تدریسِ زبانِ اردو میں طرز ہائے تحقیق مضمون نگار: جرار احمد


تدریسِ زبانِ اردو میں طرز ہائے تحقیق


جرار احمد
تحقیق ایک ایسا شعبہ ہے جس سے دنیا میں روز بروز نئی نئی چیزیں منصہ شہود پر آرہی ہیں۔ فی زماننا جتنی بھی ترقیاں ہم دیکھ رہے ہیں اس کا  پورا سہرا تحقیق کو ہی جاتا ہے اورآج بھی ہمارے محققین تحقیق کے ذریعہ نئے نئے دریچوں کو وا کرکے ہماری دشواریوں کو آسانیوں میں بدلنے کی راہ میں پیہم سرگرداں ہیں۔ تحقیق سے ہی چیزیں ابھر کرسامنے آتی ہیں، پھر وہی چیزیں ہمارے لیے وسیلہ بنتی ہیں اور انسانی حیات کو آسان تر بناتی ہیں۔ تحقیق کے لیے جن اشیا کا استعمال کیاجاتا ہے یا جن اشیا کو بروئے کار لاکر تحقیق کی جاتی ہے وہ تحقیقی وسائل کہلاتی ہیں (گرچہ یہ وسائل بھی کسی اور تحقیق کی رہین ِمنت ہوتے ہیں) نیز محققین کو دوران تحقیق جن مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ تحقیق کے مسائل کہلاتے ہیں۔
جب ہم اردو تحقیق پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ دیکھتے ہیں کہ اردو تحقیق کا دائرہ بھی بہت وسیع ہے اور ملک و بیرون ملک کی جامعات میں ہزاروں اسکالرس تحقیق کی راہ میں سرگرداں ہیں، لیکن بے چینی اس وقت محسوس ہوتی ہے جب ہم ان میں سے اکثر کو ایک رنگ سے رنگا ہوا دیکھتے ہیں مثلا کوئی فیلوشپ کے لیے کر رہا ہے تو کوئی ڈگری اور اس طرح کی بہت سی وجوہات کا اندازہ ان اسکالرس کی تحقیق کو دیکھنے یا ان سے گفت و شنید کے بعد ہوتاہے، ہمیں فیلوشپ اور ڈگری کی اہمیت سے انکار نہیں۔علاوہ ازیں کوئی افسانہ نگاری پر تحقیق کر رہاہے، کوئی ناول کے فن پر تو کوئی شخصیت شناسی وغیرہ پر، اس طرح کی تحقیق اپنی جگہ درست ہے، میری نظر میں آج کے اس جدید دور میں درج ذیل یا اس طرح کے جدید مسائل اور عنوانات پر تحقیق کی اشد ضرورت ہے۔
              موجودہ دور میں اردوتحقیق۔
              موجودہ دور میں تحقیق کے وسائل اور اردو۔
              موجودہ دور میں ٹکنالوجی شناسی اور اردو تحقیق میں اس کی اہمیت۔
              جدید ٹکنالوجی کے استعمال سے اردو اکتساب اور تحقیق وتدریس کو آسان تر اور مؤثر بنانا۔
              جدید آلات کا اردو لرننگ اور ٹیچنگ میں استعمال۔
 درج بالانکات پر میری نظر میں تحقیق کے لیے کوئی مائل نظر نہیں آتاہے مگر ہو سکتا ہے کہ میری دانست سے باہر کچھ لوگ اس امر کی طرف مائل ہوں۔اس سمت اس قدر کم رغبت ہونے کی وجہ نگراں بھی ہوسکتے کہ وہ اس کو غیر ضروری اور اردو زبان و ادب سے الگ سمجھتے ہوں یا اس کی وجہ تکنیک سے بیزاری  بھی ہوسکتی ہے اور اس بیزاری کی وجہ تکنیک سے ناواقفیت یا کچھ اور ہو سکتی ہے۔ بعض نگراں کے ساتھ ساتھ بعض اسکالرس کا بھی وہی حال ہے حالاں کہ ہر کوئی اس حقیقت کو تسلیم کرتاہے کہ ٹکنالوجی کے بغیر آج کی زندگی ادھوری ہے بلکہ مفلوج کہوں تو بے جا نہیں اور اس سے بیزاری یا غفلت برتنے کی صورت میں ہم پچھڑ جائیں گے،بلکہ پچھڑ گئے ہیں۔ان تمام چیزوں سے آگاہی کے باوجود اس امرپر تحقیق کر کے راہیں ہموار کرنے کے لیے بہت کم ہی لوگ آگے آرہے ہیں، جب کہ اگر ہم انگریزی زبان و ادب کی بات کریں تو وہاں ٹکنالوجی کی طرف صرف رجحان ہی نہیں بلکہ وہ لوگ اردو کی بہ نسبت بہت زیادہ کام بھی کر چکے ہیں اور کر بھی رہے ہیں، شاید اس لیے کہ انگریزی زبان ٹکنالوجی کی زبان ہے یا پھر ٹکنالوجی میں انگریزی زبان کا استعمال ہوتا ہے جس کے نتیجے میں جو مقام ومرتبہ اور شناخت  (ELT)English Language Teaching کو عالمی سطح پر حاصل ہے وہ Urdu Language Teaching (ULT)   کو نہیں۔  ابھی تک یوایل ٹی  پر وہ کام نہیں ہوا جو ای ایل ٹی پر ہوااور ہو رہاہے۔عالمی سطح پر ای ایل ٹی کی طرح یو ایل ٹی کی کوئی ویب سائٹ نہیں ہے کہ لوگوں کو اس سے آگاہی ہو۔  ای ایل ٹی کے لیے جتنی تحقیق ہوئی اور ہو رہی ہے وہ بھی پوسٹ گریجویٹ کی سطح پر،اردو میں یو ایل ٹی کے لیے پی ایچ ڈی کی سطح پربھی اتنی ریسرچ میری معلومات کے حساب سے نہیں ہوئی ہے۔
اس وقت شاید ہی کوئی ایسی یونیورسٹی ہوگی جہاں پر ایم اے اردو کی سطح پر مقالہ (Dissertation)لکھا جارہاہوگا۔ جب کہ کئی ایک ایسی جامعات ہیں جہاں پر ایم اے انگریزی، ایم اے سیاسیات، تاریخ، سوشل ورک وغیرہ جیسے دوسرے مضامین میں پی جی کی سطح پربھی مقالہ لکھنا لازمی ہوتاہے،  اس ضمن میں یہ بات عرض کرتا چلوں کہ زیادہ تر ذہین و فطین طلبا پی جی کے بعد تنگی کی وجہ یا پھر جلدی پیسہ کمانے کی خاطر نوکری کے لیے چلے جاتے ہیں اور پی ایچ ڈی میں ایسے لوگوں کو داخلہ مل جاتا ہے جو گھر سے معاشی طور سے مضبوط ہوتے ہیں لیکن دماغی اور تعلیمی طور سے کتنے مضبوط ہوتے ہیں اس کے بارے میں کچھ کہا نہیں جا سکتا۔پروفیسر گیان چند نے ایسے لوگوں کو ’بوالہوس‘ کہااور یہ بھی کہا کہ ایسے لوگوں کو تحقیق کی راہ سے دور رکھا جائے۔ایسی صورت میں اگر پی جی لیول پر ہی مقالہ لکھنا لازمی قراردے دیا جائے تو ایسے ذہین و فطین طلبا سے فائدہ اٹھا یا جا سکتا ہے اور نوجوان نسل کے نئے دماغ نئی سوچ ان مقالوں میں قلمبند ہوں اور اس میں ہونے والے نادر اور اچھے کام کو پی ایچ ڈی میں آنے والے طلبا زیادہ بہتر طریقے سے آگے بڑھائیں تو ممکن ہے کہ اس طرح سے اردو تحقیق کا منظرنامہ سرعت کے ساتھ بدل جائے اور پوری دنیا اس سے فائدہ اٹھائے۔ مقالہ لکھنے سے طلبا کی سوچنے سمجھنے اور پڑھنے لکھنے کی صلاحیت میں بہتری ہوتی ہے اور ان مضامین کے طلبا بلا جھجک جدید آلات کی مدد سے سیمینار میں اپنا پیپر پریزینٹ کرتے ہیں اور ریسرچ میں داخلے کے بعد ان کے اعتماد میں اور اضافہ ہو جاتا ہے جبکہ دوسرے مضامین کے برعکس اردو میں پی جی کے طلبا کومقالہ، سیمیناروغیرہ کا موقع نہیں دیا جاتا ہے یا پھرموقع مل جاتا ہے توان میں سے اکثر شرکت سے گھبراتے ہیں حتی کہ پی ایچ ڈی میں داخلے کے بعد بھی ایک ڈیڑھ سال تک گھبراہٹ کا شکاررہتے ہیں۔اردو طلبا کو اگر پی جی کی سطح سے ہی ان تمام چیزوں کا موقع دے دیا جائے اور ساتھ ہی ان کو موضوع کی آزادی کے ساتھ ساتھ آج کے زمانے کی تکنیک کی طرف ترغیب دی جائے تو یقینا آئند ہ کچھ سالوں میں اردو تحقیق کا منظرنامہ کچھ اور ہوگا اور تب کوئی یہ نہیں کہہ سکے گا کہ اردو کے طلبا اور اردو زبان کمتر ہے اور اردو زبان آئی سی ٹی کی زبان نہیں ہے۔
آج آئی سی ٹی کی اس صدی میں کسی بھی میدان میں تحقیق کرنے کے لیے وسائل کی کمی نہیں ہے اور اگر ہم مان بھی لیں کہ اردو میں کمی ہے تو اس کی وجہ کوئی دوسرا نہیں ہم خود ہیں کیوں کہ آج جو وسائل ہمارے سامنے موجود ہیں انھیں ہم خود اتنا استعمال نہیں کرپارہے ہیں جتنا کہ ہمیں کرنا چاہیے۔ آج ہم کس حد تک اپنی تدریس و تحقیق اور ریسرچ پیپر کے لیے گوگل کے آلات جیسے گوگل فارم، اشتراکی اکتساب، گوگل سلائڈ/سائٹ،گوگل کلاس روم یا اس جیسے آئی سی ٹی کے آلات کا استعمال کر رہے ہیں؟ اسی طرح سے کتنے لوگ ہیں جو اپنی تدریس کو مؤثر بنانے کے لیے نئی نئی چیزیں، معلومات اور ویڈیوز کی تلاش و تحقیق کرکے ان کا کلاس روم میں استعمال کرتے ہیں؟کتنے لوگ اس امر پر تحقیق کر رہے ہیں کہ کس طرح سے طلبا کی سننے، بولنے، پڑھنے اور لکھنے کی مہارتوں  (Writing skills)کے ساتھ اردو میں لکھنے کی صلاحیت (Urdu Writing Competency)میں اضافہ کیا جاسکتا ہے؟ اور کس طرح سے ان سب معاملات میں جدید ٹکنا لوجی سے فائدہ اٹھایا جاسکتاہے؟ اگر آپ کہیں گے کہ ان کا اردوادب اور اردووالوں سے کوئی تعلق نہیں ہے تو میں آپ سے، سب سے پہلے یہی پوچھوں گا کہ ان سب کا انگریزی ادب اور انگریزی والوں سے کس طرح سے تعلق ہے؟ اگر یہ مان بھی لیں کہ ان سب کا اردو سے کوئی تعلق نہیں ہے تو اس طرح کا تعلق بنانے سے فائدے کے علاوہ اردو کا کیا نقصان ہے؟ جہاں تک میں سمجھتا ہوں اردو تحقیق کو اب اپنا رخ بدلنا ہی ہوگا۔
ناول، افسانہ، داستان وغیرہ پر بہت تحقیق ہوچکی اور ہو رہی ہے۔ اب ہمیں اس بات پر زیادہ سے زیادہ تحقیق کرنی ہوگی کہ کس طرح سے کسی افسانہ کو فلما کر اس کی تدریس کو مؤثر بنا سکتے ہیں، کس طرح سے کون سے طریقہئ کار،ماڈل اور اپروچ کے ذریعہ سے ناول،نظم وغیرہ کو پڑھائیں کہ اس کے تمام کردار و کیفیات اور مناظر طلبا کے اذہان و قلوب میں نقش ہوتے چلے جائیں۔ ان سب کے لیے اگر ہم آج کی تکنیک کا استعمال نہیں کریں گے تو یہ امر بہت مشکل ہوگا کیوں کہ آج کی یہ 4جی نسل سب سے زیادہ دلچسپی انھیں سب تکنیکی آلات میں لے رہی ہے تو کیوں نہ ہم انھیں آلات کا مثبت استعمال کرکے ان کے اکتساب میں اضافہ کا ذریعہ بنیں اور جب ہم ان تمام چیزوں کو نئے آلات اور تکنیک سے جوڑ دیں گے تو کوئی بھی شخص، کسی بھی وقت، کہیں سے بھی اکتساب کرلے گا،جو اردو لرنرس اور اردو سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے بھی اور اردوکے فروغ میں بھی معاون و مددگار ثابت ہوگا۔ جب ہم اسے آ ج کی نئی تکنیک سے مربوط کریں تو اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ وہ موادایک سے زیادہ زبانوں میں ہو یا کم ازکم  انگریزی زبان میں بھی ہو اور ساتھ ہی  اسے دوسری زبانوں میں ٹرانسلیٹ کرنے والے ٹول سے بھی جوڑ دیا جائے جیساکہ آج کل اگر ہم کسی مواد کو کسی دوسری زبان میں دیکھتے ہیں تو وہاں ٹرانسلیٹ کا ایک بٹن ہوتا ہے اور جیسے ہی ہم اس پر کلک کرتے ہیں وہ پورا مواد کسی اور زبان سے انگریزی یا ہماری منتخب شدہ زبان میں ہوجاتاہے ایسا کرنے سے پوری دنیا زبان کی قیود سے بالاتر ہوکر اردوادب سے متعارف ہوجائے گی اور لوگ اس کی خوبیوں اور اس کی فکروفلسفہ سے واقف ہو جائیں گے۔ اردو میں جو سرمایہ ہے وہ کسی اور ادب سے قطعا ًکم نہیں ہے اگرچہ میں نے دنیا کے پورے ادب کا مطالعہ نہیں کیا ہے پھر بھی یہ بات بلا مبالغہ کہہ سکتا ہوں کہ ابن صفی جیسا جاسوسی ناول نگار کسی ادب میں نہیں، آج بھی کسی ادب میں دوسراغالب، مشتاق احمدیوسفی وغیرہ پیدانھیں ہوئے اسی لیے یہ اور ضروری ہوجاتاہے کہ ان کی فکر ان کے فلسفہ کو دنیا کے سامنے لائیں،اس کے لیے ہمیں ریسرچ کرنی ہوگی اور وہ بھی روایت سے ہٹ کر۔
فی زماننا وسائل کی کمی نہیں ہے اور اگر کمی ہوگی بھی تواستعمال نہ کرنے کی وجہ سے ہم اسے اجاگر نہیں کرپاتے ہیں، اگر استعمال کے ساتھ ساتھ ان کو اجاگربھی کیا جائے تو وہ خامیاں اور کمیاں جلد دور ہوجائیں کیوں کہ اگر کوئی شخص وسائل بنا سکتا ہے تو اس میں پیداشدہ خامیوں کو دور بھی کر سکتا ہے بشرطیکہ اسے ان خامیوں سے واقف کرایا جائے۔ بات دراصل یہ ہے کہ ہم میں جولوگ استعمال کرنا جانتے ہیں تو استعمال کے وقت اگر کوئی پریشانی یا رکاوٹ سامنے آتی ہے تو اس کو حل یا دورکرنے کے لیے کسی سے رجوع ہونے کی بات تو درکنار  اس کے خالق کو یہ بتانے کے لیے ایک ای میل تک نہیں کرتے ہیں جس سے کہ اس کے علم میں یہ بات آجائے اور وہ اس کمی کو دور کردے، البتہ ہم اس کی خامیوں کاڈھنڈورا ضرور پیٹتے ہیں۔
ہمیں اپنی تحقیق، اردو زبان و ادب اور تدریس میں آئی سی ٹی کا استعمال کرنا ہی ہوگا اور جتنا بھی ممکن ہو ہمیں کرناہی  چاہیے کیونکہ دوسرے میدان کے لوگوں پر جب ہم نظر ڈالتے ہیں تو ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ انہوں نے جدید تر تمام ٹکنالوجی کا استعمال کرکے اپنی زبان و ادب کو اتنا فروغ دیا ہے کہ ہم اس کا عشر عشیر بھی نہیں دے پائے ہیں۔ اس تحریر کے لکھنے سے پہلے جب انٹرنیٹ کا سہارا لے کر اس عنوان پر مواد حاصل کرنے کی کوشش کی تو نہ کے برابر مواد حاصل ہوا۔ اس سے میں یہ نتیجہ ہرگز اخذ نہیں کروں گا کہ اس موضوع پراردو میں بالکل کام ہی نہیں ہوا ہے مگر یہ ضرور کہوں گا کہ جو کچھ کام ہوابھی ہے تو وہ سب شاید گم گشتہ فائلوں کی طرح دبا ہواہے، اگراس مواد تک سب کی رسائی کو عام کردیاجائے تو آنے والے محققین کے لیے مشعل راہ ہوگا اور ان محققین کو پھر سے بنیادی طور سے کا م کرکے وقت ضائع نہ کرنا پڑے گا، کیونکہ بار بار پہیے کی ایجاد (Reinventing the wheel) سے وقت کا  زیاں اورپچھڑجانے کے سوا کچھ اور نہیں۔
اردو میں بھی اردو زبان کی تدریس کے تعلق سے کام ہواہے مگر جس طرح سے ای ایل ٹی پر کام ہواہے اس طرح سے یو ایل ٹی پر نہیں ہواہے اور آج بھی خاطر خواہ ہوتا ہوا دکھائی نہیں دے رہاہے یہی وجہ ہے کہ یو ایل ٹی اب تک اپنی پہچان نہیں بنا پائی ہے اور وسائل ہونے کے باوجود رکاوٹیں ہمیں زیادہ دکھائی دے رہی ہیں، اس ضمن میں یہی کہوں گا کہ ہم تمام اردو والوں کی ذمہ داری اور وقت کی اشد ضرورت ہے کہ ہم جہاں اپنی زبان و ادب پر تحقیقی کام کر کے نئی چیزیں نئے پہلو اجاگر کریں، وہیں ہم اس امر پر بھی ریسرچ کریں کہ کس طرح سے یو ایل ٹی کو فروغ دیاجائے، کس طرح سے اردو تحقیق میں حائل رکاوٹوں کا سد باب کیاجائے، کس طرح سے آئی سی ٹی اور جدید ٹکنالوجی کی مدد سے اردو تحقیق کو آسان ترین بنایا جائے،کس طرح سے اردو زبان کی تدریس میں ٹکنالوجی کا استعمال کیا جائے، کس طرح سے ماضی میں ہوئی اور حال میں ہو رہی تمام تحقیقات کو منظر عام پر لاکر سب کی رسائی کو ممکن بنایا جائے۔
آج وسائل ہونے کے باوجودہمارے سامنے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم ان کو استعمال کرنا نہیں جانتے اوراگر جانتے ہیں تو اس حدتک کرتے نہیں جتنا کہ کرنا چاہیے مثال کے طورپر تحقیقی یاکسی بھی طرح کا سوالنامہ تیار کرنے کے لیے ہم میں سے کتنے لوگ گوگل فارم کا استعمال کرتے ہیں؟ اور اگر شاذ و نادر کوئی کر بھی لے تو اب جن سے ڈاٹا لینا ہے وہ اس سوالنامہ کو آن لائن پُر کرنے سے قاصرہیں۔ ابھی تک اردو میں ادبی سرقہ کے لیے کوئی سافٹ ویئر میری معلومات کے مطابق موجود نہیں ہے، جس کی وجہ سے جانے انجانے میں آج بھی ایک جیسے کام ہورہے ہیں۔کیامقالہ کے حوالہ جات کے لیے کوئی یکساں پیٹر ن اردو میں موجود ہے؟ کیا اس ضمن میں عالمی سطح پر کوئی رہنما خطوط بنائے گئے ہیں کہ کس طرح سے حوالہ جات تحریرکرناہے؟مقالے کا فونٹ سائز کیاہوگا، لائننگ گیپ کتنا ہوگا، کتنی مقدار میں اقتباس اخذ کیا جاسکتاہے؟ کیا کوئی ایسا میکانزم ہے جس سے یہ پتہ چل سکے کی فلاں موضوع پر کتنے پیپر کتنی کتب شائع ہوئی ہیں؟ریسرچ پرپوزل میں کتنے نکات ہوں گے وغیرہ۔ اس طرح کے اور بھی بہت سے ایسے مسائل ہیں جن کی وجہ سے آج اردو میں تحقیق اتنی آسان نہیں ہے جتنی کہ دوسری زبانوں میں ہے۔ وسائل کی قلت کثرت اور رکاوٹ پر بات کرنے سے قبل میں یہ جاننا چاہوں گا کہ جو وسائل ہیں کیا ہم ان کا کلی طور سے استعمال کر رہے ہیں؟میری نظر میں سب سے بڑا مسئلہ ابھی یہی ہے کہ چاہے وسائل جتنے بھی کم ہوں ناکافی ہوں۔ ان ناکافی وسائل کو ہم پہلے کماحقہ استعمال تو کریں اور جب استعمال کرنے لگیں گے تو ضرور وسائل میں وقت اور ضرورت کے لحاظ سے ترمیم و اضافہ ہوگاکیوں کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے۔
اردو میں لینگویج ایجوکیشن (زبان کی تعلیم) یا پھر اردو لینگویج ٹیچنگ(یو ایل ٹی) کی طرف تحقیق کرنے کا رجحان پیدا کرنا ہوگا۔ کیا اردو ادب کا دائرہ دھیرے دھیرے کم نہیں ہو رہا ہے؟ اس کو بڑھانے کی جانب ہم فکر مند تو بہت ہیں مگرکتنے سنجیدہ ہیں؟ ہم بس یہ خبر سن کر ہی خوش ہو جاتے ہیں کہ اردو پڑھنے سے دماغ تیز ہوتا ہے، میرے جملے پر غور کریے کہ یہ خبر سن کر، پڑھ کر نہیں اور اگر کوئی پڑھ بھی لیتا ہے تو انگریزی یا پھر ہندی کے کسی  اخبار میں۔ آج جتنی بھی زبانیں اگر زندہ ہیں تو اس کی ایک وجہ تحقیق ہے، کیوں کہ تحقیق ہمیشہ نئے نئے پہلو تلاش کر کے لوگوں کو اس زبان کی طرف مائل کرتی ہے۔ تحقیق ہی بتاتی ہے کہ کس طرح سے زبان کے دائرے کو وسیع کیا جاسکتاہے، کس طرح کے طلبا کے لیے کس طرح کی دلچسپی کا سامان مہیا کرکے تعلیم اور زبان کی طرف انھیں راغب کیا جاسکتا ہے، اس لیے ہمیں فکر مند ہونے سے زیادہ عملی اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔
انگریزی زبان میں ذخیرہئ الفاظ میں اضافہ کے لیے بہت سارے آن لائن تعلیمی گیم اور اپلیکیشن موجود ہیں ایک زبان سے دوسری زبان کس طرح سیکھی جا سکتی اس کے لیے ویڈیوز اور ویب سائٹس موجود ہیں، جب کہ اردو میں ا س کی تعداد بہت ہی کم ہے۔ہمیں اس امر پر بھی تحقیق کرنی ہوگی کہ کیا وجہ ہے کہ لوگ اپنے کام کو دوسروں سے شیئر کرنا پسند نہیں کرتے؟ آخر کیوں لوگ چھپانے کی طرف مائل ہیں،No upload only download  کا کلچر کیوں عام ہے؟ علاوہ ازیں انھیں میں کچھ ایسے ادیب بھی ہیں جو اپنی تحریر کو سوشل میڈیا پر شیئر کرکے سب کی رسائی عام کر دیتے ہیں جو کہ بہت ہی خوش آئند اور لائق تحسین بات ہے۔
 اردو کے حوالے سے اگر ہم Kindle کی بات کریں تو اردو کی بہت کم کتابیں کنڈل پر موجود ہیں اور اس میں بھی اکثریت ان کتابوں کی ہے جو پاکستانی ہیں۔ اگر ہم کنڈل پر توجہ دیں تو اس کا ایک فائدہ یہ ہوگا کہ دوسری عام کتابوں کی طرح اس کی کتب پر بھی بھروسہ کیا جاسکتا ہے کہ اس میں ترمیم نہیں کی جا سکتی ہے اور دوسرے یہ کہ انگریزی کی طرح اردو الفاظ پر بھی کلک کرکے ان کے معنی معلوم کیے جا سکیں گے بشرطیکہ ان کتابوں کو انگریزی کی طرح کنڈِل ورژن میں تبدیل کیا جائے(لفظوں پر کلک کرکے معنی معلوم کرنے کا ایک نمونہ ریختہ پر بھی دیکھا جاسکتاہے)اس کے لیے ضروری ہے کہ جو لوازمات اور قواعدو ضوابط انگریزی کتب میں ملحوظ خاطر رکھے جاتے ہیں وہی تمام چیزیں اردو کتب کو بھی کنڈل ورژن میں تبدیل کرتے ہوئے رکھی جائیں۔ اس کے علاوہ آج بھی اردو کی بہت کم کتابیں امازون، فلپ کارٹ یا اس طرح کی دیگر سائٹس پر موجود ہیں ان سب کو بھی فروغ دینے کی ضرورت ہے تاکہ محققین، قارئین، اور لرنرس کی رسائی آسان ہو۔
تعلیم و تحقیق کا مقصد طلبا کے اندر احساس ذمے داری پیداکرنا بھی ہوتاہے۔ کیا آج کے طلبا میں ہم ایثارو قربانی، محبت اور سماجی ذمہ داری کا احساس اپنی تدریس  و تحقیق سے بیدار کر رہے ہیں؟ اس مقصد کے پیش نظر ہمیں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ ہمارے طلبا کی قرات کتنی اچھی اور اس کی زبان کتنی رواں ہے، اگر وہ انسانی مسائل سے لاپرواہی برتتے ہیں، سماجی بے حسی اختیار کرتے ہیں یا پھر اپنی رواں زبان اور خوش الحانی کا استعمال جرم کے ارتکاب، رشوت خوری یا ماحول میں بگاڑاور فساد برپا کرنے کے لیے کرتے ہیں، بلکہ اگر اساتذہ اپنے طلبا کودوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے والا،تمام عالم انسانیت کے لیے نفع بخش اور ایک ذمہ دار شہری بناتے ہیں تو یہ امربہت زیادہ اہمیت کا حامل ہوگا۔ تدریس بس ایک سادہ پروجیکٹ اور عمل نہیں ہونی چاہیے نہ ہی یہ کہ بس نقل کرکے ایک زبان سیکھ لی جائے اور وہی ایک سال والا تجربہ پچاس سال تک چلتا رہے، بلکہ ایسی ہونی چاہیے کہ طلبا کے اندر خود اعتمادی، تنقیدی سوچ پیداہو اور وہ تعمیری سماجی تبدیلی کے علمبردار بنیں۔ یہ سب تبدیلیاں ہم تبھی لاسکیں گے جب ہم اس ضمن میں ریسرچ کی راہ کو ہموار کریں گے اور ان مسائل اور دشواریوں کا سد باب کرکے ضرورتوں کا پتہ لگاکر ان کمیوں کو دور کرنے کے لیے عزم مصمم کرنے کے ساتھ ساتھ پیہم عمل کریں گے۔
آج بھی جب ہم اردو کے طریقہئ تدریس پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ کس حدتک اس میں تبدیلی آئی ہے؟ کیا اس میں مزید تبدیلی کی ضرورت نہیں ہے؟ آخر کیوں آج بھی طلبا کلاس روم میں ایک دوسرے کی پیٹھ دیکھتے ہیں؟ آخر کیوں زیادہ تر اساتذہ اسی پرانے طریقہئ تدریس کا استعمال کر رہے ہیں؟ کیا اردو اسکولوں میں ٹکنالوجی موجود نہیں ہے؟یا پھر اساتذہ ان کا استعمال کرنا نہیں چاہتے ہیں اور وہ یہ سوچتے ہیں کہ یہی پرانا طریقہئ تدریس کافی ہے، اس ضمن میں ہم جب انگریزی زبان کی تدریس پر نظرڈالتے ہیں تو پاتے ہیں کہ اس میں بے پناہ تبدیلیاں ہوئی ہیں اور اس کے فروغ میں بہت زیادہ تحقیق بھی ہوئی ہے اور آج بھی ہورہی ہیں۔ مثلاً ایک وقت تھا کہ پروڈکٹ اپروچ کے ذریعہ انگریزی زبان کی تدریس ہوئی پھر ایک نئی تحقیق سے ثابت ہو اکہ پروسیس اپروچ اس سے زیادہ مؤثر ہے لھذا اسے اپنا لیاگیا،اس کے بعد پروسیس جونر اپروچ اور اب پوسٹ میتھڈ کی با ت چل رہی ہے، مگر میں یہ جاننا چاہوں گا کہ کیا اردو میں بھی کوئی ایسی ریسرچ ہوئی ہے جس میں کہا گیا ہو کہ اب تدریس اس طرح سے ہوگی اور طلبا اس طریقہئ تدریس کے اپنائے جانے سے زیادہ اکتساب کرتے ہیں وغیرہ۔نیز یہ بھی جاننا چاہوں گا کہ کیا اردوکے تدریسی مواد میں کبھی تبدیلی ہوئی یااردو کریکولم کو آئی سی ٹی فیملیئر بنا نے کی جامع سعی کی گئی؟ کیاآج کے وقت، حالات اور طلبا کے مزاج کے مطابق اردو نصاب میں تبدیلی کی گئی؟ کیا جانچ کے لیے کوئی اور طریقہ اپنایا گیا؟ ’یہ بات عیاں ہے کہ بہت سے ملکوں میں معیار، جوابدہی اور اسسمنٹ تعلیمی انقلاب کا باعث بنا‘۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ اردو تحقیق کا ٹرینڈ تبدیل ہو اور موجودہ مسائل پر تحقیق کی جائے۔ نیز ہماری تحقیق کا ایک مقصد یہ بھی ہونا چاہیے کہ کس طرح سے ایسی تدریس کی بنا ڈالی جائے جس سے کہ ہمارے طلبا اردو کے استاد کی حیثیت سے ایک قابل اور لائق و فائق  استاد بنیں۔
آج ریڈی میڈ مواد کا کلچر عام ہے، مگر جب اردو میں ہم مواد کو تلاش کرتے ہیں تو بہت کم موادملتا ہے، سلائڈ شیئریا اس طرح کی دوسری سائٹ پر دیکھتے ہیں تو وہاں بھی وہی حال ہے یا تو ہم اپنے مواد کی پیش کش کے لیے پاور پوائنٹ پریزینٹیشن نہیں بناتے ہیں یا پھر بناتے بھی ہیں تو اسے شیئر اس خوف سے نہیں کرتے ہیں کہ کوئی دوسرا چرالے گا یا پھر یہ سوچتے ہیں کہ محنت ہم کریں فائدہ کوئی اور کیوں اٹھائے، جب کہ ایسا بالکل بھی نہیں ہے کیوں کہ آپ کے کام کو کوئی ہو بہو نہیں لے سکتاہے اور اگر کوئی لے رہا ہے تو یہ عمل اخلاقیات کے خلاف ہے، علاوہ ازیں ہمیں اس کابھی پتہ لگانا ہوگا کہ اردو کلاس میں کس حدتک طلبا اور اساتذہ ٹکنالوجی کا استعمال کرتے ہیں۔
بہت سے مسائل کا حل ہم نے تلاش بھی کیا ہے جیسے ٹائپ اور کاتب کا مسئلہ بھی تقریباحل ہی ہو گیا ہے۔ شودھ گنگا پر اب تمام مقالات کو اپلوڈکرنا ہی ہوگاجس سے سب کی رسائی عام اور آسان ہورہی ہے، ریختہ نے اپنی ویب سائٹ پر اتنی زیادہ کتب اپلوڈ کردی ہیں جن سے اسکالرس کو سفر کی صعوبت اور خرچ سے بہت حدتک راحت ملی ہے۔ نیز کتب خانوں سے کسی کتاب کو حاصل کرنے میں چپلیں گھس جاتیں تھیں تب جاکر کہیں وہ کتاب ملتی  بھی تھی تو بہت سی شرائط وغیرہ کے ساتھ، لیکن اب ای کتب کی سہولت سے اس قسم کی بہت ساری پریشانیوں سے اسکالرس اور قاری کو نجات ملی ہے۔ قدیم نسخوں کے ڈیجیٹلائزیشن سے محققین کو اور بھی مدد ملی ہے۔ مگر وہیں کچھ مسائل ایسے بھی ہیں جو لگتا ہے کبھی حل ہونے والے نہیں اور ان باتوں کو پروفیسر گیان چند نے 80 کی دہائی میں کہا تھا  جیسے بہت ساری جامعات میں آج بھی بلاوجہ نگراں مقالہ روکے رکھتے ہیں، آج بھی ممتحن مہینوں مقالے دباکر رکھتے ہیں، وائیوا کی تاریخ مقرر ہونا آج بھی مشکل ا مر ہے وغیرہ۔ان تمام امور کے حل کے لیے غوروخوض کی اشد ضرورت ہے۔ 
اس ضمن میں شعبہئ اردو کے دائرے اور حدود کو وسیع تر کرنے کی ضرورت ہے، اگر ممکن ہو تو اسکول آف اردو لینگویج ایجوکیشن قائم کیا جائے،جس کے تحت مواد کو فروغ دینے، جانچ اور تعین قدر کا شعبہ، ٹریننگ اور ڈیولپمنٹ کا شعبہ،اردو کو آئی سی ٹی سے انضمام کا شعبہ وغیرہ قائم ہو،مزید برآں کہ آج کے اس دور میں اردو اساتذہ و محققین اور قارئین کی ذمہ داریاں اور بھی بڑھ گئی ہیں لھذا آج اردو میں آئی سی ٹی کے استعمال کے ساتھ ہمیں اس بات پربھی غور کرنا ہوگا کہ کس طرح سے کولیبوریٹیو طریقہئ کار (Collaborative method)کو اپناکر کو ٹیچنگ (Co-teaching)ٹیم ٹیچنگ(Team Teaching) اور ایک ساتھ مل کر تحقیق (Research Project)  کے چلن کو عام کرکے طلبا کو ان کی ضرورت کے مطابق تدریس کی جاسکتی ہے۔ جب ہم اس میں کامیاب ہو جائیں گے تو یقینا اردو اور اردوتدریس و تحقیق کے مسائل بہت حد تک کم ہو جائیں گے اور ساتھ ہی یہ قدم اردو کی نشاۃ ثانیہ ثابت ہو سکتاہے کیوں کہ ایسا کرنے سے اردوکی رسائی لوگوں تک  یا لوگوں کی رسائی اردو تک آسان ترین اور عام ہوجائے گی جس کے نتیجہ میں اردو کا بول بالا ہوجائے گا اور پھر یہ محبتوں کی زبان سارے عالم پر چھا جائے گی۔

 کتابیات:
گیان چند جین (1978) یونیور سٹیوں میں اردو ریسرچ کے مسائل۔’حقائق‘
https://rekhta.org/ebooks/haqaiq-gyan-chand-ebooks


Jarrar Ahamad
Assistant Professor (Contractual) 
Department of Education & Training
Maulana Azad National Urdu University
Hyderabad, Telangana-32
jarrarurb.rs@manuu.edu.in
9618783492


ماہنامہ اردو دنیا، فروری 2020

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں