15/12/25

امیرخسرو کی شاعری میں وطن دوستی، مضمون نگار : سید صباح الدین عبدالرحمٰن

 اردو دنیا،مئی 2025

امیر خسرو دنیا کے ان ارباب کمال میں تھے جن کوعبقری Geniusکہاجاتا ہے وہ ایک اچھے فرزند ، اچھے باپ اور اچھے انسان تھے، ایک عظیم قصیدہ گو، ایک عظیم مثنوی نگار ایک عظیم غزل گو، عظیم نثر نگار ، ایک عظیم صوفی اور ایک عظیم ماہرِ فن موسیقی بھی تھے۔ ان تمام محاسن کے ساتھ ان کا نمایاں وصف یہ بھی رہا کہ جس طرح ان کو اپنے والدین اور اولاد سے محبت رہی، اسی طرح فن شاعری میں وارفتگی رہی،یا جس طرح ا ن کو اپنے مرشدسے عشق رہا،اسی طرح ان کو اپنے وطن اور اس کی ہرچیز سے شیفتگی رہی۔

ان کی پیدائش تو پٹیالی ضلع ایٹہ(یوپی) میں ہوئی، مگر وہ دہلی جاکر سکونت پذیر ہوگئے تھے، اسی کو اپنا گھر سمجھتے رہے اس سے دیوانہ وار محبت کرتے تھے۔ جب کبھی اپنے سرپرستوں اور آقائوںکے ساتھ باہر جاتے تو دہلی کے فراق میں تڑپتے رہتے۔ غیاث الدین بلبن کے لڑکے بغراخان کے ساتھ لکھنؤ گئے تو وہاں دہلی کی یاد نے ستایا، جب وہاں سے دہلی کی طرف چلے تو خود لکھتے ہیں کہ ان کو ایسامعلو م ہوا کہ حضرت یوسف کی طرح چاہ زندان سے نکل کر آئے ہیں۔

(دیباچہ غرۃ الکمال، قلمی نسخہ دارالمصنّفین، شبلی اکیڈمی، اعظم گڑھ)

غیاث الدین بلبن کے بڑے لڑکے شہزادہ محمد سلطان کے ساتھ ملتان گئے تو وہاں ہر قسم کی راحت کے باوجود دہلی کی سربہ فلک عمارتوں، محل سرائوں، تالابوں، مرغزاروں، باغوں، پھولوں کی خوشبو، دہلی کے حسینوں اور محبوبوں کو یاد کرکے ملتان میں بے چین رہتے۔ (دی لائف اینڈ ورکس آف امیر خسرو دہلوی، وحید مرزا، ص 51)

جب وہ اپنے ایک اورسرپرست امیر حاتم خان، خان جہاں کے ملازم ہو کر دہلی سے اودھ جانے لگے تو راستہ بھر اس کی یاد میں خون کے آنسو روئے گئے۔

برعزمِ سفر عناں کشادم

خوں نابہ زدید گان کشادم

بالشکرِ شاہ کوچ بر کوچ

درگریہ ہمی شدم بہر کوچ

اور جب وہاں سے دہلی آنے کی رخصت ملی تو ان کا خود بیان ہے کہ تیر کی طرح اُڑتے مسرور اور شاداں دہلی پہونچے تو ان کو ایسا معلوم ہوا کہ خزاں دیدہ پرندہ اپنے باغ میں پہنچ گیا ہے، اور ایک پیاسا آب حیات کے چشمے کے پاس آکر کھڑا  ہوگیا ہے۔

(قران السعدین علی گڑھ، اڈنس، ص 222-23)

دہلی کی تعریف میں

اپنی مثنوی قران السعدین میں دہلی کی اتنی تعریف لکھی ہے کہ یہ مثنوی ’در صفت دہلی‘ کے نام سے بھی یاد کی جاتی تھی،لکھتے ہیں کہ اس کے دین و انصاف کی شہرت ہر طرف پھیلی ہوئی ہے یہ عدن کی جنت ہے، اپنی صفات اور خصوصیات کے لحاظ سے باغ ارم ہے، ایک راسخ مسلمان ہونے کے باوجود اس شہر کی محبت میں اس کو مکّہ اور مدینہ پر ترجیح دی ہے۔ ان کو دہلی پیاری تھی۔ اس لیے اس کی ہر چیز سے پیار تھا،جس کی تعریف میں ان کا قلم بے قابو ہوجاتا ہے،مثلاً قلعہ کے متعلق کہتے ہیں۔

چرغ بہ زیرست و حصارش بہ زیر

(آسمان کادائرہ نیچے رہ گیا اور اس قلعے کی دیوار اوپر)

اس کے قلعہ کو مینوسرشت بتایا ہے۔اس کے درودیوار کی تعریف میں لکھ گئے     ؎

چرخ نداند در و دیوار کس

تکیہ بدیوار و درش کردہ بس

(اس کا ہر گھر بہشت ہے،ا س کی زینت و آرائش میں بے حد رقم خرچ ہوئی ہے)

گوشئہ ہر خانہ بہشتے شگرف

گشتہ بہ صنعت زربے صرفہ صرف

شہر کی جا مع مسجد کو فیض الٰہی کی جامع مسجدبتاتے ہیں۔(قران السعدین، ص 31)  قطب مینار کے متعلق لکھتے ہیں کہ اس مینار کو دیکھ کر چاند نے اپنی ٹوپی اتار پھینکی ہے۔(ایضاً، ص32) اس زمانے کے حوض شمسی کا ذکر کرتے ہوئے کہہ گئے کہ اس کا پانی حضرت خضر پی لیتے تو اپنے چشمے کو بھول جاتے۔  (ایضاً، ص 34) دہلی کی آب وہوا کی تعریف اس طرح کی ہے کہ خوش گوار نسیم کی وجہ سے اس کے چمن میں پھولوں کی بہار پورے سال رہتی ہے۔ اس کی سرزمین پھولوں کی وجہ سے سونے چاندی سے بھری معلوم ہوتی ہے۔ یہاں جنت کی ہریالی ہے۔(ایضاً) د ہلی کے لوگوں کی تعریف میں ان کا قلم نشاط انگیز ہوگیا ہے ، اور یہ کہنے میں تامل نہیں کرتے کہ اس شہر کے لوگ فرشتہ سیرت اور جنت والوں کی طرح خوش دل اور خوش خو ہوتے ہیں         ؎

مردمِ اور جملہ فرشتہ سرشت

خوش دل و خوش خوئے چو اہلِ بہشت

یہ بھی لکھتے ہیںکہ یہاں کے لوگ صنعت، علم و ادب،آہنگ و ساز،نغمہ و سرود، نیزہ و بنگاہ اور تیر کے ہنر میں بے نظیر ہیں۔(ایضاً)پھر دہلی کے محبوبوں کی مدح پر آتے ہیں تو معلوم نہیں ہوتا کہ وہ حضرت خواجہ نظام الدین اولیا کے مرید،ندیم اور ہمراز بھی ہیں، بلکہ محض حسن و عشق کے کوچے کے رہ نوردر ہے، دہلی کے ایسے بتان سادہ نے ان کو اپنی طرف مائل کیا تھا، جو پگڑی باندھتے سر پر ٹوپی رکھتے ، اپنے ناز وادا کی وجہ سے کسی کے حکم کی تعمیل نہیں کرتے، جہاں گلگشت کرتے وہاں کی گلی ان چلتے پھرتے پھولوں سے معطر ہوجاتی، وہ راستہ چلتے تو عشاق ان کے پیچھے ہوتے، جن کی آنکھوں سے خون جاری رہتا، یہ محبوب تو حسن کا غرور اپنے سر میں رکھتے لیکن ان کے عشاق کا دل برباد ہوتا دکھاتی دیتا         ؎

اے دہلی والے بتانِ سادہ

پگ بستہ وریشہ کج نہادہ

فرماں نبرند ازاں کہ ہستند

ازغایتِ ناز خود مرادہ

جائے کہ بہ رہ کنند گلگشت

درکوچہ دیدگل ببادہ

شاں دررہ و عاشقاں، دنبال

خوناب زدیدہا کشادہ

ایشاں ہمہ باد ِ حسن درسر

وایں ہا ہمہ دل بباد دادہ

ان محبوبوں کا تعلق کس طبقے سے تھا،اور ان کے پجاری کون تھے، وہ اس شعر سے ظاہر ہوتا ہے        ؎

خورشید پرست شد مسلماں

زیں ہندوگانِ شوخ و سادہ

شعرمیںاس باہمی موانست ویگانگی کااظہار ہے جو کئی صدی پہلے دہلی میں موجود تھی۔خود خسرو ان ہندو محبوبوں کی محبت میں جس طرح خراب و سرمست رہے،اس کا اظہار اس طرح کیا ہے        ؎

کردہ مرا خراب و سرمست

ایں مُغ بچگانِ تاک زادہ

بربستہ شاں بموئے مرغول

خسرو چو سگیت در قلادہ

خسرو کی جومذہبی اور پاکیزہ زندگی رہی اس سے کبھی یہ خیال نہیں کیا جاسکتا ہے کہ وہ شراب پلانے والے نوجوانوں کے عشق میں سرمست اور پیچ دار زلف رکھنے والے کے پیچھے پٹے دار کتے بنے ہوں گے۔ یہ ان کی ایک پُر لطف غزل کے اشعار ہیں جو قران السعدین کی مثنوی میں ترنم، رنگینی اور موسیقی پیدا کرنے کے لیے ٹانک دی ہے۔ لیکن اس میں بھی وہ اہل دہلی سے اپنی محبت کا اظہار کر گئے ہیں۔

خسرو دہلی کے’مُغ بچگان تاک زادہ‘ کے لیے خراب و سرمست ہو سکتے تھے۔تو پھر دہلی کے شاہی محلوں کے لیے ان کے جذبات کیوں نہ بے تاب ہوتے،کیلو کھیڑی کے قصرِ نوکی مدح میں بہ کثرت اشعار کہہ گئے ہیں، کہتے ہیں کہ محل کا ہے کو ہے، ایک بہشت ہے، جس کے دروازے پر طوبیٰ کی شاخ سایہ فگن ہے       ؎

قصر نگویم کہ بہشتے فراخ

روضئہ طوبیٰ درِ او را بہ شاخ

اس محل کے نیچے جمنا بہتی ہے ۔ خسرو نے یہ دل نواز نکتہ پیدا کیا کہ اس کا بہتا پانی محل کی حسینہ کے لیے آئینہ بن گیا ہے         ؎

طرز عروسے شدہ آراستہ

آئینہ از آبِ رواں خواستہ

دربار میں جشن نوروز میں جو چہل پہل ہوتی ہے، اس کی مصوری میں بڑی تفصیل کے ساتھ اپنا آرٹ دکھایا ہے کہتے ہیں          ؎

قصر ہمایوں زمین تا سماک

زیورِ زربستہ چوں فردوسِ پاک

یعنی ان کے وطن کے دربار کی زینت و آرائش کا مقابلہ ایران، توران اور خراسان و غیرہ کے درباروں سے نہیں کیا جاسکتا تھا، بلکہ اس کا موازنہ صرف فردوس پاک سے ہو سکتا تھا۔

دہلی تو صرف پائے تخت تھا وہ پورے ہندوستان کے عشق میں سرشار اور مخمور رہے ہیں جوشِ محبت میں ہندوستان کی گرم ہوا کی یہ شاعرانہ تاویل کرتے ہیں کہ آفتاب کو اس سر زمین سے عشق ہے۔ اس کے عشق کی گرمی کی وجہ سے یہاں کی ہوا گرم ہوگئی ہے اور یہیں سے ساری دنیا میں یہ گرم ہوا پھیل گئی        ؎

مہرِ فلک گرم شد اندروفاش

گرم ازاں گشت جہاں راہواش

ہندوستان کے حسن سے شیفتگی

ہندوستان کے حسن کے سامنے کسی اور جگہ کا حسن بھی ان کو پسند نہیں۔ انھوں نے خلّخ اور یغما کے حسن کو اس لیے رد کر دیا کہ ان کے حسین تیز چشم اور ترش رخ ہوتے ہیں۔ خراسان کا حسن وہاں کے پھولوں کا سا ہے۔یعنی رنگ ہے خوشبو یعنی دل آویزی نہیں۔ان کو روم اور روس کا حسن بھی نہیںجچاکیونکہ ان کے معیار کے مطابق ان میں عجزو انکسار نہیں۔تاتاری حسینوں کے لبوں پر ہنسی نہیں  دکھائی دیتی اور ختن کے حسینوں کے چہرے پر نمک نہیں ہوتا۔سمرقند اور قندھار کے حسن میں مٹھاس (قند) کی کمی ہے۔اس طرح مصر اور روم کے سیمیں بدن حسینوں میں چستی اور چالاکی نہیں پاتے۔ خسرو کوہندوستان کے حسن میں یہ ساری خوبیاں دکھائی دیتی ہیں۔ یعنی عجزوانکسار بھی،لبوں پر تبسم بھی،چہرے پر نمک بھی شیرینی بھی،ادائوں میں چستی اور چالا کی بھی اس لیے بے اختیار لکھ گئے ہیں           ؎

بُتانِ ہند رانسبت ہمین ست

بہریک موئے شاں صدملکِ چین ست

لکھنے کو تو خسرو یہ سب کچھ لکھ گئے۔لیکن ہندوستان کے حسینوں میں ہر قسم کا رنگ پایاجاتا ہے۔ سیاہ،گندمی اور سبزہ سیاہ رنگ کی خوبی بیان کر ناذرا مشکل تھا مگر خسرو نے اس میں یہ کہہ کر شعریت پیدا کر دی ہے کہ آنکھوں کی پُتلی تو سیاہ ہوتی ہے۔اس میں آدمی تو سیاہ نظر آتا ہے۔اور ہر پُتلی کے لیے سرمہ چاہیے، سرمہ کا رنگ تو سیاہ ہی ہو گا،سفید رنگ تو عارضی ہوتا ہے، اس لیے بے سود ہے         ؎

سیہ را خود بدیدہ جان گاہ است

کہ اندردیدہ ہم مردم سیاہ است

زبہرِ دیدہ باید سرمہ را سود

سفیدہ عارضی رنگے اسست بے سود

گندمی رنگ کی یہ تاویل کی ہے کہ حضرت آدم نے گندم ہی کو پسند کیا۔ پھر اسی گندم سے سارا فتنہ اٹھا۔ خسرو کہنا چاہتے ہیں کہ گندمی رنگ کے ساتھ چہرے پر نمک ہو تو چہرے کی سفیدی سے کہیں بہتر یہ رنگ کھلتا ہے۔اس کے لیے یہ تمثیل دیتے ہیں کہ اگر گندم کے آٹے کے ساتھ نمک ملادیا جائے تو سیکڑوں بے نمک سفید ٹکیوں سے بہتر ہو جاتا ہے        ؎

بہ گندم گو نست میلِ آدمی زاد

کہ این فتنہ زآدم یافت بنیاد

یکے گندم بہ کام اندر نمک دہ

زصد قرصِ سپیدِ بے نمک بہ

انھیں ہندوسان کے حسینوں کا سبزہ رنگ بہت پسند تھا۔کہتے ہیں کہ یہ سبزہ رنگ لا لہ و نسرین کے رنگ سے بہتر ہوتا ہے۔جنّت کے طائوس کا بھی یہی رنگ ہے۔ستاروں کی زینت بھی اسی رنگ سے ہے۔ بہشتیوں کی پوشاک کا بھی یہی رنگ ہے۔ بہار کی رونق بھی اسی رنگ سے ہے وغیرہ۔

ہندوستان کے پھولوں کی تعریف

ہندوستان کے پھولوںمیںسوسن،کبود،بیلا،گلِ زریں، گلِ سرخ،ریحان، گل کوزہ، گل لالہ، گلِ سفید، صدبرگ، نسترن، دونا، کرنا، نیلوفر، ڈھاک، چمپا، جوہی، کیوڑا، سیوتی، گلاب اور مولسری وغیرہ کی تعریف میں حسن بیان دکھانے کے ساتھ جذبات سے مغلوب ہوتے نظر آتے ہیں۔ مثلاًرائے چمپا کو پھولوں کا بادشاہ قرار دیا ہے۔ اس کی خوشبوایسی ہے جیسے شراب میںکسی نے مشک ملادیا ہو ۔چنبیلی جیسے بدن والے معشوقوں کی طرح نازک ہوتا ہے،اس میں زردی عاشقوں کے چہرے کی سی ہے         ؎

دگر آں جنبہ شاہ گلہا

کہ بویش مشک بار آمد چولہا

چو معشوقِ سمن برناز پردرد

ولے رنگش چوروئے عاشقاں زرد

سیوتی کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ بھڑ اس پر جان دیتی ہے،مرنے کے بعد بھی اس سے لپٹی رہتی ہے، معشوق عاشق کی طرح اس کے سر گرداں رہتے ہیں۔یہ پھولوں کے معشوقوں کا معشوق بنے      ؎

زعشق ِبوئے او جان دادہ  زنبور

نہ گشتہ بعد ِمرُدن نیز ازو دور

ہمہ خوبانش عاشق رار جویاں

کہ معشوقیست نزدِ خوبرویاں

اسی طرح دوسرے پھولوں کی تعریف میں لکھتے ہیںکہ ہندوستان میں جب یہ پھول کھلتے ہیںاور کالی گھٹائیںچھاجاتی ہیںیاان گھٹائوںمیںسے جب ہلکی پھوار آتی ہے توگلشنِ فردوس کا باغ نظر آتا ہے، بلکہ فردوس میں بھی ایسا خوش گوار منظر نہ ہوتا ہوگا۔آخر میں لکھتے ہیں کہ ایسے پھول اگرروم وشام میںہوتے تووہاںکے لوگ ان کی تعریف دنیامیں کرتے پھرتے۔ (قران السعدین، ص 133)

ہندوستانی پھلوں کی پسندیدگی

پھلوں میں وہ آم کے عاشق ہیں۔لکھتے ہیں کہ جو لوگ انجیر کو ہمارے آم پر ترجیح دیتے ہیں وہ اس اندھی عورت کی طرح ہیں جو بصرہ کو شام سے بہتر بتائے       ؎

زبے انصاف نتواںیافت ایںکام

کہ عمیا بصرہ رابہِ گوید از شام

وگرکس سوئے خود گردد جہت گیر

نہد کم نغزکِ مارا  زانجیر

ان کو ہندوستان کا خربوزہ بھی پسند تھا۔اس کی تعریف یہ کہ بہشت کے تمام پھلوں سے بازی لے گیا ہے۔قند کی سی مٹھاس اس کے سامنے ہیچ ہے،اس میں آبِ حیات کی تاثیرہے         ؎

خربزہ گوئی کہ بہ صحرا و کشت

گوئے ربود از ثمراتِ بہشت

از مزہ گرد آمد دروے نبات

خام خضر پختہ چو آبِ حیات

انھوں نے پان کو بھی ہندوستان کا میوہ ہی قراردیا ہے۔اس کی تعریف میں لکھتے ہیں کہ یہ ہندوستان کی بہترین نعمت ہے۔دیکھنے میں تو ایک گھاس ہے لیکن اس سے خون پیدا ہوتا ہے۔ منہ کی بدبو دور کرتا ہے،کمزور دانتوں کو مضبوط بناتا ہے،سیر ہوکر کھانے والوں کی بھوک بڑھاتا ہے اور بھوکوں کی بھوک میں کمی کرتا ہے وغیرہ وغیرہ۔

(قران السعدین، ص 185,86)

ہندوستان کے جانور

خسرو کو اپنے وطن کی ہر چیز پیاری تھی۔ اس لیے یہاں کے جانوروں کے اوصاف بیان کرنے میں بھی ان کے وطنی جذبات خوب ابھرے ہیں۔لکھتے ہیں کہ یہاں کے طوطے آدمی کی طرح بول سکتے ہیں۔ یہاں کے کوّے مستقبل کی خبریں دیتے ہیں۔ یہاںکی گوریائیں بھی پوشیدہ باتوں کی خبر دیتی ہیں۔یہاں کے طائوس میں دلہن کی ایسی رعنائی ہے۔ یہاں کے بگلے تھوڑی سی تربیت کے بعد عجیب و غریب کرتب دکھاتے ہیں، یہاں کی بکری ایک پتلی لکڑی پر چارپائوں سے کھڑی ہوجاتی اور تھرکتی ہے۔یہاں کے ہندو بہ لحاظِ عقل اپنی مثال آپ ہیں، یہاں کے ہاتھی عمل میں انسان ہیں وغیرہ وغیرہ۔ (نہ سپہر، ص 191)

خسرو کی توجہ ہندوستان کے جادوگروں کی طرف بھی گئی۔لکھتے ہیں کہ یہاں کے جادوگر مردوں کو زندہ کر سکتے ہیں، یہاں عمر بھی بڑھائی جاسکتی ہے۔یہاں کے جوگی حَبس دم (سانس روکنے)کی مشق کرکے دو سو سال تک زندہ رہ سکتے ہیں،یہاں کے ابرمیں بارش بھی روکی جاسکتی ہے وغیرہ۔ (ایضاً، ص 191-94)

ہندوستان کا جوعلاقہ ان کے شاہی آقائوں کے حدود مملکت میں داخل ہوا،ان کی تعریف بھی دل کھول کر کی ہے مثلاًجہائین کے قلعہ کے متعلق مفتاح الفتوح میں لکھتے ہیں کہ ہندوئوںکی بہشت معلوم ہوتا ہے۔اس کے نقش ونگار بہت ہی دل فریب تھے،مانی کی تصویریں بھی اس کے سامنے مات تھیں،پتھر کی ایسی سیکڑوں مورتیاں دیکھنے میں آئیں جو موم سے بھی نہیں بنائی جا سکتی ہیں ،باغ میں بہت سے بت خانے تھے جن پر سونے چاندی کی نقش گری تھی۔

اسی طرح اپنے دیوان نہا یۃ الکمال میں دیوگیر(دیو گری ) کی تعریف لکھتے وقت اس کو مصر اور بغداد پر فضیلت دی ہے اور پھر اسی شاعرانہ انداز میں یہ کہہ گئے ہیں کہ مصر نے اس کی شہرت سن کر رشک و حسد میں اپنا جامہ اتار کرنیل میں پھینک دیا ہے، اس کی ہوا میں مسیحائی اور پانی میں آب خضر کی تاثیر بتائی،یہاں کے پھولوں، خوشبوئوں اور پرندوں سبھی کی تعریف کی ہے،یہاں کے پھلوںکا ذکرکرتے ہوئے کیلے کے متعلق لکھا کہ ہلال کی طرح خم اور عید کی طرح خوش گو ار ہوتے ہیں،آموں کو شہد اور دودھ سے بھرے ہوئے سنہرے ڈبے سے تشبیہ دی، کپڑے کی مدح میں کہتے ہیں کہ اگر چاند کی جلد کوئی جلاد اس سے علیٰحدہ کردے اور پھر اسی جلد سے دیوگیر کے کپڑے کا موازنہ کیاجائے ،تویہ کپڑا اپنی باریکی میں بڑھ جائے گا،اس کا سوگز کا تھان سوئی کے ناکے میں سما سکتا ہے،اس کا لباس بنتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ بدن پر صاف شفاف پانی پڑ رہا ہے           ؎

چہ وصف جامہ کنم کانچناں نباشداگر

زمہ بسلخ کشد پوست اختر جلاد

بہ چشم سوزنِ صد گزبہ گنجد ازپسِ لطف

درو بہ چلہ خرد نوکِ سوزنِ پولاد

بسانِ قطرئہ آبے توانش گفتن اگر

چکد ز چشمۂ خورشید قطربامعتاد

دیوگیر کی موسیقی پر بھی فریفتہ ہوئے لکھتے ہیں کہ یہاں کے چنگ کی آواز سے زہرہ بھی نالہ و فریاد کرسکتی ہے ۔اور یہاں کے نغمے سے مردے بھی زندہ ہوسکتے ہیں        ؎

وگر سرودچناں کز خراش ہر زخمہ

چو چنگ خویش کند زہرہ نالہ وفریاد

عجب بنا شداگر مردہ زندہ گردد ازاں

کہ لفظ در دلِ ہر نغمہ جان باز نہاد

ان کو ہندوستانی موسیقی کے ساتھ عشق رہا’نہ سپہر ‘ میںلکھتے ہیں کہ ہندوستانی موسیقی ایک آگ ہے جو قلب اور روح دونوں کو جلاتی ہے اور دوسرے تمام ممالک کی موسیقی سے بہتر ہے۔ ہندوستانی موسیقی صرف آدمیوں کو نہیں بلکہ جانوروں کو بھی مسحور کردیتی ہے۔ہرن کو اس کے ذریعے مسحور کرکے شکار کیا جاتا ہے (نہ سپہر، ص 171)  اور جس طرح دو ایرانی اورہندوستانی تمدن کے حسین امتزاج پر بے حد خوش رہے اسی طرح انھوں نے ہندی راگ اور راگنیوں کو ملانے کی کوشش بھی کی۔

ہندی زبان سے دلدادگی

وہ اس ملک کی عوامی زبان کے بھی اتنے دلدادہ تھے کہ اسی دلدادگی میں معلوم نہیں کتنے ہندی گنت،دو ہے، معمے، مخمس،چوپائیاں اور نظمیں لکھ کر فخر کے ساتھ یہ آواز بلند کی          ؎

چومن طوطیِ ہندم ازراست پری

زمن ہندوی پرس تانغز گویم

اور آج یہ تسلیم کیا جارہا ہے کہ امیر خسرو نے ہندی شاعری کو فارسی کے بحورو اوزان سے روشناس کیاا ور ہندی کو پراکرت اور اپ پھرنش کے اثرات سے آزاد کرکے خود سادہ،سلیس اور عام فہم زبان لکھی،اس طرح اردو زبان خودبخود وجود میں آتی اور نکھرتی گئی۔

خسرو نے اپنے ساززندگی میں اپنی وطنی محبت کا جو نغمہ الاپا تھا۔ وہ ذاتی مفاد اور سیاسی مصالح دونوں سے پاک تھا۔ فراخ دلی، وسیع المشربی سیر چشمی اور وطن دوستی کی جوت جگاکر اپنے ہم وطنوں کو یہ پیام دیا ہے جس ملک میں ان کو ساتھ رہنا اورمرنا ہے، اس کی ہر چیز کو محبوب سمجھیں،اس کے مختلف باشندوں کے ساتھ محبت و الفت سے پیش آئیں، ایک دوسرے کے مذہبی عقائد و جذبات کا احترام کریں، مذہب اس موانعت اور یگانگت میں رکاوٹ نہیں پیداکرتا۔ اور آج بھی اردوخسرو کے اس مشن کو لیے آگے بڑھ رہی ہے۔

ماخذ: خسرو شناسی، مرتبین: ظ انصاری، ابوالفیض سحر، چوتھی طباعت: 2010، ناشر: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...