ترنم ریاض قصہ گوئی نہ کہ جادو بیانی: یاسمین رشیدی


 

آگہی اضطراب کا باعث ہوتی ہے۔یہ اضطراب کم و بیش ہر ادیب کا مقدر ہے جو اسے قلم اٹھانے پر مجبور کرتا ہے۔ ترنم ریاض کے افسانوی بیانیے میں عصری آگہی اور اس سے پیدا ہونے والے اضطراب کی تصویریں نمایاں ہیں۔ ترنم ریاض کے افسانے گلو بلا ئز یشن، عصری حقیقت نگاری، انسانی اقدار کی پامالی، رشتوں کی بے وقعتی، سائنس اور ٹکنالوجی کے زیر اثرانسانی زندگی کی شکست وریخت اور حیات وممات کے مختلف اورمتنوع مسائل کی بازیافت ہیں۔  ترنم ریاض کی حساسیت اوروفورِ تخیل افسانوی قالب میں ظاہر ہوتے ہیں اورہماری فکرکو مہمیز کرتے ہیں۔

سماجی حقیقت نگاری اور معاصرمعاشرے کی تیزی سے تبدیل ہوتی زندگی ترنم ریاض کے افسانوں کا اختصاص ہیں۔ عصری سماج کی تمام حقیقتوں کو ایک افسانے (چمگادڑ) میں ڈھال کر انھوں نے یہ ثابت کردیا تھا کہ وہ معاصر افسانہ نگاروں میں منفردشناخت کی حامل تھیں۔ لاانسانیت،  خودغرضی، وحشی پن، اقدارکی شکست وریخت جو معاصر معاشرے کی پہچان ہے۔ کیا یہی ہماری تہذیب ہے؟ کیا اپنے بزرگوں سے یہی سب کچھ ہمیں ورثے میں ملاہے؟ ترنم ریاض کا افسانہ ’چمگادڑ‘ پڑھ کر ایک نوع کے خوف کا احساس ہوتا ہے۔ ہم کس سمت جارہے ہیں؟ یہ کیسی ترقی ہے جس نے انسان کو وحشی بنادیا ہے۔ کیا ترقی کے معانی تبدیل ہوگئے ہیں؟یا ہم نے وحشی پن کو ہی ترقی تسلیم کرلیا ہے۔ افسانے کا مرکزی کردارنورجہاں کی حالت ہر اس شخص کی حالت ہوگی جو ذرابھی حساس دل ہوگا۔ ترنم ریاض نے افسانے میں معاصرمعاشرے کے بیشترمسائل کا احاطہ کرنے کی سعی کی ہے۔ گلوبلائزیشن کے اس دور میں، ترقی کی ہوڑ میں آگے رہنے کے لیے ایک ملک دوسرے ممالک کو کس کس طریقے سے زیرکرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک ملک دوسرے ملک کو زیرکرنے کے لیے وحشی پن کے تمام ریکارڈ توڑچکا ہے۔ عراق کے قیدیوں کے ساتھ امریکی سپاہیوں کا ظالمانہ سلوک اس وحشی پن کی ایک چھوٹی سی مثال ہے۔ یہ انسانوں کی طرح نظرتو آتے ہیں مگران کے افعال ایسے ہیں گویا یہ انسان ہیں ہی نہیں

دوست بن کر کمزوریوں کو خریدتی ہیں اور نہ خرید پائیں تو بے سبب کے دشمنوں کی طرح علی الاعلان حملوں پراترآتی ہیں۔ ترقی پذیرملکوں کو توڑنے اورغلام بنانے کے لیے انسانیت سوز حرکات کررہی ہیں… بظاہر اخباروں میں عام انسانوں کی طرح آئس کریم کھاتے اوربچوں سے کھیلتے تصویریں چھپواتے ہیں یہ لوگ۔ گویا وہ بھی انسان ہیں اور بباطن ایسی حرکات کیے چلے جاتے ہیں۔ گویا انسان ہی نہیں۔

( تر نم ریاض چمگادڑ مشمولہ جدید ادب،جرمنی: شمارہ 18، ص148)

ایسا بھی نہیں کہ یہ سب کرنے کے لیے یہ مجبور ہیں۔ بھوک سب سے بڑی حقیقت ہے جس کے لیے انسان کسی بھی حد تک جاسکتا ہے مگربھوک ان کی مجبوری نہیں

