15/12/25

گیتا اور اس کی تعلیم مضمون نگار : خواجہ دل محمد

 اردو دنیا،مئی 2025

عرفان کی پھول مالا

شریمد بھگوت گیتا‘ دنیا کی قدیم روحانی کتابوں میں بے نظیر اہمیت رکھتی ہے۔ اس کا مضمون شری کرشن جی مہاراج کا وہ اپدیش ہے جو انھوں نے ارجن کو کوروکشیتر کے میدان میں مہابھارت کی جنگ کے وقت دیا۔ اس میں انھوں نے بتایا ہے، انسان کیا ہے، روح کیا ہے، خدا کیا ہے، بھگتی اور وصالِ باری کیوں کر حاصل ہوسکتے ہیں۔ انسان کے فرائض کیا ہیں، نشکام کرم یعنی بے لوث عمل کا کیا درجہ ہے۔ یہ عرفانی مضمون سنسکرت کے سات سو شلوکوں میں بیان کیا گیا ہے۔ ہر شلوک معرفت کا رنگین پھول ہے۔ انہی سات سو پھولوں کی مالا کا نام ’گیتا‘ ہے۔

یہ مالا کروڑوں انسانو ںکے ہاتھوں میں پہنچ چکی ہے لیکن تا حال اس کی تازگی، اس کی نفاست اس کی خوشبو میں کوئی فرق نہیں آیا۔ یہ پھول اس باغ سے چنے گئے ہیں، جس کا نام گلشن بقا ہے ،جسے آبِ حیات نے سینچا ہے۔

اس پھول مالا میں عجب خوشبو ہے اور اس خوشبو میں عجب تاثیر۔ اس مالا کو پہنو تو دل و دماغ پر لاہوتی تاثرات چھا جاتے ہیں اور کائنات کے ذرے ذرے میں آفتاب جھلکنے لگ جاتے ہیں۔ ہر خار پھول بن جاتا ہے اور ہر پھول فردوس نگاہ عالم اور تجلی گاہِ ربانی نظر آنے لگتا ہے۔ جسم کا تودۂ خاکی نور کی مورت بن جاتا ہے۔ دل پر ایک روحانی سکون چھا جاتا ہے اور اس پھول مالا کی ہر پتی کتاب عرفان کا ورق بن جاتی ہے۔

پرماتما (خدا)

سب سے پہلا اور سب سے اہم سوال خدا کی ہستی کا ہے۔ کیا خدا ہے؟

گیتا جواب دیتی ہے ’خدا ہے‘ بلکہ ’خدا ہی ہے‘ دوسرے لفظوں میں گیتا وحدت وجود کی قائل ہے۔

فطرت کہو، نیچر کہو، پرکرتی کہو، مایا کہو، غرضیکہ عالم میں جو کچھ نظر آرہا ہے، خدا ہی کا ظہور ہے۔ سورج کے جلال میں اسی کی تابانی ہے، چاند کے جوبن میں اسی کی دلفریبی، سرو وچنار میں اسی کی رعنائی، پھولوں میں اسی کی نفاست، سمندر میں اسی کی بے پایانی، آسمان میں اسی کی بلندی اور زمین میں اسی کا حلم کارفرما ہے یعنی ’جدھر دیکھتا ہوں اُدھر تو ہی تو ہے‘ کا عالم ہے۔ اسی کو حق پہنچتا ہے کہ کہے        ؎

12/15

یہ سورج کی تابش مرا نور ہے

جہاں جس کے جلووں سے معمور ہے

رہے چاند رخشاں مرے نور سے

تو آتش درخشاں مرے نور سے

20/6

جو ہر سمت پاتا ہے میرا ہی نور

مجھی میں جو ہر شے کا دیکھے ظہور

کبھی مجھ سے منھ موڑ سکتا نہیں

کبھی میں اسے چھوڑ سکتا نہیں

31/6

جو کثرت میں وحدت کا دیکھے سماں

جو پوجے مجھے، ہوں جو سب میں عیاں

وہ یوگی رہے گو کسی ڈھنگ میں

مجھی سے ہو واصل ہو ہر رنگ میں

عالم کا ذرّہ ذرّہ اسی سے وابستہ ہے۔ اگر وہ نہ ہو تو یہ شیرازہ منشر ہوجائے                 ؎

7/5

سخن ارجن نہیں کچھ بھی میرے سوا

نہ ہے مجھ سے بڑھ کر کوئی دوسرا

پرویا ہے سب کچھ مرے تار میں

کہ ہیرے ہوں جیسے کسی ہار میں

وہ آنکھ سے نہیں دیکھتا، لیکن آنکھ اس سے دیکھتی ہے۔ وہ کان سے نہیں سنتا، لیکن کان اس سے سنتے ہیں۔ وہ زبان سے نہیں بولتا، لیکن زبان اس سے بولتی ہے۔ وہ سانس سے دم نہیں لیتا، لیکن سانس اس سے دم لیتا ہے۔ وہ دل سے خیال نہیں کرتا، لیکن دل اس سے خیال کرتا ہے۔ وہ آنکھ کی آنکھ ہے، کان کا کان ہے، زبان کی زبان ہے، جان کی جان ہے اور دل کا دل ہے      ؎

13/13

اسی کے ہیں سب دست و پا چار سو

اسی کا ہے رخ رونما چارسو

اسی کی نظر، کان، سر، ہر طرف

محیطِ جہاں سربسر ہر طرف

14/13

بظاہر نہیں گرچہ اس کے حواس

درخشاں صفاتِ حواس اس کے پاس

وہ ہے بے تعلق مگر سب کا رب

گنوں سے بری اور کن اس میں سب

خدائی فطرت

اب خدائی فطرت پر غور کرو، سانکھیہ فلاسفی کے مطابق دنیا کی ہر چیز دو مختلف خودمختار ابدی عناصر سے پیدا ہوئی ہے۔ (1) بے جان پر کرتی (مادّہ) سے (2) جاندار پرش (روح) سے، لیکن گیتا وحدانیت کی قائل ہے، اس کے مطابق مادہ اور روح دونوں ایک ہی پرمیشور کا ظہور ہیں۔ مادّے کو خدا کی اپراپرکرتی (ادنیٰ فطرت) سمجھو اور روح کو پراپرکرتی (اعلیٰ فطرت) دنیا کی ہر چیز انہی دونوں سے پرمیشور کی نگرانی میں پیدا ہوتی ہے۔ اپراپرکرتی (ادنیٰ فطرت) کے عناصر آٹھ ہیں          ؎

4/7

یہ مٹی، یہ پانی، یہ آگ اور ہوا

یہ آکاش دنیا پہ چھایا ہوا

یہ دانش، یہ دل، یہ خیال خودی

ہے ان آٹھ حصوں میں فطرت مری

5/7

یہ فطرت تو ادنیٰ ہے سن او قوی

مگر میری فطرت ہے اک اور بھی

وہ فطرت ہے عادل بنے جو حیات

اسی سے تو قائم ہے کل کائنات

یہ اعلیٰ فطرت روحانی فطرت ہے، یہی منبعِ زندگی ہے، یہی جیو آتما کی شکل میں نباتات، حیوانات سب میں پائی جاتی ہے       ؎

20/10

سن ارجن میں ہوں آتما بالیقیں

جو ہے جانداروں کے دل میں مکیں

میں ہوں مثلِ جاں اہلِ جاں میں نہاں

میں اوّل، میں آخر، میں ہوں درمیاں

صرف پرکرتی اور پرش ہی خدا کا مظہر نہیں بلکہ ان کے تمام صفات بھی خدا ہی کا مظہر ہیں          ؎

میں پانی میں رس، چاند سورج میں نور

میں ہوں آدم، ویدوں میں جس کا ظہور

صدا مجھ کو آکاش میں کر خیال

میں مردوں میں مردی ہوں کنتی کے لال

لیکن اس ادنیٰ فطرت (پرکرتی) اور اعلیٰ فطرت (پرش) سے بلند تر خود پرماتما  کی ذاتِ پاک ہے جو انسانی تخیل سے بالا، جستجو کی رسائی سے بلند، ظاہر سے مستور اور باطن سے بھی دور ہے        ؎

20/8

پرے غیب سے بھی ہے اک ذاتِ غیب

وہ ہستی، فنا کا نہیں جس میں عیب

کسی کی نہ کچھ بات باقی رہے

فقط اک وہی ذات باقی رہے

17/2

اسی کو بقا ہے اسی کو ثبات

جہاں پر ہے چھائی ہوئی جس کی ذات

بھلا کس کی طاقت ہے، کس کی مجال

فنا کرسکے، ہستیِ لازوال

پھر ارشاد ہوتا ہے       ؎

4/9

خفی سے خفی ہے مری ہست و بود

مگر ہے مجھی سے جہاں کی نمود

مجھی میں ہے مخلوق ساری مکیں

مگر میں مکیں خود کسی میں نہیں

لیکن ذاتِ خفی کا سمجھنا آسان کام نہیں        ؎

5/12

جو ذاتِ خفی میں لگاتے ہیں دل

اٹھاتے ہیں تکلیف دہ متصل

کہ ذاتِ خفی کا ہے مشکل شہود

خفی کو نہ سمجھیں گے اہلِ وجود

وہ ذاتِ بالا و برتر، ہر ابتدا کی ابتدا او رہر انتہا کی انتہا ہے۔ ست اور است یعنی حق و باطل یا باقی و فانی دونوں سے بالا ہے۔ وہی محض اس قابل ہے کہ اس کو جانا جائے۔ اسی کے علم کا نام امرت اور آبِ حیات ہے    ؎

12/13

سزاوارِ عرفاں ہے وہ پاک ذات

کہ ہے علم ہی اس کا آبِ حیات

وہ بے ابتدا، لم یزل، ذی حشم

نہ ست یا الست کہہ سکیں جس کو ہم

نگاہیں اُسی کے جلوے کی متلاشی ہیں، کان اسی کے نغمے سننے کے لیے بے تاب ہیں، لیکن جب تک مایا کا پردہ دور نہ ہو، وہ کیونکر نظر آئے،اس کی میٹھی باتیں کیونکر سنی جائیں            ؎

24/7

میں چشمِ جہاں سے نہاں ہوں نہاں

مگر مجھ کو ناداں سمجھ لیں عیاں

وہ مجھ کو نہیں جانتے بے مثال

مری ذات عالی ہے اور بے زوال

خدا ہر چیز پر محیط ہے کوئی چیز اس سے باہر نہیں          ؎

6/9

ہوا کو چلے زور سے سربسر

ادھر سے اُدھر یا اُدھر سے اِدھر

وہ آکاش سے جائے باہر کہاں

سمجھ لو یونہی میرے اندر جہاں

اب  سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر خدا ہر چیز میں موجود ہے تو کیا وہ قابلِ تقسیم ہے؟ گیتا کا جواب ہے نہیں، ہرگز نہیں۔ اس کی تقسیم محال ہے        ؎

16/13

محال اُس کی تقسیم اے ذی شعور

مگر اس کا ہر شے میں حصہ ضرور

سزاوارِ عرفاں وہ پروردگار

فنا و بقا کا اسی پر مدار

دنیا میں جو کچھ ہے اور ہوگا اس کی اصل اور بیج پرماتما ہے           ؎

39/10

کروں خلقِ عالم کی ترویج میں

ہوں ارجن ہر اک چیز کا بیج میں

ہے ساکن کوئی یا کہ سیار ہے

مگر مجھ سے باہر نہ زنہار ہے

لیکن جب درخت اگتا ہے، اس کا بیج فناہوجاتا ہے، یہاں معاملہ برعکس ہے، یہ بیج کبھی فنا نہیں ہوتا      ؎

10/7

سن ارجن میں ہوں بیج ہر ہست کا

میں وہ بیج ہوں جو نہ ہوگا فنا

میں دانش ہوں ان کی جو ہیں ہوشیار

میں تابش ہوں ان کی جو ہیں تابدار

18/9

میں آقا میں والی سجن، میں گواہ

میں منزل، میں مسکن، میں جائے پناہ

میں آغاز و انجام و گنج و مقام

میں وہ بیج ہوں جو رہے گا مدام

وحدت اور کثرت

اگر ہر طرف وحدتِ وجودی کا ظہور ہے، تو پھر یہ کثرت کیسی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اصل ہر شے کی ایک ہے۔ صرف نام اور روپ یعنی صورتِ ظاہری کا فرق ہے۔ کمہار کے پاس وہی مٹی ہوتی ہے۔ کہیں اس سے پیالہ بناتا ہے، کہیں صراحی، کہیں مٹکا، کہیں رکابی، کہیں ہنڈیا، غور کرو تو سب کی اصل وہی ایک مٹی ہے، نام اور روپ کا فرق ہے، اسی کا نام مایا ہے۔ اسی کو فریب نظر، موہ، جہالت اگیان، جو چاہو کہو، ارجن سے ارشاد ہوتا ہے        ؎

61/18

سن ارجن خدا ہے خدا ہر کہیں

خدائی کے دل میں خدا ہے مکیں

وہ سب ہستیوں کو گھماتا رہے

وہ مایا کا چکر چلاتا رہے

پھر ارشاد ہوتا ہے        ؎

6/4

مری ذات ہے مالکِ کائنات

نہ اس کو ولادت نہ اس کو ممات

جو کام اپنی فطرت کو لاتا ہوں میں

ظہور اپنی مایا سے پاتا ہوں میں

3/14

شکم ہے مری قدرتِ کاملہ

جو میں تخم ڈالوں تو ہو حاملہ

یہی ہے مہا برہم اصلِ حیات

اسی سے ہویدا ہو کل کائنات

29/13

جو سمجھے کہ دنیا کی سب ریل پیل

ہے مایا کا کرتب، ہے مایا کا کھیل

ہے خود آتما پرسکون، بے عمل

نظر ہے اسی کی نظر بے خلل

اب خدا کی ثنا میں چند اور شلوک ملاحظہ ہوں          ؎

17/15

ہے باقی و فانی سے بالا وہ حق

کہ قائم ہوئے جس سے تینوں طبق

وہ ہے لافنا، سب پہ چھایا ہوا

وہ پرمیشور ہے، وہ پرماتما

17/13

وہی ذات نورٌ، علی نور ہے

جو تاریکیوں سے بہت دور ہے

وہ عرفاں کا حاصل بھی، مقصود بھی

وہ عرفاں بھی، ہر دل میں موجود بھی

27

جو ہے کچھ نظر تو اسی کی نظر

نظر میں رہے جس کی پرمیشور

ہے سب جان والوں میں جانی وہی

کہ فانی میں ہے غیرفانی  وہی

15/13

کسی شے میں جنبش، کسی میں سکوں

وہ موجود سب میں درون و بروں

لطیف ایسا، احساس معذور ہے

وہی ہے قریب اور وہی دور ہے

یہ روحانی گیت جس کا نام ’شریمد بھگوت گیتا‘ ہے، ایسے ہی بلند خیالات سے معمور ہے۔ طالبانِ حق خود ملاحظہ کریں۔ ہاں اتنا یاد رہے کہ اگر فطرتِ یزدانی کی مندرجہ بالا سہ گونہ نوعیت کو مدنظر نہ رکھیں گے تو خیالات میں الجھن پیدا ہونے کا احتمال ہے۔ کسی شلوک میں ادنیٰ فطرت (اپراپرکرتی) کی طرف اشارہ ہے تو کسی میں عالی فطرت  (پراپرکرتی) کی طرف اور کسی میں ہر دو سے بالا ذاتِ باری (پرماتما) کا ذکر ہے جو صفات سے بالا (نرگن) ہے۔ اسی لیے اس نازک مضمون کو سوچ کر پڑھنے کی ضرورت ہے اور پڑھنے سے زیادہ اس پر غور کرنے کی


ماخذ:  دل کی گیتا یعنی شریمد بھگوت گیتا کا ترجمہ اردو نظم میں، مصنف: خواجہ دل محمد، مرتب: مخمور سعیدی، سنہ اشاعت: 2004، ناشر: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...