اقبال سہیل کی غالب شناسی مضمون نگار: محمد الیاس اعظمی





اقبال سہیل کی غالب شناسی
محمد الیاس اعظمی
اقبال احمد خاں سہیل (1884-1955)جیسے شاعر و ادیب مدتوں میں پیدا ہوتے ہیں، وہ بڑے ذہین اور طباع شخص تھے، ان کی ذہانت و ذکاوت ، قادر الکلامی اور برجستہ گوئی کی داد اس دور کے اساطین علم و ادب نے بھی دی ہے (1) اور معاصرین نے بھی (2) وہ وہبی شاعر تھے، فطرت نے انھیں موزوں طبع ہی پیدا کیا تھا، وہ جب اور جس موضوع کو چاہتے شاعری میں ڈھال دیتے۔ ان کے ہم عصروں نے جن میں رشید احمد صدیقی، ڈاکٹر ذاکر حسین، مولانا سید سلیمان ندوی، شاہ معین الدین احمد ندوی، اثر لکھنوی، وغیرہ کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں ان کی شاعرانہ عظمت اور تنقیدی بصیرت کا اعتراف کیا ہے، بالخصوص رشید احمد صدیقی نے ان کے کمالات کا جن لفظوں میں ذکر کیا ہے وہ ہم عصروں کے اعتراف کمال کی ایک خوب صورت مثال ہے۔ (3)
وہ علامہ شبلی کے خاص شاگردوں میں سے تھے، شبلی کے شعرو ادب کی دولت ان کے حصے میں بھی آئی تھی جس پر انھیں بجا طور پر ناز تھا، اپنی متعدد نظموں میں شبلی کا ذکر انھوں نے بڑے والہانہ انداز میں کیا ہے، واقعہ یہ ہے کہ شبلی کی شعری و ادبی روایات کے فروغ میں ان کا نمایاں حصہ ہے۔
اقبال سہیل ایک بالغ نظر نقاد بھی تھے گو ان کا تنقیدی سرمایہ مختصر ہے لیکن کمیت کے بجائے کیفیت اور معنویت پر نظر رکھی جائے تو ان کا ذکر احترام سے کیا جائے گا۔ اصغر گونڈوی کے مجموعۂ کلام ’’نشاط روح ‘‘ پر انھوں نے جو مقدمہ لکھا ہے وہ بقول شاہ معین الدین احمد ندوی ادب العالیہ کا نمونہ ہے (4) زیر نظر مقالے میں محض ان کی غالب شناسی کا ذکر مقصود ہے۔
اقبال سہیل کے ممدوح شعرا میں مرزا غالب کا نام سر فہرست ہے، وہ غالب کی عظمت کے دل سے قائل تھے یہی وجہ ہے کہ اپنی تحریروں میں کسی نہ کسی عنوان سے ان کا ذکر ضرور کرتے تھے۔ غالب کے معاملے میں وہ جذباتی بھی تھے اور ان پر تنقید برداشت نہیں کر سکتے تھے۔
1914 میں وہ طالب علم کی حیثیت سے علی گڑھ پہنچے ۔ اس وقت علی گڑھ کی فضا میں ہر طرف ذوق کا طوطی بول رہا تھا، اقبال سہیل نے ایسی فضا میں غالب کی نو ا سنجیوں کی داد اس بلند آہنگی سے دی کہ  علی گڑھ میں ذوق کے اثرات کا تقریباً خاتمہ ہو گیا، اس کا ذکر رشید احمد صدیقی نے ان الفاظ میں کیا ہے :
’’غالب ،عرفی اور نظیری کے مولانا بڑے مداح تھے،ان کے اور دوسرے اساتذہ کے اتنے اچھے اشعار ہم سب کو سناتے اور ان کی خوبیوں کو اس مبصرانہ اور دلنشیں انداز سے واضح کرتے جیسے شعرو ادب کا ذوق رکھنا بہت بڑی نعمت تھی۔ ظہوری کی نثر اور ذوق کی شاعری پسند نہ تھی، اس زمانے میں ذوق اور غالب کے حلقے قائم ہو گئے تھے جہاں ایک دوسرے کی خوبی پر بڑے شدومد سے بحث ہوا کرتی تھی، مولانا نے وقتاً فوقتاً ذوق پر ایسی کڑی اور کبھی کبھی استہزائی اور تفریحی تنقید کی اور غالب کی شاعرانہ عظمت کا سکہ بٹھایا کہ کالج میں ذوق کا کوئی حمایتی نہ رہا اور جو کبھی تھا وہ منہ چھپاتا پھرتا تھا۔ ‘‘(5)
اقبال سہیل نے مرزا غالب کے شاعرانہ کمالات اور فنکارانہ امتیازات کی تعریف و تحسین اپنے وسیع مطالعے کی بنیاد پر کی تھی اور اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ غالب ایک یگانۂ روزگار شاعر تھے۔ اس کی ایک نفسیاتی وجہ یہ بھی تھی کہ غالب کی طرح انھیں بھی مشکل گوئی میں لطف آتا تھا۔ بالفاظ دیگر دونوں ایک ہی میدان کے شہسوار تھے۔
مشرقی ادبیات کی تاریخ ، عہد بہ عہد ارتقا اور اس کے نشیب و فراز پر اقبال سہیل کی گہری نظر تھی اور وہ شعرو شاعری کے اسلوب و آہنگ پر مشاقانہ دسترس رکھتے تھے۔ افتخار اعظمی نے ایک واقعہ نقل کیا ہے کہ ایک مرتبہ انھوں نے عبد الغنی انصاری ریٹائرڈ انکم ٹیکس افسر بلیا کے یہاں قیام کیا، وہیں خواجہ امیر احمد انصاری پانی پتی جو ذوق کے شیدائی تھے مقیم ہوئے، وہ اپنے ساتھ ذوق کا دیوان بھی لائے تھے، سہیل صاحب نے کہا کہ ’’آزاد نے انتخاب اچھا نہیں کیا۔ ‘‘ خواجہ صاحب نے کہا کہ :
’’آپ کو یہ کہنے کا حق حاصل نہیں ، کیا آپ کے لیے یہ ممکن ہے کہ میں ذوق کی کوئی غزل منتخب کروں اور آپ ابھی اس کا جواب لکھ سکیں۔ ‘‘
سہیل صاحب تیار ہو گئے ، خواجہ امیر احمد نے ذوق کی ایک غزل منتخب کی جس کا مطلع یہ ہے :
الہٰی کس بے گنہ کو مارا سمجھ کے قاتل نے کشتنی ہے
کہ آج کوچے میں اس کے شوربایّ ذنب قتلتنی ہے
اقبال سہیل نے فی البدیہہ یہ غزل کہی :
حریمِ دل میں وہ حسنِ مطلق جو برسرِ جلوہ افگنی ہے
تو محرمانِ وصال کے لب پہ ہٰذہِ ما وعدتنی ہے
نہ کیوں ہو آنکھوں کا جائے ابرو کہ اوجِ فیضِ فروتنی ہے
ہوا تواضع سے جب خمیدہ بڑھی مہ نوکی روشنی ہے
دو روزہ رفعت پہ ناز مت کر کہ بحرِ ہستی کے جز رومد میں
یہ گنبدِ چرخ بھی کسی دن حباب آسا شکستنی ہے
کمال یہ ہے کہ مثلِ گوہر نہ ہو تہِ آب دامنِ تر
رہے ملک بے گنہ فلک پر تو کون سی پاک دامنی ہے
اس واقعے اور اس غزل سے شعرو شاعر پر ان کے کمال دسترس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے (6)
معاصرانہ چشمک سے غالب و ذوق کے مواز نے کا آغاز ہوا ا ور متعدد مضامین لکھے گئے، اقبال سہیل کا خیال تھا کہ غالب سے ذوق کا کوئی مقابلہ نہیں، وہ سعدی اور عرفی کی صف کے شاعر ہیں، وہ غالب کی ندرت بیان اور سلامت مذاق کے بیحد قائل تھے۔ (7)
اصغر کے کلام کو اس لیے پسند کرتے تھے کہ اس میں غالب کے زور بیان اور نکتہ آفرینی کے عناصر پائے جاتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:
’’حقیقت یہ ہے کہ غالب و مومن نے اساتذۂ ایران کے تتبع اور اپنے زور طبیعت سے اردو شاعری میں جو دو نئے باب اضافہ کیے تھے، وہ محض نقش اول تھے۔ جناب اصغر ، حکیم مومن کے سلسلۂ تلامذہ میں ہیں اور غالب کے شیدائیوں میں اور خوش قسمتی سے بادۂ عرفان کے ذوق شناس بھی ہیں اس لیے ان کی شاعری میں حکیم مومن خاں کی بداعتِ اسلوب اور شگفتگی ترکیب اور غائب کا زور بیان اور نکتہ آفرینی شیرو شکر ہو کر ایک نئی صورت میں جلوہ گر ہوئے ہیں۔ ‘‘ (8)
اصغر کے علاوہ حبیب احمد صدیقی، شفیق جون پوری اور دیگر شعرا کے کلام پر انھوں نے جو تنقیدی تبصرے لکھے ہیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے ہاں بھی انھیں غالب کی صدائے بازگشت سنائی دیتی ہے۔
سید احمد بیخود موہانی کے مجموعۂ مضامین ’’گنجینۂ تحقیق ‘ ‘ پر اقبال سہیل نے جو طویل تبصرہ ماہنامہ ’’معارف ‘‘ اعظم گڑھ (نومبر، دسمبر1930) جنوری 1931میں لکھا ہے وہ ان کی تنقیدی بصیرت کا ایک اہم نمونہ ہے۔ اس سے ان کے نظریۂ شعرو شاعری کے ساتھ نظریۂ نقد و انتقاد بھی واضح ہوتا ہے۔ یہ طویل تبصرہ بھی غالباً انھوں نے غالب سے جذباتی لگاؤ ہی کی وجہ سے کیا ہے، ’’گنجینۂ تحقیق‘‘ کے ابتدائی تین مضامین غالب پر ہونے والی تنقیدوں کے جواب میں لکھے گئے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ بیخود موہانی سے جو کسر رہ گئی تھی وہ اقبال سہیل نے اپنے تبصرے میں پوری کر دی ہے، بیخود موہانی نے کلام غالب کے شارحین کی بعض غلط فہمیوں کی نشاندہی اور ان کی تصحیح کی تھی اقبال سہیل نے بھی ان کی ہمنوائی کی ہے بلکہ غالب پر جو تنقیدیں ہوئیں شارحین کلام غالب کو ان کا ذمے دار ٹھہرایا ہے۔ (9)
نیاز فتح پوری کے رسالہ’’ نگار ‘‘ (فروری1928) میں آرگس کے فرضی نام سے غالب پر جو تنقید کی گئی تھی اور جس کا بیخودموہانی نے جواب لکھا ہے (10) اس کی سب سے اہم بحث سرقہ، توارد اور اخذ و استفادہ کی ہے، اس پر تبصرہ کرتے ہوئے اقبال سہیل نے شعرو ادب کے ایسے ایسے نکتے بیان کیے ہیں کہ ان کا مخالف بھی صد آفریں کہنے پر مجبور ہو جائے، طوالت کے خوف سے اس بحث کا محض ایک مختصر ٹکڑا نقل کیا جاتا ہے، اقبال سہیل قرآنی انداز بلاغت کے ذکر کے بعد لکھتے ہیں:
’’حضرت غالب خود ایک وسیع النظر اور بڑے بڑے فضلائے عصر کے صحبت نشیں تھے اور ظن غالب ہے کہ قرآن کریم کے اسی انداز بلاغت سے استفادہ کر کے یہ شعر لکھا ہے اور کمال یہ کہ مضمون جداگانہ ہے :
کون ہوتا ہے حریفِ مئے مردا فگنِ عشق
ہے مکرر لب ساقی پہ صلا میرے بعد
پہلا مصرع بالکل استفہام قرآنی کا ترجمہ ہے اور دوسرے مصرعے میں لفظ مکرر سے وہ کام لیا گیا ہے جو قرآن پاک میں من کے بعد سکتے سے حاصل ہوتا ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ آرگس کی آنکھیں بلاغت قرآنی کے جلوؤں سے منور نہیں ہوئیں ورنہ محض لفظ حریف کی مطابقت اور مردا فگن و مرد آزما کے تشابہ کی بنا پر غالب کو ایک مجہول النسب شعر سے سرقے کا الزام دینے کی زحمت کیوں گوارا کرتے، سیدھے سے سرقۂ قرآن کا الزام لگا دیتے۔ ‘‘ (11)
اقبال سہیل کا خیال تھا کہ سرقے کی بدترین صورت یہ ہے کہ کسی متقدم کا خیال لے کر عبارت کے پردے میں چھپانے کی کوشش کی جائے اور اس سعیِ اخفا میں استاد کے شعر کی اصلی روح فنا ہو جائے، اپنے اس خیال کے ثبوت میں انھوں نے غالب اور امیر مینائی کے اشعار سے مثال پیش کی ہے۔

اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا
لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں
غالب
کیوں نہ مر جائیے اب ان کی اداؤں پہ امیر
قتل کرتے ہیں مگر ہاتھ میں شمشیر نہیں
امیر مینائی
ان دونوں اشعار کا محاکمہ کرتے ہوئے انھوں نے لکھا ہے کہ ’’غالب کے شعر کی جان سادگی کا لفظ تھا وہی یہاں سے غائب ہے، پھر قتل کیے جانے کے بعد مرجانا کون سا کمال ہے۔ ‘‘ (12)
اقبال سہیل نے آرگس کے سرقے کے کئی اور الزامات کی بھی تردید کی ہے مثلاً غالب کے اس شعر:
کیا فرض ہے کہ سب کو ملے ایک سا جواب
آؤ نہ ہم بھی سیر کریں کوہ طور کی
کو عرفی کے شعر کا سرقہ قرار دیا گیا تھا، عرفی کا شعر یہ ہے :
بہ طورِ مانہ گنجد منعِ دیدار
ولے ایں راز با موسیٰ مگوئید
اقبال سہیل کا خیال ہے کہ ’’غالب کا شعر عرفی کے شعر سے با اعتبار معنی کمتر ہے مگر چونکہ عرفی کے مصرع اول کا مفہوم غالب نے ایک شعر میں نہایت خوبی کے ساتھ ادا کر دیا ہے اور زبان اردو رکھی ہے اس لیے معیوب نہیں ہے، اگر بغیر کسی ترقی کے فارسی زبان میں غالب نے ایسا شعر کہا ہوتا تو ضرور سرقہ سمجھا جاتا۔ ‘‘(13)
اقبال سہیل کی پہلی دلیل جس طرح قوی اور مضبوط ہے دوسری اس قدر مضبوط نہیں، بلکہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ تحریر محض غالب کے دفاع میں لکھی گئی ہے اسے درست قرار دینے کے بجائے شیفتگی غالب کا پَر تو قرار دینا زیادہ بہتر ہوگا۔
اس نوع کی بعض اور مثالیں بھی سہیل نے دی ہیں، اخذ و استفادہ کے سلسلے میں انھوں نے جو آخری بحث کی ہے وہ یہ ہے کہ متقدم کے ایک خیال کی مدد سے کوئی دوسرا جداگانہ خیال اس سے مغائر یا متضاد یا مماثل پیدا کیا جائے، اس کی کئی مثالیں انھوں نے غالب، امراؤ القیس، عرفی اور خود اپنے اشعار سے دی ہیں اور آخر میں لکھا ہے کہ :
’’یہ ہرکس و ناکس کے بس کی بات نہیں بلکہ صرف چند باکمالوں کے لیے مخصوص ہے اور وہ بھی مدت کی مشق و ممارست کے بعد حاصل ہوتی ہے اور یہی غالب کا سب سے بڑا کارنامہ ہے۔ ‘‘ (14)
اقبال سہیل غالب کے محض مداح یا ان کی شعری عظمت و بلند پایگی کے سبب محض ان کے قصیدہ خواں نہ تھے بلکہ جہاں انھوں نے غالب کے شاعرانہ کمالات کی تحسین کی وہیں اگر ان کے کلام میں کوئی سقم دیکھا تو اس کا بھی اظہار کیا، غالب کے ایک شعر کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’غالب نے اپنی بلندیِ فطرت اور طبعِ نقاد کے فیض سے ایک بڑی حد تک عصری رجحانات پر غالب آنے کی کوشش کی مگر وہ اس اثر سے اپنا دامن بچا نہ سکے جو تمام فضا پر محیط تھا، غالب کا یہ شعر :
حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں
مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں
اگر کسی مہذب زبان میں ترجمہ کیا جائے تو غالباً یہ بات کسی کے سمجھ میں نہ آ سکے گی کہ انسانی تمدن اس قدر پست بھی ہو سکتا ہے اور دنیا کے کسی حصے میں انسانوں کی ایک ایسی سوسائٹی بھی تھی جس میں نوحہ گری بطور پیشہ اختیار کی جاتی تھی اور امرا کے عشرت کدوں میں رنج و الم کے موقع پر مصنوعی اظہار غم کے لیے ان پیشہ ور نوحہ گروں کی خدمات حاصل کی جاتی تھیں۔ ‘‘ (15)
اقبال سہیل نے غالب کی ہمنوائی میں شیخ ابراہیم ذوق پر طنز و تعریض کی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ وہ غالب کے مقابلے میں ان کو پسند نہیں کرتے تھے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ انھوں نے شیخ صاحب کی خوبیوں کے اعتراف میں کمی نہیں کی، یہ ان کی تنقیدی بصیرت کا ایک نمایاں پہلو ہے۔ سرقہ استفادہ اور توارد کی طویل بحث میں انھوں نے غالب کی برتری جس طرح ثابت کی ہے کون خیال کر سکتا ہے اس میں وہ ذوق کی تحسین سے گریز نہیں کریں گے، وہ لکھتے ہیں:
’’مثلاً یہ خیال کہ مصائب حیات سے گھبرا کر کبھی کبھی انسان خود کشی پر آمادہ ہو جاتا ہے مگر دنیا کے تلخ تجربے اور عالم آخرت کے متعلق انسان کی بے خبری و ہ اسباب ہیں جن کی بنا پر حیات دنیاوی سے رہائی کی کوشش کرتے ہوئے بھی جی ڈرتا ہے ایک عامۃ الورود خیال ہے جس کو شیکسپئر نے ہملیٹ کی زبان سے بہت بلیغ پیرائے میں ادا کیا ہے۔ To be or not to be ذوق و غالب دونوں نے یہ خیال اپنے اپنے رنگ میں ادا کیا ہے اور اتنا بہتر ادا کیا ہے کہ شکسپئر سے بھی نہ ہو سکا۔‘‘ (16)
یہاں یہ خیال ہو سکتا ہے کہ چونکہ غالب کا ذکر مساویانہ ہے اس لیے انھوں نے ذوق کو قبول کر لیا لیکن خواجہ امیر احمد انصاری کا جو واقعہ اوپر آ چکا ہے اس موقعے پر اقبال سہیل نے یہ بھی کہا تھا کہ ’’اگر خواجہ صاحب ذوق کی یہ غزل :
وقت پیری شباب کی باتیں
ایسی ہیں جیسے خواب کی باتیں
منتخب کرتے تو شاید میں قیامت تک جواب نہیں لکھ سکتا تھا۔ ‘‘ (17)
جناب سلام ساگری کے نام ایک خط میں انھوں نے جو ’’اردو ادب ‘‘ علی گڑھ ماہ جون 1956 میں شائع ہوا ہے اس میں مختلف اصناف سخن کے معائب و محاسن کا ذکر کیا ہے ،یہ طویل خط بھی اقبال سہیل کی دقت نظری کا پتہ دیتا ہے اس میں انھوں نے معائب و محاسن کے ذکر میں متعدد شعرا کے کلام پر تنقید کی ہے اس میں ایک جگہ غالب کے بارے میں لکھا ہے کہ ان کی چند غزلیں بھی نقص معنوی سے پاک نہیں ہیں۔(18)
اقبال سہیل نے اپنی متعدد تنقیدی تحریروں میں غالب کے اشعار کی تفہیم و تشریح کی ہے اس مضمون میں متعدد اشعار کا تجزیہ آ چکا ہے جن اشعار کی تشریحات یا فنی خصوصیات کا ذکر نہیں آسکا افادیت کے پیش نظر یہاں ان کو نقل کیا جاتا ہے، اس میں غالب کے وہ اشعار بھی شامل ہیں جو اقبال سہیل نے محض استدلال کے طور پر پیش کیے ہیں :
بھرم کھل جائے ظالم تیری قامت کی درازی کا

اگر اس طرۂّ پر پیچ و خم کا پیچ و خم نکلے
مقصد ہے ناز و غمزہ ولے گفتگو میں کام

چلتا نہیں ہے دشنہ و خنجر کہے بغیر
ہر چند ہو مشاہدۂ حق کی گفتگو

بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر
ہے خبر گرم ان کے آنے کی

آج ہی گھر میں بوریا نہ ہوا
اک خوں چکاں کفن میں کروڑوں بناوٹیں

پڑتی ہے آنکھ تیرے شہیدوں پہ حور کی
ان کے دیکھے سے جو آجاتی ہے منہ پر رونق

وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے
ہائے واں بھی شورِ محشر نے نہ دم لینے دیا

لے گیا تھا گور میں ذوق تن آسانی مجھے
ہم کہاں کے دانا تھے کس ہنر میں یکتا تھے

بے سبب ہوا غالب دشمن آسماں اپنا
بساط عمر میں تھا ایک دل، یک قطرہ خوںوہ بھی

سو رہتا ہے بہ اندازِ چیکدن سر نگوں وہ بھی
اپنی گلی میں دفن نہ کر مجھ کو بعدِ قتل

میرے پتے سے غیر کو کیوں تیرا گھر ملے
پہلے آتی تھی حالِ دل پہ ہنسی

اب کسی بات پر نہیں آتی
اعتبارِ عشق کی خانہ خرابی دیکھنا

غیر نے کی آہ! لیکن وہ خفا مجھ پر ہوا
دور چشم بد تِری بزم طرب سے واہ وا

نغمہ بن جاتا ہے گر نالہ مراواں جائے ہے
نالہ جز حسنِ طلب اے ستم ایجاد نہیں

بے تقاضائے جفا شکوۂ بیداد نہیں
نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا

ڈبویا مجھ کو ہونے نے، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
سادگی پہ اس کی مرجانے کی حسرت دل میں ہے

بس نہیں چلتا کہ پھر خنجر کفِ قاتل میں ہے
حریفِ مطلبِ مشکل نہیں جنونِ نیاز

دعا قبول ہو یارب کہ عمرِ خضر دراز
نظر لگے نہ کہیں اس کے دست و بازو کو

یہ لوگ کیوں مرے زخم جگر کو دیکھتے ہیں
زخم سلوانے سے مجھ پر چارہ جوئی کا ہے طعن

غیر سمجھا ہے کہ لذت زخمِ سوزن میں نہیں
ترے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا

کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
گدا سمجھ کہ وہ چپ تھا مری جو شامت آئے

اٹھا اور اٹھ کے قدم میں نے پاسباں کے لیے
اقبال سہیل کی غالب شناسی کا سب سے اہم پہلو غالب اور ذوق کے سہرے پر ان کا اظہار خیال ہے۔ ہماری ادبی تاریخ میں مولوی محمد حسین آزاد اور ان کی کتاب ’’آب حیات‘‘ کو جو اہم مقام حاصل ہے اس سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ’’آب حیات‘‘ کے مصنف نے بعض ایسے مفروضے قائم کر دیے جو مسلمہ حقیقت تصور کر لیے گئے ، اسی طرح انھوں نے مرزا غالب کے ساتھ جو رویہ روا رکھا، اہل علم اس سے واقف ہیں۔ اب ان حقائق سے بعض نقادوں نے اختلاف کر کے نئے گوشوں کی نشاندہی کی ہے۔ غالب و ذوق کے سہروں کے سلسلے میں اقبال سہیل کی یہ رائے کہ ذوق کا سہرا سرقے کی بدترین مثال ہے اسی سلسلۂ تحقیقات کا حصہ تسلیم کیے جانے کے لائق ہے۔
بہادر شاہ ظفر کے ولی عہد شہزاداہ جواں بخت کی شادی کے موقع پر غالب نے سہرا لکھا اور بادشاہ کی خدمت میں پیش کیا، شیخ ابراہیم ذوق دربار میں تشریف لائے تو بادشاہ نے وہ سہرا دکھایا اور ان سے بھی سہرا لکھنے کی فرمائش کی چنانچہ ذوق نے اسی وقت قلم دوات منگا کر سہرا لکھ دیا اور وہ سہرا دربار شاہی سے نکل کر عوام تک پہنچ گیا اور غالب کے سہرے سے برتر تسلیم کیا گیا۔
غالب اور ذوق کی معاصرانہ چشمک سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا۔ (19) غالب نے سہرا لکھا تو انھوں نے چوٹ کی :
ہم سخن فہم ہیں غالب کے طرفدار نہیں
دیکھیں اس سہرے سے کہہ دے کوئی بہتر سہرا
ذوق نے بھی اپنے سہرے میں جوابی چوٹ کی :
جس کو دعویٰ ہو سخن کا یہ سنا دے اس کو
دیکھ اس طرح سے کہتے ہیں سخنور سہرا
غالب کی چوٹ شاگرد ذوق بہادر شاہ ظفر کو بھی ناگوار گزری چنانچہ غالب نے معذرت کی :
کیا کم ہے یہ شرف کہ ظفر کا غلام ہوں
مانا کہ جاہ و منصب و ثروت نہیں مجھے
استاذ شہ سے ہو مجھے پر خاش کا خیال
یہ تاب یہ مجال یہ طاقت نہیں مجھے
جام جہاں نما ہے شہنشاہ کا ضمیر
سو گند اور گواہ کی حاجت نہیں مجھے
مقطع میں آپڑی ہے سخن گستر انہ بات
مقصود اس سے قطعِ محبت نہیں مجھے
صادق ہوں اپنے قول میں غالب خدا گواہ
کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے
اس معذرت نامے سے ذوق کے سہرے کو اور تقویت پہنچی اور گویا یہ تسلیم کر لیا گیا کہ ذوق کا سہرا غالب کے سہرے سے برتر ہے۔ اقبال سہیل غالب کے پہلے ایسے شیدائی ہیں جنھوں نے اس خیال کو رد کیا اور لکھا کہ سرقۂ مذموم، تکرارِ معیوب، اور ایہام ناروا کی بہترین مثال ذوق کا یہ سہرا ہے (20) انھوں نے اپنے قول کی تائید میں مثالیں بھی دی ہیں جن میں کچھ یہاں نقل کی جاتی ہیں :
خوش ہوا ے بخت کہ ہے آج ترے سر سہرا
باندھ شہزادے جواں بخت کے سر پر سہرا
غالب
اے جواں بخت مبارک ترے سر پر سہرا
آج ہے یمن و سعادت کا ترے سر سہرا
ذوق
اقبال سہیل نے ان اشعار کا محاکمہ اس طرح کیا ہے ’’ حضرت غالب خود بخت کو مبارک باد دیتے ہیں کہ اسے شہزادہ جواں بخت کے سر پر سہرا باندھنے کا شرف نصیب ہوا، پھر نوشہ کے نام سے پہلے تعظیماً لفظ شہزادہ کا اضافہ ہے اور خود نام ایسی خوبی سے آیا ہے کہ صفت معلوم ہوتا ہے، برعکس اس کے ذوق نے ایک تو خالی نام باندھا ہے، ثانیاً بجائے بخت و اقبال کو مبارک باد دینے کے خود دولہا کو مبارک باد دے کر تخئیل شعر کو بدر جہا پست کر دیا اور دوسرے مصرعے میں ’’آج ‘‘ کی تخصیص نے شعر کو مدح کے بجائے ذم بنا دیا گویا آج سے پہلے نوشاہ کو یمن و سعادت سے کوئی واسطہ نہ تھا، محض سہرے کے طفیل میں آج یہ دن دیکھنا نصیب ہوا۔ ‘‘ (21)
اقبال سہیل کا ایک اور تجزیہ ملاحظہ ہو :
سات دریا کے فراہم کیے ہوں گے موتی
تب بنا ہوگا اس انداز کا گز بھر سہرا
غالب
اک گہر بھی نہیں صد کانِ گہر میں چھوڑا
تیرا بنوایا ہے لے لے کے جو گوہر سہرا
ذوق
اس شعر کا تجزیہ قدرے طویل ہے تاہم تفہیم بحث کے لیے اس کا نقل کرنا ناگزیر ہے، وہ لکھتے ہیں:
’’غالب کے شعر میں الفاظ زیر خط قابل توجہ ہیں، موتی عموماً مختلف الاشکال، مختلف اللون اور مختلف القامت ہوتے ہیں، اس لیے ایک قد اور ایک خاص انداز کے بڑے بڑے شفاف، ہموار، سڈول اور قیمتی موتیوں کا چھانٹنا اور وہ بھی گز بھر لمبے سہرے کے لیے بہت دشوار ہے، غالب کا خیال ہے کہ غالباً ساری دنیا کے موتی فراہم کیے گئے ہوں گے تب کہیں جاکر اتنے موتیوں کا انتخاب ہو سکا ہوگا۔ انتہائی مبالغے کے باوجود غالب کا شعر عین فطرت کے مطابق ہے، جس کی صداقت کا امکان ہے۔ علاوہ بریں غالب ’’بنا ہوگا ‘‘ کہتا ہے جو محض ظن و تخمین ہے، ذوق کی طرح ’’بنوایا ہے ‘‘ کہہ کر بیان واقعہ نہیں کرتا لہٰذا غالب کے شعر میں کوئی امر عقلاً مستبعد نہیں ہے، اب حضرت ذوق کا جوابی شعر دیکھیے اولاً کوئی مصرع تعقید سے خالی نہیں ہے اور مصرع ثانی میں اجتماع تعقیدین نے شعر کو غارت کر دیا، ثانیاً با اعتبار مفہوم اس شعر کی نثر یہ ہوگی۔
جواہر ات لیتے گئے ہیں اور تیرا سہرا بناتے گئے ہیں، ایک گوہر بھی نہیں چھوڑا، اسی طرح جواہرات کی سوکانیں بالکل خالی کر دی ہیں۔
شعر سے کچھ پتہ نہیں چلتا کہ کتنا بڑا سہرا ہے۔ مزید برآں جواہرات میں کسی خاص انداز یا خاص حیثیت کی تخصیص نہیں ہے بلکہ بقول ذوق ایک بھی چھوٹا نہیں ہے، سب کے سب خواہ کسی رنگ، کسی قد، کسی وزن، کسی شکل، اور کسی حیثیت کے ہوں بلا امتیاز سہرے میں گوندھ دیے گئے ہیں، سبحان اللہ یہ سہرا کا ہے کو ہوگا بجائے خود ایک پہاڑ ہوگا، تعجب ہے کہ نوشہ نے اس کو سنبھالا کیونکر۔ اس سے زیادہ بے معنی اور مکروہ مثال کیا ہو سکتی ہے کہ ذوق نے غالب کا شعر سامنے رکھ کر سرقے کی کوشش کی مگر ناکام رہے۔
غالب نے سات دریا کہے تھے جناب ذوق نے ’’صد کان گہر ‘‘ کہا، سات کا جواب سو دیا، پھر بھی کمی رہ گئی۔ سات دریا یعنی ساتوں سمندروں کے بعد پھر کوئی سمندر دنیا میں باقی نہیں بچتا لیکن صدکان گہر کہنے کے بعد بھی ہزاروں معادن باقی رہتے ہیں۔ ‘‘ (22)
اقبال سہیل کے تجزیے کا ایک نمونہ ملاحظہ فرمائیں، ذوق کے سہرے کے مندرجۂ ذیل شعر پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
تابنی اور بنے میں رہے اخلاص بہم
گوندھیے سورۂ اخلاص کو پڑھ کر سہرا
اس پورے شعر کی بنیاد لفظ اخلاص کا وہ مجازی مفہوم ہے، جو عموماً بمعنی صدق و محبت اردو زبان میں مستعمل ہے، لیکن اس شعر کے لکھتے وقت غالباً جناب ذوق نے خود سورۂ اخلاص کے معانی کی طرف توجہ نہیں کی، شادی کے وقت سورۂ اخلاص سے زیادہ بے محل شاید ہی کوئی آیت قرآنی ہو، کیونکہ توالد وتناسل اور زوجیت سب کی نفی ہے، یہ تو ویسا ہی ہوا، کہ بچے کی پیدائش پر ہواللہ المنتقم الممیت القہار کا وظیفہ پڑھا جائے، یا ذبیحہ کے وقت بسم اللہ الرحمن الرحیم اور بچے کے مکتب کے وقت بسم اللہ اللہ اکبر، اگر واقعتاً زوجین میں خلوص و محبت کی تمنا ہے تو سورہ نساء کی آیات یا دوسری مناسب محل آیات پڑھنی چاہیے ،سورۂ اخلاص جس میں نفی زوجیت ہے، اور جس کو اخلاص کے اصلی لغوی معنی یعنی پاکی، برأ ت اور قطع تعلق کے اعتبار سے سورۂ اخلاص کہتے ہیں، اس موقع پر پڑھنا بدشگونی نہیں تو اور کیا ہے۔ ‘‘ (23)
بطور نمونہ یہ مثالیں نقل کی گئیں ان کے علاوہ بھی دونوں کے بعض اشعار کا اقبال سہیل نے موازنہ و مقابلہ قدیم مشرقی تنقیدی نقطۂ نظر سے کیا ہے اور یہ نتیجہ نکالا ہے کہ :
’’الغرض کہاں تک عرض کیا جائے، حضرت ذوق کا پورا سہرا غالب کے سہرے کی نقالی کی ایسی ہی سعی کا نام ہے اور جہاں کہیں کوئی نئی بات کہنی چاہی ہے وہاں اس سے بھی زیادہ شدید تر معائب شعری پیدا ہو گئے ہیں۔ ‘‘ (24)
غالب و ذوق کے موازنہ و مقابلہ کے یہ قدیم مباحث اسے دوبارہ زندہ کرنے کی غرض سے نہیں نقل کیے گئے ہیں یہ تو وقت نے ثابت کر دیا کہ غالب کس بلند رتبے کے شاعر تھے یہاں یہ دکھانا مقصود ہے کہ اقبال سہیل کس قدر غالب کے والہ وشیدا تھے اور انھوں نے غالب شناسی میں کس قدر حصہ لیا۔ دبستان شبلی کے ادبا و شعرا میں اقبال سہیل پہلے ایسے شاعر و نقاد ہیں جنھوں نے غالب کے شعری محاسن کو اجاگر کرنے میں اپنی خداداد تنقیدی بصیرت سے کام لے کر ثابت کیا کہ غالب کا ہے انداز بیاں اور—

حواشی :
1۔محمد حسن ، کالج میگزین، جون پور (سہیل نمبر ) ، ص، ب۔ 53
2۔ حیات سہیل مشمولہ کلیات سہیل، مرتبہ : عارف رفیع۔ بمبئی،1988
3۔رشید احمد صدیقی۔ مضامین رشید۔ علی گڑھ
4۔ محمد حسن کالج میگزین ، جون پور، ص۔4
5۔ بحوالہ اقبال سہیل کا فن، ص۔16-17، مرتبہ: ڈاکٹر ضیا الرحمن صدیقی،دہلی2007
6۔ افتخار اعظمی، ذکر سہیل، مشمولہ اردو ادب، علی گڑھ، ص۔65
7۔ افکار سہیل، ص۔118,125، مطبوعہ شبلی کالج اعظم گڑھ،1957
8۔ تبصرہ نشاط روح بحوالہ افکار سہیل ، ص۔132-133
9۔ افکار سہیل، ص۔167
10۔بیخود موہانی۔ گنجینۂ تحقیق ، ص۔93-189، اردو اکادمی، لکھنؤ1979
11۔ افکار سہیل، ص۔171
12۔ ایضاً، ص۔173
13۔ تبصرہ بر گنجینۂ تحقیق مشمولہ افکار سہیل ص۔170
14۔ تبصرہ بر گنجینۂ تحقیق مشمولہ افکار سہیل، ص۔178-179
15۔ افکار سہیل ، ص۔154
16۔ ایضاً، ص۔172
17۔ ذکر سہیل۔ اردو ادب، علی گڑھ ستمبر،1956، ص۔65
18۔ افکار سہیل، ص۔212
19۔ سید صباح الدین عبد الرحمن، غالب مدح و قدح کی روشنی میں حصہ اول، ص۔16، دارالمصنفین اعظم گڑھ، طبع دوم،2005
20۔ تبصرہ بر گنجینۂ تحقیق مشمولہ افکار ، سہیل ، ص۔174
21۔ افکار سہیل، ص۔174
22۔ ایضاً، ص۔174-175
23 ۔ ایضاً، ص۔176
24۔ ایضاً، ص۔174-175
n
 پتہ

محمد الیاس اعظمی
Rahmat Nagar
(Behind Avas Vikas Colony),
Azamgarh-276001, (U. P.)
سہ ماہی ’ فکر و تحقیق‘ اپریل تا جون 2010

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں