اقبال کا تصورِ تعلیم مضمون نگار: یاسمین فاطمہ


اقبال کا تصورِ تعلیم 

یاسمین فاطمہ
لفظ تعلیم کا استعمال تقریباً ہر عہد میں وسیع معنی میں کیا جاتا رہا ہے۔ لہٰذا تعلیم سے مراد محض رسمی تعلیم تک محدود نہیں ہے۔  دوسرے لفظوں میں تعلیم وہ علم نہیں ہے جو طالب علم عمر کے لحاظ سے تبدریج حاصل کرتا ہے۔ مطلب یہ کہ ہر طالب علم پہلے ابتدائی تعلیم کے حصول کی منزل سے گزرتا ہے۔ پھر درمیانی تعلیم کا وقفہ اس کی زندگی میں آتا ہے۔ اس وقفے کے گزرنے کے بعد وہ اعلیٰ تعلیم کی طرف رجوع کرتا ہے۔ جو یونیورسٹیوں اور دیگر اعلیٰ درسی اداروں سے حاصل کی جاتی ہے۔ لیکن درحقیقت تعلیم کا تصور بڑا وسیع اور بامعنی ہے۔ حصولِ تعلیم کا عمل شعوری اور غیرشعوری انداز میں انسانی زندگی کا اہم اور بنیادی حصہ رہا ہے۔ یہ عمل پیدائش سے لے کر زندگی کے آخری لمحے تک کسی نہ کسی صورت میں جاری رہتا ہے۔
کوئی  بھی عمل اور حرکت کسی مقصد کے حصول کی غرض سے ہی وجودمیں آتا ہے۔ لہٰذا تعلیم عمل کا بنیادی مقصد بھی بعض اعتبار سے انسانی زندگی اور سماج کی اصلاح اور بہبود سے منسوب ہے کیونکہ تعلیم کے ذریعے انسان کو زندگی کا شعور آتا ہے۔ وہ تہذیبی، معاشی اور معاشرتی خوبیوں سے واقف ہوتا ہے۔ ان خوبیو ں کو اپنی زندگی میں اہمیت دیتا ہے۔ اپنی فہم و ادراک کے مطابق گرد و پیش کے ماحول کا تنقیدی جائزہ لیتا ہے۔ ماحول کی ناخوشگواریت اور قابل اعتراض باتوں اور حقیقتوں کو بہتر اور سازگار بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ مختصر طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ انفرادی اور اجتماعی زندگی سے وابستہ مختلف پہلوؤں کی تربیت اور نشو و نما حصول تعلیم کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ ایسا ضروری بھی ہے کیونکہ اس طرح سے ایک ایسا سماج وجود میں آسکتا ہے جس کے افراد اعلیٰ تہذیب یافتہ ہوں۔ اقتصادی اور اخلاقی اعتبار سے خوش حال اور اپنے تئیں مطمئن ہوں۔ ان کے پاس منظم اور خاص فلسفہئ حیات ہو جو فکر اور عمل کا درس دیتا ہو۔
اردو زبان کے جن شعرا نے زندگی اور سماج کی اصلاح اور ترقی کے لیے جن راستوں کا تعین کیا ہے ان کی ابتدا تعلیم کے حصول کے مرحلے سے گزر کر ہوتی ہے۔ ان شعرا میں ڈاکٹر محمد اقبال کی شخصیت ایک خاص وقار اور انفرادی عظمت کی مالک ہے۔ گوکہ اقبال ماہر تعلیم (Educationist) نہیں تھے۔ اس لیے ان کے یہاں تعلیم کا کوئی بہت واضح اور منظم تصور نہیں ملتا۔ تاہم ان کے فلسفہئ فکر و علم میں تعلیم کے متعلق کچھ بکھرے ہوئے خیالات اور جحانات کا پتہ چل جاتا ہے۔
چونکہ اقبال خود اعلیٰ تعلیم یافتہ انسان تھے۔ مشرقی تعلیم کے ساتھ ساتھ مغربی تعلیم سے بھی ان کی شخصیت فیض یاب ہوئی تھی۔ اس لیے وہ ذہنی اور روحانی اعتبار سے وسیع النظر اور وسیع المشرب تھے۔ ان کا تعلیمی نظریہ بھی اسی وسیع النظری اور وسیع المشربی کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔ تبھی تو وہ یہ کہنے پر مجبور ہوجاتے ہیں:
مشرق سے ہو بیزار نہ مغرب سے حذر کر
فطرت کا اشارہ ہے کہ  ہر شب کو سحر کر
اس شعر کی روشنی میں اقبال اس حقیقت کو واضح کرنا چاہتے ہیں کہ زندگی جو ایک حقیقی شے ہے ا س کی پائیداری سود و زیاں کے احساس سے اوپر اٹھ کر ہے۔ اس لیے انفرادی اور اجتماعی سطح پر کسی طرح کی پابند مصلحت اور تعصب پسندی کی گنجائش نہیں ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی قوتوں کو پہچانے۔ ان کو نمایاں کرنے کے لیے مناسب طریقِ کار کو عمل میں لائے۔ اس کے لیے ذہنی اور روحانی شعور کی پختگی درکار ہے اور یہ پختگی عمدہ تعلیم کے ذریعے ہی پیدا ہوسکتی ہے۔ گویا وہ تعلیم کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں۔ ن کے نزدیک عمدہ تعلیمی قدریں مشرقی نظام تعلیم سے بھی حاصل کی جاسکتی ہیں۔ اس کے علاوہ مغربی نظام تعلیم سے بھی حاصل کی جاسکتی ہیں۔ اس لیے ان کا خیال ہے کہ ان دونوں قسم کے نظامِ تعلیم میں سے کسی ایک کی اہمیت کو قطعی طور پر نظرانداز کردینا یا غیراہم اپنے تئیں تسلیم لینا قرین انصاف نہیں ہے:
تو اگر اپنی حقیقت سے خبردار رہے
نہ سیہ روز رہے پھر، نہ سیہ کار رہے
یعنی اگر انسان کو اپنے وجود کا احساس رہے۔ حرمتِ وجود کی تکمیل کے لیے فکرمند اور باعمل رہے۔ تونہ اس کی زندگی میں کسی طرح کی مشکل کا امکان رہے۔ نہ ہی کسی ظلم کو سہنے کی مجبوری رہے۔ عموماً کسی قسم کی پریشانی کی آمد اور ظلم سہنے کی مجبوری انسان کی اپنی جہالت اور کم علمی کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اس جہالت کو اور کم علمی کو تعلیم کے حصول کے ذریعے دور کیا جاسکتا ہے۔
اس پس منظر میں یہ بات  غالباً واضح ہوجاتی ہے کہ اقبال ذہنی بیداری اور قلبی روشنی کو زندگی کی ارتقا اور بقا کے لیے ضروری خیال کرتے ہیں۔ ذہنی بیداری اور عصری تقاضوں سے آگہی عمدہ تعلیم و تربیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ تعلیم حاصل کرنے کا صحیح طریقہئ عمل صرف کتابوں کا مطالعہ کرنا ہی نہیں ہے۔ صحیح تعلیم مطالعے سے حاصل ہونے والے علم سے عملی استفادہ کرنا ہے۔ یہ استفادہ جہد و عمل کی صورت میں آشکار ہو۔ چنانچہ اقبال طالب علموں سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں:
خدا تجھے کسی طوفاں سے آشنا کردے
کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں
تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تو
کتاب خواں ہے مگر صاحب کتاب  نہیں

نظم: طالب علم
بحرکی موجوں میں اضطراب نہیں، کہتے ہوئے تعلیم کے حوالے سے اقبال کی مراد یہ ہے کہ موجودہ زمانے کی مشرقی تعلیم کا مزاج جیسا ہے کہ وہ حالات کی کشمکشوں سے نبردآزما ہونے اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کی طاقت اور توانائی عطا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ لہٰذا وقت کا تقاضا یہ ہے کہ مشرقی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید مغربی تعلیم سے بھی استفادہ کیا جائے۔ جس سے انسان کا اخلاقی، سماجی اور معاشرتی وقار تو بڑھے ہی ساتھ ہی معاشی اعتبار سے بھی وہ اپنے آپ میں مطمئن ہو۔ غرض کہ اقبال کے تصور تعلیم میں جتنی اہمیت اخلاقی اور تہذیبی تربیت کو حاصل ہے، اتنی ہی اہمیت مادی ارتقا کو بھی حاصل ہے:
زندگی کچھ اور شے ہے علم ہے کچھ اور شے
زندگی سوزِجگر ہے علم ہے سوزِ دماغ
علم میں دولت بھی ہے قدرت بھی ہے لذت بھی ہے
ایک مشکل ہے کہ ہاتھ آتا نہیں اپنا سراغ

نظم: تربیت
لیکن مادی ترقی کے لیے اقبال مغربی تعلیم یعنی سائنس اور ٹکنالوجی کے مختلف انکشافات اور ایجادات سے واقفیت اور عملی اہمیت پر زور تو ضرور دیتے ہیں مگر مادی ترقی کی جتنی زیادہ اہمیت اپنی جگہ پر ہے اتنی ہی اس کی ایک حد بھی ہے۔ اس کا بھی اقبال خیال رکھتے ہیں۔ بلکہ ان کے اس خیال میں توازن اور اعتدال کا احساس ہوتا ہے۔ اقبال کا یہ خیال ملاحظہ ہو:
ہر اک مقام سے آگے مقام ہے تیرا
حیات، ذوقِ سفر کے سوا کچھ اور نہیں
ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
احساسِ مروت کو کچل دیتے ہیں آلات
عصری حالات اور موجودہ زمانے میں اقبال کا تصورِ تعلیم ایک نصیحت آمیز پیغام دیتا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ آج جب والدین اپنے بچوں کو انگریزی تعلیم دلانے کی شدید خواہش رکھتے ہیں بلکہ اپنی خواہش کو عملی جامہ پہنانے کی پوری کوشش بھی کرتے ہیں۔ خواہ معاشی نقطۂ نظر سے ان کی حالت کیسی بھی ہو۔ کیونکہ انگریزی تعلیم ہر دور میں معاشی اعتبار سے بارِگراں رہی ہے۔ بہرحال ہمیں یہ اعتراف کرنے میں برا معلوم نہیں ہوتا کہ انگریزی تعلیم حاصل کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ اور ہماری مجبوری بھی ہے کیونکہ اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو زندگی کی مادی ترقی کی دوڑ میں یقینا پیچھے رہ جائیں گے۔ انگریزی زبان بولنے اور سمجھنے والے کی قدردانی اور عزت افزائی اپنی جگہ مسلم ہے۔ اس سے انکار ممکن نہیں۔ خواہ وہ علم اور عمل کے میدان میں کوئی خاص شناخت نہ رکھتا ہو۔ اسی طرح سائنس کی تعلیم اور انفارمیشن اور ٹکنالوجی سے وابستہ علوم نہ صرف اپنی اہمیت پوری طرح ہم سے تسلیم کروا چکے ہیں۔ بلکہ ان علوم سے واقفیت اور تربیت کے سلسلے میں دنیا کے دوسرے ایشیائی اور یورپی ملکوں کے مقابلے میں ہم اگر آگے نہیں ہیں تو بہت زیادہ پیچھے بھی نہیں ہیں۔
مگر مادی ترقی کی اس اندھی دوڑ میں آج ہم نے اور معاشرے نے انسانی قدروں کو تقریباً بھلا دیا ہے۔ رشتوں کی پاسداری، خلوص، محبت، انسان دوستی، ہمدردی، ایثار و قربانی، حق شناسی اور حق گوئی جیسے اخلاق اور تہذیبی فرائض اور نکات سے ایک حد تک ناآشنا ہوکر رہ گئے ہیں۔ یعنی ہم نے ’ہر اک مقام سے آگے مقام‘ کی طرف ایک اندھی دوڑ لگا رکھی ہے اور ’مشینوں کی حکومت‘ کو خندہ پیشانی سے قبول کررکھا ہے جس کے نتیجے میں ہمارے ’دل کی موت‘ ہوگئی ہے اور ’احساسِ مروت‘ بھی ’کچل‘ گئے ہیں۔ گویا انفرادی اور اجتماعی زندگی کا نظام غیرمتوازن انداز میں ترقی پذیر ہوا ہے۔ لہٰذا ہمارا یہ اخلاقی اور سماجی فرض ہے کہ ہم نظامِ زندگی کی مادی ترقی کے اس پہلو پر غور کریں اور اسے اہمیت دیں۔ جو متوازن ہو اور ہر اعتبار سے صحت مند بھی ہو۔ اس کے لیے ذہن اور روح کی بیداری اور وسیع النظری کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے عملی کوششوں کی بھی ضرورت ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ انگریزی اور سائنس کی تعلیم کے ساتھ مشرقی علم و ادب کی تعلیم کی بھی ضرورت ہے۔


Yasmeen Fatima,
 Research Scholar,
 Dept of Urdu,
 Allahabad University, 
Allahabad - 110002 (UP)


ماہنامہ اردو دنیا، ستمبر 2014

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں