18/4/19

کتابوں کا عاشق: اسلم محمود مضمون نگار: ٹی آر رینا



کتابوں کا عاشق: اسلم محمود

ٹی آر رینا
اسلم محمود کا انتقال اِس سال یکم مئی 2016 کو لکھنؤ کے ایک اسپتال میں ہوا۔ بارہ برس قبل انھیں ہارٹ اٹیک ہوا تھا اور پچھلے سال انھیں پیس میکر لگایا گیا تھا۔ 30 مارچ 2016 کو پھر دوسرا اٹیک ہوا۔ انھیں اسپتال میں بھرتی کیا گیا۔ دو تین مرتبہ ان کے قویٰ اور جسمانی اجزا جواب دے چکے، دھیرے دھیرے گردے و پھیپھڑے جواب دے گئے، خود سے اٹھ نہیں سکتے تھے۔ آخر وہ شام آئی اور چار بجے اِن کی روح قفسِ عنصری سے بارگاہِ الٰہی کی طرف پرواز کرگئی۔ اس وقت ان کی عمر 75 برس کی تھی۔ دوسرے دن 2 مئی کو لکھنؤ کے نشاط گنج، پیپرمل قبرستان میں ان کی تدفین عمل میں آئی۔ ان کے والد محترم بھی جنوری 2001 کے آخرمیں اسی سرزمین لکھنؤ میں پیوند خاک ہوئے تھے۔ 
ان کے لواحقین میں ان کی بیگم، بیٹا، بہو اور ان کے بچے شامل ہیں۔ بیٹا اِس وقت دبئی میں کسی بڑی فرم میں کام کرتا ہے۔ اسلم محمود صاحب ریلوے انتظامیہ کے اعلیٰ عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد مکمل طور پر لکھنؤ میں قیام پذیر ہوگئے۔
مہر الٰہی ندیم صاحب نے ایک رات اِس منحوس خبر کی اطلاع فون پر دی۔ دل کو ایک دھچکا سا لگا اور ذہن بری طرح متاثر ہوا۔ اس کی خاص وجہ یہ تھی کہ گذشتہ برس 31 جولائی 2015 کی نصف شب کے بعد بیگم صاحبہ مجھ سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جدا ہوکر سفر آخرت اختیار کرچکی تھیں اور میں ذہنی طور پر پہلے سے ہی بہت پریشان تھا۔
میرے مراسم مرحوم کے ساتھ 2006 سے چلے آرہے تھے۔ 26 فروری 2006 کو برصغیر ہند و پاک کے معروف محقق و مدون رشید حسن خاں صاحب کا انتقال ہوچکا تھا۔ میرے ذہن میں کسی غیبی طاقت نے یہ بات ڈال دی کہ مجھے مرحوم خاں صاحب کے خطوط، جو انھوں نے برصغیر کے مشاہیر ادب کے نام تحریر کیے ہیں انھیں جمع کرکے مرتب کرنا چاہیے۔ اس کارِ خیر کے لیے راقم نے ایک اشتہار ہفت روزہ ’ہماری زبان‘ دہلی کے لیے بھیج دیا۔ وہ ماہ مارچ کے ایک شمارے میں شائع ہوگیا۔ سب سے پہلے ڈاکٹر ممتاز احمد خاں (ریڈر شعبۂ اردو، مظفر پور یونیورسٹی، بہار) اور یعقوب میراں مجتہدی صاحب (مرتب: لغتِ مجتہدی انگریزی اردو، تین جلدوں میں) حیدر آباد نے بہ ذریعہ خط رابطہ قائم کیا۔ اس کے بعد یہ سلسلہ چل نکلا اور اسی سال اسلم محمود صاحب سے بھی بہ ذریعہ فون اور خط سے رابطہ قائم ہوا۔
انھوں نے اپنے نام کے ستاون (57) خطوط کے عکس روانہ کیے، جو میری مرتب کردہ ’رشید حسن خاں کے خطوط‘ کی پہلی جلد کے صفحہ 184 تا 240 پہ محیط ہیں۔ اپنے خطوط کے عکس تو انھوں نے روانہ کیے ہی، اس کے علاوہ انھوں نے ہندستان، پاکستان، شکاگو اور نیویارک کے حضرات کے پتے اور ٹیلی فون نمبر بھی روانہ کیے، ساتھ ہی وہاں کے حضرات سے اِس سلسلے میں خود بھی بات کی اور انھیں خطوط کے عکس بھیجنے کے لیے آمادہ کیا۔ 
شاعری کے مطبوعہ و غیرمطبوعہ مجموعوں کے علاوہ انھو ں نے چند بیاضیں بھی جمع کررکھی تھیں، جن میں دوسری قسم کا کلام شامل تھا۔ دو تین بیاضیں میں نے بہ چشم خود دیکھیں۔ وہ انھیں کمپوز کروا کر چھاپنا چاہتے تھے، مگر ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ انھیں چھاپے گا کون؟
انھوں نے مجھے ’دیوانِ چرکین‘ کا ایک قدیم طبع شدہ نسخہ دکھایا جو تقریباً ڈیڑھ سو برس سے زیادہ پرانا تھا۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ایک گورکھپوری نوجوان اسے مرتب کرکے شائع کرچکا ہے۔ پھر وہ نیا شائع شدہ نسخہ بھی دکھایا۔ میں نے ایک جلدکی خواہش ظاہر کی۔ کہنے لگے ایک ہی جلد میرے پاس ہے۔ آپ تک ضرور پہنچے گی۔ ایسا ہی ہوا وہاں سے آنے کے بعد ایک دن ڈاکیہ ایک پیکٹ دے گیا، کھولا تو اُس میں ’دیوانِ چرکن‘ تھا۔ چرکین کا پورا نام شیخ باقر علی چرکین رودولوی ثم لکھنوی درج ہے۔ مرتب کا نام ابرار الحق شاطر گورکھپوری ہے۔ سالِ اشاعت 2007۔ مطبع: گوتم آفسٹ پریس، قاضی کمپاؤنڈ، اسمٰعیل پور، گورکھپور ہے۔
اس نئے شائع شدہ ’دیوانِ چرکین‘ کے صفحات میں مرتب کی اُس تحریر کو دیکھا جاسکتا ہے جس میں اسلم صاحب کے فراہم کردہ نسخے، دوسری کتابوں اور ان کے ذاتی کتب خانے سے استفادے کا یوں ذکر کیا ہے:
’’میرے ایک قریبی دوست نے میری توجہ کتابوں کے ایک دل دادہ جناب اسلم محمود (جو ریلوے انتظامیہ سے حال ہی میں سبک دوش ہونے کے بعد اندرانگر لکھنؤ میں رہائش پذیر ہیں) کے ایک انوکھے مضمون کی جانب مبذول کرائی۔ یہ مضمون ماہنامہ ’نیا دور‘ لکھنؤ کے اودھ نمبر (حصہ دوم) کے اکتوبر، نومبر 1994 کے شمارے میں شائع ہوا تھا۔ اس میں اسلم محمود صاحب کے مضمون ’اودھ اور اطراف کی چند انوکھی اردو مطبوعات‘ کا میں نے مطالعہ کیا جس میں چرکین کے قدیم مطبوعہ دیوان کا مختصر مگر معتبر ذکر تھا۔
موصوف نے اپنے مضمون میں سولہ نایاب و نادر اردو کتابو ں کا ذکر کیا تھا جس میں ایک ’دیوانِ چرکین‘ کا نسخہ بھی شامل تھا جو 1273ھ/ 1856-57 کا طبع شدہ تھا۔ یہ بھی علم ہوا کہ ساری کتابیں اسلم محمود صاحب کے ذاتی ذخیرۂ کتب کی زینت ہیں اور انھیں ان کی رضامندی سے دیکھا بھی جاسکتا ہے۔ چنانچہ میں نے اپنے ایک عزیز مقیم لکھنؤ کے ذریعے اسلم محمود صاحب کا ٹیلی فون نمبر حاصل کرکے انھیں اپنے ارادے سے مطلع کیا۔ موصوف میرے مقصد کو جان کر بہت خوش ہوئے اور فوراً مجھے ہر طرح کا تعاون دینے کے لیے راضی ہوگئے۔ ساتھ ہی ساتھ انھوں نے مجھے یہ بھی تنبیہ کی کہ اردو والے جب یہ سنیں گے کہ آپ چرکین جیسے ’بے آبرو‘ شاعر پر کام کرنا چاہتے ہیں تو زیادہ تر لوگ آپ کی ہمت پست کریں گے مگر بہتر ہوگا کہ ایسے لوگوں کو نظرانداز کردیا جائے۔ میں نے ان کے گراں قدر مشوروں کو ذہن نشین کرلیا۔ چند ہفتوں بعد اسلم محمود صاحب سے چرکین اور کلامِ چرکین پر مفید مواد حاصل ہوا جس کی وجہ سے میرا کام پایہ تکمیل تک پہنچ کیا۔ (ص 21)۔۔۔ مزید کرم فرماتے ہوئے اسلم محمود صاحب نے ملک کی بہت سی لائبریریو ں کے پتے اِس ہدایت کے ساتھ عنایت کیے کہ میں اُن سے خود رابطہ قائم کرکے چرکین کے دیوان کے مختلف ایڈیشن حاصل کروں...
ہاں اسلم محمود صاحب برابر ٹیلی فون اور خطوط کے ذریعے میری رہنمائی فرماتے رہے اور مناسب ہدایات سے بھی نوازتے رہے۔ نیز میرے کام کی پیش رفت کے بارے میں بھی اکثر و بیشتر دریافت کرتے رہے۔‘‘ (ص 21-22)
اسلم محمود نے اپنے ذخیرۂ کتب سے ’دیوانِ چرکین‘ (مطبوعہ) کا وہ نسخہ شاطر کو مہیا کروایا جس کے مرتب سید مقصود عالم مقصود رضوی پہانوی تھے۔ یہ وہی نسخہ (1273ھ/ 1856-57) ہے جس کا ذکر اوپر کے اقتباس میں آیا ہے۔ شاطر کی تحقیق کے مطابق شاید یہی نسخہ اوّل ہے، ملاحظہ فرمائیں درج ذیل اقتباس:
’’چرکین کے استاد بھائی مقصود تھے کیونکہ دونوں نواب عاشور علی خان بہادر کے شاگر دتھے۔ مقصود نے اپنے استاد بھائی ہونے کا حق یوں ادا کیا کہ چرکین کا کلام اکٹھا کرکے شائع کروایا۔ جس قدر چرکین کے دواوین مجھے اب تک دستیاب ہوئے ہیں اُن میں سب سے زیادہ کلام اِسی مطبوعہ دیوان میں ہے۔ اس سے پہلے کا کوئی نسخہ دستیاب نہیں ہوسکا جتنے بھی بعد کے قلمی یا مطبوعہ نسخے حاصل ہوئے ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سب کے سب اسی مطبوعہ دیوان پر مبنی ہیں۔ قیاس ہے کہ یہ دیوان چرکین کا پہلا ایڈیشن ہے۔ یہ بھی گمان ہے کہ مقصود ایسا ذہین استاد بھائی اگر چرکین کو نہ ملتا تو شاید چرکین کا جو کچھ کلام آج ہم تک پہنچا ہے وہ تلف ہوگیا ہوتا یا گم نامی کے غار میں پڑا ہوتا۔
متذکرہ دیوانِ چرکین حوض اور حاشیے میں بیالیس صفحات پر چھپا ہے جس کی کتابت چیت رام نے کی ہے۔ نسخے پر نہ تو ناشر کا اورنہ مطبع کا نام ہے ہاں مقامِ اشاعت لکھنؤ ضرور درج ہے۔‘‘ (ص 23)
شاطر مزید لکھتے ہیں:
’’اس کا ایک نسخہ خدا بخش اورینٹل لائبریری پٹنہ اور دوسری کاپی اسلم محمود صاحب کے ذخیرۂ کتب، لکھنؤ میں ہے۔ اس میں پرانے املے کا استعمال کیا ہے۔‘‘ (ص 23)
اسلم محمود صاحب کی ہی عنایت سے شاطر صاحب کو ایک اور ’دیوانِ چرکین مطبوعہ‘ جو ان کے دوست نیر مسعود صاحب کے کتب خانہ لکھنؤ میں موجود ہے دیکھنا نصیب ہوا۔ اس کے سرورق پر صرف دیوان چرکین چھپا ہے۔ اس مرتب کا نام، ناشر اور مقامِ اشاعت درج نہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے شاطر کو ایک اور قلمی نسخے کا عکس مہیا کیا جو انھوں نے مسلم بن عقیل صاحب رودولی، ضلع بارہ بنکی سے 20 مئی 2004 کو لکھنؤ میں حاصل کیا تھا۔ عقیل صاحب اپنے کو چرکین کے خاندان سے بتاتے ہیں۔
شاطر نے اسلم محمود صاحب کے کتب خانے میں موجود ایسے نسخے کا ذکر کیا ہے جس کے بغیر ’دیوانِ چرکین‘ مکمل نہیں ہوسکتا تھا۔ شاطر صاحب کی تحریر ملاحظہ فرمائیں:
’’اسلم محمود صاحب کے ذخیرۂ کتب میں سید امیر علی نیاز کا ’دیوانِ نیاز‘ بھی موجود ہے جو مطبع محمدی، دہلی سے 1286ھ یعنی 1869 میں شائع ہوا تھا۔ اس کے آخری پانچ صفحات پر ’چرکین نامہ ‘ شائع ہوا ہے۔ اس میں پندرہ ہزلیں ہیں۔ یوں تو تیرہ ہزلیں وہی ہیں جو 1273ھ کے مطبوعہ نسخے میں بھی موجود ہیں لیکن دو ہزلیں ایسی ہیں جو کسی اور نسخے میں موجود نہیں ہیں۔ یہ دونوں زائد ہزلیں موجودہ متن میں شامل کرلی گئی ہیں۔‘‘ (ص 26)
ان اقتباسات کو پیش کرنے کا ہمارا مقصد یہ ہے کہ جس شاعر کو ’فحش نگار اور بے آبرو‘ کہہ کر نظرانداز کردیا گیا تھا ۔ اس کے کلام کے مطبوعہ اور غیرمطبوعہ نسخوں کواسلم محمود صاحب نے اپنے کتب خانے میں محفوظ کررکھا تھا۔ اگر انھوں نے ایسا نہ کیا ہوتا تو ’دیوانِ چرکین‘ موجودہ دور میں مرتب ہوکر کبھی منظرعام پر نہ آتا۔
باتوں باتوں میں اسلم محمود صاحب نے بتایا کہ ان بیاضوں میں ایک دو رشید حسن خاں صاحب مرحوم کی مع منتشر کلام بھیجی ہوئی ہیں۔
اسلم محمود کے رشید حسن خاں مرحوم سے تعلقات کب سے تھے میں اس بارے میں کچھ نہیں جانتا۔ شاید میں نے ان سے پوچھا یا نہیں، یاد نہیں۔ ہاں مرحوم خاں صاحب کے ستاون خطوط میں پہلا اور آخری خط اسلم محمود کے نام 17 اکتوبر 1992، ٹی سی 8، گائر ہال، دہلی یونیورسٹی دہلی 110007 اور 15 اگست 2004 شاہ جہان پور کا تحریر کردہ ہے۔
خاں صاحب اپنے پہلے مکتوب میں اسلم محمود صاحب کے کتب خانے کا ان الفاظ میں ذکر کرتے ہیں:
’’آپ کے ذخیرے کی فہرست عنوانات دیکھ کر آنکھوں کی روشنی بڑھ سی گئی۔ آفریں ہے آپ کی ہمت پر اور مرحبا کہتا ہوں آپ کی خوش ذوقی اور تنوع پسندی پر۔ اب جب بھی اُدھر کا پھیرا ہوا، اِس ذخیرے کو ضرور اپنی آنکھوں سے دیکھوں گا۔ ہاں ’مطائبات‘ کا ذخیرہ بھی آپ کے پاس ہے اور بہت، اس سے متعلق کئی بار سن چکا ہوں۔ اسے بہ طور خاص دیکھوں گا۔ کلکتے سے ایک انتخابی مجموعہ گلدستۂ نشاط شائع ہوا تھا، نستعلیق ٹائپ میں، اس کے آخر میں ایک مختصر سا حصہ ’ہزلیات‘ کا بھی ہے، کیا وہ آپ کی نظر سے گزرا ہے؟ میرے پاس اس حصے کی نقل ہے۔
شان الحق حقی صاحب سے آپ خوب واقف ہوں گے، وہ دوسرے انداز کی شاعری بھی کرتے ہیں اور بعض اوقات مزے کے شعر کہہ جاتے ہیں۔ کیا ان کا کچھ کلام آپ کے پاس ]ہے[۔ مجھے انھوں نے ایک چھوٹی سی نوٹ بک اپنے ہاتھ سے لکھ کر دی تھی جو ایسے ہی کلام پر مشتمل ہے۔ اگر آپ کے پاس ان کی شاعری کا یہ نمونہ نہ ہو تو میں اُسے بھیج دوں، اِس طرح محفوظ بھی ہوجائے گا۔‘‘ (رشید حسن خاں کے خطوط، ص 184)
اسی بات کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے اسلم صاحب کو لکھتے ہیں:
’’مطلوبہ چیزیں بھیج رہا ہوں۔ گلدستۂ نشاط کی نقل ایک صاحب سے تیار کرائی تھی، تعارفی نوٹ مختصر سا میں نے لکھا تھا، ہزلیات کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اسے اور میر حسن کے واسوختوں کو میں نے محفوظ کرلیا تھا۔ وہ پورا حصہ بھیج رہا ہوں۔ اسے واپس کرنے کی ضرورت نہیں۔
حقی صاحب کی بیاض بھی ملفوف ہے، اسے البتہ واپس کردیجیے گا۔‘‘ (ص 185)
دو سطر اوپر میر حسن کا ذکر آیا ہے جس سے راقم کی بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ ہر دور کے اچھے اچھے شعرا نے ایسا کلام کہا ہے۔ اسلم صاحب نے حقی صاحب کی بیاض کی نقل اتارنے کے بعد اِسے واپس بھیج دیا۔ 14 فروری 1993 کو پیکٹ رشید حسن خاں صاحب کو ملتا ہے۔ 15 فروری 1993 کو وہ پھر اسلم محمود کو لکھتے ہیں:
’’کل پارسل مل گیا، شکر گزار ہوں۔ میری نظر میں اس زمانے میں اعلیٰ درجے کے فحش نگار محشر عنایتی مرحوم تھے، رام پور کے۔ میری رائے میں تو بعض اعتبارات سے وہ رفیع احمد خاں مرحوم سے بھی آگے تھے۔ میں نے ان کا کلام مختلف لوگوں سے سنا ہے، مگر ایسے کسی شخص کو نہیں جانتا جس کے پاس وہ ذخیرہ ہو۔ آپ رام پور میں کسی معتبر شخص سے دریافت کیجیے۔
ایک صاحب نے، جن کا نام اب یاد نہیں، مجھے ایک بار اُن کی ایک غزل سنائی تھی، ’مرصع‘ تھی۔ ایک شعر تو ایسا تھا کہ پورے فارسی ادب میں اُس کا جواب نہیں ملے گا، قدِ محبوب کی ایسی تشبیہ کہیں دیکھی ہی نہیں۔ وہ شعر مجھے یاد ہے:
شاعر ثنائے قامتِ دلدار کے لیے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور اِس کا مقطع تو ایسا استادانہ ہے کہ کسی بھی بڑے استاد کو اس پر رشک آسکتا ہے۔ قافیہ ہے: نظر، منظر۔ اس میں ’محشر‘ کا قافیہ سامنے کا ہے، شاعر نہیں کہے گا تو کوئی دوسرا کہہ دے گا۔ مگر شاعر کیسے کہے، ردیف مانع ہے، مگر مرحوم نے کہا ہے اور اس طرح، مقولۂ غیر بنا کر:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ص 186)
مسئلہ یہاں فحش کلام کا نہیں، دیکھنا یہ ہے کہ کہنے والا کیسی استادانہ مہارت رکھتا ہے۔ بحر و وزن، قافیہ و ردیف کے علاوہ عروضی پابندیوں کا لازمی دھیان رکھا جاتا ہے۔ غزلیہ شاعری کے سبھی لوازمات ایسے شعرا حضرات کے کلام میں ہمیں نظر آتے ہیں۔
موجودہ دور کی اردو دنیا اسلم محمود صاحب سے پوری طرح متعارف نہیں تھی، اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ ریلوے کے محکمے میں اعلیٰ عہدے پر فائز تھے۔ انھوں نے شاید کسی ادبی سمینار یا اجتماع میں حصہ نہیں لیا، نہ ہی کسی نے ان کے ذخیرۂ کتب پر کبھی کوئی مضمون شائع کیا ہو۔ ہاں انفرادی طور پر کتابیں جمع کرنے کا ان کا شوق (جیسا کہ اس سے قبل ذکر آچکا ہے) جنون کی حد تک تھا۔ ان کے شوق کے ایک اور پہلو سے متعلق جو جان کاری میں آپ حضرات کو دینے جارہا ہوں، اسے سن کر آپ انھیں دادِ تحسین دیے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔ ان کے ذخیرۂ کتب میں صرف ’خطاطی‘ پر دو سو پچاس کتابیں موجود ہیں، جو انھوں نے برصغیر ہند وپاک، ایران، عرب اور بیرونی ممالک سے حاصل کی تھیں۔ برصغیر ہند و پاک کے تحقیقی کام کرنے والے جن حضرات کو ان کے کتب خانے کا علم ہوا، انھوں نے ان سے رابطہ قائم کیاا ور انھوں نے ہر طرح سے ان کی مدد کی۔
ایک اصول کی انھوں نے زندگی بھر سختی سے پابندی کی۔ ایک بار جو کتاب ان کے ذخیرے میں شامل ہوگئی وہ اسے نہ تو اپنے سے جدا کرتے تھے او رنہ ہی کسی کو مستعار دیتے تھے۔ وہ اس کا عکس بنوا دیتے یا وہ شخص ان کے کتب خانے میں آکر اس سے استفادہ کرسکتا تھا۔ ہاں، البتہ رشیدحسن خاں صاحب اس سے مستثنیٰ تھے، ان کا بھی یہ اصول تھا کہ جس سے کوئی کتاب منگواتے، کام مکمل ہونے کے فوراً بعد بہ حفاظت کتاب لوٹا دیتے تھے۔
اسلم محمود کی فرمائش پر رشید حسن خاں صاحب نے زٹل نامہ، جعفر زٹلی اور مصطلحاتِ ٹھگی علی اکبر الہ آبادی جیسی کتابیں مرتب کیں۔ اسلم صاحب نے ان نسخوں کے عکس ہی مہیا نہیں کرائے بلکہ ان سے متعلق بہت سا مواد بھی بہم پہنچایا۔ خاں صاحب کے اصرار پر انھوں نے مصطلحات ٹھگی کی ببلوگرافی مرتب کی جو پانچ صفحات پر مشتمل ہے، جن میں چار صفحات انگریزی کتب اور آر ٹیکل اور ایک صفحہ اردو اور فارسی کتب سے متعلق ہے۔ کتاب کے آخر میں یہ صفحہ 245 تا 249 پر محیط ہے۔
پروفیسر نیر مسعود بھی اسلم صاحب سے قبل ’امراؤ جان ادا‘ مرتب کرنے کی فرمائش کرچکے تھے۔ اسلم صاحب نے اس کے چند نسخے بھی بہم پہنچائے تھے، مگر تلاش کے باوجود خاں صاحب کو اِس کی اشاعتِ اول کا نسخہ نہیں مل سکا اور وہ اسے اس کے بغیر مرتب کرنا نہیں چاہتے تھے، لہٰذا یہ کام دھرا کا دھرا رہ گیا۔
مثنوی گلزارِ نسیم، انشائے غالب، مثنویاتِ نواب، مرزا شوق لکھنوی (فریب عشق، بہارِ عشق، زہر عشق)، مثنوی سحرالبیان، کلاسیکی ادب کی فرہنگ اور گنجینہ معنی کا طلسم جیسی اہم کتابیں رشید حسن خاں صاحب نے مرتب کیں، ان سب میں کسی نہ کسی حد تک اسلم صاحب کے مواد اور مشوروں کا دخل رہا ہے۔
22 تا 27 نومبر 2013 کو میں پرنسپل ڈاکٹر جوگ راج (اردو ریسرچ اینڈ ٹریننگ سنٹر سولن، ہماچل پردیش اور لکھنؤ یوپی) کی دعوت پہ لکھنؤ پہنچا۔ وہاں اردو مرکز میں چھ دنوں کے لیے اردو زبان سے متعلق ایک پروگرام کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس میں پروفیسر غضنفر (جامعہ اردو دہلی) جو پہلے یہاں پرنسپل رہ چکے ہیں وہ بھی مع بیگم شامل ہوئے۔ پروفیسر کول جو یہاں جوگ راج صاحب سے پہلے پرنسپل تھے (اب دہلی میں قیام پذیر ہیں) وہ بھی حاضر ہوئے۔ یوپی اردو اکادمی کے مازاختر اور محسن خاں، ڈاکٹر ملکہ خورشید، ڈاکٹر منصور حسن خاں، ڈاکٹر عصمت ملیح آبادی (جوش ملیح آبادی کے بہن کے نواسے)، عمران انوروی، پاٹھک صاحب کے علاوہ شہر کے نامور شعرا اور افسانہ نویس، لکھنؤ ہی میں ایک تبلیغِ اسلام نام کا ادارہ ہے اس کے سربراہ بھی شامل ہوئے۔
دوسرے دن 24 نومبر 2013 کو محفلِ افسانہ منعقد ہوئی۔
شام کے وقت میں ڈاکٹر دینکر کے ساتھ بائیک پر اسلم محمود صاحب کے گھر اندرانگر 885-A پہنچا۔ بل بجائی وہ باہر گیٹ پر آئے۔ مجھے اچانک وہاں دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ مجھے گلے لگایا اور اندر لے آئے ڈرائنگ روم میں۔ حال چال پوچھا، آنے کی وجہ پوچھی۔ تھوڑی دیر کے بعد چائے آگئی، ہم سب نے اکٹھا چائے پی۔ بیٹے اور بہو سے ملوایا۔ سب کے ساتھ تصویریں کھینچی گئیں۔ قریب ڈیڑھ گھنٹے کے بعد ہم واپس ہوئے کیوں کہ ڈاکٹر دینکر مجھے اردو مرکز چھوڑ کر گھر جانے والا تھا۔ یہ ہماری دوسری اور آخری ملاقات تھی۔
بہت سے مضامین میں نومبر 2014 سے پہلے جمع کرچکا تھا۔ بیگم کی اس جہاں سے رخصتی کے بعد میں خاموش سا ہوگیا، گھر میں صرف ایک بچی ہے، چار کی شادیاں ہوچکی ہیں۔ چھ ماہ کے بعد ایک دن سبھی بیٹیاں جمع ہوئیں اور کہا: پاپا ایسا کب تک چلے گا، آپ اپنی توجہ لکھنے پڑھنے کی طرف مبذول کریں، خاموشی آپ کے لیے خطرناک ہے۔
کتابوں کا عاشق ہی نہیں مجنوں (اسلم محمود) اپنی لیلیٰ (لائبریری) کو ابدی زندگی بخش کر یکم مئی 2016 کو اِس جہانِ فانی (کے شہر لکھنؤ) سے رخصت ہوکر 2 مئی 2016 سے لکھنؤ کے نشاط گنج، پیرپل کے شہر خاموشاں میں ابدی نیند سورہا ہے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّاِ الَیْہِ رَاجِعُون!

Dr. T.R. Raina, 
F-237, Lawer Hari Singh Nagar
Rehari Colony, Jammu - 180005 (J&K)
Mob.: 09419828542
E-mail.: trrainaraina@yahoo.com

ماہنامہ اردو دنیا، دسمبر2016





قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

اردو کا خاموش خدمت گزار: احسن سلیم مضمون نگار: شاہ نواز فیاض



اردو کا خاموش خدمت گزار: احسن سلیم
شاہ نواز فیاض
اکیسویں صدی کے دوسرے عشرے کے دوسرے حصے کا ابتدائی سال (2016)اردو کے شیدائیوں کے لیے بہت تکلیف دہ رہا۔ جنوری2016سے اب تک نہ جانے اردو کے کتنے شاعر و ادیب، ناقد و محقق دنیا سے چلے گئے۔ اگر سرسری طور پر نگاہ ڈالیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ پوری بستی اجڑگئی ہے۔ ملک زادہ منظور چلے گئے، انتظار حسین،جوگیندر پال،اسلم فرخی، عابد سہیل، زبیر رضوی، ندافاضلی، اسلوب احمد انصاری، شکیل الرحمن، سیدہ جعفر، احسن سلیم اور اب پیغام آفاقی بھی اپنے آفاقی پیغام کو چھوڑ کر اس دنیا سے چلے گئے۔ ایسا لگتا ہے کہ کوئی آندھی چلی، اور بہت سارے لوگوں کو اپنے ساتھ اڑا لے گئی۔مذکورہ بالا اسما پر غور کیاجائے تواندازہ ہوتا ہے کہ احسن سلیم کو ابھی سے لوگوں نے بھلانا شروع کر دیا ہے۔ البتہ یہ خوش آئین خبر ہے کہ ’اجرا‘کا کوئی خاص شمارہ ان کی خدمات کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ بنیادی طور پر احسن سلیم ایک شاعر تھے، لیکن ادب کے متعلق ان کا جو نظریہ تھا، وہ معروف سہ ماہی رسالہ’اجرا‘ کی ابتدا سے ہوتا ہے۔اس رسالے میں انھوں نے ’ادب برائے تبدیلی ‘ کے متعلق جس بحث کا آغاز کیا تھا، وہ بہت دنوں تک یاد کیا جائے گا۔اس بحث میں کئی بڑے ناموں نے بھی حصہ لیا۔
احسن سلیم(1949تا /25جون2016)کا اصلی نام محمد سلیم قائم خانی تھا۔انھوں نے حیدرآباد سٹی کالج سے گریجویشن کیا اور سندھ یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے پاس کیا۔1973سے بینک میں ملازمت کرنے لگے۔ انھیں بچپن ہی سے کہانیاں سنانے کا شوق تھا۔احسن سلیم نے نثری نظم اور غزل میں طبع آزمائی کی۔اجرا جیسے رسالے کی کامیاب ادارت کی۔ادب سے ان کی محبت بے لوث اور منفعت سے عاری تھی۔وہ نہ صرف ایک ادبی جریدے کے مدیر اور سرپرست تھے، بلکہ کتنے نئے اور تازہ اذہان کے پاسبان اور رفیق تھے۔احسن سلیم سہ ماہی ’اجرا‘سے پہلے’سخن زار‘سے وابستہ تھے۔ادارت کا سلسلہ ملازمت کی سبکدوشی کے بعد شروع ہوا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ ایک محنتی انسان تھے۔اس کا ثبوت انھوں نے سہ ماہی ’اجرا‘ کو سامنے لا کردیا۔یہ سہ ماہی رسالہ کراچی (پاکستان )سے احسن سلیم کی ادارت میں شائع ہوتا تھا۔ دراصل یہ سہ ماہی کتابی سلسلہ تھا۔اس کا پہلا شمارہ جنوری تا مارچ2010میں منظر عام پر آیا۔ غالباً اس کا آخری شمار ہ جولائی تا ستمبر2015میں آیا۔اس اعتبار سے کل تیئس شمارے منظر عام پر آئے۔جب تک احسن سلیم کی صحت ٹھیک تھی، اس وقت تک یہ رسالہ تسلسل کے ساتھ شائع ہوتا رہا۔اجرا کے ابتدائی شماروں کے سر ورق پر لکھا ہوتا تھا:
’’منتخب عالمی اور علاقائی ادب کے ساتھ ساتھ پاکستان، ہندوستان اور دنیا بھر کے منفرد اور مقبول لکھاریوں کے مضامین، کہانیاں، شاعری اور دیگر فن پاروں پر محیط سہ ماہی کتابی سلسلہ۔ ‘‘
اس سے واضح ہوتا ہے کہ احسن سلیم نے اس کام کو بڑے منصوبے کے ساتھ شروع کیا تھا۔یہ ان کی ادب کے تئیں دلچسپی کی انتہا ہے؛ ورنہ بینک میں ملازمت سے سبکدوشی کے بعد، وہ اپنے آپ کو کہیں مصروف کر سکتے تھے، لیکن انھوں نے ادب کی خدمت کو ہی اپنا فریضہ سمجھا۔ دوران ملازمت لوگ انھیں سخن سنج اور سخن فہم کی حیثیت سے ہی جانتے تھے، لیکن انھوں نے اپنا دوسرا رخ سہ ماہی’ اجرا‘ سے شروع کیا۔اگر ان کی ادبی خدمات کا جائزہ لیا جائے تو صرف اورصرف اس رسالے کی وجہ سے ان پر بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے۔اجرا میں ایک کالم’خیابان خیال‘ کے عنوان سے تھا۔اس کالم کے تحت احسن سلیم الگ الگ موضوعات پر اداریہ لکھا کرتے تھے۔اس اداریے سے ان کا تنقیدی رویہ بھی سامنے آیا۔
احسن سلیم اچھے اور معیاری ادب کے دلدادہ تھے۔ وہ ہمیشہ اچھے ادب کی تخلیق پر زور دیتے تھے۔یہ ان کا ادب کے تئیں محتاط رویہ ہی کہا جائے گا، جو انھوں نے اجرا کے تئیسویں شمارہ(جولائی تا ستمبر2015) میں’ادب آزاد ہے!‘کے موضوع پر لکھتے ہوئے کہا تھاکہ:
’’ہمارے مین اسٹریم کے دانشور ایک ایک کر کے اٹھتے جا رہے ہیں۔حسن عسکری اور فیض احمد فیض سے قمر جمیل تک اہم ادبی دانشور اب ہم میں نہیں ہیں... بعض نقاد ایسے بھی ہیں جو تیسرے چوتھے درجے کے شاعروں کی شان میں قصیدے لکھ لکھ کر انھیں فیض اور راشد سے بھی بڑا شاعر بنانے پر تلے بیٹھے ہیں۔
غیر تخلیقی ادب کی حوصلہ افزائی کے رویوں کو ترک کر دینا چاہیے۔بگاڑ اور خرابی کی جڑ یہی’حوصلہ افزائی‘ ہے۔‘‘
(اجرا۔کراچی، پاکستان۔ جولائی تا ستمبر 2015، ص 12) 
احسن سلیم کے درج بالا اقتباس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ادب کے معیار کو باقی رکھنے کے لیے وہ کس قدر محتاط ہیں۔یہ سچ بات ہے کہ ہم ادب کی بات کرتے ہیں، لیکن اس میں مقصدیت اس طرح غالب ہے کہ بسااوقات اس کا اندازہ کرنا بھی مشکل ہے۔بعض نعروں نے ادب کو بہت نقصان پہنچایا؛ جیسے’ادب برائے ادب‘ اور ’ادب برائے زندگی‘۔ذکر بالا اداریے میں احسن سلیم نے اسی آزادی کی طرف اشارہ کیا ہے۔دراصل یہ پورا اداریہ سوسن سون ٹیگ کی اس تقریر سے ماخوذ ہے، جو انھوں نے فرائیڈن اسپریس (Frieden Spries) ایوارڈ کے موقع پر 2003میں کی تھی۔سوسن سون ٹیگ نے اپنی تقریر میں ادب کی اسی آزادی کا مدعا اٹھایا تھا۔اردو قارئین کے سامنے احسن سلیم نے اسے بڑی خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔اسی طرح سے احسن سلیم نے اجرا کے اکیسویں شمارے (جنوری تا مارچ2015) میں ’ادبی و فکری اقدار کی صورت گری‘ کے عنوان سے جو اداریہ لکھا وہ بھی کئی اعتبار سے کافی اہم ہے۔اسی میں انھوں نے اعلان کیا تھا کہ اجرا اور عالمی تحریک ادب کے زیر اہتمام اگست 2015 میں ’ادب برائے تبدیلی‘ کے حوالے سے ایک بین الاقوامی ادبی کانفرنس کا انعقاد کرے گی۔لیکن جن لوگوں نے تعاون کرنے کا وعدہ کیا تھا، وہ بوجوہ پیچھے ہٹ گئے۔اور اس پروگرام کواس سطح پرعملی جامہ نہیں پہنایا جاسکا،جیسا وہ چاہتے تھے، اس کا انھیں بہت ملال بھی تھا۔لیکن اس بحث کو اجرا میں انھوں نے اٹھایا،اور کئی اہم لکھنے والوں (محمد ناصر شمسی، پروفیسر عتیق احمد جیلانی، ریاض تسنیم)نے حصہ لیا؛ اور کئی کئی قسطوں میں اپنی بات قارئین کے سامنے پیش کیں۔
احسن سلیم کے دوسرے اداریے جیسے ’آنسوؤں کا بہتا ہوا دریا‘ (اکتوبر تا دسمبر2014 )،خالی جیب اور خالی ہاتھ، جمہوری طرز احساس اور شکر گزاری کے جذبات (شمارہ18)، باطنی تسکین، کے علاوہ ان کے دوسرے اداریے، اسی طرح سے ادب کے کسی نا کسی مسئلے پر ہوتے تھے۔ان کے اداریے، نہ صرف کسی مسئلے پر لکھے جاتے تھے، بلکہ وہ تاریخی اور علمی اعتبار سے بھی کافی اہم ہوتے تھے کہ انھوں نے اپنے اداریے سے اردو قارئین کو متعصب ذہنوں سے آزادی دلانے کی بھر پور کوشش کی ہے۔ ادب کو تعلقات کی عینک سے نہ دیکھا جائے، بلکہ فن پارے کو فن کی کسوٹی پر پرکھا جائے؛ ممکن ہے کہ نقاد کے سخت جملے سے کسی کو دکھ پہنچے، لیکن ادب کی تعمیر و ترقی میں ایسا کرنا نا گزیر ہے۔قاضی عبد الودود نے تعلقات سے بہت اوپر اٹھ کر اپنے تبصرے لکھے،ان کے تبصرے بلاشبہ سخت ترین ہوتے تھے، لیکن محققین نے احتیاط سے کام لینا شروع کیا۔ضرورت اس بات کی ہے کہ پھر سے کوئی قاضی عبد الودود بنے، بھر سے کوئی احسن سلیم بن کر ’خیابان خیال‘ لکھے۔اس سے ادب میں پختگی ہی آئے گی۔ آنے والی نسلوں کو اگر کچھ دینے کا رادہ ہے تو سخت لہجہ ہونا ہی پڑے گا۔معیاری ادب کی تخلیق پر ہی احسن سلیم نے زور دیاہے،ادب کی بقا کے لیے معیار ہی سب سے موثر ذریعہ ہے۔
احسن سلیم بنیادی طور پر شاعر تھے۔ان کی نظمیں اور غزلیں اور بطور خاص نثری نظمیں ہی ان کے اردو ادب میں تعارف کا ذریعہ بنیں۔نثری نظم کی تحریک جو قمر جمیل، رئیس فروغ، ضمیر علی اور دیگر سینئر حضرات نے شروع کی تھی، احسن سلیم بھی اس کے ہراول دستے میں شامل تھے۔ احسن سلیم نے بے شمار نثری نظمیں کہی ہیں، ان میں کچھ تو بے مثال ہیں، جیسے وراثت، آسمانی جنون وغیرہ۔
احسن سلیم کی جو کتابیں شائع ہوئی ہیں، وہ ’ست رنگی آنکھیں‘، ’منجمد پیاس‘،’جوئے میں جیتی ہوئی آنکھیں‘، ’آسمانی جنون‘، ’وراثت‘ کے علاوہ خطوط کا ایک مجموعہ ’پتوں میں پوشیدہ آگ‘ ہیں۔ لیکن احسن سلیم کے تعلق سے پڑھتے ہوئے اس بات کا اندازہ ہوا کہ ’اجرا‘ کی اشاعت نے انھیں ایک الگ پہچان دی۔ ادب کے تعلق سے ان کے نظریات ’اجرا‘ ہی کے ذریعے لوگوں کے سامنے آئے۔اس کے علاوہ احسن سلیم نئے لوگوں کے لیے’اجرا تخلیقی مکالمہ‘ کے تحت ہر پندرہ دن کے بعد ایک اجلاس منعقد کرتے تھے، جس میں شہر کے بہت سے افراد شریک ہوتے تھے۔ ان جلسوں میں مضامین، افسانے اور شاعری پڑھی جاتی تھی اور پھر اس پر مکالمہ ہوتا تھا۔اس کی پذیرائی کراچی کے ادبی حلقوں میں بھی کی گئی۔ اس سے واضح طور یہ بات سامنے آتی ہے کہ احسن سلیم نے ادب کے حسن کو نکھارنے اور معیاری بنانے میں اپنی طرف سے ہر ممکن کوشش کی۔ وہ اسی کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا سرمایہ گردانتے تھے۔
احسن سلیم کا شمار نظم کے اہم شعرا میں ہوتا ہے۔ان کی نثری نظم کے پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا اسلوب بہت جدا گانہ ہے۔بلند خیال، نئی لفظیات، پر قوت آہنگ۔لیکن ایک چیز کا احساس ضرور ہوتا ہے کہ انھوں نے کچھ عدم توجہی برتی، اور ایسا بھی لگتا ہے کہ کچھ اپنوں نے بھی غفلت کا مظاہرہ کیا؛ کیونکہ ان کی کتابیں صحیح معنوں میں قارئین تک پہنچ ہی نہیں سکیں۔اس سمت بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ ان کے ادبی سرمایے کو عام قارئین تک پہنچایا جائے۔اس کا ایک بنیادی فائدہ ضرور ہوگا کہ جو لوگ احسن سلیم سے واقف ہیں، وہ ان کے سرمایے سے انھیں جانیں گے۔اور چند لوگوں تک محدود ہونے کے بجائے ایک بڑے حلقے تک ان کا سرمایہ پہنچ جائے گا۔چیزیں ضائع ہونے سے بچ جائیں گی۔
احسن سلیم نے عام طور پر نظمیں ہی کہی ہیں، لیکن ان کی غزلیں، وہ تعداد میں چاہے جتنی بھی ہوں، ان میں نہ صرف روانی ہے، بلکہ ان کے پڑھنے سے عجیب و غریب سی نغمگی کا احساس ہوتا ہے۔ انھوں نے اپنی غزلوں میں جس احساس کے سہارے اپنی بات کو غزل کے سانچے میں ڈھالا ہے، اس میں زندگی کے بہت سے ٹوٹے ہوئے رشتوں کی یاد سمٹی ہوئی نظر آتی ہے۔ایسا لگتا ہے کہ وہاں(پاکستان) جا کر بھی اپنے آبائی وطن راجستھان (ہندوستان) کو کسی طور بھی بھول نہیں سکے۔احسن سلیم کے یہاں احساس دراصل زندگی کی علامت ہے، وہ انھیں میں چلتی پھرتی دنیا دیکھتے ہیں۔غزل کے چند اشعار ملاحظہ ہوں:
میں سمت غیب سے قدموں کی چاپ سنتا ہوں
مدیرِ وقت ہوں صدیوں کی چاپ سنتا ہوں
نجانے کون ہے؟ کس کا کلام ہے لیکن!
میں گوشِ دہر ہوں صدموں کی چاپ سنتا ہوں
ہوا جو قتل وہ صدیوں کا نور تھا شاید
کنارِ آب، میں نوحوں کی چاپ سنتا ہوں
گھروں میں جاگتا رہتا ہے خواب کا منظر!
مگر میں نیند میں بوٹوں کی چاپ سنتا ہوں
احسن سلیم انجام کی پرواہ کیے بغیراپنی بات کہتے تھے۔ پاکستان میں جب دہشت گردوں نے اسکولی بچوں کو اپنی درندگی کا شکار بنایا تھا تو اس وقت احسن سلیم نے ’اجرا‘ کا جو اداریہ لکھا تھا، وہ ان کی بے باکی کا کھلا اظہار ہے۔ انھوں نے جہاں ہتھیاروں کی مذمت کی ہے، وہیں حکومت پاکستان کے رویے پر سوال بھی اٹھایا تھا۔ انھوں نے لکھاتھا:
’’دنیا کی تاریخ میں معصوم طالب علموں پر، دہشت گردوں کا ایسا بہیمانہ حملہ، علمی درسگاہ میں موت کا ابلیسی رقص، دراصل اکیسویں صدی کے بطن سے پیدا ہوتی ہوئی انسانیت اور عالمی کلچر کے رخسار پر دہشت گردی کا ایسا طمانچہ ہے جس کی انگلیوں کے نشان مدتوں انسانیت کو شرمندہ کرتے رہیں گے۔ ہمارے وطن میں دہشت گردی کی سفاکانہ کارروائیاں گزشتہ چار دہائیوں سے جاری ہیں۔ ان دہشت گردوں کے خلاف ہماری حکومتوں کے بے فیض اور لا یعنی اقدامات محض خانہ پری کرنے کی عادت کا تسلسل ہیں۔‘‘ 
(اجرا،کراچی، پاکستان، شمارہ20، اکتوبر تا دسمبر2014، ص، 12)
اس طرح کی عبارت وہی لکھ سکتا ہے، جس میں قوت ہوگی۔احسن سلیم نے قلم کا سودا نہیں کیا۔انھوں نے وہ لکھا، لکھا جانا چاہیے تھا۔احسن سلیم کا یہ شعر’ہوا جو قتل وہ صدیوں کا نور تھاشاید،کنارِ آب، میں نوحوں کی چاپ سنتا ہوں‘ یا ان جیسے اشعار، ان کے بلند حوصلے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔احسن سلیم زندگی جینے کے نئے نئے امکانات تلاشتے تھے۔ایک طرف قتل تو دوسری طرف کنار آب اور نوحوں کی چاپ، اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ وہ حالات سے لڑنے میں یقین رکھتے تھے اور ایسا اس لیے تھا، کیونکہ انھیں خود پر بھروسا تھا۔پچھلی دو دہائیوں میں عالمی سطح پر جو کچھ ہو رہا ہے، وہ یقیناًبہت خوفناک ہے۔ایسے میں کچھ لوگ وہ ہیں جو خاموشی پر یقین رکھتے ہیں، سب کچھ دیکھنے کے باوجود اظہار کرنے کی قوت نہیں رکھتے، اور کچھ لوگ ایسے ہیں جواظہار کی قوت رکھتے ہیں، اور اپنی بات مختلف پیرائے میں، کبھی نثر میں تو کبھی نظم کی صورت میں عام لوگوں تک پہنچاتے ہیں،ایسے ہی لوگوں میں احسن سلیم کا شمار ہوتا ہے۔ان کی ذاتی زندگی سے عام لوگوں کو سروکار نہیں ہونا چاہیے، ہمیں غور اس بات پر کرنا چاہیے کہ انھوں نے ایسا کون سا کام کیا ہے، جو سماج کے لیے اور ادب کے لیے موثر ثابت ہوا۔اس سے ہمیں فائدہ اٹھانا چاہیے۔احسن سلیم کے ایسے بہت سے کام ہیں جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ ثابت ہوں گے۔
احسن سلیم نے نثری نظم میں خوب طبع آزمائی کی، اور ان میں سے کچھ شاہکار بھی مانی جاتی ہیں۔سہ ماہی ’سمت‘ جو کہ اعجاز عبید کی ادارت میں نکلنے والا آن لائن رسالہ ہے۔اس رسالے میں’یاد رفتگاں‘ کے تحت احسن سلیم کی نظم ’وراثت‘کو شائع کیا گیا ہے۔یہ نظم تقریباً بیس صفحات پر محیط ہے۔اس نظم کے کچھ حصے ملاحظہ ہوں:
آؤ ہم
اپنے بوسیدہ کپڑوں کی باسی خوشبو
سورج کے منھ پر الٹ دیں
اور ہرے بھرے جنگلوں سے
نئی خوشبو سمیٹ لائیں
تلخی کا ایک گھونٹ
کئی ہزار شیروں کو جنم دے سکتا ہے
آؤ ہم
بھوسے کے ڈھیر میں
شیروں کے بیج بو دیں
ورنہ...۔
یہ ریشمی سانپ
تمھاری چھاتیاں پی جائیں گے
اور ہماری آگ کا دھڑکتا پھول
وقت سے پہلے یتیم ہو جائے گا
(رسالہ سمت۔شمارہ31جولائی تا دسمبر 2016 ص، 82-83)
احسن سلیم کی نظم کے ذکر بالا حصے پر غور کریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے کس طرح سے نئی نئی چیزوں کو نئے خیالات کو اپنے انداز میں قاری کے سامنے پیش کیا ہے۔ ایک طرف باسی خوشبو کو سورج کے منھ پر انڈیلنے کی بات کرتے ہیں تو دوسری طرف ہرے بھرے جنگلوں سے نئی خوشبو سمیٹ لانے کی بات۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ احسن سلیم زندگی کے خراب حصے کو اپنے سے دور کرنے اور نئی نئی چیزوں کی تلاش کر کے زندگی کو از سر نو خوش حال بنانے کی جد وجہد کرتے ہیں۔اس کے طریقے کیا ہو سکتے ہیں، اس کی تلاش از خود کرنی ہوگی۔لیکن احسن سلیم نے اشارہ ضرور کیا ہے۔دانا کے لیے اشارہ ہی کافی ہوتا ہے۔احسن سلیم کی ایک اور مشہور نظم’آسمانی جنون‘ ہے۔ اس نظم کا ایک حصہ ملاحظہ ہو:
شاعری
ایک آسمانی جنون ہے
جڑواں گھروں کے درمیان
ایک پرانا مکالمہ دہرایا گیا
ہمارے خواب
آئندہ میں سفر کرنے کے قابل نہیں رہے
خیال کی لہروں کے ساتھ
ہمارا
ناتواں ارتکاز
گندے نالوں میں بہا دیا گیا
دھول سے اٹے ہوئے
عام آدمی کے خواب
راستوں میں دھر لیے گئے
عدم آگہی کی چادر تان دی گئی
ہمارے کھیتوں میں
سربریدہ فصلوں کی پاسبانی کے لیے
بے لباس آنکھوں میں
ننگے خواب اتار دیے گئے
(اجرا۔کراچی، پاکستان۔جولائی تا ستمبر2015، ص، 144) 
بحیثیت مجموعی کہا جا سکتا ہے کہ احسن سلیم نے نثری نظم کے فروغ میں غیر معمولی کردار ادا کیا ہے۔انھوں نے جو کچھ بھی تخلیق کیا، اسے اس طرح سے پذیرائی حاصل نہیں، جس کی وہ مستحق ہیں۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ احسن سلیم نے عدم توجہی برتی، ان کی کتابیں محدود دائرے ہی تک پہنچ سکیں۔دوسرے یہ کہ انھوں نے جب سے اجرا کی اشاعت شروع کی، اور چیزوں کی طرف اس طرح سے توجہ نہیں کی، جس طرح کرنا چاہیے تھا۔اس لیے بھی ان کی شخصیت بحیثیت تخلیق کار گمنامی کا شکار ہوگئی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کی ادبی خدمات کا جائزہ لیا جائے۔تاکہ ادب میں ان کو وہ مقام مل سکے جس کے وہ مستحق ہیں۔

Dr. Shahnewaz Faiyaz, 
H.No. 1262 Zubaida Building 
Near Aoliya Masjid 
Ghaibi Nagar, Bhiwandi, 
Thane - 421302 (MH)


ماہنامہ اردو دنیا، دسمبر2016




قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

یہ زمیں تو ہوگئی نامہرباں انور سدید ڈاکٹر انور سدید شخصیت اور فن مضمون نگار: محمد آدم




یہ زمیں تو ہوگئی نامہرباں انور سدید

ڈاکٹر انور سدید شخصیت اور فن

محمد آدم
ڈاکٹر انورسدید کا نام اردوادب میں کسی تعارف کا محتاج نہیں، وہ ایک جامع الجہات شخصیت کے مالک تھے۔ انھوں نے محقق، ناقد، مترجم، مبصر،مورخ، صحافی، مدیر، شاعر، افسانہ نگار،خاکہ نگار،انشائیہ نگار اورکالم نویس کی حیثیت سے اپنی شناخت قائم کی، نیز طنزومزاح اور سفرنامے کے حوالے سے بھی انھیں شہرت حاصل ہے۔ انھوں نے80سے زائدکتابیں تصنیف کیں۔ان کی ادبی وعلمی خدمات کے لیے اردوادب میں انھیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ 
انورسدیدایک محنت کش نومسلم کشمیری راجپوت گھرانے میں پیداہوئے۔ ان کی پیدائش4دسمبر1928 کو سرگودھا کی تحصیل بھلوال کے قصبہ میانی میں ہوئی۔ اگرچہ ان کااصل نام محمدنورالدین تھا لیکن بعض خیرخواہوں کے مشورے سے انھوں نے انور سدید کاقلمی نام اختیار کیا۔ انگریزی میں بی اے کی ڈگری حاصل کی پھر سول انجینئرنگ مکمل کرکے محکمہ آب پاشی پنجاب میں سرکاری ملازم ہوئے۔سنہ 1988 میں اسی محکمے سے بطوراکزیکیوٹو انجینئر ریٹائر ہوئے۔ وہ پیشے کے اعتبارسے انجینئر تھے مگراردوادب ہی ان کا اوڑھنا اوربچھونا تھا۔
بچپن ہی سے شعروادب کاچسکاپڑگیاتھا۔ شاعری میں اپنے دورکے معروف استادمولوی محمدبخش کے آگے زانوئے تلمذ تہ کیا، اوران سے اپنے کلام پراصلاح لینے لگے۔ ابھی نویں جماعت میں ہی تھے کہ ’سوتیلی ماں‘ کے عنوان سے ایک عمدہ ڈرامہ تحریرکیا جوبہت پسند کیا گیا۔ اُسی زمانے میں ایک قلمی رسالہ ’شوق‘ کے نام سے جاری کیا جس کے تمام مضامین وہ خود لکھتے رہے۔ اپنے ادبی سفرکے آغاز میں وہ افسانہ نگاری کی طرف مائل تھے۔ یہ افسانے ہمایوں،کامران،عالم گیر،نیرنگِ خیال، ساقی، آج کل، اورماہِ نو جیسے موقررسائل میں شائع ہوئے۔ 
1964میں ان کا تبادلہ ان کے اپنے وطن ’سرگودھا‘ میں ہوگیا۔یہاں ان کی ملاقات اردوکے معروف نقاد اور ادیب وزیرآغاسے ہوئی۔ وزیر آغاکی ملاقات ان کے ادبی سفرکے لیے سنگِ میل ثابت ہوئی۔ ان کے فیضِ تربیت سے ان میں کافی تبدیلی رونماہوئی۔ پہلے وہ جزوقتی ادیب تھے اب ہمہ وقتی ادیب ہوگئے۔ غالباً انھیں کے کہنے پر انورسدید نے ایم اے اردو میں داخلہ لیا اور امتیازی نمبرں سے کامیاب ہوئے اورگولڈ میڈل سے بھی نوازے گئے۔ اس کے بعد انھوں نے ’اردوادب کی تحریکیں‘ کے عنوان پر پنجاب یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی، ان کے نگراں بھی وزیرآغا ہی تھے۔وزیر آغا بہت پرمذاق شخصیت کے مالک تھے ان کے گھر پر ادبی اورعلمی محفلوں کا سلسلہ رہا کرتا تھا۔ انورسدیدان محفلوں میں پابندی سے شریک ہونے لگے۔ اس سے ان کے ادبی شعور کو مزید تقویت اورجلاحاصل ہوئی اور شاید اِنھیں علمی صحبتوں کا فیضان تھاجس نے انھیں ایک دن اردو ادب کے معماروں کی صف میں لاکھڑاکیا۔ 

تنقیداورانورسدید
ان کا پہلا تنقیدی مضمون رسالہ’اوراق‘ کے پہلے شمارے میں ’مولانا صلاح الدین احمدکا اسلوب‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔ بعدازاں وہ صحافت سے وابستہ ہوئے اورکئی رسالوں کے ادارتی فرائض انجام دیے۔ اسی دوران ان کا میلان انشائیہ نگاری کی طرف ہوا، چنانچہ انشائیے پر ایک جامع حوالہ جاتی کتاب ’انشائیہ اردوادب میں ‘ کے نام سے لکھی۔یہ کتاب ان کی تحقیقی و تنقیدی کاوشوں کا ایک عمدہ نمونہ ہے۔ ان کی پہلی تنقیدی کاوش فکروخیال ہے جو 1971میں منظرعام پرآئی۔ یہ ان کے تنقیدی وتحقیقی مضامین کا مجموعہ ہے۔ ا س مجموعے کے دو مضامین خصوصیت کے ساتھ قابل ذکرہیں ’اردو افسانے میں دیہات کی پیش کش‘ اور’ اردو ادب کی چند فکری تحریکیں‘۔ اس میں سے اول الذکرمقالہ بعد میں ایک مستقل تصنیف کی حیثیت سے منصہ شہودپر آیا۔
دوسرامضمون اردوادب کی چند فکری تحریکیں ان کی تنقید کے ارتقائی سفرکی ایک اہم منزل ہے۔ اگرچہ یہ مقالہ قدرے مختصرہے لیکن ان کی وسعت مطالعہ کا آئینہ دار ہے۔ ولی دکنی سے لے کروزیرآغا کے عہد تک کے فکری دبستانوں کو اس طرح بیان کرناکہ ان میں سے ہرایک دوسرے سے ممیز نظرآئے کوئی معمولی بات نہیں تھی لیکن انھوں نے اس دشوارکام کوبھی بہت اچھی طرح انجام دیا۔حیرت تویہ ہے کے ان کے سامنے کوئی ایسا نمونہ بھی موجودنہ تھا۔ اس کے لیے جس طرح کی ریزہ چینی اوردماغ سوزی کرنی پڑی ہوگی ا س کا اندازہ کچھ وہی لوگ لگاسکتے ہیں جنھیں اس طرح کے کام کرنے کااتفاق ہوا ہو۔ 
تنقیدبنیادی طورپرکسی ادب پارے کوپرکھ کراس کی قدروقیمت کا تعین ہے۔ سستی جملے بازی، جذباتیت اور محض اپنے افکارونظریات کی ترویج واشاعت تنقیدکے لیے سم قاتل ہے۔ تنقیدنگار کا مطالعہ موضوع کی مناسبت سے وقیع اورہمہ جہت ہونا چاہیے۔ انورسدیدکی تحریرکی سب سے بڑی خصوصیت یہی ہے کے ان کی تنقید ان عیوب سے پاک ہے، ان کا لہجہ سپاٹ نہیں بلکہ تخلیقی اور رومانی ہے۔ سجادنقوی ایک جگہ انور سدید کے فن کا تعارف کراتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’ڈاکٹرانورسدیدکے فن کی اساس ان کا مطالعہ ہے جس کے لیے انھوں نے زندگی کا بیشترحصہ صرف کیا اور ان کے تخلیقی اور تنقیدی کام کو غیرمعمولی قرار دیا گیا۔ انور سدید کی ایک اورخوبی ان کا رومانوی اندازنگارش (اسلوب) ہے جوہرصنف ادب کے مزاج سے ہم آہنگ ہونے کے ساتھ ساتھ تخلیقیت کے جوہرسے مملوہے۔ ان کی ادبی جہات کثیرہیں اوراتنی جہات اُردوکے بہت کم ادیبوں میں مجتمع نظرآتی ہیں‘‘۔
(دیباچہ، ص11 ’پاکستانی ادب کے معمارانورسدید شخصیت اور فن‘ پروفیسرسجادنقوی اکادمی ادبیات پاکستان2010 )
انورسدیدنے جہاں علامہ اقبال پر’اقبال کے کلاسیکی نقوش‘ اور’اقبال شناسی ‘ جیسی اہم کتابیں تحریرکی ہیں وہیں ’اردوافسانے میں دیہات کی پیش کش‘ ان کی بہت ہی اہم کتاب ہے جو افسانوی ادب میں دیہی زندگی کی عکاسی کو ایک نئے زاویے سے متعارف کراتی ہے اور اس کے نئے دریچے وا کرتی ہے۔ 
اس کے علاوہ ’انشائیہ اردو ادب میں‘، اردو ادب میں سفرنامہ، اردو ادب کی تحریکیں، اردو ادب کی مختصر تاریخ، پاکستان میں ادبی رسائل کی تاریخ ان کی تاریخ نویسی اور تحریری وتحقیقی صلاحیت کی غماز ہے۔ ان کی کتاب ’اردوادب کی تحریکیں‘ سے تو تقریباً پوری اردو دنیا واقف ہے۔ ان کی دوسری ایک اوراہم کتاب ’اردوادب کی مختصرتاریخ‘ خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہے۔ اس مختصرسی کتاب میں جتنی جہات اورموضوعات کوشامل کیا گیا ہے شاید ہی کسی اردو کی تاریخ میں اتنی جہات اور موضوعات کاتعارف کرایا گیاہوگا۔
انورسدیدخودایک کہنہ مشق شاعر تھے ان کو مرثیہ سے خاص لگاؤ تھایہی وجہ ہے کہ انھوں نے میر انیس کی اِقلیم سخن، میر انیس کی قلم رو لکھ کر مرثیہ سے اپنے لگاؤ اور مرثیہ کی عظمت کوواضح کرنے کی کامیاب کوشش کی۔ ’اس کے علاوہ غالب کا جہاں اوراردوشاعری کا دیا، اردونظم کے اربابِ اربعہ، غزل کے رنگ وغیرہ جیسی تالیفات ان کی شعرفہمی اور کلاسکی ادب پران کی عمیق نظری کوواضح کرنے کے لیے کافی ہیں۔
اردونثرمیں اپنی تحریروں کے قوس وقزح بکھیرنے والے انورسدیدنے اردونثرکے حوالے سے بھی کئی اہم اوریادگارکام کیے جن میں شمع اردو کا سفر، نئے ادبی جائزے، برسبیل تنقید، اردو افسانے کی کروٹیں، اردو نثر کے آفاق، وزیر آغا ایک مطالعہ، غالب کے نئے خطوط، (طنز ومزاح)، دلاور فگاریاں (سوانح)، جیسی کتابیں شامل ہیں۔
ان کی کتابوں کی فہرست پرایک سرسری نظرڈالنے سے بھی اندازہ ہوجاتاہے کہ ان کی تنقیدی روش کس قدرمستحکم اوران کی جہات کتنی مختلف النوع ہیں۔ 

انورسدیداورتحقیق
ادبی تحقیق تخلیقات میں نئے زاویے، اصناف کی نئی تفہیم اور اس کے ارتقائی مراحل کی نئی حالتوں کا بیان ہے۔تحقیق و تخلیق ایک ایساعمل ہے جودنیاکے مختلف گوشوں میں جاری وساری ہے۔ ان سب کوتلاش کر اکٹھا کرنا بھی ادبی تحقیق کا حصہ ہے۔ ساتھ ہی ادب کی نئی سمتوں کے تعین کا عمل بھی محقق ہی ناقدکی صورت میں انجام دیتاہے۔ ورنہ بنیادی طور پرتحقیق ادب میں صرف دریافت تک محدود ہے!۔ 
’’اردوافسانے میں دیہات کی پیش کش‘‘ انورسدید کی پہلی تحقیقی کاوش ہے۔ا س کے علاوہ نہوں نے اردوادب میں انشائیہ، اردوادب میں سفرنامہ جیسی اہم تحقیقی خدمات انجام دیں۔ اردوادب میں انشائیہ یوں تو دس ابواب پرمشتمل ہے، اوریہ کتاب اردو انشائیہ کی تفہیم میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے لیکن اس کتاب کے آٹھویں باب میں انورسدیدنے: جس طرح اُردوکے گمشدہ انشائیہ نگاروں کی بازیافت کی ہے، اوران کومتعارف کرایا ہے یہ ایک کارنامہ ہے۔
ان کی کتاب ’اردوادب میں سفرنامہ‘ تقریبا ساڑھے سات سوصفحات پرمشتمل ہے۔ یہ کتاب سفرنامے کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے۔ انورسدید اس جہاں دیدہ شخصیت کا نام ہے جوہرسال ایک ایسا مضمون لکھا کرتے تھے جس میں دنیا بھرمیں اردوادب کے تحقیقی اور تنقیدی کاموں کا لیکھا جوکھا ہواکرتا تھا جو نہایت معلوماتی ہوا کرتاتھا۔ جو اہل تحقیق کے لیے ایک بیش قیمت تحفہ تھا۔
اس کے علاوہ ان کے مقالے ہوںیا ان کے وہ مضامین جس میں وہ دنیا بھرمیں خصوصاً برصغیرمیں ہونے والی تحقیقات کا جائزہ لیا کرتے تھے۔ ان کی تاریخ نویسی بھی تحقیق کا عمدہ نمونہ ہے۔جائزے نئے ادبی جائزے 1988، جائزہ اردوادب 1998 ء تا 2008 اس طرح کے ان کے مضامین اردوتحقیق کا بیش قیمت سرمایہ ہیں۔

انشائیہ نگاری
ڈاکٹرسدیدنے اردوانشائیہ کومتعارف کروانے اور اس کی شناخت کے لیے جوخدمات انجام دی ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں، اگرچہ وہ بنیادی طورپرناقدتھے لیکن انھوں نے سفرنامے، انشائیے اور افسانے بھی تحریر کیے۔ ان کی کتاب ’انشائیہ اردوادب میں‘ ان کی تنقیدی اورتحقیقی صلاحیتوں کی عکاسی کرتی ہے۔ دسمبر، مچھرکی مدافعت میں، مونچھیں، شور، غلطی کرنا، تاروں بھری رات اور ذکر اس پری وش کا ‘ ان کے انشائیہ کے عمدہ نمونے ہیں۔ان کے انشائیوں میں کہیں شاعرانہ احساس توکہیں افسانوی اور ڈرامائی رنگ کے ساتھ ساتھ طنزومزاح کے عمدہ نمونے جابہ جا نظر آتے ہیں۔ آسمان میں پتنگیں، ذکراس پری وش کا انورسدیدکے انشائیوں کے مجموعے ہیں۔

بحثیت افسانہ نگار
انورسدیدایک اچھے افسانہ نگاربھی ہیں اوراس حیثیت سے بھی کسی حدتک انھوں نے شہرت پائی۔ ان کا ادبی سفرافسانے سے ہی شروع ہواتھا۔ ان کا پہلا افسانہ ’مجبوری‘ تھا۔ جس افسانے نے انورسدیدکوشہرت دی وہ ’مایوس آنکھیں‘ تھا جو ماہنامہ’ مشہور‘ کے انعامی مقابلے میں شامل ہوا اوراول انعام کے لیے منتخب ہوا۔ انور سدید نے اس کے علا وہ کئی اچھے افسانے تخلیق کیے جن میں وکٹوریہ کراس، لاوارث، ستاروں کے موتی، نیل کنٹھ، دلِ ناتواں، شیش محل، پوپھٹے،کچی مٹی کا بند اورسجدہ سہو، وغیرہ ہیں۔ چونکہ انورسدیدنے افسانے کو بہت کم منہ لگایا ا س لیے کوئی لافانی افسانہ ان کے نوک قلم سے قاری تک نہیں پہنچا۔البتہ جو بھی افسانے انھوں نے تحریرکیے اس میں ایک ادبی شان بہر حال دیکھی جاسکتی ہے اوران کے افسانوں اورکردارمیں فطرت کی عکاسی اوردیہی زندگی کا اچھابیان نظرآتاہے۔ 

بحیثت شاعر
غزل،نظم، قطعہ اورحمدونعت انورسدیدکی شعری کائنات کے کواکب ہیں۔ انھوں نے اپنی شاعری کاآغاز 1968سے کیا،ان کی بیاض میں اتنے کلام ہیں جن سے کئی مجموعے ترتیب دیے جاسکتے ہیں لیکن ا س جانب ان کی رغبت ذرا کم ہی ہوئی۔ ان کے اشعارمیں بلا کی روانی شوخی اورندرت پائی جاتی ہے۔ حمد کے چنداشعار ملاحظہ ہوں :
اے خدا کربِ نا صبوری دے
دردبھی دے تولاشعوری دے 
رب کعبہ مری گذارش ہے 
مجھ کو دیدارِ آنحضوریؐ دے
مجھ کو کچھ خواہشِ دوام نہیں
زندگی دے مگر ادھوری دے 
یہ ہے انور سدید کی عرضی 
اس کو منظوریِ ضروری دے 
چندا شعاردیکھیں:
ڈھونڈ اپنا آشیانہ آسمانوں سے پرے 
یہ زمیں تو ہوگئی نامہرباں انورسدید
جب بھی گزراہوں اس شہرکی گلیوں سے سدید
آنگھ ہنستی ہے تودِل آبلہ پا ہوتا ہے
انور سدید یہ بھی ہے فطرت کا معجزہ
پھل پھول لگ رہے ہیں جو سوکھے درخت کو
ان چند اشعار کو پڑھ کرجو انورسدیدکی شاعری کا تصور ابھرتاہے وہ یہ ہے کہ ان کے کلام میں گہرائی وگیرائی کے ساتھ ساتھ ترنم جدید اسلوب اظہار، ایمائیت اور روایتی بوباس بھی ملتی ہے۔ غزلوں کے علاوہ انھوں نے بہت اچھی نظمیں بھی لکھی ہیں۔ پتھر، نروان، زمیں، استنباط، پورے سیب کی تلاش، شب خون، خزاں، سنّاٹے کی سرگوشی وغیر ان کی عمدہ نظموں میں شمار کی جاسکتی ہیں، جن میں نئی لفظیا ت کے ساتھ کلاسیکل راگوں کی گھن گرج صاف سنائی پڑتی ہے۔ انھوں نے شاعری کی دیگراصناف میں بھی طبع آزمائی کی ہے مثلاہائیکواوردوہے وغیرہ بھی لکھے ہیں۔ 

بحیثیت صحافی اورکالم نویس 
کسی بھی اخبارکی انفرادیت اس میں لکھے جانے والے کالم سے ہی قائم ہوتی ہے۔ اس کی پالیسی اور نظریات کو سلیقے سے کالم نگارہی کے توسّط سے قاری تک پہنچایا جاتا ہے۔ بنیادی طورپر کالم نویسی صحافت ہی کی ضرورت ہے۔ انور سدید اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں کالم لکھاکرتے تھے۔ وہ مدۃالعمر نوائے وقت، حریت،جسارت، خبریں جیسے روزناموں اور پورٹل کے لیے کالم نویسی کرتے۔ انھوں نے ادبی اورغیرادبی دونوں قسم کے کالم لکھے۔ 
انھوں نے بہت سے کالم اپنا نام بدل کرفرضی ناموں سے لکھے مثلاً زوداندیش، قلم بردار، تُلسی داس گریب، ڈاکٹر فرنویس جیسے قلمی ناموں سے بھی انھوں نے کالم تحریرکیے۔ وہ اپنے کالموں میں سیاسی، سماجی، ثقافتی، ادبی اورعالمی منظرنامے پربے باکی سے اظہار خیال کیاکرتے تھے۔عوام میں انھیں کافی مقبولیت حاصل تھی اورلوگ ان کے کالموں کو دلچسپی سے پڑھاکرتے تھے اوراس کے لیے اخبارکی آمدکے منتظررہاکرتے تھے۔ اگران کے کالموں کویکجاکیاجائے تواس زمانے کی سیاسی، تاریخی، ثقافتی اورادبی دستاویز مرتب کی جاسکتی ہے۔

انورسدیدپرہونے والے تحقیقی کام 
برِّ صغیرکے بہت سارے رسائل نے انور سدید پر گوشے شائع کیے جن میں اوراق، تخلیق، ارتکاز، جدید ادب، کوہسارجرنل، چارسو اور روشنائی وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی شخصیت اور فن کے تعلق سے کئی کتابیں منظر عام پرآچکی ہیں۔ ان پرلکھی گئی کتابوں میں پروفیسر سجاد نقوی کی کتاب گرم دم جستجو اورپاکستانی ادب کے معمارانورسدید شخصیت اورفن بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔ اس کے علاوہ ملک اوربیرون ملک کی کئی جامعات سے ان پرایم فل اورپی ایچ ڈی کے کام انجام پاچکے ہیں اوربہت سے مقالے لکھے جارہے ہیں۔

مشاہیرِ ادب کی نظروں میں
انورسدیدمشاہیرکی نظروں میں ایک ادبی دبستان کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اردو کے اکثر نقادوں اور انشا پردازوں نے ان کی ادبی حیثیت کوتسلیم کیا ہے اور اپنی نگارشات میں ان کی جی کھول کرتعریف کی ہے۔ ان لوگوں میں موجودہ منظرنامے کے تقریباً سبھی اہم نام مثلا شمس الرحمان فاروقی، ڈاکٹر گوپی چندنارنگ،مشفق خواجہ، ڈاکٹر سیدعبداللہ، ڈاکٹروزیرآغا، ڈاکٹروحیدقریشی، ڈاکٹر سہیل بخاری، مرزاادیب، غلام الثقلین نقوی، حنیف باوا، جوگندرپال، بلراج کومل، ڈاکٹر سلیم اختر، ڈاکٹر ناصر عباس نیرجیسی جہاں دیدہ اورنابغۂ روزگارشخصیات شامل ہیں۔ اس طرح ان کے چاہنے والوں اور ان کے قدردانوں کی ایک لمبی فہرست ہے۔ 
ادب کے محنت کش، محسن اردو اوردبستانِ سرگودھا کے ترجمان انورسدیدزندگی بھرکسی بھی ادبی ادارے سے وابستہ نہیں رہے۔ اپنی حیات کے کسی لمحے کوضائع نہ ہونے دیا۔اس قدرسنجیدہ شخصیت کے مالک تھے کہ درویش منش سمجھے جاتے تھے۔ 
اردوکے نامور نقاد بابائے ادب ڈاکٹر انور سدید ایک ایسے ادیب گذرے ہیں جنھوں نے ادب کی اکثر و بیشتر اصناف میں اپنے قلم کے جوہردکھائے اورکسی بھی صنف ادب کومحض تفریح طبع کی خاطرمس نہیں کیابلکہ جس میدان میں بھی قدم رکھااس میں اپنی مُہرثبت کردی۔ 20مارچ 2016 کو انھوں نے آخری سانسیں لیں۔ زندگی کی 88بہاریں دیکھنے والے ا س مردِادب نے آخری لمحات تک قلم کواپنے ہاتھوں سے چھوٹنے نہ دیا :ع
حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا

Dr. Mohd Adam, 
Guest Faculty, Dept of Urdu,
 Jamia Millia Islami, 
New Delhi - 110025
Mob.: 9871716440


ماہنامہ اردو دنیا، دسمبر2016



قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...