’امراؤ جان ادا‘ اور ’شاہد رعنا‘ میں نظریاتی بعد مضمون نگار: موراکامی آسوکا


’امراؤ جان ادا‘ اور ’شاہد رعنا‘ میں نظریاتی بعد
موراکامی آسوکا

پروفیسر یوسف سرمست کی کتاب ’بیسویں صدی  میں اردو ناول‘ میں انیسویں صدی کے ناولوں  پر بھی سیرحاصل گفتگو ملتی ہے۔ اس کتاب میں ایک دلچسپ موضوع قاری سرفراز حسین عزمی کے ناول ’شاہد رعنا‘ اور مرزا محمد ہادی رسوا کے ناول ’امراؤ جان ادا‘ کا تقابلی مطالعہ ہے۔ اس میں یوسف سرمست نے دونوں ناولوں کے سنہ اشاعت 1 اور مماثلتوں  پر روشنی ڈالتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ’شاہد رعنا‘، ’امراؤ جان ادا‘ سے بھی پہلے شائع ہوچکا تھا اور رسوا نے ’شاہد رعنا‘ سے متاثر ہوکر ’امراؤ جان ادا‘ کی تصنیف کی۔ ان کے مفصل مطالعے کو دیکھتے ہوئے کہہ سکتے ہیں کہ ان کی یہ رائے قابل اعتبار ہے۔ یوسف سرمست سے پہلے شاہد احمد نے بھی ایک جگہ لکھا ہے کہ:
شاہد رعنا، کے جواب میں مرزا رسوا نے ’امراؤ جان ادا‘ لکھی۔“2
چنانچہ کہا جاسکتا ہے کہ رسوا نے ’شاہدرعنا‘ سے متاثر ہوکر یا اسے پیش نظر رکھ کر ’امراؤ جان ادا‘ تخلیق کی۔ لیکن اس سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ رسوا نے ’شاہد رعنا‘ کی کس بات سے اثر لیا تھا، مزید یہ ہے کہ وہ اپنے تمام پیش نظر ناولوں میں ’شاہد رعنا‘ ہی سے کیوں متاثر ہوئے۔ اگر دونوں ناولوں کی مماثلت کے بجائے فرق پر توجہ مرکوز کی جائے تو  ’امراؤ جان ادا‘ کی تصنیف کا سبب بڑی حد تک واضح ہوجاتا ہے۔
یوسف سرمست نے دونوں ناولوں کا جائزہ لیتے ہوئے چار فرق کا بھی مختصر ذکر کیا ہے۔
فرق نمبر 1: پہلا فرق ’شاہد رعنا‘ کا مرکزی کردار ننھی جان اور  ’امراؤ جان ادا‘ کا مرکزی کردار امراؤ جان کے پیدائشی احوال پر مبنی ہے۔ یعنی ننھی ایک خاندانی طوائف تھی اس کے برعکس امراؤ فیض آباد کے شریف گھرانے کی بیٹی تھی اور گیارہ برس کی عمر میں دلاور خاں اور پیر بخش کے ہاتھوں اغوا کرکے خانم کو کوٹھے پر بیچ دی گئی تھی۔3
فرق نمبر2: دوسرا فرق دونوں ناولوں کے ہم نام کردار خورشید جان کے مزاج کا ہے۔ اس پر یوسف سرمست لکھتے ہیں کہ:
شاہد رعنا کی خورشید اور امراؤ جان ادا کی خورشید میں فرق یہ ہے کہ امراؤ جان کی خورشید ’رنڈی بننے کے لائق نہ تھی‘ لیکن شاہد رعنا کی خورشید طوائف ہے وہ میر صاحب (یعنی اس کے معشوق) سے تو محبت کرتی ہے لیکن اپنے پیشے کے تقاضوں کو پورا بھی کرتی ہے۔ وہ امراؤ جان ادا کی خورشید کی طرح ایک سے محبت کرتی ہے تو دوسرے سے بے اعتنائی نہیں برتتی بلکہ ہر ایک کو خوش کرنے کی کوشش کرتی ہے۔4
دراصل ’امراؤ جان ادا‘ کی خورشید بیسواڑے کے کسی زمین دار گھرانے کی لڑکی تھی جو بعد میں کسی مصیبت (اس کا مصنف نے کہیں ذکر نہیں کیا) کی بنا  پر امراؤ سے بھی پہلے خانم کے کوٹھے پر پہنچا دی گئی تھی۔ وہ کبھی غصہ نہیں کرتی تھی، دوسروں پر بہت جلدی بھروسہ کرلیتی تھی، کمرے پر آنے والوں سے کچھ حاصل کرنے سے زیادہ دے دیتی تھی، خود اپنے ہاتھ سے کھانا پکانا بھی پسند کرتی تھی اور کسی ایک کی ہوکر رہنا چاہتی تھی۔ چنانچہ امراؤ، خورشید کے بارے میں کہتی ہے کہ:
حقیقت یہ ہے کہ وہ رنڈی بننے کی لائق نہ تھی..... سچ تو یہ ہے کہ وہ کسی مرد آدمی کی جو رو ہوتی تو میاں بیوی میں خوب نباہ ہوتا۔ عمر بھر مرد وا پاؤں دھو دھو کے پیتا..... خورشیدکو غصہ کوکبھی آتا ہی نہ تھا۔ ایسی نیک دل اور نیک مزاج عورتیں بہو بیٹیوں میں کم ہوتی ہیں۔ رنڈیوں کا کیا ذکر۔5
فرق نمبر3: تیسرا فرق دونوں ناولوں میں موجود خاندانی طوائفوں، ننھی جان اور بسم اللہ جان کا ہے۔ اس پر یوسف سرمست لکھتے ہیں کہ:
شاہد رعنا میں جب نواب اختر زمان بالکل تباہ ہوجاتے ہیں اور ادھر ننھی جان بھی اس پیشہ کو ترک کردیتی ہے تووہ نواب کو بلا کر، انھوں نے جو کچھ اس کو دیا تھا لوٹا دیتی ہے لیکن اس کے برخلاف امراؤ جان ادا نے (i.e. میں) جب تباہ حالت میں نواب چبھن بسم اللہ کے ہاں آتے ہیں تو وہ انھیں سونے کے وہ کڑے جو حسنو نے جعل کرکے نواب سے حاصل کیے تھے دکھاتی ہے اور رسماً پوچھ کر رکھ لیتی ہے۔ یہاں وہ ننھی جان کے بالکل برعکس نواب کی خستہ حالی کو دیکھ کر انھیں ان کا مال لوٹا نہیں دیتی۔6
خیال رہے کہ جس وقت یہ واقعہ پیش آیا تھا اس وقت ننھی اپنے پیشے سے تائب ہوچکی تھی۔ اس کے برخلاف بسم اللہ طوائف کی حیثیت سے اپنے زرّیں دور سے گزر رہی تھی اور یہ بھی غور کرنے کے قابل ہے کہ ایک زمانے میں ننھی بھی بسم اللہ کی طرح پیسہ یا مال لوٹنے میں مصروف رہتی تھی اور اس کو کبھی رحم نہیں آتا تھا۔ ننھی خود اس زمانے کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہے کہ:
ہم لوگوں نے ہر طرح سے لوٹنا شروع کیا ڈیڑھ دو برس میں ہم نے تیس چالیس ہزار روپے کھینچ لیا۔ 7
چنانچہ ان واقعات کو لے کر ان دونو ں طوائفوں کے مزاج کا موازنہ کرنا قدرے پیچیدہ عمل ہے۔ میرا خیال ہے کہ دونوں طوائفوں کے مزاج پر غور کرنے کے بجائے اس بات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ ننھی کی اس تبدیلی کی کیا وجہ رہی ہوگی کہ وہ ایک حریص اور سنگ دل عورت سے بے لوث اور رحم دل عورت بن گئی۔ آگے کے صفحات میں اس پر روشنی ڈالی جائے گی۔
ننھی جان اور بسم اللہ جان کے حوالے سے ایک اور اہم فرق (جس کا یوسف سرمست نے ذکر نہیں کیا) یہ ہے کہ رسوا نے بسم اللہ کو شروع سے ہی ظالم صفت، فرمائشوں کی عادی اور مصنوعی عاشق بننے میں ماہر دکھایا ہے اور ان سب صفتو ں کو رسوا نے ’طوائف پن‘ قرار دیا ہے۔ اس کے برعکس ابتدا میں ننھی اپنے پیشے کی وجہ سے اور اپنی ماں کے کہنے پر ملاقاتیوں سے فرمائش تو کرتی ہے لیکن اس کے اندر مذکورہ ’طوائف پن‘ کی بڑی کمی نظر آتی ہے۔ اس کی جگہ معصومیت، رحم دلی اور ہمدردی جیسے اوصاف اس کے اندر بہ آسانی دیکھے جاسکتے ہیں۔ اپنے عاشق اوّل نواب سے بے ریا محبت کرنا، ڈپٹی صاحب (جو اس کا گلچین اوّل تھا) سے تعلق قائم کرتے وقت اپنے دل اور پیشے کے درمیان کش مکش میں مبتلا ہونا، میر اور خورشید جان کا دوبارہ سے میل کرادینا جیسے امور اس کی نیک طبیعت کا پتہ دیتے ہیں لیکن آہستہ آہستہ مردوں کے برتاؤ اور رویے اسے مردو ں کی طرف سے بدظن کردیتے ہیں اور آخر کار وہ بھی بسم اللہ جیسی عیار بن جاتی ہے۔ ان باتوں سے دونوں کرداروں کے ارتقا میں فرق  کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس فرق پر آگے مزید روشنی ڈالی جائے گی۔
فرق نمبر4: آخری فرق ننھی جان اور امراؤ جان کی زندگی کے نتیجے کا ہے۔ یوسف سرمست لکھتے ہیں کہ:
ننھی جان اور ادا دونوں ہی گھر بیٹھ جاتی ہیں لیکن فرق یہ ہے کہ ادا عارضی طور پر گھر بیٹھتی ہے اور ننھی جان مستقلاً گھرکی ہورہتی  ہے۔ لیکن دونوں اپنی پچھلی زندگی سے تائب ہوجاتی ہیں۔“8
یہاں یوسف سرمست نے امراؤ جان کے عقد نہ ہونے کی وجہ یہ بتائی ہے کہ ”ننھی جان کی طرح ادا بھی گھر بیٹھ جانے کی خواہش رکھتی ہے مگر وہ صرف اس لیے نہیں بیٹھتی کہ لوگ اس بات کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھیں گے۔“ 9 اس فرق پر انھوں نے مزید روشنی نہیں ڈالی۔ اس سلسلے میں ان دونوں ناولوں کے درمیان ایک بڑا فر ق یہ بھی ہے کہ ’شاہد رعنا‘ میں صرف ننھی جان ہی کی نہیں بلکہ خورشید جان اور گیا، کل ملا کر تین طوائفوں کا نکاح کسی شریف آدمی کے ساتھ ہوجاتا ہے اور سب خاتون خانہ بن جاتی ہے۔ لیکن ’امراؤ جان ادا‘ میں طوائف (یا تائب طوائف) کی ایسی خواہشوں کو پیش تو کیا جاتا ہے (مثلاً امراؤ جان کسی کے گھر بیٹھنا چاہتی ہے اور خورشید جان  اپنے پیشے سے نفرت کرتی ہے اور کسی ایک کی ہوکر رہنا چاہتی ہے) مگر کسی طوائف کا نکاح نہیں ہوتا اور نہ کوئی ایسی طوائف نظر آتی جو مستقل طور پر کسی شریف آدمی کے گھر بیٹھ گئی ہو۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ دونوں ناولوں میں موجود یہ فرق دونوں مصنفوں کے نظریاتی بعد کی وجہ سے پیدا ہوگیا ہے جس پر گفتگو کرکے ہم ایک مثبت نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں۔
1857 کے ہنگامے نے اہل ہند کے مختلف طبقوں میں جو انقلاب برپا کیا تھا اس کا اثر طوائفوں کی زندگیوں پر بھی گہرا پڑا۔ اس ہنگامے سے پہلے سماج میں ان کی ایک خاص حیثیت تھی اور وہ تہذیب کا مرقع سمجھی جاتی تھیں مگر غدر کے بعد وہ نہ صرف سماجی وقار سے محروم ہوگئیں بلکہ طرح طرح کے الزامات کا شکار بھی ہوئیں۔ مثلاً خواجہ حسن نظامی نے ایک جگہ ’شاہد رعنا‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مسلمانوں کی بدکاری کا آدھا باعث رنڈیا ہیں۔10 انیسویں صدی کی آخری دہائی کے ہندوستانی سماج میں طوائفوں کو سماج کی تباہی و بربادی کا بڑا سبب سمجھ کر انھیں شریفوں کے معاشرے سے خارج کرنے کی کوشش کی جانے لگی تھی۔ اس کی ایک جھلک خواجہ حسن نظامی کے اس تبصرے میں بھی نظر آتی ہے لیکن قاری سرفراز حسین کے ’تصور طوائف‘ میں ایک خاص بات یہ ہے کہ وہ طوائفوں کو سماج سے بے دخل کرنے کے بجائے ان کی اصلاح اور باز آبادکاری کا راستہ ڈھونڈتے ہیں اور سماج میں جگہ دینے کی وکالت کرتے ہیں۔ خواجہ حسن نظامی کے تبصرے کے جواب میں قاری سرفراز حسین لکھتے ہیں کہ:
طوائف دوسروں ہی کو تباہ نہیں کرتیں بلکہ باعتبار اکثریت خود بھی تباہ ہوتی ہیں۔“11
اس اقتباس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ طوائف کو صرف سماج کی بربادی کا سبب نہیں سمجھتے بلکہ اسے بھی نقصان اٹھانے والا فریق سمجھتے ہیں۔ اس لیے انھوں نے اس ناول میں ایک کردار ننھی جان کے ذریعے طوائفوں کو اس بربادی سے بچنے کا راستہ دکھایا ہے اور انھیں توبہ کرکے کسی کی منکوحہ بننے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس ناول کا مطالعہ کرنے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے طوائفوں کو شریف آدمی کی منکوحہ بننے کی یوں ہی اجازت نہیں دی بلکہ ان پر چند شرطیں بھی عائد کیں۔ وہ یہ کہ نیکی کے راستے پر گامزن رہنا اور اس زمانے کی مثالی عورت (یعنی اچھی بیوی، اچھی ماں، اچھی منتظم خانہ اور اچھی مسلمہ) بن کر رہنا۔ چنانچہ شادی کے بعد وہ بھی نہایت نیک اور مثالی عورت بن کر باقی زندگی بسر کرتی ہیں۔ دونوں ناولوں کے مابین تیسرے فرق کا ذکر کرتے وقت میں نے یہ سوال قائم کیا تھا کہ ننھی کے مزاج میں یہ زبردست تبدیلی کیسے آگئی کہ ایک حریص اور سنگ دل عورت سے بے لوث اور رحم دل عورت بن گئی۔ میرا خیال ہے کہ ننھی میں یہ تبدیلی سرفراز حسین عزمی کی ان شرطوں کا نتیجہ ہے جو انھوں نے شرفا کی منکوحہ بننے کے لیے طوائفوں پر لازم کی تھیں۔
اس کے برخلاف رسوا طوائفوں کی اصلاح کے حق میں نہیں ہیں بلکہ وہ انھیں شریفوں کی دنیا، اور خصوصاً شریف، بہو بیٹیوں کی دنیا سے دور رکھنے کی وکالت کرتے ہیں۔ اس بات کا اندازہ ’امراؤ جان ادا‘ کے ان صفحات سے لگایا جاسکتا ہے جس میں رسوا نے عورتوں کو تین گروہ میں تقسیم کرکے ان کا امتیاز واضح کیا ہے، ایک نیک بختوں کا، دوسرا خرابیوں یعنی ان عورتوں کا جو شریف گھر کی ہونے کے باوجود چوری چھپے یا علی الاعان بدکاری کرتی ہوں، اور تیسرا بازاریوں کا اور رسوا کے نزدیک صرف وہی عورتیں نیک بختوں سے  مل سکتی ہیں جو بدنام نہ ہوں یعنی ان کی نظر میں خرابیوں یا بازاری عورتوں کو نیک بختوں سے ملنے کا حق حاصل نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گھر کی چار دیواری کے اندر کسی بازاری عورت کے قدم رکھنے کو وہ باعث ننگ سمجھتے ہیں۔ اس لیے اپنے ناول کے کردار ’رسوا‘ سے اس طرح کہلواتے ہیں کہ:
اگر میری بیوی ایسا کرتی (یعنی کسی بازاری عورت کو اپنے گھر کے اندر آنے دیتی) تو، فوراً ڈولی بلوا کے ان کے میکے بھجوا دیتا اور چھ مہینے تک صورت نہ دیکھتا۔12
طوائفوں کے نکاح کے معاملے میں دونوں مصنفوں کی رائے کس قدر مختلف تھی، اس کا اندازہ ننھی جان اور امراؤ جان کے ان اقوال سے لگایا جاسکتا ہے جو ناول کے آخر میں دونوں نے اپنی ہم پیشہ عورتوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا تھا۔ ننھی کہتی ہے کہ:
اے میری بہنو۔ جو ابھی تک شیطان کے جال میں پھنسی ہوئی ہو میری زندگی کے حالات پڑھ کر خدا سے دعا مانگو کہ وہ تمھیں بھی اس گنہ گاری سے بچائے اور اپنے فضل سے نیکی کا راستہ دکھائے۔13
اس کے برعکس رسوا نے اپنے ناول کو امراؤ جان کے اس قول سے ختم کیاہے:
اے، بے وقوف رنڈی کبھی اس بھلاوے پر نہ آنا کہ کوئی تجھ کو سچے دل سے چاہے گا۔ تیرا آشنا جو ہر وقت تجھ پر جان دیتا ہے چار دن کے بعد چلتا پھرتا نظر آئے گا۔ وہ تجھ سے ہرگز نباہ نہیں کرسکتا اور نہ تو اس لائق ہے۔ سچی چاہت کا مزا اسی نیک بخت کا حق ہے جو ایک کا منہ دیکھ کے دوسرے کا منہ کبھی نہیں دیکھتی۔ تجھ ایسی بازاری شفتل کو یہ نعمت خدا نہیں دے سکتا۔14
غور طلب بات ہے کہ رسوا نے نیک عورت اور طوائف کے اس امتیاز کو تین جگہ دہرایا ہے۔ ناول کو اس فقرے پر ختم کرنا اور بار بار اس کا استعمال کرنا (اس ناول میں دوسری کوئی مثال نہیں ملتی جس کی تکرار ہوئی ہو) اس بات کا پتہ دیتا ہے کہ مصنف کی نظر میں یہ بات کس قدر اہم ہے۔
مندرجہ بالا تجزیہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’شاہد رعنا‘ اور ’امراؤ جان ادا‘ میں طوائف کا جو تصور پیش کیا گیا ہے وہ ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہے اور میرا خیال ہے کہ دونوں مصنّفین کے نظریاتی بعد کی وجہ سے ہی ان کے ناولوں میں چھوٹے بڑے کئی فرق نمودار ہوئے ہیں۔ مثلاً فرق نمبر 1 جو ننھی جان اور امراؤ جان کے پیدائشی احوال پر مبنی ہے، اس فرق کے بارے میں یوسف سرمت لکھتے ہیں کہ:
”رسوا نے امراؤ کا تعلق ایک شریف گھرانے سے بتا کر اپنے ناول میں یہ بات پیدا کردی ہے کہ بعض وقت حالات وواقعات کسی شریف لڑکی کو بھی طوائف بنا دیتے ہیں۔“ 15
ممکن ہے کہ یہ بھی ایک وجہ رہی ہو لیکن مندرجہ بالا تجزیے کے بعدایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس فرق کو پیش کرتے ہوئے رسوا اس نظریے کی صراحت کررہے ہوں کہ قاری سرفراز حسین عزمی نے تو ننھی کو ایک پیدائشی طوائف ہونے کے باوجود شریف آدمی کے ساتھ نکاح کرکے گھر بیٹھنے کی اجازت دے دی لیکن ان (رسوا) کی نظر میں طوائف، خاندانی ہو یا کسی شریف گھر کی، حرص و ہوا کی وجہ سے طوائف بنی ہو یا بحالت مجبوری، وہ کسی شریف مرد کی منکوحہ بننے کے حق سے محروم ہے۔ جب رسوا نے انہی خیالات کے بنا پر امراؤ جان اور خورشید جان جیسی شریف گھرانے کی پروردہ خواتین کو بھی کسی کی منکوحہ بننے کی اجازت نہیں دی تو بسم اللہ جان جیسی خاندانی طوائف کو کیسے اجازت دیتے بلکہ ان کو اس کے اندر اصلاح کی اور نیک بننے کی گنجائش ہی نظر نہیں آتی۔ چنانچہ وہ اپنے ناول میں لکھتے ہیں کہ:
”میں نے اکثر لوگوں کو کہتے سنا ہے کہ جو ذات کی رنڈیاں ہیں ان کا تو ذکر ہی کیا۔ جو کچھ نہ کریں کم ہے کیونکہ وہ ایسے گھر اور ایسی حالت میں پیدا ہوتی ہیں جہاں سوائے بدکاری کے اور کسی چیز کا مذکور ہی نہیں۔ ماں بہن جس کو دیکھتے ہیں اسی حالت میں ہے۔16
اس کے برعکس قاری سرفراز حسین ایک خاندانی طوائف ننھی جان کے اندر ’راست منشی اور پاک منشی‘ کا اعلیٰ مادہ دیکھتے ہیں۔17 یہی وجہ ہے کہ کہانی کے ابتدا میں اسے ایک معصوم، رحم دل اور ہمدرد لڑکی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور وسط میں ایک بار وہ ظالم اور عیار طوائف بن جاتی ہے لیکن اختتام تک پہنچتے پہنچتے اس کی اصلاح ہوجاتی ہے اور وہ ایک نیک اور مثالی عورت بن جاتی ہے۔ یہ اسی ’راست منشی اور پاک منشی‘ کے مادے کی بازیافت ہے جسے قاری سرفراز حسین ہر طوائف میں دیکھتے ہیں۔
اسی طرح فرق نمبر 2 بھی ملاحظہ ہو۔ ’شاہد رعنا‘ کی خورشید جان، جو اپنے معشوق سے محبت بھی کرتی ہے لیکن اپنے پیشے کے تقاضوں کو بھی پورا کرتی ہے، اس کو بھی قاری سرفراز حسین نے عقد کے بعد ایک شریف آدمی کے گھر میں جگہ دی لیکن ’امراؤ جان ادا‘ کی خورشید جان؟ وہ زمین دار گھرانے کی پروردہ تھی اور ان خوبیوں کی مالک تھی جو اس زمانے میں ایک مثالی عورت کے لیے ضروری تصور کی جاتی تھیں۔ اس کے باوجود بھی اس کی یہ خواہش پوری نہیں ہوتی کہ کسی ایک کی ہوکر رہے۔ ایسا اس لیے کیونکہ رسوا کی نظر میں سچی محبت صرف نیک بختوں کا حصہ ہے کسی بازاری شفتل کو یہ نعمت خدا نہیں دیتا او وہ گھر کی چاردیواری کے اندر قدم رکھنے کے حق سے محروم ہے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ ناول ’امراؤ جان ادا‘ کے وسط میں ایک راجہ کا دل خورشید پر آجاتا ہے اور وہ اسے اغوا کرالیتا ہے۔ کہانی میں اتفاق سے امراؤ جان کی ملاقات خورشید جان سے ہوتی ہے تو وہ دیکھتی ہے کہ خورشید راجہ کے ساتھ اطمینان سے زندگی گزار رہی ہے کیونکہ اس کی یہی خواہش تھی کہ کسی ایک کی ہوکر رہے۔ چنانچہ جب امراؤ جان اس سے پوچھتی ہے کہ ”تمھارا ارادہ لکھنؤ جانے کا نہیں ہے؟“ تو وہ صاف صاف کہہ دیتی ہے کہ ”مجھے تو معاف کرو۔“ 18 مگر ناول کے آخر میں جب امراؤ فیض آباد سے پھر لکھنؤ واپس آتی ہے تو خانم کے کوٹھے پر خورشید جان بھی نظر آتی ہے۔
دونوں ناولوں میں پیش کیے جانے والے فرق اور مصنفوں کے نظریات کو دیکھتے ہوئے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سرفراز حسین کا طوائفوں کو کسی شریف کی منکوحہ بنا کر پیش کرنا رسوا کو ناگوار معلوم ہوا ہوگا۔ اس لیے انھوں نے اپنے نظریے کی تشریح کرتے ہوئے اس شاہ کار ناول ’امراؤ جان ادا‘ کی تصنیف کی۔ دونوں ناولوں میں موجود بعض مماثلتوں پر نظر کریں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ ناول پہلے ناول کے جواب میں لکھا گیا ہے۔ ورنہ رسوا جیسے فنکار سے ایسی غلطی کی توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ اپنی تخلیق میں کئی ایسی مماثلتوں کو جگہ دیں جن سے بادی النظر میں ہی ان کا ناول کسی دوسرے ناول سے متاثر معلوم ہونے لگے۔ میرا خیال ہے کہ یہ تمام تفاریق اور مماثلتیں شعوری طور پر پیدا کی گئی ہیں جو قاری کو طوائف کے متعلق ان کے نظریے کی تفہیم میں بہت معاون بھی ہیں۔
اس سلسلے میں غور کرنے کی بات یہ بھی ہے کہ سرفراز حسین نے ننھی جان، خورشید جان اور درگیا جیسی تائب طوائفوں کا عقد شریف آدمیوں سے کراتو دیا مگر اس کے بعد کیا وہ یہ بھی چاہتے تھے کہ ان عورتوں کی شریف بہو بیٹیو ں سے ملاقات بھی ہو اور دونوں مل جل کر رہیں۔ اس نکتہ پر غور کرنے کے لیے ننھی اور میر کی یہ گفتگو قابل توجہ ہے جو خورشید جان سے نکاح کے سلسلے میں دونوں کے درمیان ہوئی:
میر صاحب: بخدا میرا خود جی چاہتا ہے مگر صرف یہ ڈر ہے کہ لوگ کیا کہیں گے۔
میں: جو مرزا صاحب کو کہا وہی آپ کو بھی کہیں گے۔ بتاؤ۔مجھ سے نکاح کرکے ان میں کیا کیڑے پڑگئے۔
میر صاحب: مگر پھر میں اپنے کنبہ میں ملنے کے قابل نہیں رہنے کا۔
میں: ہم لوگوں کو آپ اپنا کنبہ سمجھیے گا۔ میر صاحب اگر اللہ کو منظور ہے تو ہمیں کسی کی بھی پرواہ نہیں رہے گی۔ ہم سب کا خود ایک بڑا کنبہ ہوجائے گا۔19
ننھی کے آخری جملوں کی طرح ناول میں یہ دکھایا جاتا ہے کہ تائب طوائف اور شریف مرد کے تین جوڑے، ننھی و مرزا، خورشید و میر اور درگیا و ڈپٹی ایک دوسرے کے خاندان سے مل جل کر زندگی بسر کرتے ہیں۔ مرزا کے بھائی کا اکلوتا بیٹا مسعود کو (جس کی پرورش بھائی کے انتقال کے بعد مرزا کررہا تھا) ڈپٹی اور درگیا گود لے لیتے ہیں اور اس کا نکاح ننھی کی بیٹی نصیبن (ننھی کے نکاح کے بعد اس کا نام جمیلہ بیگم رکھا گیا تھا) سے ہوجاتا ہے اور یہ سب ایک کنبے کی طرح زندگی گزارتے ہیں۔
اس طرح کہانی میں تینوں خاندان کے درمیان آمد و رفت کا سلسلہ بنا رہتا ہے لیکن عجیب بات یہ ہے کہ ننھی کے یہاں نواب کی بیگم مع اپنے شوہر کے صرف ایک بار آتی ہے۔ اس کے بعد اس کی ملاقات کسی شریف ہندوستانی عورت سے نہیں ہوتی۔ اس سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شریف عورتوں کے طوائفوں یا تائب طوائفوں سے ملاقات کو قاری سرفراز حسین بھی ناپسند کرتے۔ اس بات کی تصدیق ان کے دوسرے ناول ’سراب عیش‘ سے بھی کی جاسکتی۔ اس ناول کے سرورق پر ہی مصنف نے اس ناول کا موضوع اس طرح بیان کیا ہے:
طوائف سے نکاح کرکے ان کو بہو بیٹیوں میں لاگو رکھنے کے برے نتائج۔20
اس ناول میں بھی مصنف نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ جب طوائف اپنے پیشے سے توبہ کرلیتی ہے تو اس کے لیے جنت کے دروازے کھل جاتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے اپنی اس فکر کا بھی اظہار کیا ہے:
توبہ سے پہلے تو وہ کھلم کھلا طور پر خبیث عورتوں کی فہرست میں ہے مگر توبہ کرکے بھی باوجود اس حوصلہ افزائی وعدہ کے کہ:
التائب من الذنب کمن لاذنب لہ
(گناہ سے توبہ کرنے والا بے گناہ کے مثل ہے)
سوال یہ ہے کہ اس کے خبیث خصائل و عادات جو سالہا سال تک خبیث زندگی بسر کرنے کا نتیجہ ہیں کیونکر  یک لخت بدل سکتے ہیں۔ وہ عورت عذاب آخرت سے نجات پاجائے مگر اس کی زہریلی عادتیں اگر بہو بیٹیوں میں اسے ملایا جائے تو قطعاً ان پر اور ان کی اولاد پر بھی اپنا زہریلا اثر ڈالیں گی۔21
پھر بھی کسی سے نکاح کرنے کو وہ طوائف کی اصلاح کا ایک مفید راستہ سمجھتے تھے۔ اس لیے اس مسئلے پر غور کرنے کے بعد وہ یہ نتیجہ نکالتے ہیں:
اس نظریہ کو صحیح مانا جائے تو نہ رنڈی باز شخص کا نکاح نیک بخت عورت سے جائز ہے اور نہ طوائف کا نکاح نیک مرد سے۔ مگر پھر بھی چونکہ طوائف اور طوائف نواز اشخاص دونوں کے لیے اس سے بہتر کوئی اور بات نہیں کہ آپس میں نکاح کرلیں۔ لہٰذا منطقی طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ تائب طوائف اور تائب طوائف نواز اشخاص نکاح کرکے اپنی سوسائٹی علیحدہ بنائیں۔22
اس اقتباس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جس طرح رسوا نے طوائفوں (ان میں تائب طوائفیں بھی شامل ہیں) کی دنیا اور شریفوں کی دنیا کو الگ رکھنے کی کوشش کی ہے، اس طرح سرفراز حسین طوائفوں کے  تعلق سے معاشرے کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی کوشش کرتے ہیں یعنی شریفوں کی دنیا، تائب طوائفو ں کی دنیا اور طوائفوں کی دنیا۔ ممکن ہے کہ ’شاہد  رعنا‘ میں ننھی کے یہاں کسی شریف عورت کی آمد و رفت نہ ہونے میں مصنف کا یہ خیال کارفرما ہو۔ مرزا ہادی رسوا جہاں طوائف کی اصلاح کے حق میں ہی نہیں ہیں وہاں قاری سرفراز حسین کا رویہ قدرے نرم ہے مگر غور طلب بات یہ ہے کہ وہ طوائف کی اصلاح سے اس کی عاقبت سنوار دیتے ہیں لیکن سماجی تفریق سے اس کو بچا لینے کے پھر بھی قائل نہیں ہیں۔
حواشی
.1        یوسف سرمست ڈاکٹر میمونہ انصاری کی کتاب ’مرزا محمد ہادی، مرزا اور رسوا‘ اور دیگر مورخ و ادیب کی رائے کا جائزہ لے کر ’امراؤ جان  ادا‘ کے سنہ اشاعت کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ”بہرحال یہ بات بالکل قطعی ہے کہ ’امراؤ جان ادا‘ 1899 سے پہلے شائع نہیں ہوئی تھی (’بیسویں صدی میں اردو ناول‘ از یوسف سرمست، ترقی اردو بیورو، دہلی 1995، ص 88)“ اور سرفراز حسین کا دوسرا ناول ’سعادت‘ کے پہلے ایڈیشن کے سرورق اور ’التماس مصنف‘ اور سہیل بخاری کی کتاب ’اردو ناول نگاری‘ کے حوالے دے کر ثابت کرتے ہیں کہ ’شاہد رعنا‘ 1897 یا اس سے پہلے لکھا گیا ہے۔
.2         نقوش لاہور، شخصیت نمبر (جنوری 1955)، ص 527
.3         ’بیسویں صدی میں اردو ناول‘ از یوسف سرمست، ترقی اردو بیورو، دہلی، 1995، ص 89
.4         ایضاً، ص 97
.5         ’امراؤ جان ادا‘ از مرزا محمد ہادی رسوا، منشی گلاب سنگھ اینڈ سنز پریس، لکھنؤ، ص 80-87
.6         ’بیسویں صدی میں اردو ناول‘ از یوسف سرمست، ترقی اردو بیورو، دہلی، 1995، ص 98-99
.7         ’شاہد رعنا‘ از قاری سرفراز حسین، دفتر تمدن، دہلی، ص 108-109
.8         ’بیسویں صدی میں اردو ناول‘ از یوسف سرمست، ترقی اردو بیورو، دہلی، 1995، ص 99
.9         ایضاً
.10      ’سراب عیش‘ از قاری سرفراز حسین، قاری (تمدن) بک ڈپو، دہلی، ص 78
.11      ایضاً، ص 78
.12      ’امراؤ جان ادا‘ از مرزا محمد ہادی رسو، منشی گلاب سنگھ اینڈ سنز پریس، لکھنؤ، ص 150
.13      ’شاہد رعنا‘ از قاری سرفراز حسین، دفتر تمدن، دہلی، ص 191
.14      ’امراؤ جان ادا‘ از مرزا محمد ہادی رسو، منشی گلاب سنگھ اینڈ سنز پریس، لکھنؤ، ص 185
.15      ’بیسویں صدی میں اردو ناول‘ از یوسف سرمست، ترقی اردو بیورو، دہلی، 1995، ص 89
.16      ’شاہد رعنا‘ از قاری سرفراز حسین، دفتر تمدن، دہلی، ص 137-138
.17      ایضاً، ص 129
.18      ’امراؤ جان ادا‘ از مرزا محمد ہادی رسوا، منشی گلاب سنگھ اینڈ سنز پریس، لکھنؤ، ص 103
.19      ’شاہد رعنا‘ از قاری سرفراز حسین، دفتر تمدن، دہلی، ص 178
.20      ’سراب عیش‘ از قاری سرفراز حسین،قاری (تمدن) بک ڈپو، دہلی، سرورق
.21      ایضاً، ص 11
.22      ایضاً

Murakami Asuka
Tokyo Japan

 ماہنامہ اردو دنیا، فروری 2020

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں