بلراج کومل :منفردلفظیات کا شاعر مضمون نگار:۔ محمد عارف




بلراج کومل :منفردلفظیات کا شاعر
محمد عارف


بلراج کومل 25 ستمبر 1928 کو ضلع فیروز پور پنجا ب موجودہ پاکستان میں پیدا ہوئے۔ والدکا نام شری حکومت رائے اوروالدہ کا نام کنتی دیوی تھا۔ ابتدائی تعلیم گاؤں کے ایک پرائیوٹ اسکول سے حاصل کی۔ پانچ بھائی بہنوں میں کومل دوسرے نمبر پر تھے۔ بچپن ہی سے آزاد خیال اورپڑھائی لکھائی سے دور رہتے تھے مگر والد کی ڈانٹ ڈپٹ سے کسی طرح ہائی اسکول اور انٹر پاس کرلیا۔ مزاج چونکہ شاعرانہ تھا اسی لیے اکثردوستوں کے ساتھ ایسی محفلوں میں شریک ہوتے جہاں ادب و شاعری کی باتیں ہوتی۔مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے لاہور چلے گئے وہاں انھوں نے انگریزی ادب میں بی اے کیا۔ یہاں ان کی ملاقات انگریزی، اردو، ہندی اور پنجابی کے ادیبوں سے ہوئی۔ ان فنکاروں کی صحبت میں رہ کر کومل کا تخلیقی دائرہ وسیع ہوتا گیا۔یہ وہ زمانہ تھا جب تخلیقی ادب میں ان کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا تھا۔ا دبی رسائل وجرائد کا پابندی سے مطالعہ شروع کر دیا تھا۔بی اے کے بعد کومل نے انگریزی ادب میں ایم اے کیا۔ انگریزی کے علاوہ کومل نے دیگرزبانوں کے ادب کا بھی مطالعہ کیا خصوصاً اردو،جاپانی اور فرانسیسی ادب کا چونکہ ان کا ادبی ذوق اردو کے خمیر سے تیار ہوا تھا اس لیے اردو ادب کو ہی اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ ابھی کومل نے اردو ادب میں قدم ہی رکھا تھا کہ تقسیمِ ہند کا سانحہ پیش آگیا۔ اس افرا تفری میں ہجرت کے مرحلے سے گزرنا پڑا۔تقسیم ہند کے تحت رونما ہونے والے حالات کے زیر اثر کومل نے اپنے جذبات کا اظہار اس انداز سے کیا ہے۔ خصوصًا ہجرت کے وقت جن مناظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور جو کچھ بھی محسوس کیا اسے لکھ دیا:

’’فیروز پور پہنچ کر میں ریاضیات میں الجھ گیامیری شامیں اور راتیں پہلے سے زیادہ آزاد ہوگئیں۔ ہر شب ایک لشکر میرے شہر دل پر یلغار کرتا۔ میرے سامنے مردوں، عورتوں اور بچوں کو بے رحمی سے قتل کرتا اور درماندہ ومحروم چھوڑ کر آگے نکل جاتا۔ میرے سامنے روز وشب ایک خوف زدہ برہنہ پامجروح ایک سایہ چلتا۔ ایک لڑکی کا سایہ ہر لمحہ التجاکر تاہوا سایہ، میرے چلتے ہوئے قدموں سے التجا کرتاہوا سایہ۔‘‘ (شعر و حکمت بلراج کومل)
اجنبی ! اپنے قدموں کو روکو ذرا/جانتی ہوں تمہارے لیے غیر ہوں 
پھر بھی ٹھہروذرا/سنتے جاؤ یہ اشکوں بھری داستاں
ساتھ لیتے چلو یہ مجسّم فغاں/آج دنیا میں میرا کوئی بھی نہیں 
میری امی نہیں، میرے ابا نہیں، میری آپا نہیں
میرے ننھے سے معصوم بھیا نہیں /میری عصمت کی مغرور کرنیں نہیں
وہ گھروندا نہیں جس کے سائے تلے /لوریوں کے ترنم کو سنتی رہی
پھول چنتی رہی، گیت گاتی رہی، مسکراتی رہی
آج کچھ بھی نہیں آج کچھ بھی نہیں/میری نظروں کے سہمے ہوئے آئینے 
میری امی کے، ابّا کے آپا کے اور میرے ننھے سے معصوم بھیا کے خوں سے ہیں دہشت زدہ 
آج میری نگاہوں کی ویرانیاں چند مجروح یادوں سے آباد ہیں
آج میری امنگوں کے سوکھے کنول، میرے اشکوں کے پانی سے شاداب ہیں
آج میری تڑپتی ہوئی سسکیاں ایک سازِ شکستہ کی فریاد ہیں
اور کچھ بھی نہیں، بھوک مٹتی نہیں، تن پہ کپڑا نہیں، آس معدوم ہے
آج دنیا میں میرا کوئی بھی نہیں آج دنیا میں میرا کوئی بھی نہیں 
میرے کچھ تو بنو، میرے کچھ تو بنو، میرے کچھ تو بنو۔ 
(لمبی بارش منتخب کلام: بلراج کومل،ص22، ساہتیہ اکادمی، دہلی 2002)
بلراج کومل نے یوں تو افسانہ، تنقید ی مضامین، تراجم، تبصرے، مباحثے، خاکے اور مضامین وغیرہ سب میں زور آزمایا ہے مگر ان کی بنیادی حیثیت ایک شاعر کی ہے۔ شاعری میں غزل اور نظم دونوں موجود ہیں ان کے نو مجموعے ہیں جن میں نظمیں زیادہ اور غزلیں کم ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر زبانوں مثلاً انگریزی، فرانسیسی، جاپانی، بنگلہ، پنجابی اور ہندی سے بہت سی نظموں کا ترجمہ بھی کیا ہے۔ مثلاًنظم معریٰ، آزاد نظم، نثری نظم، ہائیکو، سن رائی یو، امایو، ٹینکااورسڈوکا، وغیرہ کو اسی کی ہیئت میں بیان کیا ہے۔ یہ جدید شاعری کے وہ تجربے ہیں جو اس زمانے میں رائج تھے۔
کومل نے پاکستان سے ہجرت کر کے دہلی میں سکونت اختیار کر لی۔ ان کی ملاقات پرکاش پنڈت، ساحر لدھیانوی، مجاز لکھنوی، وامق جونپوری اور کرشن ادیب سے ہوئی ان ادیبوں کے ساتھ شعر و ادب کی محفلیں آراستہ ہونے لگیں لیکن سب سے اہم مسئلہ معاش کا تھا چنانچہ تلاشِ معاش کا سلسلہ جاری رہا کبھی جالندھر کے اخباروں، ریڈیوکی خاک چھانی اور کبھی دہلی میں درس و تدریس سے وابستہ رہے۔ بلراج کومل نے اپنے تخلیقی سفر کا پہلا موڑ ابچپن کے اس گھر کو قرار دیا ہے جہان وہ پیدا ہوئے پلے بڑھے جوان ہوئے۔ زندگی کے حسین لمحے گزارنے کے بعد وہاں سے فرار ہونے کا خواب دیکھنے لگے۔ ہجرت کا سانحہ اسی خواب کی تعبیر ثابت ہوئی۔ اور لمحۂ موجود میں آکر بس گئی ؂
میں مسکنِ تیرگی سے دہکی ہوئی فضاؤں میں آگیاہوں
یہاں تسلسل ہے دھم دھما دھم کا، ان گنت پاؤں ایک دُھن سے لپک رہے ہیں
یہاں صداؤں کی تیز گامی سے ساری دھرتی لرز رہی ہے
لبوں پہ نغمہ ہے نکہتوں کا، نگہہ میں چشمہ ہے زندگی کا 
یہ کارواں وادیِ مسرت کی آرزو میں رواں دواں ہے
بلراج کومل نے اپنے تخلیقی سفر کا دوسرا موڑ اپنی بیوی گارگی اور بچے مینوں اوربیٹی انیتاکو قرار دیا ہے کومل اپنی زندگی کے اس سرمائے کو کبھی کھونا نہیں چاہتے تھے یہ سرمایہ ان کے لیے کسی لمحہ موجود سے کم نہ تھا۔ وطن سے دوری کے بعد یہی ایک سہارا تھا جس کے لیے کومل نے اپنی تمام خواہشوں کو بالائے طاق رکھ دیا تھا۔ ان کی شاعری میں رشتوں کا انہدام بھی ہے مگر ان کا اپنا خاندان ان کی زندگی کا مرکزرہا۔ اس کا عکس ان کی شاعری میں بھی نظر آتا ہے۔ ایک جگہ لکھتے ہیں: 
آج سے کئی برس پہلے بڑے بیٹے مینو نے مجھے کاغذ کی معنویت سے روشناس کرایا تھا۔ اس رات بڑی تیز بارش ہورہی تھی۔ صبح میں بیدار ہوا تو میرے 
سامنے کھل اٹھے چاروں طرف، بچوں کے رنگین قہقہوں اور تالیوں کے شوخ پھول رات بھر کی تیز بارش کی بنائی جھیل میں
ڈگمگائی ڈولتی
چل رہی تھیں چھوٹی کشتیاں
میں نے دیکھا، ان میں ننھے کی بھی تھی پیاری سی ناؤ
نظم کا نقش گریزاں، جانا پہچانا سا کاغذ جانے پہنچانے حروف 
ننھا بولا! آج جو تالی نہ پیٹے بے وقوف
کومل نے آنے والی نسلوں کے لیے اپنے آپ کو زندہ رکھازندگی میں ایسے بھی مراحل آئے جب کومل زندگی سے ناامید ہو چکے تھے ایسے وقت میں ان کی بیوی گارگی نے ان کا حوصلہ بڑھایااور جہاں کہیں بھی وہ جاتے ان کے ساتھ رہتیں وہ ایک تھی ہزار صورتیں اختیار کرتی گئی سولہ برس سے چوسٹھ برس کی عمر تک وہ ہر لمحہ ان کی زندگی کا مرکز بنی رہیں ۔
’’ایک تھی ہزار صورتوں میں میرے سامنے
طلوع جب ہوئی/تو میرا آسمان بن گئی
نئی عظیم لذتوں کے درمیان 
میں اپنے مشتعلِ مقام سے/افق کی سمت پھیلتا چلا گیا 
حصار مرگ وزندگی روند تا چلا کیا‘‘ 
(ایک عورت)
اس طرح کومل نے اپنا تخلیقی سفر شروع کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ادب کے افق پر ایک روشن ستارہ بن کر ابھر ے۔اردو شاعری میں جدید نظم نگاروں کے زمرے میں شامل ہو کر اپنی الگ شناخت قائم کی خصوصاً نظموں میں جدید رنگ و آہنگ اور منفرد لہجے میں نظمیں کہی ہیں۔ اس زمانے میں ترقی پسند تحریک اپنے عروج پر تھی۔ اور نظموں کا چلن عام تھا۔ اس تحریک سے وابستہ شعرا اجتماعی طور پر سماجی مسائل کو حل کر نے کا طریقہ دریافت کرنے میں لگے ہوئے تھے۔ اشتراکیت کے سماجی تصور پر یقین رکھنے والوں میں اسرارالحق مجاز، فیض احمد فیض، علی سردار جعفری، کیفی اعظمی، جاں نثا راختر، احمد ندیم قاسمی، ساحر لدھیانوی اور پرویز شاہدی وغیرہ تھے۔ اسی کے متوازی حلقۂ اربابِ ذوق سے تعلق رکھنے والوں کا ایک گروہ بھی تیار ہو گیا تھا جس نے نظموں کو ہی اپنا وطیرہ بنایا ان شعرا نے زندگی کو نئے زاویے اور جمالیاتی پیرائے میں دیکھنے کی کوشش کی۔انھوں نے جدید شاعری کی روایت قائم کی قدیم اثاثے کو تسلیم کرتے ہوئے انھوں نے نئی علامتیں، نئے استعارے، جدید موضوعات، ہیئت واسلوب کو نت نئے طریقے سے پیش کیا۔ ہیئت کے اعتبار سے انھوں نے نظموں میں بہت سے تجربات کیے مثلاً پابند نظم، نظم معریٰ، آزاد نظم اور نثری نظم وغیرہ۔ اس کے متعلق یونس جاوید لکھتے ہیں:
’’حلقے والے اپنے آپ کو پچھلی روایات سے منسلک کیے ہوئے تھے۔ مگر گزشتہ روایات اورادب کے اثاثے کو تسلیم کرتے ہوئے انھوں نے اپنے لیے نئی علامتوں، نئے تلازمات اور نئے موضوعات کو منتخب کیا کہ اگر انھیں رومانی حقیقت پسند کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔‘‘ 
(ص:42-43حلقۂ ارباب ذوق: یونس جاوید، مجلس ترقی ادب لاہور کلب روڈ 1984)
حلقۂ اربابِ ذوق والوں نے فن برائے فن کی بنیاد پر نظموں کا ایک مجموعہ تیار کیا اس میں ان نظم نگار شعرا کی نظمیں شامل تھیں جن کی شاعری حلقۂ اربابِ ذوق کے اغراض و مقاصد کی تکمیل میں کا گر ثابت ہوتی تھیں۔ اس میں بلراج کومل کی نظم ’’اکیلی ‘‘ بھی شامل تھی۔ اس کے بعد ہر برس نظموں کاانتخاب شائع ہونے لگا اس میں کومل کی نظمیں بھی شامل ہوتیں۔ یہ سلسلہ ترقی پسند تحریک کے ساتھ ساتھ چلتا رہا کہ 1955 اور 60 کے درمیان جدیدیت کارجحان فروغ پانے لگا جسے بعض لوگ ترقی پسند تحریک کا ردِ عمل یاتوسیع کہتے ہیں۔ جدیدیت کے علمبرداروں میں منیر نیازی، خلیل الرحمن اعظمی، باقر مہدی، عزیز قیسی، بلراج کومل،شمس الرحمن فاروقی،وحید اختر اور عمیق حنفی وغیرہ شامل تھے۔ ان شعرا نے تخلیقی خود آگہی کو اہمیت دی،اجتماعیت سے انحراف کی صورت اختیار کی اور انفرادی مسائل کو اپنا مقصد بنایا۔ایسے وقت میں شعرا نے’جدیدیت‘کا سہارا لیا اور وجود کی بقاو تحفظ کی خاطرزندگی کے باطنی کرب کو بیان کرنا شروع کیا، اس کے لیے علامت اور استعارے کا طریقہ اختیار کیا۔ کومل نے بھی اسی استعارے اور علامت کے سہارے نئی لفظیات کی بنیاد پر اپنی انفرادیت قائم کی۔کومل کی ایک نظم ’ایمبولنس‘ ہے یہ استعارہ معاشرے کی بیماری کو ظاہر کرتا ہے۔ہر انسان جو جدید زمانے سے نبرد آزما ہے وہ غنودگی کی حالت میں بے کراں مہیب دھندمیں بھٹک رہا ہے۔ بظاہر تو وہ گاڑیوں، بسوں اور کاروں پر سوار نظر آتا ہے مگر اندر سے وہ بیمار ہے۔سائنسی ترقی اور تکنیکی جدیدکاری کے سبب ہم سب الم نصیب ہیں جو بے اماں مکان میں مقیم ہوگئے ہیں۔ان کی ایک مشہور نظم ’کاغذی پھول ‘ بھی اسی عہدکی عکاسی کر رہی ہے: 
تمھارے گلشن میں اس برس اک عجیب دھج ہے
ہر ایک ڈالی پہ جھوم اٹھے ہیں بموں کے خوشے
چمک رہے ہیں گل تر پہ آج تازہ لہو کے قطرے
فضائے مضطر میں سرخ آہیں/جہاز اور چاند کے شکاری
گرج، دھمک، شور، آہ وزاری
روش روش پر ؍ کٹے پھٹے جسم، ہڈیاں اور سردلاشیں
دلوں کی قاشیں؍ یہ موسم گل/ کتابِ فطرت کا اک نیا باب لکھ رہا ہے
یہ کاغذی پھول خوبصورت ہیں؍ دھوپ سے ان کو دور رکھو
بہار کے بعد ان کو اپنے اجاڑ گلشن کی مردہ شاخوں پہ ٹانک لینا
سفوفِ تہذیب پھانک لینا/کھنڈر کی مٹی سے ننھی چڑیا کا بت بناکر
کچھ اپنی کہنا/ کچھ اس کی سننا
اس نظم کا ایک ایک مصرع علامتی پیرائے میں بیان ہوا ہے۔اس کی لفظیات جدیدیت کے رنگ میں رنگی ہوئی ہے مثلاً :ہر ایک ڈالی پہ جھوم اٹھے ہیں بموں کے خوشے،گلِ تر پر تازہ لہو کے قطرے دکھائی دے رہے ہیں،دلوں کی قاشیں، سفوفِ تہذیب پھانک لینا،کھنڈر کی مٹی سے ننھی چڑیا کا بت بناناوغیرہ۔ پوری نظم ڈرامائی پیکر کی صورت میں جدید عہد کی عکاسی کر رہی ہے انسانی ترقی کے منفی پہلو ؤں کی جانب اشارہ کیا گیا ہے۔کومل نے ماضی کی فرسودہ روایات کے ذریعہ پیدا ہونے والے نتائج کو اپنی نظموں میں بھر پور انداز سے بیان کیا ہے۔ ایک نظم ’’نووارد کی دکان!‘‘میں دکان اس کائنات کا استعارہ بن گیا ہے کہ یہ دنیا ایک بازار کی مانند ہو گئی ہے جہاں ہر چیز اپنی قیمت پر فروخت ہو رہی ہے۔ کومل نے اس جذبے کو کچھ یوں بیان کیا ہے:
بتِ سلامت کا ایک پیسہ بتِ شکستہ پہ گاہکوں کا
ہجوم ہم نے نہ دیکھا ایسا قبائے زریں
قبائے زریں پہ گوٹ سے اور گوٹ کی پر بہار قوسیں
مچے نہ کیوں کھلبلی دلوں میں
تہ ترک شہزادیوں کے لہنگے۔ یہ آریاؤں کے سوم رس کے
گھڑے ہیں مہنگے، یہ شیو کی مورت، گنیش کی ہولناک صورت
یہ قائم زاویہ بناتی۔ خدا کی ٹانگیں
یہ راجپوتوں کے (مونچھ) کے بال چارسو ہیں
نہ کھاسکوں گا اور قسمیں
یہ سلطنت کے رموزلے لو۔یہ کرم خوردہ کتاب لے لو
ہزار میں؟ دوہزار میں؟دس ہزار دے دو
یہ سنگ مرمر کا پھول لے لو۔ یہ ایک آنے میں، ایک آنے میں دوٹکے میں
وہ ان سب کو بیچ کر ایک نئی سلطنت قائم کرنا چاہتا ہے جس میں انسانیت کے علمبردار رہتے ہوں جہاں امن و سکون کا بازار لگتا ہو۔ وہ اپنا مذہب، اپنی تہذیب، اپناماضی، سب کچھ قیمتاً فروخت کرنا چاہتا ہے۔ یہ سب بے معنی اور فرسودہ ہیں۔ کومل نے انسان کے وجودی کردار کے کرب واذیت کا بھر پور اظہار کیاہے۔
کومل کی نظموں میں اجنبی پن کا احساس، زندگی کے تلخ تجربات، جنسی استحصال، رشتوں کا انہدام، جسم و روح کی کشمکش اور وجود کی تلاش استعارے کے پیرائے میں بیان ہوئے ہیں ان کے مجموعے:سفر مدام سفر، نژادِ سنگ، پرندوں بھرا آسمان، شہر میں ایک تحریر اور رشتۂ دل وغیرہ کی نظمیں سنہ60کے بعد کی شاعری میں اہم مقام رکھتی ہیں ان کی مشہور نظمیں جو اپنی انفرادیت کی وجہ سے پہچانی جاتی ہیں ان میں۔ کاغذی پھول،عالمِ کل، نووارد کی دکان،سرکس کا گھوڑا، سائے کے ناخن، ایمبولنس، جزیرے، آخری شہر جل چکا، دھوپ کی قاشیں، موت سے ما ورا صرف انسان، روزن، درختوں کا سلسلہ، الفاظ، حرفِ شیریں، گرتے ستاروں کے دریا،جپسی،نیم شگفتہ روشن،دھوپ برہنہ ہو گئی،آسمان میں آگ،پابستہ، ایک لڑکی،چاپ،آوازوں کا جنگل،ایک بے عنوان تصویروغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔
کومل کی نثری نظم میں قدروں کازوال،عہدِ حاضر کا تعفن، گھٹن، خواب، اندھیراپن، موت، بے راہ روی اور رشتوں کے انہدام کا احساس شدید طور پر ظاہر ہوتاہے۔ نثری نظموں میں تاریک سمندروں کی صدائیں،آنکھیں، اگلے برس کا موسم، سوگندھی اور تم نے ایک روزوغیرہ اچھی نظموں میں شمار ہوتی ہیں۔ کومل کا آخری مجموعہ ’اگلا ورق‘ 1996 میں آیا اس مجموعے کی زیادہ تر نظمیں علامتی پیرائے میں بیان ہوئی ہیں۔اس میں خوف، عدمِ تحفظ کا احساس،رشتوں کی بے معنویت،تقدیر اور قسمت کا دھوکہ،موت کا جشن، ماضی کی حسین داستان، جدید معاشرے کی تصویر اور احساسِ جرم وغیرہ کا بیان کیاگیا ہے۔ 
کومل کی انفرادیت ان کی لفظیات، تراکیب اور اندازِ بیان ہے کومل نے روایتی تراکیب اور لفظیات کو جدید پیرائے میں بیان کیا ہے۔ بعض علامتیں ابہام اورما ورائی کیفیت اختیار کر لیتی ہیں، اس کے علاوہ ان کے یہاں غیر مرئی اشیا، ٹھوس اشیا اور اساطیرکا استعمال بھی موجود ہے۔ کومل نے فن سے کبھی سمجھوتہ نہیں کیاخواہ موضوع کی سطح پر ہو یا اسلوب کی سطح پر وہ ماضی سے بیزار،حال سے ہم آہنگ اور روشن مستقبل کی امید پر اپنے فن کو فروغ دیا ہے۔ 

Mohd Arif
Research Scholar, Dept of Urdu
Jamia Millia Islamia
New Delhi - 110025






قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

1 تبصرہ:

  1. بلراج کومل کی شفاف نظمیں شب خون،تحریک اور عصری آگہی میں سے کسی نہ کسی میں پڑھنے کو مل جاتی تھیں ... نہایت پر مغز اور اپنے دور کے فعال شاعر. ان کی شاعری کا اس مضمون میں اچھا خاصا احاطہ کیا گیا ہے... مسعود بیگ تشنہ

    جواب دیںحذف کریں