاجاسکتا مگراسے نظرانداز بھی نہیں کیا جاسکتا۔اس کا ٹھوس ثبوت یہ ہے کہ ہر دورمیں اردو کے اہم شعرانے ’رباعی‘ کے میدان میں زورآزمائی کی اورُ اس سے صرف نظرنہ کرسکے۔اُردو کے پہلے صاحبِ دیوان شاعر محمد قلی قطب شاہ اور ان کے بعد سراج اور نگ آبادی اورولی بھی رباعی کی طرف متوجہ ہوئے۔ شمالی ہندوستان میں سودا،میرسوز، مظہرجانِ جاناں،غالب،مومن جیسے شعرا نے بھی رباعیاں کہیں۔لکھنؤ میں انیس ودبیر رباعی کے افق پرستاروں کے مثل چمکے۔نئے دورمیں حالی، اکبر، اسمٰعیل میرٹھی جیسے ممتاز شعرا نے عمدہ رباعیاں کہہ کر رباعی کے سلسلے کو آگے بڑھایا۔چنانچہ شاد عظیم آبادی، مہدی، مجروح، امیر مینائی، داغ ،نظم طباطبائی، ریاض، عزیز لکھنوی ، شوق قدوائی نے رباعی کے میدان میں بھرپور جوہر دکھائے۔ بیسویں صدی کے وسط میں رباعی کومزید مقبولیت حاصل ہوئی اور جوش، یگانہ، امجد ، فراق، جگر، فانی،اصغر اور حسرت جیسے شعرانے رباعی کو تقویت بخشی۔دورحاضر میں کندن،جامی، فراغ روہوی، حافظ کرناٹکی جیسے متعدد اہم نام ہیں جن کے شعری اثاثے میں رباعیات کا بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ گویاکہ ’رباعی‘ کا سفراردو شاعری کے مختلف ادوار میں جاری رہااور جاری ہے۔
اُردو رباعی کے گزشتہ اورحالیہ منظرنامہ پر نظرڈالنے سے قبل ضروری ہے کہ رباعی کے آغاز وارتقا اور اس کے فن پر تھوڑی سی بحث کرلی جائے تاکہ عہدِ حاضرمیں اردوکی صورتِ حال صحیح طورپر ابھر کر سامنے آسکے۔ اردو میں رباعی فارسی سے آئی ہے ،لیکن فارسی میں رباعی نے کب جنم لیا؟اس بابت محققین کے درمیان شدید اختلاف واقع ہوا ہے ۔عام طورپر رباعی کے وجود میں آنے کے پیچھے یہ واقعہ بیان کیاجاتاہے کہ یعقوب بن لیث صفار کے کمسن بیٹے کی زبان سے خوشی میں کچھ ایسے الفاظ نکل گئے جو ایک مصرعہ کی شکل اختیار کرگئے اور جب ان الفاظ کو بحر کے ترازومیں تولا گیا تو وہ بحرِ ہزج میں پائے گئے۔اس پر رودکی نے چوبیس وزن ایجاد کیے۔اگر اس واقعے کو درست مان لیاجائے تو رباعی کو وجودمیںآئے ہوئے ایک ہزار سال سے زیادہ کاطویل وقت گزرچکاہے۔کیونکہ یہ واقعہ تیسری صدی ہجری کا ہے۔سید سلیمان ندوی نے رباعی کا موجد رودکی کو تسلیم کرنے کی بجائے ابودلف اور زینت الکعب کو قرار دیاہے۔لیکن حافظ محمود شیرانی نے اِس خیال کو بھی مستردکردیا۔1؂ اس لیے کہ اگر ابودلف اور زینت الکعب کو رباعی کا موجد ماناجاتا ہے تو یہ بھی مانناپڑے گا کہ صنف رباعی عربی میں بھی موجود ہے ،اور ممکن ہے کہ رباعی کی ابتدا عربی سے ہوئی ہوکیونکہ یہ دونوں عربی کے شاعر تھے ۔ جب کہ تقریباً سبھی محققین رباعی کو عربی شاعری سے الگ کرکے دیکھتے ہیں۔بعض محققین کا خیال ہے کہ اس نکتے پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ آیا صنف رباعی کا عربی شاعری سے کچھ علاقہ ہے یا نہیں۔لیکن اس کی تحقیق کے لیے عربی دانی کے ساتھ عربی شاعری وادب سے گہری واقفیت ناگزیر ہے ۔ بہرکیف اس تفصیل سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ فارسی میں رباعی کے آغاز کا نہ سال متعین کیاجاسکتاہے اور نہ زمانہ۔
اردو میں رباعی کے پہلے نمونے محمد قلی قطب کے کلیات میں ملتے ہیں۔1940میں مکتبہ ابراہیمیہ مشن پریس حیدرآباد سے شائع محمد قلی قطب شاہ کے کلیات میں 39رباعیاں موجود ہیں۔ان سے پہلے کے کسی شاعر کی رباعیاں دستیاب نہیں ہیں، اس لیے محمد قلی قطب کو اردو کا پہلا رباعی گو شاعر کہا جاسکتا ہے۔ البتہ محی الدین قادری زور نے ملاوجہی کی دو رباعیاں نقل کی ہیں ۔یہ تسلیم کرنے کے باوجود بھی کہ ملاوجہی نے اردو رباعیاں کہیں، محمد قلی قطب شاہ کی اولیت سے انکار نہیں کیاجاسکتاکیونکہ تحقیق کے مطابق ملاوجہی محمد قلی قطب شاہ کے ہمعصر ضرور ہیں مگر ملا وجہی کی شاعری کا زمانہ محمد قلی قطب شاہ کے بعد کا ہے۔ملاوجہی محمد قلی قطب شاہ کے پچاس سال بعد فوت ہوئے۔محی الدین قادری زور نے لکھاہے: 
’’محمد قلی قطب کا اردو کلام پچا س ہزار اشعار پرمشتمل ہے۔کوئی صنف ایسی نہیں ہے جس میں اس نے کمال نہ دکھایا ہو۔قصیدے، مثنویاں، مرثیے، رباعیاں، غزلیں اور قطعات، غرض ہر صنف کے وافر نمونے محمد قلی قطب کے کلیات میں موجود ہیں۔‘‘2؂
محمد قلی قطب شاہ کی ایک رباعی ملاحظہ فرمائیں:

تجھ حسن سے تازہ ہے سدا حسن و جمال
تجھ یار کی بستی سے ہے عشق کوں جمال
تو ایک ہے تجھ سا نہیں دوجا کوئی 
کیوں پاوے جگت صفحہ میں کوئی تیری مثال

اس رباعی سے انداز ہ لگایاجاسکتاہے کہ رباعی میں محمد قلی قطب شاہ کوکتنی مہارت حاصل تھی۔ان کی رباعیوں کے موضوعات کادائرہ خاصا وسیع نظرآتا ہے ۔انھوں نے تصوف، اخلاق، حمد، نعت اور دنیا کی بے ثباتی کے علاوہ حسن وعشق کے موضوعا ت پر بھی رباعیاں کہی ہیں ۔ ان کی رباعیوں میں ہندوستانی رنگ نمایاں دکھائی دیتاہے۔اس سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ اردومیں رباعی کا آغاز قطب شاہی دور میں دکن کی سرزمین پر ہوا۔
’رباعی‘ کا مادہ ’ر ب ع‘ ہے۔اس کے لغوی معنی ’چار‘ ہوتے ہیں۔لیکن اصطلاح میں رباعی اس صنف کو کہاجاتاہے جس میں مخصوص وزن کے چار مصرعوں میں کسی خیال یا مضمون کو بیان کیا جائے۔ عروضی ہےئت کی سطح پر رباعی وہ صنف کہلائے گی جس میں چار مصرعے ہوں ۔پہلا ،دوسرا اور چوتھا مصرعہ، ہم قافیہ یا ہم ردیف یا ہم قافیہ وہم ردیف ہو۔رباعی کے تیسرے مصرعے کا ہم قافیہ یا ہم ردیف یا ہم قافیہ وہم ردیف ہونا ضروری نہیں ،لیکن اگر تیسرا مصرعہ بھی پہلے ، دوسرے اور چوتھے مصرعے کی طرح ہم قافیہ، ہم ردیف یا ہم قافیہ وہم ردیف ہوتو کوئی نقصان نہیں ہے۔یعنی چاروں مصرعے بھی ہم قافیہ وہم ردیف ہوسکتے ہیں۔رباعی مردّف بھی ہوسکتی ہے اور غیر مردّف بھی۔غیر مردّف اس وقت جب رباعی میں صرف قافیہ ہو ، ردیف نہ ہو اور ردیف ہو تو مردّف ہوگی۔رباعی مستزاد بھی ہوتی ہے۔ اس میں رباعی کے مصرعوں کے ساتھ رباعی کے وزن کا ایک فقرہ بعد میں جوڑ دیاجاتاہے۔ جیسے \
آتاہے نظر حسن میں جلووہ کیاکیا ۔ اللہ اللہ
رباعی کو متعدد ناموں سے موسوم کیا گیاہے۔جیسے ترانہ، دوبیتی، چہارمصرعی ، چہار بیتی اور رباعی ۔ ترانہ رباعی کا ابتدائی نام ہے۔ ترانہ موسیقی کی اصطلاح ہے جس کا اطلاق موسیقی کی بعض مخصوص آوازوں پر ہوتاہے۔رباعی کودوبیتی کہنے کی وجہ ظاہر ہے کہ اس میں دو بیت ہوتے ہیں، لیکن چہار بیتی کہنے کی بات سمجھ میں نہیں آتی۔جن لوگوں نے چارمصرعوں کو چار بیت شمارکیا ، ان کے نزدیک چہاربیتی نام پڑگیا۔بعض حضرات نے رباعی کو سنسکرت کے ’چارچرن‘ہندی کی ’چوپائی‘اور پشتو کی ’چار بیتیہ‘ کے جیسا بھی کہاہے ۔
بظاہر قطعہ کی ہےئت وشکل بھی رباعی جیسی نظرآتی ہے، اس لیے رباعی اور قطعہ کے درمیان فرق کرپانا کچھ لوگوں کے لیے مشکل ہوتا ہے۔متعدد شعراوادبا بھی اس نوع کے مغالطے کے شکارہوئے ہیں۔ رباعی اور قطعہ کے درمیان پہلا فرق یہ ہے کہ رباعی کی مخصوص بحر اور اوزان ہیں، جب کہ قطعہ میں ایسی کوئی شرط نہیں ہے۔ اگر رباعی کے وزن سے الگ چار مصرعے کہے گئے تو وہ قطعہ ہوگا ،رباعی نہیں۔ایک فرق یہ بھی ہے کہ قطعہ میں غزل کی طرح پہلے دونوں مصرعے ہم قافیہ اور ہم ردیف ہونے ضروری ہیں۔یعنی ان مصرعوں میں قافیہ بھی ہو اور ردیف بھی ،لیکن رباعی میں یہ ضروری نہیں ہے ۔ رباعی بلاقافیہ صرف ردیف پر مبنی بھی ہوسکتی ہے اور صرف قافیہ پر مشتمل بھی۔ چنانچہ چارمصرعوں میں صرف قافیہ پایاجائے یا صرف ردیف پائی جائے تو یہ باور کرلیاجائے کہ وہ قطعہ نہیں ہے ،رباعی ہے بشرطیکہ وہ رباعی کی بحر میں بھی ہو۔رباعی اور قطعہ کے درمیان اچھے اچھوں کو مغالطہ ہوا ہے۔ مثال کے لیے ولی کا یہ شعر دیکھیں ؂

فلک دل کو کب تک جلاتا رہے گا
عجب رنگ یاں کے دکھاتا رہے گا
اگر جانتے ہم تجھے دل نہ دیتے
کہ دل لے کے تو یوں ستاتا رہے گا

مولوی عبدالحق نے مذکورہ ان چار مصرعوں کو دیوانِ اثر کے مقدمے میں رباعی کے طورپر درج کیا ہے۔حالانکہ یہ مصرعے رباعی کی مخصوص بحرواوزان میں نہیں ہیں۔
جہاں تک رباعی کی بحر اور اوزان کا معاملہ ہے تو یہ بڑا پیچیدہ مسئلہ ہے۔ بنیادی طورپر رباعی کی ایک بحر ’ بحرِ ہزج سالم‘ بتائی جاتی ہے۔یعنی : 
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
اس بحر سے پہلے دس ارکان نکلتے ہیں اور انہی سے چوبیس اوزان تیار ہوتے ہیں۔فرمان فتح پوری لکھتے ہیں:
’’رباعی کے ہر مصرعے میں انہی دس ارکان میں سے کوئی چار ضرور آئیں گے۔ علمائے عروض وقواعد اس امر پر متفق ہیں کہ رباعی کا ہر مصرعہ چار رکنی ہوتا ہے اور بحرہزج مثمن اخرب واخرم کے چوبیس اوزان کے سوا رباعی میں کوئی اور وزن نہیں آتا۔‘‘3؂
رباعی کے چوبیس اوزان کے علاوہ اوربھی وزن بیان کیے گئے ہیں لیکن ان اوزان کے بارے میں یہ کہاجاتاہے کہ چوبیس کے علاوہ جو وزن رباعی کے بیان کیے جاتے ہیں وہ رباعی کے ا نہی چوبیس اوزان میں سے ہیں یا انہی سے نکلے ہیں۔نظم طباطبائی اوزان کی تقسیم کے حامی نہیں ہیں۔وہ لکھتے ہیں:
’’ عروضیوں نے یہ بے کار چوبیس وزن گنوائے ہیں اور ا یک شجرہ مفعولن اور ایک شجرہ مفعول کا فضول بنایاہے۔کسی بزرگ نے یہ نہ بتایاکہ ان اوزان کی حقیقت کیا ہے۔‘‘4 ؂
عارف حسن خاں نے رباعی کے اوزان کی تعداد36بتائی ہے۔ملاحظہ فرمائیں ؂

اوزان رباعی کے ہیں چھتیس جناب 
دشوار نہیں رکھنا کچھ ان کا حساب
رکھیں بس اک بات فقط ذہن نشین
تخلیق سے ہی کھلتا ہے ان کا باب

دورحاضر کے ایک اہم رباعی نگار کندن لال کندن کی رباعیات کو دیکھاجائے تو رباعی کے اوزان کی تعداد کا دائرہ اورزیادہ وسیع دکھائی دیتاہے۔انھوں نے 24 نہیں، 54 آہنگوں میں رباعیاں کہی ہیں۔5؂
بعض حضرات’لاحول ولا قوۃ الاباللہ ‘کو ہی رباعی کاوزن مانتے ہیں، لیکن اس خیال سے اتفاق نہیں کیا جاسکتا۔جیسا کہ اوپر تفصیل گزری ، ہاںیہ ضرورکہاجاسکتاہے کہ’ لاحول ولاقوۃ الاباللہ‘ بھی رباعی کے اوزان میں شامل ہے۔ اس لیے اگر اس وزن پر رباعی کہی جاتی ہے تو وہ رباعی ہی ہوگی۔
رباعی کی بحر اور اوزان کے حوالے سے مذکورہ بحث سے یہ اندازہ لگالینا کچھ مشکل نہیں کہ عروضی اعتبار سے رباعی مشکل صنف ہے۔ بحرہزج اور اس کے اوزان پر اشعار کہنا آسان نظرنہیں آتا۔یہ مشکل پسندی صرف عروضی اعتبار سے ہی نہیں ہے بلکہ معنوی اعتبار سے بھی رباعی کو مشکل صنف خیال کیا گیا ہے۔ رباعی کے چار مصرعوں میں پورے مضمون یا خیال کو بیان کرنا پڑتاہے۔رباعی اس بات کی بھی متقاضی ہوتی ہے کہ اس میں کثیراور عمدہ معانی پر مبنی مضامین کو رقم کیاجائے ، اسلوب بیان بھی اچھا ہو، زبان درست اور رواں ہو،تشبیہات، استعارات ، لطافت ، تراکیب وغیرہ کا بھی خیال رکھا گیا ہو۔ صرف چار مصرعوں میں اگر ان سب باتوں کا دھیان رکھا جاتا ہے تو رباعی کوعمدہ کہاجائے گا اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو رباعی کو معیاری خیال نہ کیا جائے گا۔فرمان فتح پوری کے الفاظ میں:
’’رباعی کے چاروں مصرعے زنجیر کی کڑیوں کی طرح باہم مربوط ہوں۔الفاظ و تراکیب کا انتخاب موضوع کی مطابقت سے ایسا برمحل ہو کہ اس سے بہتر کا تصور ہی نہ ہوسکے۔ پہلے مصرعے میں مناسب الفاظ کے ساتھ خیال کو روشن کرایا جائے۔ دوسرے اور تیسرے مصرعے میں اس کے خط وخال کچھ اور نمایاں کیے جائیں اور چوتھے مصرعے میں مکمل خیال کو ایسی برجستگی اور شدت کے ساتھ سامنے لایاجائے کہ سننے والا مسحور ومتحیر ہوکر رہ جائے۔‘‘ 6؂
رباعی کے بارے میں جوش کے مندرجہ ذیل خیال سے بھی رباعی کی مشکل پسندی کا پتہ چلتاہے:
’’رباعی چالیس پچاس برس کی مشاقی کے بعد قابومیں آتی ہے۔‘‘7؂
ڈاکٹر مظفرحنفی رباعی کی نزاکت اور دشواری کو ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:
’’رباعی کا فن کوزے میں سمندر کوسمونے کا فن ہے اور رباعی کے لیے ایک اور صرف ایک ہی بحر کی پابندی فنکار کے لیے پل صراط کی سی حیثیت رکھتی ہے۔معمولی استعداد رکھنے والے شاعر کے لیے ایک بحر کے چار مصرعوں میں عمیق تجربات اور گہرے خیالات میں اپنے متنوع تجربات پیش کردینا انتہائی دشوار ہے۔‘‘8؂
مذکورہ خیالات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مخصوص بحر میں عمدہ مضامین کوبرتنابہت مشکل ہے۔ لہٰذااچھا رباعی گو ہونے کے لیے انتہائی مشق ومحنت ، لیاقت وتجربہ اور وقت کی ضرورت ہے۔ جیسا کہ رباعی کے حوالے سے اوپر تفصیل بیان کی گئی ہے اگر اس کی پاسداری لازمی ہوتو واقعی یہ صنف بڑی مشکل نظر آتی ہے اور بڑی ریاضت اور وقت چاہتی ہے۔ایسے ہی رباعی کا شاعر ہونے کے لیے عمرسیدہ ہونا لازمی قرار پائے گا ۔جوش کے مذکورہ خیال کو سامنے رکھا جائے تو یہ نتیجہ نکلے گا کہ رباعی کہنے کے لیے ساٹھ ستر سال کی عمر ہونی چاہیے کیونکہ ان کے نزدیک کم سے کم چالیس پچاس سال تو مشاقی کے لیے چاہئیں، اس طرح اگر کوئی پندرہ یا بیس سال کی عمر میں کوئی شاعری شروع کرے گا تو رباعی میں پختہ ہونے تک اس کی عمر ساٹھ ستر سال کے قریب ہوجائے گی ۔ جوش کا یہ خیال محل نظر ہے اور اس سے اتفاق نہیں کیا جاسکتا۔کیونکہ یہ ضروری نہیں ہے کہ پچاس برس کے بعد ہی کوئی اچھی رباعی کہنے کے لائق ہوسکے گا۔ یا بہت بڑاشاعر ہونے کے بعد ہی اچھی رباعی کہنے میں کامیاب ہوگا۔ ایسی متعدد مثالیں مووجود ہیں کہ بعض شعرا نے کم عمری میں اچھی رباعیاں کہیں اور ایسے شعرا نے بھی صنف رباعی میں اپنی شناخت بنائی جوبہت مشہور شاعر نہیں تھے۔ دراصل یہ معاملہ ذوق پر منحصر ہے۔اگر کسی کا ذہن رباعی کی طرف چل پڑتا ہے تو وہ اچھی رباعی کہہ سکتا ہے۔اور اگر کسی کا ذہن رباعی کی طرف متوجہ نہیں ہوتا تودوسری اصناف کابہترین اور عمدہ شاعر ہونے کے باوجود عمدہ رباعی کہنے میں وہ کامیاب نہ ہوسکے گا۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ اردوکے کئی بڑے شعرا جنھیں زبردست مقبولیت حاصل ہوئی اور ان کی شاعری کو عوام وخواص میں بہت زیادہ پسند کیا گیا، رباعی کے میدان میں اپنا کوئی اثر نہ چھوڑ سکے۔آج بھی ہم ایسے بہت سے غزل کے شاعر دیکھتے ہیں جنھوں نے اچھی اچھی غزلیں ا ور نظمیں کہیں مگر رباعی کہنے کی زحمت اٹھانا انھوں نے گوارانہ کی، یا پھر رسمی طور دس بیس رباعیاں کہہ کر وہ آگے بڑھ گئے ۔ اس پر مزید یہ ان کی معدودے چند رباعیاں بھی اعلیٰ نہیں ہیں۔صنف رباعی میں بہت سے شعرا کے دلچسپی نہ لینے کی ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ ان کا مزاج رباعی سے ہم آہنگ نہ ہو ، اور اس بات کا اندازہ انھیں بھی ہو، اس لیے وہ اس بات کی زحمت ہی نہیں کرتے کہ وہ رباعی کی گتھی سلجھانے میں سرکھپائیں اور اپنے فطری ذوق کے خلاف رباعیاں کہنے کی کوشش کریں۔جن شعرا کے پاس ایک دودرجن رباعیاں ہیں، ان میں سے کتنے ایسے ہیں جنھوں نے اردو شاعری کی اس صنف میں ہلکا پھلکا زور لگاکر صنف رباعی کے شاعر کے طور پر بھی اپنے آپ کو متعارف کرالیااور رباعی کہنے سے ان کا مقصد صرف اتنا ہی تھا۔
موضوعاتی اعتبار سے رباعی ایک اہم صنف ہے۔اس لیے کہ اس میں مختلف النوع مضامین وخیالات کو بیان کیا جاسکتاہے۔ اگرچہ ابتداء اً حکمت واصلاح اور پندوموعظت کے مضامین کو رباعی کے قالب میں ڈھالا جاتا تھا ، مگر وقت کے ساتھ آہستہ آہستہ اس کے موضوعات کا دائرہ پھیلتا گیا اورحسن وعشق سے لے کر حالاتِ حاضرہ کے موضوعات تک پر رباعیاں کہی جانی لگیں۔ مندرجہ ذیل رباعیوں سے اس کا بخوبی اندازہ لگایاجاسکتاہے ؂

ہم نے کبھی جام و سبو دیکھا تھا
جو کچھ کہ نہیں ہے رو برو دیکھا تھا
ان باتوں کو جو غور کرکے اے درد
کچھ خواب سا تھا کہ وہ کبھو دیکھا تھا

(میر درد)

جاناں نے کبھی ہمیں نہ جانا افسوس
جو ہم نے کہا سو وہ نہ مانا افسوس
تب آنے میں دیر کی قیامت اب تو
آیا نزدیک جس کا جانا افسوس

(میر تقی میر)
ہر آن میں آپ کو دکھا جاتے تھے
مشتاق کو تسکین دلا جاتے تھے
کیوں دیر لگی ہے کس نے روکا تم کو
اب تک تو کئی بار تم آجاتے تھے

(میر حسن)
حسن وعشق کے موضوع پر جو رباعیاں کہی گئی ہیں ، چاہے وہ متقدمین نے کہی ہوں یا متاخرین نے ، ان کو پڑھ کر ایسا لگتاہے کہ حسن وعشق کے مضامین کو موثرطورپر بیان کرنے کے لیے رباعی ایک اہم ذریعہ ہے۔ رباعی میں عشق وعاشقی کے مضامین ومسائل کو موثر کن انداز میں بیان کرنے کے لیے بھرپور گنجائش موجود ہے ۔جیسا کہ مذکورہ رباعیاں اس کا ثبوت ہیں، لیکن رباعی صرف یہیں تک محدود نہیں رہی ،بلکہ دوسرے موضوعات کا بھی اس نے احاطہ کیا۔ اردو کے متعدد رباعی گوشعرا نے موضوع کی سطح پرآگے بڑھتے ہوئے انسانی زندگی سے وابستہ بہت سے مسائل کورباعی میں اٹھایااور رباعی کے دائرے کو وسعت دینے کا کام کیا۔اس کا یہ مطلب ہر گزنہیں کہ حسن وعشق کے علاوہ دوسرے موضوعات پررباعیاں ابتدائی دورمیں نہیں کہی گئیں۔حقیقت یہ ہے کہ شروع سے ہی رباعی میں مختلف موضوعات کو برتنے کا عمل جاری ہے ۔ محمد قلی قطب کی رباعیات میں کئی موضوعات آئے ہیں،لیکن ابتدائی دور میں زیادہ تر رباعی میں حسن وعشق یا اس سے متعلقہ مضامین کو بیان کیا جاتا تھا۔
رباعی چاہے تصوف پر کہی جائے یا فکروفلسفہ پر۔رباعی میں پندونصیحت کے مضامین بیان کیے جائیں، ہر مضمون اور موضوع رباعی کے سانچے میں فٹ نظرآتاہے۔ذیل میں مختلف موضوعات کا احاطہ کرنے والی کچھ رباعیاں ملاحظہ فرمائیں ؂

کچھ عشق میں تو مزہ نہ پایا ہم نے
اس دل ہی کو مفت میں گنوایا ہم نے
اور جس کے لیے گنوایا دل کو جرأت
اس کو اپنا کبھی نہ پایا ہم نے 

(جرأت)
کیسے دیے پیچ و تاب دل نے مجھ کو
دکھلائے یہ سب عذاب دل نے مجھ کو
وحشت زدہ کوٗ بکوٗ پڑا پھرتا ہوں
کیا کیا نہ کیا خراب دل نے مجھ کو

(مومن خاں مومن)
مذہبی، فکری ، اصلاحی اور تجرباتی نوعیت کی رباعیوں کا ایک بہت بڑا ذخیرہ اردورباعی کے دامن میں موجود ہے۔اگر صرف مذہب پر رباعی کے ذخیرے کو جمع کیا جائے تو وہ بہت زیادہ ہے ، اسی طرح کی صورت حال اصلاحی وفکری رباعیوں کی بھی ہے ۔ان موضوعات پر رباعیاں کس قدر کامیاب ہیں۔اس کا اندازہ مندرجہ ذیل رباعیوں سے لگایاجاسکتاہے: 

اسلام ہی کو آپ اپنی ملت سمجھو
بیگانہ روش میں اپنی دولت سمجھو
جو اس کے خلاف رائے رکھے اکبر
خاموش رہو سمجھ کی قلت سمجھو

(اکبر)
پانی میں ہے آگ لگانا دشوار
بہتے ہوئے دریا کو پھیر لانا دشوار
دشوار ہے مگر نہ اتنا دشوار
بگڑی ہوئی قوم کو بنانا دشوار

(اسماعیل میرٹھی)
گلشن کی روش پہ مسکراتا ہوا چل
بدمست گھٹا ہے لڑکھڑاتا ہوا چل
کل خاک میں مل جائے گا یہ زورِ شباب
جوش تو آج بانکپن دکھاتا ہوا چل

(جوش)
نیکی ہی رہ جاتی ہے یار یہاں
ہر گز نہ کرو غیبت کا کار یہاں
نیکی غیبت جائیں گے ساتھ ترے
ان پر ہی رہے گا فیصل یار وہاں

(کندن لال کندن)
یہ رباعیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ رباعیوں میں مختلف مضامین وخیالات کو کامیابی کے ساتھ بیان کیاجاسکتا ہے ۔بعض ناقدین نے رباعی کو مخصوص موضوعات تک محدود رکھنے کی تلقین کی ہے جو کہ مناسب نہیں ہے ۔ جیساکہ امدادامام اثر نے رباعی کے لیے حکیمانہ مضامین کو لازم قرار دے کر رباعی کے میدان کو تنگ کرنے کی کوشش کی ۔وہ لکھتے ہیں:
’’شاعر کو لازم ہے کہ مسائل اخلاق وتمدن ومعاشرت ومذہب ودیگر مضامین جلیلہ سے اپنے کو زینت دے۔‘‘9؂
امداداامام اثر کے یہ الفاظ کہیں نہ کہیں رباعی کے شاعر کو اس بات کے لیے پابند کرتے ہیں کہ وہ رباعی کہتے ہوئے مذکورہ مضامین و موضوعات کا خیال رکھے، مضامین جلیلہ کو نظم کرنے کی کوشش کرے۔ یہ ٹھیک ہے کہ رباعی میں مضامین جلیلہ کو بیان کیا جائے تو اچھی بات ہے ،لیکن مضامینِ جلیلہ کی تخصیص رباعی ہی کے ساتھ کیا ،ہر صنف میں عمدہ مضامین کو شاعر نظم کرے تو اس سے عمدہ اور بات کیا ہوسکتی ہے۔سطحی مضامین تو دوسری اصناف کے لیے بھی زیادہ موزوں نظرنہیں آتے۔ مگر چونکہ ہر شاعر کی اپنی صلاحیت وقابلیت ہوتی ہے، اپنا مطالعہ ہوتا ہے، اپنی فکر وبصیرت ہوتی ہے ،اپنا مشاہدہ وتجربہ ہوتاہے اور اپنا مزاج ومذاق ہوتا ہے۔اسی کے مطابق وہ شعر کہتاہے۔ اب یہ الگ بات ہے کہ وہ کس صنف میں اشعار کہہ رہا ہے۔اگر شاعر بلند خیالات وافکار کاحامل ہے، اس کا مطالعہ وسیع ہے، تجربات ومشاہدات گہرے ہیں اور بصارت وبصیرت بھی رکھتا ہے ، اس پر مستزاد یہ کہ جس صنف میں شاعری کرتا ہے ، اس کا ماہر بھی ہے تو ظاہر ہے کہ اس کے اشعار عمدہ ہوں گے اور ان میں مضامین جلیلہ ہوں گے۔ وہ صنف غزل ہو، یا قصیدہ، یا پھر رباعی۔ لیکن ہر شاعر کی ذہنی پرواز اتنی بلند ہو ،یہ توضروری نہیں۔پھر کئی مرتبہ شعرا کے تخیلات کے میدان الگ ہوتے ہیں، کسی کا مشاہدہ زیادہ عمیق ہوتا ہے،تو کسی کا سطحی، کسی کے تخیل میں زیادہ وسعت وبلندی ہوتی ہے ،توکسی کے خیالات میں تنگی ہوتی ہے۔ کوئی زیادہ حساس ہوتا ہے اور کوئی کم۔ کوئی مذہبی ذہن رکھتا ہے تو کوئی اس طرف زیادہ رغبت نہیں دکھاتا، کوئی عشق حقیقی میں ڈوبا ہواہوتاہے اور کوئی عشق مجازی میں غرق۔ کسی کا مزاج عشقیہ شاعری سے ہم آہنگ نہیں ہوتا اور کوئی زمینی سچائیوں کوشعر کے قالب میں ڈھالنا چاہتاہے۔ کوئی روزمرہ کے معمولی واقعات اورانسانی زندگی کی عام جزئیات کو بھی قلم بند کرنے کی کوشش کرتا ہے اور کوئی خاص فکر وفلسفے پر ہی نگاہ جماتاہے۔ ظاہرہے کہ ایسی صورت میں شاعروں کی شاعری کا رنگ الگ الگ ہوگا، ان کے موضوعات مختلف ہوں گے۔ اب وہ شاعری غزل کے قالب میں ہویا رباعی کے۔ معمولی مضامین اور معمولی خیالات و مشاہدات کو شاعری میں بیان کرنے کو معمولی کہہ کر نظرانداز بھی نہیں کیا جاسکتا کیونکہ بعض مرتبہ معمولی واقعات ومشاہدات سے بڑے نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ اس لیے امداد امام اثر کے اس خیال سے اتفاق نہیں کیا جاسکتا کہ شاعر لازمی طورپر اخلاق وتمدن، معاشرت ومذہب اور مضامین جلیلہ رباعی میں نظم کرے۔
مشکل پسند ی کے باوجود رباعی کی طرف اردو شعرا نے خاصی توجہ دی ہے۔ جس کے سبب مختلف ادوار میں اردو کے رباعی گوشعرا کی خاصی بڑی تعداد ملتی ہے۔اس کا اندازہ مندرجہ ذیل اِن چند ناموں سے کیا جاسکتاہے۔ جیسے محمدقلی قطب شاہ، ملاوجہی، میردرد، محمد رفیع سودا، میرتقی میر، غالب، مومن، میرحسن، نظیراکبرآبادی، میرانیس، مرزاسلامت دبیر، اقبال، اسماعیل میرٹھی،جوش ملیح آبادی، فراق گورکھپوری، فانی بدایونی، رشیدلکھنوی، باقر مہدی، وحشی کانپوری، جگت موہن لال رواں، منیر شکوہ آبادی، یگانہ چنگیزی، ثناگورکھپوری،پنڈت جواہر ناتھ ساقی،جمال اویسی، عبیدالرحمن،علقمہ شبلی،شاد عظیم آبادی، نریش کمارشاد، عبدالرحمن احسان دہلوی، شوکت پردیسی، درد سعید، نامی انصاری، تلوک چند محروم، سرور جہاں آبادی، صادقین، آرزولکھنوی، امیر چند بہار، سید محمود الغفار، غلام مولی قلق، بیان میرٹھی، فرحت کانپوری، منظور حسین شور، شمس الرحمن فاروقی، فرید پربتی، عبدالعزیز خالد، اکبر حیدر آبادی، نذیر بنارسی، ناوک حمزہ پوری،اختر انصاری،قتیل شفائی،وحشت رضا علی کلکتوی، اختر شیرانی، میر مہدی مجروح، قاسمی علی خان آفریدی، شیدا انبالوی، قاسم علی خان آفریدی،پرویز شاہدی، ف س اعجاز، کندن لال کندن، حافظ کرناٹکی،صابرسنبھلی وغیرہ۔ 
ان ناموں سے اندازہ ہوتاہے کہ رباعی کی طرف ہردورمیں بہت سے شعرا نے توجہ دی۔بعض نے سیکڑوں رباعیاں کہیں ، بعض نے درجنوں اور بعض کے کئی کئی رباعی کے مجموعے منظر عام پر آئے۔ مجموعی طورپر اردو رباعی کا ایک بہت بڑا ذخیرہ جمع ہوگیا۔امتدادِ زمانہ کے باعث بہت سا ذخیرہ خرد برد ہوچکا ہے ، لیکن اگر محفوظ ذخیرے کی بات کی جائے تو وہ بھی کم نہیں ہے۔رباعی کا یہ ذخیرہ اس بات کا متقاضی ہے کہ اس کاتحقیقی اور تنقیدی جائزہ لیاجائے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ رباعی اپنی اہمیت اور ذخیرے کے اعتبارسے مالامال ہونے کے باوجود ناقدین ومحققین کی توجہِ خاص سے محروم رہی ہے۔ رباعی پرہونے والا تحقیقی وتنقیدی کام بہت محدود ہے ۔جن ناقدین یا محققین نے رباعی پر کام کیا ہے ان کے نام انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں۔ایسے ہی رباعی کے حوالے سے لکھی گئی تنقیدی وتحقیقی کتابیں و مضامین بھی معدودے چند ہی دکھائی دیتے ہیں۔
اردو رباعی کے سفر کو مختلف ادوار میں تقسیم کیا جاسکتاہے۔ ایک قطب شاہی اور عادل شاہی دور ہے جس میں اردو شاعری عروج پر رہی ۔اس دورمیں مثنویاں بھی کہی گئیں ، قصیدے بھی ، مرثیے بھی اور رباعیاں بھی۔لیکن رباعی کے حوالے سے اس دور کا احاطہ کرنے والی کتب ومضامین کمیاب ونایاب ہیں ۔دوسرا دور شمالی ہندوستان میں ولی سے لے کر خواجہ میردرد، سودا، میرتقی میرکا ہے جس میں مذکورہ شعرا کے علاوہ اور بھی کئی اہم شاعروں نے رباعیاں کہیں۔ان کے بعد غالب ، ذوق ، مومن کا عہد ہے ۔دبستان لکھنؤ کا رباعی کے نقطۂ نظرسے جائزہ لینا بھی اہمیت وافادیت سے خالی نہ ہوگا۔ کیونکہ اس دبستان سے وابستہ بہت سے شاعروں نے رباعیاں کہیں ،انیس و دبیرجیسے رباعی کے شاعر پیدا ہوئے۔ نئے زمانے میں حالی،اسماعیل میرٹھی،امیرمینائی، نظم طباطبائی، شوق، عزیز جیسے شعرا کی رباعیوں کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔اگر بیسویں صدی کے وسط کے زمانے کی بات کی جائے تو اسے رباعی کا عہدِ زریں کہاجاسکتاہے۔اس عہد میں جوش، فراق، یگانہ، محروم ،امجد ، اصغرنے رباعی کا گراں قدر سرمایہ اپنے پیچھے چھوڑا ہے۔یہ تمام ادوار اس بات کے متقاضی ہیں کہ ان کا رباعی کی روشنی میں تنقیدی وتحقیقی جائزہ لیاجائے۔اس دور کی چند رباعیاں ملاحظہ فرمائیں ؂

اے فتنۂ روزگار آہستہ گزر
آشوبِ دل فگار آہستہ گزر
نازک ہے بہت دماغِ اربابِ جنوں
اے نکہتِ زلفِ یار آہستہ گزر

(فانی)
سانچے میں گھٹا کے ڈھل رہا ہے کوئی
پانی کے دھویں میں جل رہا ہے کوئی
گردوں پہ اِدھر جھوم رہے ہیں بادل
سینہ میں اُدھر مچل رہا ہے کوئی

(جوش)
سوتا ہوں تو چپکے سے جگا دیتا ہے
جب جاگ اٹھتا ہوں پھر سلا دیتا ہے
ہنستے کو رلادیتا ہے چٹکی لے کر
روتا ہوں تو پھر ہنس کے ہنسا دیتا ہے

(امجد)
مکھڑا دیکھیں تو ماہ پارے چھپ جائیں
خورشید کی آنکھ کے شرارے چھپ جائیں
رہ جانا وہ مسکرا کے تیرا کل رات
جیسے کچھ جھلملاکے تارے چھپ جائیں

(فراق)
بیسویں صدی کے اواخر اور اکیسویں صدی کے اوائل یعنی عہدِ حاضر میں اردو رباعی کی کیا صورت حال ہے۔اس دورمیں رباعی کی طرف کتنے شعرا متوجہ ہیں، اس دور کی رباعیوں کا معیار کیا ہے، کس طرح کے موضوعات ومضامین رباعیات میں نظم کیے جاتے ہیں، ان تمام پہلوؤں پر محیط وقیع مطالعے کی ضرورت شدت سے محسوس ہوتی ہے۔
یہ خوش آئند بات ہے کہ عہدِ حاضر میں جب کہ کئی اصناف دم توڑ چکی ہیں یا دم توڑرہی ہیں، صنف’رباعی ‘ ہنوز زندہ ہے۔ فی زمانہ متعدد ایسے شعرا ہیں جوترجیحی طورپر رباعیاں کہہ رہے ہیں۔اور بہت سے ایسے ہیں جو دوسری اصناف کے ساتھ صنف رباعی کو بھی اپنی شاعری کا میدان بنائے ہوئے ہیں۔جیساکہ گزشتہ مختلف ادوار میں اردو کے ان گنت شعرا نے دوسری اصناف کے ساتھ رباعی پر بھی طبع آزمائی کی ۔ یعنی انھوں نے ضمنی طورپر رباعیاں کہیں۔ یہ روایت مختلف ادوار سے گزرتی ہوئی اس دورمیں بھی آگئی ہے ۔ کئی شعرا جہاں غزلیں ، نظمیں ، مرثیے اور قطعے کہتے ہیں ، اسی طرح وہ رباعیاں بھی لکھتے ہیں۔اس اعتبار سے دیکھاجائے تو رباعی سدا بہار صنف نظرآتی ہے جو پہلے بھی شعرا کی توجہ کو اپنی طرف کھینچتی تھی اور آج بھی کھینچتی ہے۔
دوسری طرف اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ بیسویں صدی کے اواخر میں رباعی کہنے کا چلن اردو شعرا کے یہاں کم یا ختم ہوگیا تھا۔ اچھے اچھے شعرا بھی رباعی کہنے سے گریز کرتے تھے۔ اس پوری صورت حال پر روشنی ڈالتے ہوئے ناوک حمزہ پوری لکھتے ہیں:
’’ ابھی پچیس تیس برس پہلے تک کا حال یہ تھا کہ رباعی گوئی سے جاتی ہوئی نسل کے باقیاتِ صالحات کے زمرے میں شمار کیے جانے و الے شعراہی کو شغف تھا۔نئی نسل کے شعرا جو نظموں میں اختصار کی خصوصیت اور اہمیت کے قائل تھے وہ بھی دوسری زبانوں کی بعض مختصر اصنافِ سخن کے عاشقِ جاں نثار ہوگئے اور رباعی کو دور ازکار سمجھ کر اس کی ناؤڈبوگئے۔ .... بعض وہ نامور شعرا جو بحیثیت استاد شاعر بھی مشہورتھے، کی جھولیاں رباعی سے خالی ہیں۔ بعض لوگوں نے قابل تعریف راست بازی سے کام لیا اور لکھاکہ رباعیاں تومیں نے کہی ہی نہیں، بعض نے پانچ سات رباعی ، بعض نے دس بارہ رباعی اور بیشتر نے بیس پچیس رباعی کہہ رکھنے کے جرم کا اقرار کیا۔‘‘10؂ 
یہ اقتباس عہدِ حاضر میں رباعی کی صورت حال کی قلعی کھول کر رکھ دیتاہے کہ شعرا نے کس حد تک رباعی سے بے اعتنائی برتی اور اگر بعض نے رباعیاں کہیں تومعدودے چند یعنی صرف نام کے لیے تاکہ ان کی شاعری کی اصناف میں ایک صنف کا اضافہ ہوجائے۔دس بیس رباعی کہنے سے صاف سمجھ میں آتاہے کہ شاعر رباعی کہنے سے گریز کررہاہے اوررسم نبھارہاہے۔ لیکن یہ صورت حال بیسویں صدی کے اواخر کی ہے ۔اکیسویں صدی اور رواں دہائی کی صورت حال قدرے مختلف ہے۔خود ناوک حمزہ پوری ہی کے الفاظ میں :
’’ہمارے ناقدین نے رباعی کی فنی مشکلات کا ذکر کچھ اس انداز سے کیا ہے اور اس تواتر سے کیا ہے کہ نئے شاعروں نے غالباً رباعی کو آسیب سمجھ کر اس کے نزدیک جانا ہی چھوڑ دیا تھا۔پھر یہ کہ رباعی کے تعلق سے بے سروپا کچھ باتیں بھی مشہور کردی گئی تھیں۔یوں میں نے مذکورہ نمبر میں اس آسیب کو بھگانے کے خیال سے طویل مقدماتی مضمون بھی لکھ ڈالا تھا۔یہ دیکھ کر یک گونہ اطمینان ہوا کہ کوشش رائیگاں نہ گئی۔ نہ صرف یہ کہ بزرگ شعرا کو بھی احساس ہوا کہ رباعی بھی کہنا چاہیے بلکہ نئی نسل کے بہت سارے شعرا رباعی گوئی کی طرف متوجہ ہوئے۔ہرسال رباعی کے دوتین مجموعے شائع ہونے لگے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔‘‘11؂
اس اقتباس سے جو باتیں واضح ہوتی ہیں ان میں ایک یہ ہے کہ نئے زمانے کے شعرا نے رباعی کی صنف کو بہت مشکل خیال کرتے ہوئے اس کی طرف رخ کرنے کی جرأت نہیں کی جب کہ یہ صنف اتنی مشکل بھی نہیں کہ اس میں طبع آزمائی نہ کی جاسکے۔ رباعی کی بحر میں اچھی شاعری کے لیے بھرپور گنجائش موجود ہے۔ اور اگر ذہن کو اس بحر سے ہم آہنگ کرلیاجائے تو پھر یکے بعد دیگرے رباعیاں کہنا اور آسان ہے۔
شمس الرحمن فاروقی نے موجودہ عہد میں کہی جانے والی رباعیوں اور رباعی گویوں کے بارے میں جو کہا ہے ، اس سے بھی یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس عہد میں رباعی زوال پذیر نہیں بلکہ ترقی پذیر ہے۔ وہ کہتے ہیں:
’’ ان دنوں شہر شہر بلکہ قریہ قریہ رباعی گویوں کا ہجوم ہے۔اس بات سے قطع نظر کہ جو رباعیاں کہی جارہی ہیں وہ کیسی ہیں، رباعی کی یہ غیر معمولی مقبولیت کم سے کم دو باتیں ثابت کردیتی ہیں۔اول تو یہ کہ عقیدۂ عام کے برخلاف رباعی کچھ ایسی مشکل صنف سخن نہیں اور نہ ہی اس کے اوزان اتنے اجنبی ہیں جتنے کہے جاتے ہیں۔دوسری بات یہ ثابت ہوتی ہے کہ یہ بھی محض افسانہ ہے کہ رباعی پختہ عمر (اور بقول جوش ملیح آبادی چالیس سال سے زیادہ کی عمر ) کا شاعر مانگتی ہے ۔رباعی کی اس فتح مندی کو میں اردو شاعری کے لیے فالِ نیک سمجھتا ہوں۔‘‘12 ؂
اس وقت متعدد ایسے شعرا موجود ہیں جن کی رباعیوں کے مجموعے یکے بعد دیگرے منظر عام پر آچکے ہیں یا آرہے ہیں۔مثلاًدورحاضر کے اہم رباعی گوشعرا میں ایک اہم نام اکرم نقاش کاہے۔ فضیل جعفری نے اکرم نقاش کے بارے میں لکھا ہے کہ:
’’میں ادبی نجومی نہیں کہ کسی شاعر کے روشن مستقبل کی پیش گوئی کروں لیکن کئی دوسرے لوگوں کی طرح مجھے بھی اکرم نقاش سے بہت سی امیدیں ہیں۔‘‘13؂
اکرم نقاش کی رباعیوں کے مجموعے ’حشرسی یہ برسات ‘ کو ادبی حلقوں میں کافی سراہا گیا اور اسے بہ نظرِ استحسان دیکھا گیا۔اس مجموعے پر شمس الرحمن فاروقی نے پیش گوئی کرتے ہوئے کہا تھا:
’’ یقین ہے کہ بہت جلد اس کتاب کا خالق ہمارے عہد کا منفرد رباعی گو کہلائے گا۔‘‘14؂
اکرم نقاش کی رباعیوں میں بہت سے موضوعات کو بخوبی برتا گیا ہے، البتہ حسن وعشق کے معاملات سے انھوں نے بڑی حد تک پرہیز کیا ہے لیکن اس کے باوجود اس نوع کی جو رباعیاں بھی انھوں نے کہیں، وہ بڑی لاجواب ہیں۔اس قبیل کی ایک رباعی دیکھیں ؂

اک سحر چھلکتا ہے نگاہوں سے تری
بڑھتا ہے طلسم اور جو گویا ہو کبھی
جادو ہے تو سر تا بہ قدم یا کوئی خواب
مسحور ہوئی جاتی ہے ہر سانس مری

عہدِحاضر کے رباعی گویوں میں ایک اوراہم نام متین جامی کا ہے جن کی رباعیوں کے دومجموعے ’بساط سخن‘ اور ’مونس سخن ‘منظر عام پر آچکے ہیں۔ مونس سخن میں 465رباعیاں ہیں۔ اس دورکے ایک اور اہم رباعی گو شاعر حافظ کرناٹکی ہیں جن کی رباعیوں کے کئی مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔ ’موج تسنیم‘ میں بچوں کے حوالے سے رباعیاں کہی گئی ہیں۔ ان کی رباعیات کا دوسرا مجموعہ ’رباعیات حافظ ‘ ہے جو اول، دوم اور سوم حصوں پر مشتمل ہے۔وقت کے ساتھ ان کی رباعیوں کے ذخیرے میں اضافہ ہوتا جارہاہے۔
جب اس دور کے رباعی گویوں کا تذکرہ ہوگا توظفرکمالی کانام بھی قدرواحترام کے ساتھ لیا جائے گا۔ انھوں نے عمدہ رباعیاں کہی ہیں ۔ان کی رباعیوں کاایک مجموعہ ’رباعیات ظفر‘ کے نام سے افقِ اشاعت پر جلوہ گر ہوچکا ہے۔ ظفرکمالی اور ان کے مجموعے کے بارے میں صفدرامام قادری لکھتے ہیں:
’’یہ مجموعۂ رباعیات، ظفر کمالی کا بہ حیثیتِ شاعر ایک مستقل پڑاؤ ہے۔انھیں صرف محقق یا ظرافت نگار سمجھ کر چھوڑدینا اب کسی سنجیدہ قاری کے لیے ممکن نہیں ہوگا۔وہ ہم عصر رباعی گویوں کے درمیان بہت خاموشی سے لیکن مکمل استادانہ رکھ رکھاؤ کے ساتھ باوقار انداز میں جلوہ افروز ہیں۔ان کے ذہن اور فکر ، ادبی مزاج ، علمی گہرائی اور طبیعت کے ٹھہراؤ کے نہایت خوش آئندنتائج برآمد ہوں گے۔رباعی کی عارفانہ ، عالمانہ ، کاملانہ اورظریفانہ چوٹیاں تو انھوں نے سرکرلیں، آنے والے وقت میں وہ کون سا شعری مدارڈھونڈتے ہیں جس کے دائرے میں رہ کر وہ بالکل نئے شاعر کے طورپر ہمارے سامنے آئیں گے۔‘‘15 ؂
اس دورکے اہم رباعی گو شعرا کی فہرست میں ایک نام عارف حسن خاں کا بھی شامل کیا جانا چاہیے جن کی رباعیوں کا مجموعہ ’دیوان رباعیات عارف ‘حال ہی میں منظر عام پر آیا ہے۔ عارف حسن خاں عروض کے ماہر ہیں۔ ان کے نزدیک رباعی کے اوزان چوبیس نہیں چھتیس ہیں اور ان اوزان میں انھوں نے رباعیاں کہی ہیں۔ ان کی رباعیاں فن و معنی دونوں اعتبار سے پختہ ہیں ۔ ان کی رباعیوں کے مطالعے کے دوران ایسا لگتا ہے کہ انھیں رباعی کہنے میں تکلف نہیں ہوتا۔ بے ساختہ رباعی کہتے ہیں اور عمدہ کہتے ہیں۔ رباعی کا یہ انداز دوسروں سے جدا بھی ہے اور تاثیر سے پُر بھی ۔ ملاحظہ فرمائیں ؂

خوشبو کا اک جھونکا ہے اس کی یاد
کوئی میٹھا سپنا ہے اس کی یاد
اس کی یادوں میں کھو کر یہ جانا
حاصل اس دنیا کا ہے اس کی یاد

حال ہی میں عادل حیات کی رباعیوں کا مجموعہ ’شہر رباعی‘ منظرعام پر آیا جسے ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس نئی دہلی نے 2016 میں چھاپا ہے۔ اس مجموعے کے ہر صفحے پر تین رباعیاں ہیں اور اس مجموعے میں 160 صفحات ہیں۔ گویا کہ مجموعی طور پر اس مجموعے میں سیکڑوں رباعیا ں ہیں۔ عادل حیات کی رباعیاں بڑی نیچرل محسوس ہوتی ہیں اور یہ بھی لگتا ہے کہ رباعی کہنے پر انھیں دسترس حاصل ہے۔ اس سے امید کی جاسکتی ہے کہ ان کے رباعی کہنے کا سلسلہ رکے گا نہیں اور مزید رباعی کے مجموعے ان کے قلم سے نکلیں گے۔ بطور نمونہ یہ رباعی ملاحظہ فرمائیں ؂

بہتی ہوئی لہروں سی روانی توبہ
بل کھاتی ہوئی ایسی جوانی توبہ
سنتے ہیں کبھی ہم بھی جواں تھے لیکن
اس یُگ کے نئے قصے، کہانی توبہ

دورحاضر کے اہم رباعی گوشعرا میں فراغ روہوی کو کسی بھی صورت نظرانداز نہیں کیاجاسکتا۔ان کی رباعیوں کا ایک مجموعہ’ جنوں خواب‘گراں قدر فن پارہ ہے۔اس مجموعے اور فراغ روہوی کے بارے میں مراق مرزا لکھتے ہیں:
’’ جنوں خواب انھیں ان عالمی شہرت یافتہ رباعی گویوں کے متبعین کی صف میں جگہ دیتاہے جس میں حضرت ابوالحسن خرقانی ، ابوشکو ربلخی، رودکی، ابوالخیر اور عمرخیام کے علاوہ مرزا محمد رفیع سودا، انیس ودبیر، مومن ، امجد حیدر آبادی، میرحسن ، مولانا حالی، غالب،اقبال ، شاد عظیم آبادی ، جوش ملیح آبادی، فراق گورکھوپوی، تلوک چند محروم جیسے جید سخن ساز شامل ہیں۔‘‘ 16؂
مذکورہ تبصرہ اس بات کی طرف اشارہ کررہاہے کہ موجودہ دورمیں رباعی کے بڑے بڑے شاعر موجود ہیں۔ فارسی کے جن شاعروں کے ناموں کو مذکور کیا گیا ہے ، وہ سب فارسی رباعی میں اولین مقام رکھتے ہیں۔ ذکرکردہ اردو کے رباعی گوشعرا کو بھی رباعی کے شعبے میں نمایاں درجہ حاصل ہوا ہے۔ آج بھی اگر اس پایہ کا رباعی کاکوئی شاعر موجود ہے تو اس سے یہ انداز ہ لگالینا کچھ مشکل نہیں کہ رواں صدی میں اردورباعی کاجلوہ برقرار ہے۔فراغ روہوی کی رباعیوں کی خاص بات یہ ہے کہ ان میں بھرپور نغمگیت ہوتی ہے اور ان کو پڑھتے ہوئے مشکل پسندی کااحساس نہیں ہوتا۔ایک حمدیہ رباعی ملاحظہ فرمائیں ؂

یہ جان و بدن میرے نہیں ، تیرے ہیں
یہ نطق و دہن میرے نہیں ، تیرے ہیں
میں فخر کروں بھی تو کروں ، کس بل پر
الفاظ و سخن میرے نہیں ، تیرے ہیں

’رباعی ‘کی جوبحر متعین ہے اور جو اوزان بیان کیے گئے ہیں، فی زمانہ اُسی بحر اور اوزان میں رباعیاں کہی جارہی ہیں۔ ہاں بعض شعرا ان اوزان سے آگے بڑھنے کی بھی کوشش کرتے نظرآتے ہیں۔جیساکہ کندن لال کندن نے 54 آہنگوں میں رباعیاں کہی ہیں۔ڈاکٹر شریف احمد رقمطراز ہیں:
’’اسی طرح ایک زمانے میں یہ خیال عام تھا کہ رباعی چوبیس اوزان اور بحور میں کہی جاسکتی ہے لیکن انتہائی مقبول ایک ہی وزن رہاہے ۔لاحول ولا قوۃ الا باللہ۔کم رباعی گو اس وزن سے باہر جاسکے ہیں لیکن ....کندن صاحب نے چوبیس نہیں چوّن آہنگوں میں رباعیاں کہہ کردکھائیں۔‘‘17 ؂
2016میں ایم ایم خان کی رباعیات کا مجموعہ’اے کاش‘ منظر عام پر آیا ہے ۔اس میں 130 رباعیاں ہیں، لیکن یہ رباعیاں رباعی کی مخصوص بحر میں نہیں ہیں اور نہ ہی ان میں ان اوزان کی رعایت کی گئی ہے جو رباعی کے لیے مخصوص ہیں۔اس سے یہ پتہ چلتاہے کہ عہدِ حاضر میں کچھ شعرا رباعی کے عروضی دائرے کو وسیع کرنے یا رباعی کے مخصوص دائرے کو توڑنے کی بھی کوششیں کررہے ہیں، لیکن اس نوع کی کوششیں اکّا دکاہی ہیں، ورنہ آج بھی رباعی کی متعینہ بحرووزن کا خیال رکھا جاتاہے۔اوپر دورحاضر کے جن رباعی گوشعرا کا تذکرہ کیا گیا وہ بطور نمونہ ہیں ، ورنہ عصرِ حاضر کے تمام رباعی گویوں پرسیر حاصل گفتگو ایک مضمون میں نہیں کی جاسکتی ، اس کے لیے ایک ضخیم کتاب کی ضرورت ہے۔
موضوعات اور مضامین کے اعتبار سے اگرچہ ’رباعی ‘اپنے ابتدائی ادوارمیں حکمت وموعظت ، مذہب واخلاق اور بعض مخصوص موضوعات سے عبارت تھی، لیکن آہستہ آہستہ اس کے موضوعات میں تنوع ہوتا چلا گیا۔موضوعات میں وسعت کا یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ آج کی رباعیوں میں مذہب وملت کی باتیں بھی ہیں ، تہذیب ومعاشرت اور سیاست وسیادت کی باتیں بھی ہیں۔اسی طرح عشقیہ مضامین بھی نظم کیے جاتے ہیں اور رواں صدی کے معاملات وواقعات کو بھی رباعیات میں بیان کیا جاتاہے۔ گویا کہ عہدِ حاضر کی رباعیات کے موضوعات کا دائرہ بہت وسیع ہے۔
کندن لال کندن کی مندرجہ ذیل رباعیوں میں عہدِ حاضر اور اس کی سیاسی زبوں حالی کی داستان اس طرح رقم کی گئی ہے ؂

لے شامِ اودھ کا کوئی اب نہ سرور
اب صبحِ بنارس پہ کرے کون غرور
فرصت ہے کسے لطف اٹھائے ان کے
دو وقت کی روزی کو ہے انساں مجبور


ایم پی بننے کا حق تم اس کو دو
بے مثال چور، نامور ڈاکو ہو
کنبہ پروری کی جس کو ہو بس فکر
قوم، دیش کی نہ کبھی سوچے جو

یہ مادی دور ہے، سائنس اور ٹیکنالوجی نے اپنے پاؤں ہر طرف پھیلادیے ہیں، احساسات وجذبات ،اخلاق واقدار اور مذہب و روحانیت سے انحراف کرکے لوگ مشینی بنتے جارہے ہیں، لیکن اس کے باوجود آج کے رباعی گونہ صرف اپنے ماضی کے ورثے کے امین ثابت ہورہے ہیں بلکہ اس کو آگے بڑھاتے ہوئے مذہب وروحانیت اوراخلاق وانسانیت کورباعیوں میں پیش کررہے ہیں۔اسی تناظرمیںآج حمدیہ اور نعتیہ رباعیاں بھی کہی جارہی ہیں ۔حافظ کرناٹکی کی رباعیوں سے حمدیہ اور نعتیہ رباعی کی ایک ایک مثال ملاحظہ فرمائیں ؂

ہر ایک طرف جلوہ گری ہے رب کی
پوری جو کیا کرتی ہے مانگیں سب کی
خالی نہیں جاتا کبھی کوئی سائل
تخصیص نہیں اس کے یہاں مذہب کی


عیسیٰ کی تگ و تاز جہاں ختم ہوئی 
جبریل کی پرواز جہاں ختم ہوئی
کی آپ نے اس حد سے شروعاتِ سفر
خود نگہہِ نگہہ ساز جہاں ختم ہوئی

اخلاق وتہذیب کے مضمون کو کندن لال کندن نے اپنی ایک رباعی میں اس طرح بیان کیا ہے ؂

تہذیب و تمدن کا اڑاؤ نہ مذاق
داؤ پہ لگاؤ نہ کبھی تم اخلاق
ہے ہند کی تہذیب جہاں بے مثل
تہذیب وِدیشی کے نہ ہو تم مشتاق

عہدِ حاضر کے شعرانے رباعیوں کے ذریعہ جدید معاشرے، جدید تہذیب اور اُس انسان پر گہرا طنز بھی کیا ہے جو انسانی خطوط و اقدار کے خلاف نبرد آزما ہے اور انسانی تقاضوں ومطالبوں کو پیچھے چھوڑ رہاہے۔اس نوع کی یہ رباعی دیکھیے ؂

تہذیب پہ بحران نظر آتا ہے
اخلاص کا فقدان نظر آتا ہے
آیا ہے زمانے میں تغیر ایسا 
انسان بھی حیوان نظر آتا ہے 

تقویٰ اور پرہیزگاری ایک ایسا وصف ہے جو انسان کو نہ صرف گناہوں اور خطروں کی دلدل سے بچاتاہے بلکہ اس کو ابدی کامیابی سے ہمکنار کرکے اس کے درجات کو بھی بلند کرتا ہے ۔یہی تقوی انسان کو صراطِ مستقیم پر قائم رکھتاہے اور منزل تک پہنچنے کے لیے روشنی عطا کرتا ہے۔اس پس منظر میں حافظ کرناٹکی کی یہ رباعی دیکھیں ؂

تقویٰ سے جو معذور ہوا کرتا ہے
وہ دین سے بھی دور ہوا کرتا ہے
اک مہر سی لگ جاتی ہے دل پر اس کے 
اور چہرہ بھی بے نور ہوا کرتا ہے

رباعی کا ایک اہم موضوع ’اصلاح‘ رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ تقریباً ہر دور کے رباعی گو شعرا نے اصلاحی رباعیاں کہی ہیں۔ پہلے صوفیا ، علما اور مذہبی شخصیات نے رباعی کواصلاح کا ذریعہ بنایا ،پھر یہ روایت اتنی مستحکم ہوگئی کہ آج تک قائم ہے۔غالباً گزشتہ ادوار کے شعرا کو اس بات کاپختہ یقین تھاکہ رباعی کے توسط سے سماجی ، تہذیبی اور ملی سطح پر اصلاح کا کام موثرکن انداز میں لیا جاسکتاہے ۔خوش آئند بات یہ ہے کہ جس طرح اصلاح کی گہری چھاپ ادوارِ رفتہ کی رباعیوں پر چھائی ہوئی ہے ، اسی طرح عہدِ حاضر کی رباعیو ں میں بھی اصلاح کا رنگ کافی گہرا ہے۔نمونے کے طورپریہ رباعی دیکھیں ؂

ہمدردی سے جو رشتہ بنا لیتا ہے
دشمن کو بھی وہ اپنا بنا لیتا ہے
پانی کی طرح ہوتا ہے اس کا کردار
بہتا ہے جہاں رستہ بنالیتا ہے

بہرکیف عہدِحاضر میں اردو رباعی کے مختلف پہلوؤں کا گہرائی سے تنقیدی اور تحقیقی جائزہ لینے کے بعد یہ نتیجہ سامنے آتاہے کہ عصرِ حاضر میں رباعی نہ صرف ا یک زندہ صنف کی حیثیت رکھتی ہے بلکہ نئے زمانے کے شعرااس کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔ جس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ مستقبل میں بھی ’رباعی‘ کا سفر جارے رہے گا۔

حواشی
-1 تنقید شعرالعجم ، 582
-2 مقدمہ، کلیات محمد قلی قطب شاہ، اشاعت 1940
-3 اردو رباعی: فنی و تاریخی ارتقاء، از فرمان فتح پوری، ص48
-4 تلخیص عروض قافیہ، ص 21-22، مطبع چھتہ بازار لاہور
-5 ارمغان رباعیات، از کندن لال کندن، ص 11،اشاعت 2007
-6 اردو رباعی، فنی وتاریخی ارتقاء، ص 20
-7 رباعیات انیس، ص 38، علی جواد زیدی، ناشر قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان ،اشاعت 1985
-8 امیر چند بہار ،چار سو رباعیات کا مجموعہ ، ص 11
-9 کاشف الحقائق ، جلد دوم ، ص 274
-10 جنوں ، خواب ، از :فراغ روہوی، ص11
-11 جنوں خواب، فراغ روہوی، ص 13
-12 حشرسی یہ برسات، مصنف اکرم نقاش، ص 8، اشاعت 2009
-13 حشر سی یہ برسات ، ص 19، مصنف اکرم نقاش
-14 حشر سی یہ برسات، ص11، از اکرم نقاش
-15 رباعیات ظفر، ص 51، از ظفر کمالی، اشاعت 2013
-16 جنوں خواب ، فراغ روہوی، صفحہ27
-17 ارمغان رباعیات، از کندن، ص 11،2007

Yusuf Rampuri
Mohallah Tandola
Tanda, Rampur - 244925 (UP)
Mob.: 9310068594





قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

مابعد جدیدیت اور بانو قدسیہ (شہر لازوال، آباد ویرانے کے حوالے سے) مضمون نگا:۔ سفینہ بیگم





مابعد جدیدیت اور بانو قدسیہ

(شہر لازوال، آباد ویرانے کے حوالے سے)

سفینہ بیگم

اردو ادب میں مابعد جدیدنقطہ نظر سے کئی فن پاروں کا تجزیہ کیا جاتا رہا ہے۔تاکہ ادب پارہ میں موجود تعمیری اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مابعد جدیدیت کے بنیادی نکات کی تفہیم کاکام عمل میں آسکے اور اس بات کی وضاحت ہو سکے کہ مابعد جدیدیت اپنے حقیقی معنی میں کن عوامل کا احاطہ کرتی ہے۔مابعد جدیدیت کی اصطلاح کوئی تھیوری نہیں بلکہ ایک صورت حال ہے جو دیگر ذہنی اور ادبی رویوں کے ضابطہ بند طریقوں سے بحث کرتی ہے اور یہ ادبی رویے مابعد جدید صورت حال کے زمرے میں شامل ہوتے ہیں۔ مابعد جدیدیت ان تمام ادبی حد بندیوں سے اختلاف کرتی ہے جو ادب پارہ اور قاری کے درمیان حائل ہوتی ہے اور فن پارے پر کسی بھی قسم کی موضوعی یا فنی پابندی عائد کرتی ہے۔یہ تخلیق کی آزادی کا مطالبہ کرتی ہے اور فن پارہ کوکسی ایک زاویہ یاکسی مخصوص ادبی رویہ کے سانچہ میں پرکھنے کے بجائے اس کی تعبیر کے متعدد امکانات کے مواقع فراہم کرتی ہے۔ناقدین ادب زمانی سطح پرمابعد جدیدیت کے متعلق اس امر کو واضح کر چکے ہیں کہ مابعد جدیددور سے کیا مراد ہے۔اور اس صورت حال کے پیش نظر مختلف ادبی رویوں کا اطلاق محض مابعد جدید فن پاروں کے حوالے سے کیا جا سکتا ہے یا ماقبل کی تخلیقات کا تحلیل و تجزیہ کرنے میں مابعد جدید یت معاون ہو سکتی ہے۔لہٰذا اس سے متعلق کوئی گفتگو نہیں کی جائے گی۔
مابعد جدیدصورت حال میں Cultural studiesکوبہت اہمیت حاصل ہے۔یہاں یہ سوال قائم کیا جاسکتا ہے کہ ثقافتی مطالعے کی اہمیت توہر دور میں رہی ہے تو اس کا جواب یہ ہوسکتاہے کہ مابعد جدیدیت میں اشیا کی پیش کش کا طریقہ تبدیل ہوگیا ہے۔Acceptabilityکی صفت نے متن کو وسیع تر کردیا ہے خواہ وہ موضوع کے حوالے سے ہو یا فن کے حوالے سے۔اور اس اعتبار سے غور کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ ہر قسم کے تہذیبی و ثقافتی مسائل کی آزادانہ پیش کش مابعد جدید ادب میں کی گئی ہے۔کیونکہ ان ثقافتی مسائل نے سماجی بحران اور افراط و تفریط کی شکل اختیار کرلی ہے۔لہٰذا موضوعات کی سطح پر سائنس و ٹکنولوجی،گلوبلائزیشن،کمپیوٹر،ماس میڈیا،سیاسی حربے،معاشرتی پراگندگی، صارفیت کا غلبہ، جنسی آگاہی،عورتوں کے مسائل،دلت ڈسکورس وغیرہ کو پیش کیا گیا۔ نیز ہر طرح کے ثقافتی کرائسس کو سمجھنے کے لیے مابعد جدیدادب کے فکری رویوں کوتشکیل دیا گیا۔موضوعات کی سطح پر مابعد جدید ناول کے حوالے سے بہت سی بحثیں سامنے آچکی ہیں۔لیکن زبا ن کی سطح پر ان Toolsکا ذکر جستہ جستہ ہی ملتا ہے جن کے ذریعہ کسی متن کا مطالعہ مابعد جدید نقطہ نظر سے کیا جاسکتا ہے۔ اس سلسلے میں اس بات کا ذکر کردینا بھی ضروری ہے کہ جدیدیت کے زیر اثر جس مہابیانیہ کو تشکیل دیا گیا۔مابعد جدیدیت نے اس کو خاطر خواہ اہمیت نہ دے کر چھوٹے بیانیہ کو اہم قرار دیا۔اور اس بات کی جانب توجہ دلائی کہ معنی کا کوئی ایک مرکز نہیں ہوتا بلکہ قرأت کا طریقہ اس کا مرکز تبدیل کرتا رہتا ہے۔مابعد جدیدمتن کی زبان Unreliable (کبھی کچھ تو کبھی کچھ)ہوتی ہے۔جس میں ناول کے بنیادی وصف علت و معلول اور سبب و نتیجہ کی منطق سے انکار کی صورت ملتی ہے۔مابعد جدید متن کی زبان کسی بھی اصول و ضوابط کی مرہون منت نہیں ہوتی اور بسا اوقات متن کی ساخت Amorphousکی شکل اختیار کرلیتی ہے۔مثال کے طور پر مرزااطہر بیگ کا ناول غلام باغ اس ضمن میں قابل ذکر ہے۔مابعد جدید زبان کا ایک اہم وصف یہ بھی ہے کہ یہ (زبان) اپنی تشکیل کی منطق کو خود واضح کرتی ہے جسےSelf Reflexivityکہا جاتا ہے اور اسی کا ایک حصہ علت و معلول کی صفت سے انکار ہے۔جس کا ذکر پہلے کیا جا چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مابعد جدید متن میں Signifiers کو اہمیت حاصل ہے۔جن کا باہمی ارتباط ہی متن کی ساخت میں اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ جدیدیت نے جن عوامل کو ’غیر‘کا درجہ دیا تھا،مابعد جدیدت نے ان تمام عوامل کو ایک دائرہ میں جمع کردیا۔اور متن کو ایک وسیع تناظر میں پرکھنے کی کوشش کی۔گوپی چند نارنگ مابعد جدیدیت کے متعلق لکھتے ہیں:
’’مابعد جدیدت نہ ترقی پسندی کی ضد ہے اور نہ جدیدیت کی،اور چونکہ یہ نظریہ کی ادعائیت کو رد کرنے اور طرفوں کو کھولنے والا رویہ ہے،اس کی کوئی بندھی ٹکی فارمولائی تعریف ممکن نہیں۔اس اعتبار سے دیکھا جائے تو مابعد جدیدیت ایک کھلا ڈلا ذہنی رویہ ہے تخلیقی آزادی کا، اپنے ثقافتی تشخص پر اصرار کرنے کا،معنی کو سکہ بند تعریفوں سے آزاد کرنے کا،مسلمات کے بارے میں ازسر نو غور کرنے اور سوال اٹھانے کا،دی ہوئی ادبی لیک کے جبر کو توڑنے کا،ادعائیت خواہ سیاسی ہویا ادبی اس کو رد کرنے کا، زبان یا متن کی حقیقت کے عکس محض ہونے کا نہیں بلکہ حقیقت کے خلق کرنے کا،معنی کے معمولہ رخ کے ساتھ اس کے دبائے یا چھپائے ہوئے رخ کے دیکھنے دکھانے کا، اور قرأت کے تفاعل میں قاری کی کارگردگی کا۔دوسرے لفظوں میں مابعد جدیدیت تخلیق کی آزادی اور تکثیریت کا فلسفہ ہے جو مرکزیت یا وحدیت یا کلیت پسندی کے مقابلے پر ثقافتی بوقلمونی،مقامیت،تہذیبی حوالے اور معنی کے دوسرے پن'The other' کی تعبیر پر اور اس تعبیر میں قاری کی شرکت پر اصرار کرتا ہے۔‘‘ 1؂
مابعد جدید نقطہ نظر سے کسی فن پارہ کا تجزیہ و تحلیل کرنے کے لیے سب سے پہلے اس کہانی کے تشکیلی عناصر پر غور کیا جائے اور اس بات کو ذہن میں رکھا جائے کہ کہانی کس طرز پر وجود میں آئی اور متن کس انداز سے واقعات کو معانی فراہم کررہاہے۔مابعد جدید تنقید کا ایک اہم عنصر یہ بھی ہے کہ متن کی افہام و تفہیم میں قاری کو کوئی رکاوٹ درپیش نہ ہو،افسانہ یا ناول اپنی فکری سطح پر مہملیت کا شکار نہ ہو۔ لہٰذا دیگر ادبی رویوں کے ساتھ ساتھ متن کا مطالعہ اس کے ثنوی تخالف اور متضاد رویوں کے زیر اثر بھی کیا جاتا ہے۔اور متن سے معانی برآمد کیے جاتے ہیں۔اس بات کا ذکر کردینا بھی ضروری ہے کہ کوئی بھی ناول مکمل طور پر مابعد جدید رویوں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ بلکہ مابعدجدیدیت کے کچھ پہلوؤں کے حوالے سے متن کو ترتیب دیا گیا ہوگا۔ اردو میں مابعد جدیدیت کے زیر اثر افسانہ اور ناول دونوں اصناف پر توجہ دی گئی لیکن ناول کے بالمقابل افسانہ کی شعریات کا زیادہ بہتر طریقہ سے جائزہ لیا گیا۔ جس میں روایتی طریقوں کی بازیافت کے ساتھ ساتھ اس سے انحراف کی مختلف صورتوں اور تجربہ و فکر کے جدید رویوں کو بروئے کار لایا گیا۔اس اعتبار سے موضوعی بحث کے ساتھ فنی تجربات کی روشنی میں متن کا مطالعہ کیا گیا۔ جس سے وسیع پیمانے پرمتن کی تعبیر کے ممکنہ امکانات سامنے آئے۔لیکن کسی ناول کا جائزہ محض موضوعاتی تشریح تک محدود رہا۔اردو ناول میں مابعد جدید رویوں کے تحت اکثر و بیشتر انھیں ناولوں کا تجزیہ کیا جاتا رہا ہے جو 1980 کے بعد وجود میں آئے۔واضح رہے کہ مابعد جدیدیت میں زبان کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے اور اردو داں طبقہ اس غلط فہمی کا شکار ہے کہ 1980 کے بعدجوبھی ناول تخلیق کیے گئے ان کو مابعد جدید زمرے میں شامل کیاجا سکتا ہے۔جبکہ ضروری ہے کہ ان تحریروں کی زبان پر غورو خوض کیا جائے اور یہ دیکھاجائے کہ کیا ان کے متون میں وہ عوامل موجود ہیں جن کا ذکرانگریزی کے مابعد جدید نقادوں نے کیا ہے۔ژاں فرنسکوائزلیوتارڈ اپنے مضمون ’’اس سوال کا جواب کہ مابعد جدید کیاہے؟‘‘میں لکھتا ہے کہ:
’’مابعد جدید وہ ہوگا جو جدید میں ناقابل احضار کو پیش کش میں نمایاں کرتا ہے، جو خود کو اچھی ہیئت کی تسکین سے محروم رکھتا ہے،جو ذوق کے اس اجتماعی شعور کو،جو ناقابل حصول کے لیے ماضی کی حسرت ناک یاد سے عبارت ہے،قبول نہیں کرتا، جو نئی پیش کش کی جستجوکرتا ہے اس لیے نہیں کہ وہ اس سے لطف اندوز ہو بلکہ اس لیے کہ ناقابل احضار کے احساس کو شدید طور پر پیش کر سکے۔مابعد جدید فن کار/مصنف،فلسفی کی حیثیت رکھتا ہے،جو متن وہ تعمیر کرتا ہے وہ پہلے سے متعین اصولوں کے مطابق نہیں ہوگا۔اور اس پر کوئی حکم پہلے سے متعین درجوں(Categories)کے حوالے سے نہیں لگایا جا سکتا۔متن/فن پارہ تو خود ان درجات کی تلاش میں ہے،تو مصنف/فن کار اصولوں کے بغیر کام کرتے ہیں تاکہ اصولوں کو دریافت کر سکیں کہ کیا کیاجانا چاہیے تھااسی لیے متن ایک وقوعہ (Event)کا کردار/صفات رکھتا ہے۔اور اسی لیے وہ اپنے مصنف پر خاصی دیر میں وارد ہوتے ہیں۔اور یہی بات اس طرح بھی کہی جا سکتی ہے کہ ان کا متن میں داخل ہونایا ان اصولوں کی تشکیل بہت جلد شروع ہو جاتی ہے۔ مابعد جدید کو ہمیشہ مستقبل اور ماقبل کے قول محال میں ہی سمجھا جا سکتا ہے۔‘‘2؂
اردو ادب میں مابعدجدید ناولوں میں موضوعات کے تنوع کے حوالے سے عام طور پرعبدالصمد، غضنفر، حسین الحق،شموئل احمد،سید محمد اشرف وغیرہ کی ناولوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔جبکہ غور کیا جائے توفکری و فنی سطح پر قرۃالعین حیدر، عبداللہ حسین،نیر مسعوداور دوسرے ناول نگاروں کے یہاں لسانی تازہ کاری اور اظہار وبیان کے مابعد جدید اسالیب کے نمونے ملتے ہیں۔ان ناول نگاروں کی تحریروں کے علاوہ بانو قدسیہ کے ناولوں کوبھی مابعد جدید رویوں کے پیش نظر پرکھا جا سکتا ہے۔جس میں موضوع اورمواد کی پیش کش اور ناول کی شعریات پر گفتگو کرتے ہوئے متن کے طرز وجود سے معنی اخذ کیے جا سکتے ہیں۔
بانو قدسیہ کا مقبول عام ناول’راجہ گدھ‘ اردو دنیا میں شہرتِ دوام کی حیثیت حاصل کر چکاہے۔اس کے علاوہ ’حاصل گھاٹ‘، ’شہر بے مثال‘ اور ’شہر لازوال،آباد ویرانے‘ ان کے اہم ناول ہیں۔راجہ گدھ کے علاوہ باقی ناولوں کے متعلق کوئی خاطر خواہ مضامین منظر عام پر نہیں آئے ہیں۔لہٰذا اس مضمون میں بانو قدسیہ کے ناول شہر لازوال،آباد ویرانے کے حوالے سے گفتگو کی جائے گی،اور مابعد جدید تناظر میں اس کے ادبی محرکات و عوامل کو جانچا جائے گا۔یہ ناول 2012 میں سنگ میل پبلی کیشنز لاہور سے شائع ہوا اور اس کی ضخامت 576صفحات پر مشتمل ہے۔راجہ گدھ کے مقابلے میں یہ ایک مختلف نوعیت کا ناول ہے جس میں بہت سے چھوٹے چھوٹے قصوں کے توسط سے ناول ترتیب دیا گیا ہے۔
ناول کا عنوان ’شہر لازوال،آباد ویرانے‘ ایک Paradoxicalسطح پر ترتیب دیا گیا ہے۔اور اس عنوان کی مناسبت سے ہی مصنفہ نے اس ناول کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے جس میں پہلا حصہ شہر لازوال پر مبنی ہے جو محض 68 صفحات کا احاطہ کرتا ہے۔اور باقی حصہ آباد ویرانے پر مشتمل ہے۔شہر لازوال سے مراد لاہور شہر ہے جس کو کبھی زوال نہیں اور ابتدا میں ہی بانو قدسیہ اس کے متعلق لکھتی ہیں۔ ’’اس ناول کی تھیم یہ ہے کہ لاہور شہر جو بے پناہ ناپاک لوگوں سے آباد ہے،کیسے ابھی تک آباد ہے...... غالباًکچھ اللہ کے بھگت اس دھرتی پر آباد ہیں جو اس کے لیے دعا گو ہیں۔‘‘لیکن بانو قدسیہ کا یہ قول صرف شہر لازوال کے واقعات اور آباد ویرانے میں تقسیم کے بعد کے واقعات پر منطبق ہوتا ہے۔ درمیانی حصہ لاہور سے ملحق کانگڑہ ویلی میں قیام پزیر مرکزی کرداروں کے واقعات پر مشتمل ہے اور یہ کردار آباد ویرانے کا حصہ ہیں۔شہزلازوال میں موجود کرداروں کا تعلق ان ناموں سے ہے جن کا ذکر بانو قدسیہ نے ابتدا میں ہی کردیا ہے جس سے اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ پورا ناول انھیں کرداروں کے محور پر گردش کرے گا جب کہ ایسا نہیں ہوتا اور شہر لازوال میں موجود کسی بھی کردار کا تعلق آباد ویرانے کے کسی بھی واقعہ سے نہیں ہوتا ہے۔اب اس کوناول کے فنی تجربہ سے تعبیر کیا جائے یا ناول کا عیب کہا جائے۔جیسا کہ ذکر کیا گیا کہ ’آباد ویرانے‘ Paradoxicalترتیب ہے۔ایک ایسا قول جو بظاہر تو غیر یقینی اور غلط معلوم ہو لیکن شاعر یا مصنف کے عندیہ میں وہ درست ہو۔اور غور کرنے پر اس کی معنویت اجاگر ہو جائے۔اسی امر کو ملحوظ رکھتے ہوئے مصنفہ نے یہ ترکیب استعمال کی ہے۔اس قول سے ظاہر ہوتا ہے کہ بظاہر تو یہ علاقہ آباد ہے اور عشرت کدہ کے طور پر جانا جاتا ہے لیکن حقیقت میں یہاں رہنے والے لوگوں کے اعمال کے باعث اس جگہ پر ویرانی اور تباہی کی کیفیت چھائی ہوئی ہے۔
بانو قدسیہ کے اس ناول میں متعدد چھوٹے چھوٹے واقعات موجود ہیں جن میں بعض واقعات مرکزی قصہ کو آگے بڑھانے میں معاون ثابت نہیں ہوتے۔ناول میں ان کی شمولیت محض اضافی حیثیت رکھتی ہے جس سے بے جا طوالت کا احساس ہوتا ہے۔ناول کی ابتدا میں مصنفہ نے اہم کردار کے نام سے کرداروں کی فہرست رقم کی ہے۔جن میں ظفر کی بیوی رخشندہ (طوائف)، ظفر، اکرام شاہ، ڈاکٹر فہیم، جنرل بختیار، جمال کے نام شامل ہیں اور یہ تمام کردار ’شہر لازوال‘ کے حصہ میں گردش کرتے نظر آتے ہیں۔جبکہ ’آبادویرانے‘ میں جو کردار خلق کیے گئے ہیں ان میں سے معدودے چند اہمیت کے حامل ہیں اور وہ ڈاکٹر سرفراز مغل، ابراہیم مغل، شوکت مغل، راحیلہ، ساجدہ بیگم، اوما، روی، سریندر، ببو، شاہد، نجم، ڈاکٹر قیصر ہیں ان کے علاوہ سیکڑوں چھوٹے چھوٹے کردار موجود ہیں جن کو مصنفہ خلق نہ بھی کرتیں تو ناول کے اہم واقعات میں کوئی فرق نہیںآتا۔لیکن چونکہ بانو قدسیہ نے ابتدا میں اس بات کی طرف اشارہ کردیا ہے کہ’ اب بھی اس دھرتی پر کچھ اللہ کے بھگت آباد ہیں جو اس کے لیے دعا گو ہیں‘۔ تو ہو سکتا ہے ان جزوی واقعات میں تشکیل شدہ کرداروں سے مراد انھیں نیک بندوں کی جانب اشارہ مقصود ہو۔مصنفہ سے اکثر مقامات پرناموں کے بیان میں بھی غلطیاں سرزد ہوئی ہیں اور بعض جگہ راوی کی بے جا تبدیلی قصہ میں خلل پیدا کرتی ہے۔
ناول کا موضوع کسی ایک محور پر گردش نہیں کرتا ہے بلکہ بہت سے موضوعات کو سمیٹ کر ناول کا کینوس تخلیق کیا گیا ہے۔معاشرہ میں پھیلی جنسی بے راہ روی،بد امنی، انتشار،رشتوں کی نوعیت اور ان کی پامالی،فیشن زدہ ماحول میں ہر غلط چیز کو وقت کی ضرورت سمجھ کر اس کو قابل قبول بنا لینا، مذہبی اصولوں پر عمل کرنے کے ساتھ طوائف سے ہمبستری کو غلط نہ سمجھنا،مشترکہ تہذیب کا بیان،مسلمان قوم کے زوال کے اسباب اور اپنے سرمایہ سے قطع تعلق کر لینا،مذہب سے دوری، تقسیم کے نتیجہ میں پاکستانی عوام کا زندگی کے مسائل سے نبردآزما ہونا، وہاں کے بگڑے ہوئے حالات، داخلی اضمحلال واضطراب اور تشنگی کا احساس۔ان تمام نکات کا بیان ناول میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ناول کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے پہلا حصہ شہر لازوال پر مشتمل ہے جس کی کہانی اس طرح ہے۔لاہور میں مقیم رخشندہ نامی طوائف جو پہلے ظفر کی بیوی تھی،کسی نامعلوم مرض کا شکار ہو کر پاگل خانہ پہنچا دی جاتی ہے۔ وہاں سے واپسی پر وہ طوائف کی حیثیت سے مردوں کی جسمانی آسودگی کا ذریعہ بنتی ہے۔لاہور سے تھوڑی دور جھنگ علاقہ میں رہنے والے سید اکرام شاہ،جو اہل بیت سے قربت رکھتے تھے،قوالی میں دلچسپی کے علاوہ اسلامی نظام اور سیاسی محرکات پر دسترس حاصل تھی۔ اس کے ساتھ شراب اور عورت پر بھی اپنا حق سمجھتے تھے۔ لہٰذا رخشندہ ان کی رات کو رنگین بنانے کے لیے ان کے گھر جاتی تھی۔اس بات کا علم سید صاحب کی بیوی کو ہوتا ہے لیکن بجائے لعنت ملامت کرنے کے اس کی خدمت گزاری کو اپنا فریضہ سمجھتی ہیں۔ اتنے مردوں سے تعلقات بنانے کی وجہ سے وہ اسقاط حمل کو ترجیح دیتی ہے لیکن جنرل بختیارسے محبت کے باعث وہ ان کی اولاد کو مارنا نہیں چاہتی ہے مگر جنرل بختیار کے اصرار کرنے پروہ بچہ ضائع کروا دیتی ہے اور یہ کام ڈاکٹر فہیم کے ہاتھوں انجام پاتا ہے۔ ڈاکٹر فہیم، رخشندہ کو جنرل بختیار کی بیوی کے طور پر جانتی ہے لیکن اس کی اصلیت سے بھی واقف ہے ۔ڈاکٹر فہیم کے کلینک پر رخشندہ کی ملاقات ایک ایسی لڑکی سے ہوتی ہے جس کا حمل اس کے ماموں کی زیادتی کا نتیجہ تھا۔ رخشندہ جنرل بختیار کے گھر ہمیشہ جاتی تھی اور وہ اسے اپنی بیوی کے سامنے بہن جی کہہ کر پکارتے تھے۔ان کے بیٹے جمال سے بھی رخشندہ کے تعلقات تھے۔لیکن بختیار کی بیوی،اپنے شوہر اور بیٹے سے رخشندہ کے تعلق کی نوعیت کو جاننے کے باوجود کچھ نہیں کہتی تھی۔اس کے بعدکاشف نامی ایک شخص اپنی زندگی کی کہانی دوسرے شخص کو سناتا ہے۔ کاشف لاہور کے کسی تھانے میں ایس ایچ او کے عہدے پر فائز تھا لیکن ملک کی گندی سیاست کے باعث وہ استعفیٰ دے کر کینڈا چلا جاتا ہے۔یہاں پرشہر لازوال کا حصہ اختتام کو پہنچ جاتا ہے۔
’آباد ویرانے‘میں عہد بہ عہد واقعات کو تشکیل دیا گیا ہے۔جن میں ڈاکٹر سرفراز مغل ان کے دونوں بچے راحیلہ اور شوکت کی زندگی میں آنے والے رموزو نکات کا بیان ملتا ہے۔ڈاکٹر سرفراز اپنے خاندان کے ساتھ گورداسپور (امرتسر )سے کانگڑہ ویلی میں سکونت اختیار کر لیتے ہیں۔جہاں پر مسلمانوں کی تعداد بہت کم ہے۔اس اعتبار سے راحیلہ اور شوکت کی دوستی، اوما، روی، ببو اور سریندر سے ہو جاتی ہے۔سرفراز کے والد ابراہیم مغل اس بات کا نوحہ کرتے ہیں کہ بچے اپنی مسلم تہذیب و ثقافت کو بھلا بیٹھیں گے۔جبکہ ان کا بیٹا اور بہو اس بات کی پرواہ نہیں کرتے۔اس حصہ کے کئی عہد ان کے بچپن سے لے کر جوانی تک کے واقعات پر مشتمل ہیں۔ جن میں جزئیات نگاری سے سب سے زیادہ کام لیا گیا ہے۔ شوکت مغل پڑھائی کی غرض سے لاہور چلا جاتا ہے،راحیلہ کی شادی شاہد سے طے ہوجاتی ہے اور شادی کے دن ہی بلوائی ڈاکٹر سرفراز کے گھرپر حملہ کر دیتے ہیں۔گھر کے سب لوگ مارے جاتے ہیں اور راحیلہ کو جنسی تشدد کا نشانہ بنا یا جاتا ہے۔ہندوستان تقسیم ہو جاتا ہے۔یہاں سے کہانی ایک نیا موڑ لیتی ہے او زمانی سطح پر واقعات کو تقسیم سے اڑتالیس برس بعد رونماہوتے ہوئے دکھایا جاتا ہے جس میں شوکت مغل اپنے بیوی بچوں کے ساتھ لاہور میں مقیم ہے۔اس کے بعد چند غیرضروری واقعات کا بیان ملتا ہے جو مرکزی قصہ کو آگے بڑھانے میں معاون ثابت نہیں ہوتے۔ بعدازاں راحیلہ کا قصہ شروع ہوتا ہے جو قافلہ کے ساتھ پاکستان پہنچا دی گئی تھی۔ناساز طبیعت کے باعث ڈاکٹر قیصر جو والٹن کیمپ میں مہاجرین کے علاج معالجہ کے کام پر مامور تھاراحیلہ کو اپنے گھر لے جاتا ہے۔ وہاں اس کے علاج سے معلوم ہوتا ہے کہ راحیلہ حاملہ ہے۔ڈاکٹر قیصر انسانیت کے سبب اس سے نکاح کر لیتا ہے اور یہ نکاح محبت میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ قیصر، راحیلہ سے عمر میں پندرہ سال بڑا ہوتا ہے۔ ایک دن شاہد راحیلہ کو تلاش کرتے ہوئے قیصر کے گھر پہنچ جاتا ہے اور اپنے ساتھ چلنے کے لیے کہتا ہے لیکن راحیلہ کے انکار کرنے پر وہ اسے برا بھلا کہتا ہے اور الزام تراشی کرتا ہے۔مگر راحیلہ اپنے محسن کو چھوڑنے پر تیار نہیں ہوتی۔ قیصر کا دوست نجم راحیلہ پر غلط نظر رکھتا ہے جس کے سبب قیصر اور نجم کے مابین دوریاں حائل ہوجاتی ہیں۔ مہلک مرض کی وجہ سے قیصر کی موت ہو جاتی ہے۔وہ اپنا تمام اثاثہ راحیلہ اور اس کے بچہ کے نام کرجاتا ہے۔اورراحیلہ ارسلان کی پیدائش کے بعد اپنی زندگی اس کے لیے وقف کر دیتی ہے۔اس قصہ پر ناول کا اختتام ہوجاتا ہے۔
ناول میں موضوعات کی پیش کش کونئے انداز سے ترتیب دیا گیا ہے۔بانو قدسیہ نے لاہور کے حالات وہاں کے لوگوں کی بے حسی، بے ضمیری،تباہ و برباد ہوتے ہوئے انسانی تشخص،بے غیرتی کی حدود کو پار کرتے ہوئے انسانی رشتوں کا بیان کیا ہے۔اور ان تمام واقعات کو ایک ہی لڑی میں پرودیا ہے،جبکہ یہ تمام قصے وسیع کینوس کا تقاضا کرتے ہیں۔ناول میں راوی جگہ جگہ اس بات پر افسوس کرتا ہوا نظر آتا ہے کہ پاکستان کا قیام جن بنیادوں پر عمل میں آیا تھااور مذہب کی رسی پکڑ کر مسلم لیگ نے جس انداز سے پاکستان کے حق میں علم بلند کیے تھے وہ تمام مقاصد فوت ہو چکے ہیں۔برائی عام ہو گئی ہے انسانوں نے غلط روش اختیار کر لی ہے۔عام طور پراردو ناول میں عورت کو استحصال زدہ بتایا جاتا ہے اور مرد کو اس کا ذمے دار قرار دیا جاتا ہے۔راوی ایک مقام پر مرد کے متعلق بھی مساوی رویہ اختیار کرتے ہوئے لکھتا ہے اور پاکستانی معاشرہ کے حالات پر نوحہ خواں ہے:
’’عورت اور روپیہ ان دونوں نے مل کر مرد کا خوب استحصال کیا تھااور خود مرد کے استحصال کا نشانہ بنی تھی۔جو معاشرے اپنی عورت سے روپیہ کا سا سلوک کرتے ہیں وہ بالآخر بڑے انتشار سے دوچار ہو جاتے ہیں۔پاکستان میں روپیہ عورت کی طرح پردے دار باحیا ہو گیا تھا۔لاکرز میں بند بیرونی ممالک میں چھپا ہوا،سونے چاندی کی شکل میں مقید روپیہ اپنی موت آپ مر رہاتھااور عورت؟کم از کم اس سوسائٹی کی عورت جس میں رخشندہ رہتی تھی۔یہاں کی عورت بے وقعت تھی۔ سر بازار منہ کھولے، بال بکھرائے پھر رہی تھی اور کوئی اسے مقید کرنے کو تیار نہ تھا۔روپے نے عورت کے ساتھ اپنا روپ بدل لیا تھااور دونوں معجوب تھے۔روپے اور عورت کا کوئی مرکز،کوئی حدود اربعہ،کوئی جہت باقی نہ رہی تھی۔‘‘3؂
ناول سے مقتبس یہ بیان معاشرتی خلفشار اورایک انسان کا دوسرے انسان کے تئیں منفی رویوں کو پیش کرتا ہے۔ رخشندہ کسی ایک مرد کی پناہ میں اپنے لیے سکون تلاش کرتی ہے مگر اسے حاصل نہیں کر پاتی ہے۔ وہ خدا سے انسان اور اس کی مشکلات کو برداشت کرنے کے متعلق گھنٹوں خودکلامی کے عالم میں مبتلا رہتی اور سوال کرتی کہ اس عالم رنگ و بو میں اتنے مصائب کیوں ہیں۔تو نے اپنے بندوں کو انتشار کی کیفیت میں کیوں مبتلا کر رکھا ہے۔لیکن اس بات کا جواب نہیں ملتا اور پھر وہ اپنے وجود کی تسکین کے لیے نکل کھڑی ہوتی۔لاہور میں پھیلتی ہوئی بدامنی، جنسی بے راہ روی،تشدد اور رشتوں کے گھنونے روپ کو پیش کرنے کے لیے پھول ونتی کے کردار کو تشکیل دیا گیا ہے جس کا حمل اس کے ماموں کی زیادتی کا نتیجہ ہے جبکہ پھول ونتی اپنے ماموں زادبھائی سے منسلک ہے جو کویت میں نوکری کرتا ہے۔
پھول ونتی کا اپنے ماموں کے ذریعہ حمل ٹھہر جانا ایک ناقابل برداشت فعل ہے جس سے رشتوں پر سے اعتماد اور بھروسہ ختم ہوتا نظر آرہا ہے۔انسان ہوس زن میں ہر رشتہ سے دست بردار ہو کر اپنی غلط خواہشات کو فروغ دے رہا ہے۔پھول ونتی کی ماں رخشندہ سے کہتی ہیں جو سید خاندان سے تعلق رکھتی ہیں:
’’دفع دور۔۔ لعنت۔پھر اسی ماموں کے پاس بھیج دوں جس کے پاس یہ منہ کالاکروا کے آئی ہے۔
اب سیّدانی پھر رونے لگیں اور دیر تک روتی رہیں...’’میرا سگا بھائی،میرا اپنا سگا بھائی... اس کی اپنی سگی بھانجی... اور... کس بات کا اعتبار کریں بیٹی۔اب تو بتا منیر برداشت کرے گاا س بات کو... یہ پاگل تو کہتی ہے کہ منیر کچھ نہیں کہے گا پر اسے کیا پتہ۔پاگل بیوقوف۔!‘‘4؂
درج بالا اقتباس میں پھول ونتی کا یہ بیان کہ منیر کچھ نہیں کہے گا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اس کے نزدیک اپنے ماموں کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنا ایک معمولی امر ہے اس کی بہ نسبت اپنے بچہ کو ضائع کروانا بڑی بات ہے اس لیے وہ اتنے یقین سے کہتی ہے کہ منیر کی محبت اس پر بھی غالب آجائے گی۔اس کو اپنے پیٹ میں پلنے والے بچہ سے بہت محبت ہے۔اور اسی لیے وہ اسقاط حمل کرانے سے انکار کرتی ہے۔یہاں یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ یہ محض پھول ونتی کا قصور نہیں بلکہ اس معاشرہ کا قصور ہے جس نے انسانی ذہن کو تباہ و برباد کر دیا ہے۔جہاں بڑھتی ہوئی آگاہی اور سائنس و ٹکنولوجی نے ہر فرد کے ذہن کو مقید کرلیا ہے۔صحیح غلط کی تفریق کو پہچاننے سے انسان قاصر ہے۔اور آگے راوی کا یہ بیان کہ’’رخشندہ کو یوں محسوس ہواجیسے زمین اس کے پیروں تلے سےEscalatorکی طرح چلنے لگ پڑی۔‘‘5؂
ظاہر کرتا ہے کہ ایک طوائف کے لیے بھی یہ بات نہایت کریہہ اور ناگوار ہے۔لیکن معاشرہ اس سے کہیں آگے نکل چکا ہے۔جنرل بختیار سے رخشندہ کا تعلق جسم کا تھا لیکن ان کی بیوی کے سامنے رخشندہ،جنرل بختیار کو بھائی جی اور وہ اسے بہن جی پکارتے تھے۔بظاہر اپنے تعلقات کی نوعیت کو پوشیدہ رکھنا ان دونوں کے لیے سود مند تھا لیکن بیگم بختیار اپنے شوہر کی خصلتوں سے واقف تھیں اس کے باوجود وہ ان سے لاتعلقی کا مظاہرہ کرتیں اور انھیں سادہ لوح سمجھتی تھیں۔وہ بھی رخشندہ کو بہن جی کہہ کرپکارتی تھیں۔اور دونوں عورتوں کے درمیان دوستانہ تعلق استوار تھے۔ان دونوں خواتین کا جنرل بختیار کو معصوم سمجھنے کے متعلق راوی کا یہ بیان ملاحظہ ہو:
’’پتہ نہیں کیا بات تھی لیکن اب جب سے رخشندہ جنرل صاحب کی ذہنی،جسمانی اور دینی بہن بن چکی تھی خود اس کا خیال راسخ ہو چکا تھاکہ جنرل صاحب کی ذاتی زندگی بالکل بے داغ ہے۔اس کا اور بیگم بختیار کا ایمان عجب تھا۔
غالباََ انسان وہی بات جانتا ہے جسے ماننے پر اس کا جی مائل ہو۔اوائل عشق میں کیسا یقین ہوتا ہے کہ اگر عاشق نے محبوب کونہ دیکھا تو غالباََ عاشق خودکشی کر لے گا۔اگر معلوم بھی ہو جائے کہ عاشق ہر جائی بے وفا ہے تو بھی دل وہی کچھ مانتا رہتا ہے جو اس کا دل چاہتا ہے اور عشق کی پینگ نصف النہار ہوتی رہتی ہے۔اعتبار کے معاملے عجیب ہیں۔بیگم بختیار بھی غالباََ بہت کچھ جانتی تھیں لیکن وہ باقاعدہ جنرل بختیار کو قریباََ پچیس برس سے بھولا ہی سمجھے جارہی تھیں۔‘‘6؂
ناول سے مقتبس یہ بیان جس میں ہمہ داں راوی کا یہ کہنا کہ پتہ نہیں کیا بات تھی اظہار و بیان کی سطح پرمابعد جدید رویہ کو پیش کرتا ہے۔اور لاعلمی کا اظہار کر کے کچھ باتوں کو غیاب میں رکھنا چاہتا ہے تاکہ قاری خود اس کی وجہ جاننے کی جستجو کرے۔اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یا تو عورت بیوقوف ہے یا مجبوریا پھر اس نے مفاہمت کرلی ہے تاکہ زندگی میں آنے والی پیچیدگیاں اس کا سکون تباہ وبرباد نہ کریں۔یہاں تک کہ بیگم بختیار رخشندہ کو اپنے بیٹے جمال کی تحویل میں دیکھ کر بھی غم و غصہ کا اظہار نہیں کرتیں۔ اس کے علاوہ رخشندہ ایک ستر سال کے بوڑھے نواب کی بھی منظور نظر تھی۔جو اس پر آسائشوں کی بارش کرتے تھے۔اور بدلے میں وہ اپنا جسم اس کے حوالے کر دیتی تھی۔رخشندہ کا کردار معاشرہ کے ناسور کی حیثیت رکھتا ہے جس کو کسی پل چین و سکون میسر نہیں وہ اپنی ذات کی خلیج کو پر کرنے کے لیے ہمہ وقت ایک نئے مرد کی تلاش میں سرگرداں رہتی ہے۔ اپنے ساتھ پیش آنے والے حادثات ومشکلات اس کو خدا سے سوال کرنے پر اکساتے اور پھر وہ انھیں خدا کا فیصلہ سمجھ کر قانع بن جاتی،راوی نے رخشندہ کی سوچ کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
’’رخشندہ اس بات کو ہر وقت سوچتی رہتی کہ ساری توفیق تو اوپر والے کی دین ہے پھر انسان اپنی تجویز،فیصلے اور دعاؤں کو کیسے درست سمجھے۔یہی تقدیر تھی اور اٹل تھی۔‘‘7؂
اس کے بعد راوی کا یہ بیان کہ:
’’تقدیر کے اٹل فیصلے کے تحت پہلے وہ جنرل صاحب کے تصرف میں چلی گئی۔ جنرل صاحب کو وہ کسی قیمت پر چھوڑنا نہ چاہتی تھی۔یہ اس کی پہلی محبت تھی۔اس نے جنرل صاحب کی بڑی منتیں کیں کہ بچہ ضائع نہیں کرنا چاہتی لیکن جنرل بختیار نہ مانے۔‘‘8؂
درج بالا اقتباس میں راوی کا یہ بیان کہ تقدیر کے فیصلہ کے مطابق رخشندہ کے ساتھ یہ تمام واقعات پیش آئے۔قصہ کے منطقی ربط اور سبب و نتیجہ کے بنیادی مفروضات کی نوعیت کو تبدیل کردیتا ہے اورظاہر ہوتا ہے کہ قصہ کا آغاز،وسط اور انجام تقدیر کے فیصلہ سے تشکیل پاتا ہے۔اس میں علت و معلول کا کوئی تعلق نہیں ہے۔شہر لازوال کا حصہ اس صفحہ پرا ختتام کو پہنچ جاتا ہے،جہاں رخشندہ اس بات کو بھی سوچتی ہے کہ جس طرح اس شہر میں بے پناہ بدکار لوگ موجود وہیں نیک لوگوں کی وجہ سے یہ شہر ابھی تک باقی ہے اور ہمیشہ باقی رہے گا۔ راوی نے اس حصہ کے واقعات کو اس انداز سے وضع کیا ہے کہ پلاٹ میں پیچیدگی پیدا ہوگئی ہے۔واقعہ کو نقطہ عروج سے شروع کیا گیا ہے اور آخر تک واقعات نقطہ عروج پر ہی گردش کرتے رہتے ہیں۔بین السطور میں راوی نے رخشندہ کی زندگی کے متعلق چند باتوں کا ذکر کیا ہے لیکن اس کو قصہ کا وسط نہیں کہا جا سکتا۔بلکہ اختتامی سطور میں راوی،واقعہ کا سبب بیان کرتے ہوئے تمام صورت حال کو تقدیر کے فیصلہ سے منسلک کر دیتا ہے۔ناول میں واقعات کی زمانی ترتیب بالکل مختلف ہے۔شہر لازوال کا حصہ زمانے کے لحاظ سے پاکستان کے قیام کے چالیس سال بعد کا زمانہ ہے۔جہاں تقسیم کے بعد رخشندہ کی طوائف ماں اس کو والٹن کیمپ سے ایک نیک لڑکی بنانے کی غرض سے لے گئی تھی۔لیکن اس کا نصیب ہر مرد کے بستر کی زینت بننا تھا۔مابعد جدید صورت حال کے پیش نظر واقعات کی ترتیب میں یہ ایک انوکھا تجربہ ہے جس میں یہ تمام کردار جنھیں بانوقدسیہ نے مرکزی کرداروں کی فہرست میں شامل کیا ہے اس حصہ کے اختتام کے ساتھ ہی ناول کے دوسرے واقعات سے اپنا رشتہ منقطع کر لیتے ہیں۔اور’آباد ویرانے ‘والے حصہ سے ان کا کوئی بھی تعلق نظر نہیں آتا۔ لہٰذا اس طرز کو مابعد جدید رویہ کا حامل قرار دیا جا سکتا ہے۔اس کے بعد’کاشف کی کہانی‘ نام کے عنوان سے واقعات تشکیل دیے گئے ہیں جو بالکل غیر ضروری اور اضافی حیثیت رکھتے ہیں۔مصنفہ اگر اس حصہ کو بیان نہ بھی کرتیں تو ناول کے واقعات پر کوئی اثر مرتب نہیں ہوتا۔
اس کے بعد ’آباد ویرانے‘والے حصہ کا آغاز ہوتا ہے۔جس میں سات عہد کے تحت واقعات تشکیل دیے گئے ہیں۔ڈاکٹر سرفراز مغل کے والد ابراہیم مغل مسلم تہذیب کے پروردہ ہیں۔پہاڑ پر سکونت اختیار کرنے کے سلسلے میں ان کو اس بات کا خوف لاحق ہوجاتا ہے کہ وہاں مسلمان آبادی کی کمی کے باعث ساجدہ بہو، شوکت اور راحیلہ اسلامی تہذیب کے مطابق زندگی نہیں گذار پائیں گے۔اس بات کی شکایت وہ اپنے بیٹے سے کئی مرتبہ کرتے ہیں۔جس پر سرفراز جھنجھلا کر کہتا ہے:
’’آپ کو تو بس مسلمانوں کی پڑی رہتی ہے۔ہوں یا نہ ہوں، ہمیں اس سے کیا مطلب؟
بڑے ابا اس بیان پر بہت حیران ہوئے۔پہلے انھوں نے سرفراز کو دو تین مرتبہ یوں دیکھا جیسے پہلی بار دیکھ رہے ہوں۔ پھر کڑک کر بولے...’’کیا مطلب؟ہر مسلمان کو دوسرے مسلمان کے ساتھ پیدائش سے لے کر لحد تک مطلب ہوتا ہے۔جو وہاں عیدگاہ نہ ہوئی تو عید پڑھنے کہاں جائیں گے ؟جو وہاں کوئی کلمہ گو ہی نہ ہوتو ہمارا بھائی چارہ کس سے ہوگا ؟ راحیلہ،شوکت کس سے کھیلیں گے،تمہاری بیوی کا کیا بنے گا؟‘‘9؂
درج بالا بیان میں ابراہیم مغل کا اپنے مذہب کے تئیں تشویش ناک حد تک پریشان رہنا اس بات کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ وہ مسلم تہذیب و ثقافت سے اپنے خاندان کو جوڑے رکھنا چاہتے ہیں۔ دوسرے مذہب کے لوگوں سے تعلقات استوار کرنے کوبہتر نہیں سمجھتے۔ان کے نزدیک ایسا کرنے سے مسلمان اپنے مذہبی اور تہذیبی سرمایہ سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔ابراہیم مغل کے یہ تاثرات ناول کے واقعات میں گاہے گاہے دیکھنے کو ملتے ہیں۔لیکن سرفراز مغل وقت اور حالات کے تقاضوں کو سمجھتا ہے اس لیے مشترکہ تہذیب کو اہمیت دیتے ہوئے ہندوؤں سے دوستی اور ان کے ساتھ میل جول کو ترجیح دیتا ہے۔اپنے دونوں بچوں شوکت اور راحیلہ پر بھی کسی قسم کی پابندی نہیں لگاتا۔لہٰذا ان دونوں کی دوستی اوما،ببو اور سریندر وغیرہ سے ہو جاتی ہے۔اور ان کا بچپن ایک عام سطح پر ایک دوسرے کے ساتھ اٹکھیلیاں کرتے ہوئے گذرنے لگتا ہے۔یہ سب ایک دوسرے کے گھر بھی جاتے لیکن ایک خاص قسم کی مذہبی حدبندیوں کو پار نہیں کرتے۔اوما کی تائی بھی اس بات کا خیال رکھتیں اور شوکت اور راحیلہ کو کبھی اپنے باورچی خانہ میں نہیں آنے دیتیں کیونکہ وہ ماس کھاتے تھے۔یہ سب بچے ایک ہی اسکول میں پڑھتے تھے۔ایک دن یہ سب ایک گروہ کی شکل میں مندر کی زیارت کرنے جاتے ہیں لیکن راحیلہ کو مسلمان ہونے کی بنا پر مندر میں داخل ہونے سے روک دیا جاتا ہے۔اسکول میں منعقد ہونے والے ڈرامہ میں راحیلہ کو دمینتی کا کردار ادا کرنا تھا جس کے لیے وہ سرسوتی بہن سے ساڑھی مانگ کر لے آتی ہے اور اسے پہن کر ماں اور دادا ابا کے سامنے آجاتی ہے۔ابراہیم مغل اس کو ساڑھی میں ملبوس دیکھ کر شدید غصہ کا اظہار کرتے ہیں۔اور کہتے ہیں:
’’ اس کا حلیہ دیکھ لو ساجدہ بی بی...ماتھے پر یہ بندی...تن پر یہ ساڑھی...تمھاری آزادی نے یہ دن دکھائے...کب سے کہہ رہا ہوں اسے اتنی آزادی نہ دو...نہ دو۔آج ماتھے پر تلک لگایا ہے کل کو دیے جلا کر مندر جانے لگی تو میل جول ہی ساری چیز ہے۔جو آدمی چوروں سے ملتا ہے،آہستہ آہستہ چوری اس کے نزدیک برا فعل نہیں رہتا...فاحشہ عورتوں سے میل جول حیا ختم کردیتا ہے...‘‘10؂
مزید کہتے ہیں:
’’ہر لباس کی تاریخ ہوتی ہے، جغرافیہ ہوتا ہے۔لباس کوئی ایک دن میں ساخت نہیں ہوتے۔ہر وہ لوگ جو ایک سا پہناوا پہنتے ہیں،ایک گروہ سمجھے جاتے ہیں۔لباس کا لوگوں کے مذہب،ان کے رہن سہن،ان کی صدیوں کی سوچ کے ساتھ گہرا تعلق ہوتا ہے ساجدہ بہو... صدیوں کسی خاص قسم کا لباس ارتقا کی قینچی سہتا ہے تو پھر ایک خاص شکل اختیار کرتا ہے..... لباس شناخت ہے کسی خاص قبیلے کا،گروہ،جماعت،ملت کی...جو لوگ آسانی سے پہناوا بدلتے ہیں،وہ آسانی سے اپنی شناخت بھی بھول جاتے ہیں۔‘‘11؂
درج بالا اقتباس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابراہیم مغل کا کردار ایک مضبوط کردار ہے۔جو معاشرہ میں مٹتی ہوئی اسلامی ثقافت کا نوحہ کرتا ہوا نظر آتا ہے۔وہ کسی بھی حالت میں اپنی تہذیب اور قدیم روایات سے مفاہمت کرنے پر تیار نہیں ہے۔لیکن مسلمان اپنی تہذیب اور مذہب سے لاتعلقی کے سبب در در ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہے۔لبرلزم نے اسے کئی خانوں میں تقسیم کردیا جس کے نتیجہ میں وہ اپنی اصل شناخت سے بے بہرہ ہو چکا ہے۔ابراہیم مغل کے اس مزاج کی وجہ سے کوئی بھی ان کے ساتھ بیٹھنا پسند نہیں کرتا۔ان کی باتیں سب کو اکتاہٹ کا احساس دلاتیں۔شوکت مغل نے سماجی ضروریات کے پیش نظربقول مصنفہ’’کاسمو پالٹن قسم کے رویہ اختیار کر لیے تھے،‘‘وہ، اوما کے گھر جا کر انھیں کے لب و لہجہ میں گفتگو کرتا اور دادا ابراہیم مغل کے سامنے ان کے مزاج کے مطابق باتیں کرتا۔بچپن سے جوانی میں قدم رکھتے یہ کردار وقت کے سفر میں ایک دوسرے سے الگ ہو جاتے ہیں یہاں پر راوی کے بیان کا تسلسل ٹوٹ جاتا ہے اور وہ راحیلہ اور شاہد کے باہمی تعلق کی نوعیت،اوما، شوکت اور راحیلہ کے لاہور کالج میں داخلہ کا بیان کرنے لگتا ہے۔ڈاکٹر سرفراز کا خاندان گورداسپور واپس لوٹ آتا ہے۔راحیلہ کی ہوسٹل میں گزاری ہوئی زندگی وہاں کے واقعات کا بیان،ملکی اور سیاسی سطح پر تبادلہ خیال کئی صفحات پر مشتمل ہے جس میں مصنفہ نے جزئیات نگاری سے کام لیا ہے۔
بانو قدسیہ نے اس ناول کے واقعات کو جن بنیادوں پر تشکیل دیا ہے اس کا ایک اہم جز مسلمانوں کا اپنے مذہب،اپنے کلچر اور جدید دور کے تقاضوں کے مابین رسہ کشی ہے۔جس کے سبب مسلم قوم کے مابین عدم اتحاد نے اپنی جڑیں مضبوط کرلی ہیں۔اختلافات اور تفریقات کے سایے میں پروان چڑھنے والی یہ قوم اپنی بقا اور راہ نجات کے تمام راستے بذات خود مسدود کر چکی ہے۔راحیلہ کے منگیتر شاہد کے گھر میں بھی کچھ اسی قسم کے خیالات پروان چڑھ رہے تھے نئی نسل قدیم رسوم و رواج سے بغاوت پر آمادہ تھی۔یہی حال پوری مسلم قوم کا تھا۔جو خود کو کسی ایک پلیٹ فارم پرجمع کرنے سے قاصر تھی۔راوی کے بیان کے مطابق یہ تقسیم ہند اور قیام پاکستان کا زمانہ تھا۔جہاں مسلمان قوم انتشار کا شکار تھی۔اقتباس اس طرح ہے:
’’ہندوستان کے مسلمانوں کی اس عہد میں عجیب حالت تھی۔ذہین اور جی دار ہونے کی وجہ سے وہ انفرادیت پسند تھے اور مغلیہ سلطنت گنوا بیٹھنے کے باعث ایک بار پھر ملت، قوم، اتحاد، یکجہتی کے خواب دیکھنے پر مجبور تھے۔مسلمانوں کی گرم جوشی، تحریکوں میں ڈھلتی ضرور تھی لیکن تحریکیں انفرادی سوچ اور باہمی اختلافات کی وجہ سے وہ استحکام نہیں پکڑ سکتی تھیں جن کے باعث بر صغیر ہندو پاکستان کے مسلمان ایک سمت میں چل سکتے۔اسی لیے مسلمان بہت سے گروہوں میں بٹے ہوئے تھے۔کانگریسی مسلمان، نیشنلسٹ مسلمان، حکومت کے طرف دار مسلمان،انگریز حکومت کے خلاف مسلمان، نہرو رپورٹ کے حامی، نہرو رپورٹ کے مخالف مسلمان،خلافت تحریک کے عاشق،اسی تحریک سے بیزار،علما کے عاشقین اور اہل دین کے مخالف،مذہب کو واحد رستہ نجات سمجھنے والے اور دین کو ترقی کے راستے کی سب سے بڑی دیوار ماننے والے،مغرب زدہ اور مشرق پر جان چھڑکنے والے کلچر کو قومیت کی اساس گرداننے والے مسلمان اور ایسے مسلمان جو اسلامی کلچر کے ہی سرے سے قائل نہ تھے۔ لبرل مسلمان اور کٹر ٹس سے مس نہ ہونے والے مسلمان.....‘‘12؂
درج بالا اقتباس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ مسلمانوں میں پھیلا ہوا خلفشاران کی تباہی کا سبب بنتا ہے۔ڈاکٹر سرفراز مغل بھی اس کے متعلق سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کیونکہ ملکی حالات روز بہ روز بگڑتے جارہے تھے،ہندو ؤں سے دوستی ہونے کے باوجود ہر چیز علیحدہ تھی۔ مسلمانوں کے لیے راہیں تنگ ہوتی جارہی تھیں۔ لہٰذا شاہد اور راحیلہ کے مہندی والے دن فساد رونما ہو جاتا ہے۔اورتقسیم کا سانحہ پیش آتا ہے۔اس کے بعد کہانی ایک نیا موڑ لیتی اور زمانہ تقسیم سے پینتالیس برس آگے چلا جاتا ہے جس میں شوکت مغل اپنی بیوی کے ساتھ لاہور میں مقیم تھا، اس کے بچے مغربی ممالک میں سکونت اختیار کر چکے تھے۔یہاں پر شوکت مغل بحیثیت واحد متکلم راوی، صورت حال کو بیان کرتا ہے اور اپنی پھوپھی کے مکان کو تلاش کرتا ہوا ان کے گھر پہنچ جاتا ہے۔یہ واقعہ غیر ضروری معلوم ہوتا ہے۔اور اس سے مرکزی قصہ کو آگے بڑھانے میں کوئی مدد نہیں ملتی۔بعد ازاں شوکت مغل کی طرز زندگی اس کارہن سہن اور ایک مسلسل ملنے والی کامیابیوں کا بیان کیا گیا ہے۔تقسیم کے بعد شوکت اپنے گھر والوں کو تلاش نہیں کرتا ہے حالانکہ راحیلہ کو چھوڑ کر تمام لوگ موقع واردات پر ہی قتل کر دئے گئے تھے۔راوی کا شوکت کو اپنے گھر والوں کے تئیں متفکر و متلاشی نہ دکھانا اس کی منطقیت پر ضرب لگاتا ہے۔شوکت اکثر داخلی اضمحلال کا شکار رہتا ہے۔انجانی بے قراری اور خوف اس کو اکثر اپنے احاطہ میں لیے رکھتے۔جس کی صحیح وجہ وہ جاننے سے قاصر تھا۔وہ تبدیلی کا خواہاں اپنی کامیابی کے سفر پر بہت دور نکل جاتا ہے۔لیکن اپنے اندر کی بے چینی اور اضطراب کو کم نہیں کر پاتا۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انسان اپنوں سے بچھڑ کر ترقی کی راہ پر گامزن ہو بھی جائے تو ماضی کے آسیب اور یادیں اس کا پیچھا نہیں چھوڑتیں وہ مادی آسائشیں تو حاصل کر لیتا ہے لیکن اپنی ذات کے انخلا کو پر نہیں کر پاتا۔یہی کیفیت شوکت مغل کی بھی تھی۔
ان تمام واقعات کے بعد راوی نے پانچویں عہد میں جزوی قصہ کا بیان کیا ہے جس کا اس حصہ کے واقعات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اس عہد میں بہت سارے کردار خلق کیے گئے ہیں انھیں میں سے ایک کردار راحیلہ نام کی ایک ایسی لڑکی کا ہے جو ملک صاحب کے گھر ملازمہ کے طور پر کام کرتی ہے اور تقسیم کے وقت اپنے گھر والوں سے بچھڑ گئی ہے۔اس لڑکی کے متعلق راوی کا بیان چند لمحوں کے لیے قاری کو اس احتمال و اشکال میں ڈال دیتا ہے کہ شاید یہی شوکت مغل کی بہن راحیلہ ہے۔لیکن چھٹے عہد میں زمانہ قیام پاکستان کی جانب لوٹتا ہے۔اور اس عہد کی کڑی اس حصہ سے جڑ جاتی ہے جس شام راحیلہ کے گھر بلوائیوں نے حملہ کردیا تھا۔اور تقسیم ہند کا سانحہ پیش آیا تھا۔راحیلہ قافلے کے ساتھ پاکستان پہنچا دی جاتی ہے۔مگر اس راحیلہ کا تعلق ملازمہ راحیلہ سے نہیں تھا۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ راوی نے قصہ میں ایک انوکھا Twistلانے کی غرض سے اس جزوی واقعہ کو تشکیل دیا ہے اور قاری کو اس شبہ میں ڈالنا چاہا ہے کہ یہی وہ راحیلہ ہے لیکن بات بنتی ہوئی نہ دیکھ کر راوی نے اپنا رخ موڑ لیا اور اس قصہ کو یہیں چھوڑ کر، دوسرے عہد میں اصل کردارراحیلہ کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کو بیان کرنے لگا۔جس سے ناول کی واقعاتی سطح مجروح ہوتی ہوئی نظر آتی ہے۔
والٹن کیمپ میں راحیلہ ذہنی اور جسمانی مریض ہو جاتی ہے۔اپنوں سے بچھڑنے کا غم اس کی جان کو روگ کی طرح لگ جاتا ہے۔وہ بخار کے عالم میں شاہد کو پکارتی ہے لیکن شاہد بھی اس سے دور جا چکا ہوتا ہے۔ ڈاکٹر قیصر راحیلہ کی حالت کو دیکھ کراسے اپنے ساتھ گھر لے جاتا ہے۔تب وہاں علاج معالجہ سے اس کے حمل ٹھہرنے کا پتہ چلتا ہے۔ڈاکٹر قیصر اس سے نکاح کر لیتا ہے۔بانو قدسیہ نے اس ناول کی ابتدا میں جن نیک لوگوں کا ذکر کیا ہے ان میں سے ایک اہم کردار ڈاکٹر قیصر کی شکل میں سامنے آتا ہے جو راحیلہ کو اپنی شریک حیات بنا کر اور اس کے بچے کواپنا نام دے کر تمام جائداد ان دونوں کے نام کر دیتا ہے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لاہور کی زمین پر قیصر جیسے اشخاص بھی موجود ہیں۔جن کی وجہ سے یہ زمین قائم و دائم ہے۔اس حصہ میں قیصر کے دوست نجم سے متعلق کچھ ذیلی واقعات بھی بیان کیے گئے ہیں جو محض ناول کی طوالت میں اضافہ کرتے ہیں۔قیصر کو لاشعوری طور پر اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ وہ راحیلہ کی محبت میں گرفتار ہو چکا ہے۔بانوقدسیہ نے محبت کے اس بیان کو نہایت خوبصورت طرز میں قلمبند کیا ہے:
’’یہ محبت معاشرے کی حدود کا احترام کرے،یا مذہب کی حدود سے نکل جائے... جائز ہو کہ ناجائز...سودمند ہو کہ تخریب کی ضامن...مرد پر محبت سردیوں کی ہلکی بارش کی طرح پھوار بن کر گرتی ہے جس میں وہ اندر ہی اندر لرزنے لگتا ہے۔محبت میں مبتلا مرد عموماً ایسا لگتا ہے جیسے کسی اجنبی گھر کے بڑے پھاٹک پر معذرت خواہ کھڑا ہو... اپنے آنے کا جواز پیش کرنا چاہے پر چپ رہے... اندر داخل ہونا چاہے پر ہونہ سکے۔محبت کا نوگرفتار کبھی اپنا راز چھپانے کو بہت باتیں کرتا ہے۔کبھی چپ کا تالا یوں پڑ جاتا ہے جیسے وہ اندر کوئی پہیلی سلجھا رہا ہے... وہ زیادہ عیاں بھی ہونا نہیں چاہتا اور ہوئے بغیر رہ بھی نہیں سکتا۔ معجوب،مضطرب،انکار کے تصور سے خوفزدہ مرد میں اندر ہی اندر ایک انفعالی کیفیت پیدا ہو جاتی جو ڈھانپے ہوئے کو برہنہ اور برہنہ کو چھپانے پر اکساتی ہے۔‘‘13؂
درج بالا بیان سے واضح ہوتا ہے کہ قیصر بھی کچھ اس انداز سے راحیلہ کی محبت میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ لیکن راحیلہ ماضی کے خوف اورداخلی انتشار کے باعث اپنا وجود قیصر کو سونپ نہیں پاتی ہے۔ان کے علاوہ بہت سے چھوٹے چھوٹے کردرا تخلیق کیے گئے ہیں جن کی ایک بڑی کمی یہ ہے کہ یہ کردار مرکزی کرداروں کے واقعات کو آگے بڑھانے میں معاون ثابت نہیں ہوتے اور نہ ان کی زندگی میں ضمنی حیثیت رکھتے ہیں بلکہ ان کرداروں کا ذکر الگ سے ایک واقعہ معلوم ہوتا ہے۔ جس کو راوی نہ بھی بیان کرتا توناول کے تشکیلی عناصر پر کوئی فرق نہیں پڑتا بلکہ ان کی شمولیت سے قصہ اکثر مقامات پر گنجلک اور ژولیدہ بیان ہو گیا ہے۔
شہر لازوال،آبادویرانے کے تمام واقعات میں بکھراؤ نظر آتا ہے لیکن یہ بکھراؤ واقعات کو مبہم نہیں بناتا بلکہ پیچیدہ پلاٹ کی تشکیل نے واقعات کو غیر مضبط بنا دیا ہے۔جس کو ترتیب دینا ایک مشکل امر ہے۔راوی کے تشکیلی عناصر پر غور کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ اگر بیان ہمہ داں راوی کے ذریعہ تشکیل پا رہا ہے توعام طور پر راوی کرداروں کے ناموں سے ہی بیانیہ تخلیق کرتاہے لیکن اگر وہ کردار کو چچا،ماموں یا خالہ کے نام سے بیان کرنے لگے تو اس پر قاری کو یہ التباس ہو سکتا ہے کہ شاید یہ کوئی کردارہے جو کہانی سنا رہا ہے ( اس قسم کے راوی کے مسائل مختلف ہیں)۔لیکن راوی سے اس ضمن میں سہو ہو گیا ہے۔مثال کے طور پر ’آبادویرانے‘ کے ابتدائی حصہ میں ہمہ داں راوی یہ بتا رہا ہے کہ ڈاکٹر سرفراز مغل اپنے خاندان کے ساتھ پہاڑوں پر جا رہے ہیں۔وہ ابراہیم مغل کو ’بڑے ابا‘کہہ کر بیان کر رہا ہے جب کہ دوسرے کرداروں کے ناموں سے ہی بیانیہ تخلیق کررہا ہے۔ آگے چل کر ’بڑے ابا،دادا ابا‘ میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور پھر ابراہیم مغل میں۔اس بیان کو راوی کے سہو سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔
ناول کے مجموعی تجزیہ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس ناول کے کئی پہلو مابعد جدید رویوں کی عکاسی کرتے ہیں۔جس میں متن کی بافت،موضوعات کی پیش کش،پلاٹ،کردار اور زمان ومکان کی سطح پر ہونے والے تجربات شامل ہیں۔زبان و بیان کی سطح پر ناول کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مصنفہ کو اظہار کے مختلف طرز پر دسترس حاصل ہے۔پنجابی زبان کا استعمال بھی بخوبی کیا ہے۔لہٰذا بانو قدسیہ نے اس ناول کے واقعات اور اظہار و بیان کی اہم جہات کو پیش کرنے کی بہتر کوشش توکی ہے مگرراجہ گدھ کے مقابلے میں یہ ان کا اہم کارنامہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ 
حواشی:
1۔ ادب کا بدلتا منظرنامہ اردو مابعد جدجدیت پر مکالمہ،گوپی چند نارنگ،اردو اکادمی دہلی،1998،2011، ص72
2۔ مابعد جدیدیت کیا ہے،لیوتارڈ،مترجم۔پروفیسر جلال الحق،مشمولہ رسالہ تنقید،قاضی افضال حسین،شعبہ اردو،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی،علی گڑھ،2006
3۔ شہر لازوال،آباد ویرانے،بانو قدسیہ،سنگ میل پبلی کیشنز لاہور،2012، ص 16
4۔ ایضاً، ص 29 5۔ ایضاً، ص 29 6۔ ایضاً، ص 39
7۔ ایضاً، ص 45 8۔ ایضاً، ص45 9۔ ایضاً، ص 75
10۔ ایضاً، ص143 11۔ ایضاً، ص 143
12۔ ایضاً، ص 286 13۔ ایضاً، ص 461

Safeena Begum
Asst. Professor, Dept of Urdu
Mahatma Gandhi Kashi Vidyapith Varanasi
Varansi - 221002 (UP)
Email: khan.safina5@gmail.com








قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...