اختر مسلمی کا انداز شعر و سخن مضمون نگار: سلطانہ فاطمہ واحدی


اختر مسلمی کا انداز شعر و سخن
سلطانہ فاطمہ واحدی

کاروانِ اردو غزل کے فن کاروں میں کچھ ایسے پیش رو رہے ہیں جن کے نام اردو ادب میں روزِ اوّل سے روشن ہیں۔ غالب، میر، مومن، ذوق، فیض، فراق، علامہ اقبال جیسے شعرا کی طویل فہرست ہے کہ جنھوں نے اپنی حیات میں ہی شہرت و مقبولیت حاصل کی لیکن ان نامور ستاروں کی کہکشاں میں چند ادیب و شاعر ایسے بھی رہے ہیں کہ جنھیں نہ تو نام کی فکر تھی اور نہ ہی اپنی شہرت کی پرواہ۔ اختر مسلمی ایک ایسے ہی شاعر کا نام ہے جس نے مرکز سے ہٹ کر کہیں دور دیہی علاقے میں رہ کر اردو غزل کی شمع کو جلائے رکھا        ؎
آہی گئے ہو شہر سخن میں جو دوستو!
ملتے چلو جو اخترِ رنگیں نوا ملے
(کلیات اختر مسلمی مرتب فہیم احمد ص33)
اختر مسلمی کا اصل نام عبیداللہ تھا آبائی وطن اعظم گڑھ ضلع پھریہا تھا۔ لیکن ان کے والد نے اسی ضلع کے دوسرے گاؤں مسلم پٹی میں اپنے روزگار درس و تدریس کے انجام دینے کی وجہ سے مستقل سکونت اختیار کرلی تھی۔
اختر مسلمی کی پیدائش یکم جنوری 1928 میں ہوئی ان کی ابتدائی تعلیم مسلم پٹی میں ہوئی۔ انہوں نے وہا ں کی مشہور درس گاہ مدرستہ الاصلاح سرائے میر میں داخلہ لے کر اردو فارسی اور متوسطات تک عربی کی تعلیم حاصل کی۔ اور اقبال سہیل مرحوم جیسے قادر الکلام شاعر کی شاگردی اختیار کی۔والد کے انتقال کے بعد گھر کی مالی پریشانیوں کی وجہ سے درمیان میں ہی تعلیم ترک کرکے پہلے معلمی کا پیشہ اختیار کیا لیکن بعد میں صنعت و تجارت کے پیشے سے وابستہ ہوگئے۔ سرائے میر میں ہی ساری زندگی گذاری اور وہیں 25جون 1989 میں انتقال کیا۔
قمر اعظمی جو اختر مسلمی کے دوست رہ چکے ہیں اپنے مضمون میں اختر مسلمی کے بارے میں یوں رقمطراز ہیں:
آنکھوں میں دلِ پرُخوں کی گلابیاں، اضطراب درد سے چہرہ کرن کرن جادو کی طرح بولتا، آبشار کی طرح بجتا، صبا کے دوش پر رنگ و نکہت کا قافلہ لیے کون آرہا ہے ’اختر مسلمی‘ ایک سحر آگیں شخصیت، حُسن کا اداشناس، عشق کا رازداں، غزل کا شہزادہ، دبستان شبلی اور سہیل کارخشندہ اختر، سرائے میر اور اعظم گڑھ کا بانکا آڑا، ترچھا شاعر جو برابر 1945 سے 1981 تک گیسوئے غزل کو سنوارتا، سجاتا اپنی دھن میں اپنے سے بے خبر، دنیا سے بے نیاز خوب سے خوب تر کی جستجو میں چلاجارہا ہے۔
(کلیات اختر مسلمی بحوالہ مضمون’اختر مسلمی اور ان کی شاعری‘ قمر اعظمی کا نپور ص 45)
اختر مسلمی نے شاعری کے میدان میں اپنی جگہ خود بنائی انہوں نے کسی کا رنگ اور طرز اختیار کرنے کے بجائے اپنی علیحدہ راہیں تلاش کرکے ہموار کیں۔ وہ جاہ حشمت، شان شوکت کے بجائے فقرو افلاس میں غنی طبیعت رکھنے والے قناعت پسند اور ہر حال میں مطمئن رہنے والے انسان تھے ایک جگہ اپنے فن پر اس طرح ناز کرتے ہوئے ملتے ہیں       ؎
اختر مسلمی کے پاس ثروت و جاہ گر نہیں
وائے نصیب دشمناں گنج متاع فن تو ہے
ایک دوسری جگہ       ؎
اخترمسلمی کا نرالا ہے فن
ہے جداگانہ انداز شعر و سخن
اختر مسلمی کے طرزِ کلام میں سادگی، خلوص، متانت و سنجیدگی پائی جاتی ہے جس میں خود کلامی، خودشناسی بھی ہے۔ ان کی شاعری میں عشق کی چاشنی، سوزو گداز کے ساتھ ساتھ غم و انبساط کی بھرپور جھلک ملتی ہے چنانچہ ایک جگہ کہتے ہیں           ؎
خوشی ہی شرط نہیں لطفِ زندگی کے لیے
متاع غم بھی ضروری ہے آدمی کے لیے
(کلیاتِ اختر مسلمی، ص 261)
اختر جنونِ عشق کے ماروں کو دیکھ کر
اہلِ خرد ہنسے ہیں تو رونا پڑا مجھے
(ایضاً، ص 221)
ایک جگہ اپنی شاعری کے بارے میں اس طرح اظہار خیال کرتے ہیں         ؎
میری شاعری کا بانکپن یہ جمال شعر و کمالِ فن
سب انھیں کا فیض کمال ہے سب انہیں کا عکسِ جمال ہے
(کلیاتِ اختر مسلمی، ص 219)
ان کی شاعری صرف حسن و عشق، گل و بلبل کی داستان کی ترجمان نہیں ہے بلکہ انھوں نے زندگی کے اور دوسرے سنجیدہ مسائل اور حقائق کو بھی اپنی شاعری کا موضوع بنایا۔
ان کا دل وطن و قوم کی محبت سے ہمیشہ لبریز رہا ملک میں ہونے والی ناانصافی، نابرابری، زیادتیوں کے خلاف بڑے ہی جرأت مندانہ طریقے سے آواز اٹھائی۔ آزادی کے بعد ہندوستان میں جو فرقہ وارانہ فساد کی آگ بھڑکی جس کا اثر ہر طبقے کے انسانوں پر پڑا ایسے پر آشوب ماحول میں جہا ں اخلاقی قدریں دم توڑ رہی تھیں یہ حساس شاعر ہمت ہارنے کے بجائے بہت امنگ و دلیری کے ساتھ اپنی دلی کیفیات کا اظہار اس طرح کرتا ہے       ؎
ہر شب تار خزاں صبح بہاراں کردیں
خار بے جاں کو بھی رشکِ چمنستان کردیں
عیش میں اپنے نہ ہو جن کو غریبوں کا خیال
ان کے ہر عیش کا شیرازہ پریشاں کردیں
کرکے باطل کے خداؤں کی خدائی نابود
دوستو! آؤ علاجِ غمِ دوراں کردیں
ظلمتِ شب میں بھٹکتا ہے زمانہ اختر
آؤ ہر ذرے کو خورشید درخشاں کردیں
(کلیاتِ اختر مسلمی، ص 110)
ناطق اعظمی ا ن کی شاعری کے بارے میں اس طرح تبصرہ کرتے ہیں:
اختر صاحب مزاج دانِ غزل ہیں تعزل کی روح کے محرم ہیں ان کے تئیں غزل ایک خاص اندازِ بیاں کا نام ہے وہ صرف لب و رخسار، گل و بلبل، قدوگیسو کی بات نہیں کرتے بلکہ زندگی کے تلخ اور ٹھوس حقائق کو بھی غزل میں سمونے  کی کامیاب کوشش کرتے ہیں حسن و عشق کی باتیں ہوں یا غم روز گار کا تذکرہ کہیں بھی غزل کی روح کو مجروح نہیں ہونے دیتے۔“(کلیاتِ اختر مسلمی، ص 273)
ان کی غزلوں میں نغمگی سلاست و روانی اور برجستگی پائی جاتی ہے وہ صرف ہجرو وصال کی ہی باتیں نہیں کرتے بلکہ زندگی اور روزمرہ کے مسائل نشیب و فراز کرب و غم کا ایک حساس اور بیدار شاعر ہونے کی وجہ سے خود تجزیہ کرتے ہیں اور اپنے اطراف کو خود جانچتے پرکھتے ہیں اور پھر ایمانداری سے شعری پیکر میں ڈھال دیتے  ہیں                ؎  
لطف ہی کیا حیات کا گرنہ ہو غم کا سلسلہ
ختم نہ ہو خدا کرے رنج و الم کا سلسلہ
(کلیاتِ اختر مسلمی، ص 273)
پروفیسر عنوان چشتی مرحوم نے کلیات اختر مسلمی میں اس شاعر کی اس طرح تعریف و توصیف کی ہے فرماتے ہیں:
انھوں نے شعری روایات کے شعور میں اپنی ذات کے تخلیقی تجربوں کو آمیز کرکے ایک نیا اور روح پرور شعری منظر نامہ تشکیل دیا ہے۔ شاعر نے اپنے رنگ افشاں جذبات، مجروح تمناؤں اور خون آلودہ خوابوں کو مہذب شعری زبان اور محتاط انداز بیاں میں ادا کیا ہے۔ان کی غزلوں کے چہرے پر اخلاقی اقدار کا نور ہے اور ان کی شاعری کی آنکھوں میں تہذیبی اور سماجی افکار کا سرور ہے انہوں نے اپنے تجربوں کے جمالیاتی مواد کو شاعری کی مہذب زبان میں ایک خاص ادائے احتیاط کے ساتھ پیش کیا ہے۔“(کلیات اختر مسلمی، ص 1)
29دسمبر 1969 کو مدرستہ الاصلاح سرائے میر میں ایک اسلامک اسٹڈیز کا نفرنس منعقد کی گئی تھی اس موقع پر اشتیاق احمد راشد صاحب کی فرمائش پر اختر مسلمی نے ایک اصلاحی ترانہ بھی لکھا تھا اور وہ ترانہ اس کا نفرنس میں پڑھاگیا تھا۔ اس کا پہلا بند ذیل میں پیش کیا جارہا ہے یہ ترانہ آج بھی وہاں پڑھاجاتا ہے   ؎
یہ ہمارا چمن ہے ہمارا چمن
رحمت  ایزدی  اس  پہ  سایہ فگن
نور   شمع   یقیں   زینت   انجمن
بوئے ایماں ہے پھیلی چمن درچمن
جوئے عرفاں ہے آغوش میں مو جزن
یہ ہمارا چمن ہے ہمارا چمن
اختر مسلمی کے تین غزلوں کے مجموعے موجِ نسیم 1961 موج صبا 1981 اور جام و سنداں شائع ہو چکے ہیں غزلوں کی زبان سادہ و عام فہم ہے۔ ان کے صاحبزادہ فضل الرحمن کی خواہش پر ان کے نواسے فہیم احمد نے ان کے تینوں شعری مجموعے کو یکجا کرکے کلیات اختر مسلمی کے نام سے 2013 میں شائع کیا ہے۔
ان کے کلیات میں زیادہ تر غزلیں ہیں غزلوں کے علاوہ حمد،نعت، قطعات، سہرے اپنی بیٹی جمیلہ کی رخصتی کے علاوہ متفرقات میں کچھ اشعار لکھے ہوئے موجود ہیں۔ 
Sultana Fatima Wahedi
Guest Faculty, Dept of Urdu
Jamia Millia Islamia
New Delhi - 110025
ماہنامہ اردو دنیا، فروری 2020

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں