جدید نظم اور ندا فاضلی: صبا زہرا رضوی


 ندا فاضلی اردو اور ہندی کے ایک ایسے ادیب، شاعر، نغمہ نگار، مکالمہ نویس اور صحافی تھے جنھوں نے  اردو شاعری کو ایک ایسا لب و لہجہ اور اسلوب دیا جس کو اردو ادب کے اشرافیہ نے ان سے پہلے قابل اعتنا نہیں سمجھا  تھا۔ ان کی شاعری میں اردو کا ایک نیا شعری محاورہ وجود میں آیا جس نے نئی نسل کو متوجہ اور متاثر کیا۔ ان کے اظہارمیں سنتوں کی بانی جیسی سادگی، اک قلندرانہ شان اور لوک گیتوں جیسی مٹھاس ہے۔ ان کے مخاطب عام لوگ تھے لہٰذا انھوں نے ان کی ہی زبان میں گفتگو کرتے ہوئے لطیف اورغیر جارحانہ  طنز کے ذریعے دل میں اتر جانے والی باتیں کیں۔ انھوں نے امیر خسرو، میر، رحیم اور نظیر اکبرآبادی کی بھولی بسری شعری روایت سے دوبارہ رشتہ جوڑنے کی کوشش کرتے ہوئے نہ  صرف اس روایت کی بازیافت کی بلکہ اس میں عصر حاضر کی لسانی ذہانت جوڑ کر  اردو کے نثری ادب میں بھی نئے امکانات کی نشاندہی کی۔ وہ بنیادی طور پر شاعر ہیں لیکن ان کے نثری اسلوب نے بھی اپنی الگ راہ بنا لی۔ ندا کی شاعری ہمیشہ نظریاتی ہٹ دھرمی اور ادعائیت سے پاک رہی۔

ندا فاضلی کی شاعری عام فہم زبان والی شاعری ہے۔ ان کی شاعری میں کہیں بھی پیچیدگی یا الجھاؤ نظر نہیں آتا ہے۔ ایک سبک رو ندی کی طرح بہاؤ والی شاعری ہے۔ فاضلی نے جن مسائل و موضوعات کو اپنی شاعری میں پیش کیا ہے ، ایسا نہیں ہے کہ یہ مسائل اور معاملات دوسرے معاصر شعرا کے یہاں نظر نہیں آتے، لیکن ان موضوعات کو جس خوبصورتی سے اور نہایت عام فہم زبان میں انھوں نے پیش کیا ہے، وہ انھیں دوسروں سے ممتاز ضرور کرتا ہے۔ انھوں نے عصر حاضر کی زندگی کے انہی حقائق کو اپنی شاعری میں جگہ دی ہے، جسے ہر شخص اپنی زندگی میں محسوس کرسکتا ہے۔

ندا کی نظموں میں انسانی جذبوں کی سرشاری اور زندگی کی بالکل ہی سچی تصویریں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ انسانی زندگی اور انسانیت دونوں کو مستحکم کرنے والے جو بھی عوامل اور عناصر شاعری کے لیے استعمال ہوسکتے ہیں،  ندا نے انھیں بہت ہی خوش اسلوبی سے استعمال کیے ہیں۔ پوری کائنات  اور بالخصوص ہندوستانی زمین اور اس زمین پر تنے ہوئے نیلے شامیانے اور اس شامیانے میں جڑے ہوئے چاند سورج اور ستارے اور ان دونوں کے بیچ خلاؤں میں اڑتے ہوئے رنگ برنگ پرندوں کو ندا نے بہت ہی قریب سے دیکھا اور محسوس کیا ہے۔ چاند، مانجھی، ندی، دریا، گوریا، پیپل کے پتے، برکھارۡت، ساون، بھادوں، انگیٹھی، کٹیا، بگلوں کی ڈاریں، کٹورے سا تال، مٹکے کا پانی او ربھی ایسے نشانات و آیات جو ہماری ہندوستانی تہذیبی بساط کو خوب صورت بناتے ہیں، ندا نے انھیں اپنی شاعری کا حصہ بنایا ہے۔ آپ ان الفاظ پر غور کریں تو اندازہ ہوگا کہ بہت کم ارد وکے شعرا ہیں جو ان کو اپنی شاعری میں جگہ دے پاتے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ ہے، اپنی تہذیبی جڑوں سے دوری یا کم ازکم ان کی طرف توجہ کا فقدان۔ اگر یہاں الفاظ کے اچھے یا برے ہونے کی بحث چھیڑ دی جائے تو بات غیرضروری طور پر نظریاتی مباحث کی لیک پر چل نکلے گی  اور ایسے میں ندا فاضلی کے شعری منشور سے چھن کر آنے والی ست رنگی شعاعوں سے ہمارے ذہن منور نہیں ہوسکیں گے، اس لیے اس بحث کو یہیں موقوف کیا جاتا ہے۔

اب تک جن پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی، ندا نے ان کے علاوہ بھی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو اپنی شاعری میں پیش کیا ہے۔ شاعروں کا محبوب موضوع عشق بھی رہا ہے۔ عشقیہ مضامین اور ان کے ارتعاشات بھی ندا کی شاعری میں ملتے ہیں۔ ایک چھوٹی سی نظم ’ایک ملاقات‘ پیش خدمت ہے

نیم تلے دو جسم اجانے چم چم بہتا ندیا جل

اڑی اڑی چہرے کی رنگت کھلے کھلے زلفوں کے بل

دبی دبی کچھ گیلی سانسیں جھکے جھکے سے نین کنول

نام اس کا؟ دو نیلی آنکھیں/ذات اس کی؟ رستے کی رات

مذہب اس کا؟ بھیگا موسم/پتا؟ بہاروں کی برسات

نظم پڑھتے ہوئے  الفاظ و تراکیب میں قطعی نہیں الجھتے بلکہ اس کی روانی میں  بہتے چلے جاتے ہیں۔ سچا جذبہ، سچا اور سیدھا اسلوب اظہارہی  ندا کی شاعری کا واضح نقش ہے۔ فکری پیچیدگی سے پرے اور پیچیدہ اسلوب سے دور ندا کی شاعری الگ سے پہچانی جاسکتی ہے۔

یہ نظم پیش خدمت ہے

پیار، نفرت، دیا، جفا، احسان/ قوم، بھاشا، وطن، دھرم، ایمان

عمر گویا/ چٹان ہے کوئی/ جس پہ انسان کوہ کن کی طرح

موت کی نہر/کھودنے کے لیے/ سیکڑوں تیشے/ آزماتا ہے

ہاتھ پاؤں چلائے جاتا ہے

ندا فاضلی خود رشتوں کی ٹوٹ پھوٹ کے بھوگی رہے ہیں، لہٰذا وہ ان رشتوں کو اپنی شاعری میں سجاتے سنوارتے رہے ہیں۔ سیاسی اور سماجی طور پر جو اتھل پتھل ہوتی ہے اسے بھی شاعر شعری پیکر عطا کرتا ہے۔ لیکن شاعر کا خلوص خواہ وہ دوستی کا ہو یا دشمنی کا، رشتوں کی الگنی پر دھوپ میں سوکھتے ہوئے زیادہ درخشاں اور پائندہ نظر آتا ہے۔

انسانی رشتے کی حقیقت اور نسلی بعد کو وہ اپنی ایک نظم میں اس طرح پیش کرتے ہیں         ؎

بیٹھے بیٹھے یونہی قلم لے کر/ میں نے کاغذ کے ایک کونے پر

اپنی ماں/ اپنے باپ، کے دو نام/ ایک گھیرا بنا کے کاٹ دیے

اور اس گول دائرے کے قریب/ اپنا چھوٹا سا نام ٹانک دیا

میرے اٹھتے ہی، میرے بچے نے/ پورے کاغذ کو لے کے پھاڑ دیا

یہاں کاغذ پھاڑنے کے ساتھ ساتھ، ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے شاعر کا دل بھی دو نیم ہوگیا ہے۔ یہی ہے وہ احساس کی لطافت جس میں شدت کی پھواریں ہیں اور یہی ہیں وہ پھواریں جو ندا کی شاعری کو ترفع (Sublimation) عطا کرتی ہیں۔

ندا کی شاعری میں جہاں انسانی دردمندی کے نغمے ہیں وہیں بچوں کی معصومیت کے تحفظ کا گیت بھی ہے        ؎

بچوں کے چھوٹے ہاتھوں کو چاند ستارے چھونے دو

چار کتابیں پڑھ کر یہ بھی ہم جیسے ہوجائیں گے

ہمیشہ مندر و مسجد میں وہ نہیں رہتا

سنا ہے بچوں میں چھپ کر وہ کھیلتا بھی نہیں

اسی طرح ان کی ایک مختصر سی نظم ’چھوٹی سی شاپنگ‘ ہے جس میں نہایت ہی سادگی کے ساتھ پانچ سال کی بچی کے لیے ایک گڑیا کی خریداری کا نقشہ پیش کیا گیا ہے اور پھر اس کی منظرکشی میں ندا نے جو تخلیقیت کے رنگ بھرے ہیں، اس سے وہ گڑیا رقص کناں ہوگئی ہے، ملاحظہ کیجیے        ؎

گوٹے والی/ لال اوڑھنی/ اس پر/ چولی گھاگھرا

اسی سے میچنگ کرنے والا/چھوٹا سا اک ناگرا

چھوٹی سی!/ یہ شاپنگ تھی/ یا/ کوئی جادو ٹونا

لمبا چوڑا شہر اچانک/ بن کر ایک کھلونا

اتہاسوں کا جال توڑ کے/ داڑھی، پگڑی، اونٹ چھوڑ کے

الف سے/ اماں/ بے سے/ بابا/ بیٹھا باج رہا تھا

پانچ سال کی بچی/ بن کر/ جے پور ناچ رہا تھا

تخلیقی ہنرمندی کے سبب ’داڑھی پگڑی اور اونٹ‘ جو کہ جے پور (راجستھان) کی تہذیبی شناخت خلق کرتے ہیں، ایک دم سے پانچ سال کی بچی کے لیے خریدی گئی گڑیا میں مبدل ہوکر ناچنے لگتے ہیں۔ یہ ان اشیا کی محض ظاہری تبدیلی نہیں ہے بلکہ اس لطیف جذبے کی قلب ماہیت ہے جو شاعر کے دل میں اس بچی کے لیے پل رہا ہے۔ ندا نے رشتوں کے باطن میں اترنے اور انھیں محسوس کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہی معصوم رشتہ جب گاؤں، گھر، خاندان کی طرف مراجعت کرتا ہے تو تخلیقی شعور کی کہکشاں آسمانِ شاعری پر یوں ابھرتی ہے        ؎

میں برسوں بعد/ اپنے گھر کو تلاش کرتا ہوا/ اپنے گھر پہنچا/ لیکن میرے گھر میں

اب میرا گھر نہیں تھا/ اب میرے بھائی اجنبی عورتوں کے شوہر بن چکے تھے/ میرے گھر میں

اب میری بہنیں/ انجانے مردو ںکے ساتھ مجھ سے ملنے آئی تھیں/ اپنے اپنے دائروں میں تقسیم

میرے بھائی بہن کا پیار/ اب صرف تحفوں کا لین دین بن چکا تھا/ میں جب تک وہاں رہا

شیو کرنے کے بعد/برش، کریم، سیفٹی ریزر/ خودد ھوکر اٹیچی میں رکھتا رہا/ میلے کپڑے

خود گن کر لانڈری میں دیتا رہا/ اب میرے گھر میں وہ نہیں تھے/ جو بہت سوں میں بٹ کر بھی

پورے کے پورے میرے تھے/ جنھیں میری ہر کھوئی چیز کا پتہ یاد تھا

مجھے کافی دیر ہوگئی تھی/ دیر ہوجانے پر کھویا ہوا گھر/ آسمان کا ستارہ بن جاتا ہے

جو دور سے بلاتا ہے/ لیکن پاس نہیں آتا ہے              (نظم دور کا ستارہ)

اس نظم میں محض ’ندا‘ کا مشاہدہ یا نجی تجربہ نہیں بلکہ گھر خاندان کے افراد کا الگ الگ ہوکر زندگی گزارنا، بھائی بہنوں کی شادیاں ہونے کے بعد آنگن میں ’اجنبیت‘ کا آجانا، تحفے کا لین دین— اس طرح دھیرے دھیرے قربتوں کا دوریوں میں بدل جانا، سب کچھ شامل ہے۔ یہ بہت ہی سچا Landscape ہے جسے ندا فاضلی نے بنایا ہے۔

یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ ندا نے، اگر غلط نہیں، تو صرف رشتوں کی شاعری کی ہے۔ خاندانی افراد کے رشتوں کی، بہن بھائی اور ماں باپ کے رشتوں کی، پہاڑ اور چرند و پرند کے رشتوں کی، یعنی مظاہر قدرت میں بھی وہ ایک طرح سے رشتوں کے متلاشی نظر آتے ہیں۔ انھیں شاید رشتوں کی کہانی سنانے میں روحانی خوشی محسوس ہوتی ہے۔ یہاں ایک ’نظم‘ جو کہ غزل کے فارم میں ہے، ملاحظہ کیجیے اور دیکھیے کہ ندا نے ’ماں‘ کے روپ کو کس طرح پینٹ کرنے کی کوشش کی ہے     ؎

بیسن کی سوندھی روٹی پر کھٹی چٹنی جیسی ماں

یاد آتی ہے چوکا باسن چمٹا پھۡکنی جیسی ماں

بانس کی کھرّی کھاٹ کے اوپر ہر آہٹ پر کان دھرے

آدھی سوئی، آدھی جاگی، تھکی دوپہری جیسی ماں

چڑیوں کی چہکار میں گونجے رادھا موہن علی علی

مرغی کی آواز سے کھلتی گھر کی کنڈی جیسی ماں

بیوی، بیٹی، بہن، پڑوسن تھوڑی تھوڑی سی سب میں

دن بھر اک رسّی کے اوپر چلتی نٹنی جیسی ماں

بانٹ کے اپنا چہرہ، ماتھا، آنکھیں، جانے کہاں گئی

پھٹے پرانے اک البم میں چنچل لڑکی جیسی ماں

ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ندا نے ماں پر پورا ایک ناول تحریر کردیا ہے۔ کتنی جہتیں ہیں۔ اردو شاعری میں ’ماں‘ کو طرح طرح سے عقیدتوں کی شکل میں پیش کیا گیا ہے۔ آخر کے شعر میں ماں کے وجود کے بکھرنے یا یہ کہہ لیں کہ ماں کے اپنے وجود کو اپنی نئی نسل میں بانٹ کر خرچ کرکے مٹ جانے کا نقشہ پیش کیا گیا ہے۔ آپ ملاحظہ کیجیے کہ کس طرح یہ شعر پورے  Sensory Nerves میں سنسناہٹ پیدا کردیتا ہے         ؎

بانٹ کے اپنا چہرہ ماتھا، آنکھیں جانے کہاں گئیں

پھٹے پرانے اک البم میں چنچل لڑکی جیسی ماں

وارث علوی نے ندا پر لکھے گئے اپنے مضمون ’جدید شاعری کا معتبر نام- ندا فاضلی‘ (مشمولہ ’ناخن کا قرض‘) میں لکھا ہے کہ

’’میرے نزدیک  اردو میں ’ماں‘ کے موضوع پر صرف دو نظمیں یادگار رہیں گی۔ فراق کی نظم ’جگنو‘ اور ندا کی منقولہ بالا نظم۔‘‘ (ص 91)

حالانکہ ندا نے یہ نظم بغیر کسی عنوان کے کہی ہے اور غزل کی ہیئت میں کہی ہے۔ وارث علوی نے دو صفحات میں اسی نظم کے مختلف نقوش اور جہتوں کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے اور یہ بتایا ہے کہ ندا نے ایک ہندوستانی ماں کی تصویر ہندوستانی پس منظر میں خوبصورت لفظوں کی مدد سے پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔

ندا فاضلی نے اس پوری کائنات کو کھلی آنکھوں سے دیکھا اور اس کی بیشتر اشیا کو اپنے باطن میں اتارنے، سنوارنے اور پھر الفاظ کے پیکر میں ڈھالنے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے نظموں اور غزلوں کو کم و بیش مساوی طور پر اپنی تخلیقات میں برتنے کی کوشش کی ہے۔ ان کی شاعری پڑھتے ہوئے ایک خاص بات جو سمجھ میں آتی ہے، وہ ہے ان کا اپنی مٹی اور اس کی جڑوں سے پیار۔ بلکہ ایسا جیسے ان کے لہو میں اس دھرتی کا رنگ حلول کرگیا ہے۔ ان کے یہاں صوفی سنتوں کے اقوال احساس کی حد تک اور ہندوستانی رنگ تنفس کی حد تک نظر آتا ہے۔ ان کی شاعری میں Urban کردار کے بجائے ایک Rural اور دیہی کردار ابھرتا ہے اور اسی لیے انھوں نے اپنے کلیات کو بھی ’شہر میں گاؤں‘ سے موسوم کیا ہے۔ آخر میں یہ شعر ملاحظہ کیجیے جو میرے خیال سے، ندا فاضلی کی شعری اساس تک پہنچنے کا راستہ دیتا ہے           ؎

کھول کے کھڑکی چاند ہنسا پھر چاند نے دونوں ہاتھوں سے

رنگ اڑائے، پھول کھلائے، چڑیوں کو آزاد کیا

Saba Zehra Rizvi

Zamir Apartment, 1st Floor

Near- Almass Marriage Hall

Hussainabad, Chowk

Lucknow - 226003 (UP)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں