وانمباڑی قومی کتاب میلہ: 'اردو کے فروغ میں تعلیمی اداروں کا کردار ' پر سمینار ، 'مصنف سے ملاقات' پروگرام اور ڈراموں کی پیش کش


 وانمباڑی: قومی اردو کونسل اور وی ایم ای سوسائٹی کے اشتراک سے یہاں پچیسواں قومی اردو کتاب میلہ نہایت کامیابی سے جاری ہے ، جس میں وانمباڑی کے علاوہ چنئی ، بنگلور، حیدرآباد اور دگر شہروں سے بھی علم دوست و محبانِ اردو کثیر تعداد میں شریک ہوکر اپنے علمی و ادبی ذوق کی سیرابی کا سامان کر رہے ہیں اور یہاں منعقد ہونے والے ادبی و ثقافتی پروگراموں سے بھی محظوظ ہو رہے ہیں۔  میلے کے ساتویں دن 'اردو زبان و ادب کی آبیاری میں تعلیمی اداروں کا کردار' کے موضوع پر سمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں عصری و دینی اداروں کے ذریعے فروغِ اردو کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی۔ اس پروگرام میں بہ طور مہمان خصوصی تقریر کرتے ہوئے سابق آئی اے ایس افسر ، ساؤتھ انڈیا ایجوکیشن ٹرسٹ کے بانی و چیئر مین اور ممتاز مصنف و شاعر موسی رضا نے کہا کہ دنیا کی ہر زبان کسی نہ کسی ضرورت کے تحت وجود میں آتی ہے، یہی حال اردو کا بھی ہے کہ ہندوستان میں مقیم  مختلف قوموں کے باہمی رابطے کی ضرورت کے پیش نظر اس کا وجود عمل میں آیا،پھر اپنی غیر معمولی افادیت کی وجہ سے یہ زندہ رہی اور اپنے چاہنے والوں کی جدو جہد اور ان کی تخلیقات کی وجہ سے فروغ پاتی رہی۔ اسی طرح کوئی بھی زبان اچانک نہیں مرتی ، یہ واقعات و سانحات کے ایک لمبے سلسلے کا نتیجہ ہوتا ہے، جس میں دوسروں کے ساتھ اپنوں کی بے توجہی کا بھی دخل ہوتا ہے۔ انھوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی زبان کو اس کا سخت سے سخت دشمن‌بھی ختم نہیں کر سکتا، اس کے محبین اگر اخلاص کے ساتھ اسے فروغ دینے میں سرگرم رہیں تو وہ زبان نہ صرف باقی رہتی ہے بلکہ مسلسل ترقی کرتی ہے۔ زبانوں کی ترقی میں باہمی افادہ و استفادہ کی ضرورت کو بیان کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ زبانوں میں لین دین جاری رہنا چاہیے، اس سے ان کے پھلنے پھولنے کا سلسلہ جاری رہتا ہے ، اس کی بہترین مثال انگریزی ہے جس نے دنیا کی تقریباً ہر زندہ زبان کے الفاظ مستعار لیے اور انھیں کھلے دل سے اپنایا اور اپنے ذخیرۂ الفاظ کا حصہ بنایا ، اردو میں بھی یہ سلسلہ شروع سے جاری ہے اور اسی وجہ سے ہماری زبان پیہم ترقی کرتے ہوئے یہاں تک پہنچی ہے۔انھوں نے قومی کونسل کی ستایش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ اردو کے فروغ اور تقویت کے لیے اہم کام کر رہا ہے، یہ کتاب میلہ بھی اسی کا حصہ ہے،جس کے لیے میں کونسل کے ذمے داروں اور اس میلے کے منتظمین کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

شیخ الحدیث مولانا روح الحق نے اردو کے فروغ میں مدارس اسلامیہ کے کردار پر گفتگو کی۔

ماہر معاشیات حوالدار عبدالرقیب نے کہا کہ کوئی بھی زبان محض ادب و شعر کی وجہ سے زندہ نہیں رہ سکتی، اسے معاصر علوم و فنون اور اختراعات و ایجادات کی زبان بھی بنانا چاہیے۔ اس لیے اردو زبان میں نئے علوم و فنون کی کتابیں بھی شائع کرنے کی ضرورت ہے۔

 جامعہ دارالسلام عمرآباد کے استاذ مولانا سراج الدین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اردو ایک خوب صورت اور ترقی یافتہ زبان ہے جسے بلاتفریق ہر مذہب و مسلک کے لوگ پسند کرتے ہیں۔ یہ زبان قومی اتحاد، یکجہتی اور دلوں کو جوڑنے والی زبان ہے‌۔ اس کے فروغ میں دیگر تعلیمی اداروں کے ساتھ مدارس کا بھی غیر معمولی کردار رہا ہے۔ ان کے فضلا نے نثر و شعر میں بے شمار خدمات انجام دی ہیں۔ انھوں نے خصوصاً تمل ناڈو کے مدارس اور جامعہ دارالسلام کی اردو زبان میں تعلیمی، تدریسی اور تصنیفی و تخلیقی خدمات پر گفتگو کی۔

کونسل کی اسسٹنٹ ڈائرکٹر ڈاکٹر شمع کوثر یزدانی نے اس پر گرام میں خاص طور پر شرکت کی اور اظہارِ خیال کرتے ہوئے کونسل کی اشاعتی سرگرمیوں اور فروغ اردو کی سکیموں کا مختصر تعارف کروایا ۔ انھوں نے کہا کہ یہاں کے طلبہ و طالبات کا ذوق و شوق دیکھ کر مجھے دلی مسرت ہوئی ہے ، میں اس خوب صورت میلے کے انعقاد میں کونسل کا تعاون کرنے کے لیے وانمباڑی مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی کے منتظمین کو مبارکباد پیش کرتی ہوں اور ان کا شکریہ بھی ادا کرتی ہوں۔ اس پروگرام کی صدارت اسلامیہ ویمنس کالج کے سکریٹری جناب سی قیصر نے کی۔

دوسرے سیشن میں 'مصنف سے ملاقات ' کے عنوان سے ایک خصوصی پروگرام منعقد ہوا، جس کی صدارت جناب کے ایم سراج نے کی ۔ اس پروگرام میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے ممتاز ادیب و شاعر ، سابق آئی پی ایس افسر جناب خلیل مامون نے شرکت کی اور پر مغز خطاب کیا۔ انھوں نے اپنی تقریر میں ادب و شعر کی قرأت و تفہیم کے لیے خاص قسم کے ذوق و شوق سے آراستہ ہونے کو ضروری قرار دیا۔ انھوں نے شاعری کی ہزاروں سالہ قدیم تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے انسانی ذہن و احساس پر پڑنے والے اس کے اثرات کا بھی خوب صورت تجزیہ کیا۔ انھوں نے اردو و فارسی کے چند نمایاں شاعروں کے منتخب اشعار کے ذریعے زندگی کے حقائق و نکات کو آشکار کرتے ہوئے کہا کہ شاعری ہمیں اس لیے پڑھنی چاہیے کہ یہ ہمارے ذہن و خیال کی تربیت کرتی اور شعور و احساس میں سوز و گداز پیدا کرتی ہے۔

تیسرے سیشن میں حیدر آباد کی ٹیم نے علامتی ڈرامہ 'کوڑا' اور مزاحیہ ڈراما' گڑ کی مکھیاں' پیش کیے، جن سے ناظرین خوب محظوظ ہوئے ۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں