اردو غزل میں پیکر تراشی مضمون نگار: شہپر رسول


اردو غزل میں پیکر تراشی

شہپر رسول
غزل ایک ایسی منفرد صنفِ سخن ہے جو اپنے روزافزوں موضوعات اور بنیادی رمزیاتی اسلوب کے باوصف ہر دور میں اور ہر بہترین شاعر کے رنگ سخن میں نت نئی حسن کاری کے ساتھ جلوہ سامانی کرتی رہی ہے۔ اظہار و اسلوب اور ترسیل و ابلاغ کی متعدد نزاکتوں اور لطافتوں سے اس کا دامن لبریز رہا ہے۔ غزل کے تعلق سے اب تک کتنے ہی منفرد، محترم، خوش نما اور خوش آئند اسالیب ادب کے پیش نامے پر اپنے انمٹ نقوش ثبت کرچکے ہیں۔ حقیقت ہے کہ غزل کا طلسم تخلیقی ندرتوں اور ذوق و وجدان کی وسعتوں کو آج بھی اپنے دائرہ اثر میں لیے ہوئے ہے۔ اس کی طویل اور مسلسل تاریخ کا کوئی زمانہ لافانی شعری کارناموں سے خالی نہیں رہا۔ اس صنف سخن کی وساطت سے جو شعری سرمایہ آج اردو ادب کو میسر ہے وہ یقینا دنیائے شعر کا گراں مایہ ترین سرمایہ ہے۔ 
اردو غزل نے کلاسیکی شعراسے گفتگو کی، نوکلاسیکی شعراسے آنکھیں چار کیں، ترقی پسندوں سے مورچہ لیا، جدید شاعری میں روح پھونکی اور آج کی نئی شاعری کے منظرنامے پر بھی غالب نظر آتی ہے۔ بقول اختر انصاری:
’’غزل کی جلوہ سامانی اور جمالیاتی بوالعجبی پر سر دھننے اور واہ واہ کرنے کی روایت کلاسیکی، نوکلاسیکی، ترقی پسنداور یہاں تک کہ جدید شعر کے یہاں بھی دیرینہ آب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔ غزل کے نقادوں، مبصروں، مورخوں اور مجموعۂ ہائے غزل کے مقدمہ نگاروں کے قلم سے غزل کی شستگی، روانی، بے ساختہ پن، جوش بیان، ندرت خیال، سوز و گداز، مضمون آفرینی، محاورات کی برجستگی اور بندشوں کی چستی کا تذکرہ ہمیشہ سامنے آتا رہا ہے۔‘‘
واقعہ مگر یہ ہے کہ غزل کے حقیقی معنی اور جمالیاتی پس منظر و پیش منظر، دراصل اس میں نظر آنے والے کائنات کے گوناگوں مسائل و مراحل نیز اس کے وسیع و عمیق ایمائی نظام سے عبارت ہیں۔
غزل کے فکری اور ایمائی نظام کی تفہیم کے لیے اس کو ایک لسانی اکائی کی صورت میں سامنے رکھنا ہوگا تبھی اس کے مطالب و مفاہم نیز جملہ اوصاف و اسرار تک رسائی ممکن ہوسکے گی۔ کسی شعری فنی تخلیق کے دو پہلو ہوتے ہیں۔ ایک فکری یا داخلی اور دوسرا لسانی یا اظہاری پہلو۔ دونوں یکساں اہمیت اور باہم لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ غزل کی معنی آفرینی اور بطور خاص اُس کے اظہاری پہلو کی حسن کاری اور تخلیقی توانائی کا رمز، علامت، استعارے اور امیج کے فنکارانہ استعمال میں مضمر ہوتا ہے۔ علامت اور استعارے میں چونکہ خود امیج بننے کی صلاحیت ہوتی ہے اس لیے امیج کو ان سے آگے کی منزل تصورکیا جاتا ہے۔
اردو ادب میں امیج کو پیکر اور امیج سازی کو پیکرتراشی کی اصطلاحوں کے ذریعے پیش کیا جاتا ہے۔ پیکر کو ہم ایک ایسی لسانی تصویر کہہ سکتے ہیں جس کے ذریعے شاعر نہ صرف اپنے نازک، نادر اور نایاب شعری تجربات کا اظہار کرتا ہے بلکہ ان کو نکھارنے، سنوارنے اور روشن کرنے کا کام بھی کرتا ہے۔ پیکر ایک ایسا الہامی نزول ہے جس کا زیادہ تر حصہ لاشعوری ہوتا ہے اور وہ اس وقت ورود کرتا ہے جب شاعر کے جذبات بام عروج پر ہوتے ہیں۔ یہ ورود بنیادی طور پر شاعر کے جمالیاتی تجربوں سے متعلق ہوتا ہے۔ یعنی پیکرشاعر کے تصورات اور اس کے تخیل کی رہگزاروں سے متعلق ہوسکتا ہے، اشیا اور ان کے اوصاف سے متعلق ہوسکتا ہے۔ علاوہ ازیں ان چیزوں اور واقعات سے متعلق بھی ہوسکتا ہے جن سے وہ گزرا ہو، جو اس کی یادداشت میں محفوظ ہوں یا اس کو یاد بھی نہ ہوں۔ یعنی شاعر کے پیدا و پنہاں جمالیاتی تخلیقی اور مادی وغیر مادّی تجربوں کا عطر پیکر کہلاتا ہے۔
ہم کہہ سکتے ہیں کہ پیکر شاعری کا وہ طاقتور لسانی عنصر یا اثر آفریں صورت اظہار ہے جو شاعر کے مافی الضمیر کو سامع و قاری کے ذہن پر پوری طرح منکشف کردیتا ہے اور جس سے تصور و خیال کی چلتی پھرتی تصویریں آنکھوں کے سامنے آجاتی ہیں۔ شاعر کا نصب العین اپنے اندرون کا اظہار ہوتا ہے اس لیے پیکر کو شاعر کی شخصیت کا آئینہ بھی کہا جاسکتا ہے۔
تخلیق کار بسا اوقات اپنی باطنی کیفیات کا اظہار براہِ راست نہ کرکے کائنات کی بعض اشیا اور ماحول سے ان کی مناسبت و مماثلت پیدا کرتا ہے، نفس مضمون کو روشن کرتا ہے اور معنوی جہات میں اضافہ کرتا ہے۔ اس طرح اس کے مافی الضمیر کی بالواسطہ ترسیل ہوتی ہے اور یہ عمل تخلیق کار کی مخصوص پیکر تراشی کہلاتا ہے۔
یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ پیکرتراشی انسانی ذہن کا بنیادی وصف ہے اس لیے ہر تخلیق میں پیکروں کا ہونا ایک فطری سی بات ہے۔ کسی بھی فن پارے کی ساخت اور اس کی مجازی، تخلیقی اور جمالیاتی زبان کی ماہیت کا اندازہ کرکے یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ اس میں پیکروں کی نوعیت کیا ہے اور پیکرتراشی کا عمل کس پیمانے پر ہوا ہے یعنی اس کا انحصار تخلیقی زبان کے مخصوص اورذہانت سے بھرپور مجازی استعمال پر ہے۔ چند مثالیں اشعار کے حوالے سے ملاحظہ کیجیے:
میر تقی میر کہتے ہیں :
منھ تکا ہی کرے ہے جس تس کا
حیرتی ہے یہ آئینہ کس کا
مرزا غالب نے فرمایا: 
دل تا جگر کہ ساحل دریائے خوں ہے اب
اس رہ گزر میں جلوۂ گل آگے گرد تھا
مومن کا شعر ہے:
ہوتا ہے آہ صبح سے داغ اور شعلہ رو
کیسا چراغ تھا یہ کبھی گل نہ ہوسکا
حسرت موہانی کہتے ہیں:
ہے وہ اک لالہ زار ناکامی
دل نے کھائے ہیں بس کہ داغ پہ داغ
فراق یوں گویا ہوتے ہیں:
تمتمائی ہوئی جبین بشر
مطلع روزگار ہے اے دوست
ان اشعار میں آئینے کا حیرتی ہوجانا اور جس تس کا منہ تکنا، دل سے جگر تک خون کے دریا کے ساحل کا پھیل جانا، داغ کا چراغ کے مانند شعلہ زن ہونا، داغ پہ داغ کھانے کے سبب دل کا لالہ زار ناکامی بن جانا اور جبین بشر کی تمتماہٹ کا مطلع روزگار کو آئینہ دکھانا وغیرہ ذہانت سے بھرپور ایسا تصویری اظہار ہے جس کے ذریعے زندگی کے گوناگوں تجربات انسانی ذہن پر مرتسم ہوجاتے ہیں مگر بات یہیں ختم نہیں ہوتی کیونکہ پیکرتراشی کا جادو صرف کسی منظرنامے کی تشکیل تک ہی محدود نہیں ہوتا بلکہ زبان کے تخلیقی اور مجازی یعنی غیرلغوی استعمال کے ذریعے شعری اظہار کی معنی خیزی میں اضافہ کرنا بھی اس کے دائرے میں آتا ہے۔ مثلاً جب ولی دکنی کہتے ہیں کہ:
اس رات اندھاری میں مت بھول پڑوں تس سوں
ٹک پاؤں کے جھانجھے کی جھنکار سناتی جا
تو ولی کا Pictorial Expression شعر کے تمام تر حسن اور معنویت کو آنکھ اور کان کے راستے دل و دماغ کی گہرائیوں میں اتار دیتا ہے۔ اسی طرح جب غالب گویا ہوتے ہیں کہ:
چپک رہا ہے بدن پر لہو سے پیراہن
ہماری جیب کو اب حاجت رفو کیا ہے
تو شعر اپنے معنی خیز تصویری اظہار کے سبب ہمارے حواس پر چھا جاتا ہے۔ دراصل یہی چیزیں شعر میں پیکرتراشی کے رنگ بھرتی ہیں۔ یعنی پیکرتراشی چھوٹے پیمانے پر وہی کام کرتی ہے جو بڑے پیمانے پر شاعری کرتی ہے۔ شاعر دنیا کی بے ترتیبی سے دوچار ہوکر اپنی شاعری کے تناظر میں ایک باترتیب ردعمل پیش کرتا ہے نیز شاعرانہ پیکرتراشی یا تو بے ترتیبی میں اضافہ کرتی ہے یا ترتیب کے احساس کو گہرا کرتی ہے۔
پیکرتراشی کا تصور گو مغرب کی دین سہی لیکن مشرقی شاعری بطور خاص غزل میں کلاسیکی دور سے لے کر آج تک پیکرتراشی کے استعمال کو نہ صرف دیکھا جاسکتا ہے بلکہ باضابطہ انداز میں پرکھا بھی جاسکتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ میر، غالب، انیس، اقبال، اور فراق کے استثنا کے ساتھ کلاسیکی اور نوکلاسیکی شعرا کی بہ نسبت ترقی پسند، جدید اور آج کے تازہ کار شعرا کے یہاں پیکرتراشی کے رنگ متنوع اور گہرے ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
کلاسیکی اور نوکلاسیکی شعراجذبے پر تعقل کو، لاشعور پر شعور کو اور تخلیقی وفور پر فنی دروبست کو فوقیت دیتے ہیں، اعتدال اور ہم آہنگی کو پسند کرتے ہیں اور دھندلکے اور ابہام کی کیفیت کے مقابلے میں ترسیل، سادگی اور اصول وقواعد کے فنی داؤ پیچ کو شعری کائنات تصور کرتے ہیں چنانچہ ان کی غزل میں در آنے والے پیکر اکثر تشبیہی شفافیت لیے ہوئے ہیں لیکن کہیں کہیں استعاراتی گہرائی کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔ یہ شعرا پیکرتراشی کے عمل میں عام طور پر قوت باصرہ پر انحصار کرتے ہیں۔ دیگر حواس کو متحرک کرنے کا رجحان ان کے یہاں خال خال ہی نظر آتا ہے۔
غزل کے احیائی شعرا میں حسرت موہانی کی غزل میں محبوب کا پیرہن رنگینی کا مظہر بھی ہے اور اس سے خوشبو کی لہریں بھی اٹھتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں:
اللہ رے جسم یار کی خوبی کہ خود بہ خود
رنگینیوں میں ڈوب گیا پیرہن تمام
عجب اس کی خوشبو  ہے کیا روح پرور
وہ پوشش جو تھی اس تن نازنیں پر
آج تک جس سے معطر ہے محبت کا مشام 
آہ کیا چیز تھی وہ پیراہن یار کی بو
ان اشعار میں رنگ و بو کی بیک وقت موجودگی محبوب کی پرکشش شخصیت کا نہ صرف ایک معنی خیز اشارہ بن گئی ہے بلکہ اندرونی کیفیات کا رمز بھی اس میں مضمر ہے۔ اسی طرح جگر مرادآبادی کی غزل بصارت کے ذریعے بصیرت کے نہاں خانوں تک پہنچنے کی راہ ضرور دکھاتی ہے:
مہرباں ہم پہ رہی چشم سخن گو اس کی
جب ملی آنکھ نگاہوں نے کچھ ارشاد کیا
محشر میں بات بھی نہ زباں سے نکل سکی
کیا جھک کے اس نگاہ نے سمجھا دیا مجھے
چشم سخن گو کا مہرباں ہونا، نگاہوں کا کچھ ارشاد کرنا اور جھکی ہوئی نگاہ کے ذریعے محبت کی ترسیل ہوجانا ایسا شعری اظہار ہے جس سے محبوب کی شخصیت مختلف انداز و ادا کی محاکاتی نقاشی کے سبب مکمل طور پر سامنے آجاتی ہے۔ یہاں نہ کوئی حکیمانہ فلسفہ طرازی ہے، نہ تخییل کی بلند پروازی، لیکن حسی تصویروں کی ایسی متحرک نقش گری ضرور ہے جو حسن کی جلوہ سامانیوں اور عشق کی تڑپ کو شاعر کے شعری مزاج کی نفاست، نزاکت اور خلوص کے ساتھ پیش کرتی ہے۔
اردو کی روایتی غزل کے مزاج کو بدلنے اور نئی غزل کی بشارت دینے کے سلسلے میں جن شعرا کے نام لیے جاتے ہیں ان میں یگانہ چنگیزی سرفہرست نظر آتے ہیں۔ ان کی غزل کا لہجہ نرمی اور شستگی کے بجائے سخت گیری اور جارحانہ پن کا ہے:
پیرہن میں کیا سما سکتا حباب جاں بلب
ہستیِ موہوم کا خواب پریشاں دیکھ کر
ہر شام ہوئی صبح کو اک خواب فراموش
دنیا یہی دنیا ہے تو کیا یاد رہے گی
یگانہ کے اشعار میں خواب کا پیکر، زیست کی پریشاں حالی، نظرفریبی، گراں جانی اور ناپائداری کے اظہار کے وسیلے کے طور پر ظاہر ہوا ہے۔ جسم کو پیرہن، روح کو حباب جاں بلب اور ہستیِ موہوم کو خواب پریشاں کی شکل میں دیکھنا، نیز ماضی کا حال کے ہاتھوں خواب فراموش بن جانا ایسا شعری پیرایہ ہے جو جان و جہان سے متعلق شاعر کے تخلیقی تجربات اور ردعمل کو خواب کے معمول سے ظاہر کرتا ہے۔ یہ پیکر یگانہ کی دنیا بیزاری اور عصری اقدار کے غیرتشفی بخش ہونے کا اظہار کرتا ہے۔
فراق رومانی مزاج اور متجسس ذہن کے شاعر ہیں۔ ان کی غزل میں حسن کا خاصا وسیع تصور ملتا ہے۔ مظاہر و مناظر میں تلاش حسن کرنا یا خارجی اشیا کو کسی گہری داخلی معنویت کا مظہر قرار دیتے ہوئے ظاہر و باطن میں ربط و یگانگت پیدا کرکے سماعت و بصارت سے بصیرت کے پراسرار جہانوں تک راہ استوار کرنا ان کی شعری پیکرتراشی کاکمال ہے:
قامت ہے کہ کہسار پہ چڑھتا ہوا دن ہے
جوبن ہے کہ چشمۂ خورشید میں طوفاں
یہ سناٹا ہے مرے پاؤں کی چاپ
فراق اپنی کچھ آہٹ پارہا ہوں
پہلے شعر میں شاعر کے کمال بصارت نے کہسارکی بلندی اور چڑھتے ہوئے دن کی درخشندگی میں محبوب کے قامت کا دیدار کیا ہے اور اس کے جوش جوانی کو خورشید سے ابلتی ہوئی روشنی کے طوفان کے مترادف قرار دے کر اس کے غیرمعمولی سراپے کو تصویر کردیا ہے۔ دوسرے شعر میں سناٹا، آہٹ اور چاپ وہ کلیدی الفاظ ہیں جو شاعر کی جذباتی اور حسی انفرادیت کے نقوش بھی مرتسم کرتے ہیں اور سامع کی حس سماعت کو متحرک کرکے اس کے ذاتی تجربات میں اپنا مقام تلاش کرلیتے ہیں جس سے شعری تجربے اور تفہیم شعر کے مابین تصویری ترسیل کی راہ ہموار ہوتی ہے۔
ترقی پسند شعرا نے اپنے پیش روؤں کی بہ نسبت زیادہ پہلودار اور کثیرالجہات پیکرتراشی کی ہے۔ ان کے یہاں زندگی کی فہم اور بصیرت نسبتاً وسیع تناظر کی حامل ہیں۔ اس لیے زندگی کے پھیلتے اور بڑھتے ہوئے منظرنامے کو انھوں نے اپنے پیکروں کی بنیاد بنایا ہے۔ یوں تو فیض، جذبی، مجاز، اخترانصاری، ساحر، سردار جعفری، مخدوم، جاں نثار اختر، مجروح، اور پرویز شاہدی کے علاوہ بھی بہت سے نام لیے جاسکتے ہیں لیکن غزل کی پیکرتراشی کے حوالے سے فیض، مجروح اور جاں نثار اختر کی شاعری میں شادابی، تنوع اور تازہ کاری کا ایک سلسلہ نظر آتا ہے۔
فیض کی غزل میں شاعرانہ زبان، ان کے جذبات، احساسات اور ارتعاشات ذہنی میں اس طرح حل ہوگئی ہے کہ لفظ سے بننے والے استعارے اور استعارے کے بطن سے نمودار ہونے والی علامت ایک زبردست تصویری تاثر کا اظہار کرتی ہے اور یہی چیز فیض کے مخصوص اور منفر دپیکری اسلوب کو جنم دیتی ہے:
اب بھی اعلان سفر کرتا ہوا مست کوئی
داغ دل کرکے فروزاں سر شام آتا ہے
در قفس پہ اندھیرے کی مہر لگتی ہے
تو فیض دل میں ستارے اُترنے لگتے ہیں
فریب آرزو کی سہل انگاری نہیں جاتی
ہم اپنے دل کی دھڑکن کو تری آواز پا سمجھے
تری امید، ترا انتطار جب سے ہے
نہ شب کو دن سے شکایت نہ دن کو شب سے ہے
دل کے داغوں کو فروزاں کرکے کسی کا سرشام مستانہ وار آنا گویا اعلان سحر کرنا، قفس کی تیرگی میں دل میں ستاروں کا ابھرنا، فریب آرزو میں مبتلا ہوکر اپنے دل کی دھڑکن کو محبوب کے پاؤں کی آواز سمجھنا اور محبوب کے انتظار میں رات اور دن کی سرحدوں کا گم ہوجانا، ایسے تخلیقی، مخملی اسلوب کی تعمیر کرتا ہے جس میں بصری، سماعی، حرکی اور حسی پیکروں کی ایک کہکشاں جگمگا رہی ہے۔ یہ تمام پیکر فیض کی غزل میں معنی کے نئے ابعاد روشن کرتے ہیں اور زبردست تخلیقی قوت کے مظہر ہیں۔
مجروح کی غزل میں کلاسیکی علامتیں اور استعارے نئی معنویت کے ساتھ در آتے ہیں۔ ان کی غزل جمالیاتی رنگ و آہنگ اور سیاسی رمزیت میں شرابور ہوکر عصری صداقت کا پیکر معلوم ہوتی ہے۔ وہ تجربات و مشاہدات کو لفظوں کے حرکی امکانات اور صوتی آہنگ کے ساتھ اس طرح ہمکنار کرتے ہیں کہ ان کے لہجے کی نغمگی اور ان کی شعری پیکر تراشی، ان کے غزلیہ اسلوب کی نمایاں خصوصیت بن جاتی ہے:
میرے شکوۂ غم سے عالم ندامت ہے
اس لب تبسم پر شمع سی فروزاں ہے
ستونِ دار پہ رکھتے چلو سروں کے چراغ
جہاں تلک بھی غموں کی سیاہ رات چلے
مرے عہد میں نہیں ہیں یہ نشانِ سربلندی
یہ رنگے ہوئے عمامے یہ جھکی جھکی کلاہیں
مجروح کا شعری شعور موضوعات کے ساتھ پوری طرح ہم آہنگ معلوم ہوتا ہے۔ ان کے اشعار لہجے کی تازگی اور صوری و معنوی حسن سے اس طور آراستہ ہوگئے ہیں کہ مفاہیم کی چلتی پھرتی تصویریں پردۂ ذہن پر گردش کرنے لگتی ہیں۔
جاں نثار اختر کی غزل، متوازن مزاج، دھیمے دھیمے لہجے، اندر ہی اندر بہنے والے گہرے جذبے اور کلاسیکی غنائی آہنگ والی غزل ہے جس میں روزمرہ کی زبان، استعاروں اور اصطلاحوں کی مدد سے پیکروںکا ایک نظام خلق ہوگیا ہے:

اور تو مجھ کو ملا کیا مری محنت کا صلہ
چند سکے ہیں مرے ہاتھ پہ چھالوں کی طرح
اسی سبب سے ہیں شاید عذاب جتنے ہیں
جھٹک کے پھینک دو آنکھوں سے خواب جتنے ہیں
مرمر کر جینے اور سخت محنت کے بدلے میں حاصل ہونے والے سکّوں کو ہاتھ کے چھالوں سے تعبیر کرنا، اس کرب کا محسوساتی حسی پیکر ابھارتا ہے جو آبلوں کے اندر بھبکنے والے شعلوں کی اضطراب آگیں تمازت سے نمودار ہوتا ہے۔ یہاں شاعر کی تخلیقی بصیرت اس کے گہرے سماجی شعور اور زندگی کے جبر کو مجسم کردیتی ہے۔ دوسرے شعر میں مرتب ہونے والی فضا کے پس منظر میں ایک متحرک پیکر گردش کرتا ہوا صاف دیکھا جاسکتا ہے۔ یہاں بھی ردعمل کی وہ کربناک کیفیت ہے جو شاعر کی فکر کا عرفان کراتی ہے، وہ خواب جو پلکوں سے جھٹک کر پھینکے جاتے ہیں، عذاب ہی کے مترادف ہوتے ہیں۔ چنانچہ مذکورہ شعری تجربات اور اظہاری ندرت کی بنیاد پر یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ ترقی پسند غزل کی پیکر تراشی پیش رو غزل سے خاصی مختلف اور سحرکار ہے۔
جدید شعرا نے اپنے نازک، نادر اور پیچیدہ جمالیاتی تجربوں کے اظہار کے لیے جس منفرد، تازہ کار اور بصیرت افروز پیکریت کی تخلیق کی ہے اس کے پیشِ نظر یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ جدید غزل کا غالب ذریعۂ اظہار پیکرتراشی ہی ہے۔ البتہ یہ الگ بات ہے کہ بہت سے جدید غزل گویوں نے روایتی زبان اور کلیشے سازی کو مسترد کرنے کے ضمن میں غیرتخلیقی الفاظ و تراکیب، گونگی علامتوں اور کھردرے اسلوب کو بھی اپنایا لیکن اچھے اور سچے شعرا کے یہاں یہ صورت حال بہت جلد ختم ہوگئی۔ مثلاً ناصر کاظمی، خلیل الرحمن اعظمی، شکیب جلالی، وزیر آغا، ظفراقبال، حسن نعیم، شاذ تمکنت، ساقی فاروقی، شہزاد احمد، شہریار، بانی، نشتر خانقاہی، ندا فاضلی، زبیررضوی، مظہرامام، بشیربدر، مظفر حنفی، عتیق اللہ اور زیب غوری وغیرہ نے اپنے منفرد اور تخلیقی طریقۂ کار کی بنیاد پر نہایت معنی خیز اور متنوع انداز کی پیکرتراشی کی۔ ان کے یہاں لفظ کے زیادہ سے زیادہ تخلیقی امکانات کو برتنے اور بیشتر حواس کو متحرک کرنے کا رجحان نظر آتا ہے۔ ناصر کاظمی سماعت کی سحرکاری کا کمال یوں دکھاتے ہیں:
ہم نے دیکھے ہیں وہ سناٹے بھی
جب ہر اک سانس صدا ہوتی ہے
سانس لینے کی آواز کا باقاعدہ صدا بن جانا، گہرے سناٹے کی کیفیت کو اجاگر کرتا ہے اور ایک ایسے سماعی پیکر کی تخلیق کرتا ہے جو اداسی اور وحشت کے شعری تخلیقی حسن سے مزین ہے۔
خلیل الرحمن اعظمی محسوسات کی صورت گری اس طرح کرتے ہیں کہ نئے مسائل، نئی پیچیدگیوں اور تہذیبی اقدار کے نئے تصورات کے مرتعش جلوے ذہن و دل پر نقش ہوجاتے ہیں:
عمر بھر مصروف ہیں مرنے کی تیاری میں لوگ
ایک دن کے جشن کا ہوتا ہے کتنا اہتمام
یہاں زندگی کی مصروفیات کو مرنے کی تیاری اور موت کو جشن کہہ کر گہرے طنز کی تعمیر کی گئی ہے، اس شعر میں ظہور پذیر ہونے والا حسّی پیکر موت کی سچائی اور زندگی کے کرب کو مرتسم کردیتا ہے۔
ظفر اقبال نے بھی رنگارنگ اور بامعنی پیکر تراشے ہیں۔ ان کی غزل میں بصری، سماعی، شامی اور لمسی محسوسات و مدرکات کے ذریعے بننے والے مخلوط انداز کے پیکروں میں ایک خاص تخلیقی شان پائی جاتی ہے:
بہم کیسے ہوئے ہیں دیکھنا خواب اور خوشبو
گزرتے موسموں کا آخری تحفہ کھلا ہے
یہاں خواب اور خوشبو کو یکجا کرکے باصرہ اور شامہ کو متحرک کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ یادداشت اور تصور کے امتزاج کی سرور آگیں کیفیت کے ذریعے گزرتے موسم میں کھلنے والے آخری پھول میں کسی کا دیدار کرکے معنی خیز مخلوط پیکر کی تخلیق کی گئی ہے۔
شکیب جلالی کہتے ہیں:
بس ایک رات ٹھہرنا ہے کیا گلہکیجیے
مسافروں کو غنیمت ہے یہ سرائے بہت
شکیب جلالی نے ایک رات کو زندگی اور سرائے کو دنیا کا استعارہ بنا کر عصری زندگی کی تاریک مزاجی، بے مہلتی اور ناپائیداری کو مجسم کردیا ہے۔
شاذ تمکنت ادراک و احساس کی مختلف الجہات کیفیات کو اس طرح ایک دوسرے میں شامل و پیوست کرتے ہیں کہ ان کے اشعار میں پیکر در پیکر کی کیفیت سے پیدا ہونے والی سحرکاری معنی و مفاہیم کے رنگوں کو گہرا کردیتی ہے:
دور تک ایک دھندلکے کا سماں چھایا ہوا
دشت کیا ہے مری آواز کا سناٹا ہے
حسن نعیم فرماتے ہیں:
جو ٹھن گئی تو حسن فصل گل کے آنے تک
وہ قصرناز میں ہم خیمۂ انا میں رہے
حسن نعیم نے فصل گل کے آنے کی شرط لگا کر جذبۂ عشق کے ہمراہ چلنے والی انا اور انا کے دوش بدوش متحرک رہنے والے جذبۂ عشق کو اپنے تخلیقی انداز بیان سے ایک ایسے پرشکوہ اور معنی خیز پیکر میں بدل دیا ہے جو شعری تہہ داری اور حسن کے ساتھ ساتھ شاعر کے طبعی تحفظات اور نفسیاتی کوائف کی پردہ دری بھی کرتا ہے۔
شہریار نے لہجے کے دھیمے پن، الفاظ کی آہستہ مزاجی اور فکر کی گہرائی کے امتزاج اور ارتباط کے ذریعے اپنی مخصوص داخلی تہذیب کو ایک واضح شکل دی ہے اور خواب اور سفر کے بہترین تخلیقی پیکر تراشے ہیں:
تمام خلقِ خدا دیکھ کر یہ حیراں ہے
کہ سارا شہر مرے خواب سے پریشاں ہے
کتنا باقی ہے سفر اہل جنوں کا دیکھو
دشت تو ختم ہوا شہر کا نقشہ دیکھو
ساقی فاروقی نے سماعت کی جادوگری کے ذریعے کیا خوبصورت شعری پیکر روشن کیے ہیں:
یہ خامشی کا زہر نسوں میں اتر نہ جائے
آواز کی شکست گوارہ نہ کر ابھی
اس کے لہجے میں قیامت کی فسوں کاری تھی
لوگ آواز کی لذت میں گرفتار ملے
بانی جب زمین کی لامحدود وسعتوں سے ہم کلام ہونا چاہتے ہیں تو مظاہر و مناظر کی تجرباتی کیفیات کو خوبصورت، رنگین حرکی بصری پیکروں میں پیش کرتے ہیں:
ہم میں منظر سیہ آسمانوں کا ہے
اک عتاب آتے آتے زمانوں کا ہے
نہ دیکھنا تھا شفق کی طرف مگر تتلی
پروں پہ رکھ کے عجب رنگ زار لے آئی
نشتر خانقاہی سماعت کو برانگیختہ کرتے ہیں تو یوں گویا ہوتے ہیں:
تم جو چاہو گے تو پھر سن نہ سکو گے مجھ کو
دور جاتے ہوئے قدموں کی صدا ہوں میں تو
محمد علوی زندگی کے بے حقیقت اور لایعنی ہونے پر طنز کرکے خواب کو ایک خوبصورت پیکر کی شکل دے دیتے ہیں:
خواب میں دیکھ کے خود کو علوی
ایسا لگتا ہے کہ ہاں ہوں میں بھی
زیب غوری کی غزل میں آنکھ اور کان نے روزنِ امکان اور وسیلۂ وجدان کی حیثیت اختیار کرلی:
شمع روشن ہو تو اجڑے ہوئے گھر سے خوف آئے
شمع بجھ جائے تو تاریک خلا سے ڈرنا
موجِ شب گشت چلی گھاٹ کے پتھر بولے
ایک ایسا ہی سمندر مرے اندر بولے
جدید شاعروں نے واقعتا انفرادی طور پر اپنے فکر و فن، تخلیقی اور جمالیاتی تجربوں اور افکار و اقدار کی شعری تجسیم کے لیے مخصوص، منفرد، معنی خیز اور ہمہ جہت انداز کی پیکرتراشی کی ہے۔
آج کے نئے شعرا اپنے پیش روؤں سے خاصے مختلف نظر آتے ہیں۔ ان کی غزل میں نئے پن کے نام پر روایت سے بے تعلقی اور غیرضروری لسانی شکست و ریخت کا شائبہ تک نہیں ہوتا۔ گویا انہوں نے جدید شعرا کے بعض بہکے ہوئے رویوں اور کمزوریوں سے ماورا ہوکر کلاسیکی، ترقی پسند اور جدید شاعری کی خوبیوں پر نظر کی ہے اور فی زمانہ اپنے لیے نئی اور مثبت راہ نکالی ہے۔
نئی غزل میں لفظ کے بیش از بیش تخلیقی امکانات، علامت و استعارے کے نئے ابعاد اور پیکروں کی ہمہ رنگ کہکشاں جھلملاتی ہوئی نظر آتی ہے۔
افتخار عارف، عرفان صدیقی، ثروت حسین، صابر ظفر، سلیم کوثر، اظہارالحق، جمال احسانی، جاوید منظر، منصورہ احمد، شاہدہ حسن، اسعد بدایونی، اظہرعنایتی، فرحت احساس، عالم خورشید، خورشید اکبر، رئیس الدین رئیس، خالد محمود، مہتاب حیدر نقوی، احمد محفوظ، کوثر مظہری اور بہت سے دیگر نئے شعرا جب داخلی اور خارجی آئینوں سے پھوٹتی ہوئی کرنوں کے مربوط اور متحد شعری اظہار کے لیے نو بہ نو استعارات اور ان کے تلازمات کو روبہ عمل کرتے ہیں تو تجربات و تاثرات اس طرح پیکروں کا روپ دھار لیتے ہیں:
کچھ اتنی تیز ہے سرخی کہ دل دھڑکتا ہے
کچھ اور رنگ پسِ رنگ ہے گلابوں پر
راتوں کے سفر میں وہم سا تھا
یہ میں ہوں کہ چاند چل رہا ہے
ازل سے کچھ خرابی ہے کمانوں کی سماعت میں
پرندو! شوخیِ صوت و صدا سے کچھ نہیں ہوتا
یہ عشق ہے کہ ہوس ان دنوں تو پروانے
دیے کی لو کو بڑھا کر دیے پہ گرتے ہیں
چاند بھی خاموش ہے دریا بھی حیرانی میں ہے
عکس کس کا ہے کہ اتنی روشنی پانی میں ہے
نئے شعراکی غزل میں پیکرتراشی کا تخلیقی منظرنامہ پیشرو شعراسے قدرے مختلف ہے۔ چنانچہ اس کو تازگی، توانائی، مانوسیت، موزونیت اور ندرت و انفرادیت کے پیش نظر تمنا کا دوسرا قدم کہہ سکتے ہیں۔
اردو غزل کا تخلیقی سفر رواں دواں ہے۔ غزل میں پیکرتراشی کا مطالعہ ثابت کرتا ہے کہ اردو غزل نے ایک طرف افکار و اقدار کی سطح پر زندگی کو انگیز کیا ہے تو دوسری طرف زبان و اسلوب کے حوالے سے غیر معمولی ندرت و تازگی کا ثبوت دیا ہے۔ علامت نگاری، استعارہ سازی اور پیکرتراشی غزل کے اظہاری پہلو کے نمایاں اوصاف ہیں لیکن پیکرتراشی کو زمانۂ حاضر کی غزل کا غالب وسیلۂ اظہار کہا جاسکتا ہے۔


Dr. Shahpar Rasool
Dept. of Urdu, Jamia Millia Islamia
New Delhi-25
سہ ماہی فکر و تحقیق
 جنوری تا مارچ 2013 





1 تبصرہ: