29/5/20

قرۃ العین حیدر : چاندنی بیگم مضمون نگار: شمیم حنفی




قرۃ العین حیدر : چاندنی بیگم
شمیم حنفی

قرۃ العین حیدرکے تذکرے میں ’’آگ کا دریا‘‘ کا ذکر ناگزیر سا ہو کر رہ گیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اردو فکشن کی روایت میں ’’آگ کا دریا‘‘ نے کم و بیش ایک دیو مالا کی حیثیت اختیار کر لی ہے ۔ حد تو یہ ہے کہ فکشن کہ تنقید میں بھی ’’آگ کا دریا‘‘ ایک مرکزی حوالہ بن چکا ہے اور اس کی اشاعت کے بعد وجود میں آنے والے تقریباً تمام اہم ناول اس حوالے کے اثر سے آزاد نہیں ہو سکے ہیں۔ ’’آگ کا دریا‘‘ کے بعد قرۃ العین حیدر کے جو ناول شائع ہوئے ان کی وضعیں،موضوعاتی کینوس، اسالیب اور زمانی و مکانی رابطے ایک دوسرے سے بہت مختلف رہے ہیں۔ مثال کے طور پر ’’آخر شب کے ہم سفر‘‘ ،  ’’کار جہاں دراز ہے‘‘، ’’گردش رنگ چمن ‘‘ اور ’’چاندنی بیگم‘‘ کی دنیائیں انسانی تجربے کی الگ الگ سطحوں پر آباد ہیں مگر ان کا جائزہ لیتے وقت ہمارے احساسات پر ’’آگ کا دریا‘‘ کا سایہ اتنا گہرا ہوتا ہے کہ ہم ان ناولوں کو ان کی اپنی شرطوں پر سمجھنے میں تقریباً نا کام رہ جاتے ہیں۔ انتظار حسین،      عبد اللہ حسین اور جمیلہ ہاشمی کے مطالعے میں بھی ’’آگ کا دریا‘‘ نے قدم قدم پر رکاوٹیں کھڑی کی ہیں اور اس کا اثر اردو فکشن کی پوری تنقید پر پڑا ہے۔ اس صورت حال سے جہاں ایک طرف ’’آگ کا دریا‘‘ کی بڑائی ظاہر ہوتی ہے وہیں ہماری تنقید کے عجز اور معذوری کا بھی کچھ اظہار ہوتا ہے۔
ابھی کچھ دنوں پہلے تک ’’ستاروں سے آگے‘‘ اور ’’شیشے کے گھر‘‘ کو اردو افسانے کی تاریخ میں نئی حسیت کے اولین اشاروں سے تعبیر کیا جاتا تھا۔ اسی طرح ’’آگ کا دریا‘‘ اردو ناول کی تاریخ میں ایک نئی روایت کے آغاز کا اشاریہ تھا۔ غرض کہ اردو افسانے اور ناول دونوں کی روایت کا ایک نیا سیاق قرۃ العین حیدر سے منسوب کیا جاتا تھا اور یہ کہا جاتا تھا کہ قرۃ العین حیدر کے شعور میں ہمیں اپنے عصر کی بصیرت کا پہلا سراغ ملتا ہے۔ جدیدیت کے میلان کی شروعات، اردو فکشن کے سیاق میں، ہم قرۃ العین حیدر سے کرتے آئے ہیں، یہاں تک کہ پہلی جنگ عظیم اور اس عالم گیر واردات کے پس منظر میں رونما ہونے والے فکشن کے سب سے معروف حوالے، جیمس جوائس کی یولیسز کے بعد اردو میں ہماری نگاہ سب سے پہلے قرۃ العین حیدر پر ہی ٹھہرتی ہے۔اسی کے ساتھ ساتھ، اب یہ بھی کہا جانے لگا ہے کہ اردو فکشن میں ما بعد جدیت کے اولین نشانات ہمیں قرۃ العین حیدر کے یہاں ملتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ قرۃ العین حیدرجدید بھی ہیں اور ما بعد جدید بھی۔
اس فیصلے کو قبول کرنے میں مجھے تامل ہر گز نہ ہوتا اگر اردو میں ما بعد جدیدیت کے ساتھ سن 1980 کے آس پاس کی پخ نہ لگادی گئی ہوتی اور اس پر اصرار نہ کیا جاتا کہ جدیدیت اب قصۂ پارینہ بن چکی ہے اور تنقید کا ایک ’’نیا‘‘ ڈسکو رس قائم ہو چکا ہے۔ اصطلاح گزیدہ تنقید کی سب سے بڑی خرابی یہی ہوتی ہے کہ وہ آزادانہ طور پر سوچنے کی طاقت کھو بیٹھتی ہے اور بغیر سوچے سمجھے ایک نئی ادبی ٹرمنالوجی (Terminology)  کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتی ہے۔ ایک ہی لکھنے والے کو ، ایک ہی سانس میں جدید اور مابعد جدید قرار دینے کا صاف مطلب یہ نکلتا ہے کہ تعین قدر کے اس عمل میں زمانی سیاق کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے اور جدیدیت کی طرح ما بعد جدیدیت بھی ایک فکری رویہ ہے، ایک طرز ِ احساس ہے جس کی دریافت جدید دور اور ما قبل جدید دور کے لکھنے والوں کے یہاں بھی کی جا سکتی ہے۔
خیر، یہ ایک الگ مسئلہ ہے اور حقیقتاً صرف اس لیے پیدا ہوا ہے کہ اردو میں جدیدیت کے جس مفہوم نے رواج پایا تھا، وہ بہت محدود اور ادھورا تھا۔ اس کے گم شدہ حصوں پر نظر اب اس لیے پڑ رہی ہے کہ اصطلاح کی ماری ہوئی نئی تنقید جو اپنے معاصر ادب کے تجربوں کو سمیٹنے میں ناکام رہی، اب اپنی غلطیوں کا جوازپیدا کر رہی ہے۔ قرۃ العین حیدر کے بارے میں بھی ہماری تنقید کا فکری تناظر اسی طرح محدود ، یکساں اور سرسری رہا ہے چناں چہ ’’آگ کا دریا‘‘ کے بعد کے ناولوں کا مطالعہ بھی بالعموم’’آگ کا دریا‘‘ہی کے حساب سے کیا جاتا رہا اور ان میں کسی’’مختلف عنصر‘‘کی دریافت ممکن نہیں ہو سکی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بعد کے تمام ناول ’’آگ کا دریا‘‘ کے مقابلے میں صرف اس وجہ سے کم تر درجے کے ٹھہرے کہ ان میں کینوس سمٹا ہوا دکھائی دیا۔ ظاہر ہے کہ ’’آگ کا دریا‘‘ کی رزمیاتی جہتیں، کرداروں کی ویسی کثرت اور پلاٹ کا ویسا پھیلاؤ قرۃ العین حیدر کے دوسرے ناولوں میں نہیں ملتا۔ اس کے علاوہIrony اور Wit کا ایک عنصر جس پر ’’آگ کا دریا‘‘ میں رومانیت کی دھند چھائی ہوئی تھی، ’’آخر شب کے ہم سفر‘‘ سے لے کر ’’چاندنی بیگم‘‘ تک بہ تدریج نمایاں ہوتی رہی ہے اور چوں کہ اس عنصر کی گرفت میں ہماری کچھ سکہ بند قسم کی ترجیحات بھی آتی رہیں، اس لیے قرۃ العین حیدر سے اصلوبی اور نظریاتی اختلاف رکھنے والے نقادوں نے اس عنصر کی طرف سے یکسر آنکھیں پھیر لیں اور ’’آگ کا دریا‘‘ کے بعد کے ہر ناول کو بہ یک جنبش قلم کم رتبہ ٹھہرا دیا۔
ڈاکٹر محمد حسن کو ’’آخر شب کے ہم سفر‘‘ میں صرف نا سٹلجیا،رومانیت اور تکرار کا تماشا نظر آیا۔ رویے کی یہ زیادتی سب سے زیادہ ’’چاندنی بیگم‘‘ کے سلسلے میں سامنے آئی۔ یہ ناول 1990 میں پہلی بار شائع ہوا تھا اور ہر چند کہ اس کا ہندی ترجمہ بھی چھپ چکا ہے، مگر قرۃ العین حیدر کے تمام ناولوں میں سب سے کم توجہ ’’چاندنی بیگم‘‘پر صرف کی گئی۔ کسی قابل ذکر مضمون کی بات تو الگ رہی، اس ناول کو قرۃ العین حیدر کے فن پر گفتگو میں ایک عام حوالے کی حیثیت بھی نہیں مل سکی۔ ’’چاندنی بیگم‘‘ کی کم سے کم دو خوبیاں ایسی تھیں جن پر تفصیلی بحث ہونی چاہیے تھی اور جو تناسب کے اعتبار سے دوسرے تمام ناولوں کی بہ نسبت اس ناول میں زیادہ نمایاں ہیں۔ ایک تو انسانی سوز اور درد مندی کا وہ پہلو جو عام انسانوں کی زندگی سے علاقہ رکھتا ہے۔ دوسرے تاریخ کی سمجھ میں آنے والی اور مانوس منطق کے بجائے محض اچانک پیش آنے والے واقعات اور ناقابل فہم اتفاقات کے نتیجے میں ہستی کے یکسر تبدیل ہوتے ہوئے محور کا تصور۔ گویا کہ ’’چاندنی بیگم‘‘ کے واسطے سے حقیقت کی طرف قرۃ العین حیدر کا ایک نیا رویہ، ایک نیا تصور حیات اور ایک مختلف تہذیبی اور ثقافتی تناظر سامنے آیا ہے۔ سب سے بڑا اعتراض ’’چاندنی بیگم‘‘ پر یہ کیا گیا کہ چار سو پچیس صفحات پر پھیلے ہوئے اس ناول میں قصہ ابھی ایک سو چونسٹھ صفحے تک ہی پہنچا تھا کہ ناول کی ہیروئن ہمیشہ کے لیے رخصت ہو گئی۔ یعنی یہ کہ اس کے بعد، نصف سے زیادہ ناول میں فقط زبردستی کی کھینچ تان ہے اور بات بن نہیں سکی ہے۔ اس اعتراض کے جواب میں قرۃ العین حیدر نے دو اہم باتوں کی طرف توجہ دلانی چاہی ہے۔ ایک تو یہ کہ
’’جس طرح ہندوستانی عوام، فارمولا فلم پسند کرتے ہیں، ہمارے اہل دانش بھی کیا فارمولا ناول پڑھنا چاہتے ہیں؟یعنی اگر ہیروئن شروع ہی میں چل بسی تو کہانی آخر تک کیسے چلے گی؟ لیکن سنیما کے ناظرین مطمئن بیٹھے رہتے ہیں کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ وہ موت غلط فہمی ہے۔ ہیروئن پھر نمودار ہو جائے گی۔‘‘
تو اگرچاندنی بیگم آخر تک زندہ نہیں رہتی تو وہ ہیروئن نہیں ہے اور اگر مرکزی کردار نہیں ہے تو ناول کا نام چاندنی بیگم کیوں؟
اور ایک ہیروئن نہیں تو کیا پانچ ہیں؟ یا ان میں سے کوئی اینٹی ہیروئن ہے؟
                           (ایوان اردو، دہلی، اکتوبر1991)
اور دوسرا یہ کہ — ’’زمین اور اس کی ملکیت اس پہلو دار ناول کا بنیادی استعارہ ہے جو پہلے باب کے تعارفی پیراگراف سے لے کر آخری صفحے تک موجود ہے۔ اس کے ساتھ ہی ارتقا کا عمل ، پیہم تغیر، تبدیلی، تخریب و تجدید و تعمیر اور فطرت سے انسان کے اٹوٹ سمبندھ کی اشاریت خاصی واضح ہے۔‘‘
                              (ایوان اردو، دہلی، اکتوبر1991)
اس طرح دیکھا جائے تو قرۃ العین حیدر نے ’’چاندنی بیگم‘‘ میں تجربے اور تصور کی ایک نئی سطح، ایک نئی تخلیقی جہت تک پہنچنے کی کوشش کی ہے۔ قرۃ العین حیدر کے پچھلے ناولوں کی طرح یہ ناول بھی  بادی النظر میں Situational ہے اور انسانی مقدرات اور صورت حال سے بندھا ہوا، لیکن اس کا مجموعی ماحول اور فکری بنت، اس کے ساتھ ساتھ قصے میں واقعات کی نوعیت اور رفتار بہت مختلف رہی ہے۔ ’’دل ربا‘‘ اور ’’اگلے جنم موہے بٹیا نہ کیجو‘‘ سے مماثل ثقافتی سیاق کے باوجود ’’چاندنی بیگم‘‘ کی دنیا بھی خاصی بدلی ہوئی نظر آتی ہے۔ اس میں واردات اور تجربے کی صورتیں پچھلے تمام ناولوں سے زیادہ متعین، نوکیلی اور ٹھوس ہیں اور داخلی منظر نامے کے بیان سے زیادہ اس ناول میں قرۃ العین حیدر کی توجہ ایک پوری طرح جیتی جاگتی زندگی کو واقعات کے خاکے میں منتقل کر دینے پر رہی ہے۔
قرۃ العین حیدر کی حسیت میں تبدیلی کا یہ عمل بڑی حد تک خاموش اور مبہم رہا ہے۔ ہمارے لکھنے والوں میں اکثریت ایسوں کی ہے جو وقت کے ساتھ بدلتے کم ہیں، تبدیلی کا اعلان زیادہ کرتے ہیں۔ شخصیت میں گہرائی ہو تو تبدیلی بھی ایک تسلسل بن جاتی ہے اور اپنے رویوں میں رونما ہونے والے فرق کی نشان دہی کے لیے اصطلاحوں کا سہارا نہیں لیتی۔ مگر اس گہرائی کو پانے کے لیے بصیرت کی جو خود مختاری درکار ہوتی ہے اس کی مثالیں ہمارے لکھنے والوں کے یہاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس مسئلے پر قرۃ العین حیدر کے حوالے سے غور کیا جائے تو ایک دل چسپ روداد مرتب ہوتی ہے، رنگا رنگ اور تغیر پذیر۔ ’’میرے بھی صنم خانے‘‘ کی اشاعت جس دور میں ہوئی وہ خوابوں کے تعاقب اور آدرشوں کی پرستش کا دور تھا۔ چناں چہ، اس دور کے بیش تر لکھنے والوں کی طرح، قرۃ العین حیدر کی بصیرت بھی بہت آزاد نظر نہیں آتی۔چاندنی بیگم کی اشاعت کے وقت صورت حال، ظاہر ہے کہ پہلی جیسی نہیں رہی۔ اب اپنی کہانی سے ایک غیر مشروط تعلق کے اظہار میں لکھنے والا نہ تو جھجکتا ہے، نہ پشیمان ہوتا ہے۔ پچھلے تیس پینتیس برسوں میں جس ادبی کلچر کو فروغ پانے کا موقعہ ملا ہے اس کی سب سے بڑی پہچان اس کی آزادہ روی رہی ہے۔ یہ کلچر اپنے انسانی سروکار، اپنی حقیقت پسندی اور اپنی اخلاقیات پر اصرار کے باوجود اوپر سے عاید کی جانے والی تمام پابندیوں سے انکار کرتا ہے۔ انسان کے حال اور آئندہ کی بابت اپنی تشویش کے اظہار یا اپنی پہچان قائم کرنے کے پھیر میں لکھنے والے کو کسی بیرونی سند کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔
اس پوری مدت میں جس ادبی روایت کی تشکیل ہوئی، اس کے واسطے ادب تخلیق کرنے والے کی ترجیحات اور پڑھنے والے کے تقاضوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ احساس بھی قائم ہو سکتا ہے کہ مصنف اور قاری ، دونوں تبدیل ہوئے ہیں۔ یہ ضرورہے کہ لکھنے والوں اور پڑھنے والوں کی اکثریت نے تبدیل کے اس عمل کو صرف رسماً قبول کیا ہے۔ اسی لیے اس کا جلسہ بدلا کم اور بگڑا زیادہ ہے۔ ایسا نہ ہوتا تو ہمارے ادیب اپنے خود ساختہ اور پسندیدہ رویوں سے اتنی جلدی دست کش نہ ہوتے، نہ جدیدیت سے آگے ما بعد جدیدیت، کا قلعہ فتح کرنے کا اس طرح اعلان کیا جاتا اور نہ ہی ادب میں اور ادب کے قاری میں ایسی سرد اور سنگین دوری پیدا ہوئی ہوتی۔ کچھ یوں محسوس ہوتا ہے کہ دونوں ایک دوسرے سے اکتائے ہوئے ہیں اور انسانی تجربے کی مشترکہ وراثت بھی انھیں ایک دوسرے سے مکالمے پر آمادہ نہیں کر پاتی۔
اب اس قصے سے الگ ہو کر، ہم قرۃ العین حیدر کے تخلیقی رابطوں پر دھیان دیں تو ایک اور سچائی سامنے آتی ہے، حسیت کے ارتقا کی ایک ایسی روداد جس میں قرۃ العین حیدر کا کوئی ہم عصر ان سے مماثل یا ان کا  ہم پلہ نہیں ٹھہرتا۔ ’’میرے بھی صنم خانے‘‘ سے لے کر ’’چاندنی بیگم‘‘ تک، ان کی حسیت کا سفر بہت پر پیچ رہا ہے۔ ’’سفینۂ غم دل‘‘ کو وارث علوی نے ایک حوصلہ شکن تجربے کا نام دیا تھا۔ سو اس سے قطع نظر کر کے،  ’’آگ کا دریا‘‘،  ’’آخر شب کے ہم سفر‘‘،  ’’کار جہاں دراز ہے ‘‘ ،  ’’گردش رنگ چمن‘‘ اور ’’چاندنی بیگم‘‘ پر نظر ڈالی جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ یہ تمام ناول اپنی اپنی ایک علاحدہ اور خود کفیل دنیا رکھتے ہیں اور انھیں صرف ایک مجموعی تاثر کی روشنی میں یا ایک دوسرے کے حساب سے دیکھنا درست نہیں ہوگا۔ ان کتابوں کے باطنی اور بیرونی مظاہر ایک دوسرے کے لیے بڑی حد تک اجنبی رہے ہیں۔ فضا اور ماحول، کرداروں کی ذہنی، جذباتی اور طبقاتی سطحیں، ثقافتیں اور زمانے کی گردشوں کے محور مسلسل تبدیل ہوتے رہے ہیں۔ ان قصوں کے کردار وقت سے، معاشرے سے اور کائنات سے اپنے تعلقات کی نوعیت بھی تبدیل کرتے رہے ہیں۔ رنگا رنگی کے اس ہجوم میں قرۃ العین حیدر نہ تو اپنی بصیرت کے بنیادی مراکز سے دور ہوتی ہیں، نہ ہی مختلف زمانوں کے مطالبات کی ادائیگی کے ساتھ، ان کی اپنی پہچان میں بھی کوئی بڑا فرق آیا ہے۔ ہر تبدیلی کو ، بہ ہر حال، اپنا جواز بھی ساتھ لانا چاہیے۔ قرۃ العین حیدر کے یہاں شروع سے ہی تخلیقی آزادی کا ایک گہرا شعور، ان کے وجدان میں ایک ہمہ گیری اور مشاہدے میں ایک وسعت موجود رہی ہے۔ اسی لیے ’’آگ کا دریا‘‘ سے ’’گردش رنگ چمن‘‘ تک اور پھر ’’چاندنی بیگم‘‘ تک ان کا سفر معمول کے مطابق اور بہ تدریج رہا ہے۔ ایک دوسرے سے متصادم کیفیتیں ، بہ ظاہر ایک دوسرے سے الگ دکھائی دینے والے رنگ، احساس کی ایک دوسرے کو کاٹتی ہوئی لہریں ان کے یہاں اس طرح گھل مل جاتی ہیں جس طرح بدلتے ہوئے موسموں کا منظر وقت کے مہیب اور بے کنار پھیلاؤ میں اپنے لیے گنجائش پیدا کر لیتا ہے۔ اس ردوبدل سے قرۃ العین حیدر کے تخلیقی انہماک میں کوئی فرق نہیں آتا۔ پرانے قصہ گویوں کے غیر معمولی وقار اور ایک نیم مجذوبانہ استغراق کے ساتھ وہ دھندلی اور روشن ، کالی اور سفید تصویروں کے ساتھ ورق الٹتی جاتی ہیں اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس عمل میں وہ نہ تو کہیں جذباتی دکھائی دیتی ہیں نہ حواس کی گرفت میں آنے والی حقیقتوں سے لا تعلق۔ خاص طور پر ’’چاندنی بیگم‘‘ میں تو ان کی بصیرت کا توازن اور اظہار و اسلوب کا ضبط و نظم حیرت انگریز ہے۔
زندگی کی دھوپ چھاؤں، تہذیبی اور معاشرتی اکائیوں کی تنظیم اور ابتری کو ایک سی سادگی کے ساتھ قبول کرنے کی یہ صلاحیت قرۃ العین حیدر کے ہم عصر ناول نگاروں سے قطع نظر خود قرۃ العین حیدر کے پچھلے تمام ناولوں کی بہ نسبت ’’چاندنی بیگم‘‘ میں تقریباً بے مثال ہے۔ انسانی تجربات کی جس بلند اور بھیدوں بھری سطح تک قرۃ العین حیدر کے واسطے سے ہماری رسائی ہوئی ہے، اس کے حساب سے دیکھا جائے تو ان کی تخلیقیت کا یہ منطقہ غیر معمولی ہے۔ یہ منطقہ پر فریب بھی بہت ہے۔ اسی لیے، اس کے اسرار کو سمجھنا سہل بھی نہیں۔ بہتوں کے نزدیک ’’آگ کا دریا‘‘ سے ’’چاندنی بیگم‘‘ تک قرۃ العین حیدر کے فکشن کی ظاہری صورت اور ساخت میں کوئی قابل ذکر انقلاب رونما نہیں ہوا اور کچھ اصحاب تو اس سے بھی آگے جاکر اب تک یہ کہے جا رہے ہیں کہ قرۃ العین حیدر کے موضوعات اور سروکار کی شناخت اس لیے مشکل نہیں کہ وہ ایک خاص دائرے سے باہر نہیں جاتیں۔ اس قسم کی تعبیر ناقص بھی ہوتی ہے اور احمقانہ بھی کہ بہ ظاہر ایک فرد کا وجود بھی، ایک دائرے کا ہی پابند ہوتا ہے۔ اس نکتے کی طرف ’’چاندنی بیگم‘‘ میں بہت سے اشارے ملتے ہیں:
الحمد و کہتی ہیں: ’’اللہ کی شان دیکھو پھول پتے، درخت، چرند پرند، سب لاکھوں برس سے ویسن ہیں جیسے تھے۔ لیموں ہے تو اس کی مہک مزا وہی ۔ آم ہے۔ جامن ہے۔ کروندہ۔ بھٹا، جو پھل ترکاری چکھو ویسن— بس آدم زاد خراب ہو گیا۔‘‘
منشی بھوانی شنکر سوختہ کہتے ہیں : ہاں احدو، باجی۔ دنیا مقام عبرت ہے۔ آدمی اپنے آپ کو اچھے برے الفاظ میں، نیک بد اعمال میں — سروں میں ڈھال لیتا ہے۔ کبھی بے سرا ہو جاتا ہے۔
الحمد و کہتی ہیں : منشی جی، ہمارے گھر کے پاس امام گنج میں قبرستان ہے۔ ایک بیری ہم نے وہاں ایک مٹی کی خالی ہانڈی پڑی دیکھی تو سونچے منشی جی کہ اس میں کھانا پکایا۔ بھاپ نکل گئی۔ کھانا لوگوں نے کھایا۔ کالی ہانڈی دھو دھا کر رکھ دی۔
وکی میاں سے ایک مکالمہ اس طرح ہے :
’’پچھلے دس ہزار برس میں ‘‘ معراج احمد نے کہا — کبھی کبھی بات بدل بدل بھی تو گئی ہے—‘‘
’’لیکن مستند گواہ بھی ڈھونڈنے سے مل سکتے ہیں۔‘‘ پنکی نے کہا۔ وکی چونکے—’’رومن ٹرمپٹ اور پن پائپ اور بربط اور بطخوں اور بھیڑوں کی ہڈیوں سے بنی وائکنگ بانسریاں—‘‘
’’ہڈیوں کی بانسر یاں؟ وہ متواتر بج رہی ہیں۔ جب سے انسان پیدا ہوا اور مرا — ‘‘  معراج احمد نے کہا — وہ سب پھر چپ ہو گئے ۔ کسی نے کتب خانے کا دریچہ اندر سے بند کر دیا
اور آخری اقتباس صفیہ کی موت کے بعد کی بات چیت سے ہے
چار پانچ مسلمان استانیاں قرآن خوانی کے بعد باہر آکر گھیرے میں شامل ہو گئیں۔
’’اللہ جنت نصیب کرے۔ تین ہفتے کی میری تنخواہ روک رکھی تھی۔‘‘
’’آپ تین مہینے غیر حاضر بھی تو رہیں۔‘‘
’’ اب حساب کتاب کون کرے گا ؟ پنکی میاں یا شہلا؟‘‘
’’ ارے کوثر باجی— ابھی سے یہ قصہ نہ چھیڑیے‘‘
’’ شمیم فاطمہ، جو میری ذمے داریاں ہیں اور اخراجات— ‘‘
ترلا جوشی لوگوں کی آمدو رفت دیکھا لیں۔ ہمیشہ ایک جملہ یہ بھی دوہرایا جاتا ہے :
میرے لائق کوئی کام؟ ہر چیز، روٹین ہے۔ زندہ رہنا۔ مر جانا۔ انتم سنسکار کتنی بھاری روٹین۔ کال کے نوٹس بورڈ پر چپکا ٹائم ٹیبل!‘‘
تجربات کے تنوع کا رسمی تصور رکھنے والا سوچے گا کہ گھوم پھر کر ایک ہی بات نکلتی ہے—آدم زادوں کا اخلاقی زوال۔ روح کا خالی پن۔ اجتماعی پستی اور وقت کے اندھے سیلاب میں انسان کی بے دست و پائی۔ وہی زندگی اور موت کا تماشا ۔ ایک چکر ویوہ ! مگر کیا کیا جائے۔ جس طرح زمین اپنے مدار پر گھومتی آرہی ہے، اسی طرح انسان بھی بناؤ اور بگاڑ ، جینے اور مرنے کے ایک روٹین کی قید میں ہے۔ کبھی اپنے آپ کو ’’سر میں ڈھال لیتا ہے۔ کبھی بے سرا ہو جاتا ہے۔ ‘‘مٹی کی ہانڈی میں ابال آتا ہے۔ پھر خالی ہانڈی دھو دھا کر رکھ دی جاتی ہے۔ ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے۔ ہڈیوں کی بانسریاں کب سے متواتر بجتی چلی آ رہی ہیں، اور کتنے راگوں میں۔ سب کچھ کال کے نوٹس بورڈ پر چپکے ہوئے ٹائم ٹیبل کے مطابق ہو رہا ہے۔ قرۃ العین حیدر محض کچھ لکھنے کے لیے نہیں لکھتیں۔ ان کے پاس کہنے کے لیے کوئی بات ضرور ہوتی ہے اور وہ جانتی ہیں کہ کچھ نہ کہنے کے طریقے زیادہ دیر تک برداشت نہیں کیے جا سکتے۔ ان کی فکر رسمی تنقیدی ضابطوں کی گرفت میں نہیں آتی اور ہم سے اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ اس کے معنی ایک وسیع انسانی تناظر میں متعین کیے جائیں۔ ایک ذمے دار لکھنے والے کی طرح وہ ان سچائیوں کی یاد برابر دلاتی رہتی ہیں جنھیں بھلا کر ہم اپنی انسانیت کا مفہوم بھی کھو بیٹھیں گے۔ پھر بھی، ایک بات اس سلسلے میں ہمیں یاد رکھنی چاہیے۔ یہ کہ اپنے تخیلی تجربے کا جو خاکہ وہ مرتب یا دریافت کرتی ہیں، بے شک ، اس کی اپنی اہمیت ہے اور رسمی تنقید انھی سہاروں سے اپنی چمک دمک قائم رکھتی ہے، مگر عام قاری کے سامنے یہ سوال ہوتا ہے کہ اس پورے تجربے میں اس کی شرکت کن سطحوں پر ہو۔ مصنف کے تخلیقی طریق کار کو سمجھے بغیر اس شرکت کا کچھ مطلب نہیں نکلتا۔ لیکن، صرف اس طریق کار کی آگہی بھی کافی نہیں ہے کیوں کہ قرۃ العین حیدر کی سطح کا لکھنے والا اپنی بیانیہ حکمت عملی کو ہی مقصود بالذات نہیں بناتا۔ اسے غرض اس بات سے ہوتی ہے کہ اپنے تجربے کو وہ قاری کے شعور میں اس تجربے کی لسانی، فکری، جذباتی، تہذیبی، اخلاقی اور جمالیاتی پرتوں کے ساتھ منتقل کرے۔ اسے اقدار کے ایک تصور تک لے جائے۔ اس پر معمولات میں گھری ہوئی زندگی کے ایک نئے کشف کی صورت میں وارد ہو۔
چاندنی بیگم میں 1947 سے اب تک کے مسلمان معاشرے کو در پیش مسئلے — متروکہ جائدادیں ، خاندانوں کی تقسیم، ہجرت، خاتمۂ زمین داری، کلچرل زوال اور شرفا کے خاندانوں کی مشکلات، ایک نو دولتے طبقے کا ظہور، صارفیت کے فروغ کے ساتھ ایک ’’ نئے نظام اقدار‘‘ کی تعمیر ، پیٹرو ڈالر کی وبا، کلچر ہائی جیک، ان تھک جھگڑے، ایک انحطاط پذیر سیاسی کلچر کے پیدا کردہ سوالات— ان سب پر نظر ڈالی گئی ہے۔ ماضی اور حال کی گڈ مڈ ہو تی ہوئی حدوں کا مذہبی پہلو، رسوم، روایات، عرس کی تقریبات اور ترقی کی گرد میں گم ہوتی ہوئی صورتوں— میراثی، بھانڈ، بھاٹ، مغلانیاں— ان سب کے واسطے سے حقیقی اور علامتی دونوں سطحوں پر ایک ساتھ سامنے لایا گیا ہے۔ واقعات رمزیے بھی ہیں اور آج کا پورا معاشرہ اپنی سچائیوں کے ساتھ ایک عجیب و غریب قومی تمثیل۔ قرۃ العین حیدر نے اس ناول میں زبان اور بیان کے وسائل کو بھی بڑی مہارت کے ساتھ استعمال کیا ہے۔ ان کے بہت سے جملے اور مکالمے صرف برائے بیان نہیں آئے ہیں، انھیں معنی سے معمور ایک تخلیقی حربے کے طور پر بھی برتا گیا ہے۔ ان میں کہیں متانت اور گمبھیرتا ہے، کہیں طنز اور شوخی ، معاشرتی سیاق کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ لفظ بھی اپنے آپ کو اندر سے بدلتے جاتے ہیں۔ مجرد بیانات سے زیادہ توجہ یہاں ٹھوس، ارضی اور جان دار استعاروں پر کی گئی ہے اس لیے ، ’’چاندنی بیگم‘‘ میں عام انسانی صورت حال کہیں بھی باتوں سے بوجھل نہیں ہونے پاتی:
’’گل عباس دس سال کی تھی جب —ہم حنیفن بوا کے ساتھ یہاں آئے تھے، بمبئی جانے سے پہلے —‘‘
’’ہاں۔ جرمن کی لڑائی چل رہی تھی—اور ممتاز شانتی کی بسنت—‘‘
’’گلاب فلمی ویلن موہن کی طرح اینڈ کر چلتے ہوئے وارد ہو چکے تھے—کٹوردان اور نان کی پوٹلی ماں کے سامنے رکھی۔ باپ کی بات سن کر بولے—’’واہ ابا واہ،بہت اچھے۔ یہ سالے اشراف مردار خور نہیں ہیں اور نیتا لوگ۔ ڈھونگی ، لٹیرے۔ بے گناہوں کو پل کی پل میں یہ سالے بھنو ڈالیں۔ حرام کی کمائی یہ کھائیں۔ ڈوم ہم کہلائیں!‘‘
’’اس کا باپ ، بھائی مکہ مدینہ میں ایرکنڈیشنڈگاڑیاں ڈرائیور کرنے چلا گیا ہے۔ حاجی لوگ بومبے سے فلائی کرتا ہے‘‘— بازی گر بولا — ’’ٹھیک ہے۔ مگر میاں بھائی کو اسلام کی شان اونٹ ہی میں دکھتا ہے۔ اونٹ اور کھجورکا پیڑ اس کی آنکھ کی پتلی میں کھڑا ہے—‘‘
سیاہ مخملیں ٹوپی اتار کر عمر رسیدہ بنن خاں نے سر پر ہاتھ پھیرا۔ ’’بالے میاں کی بیرق کے میلے، ہماری طرف بھی جگہ جگہ ہو ہیں مگر— ٹیلی ویزن سے ہماری بدھیا بیٹھ گئی— کلیر شریف کی نو چندی میں مشور عالم ناچ گانا ہوتا تھا ایک زمانے سے — لوجی، دس پندرہ سال ادھر مولویوں نے اسے بھی بند کرادیا—‘‘ ماسٹر جی نے خاموشی کے ساتھ اظہار افسوس کیا۔
’’اور سرکار ریچھ بندر نچانے والوں کو پیرس بھیج رہی ہے۔‘‘
’’فارن میں نو چندی بھی ہونے لگی؟‘‘
’’نہیں صاحب۔ ہندوستانی میلہ۔ ڈھول۔ تاشے۔ نفیری جنگلیوں کے اچھل کود، ہبوڑنیں، پہاڑنیں سب چلی جا رہی ہیں۔ ‘‘
’’قرآن شریف میں باری تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم زمانے کے لوگوں میںادلا بدلا کرتے ہیں۔‘‘بنن خاں آنکھ بند کر کے جھوم گئے۔ پھر بولے۔ ’’حق ہے — تو ماسٹر ، پھر ہوا بٹوارہ۔ منشی جی کی آل اولاد چلی گئی پاکستان۔ اب دیکھو تو قلعہ کھنڈر اور اس کے اندر جنگل کھڑا تھا۔‘‘
’’بنن خاں‘‘ موگرے نے بہت گہری سانس بھری‘‘ ہمارے تمھارے اندر بھی چنگل کھڑے ہیں۔‘‘
شور مچاتی چڑیاں درختوں کی طرف آ رہی تھیں۔
’’وکی ماموں کہتے ہیں پرندوں میں بھی پیغمبر آتے ہوں گے۔ ‘‘
’’ انھیں پیغمبروں کی ضرورت نہیں۔ ‘‘ لیلیٰ نے پلکوں پر انگلیاں پھریں—‘‘ ’’میں جنگلوں میں بہت رہی ہوں۔‘‘
اس طرح کے نکات اور حوالوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے، چاندنی بیگم کو دیکھا جائے تو قرۃ العین حیدر کے تخلیقی رویوں اور رابطوں کی ایک نئی دستاویز سامنے آتی ہے۔ ایک بہت بھری پری، آباد، حقیقی اور رنگا رنگ دنیا جہاں تصورات پر چہروں اور واقعات اور تجربوں کی نشانیاں ثبت ہیں۔ جہاں مشاہدہ احساسات میں گم نہیں ہوتا۔ جہاں زمین ہماری قدموں کے نیچے بھی ہوتی ہے اور آنکھوں کے سامنے بھی۔    قرۃ العین حیدر کی بصیرت کے پیمانے اور وسیلے نہیں بدلے۔ مگر ان سے کام لینے کا طریقہ ضرور بدلا ہے۔ حقیقتوں کا ادراک اب قرۃ العین حیدر نے اپنی قائم کردہ روایت کے اثر سے نکل کرایک نئی سطح پر کرنا چاہا ہے۔ اسی لیے، ’’آگ کا دریا‘‘ کو اردو فکشن کی تاریخ کا سب سے بڑا سنگ میل مان لینے کے باوجود، میں اسے ایک گزرے ہوئے اور دور افتادہ تجربے کے طور پر دیکھتا ہوں۔ ’’آخر شب کے ہم سفر‘‘، ’’ کار جہاں دراز ہے‘‘، ’’گردش رنگ چمن‘‘ اور ’’چاندنی بیگم‘‘  میں قرۃ العین حیدر نے زندگی کے اسرار اور تخلیقی تجربے کی کچھ ایسی جہتیں دریافت کی ہیں، ایسی صورتیں وضع کی ہیں جن کا سراغ ’’آگ کا دریا‘‘ میں نہیں ملتا۔ ان کے رویوں میں اور فن کارانہ برتاؤ میں تبدیلی کا عمل اتنا دھیما اور پیچیدہ رہا ہے کہ ہم اسے تبدیلی کے طور پر اکثر دیکھ نہیں پاتے۔ بس اس کے نقطۂ نظر اور موضوع کی اوپری پر توں میں الجھ کر رہ جاتے ہیں۔ تحت الارض ارتعاشات ہماری گرفت میں نہیں آتے۔
میں ’’ چاندنی بیگم ‘‘ کو قرۃ العین حیدر کی حسیت کے سفر اور اردو فکشن کی تاریخ میں ایک نئے واقعے کے طور پر دیکھتا ہوں۔ ’’چاندنی بیگم ‘‘سے پہلے ناولوں میں اس واقعے کا ایک پس منظر، ایک عقبی پردہ تو دکھائی دیا تھا مگر تجربے کی یہ نئی سطح اچھی طرح کھل کر سامنے نہیں آئی تھی۔ ’’ دل ربا ‘‘ اور ’’اگلے جنم موہے بٹیا نہ کیجو ‘‘ بڑے کینوس کی تصویروں پر داد بیداد اور فلسفہ طرازی کے ہنگامے میں پیچھے جا پڑے۔ ’’چاندنی بیگم ‘‘ قرۃ العین حیدر تحریروں کے سیاق میں، ایک بھولی ہوئی بات کو یاد دلانے کا بہت موثر اور طاقت ور ذریعہ بن کر سامنے آئی، اور یہ کتاب اس حقیقت پر اصرار کرتی ہے کہ قرۃ العین حیدر کی بصیرت کا سلسلہ ’’ آگ کا دریا ‘‘سے آگے بھی پھیلا ہوا ہے، ایک منفرد معاشرتی اور تخلیقی تجربے کی شکل میں۔ اس تجربے کی کڑیاں ہماری علاقائی زبانوں کے ادب کی روایت ، ہماری لوک روایت سے جا ملی ہیں۔ مشرقی بیانیے اور مشرق کی قصہ گوئی کے آلات اور اسلحے، آداب اور طور طریقے اس کے اپنے ہیں۔ قرۃ العین حیدر کے حوالے سے مغربی افکار اور اسالیب پر طبع آزمائی بہت ہو چکی۔ ہمارے فکشن پر مغرب کے اثرات، بے شک، پڑتے رہے ہیں۔ مگر قرۃ العین حیدر کے معاملے میں خرابی یہ پیدا ہوئی کہ ہم لوگ آزاد تلازمۂ خیال اور شعور کی رو کے مباحث میں ضرورت سے کچھ زیادہ الجھ گئے، کبھی کبھی تو ان کا مطلب اور مفہوم اچھی طرح سمجھے بغیر۔ اسی لیے قرۃ العین حیدر کی تحریریں آج بھی، بہت سے سادہ لوح ناقدین کو مغرب کی روایت میں الجھی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ ’’کارجہاں دراز ‘‘ ہے قرۃ العین حیدر نے اس متھ کو توڑنے کی کوشش کی تھی۔ ’’ چاندنی بیگم ‘‘ ان کے اپنے قائم کیے ہوئے فنی ضابطوں ، لسانی رویوں اور عادتوں، آزمائے ہوئے اسالیب سے خود کو کچھ اور آزاد کرنے کی ایک کوشش بھی ہے۔ اس کوشش کے آثار ’’ گردش رنگ چمن ‘‘ میں بھی نمایاں ہیں، ہر چند کہ ’’دل ربا ‘‘ اور ’’ اگلے جنم موہے بٹیا نہ کیجو ‘‘ میں اس کی سطح زیادہ معین اور مرتکز ہے۔ ان میں ہماری عوامی روایت اور حکائی روایت کے عناصر خاصے سرگرم ہیں اور ’’ چاندنی بیگم ‘‘ میں تو ان عناصر کے عمل دخل نے ارضیت کاحر، فطرت کے مظاہرسے ہم آہنگی کا ، اور ان سب کے واسطے سے اپنی زندگی اور اپنے وقت کو سمجھنے کا جو ماحول مرتب کیا ہے، وہ قرۃ العین حیدر کے پچھلے تمام ناولوں سے زیادہ منور ہے۔ موگرا، بیلا، چنبیلی، چاندنی کرداروں کے نام بھی ہیں اور استعارے بھی۔ ان کرداروں کے ساتھ صرف انھی کی شبیہیں نہیں ابھرتیں، احساس اور خیال کے کچھ موسم اور دور پاس کی بستیوں میں ایک عنصری سادگی سے مالا مال، لاپروائی کے انداز میں بکھری ہوئی کچھ سچائیاں بھی سامنے آتی ہیں۔ یہ زندگی کی عام اور معمولی سطح پر گھنے اور گہرے بھیدوں تک رسائی کا قصہ ہے۔ یہ قصہ اس طور پر ہمیں قرۃ العین حیدر ہی سنا سکتی تھیں۔

پتہ :
شمیم حنفی

B-114, Zakir Bagh

سہ ماہی ’ فکر و تحقیق، جنوری تا مارچ 2008

28/5/20

گیان چند جین کی ’’پرکھ اورپہچان‘‘ مضمون نگار : سرور الہدیٰ





گیان چند جین کی ’’پرکھ اورپہچان‘‘
سرور الہدیٰ
گیان چند جین کی علمی و ادبی کار گزاریاں کم و بیش نصف صدی پر محیط ہیں۔ ان کی پہلی شناخت تو  ایک محقق کی ہے لیکن ایک ادبی نقاد کے طور پر بھی انھوں نے اپنی تنقیدی و تجزیاتی صلاحیتوں کا اظہار کیا ہے۔ عموماً ہمارے خالص محقق تنقیدی مسائل و نظریات سے کوئی خاص تعلق نہیں رکھتے۔ گذشتہ چند دہائیوں میں پروفیسر نثار احمد فاروقی بھی اس فاصلے کو کم کرنے کی کوشش کرتے رہے۔
گیان چند جین کو میں نے کبھی دیکھا نہیں ۔وہ گذشتہ چند برسوں سے سخت علیل تھے، امریکہ میں قیام تھا اور وہیں ان کا انتقال ہوا۔ جین صاحب کے سلسلے میں اختلافات کا سامنے آنا غیر فطری نہیں کسی محقق یا قلم کار کی خدمات کا اعتراف کسی ایک کتاب کی روشنی میں بھی کیا جا سکتا ہے اسی طرح اعتراضات درج کرنے کے لیے بھی کسی ایک کتاب کو حوالہ بنایا جا سکتا ہے لیکن اعتراف یا اعتراض کی یہ دونوں صورتیں صاحب کتاب کے پورے علمی و ادبی مفر کا احاطہ نہیں کرتیں۔ گیان چند جین ایک اعلیٰ درجے کے محقق تھے اور ان کا علمی و ادبی سرمایہ اردو زبان میں ہے۔ ادب کے ہر سنجیدہ طالب علم کی یادداشت میں ان کی کوئی نہ کوئی تحریر ضرور ہو گی۔ جین صاحب کی ایک پوری کتاب تحقیق کے فن پر ہے جس کا نام ہی ’’تحقیق کا فن‘‘ ہے۔ یہ کتاب اپنے موضوع پر بنیادی کتاب ہے ۔اس کے موضوعات وسائل سے تحقیق کے تئیں جین صاحب کی حساسیت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ ان کی دیگر کتابیں ’’اردو کی نثری داستانیں‘‘ ، ’’تحریریں‘‘، اردو مثنوی شمالی ہند میں ‘‘، تفسیر غالب‘‘، ’’لسانی مطالعے‘‘،  ’’تجزیے‘‘،  ’’رموز غالب‘‘، ’’ حقائق‘‘،  ’’ذکرو فکر‘‘،  ’’عام لسانیات‘‘،  ’’ابتدائی کلام اقبال‘‘ ،  ’’کھوج‘‘، ’’مقدمے و تبصرے ‘‘ ،  ’’اردو ادب کی تاریخ‘‘  اور ’’پرکھ اورپہچان‘‘ کسی نہ کسی حوالے سے موضوع گفتگو رہی ہیں۔ میں نے ان کی کتاب ’’پرکھ اور پہچان‘‘ کو اپنے مطالعے کا موضوع بنایا ہے۔ کتاب میں تیس (30) مضامین ہیں اور ان کی ترتیب و اشاعت کا خیال انھیں کیوں آیا اس تعلق سے جین صاحب نے بس اتنا لکھا ہے :
’’میرے پچھلے مجموعۂ مضامین’’ ذکرو فکر‘‘ کی اشاعت کے بعد میرے بہت سے مضامین جمع ہو گئے ہیں۔ میں نے انھیں دو مجموعوں میں تقسیم کر دیا۔ پہلا ’’کھوج‘‘ جس میں زیادہ تر تحقیقی مضامین ہیں دوسرا ’’پرکھ اور پہچان‘‘ جس میں دو قسم کے مضامین ہیں، پہلے حصے میں تنقیدی دوسرے میں ادبی شخصیات سے متعلق۔‘‘
میں نے مضمون کی ابتدا میں لکھا ہے کہ جین صاحب ایک محقق ہیں لیکن تنقید میں بھی ان کی دلچسپی قائم رہی ہے۔ اس کا بہترین نمونہ کتاب کا پہلا ہی مضمون اسلو بیاتی تنقید پر ایک نظر ہے۔ ہماری موجودہ تنقید اسلوبیاتی تنقید سے بہت آگے نکل چکی ہے لیکن اسلوبیاتی تنقید کے نمونے عہد حاضرکے اہم نقادوں کے یہاں اب بھی مل جاتے ہیں۔ اس لحاظ سے اسلوبیاتی تنقید کا یہ مطالعہ قصۂ پارینہ نہیں۔ میری رائے تو یہ ہے کہ اسلوبیاتی تنقید پر اس سطح کا کوئی اور مضمون سامنے نہیں آیا۔ انھوں نے اردو میں اسلوبیاتی تنقید کے سیاق میں گوپی چند نارنگ ، مسعود حسین خاں، مغنی تبسم اور خلیل احمد بیگ کا خاص طور سے ذکر کیا ہے۔ اسلوبیاتی تنقید کی تعریف کے تعلق سے شمس الرحمن فاروقی کا ایک اقتباس بھی لگایا ہے۔ اسلوبیاتی تنقید کی نار سائیوں کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے لکھا ہے :
’’یہ یقینی ہے کہ مفرد صوت کے کوئی معنی نہیں ہوتے اس لیے یہ جذبہ بھی نہیں ہو سکتی۔ لفظ میں معنی ہوتے ہیں لیکن پورے معنی جملے میں آکر ہی اجاگر ہوتے ہیں۔ آوازوں سے آہنگ اور موسیقیت متعین ہوتی ہے اوربس ۔لیکن کسی ایک آواز مثلاً م، ن  وغیرہ سے یہ نہیں ہو سکتا کیوں کہ نثری جملے یا مصرعے میں اس مخصوص آواز کے علاوہ دوسری آوازیں مجموعی طور پر اس سے کہیں زیادہ تعداد میں ہوتی ہیں۔ اسلوبیات لکھنے والوں نے یہ ستم کیا ہے کہ انھوں نے مفرد آواز میں معانی بسا دیے ہیں۔ انھوں نے شعر کے معنی کو دیکھ کر اسے من مانے طور پر کسی ایک آواز سے منسوب کر دیا ،یہ دیکھنے اور سوچنے کی زحمت نہ کی کہ یہ آواز پورے کلام کی آوازوں کی دس فیصد بھی نہیں۔ ‘‘     (’’پرکھ اور پہچان‘‘، ص۔ 3,4)
جین صاحب کا یہ اقتباس در اصل مرزا خلیل بیگ کے درج ذیل موقف کا جواب ہے:
’’آوازیں محض آوازیں نہیں ہوتیں یا مختلف مخارج سے مختلف انداز ادائیگی کے ساتھ پھیپھڑوں سے محض ہوا کے رخ خارج ہونے کا نام نہیں بلکہ آواز ایک جذبہ ہوتی ہے، ایک احساس اور ایک کیفیت ہوتی ہے ... جس آواز میں جتنی تکرار ہو گی اتنے ہی زیادہ معنی اس میں پنہاں ہوں گے۔‘‘
مرزا خلیل بیگ نے آواز کو جذبے اور کیفیت سے مشروط تو کیا ہے لیکن وہ یہ نہیں کہتے کہ آواز میں کوئی معنی ہوتے ہیں۔ جین صاحب نے صحیح لکھا ہے کہ وہ’’ مفرد صوت کے کوئی معنی نہیں ہوتے ۔‘‘ اس کے ساتھ ہی وہ یہ اضافہ بھی کرتے ہیں کہ ’’اس لیے یہ جذبہ بھی نہیں ہو سکتی۔‘‘ میرا خیال یہ ہے کہ خلیل بیگ آواز کو محض کیفیت ہی کا نام دینا چاہتے ہیں اور انھوں نے جذبے اور احساس جیسے الفاظ کو بھی کیفیت ہی کے معنی میں استعمال کیا ہے لیکن جین صاحب نے اس سے یہ پہلو بھی نکالا کہ اگر صوت کے معنی نہیںہوتے تو اس میں جذبہ کیوں کر ہو سکتا ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ بعض آوازیں ہمارے فکرو احساس کی دنیا کو متاثر کرتی ہیں گرچہ اس میں تاثیر پذیری کو ہم کوئی نام یا معنی نہیں دے سکتے۔ گوپی چند نارنگ نے صوت کے تعلق سے بڑی متوازن رائے دی ہے :
’’صوت کی سطح خالص آہنگ کی سطح ہے لیکن اگر اس سے یہ فرض کر لیا جائے کہ آہنگ سے مراد معنی کی کل نفی ہے تو یہ بھی غلط ہو گا کیوں کہ اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ آہنگ سے ایک کیفیت پیدا ہوتی ہے جس سے فضا سازی یاسماں بندی میں مدد ملتی ہے اور یہ فضا سازی کسی بھی معنیاتی تاثر کو ہلکا گہرا یا تیکھا کر سکتی ہے۔ ‘‘
گیان چند جین کو مرزا خلیل بیگ کے استعمال کیے ہوئے لفظ جذبے اور احساس سے یہ مغالطہ ہوا کہ وہ جذبے اور احساس کو معنی کے مترادف سمجھتے ہیں لیکن خود جین صاحب اسی اقتباس میں لکھتے ہیں کہ آوازوں سے آہنگ اور موسیقیت متعین ہوتی ہے۔ گوپی چند نارنگ کے نزدیک آہنگ کا مطلب معنی سے مکمل انکارنہیں ہے بلکہ وہ تو یہاں تک لکھتے ہیں کہ آہنگ سے پیدا ہونے والی کیفیت معنی کے تاثر کو ہلکا یا گہرا کر سکتی ہے۔ گیان چند جین کو اول اختلاف در اصل مرزا خلیل بیگ کے اس جملے سے ہے :
 ’’جس آوازکی جتنی تکرار ہوگی اتنے ہی زیادہ معنی ان میں پنہاں ہوں گے۔‘‘
مرزا خلیل بیگ کا مضمون ’’شعری اسلوب کا صوتیاتی مطالعہ ‘‘ (جس سے مندرجہ بالا اقتباس لیا گیا ہے)  میرے سامنے نہیں ہے ورنہ یہ دیکھا جا سکتا تھا کہ خلیل بیگ نے آوازوں کی تکرار سے معنی آفرینی کی بات کس سیاق میں کی ہے۔ گیان چند جین نے مسعود حسین خاں ، مرزا خلیل بیگ اور مغنی تبسم کی اسلوبیاتی تنقید کا بہت حد تک جائزہ پیش کیا ہے اور اپنی بات کو دلیل اور مثال سے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ جب حروف اور الفاظ کو کسی مخصوص کیفیت کے اظہار کا وسیلہ سمجھا جاتا ہے ۔ جین صاحب نے ان مفروضوں کو رد کرتے ہوئے اسی کیفیت کے اظہار میں دوسرے حروف کو بہ طور مثال پیش کیا ہے۔ گیان چند جین کے یہ الفاظ ملاحظہ کیجیے :
’’ڈاکٹر مسعود حسین خاں نے غالب کو اس لیے سراہا تھا کہ ان کے نزدیک اس کے قوافی مصوتوں پر ختم ہوتے ہیں (اتفاق سے وہ مصمتوں پر ختم ہونے والی غزلوں کو نظر انداز کر گئے) اس کے برعکس ڈاکٹر نارنگ انیس کے اس لیے مداح ہیں کہ اس کے بیشتر قوافی مصمتوں پر ختم ہوتے ہیں جبکہ دبیر کے یہاں صورت حال اس کے برعکس ہے...قافیے کا مصمتے یا مصوتے پر ختم ہونا اہم نہیں، اہم یہ ہے کہ قافیہ اور ردیف کا صوتی اجتماع یعنی ’’زمین‘‘ کتنی شگفتہ ہے۔ مصوتے یا مصمتے سے فرق نہیں پڑتا۔ ترنم کی صورت میں ممکن ہے جیسا کہ حسب ذیل مثالوں سے ظاہر ہوگا۔
(1) قافیے کے آخر اور ردیف کے شروع میں مصمّۃ
             ساری مستی شراب کی سی ہے              (میر)
             کوئی امید بر نہیں آتی                          (غالب)
(2) قافیے کے آخر اور ردیف کے شروع میں مصوّتہ
             ہم سے کھل جاؤ بہ وقت مے پرستی ایک دن   (غالب )
             کوئی دم گر زندگانی اور ہے                  ( غالب)—‘‘
جین صاحب نے کچھ اور مثالیں بھی دی ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اسلوبیاتی تنقید کی  نار سائیوں پر گہری نظر رکھتے ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ’’کسی مخصوص مصمتے یا مصوتے سے کوئی معنی یا کیفیت منسوب کر دینا ایک مغالطہ ہے۔‘‘
اس بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے جین صاحب ساختیاتی فکر تک آتے ہیں گو کہ انھوں نے کسی اصطلاح یا فرد کا نام نہیں لیا ۔ وہ لکھتے ہیں :
’’یاد رہے کہ زبان کی تعریف میں یہ کہا جاتا ہے کہ یہ من مانی لسانی کوڈ ہے (ARBITRARY VOCAL CODE)  یعنی اس میں لسانی نسبت کا مفہوم سے کوئی رشتہ نہیں ہوتا۔ اگر ہوتا تو گرم کہنے سے ہونٹ جل جاتے۔‘‘
گویا کسی لفظ سے کوئی خاص مطلب سمجھنے کا عمل من مانی ہے اور زبان Parole  اور  Kabgye  سے وابستہ ہے۔
اس کتاب کا دوسرا اہم مضمون ’’اقبال کامنسوخ اردو کلام ‘‘ ہے۔ اقبال کا یہ منسوخ اردو کلام کتابی شکل میں سامنے آچکا ہے۔منسوخ کلام کے سلسلے میں لوگوں کا مختلف الرائے ہونا فطری ہے۔ اگر کوئی فن کار اپنے منسوخ کلام کو منسوخ کرنے کی علمی و ادبی دلیلیں بھی پیش کرے تو بھی یہ ضروری نہیں کہ کوئی قاری ان سے اتفاق ہی کرے۔ غالب کا منسوخ کلام جو’’ نسخۂ حمیدیہ ‘‘کے نام سے موسوم ہے وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ اس سے ہماری دلچسپی میں اضافہ ہوتا رہا۔ لہٰذا کسی فنکار کا اپنے کلام کو رد کر دینے کے اسباب پر غور کرنا اہم تو ہے لیکن اس بارے میں کوئی حتمی یا قطعی بات نہیں کی    جا سکتی، یہ سارا معاملہ گمان اور اندازے سے تعلق رکھتا ہے۔ ظاہر ہے کہ گمان اور اندازے میں فن کار کی فکری ترجیحات اور اس کے بدلتے ہوئے رویے کو بڑی اہمیت حاصل رہے گی۔ اقبال نے اپنے کچھ کلام کو مجموعے میں شامل کرنا ضروری نہیں سمجھا۔ اس سے اپنے کلام کے تئیں ان کی حساسیت کا پتہ چلتا ہے۔ جین صاحب نے اس اہم مسئلے پر جو گفتگو کی ہے وہ نہایت ذمہ دارانہ ہے۔ وہ اپنی کسی بات پر اصرار نہیں کرتے۔ اپنے کلام کے کچھ حصے کا متکلم کی نظر میں کم رتبہ ہو جانا کبھی کبھی دھوکے اور مغالطے کا نتیجہ بھی ہوتا ہے لیکن کیا اقبال کے سلسلے میں یہ بات کہی جا سکتی ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب ادب کا ہر سنجیدہ قاری اپنے اپنے طور پر پردے سکتا ہے۔ عبد الواحد معینی نے اپنی مرتبہ کتاب ’’باقیات اقبال‘‘ کے پیش لفظ میں اقبال کے منسوخ کلام کے تعلق سے جس خیال کا اظہار کیا ہے جین صاحب کو اس سے اتفاق نہیں جین صاحب لکھتے ہیں :
’’گو یا منسوخ کلام محض اس وجہ سے حذف ہوا کہ’’ بانگ درا‘‘ کی ترتیب کے وقت وہ ان کی نظر اور ذہن سے اوجھل تھا ،یہ بات تسلیم نہیں کی جا سکتی۔‘‘  ( ص۔ 30-31 )
محمد انور حارث کی مرتبہ کتاب ’’رخت سفر‘‘ اور غلام رسول مہر کی ’’ سرودِ رفتہ ‘‘ کے دیباچوں میں منسوخ کلام کے سلسلے میں جو مفروضات ہیں وہ جین صاحب کو زیادہ اپیل کرتے ہیں۔ ان دونوں کی رایوں سے بحث کرنے کے بعد وہ لکھتے ہیں:
’’اقبال کے منسوخ کلام کے مرتبین نے عموماً اور ’’سرودِ رفتہ ‘‘کے مرتب غلام رسول مہر نے خصوصاً بڑا معقول جواز پیش کیا ہے کہ جس کلام کو شاعر نے قلم زد کر دیا اسے منظر عام پر کیوں لایا جائے۔ غالب کے منسوخ کلام کی اشاعت کے بعد کسی قسم کے جواز کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ ہاں ناقدین اقبال پر اتنی تحدید لازم آتی ہے کہ وہ منسوخ کلام کی بنا پر شاعر پر کوئی اعتراض نہ کریں۔ ‘‘  (ص۔32 )
گیان چند جین عطیہ فیضی کے نام اقبال کے ایک خط (7جولائی1911)کا حوالہ دیتے ہیں جس میں اقبال اپنی نظموں کو پرائیویٹ نوعیت کے ذیل میں رکھتے ہیں اور انھیںیہ فکر ستاتی ہے کہ یہ نظمیں شائع نہ ہو جائیں۔ وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ میں نے کچھ کو تو ’’کلیۃً‘‘ تلف کر دیا۔ اقبال کے اس بیان سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے تعلق سے کس قدر ہوشمند اور حساس تھے۔ اس خط سے یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ اقبال نے ایک مخصوص زمانہ کی مخصوص تخلیقات کو ضائع کر دیا اور ان کے چھپنے کی نوبت ہی نہیں آئی۔ گمان ہے کہ اگر یہ تخلیقات رسالوں میں شائع بھی ہو جا تیں تو بھی اقبال انھیں منسوخ کلام کا حصہ بنا دیتے لیکن جین صاحب نے اس خط کی روشنی میں اس جانب کوئی اشارہ نہیں کیا۔
گیان چند جین نے ان کی ایک منسوخ نظم ’’ابر گہر بار‘‘  یا  ’’فریاد امت‘‘ کا ذکر کیا ہے۔ اسی نظم کا یہ شعر زبانوں پر ہے مگر بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ یہ اقبال کا ہے :
زاہد تنگ نظر نے مجھے کافر جانا
اور کافر یہ سمجھتا ہے مسلماں ہوں میں
گیان چند جین اقبال کی وطن پرستی اور انسان دوستی کو اقبال کی طاقت سمجھتے ہیں لیکن اس کی شکایت ہے کہ رفتہ رفتہ اقبال کی وطن پرستی ملت پرستی کی طرف مائل ہوتی ہوگئی۔ ان کے الفاظ میں :
’’اقبال کا ذہنی ارتقا وطن پرستی سے ملت پرستی کی طرف ہوا۔ ان کے ابتدائی کلام میں قوم پرستی نیز مذہبی ہم آہنگی کے جو اشعار اتنے شدید تھے کہ ان کے بعد کے مسلک پروار کرتے تھے ،انھیں خارج کر دیا ...نظم’’ صدائے درد‘‘ کا ہندوستان کے مختلف فرقوں کے نفاق کی وجہ سے شاعر ہندوستان سے ہجرت کر کے وسط ایشیا چلا جانا چاہتا ہے ... ’’ہندوستانی بچوں کا قومی گیت ‘‘میں سے وہ بند خارج کر دیا جس میں بدھ مت ، مسیحیت اور اسلام سب کو ایک صف میں کھڑا کر دیا تھا...۔‘‘ (ص۔39,40,41)
گیان چند جین کو اقبال سے اسی قسم کی کچھ اور شکایتیں ہیں۔ اقبال کے ہر قاری کو اقبال سے اپنے طور پر مکالمہ کرنے کا حق ہے اور یہ حق کو ئی چھین نہیں سکتا اس لیے بھی کہ اقبال اول و آخر شاعر ہیں اور ان کا فکری و فنی کینوس بہت سے سوالات پیدا کرتا ہے۔ گیان چند جین اقبال کے تعلق سے بار بار ان کی انسان دوستی کو یاد کرتے ہیں لیکن ایک مقام پر ان کے ایک منسوخ نظم کے سیاق میں لکھتے ہیں:
’’افسوس کہ انسان دوستی کی اتنی ارفع نظم جو ملت اور وطن سے بلند تر ہے ان کے بعد کے مسلک کی وجہ سے گردن زدنی کر دی گئی۔‘‘ (ص۔ 42)
’’ان کے بعد کے مسلک اس فقرے سے واضح ہے کہ گیان چند جین کے نزدیک اقبال کے بعض نظموں یا اشعار کے منسوخ ہونے میں اقبال کی مخصوص فکر کا اہم کردار ہے۔ یہ بات بعض دوسرے لوگ بھی کہتے رہے ہیں کہ اقبال کہاں سے چلے اور کہاں پہنچے۔ گیان چند جین ایک صاحب نظر محقق تھے۔ انھیں یہ کون بتاتا کہ بعد کے مسلک کے باوجود اقبال کے ہاں انسان دوستی کا بلند تر  تصور موجود ہے۔ کچھ مخصوص تاریخی و تہذیبی حوالے اقبال کی شاعری کو کسی فرقے اور طبقے میں بند نہیں کرتے۔ اب یہاں شمس الرحمن فاروقی کا تنقیدی رویہ اصرار کرتا ہے کہ اقبال کو افکار و موضوعات کی روشنی میں نہ دیکھ کر ان کے شعری طریقۂ کار کی روشنی میں دیکھنا چاہیے۔ ظاہر ہے کہ فاروقی کے اس ادبی موقف کو پورا ادبی معاشرہ اپنا موقف نہیں بنا سکتا لیکن ایسی مثالیں موجود ہیں جس میں اقبال کو بطور شاعر دیکھنے اور پرکھنے کی کوشش کی گئی ہے اور اقبال کے افکار کو شعری طریقۂ کار کا پابندسمجھا گیا ہے۔ اس سے یہ مطلب نہ نکالا جائے کہ ہاں لفظ ومعنی کی ثنویت کی طرف اشارا ہے۔ گیان چند جین نے اقبال کے منسوخ کلام پر گفتگو کرتے ہوئے ادب کے ادبی معیار کو نظر انداز تو نہیں کیا ہے لیکن یہ پہلو دب سا گیا ہے۔ اقبال کی منسوخ غزلوں کے سیاق میں جین صاحب نے پختہ، فن اور بلندی جیسے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ اقبال کی منسوخ غزلوں یا غزلیہ اشعار کو محض افکار و موضوعات کی روشنی میں نہیں دیکھتے۔ انھوں نے لکھا ہے :
’’بعض تو فن کی بلندی پر فائز ہیں۔ انھیں ترک کرنے کی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان کے بعض اشعار حذف کر دیے جاتے ۔‘‘ ( ص۔47)
جین صاحب مضمون کے اختتام پر رقمطراز ہیں :
’’ظاہر ہے کہ اقبال نے اپنی قلندرانہ بے نیازی کے سبب کوئی بیا ض نہیں بنائی تھی۔ ’’بانگ درا‘‘ کی ترتیب کے وقت انھوں نے کلام کے جمع کرنے میں کوئی توجہ نہیں کی ورنہ کئی پختہ نظمیں اور متعدد خوشگوار و پختہ غزلیں اس طرح حلقۂ بیرون کی طرح مجموعوں سے باہر نہ رہ جاتیں ۔ اقبال جتنے بڑے  شاعر تھے کاش اس پائے کے مدوّن بھی ہوتے۔‘‘ (ص۔49)
 ظاہر ہے کہ جین صاحب کی پہلی رائے سے دوسری رائے مختلف ہے اور غیر شعوری طور پر وہ   عبد الواحد معینی کی رائے سے متفق ہو جاتے ہیں۔
میری طالب علمانہ رائے یہ ہے کہ اقبال کے منسوخ کلام پر اب تک کا یہ نہایت اہم مضمون ہے اور اس کی اہمیت ہمیشہ باقی رہے گی۔
قاضی عبد الودود پر ان کی ایک کتاب ’’قاضی عبد الودود بحیثیت مرتب متن‘‘ شائع ہو چکی ہے۔ اس کتاب میں ان کا ایک مضمون ’’قاضی عبد الودود اور میں ‘‘ بھی شامل ہے۔ عنوان سے ظاہر ہے کہ جین صاحب اپنے ذاتی تجربوں کی روشنی میں قاضی صاحب کو دیکھنا اور دکھانا چاہتے ہیں۔       قاضی صاحب اور جین صاحب اب دونوں ہی ہمارے درمیان نہیں ہیں۔ قاضی صاحب کی تحقیقی کوتاہیوں کی گرفت کی گئی اور یہ سلسلہ ان کی زندگی سے ہی شروع ہو گیا تھا لیکن ان کے تحقیقی امتیازات اپنی جگہ مسلم ہیں۔ جین صاحب نے ان کی تحقیقی زبان اور طریقۂ کار کی کوتاہیوں کو جس انداز سے پیش کیا ہے ان کا اطلاق قاضی صاحب کی تمام تحریروں پر نہیں ہوتا۔ یہاں ان کی تفصیل میں جانے کا موقع نہیں ہے ورنہ میں جین صاحب کے ایک ایک اعتراض سے بحث کرتا۔ ہوتا یہ ہے کہ کسی کے بارے میں اگر موثر طریقے پر کچھ عمومی باتیں بیان کر دی جائیں تو وہ مرکز نگاہ بن جاتی ہیںاور ادب کا عام قاری تمام تفصیلات کو سامنے رکھ کر ان عمومی باتوں کا جائزہ نہیں لیتا۔ اس میں شک نہیں کہ قاضی صاحب اپنے بارے میں نہایت حساس تھے اور وہ اپنی کوتاہیوں کو قبول کرنے کے سلسلے میں بہت  فراخ دل نہیں تھے لیکن اس سے یہ کہاں ثابت ہوتا ہے کہ وہ تحقیقی نقطۂ نظر سے کم رتبہ تھے۔ جین صاحب نے اپنے ایک مضمون کا حوالہ دیا ہے جو قاضی صاحب سے متعلق تھا۔ جین صاحب کا خیال ہے کہ وہ اس مضمون سے ناراض ہو گئے لیکن خود جین صاحب کا یہ خیال قاضی صاحب کی علمی و ادبی شخصیت کے ساتھ انصاف نہیں کرتا کہ :
’’ان کے پاس مواد تھا، لیکن ان کا ذہن اسے ترتیب نہ دے سکتا تھا اس لیے وہ کوئی کتاب نہ لکھ سکے، لکھ بھی نہیں سکتے تھے ۔کتاب تو درکنار وہ ایک مسلسل منضبط مضمون لکھنے کے لیے بھی ذہن کو مرکوز نہ کر سکتے تھے۔
 رسالہ ’’آج کل ‘‘ کے اردو تحقیق نمبر میں اصول تحقیق کے مہتم بالشان مضمون کی ابتدا میں صراحت کرتے ہیں :
’’اصول تحقیق پر کوئی باقاعدہ مقالہ لکھنا مد نظر نہیں، چند سر سری باتیں جب ترتیب سے ذہن میں آئیں گی قلم بند کر دی جائیں گی۔‘‘
’’مرتب کر کے منطقی دروبست سے کیوں نہیں پیش کی جائیں گی وجہ صاف ہے کہ وہ تحقیق میںغزل کی ریزہ خیالی سے بڑھ کر ترتیب کی منزل تک نہیں پہنچ سکتے تھے۔‘‘  (ص۔ 20)
گیان چند جین کے یہ الفاظ قاضی صاحب سے ان کی ذاتی رنجش کا اظہار ہیں۔ قاضی صاحب کا ذہن مرتب نہیں تھا وہ کسی مسئلے پر سنجیدگی سے صراحت کے ساتھ کچھ نہیں لکھ سکتے تھے، بہت حیرت انگیز انکشاف ہے۔ غزل پر کلیم الدین احمد کے اعتراض سے فائدہ اٹھا کر جین صاحب نے قاضی صاحب کو طنز کا نشانہ بنایا ہے۔ یہ عین ممکن ہے کہ اصول تحقیق پر وہ اس وقت بہت تفصیلی طور سے کچھ نہ لکھنا چاہتے ہوں ،اس کی کئی وجوہ ہو سکتی ہیں لیکن جین صاحب نے ان کی وہی تاویل کی جو کوئی نا راض آدمی کر سکتا ہے۔ قاضی صاحب نے باضابطہ کوئی کتاب نہیں لکھی لیکن وہ لکھ ہی نہیں سکتے تھے اس سے متفق نہیں ہوا جا سکتا۔ کسی موضوع پر ایک مضمون سیکڑوں صفحات کی کتاب پر بھاری پڑتا ہے۔ لہٰذا یہ دیکھا جا نا چاہیے کہ ان کے متفرق مضامین کس حد تک تحقیقی نقطہ ٔ  نظر سے اہم ہیں۔ ’’قاضی صاحب نے ان کلاسیکی متون یا گمنام اشخاص پر کام کیا جن کی اہمیت کچھ خاص نہیں تھی ۔‘‘ جین صاحب کا یہ اعتراض بھی قاضی صاحب کی مجموعی تحقیقی خدمات کو رد نہیں کر سکتا۔ جین صاحب نے اپنی آرا کو تقویت پہنچانے کی کوشش میںمشفق خواجہ کا ایک خط بھی درج کیا ہے جو انھوں نے جین صاحب کی شکایتوں سے اتفاق کرتے ہوئے لکھا ہے ۔ جین صاحب کا یہ مضمون اس بات کا غماز بھی ہے کہ کسی عہد کا ایک بڑا تحقیقی ذہن اپنے  دو ر کو کتنا متاثر کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ قاضی عبد الودود سے زیادہ کسی محقق نے اپنے معاصرین کو اتنا ڈرایا نہیں۔ اس کتاب میں کئی مضامین شخصی نوعیت کے ہیںاور جین صاحب نے اپنی مختلف محبتوں اور ملاقاتوں کے بعد ان شخصیات کے بارے میں لکھا ہے۔ ان میں فراق اور سرور صاحب بھی شامل ہیں۔ یہاں فراق اور سرور صاحب کے سلسلے میں ان کے دو اقتباسات پیش کرتا ہوں :
’’میں نے کہا کہ پرانا نصاب چلاآ رہا ہے میں اس کی تشکیل نو کروں گا۔ حیرت ہوئی جب انھوں نے مجھ سے کہا کہ نصاب میں کچھ ہندو شاعروں کا اضافہ کرو۔ میں خاموش رہا۔ ہندوئیت کی طرف ان کا رجحان دیکھ کر میں نے کہا کہ میرے تقرر سے پہلے فلاں صاحب نے سلیکشن کمیٹی کے ایک ممبر کو لکھا تھا کہ ا یسے محقق کو منتخب نہ کرنا جو اردو تہذیب کا فرد نہ ہو، ان کی در پردہ مراد یہ تھی کہ کسی ہندو کو (یعنی مجھے)نہ لینا۔ فراق صاحب کہنے لگے وہ ٹھیک کہتے تھے ،ہندوؤں میں تہذیب نہیں ہوتی۔ ہندو گنوار ہوتے ہیں۔ گویا چت بھی ان کی پٹ بھی ان کی۔ ‘‘ (ص ۔218-219)
آل احمد سرور صاحب کے سلسلے میں جین صاحب کے اس خیال سے :
’’ سرور صاحب کے دشمنوں کی صف پر نظر ڈالیے عظما کا نگار خانہ ہے۔ اردو کے کیسے کیسے جغادری ، شاعر، نقاد، محقق، خادم اردو دکھائی دیتے ہیں۔ اس تحقیق میں کوئی تو بات ہے کہ مخالفوں میں اتنے بڑے بڑے عمائد ادب ہیں۔ میں اگر چاہوں کہ ایسے بقراطوں کو اپنا مخالف بنا لوں تو نہیں بنا سکتا، کیوں کہ ہاتھی مینڈک کو خاطر میں نہیں لاتا۔ کیفیت، و کمیت دونوں میں سرور صاحب کے معاندوں کا معیارو مقدار دیکھ کر رشک ہوتا ہے۔ ‘‘        (ص ۔ 241)
گیان چند جین کو سرور صاحب کے معاندوں کے معیار اور مقدار کو دیکھ کر رشک آتا تھا۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ جین صاحب کے اختلاف کرنے والوں کی تعداد اچھی خاصی ہے۔ کچھ عجب نہیں کہ مخالفین کی کثرت میں کچھ اس رشک کا بھی حصہ ہو۔
گیان چند جین نے ’’بس ایک غزل‘‘ کے عنوان سے فضا ا بن فیضی کی غزل کا تجزیہ کیا ہے۔   فضا ابن فیضی کی قادر الکلامی کا سبھی اعتراف کرتے ہیں لیکن ان پر کم لکھا گیا۔ جین صاحب نے جس غزل کا انتخاب کیا ہے وہ زبان و اظہار کی سطح پر خاصی نئی معلوم ہوتی ہے۔ عموماً نئی لفظیات سے پرانا ذہن اجنبیت محسوس کرتا ہے لیکن جین صاحب فضا کی غزل کے ہرشعر پر گفتگو کرتے ہوئے اس کے حسن و قبح سے بحث کرتے ہیں۔ غزل کا مطلع ہے :
وقت تو ہے سرابوں کی اک رہ گزر کوئی جائے کہاں لے کے پیاسا بدن
دھوپ میں نا مرادی کی جلتا ہے اب پھول جیسی امنگوں کا اجلا بدن
اس غزل کے تجزیے سے اتنا تو واضح ہے کہ جین صاحب متن کے تجزیاتی مطالعے کا ایک خاص سلیقہ رکھتے ہیں اور یہ بھی کہ وہ غزل کی جمالیاتی فضا کو اپنے قاریانہ عمل کا حصہ بنا کر اسے محسوس کر سکتے ہیں۔ متن چاہتا بھی یہی ہے کہ اس کے اندرون میں داخل ہو کر اسے اس کی شرطوں پر دیکھا اور پڑھا جائے لیکن جین صاحب کا اختتامیہ غزل کے تجزیاتی مطالعے کی اہمیت و افادیت کو غیر ضروری طور پر کم کر دیتا ہے۔ ان جملوں کی ضرورت نہیں تھی، وہ لکھتے ہیں :
’’اس غزل کا کوئی شعر آزادی سے پہلے نہیں لکھا جا سکتا تھا۔ اس میں محض سماجی اور خارجی حقیقت نہیں بلکہ داخلی سرگذشت بھی ہے، گویا نئی حسیت عصری حسیت کے ساتھ لب و دنداں ہے۔‘‘ (ص۔ 173)

ڈاکٹر سرور الہدیٰ
نئی دہلی۔
سہ ماہی ’ فکر و تحقیق، جنوری تا مارچ 2008

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...