یہ لوگ فاقوں سے بے حال ہوکر پیٹ کی آگ کو بجھانے کے لیے غلط چیزوں کے استعمال پرمجبور نہیں ہوتے۔ یہ لوگ شوق کی تکمیل کے لیے انسانیت سوز کام کرتے ہیں۔(ایضاً،ص148)

انسانوں کو مشین بنانے والی یہ زندگی 21ویں صدی کی پہچان بن چکی ہے۔ سائنس اورٹکنالوجی نے انسانی اقدار کو نیست ونابود کردیا ہے۔ 21ویں صدی کی زندگی اور حالات کا جوخاکہ ترنم ریاض نے افسانہ ’چمگادڑ‘ میں کھینچا ہے وہ معاصر زندگی کے کھوکھلے پن پر ان کی بے چینی کو ظاہر کرتا ہے

اسے خبرتھی کہ عام انسان کو تیزگام زندگی کی ایسی دوڑ میں دھکیلا گیا ہے کہ اس کے پاس سوچنے کی فرصت نہیں۔ وہ بھی مشین کی طرح دوسرے کل پرزوں پر انحصار کرتا بھاگتاجارہا ہے۔ سوچنے کے لیے ذرا ٹھہرجاتاتو سوچتا کہ دنیا میں بھلا کون اپنے معصوموں کو جواں مرگی کا پیام دے گا۔ اپنے تو ایسا نہیں کرتے۔ محرومیوں اور رسوائیوں کا یہ سامان کون کررہا ہے۔ لالچ بالادستی، زبردستی۔ کون جانے؟ (ایضاً،ص147,148)

افسانہ21ویں صدی کی تلخ حقیقت اورترقی کے تانے بانے پرتشکیل دیاگیا ہے۔ جہاں سب سے پہلی اورسب سے مہنگی ڈش ’ہیومن فیٹس‘ ہے۔ اپنی بالادستی قائم کرنے کے لیے انسان جانور سے بھی بدترحرکات کررہا ہے۔ ادیب کا حساس ذہن ہرطرف پھلی ہوئی حیوانیت سے خوف زدہ ہے۔ ان حالات کو دیکھ کر اسے اپنا ماضی اورماضی کی پرسکون زندگی یادآتی ہے۔ مسائل وہاں بھی تھے مگر اس خوفناک صورت میں نہیں۔ ادیب جب ماضی اورحال کی زندگی پرنظرڈالتا ہے تو بے چین ہواٹھتا ہے۔ اس ترقی سے جوزندگی سے زیادہ قیمتی ہوگئی ہے۔ اس حیوانیت سے، جو آج کی زندگی کا خاصہ ہے۔ بقول منٹو ’افسانہ نگار اس وقت اپنا قلم اٹھاتا ہے جب اس کے جذبات کو صدمہ پہنچتا ہے۔(بلراج مین را(مرتب) دستاویز ؛ سعادت حسن منٹو، نئی دہلی موڈرن پبلشنگ ہائوس، 1986،ص65)

ترنم ریاض اس صورتِ حال سے نالاں ہیں جہاں روحانی اوراخلاقی بنیادیںتبدیل کی جارہی ہیں۔مذہب کا زہررگوں میں خون بن کر دوڑ رہا ہے۔ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ لوگ حیوان کیوں بنتے جارہے ہیں۔ اس کا جواز بھی ترنم ریاض کے افسانے میں موجود ہے

گلوبلائزیشن، کلوننگ، یہ نیوکلیائی ہتھیار، ہلاکتوں کے یہ جدید سائنسی آلات، دراصل انسانیت کا کمرشلائزشن ہے  اورفطرت سے بہت دور بھی، اسی لیے انسان کی معصومیت چھن گئی ہے اور لوگ جانور ہوگئے ہیں۔  

( ترنم ریاض جدید ادب،ص149)

نہ جانے یہ کیسی ترقی ہے جہاں لوگ بھوکے ننگے مررہے ہیں اوردوسری طرف سرکاریں نئے ہتھیاروں کے جائزے اورخریدوفروخت میں منہمک ہیں۔ افسانہ چمگادڑ، مٹی، شہر، ہمعصر معاشرے کی بہترین عکاسی کرتا ہے۔

افسانہ ’شہر‘ ایک خوفناک فضاکی تخلیق کرتا ہے۔ ’شہر‘ جہاں ملازمت اوررہائش کے مسائل کے ساتھ ساتھ انسانیت بھی نا پیدہو تی جارہی ہے۔ ایک ہی عمارت میں رہنے والے مکین ایک دوسرے سے اتنے اجنبی ہیں کہ انھیں ایک دوسرے کے سکھ دکھ، جینے مرنے کی خبرتک نہیں ہوتی۔ افسانہ ’شہر‘ دراصل علامت ہے اجنبیت کی جو شہروںکی ’تہذیب‘ ہے۔ شہری مسائل کو اجاگر کرنے والی یہ کہانی، بچوں کی نفسیات سے ترنم ریاض کی گہر ی واقفیت کو بھی عیاں کرتی ہے۔ جو ’آدھے چاند کا عکس‘ میں بھی ظاہر ہے۔ واقعہ کو افسانہ بنانے کا فن انھیں بخوبی آتا ہے۔ افسانے میں جوواقعہ بیان کیاگیا ہے اس سے متعلق واقعے ہم آئے دن اخباروں اورٹیلی ویژن پر دیکھتے اور پڑھتے رہتے ہیں۔ اس طرح کے واقعے شہری زندگی میں غیر معمولی صورت اختیارکرچکے ہیں۔ بظاہر معمولی نظرآنے والے واقعے کو مصنفہ نے جزئیات نگاری کے ساتھ جس طرح افسانے کے بیانیے میں پرویا ہے وہ قابلِ تعریف ہے۔ افسانہ پڑھ کر جھرجھری سی آتی ہے۔ یہ ترنم ریاض کا کمال ہے کہ جس خبرکو پڑھ پڑھ کر ہم اتنے بے حس ہوچکے تھے اسی واقعے کو اس انداز سے پلاٹ میں سمویا ہے کہ قاری اندرتک سہم اٹھتا ہے۔بقول ترنم ریاض

آج ہماری تخلیقات کا سبب ریاستی، ملی اوربین الاقوامی سطح پررونما ہورہی سیاسی، سماجی اورمعاشی تبدیلیاں ہیں۔ ہماری تخلیقات ہمارے اندر کا وہ کرب ہیں جو ان تبدیلیوں کا ردعمل ہے۔ ( گوپی چند نارنگ (مرتبہ) اردومابعد جدید یت پرمکالمہ،دہلی اردواکادمی، 2011،ص497)

ان کا یہ کرب ’مٹی‘ کی صورت میں سامنے آتا ہے تو کبھی ’برف گرنے والی ہے‘ سے عبارت ہے۔ ان کا یہ ردعمل کہیں ’شہر‘ کو جنم دیتا ہے تو کہیں ’باپ‘ کو، کہیں ’بابل‘ سے عبارت ہے توکہیں ’چمگادڑ‘ سے۔ غرض کہ ان کا ہرافسانہ ان کے داخلی جذبات واحساسات کی ترجمانی کرتا ہے۔ کہیں کرب کی صورت میں تو کہیں خوشی کی صورت میں۔ کہیں ممتا کی صورت میں تو کہیں گھٹن اورطنز کی صورت میں۔

کشمیراور کشمیرکی سیاست ترنم ریاض کے افسانوی بیانیے کا ایک اہم حصہ ہے۔ان کے افسانوں میں کشمیر کے سیاسی،سماجی حالات کی عکاسی ملتی ہے۔وہ کرب جو کشمیری عوام کا مقدر بن چکا ہے ترنم ریاض کے افسانوی بیانیے میں اس کی جھلکیاں نظر آتی ہیں۔افسانہ ’ مٹی‘میںانھوںنے کشمیر کی سیاست کو موضوع بنایا ہے۔بظاہر جنت نظر آنے والی یہ ریاست وہاں کے مکینوں کے لیے کسی جہنم سے کم نہیں۔جہاں کے شہری دوسرے درجے کی زندگی جینے پر مجبور ہیں

کہتے ہیں اس رات وردی والے آدھی رات کو پھر آئے تھے۔جانے کس کی تلاش میں۔انھیں وہاں کوئی نہیں ملا تھا۔پھر بھی وہ کئی گھروں میں گھنٹوں رکے رہے۔ غلام حسن اس دن سے خون تھوکتا ہے اور اس کی بیٹی اس رات سے بول نہیں سکتی۔جب بھی نظر آتی ہے کسی کونے میں دبکی یا دیوار سے چپکی ہوئی۔کسی کے بلانے پر اس طرح چونکتی ہے جیسے بجلی کا کرنٹ لگ گیا ہو۔ ( ترنم ریاض ابابیلیں لوٹ آئیں گی، دہلی نرالی دنیا پبلی کیشنز،2000،ص78)

ترنم ریاض شعوری طورپرنسائیت کو اپنے افسانوں کا موضوع نہیں بناتیں۔ ان کے کرداروقوعہ کی پیداوار ہوتے ہیں۔ اس سماج کے پیداکردہ ہوتے ہیں۔ سماج اوراقدار کی تبدیلیاں انھیں جنم دیتی ہیں۔ جوکبھی مرد کی صورت میں نظرآتے ہیں تو کبھی عورت کی۔ جب یہ کردار عورت کی صورت میں جنم لیتے ہیں توافسانہ از خودنسائی پہلو اختیار کرلیتا ہے۔ عورت جو بہ یک وقت مختلف جذبوں کا مجموعہ ہے۔ کبھی ’سیتا‘ ہے تو کبھی’کالی‘ ہے۔ ترنم ریاض کے افسانوں میں مختلف صورتوں اورمختلف جذبوں کے ساتھ جلوہ گرہے۔ ممتا کا جذبہ غالب آتا ہے تو ’مائیں‘ اور ’آدھے چاند کا عکس‘ جنم لیتے ہیں۔ عورت بے بس ہوتی ہے تو ’اچھی صورت بھی کیا‘ ’اماں‘ ’بجھائے نہ بجھے‘ ’بابل‘ اور ’امّاں‘ وجودمیں آتی ہیں جو شوہر کا ظلم وستم چپ چاپ سہتی رہتی ہیں۔ یہ ظلم وستم جب انتہا کو پہنچتے ہیں تب ساحرہ (باپ) جنم لیتی ہے۔ جوچنڈی/ کالی کا روپ دھارن کرکے اس ظلم/ظالم کا ناش کرتی ہے۔ افسانہ ’باپ‘ اسی ظلم وستم کے خلاف ایک عورت (بیٹی) کا احتجاج ہے جو بلا شبہ ممتا کی دیوی ہے لیکن جب استحصال کے خلاف آواز اٹھاتی ہے تو کالی/چنڈی بن جاتی ہے۔

ترنم ریاض کے افسانوں کے کرداربذات خود ایک کہانی معلوم ہوتے ہیں۔ پس ماندہ طبقے کے استحصال زدہ اورپڑھے لکھے ترقی یافتہ دونوںطرح کے کرداران کے افسانوں میں نظرآتے ہیں۔ ایک طرف نچلے طبقے کی سندری، اماں، ریشما، سپنا جیسی عورتیں ہیں جن کی ساری زندگی دوسرے گھروں میں کام کرتے ہوئے گزرجاتی ہے اوردوسری طرف وہ مردہیں جو ان کی کمائی پرعیش کرتے ہیں اورانھیںمارتے پیٹتے بھی ہیں

اس کی طرف اکثرکام کرنے والی عورتوں کے شوہر کچھ نکمے واقع ہوئے تھے۔ عورتیں گھروں میں کام کرتیں۔ اور مرد اپنے گھروں میں بچے کھلاتے۔ شام کو جب عورتیں گھرکو لوٹتیں تو یہ پینے وینے نکل جاتے۔

( ترنم ریاض ابابیلیں لوٹ آئیں گی، دہلی نرالی دنیا پبلی کیشنز، 2000، ص31)

یا پھر چندرجیسے کردار ہیں جو اپنا الو سیدھا کرتے ہیں اورچلتے بنتے ہیں۔ ’باپ‘ جیسے درندہ صفت اور قمرالدین جیسے کاہل کرداربھی اسی سماج کی دین ہیں تو دوسری طرف ثناجیسی سادہ دل  لڑکی اورکنول جی جیسے معمرشخص بھی اسی سماج کی نمائندگی کرتے ہیں جو ایسی صورت حال سے نالاں ہیں جہاں زبان اورعلم بھی خانوں میں تقسیم ہے

زبانیں کیوں تعصب کا شکارہوں۔ یہ توعلم ہے اور علم کوئی بھی ہو برا نہیں ہوتا... علم تو علم ہوتا ہے۔ (ایضاً،ص62)

یہ وہ سماج ہے جہاں انسان ہی نہیں زبان اورعلم بھی مذہب کے خانوں میں تقسیم ہیں۔نوآبادیاتی دور میں انگریزوں نے اسی حکمت عملی کو اپناکر برسوں ہندوستان کو غلام بنائے رکھا۔پھوٹ ڈالو اور راج کروکی پالیسی آج بھی اتنی ہی کارگر ہے۔اب اسی رستے پر ہمارے سیاسی رہنما چل رہے ہیں۔اور عوام آج بھی زندہ درگور ہے۔

ترنم ریاض کے کرداریہ کام بخوبی انجام دیتے ہیں۔ کہانی، پلاٹ اورکردار کی تثلیث ان کے افسانوں کو ایک منفرد رنگ عطا کرتی ہے جس میں چارچاند لگانے کا کام وہ جزئیات نگاری سے لیتی ہیں۔ چاہے وہ کرداروں کی شخصیت اور نفسیات کو ابھارنے کا کام ہویا واقعے کو، جزئیات نگاری کا تفصیلی ذکر ان کے منفرد اسلوب کی پہچان ہے

وہ سائوتھ انڈین تھی۔ آبنوسی رنگ۔ بھرابھراجسم۔ بلکہ بھرنے کے پروسیس میں۔ بھرے بھرے لب ورخسار۔ بلی کی آنکھوں کی طرح آڑھی سی آنکھیں۔ یعنی آنکھوں کے اندرونی کونے نتھنوں کی طرف۔ اور باہری ماتھے کی طرف توے پربنی روٹی جیسے گول چہرے پرگول گول چھوٹی سی ناک، سفید دانتوں کی متناسب قطار۔ چھوٹی سی چولی اورگل بوٹوں کی چھینٹ والے گھاگھرے کے درمیان کسی کسائی کمر۔ (ایضاً،ص29)

ترنم ریاض کے بیشتر بیانیے کا بیان کنندہ واحد متکلم ہے۔ بیانیے میں راوی کے کردار کے متعلق عموماً قاری کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ واحد متکلم کا بیانیہ مصنف/مصنفہ کی سوانحی کوائف کا اشاریہ ہے تاہم ترنم ریاض کے یہاں راوی کردار اور مصنفہ کے درمیان بُعد ہے۔ وارث علوی نے لکھا ہے

افسانے کے راوی کے واحد متکلم ہونے کے باوصف اورکبھی کبھی سوانحی سایہ پڑنے کے باوجود، ترنم ریاض کا ہر افسانہ ایک ایسی حقیقت کا ترجمان ہے جوغیر شخصی اور آفاقی ہے اوراس پرایک انسانی فینومینا کے طور پرغورکیا جاسکتا ہے۔  (وارث علوی گنجفہ بازِ خیال مشمولہ جدید ادب، جرمنی شمارہ 18،ص124)

کہانی، پلاٹ، کردار، جزئیات نگاری ان کے وہ جوہراصلی ہیں جو معاصرین میں ان کی شناخت کو مستحکم کرتے ہیں۔ زبان سادہ اور سلیس ہے۔ زبان کا استعمال کرداروں کی مناسبت سے کیاگیا ہے تاکہ کہانی کی فضا میں یہ اجنبی معلوم نہ ہوں

میرے کو لگتا ہے میم صاحب کہ میرا سادی (شادی)  اسی کے ساتھ ہوگا۔(ترنم ریاض ابابیلیں لوٹ آئیں گی،دہلی نرالی دنیا پبلی کیشنز، 2000،ص32)

ان کے افسانے غیرضروری ابہام سے پاک ہیں۔ وہ کرشن چندر کی طرح آرائشی زبان استعمال نہیں کرتیں حالانکہ وہ بھی فطرت کی گود میں پلی بڑھی ہیں۔ جن کے متعلق بیدی کا یہ جملہ مشہور ہے کہ ’میرا یار جادو ہی جگاتا رہے گا یا کہانی بھی کبھی لکھے گا۔‘ ترنم ریاض جادو نہیں جگاتیں بلکہ کہانیاں لکھتی ہیں۔ ہماری اورآپ کی کہانیاں، یا یوں کہیں کہ انفس و آفاق کے قصے ان کی شعریات میں مبہم نہیں ہیںاور اسی لیے ان کا ورلڈ ویو بڑا واضح ہے۔

Dr. Yasmeen Rasheedi

Mob.: 9968549837


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں