قیصر شمیم کی شاعری کی مخصوص لفظیات: مشتاق اعظمی




بنگال کی دنیائے شعرو ادب میں قیصر شمیم کا نام محتاجِ تعارف نہیں۔ قیصر شمیم کا شمار بنگال کی ان اعلیٰ ہستیوں میں ہوتا ہے، جن کی بے لوث کوششوں نے اردو زبان و ادب کو اس خطے میں ایک بلند مقام عطا کیا۔ انھیں نہ صرف شاعری میں بلکہ نثری ادب میں بھی ید طولیٰ حاصل ہے۔ انھوں نے اپنے فنی محاسن اور شعری تجربات کے ذریعے بنگال کی اردو شاعری کو ایک نئی راہ پر گامزن کیا۔ انھوں نے انسانی جذبات، احساسات اور کیفیات کی ترجمانی بہت ہی سہج طریقے سے کی ہے۔ ان کی شاعری میں زندگی کے شب و روز اپنے تمام رنگوں کے ساتھ جلوہ گر ہیں۔

قیصر شمیم کی شاعری اُن کی شخصیت اور مزاج کے ساتھ پوری مناسبت رکھتی ہے۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ اگر فنکار خود دار اور صالح اقدار کا پاس دار ہو تو اسے دشوار گزار مراحل طے کرنے پڑتے ہیں۔ اس کا جذبہ خودداری ہمیشہ دوسروں کے سامنے دستِ سوال دراز کرنے میں مانع ہوتا ہے۔ وہ نہ تو اپنی انا کا سودا کرتا ہے اور نہ ہی اسے مجروح ہونے دیتا ہے۔ نتیجتاً اسے ہر قدم پر حسرت ویاس کا سامنا کرنا پڑتا ہے مگر وہ اس وطیرۂ خاص سے دست بردار نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ اس کا ضمیر ہمیشہ اس کے ساتھ رہتا ہے۔ قیصر شمیم کی شاعری میں یہ تاثرات جا بہ جا ملتے ہیں۔ ذیل کے اشعار ان کی خود دارانہ طبیعت کا انعکاس ہیں            ؎

چلوں زمانے کے ہمراہ کس طرح قیصر

ہمیشہ رہتا ہے میرا ضمیر میرے ساتھ

چھینٹے مرے دامن پہ خوشامد کے نہ آئے

رکھا مجھے بے داغ مری بے طلبی نے

بیزار ہوں میں اپنے دل زار سے قیصر

برباد کیا ہے مجھے کمبخت اسی نے

قیصر شمیم ایک صاحبِ طرز شاعر ہیں۔ بہت سنبھل کر شعر کہتے ہیں۔ اسپ تخیل کو بے لگام نہیں چھوڑتے۔ معقولیت و معنویت ان کے کلام کے اصل جوہر ہیں۔ انھوں نے غزلوں کی تہذیبی اقدار کو جمالیاتی و ایمائی انداز میں نکھار اور سنوار کر پیش کیا ہے۔ ان کا متوازن لب و لہجہ دراصل ان کی مثبت سوچ کا ہی نتیجہ ہے، ورنہ وہ آلام ومصائب اور روح فرسا واقعات سے مسلسل گزرے ہیں۔ بعید نہیں تھا کہ بعض شاعروں کی طرح ان کا تخلیقی مزاج مردم بیزار بن جاتا۔ ان کے ذہنی رویے کا اثر ہی ہے کہ ان کے کلام میں صرف حزنیہ لے اور طبعی غمزدگی ہی نہیں مسرت و بصیرت کی آمیزش بھی ہے          ؎

ہمیں ملا تھا جو اک ڈھیر خشک پتوں کا

وہی تھا تکیہ ہمارا، وہی بچھونا تھا

زندگی نے آزمانے کے لیے

آگ میں ہربار ڈالا ہے مجھے

ناؤ ٹوٹی ہے تو تختہ لے لے

راہ میں پھر کوئی دریا ہوگا

دوب ہو جیسی بھی، پامال ہوا کرتی ہے

نرم رکھو گے طبیعت تو سزا پاؤگے

کیا ان دنوں سورج کا کنبہ بھی ہراساں ہے

کیوں دل کی طرح آخر سیارے لرزتے ہیں

غسل دے پھر ہماری دنیا کو

نوح کے عہد کا سمندر لا

قیصر شمیم ایسے شعرا کی صف سے تعلق رکھتے ہیں جن کے علم و آگہی کا دائرہ معتبر اور مبسوط ہے، جو ایک طرف ان کی تخئیلی اڑانوں پر قابو رکھتا ہے تو دوسری طرف انھیں موضوع اور تخلیقی اظہار کے نت نئے تجربے کرنے پر اکساتا ہے۔ یہ محض روایت سے گہرے شغف کی بنا پر پیدا نہیں ہوسکتا بلکہ اس کے لیے غیر معمولی استعداد اور فنی دسترس کا ہونا بھی ضروری ہے اور یہ چیزیں قیصر شمیم کے یہاں بدرجہ اتم موجود ہیں۔ سطح عام سے اٹھ کر شعر کہنا اور اپنے کلام میں امتیازی شان پیدا کرنا آسان کام نہیں۔ قیصر شمیم نے موضوعات کی پیش کش میں انوکھا انداز بیان اختیار کیا ہے۔ انھوں نے سیاسی و سماجی جبرو تشدد، فرقہ وارانہ فسادات، طبقاتی امتیازات وغیرہ کو اپنے کلام کا موضوع بنایا ہے۔ جرأت، بے باکی، راست گوئی نے قیصر شمیم کو معاصرین میں ایک امتیازی مقام بخشا ہے         ؎

میرے عہد کے انسانوں کا پڑھ لینا کوئی کھیل نہیں

اوپر سے ہے میل محبت، اندر سے ہے کھینچاؤ بہت

ابھی تو کاٹ رہی ہے ہر ایک سانس کی دھار

اجل جب آئے تو دیکھوں کہ انتہا کیا ہے

مذکورہ اشعار میں جو لطیف اشاراتی فضا اور استعاراتی اظہار سے وہ شاعر کی فکری جہتوں کو اجاگر کرنے میں معاون ہے۔

ایک بڑے فنکار کے لیے دنیا میں کوئی بھی شے حقیر یا معمولی نہیں ہوتی۔ ہر شے بذاتِ خود معمولی ہو یا غیر معمولی اپنے اندر ایک جہاں معنی آباد رکھتی ہے۔ یہ تو فنکار پر منحصر ہے کہ وہ اپنے دستِ معجزہ طراز کے لمس سے معمولی شے کو غیر معمولی بنا کر پیش کردے۔ یہ کام محض حقیقت بیں نگاہ ہی کرسکتی ہے۔ وہ شے میں پوشیدہ جہانِ معنی کا ادراک کرتی ہے۔ نیست کو ہست میں بدل دیتی ہے۔ قطرے کو دریا اور ذرے کو آفتاب بنادیتی ہے۔

قیصر شمیم کی غزل کے چند اشعار دیکھیے جن میں انھوں نے ’پتھر‘کو اپنی تخلیقی قوت کے سہارے نئے معنیاتی اور استعاراتی نظام سے ہمکنار کیا ہے          ؎

نہ جانے کتنے یگوں سے ہے پتھروں میں قید

وہ ایک شخص جو شکلاًمُجھی سے ملتا ہے

کیا کروں احساس کے ہاتھوں بہت مجبور ہوں

میں بھی چپ ہوجاؤںگا تو پتھر بنا تو دے مجھے

آئینہ لے کے میں تو نکلا ہوں

ہاتھ میں اپنے تو بھی پتھر لا

تیرے بڑھتے ہوئے قدموں کو دعائیں دے دوں

میں تری راہ کا پتھر ہوں تو ٹھوکر ہی لگا

جلتے ہوئے دل کی آہیں بھی ٹکرا کے رہ جاتی ہیں

پتھر تو پتھر ہے آخر جلتا ہے نہ پگھلتا ہے

تمام عمر رہے زد میں پتھروں کی مگر

تمہاری کوئے ملامت سے دور جا نہ سکے

قیصر شمیم ستم ہائے روزگار کے اسیر رہے ہیں۔ وہ اس بات کے معترف بھی ہیں۔ ایک جگہ وہ خود رقم طراز ہیں کہ ’’میں نے اپنی زندگی میں مسرت انگیز لہریں بہت کم دیکھی ہیں‘‘۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے یہاں قلندرانہ شان پیدا ہوگئی ہے۔ ان کی خودداری کا عالم یہ ہے کہ وہ بڑی سے بڑی شخصیت سے مرعوب نہیں ہوتے بلکہ اس کے سامنے اپنے خیالات کا برملا اظہار کرتے ہیں۔ ان کی شخصیت میں فقرو استغنا کی جو خصوصیت ہے اس کے زیر اثر قیصر شمیم کے یہاں بقول علیم اللہ حالی ’میر کی ہم سفری کا شابۂ ہوتا ہے‘ اور ڈاکٹر ارتضیٰ کریم کے مطابق:

’’کہیں کہیں اس میں اضطراب کی کیفیت شامل ہوتی ہے تو وہ دور جدید کے میر تقی میر نظر آتے ہیں۔‘‘

قیصر شمیم کہتے ہیں           ؎

میں جانتا ہوں کہ ان کا مزاج کیا ہے، مگر

کبھی کبھی نظر آتے ہیں میر، میرے ساتھ

قیصر شمیم کا ایک امتیازی وصف اظہار کی سادگی ہے۔ غزل کے بہترین اشعار کی خوبی اظہار و بیان کی سادگی اور بے ساختگی ہے۔ سہل کہنا بہت آسان ہے مگر اس میں تخلیقی شان پیدا کرنا انتہائی مشکل امر ہے۔ میر کی زبان، میر کی سادگی، میر کے تیور، میر کی کاٹ اور سرعت آگیں نشتریت سے بہتوں کی طرح قیصر شمیم بھی متاثر ہوئے ہیں اور بہتوں کو میر کی سادگی نے فریب میں بھی ڈال دیا ہے۔ قیصر شمیم کو میر سے طبعی مناسبت ہے۔ میر کی غزلیں ان کے درد جگر کا مداوا کرتی ہیں۔ کہتے ہیں         ؎

بڑھتا ہے جب درد جگر

میر کی غزلیں پڑھتا ہوں

وہ اس ڈگر پر چل کر میر تک رسائی حاصل کرنا چاہتے ہیں اس لیے انھیں میر کے ساتھ ہونے کا گمان ہوتا ہے۔ ان کے اس عمل میں خلوص و صداقت ہے، تصنع اور بناوٹ نہیں اور یہ بڑی بات ہے         ؎        

جیسا بھی ہے اس میں نقلی پن تو نہیں

یہ  میر  ا چہرہ  ہے  بابا  تیرا  کیا

اس کے ساتھ ہی ذیل کے اشعار بھی دیکھتے جایئے جو میری مذکورہ باتوں کے اثبات کے لیے کافی ہیں           ؎

رہے گی دھوپ مرے سر پہ آخری دن تک

جواں ہے پیڑ مگر اس کا آسرا کیا ہے

چھوٹا سا گھر اور بڑی سی تنہائی

یہ میری دنیا ہے بابا تیرا کیا

میں نے کوشش تو کی بہت لیکن

دل سے اٹھتا ہوا دھواں نہ رکا

تیرے وحشی کو جنونِ دشت پیمائی نہیں

یوں تو ہے دیوانہ لیکن اب وہ صحرائی نہیں

جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ آج غزل کا دامن انتہائی وسیع ہے۔ اس میں موضوعات کا تنوع پایاجاتا ہے۔ حسن و عشق، احساس ذات اور تصور ذات سے لے کر انتشار ذات تک بے شمار مراحل ہیں جن سے ایک کامیاب شاعر کو گزرنا پڑتا ہے۔ یہاں ہمارا مقصود قیصر شمیم کی غزلوں کو میر کی کسوٹی پر پرکھنا نہیں ہے۔ یہ اور بات ہے کہ قیصر شمیم میر سے ایسا گہرا روحانی رشتہ قائم کرچکے ہیں کہ اس کے اثرات ان کی شاعری میں بہت نمایاں ہیں مگر یہ غزلیں آج کی ہیں تو اس تناظر میں یہ ضروری ہے کہ یہ عصری جہت کی حامل ہوں اور اپنی پائندگی کے لیے اپنے اصول و ضوابط خود مرتب کرتی ہوں۔ اس کسوٹی پر قیصر شمیم کی غزلیں پوری اترتی ہیں۔ ذیل کے اشعار دیکھیے جن سے ان کے شیوۂ گفتار کا اندازہ لگانا آسان ہوجاتا ہے          ؎

پشت پر تھا وار کس کا یہ بتاؤں کس طرح

دوست ہی پیچھے تھے میرے اور تو کوئی نہ تھا

میرے پاس نہ بیٹھ تو اپنا رستہ لے

دل تو مرا ٹوٹا ہے بابا تیرا کیا

تو سہی شمع، مگر دسترس غیر میں ہے

تجھ سے پرنور شب غم زدگاں کیوں کر ہو

قیصر شمیم نے اپنی شعری کہکشاں گردوپیش میں نظر آنے والی چھوٹی چھوٹی چیزوں کو چن کر سجائی ہے۔ اس عمل میں انہوں نے رسمی و روایتی زبان کو خیر باد کہا ہے۔ عام فہم زبان اور سیدھے سادے انداز بیان کو اپنا وسیلہ اظہار بنایا ہے اور ایسے الفاظ کا انتخاب کیا ہے جسے ہم شاعری کے لیے لائق اعتنا نہیں سمجھتے ہیں۔ یہ کمال صرف قیصر شمیم کو حاصل ہے کہ انہوں نے اس طرح کے الفاظ کو اشعار میں اس طرح سمو دیا ہے جیسے کوئی جوہری نہایت خوبصورتی اور کمال کے ساتھ زیور پر نگینے جڑ دیتا ہے          ؎

شہر میں پایا گیا یخ بستہ ہاتھوں کا تپاک

گرم جوشی گاؤں کی چوپال میں پائی گئی

نظر ہر سمت رکھنا تیرنے میں

نئے موسم کے جل کمبھی سے بچنا

ہونے لگے ہیں رستے رستے آپس میں ٹکراؤ بہت

ایک ساتھ کے چلنے والوں میں بھی ہے الگاؤ بہت

شکستہ خواب کے ملبے میں ڈھونڈتا کیا ہے

کھنڈر کھنڈر ہے، یہاں دھول کے سوا کیا ہے

وہ جلائے گا چوکھٹ پر چراغ

روشنی گھر میں نہ آنے دے گا

آنکھوں میں کسی کی بھی اب نیند نہیں آتی

یہ کون سی لوری ہے، گہوارے لرزتے ہیں

دراصل قیصر شمیم کی شاعری زندگی سے براہِ راست مکالمہ ہے۔ یہ نئے عہد کا بیانیہ ہے اور پورے و ثوق کے ساتھ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ قیصر شمیم کی شاعری میں تخیل کی بلند پروازی، فکر کی جامعیت، زبان کی سحر طرازی، ترکیبوں کی چستی، محاوروں کی بندش، الفاظ کی سادگی، تشبیہ و استعارے کا برمحل استعمال، یوں کہیے سہل ممتنع کی شاعری  کی بہترین مثال ہے۔ یہی وہ خصوصیات ہیں جن میں قیصر شمیم کی شاعرانہ عظمت کا راز مضمر ہے اور وہ اپنے کلام میں استادانہ رنگ اور تخلیقی مزاج کی بدولت ہمیشہ افق شاعری پر تابندہ و درخشاں رہیں گے۔


Dr. Mushtaque Azmi

Former Reader & Head :

Deptt. of Urdu T.D.B. College, Raniganj

Resi. : Azmi Mansion, 25 G.C. Mitra Road,

Kishori Gali, Asansol-713301 (W.B.)

Mobile : 9002140625 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں