سنت کبیر اور نظیر : مشترکہ وراثت مضمون نگار:۔ کوثر مظہری




سنت کبیر اور نظیر : مشترکہ وراثت
کوثر مظہری
ہماری ادبی تاریخ میں انسانی جذبات اور محسوسات کو پیش کرنے والے شعرا اور بھی ہوئے ہیں لیکن اگر ہم حضرت امیرخسرو، سنت کبیر اور نظیر اکبرآبادی کی زندگی اور ان کی شاعری پر غور کریں تو اندازہ یہ ہوتا ہے کہ ان تینوں کے دلوں میں عوامی زندگی اور اجتماعی حسّیت یعنی Collective Sensibility کی لہریں اور ان لہروں سے پیدا ہونے والے ارتعاشات (Vibrations) پیدا ہوتے رہے ہیں۔ یہاں میں امیر خسرو پر تو نہیں، البتہ کبیر اور نظیر کی مشترکہ وراثت کے حوالے سے گفتگو کروں گا۔
کبیر انسانی معاشرے کی سچی قدروں کا پاسدار ہے۔ اس کا ٹھیٹھ پن اور زندگی کی مختلف جہتوں کو دیکھنے کا قلندرانہ انداز ہمیں زندگی کو دیکھنے کا ایک نیا زاویہ عطا کرتا ہے۔ وہ دنیا کے خالق سے اور یہاں کے لوگوں سے عشق کرتاہے۔ ہندوستانی روایتوں اور یہاں کی سخت مذہبی بندشوں پر طنز بھی کرتا ہے۔ ہر حال میں وہ پیار اور محبت کو اولیت دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے:
نیہہ نبھائے ہی بنے سوچے بنے نہ آن
تن دے من دے سیس دے نیہہ نہ دیجے جان
یعنی پیار نبھانے کے لیے اگر تن من اور سر کی بازی لگانی پڑے تب بھی چوکنانہیں چاہیے۔
انسان دوستی اور پیار کی اس بھاشا کو وہ اس طرح بھی دیکھتے ہیں:
سادھو بھیا تو کیا بھیا جو نہیں بول بچار
ہے پرائی آتما جیبھ لیے تروار
یعنی صرف کتاب پڑھ کر اچھے وچار نہیںآتے اور زبان سے دوسروں کو زخمی کرنا کسی طرح درست نہیں۔ 
کبیر میٹھی وانی اور آپسی بھائی چارے کی بات کرتا ہے۔ ہندوستانی تہذیب اور صوفی سنتوں کے طرزِ زندگی میں انسانیت کی فلاح اور بھلائی دیکھتا ہے۔
اس کے علاوہ کبیر کے یہاں عشق حقیقی یعنی خالق کائنات سے عشق کا اظہار بھی ملتا ہے۔ ایک ماورائی تصور یعنی زندگی اور کائنات کے تئیں ان کا Metaphysical approach بھی ملتا ہے۔ اس حوالے سے بھی مختلف پہلوؤں پر گفتگو ہوسکتی ہے۔
کبیر ہی کی طرح نظیر نے بھی عوامی زندگی اور عام انسانی جذبات کی عکّاسی کی ہے۔ ان کی شاعری میں مقامی رنگ یعنی ہندوستانیت کے بہت ہی واضح نشان ملتے ہیں۔ نظیر نے زندگی اور سماج کی حقیقتوں کو بغیر کسی تصنع اور بناوٹ کے پیش کیا ہے۔ چوں کہ اردو شاعری کا مزاج فارسی زدہ اسلوب کا حامل رہا ہے، اس لیے نظیر کے سیدھے سادے اسلوب اور ٹھیٹھ طرز اظہار کو اردو کے نقادوں نے بہت کم سراہا۔ لیکن اس کے باوجود ان کی شاعری عوام میں مقبول ہوتی گئی۔ ایسا نہیں کہ وہ فارسی کے اسلوب سے واقف نہ تھے، بلکہ وہ تو فارسی میں شاعری بھی کرتے تھے اور ان کا ایک فارسی کا مختصر دیوان بھی ملتا ہے۔ لیکن جہاں تک اردو کا تعلق ہے، انھوں نے اس کے گیسو کو سادہ بیانی کی افشاں سے چمکایا۔
نظیر کی شاعری کو پڑھتے ہوئے محسوس ہوتاہے جیسے ہم بازار کے تماشوں میں شامل ہیں اور آس پاس کے میلوں ٹھیلوں میں ٹہل رہے ہیں۔ نظیر ہمیں زندگی اور اس کے بازار کے تماشوں میں لیے گھومتا ہے۔نظیر کے یہاں امیر غریب کا فرق مٹ جاتا ہے۔ وہ رواداری اور یگانگت کا سفیر ہے۔ انسانی سائکی کو کبیر ہی کی طرح بہت اچھی طرح سمجھتا ہے اور انسانی حرکات و سکنات پر گہری نظر رکھتا ہے۔ اس کی ایک مشہور نظم کا یہ بند دیکھیے:
مسجد بھی آدمی نے بنائی ہے یاں میاں
بنتے ہیں آدمی ہی امام اور خطبہ خواں
پڑھتے ہیں آدمی ہی قرآن اور نماز، یاں
اور آدمی ہی ان کی چراتے ہیں جوتیاں
جو ان کو تاڑتاہے سو ہے وہ بھی آدمی
نظیر اسی طرح انسانی زندگی کی ناپائیداری کا نقشہ بھی پیش کرتا ہے۔ دنیا کی جاہ و حشمت اور وقار اور منصب اس کے نزدیک بے معنی ہے۔ آخرکار ایسے میں امیر اور غریب کا کچھ فرق باقی نہیں رہتا۔ جیسے نظیر کی ایک نظم کا یہ بند ملاحظہ کیجیے:
گو ایک کو ہزار روپے کا ملا کفن
اور ایک یوں پڑا رہا ہے بے کس برہنہ تن
کیڑے مکوڑے کھاگئے دونوں کے تن بدن
دیکھا جو ہم نے آہ تو سچ ہے یہی سخن
جو خاک سے بنا ہے، وہ آخر کو خاک ہے
کبیر جس خدا کو اپنا معبود سمجھتا ہے، وہ اپنا کوئی روپ نہیں رکھتا۔ وہ جسے خالق کائنات سمجھتا ہے اس کی تصویرکشی یوں کرتا ہے:

جا کے مُنہ ماتھا نہیں ناہیں روپ کروپ
پُہُپ باس تیں پاترا ایسا تتّو انُوپ
(جس کے نہ منہ ہے نہ پیشانی، جو نہ خوبصورت ہے اور نہ بدصورت۔ جو پھول کی خوشبو سے بھی لطیف ہے ایسی بے مثال حقیقت ہے۔)
ایک ایسا خدا جس کی کوئی شکل و شباہت نہیں یعنی اُس ذات مطلق کی کوئی تصویر انسانی عقل بنانے سے قاصر ہے۔ کبیر نے بڑی خوبصورتی سے اس تصور کو اپنے نغموں میں سمویا ہے۔ 
دو شعر سنیے:
دیہی ماہیں بدیہہ ہے صاحب سَرِت سروپ
اننت لوک میں رم رہا جاکے رنگ نہ روپ
(وہ جسم میں غیر مجسم (بدیہہ) ہوکر خیال کی صورت میں بستا ہے۔ وہ جس کا نہ رنگ ہے نہ روپ ہے اور غیرمحدود کائنات میں جاری و ساری ہے)
ریکھ روپ جِہہ ہے نہیں ادھر دھرو نہیں دیہہ
گگن منڈی کے مدھیہ میں رہتا پرکھ بدیہہ
(خطوط سے جن کی تصویر بنتی ہے نہ اس کی کوئی صورت ہے اور نہ کسی چیز پر ٹِکا ہے۔ وہ بغیر جسم والا قادر مطلق آسمان کے بیچ رہتا ہے)
یہ شعر کبیر کے نظریۂ الٰہ کو اور بھی واضح کردیتا ہے :
سرگن کی سیوا کرو نرگن کو کر گیان
نرگن سرگن سے پرے تہیں ہمارا دھیان
(تم چاہے باصفات خدا کی پوجا کرو یا لاصفات کی معرفت حاصل کرو، ہمارا دھیان تو وہاں لگا ہے جو باصفات اور لاصفات خدا سے ماورا ہے)
کبیر صرف ذات مطلق کی تعریف و توصیف ہی پیش نہیں کرتا بلکہ اصل بھکتی، شبد اور آہنگ روحانی، کائنات کی اصل حقیقت، ذکر الٰہی اور خدا سے قرب کی بات بھی کرتا ہے اور قُرب الٰہی کے راستے میں آنے والی مشکلوں اور شرطوں کا ذکر بھی کرتا ہے۔ اصل بھکت کو کبیر اس طرح پیش کرتا ہے:
جب لگ ناتا جگت کا تب لگ بھکتی نہ ہوئے
ناتا توڑے ہَر بھجے بھکت کہاوے سوئے
151151
دیکھا دیکھی بھکتی کا کبھوں نہ چڑھسی رنگ
بپت پرے یوں چھانڑ سی جیوں کینچلی بھُجنگ
(دوسروں کی دیکھا دیکھی بھکتی کا رنگ کسی پر نہیں چڑھ سکتا۔ ایسا آدمی مصیبت پڑنے پر بھکتی کو ایسے ہی چھوڑ دیتا ہے جیسے سانپ کینچلی اتار دیتا ہے۔)
کام، کرودھی، لالچی ان تیں بھکتی نہ ہوئے
بھکتی کرے کوئی سورماجات برن کُل کھوئے
(شہوت پسند، غصہ ور یا لالچی لوگوں سے بھکتی نہیں ہوسکتی۔ بھکتی کرنا ایسے بہادر کا کام ہے جو اپنی ذات، ورن یعنی برہمن چھتری وغیرہ اور خاندان کو چھوڑ دے۔)
ایسے اور بھی بے شمار نغمے اور اشعار ہیں، لیکن یہاں اس کی گنجائش نہیں۔
نظیر نے ذات مطلق کی کوئی تعریف پیش نہیں کی ہے لیکن اس کے یہاں چوں کہ اسلامی فکر بھی ہے، لہٰذا اس کے یہاں یہ نظریہ پہلے سے جانا پہچانا (Understood) ہے کہ خدا بغیر جسم اور بغیر شباہت کے ہے۔ اس لیے نظیر نے مناظر قدرت اور قدرت کے کارناموں کو اپنی نظموں میں پوری آب و تاب کے ساتھ پیش کیا ہے اور شاید اسی لیے ’لے آئینے کو ہاتھ میں اور بار بار دیکھ‘ دنیا کا چمن یارو ہے خوب یہ آراستہ، دیکھ ٹک غافل چمن کو گلفشانی پھر کہاں، جتنے تو دیکھتا ہے یہ پھل پھول پات بیل، یہ نعمتیں عیاں ہیں جو عالم کے واسطے، جیسے مصرعے اور نغمے نظیر کے چمن شاعری میں گونج رہے ہیں۔ بھکتی کو بھی نظیر نے پیش کیا لیکن اس کا انداز کبیر سے قدرے الگ ہے۔ لیکن پھر بھی کہیں مماثلتیں پیدا ہوجاتی ہیں۔ اوپر جیسے کبیر نے کہا: جب لگ ناتا جگت کاتب لگ بھکتی نہ ہوئے۔ ناتا توڑے ہَر بھجے بھکت کہاوے سوئے۔ 
اسی فکر کو نظیر اپنی نظم ’توکل و ترک و تجرید‘ میں پیش کرتا ہے۔ گیارہ بند والی نظم سے دو بند پیش کیے جاتے ہیں:
جب تو ہوا فقیر تو ناتا کسی سے کیا
چھوڑا کُٹم تو پھر رہا رشتہ کسی سے کیا
مطلب بھلا فقیر کو بابا کسی سے کیا
دلبر کو اپنے چھوڑ کے ملنا کسی سے کیا
گر ہے فقیر تُو تو نہ رکھ یاں کسی سے میل
یاں تو نبڑی نہ بیل پڑا اپنے سر پہ کھیل
دنیا نہ کہہ اسے یہ طلسمات ہے میاں
یہ جانور، یہ باغ، یہ گلزار، یہ مکاں
شکلیں جو دیکھتا ہے یہ جادو کی ہیں عیاں
سب کچھ ترے تئیں ہیں یہ دھوکے کی ٹٹیاں
گر ہے فقیر تُو تو نہ رکھ یاں کسی سے میل
یاں تو نبڑی نہ بیل پڑا اپنے سر پہ کھیل
ایک نظم اور ہے ’ترک و تجرید‘ جس میں دنیا اور اہل دنیا سے انسانی رشتوں کی حقیقت کو کمزور بتایا گیا ہے۔ کبیر نے بھی ’جات،برن اور کُل‘ کے کھونے کی بات کہی ہے۔ نظیر کو دیکھیے:
یہ بات کل کی ہے جو ہمارا کوئی تھا اپنا کوئی بیگانہ
کہیں تھے ناتی کہیں تھے پوتے کہیں تھے دادا کہیں تھے نانا
کسی پہ پھٹکا کسی پہ کوٹا کسی پہ پِیسا کسی پہ چھانا
اٹھا جو دل سے بھرم کا تھا نا تو پھر جبھی سے یہ ہم نے جانا
نہ باپ بیٹے نہ دوست دشمن نہ عاشق اور صنم کسی کے
عجب طرح کی ہوئی فراغت نہ کوئی ہمارا نہ ہم کسی کے
یہاں نظیر نے ’عجیب فراغت‘ کا استعمال اصل میں توکّل علی اللہ اور دنیا اور اہلِ دنیا سے الگ ہوکر ذات مطلق سے قریب ہونے کے لیے کیا ہے۔
کبیر کے یہاں دنیاوی حرص و ہوس کی بہت زیادہ مذمت کی گئی ہے۔ موہ مایا میں پڑ کر لوگ خدا سے دور ہوجاتے ہیں۔ کبیر نے اس دنیاوی محبت اور یہاں کی کشش کو طرح طرح سے پیش کیا ہے۔ اس کی نظر میں ذات مطلق اور موت کی اہمیت فزوں تر ہے۔ چند منتخب دوہے ملاحظہ کیجیے:
مایا تو ٹھگنی بھئی ٹھگت پھرے سب دیس
جا ٹھگ یا ٹھگنی ٹھگی تا ٹھگ کو آدیس
(دنیا کی دولت دھوکا دینے والی عورت ہے، سب کو ٹھگتی ہے جس نے اس عورت کو ٹھگ لیا اس کا سکّہ چل پڑا۔)
کبیر دنیا کو تج دینے کے ساتھ کھانے پینے کی اشیا کے لیے دل میں پیدا ہونے والے لالچ کو بھی ذات واحد تک پہنچنے میں رکاوٹ مانتا ہے۔ یہاں تک کہ چپڑی اور مرغن غذا کو بھی بندگی کے لیے مضر سمجھتا ہے۔
آدھی اور روکھی بھلی ساری میں سنتاپ
جو چاہے گا چوپڑی بہت کرے گا پاپ
(آدھی اور روکھی روٹی اچھی ہے، پوری میں مصیبت ہے۔ اگر تونے چپڑی روٹی کی خواہش کی تو یہ بڑا پاپ ہوگا)۔
کھٹّا میٹھا دیکھ کے رسنا میلے نیر
جب تک من پا کو نہیں کانچو نپٹ کبیر
(کھٹا میٹھا کھانا دیکھ کر زبان لار ٹپکا رہی ہے جب تک تیرا دل پختہ نہیں ہوتا اے کبیر کچا ہی رہے گا)
خوش کھانا ہے کھیچری مونہہ پر اٹک نون
مانس پرایا کھائے کے گرا کٹاوے کون
(میرے لیے نمک والی تھوڑی سی کھیچڑی اچھی ہے، دوسرے کا گوشت کھاکر اپنا گلا کون کٹائے)
یہاں کبیر صبر اور توکل کی بات کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ صبر و توکل دل کی تربیت سے پیدا ہوتا ہے۔ اسی لیے کبیر دل پر محنت کرنے کی بات بھی کرتا ہے:
من متنگ گیّر ہَنے منسا بھئی شچان
جنتر منتر مانے نہیں لاگی اُڑ اُڑ کھان
(من کا ہاتھی سب کو ہلاک کردیتا ہے اور خواہشیں باز بن کر شکار کرتی ہیں۔ یہ شکاری جنتر منتر سے نہیں مانتا اور اُڑ اُڑ کر سر پر آتا ہے)۔
پہلے یہ من کاگ تھا کرتا جیون گھات
اب تو من ہنسا بھیا موتی چن چن کھات
(دل کو کوّا نہ بنا جو جیون کی گھات میں رہتا ہے بلکہ اسے ہنس بنا جو موتی چن کر کھاتا ہے)
تن بوہت من کاگ ہے لکھ جو جن اڑ جائے
کبھی دریا اگم ہے کبھوں گگن سمائے
(جسم جہاز ہے اور دل کوّا جو لاکھ یوجن یعنی لامحدود فاصلوں تک اڑتا ہے۔ لیکن سمندر تو بغیر کنارے کا ہے اور کوا آسمان میں بھی نہیں سما سکتا اسے تو جہاز پرہی لوٹنا ہے)
کبیرا منہہ گیند ہے آنکُس دے دے راکھ
بِس کی بیل پریہری امرت کا پھل چاکھ
(اے کبیر تیرا دل ہاتھی ہے، اسے انُکس مار مار کے رکھ، زہر کی بیل چھوڑ کے امرت کا پھل چکھ)
دنیا کی عزت و جاہ، دنیا کی طلب، عیش و عشرت یا دولت کا موہ چھوڑ، دنیا ہی خدا سے اصل عشق یا قرب کی دلیل ہے۔ دل اگر دنیاوی خواہشات سے مغلوب ہو تو ایسے میں نہ سچی بھکتی ہوسکتی ہے اور نہ خدا کی سچی بندگی۔ نظیر بھی کہتا ہے:
پہنچے ہے وہی منزل مقصود کو، جو شخص
چلتا ہے فدا ہوکے تری راہ میں یارب
زر کی جو محبت تجھے پڑجائے گی بابا
دولت جو تیرے یاں ہے نہ کام آئے گی بابا
پھر کیا تجھے اللہ سے ملوائے گی بابا
نظیر نے دنیا کی بے ثباتی کا ذکر بہت کیا ہے۔ وہ چاہتا ہے اور جانتا ہے کہ یہ دنیا ختم ہوجانے والی ہے۔ اس کی نظم ’بنجارہ نامہ‘ پڑھنے سے مطلع اور بھی صاف ہوجاتا ہے: ’سب ٹھاٹھ پڑا رہ جائے گا جب لاد چلے گا بنجارہ‘ اور اسی لیے وہ ایک ایسا فقیرانہ اور قلندرانہ کردار خلق کرتا ہے، جو دنیا کو ناپائیدار سمجھتا ہے اور وہ ہر حال میں خوش رہتا ہے۔ نظیر کی ایک نظم ’خوش حالی نامہ‘ ہے جس کا عنوان ’تسلیم و رضا‘ بھی ملتا ہے، اس میں نظیر نے صبر و توکل کو موضوع بنایا ہے۔ دوبند ملاحظہ کیجیے:
گر کھاٹ بچھانے کو ملی کھاٹ میں سوئے
دوکاں میں سلایا تو وہ جا ہاٹ میں سوئے
رستے میں کہا سو، تو وہ جا باٹ میں سوئے
گر ٹاٹ بچھانے کو دیا، ٹاٹ میں سوئے
اور کھال بچھا دی تو اسی کھال میں خوش ہیں
پورے ہیں وہی مرد جو ہر حال میں خوش ہیں
کچھ ان کو طلب گھر کی نہ باہر سے انھیں کام
تکیے کی نہ خواہش ہے نہ بستر سے انھیں کام
استھل کی ہوس دل میں نہ مندر سے انھیں کام
مفلس سے نہ مطلب نہ توانگر سے انھیں کام
میدان میں، بازار میں، چوپال میں، خوش ہیں
پورے ہیں وہی مرد جو ہر حال میں خوش ہیں
نظیر دنیا کو فانی سمجھتا ہے اسی لیے دھن دولت جمع کرنے کو بھی وہ بے معنی گردانتا ہے۔ وہ سخاوت اور آزادہ روی کی ترغیب دیتا ہے۔ ایک بند دیکھیے:
یاں کا یہی مزا ہے کھانا ہو یا کھلانا
بھوکے کو ڈال روٹی ننگے کو کچھ اڑھانا
سب اس گھڑی اڑا لے جو تجھ کو ہو اڑانا
غافل پھر اس گلی میں تجھ کو نہیں ہے آنا
دل کی خوشی کی خاطر چکھ ڈال مال دھن کو
گر مرد ہے تو عاشق کوڑی نہ رکھ کفن کو
دنیا اور اہل دنیا کی مذمت میں نظیر نے کئی نظمیں کہی ہیں۔ لب لباب یہی ہے کہ یہ دنیا دل لگانے کی جگہ نہیں ہے۔ ایک پہلو یہ بھی ملتا ہے کہ آپ جس طرح دوسروں کے ساتھ سلوک کریں گے دوسرے بھی اسی طرح آپ کے ساتھ پیش آئیں گے:
جو اور کو پھل دیوے گا وہ بھی سدا پھل پاوے گا
گیہوں سے گیہوں جَو سے جَو چانول سے چانول پاوے گا
جو آج دیوے گا یہاں ویسا ہی وہ کل پاوے گا
کل دیوے گا کل پاوے گا کلپاوے گا کل پاوے گا
کلجگ نہیں کرجگ ہے یہ، یاں دن کو دے اور رات لے
کیا خوب سودا نقد ہے، اس ہاتھ سے اس ہات لے
کبیر نے بھی اپنے نغموں میں دنیا اور اس سے محبت کرنے والوں کی مذمت کی ہے۔ کبیر کہتا ہے کہ دنیا سے محبت کرنے والا سچی بھکتی نہیں کرسکتا۔ اس لیے وہ انسان کے ذریعے بنائے گئے مذہبی اصولو ں اور بندشوں پر طنز بھی کرتا ہے۔ اس کے نزدیک دنیا سے گہرے تعلق سے بھکتی مجروح ہوتی ہے:
جب لگ ناتا جگت کاتب لگ بھکتی نہ ہوئے
ناتا توڑے ہر بھجے بھکت کہاوے سوئے
(جب تک دنیا سے تعلق ہے، بھگتی نہیں ہوسکتی۔ دنیا سے رشتہ توڑ کر جو بھکتی کرے وہی بھکت ہے)
ایک دوسرے نغمے میں یوں کہتا ہے:
جل جیوں پیارا ماچھری لو بھی پیارا دام
ماتا پیارا بالکا بھکت پیارا نام
(جس طرح مچھلی کو پانی پیارا ہے لالچی آدمی کو دولت پیاری ہے۔ جس طرح ماں کو اس کا بیٹا پیارا ہوتا ہے ایسے ہی بھکت کو نام یعنی ایشور کا نام پیارا ہوتا ہے)
دنیا اور یہاں کی بھوک پر ’کبیر‘ ایک کڑا چوٹ کرتا ہے۔ اسے وہ کُتیا تصور کرتا ہے۔
کبیر چُھدھا ہے کوکری کرت بھجن میں بھنگ
باکو ٹکرا ڈار کے سمرن کرو نِسنک
(اے کبیر بھوک کُتیا کی طرح ہے جو خدا کی یاد میں خلل انداز ہوتی ہے۔اسے ایک ٹکڑا دے کر خدا کا ذکر اطمینان سے کرو)۔
خدا کی ذات یعنی ذات مطلق کی تلاش میں ادھر ادھر بھٹکنے کو کبیر فضول سمجھتا ہے۔ وہ اپنے من میں ڈوبنے کی بات کرتا ہے۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح علامہ اقبال نے کہا تھا ’اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی‘ یا پھر ’خودی‘ کا پورا فلسفہ یا پھر یہ حدیث قُدسی کہ مَنْ عَرَف نَفسہٗ فَقَدْ عَرفَ رَبَّہٗ یعنی جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔ کبیر یوں کہتا ہے :
جا کارن جگ ڈھونڈ یا سو تو گھٹ ہی مانہہ
پردہ دیا بھرم کا تا تیں سوجھے نانہہ
(جس مالک کی دنیا میں جستجو کی وہ تو تجھ میں ہے اس نے بھرم یعنی بے یقینی کا پردہ ڈال دیا تاکہ تجھے دکھائی نہ دے)۔
تیرا سائیں تجّھ میں جیوں پہُپن میں باس
کستوری کا مرگ جیوں پھر پھر ڈھونڈے گھاس
(تیرا مالک تجھ میں اس طرح سمایا ہے جیسے پھولوں میں خوشبو، تو کستوری کے ہرن کی طرح اِدھر اُدھر گھاس میں خوشبو تلاش کرتا پھرتا ہے)
بھولا بھولا کیا پھرے سِر پر بندھ گئی بیل
تیرا سائیں تجّھ میں جیوں تِل ما نہیں تیل
(تو اِدھرادھر مارا مارا کیوں پھرتا ہے ترے سر پر دنیا سوار ہے، تیرا مالک ترے اندر ہی ہے جیسے تِل میں تیل)۔
نظیراکبرآبادی نے بھی خدائے واحد کی ذات کو ہر رنگ میں اور ڈھنگ میں پہچاننے کی بات کی ہے۔ یہ صوفیوں کا پکا اور قدیم تصور ہے کہ خدا ہر شے میں موجود ہے۔ غالب نے بھی اسی بات اور تصور کو اپنی طرح پیش کیا تھا:
ہے رنگ گل و لالہ و نسریں جدا جدا
ہر رنگ میں بہار کا اثبات چاہیے
یعنی دنیامیں جتنے راستے اور ادیان ہیں سب کا منتہا و مقصد اُسی ذات مطلق (بَہار) کا اثبات ہے۔ نظیر اس تصور کو اپنی طرح ایک نظم کے بند میں یوں پیش کرتا ہے:
ہے کوئی کوئی دوست کوئی جان کا دشمن
بیٹھا ہے پہاڑوں میں کوئی پھرتا ہے بن بن
مالا کوئی جپتا ہے کوئی شوق میں سُمرن
چھوڑے ہے کوئی مال سمیٹے ہے کوئی دَھن
نکلے ہے جواہر کے کوئی پہن کے اَبرن
لوٹے ہے کوئی خاک میں رو رو کے ملاتن
جوگی کوئی بھوگی کوئی سوگی کوئی سوگن
جب غور سے دیکھا تو اُسی کے ہیں سبھی فن
ہر آن میں ہر بات میں ہر ڈھنگ میں پہچان
عاشق ہے تو دلبر کو ہر اک رنگ میں پہچان
(نظم: تلقین توحید، کلیات نظیر: مولانا عبدالباری آسی، 1951،ص 619)
اس پہلو سے مزید مثالیں بھی پیش کی جاسکتی ہیں لیکن آئیے ذرا دیکھیں کہ کبیر اور نظیر نے ’موت‘ اور ا س کی حقیقت کو کس طرح دیکھنے اور پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ کبیر کے یہاں موت ایک عجیب لذت بخش شے کی طرح ہے۔ اس کے یہاں موت خوف کے بجائے خوشی اور مسرت کا جواز فراہم کرتی ہے۔ 
دو تین نغموں کے یہ حصے دیکھیے:
جا مرنے سے جگ ڈرے میرے من آنند
کب مرہوں کب پاۂوں پورن پرمانند
(جس موت سے سب خوف زدہ ہیں اس سے میرے من کو خوشی ملے گی۔ میں کب مروں گا کہ مکمل آنند حاصل ہو)۔
میں مرجیو سمندر کا ڈبکی ماری ایک
موٹھی لایا گیان کی جا میں وستو انیک
(میں سمندر کا مرجیوا (غوطہ خور) ہوں میں نے ایک غوطہ لگایا اور معرفت مٹھی بھر کر لایا جس میں طرح طرح کی اشیا ہیں)۔
آس پاس جودھا کھڑے سبھی بجاویں گال
مانجھ محل سے لے چلا ایسا کال کرال
(دنیا سے جانے والے کے آس پاس ڈینگیں ہانکنے والے جنگجو کھڑے رہے، موت اسے محل کے بیچ سے اٹھا لے گئی، کہ وہ ایسی زبردست ہے)
آئیے اب ذرا نظیر کی نظم سے کچھ مثالیں دیکھتے ہیں کہ وہ موت اور اس کی حقیقت کو کس طرح دیکھتا ہے۔ اس نے فنا اور بعد از فنا کے حوالے سے کئی نظمیں کہی ہیں، اس کا فلسفہ ہے کہ ’جو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہے‘۔ موت جب آتی ہے تو بادشاہ، وزیر اور فقیر سب اس کے ساتھ ہو لیتے ہیں کبیر ہی کی طرح نظیر بھی کہتا ہے:
وہ شخص تھے جو سات ولایت کے بادشاہ
حشمت میں جن کی عرش سے اونچی تھی بارگاہ
مرتے ہی ان کے تن ہوئے گلیوں کی خاک راہ
اب ان کے حال کی بھی یہی بات ہے گواہ
جو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہے
(نظم: فنا، کلیاتِ نظیر، مرتب: آسی، ص 532)
کیا ہندو اور مسلماں، کیا رند و گبر و کافر
نقّاش کیا مصور، کیا خوش نویس شاعر
جتنے نظیر یاں ہیں اک دم کے ہیں مسافر
رہنا نہیں کسی کو چلنا ہے سب کو آخر
دوچار دن کی خاطر یاں گھر ہوا تو پھر کیا
(نظم: کُلُّ مَنْ عَلَیْہَا فَان، کلیات نظیر، از: آسی، ص 516)
کبیر نے موت کو جس طرح خوشی کا باعث قرار دیا ہے، نظیر اس طرح کا خالص صوفیانہ تصور نہیں پیش کرتا بلکہ یہ بتانا چاہتا ہے کہ ’موت‘ کس کس طرح کس کس کو آتی ہے اور اگر موت سے کسی کو وحشت یا خوف آتا ہے تو اس لیے کہ وہ دنیا سے دل لگا چکا ہوتا ہے۔ جبکہ دنیا کی ناپائیداری اور اس کے بے وقعت ہونے کی بات کبیر اور نظیر دونوں کرتے ہیں۔ نظیر کہتا ہے:
گھر ہو بہشت جن کا اور بھر رہی ہو دولت
اسباب عشرتوں کے محبوب خوبصورت
پھر مرتے وقت ان کو کیوں کر نہ ہووے حسرت
کیا سخت بے بسی ہے کیا سخت ہے مصیبت
ڈرتی ہے روح یارو اور جی بھی کانپتا ہے
مرنے کا نام مت لو، مرنا بُری بلا ہے
(نظم: موت کا دھڑکا، ایضاً، ص 508)
کئی ایک نظموں میں نظیر نے زندگی اور موت کی حقیقت کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ کبیر نے زندگی اور موت کے فلسفے کو نہایت ہی خوبصورتی سے ایجاز اور اختصار سے پیش کردیا ہے جبکہ نظیر کے یہاں ایجاز کے بجائے صراحت اور وضاحت کا رنگ غالب ہے۔ نظم میں بیانیہ انداز ہے۔ زندگی کا وہ فلسفہ جسے کبیر نے صرف دو مصرعوں میں بیان کردیا ہے، نظیر نے اسی کے لیے ایک یا اس سے بھی زائد بند کہے ہیں۔ نظیر نے روپے پیسے اور آٹے دال کی فلاسفی پیش کی ہے، آدمی، مفلسی، تندرستی، چپاتی، خوش آمد وغیرہ کا فلسفہ بھی صراحت کے ساتھ پیش کیا ہے۔
انسان کے اندر بے جا تکبر کیا ہوتا ہے اور اس کے نقصانات کیا ہوتے ہیں، کبیر اور نظیر دونوں نے اس پر توجہ کی ہے۔ نظیر نے شیخ سعدی کی مشہور نظم ’مسدس کریما‘ پر طویل تضمین کی ہے۔ مناجات، نعت سے لے کر علم و فضل، ظلم و عدل، حرص و قناعت، طاعت و عبادت، صبر و شکر، دروغ و راستی کو موضوع سخن بنایا ہے۔ اسی میں ایک حصہ ’در مذمت تکبر‘ بھی ہے۔ مسدس پر مشتمل چھ بندوں میں سے دو بند ملاحظہ کیجیے:
تکبّر سے ہوتا ہے جو آشنا
وہ بیگانۂ عقل ہے دائما
تکبّر سے کر خوف اے پارسا
تکبّر کی زشتی کہوں تا کجا
تکبّر عزازیل را خوار کرد
بہ زندانِ لعنت گرفتار کرد
بہت کھینچتا ہے جو اپنے تئیں
وہ گرتا ہے آخر بہ روئے زمیں
جو ناداں ہیں واقف وہ اس سے نہیں
و لیکن یقیں جان اے ہم نشیں
تکبّر بود عادتِ جاہلاں
تکبّر نیاید ز صاحب دلاں
(نظم: مسدس کریما، حصہ: درمذمت تکبر، کلیات نظیر ،آسی، ص 745)
کبیر کے لیے اہنکار کی تعریف اس طرح ملتی ہے کہ انسان کے اندر عزت کی چاہ بھی اہنکار کے زمرے میں آتی ہے۔ دنیا سے محبت یا پھر دنیا کی عزت اور جاہ و حشمت کی خواہش بھی اہنکار اور تکبّر ہے۔ کبیر کی فکر میں ایک طرح کا فلسفیانہ ارتکاز (Philosophical Centricism) ملتا ہے۔ نظیر تکبّر اور اہنکار کے خوارج پر نظر رکھتا ہے، جبکہ کبیر کی فکر میں ایک طرح کی نہایت ہی گہری رمز ابھرتی ہے جو انسان کو بہت ہی سنجیدگی کے ساتھ سوچنے پر مجبور کردیتی ہے۔ یہاں ان کے تین دوہے پیش کیے جاتے ہیں : 
مایا تجی تو کیا بھیا مان تجانہہِ جائے
مان بڑے مُنی ورگلے مان سبن کو کھائے
(دولت تج دیا تو کیا ہوا عزت کی چاہ نہیں جاتی۔ عزت حاصل کرنے میں بڑے بڑے فقیر اور مُنی ختم ہوگئے، اس عزت نے سب کو کھالیا۔)
مان بڑائی جگت میں کُوکُر کی پہچان
میت کیے مُکھ چاٹہی بیر کیے تن ہان
(دنیاوی عزت کُتے کی طرح ہے۔ دوست بننے پر مُنہ چاٹتا ہے اور دشمنی ہونے پر نقصان پہنچاتا ہے)۔
جنہہ آپا، تنہہ آپدا جنہہ سنسے تنہہ سوگ
کہہ کبیر کیسے مٹیں چاروں دیر گھ روگ
(جہاں اہنکار (آپا) ہے وہاں مصیبت ہے، جہاں شک ہے وہاں غم ہے۔ کبیر کہتا ہے کہ یہ چاروں مرض گمبھیر (دیرگھ) ہیں، کیسے مٹیں گے؟)
کبیراور نظیر نے انسانی زندگی کی کھردری اور سچی حقیقتوں کو اپنی شاعری کا حصہ بنایاہے۔ دونوں نے اس کائنات اور سماج کو ایک صوفی سنت اور قلندر کی نگاہ سے دیکھا ہے۔ دونوں نے انسان دوستی، انسانی محبت اور مساوات کے نغمے گائے ہیں۔ دونوں نے گھر میں بیٹھ کر سنی سنائی باتوں یا محض تخیل کی اڑان کی روشنی میں شاعری نہیں کی، بلکہ دونوں نے ذاتی تجربے اور مشاہدے کی بنیاد پر زندگی اور موت کی حقیقتوں یا اس سماج اور کائنات (Universe) کی تفہیم و تعبیر کی کوشش کی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ کبیراور نظیر دونوں میں انسانی سائکی سے ہم آہنگ ہوجانے کی بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں۔ لہٰذا دونوں کی زندگی میں زمانی بعد (Time Difference) کے باوجود دونوں کے باہم تقابلی مطالعے کا جواز پیدا ہوجاتا ہے۔
کتابیات : 
.1 کبیر رچناولی، ساہتیہ اکادمی، نئی دہلی
.2 کلیات نظیر، مرتبہ عبد الباری آسی
.3 کبیر وانی، علی سردار جعفری
.4 کبیر، پروفیسر شکیل الرحمن
.5 نظیر نامہ، مرتبہ شمس الحق عثمانی

Mr. Kausar Mazhari
Department of Urdu 
Jamia Millia Islamia, New Delhi - 110025 

فکر و تحقیق
جنوری تا مارچ 2016

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں