وانمباڑی کتاب میلے کا چھٹا دن: یوپی ایس سی اور دیگر مسابقتی امتحانات کی تیاری کے سلسلے میں طلبہ کی رہنمائی کے لیے خصوصی پروگرام کا انعقاد

 




 وانمباڑی: قومی اردو کونسل اور وانمباڑی مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی کے اشتراک سے جاری پچیسویں قومی اردو کتاب میلے کے چھٹے دن بھی شائقین کتب بڑی تعداد میں کتابوں کی خریداری کرتے نظر آئے ، ساتھ ہی آج سول سروسز اور دیگر مسابقتی امتحانات کی تیاری کے سلسلے میں رہنمائی کے لیے ایک خصوصی پروگرام کا بھی انعقاد ہوا، جس میں ماہرین نے طلبہ و طالبات کو اپنے قیمتی مشوروں سے نوازا۔ اس پر گرام کی صدارت مدینہ منورہ میں مقیم معروف کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر اعجاز غنی نے کی اور انھوں نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ  یوپی ایس سی اگزام اعلی سرکاری عہدوں تک پہنچنے کے لیے سب سے باوقار امتحان سمجھا جاتا ہے، اس کے لیے بہت زیادہ ذہانت اور کسی خاص میڈیم سے پڑھا ہوا ہونا ضروری نہیں، اردو میڈیم سے پڑھ کر بھی اس امتحان میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے اور اس کی کئی مثالیں موجود ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے طلبہ و طالبات غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل ہیں، بس ضرورت اس بات کی ہے کہ اپنی صلاحیتوں کا درست استعمال کیا جائے، سنجیدگی و انہماک کے ساتھ اپنی تعلیمی مصروفیات انجام دے کر ہم بڑے سے بڑا امتحان پاس کر سکتے ہیں۔

 ٹرسٹی وانمباڑی مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی جناب منڈی محمد اسلم نے کہا کہ آج کے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں دنیا کی تمام زندہ زبانیں نئی نئی ترقیات حاصل کر رہی ہیں ، ان میں اردو بھی شامل ہے جو ایک عالمی زبان میں تبدیل ہوچکی ہے، اسی وجہ سے ہندوستان بھر میں اردو میڈیم اسکولوں کے علاوہ بہت سی یونیورسٹیوں میں بھی اردو کی تعلیم کا اہتمام ہے، ساتھ ہی اردو میڈیم سے تعلیم حاصل کرکے اعلی مسابقتی امتحانات میں بھی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے اردو طلبہ کے لیے وی ایم ای سوسائٹی کے کالج میں مفت تعلیم کے انتظام کا ذکر کرتے ہوئے اس کے نصاب پر بھی گفتگو کی۔

یو پی ایس سی امتحانات کی کوچنگ کے حوالے سے جنوبی ہند کے مشہور و معروف ادارہ بنجارہ اکیڈمی کے بانی و چیرمین ڈاکٹر علی خواجہ نے اپنے پر مغز خطاب میں کہا کہ کسی بھی شعبے میں تعلیم حاصل کر رہے طلبا کو کامیابی اسی وقت ملتی ہے جب ان کے اندر ذوقِ جستجو ہو، اس کے بغیر کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔ ساتھ ہی حوصلہ مندی اور آگے بڑھنے کا عزم بھی ہونا چاہیے، احساسِ کمتری کے ساتھ آپ کامیاب نہیں ہو سکتے۔ انھوں نے سول سروسز امتحانات کے حوالے سے کہا کہ ان میں شرکت کے لیے صرف کسی بھی سبجیکٹ سے گریجویشن ہونا ضروری ہے اور کامیابی کے لیے اپنے متعلقہ موضوع میں اختصاص کے ساتھ خود اعتمادی اور جوش و جذبہ ہونا چاہیے ۔ انھوں نے کہا کہ مقابلہ جاتی امتحانات میں بہت ذہین لوگ کامیاب نہیں ہوتے بلکہ جو لوگ اچھی طرح ان امتحانات کی تیاری کرتے ہیں، وہ کامیاب ہوتے ہیں اس لیے ہمیں ہمت نہیں ہارنا چاہیے بلکہ اپنا ہدف مقرر کرکے اس کے حصول کے لیے مسلسل محنت کرنی چاہیے۔ اس موقعے پر انھوں نے یو پی ایس سی کے علاوہ مرکزی و ریاستی سرکاروں کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے دیگر مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کے سلسلے میں بھی گراں قدر معلومات فراہم کیں ۔

ہندوستانی فوج میں خدمات انجام دے چکے کرنل ونود نے انڈین آرمی، انڈین ایئر فورس اور نیوی کے مختلف شعبوں میں شمولیت کے لیے نیشنل ڈیفینس اکیڈمی کے ذریعے ہندوستان گیر سطح پر منعقد ہونے والے امتحانات کے بارے میں بتاتے ہوئے ان امتحانوں میں کامیابی حاصل کرنے کے طریقوں پر بھی مفصل گفتگو کی۔ انھوں نے کہا کہ فوج کی نوکری میں عزت بھی ہے اور پیسہ بھی ہے، اگر ہم خلوص اور جواں مردی کے ساتھ چند سال اپنے ملک کی خدمت کرتے ہیں تو اس کے بدلے میں نہ صرف ہمیں معاشرے میں وقار و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے بلکہ ہم مادی فوائد بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اپنے اندر قائدانہ صفت پیدا کرنے کے لیے بھی فوج میں شمولیت کی تیاری کرنی چاہیے ، کیوں کہ باقی تمام شعبوں میں ملازمت یا ان سے وابستگی آپ کو زیادہ سے زیادہ مینیجر‌بناتی ہے، جبکہ محکمۂ فوج سے وابستگی آپ کو لیڈر بناتی ہے، ہر قسم کی مشکلات کا مردانہ وار‌ مقابلہ کرنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ اس پروگرام میں بڑی تعداد میں سکول و کالج کے طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں