جدید اصناف نثر کے منابع و مآخذ مضمون نگار: شاہد اختر





جدید اصناف نثر کے منابع و مآخذ
شاہد اختر

تلخیص
زمانی طور پر قدیم و جدید کے درمیان 1857 کا تاریخی سال خطِ امتیاز کھینچتا ہے۔ اگر ادبی روایت، ارتقا اور تبدیلی کو نظر میں رکھا جائے تو بھی 1857 کے بعد کا ادب کئی معنوں میں جدید نظر آتا ہے۔ 1857کے اثرات نے نثر کے لیے نسبتاً زیادہ فضا ہموار کی۔ اگرچہ فورٹ ولیم کالج اور دہلی کالج پہلے ہی نثر کے میدان میں پیش رفت کرچکے تھے، تاہم نثرکو زیادہ مقبولیت 1857کے بعد حاصل ہوئی۔گویاکہ اس زمانے میںنثر کے لیے حالات سازگار ہوگئے تھے، اس لیے علی گڑھ تحریک نے بہت جلد زور پکڑ لیا اورنظم ونثر کے حوالے سے تبدیلی کے علمبرداروں کوسراہا جانے لگا۔چنانچہ اس دور میں نئی نئی اصناف ادب کی ابتدا ہوئی اور انھیں فروغ حاصل ہوا  جن میں رمزیات، تاریخ، تنقید، علم الکلام، مکتوب نگاری،سفرنامہ، مضمون نگاری،مقالہ نگاری، انشائیہ نگاری، سوانح نگاری وغیرہ اہم ہیں۔ جیسے جیسے وقت بڑھتا گیا ،نثری اصناف کا چلن عام ہوتاگیا اور اردوادب کی مٹی مغربی ہواؤں کے نرم اور روح پرور جھونکوں سے گل و گلزار بن گئی۔ان اصناف کے تحت بہت سی کتابیں تصنیف کی گئیں۔
جدید نثری اصناف کے منابع اور مراجع کی جستجو کے لیے ضروری ہے کہ جہاں 1857کے آس پاس کے ماحول پر نظر رکھی جائے، وہیں اٹھارہویں صدی کے اواخر اور ا نیسویں صدی کے اوائل پر بھی نگاہ کو مرکوزکیاجائے۔ کیونکہ انیسویں صدی کے آغاز میںفورٹ ولیم کالج نے صرف داستانوی سلسلے کو ہی آگے نہیں بڑھایا بلکہ ترجمہ، قواعداورانشاء کی سطح پر بھی کام کیا اور اردونثر کے دائرے کو وسعت بخشنے کے لیے راہ ہموار کی۔ انیسویں صدی کے ربع اول میں دہلی کالج کے قیام نے اردو زبان کو مختلف علوم وفنون سے جوڑا اور اردو نثرکی طرف عوام الناس کو متوجہ کیا۔گویا کہ اس طورپر کہا جاسکتا ہے کہ یہ پوری صدی ہی اردو نثر کی مختلف جدید اصناف کا منبع ہے۔ پیش نظر مقالے میں گہرائی کے ساتھ اردوکی جدید نثر ی اصناف کے مراجع کی تلاش کی گئی ہے۔
کلیدی الفاظ
شعبہ ہائے حیات، سماجی شعور، تہذیبی نقطۂ نظر،تدوین،اصناف،فنون لطیفہ،مکتوب نگاری،سفرنامہ، مضمون نگاری،مقالہ نگاری، انشائیہ نگاری، سوانح نگاری، رمزیات، علم الکلام، صنعتی انقلاب
—————————
ادب کی تاریخ میں اثرات کے لین دین کی حد بندی ایک دشوار اور مشکل مرحلہ ہے، تداخل اور امتزاج کی یہ کیفیت بعض اوقات اس قدر مبہم اور غیرواضح ہوتی ہے کہ ان کے درمیان کوئی حد فاصل نہیں کھینچی جاسکتی۔ ان کے تار آپس میں اس قدر گڑھے ہوئے ہوتے ہیں کہ ان کو سلجھانا بذاتِ خود ناممکن سا ہوجاتا ہے۔ اس پریشانی کے باوجود بھی زبان و ادب میں اثرات کے لین دین کی یہ داستان فنون لطیفہ، رسم و رواج، مذہبی معتقدات و اعمال، تہذیب و تمدن اور کبھی کبھی سیاسی و سماجی افکار کی شکل میں سنی جاسکتی ہے اور اس کی لہریں اس قدر واضح اور موثر ہوتی ہیں کہ ان سے روگردانی اور چشم پوشی نہیں کی جاسکتی۔اردو زبان و ادب کی کہانی مغرب کے تعلق سے کم وبیش کچھ ایسی ہے کہ ان اثرات کی نشاندہی یا تلاش مشکل امر ہے۔ لیکن ہمارے ادب کے ساتھ یہ بڑی خوش قسمتی رہی ہے کہ ہندوستانی تاریخ کے حیرت انگیزالٹ پھیر کو اگر تاریخ اور سیاست کی روشنی میں سائنسی طور پر سمجھا جائے تو اثرات کے لین دین کی یہ پیچیدہ کہانی کسی حدتک آسان ضرور ہوجائے گی اور اس طرح تاریخِ ادب اردو قدیم و جدید کے حل کی پیش رفت میں اور اس کی درجہ بندی میں معاون ثابت ہوگی۔اگرچہ یہ بات بھی اپنی جگہ درست ہے کہ ادب سیاسی تبدیلیوں کا یکسر تابع نہیں ہوتا اور نہ ہی ادبی ارتقاء کی راہیں سیاسی تاریخ کی روشنی میں متعین کی جاسکتی ہیں مگر اتنی بات سچ ہے کہ زمانے کے مزاج اور تبدیلیوں کا اثر ادب پر بہرحال کسی نہ کسی صورت میں ضرور پڑتا ہے۔اسی لیے ادب کو سماج کا آئینہ قرار دیا جاتا ہے۔
اردو زبان و ادب کی تاریخ میں قدیم و جدید کی درجہ بندی کازمانہ 1857 کے آس پاس کاہے۔ آزادی کی یہ پہلی مسلح لڑائی تاریخ ہندوستان کا ایک ایسا اہم موڑ ہے جہاں سے ہندوستان میں حیرت انگیز تبدیلیوں کاایک سلسلہ شروع ہوا۔1857کے واقعے نے ہندوستان کو بڑی حدتک تبدیل کیا۔
پروفیسر احتشام حسین کے الفاظ میں:
’’1857 کے غدر کے بعدسے ہندوستان کی تمدنی عروج و زوال میں بالکل نئی خصوصیتیں پیدا ہوتی رہی ہیں جنھوں نے آج کے ہندوستانی دماغ کی تعمیر کی ہے۔‘‘1؎
گویاکہ 1857 کا تاریخی سال ہندوستانی سماج کے لیے ترقی اور بیداری کا ایک روشن ستارہ بن گیا جس کی تابناکی اور روشنی سے زبان و ادب میں بھی نئی نئی کونپلیں پھوٹنے لگیں، نئے نئے نظریات اور خیالات ادب میں داخل کیے جانے لگے۔اس لیے اس سال بلکہ 1857 کے واقعہ سے متاثر پورے عرصے کو قدیم ادب اور جدید ادب کے مابین حدفاصل کہا گیا۔
اعجاز حسین قدیم و جدید کی حدبندی اور تعین کی دلیل دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
                ’’اگر اس کا فیصلہ طرزِ تحریر پر رکھا جائے تو میرامن فورٹ ولیم کالج سے اپنی پیشوائی کی سند میں ’باغ و بہار‘ پیش کرتے ہیں، اور ان کے رفیق کار ایک جٹھا بنا کر کسی کو آگے نہیں بڑھنے دیتے، اگر تنوع مضامین کو معیار قرار دیا جائے تو یہ بھی سوچنا پڑے گا کہ غدر کے پہلے جو عملی ذخیرہ وجود میں آچکا تھا۔ وہ کس طرح نظرانداز کیا جائے اور ذہن شاید کوئی حل نہ پیش کرسکے۔ اگر ان دونوں شرطوں کو یعنی طرزِ نگارش اور تنوع مضامین کو بیک وقت ایک دوسرے زاویہ نگاہ سے دیکھا جائے تو اس فیصلے میں کافی مدد ملتی ہے یعنی اگر ہم یہ دیکھیں کہ سادگی کے ساتھ عبارت آرائی اور مختلف مضامین کی کثرت و مقبولیت کس زمانہ میں ہوئی اور یہ رویہ کب منتقل ہوا اور اسی زمانے کو سنگ بنیاد بنالیں تو ممکن ہے کسی قرین قیاس قبول نتیجہ پر پہنچ سکیں۔ اس لحاظ سے سرسید اور ان کے رفقا سب سے پہلے ہمارے سامنے آتے ہیں جو تہذیب الاخلاق کی صورت میں ہمیشہ کے لیے ایک خاص کارنامہ چھوڑ گئے ہیں اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ دورِ جدید کے بانی یہی لوگ تھے اور اسی عہد سے اس کی ابتداء ہونی چاہیے۔‘‘ 2؎
ڈاکٹر ابومحمد سحر نے اپنے خیالات کا اظہاران الفاظ میں کیا:
’’یورپی ممالک کی تاریخ میں دورِ جدید کی ابتدا 1475 سے مانی جاتی ہے۔ ہندوستان کی تاریخ میں اس کا آغاز اس کے کم و بیش تین سو (300) برس کے بعد انگریزوں کے اثر و رسوخ کی بدولت ہوا۔ اردو ادب میں قدیم و جدید کی تفریق اسی پس منظر میں رونما ہوئی۔ سب سے پہلے اس کا اثر نثر پر پڑا۔ فورٹ ولیم کالج کلکتہ کے زیرِاہتمام اردو کے بعض مصنّفین نے کہانی کی کتابوں میں سادہ اور سلیس طرزِ تحریر کو جس طرح اپنایا وہ اس کی مثال ہے۔ 1857 کے بعد قدیم و جدید کی تفریق نے نظم و نثر دونوں میں ایک واضح اور ہمہ گیر شکل اختیار کی۔ اردو ادب کو جدید کا جو تصور اس وقت ملا وہ بڑی بنیادی حیثیت رکھتا ہے کیوں کہ بعض دوسرے اثرات کے باوجود جدید اردو ادب کا ارتقا اسی کے عمل اور ردعمل کی داستان ہے۔ اردو ادب کے جدید رجحانات کا کوئی بمعنی خیز مطالعہ اس کو نظرانداز کرکے نہیں کیا جاسکتا۔‘‘ 3؎
یہیںپر تاریخ کے اس اصول کو ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ زبان و ادب میں تبدیلیاں راتوں و رات نہیں ہوجاتیں اور نہ ہی  مختصر عرصے میں قدیم جدیدادب کی شکل اختیار کرلیتا ہے بلکہ نئے اصول و نظریات جب پرانے اصول و نظریات کی کوکھ سے جنم لیتے ہیں تو بتدریج اس عمل میں صدیاں لگ جاتی ہیں اور مختلف سیاسی، سماجی اور تاریخی اسباب اس کو ایک متعین شکل دینے میں اپنے اپنے کردار ادا کرتے ہیں۔ 1857 کے بعد جدید اردو ادب بھی تاریخ اور فطرت کے انہی اصولوں کی روشنی میں اپنا سفر طے کررہا تھا۔ اس میں کچھ ادیب ایسے تھے جو وقت اور حالات کی گردش سے بے نیاز ہوکر اپنا راگ الاپ رہے تھے۔ مگر جو دوراندیش ادیب تھے وہ بدلی ہوئی زندگی اور اس کے بحران کو کسی نہ کسی سطح پر سمجھ رہے تھے اور اب نئے حالات سے سمجھوتہ کرنے کو تیار تھے۔ سرسید، حالی اور آزاد وغیرہ ایسے ہی ادیب تھے جنھوں نے ملک و قوم کی پامال شدہ عظمتوں کا اعتراف کیا اور ادب میں تبدیلیوں کا احساس بھی کیا۔ انھوں نے پرانی زندگی میں نئے نظام تلاش کیے، پُرانے ادب سے بیزاری کا اظہار کیا اور نئے تصورات اور خیالات کا خیرمقدم کیا۔
ایک اقتباس ملاحظہ کیجیے:
’’دنیا میں ایک انقلاب عظیم ہورہا ہے اور ہوتا چلا جاتا ہے آج کل دنیا کا حال اس درخت کا سا نظر آتا ہے جس میں برابر نئی کونپلیں پھوٹ رہی ہیں اور پرانی ٹہنیاں جھڑتی چلی جاتی ہیں اور تناور درخت زمین کی تمام طاقت چوس رہے ہیں اور چھوٹے چھوٹے تمام پودے جو ان کے گرد وپیش ہیں سوکھتے چلے جاتے ہیں۔ پرانی قومیں جگہ خالی کرتی ہیں اور نئی قومیں ان کی جگہ لیتی جاتی ہیں اور یہ کوئی گنگا جمنا کی طغیانی نہیں ہے جو آس پاس کے دیہات دریا برد کرکے رہ جائے گی بلکہ یہ سمندر کی طغیانی ہے جس سے تمام کرہ زمین پر پانی پھرتا نظر آتا ہے… ہر بات کا ایک محل اور ہر کام کا ایک وقت ہوسکتا ہے۔ عشق و عاشقی کی ترنگیں اقبال مندی کے زمانے میں زیبا تھیں۔ اب وہ وقت گیا... عیش و عشرت کی رات گزر گئی اور صبح نمودار ہوئی۔ اب لنگڑے اور بھاگ کا وقت نہیں رہا، اب جو گیے کے الاپ کا وقت ہے۔‘‘ 4؎
دیکھیے اس میں ڈارون کی بہم کی ہوئی معلومات کا کتنا اثر ہے اور دورِ جدید کی تبدیلیوں کا کتنا شدید احساس۔ اس سے اس کی وضاحت ہوتا ہے:
’’ملک ہمارا عنقریب آفرینش جدید کے وجود میں قالب تبدیل کیا چاہتا ہے۔ نئے نئے علوم ہیں نئے نئے فنون ہیں، سب کے حال نئے ہیں، دل کے خیال نئے ہیں۔ عمارتیں نئے نئے نقشے کھینچ رہی ہیں، رستے نئے خاکے ڈال رہے ہیں۔ اس طلسمات کو دیکھ کر عقل حیران ہے۔ مگر اسی عالمِ حیرت میں ایک شاہ راہ پر نظر جاتی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ تہذیب کی سواری شاہانہ چلی آتی ہے۔ ہر شخص ان ویرانہ کو جھاڑ بہار رہا ہے اور جس حال میں ہے اس کی پیشوائی کو دوڑا جاتا ہے۔‘‘ 5؎
ڈپٹی نذیر احمد پرانے ادبی سرمایہ پر طنز کرتے ہوئے رقمطرازہیں:
’’میری مثال اس زمانہ کے شاعر کی سی ہے کہ بے چارہ کوئی مضمون نہیں پاتا جس طرف ذہن کو دوڑاتا ہے دیکھتا ہے کہ وصل و ہجر اور انتظار اورواسوخت اور سراپا اور بہار اور خزاں اور استخفاف مذہب اور بزرگانِ دین کے ساتھ استہزا وغیرہ وغیرہ کوئی خیال نہیں جس میں (بار بار) سیکڑوں ہزاروں نے طبع آزمائی نہیں کی۔ ناچار ہار تھک کر بندش پر قناعت کرتا ہے وہ بھی ہر ایک کو نصیب نہیں۔‘‘ 6؎
سرسید احمد خاں ان سب کے سرگروہ تھے۔ ان کی بابت بھی سن لیجیے:
’’زمانہ اور زمانے کی طبیعت، علوم اور علوم کے نتائج سب تبدیل ہوگئے ہیں۔ ہمارے ہاں کی قدیم کتابیں اور ان کا طرزِ بیان اور ان کے الفاظ مشتملہ ہم کو آزادی اور راستی، اور صفائی اور سادہ پن اور بے تکلفی اور بات کی اصلیت تک پہنچانا ذرا بھی تسلیم نہیں کرتے بلکہ برخلاف اس کے دھوکہ میں پڑنا اور پیچیدہ بات کرنا اور ہر بات کو نون مرچ لگا دینا اور ہر امر کی نسبت غلط اور خلافِ واقعہ الفاظ شامل کردینا اور جھوٹی تعریف کرنا اور زندگی کو غلامی کی حالت میں رکھنا تمام باتیں حال کے زمانہ اور حال کے زمانے کی طبیعت کے مناسب نہیں ہیں۔‘‘ 
ان عبقری شخصیات کے روشن خیال اور روشن امکانات کے سبب اردو ادب میں تخیل آفرینی اور مثالیت پسندی کی جگہ حقیقت پسندی نے لے لی۔ ادب اور زندگی کے تعلق، نیز اس کی افادیت کے شعور نے ایک نیا نقطۂ نظر پیدا کیا جس نے روایتی نقطے کو پس پشت ڈال دیا۔
یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ زمانی طور پر قدیم و جدید کے درمیان 1857 کا تاریخی سال خطِ امتیاز کھینچتا ہے۔ اگر ادبی روایت، ارتقا اور تبدیلی کو نظر میں رکھا جائے تو بھی 1857 کے بعد کا ادب کئی معنوں میں جدید نظر آتا ہے۔ چنانچہ اردو کے اس جدید ادب کی تفہیم کے لیے ضروری ہے کہ ان مختلف سیاسی، تہذیبی، سماجی اور تاریخی حقائق کو پیش نظر رکھا جائے،جن کے اثرات سے اردو زبان و ادب اس قدر متاثر ہوا کہ شاعری اور داستان نویسی کے بجائے ادب مختلف قسم کی جدید اصناف نثر کا مخزن اور ترجمان بن گیا۔
جب اورنگ زیب اس دارِ فانی سے رخصت ہوا تو اپنے ساتھ ساتھ حکومت کا استحکام، اس کی وحدت و سا  لمیت اور عظمت بھی ساتھ لیتا گیا۔ اس کی مرکزیت باقی نہیں رہی۔ ملک مختلف حصوں میں تقسیم ہوگیا اور مرکزی قیادت اس تقسیم کو بچا نہیں پائی۔
مغلیہ حکومت کے زوال کے ساتھ ساتھ ہندوستان کی تہذیبی قدروں کا بھی زوال شروع ہوا۔ خاص طور سے وہ تہذیب جو مغلیہ دورِ حکومت سے وابستہ تھی۔اس جمودو انحطاط کی داستان نہ صرف تہذیب و ادب تک محدود تھی بلکہ مختلف شعبہ ہائے حیات میں اس کی جھلک صاف دکھائی دیتی تھی۔ ایسے ناشائستہ اور پرآشوب حالات میں مذہبی تحریک کی کرن نے مسلمانوں میں تھوڑی سی رمق پیدا کی۔ دراصل شاہ ولی اللہ کی تحریک کا اثرپورے ملک میں تو نہیں تھا، البتہ شمالی ہند میں ضرور اس کے اثرات دکھائی دے رہے تھے۔
اس کی وجہ پروفیسر احتشام حسین نے اس طرح بیان کی ہے کہ ایک ملک ہوکر بھی کوئی یک رنگی سیاسی و معاشی وحدت کی حیثیت نہیں رکھتا اور نہ ہی کوئی منظم اور منضبط وحدت یہاں موجود ہے۔ اس لیے یہاں اثرات بھی یکساں نہیں ہوسکتے۔ ہر جماعت اور طبقہ اپنے اپنے تہذیبی و نفسیاتی شعور اور سماجی رجحان کے مطابق کسی اثر کو قبول کرسکتا ہے اور کسی بات کو رد کرسکتا ہے۔
شاہ ولی اللہ کی تحریک گرچہ بنیادی طور پر ایک مذہبی تحریک تھی مگر اس کے اثرات اتنے دور رس تھے کہ بیک وقت اس تحریک میں کئی قسم کے دھارے آکر مل جاتے ہیں اور اس کی مذہبی حیثیت نہ رہ کر سیاسی، معاشرتی اور ادبی تحریک کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ اگر ادبی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے سب سے پہلے قرآن کا فارسی زبان میں ترجمہ کیا، اس انقلابی قدم کا اثر یہ ہوا کہ ان کے بیٹے شاہ عبدالقادر نے قرآن کو بامحاورہ اردو میں ترجمہ کرکے اسلامی تعلیمات کو گھر گھر پہنچا دیا۔ انھوں نے مسلمانوں کی سلطنت کا زوال معاشرتی نظام کی فرسودگی میں تلاش کیا اور اس فرسودگی کو دور کرنے کے لیے مسلمانوں کے درمیان سے مسلک کے باہمی تنازعات کو ختم کیا اور وحدت الوجود اور وحدت الشہود کو لفظ و معنی کا ہیر پھیر قرار دیا۔
شاہ ولی اللہ نے دین و دنیا اور مذہب و سیاست میں کوئی حدِ فاصل قائم نہیں کی۔ان کا طریقۂ عمل تخریبیت پر استوار نہ تھا بلکہ ان میں جذبۂ تعمیر مضمر تھا۔ ان کے انتقال کے بعد یہ جذبہ ان کے بیٹوں اور شاگردوں میں زندہ رہا۔ شاہ عبدالعزیز نے روایت کی پاسداری کرتے ہوئے فورٹ ولیم کالج میں مسلمانوں کو تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دے کر یقینا ترقی پسندی اور کشادہ ذہنی کا ثبوت دیا۔ اس کے علاوہ انھوں نے سید احمد شہید کی تحریک کے لیے فضا سازگار کی اور لوگوں کو تحریک کا ہمنوا بنانے میں اہم ترین کردار ادا کیا۔
یہاں شاہ ولی اللہ تحریک کا بیان محض اس نکتے کی طرف توجہ مبذول کرانے کے لیے کیا گیا ہے کہ کس طرح انھوں نے مسلم معاشرے کی فلاح و بہبود اور اصلاح کے لیے انقلابی اقدام اٹھائے اور ساتھ ہی فارسی میں قرآن کا ترجمہ کرکے ادب کی ترقی پسندی کی جانب ایک مثبت قدم آگے بڑھایا۔ مذہبی اور سیاسی سطح پر سید احمد شہید کی تحریک کو روحانی غذا اور تربیت اسی تحریک سے حاصل ہوئی تھی۔
سید احمد شہید کی تحریک کے بارے میںاشتیاق حسین قریشی نے لکھا ہے:
’’اس تحریک کی تہہ میں ذاتی امنگیں کارفرما نہیں تھیں اور نہ ہی اسے کوئی ریاست یا حکمراں چلا رہا تھا۔‘‘ 8؎
سچی بات تو یہ ہے کہ یہ خالص عوامی قسم کی تحریک تھی مگر ابن الوقت حاکموں اور غرض مند اربابِ اقتدار نے اس تحریک کے لیے نامساعد حالات پیدا کیے اور اسے سیاسی طور پر ناکام بنانے کے لیے ریشہ دوانیوں سے کام لیا پھر بھی اس تحریک کے اثرات شمالی ہند کے ساتھ ساتھ بہار اور بنگال کی سرحدوں تک ملتے ہیں۔ بنگال میں مولوی شریعت اللہ کی ’فرائض تحریک‘ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی تھی۔ ابھی تک جس سیاسی، سماجی اور تہذیبی پس منظر کا بیان ہوا، اس سے یہ اندازہ لگانا ذرا بھی مشکل نہیں کہ پورا ہندوستانی سماج انحطاطی کیفیت اور تہذیبی بحران کاشکار تھا۔ اس میں کسی مذہب یا عقیدے کی تخصیص نہیں تھی بلکہ ہندو اور مسلم ہر دوفرقے اس بحرانی دور سے گزر رہے تھے۔ ان حالات میں انگریز قوم ہندوستان میں داخل ہوئی،انگریز یہاں ایسٹ انڈیا کمپنی کے تاجر کی حیثیت سے آئے تھے۔ مگر ملک کے حالات نے انھیں ہندوستان کا حاکم بنا دیا۔ مختلف علاقوں میں علاقائی وحدتیں ان کے بڑھتے ہوئے طوفان کو نہ روک سکیں اور جنگ پلاسی کے بعد سیاست کا یہ مطلع صاف ہوگیا۔ اس سیاسی مطلع پر انگریزوں کے اثرات اور ان کی حکومت کے قوس و قزح ابھرنے لگے۔ 1800 میں کلکتے میں فورٹ ولیم کالج کا قیام اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا جہاں نووارد انگریزوں کو ہندوستانی ثقافت اور زبان سے روشناس کرانے اور ہندوستانیوں کے ساتھ ابلاغ و ترسیل کے میڈیم کے لیے اردو اور ہندی زبانوں کے شعبے قائم کیے گئے۔ کالج کو قیام عمل میں لانے کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ مغربی علوم، انگریزی زبان و ادب اور مغربی تمدن و تہذیب سے ہندوستانیوں کو آشنا کراکر حکومت کو استحکام بخشا جائے۔ جہاں اس تحریک سے سیاسی مقاصد بار آور ہورہے تھے، وہیں اردو نثر بھی نئے امکانات و رجحانات سے دوچار ہوئی اور اس طرح سے اردو نثر سلیس اور سہل نگاری کی طرف چل پڑی۔
دلی کالج کے قیام کا مقصد بھی کم و بیش وہی تھا جس کے حصول کے لیے فورٹ ولیم کالج کی بنیاد ڈالی گئی تھی، مگر اس بنیادی فرق کے ساتھ کہ فورٹ ولیم انگریزوں کو ہندوستانی زبان اور معاشرت سے آگاہی مہیا کرانے کا مرکز تھا۔ اس کے برعکس انگریزی تصوارت اور علوم کی تربیت گاہ دلی کالج تھا۔ گویا دلی کالج کا مقصد یہ تھا کہ ہندوستانی عوام کو جدید علوم سے آشنا کیا جائے اور ان کے قدیم اعتقادات اور کہنہ عقیدگی پر جدیدیت کے پر تو چڑھائے جائیں۔اسی مقصد کے حصول کے لیے نصابی کتابوں کی ترتیب و تدوین شروع کی گئی۔ترجمہ، ترتیب و تدوین کا کام Vernacular Translation Societyکی سپردگی میں تھا۔ اس سوسائٹی نے مغربی ادب کے مقابلے میں مغربی علوم سے زیادہ استفادہ کیا جس نے آگے چل کر نووارد انگریزوں اور ہندوستانیوں کے درمیان ذہنی ہم آہنگی قائم کرنے میں اہم رول ادا کیا۔ ’قانونِ محمدی‘، ’وراثت و فوجداری‘، ’علم ہندسہ‘، علم الحساب‘،’تاریخ ہند‘، ’تاریخِ اسلام‘، ’تاریخِ ایران‘، ’تاریخ خاندان مغلیہ‘ جیسی نادر کتابو ںکی اشاعت کی گئی۔ اردو لغت،اردو قواعد، محاورات اردو، چشمہ فیض یا حرف انگریزی زبان میں شائع کی گئی۔ اس کے ساتھ کچھ ادبی کتابوں کی طباعت بھی منظرِ عام پر آئی۔ مثلاً ’کلیلہ و دمنہ‘، ’قصہ چہار درویش‘، ’تذکرہ شعرائے ہند‘، ’جامع الحکایات‘، ’شکنتلا‘، ’سودا، درد، میر اور جرأت کی کلیات وغیرہ کتابیں منظر عام پر آئیں۔ یقینا فورٹ ولیم کالج کے مقابل دلی کالج نے علوم و اصنا ف ادب کی سطح پر زیادہ اہم خدمات انجام دی ہیں۔  یہاں تک کہ انیسویں صدی کے نصف آخر میں جب اردو ادب پروان چڑھنے لگا اور اس میں نئی نئی اصناف کا ارتقا ہوا تو اس عمل میں وہی لوگ پیش پیش تھے جو کسی نہ کسی طور پر دلی کالج سے جڑے ہوئے تھے۔ ماسٹر رام چندر اس کالج سے منسلک تھے جنھیں اردو مضمون نگاری کا بابا آدم کہا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ نکتہ مختلف فیہ ہے کہ آیا اردو کے پہلے مضمون نگار ماسٹر رام چندر تھے یا سرسید؟ مگر ہر دو صورتوں میں یہ سہرا دلی کالج کے سربندھتا ہے۔ ماسٹر رام چندر کے علاوہ اور بھی کئی ارباب قلم دلی کالج سے متعلق تھے۔ اصناف ادب نثر کے ارتقا میں سرسید، نذیر احمد، مولوی ذکاء اللہ، محسن الملک، الطاف حسین حالی، وغیرہ نے نمایاں خدمات انجام دیں۔ لیکن آسانی کے لیے ان کا ذکر علی گڑھ تحریک کے ساتھ کیا جائے گا کیونکہ علی گڑھ تحریک اردو ادب کے لیے اور خاص طور سے نثر کی ترقی کے لیے خاص فعالی تحریک رہی تھی اور اس تحریک کے فعال رضاکار یہی لوگ تھے۔ سرسید اس تحریک کے روح رواں تھے۔
انگریزوں نے فورٹ ولیم کالج میں اردو اور ہندی تنازعے کا جو بیج بویا تھا وہ جھگڑا رفتہ رفتہ اب تہذیبی اور مذہبی حیثیت اختیار کرتا جارہا تھا۔ چنانچہ دو قومی نظریے کی بنیاد اسی عہد میں پڑی، عیسائی مبلغین کی ہندوستانی مذہب پر نکتہ چینی بدستور جاری تھی۔ راجہ رام موہن رائے وغیرہ نے اسے بہت پہلے بھانپ لیا تھا۔ اسی لیے انھوں نے تعقل کی بنیاد پر مذہب کی تفہیم پر زور دیا لیکن مسلمانوں نے غیرمصالحانہ رویہ اختیار کیا اور انگریز دشمنی کو مذہب کا جز بنالیا۔ بہت بعد میں جب سرسید کا زمانہ آیا تو سرسید نے مذہب کی تفہیم کے لیے وہی راہ اختیار کی جن راہوں پر چل کر راجہ رام موہن رائے نے مفاہمت پیدا کی تھی۔
ظاہر ہے کہ مختلف رجحانات کی ترجمانی کسی ایک صنف میں کرنا نسبتاً زیادہ مشکل اور کم اثردار ہوتا ہے۔ اس لیے نئی نئی اصناف کی ضرورت دو چند ہوتی رہتی ہے۔ تعلیم، صحافت اور پریس وغیرہ کے رواج اور ترقی کو اس پس منظر میں دیکھنا چاہیے۔ نثر کا فروغ پانے کی ایک دوسری اہم وجہ یہ بھی تھی کہ اب خطاب افراد کے بجائے جماعت سے تھا۔
ڈاکٹر سیدعبداللہ ادب کے سماجی ترجمان ہونے کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’ان دونوں کا فرق چند دوسری باتوں کے علاوہ اس بات میں ہی ہے کہ سرسید کے یہاں خطاب اجتماع ہے یعنی ادیبوں کی آواز اجتماع کی توسط سے افراد تک پہنچتی ہے۔ پرانے ادب میں خطاب افراد سے تھا اور عام ادیبوں کی آواز یا تو افراد کے گوش تک پہنچ کر ختم ہوجاتی تھی یا پھر افراد کے تعلق سے اجتماع تک پہنچتی تھی۔‘‘ 9؎
غزل چونکہ داخلیت، سوز و درد اور تنہائی کا فن تھی، اس لیے رفتہ رفتہ وہ خود اپنی افادیت کھونے لگی اور اس کی جگہ نظموں کا رواج بڑھنے لگا۔ مقصدی نظموں کے متوازی ہی نثر کا فروغ اور ارتقا فطری طور پر ہونا تھا اور وہ ہوا۔
جب نثر کے لیے حالات سازگار اورفضا موافق ہوئی تو بے شمار کتابیں نثر کی مختلف اصناف میں تصنیف کی گئیں۔ اس دور میں نئی نئی اصناف ادب کی ابتدا ہوئی اور انھیں فروغ حاصل ہوا۔ان میں رمزیات، تاریخ، تنقید، علم الکلام، سوانح عمری، مضمون، انشائیہ وغیرہ اہم ہیں۔ غرض یہ کہ بیشتر اصناف نثر اسی دور کی دین ہیں اور یہ پورا دور مغرب کے اثرات سے کسی نہ کسی سطح پر متاثر ضرور ہے۔
اس عہد میں مغرب کے اثرات جس مقدار میں نثری اصناف پر مرتب ہوئے، شعری اصناف نسبتاً کم متاثر ہوئیں۔ اس کے اسباب مختلف تھے مگر جہاں تک نثر کے متاثر ہونے کا تعلق ہے۔ اس کا تجزیہ کرتے ہوئے کشاف تنقیدی اصطلاحات کا مرتب رقم طراز ہے:
’’اصناف نثر کا معاملہ ذرا مختلف ہے۔ نثر جذبے کی بجائے خیر و فکر کی زبان ہے۔اس لیے مشرق و مغرب کے لوگ جذباتی اور سماجی پس منظر کے اختلاف کے باوجود نثرمیں ایک دوسرے سے وسیع پیمانے پرمتاثر ہوسکتے ہیں۔ چنانچہ جہاں مغرب کی سیاسی اور اقتصادی بالادستی نے مغربی لباس کو بین الاقوامی لباس کا درجہ دیا۔ وہاں مغرب کی اصناف نثرانشائیہ، ناول ناولٹ، افسانہ، خاکہ،اور رپورتاژ بھی بین الاقوامی اصناف کا درجہ اختیار کرگئیں۔‘‘ 10؎
گزشتہ صفحات میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ برصغیر کے سیاسی، سماجی اور ادبی ماحول کس کس طرح رنگ بدلتے رہے۔ جدید اصناف نثر کے لیے فضا کیسے سازگار اور موافق ہوتی رہی اور کس طرح نثر کی مختلف اصناف نے قوس و قزح کے رنگ بکھیرے،لیکن جہاں تک ان جدید اصناف نثر کے ماخذ اور نہج کا سوال ہے تو بغیر مغربی ادب کی تاریخ کے نہاںخانوں میں دراندازی کیے بغیر کسی منطقی اور سائنسی نتیجے تک نہیں پہنچا جاسکتا کیوں کہ اس بات میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہ جاتی کہ جدید اصناف نثر کی اکثر فروعات مغرب سے درآمد کی گئی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کے ابتدائی نقوش ہمارے کلاسیکی ادب میں کسی نہ کسی شکل میں سامنے آتے ہیں۔
دنیا کے کسی بھی ادب کا مطالعہ کرلیجیے۔ ایک امر مسلمہ سب میں مشترکہ یہ ملے گا کہ ہر ادب کی تاریخ میں کئی کئی سنگ ہائے میل ایسے نظر آئیں گے جن پر اس مخصوص زبان و ادب کے سفر کی داستان نقش ہوگی۔ اردو ادب کی تاریخ میں فورٹ ولیم کالج، دہلی کالج، 1857، بڑے بڑے سنگ میل ہیں جن پر اردو زبان و ادب کی تاریخ اور اس کی داستان کندہ ہے۔ عربی زبان و ادب میں بھی جاہلیت، اسلام اور بعد اسلام ایسے ہی سنگ میل ہیں۔ فارسی زبان میں بھی اسلام کا اثرورسوخ بڑھنے لگا، تو اس کے ادب کی داستان میں نئے نئے ابواب کا اضافہ ہوا۔ مطلب یہ ہے کہ جب بھی تاریخ عالم میں بڑے بڑے واقعات رونما ہوتے ہیں اور حالات کروٹ بدلتے ہیں تو ادب کے نظریات، خیالات بھی متاثر ہونے کے ساتھ تبدیل ہوتے ہیں۔ مغربی ادب کا جہاں تک سوال ہے زمانے کے حالات نے اس زبان و ادب کی راہیں متعین کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور جب بھی مادی اور اقتصادی حالات میں نئے نئے امکانات پیدا ہوئے، ان تبدیلیوں کا اثر ادبیات پر بھی مرتب ہوا، وجہ یہ ہے کہ مغربی ادب میں نشاۃ ثانیہ کے بعد زبردست تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ تاریخ یورپ میں دورِ جدید سے مراد پندرہویں صدی و سولہویں صدی ہے۔ اس عہد میں تجارت اور صنعت و حرفت کے میدان میں کافی ترقی ہوئی۔ سائنس کا شعور پختہ تر ہوا۔ ڈاکٹر ابومحمد سحر یورپ میں دورِ جدید کا تعین کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’یورپی ممالک کی تاریخ میں دورِ جدید کی ابتدا 1775 سے مانی جاتی ہے۔‘‘ 11؎
سائنسی ایجادات اور ترقی کے تعلق سے ڈاکٹر سلام سندیلوی اپنے خیالات اس طرح پیش کرتے ہیں:
’’اس دور میں صنعت و حرفت اور تجارت کو کافی ترقی ہوئی چنانچہ کولمبس نے 1492 میں امریکہ کا پتہ لگایا۔ 1498 میں واسکوڈگاما نے ہندوستان کا راستہ دریافت کیا۔ 1519 میں پرتگال کے ملاح مالیگن نے جنوبی امریکہ، جنوبی افریقہ اور مشرق الجزائر کے راستے سے دنیا کا چکر لگایا۔ تقریباً اسی دور میں بندوق اور بارود کی ایجاد ہوئی۔ غرضیکہ مادی نقطۂ نظر سے یورپ نے بہت ترقی کی۔‘‘ 12؎
مذکورہ بالا بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ پورپ نت نئی تبدیلیوں سے دوچارہورہا تھا۔ سائنس اور اس کے کرشمے مغربی باشندوں کو زندگی اور اس کے اسرار و رموز کا راز دار بنا رہے تھے۔ انسان فطرت کی تسخیر کا خواب دیکھ رہا تھا اور نئی نئی دنیائیں تلاش کرکے اپنے اشرف المخلوقات ہونے کا ثبوت دے رہا تھا۔ سائنس کی ترقی کے ساتھ ساتھ صنعتی ترقی بھی یورپ کو نئی حقیقتوں سے واقف کررہی تھی۔ چھاپہ خانہ اسی عہد میں ایجاد ہوا۔ مقناطیسی گھڑی کی ایجاد نے توسابقہ دھارے کو نیا رخ دے دیا۔ گویا اس پورے عہد میں جدوجہد، حرکت و عمل کا دور دورہ تھا۔  اس سائنسی اور صنعتی ماحول نے مذہب، سیاست، معاشرت، تہذیب اور ادب میں نمایاں تبدیلیاں پیدا کیں۔ ادب میں یہ تبدیلی اس طور پر اثرانداز ہوئی کہ ادب رومانس اور تخیل کی دنیا سے نکل کر حقیقت کی زندگی میں اپنے راستے تلاش کرنے لگا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وکٹوریہ عہد آتے آتے انگریزی ادب میں ہیئت، تکنیک، اسلوب، مواد، موضوع اور ذرائع ابلاغ کے بے شمار سوتے پھوٹ پڑے۔
سیاسی اور معاشرتی سطح پر انقلاب فرانس اور صنعتی انقلاب کے اقوام عالم نے طرزِ فکر اور سماجی رویوں میں نمایاں تبدیلی پیدا کی۔ اوّل الذکر کے اثرات سیاسی طور پر اس حد تک واقع ہوئے کہ اس کے نتیجے میں برطانوی سامراج کی بنیادیں ہل گئیں اور مختلف ممالک اپنی سیاسی آزادی کے حصول کے لیے برسرِ پیکار ہوگئے۔ فرانسیسی ادیبوں نے علم و ادب کے میدان میں ایسے تصورات اور خیالات کو وسعت بخشی جن کے اثرات عالمی سطح پر دیکھے جاسکتے ہیں۔ دیگر ممالک کے ادیبوں نے بھی برسرِ اقدار حکمرانوں کی ظلم و زیادتی کے خلاف آواز بلندکی اور لوگوں کو حصول آزادی اپنے اختیارات و حقوق سے روشناس کرایا۔ فرانس کے جن ادیبوں کی تحریروں نے انقلاب فرانس کے لیے فضا سازگار کی اور عوام میں حکمراں طبقے کے خلاف جوش و جذبہ پیدا کیا، ان میں والٹیسر، مانٹشیکو اور روسو کے نام خصوصی طور پر لیے جاسکتے ہیں۔ جب کہ ثانی الذکر صنعتی انقلاب سے سماجی، معاشرتی سطح پر نمایاں تبدیلیاں وقوع پذیر ہوئیں۔ اس کے ذریعے کارخانوں، مشینی آلات کی کھوج اور رفتار سواریوں کی ایجاد نے دنیا کو محدود کردیا۔ پھر سائنس کی نت نئی ایجادات نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں تہلکا مچا دیا۔
تاریخ ادب کے نقطۂ نظر سے یہ بات اہم ہے کہ یورپ کے نشاۃ ثانیہ اور انقلاب فرانس نے پوری مغربی دنیا کے دھارے کو موڑ دیا تھا۔ تاریخ کی یہ ایک ایسی کروٹ تھی جس نے ادب، سماج، تہذیب، معاشرت، رسم و رواج اور سیاست کے مروجہ اور قدیم اقدار کو ہلا کر رکھ دیا اور زندگی کے تمام شعبوں پر اس کے اثرات پر سائنسی گرفت ڈھیلی پڑنے لگی اور اقتدار کا تعین نئے اصول و ضوابط کی روشنی میں وضع کیا جانے لگا۔ ادب میں بھی مختلف اقسام نثر پر وہ غیب سے ظاہر ہونے لگیں۔ اگلے صفحات میں ان جدید اصناف نثر کی جداگانہ مختصر تاریخ سے اندازہ ہوجائے گا کہ یورپ کا یہ صنعتی انقلاب کس حد تک نئی اصنافِ نثر کا مخزن بن گیا تھا۔
انگریزی ادب میں مضمون کی ابتدا Epistle سے ہوتی ہے۔ بیکن اعتراف کرتا ہے کہ اگرچہ اس کا وجود بہت بعدمیں ہوا لیکن مضمون کسی نہ کسی شکل میں پہلے سے موجود رہا ہے۔ Epistle سے ہی مضمون نگاری کی ابتدا تسلیم کرنی چاہیے کیوں کہ وہ خطوط نہیں بلکہ مضامین ہیں۔ پلوٹارک نے بھی اخلاقی مضامین لکھے۔ فرانس سے سفر کرتا ہوا مضمون انگلینڈ میں بیکن کے ذریعہ متعارف ہوا اور ابراہیم کاولے کے مضمون سے جدید مضمون نگاری کی شروعات ہوئی۔ ڈرائیڈن نے تنقیدی مضامین قلم بند کیے۔ اٹھارہویں صدی میں صفحات کے آغاز و ارتقا سے مضمون نگار کی اہمیت و افادیت میں بہترین اضافہ ہوا۔
سفرنامے انسانوں کے نشیب و فراز اور تجربوں کی داستان ہیں۔ یہ انسانی ارتقا اور اس کی تاریخ کی بھی نشاندہی کرتے ہیں۔ قدیم ہندوستان اپنے مال و دولت اور جغرافیائی اہمیت و افادیت کے پیش نظر سیاحوں کا پسندیدہ ملک رہا ہے۔ اس لیے مختلف ادوار میں مختلف ممالک کے سیاح ہندوستان آتے رہے اور اپنی اپنی نگارشات کے ذریعہ ہندوستانی تاریخ، تہذیب، رسم و رواج اور طرزِ زندگی کو جاودانی بخشتے رہے۔ شاہ یوناین سلیوکس (Celucus) کی طرف سے آنے والا پہلا مغربی سیاح میگس تھنیز (Megsthenese) تھا۔ پھر چین سے فاہیان اور ہیون سانگ آئے۔ عرب فطری طور پر تاجر پیشہ قوم تھے۔ پہلا عرب سیاح سلیمان تھا جس کا سفرنامہ ’سلسلۃ التواریخ‘ کے نام سے شائع ہوا۔ بعد کے زمانے میں البیرونی نے بھی اپنی داستان سفر ترتیب دی۔ ابن بطوطہ بھی اسی سلسلہ کا ایک سیاح ہے جو پندرہویں صدی عیسوی میں ہندوستان آیا۔اس طرح سے سفر نامے کی روایت یونانیوں اور عربوں کے ہاتھوں ہندوستان تک آئی۔
خاکے یونانی ادبیات کے زیراثر پروان چڑھے۔ افلاطون اور اس کے شاگردوں کے یہاں خاکے کی ابتدائی جھلکیاں نظر آتی ہیں۔ انگریزی ادب میں خاکے کے اولین نقوش چاسر کی تصنیف Canterburytale میں ملتے ہیں۔ لیکن اور ہاوڈر نے بھی اپنے عہد کے کرداروں کی مرقع کشی خوبصورت انداز میں کی اور اپنے خاکوں کو قومی عظمت اور اہمیت کا حامل بنایا۔ ویسے انگریزی زبان میں کرداروں کا پہلا مجموعہ جوزف ہال نے 1608 میں شائع کرایا۔ سر تھامس اور دوسرے مصنّفوں کا تحریر کردہ خاکہ 1614 میں شائع ہوا۔ان خاکوں میں معاشرتی اور تاریخی پہلوؤں کو اہمیت دی گئی تھی۔ بعد کے زمانے میں ٹیٹلر اور اسپکٹیٹر نے خاکوں کو بہت مقبول بنایا۔ سماجی اصلاح اس عہد کا ایک اہم موضوع تھا۔ ان اخباروں کے لکھنے والوں میں ایڈیشن اور اسٹیل اہم قلم کار تھے۔ ان قلم کاروں کے ساتھ ساتھ گولڈ اسمتھ نے بھی کرداری خاکے پیش کیے۔ جانسن نے شعرا کی مختصر سوانح عمری اور شخصی مرقعوں کے انداز میں خاکے تحریر کیے۔ بیسویں صدی میں لٹن اسٹریچی نے واقفیت اور صداقت کی خصوصیات کے ساتھ خاکے تحریر کیے۔
اگرچہ پتھروں کی سلوں، چمڑوں اور لکڑیوں پر کندہ قدیم ترین تحریریں سوانح نگاری کے اوّلین نقوش قرار دیے جاسکتے ہیں۔ تاہم باضابطہ سوانح عمریاں لکھنے کا سب سے پہلے رواج یہودیوں کے یہاں ملتا ہے۔ اہل روما نے یہودیوں سے یہ فن سیکھا اور دوسری صدی عیسوی میں پلوٹارک نے پہلی سوانح عمری لکھی جو بہترین اور بلند پایہ ادبی دستاویز ہے لیکن سوانح نگاری ایک فن کے طور پر عہد جدید کی ایجاد ہے۔ سوانح عمری کی شکل میں پہلی تصنیف Memoir of Secret ملی ہے جس کا مصنف Xynophon ہے۔ پلوٹارک ٹیٹس اور Sutonjousکی تحریر کردہ سوانح عمریاں صحیح اصول پر ملتی ہیں۔
رپورتاژ فرانسیسی زبان کا لفظ ہے۔ انگریزی زبان میں رپورٹ جن معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ یہ لفظ بھی تقریباً اسی معنی کی نشاندہی کرتا ہے یا مترادف کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ رپورتاژمیںادبی حسن اور معنویت کے اجزا شامل ہوتے ہیں۔ مغربی ادب میں اس کی روایت بہت قدیم نہیں ہے۔ اس کا باقاعدہ آغاز بیسویں صدی کے پہلے پچیس برسوں میں ہوتا ہے۔ فرانسیسی ادیب Duhume کی دو تصانیف La civilization and lavie Demarty جو انھوں نے 1914 کے آس پاس لکھیں۔ John Curry نے 1987 میں The Faber book of Reportage ترتیب دی۔ اس میں کل 296 رپورتاژ شامل کیے گئے۔ جس میں قبل مسیح اور بعد کے زمانے کے رپورتاژ بھی ہیں۔ تقریباً 160 رپورتاژ 1900 کے پہلے کے ہیں۔ اس طرح رپورتاژ کی عمر قدرے لمبی ہوجاتی ہے۔ فرانس ہی سے یہ صنف ادب انگریزی، امریکی اور روسی ادب میں لی گئی۔
مکتوب نگاری کی روایت مختلف زبانوں اور تہذیبوں میں پائی جاتی ہے۔ اس کا رواج زمانہ قدیم میں بھی پایا جاتا تھا۔ عبرانی، لاطینی اور اطالوی زبانوں میں مکتوب نگاری کی روایتیں رہی ہیں مگر انگریزی ادب میں سترہویں صدی کے آس پاس اطالوی ترجموں کی بدولت مکتوب نگاری کی شروعات ہوتی ہے۔ اکثر مصنّفین اور نقاد اس بات پر متفق ہیں کہ مکتوب نگاری کی ابتدا سلطنت روما کے سایہ تلے ہوئی اور روم کی تہذیب کی جھلکیاں سیسرو کے مکاتیب میںعمدہ طور پر پیش کی گئی ہیں۔
انگریزی زبان میں پندرہویں صدی میں مکاتیب لکھنے کا آغاز ہوا۔ نشاۃ ثانیہ کے آغاز میں اس فن کے بہت سے امام موجود تھے۔ سترہویں صدی میں پرانے اطالوی مکاتیب کے ترجمے کیے گئے لیکن اس میں کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔ جیمبر ہال جسے انگلستان میں مکتوب نگاری کا بابا آدم کہا جاتا ہے۔ اسی عہد کا آدمی ہے۔ اس کے خطوط میں کاریگری اور ادبی نفاستیں ملتی ہیں۔ جان سیرنگ ٹین جو ملکہ کے درباریوں میں سے تھا ایک حد تک سادہ اور بے تکلف تھا۔ اس لیے اس کے خطوط میں بلاغت کی چاشنی کم ہے اور زندگی کی گرمی نسبتاًزیادہ ہے۔ اٹھارویں صدی کے ادیب کا نام ولیم کوپر ہے۔ اس زمانے میں دو اور مکتوب نگار ہوئے ہیں۔ ایک مشہور شاعر گرے جس کی زندگی کا بیشتر حصہ کیمبرج یونیورسٹی کی منزلوں میں گزرا اور جس کے کردار کا سب سے نمایاں پہلو اس کی فطری جھجک تھی۔ایک خاتون ہیں میری ارٹلے ماکٹیگ، جنھوں نے اپنی بیٹی کے نام دلچسپ خطوط لکھے ہیں۔ خطوط میں بچو ںکی تربیت کے سلسلے میں قیمتی نکات ملتے ہیں۔ چارلس لیمب کے بعد کیٹس کے خطوط ہیں۔ شیلی اور بائرن کے خطوط ہیں۔ سیاست دانوں، نقادوں اور مذہبی پیشواؤں کے خطوط ہیں۔ لیکن جو دلکشی، ندرت اور نیرنگی کیٹس کے خطو ط میں ہے، وہ ان لوگوں  کے یہاں کم یاب ہے۔
ہندوستان اور مغرب کے تمام سیاسی، سماجی،معاشرتی اور ادبی تاریخ کے پس منظر کو بیان کرنے کا مقصد یہ تھا کہ ان اسباب و وجوہات کی روشنی میں اردو زبان و ادب کی جدید اصناف نثر کی تاریخ، پس منظر، ابتدا، اور ارتقا کا صحیح صحیح تعین کیا جائے اور ان کی ارتقائی رفتار کا سائنسی نتیجہ نکالا جائے۔ ہندوستانی تاریخ و ادب کا دھارا جس رخ پہ بہہ رہا تھا اور مغرب سے آنے والی روشنی سے یہ دھارے عجیب عجیب رنگوں کی جو قوس قزح بنا رہے تھے جدید اصناف کی ابتدا اور ان کا ارتقا ایک فطری عمل معلوم ہوتا ہے کیوں کہ نئی اصناف کے وجود میں آنے کے لیے جو اسباب ممکن ہوسکتے تھے۔ تاریخ اور وقت نے وہ اسباب یکجا کردئیے تھے۔ یہ اصناف تاریخ کی کوکھ سے نکلنے کے لیے کسی ساعت سعید کی راہ دیکھ رہی تھیں کہ 1857کی جنگ آزادی کا نقارہ بجا اور بظاہر ہندوستانیوں کو شکست ہوئی مگر تاریخ ادب اردو میں یہ تاریخی سال کامیابی اور ناکامی کے ملے جلے جذبات کا نشان بن گیا اور دیکھتے دیکھتے ادب کے گلستان میں جدید اصناف نثر کے لالہ و گل اپنی بہار برسانے لگے۔ مکتوب نگاری،سفرنامہ، مضمون نگاری،مقالہ نگاری، انشائیہ نگاری، سوانح نگاری اور دیگر نثری اصناف کا چلن عام ہوگیا اور اردو ادب کی مٹی مغربی ہواؤں کے نرم اور روح پرور جھونکوں سے گل و گلزار بن گئی۔ البتہ یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ مغربی ادب کے زیراثر جو اصناف نثر مروج اور ترقی پذیر ہوتی گئیں کیا اردو کے قدیم ادب میں اس کی کوئی روایت تھی یا نہیں؟ کیا یہ اصناف نثر مکمل طور پر مغرب کی زائیدہ تھیں یا ان کے ابتدائی نقوش اس ادب کے خزانے میں تلاش کیے جاسکتے ہیں۔ کیا ان اصناف نے اپنے ابتدائی نقوش کو یکسر نظرانداز کردیا اور روایتوں کو بہ یک جنبش قلم زد کردیا،یا اگر باقی رکھا توان کو کس حیثیت سے باقی رکھا۔ ان میں تبدیلیوں کی مقدار اور نوعیت کیا تھی؟ ان نکات پر تفصیلی گفتگو کسی اور حوالے سے کی جائے گی۔
حواشی
.1           تنقیدی جائزے: پروفیسر احتشام حسین، ادارہ فروغ اردو، لکھنؤ، ص 45
.2            نئے ادبی رجحانات: اعجاز حسین، کتابستان الہ آباد، ص 217
.3           اردو ادب کے جدید رجحانات: ڈاکٹر ابومحمد سحر، ہم عصر اردو ادب نمبر 1977، ص 45
.4            تنقیدی جائزے: پروفیسر احتشام حسین، ادارہ فروغ اردو،لکھنؤ، ص 71
.5           نیرنگِ خیال حصہ اوّل: محمد حسین آزاد، آزاد بک ڈپو، اکبری منڈی، لاہور
.7           ایضاً، ص 73
.8           اردو ادب پر مغربی اثرات: پروفیسر احتشام حسین-
.9           اردو ادب کی تحریکیں: انور سدید، انجمن ترقی اردو پاکستان کراچی، ص 363
.10         مباحث: سیدعبداللہ، کتب خانہ نذیریہ، مسلم منزل کھاری، باولی دہلی
.11        کشاف تنقیدی اصطلاحات: ابواعجاز حفیظ صدیقی، مقتدرہ قومی زبان، پاکستان ، ص 15
.12         اردو ادب کے جدید رجحانات: ڈاکٹر ابومحمد سحر، ماہنامہ ’شاعر‘ ممبئی، ہم عصر اردو ادب، 1977، ص 48
.13        تجربہ اور تجزیہ: ڈاکٹر سلام سندیلوی، نسیم بک ڈپو، لکھنؤ، ص 13

Dr. Shahid Akhtar Ansari
DSM College Jhajha
Distt: Jamui - 811308 (Bihar)
Mob.: 8802249701
سہ ماہی فکر و تحقیق، اپریل تا جون2020



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں