رضوان اللہ فاروقی، قصہ ما مشعلے روکند راہ صواب! : نایاب حسن


 

اردو کے بزرگ صحافی،ادیب و شاعر،سیلف میڈ شخصیت اور متعدد کتابوں کے مصنف و مترجم رضوان اللہ فاروقی 8اکتوبر 2022کی صبح انتقال کر گئے۔ ابوالفضل انکلیو،جامعہ نگر،اوکھلا(نئی دہلی) میں ان کی رہائش تھی، ان کی عمر تقریباً 92 برس تھی۔ مرحوم کا اصل وطنی تعلق اعظم گڑھ کے کوئریا پار سے تھا، مگر چالیس سال کا عرصہ ہوا کہ وہ دہلی میں مقیم تھے۔ بٹلہ ہاؤس، ذاکرنگر، شاہین باغ و ابوالفضل انکلیو ان کی آنکھوں کے سامنے آباد ہوئے، وہ 1977-78 میں اس علاقے میں آکر رہائش پذیر ہوئے تھے۔ وہ اپنے مزاج کے اعتبار سے خاصے گوشہ گیر ، خلوت گزیں اور اپنے کام سے کام رکھنے والے انسان تھے

ان سے ہمارا تعارف مختلف اخبارات میں شائع ہونے والے ان کے مضامین کے ذریعے کئی سال قبل ہوا، مگر چند ماہ قبل ان کی خودنوشت’اوراقِ ہستی‘ پڑھنے کا موقع ملا، تو ان کی شخصیت اور زندگی کے کئی پہلووں سے خوشگوار و حیرت انگیز آشنائی ہوئی۔ اس عمر میں بھی ان کے ذہن و قلم ایکٹیو تھے اور 488صفحات پر مشتمل مذکورہ خودنوشت 2020میں شائع ہوئی، جبکہ تبصروں کا ایک مجموعہ تو ابھی چند ماہ پہلے انھوں نے شائع کروایا تھا۔

اس کتاب کو انھوں نے چار اوراق میں تقسیم کیا ہے اور ہر ورق کے ذیل میں اپنی زندگی کے ایک حصے کا احوال بیان کیا ہے۔ ’پہلا ورق‘ ابتدائی حالات،خانگی کوائف ، ددیہالی و ننھیالی خاندان کی تفصیلات، تعلیمی سلسلوں، جونپورو کانپور کے قیام، بنارس و دیوریا کی ملازمتوں کے ذکر پر مشتمل ہے۔

’دوسرا ورق‘ ان کی صحافتی زندگی کو بیان کرتا ہے، جس کا باقاعدہ آغاز کلکتہ کے ’عصر جدید‘ سے 1951 میں ہوا تھا۔ اس کے علاوہ’آزاد ہند‘ اور دیگر اخباروں میں بھی وہ ایڈٹنگ اور ترجمہ نگاری کا کام کرتے رہے۔ یہ حصہ 153 سے 282 صفحات تک پھیلا ہوا ہے اور اس میں 1951سے 1975تک کی نہ صرف اپنی پیشہ ورانہ زندگی کے نشیب و فراز کی داستان انھوں نے لکھی ہے؛ بلکہ اس کے بین السطور میں وہاں کی پچیس سالہ اردو صحافت کی پوری تاریخ سمٹ آئی ہے۔ جن اخباروں (خصوصاً عصر جدید اور آزاد ہند) میں انھوں نے کام کیے، وہاں کے اندرونی حالات، ان کے مالکان اور ملازموں کی کشمکش ، اخباری دفاتر کے اندر اور باہر چلنے والی بوگس سیاستوں، وہاں کام کرنے والے مختلف اشخاص کا احوال اور ان اخباروں میں شائع ہونے والے مواد پر اجمالی تبصرے کے ساتھ اس دوران ذاتی زندگی میں رونما ہونے والے انقلابات کا بھی اس حصے میں ذکر کیا ہے۔ اسی طرح آزادی کے فوراً بعد اردو صحافت کو جس قیامت خیز صورتِ حال کا سامنا تھا اور اردو کے صحافی جس کس مپرسی سے گزر رہے تھے،اس کا بھی مجموعی جائزہ لیا ہے۔ 

کلکتہ میں قیام کے دوران ہی انھوں نے کلکتہ یونیورسٹی سے جرنلزم میں پوسٹ گریجویشن کیا، گریجویشن وہ کرائسٹ چرچ کالج کانپور سے کرچکے تھے۔ 1957 میں عصر جدید کے منیجر اشتہارات بھارتی جی کی معرفت ان کی رسائی امریکی دفتر اطلاعات تک ہوئی اور پھر ایک معقول ملازمت کی راہ نکل آئی، 1975تک تو اس کے لیے جزوقتی اردو ترجمہ و ایڈٹنگ کا کام کرتے رہے ، پھر اسی سال انھیں اس کے دہلی دفتر میں شعبۂ اردو کا ذمے دار بناکر بھیجا گیا۔ اپنی سوانح کے ’تیسرے ورق‘ میں ملازمت کے اسی دور کا انھوں نے احاطہ کیا ہے، جو 1992 تک دراز ہے۔ اس دوران انھیں جن ذاتی واقعات و سانحات سے گزرنا پڑا، پیشہ ورانہ مصروفیتوں کے ذیل میں ملک اور ملک سے باہر جو اسفار کیے اور کس طرح مختلف چیلنجز کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے فرائض انجام دیتے رہے، ان سب کا احوال اس حصے میں ہے، جبکہ ’چوتھا ورق‘ انھوں نے اپنے اسفار کی روداد کے لیے خاص کیا ہے۔ اس میں خود ہندوستان کے مختلف شہروں کے علاوہ افغانستان، پاکستان، برطانیہ و امریکہ وغیرہ کے سفرنامے انھوں نے تحریر کیے ہیں۔

اس کتاب کے مطالعے سے مجھے معلوم ہوا کہ پروفیسرفیضان اللہ فاروقی پانچ بھائیوں میں ان کے سب سے چھوٹے بھائی تھے، جن کا 2020میں انتقال ہوا ہے ، وہ جے این یو کے شعبہ عربی سے ریٹائرڈ اور قدیم فاضل دیوبند تھے۔ اسی طرح ابتدائی حصے میں جو خاندان کا احوال انھوں نے بیان کیا ہے ، اس سے معلوم ہوا کہ اردو کے معروف دانش ور اور نقاد شمس الرحمن فاروقی کا تعلق بھی انھی کے خاندان سے تھا، وہ رشتے میں رضوان اللہ صاحب کے بھتیجے تھے، ان کے چچازاد بھائی خلیل الرحمن صاحب کے بیٹے تھے، شمس الرحمن فاروقی کے دادا مولوی اصغر گورکھپور گورنمنٹ اسکول میں اردو فارسی پڑھاتے تھے اور فراق گورکھپوری کے بچپن کے استاذ تھے۔ اس حصے کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا خاندان کافی بھرا پۡرا تھا اور بیشتر لوگ مختلف علوم و فنون سے آراستہ اور صاحبانِ وقار و اعتبار تھے۔ مجموعی طورپر ان کا خاندان مشرقی یوپی کے زمیندار خاندانوں میں سے ایک تھا، مگر اس کی زمینداری مرورِ زمانہ کی وجہ سے بہ تدریج سمٹتی، سکڑتی گئی اور بالآخر آزادی کے بعد اس کا کلی خاتمہ ہوگیا، جس کی وجہ سے ان کے خاندان کے دوسرے نوجوانوں کی طرح خود رضوان اللہ صاحب کو بھی اپنی تعلیمی و عملی زندگی میں بے شمار دشواریوں سے دوچار ہونا پڑا اور انھیں ایسی آسودگی کبھی حاصل نہ رہی، جو انسان کو حقیقی معنوں میں احساسِ عیش سے ہم کنار کرتی اور غمِ روزگار سے مستغنی کردیتی ہے؛ لیکن حالات کی تنگی و ترشی کے باوجود انھوں نے کبھی ناشکری کا دامن نہیں تھاما، ہمیشہ باحوصلہ رہے، صابر و شاکر رہے، ان کی امنگوں، ترنگوں اور تازہ دمی و شادابی میں تاحیات کوئی کمی نہیں آئی اور سینہ سپر ہوکر ہر قسم کے سانحے کا مقابلہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ تاحیات ذہنی و نفسیاتی اعتبار سے توانا رہے، ان کی غیر معمولی صلاحیتیں علم و قلم کی مختلف راہوں کو اجالتی رہیں اور انھوں نے زبان و ادب کے کئی گوشوں کو اپنے نتائجِ فکر و تخلیق سے منور کیا۔ 

اس کتاب کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ رضوان اللہ صاحب نے اس میں زمانی ترتیب کو ملحوظ رکھتے ہوئے سلسلہ وار اپنا زندگی نامہ تحریر کیا ہے، ایک اور خاص بات یہ ہے کہ چونکہ وہ ایک دیدہ ور صحافی ہیں اور اخباری صحافت کے علاوہ سفارتی صحافت سے بھی ان کا گہرا رشتہ رہا ہے؛ اس لیے وہ اپنے حالات کے ساتھ مختلف زمانی وقفوں میں رونما ہونے والے قومی و عالمی سانحات وواقعات کا تذکرہ و تجزیہ بھی کرتے ہیں۔ ایک حسن اس کتاب کا زبان و بیان کی سلاست، شیرینی اور غیر معمولی روانی بھی ہے، چونکہ رضوان اللہ صاحب محض روایتی قسم کے صحافی نہیں تھے، انھیں اردو کے علاوہ فارسی و انگریزی زبانوں پر بھی کامل عبور تھا اور ادبی و شعری ذوق بھی بڑا زرخیز تھا؛ اس لیے ان کی اس کتاب میں معلومات ، تجزیوں اور مختلف سیاسی و سماجی حالات پر چشم کشا تبصروں کے علاوہ اسلوب و ادا کی رعنائی و زیبائی بھی بخوبی پائی جاتی ہے۔ پڑھتے ہوئے کہیں طبیعت کو اضمحلال ،بوریت یا تکان کا احساس نہیں ہوتا۔ ان کی دوسری نثری نگارشات بھی زبان و اسلوب کی ان خوبیوں سے بہ تمام و کمال لیس ہیں۔

اس خودنوشت کے علاوہ ان کا ایک شعری مجموعہ ’متاعِ سحر‘(ط2008) ہے، جس میں اردو نظموں، غزلوں کے علاوہ ان کا فارسی کلام بھی شامل ہے۔ ’اوراقِ مصور‘ (ط2002) ان کی ایک طویل مثنوی اور دو نظموں کا مجموعہ ہے۔’عکس خیال‘ دو لسانی(اردو و انگریزی) نظموں اور غزلوں کا مجموعہ ہے۔

رضوان اللہ صاحب کی شاعری بڑی جان دار و طرح دار ہے، ان کی غیر معمولی مشاہداتی قوت اور زبان آوری اس سلسلے میں خصوصاً ان کے ہم رکاب رہی ہے؛ چنانچہ ان کی نظموں اور غزلوں میں معنی آفرینی بھی ہے اور ان کی لفظیاتی سطح بھی بڑی ہموار، خوش رنگ اور دل آگیں ہے۔ انھوں نے اپنے طویل سفرِ حیات میں ذاتی زندگی کی اتھل پتھل کے علاوہ ملک اور دنیا کے بے پناہ تغیرات و سانحات دیکھے اور ایک سرگرم صحافی ہونے کی وجہ سے ایسے کئی سانحات کے وہ چشم دید گواہ بھی رہے؛ اس لیے ان کی شاعری،خصوصاً نظمیہ شاعری میں زمینی حقائق و احوال کی عکاسی محض شاعرانہ خیال آرائی پر مبنی نہیں ہے؛ بلکہ وہ اپنے واقعاتی پس منظر کے ساتھ ہمارے سامنے جلوہ گر ہوتی ہے۔ یہی حال ان کی غزلوں کا بھی ہے، البتہ ان میں رومانیت اور حسن و عشق، ہجر و فراق جیسے روایتی موضوعات کو بھی انھوں نے برتا ہے، مگر ظاہری ساخت اور تخیل کے حوالے سے اپنا انفراد بھی انھوں نے قائم رکھا ہے،چند اشعار ، جن میں انسانی  زندگی کے کئی رنگ جھلملاتے نظر آتے ہیں        ؎

وہ جہاں بھی کیسا جہان تھا، جہاں رات میری گزر گئی

وہ ہواے شوق تھی مشک بو رگِ جاں کو جیسے کتر گئی

کوئی رشکِ حسنِ تمام تھا،وہی قد و قامتِ سرو سا

وہی برق جس کا بیاں ہو کیا، جو گری تو دل میں اتر گئی

 

دل کہاں ہر کسی سے ملتا ہے

یہ تو بس آپ ہی سے ملتا ہے

تکتا رہتا ہوں دیر تک اس کو

چہرہ جس کا کسی سے ملتا ہے

لے کے جائے جہاں بھی مجبوری

کون کس سے خوشی سے ملتا ہے

 

نہ دکھا سکا تجھے داغِ دل، نہ سمجھ کہ بجھ گئے سب دیے

یہ لحاظ مجھ کو ضرور ہے، نہ ہو داستاں یہ زباں زباں

جو کہا کسی نے وہ آرہا ہے کوئی فریفتہ آپ کا

تو نگاہِ ناز اٹھی ذرا، کہا اِک ادا سے کہاں؟ کہاں؟

 

سنو سنو کہ جوانی رہے رہے نہ رہے

گھڑی گھڑی ہے سہانی ،رہے رہے نہ رہے

چلو چلو کہ تماشاے زندگی دیکھیں

یہ رنگ روپ ہے فانی رہے رہے نہ رہے

نظمیں انھوں نے پابند بھی کہی ہیں اور معریٰ بھی اور دونوں قسم کی نظمیں اپنی بنت کے اعتبار سے بڑی توانا اور مقصدیت سے معمور ہیں، ان کے موضوعات زیادہ تر سماجی مسائل کا احاطہ کرتے ہیں یا فرد کے احوال کی تخلیقی و تخیلاتی منظر کشی کرتے ہیں۔ خود اپنے آپ کو موضوع بناکر جو نظمیں انھوں نے کہی ہیں، وہ بھی اپنے پیغام یا مجموعی فضا کے اعتبار سے عمومی معنی لیے ہوئی ہیں۔’ نئے آدم کی تشکیل‘، ’اکیلی کتاب‘، ’تلاش‘، ’درد کی لذت باقی ہے‘، ’روٹی‘، ’سیل‘ اور سفر جاری ہے‘ ان کی بہت خوب صورت، معنی خیز اور انسانی المیوں کو واشگاف کرنے والی بڑی پر شوکت نظمیں ہیں۔

انھوں نے میر و غالب کی غزلوں پر تضمینیں بھی بہت شان دار کی ہیں ، مثلاً میر کی ایک غزل پر تضمین  کا پہلا بند ملاحظہ کیجیے          ؎

دنیا سے بے خبر تھا عجب اضطراب تھا

گویا جہاں کو آنکھ کا پردہ حجاب تھا

پہلو میں ایک دل تھا سو خانہ خراب تھا

’دل میں بھرا زبسکہ خیالِ شراب تھا

مانند آئینے کے مرے گھر میں آب تھا‘

غالب کی ایک مشہور غزل پر بھی انھوں نے بہت اچھی تضمین کی ہے، ایک بند       ؎      

ہتھیلی پر انا لے کر جو محتاجِ کرم نکلے

قیامت سے گزرنا تھا جو گم نامی سے ہم نکلے

تمناؤں کے پھندے میں زبوں، صیدِ الم نکلے

 ’ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے‘

اس کے علاوہ مثنوی،رباعی اور قطعہ نگاری میں بھی رضوان اللہ صاحب نے طبع آزمائی کی ہے اور اپنی تخلیقی جولانی کے عمدہ نقوش پیش کیے ہیں۔

وہ فارسی سخن طرازی میں بھی غیر معمولی دست رس رکھتے تھے اور باقاعدہ اس زبان میں غزلیں ، نظمیں اور رباعی وغیرہ کہی ہیں۔ ان کی فارسی شاعری میں بھی تخیل کی بلند پروازی اور لفظیات کی شیرینی و سحر انگیزی مرتبۂ کمال کو پہنچی ہوئی ہے، اسے پڑھتے ہوئے ہمیں اردو کے ساتھ فارسی زبان اور اس کے شعری در و بست پر ان کی حیرت انگیز گرفت کا احساس ہوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ فارسی شاعری کی پوری روایت ،جو منوچہری و رودکی، فردوسی و عمر خیام، فریدالدین عطار و سنائی، سعدی و حافظ شیرازی، شمس تبریزی و مولانا روم اور امیر خسرو و اقبال وغیرہ سے وابستہ ہے، ان کے پیشِ نظر ہے اور اسی روایت کو وہ اپنے شوخ و شیریں و دل کش انداز میں آگے بڑھا رہے ہیں۔ بڑے رواں،سلیس اور شگفتہ الفاظ میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں اور خاصے دل آویز پیرایے میں اپنے افکار کو اشعار کے پیکر میں ڈھالتے ہیں۔ چند اشعار ملاحظہ فرمائیں            ؎

اے تیرگی وداع کہ پیروزیِ سحر

برکف نہادہ طالعِ بیدار آمدیم

برخیز! دست آر! کہ بنیانِ نو نہیم

نے ما براے شورش و پیکار آمدیم

(اے تیرگی رخصت ہوجا کہ صبح دم ہم اپنی ہتھیلی پر بختِ بیدار لے کر آئے ہیں۔ اٹھو،اپنا ہاتھ بڑھاؤ کہ مل کر ہم بنیادِ نو اٹھائیں، ہم محض ہنگامہ و معرکہ آرائی کے لیے نہیں آئے)   

چوں نہ بینی دردِ پنہاں چشم و دامانم نگر

داغہا درسینہ دارم، زخمِ عریانم نگر

قصۂ ما مشعلے روشن کند راہِ صواب

شعلہ سامانم ولے گلہا بدامانم نگر

(اگر تمھیں میرا دردِ پنہاں نظر نہیں آرہا تو میرے چشم و دامن کو دیکھو، میرے سینے میں بے شمار داغ ہیں،(تم) میرے اس زخم(کوہی دیکھ لو) جو ظاہر ہے۔ ہمارا قصہ یہ ہے کہ ہم اس مشعل کے مانند ہیں، جو راہِ راست کو روشن کرتی ہے، ہم خود تو شعلہ ساماں ہیں مگر اپنے دامن میں پھول رکھتے ہیں، دیکھو!)      

سحر دمید بیا بام و درکشادہ کنیم

بیا کہ قصۂ فصلِ بہار تازہ کنیم

بیا کہ خوشۂ  دل جامِ ارغواں پر کرد

بیا بیا کہ بہم باز شغلِ بادہ کنیم

(صبح ہوچکی، آؤ کہ بام و در کھولیں، آؤ کہ موسمِ بہار کے قصے کو تازہ کریں۔ آؤ کہ خوشۂ دل نے جامِ ارغواں کو بھردیا ہے، آؤ آؤ کہ ہم پھر شغلِ بادہ نوشی کریں)

 

ما چراغ ہستیم و پروانہ خودیم

طرفہ خود آگاہ و دیوانہ خودیم

پاسدارِ آبروے دردِ خویش

ما صدف ہستیم و دردانہ خودیم

(ہمیں چراغ ہیں اور ہمیں پروانہ ہیں، عجب یہ ہے کہ ہم خود آگاہ بھی ہیں اور ہم پر دیوانگی بھی طاری ہے، ہم اپنی آبروے درد کے محافظ ہیں، ہمیں صدف ہیں اور ہمیں موتی ہیں)

 نثر میں ان کی ایک کتاب’ کلکتہ کی اردو صحافت اور میں‘ ہے، جس میں کلکتہ کی اپنی صحافتی سرگرمیوں اور وہاں کی مجموعی اردو صحافت کے اور چھور پر تفصیل سے لکھا ہے۔ ’ہمارے گاؤں ہمارے لوگ‘ میں اپنے گاؤں اور وہاں کے بعض مخصوص لوگوں کا خاکہ کھینچا ہے۔’بے ادبیات‘ ان کی ایک دلچسپ کتاب ہے، جس میں طنزیہ و مزاحیہ مضامین اور منظومات جمع ہیں ، ابھی وفات سے چند ماہ قبل ان کی ایک کتاب’تبصراتِ کتب‘ شائع ہوئی تھی ، جس میں انھوں نے ایک منفرد تجربہ کیا ہے۔ کتاب کے دو حصے ہیں، پہلے حصے میں خود اپنی کتابوں پر مختلف لوگوں کے لکھے ہوئے تبصروں کو شامل کیا ہے، جن کی تعداد سولہ ہے اور دوسرے حصے میں دوسرے مصنّفین کی کتابوں پر اپنے تبصرے شامل کیے ہیں اور ان کی تعداد ستائیس اٹھائیس ہے۔

لکھنے کے ساتھ ساتھ ترجمہ نگاری بھی رضوان اللہ صاحب کا کل وقتی مشغلہ تھا؛ اس لیے انھوں نے پیشہ ورانہ تراجم کے علاوہ خود اپنی بہت سی تحریروں کے انگریزی ترجمے کیے اور دوسرے مصنّفین کی متعدد کتابوں کے ترجمے بھی ان کے قلم سے منظر عام پر آئے، ان میں سے ایک اقبال سہیل کی مشہور کتاب’ ربا کیا ہے؟‘ کا انگریزی ترجمہ What is Reba اور  ابوالفضل انکلیو کے بانی ابوالفضل فاروقی کی خود نوشت سوانح’ نشیب و فراز‘ کا انگریزی ترجمہ Ups and Downs خاص طورپر قابلِ ذکر ہیں۔ ان کے علاوہ پروفیسر مقبول احمد کی متعدد تصانیف اور مختلف نصابی کتابوں کے اردو سے انگریزی ترجمے کیے۔

الغرض رضوان اللہ صاحب کی شخصیت بڑی ذوجہات تھی، زندگی انھوں نے بڑی بھرپور ، بافیض اور ماجرا پرور گزاری ،اردو صحافت کا وقار بن کر رہے اور اپنے پیچھے منثور و منظوم تخلیقات و تراجم کا قابلِ قدر ذخیرہ چھوڑ گئے۔ ان کی بعض تصانیف مکتبہ جامعہ سے حاصل کی جاسکتی ہیں  rizwanullah.com کے نام سے ان کی پرسنل ویب سائٹ بھی ہے ، جو انھوں نے 2015میں بنوائی تھی۔ وہاں ان کی منتخب تحریریں اور پی ڈی ایف ورژن میں ان کی کتابیں بھی مل جائیں گی۔

Nayab Hasan

A-22, Seema Apts, Lane No.: 7

Batla House, Jamia Nagar

New Delhi - 110025

Mob.: 9560188574 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں