اکیسویں صدی کا سب سے زیادہ وقفہ والا چاند گرہن!! مضمون نگار: انیس الحسن صدیقی





اکیسویں صدی کا سب سے زیادہ وقفہ والا چاند گرہن!!

انیس الحسن صدیقی

27 جولائی 2018 کی دیر رات میں 11بج کر 54 منٹ27 سیکنڈپر چاند گرہن شروع ہوا۔ یہ سب سے زیادہ وقفہ والا چاند گرہن جو 28 جولائی 2018 علی الصبح 3 بجکر 49 منٹ تک جاری رہا۔ یہ چاند گرہن ہماری سر زمین ہندوسان کے ساتھ مشرقِ وسطیٰ (Middle East) کے کچھ حصوں، مرکزی ایشیا (Central Asia) اور مشرقی افریقہ کے ملکوں میں بھی دکھائی دیا تھا۔ یہ اس صدی کا سب سے زیادہ وقفے والا یعنی پورے 4 گھنٹے 54 منٹ تک جاری رہنے والا چاند گرہن تھا۔ اس کی شروعات 27 جولائی 2018 کو 11 بج کر 54 منٹ 27 سیکنڈ پر بحیثیت جُزوی چاند گرہن کے شروع ہوکر اس کا رنگ پیلا ہو گیااور پھر28جولائی2018 علی الصبح 1 بج کر 15 سیکنڈ پر یہ مکمل چاند گرہن میں تبدیل ہو گیاتب اس کا رنگ لال ہو گیا تھااور پھر 2بج کر 43 منٹ12 سیکنڈ پر یہ پھر جزوی چاند گرہن میں تبدیل ہوا اور پھر اس کا رنگ پیلا پڑ گیا اور پھر 3 بج کر 49 منٹ پر یہ چاند گرہن کا حسین قدرتی منظر بھی ختم ہو گیا تھا۔ یہ قدرتی آسمانی نظارہ 15جون 2011 کے بعد اب واقع ہوا تھا۔ اُس وقت یہ مکمل چاند گرہن 1گھنٹہ 40 منٹ تک قائم رہا تھا جبکہ اس مرتبہ یہ 1 گھنٹہ 49 منٹ تک رہا۔ یہ تمام جانکاری امریکہ کی خلائی ایجنسی ناسا (NASA) کے گوڈارڈ خلائی فلائٹ سینٹر نے دی ہے۔ یہ چاند کے رنگوں کی تبدیلی کا آسمان میں خوبصورت منظر دیکھنے کا موقع اُن لوگوں کو مل سکا جو سائنس میں شوق اور ذوق رکھتے ہیں۔ ایسا کب سے ہوتا چلا آرہا ہے اور کیوں ہوتا ہے؟ :
’’قدیم زمانہ کی بات ہے، جب چین کے رہنے والے اکثر دیکھا کرتے تھے کہ اژ دہا یا کوئی دیو پیکر جانور آسمان میں نمو دار ہوتا تھا جو سورج کو نگلنے کی کوشش کرتا نظر آتا تھا۔ چینی عوام سورج کو اس آفت سے بچانے کے لیے ڈھول پیٹتے یا سنکھ پھونکتے تھے۔ یہ حالت کبھی تو جلدی اور کبھی قدرے دیر میں ختم ہوجاتی تھی۔
وہ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ انھوں نے شور مچا کر سورج کو بچالیا ہے۔ دراصل یہ سورج گرہن تھا جو خود بخود ختم ہو ہی جاتا ہے۔ کتنے ہی ایسے واقعات اور کیفیات مثلاً طوفان، خُشک سالی، سیلاب یا اچھی بارش اور اچھی فصل کا ہونا ظہور میں آئے جنہیں زمانہ ء قدیم کے انسان قدرت کا قہر یا عذابِ الٰہی سمجھتے تھے۔ چنانچہ وہ لوگ ان عذابوں سے بچنے کی خاطر یا خدا کے حضور میں اظہار تشکر کے طور پر عبادت گاہیں تعمیر کرتے یا جانوروں کی قربانیاں دیتے، نیز اُن دیوتاؤں کے حضور میں سر جھکاتے تاکہ وہ اپنے بندوں پر رحم کرتے رہیں۔
اسی زمانے میں ایسے انسان بھی موجود تھے جو اپنے اطراف کا گہری نظر سے مطالعہ کرتے اور جو کچھ نظر آتا اس کا سبب جاننے کی کوشش کرتے۔ اس کوشش کے نتیجے میں ان کے ذہن میں دو سوال پیدا ہوتے تھے، جن کی ابتداء ’کیوں‘ اور ’کیسے‘ سے ہوتی تھی۔ وہ سوچتے کہ ’سورج کیوں طلوع ہوتا ہے اور کیوں ڈوب جاتا ہے؟‘ یا ’بارش لانے والے بادل کیوں کر بنتے ہیں؟‘ یہی ہمارے اوّلین سائنسداں تھے۔ سائنسی ذہن و دانش کی نشو ونما کے لیے لازم ہے کہ چاروں طرف بکھرے ہوئے قدرت کے ’عجائبات‘ کو سمجھیں اور اس کے سر بستہ رازوں سے پردہ اُٹھانے کی کوشش کرتے رہیں اور یہ ان کے لیے ایک چیلنج تھا، جس کو ہر سائنسی ذہنیت نے قبول کیا۔
آج ہم سائنس کی مدد سے زیادہ تر سوالوں کے جواب تلاش کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں، لیکن اب بھی کتنے ہی قدرتی طور پر واقع ہونے والے حقائق حل نہیں کیے جا سکے ہیں یا اگر حل کر بھی لیے گئے ہیں تب بھی قدرے شک کی گنجائش باقی ہے۔ ظاہر ہے کہ شک و شبہہ دور کرنا ازحد ضروری ہے۔ مثال کے طور پر دیکھیے کہ بعض بڑے سمندروں میں کہیں کہیں چشمے ملتے ہیں جن کی وجہ سے موسم میں تبدیلی ہوا کرتی ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ لاکھوں برس پہلے بیحد بڑے رینگنے والے جانور (Reptiles) ڈائنو سارس(Dinosaurs) کیوں اور کیسے صفحۂ ہستی سے ہمیشہ کے لیے مٹ گئے؟ انسان آج اس کوشش میں سرگرداں ہے کہ فضائے بسیط (Space) اور اپنی دُنیا کے وجود اور ارتقاء کو پورے طور پر سمجھ لے لیکن ابھی تک سائنسدانوں کو مکمل کامیابی نہیں ملی۔ چنانچہ ہم مجبوراً ہر ایسے وقوع کو حقیقت کے طور پر تسلیم کر لیتے ہیں۔ مثلاً زمین کی کشش یا بجلی کا وجود یا انسانی ذہنوں کے الگ الگ طور پر کام کرنے کے طریقے ایسے مظاہر ہیں۔ یہ ایک لمبی فہرست ہے، اسی لیے عموماً ان سے چشم پوشی کرنے میں فی الحال مضر ہے۔‘‘ (بحوالہ مضمون ’قدرت کے پُراسرار حقائق‘ مصنف بلقیس موسوی، علی گڑھ شائع رسالہ ’’سائنس کی دنیا، نئی دہلی،شمارہ اپریل۔جون 2011)
اب سوال یہ ہے کہ یہ چاند گرہن اور سورج گرہن کیوں ہوتے ہیں؟
’’قدیم زمانے کے لوگوں نے ان گرہنوں کے مشاہدوں سے یہ نتیجہ نکالا کہ سورج، چاند اور زمین یہ تینوں خلائی اجرام 18 سال 11مہینوں کے بعد اُسی حالت میں واپس آجاتے ہیں۔ اس لیے وہ ان کی پیش گوئیاں کرنے لگے تھے لیکن دُوربین کی دریافت کے بعد یہ ہی پیش گوئیاں زمین، چاند اور سورج کے فاصلوں کے حساب کتاب کے ذریعہ ہوتی ہیں۔ دُوربین کے ذریعہ آسمانی اجسام کا مشاہدہ کیا گیا اور کئی بے بنیاد باتوں کا پردہ فاش ہوا۔ پھر لوگوں میں آسمانی اجسام کے بارے میں دریافتوں کا سلسلہ تیزی سے جاری ہو گیا یہاں تک کہ ستاروں و دیگر آسمانی اجسام یا اجرامِ فلکی کے بارے میں مندرجہ ذیل معلومات سامنے آئیں:
1۔ آسمان میں تمام اجسام گول یعنی کُروی پائے گئے۔
2۔ تمام ستارے در اصل سورج پائے گئے اور وہ ننھے ننھے اس لیے نظر آتے ہیں کیونکہ وہ ہماری زمین کی سطح سے کروڑوں کلو میٹر دور ہیں اور ٹمٹماتے ہوئے اس لیے نظر آتے ہیں کہ سب کی روشنی ہماری زمین کے گرد ہوا کے غلاف میں سے گُزر کر آتی ہے۔
3۔ تمام سورج جیسے ستاروں میں ہائیڈروجن (Hydrogen) گیس جلتی ہے اور ہیلیم (Helium) گیس میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اس عمل کو گُداخت یا فیوژن (Fusion) کہتے ہیں۔ اسی عمل سے روشنی پیدا ہوتی ہے اور ہر قسم کی لہریں جیسے ریڈیائی لہریں، ایکسریز (X-rays) بھی اسی گُداخت یا فیوژن کی وجہ سے سورج میں سے خارج ہوتی ہیں۔ اسی وجہ سے تمام سورج جلتی ہوئی آگ کے بہت ہی بڑے گولے جیسے ہوتے ہیں۔
4۔ تمام سورج الگ الگ سائز، عُمر اور مختلف رنگوں کے دریافت ہوئے ہیں یعنی نیلے، پیلے، لال اور سفید۔
5۔ ہمارے سورج کا رنگ پیلا ہے۔
6۔ ہمارے سورج کا اوسطاً درجۂ حرارت 550 سینٹی گریڈ پایا گیا ہے۔
7۔ ہمارے سورج کا قُطر 14,00,000 کلو میٹر پایا گیا ہے۔ جبکہ ہماری زمین یعنی کُرۂ ارض(Earth) کا قطر 12,756 کلو میٹر پایا گیا ہے۔
8۔ ہمارے سورج کا ہماری زمین کی سطح سے اوسطاً فاصلہ 14,91,00,000 کلو میٹر پایا گیا ہے۔ یہ فاصلہ آسمان میں باقی تمام سورجوں کے مقابلے میں ہماری زمین سے سب سے نزدیک پایا گیا ہے۔ اسی لیے آسمان میں باقی کے تمام ستارے رات میں نظر آتے ہیں کیونکہ اُن تمام ستاروں کی روشنیاں دن میں ہمارے سب سے نزدیکی سورج کی روشنی میں ماند پڑ جاتی ہیں۔ اس لیے یہ تمام ستارے ہمیں دن کے وقت آسمان میں دکھائی نہیں دیتے ہیں۔ ہاں البتہ سورج گرہن کے وقت جب ہمارا چاند ہمارے سورج کی روشنی کو ڈھک دیتا ہے تب آسمان میں ستارے دن کے وقت دکھائی دیتے ہیں۔
9۔ ہمارا سورج اپنے محور(Axis ) پر گھومتا ہوا پایا گیا ہے اور اپنا ایک چکر یا گردش (Rotation) 24.5 دنوں میں پورا کرتا ہے۔
10۔ ہماری زمین بھی گیند کی طرح گول یعنی ایک کُرہ (Sphere) کی طرح ہے اور اپنے محور پر ایک گردش 24 گھنٹوں میں(یعنی ایک رات اور ایک دن) پورا کرتی ہے علاوہ ازیں ہمارے سورج کے گرد اپنے مدار میں ایک چکر (Revolution) 365.25 دنوں میں پورا کرتی ہے جس کو آپ ایک سال کہتے ہیں۔
11۔ ہمارا چاند بھی گول ہے اور ہمارے کُرۂ ارض کا ایک قُدرتی سیارچہ پایا گیا ہے جو ہمارے کُرۂ ارض کے گرد اپنے مدار میں 27.32 دنوں میں ایک چکر پورا کرتا ہے۔
12۔ ہمارا چاند بھی اپنے محور پر 27.32 دنوں میں ایک چکر پورا کرتا ہے۔ یہ حُسنِ اِتفاق ہے اور اسی لیے ہمیں ہمارے چاند کا ایک طرف کا حصہ دکھائی نہیں دیتا ہے۔
13۔ ہمارے چاند کا قُطر 3,476 کلو میٹر پایا گیا ہے یعنی تقریباً ہمارے کُرۂ ارض کا ایک چوتھائی ہے۔
14۔ ہمارے کُرۂ ارض سے ہمارے چاند کا فاصلہ 3,84,000 کلو میٹر پایا گیا ہے۔ مندرجہ بالا فاصلوں اور سائزوں کی وجہ سے ہمارے کُرۂ ارض کی سطح سے ہمارے سورج اور ہمارے چاند تقریباً ایک ہی سائز کے دکھائی دیتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ یہ چاند اور سورج گرہن کیا ہیں؟
آج کل گرہن کی تعریف اس طرح کی جاتی ہے کہ گرہن وہ اثر ہے جب ایک خلائی جرم کا سایہ دوسرے خلائی جرم پر پڑنے سے تیسرے جرم کی روشنی رُک جاتی ہے۔ 
کرۂ ارض، سورج کے گرد مداری سفر کرتا ہے۔ یہ دونوں خلائی اجرام یعنی کُرۂ ارض اور چاند کی اپنی روشنی نہیں ہے۔ سورج (ستارہ) روشنی اور گرمی کا ایک ذریعہ ہے جس کے ذریعے رات اور دن بنتے ہیں اور چاند چمکتا ہے۔ کرۂ ارض 23.5 درجہ اپنے عمودی محور پر جھکا ہوا ہے۔
سورج گرہن :سورج گرہن اُس وقت واقع ہوتا ہے جب چاند، کُرۂ ارض اور سورج کے درمیان اس طرح حائل ہوتا ہے کہ وہ سورج کی روشنی کو کُرۂ ارض تک پہنچنے سے روک دیتا ہے یعنی چاند کا سایہ کُرۂ ارض پر پڑنے سے دن میں اندھیرا ہوجاتا ہے۔ اُس وقت ہم کو دن کے وقت آسمان میں ستارے دکھائی دیتے ہیں۔
چاند گرہن :چاند گرہن اُس وقت واقع ہوتا ہے جب کُرۂ ارض، چاند اور سورج کے درمیان اس طرح حائل ہوتا ہے کہ وہ سورج کی روشنی کو چاند پر پہنچنے سے روک دیتا ہے یعنی کُرۂ ارض کا سایہ چاند پر پڑتا ہے۔ کُرۂ ارض، سورج کی روشنی کو چاند پر پہنچنے سے روک دیتا ہے اور چاند پر اندھیرا ہوجاتا ہے یا پھر چاند پیلے لال رنگ کی قُرص میں بدل جاتا ہے۔
دونوں قسم کے گرہنوں کو مزید مکمل اور جُزوی گرہنوں میں تقسیم کردیا گیا ہے۔ سورج، چاند کے مقابلہ میں 400 گُنا بڑا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ سورج اورکُرۂ ارض کا درمیانی فاصلہ بھی چاند اور کُرۂ ارض کے درمیانی فاصلہ کا 400 گُنا زیادہ ہے۔ اسی لیے کُرۂ ارض کی سطح سے چاند اور سورج ایک ہی سائز کے دکھائی دیتے ہیں اور اسی وجہ سے چاند، سورج کی مکمل روشنی کو کُرۂ ارض پر پہنچنے سے روک دیتا ہے۔ جب وہ سورج اور کُرۂ ارض کے درمیان حائل ہوتا ہے تو اُس وقت چاند اپنے دو قسم کے سائے کُرۂ ارض پر ڈالتا ہے یعنی جُزوی اور مکمل۔ جُزوی سایہ ہلکا ہوتا ہے جبکہ مکمل سایہ گہرا ہوتا ہے۔
جُزوی گرہن : جُزوی گرہن، کُرۂ ارض کی سطح کے اُن علاقوں سے دکھائی دیتا ہے جن علاقوں پر چاند کا سایہ پڑتا ہے۔ جُزوی گرہن میں سورج کٹا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ جُزوی گرہن کے دوران چاند کے کچھ حصوں پر کُرۂ ارض کا مکمل سایہ پڑتا ہے اور باقی حصے پر جُزوی سایہ ہوتا ہے۔ جُزوی سایہ کے تحت چاند پیلا لال دکھائی دیتا ہے۔
مکمل گرہن :مکمل گرہن، کُرۂ ارض کی سطح کے اُن علاقوں سے دکھائی دیتا ہے جن علاقوں پر چاند کا سایہ مکمل پڑتا ہے۔ مکمل گرہن ایک گھنٹہ سے بھی زیادہ کا ہوتا ہے۔ 
اب سوال یہ ہے کہ سورج گرہن ہر ماہ نئے چاند کے نمو دار ہونے پر اور چاند گرہن ہر ماہ مکمل چاند ہونے پر کیوں نہیں واقع ہوتا ہے؟
یہ اس لیے کہ چاند کے مدار کی دو سمتی سطح کُرۂ ارض کی دو سمتی سطح کے مقابلے میں پانچ درجہ جھکاہوا ہے۔ اسی لیے چاند زیادہ تر سورج اور کُرۂ ارض کی لائن کے یا تو اوپر ہوتا ہے یا پھر نیچے ہوتا ہے۔ اس لیے ہر ماہ چاند نمودار ہونے پر سورج، چاند اور کُرۂ ارض ایک ہی لائن میں نہیں ہوتے ہیں۔
کُسُفِ چَنبَری (حلقہ نُما) گرہن: جب چاند، کُرۂ ارض سے بہت دور ہوتا ہے تب وہ سورج گرہن کے دوران سورج کی روشنی کو مکمل طور پر نہیں ڈھک پاتا ہے۔ اس لیے مکمل سورج گرہن کی بجائے کُسُفِ چَنبَری (حلقہ نُما) گرہن واقع ہوتا ہے اور جب چاند مکمل طور پر سورج کے سامنے ہوتا ہے تب سورج کے نُورانی کُرہ کی ایک لائن چاند کے گرد آگ کے حلقہ کی طرح دکھائی دیتی ہے۔ کُسُفِ چَنبَری گرہن 12 منٹ تک دکھائی دیتا ہے۔ انگریزی کے لفظ ا(Annulus) کا مطلب ہے چَنبَر۔
مکمل گرہن کا اثر (کُسُفِ چَنبَری): مکمل گرہن کے واقع ہونے سے ٹھیک تھوڑی ہی دیر پہلے یا بعد میں یعنی سورج کی روشنی کے غائب ہونے سے پہلے یا دوبارہ نمودار ہوتے وقت سورج، چاند کی قُرص پر واقع پہاڑوں کے درمیان میں سورج چمکتا ہے۔ کبھی کبھی تو بہت ہی چمکدار جگہ جو کہ کُسُفِ چَنبَری کے مانند لگتا ہے،کبھی کبھی چمکدار موتیوں کی کمان دکھائی دیتی ہے۔ یہ بائلی بیڈس کے نام سے جانی جاتی ہے۔
وارننگ:سورج گرہن یا سورج کو کبھی بھی اپنی کھُلی آنکھوں یا دوربین یا بائنا کلر کے ذریعہ نہیں دیکھیں ورنہ آپ اپنی بینائی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کھو سکتے ہیں۔ اس کے لیے ایک خاص قسم کا چشمہ آتا ہے جس کو سولر فِلٹر وئیوئینگ گوگل کہتے ہیں یا پھر دوربین پر اچھی قسم کا فلٹر لگا ہوتا ہے۔ اس کو دیکھنے کے لیے آپ ایک سورج گرہن پروجیکشن کِٹ بھی بنا سکتے ہیں۔
سورج گرہن اور چاند گرہن کے فائدے: برطانوی ہیئت داں جناب نور مین لو کیر (Norman Lockyer) (1836-1920) نے 1868 میں مکمل سورج گرہن کے موقع پر سورج کے رنگین کُرہ (Chromosphere) میں ایک نا معلوم گیس کا پتہ لگایا تھا۔ اُنھوں نے اِس گیس کا نام ہیلیم (Helium) رکھا جو یونانی لفظ ہیلیوس (Helios) سے لیا گیا ہے اور جس کا مطلب سورج ہے۔ 1895 تک ہمارے کُرۂ ارض کی سطح پر ہیلیم گیس دریافت نہیں ہوئی تھی۔
آرتھ ایڈینگٹن(Arthur Eddington) نے 1919 میں مکمل سورج گرہن کے دوران مشہور سائنسداں البرٹ آئین اِسٹائن (Albert Einstein) کا خیال کہ دور دراز کے ستارے سورج کی کَشَشِ ثِقل (Gravity) سے متأثر ہوں گے، ثابت کرنے کی کوشش کی تھی۔ انھوں نے آسمان میں سورج کے نزدیک ستاروں کے محل و قوع ناپے اور ثابت کر کے دکھایا کہ سورج گرہن نے سورج کی روشنی کو موڑ دیا ہے۔ آئین اِسٹائن نے اپنا خیال اپنے ایک نظریہ اضافیت (Relativity) میں ظاہر کیا تھا۔
سورج گرہن اور چاند گرہن کے اور بھی فائدے ہیں۔ سائنسدانوں اور فلکیاتی ماہرین نے سب سے بڑا فائدہ یہ اُٹھایا کہ اُس کے ذریعہ سورج، چاند اور زمین کے قُطر کے ساتھ ساتھ اُن کے درمیانی فاصلے بھی ناپ دیے ہیں۔ اُن فاصلوں کو آج بھی آپ سورج گرہن کے عکسی کِٹ کے ذریعے سورج گرہن کے دوران تصدیق کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے آپ کو سورج گرہن کے دوران سورج کا عکس کاغذ پر اُتار کر ٹرگنومیٹری کے فارمولے سے حساب لگانا ہوگا۔
اب آپ کو یہ بھی معلوم ہوگیا ہوگا کہ چاند گرہن اور سورج گرہن کیا ہیں اور اِن کے فائدے کیا ہیں۔ لہٰذا اب آپ کو اِن سے قطعاً ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ ایک قُدرتی عمل ہے اور ابتدا سے واقع ہوتے رہتے ہیں اور آئندہ بھی ہوتے رہیں گے۔ نہ تو قدیم زمانہ میں چاند اور سورج گرہن سے انسانی زندگی پر کوئی بھی اثر ہوا ہے اور نہ آئندہ ہوگا۔ ہاں! البتہ اس کا مشاہدہ کرنے میں ضرور احتیاط رکھیں کیونکہ آپ کی آنکھوں کی روشنی بہت ہی نازک ہے جو کسی بھی تیز روشنی یا شعاعوں کے اثر سے فوراً زائل ہو سکتی ہے اور وہ بھی ہمیشہ کے لیے۔ اس لیے آج کل سورج گرہن کا مشاہدہ کرنے کے لیے احتیاط اور حفاظتی طریقے بھی دریافت کرلیے گئے ہیں۔ اُن کی ہی مدد سے ان قُدرتی نظاروں کا لُطف اُٹھائیں اور کسی بھی بے بنیاد پیش گوئی، سورج گرہن یا چاند گرہن سے متعلق، پر با لکل دھیان نہ دیں بلکہ جو لوگ نہیں جانتے ہیں اُن کو بھی اِن کے بارے میں بتائیں۔‘‘ (بحوالہ کتاب ’گرہن کیا ہے؟‘ مصنف انیس الحسن صدیقی (ایم۔ اے۔)شوقین ہیئت داں، ترمیم شدہ ایڈیشن شائع 2016 ناشر ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی۔6)

A.H. Siddiqui
679, Sector - 22B
Gurugram- 122015 (Haryana)
M: 9654949434
Email: aneessiddiqui2003@gmail.com




قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں