جگن ناتھ آزاد کی تنقید نگاری مضمون نگار: رئیس احمد گنائی



جگن ناتھ آزاد کی تنقید نگاری


رئیس احمد گنائی
شاعری کے ساتھ تنقید جگن ناتھ آزاد (5 دسمبر 1918، 24 جولائی 2004)کی ترجیحات میں شروع سے ہی شامل رہی ہے۔ادب کے تنقیدی شعبے میں آزاد نے جہاں اہم اور قابل مطالعہ نگارشات ترتیب دی ہیں اقبال شناسی کے قابل قدر نمونوں کے ذریعے ادب کے سنجیدہ حلقے کو متاثر کیا۔ انھوں نے کسی خاص موضوع پر باقاعدہ کوئی کتاب نہیں لکھی اور نہ ہی کسی خاص تنقیدی رویے اور رجحان کی پاسداری کی۔انھوں نے مختلف النوع قسم کے ادبی و علمی مضامین لکھے۔ ان کے یہی مضامین کتابی صورت میں شائع ہوئے ہیں۔ آزاد کے ان تنقیدی مجموعوں کی تعداد چار ہے۔(1)اقبال اور اس کا عہد (2) نشانِ منزل (3) تعمیر فکر (4) فکر و فن۔ پہلی دو کتابیں بہت پہلے ہی شائع ہوئی تھیں جبکہ اخیر کے دو مجموعے ان کی وفات کے ایک سال پہلے یعنی 2003 میں شائع ہوئے۔ یہاں اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ آزاد  کی اقبال شناسی ان کی تنقید سے الگ نہیں۔اقبال شناسی کے ذریعے ہی انھوں نے اپنے تنقیدی افکار کو معروضی انداز میں پیش کیا ہے۔ مذکورہ چار تنقیدی تصانیف کے مطالعے سے آزاد کی ناقدانہ بصیرت و صلاحیت کے ساتھ وسعت مطالعہ اور تحقیقی تجسّس کا اندازہ ہوتا ہے۔نیاز فتح پوری نے’اقبال اور اس کا عہد‘  کے تعلق سے جو بات کہی ہے وہ آج بھی آزادپر صادق آتی ہے،کہ جگن ناتھ آزاد نہ صرف شاعربلکہ نقاد کی حیثیت سے بھی اپنا خاص مقام رکھتے ہیں۔
’اقبال اور اس کا عہد‘ آزاد کے تنقیدی مقالات کا پہلا مجموعہ ہے جو 1960 میں پہلی بار شائع ہوا۔ یہ کتاب ان توسیعی لکچروں کا مجموعہ ہے جو آزاد نے  1955 میں اقبال کی شاعری کے متعلق جموں و کشمیر یونیورسٹی (موجودہ کشمیر یونیورسٹی) کی دعوت پر پیش کیے۔ اس کتاب میں تین مقالے ہیں۔(1)  شعر اقبال کا ہندوستانی پسِ منظر (2) اقبال کے کلام کا صوفیانہ لب و لہجہ (3) اقبال اور اس کا عہد۔مذکورہ بالا تینوں مقالے اقبالیات کے تعلق سے کافی اہم ہیں۔ پہلے مقالے یعنی ’اقبال کی شاعری کا ہندوستانی پس منظر‘ کا مقصد اقبال کی عالمگیریت و آفاقیت ثابت کرنا ہے۔ جس دور میں یہ مضمون لکھا گیا ہے، اُس دور میں اقبال کی ہمہ گیر شخصیت پر پردہ ڈال دیا گیا تھا اور اقبال کو ایک خاص خطے،خاص فرقے کا شاعر قرار دیا جاتا تھا، خاص کر تقسیم ہند کے بعد ہندوستان میں اقبال کی قدر و قیمت کم ہو گئی تھی۔ اس بنا پر آزاد نے وقت کی ضرورت کو سمجھتے ہوئے اس غلط فہمی کو دور کرنے کی با معنی کوشش کی،اور انھوں نے اقبال کی شخصیت کو ایک جلوۂ صد رنگ بلکہ جلوۂ ہزاررنگ کا مرقع بنا کر پیش کیا۔آزاد نے اقبال کونہ صرف پاکستان بلکہ ہندوستان، یہاں تک کہ پوری انسانیت کے شاعر کی حیثیت سے دیکھا ہے۔ اقبال کی شخصیت کے تعلق سے آزادیوں لکھتے ہیں:       
”اقبال کے ملکی نظریات کے متعلق سب سے بڑی غلط فہمی کی بنیاد صرف یہ ہے،کہ اقبال کی شخصیت کا جائزہ لیتے وقت ہمیشہ ہم اپنے خود ساختہ پیمانوں سے کام لیتے ہیں۔ “(  ص15)
آزاد مزید لکھتے ہیں کہ:
”حالانکہ اگر معترضین اقبال کا ذکر اوروں کی زبانی سننے کے عوض خود اقبال کے کلام کی جانب رجوع کرتے تویہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ اس عنصر کی تجلیاں جسے ہم قومی پس منظر کے نام سے منسوب کرتے ہیں۔کلام اقبال کے صفحات پر قدم قدم پر بکھری ہوئی ہیں۔“(ص 15)
اس مقالے میں آزاد نے طرح طرح کی دلیلوں اور مثالوں سے یہ ثابت کیا ہے کہ اقبال کی شاعری میں ہندوستان کی روح اور تہذیب نظرآتی ہے۔ کتاب میں شامل دوسرا مقالہ’اقبال کے کلام کا صوفیانہ لب و لہجہ‘  ہے۔ اس مقالے میں آزادنے خطوط سے طویل اقتباسات اور اشعار نقل کیے ہیں، جو اقبال کے نظریہ تصوف سے متعلق کافی کارآمد ہیں۔ ان اقتباسات اور اشعار سے آزاد نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اقبال تصوف کے خلاف نہیں تھے بلکہ اُس تصوف کے خلاف تھے،جسے انھوں نے غیر اسلامی تصوف سے تعبیر کیا ہے اور غیر اسلامی تصوف سے اقبال کی مراد ترک عمل کا فلسفہ ہے۔ آزاد نے ایک اہم پہلو کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ  1910 سے 1922 تک کے عرصے میں اقبال نے تصوف کے سلسلے میں خاموشی اختیار کی اور 1922 کے بعد جب دوبارہ اس موضوع کی جانب واپس لوٹے تو فلسفہ وحدت الوجود کے زیر اثر کافی کچھ لکھا۔آزاد نے اقبال کے تصوف کے تعلق سے بہت سی باتیں پیش کی ہیں۔ جن سے اقبال کی شاعری میں تصوف کی حقیقت و کیفیت معلوم ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں آزاد نے یوں نشاندہی کی ہے۔
”اقبال نے تصوف میں زندہ و پائندہ عناصر چن چن کر اسلام کو واپس لوٹائے۔اسلامی اور غیر اسلامی تصوف میں واضح لکیر کھینچی اور اسلام اور بنی نوع انسان کی ایک بہت بڑی خدمت انجام دی۔ ورنہ اگر اقبال تصوف کے مخالف ہوتے تو رومی کو اپنا مرشد مانتے؟ شمس تبریزی کے اشعار ’اسرار خودی‘ کے پہلے ورق کی زینت بناتے اور مثنوی کی ابتدا نظیری کے شعر سے کرتے۔“   (ص 72)
’اقبال اور اس کا عہد‘ایک اہم مقالہ ہے جو کتاب کا عنوان بھی ہے اور جس میں آزاد نے مختلف مثالوں کے ذریعے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ اقبال اپنے عہد، اپنے ماحول سے متاثر بھی ہوئے ہیں۔ساتھ ہی اپنے عہد اور ماحول کو بھی بڑی حد تک متاثر کیا ہے۔ انھوں نے اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اقبال نے اپنے عہد اور اپنے پیش روؤں کی اندھی تقلیدنہیں کی بلکہ اپنے لیے ایک نیا جہاں معنی پیدا کیا۔’اقبال اور اس کا عہد‘ آزاد کی اقبال شناسی کے ضمن میں ایک اہم کتاب کا درجہ رکھتی ہے،جس میں آزاد نے مختلف پہلوؤں پر تشفی بخش گفتگو کی ہے۔ یہ مقالے تحقیق و تجسّس سے پُرہیں۔
’نشان منزل‘ آزاد کے تنقیدی مقالات کا دوسرا مجموعہ ہے،جو 1982 میں پہلی بار شائع ہوا۔ اس مجموعے میں چودہ مقالات اور نَو ریڈیائی نشریات شامل ہیں۔ مجموعے کے اہم مقالات میں  حسرت موہانی اور اقبال، ہندوستان کے تہذیبی عناصر اور اردو،  جوش ملیح آبادی کی دو نظمیں،  جوہر لعل نہروکا ادبی مرتبہ،  ترقی پسند شاعری،  فرحت کی رامائن،  جدید اردو شاعری،  ہندوستان میں اردو کا مسئلہ آزادی کے بعد،  عالمی معیار اور اردو، وغیرہ کے علاوہ  ادب اور ادبی تخلیق،  انشا پردازی، فکر و جذبہ وغیرہ ریڈیائی نشریات قابل ذکر ہیں۔
’نشانِ منزل‘ میں شامل مضامین کے تنوع سے آزاد کے وسعت مطالعہ کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس مجموعے میں اقبال کا ذکر کسی حد تک کم ہے۔ مگر کتاب کے نام میں اقبال کی پسند کا ہی دخل ہے اور وہ اس طرح کہ اقبال نے اپنی کتاب ’ضرب کلیم‘ کا نام پہلے ’نشان منزل‘ہی تجویز کیا تھا۔ مجموعے کا پہلا مضمون ’حسرت موہانی اور اقبال‘ ہے، جس میں آزاد نے ان دونوں کے متضاد نظریات اور تصورات مثلاً تصوف، فلسفہ عشق، اور نظریہ اشتراکیت کے متعلق تقابلی جائزہ پیش کیا ہے۔آزاد نے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ اقبال کے یہاں تصوّف کا ایک مکمل اور مثبت اظہارملتا ہے، جبکہ حسرت  کے یہاں فلسفہ تصوّف یا نظریہ تصوف مربوط شکل میں موجود نہیں ہے۔آزاد نے مختلف مثالوں کے ذریعے اس بات کو نمایاں کیا ہے کہ حسرت کے یہاں تصوف روایتی انداز سے آگے نہیں بڑھ سکا۔آزاد نے اقبال اور حسرت کے مابین چند مشترک پہلوؤں کی بھی وضاحت کی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ اقبال کے یہاں اشتراکیت کی لَے خاصی مدھّم رہی،جبکہ حسرت کے یہاں یہ لَے بہت بلند تھی۔عشق اقبال اور حسرت دونوں کے یہاں متحرک اور فعال کیفیت کے طور پر نظر آتا ہے۔ دونوں کے یہاں عشق جذبات میں عمل تطہیر کے لیے ضروری ہے۔ اس مجموعے میں شامل اقبال سے متعلق ایک اور مضمون ’اقبال صرف مسلمانوں کے شاعر؟‘ ہے۔ اس استفہامیہ عنوان کے تحت آزاد نے دو سوالات قائم کیے ہیں۔ایک یہ کہ اقبال کا بنیادی سرچشمہ افکار کیا ہے،اور دوسرا ’اقبال کے مخاطب کون ہیں۔آزاد نے ان سوالوں کے جواب میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اقبال کے سرچشمۂ افکار میں قران و حدیث کے علاوہ قدیم ہندوستانی فلسفہ،مغربی فلسفہ،مارکس، اینگلز کا جدلیاتی نظام فکر بھی شامل ہیں۔ اسی طرح آزاد نے تحقیقی انداز میں اقبال کے اشعار سے یہ ثابت کیا،کہ اقبال کی شاعری کسی ایک خطے یا کسی ایک قوم کے لیے نہیں ہے۔ اقبال کی شاعری مسلمانوں کے لیے ہی نہیں بلکہ پوری عالم انسانیت کے لیے بھی ہے۔ ’غالب اور اقبال‘ کے عنوان سے دوسرے مضمون میں آزاد لکھتے ہیں کہ ہندوستان میں کوئی دو اردو اور فارسی شاعروں میں شاید اتنی مماثلت ہو جتنی غالب اور اقبال میں ہے۔ آزاد مزید لکھتے ہیں کہ غالب جس ادبی،سماجی سلسلے کی پہلی کڑی ہیں، اقبال اس کی دوسری کڑی ہے۔ان دونوں میں قرب زیادہ اور بُعد کم۔
’نشان منزل‘ میں کچھ مقالات اردو زبان سے متعلق بھی ہیں۔آزادکو زبانِ اردو سے بہت عقیدت تھی۔ انھوں نے ہر قدم پر اردو کی شش جہات فروغ اور ترویج و اشاعت کی کوشش کی۔ اردو زبان کے تعلق سے اس کتاب میں تین مزید مضامین: ہندوستانی عناصر اور اردو، ہندوستان میں اردو کا مسئلہ آزادی کے بعد، عالمی معیار اردو شامل ہیں۔ان مقالات کے توسط سے آزاد نے مختلف مثالوں کے ذریعے اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ اردو ہندوستانی تہذیب و تمدن کی زبان ہے، اوراردو کو ہندوستان کی ریت و روایت میں ہر وقت اپنا جائز مقام ملنا چاہیے۔ آزاد کا یہ عقدہ تھا کہ اردو ہندوستان کی زبان ہے، ہندوستان کی تہذیبی و ثقافتی رنگارنگی کی آئینہ دار ہے۔ جس میں ہندو،مسلمان،سکھ سبھی شامل ہیں۔  آزاد نے غیر مسلم شعرا و ادبا کے حوالے سے یہ بات واضح کرنے کی کوشش کی کہ کس طرح ان ادبا و شعرا نے بلا کسی تفریق کے اردو زبان و ادب کو اپنا وسیلہ اظہار و ابلاغ بنا کر اردو کی بنیادوں کو مستحکم کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ آزاد اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ اردو صرف اور صرف مسلمانوں کی زبان ہے۔ اردو کو ہندوستان کی مشترکہ وراثت قرار دینے کے سلسلے میں آزاد لکھتے ہیں:
”اس میں (اردو) ہر مکتبِ فکر اور ہر عقیدہ سما سکتا ہے۔ یہ ہندوستانی معاشرے کی ایک جامع اور مکمل تصویر ہے۔ یہ سرزمین وطن کا ایک ایسا نگار خانہ ہے۔جس میں تہذیب کے لاتعداد پہلو جگمگا رہے ہیں۔ یہ ہمارے ملک کی تاریخ کا ایک تسلسل ہے اور اس تسلسل میں ایک روح جاری و ساری ہے۔ اور وہ ہے، وحدتِ ہند کی روح۔“      (ص29)
آزاد اردو کے تسلسل اور روشن مستقبل کے لیے پُر امید ہیں، اور اردو کے عالمی معیار پر فخر کرتے ہوئے غالب،پریم چند، اقبال، انیس اور دبیرجیسے ادیبوں اور ان کی نگارشات کو عالمی معیار کے ادبی نمونوں کے ہم پلہ قرار دیتے ہیں۔
’ترقی پسند شاعری‘ اور ’جدید اردو شاعری‘ کے عنوان سے دو مضامین ان کے تنقیدی مجموعے ’نشان منزل‘ میں شامل ہیں۔ جن کے مطالعے سے آزاد کی علمی و ادبی استعداد کا اندازہ ہوتا ہے۔ آزاد کے نزدیک ترقی پسند ادب یا ترقی پسند شاعری وہ شاعری نہیں،جو 1936 کی ترقی پسند تحریک کے زیراثر لکھی گئی۔بلکہ ترقی پسند شاعری سے مراد وہ شاعری ہے جس کی داغ بیل ملک کے ایسے انقلاب سے پڑی جس نے نہ صرف پرانے سیاسی اور معاشی نظام کی بنیادیں ہلا ڈالیں بلکہ ایک نئے انداز فکر کا پتہ بھی دیا،اور وہ انقلاب 1857 کی جنگ آزادی ہے۔
یقینی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ 1857 کے بعد اردو شعر و ادب روایتی اور سطحی معاملات سے ہٹ کر نئی عصری حقیقتوں اور وقتی مسائل و تجربوں سے آشنا ہوا۔ آزاد کے نزدیک یہی ترقی پسندی،سرسید، اکبر الہٰ آبادی اور اقبال کے یہاں بھی نمایاں طور پر نظر آرہی ہے۔ مذکورہ مضمون سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ جگن ناتھ آزاد کا ترقی پسند تحریک سے رشتہ کس حد تک تھا۔ آزاد کو ترقی پسند تحریک کا فعال رکن نہیں کہا جا سکتا۔ آزاد کی نثر کے علاوہ شاعری میں بھی ترقی پسند تحریک سے علیحدگی کے جواز نظر آتے ہیں۔ اسی نوعیت کے دوسرے مضمون ’جدید اردو شاعری‘  میں آزاد کم و بیش ایسے ہی تاثرات پیش کرتے ہیں۔جدید اردو شاعری کے تعلق سے یوں لکھتے ہیں:
                     ” بنیادی طور پر نئی شاعری ہر اُس موزوں کلام کو کہا جا سکتا ہے، جس میں وقتی ہنگامی اور عارضی اثر سے ہٹ کر کسی بات کو محسوس کرنے،سوچنے اور بیان کرنے کا نیا انداز موجود ہو۔یعنی کوئی شاعر فرسودہ قسم کے روایتی بندھنوں سے الگ رہ کر کسی احساس، جذبے یا خیال کے اظہار میں اپنی انفرادیت کو نمایاں کرتا ہے،تو وہ نیا شاعر ہے اور اس کی شاعری نئی شاعری ہے اور جس دور میں یہ خوبی بدرجہ اتم موجود ہو وہ یقیناََ شاعری کا نیا دور کہلایا جاسکتا ہے۔“(ص161)
’نشان منزل‘ کے دوسرے مضامین میں بھی آزاد نے اچھی بحث کی ہے۔ ان مضامین میں ’رام لعل کا فن‘، ’فرحت کی رامائن‘، ’خورشید احمد جامی‘، ’امرسنگھ منصور، وغیرہ اہمیت کے حامل ہیں۔ آزاد نے رام لعل کے افسانوں پر بحث کرتے ہوئے انھیں پریم چند اسکول کی افسانہ نگاری اور جدید افسانہ نگاری کے درمیان رابطے کی کڑی قرار دیا ہے۔ ’جواہر لعل نہرو کا ادبی مرتبہ‘  میں آزاد نے نہرو کی ادبی حیثیت ان کے وصیت نامہ اور دیگر کتابوں کے حوالے سے گفتگو کی ہے۔ ’نشان منزل‘ کے مضامین میں آزاد نے مختلف النوع پہلوؤں پر بحث کی ہے۔ کتاب کے دوسرے حصّے میں نشریات شامل ہیں۔ یہ تمام نشریات ریڈیو کشمیرسرینگر اور جموں ریڈیو سے وقتاََ فوقتاََ نشر ہوئے ہیں، جو ادبی و علمی اہمیت و افادیت کے حامل ہیں۔ مجموعی طور پر ’نشان منزل‘ آزاد کی تنقیدی صلاحیت و ادب شناسی کا ایک عمدہ نمونہ ہے۔
’نشان منزل‘ کے بعد بہت عرصے تک تنقیدی شعبے میں آزاد کی کوئی کتاب نہیں آئی۔ حالانکہ اقبالیات پر ان کی کتابیں برابر شائع ہوتی رہیں۔ تنقیدی مقالات پر مبنی آزاد کی دو کتابیں 2003 میں شائع ہوئیں۔ایک  ’تعمیر فکر‘ اور دوسری ’فکر و فن‘۔’تعمیر فکر‘ میں شامل مضامین چار حصوں پر مشتمل ہیں، پہلا حصہ اقبالیات، دوسرا حصّہ تنقید و تحقیق، تیسرا حصہ کچھ شاعری کچھ نثر،چوتھا حصّہ اردو کے تعلق سے ہے۔ اس کتاب میں انھوں نے اقبال سے متعلق اپنی تنقیدی مہارت کے نمونے پیش کیے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ دوسرے ادبی و علمی امور پر بھی اپنی آرا و محسوسات سے ہمیں نوازاہے۔ خاص کر ابھرتے قلم کاروں کے تئیں مثبت اور پُر امید رائے ظاہر کی ہے۔
’تعمیر فکر‘ میں اقبال پر لکھے چند مضامین کے علاوہ اقبال سے متعلق دوسری کتابوں پر تبصرے بھی شامل ہیں۔ اس حصے کا پہلا مقالہ ’اقبال کی غزل کا ابتدائی دور‘ ہے۔ یہ مقالہ کافی حد تک تحقیقی نوعیت کا ہے۔ اس مضمون میں اقبال کی اردو غزل زیر بحث آئی ہے۔ اور اس تعلق سے بات ’بانگ درا‘ سے شروع ہوتی ہے۔ اقبال کے اردو کے پہلے مجموعہئ کلام’بانگ درا‘ کو زمانی اعتبار سے تین حصّوں میں تقسیم کیا ہے، لیکن آزاد اس تقسیم سے مطمئن نظر نہیں آتے۔ آزاد لکھتے ہیں:
”حالانکہ اقبال نے اپنے کلام کی جو تقسیم کی تھی،وہ محض تاریخ وار تقسیم تھی، اور پھر اسے تین حصّوں میں تقسیم کرتے وقت اقبال نے اپنے سارے کلام کو پیش نظر نہیں رکھا تھا۔ جس پر ایک نظر ڈالے بغیر ان کے شاعرانہ ارتقاء کا مطالعہ ممکن نہیں۔ مثلاً 1901 سے پہلے کا کلام خواہ وہ نظم ہے خواہ غزل، اقبال نے بڑی حد تک نظر انداز کر دیا۔      
(ص15)
اس مضمون میں آزاد نے نہایت ہی باریک بینی اور محققانہ انداز میں اقبال کے ابتدائی دور کی غزلوں کا ارتقائی محاکمہ کر کے اقبال کی غزلوں کو تین حصوں کے برعکس چار حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ آزاد لکھتے ہیں کہ جس طرح غزل کے پہلے دور کے خاتمے سے قبل اقبال کے دوسرے دور کی غزل شروع ہوتی ہے، اسی طرح دوسرے دور کے خاتمے سے پہلے تیسرے دور کی غزل شروع ہو گئی۔ آزاد کے نزدیک اقبال کی غزل کا تیسرا دور  1907-8 تک جاری رہتاہے۔ اس تیسرے دور کے آتے آتے اقبال داغ کے اثرات سے آزاد ہو چکے تھے۔ بقول آزاد اقبال کی غزل کا چوتھا دور اس غزل سے شروع ہوتا ہے     ؎
نالہ ہے بلبل شوریدہ تیرا خام ابھی
اپنے سینے میں اسے اور ذرا تھام ابھی
اقبال کے تعلق سے اس حصّے کے دوسرے مضامین اور تبصرے بھی خاصی اہمیت کے حامل ہیں،جن سے آزاد کی اقبال شناسی اور مطالعات اقبال کا اندازہ ہوتا ہے۔
زیر نظر کتاب کے دوسرے حصے یعنی ’تنقید و تحقیق‘ کے تحت آزاد نے حالی، مولانا آزاد، مجروح، جمیل مظہری، خلیق انجم، کشمیری لال ذاکروغیرہ کی شخصیت اور فن کے مختلف پہلوؤں پر بڑے سلیقے سے اظہار خیال کیا ہے۔ مجروح کی غزل سے متعلق مقالہ بے حد اہم ہے،جس میں آزاد نے مجروح سلطانپوری کی غزل گوئی کا محاسبہ پیش کرکے مجروح کو ایک نمایاں اور ہمہ گیر شاعر قرار دیا ہے۔ بقول آزاد مجروح کی غزل میں تاثیر کی ہمہ گیریت ہے۔ ان کی غزل میں ہیئت اور موضوع آپس میں ہم آہنگ ہوگئے ہیں۔ اور ان کی غزل،غزل کے آداب سے عبارت ہے۔ زیر نظر کتاب کے تیسرے حصے ’کچھ شاعری کچھ نثر‘ میں شامل مضامین،تبصروں پر مبنی ہیں۔ آزاد نے دوستوں و احباب سے موصول شدہ کتابوں پر تبصرہ کر کے ان کے معائب و محاسن کی نشاندہی کراکے انھیں ادبی حلقوں سے روشناس کیا ہے۔ بہر حال ان تبصروں میں آزاد کا جذبہئ خلوص شامل ہے۔
’فکر و فن‘ آزاد کی تنقیدو تحقیق کے زمرے میں آنے والی ایک اور قابل قدر اور لائق مطالعہ کتاب ہے۔ دلچسپ ادبی مقالات اور تبصروں پر مبنی یہ کتاب 2003 میں شائع ہوئی۔ اس کتاب میں آزاد کا خاص محور اقبال ہی رہا ہے اور شروع کے سات مقالات اقبال سے متعلق ہیں۔ پہلے مقالے کا عنوان ’اقبال اور عطیہ فیضی‘ ہے، جس میں آزاد نے جگہ جگہ پر مختلف خطوط کے اقتباسات نقل کیے ہیں۔اپنے موضوع کے حوالے سے یہ مقالہ بڑا اہم ہے۔ جس میں اقبال اور عطیہ فیضی کے درمیان وابستگی اور قربت اور ملاقات و رسم و راہ سے متعلق کافی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔اقبالیات کے تعلق سے دوسرا مقالہ ’1905تک اقبال کی بعض نظمیں اور متروک اشعار‘ ہے۔ جیسا کہ عنوان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس میں آزاد نے اقبال کے ایسے کلام کا ذکر کیا ہے،جو اقبال نے اپنے کلام سے نکال دیا ہے۔اس نوعیت کے مضامین کی بدولت اقبال کے تنقیدی ذہن کا اندازہ ہوتا ہے۔
غالب کے تعلق سے مضمون ’غالب نظرے خوش گزرے‘ میں آزاد نے غالب کی شاعری کے محاسن گِنائے ہیں، اور غالب کو اعلیٰ فکر اور موثر جذبے کا شاعر قرار دیا ہے۔ فراق گورکھپوری کے تعلق سے مضمون  ’کچھ فراق کے بارے میں‘ میں آزاد نے فراق اور ان کی شاعری پر بھرپور گفتگو کی ہے۔آزاد نے فراق کے تعلق سے دو متضاد گروہوں کا محاسبہ کیا ہے۔ ایک طرف وہ قاری ہیں جو فراق کو اچھا تو کیا معمولی شاعر ماننے کو بھی تیار نہیں،اور دوسری طرف ان کے وہ مدّاح ہیں،جو انھیں غالب اور میر کے پائے کا شاعر قرار دیتے ہیں۔ آزاد نے پہلے گروہ کے لوگوں کو یہ کہہ کر نظر اندازکیا ہے، کہ دنیا میں ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں،جو اقبال اور غالب کو بھی شاعر تسلیم نہیں کرتے۔دوسرے طبقے نے فراق کی اہمیت تسلیم کی تو اس کے پیچھے صحیح معنوں میں فراق کی دانشورانہ فہم تھی جس کی بنا پر ان کا قد دوسرے شعرا سے ممتاز دکھائی دیتا ہے۔ آزاد نے فراق سے اپنے گہرے مراسم کا ذکر کرتے ہوئے کئی یادگار واقعات نقل کیے ہیں،جن سے فراق کی شخصی انفرادیت کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔ آزاد نے بیباکی کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ فراق اپنی تشہیر کے سلسلے میں دوسروں سے کہیں زیادہ فعال اور سرگرم تھے۔ آزاد کو فراق کی فنکاری اور پختہ شاعر ہونے کا اعتراف تھا لیکن وہ تنقید کا حق ادا کرنے میں بھی ہمیشہ محتاط رہا کرتے تھے۔فراق کے ساتھ آزاد نے اپنے دیگر ہمعصروں مثلاًسردار جعفری اور کیفی اعظمی کی شاعری پر بھی قلم اٹھایا اوربہت حد تک تنقید کا حق ادا کر دیا۔ اپنے ہمعصروں پر اظہار خیال کی گنجائش لوگ کم ہی نکال پاتے ہیں،لیکن آزاد نے چھ سات دہائیوں قبل ہی اس روایت کو مسترد کرنے کی کامیاب کوشش کی تھی اور کئی ہمعصروں پر اہم مضامین قلمبند کیے تھے۔ آزاد نے مختلف کتابوں پر اپنے تبصراتی مضامین کے ذریعے بھی اپنے تنقیدی موقف کو بڑے سلیقے سے واضح کر دیا ہے، جن میں ایک طرف کتابوں کی خوبیاں ظاہر ہوتی ہیں تو دوسری طرف ان کی خامیوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔تبصراتی نوعیت کے مضامین میں آزاد نے معمر ادیبوں کے ساتھ نئے قلم کاروں کی بھی حوصلہ افزائی کی ہے۔مجموعی طور پر اس کے ذریعے آزاد کی ادب فہمی کا ایک بہتر تاثر سامنے آتا ہے۔
جگن ناتھ آزاد کے مختلف تنقیدی مضامین ایک دانشور شاعر کے متحرک ذہن کی ترجمانی کرتے ہیں۔ ادب کے تئیں ان کا ایک سنجیدہ اور واضح مطمح نظر ہے جس کی پاسداری وہ اپنے مضامین میں کامیابی سے کرتے ہیں۔ وہ ایک سلجھے ہوئے نقاد کے طور پر ہمارے سامنے آتے ہیں جن کے تنقیدی افکار میں کوئی بُعد اور پے چیدگی نہیں ہے۔بلا شبہ ان کی بنیادی شناخت ایک تخلیق کار کی ہے،لیکن تنقید اور تحقیق سے والہانہ وابستگی انھیں ایک بالغ نظر فن کار کی صف میں شامل کر دیتی ہے۔


Rayies Ahmad Ginai
Research Scholar, Dept of Urdu
Aligarh Muslim University
Aligar - 202001 (UP)



ماہنامہ اردو دنیا، فروری 2020

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں