ڈراما انارکلی میں ڈرامائی کنایہ: م ن سعید

 

ڈرامائی کنایہ اسٹیج ڈراموں کا ایک فنی حربہ ہے جس سے ڈراما نگارڈرامے کی پیش کش کے دوران آئندہ پیش آنے والے واقعات کے تعلق سے ناظرین کے دلوں میں تجسس، اشتیاق اور امید و بیم کے جذبات کومتحرک رکھنے اور ڈرامے میں دلچسپی جگائے رکھنے کاکام لیتا ہے۔ ڈرامائی کنایہ اپنی سرشت میں ڈرامے میں آئندہ پیش آنے والے واقعات کا ایک ایسا معنی خیز اشارہ ہوتا ہے جو انجام تک پہنچتے پہنچتے اپنے بھرپور معنی کے ساتھ واضح ہو جاتا ہے۔ ڈرامائی کنایہ بالعموم کسی کردار کی زبان سے قدرے رواداری میں اس طرح ادا ہوتا ہے کہ اس لمحے میں اس کی پوری اہمیت کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتالیکن ایک ذہین ناظر کے دل میں ایک ہلکی سی کھٹک چھوڑ جاتا ہے۔کبھی کبھی ڈرامائی کنایہ ادا کرنے والا کردار آپ بھی اپنے مکالمے کی پوری حقیقت سے آگاہ نہیں ہوتا۔ اکثر یوں بھی ہوا ہے کہ ڈرامائی کنایہ کسی کردار کی گہری سوچ کے بطن سے برآمد ہوتا ہے اور آئندہ واقعات کی معیّن سمت کا بادنما ثابت ہوتا ہے۔ حالانکہ ڈرامائی کنایہ ڈرامے کے آئندہ واقعات کی مبہم پیشن گوئی ہے لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ یہ پیشن گوئی شعوری طور پر کی گئی ہو۔ اکثر صورتوں میں یہ پیشن گوئی اس ہنر مندی سے کی جاتی ہے کہ ڈرامائی کنایہ ادا کرنے والے کردار بھی اس کے حقیقی مفہوم سے آگاہ نہیںہوتے۔اس کی دانست میں اس اشارے کے بدیہی معنی ہوتے ہیںلیکن ایک ذہین قاری یا ناظر اس کے مطلوبہ معنی تک رسائی حاصل کر لیتا ہے۔ ڈرا مائی کنایے کو جو شخص سمجھ جائے، اسے کنایے کی تعبیر دیکھنے کا اشتیاق، ڈرامے کے انجام تک ڈرامے سے پیوست کیے رکھتا  ہے اور جو نہ سمجھے اس کے لیے بھی یہ جزوی طور پر ناقابلِ فہم اشارہ ایک ایسا اسرار بن جاتا ہے جس کو ڈرامے کے انجام میں آشکار دیکھنے پر اس کا تجسّس بڑھتا جاتا ہے۔

ڈرامائی کنایہ ڈرامہ نگاری میں کسی مطلق حیثیت کا حامل نہیں ہوتالیکن کسی ڈراما کی ڈرامائیت کو فزوں تر کرنے کا سبب ضرور بن جاتا ہے۔ درحقیقت ایک ڈراما نگار اس فنی حربے کا استعمال وہیں کرتا ہے جہاں وہ نہ صرف اپنے ڈرامے کا فنی مرتبہ بلند کرنا چاہتا ہے بلکہ ناظر کے تجسس و اشتیاق کو ڈرامے کے انجام تک  برقراررکھنا چاہتا ہے۔اکثر ڈرامائی کنائے غزل کے کسی مقبول شعر کی طرح یادداشت میں محفوظ ہو جاتے ہیں اور ضرب المثل کی طرح بر وقت کسی صورتِ حال پر منطبق کرنے میں کام آجاتے ہیں۔

شیکسپیئر نے اپنے ڈراموں میں بالعموم اور ڈراما میکبتھ میں خصوصاًڈرامائی کنایے کا بے حد برمحل اور پرمعنی استعمال کیا ہے۔ چڑیلوں کی زبان سے ادا ہونے والا مکالمہ fair is foul and foul is fair، کے علاوہ  ڈنسنین کے جنگل کا حرکت میں آنا یا فطری ولادت کے حامل شخص کا میکبتھ کو ہلاک کرنے کی قدرت نہ رکھنا وغیرہ وہ ڈرامائی کنایے ہیں جو ادا ہوتے ہیں تو کچھ بے موقع اور ناقابلِ فہم سے معلوم ہوتے ہیں اور جب ان کی کارفرمائی شروع ہوتی ہے تو اچانک یادداشت پر ابھر آتے ہیں اور کیف آور ہو نے کے ساتھ ساتھ اپنی بھر پور معنویت کا جلوہ دکھا جاتے ہیں۔

 ایک اعتبار سے ڈرامے میںڈرامائی کنایے کی وہی حیثیت ہے جو غزل میں صنعتِ ایہام کی ہے یعنی اس میں ایک معنیِ قریب ہوتے ہیں اور ایک معنیِ بعید۔ ڈراما نگار کا اصل مقصود معنیِ بعید ہے۔ جب یہ معنیِ بعیدڈرامے کے کسی موڑ پر اچانک ظہور کرتے ہیں تو ناظر کے حافظے میں محفوظ وہ موقع چمک اٹھتا ہے جب وہ کنایہ پہلی بار ادا کیا گیا تھا۔ ایک ناظر اس کنایے کے مضمرات کے واشگاف ہوتے ہی اس کا اصل مفہوم سمجھ جاتا ہے اور یہ انکشاف اسے ایک خاص جمالیاتی مسرت سے ہمکنار کرتاہے۔ ڈرامے کاذہین ناظر بھی اس کی پہلی ادائیگی میں کسی قدر اس کی اہمیت کو تاڑ کر قیاس آرائی کرتا رہتا ہے کہ آئندہ واقعات کون سارخ اختیار کرسکتے ہیں۔

 ڈرا مائی کنایے کے محلِ استعمال کے کوئی متعین قاعدے نہیں ہیں۔ اس لیے اس کا اظہار کنایے کو ادا کرنے والے کردار کی اس سے واقفیت یا لا علمی دونوں ہی صورتوں میں ممکن ہے۔ لیکن اس ڈرا مائی کنایے کا معیار بلند ہے جس کا اظہار کردار کی لا علمی میں ہوا ہو۔اس لیے کہ اگر وہ واقف ہے تو اس ڈرامائی کنایے کو بروئے کار لانے والے آئندہ واقعات کا برملا اعلان کررہا ہوگا۔اس سے ڈرامے میں تجسّس کا پہلومتاثر ہو سکتا ہے۔لیکن اگر وہ ناواقف ہے تو واقعات کا ایک موڑ کسی قدر سمجھ میں آجائے گا لیکن اس موڑ تک پہنچانے والے مراحل سے واقفیت نہیں ہوگی۔ ایسی صورت میں مشتاق ناظر کاتجسّس اور گہرا ہو جائے گا۔

ڈرامائی کنایہ ڈرامے میں اسی وقت آسکتا ہے جب تصادم ہوچکا ہو۔ بالعموم ڈرامے کی بنیاد کسی نہ کسی نزاع پرہی رکھی جاتی ہے جو نقطۂ عروج یا کلائمکس پر ایک فیصلہ کن مرحلے پر پہنچ جاتا ہے۔ لیکن اس سے قبل اس کی شکلیں بنتی بگڑتی رہتی ہیں۔ جب تک کرداروں کے مفادات کا ٹکراؤنہ ہو، ڈرامائی کنایے کے لیے گنجائش نہیں نکلتی، یعنی ڈرامائی کنایہ تصادم کا مرہونِ منّت ہوتا ہے۔ تصادم کے نتیجے میں کرداروں کا ردِّعمل ڈرامائی کنایے کی صورت اختیار کر لیتاہے۔

ڈرامائی کنایے کے لیے یہ لازم نہیں ہے کہ اس کا اظہار مرکزی کردارہی کریں۔ اسے ایسے ضمنی کردار بھی  ادا کر سکتے ہیںجن کی اہمیت ڈرامے کے واقعات اورکش مکش میں قابلِ ذکر نہیں ہو تی۔لیکن یہ بھی کلیہ نہیں ہے۔ ڈراما نگارموقع و مناسبت دیکھ کر واقعات کے کسی موڑ پرڈرامائی کنایہ اداکر سکتاہے۔

ڈرامائی کنایے کے اظہار کے لیے ڈرامے میں کسی خاص مقام کی تخصیص نہیں ہے۔ڈرامے کے پھیلے ہوئے کینوس میں ڈرامائی کنایے کے لیے نشیب و فراز کو مدِ نظر رکھ کر کہیں بھی گنجائش نکالی جاسکتی ہے۔بلکہ زیادہ درست طور پر اس کے لیے گنجائش نکل آتی ہے۔ اس لیے کہ ڈرا مائی کنایے کے حامل مکالمے کے لیے بے ساختہ اور فطری ہونا لازم ہے۔یہ اسی وقت مؤثر ہو سکتا ہے جب یہ محسوس ہو کہ ڈرامائی کنایہ بر وقت وارد ہو گیا ہے۔عام طور پر اس فطری پن کے لیے اس کی حیثیت بات میں سے بات نکل آنے کی ہو تی ہے۔ایسے ڈرامائی کنایے میں ’آمد‘ کا احساس ہو تا ہے’ آورد ‘کا نہیں۔

دوسری شکل کسی کردار کی جذباتی کشمکش کے اظہار کی صورت میں پائی جاتی ہے۔وہ اپنی کشمکش کا اظہار حالیہ واقعات کے ردِ عمل کے طور پر کررہا ہو تا ہے، لیکن یہ بھی عین ممکن ہے کہ اس کا اطلاق اس کے مستقبل پر بھی حرف بہ حرف مگر دوسری شکل میں صادق آجائے۔ یہ ڈرامائی کنایہ ذہین سے ذہین ناظر یا قاری کی بھی رہنمائی نہیں کر سکتا، لیکن جب ڈراما انجام پر پہنچ جائے تو قاری کا ذہن چونک کر پیچھے کی طرف لپکتا ہے اور اس کنایے کو گرفت میں لے لیتا ہے۔ یعنی اس کنایہ کی حیثیت رجعی ہو تی ہے۔ کنایہ کا بنیادی مقصد پیشن گوئی ہے جو قاری کے ذہن میں آئندہ واقعات کا ایک ہیولاسا پیدا کردے۔ لیکن اس مخصوص صورت میں ڈرا مائی کنایے کو سمجھنے کے لیے ڈرامے کے کسی موڑ کا مرہونِ منت ہو نا پڑتا ہے اور انجام معلوم ہو جانے کے بعد ذہن، ماضی میں مراجعت کر کے اس اشارے کو اچانک پہچان لیتا ہے۔

مختصراً ڈرامائی کنایے کو یک ایسا ’قصراہ‘ (short cut)  کہا جا سکتا ہے جو ناظر کوڈرامے کے آئندہ واقعات کا کسی قدرادراک کر لینے کے قابل بنا دیتاہے۔

 اردو کے مشہور ڈرامے انارکلی میں ڈرامائی کنایے کی کارفرمائی کی مختلف صورتیں نظر آتی ہیں۔ امتیاز علی تاج نے جب ڈراما انارکلی لکھا تو وہ مغربی ڈراموں کی فنی روایات سے کما حقّہ آگاہ ہو چکے تھے۔  انھوں نے ڈراما انارکلی میںعالمی ڈراموں کے فنی تقاضوں کو برتنے کی کامیاب کوشش کی۔ لیکن تاج کے حینِ حیات انارکلی کے اسٹیج ہونے کی نوبت نہیں آئی۔ تاج نے انارکلی کے دیباچے میں صاف لکھا ہے کہ’’اس کی موجودہ صورت میں تھیٹروں نے اسے قبول نہ کیا۔جو مشورے ترمیم کے لیے انھوں نے پیش کیے، انھیں قبول کرنا مجھے گوارا نہ ہوا۔‘‘ اس کی صاف وجہ یہی نظر آتی ہے کہ ڈرامے کے مناظر میں انھوں نے ساز و سامان کی جو تفصیل پیش کی ہے،  اسے منظر بہ منظر پردہ اٹھنے اور گرنے کے وقفے میں تبدیل کرنا ممکنات میں نہیں تھا۔ انارکلی کے مکالموں کی نستعلیق زبان اور اس کی ادبیت بھی غالباً عوامی اسٹیج کے لیے حوصلہ شکن تھی۔ لیکن انارکلی اسٹیج کے لیے لکھا گیا ہو یا مطالعے کے لیے، فنی تقاضوں سے عہدہ بر آ ہونا دونوں صورتوں میں نا گزیر تھا۔اسی لیے امتیاز علی تاج نے انارکلی میں ڈرامائی کنایوں کا خاص اہتمام کیاہے جو ڈرامے کی فنی توقیر میں اضافے کا باعث بن گئے ہیں۔

انارکلی میں موقع بہ موقع ڈرامے کا فنی رتبہ بلند کرنے کے لیے بہت سے ڈرا مائی کنایوں کا استعمال ہوا ہے۔یہ ڈرا مائی کنایے ڈرامائی تاثر کو گہراکرنے میں بہت کامیاب ہیں۔ انھیں کی وجہ سے ڈرامے     میں تجسّس کا عنصر وافر مقدار میں ملتا ہے جو ڈرامے کے ربط اور تسلسل میں کمی آنے نہیں دیتا اور دلچسپی کو جگائے رکھتا ہے۔

ڈراماانارکلی کا پہلا ڈرامائی کنا یہ پہلے ہی منظر میں دلارام کی زبانی ادا ہو اہے۔ دلارام کی غیر حاضری میں انارکلی اکبر کی منظورِ نظر کنیز بن گئی ہے جو دلارام کے لیے گہرے صدمے کا باعث ہے۔حالات نے انارکلی اور دلارام کو ایک دوسرے کا حریف بنا دیا ہے اور یہی تصادم کی اوّلین وجہ بن جاتی ہے۔دلارام اور اس کی سہیلیاں اس سنگین صورتِ حال پر سرگوشیوں میں مصروف ہیں اور جب عنبر اس سے پوچھتی ہے کہ’’دم خم باقی ہے کہ دب رہوگی؟‘‘تو دلارام براہِ راست جواب دینے کے بجائے کہتی ہے۔

1        ’’ ناگن کی دم پر کوئی پاؤں رکھ دے تو وہ کیا کیا کرتی ہے؟‘‘

 یہ ڈرامائی کنایہ قاری یا ناظر کوچوکس کردیتا ہے۔وہ متجسس ہو جاتا ہے کہ دلارام آخرکون سا قدم اٹھائے گی جو نہ صرف غیر متوقع ہو گا بلکہ کسی قدر خوف میں مبتلا کرنے والا بھی ہو گا۔ یہ اشتیاق اسے دلارام کی حرکات و سکنات کو خاص توجہ سے دیکھتے رہنے پر مجبور کر تاہے۔اسی ڈرامائی کنایے سے انارکلی میں تصادم کا ماحول بھی قائم ہو تا ہے۔ ڈرامے کی دلچسپی قائم رکھنے کے لیے یہ بڑا کارگر فنی حربہ ثابت ہوتا ہے۔         

دلارام کو سلیم اور انارکلی کے عشق کی خبر ہو چکی ہے اورچاندنی رات میںباغ میں ان کی ملاقات کی اطلاع بھی مل گئی ہے۔ایک موقع شناس عورت کی طرح وہ اس موقع کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنے کے منصوبے بناتی ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ اس ملاقات کے موقع پر خودکو ظاہر کرکے انارکلی کوگویا متنبہ کردے کہ وہ دلارام کے راستہ سے ہٹ جائے کیوں کہ وہی دلارام کے ستارے کے زوال کی ذمے دار ہے۔ دلارام کو پورا یقین ہے کہ وہ اپنے مخالفین کو مات دے سکتی ہے۔اس کے باوجود معاملہ ولی عہد شہزادے کا ہے۔ بساط الٹ بھی سکتی ہے۔ اس لیے وہ تذبذب کے عالم میں کہتی ہے کہ

2        ’’آج رات دو تارے ٹکرائیں گے... کیا خبرکون سا ٹوٹے ! ‘‘

اپنی تمام تر منصوبہ بندی کے باوجود اسے پورا یقین نہیں ہے کہ ا س کے اور انارکلی کے ستارے آج رات ٹکرائیں تو کون سا ستارہ ٹوٹے گا۔اسی لیے وہ کچھ توقف کے بعد کہتی ہے...’’کیا خبر کون سا ٹوٹے۔‘‘دلارام کے تذبذب سے بات واضح ہوتی ہے کہ اس نے حالات کو ابھی ایسا موڑ نہیں دیا ہے کہ واقعات پر اسے پورا اختیار حاصل ہو جائے۔ ابھی وہ خالی ہاتھ ہے لیکن پانے کی تدبیر کررہی ہے۔

اس منزل پر قاری چوکنّا ہو جاتا ہے۔ اسے یقین ہوجاتا ہے کہ دالارام ملاقات کے موقع پر کچھ کرے گی ضرور۔ مگر کیا کرے گی یہ چیز اسے مضطرب کیے رکھتی ہے۔ اسے خبرنہیں کہ تارا واقعی کون سا ٹوٹے گا۔یہ مختصر سا فقرہ ناظر کی دل چسپی اور تجسّس کو کئی گنا بڑھا دیتاہے۔

انارکلی اور سلیم کی ملاقات کے دوران دلارام دخل انداز ہو جاتی ہے۔وہ جانتی ہے لوہے پر اسی وقت ضرب لگانی چاہیے، جب وہ نرم ہو ورنہ اس کی ہر ضرب بے نتیجہ ہی نہیں نقصان رساں بھی ہو سکتی ہے۔ اس لیے وہ بے دھڑک مداخلت کر دیتی ہے۔سلیم فوراً چھپ جاتا ہے لیکن دلارام انارکلی کو سراسیمگی کے عالم میں پکڑ لیتی ہے۔ دونوں کی بات چیت کے دوران وہ  انارکلی سے واضح لہجے میں کہتی ہے کہ

3        ’’ میں جانتی ہوں۔ اس راز کی قیمت بھی جانتی ہوں، وہ بازار بھی جانتی ہو ں جہاں یہ فروخت ہو سکتا ہے۔ہاں میں اس کی قیمت بھی مقرر کرچکی ہوں‘‘

اب وہ طے کر چکی ہے کہ اسے کیا کرنا ہے۔ اسے یقین ہوگیا ہے کہ اس سے ٹکرانے والا تارہ ٹوٹ چکا ہے۔ سلیم کے ولی عہد ہونے کے باوجود انارکلی کی قسمت کی باگ دلارام کے ہاتھ میں آچکی ہے۔انار کلی کا انجام دلارام ہی کی مرضی پر منحصر ہو گا۔

اس کنایے میں دلارام کی زبان سے نکلا ہوا ایک ایک لفظ اہم اور گہرے معنی لیے ہوئے ہے۔ وہ واضح اعلان کر دیتی ہے کہ اسے اس راز کی قیمت معلوم ہو چکی ہے۔ اس کے بعد وہ قیمت مقرر بھی کر چکی ہے۔شاید دلارام اس وقت تک اپنے ذہن میں انارکلی کی موت کو روشن شکل میں یقین کے ساتھ دیکھ چکی تھی، جبھی وہ قیمت مقرر کیے جانے کا اعلان اس قدر پر اعتماد لہجے میںکر رہی ہے۔ راز کو بیچنا اس کے اختیار کی بات ہے اور اسے اس بازار کی بھی خبر ہے جہاں یہ بیچا جاسکتا ہے۔ فقط موقع کا انتظار ہے۔ آخر کار وہ لاہور کے شیش محل میں اسے اکبرِ اعظم کے ہاتھوں بیچ دیتی ہے کہ اس راز کی سب سے بڑی قیمت وہی دے سکتا تھایعنی انار کلی کی موت۔

 انارکلی سے ملاقات کا راز فاش ہو جانے کے بعد سلیم دلارام کو طلب کرکے اس سے اس راز کی قیمت جاننا چاہتا ہے۔ دلارام کسی مادّی فائدے کی طالب نہیں، سلیم کی محبت چاہتی ہے۔ سلیم اس کی محبت کو ٹھکرادیتا ہے اور اسے دھمکی دیتا ہے کہ اگر وہ کبھی انارکلی سے سلیم کی محبت کا راز فاش کرنے کی کوشش کرے گی تو اسی پر یہ الزام لگایا جاسکتا ہے کہ وہ سلیم سے محبت کرتی تھی اور ناکامی نے اسے انتقام لینے پر آمادہ کردیا۔

اس موقعے پر بختیار ظاہر ہو کر اعلان کرتا ہے کہ اگرکبھی ایسا موقع آجائے تو وہ گواہی دے گا کہ دلارام نے سلیم سے اظہارِ محبت کیا تھا۔یہ موڑ دلارام کے لیے غیر متوقع تھا۔وہ گھبراجاتی ہے۔ وہ جانتی ہے کہ اس کے پاس کو ئی ایسا گواہ موجود نہیں جو سلیم اورانارکلی کی محبت کی شہادت دے سکے۔

یعنی اس بساط میں وہ سلیم سے مات کھا جاتی ہے۔ سلیم مطمئن ہو کر بختیار سے کہتا ہے کہ ’’تم نے مجھے ہر خطرے سے ،محفوظ کردیا۔‘‘ لیکن دور اندیش بختیاردلارام کی فطرت سے بہتر طور پر واقف ہے۔اسی لیے وہ سلیم کو خبردار کرتا ہے کہ

4          ’’ایک چال کا جواب دے دینے سے بازی کا فیصلہ نہیں ہو جاتا۔ حریف اور چال سوچ لے گا۔‘‘

یہ کنایہ بے حد معنی خیز ہے۔ سلیم شاہانہ خود فریبی کے باعث اپنی حریف دلارام سے غافل ہوجا تا ہے۔ اس تغافل سے فائدہ اٹھا کر دلارام واقعی نئی منصوبہ بندی کر لیتی ہے اور انارکلی کو موت کے حوالے کرنے میں کا میاب ہو جاتی ہے۔اس ڈرامائی کنایے کے بعد ناظر دلارام کی حرکات و سکنات پر خاص توجہ دینے لگتا ہے۔

5        ’’اس محل میں میں زندہ نہ بچوں گی۔ اس کی دیواریں ہر وقت میری طرف بڑھتی آرہی ہیں۔ کسی روز ٹکرائیں گی اور مجھے پیس ڈالیں گی۔‘‘

یہ ڈرامائی کنایہ انار کلی کا غالباً سب سے بہترین کنایہ ہے۔ یہ الفاظ ادا کرتے ہوئے شاید انارکلی کے ذہن میں ان دیواروں کا تصوّر بھی نہ ہوگا جن میں زندہ دفن کردی گئی۔ انارکلی جس صورتِ حال سے دوچار ہے اس کا اظہار وہ استعاراتی پیرائے میں کر رہی ہے۔ لیکن یہ استعارہ زندہ حقیقت میں تبدیل ہو جاتا ہے۔یہ دیواریں مفادات کی دیواریں بھی ہوسکتی ہیں جن کے تصادم میں انارکلی پس کر رہ گئی۔اکبر کا مفاد، دلارام کا مفاد ،سلیم کا مفاد ، ثریا کا مفاد، رانی کا مفاد ،انارکلی کی ماں کا مفاد، داروغۂ زنداں کا مفاد ، یہ تمام مفادات کسی نہ کسی تقریب سے انارکلی سے ٹکرا کر اس کی زندگی کے تمام راستے مسدود کردیتے ہیں۔ انارکلی ان اندھی دیواروں کے درمیان واقعی پِس کر رہ جاتی ہے۔

سلیم سے ٹھکرائے جانے کے بعد دلارام انارکلی سے مل کر محبت کی شکست کا جھوٹا اعتراف کرچکی ہے اور اپنی محبت سے گویا تائب ہو کر انارکلی کے  سامنے اپنی شکست تسلیم کر لیتی ہے۔ وہ انارکلی پر واضح کر دیتی ہے کہ وہ اس کی محبت کے راستے سے ہٹ چکی ہے اور انارکلی متاثر ہو کر اس کی نام نہادمحرومی میں شریک ہو جاتی ہے۔ لیکن ثریا دلارام کی فطرت سے اچھی طرح آگاہ ہے اور اس کی عیّاری کو خوب سمجھ رہی ہے۔  وہ انارکلی کے ہمدردانہ رویے سے پریشان ہے اورآخر کار ضبط کا دامن چھوڑ کر دالارام سے صاف کہہ دیتی ہے کہ وہ اس کی چالبازیوں کو خوب جانتی ہے۔ وہ اسے تنبیہ کرتے ہوئے کہتی ہے کہ

6        ’’ اگر تم شعلہ ہو تو میں بجلی ہوں۔اگر مجھے شبہ بھی ہو ا کہ تم کوئی چال چل رہی ہو، کسی ادھیڑ بن میں لگی ہوتو تم جانتی ہو مجھے کیا کچھ معلوم ہے۔ یہ بجلی تمھیں پھونک کر راکھ کردے گی۔‘‘

یہ ڈرامائی کنایہ بالکل واضح اورکھلا ہوا ہے۔ انجام کار ثریا ہی کی ترغیب سے سلیم  دلارام کو گلا گھونٹ کر موت کے گھاٹ اتار دیتاہے۔

7 ’’جشن ہی کے روز دو تارے...  وہی دو تارے... مگر ایک دمکتااورجگمگاتا ہوا اور دوسرا ٹوٹ کر بجھا ہوا... اور کون جانے...‘‘

دلارام یہ ڈرامائی کنایہ شیش محل کے جشن کا انتظام سپرد کیے جانے پر ادا کرتی ہے۔ اس کنایے کے تیور بتا رہے ہیں کہ دلارام کے ارادے خوف ناک ہیں اور اسے پورا یقین ہے کہ یہی کچھ ہو کر رہے گا۔ جن تاروں کی پر اسرار چال اس کے لیے مبہم تھی، یہاں واضح ہو جاتی ہے اور وہ پورے یقین سے کہتی ہے کہ’’ ایک دمکتااور جگمگاتا ہوا... اور دوسرا ٹوٹ کر بجھا ہوا۔‘‘ لیکن اس کنایے میں ’’ٹوٹ کر بجھا ہوا ‘‘ تو واضح ہے۔مگردمکتا اور جگمگاتا ہوا تارا کون ہو سکتا ہے یہ صاف نہیں ہے۔ چونکہ دلارام کا تصادم انارکلی سے زیادہ ہے اس لیے پہلاتارا دلارام ہی ہو سکتی ہے لیکن اسے صرف دمکتاہوا ہونا چاہیے تھا۔اس میں جگ مگاہٹ کا کوئی جواز نہیں پیدا ہوتا کیونکہ انارکلی کی موت کے بعد دلارام بھی بہر حال لپیٹ میں آ جاتی۔

لاہور کے شیش محل میں جشنِ نوروز کی تیاریاں دلارام کے سپرد ہیں۔ وہ اس موقع کا بہترین فائدہ اٹھانا چاہتی ہے اور  فیصلہ کن گھڑی کے لیے اسکیم تیار کرچکی ہے۔ متوقع واقعات کے اندیشے اسے خوف ناک حد تک سنجیدہ بنا چکے ہیں۔اس جشن میں انارکلی رقص پیش کرنے والی ہے۔جشن جاری ہے اورباہر آتش بازی ہورہی ہے لیکن وہ اپنے منصوبے کو قطعیت دینے میں منہمک ہے۔ وہ آئینوں کو ایسے زاویوں سے ترتیب دے رہی ہے کہ اکبر ان میں سلیم اور انارکلی کے اشاروں کو صاف صاف دیکھ سکے۔ آئینو ںکی ترتیب کے موقع پر جب مروارید دلارام سے کہتی ہے کہ ’’یہاں کیا کر رہی ہو؟ چلو آتش بازی کا تماشہ دیکھیں ‘‘ تو  دلارام بڑے سکون سے کہتی ہے۔

8        ’’اس سے بہتر آتش بازی کچھ دیر بعد یہاں ہوگی۔‘‘

دلارام کی نظر میںسلیم اور انارکلی کی بے محابا جسارت کا نظارہ کرنے کے بعد اکبر کے متوقع اشتعال کی آتش بازی باہر کی طفلانہ آتش بازی سے کہیں زیادہ دھماکہ خیز ہوگی۔ دلارام بڑے اعتماد سے کہتی ہے کہ ’’  اس سے بہتر آتش بازی کچھ دیر بعد یہاں ہوگی۔‘‘ چونکہ ڈرامے کا ناظر دلارام کے ارادوں سے ناواقفِ محض ہے، اس لیے اس کا تجسّس جاگ اٹھتا ہے اور وہ دلارام کی پیشن گوئی کو بار آور ہوتے ہوئے دیکھنے کے لیے ہمہ تن متوجہ ہوجاتا ہے۔

9        ’’ہندوستان کا نیا چاند ایک چکور کو چاہتا ہے۔‘‘

یہ ڈرامائی کنایہ انارکلی کی زبان سے ادا ہوا ہے۔ اس میں جو اشارہ مضمر ہے وہ صاف ہے۔کم از کم اس فقرے میں انارکلی اس امر کا ثبوت دیتی ہے کہ وہ حقائق کا ادراک کر چکی ہے۔ اسے متوقع انجام کی خبر ہے۔ محبت میں پوری طرح وارفتہ ہو جانے سے پہلے وہ تھوڑا بہت ہوش مندی سے بھی کام لیتی ہے۔ لیکن جب اس پر محبت غالب آجاتی ہے تو ’’ میں نے جان بوجھ کر زہر کا پیالہ پیا۔ اس کا مزہ زندگی سے بھی میٹھا تھا۔اب اور کیا چاہتے ہو؟‘‘کہہ کر گویا عقل کی کثافت سے اپنی محبت کو پاک کردیتی ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ وہ ادراک حقیقت کر چکی ہے اور جانتی ہے کہ چاند کبھی اتر کر چکور سے مل نہیں سکتا۔انجام معلوم !

ڈراما انارکلی کے ڈرامائی کنایے اس کے فنی مرتبے کو بلند کرنے کا باعث بن گئے ہیں۔ انارکلی کے ڈرامائی کنایوں کی اہمیت ہشت پہلو ہے۔ وہ ڈرامے میں اشتیاق و تجسس کی فضا جگائے رکھنے میں کامیاب ہیں۔ ان سے انارکلی کے ہموار واقعات میں ڈرامائی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔ ان کے کنایاتی پہلو کی وجہ سے ڈرامے کے بعض مکالموں میں تہ داری آگئی ہے جس سے وہ ڈرامے کی دلچسپی کو برقرار رکھنے کے ضامن بن گئے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ کنائے کھل جانے کے بعد ناظر یا قاری کو ایک کیف آورجمالیاتی تسکین بہم پہنچانے کا مؤثر ذریعہ بن گئے ہیں۔ 


Prof. Meem Noon Sayeed

L/13, Sector 14, Near Water Tank

Jeevan Bima Nagar

Bangalore-560075 (Karnataka)

Ph: 9845281751,

Email: profnooruddin@gmail.com

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں