فہمیدہ ریاض کی شاعری میں عورتوں کے مسائل مضمون نگار:۔ محمد اکبر




فہمیدہ ریاض کی شاعری میں عورتوں کے مسائل

محمد اکبر



1960کے بعد شاعری کی شروعات کرنے والی پاکستانی شاعرات میں ایک اہم نام فہمیدہ ریاض کا ہے۔ انھوں نے جس ماحول میں ہوش سنبھالا تھا وہ طوائف الملوکی کا دور تھا جس کی وجہ سے وہ بہت متاثر رہی ہیں۔ سندھ یونیورسٹی سے گریجویشن کے بعد ریڈیو سے وابستگی نے ان کے سیاسی شعور کو بیدار کیا۔انھوں نے نیشنل اسٹوڈینٹ فیڈریشن سے وابستگی اختیار کی۔فہمیدہ ریاض چھپ چھپ کر اشتراکی ادب کا مطالعہ کرتی تھیں۔ انھوں نے کمیونسٹ پارٹی بھی جوائن کی تھی۔اشتراکیت سے دلچسپی کے سبب وہ فیض احمد فیض کی شاعری سے بہت متاثر تھیں۔1967میں ان کا شعری مجموعہ ’پتھر کی زبان‘ منظر عام پر آیا۔اسی سال ان کی شادی بھی ہوگئی اور اپنے شوہر کے ساتھ انگلینڈچلی گئیں،وہاں پر1967سے 1972 تک بی بی سی میں خدمات انجام دیں۔فلم سازی کا عملی تجربہ بھی کیا۔دوران قیام انگلینڈ انھوں نے مغربی تہذیب و تمدن کو بہت نزدیک سے دیکھا اور وہاں کے ادب کا مطالعہ بھی کیا۔عالمی تحریک آزادی برائے نسواں سے بہت متاثر ہوئیں۔کارل مارکس کے نظریات سے متاثر ہو کر انگلینڈ میں سوشلسٹ پارٹی کی رکنیت بھی حاصل کی۔1972 میں شوہر سے نا خوشگوار تعلقات کے سبب وہ پاکستان آکر کراچی میں مقیم ہوگئیں۔ان کی دوسری شادی سندھ کے ایک شخص سے ہوئی جو ایک سماجی کارکن تھے اور سندھ میں چل رہی کسانوں کی تحریک سے وابستہ بھی تھے۔
فہمیدہ ریاض کو محسوس ہوا کہ سندھیوں کو ہر سطح پر نظر انداز کیا گیا ہے، لہٰذا انھوں نے دانشورانہ طور پر سندھیوں کی حمایت میں وقتا فوقتابیانات جاری کیے،احتجاج کیااور بے باکی کے ساتھ انسانی ہمدردی اور جذبہ صلہ رحمی کا زبردست مظاہرہ کیا۔ان کی نظموں کا مجموعہ ’بدن دریدہ‘ جب شائع ہواتو ایک کہرام سا مچ گیا۔کیونکہ فہمیدہ ریاض نے ہر اس نقطے کو نشانہ بنایا تھا جس سے انسانیت پامال ہو رہی تھی۔بنی نوع آدم کے لیے خطرہ تھا۔جنسیات سے متعلق انھوں نے بڑی بے باکی سے لکھا اور ایسے معاملات و مسائل پر قلم اٹھایا جو سماج اور معاشرے میں نا قابل بحث ہوا کرتے تھے، جس کی پاداش میں فہمیدہ ریاض معتوب ہوئیں۔اپنی بات کو عوام تک پہچانے کے لیے انھوں نے ’آواز‘ نامی رسالہ جاری کیا، جو تقریباًچار سال تک پابندی سے شائع ہوا۔مجبوراً آخری شمارہ مارچ 1981میں نکال کر بند کرنا پڑا۔ اس کے بعد فہمیدہ نے ہندوستان کا رخ کیا۔ رسالہ آواز پر چودہ مقدمے کیے گئے۔ایک مقدمہ بغاوت کا بھی تھا۔بغاوت کی سزا پھانسی بھی ہوسکتی تھی۔لہذا وہ ہندوستان چلی آئیں اور سات برس تک یہیں رہیں۔ ہندوستان میں اپنے پڑھنے لکھنے کا کام جاری رکھااور مختلف پروجیکٹ پر کام کرتی رہیں۔
فہمیدہ ریاض ایک کثیر الجہات شخصیت کی مالک ہیں، انھوں نے شاعری کے علاوہ افسانے، ناول اور خاصی تعداد میں سیاسی،سماجی اور ادبی مضامین بھی لکھے ہیں۔ان کے شعری مجموعے کے نام بالترتیب یہ ہیں۔ پتھر کی زبان،بدن دریدہ،دھوپ، کیا تم پورا چاند نہ دیکھو گے۔ ،ہمرکاب،اپنا جرم ثابت ہے اور آدمی کی زندگی۔ یوں تو فہمیدہ نے نظم کی تمام ہئیتوں میں طبع آزمائی کی ہیں، مگر سب سے زیادہ انھوں نے آزاد نظم کے فارم کو اپنی تخلیقی کاوش کا حصہ بنایا ہے۔البتہ غزلیں انھوں نے کم کہی ہیں،جوان کے دوسرے مجموعے، بدن دریدہ میں موجود ہیں۔ ترجمے کے میدان میں بھی انھوں نے اہم کارنامہ انجام دیتے ہوئے شیخ ایاز کے سندھی کلام کو اردو میں نہایت بلیغ ترجمہ کیا ہے۔ایرانی شاعرہ فروغ فرخ زاد کی فارسی کا بھی اردو میں ترجمہ کیا۔ ن م راشد سے لے کر فہمیدہ ریاض تک کئی ادبی ہستیوں نے اردو زبان میں ترجمہ کیاہے۔لیکن فہمیدہ کا ترجمہ اس اعتبار سے اہم ہے کہ وہ بذات خود فکرو فن کی سطح پر فرخ زاد سے مماثلت اور مطابقت رکھتی ہیں۔ان کی یہ ترجمہ شدہ کتاب ’کھلے دریچے سے‘کے نام سے 1988میں پاکستان سے شائع ہوئی۔
ہر زمانے کا شاعر اور فنکار اپنے عہد کے محرکات کو اپنا موضوع بناتا ہے۔البتہ اس عہد کے سیاسی و معاشرتی نظام کے تحت اسلوب بیان اختیار کرتا ہے۔ ’پتھر کی زبان‘ فہمیدہ ریاض کا پہلا مجموعہ ہے،جو صرف 21برس کی عمر میں شائع ہوا تھا۔اس کی زیادہ تر نظمیں ایک نو عمر لڑکی کے خوابوں اور اس کے تصور کی عکاسی کرتی ہیں۔عورت مرد کے ازلی رشتے اور اس رشتے میں جسم و جان کی قیمت پر بھی عورت کی جانب سے وفا کی ریت نبھانے کو موضوع سخن بنایا گیا ہے۔اس مجموعے میں شامل ایک نظم جھجک دیکھیے:
یہ مری سوچ کی انجان کنواری لڑکی 
غیر کے سامنے کچھ کہنے سے شرماتی ہے
اپنی مبہم سی عبارت کے دوپٹے میں چھپی 
سر جھکائے نظریں کترا کے نکل جاتی ہے
(جھجک، پتھرکی زبان)
’پتھر کی زبان ‘کی بیشتر نظموں کی شروعات مایوسی اور اداسی سے ہوتی ہے۔ لیکن تقریباًسبھی نظموں میں ایک واضح موڑ آتا ہے، جہاں مایوسی اور اداسی کی جگہ ایک ایسی کیفیت لے لیتی ہے جسے امید،یقین،اثبات یا ایسے کسی رجحان کا نام تو نہیں دیا جاسکتا، لیکن بہر حال وہ کیفیت ہار مان لینے کی نہیں ہے۔مثالیں دیکھیے:
اسی اکیلے پہاڑ پر تو مجھے ملا تھا
یہی بلندی ہے وصل تیرا 
یہی ہے پتھر مری وفا کا 
اجاڑ چٹیل، اداس، ویراں 
مگر میں صدیوں سے اس سے لپٹی ہوئی کھڑی ہوں
پھٹی ہوئی اوڑھنی میں سانسیں تری سمیٹے
ہوا کے وحشی بہاؤپر اڑرہا ہے دامن 
نکیلے پتھر
جو وقت کے ساتھ میرے سینے میں اتنے گہرے اتر گئے ہیں 
کہ میرے جیتے لہوسے سب آس پاس رنگین ہوگیا ہے
مگر میں صدیوں سے لپٹی ہوئی کھڑی ہوں
(پتھر کی زبان)
اس نظم کی پوری فضا یہ احساس دلاتی ہے کہ وصل کے بعد مرد عورت کو بھول گیا ہے۔لیکن عورت وفا کی پاسداری میں مصروف ہے۔اسی مجموعے میں ایک دوسری نظم ’گڑیا‘ ہے، جس میں مرد عورتوں کو گڑیا کی طرح بالکل بے جان چیز سمجھتا ہے اور اسے گڑیا بننے پر مجبور کردیتا ہے۔بالکل اسی طرح جیسے بچہ جب تک اس کا جی چاہتا ہے کھیلونوں سے کھیلتا ہے اور پھر دل بھر جانے پر اس کو الماری میں بند کردیتا ہے۔نظم سنیے گا:
چھوٹی سی ہے
اس لیے اچھی لگتی ہے 
بٹوا جیسے ہونٹ ہیں اس کے 
اور رخساروں پر سرخی ہے
نیلی آنکھیں کھولے بیٹھی تاک رہی ہے
جب جی چاہو کھیلو اس سے 
الماری میں بند کرو
یا 
طاق پر رکھو اسے سجا کر 
اس کے ننھے لبوں پہ کوئی پیاس نہیں ہے
نیلی آنکھوں کی حیرت سے مت گھبراؤ
اسے لٹادو
پھر یہ جیسے سوجائے گی
)گڑیا،پتھر کی زبان)
جو چیز سب سے زیادہ یہاں اپنی طرف متوجہ کرتی ہے، وہ نظم کا آخری حصہ ہے۔یعنی مرد یہ سمجھتا ہے کہ عورت اس کی خود غرضی سے واقف نہیں ہے، مگر کم و بیش ہر عورت سب کچھ سمجھ رہی ہوتی ہے،لیکن اس کے اندر اظہار کرنے کی جرأت نہیں ہوپاتی۔
فہمیدہ ریاض کی شاعری میں مختلف موضوعات کے علاوہ جو چیزواضح طور پر ہمارے سامنے آتی ہے اور جس سے ان کی شناخت قائم ہوتی ہے وہ تانیثی مسائل ہیں۔ جہاں وہ پورے نظام سے نبرد آزما ہیں۔فہمیدہ ریاض کے سوچنے کا یہ انداز ہے کہ جس نظام میں عام انسانوں کے حقوق سلب ہوجائیں اور ایسے سماج میں عورتوں کے اوپر دوسرے خارجی مسائل کا بار اس قدر ڈال دیا جاتا ہے کہ اسے سوچنے کا موقع تک نہیں دیا جاتا۔پھر وہ مخلوق اٹھنا چاہتی ہے،ایسے میں جب وہ پردہ پھاڑ کر باہر آتی ہے تو اپنی موجودگی کا احساس دلاتی ہے۔پاکستان کی تانیثی شاعری اسی سماجی و سیاسی جبر تلے محرومی و بے بسی کے رد عمل کے طورپر ایک احتجاج، بغاوت اور سرکشی ومزاحمت کی شاعری ہے۔فہمیدہ ریا ض کی شاعری نے ان کے وجود کو ثابت بھی کیا اور عصری نظام سے تسلیم بھی کرایا۔گویا ان کی شاعری سماج کا اعتراف نامہ ہے:
وصال ہجر کی باتیں پرانے قصے ہیں 
شکست دل تو بڑی عام سی کہانی ہے
نئے زمانے میں جذباتیت سے کام نہ لو
وہ ایک ذرا سی شرارت ہی کیا محبت تھی
(مجبوری۔پتھرکی زبان)
پتھر کی زبان میں فہمیدہ کے یہاں جس مردانہ ذہنیت کے خلاف احتجاجی شعور تشکیل پاتا ہوا نظر آتا ہے وہ ان کے دوسرے مجموعے بدن دریدہ میں مکمل ہوجاتا ہے۔ان کو اس بات کا احساس ہے کہ ہم عورت ضرور ہیں، لیکن سماج میں ہماری ایک فرد کی حیثیت بھی ہے۔اسی لیے ان کی شاعری کی مرکزی فکر عورت اور اس کے مسائل ہیں۔ انھیں یہ شکایت ہے کہ آخر یہ مرد سماج ہمیں صرف ایک وقتی ضرورت کی شئے کیوں سمجھتا ہے، جب کہ ہم اس کے علاوہ بھی توہیں۔ اسی احساس کو انھوں نے اپنی ایک نظم ’کب تک‘میں پیش کیا ہے:
کب تک مجھ سے پیار کرو گے
کب تک 
جب تک میرے رحم سے بچے کی تخلیق کا خون بہے گا
جب تک میرا رنگ ہے تازہ
جب تک میرا انگ تنا ہے
پر اس سے آگے بھی تو کچھ ہے 
وہ سب کیا ہے
کسے پتا ہے
وہیں کی ایک مسافر میں بھی
انجانے کا شوق بڑا ہے
پر تم میرے ساتھ نہ ہوگے تب تک
(کب تک، بدن دریدہ)
فہمیدہ ریا ض ایک ایسی بے باک و نڈر فنکار ہیں، جن کا کوئی ثانی نہیں۔ افسانہ نگاری میں عصمت چغتائی نے جنسی موضوعات کو جس بے باکی سے ابھاراتھا،شاعری میں اسی طرح کے موضوعات کو فہمیدہ ریاض نے نہ صرف برتا ہے، بلکہ اس کا حق بخوبی ادا کیا ہے۔جن موضوعات کو دوسری شاعرات شجر ممنوعہ سمجھ کر کبھی چھونے کی جرأت نہ کر سکیں، فہمیدہ نے اپنی شاعری میں بے باکانہ ان کا اظہار کیا ہے۔
فہمیدہ ریاض کی شاعری کو جنسی لذت پرستی کا الزام دے کر نظر انداز کرنے کی کوشش کی گئی اور سیاسی مہم جوئی کی شاعری کا الزام بھی لگا۔مگر ان کی شاعری شعری لوازمات اور فنی خوبیوں سے پوری طرح آراستہ ہے، جمالیاتی محاسن سے بھر پور ان کی شاعری میں ایک پیغام ہے۔چونکہ فہمیدہ ریاض جس سماج میں رہیں، وہ سماج جبر و استبداد سے بھرا ہوا تھا۔فہمیدہ نے اگر جنسی موضوعات کو چھوا تو انھوں نے مرد عورت کے جبلی تعلقات کی فطری ضرورت کو اپنی نظموں میں برتابھی ہے۔
فہمیدہ کی شاعری میں ایک ایسی متحرک اور فعال عورت کار فرما نظر آتی ہے،جو اپنے مکمل وجود کی اہمیت کو مردوں کے بنائے ہوئے سماج میں منوانے کے لیے جدو جہد کر رہی ہے۔ اسے احساس ہے کہ سماج کا کوئی بھی ادارہ ہو، وہ عورت کو صرف تابع ہی دیکھنا چاہتا ہے۔اسی لیے فہمیدہ روایتی معاشرے میں عورت کے ساتھ ہونے والی نا انصافی کے خلاف آواز بلند کرتی ہیں۔ان کی نظمیں باکرہ،تمہارے بیچ،وہ ایک زن ناپاک ہے،ایک عورت کی ہنسی،اک زن خانہ بدوش اور ایک لڑکی وغیرہ یہ ایسی نظمیں ہیں جن میں ایک عورت کی ترجمانی کی گئی ہے۔عورت کے بارے میں مردانہ رویہ یہ ہے کہ اس کا انکار بھی اقرار سمجھا جاتا ہے۔ فلسفیانہ سطح پر یہ مظہریت کی نفی ہے،مگر انھوں نے اس کا اظہار کھل کر کیا ہے۔
جو میرے لب پہ ہے شاید وہی صداقت ہے
جو میرے دل میں ہے اس حرف رائیگاں پہ نہ جا
مرد زیادہ تر عورت کی ظاہری شکل و صورت سے متا ثر ہوجاتا ہے، مگر وہ اس کے جذبات و خیالات کے بارے میں نہیں سوچتا۔ایسے معاشرہ میں جہاں مروجہ نظام سے انحراف بیخ کنی تلوار کی دھار پہ چلنے کے مانند ہے۔فہمیدہ ریاض کو کبھی کبھی اس ڈگر پر تنہائی کا احساس ہوتا ہے۔نظم سورہ یاسین دیکھیے:
سوکھے حلقوم اور بیٹھے دل سے سوچتی ہوں 
شاید میں رستہ بھول گئی 
یہ راہ تو میری راہ نہیں 
اس راہ سے میں کب گزری تھی
سب گلیوں پر یہاں نام لکھے 
اس گلی پہ کوئی نام نہیں 
(سورہ یاسین۔بدن دریدہ)
حاشیہ نظم اس جاگیر دارانہ ذہنیت کی طرف اشارہ کرتی ہے، جہاں شرم و حیا کے نام پر عورتوں کا صدیوں سے استحصال ہورہا ہے۔ جہاں نظم میں طنزیہ عنصر پیش ہواہے، وہیں ایک معنویت بھی پیدا ہوگئی ہے:
کبھی تم نے سوچا 
کرو ذکر جب اپنی قدروں کا 
اور اپنے، مشرق کے اخلاق، کی رفعتوں کا
جہاں سے نظر تم کو آتا رہا ہے
تمدن پرایا نہایت حقیر
کرو جب رقم زر فشاں داستاں
تو اک حاشیہ اس میں تاریک چھوڑو
کہ لیٹی ہوئی ہیں وہاں با حیا مشرقی عورتیں 
جن کو چشم فلک نے نہ دیکھا کبھی 
وہاں درج ہے ان کے جسموں پہ 
خود ان کے ہاتھوں سے تحریر ہوتی کہانی 
تسلسل سے اب تک لکھی جارہی ہے
بہت قابل رحم یہ داستاں 
ہے تمہارے تمدن کا وہ حاشیہ 
کہ اوجھل رہا سب کی نظروں سے اب تک 
اب اتنا بتا دو
کہ تم اس سے نظریں چراؤگے کب تک؟
(حاشیہ، آدمی کی زندگی)
فہمیدہ ریاض نے اپنی شاعری میں ایک عورت کے تجربات کو انتہائی بے باک اظہار سے مربوط کر کے اور ان کا رشتہ زندگی کے رنگا رنگ پہلوؤں سے قائم کر کے پیش کیا ہے۔ ایک عورت اپنی زندگی میں جن تجربات سے گزرتی ہے، ان میں وہ ایک محبوبہ بھی ہوتی ہے، ایک بیوی بھی اور ایک ماں بھی۔ پتھر کی زبان کی نظمیں اگر ایک نو عمر لڑکی کے تجربات اور احساسات کا آئینہ ہیں تو، بدن دریدہ،دھوپ اور آدمی کی زندگی کی نظمیں ایک لڑکی سے عورت اور عورت سے ایک ماں بننے تک کے سفر میں عورت کے تجربات کی سچی اور دلکش تصویر یں ہیں۔جیسا کہ رام لعل نے بیان کیا ہے:
’’لڑکی سے عورت اور عورت سے ماں بننے تک کے سفر میں جو تصویریں ’بدن دریدہ‘ اور ’دھوپ‘ کے زاویوں اور کرنوں میں ڈھلتی چلی جاتی ہیں وہ ذاتی،دھار دار اور ست رنگی ہیں۔ذاتی اس حوالے سے کہ اس سے پہلے ایسی باتیں ہم نے کسی عورت کی زبان سے نہیں سنیں۔دھار دار اس حوالے سے کہ ایسا بے باک لہجہ،ایسے بے باک خیالات کے جلو میں اس سے پہلے کسی نے اختیار نہیں کیااور ست رنگی اس حوالے سے کہ فہمیدہ نے ہر تجربہ کو ہری بھری رتوں،ساون کی بارشوں اور بہار کے حسن کی لذتوں اور منظروں کوگود میں پال کر جوان کیاہے۔‘‘ 
(رام لعل، فہمیدہ ریاض،بشمول دریچوں میں رکھے چراغ (ادبی خاکے)، شانتی نکیتن، لکھنؤ،1991ص295)
اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ فہمیدہ ریاض کی شاعری احتجاج کی شاعری ہے۔انھوں نے عورتوں کے مسائل پر کھل کر آواز اٹھائی ہے۔ ان کا تخلیقی سفر مارشل لا کے زمانے میں شروع ہوا تھا،اس لیے جبرو استحصال کے خلاف اور جمہوری واشتراکی نظام کی حمایت میں ہمیشہ لکھتی رہیں،وہ فیض سے متاثر نظر آتی ہیں، مگر ان کا اپنا لب و لہجہ ہے۔فہمیدہ ریاض کے یہاں ہجرت کا درد بھرا ہوا ہے اور ان کی شناخت تانیثی مسائل سے ہوتی ہے۔فہمیدہ ریاض نے اپنی شاعری میں عورتوں کے مسائل کو جس انداز میں پیش کیا ہے، وہ یقیناًغیر معمولی ہے۔ اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ان شاعری عورتوں کے مسائل کا ایک ایسا آئینہ ہے، جہاں اہل نظر بہت کچھ ملاحظہ کر سکتے ہیں۔

Dr Mohd Akbar
Assistant Professor 
CPDUMT, MANUU
Hyderabad - 500032 (Telangana)






قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں