اردو دنیا،مئی 2025
حکیم
سید ظل الرحمن ایک مشہور یونانی محقق ہیں۔
آپ کی ولادت یکم جولائی 1940 کوبھوپال
مدھیہ پردیش میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم بھوپال سے حاصل کی۔ اعلی تعلیم کے لیے
آپ نے پہلے دارالعلوم ندوۃ العلماکا رخ کیا، اس بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا۔
تعلیم کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے
اجمل خان طبیہ کالج سے وابستہ رہے اور اسی کالج میں چیئرمین کے فرائض بھی انجام دے
چکے ہیں۔ علم الادویہ میں تقریباً چالیس سال کی خدمات کے بعد وظیفہ یاب ہوئے۔اور
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے آنریبل ٹریزرار کے عہدہ پر فائز رہ چکے۔
حکیم صاحب کا سارا کام
طب پر رہا ہے اور وہ بھی دور وسطیٰ کے ادویات، یونانی طب پر۔ قدیم عربی اور فارسی
دستاویزوں کھوج چھان بین اور تحقیقات پر بھی کافی کام کیا ہے۔ حکیم ظل الرحمن صاحب
کو 1997 میں ہمدرد یونیورسٹی کے ویزیٹنگ پروفیسر کا شرف حاصل ہوا۔ 2013 میں آپ
کو ڈاکٹر آف لیٹرس کی ڈگری بھی دی گئی۔
آپ کو مختلف اعزازات مل چکے ہیں جن میں آیوروید اور طبی اکیڈمی اعزاز، اتر پردیش
حکومت، لکھنؤ 1968، اردو اکیڈمی ایوارڈ، لکھنؤ، اتر پردیش حکومت 1974،
اردو اکیڈمی ایوارڈ، لکھنؤ، اتر پردیش حکومت 1978، اردو اکیڈمی ایوارڈ، لکھنؤ، اتر پردیش
حکومت 1993 قابل ذکر ہیں۔ فارسی زبان کی
خدمت کے لیے سرٹیفکیٹ آف آنرس بھی صدر جمہوریہ ہند کی جانب سے مل چکا ہے۔
عبدالمنان
صمدی: جناب حکیم سید ظل الرحمن صاحب باقاعدہ گفتگو کے آغاز سے قبل آپ ہمیں اپنی
پیدائش اور اپنے آبادئی وطن سے متعارف کرائیں؟
حکیم
سید ظل الرحمن: میری پیدائش 1جولائی 1940مدھیہ پردیش بھوپال میں ہوئی اور وہی میرا
آبائی وطن بھی ہے۔
ع
م ص:اپنے تعلیمی سفر کے بارے میں کچھ بتائیں؟
ح
س ظ ر: میرے تعلیم سفر کا آغاز تو بھوپال میں ہی ہوا۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے مجھے
دارالعلوم ندوۃ العلما بھیج دیا گیا۔ دارالعلوم ندوۃ العلما کے بعد میں نے علی گڑھ
کا رخ کیا اور اجمل خاں طبیہ کالج سے آگے کا تعلیمی سفر شروع ہوا اور بعد ازاں
ملازمت اور سبکدوش بھی اسی ادارے سے ہوا۔
ع
م ص:مسلمانوں میں اور بھی مشہور طبیب ہوئے ہیں آپ نے اپنی اکیڈمی کا نام ابن سینا
پر ہی کیوں رکھا؟
ح
س ظ ر: دیکھیے مسلم تاریخ میں یا طب یونانی میں ابن سینا سے بڑا طبیب اور فلسفی
کوئی ہوا ہی نہیں اور محض 58 کی چھوٹی سی عمر میں اس نے طب یونانی میں جو غیر
معمولی خدمات انجام دیں اس کی مثال کہیںدوسری نہیں ملتی۔ اور ابن سینا نہ صرف طب یونانی
میں بلکہ ان کا شمار مشرق کے مشہور ترین فلسفیوں میں بھی ہوتا ہے۔ ابن سینا نے 450
کتابیں تصنیف کیں جن میں تقریبا240 ہی باقی ہیں۔ ان میں فلسفے پر 150 اور ادویات
پر 40 تصنیفات ہیں۔ ان کی سب سے مشہور کتاب’کتاب شفایابی‘ جو ایک فلسفیانہ اور
سائنسی انسائیکلو پیڈیا ہے۔ ان میں بہت چیزیں 1650 تک قرون وسطی کے یونیورسٹیوں میں
ایک معیاری طبی کتب کے طور پر پڑھائی جاتی رہیں۔ 1973 میں ابن سینا کی کتاب ’طب
قوانین‘ نیویارک میں دوبارہ شائع کی گئی۔ فلسفہ اور طب کے علاوہ ابن سینا نے فلکیات،
کیمیا جغرافیہ، ارضیات، نفسیات، اسلامی الٰہیات، منطق، ریاضی طبعیات اور شاعری پر
بھی لکھا ہے۔یہی تمام وجوہات ہیں جس کے سبب میں نے اپنی اکیڈمی کا نام ابن سینا
رکھا۔
ع
م ص:ا آپ کی اکیڈمی میںطب یونانی کے بعد ایک بڑا ذخیرہ اردو ادب کی کتابوں کا بھی
ہے لیکن اسلامی کتب آپ کی اکیڈمی میں موجود نہیں جب کہ آپ ہندوستان کے ایک بڑے
اسلامی ادارے دارالعلوم ندوۃ العلما کے بھی طالب علم رہے ہیں؟
ح
س ظ ر: دیکھیے طب یونانی کے بعد میری دلچسپی اردو ادب سے بہت رہی ہے اس لیے میں نے
اردو ادب کی کتب کو جمع کیا جہاں تک اسلامی کتب کا تعلق ہے تو اس کو نہ رکھنے کی ایک
بڑی وجہ اس کی ضخامت ہے اور میرے پاس اتنے وسائل موجود نہیں جو اسلامی کتب کا
تقاضا پورا کرسکیں۔
ع
م ص:آپ نے غالب پر جو نایاب نسخے جمع کیے ہیں وہ اپنی مثال آپ ہیں لیکن غالب کا
ہی انتخاب آپ نے کیوں کیا؟
ح
س ظ ر: کیونکہ زمانۂ طالب علمی سے ہی غالب میرے پسندیدہ شاعر رہے ہیں۔ میں دعویٰ
سے کہہ سکتا ہوں کہ پورے ہندو پاک میں جو ذخیرہ غالب پر ابن سینا اکیڈمی میں موجود
ہے وہ کہیںاورنہیں حتی کہ آپ کی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی سینٹرل لائبریری میں
بھی نہیں۔
ع
م ص:زبان کی موت کی وجوہات کیا ہیں؟
ح
س ظ ر:کسی بھی زبان کی موت کی وجہ اس کے قاری کا انحطاط ہے۔
ع
م ص: زبان کا تہذیب و ثقافت سے کیسا رشتہ ہے؟
ح
س ظ ر:کبہت گہرا رشتہ ہوتا ہے بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ زبان ہی تہذیب و ثقافت کا
مادہ ہے۔
ع
م ص:رسم الخط کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟
ح
س ظ ر:رسم الخط کسی بھی زبان کی روح ہوتی ہے اگر رسم الخط سے Compromise کرلیا
جائے تو زبان کی روح نکل جائے گی مثال کے طور پر آپ پنجابی زبان دیکھئے ہندوستان
کا پنجابی بولنے والا پنجابی زبان کو ہندی رسم الخط میں لکھتا ہے اور پاکستان کا
اردو رسم الخط میں لکھتا ہے۔
ع
م ص:آپ نے طب یونانی کے تعلق سے متعدد کتابیں لکھی کیا اردو ادب کے تعلق سے بھی
آپ نے کچھ تحریر کیا ہے؟
ح
س ظ ر: دیکھیے آپ میرے متعلق اتنی ہی معلومات فراہم کر کے آئے ہیں جتنی لوگوں سے
آپ کو حاصل ہوئی اگر آپ اس انٹرویو سے قبل تھوڑی تحقیق کرلیتے تو آپ کو معلوم
ہوتا کہ اردو ادب میں میری کیا خدمات رہی ہیں طب یونانی کی طرح اردو ادب کے تعلق
سے میری متعدد کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ چند فکری و تاریخی عنوانات، بھوپال
کا علمی و ادبی کارواں، خطوط مشاہیر بنام پروفیسر حکم سید ظل الرحمن، ایران نامہ،
حکیم سید احسن اللہ خان، غالب چند مقدمے اور تحریریں، دیوان غالب مطبوعہ 1863 عکسی،
مقدمہ حکیم سید ظل الرحمن، راس مسعود، سفر نامہ بنگلہ دیش، یہ وہ کتابیں ہیں جو
اردو ادب کے متعلق لکھی گئی ہیں شاید نہیں بلکہ یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ یہ
کتابیں آپ کی نظر سے گذری تک نہیں ہوں گی اس میں آپ کی بھی خطا نہیں کیونکہ میری
شناخت ہی طب یونانی سے ہے۔
ع
م ص: اردو کے ایک بڑے شاعر معین احسن جذبی
نے کافی عرصے پہلے کہا تھا کہ مشاعرے اب ادب کا معیار نہیں رہے آپ اس بارے میں کیا
کہتے ہیں؟
ح
س ظ ر: مشاعرے کبھی ادب کا معیار نہیں رہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اعلیٰ و علمی اور
ادبی قسم کے اشعار آپ کو مشاعرے میں سننے کو نہیں ملیں گے مشاعرے میں جو لوگ ہوتے
ہیں وہ عوام الناس ہوتے ہیں ان میں اکثر غیر اردو طبقہ ہوتا ہے اس لیے مشاعروں کا
معیار کبھی بھی ادبی نہیں رہا۔
ع
م ص: ادبی حلقوں میں زیادہ تر کلاسیکیت، جدیدیت وغیر پر گفتگو ہوتی ہے کیا اس بحث
سے تکرار زبان کو فائدہ ہوتا ہے؟
ح
س ظ ر: دیکھیے یہ سب بحثیں و تکرار محققین اور جو علمائے ادب کی ہیں اوران کے درمیان
ہمیشہ رہیں گی۔
ع
م ص:کیا آپ کو بھی ایسا لگتا ہے کہ مدارس میں جو نصاب تعلیم ہے اس میں کچھ نہیں
تو اردو ادب کا اضافہ ہونا چاہیے؟
ح
س ظ ر:نہیں مجھے بالکل ایسا نہیں لگتا آپ مدارس کے نصاب تعلیم میں اضافے یا اس کی
تبدیلی پر اتنا زور کیوں دیتے ہیں کبھی آپ نے بی ٹیک کرنے والے کو اردو ادب
پڑھانے کا مشورہ دیا ہے بی ٹیک چھوڑ دیں کیا کسی نے BUMS کے نصاب تعلیم
کو ادب پڑھانے یا اس میں تبدیلی پر کوئی رائے دی ہے۔ دیکھئے کوئی گریجویشن 3 سال یا
4سال یا 5سال سے زائد کا نہیں ہوتا۔ لیکن کوئی درس نظامی کا کورس آٹھ سال سے کم
کا آپ کو نظر نہیں آئے گا اور ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ مدارس نے اردو، عربی،
فارسی کی بقا کے لیے جو غیر معمولی خدمات دیں اس طرح کی خدمات ہماری بڑی بڑی
جامعات نے بھی نہیں دیں۔
ع
م ص:سر جو رسائل حکومت کے تعاون سے نکلتے ہیں مثلاً اردودنیا،فکر و تحقیق، آج کل،
نیا دور، ایوان اردو، بچوں کی دنیا، خواتین کی دنیا، کیا آپ کو نہیں لگتا کہ
حکومت کو اور رسائل نکالنا چاہیے؟
ح
س ظ ر: دیکھے اردو والوں سے مجھے بڑی شکایت یہ ہے کہ نہ وہ اردو کے اخبار خریدتے ہیں
نہ اردو رسائل اور نہ کتابیں خاص طورپر ہمارے شعبہ اردو کے اساتذہ کواگرآپ مفت کتاب بھی پیش کردیںتو وہ اس کو
پڑھنے کی بھی زحمت گورا نہیں کریں گے جب تک کسی زبان کے خریدار نہیں ہوگے تو کیسے
کام چلے گا پھر ہم اردو والے شکایت کرتے کہ حکومت اردو والوں کواشتہار نہیںد یتی کیوں
دے آپ کا اخبار پانچ ہزار چھپ رہا ہے پانچ لاکھ وہ ان زبانوں کو دے گی جو پانچ
لاکھ چھپ رہے ہیں یا آپ کو دے گی آپ سے کوئی عقیدت یا تقدس وابستہ نہیں ہے توظاہر ہے کہ اشتہار ان لوگوں کو ملے گا جو بڑی
تعداد میں چھاپ رہے ہیں بہت تکلیف ہوتی ہے جب دیکھتا ہوں کہ اردو والوں کے ہاتھوں
میں دوسری زبان کے اخبار ہیں بہت رنج ہوتا ہے۔ ہم اپنی زبان کی خاطر پانچ روپے روز
خرچ نہیں کرسکتے۔ اس بدنصیبی کو کیا کہا جائے اس کا شکوہ کس سے کیا جائے اس کا تو
کوئی تعلق حکومت سے ہے نہیں اورجو رسائل غیر سرکاری نکل رہے ہیں میں تو ان کے
نکالنے والوں کو داد دیتا ہوں کہ وہ اپنے ذوق و شوق سے نکال رہے ہیں وہ ان کی
آمدنی کا ذریعہ تو ہے نہیں وہ ان کا شوق ہے۔
ع
م ص: کیا اردو زبان میں روز گار کے مواقع کم ہیں اس لیے بھی نئی نسل اردو کا
انتخاب کرنے سے کتراتی ہے۔
ح
س ظ ر: یہ وجہ ضرور ہے لیکن روز گار کا مسئلہ صرف اردو کے طلبا کے ساتھ نہیں بلکہ
دیگر مضامین کے طلبا کے ساتھ بھی ہے۔ آپ کو اسی علی گڑھ میں ایک جم غفیر ان بے
روزگار طلبا کا بھی مل جائے گا جن کا تعلق سائنسی مضامین سے لیکن وہ احساس کمتری
کا شکار نہیں ہوتے جیسے اردو کے طلبا ہوتے ہیں۔
ع
م ص:اور ان کے احساس کمتری کے وجہ کیا ہے؟
ح
س ظ ر: ایک وجہ تو وہی ہے کہ جوجگ ظاہر ہے کہ اردو میں روز گار بہت کم ہے اوردوسرا
سبب وہ ہے جو آپ کو پہلے بتا چکا ہوں اردو رسائل و اخبارات کے قارئین کا انحطاط۔
ع
م ص: اب اردو میں انگریزی زبان کے الفاظ بھی کثرت سے استعمال کیے جارہے ہیں اس سے
زبان کو فروغ ہوگا یا نقصان ؟
ح
س ظ ر: یقینا فروغ ہوگا کیا اردو زبان میں پہلے کسی زبان کے الفاظ استعمال نہیں
ہوئے ہیں۔ عربی، فارسی، کے ساتھ ساتھ اردو میں سنسکرت کے بھی الفاظ کثرت سے ملتے ہیں
زبان گفتگو کا وسیلہ ہوتی ہے اگر آپ اپنی زبان میں دیگر زبان کے الفاظ نہیںلائیں
گے تو آپ کی زبان محدود ہوجائے گی، سنسکرت کی صورت حال سے آپ بخوبی واقف ہوں گے
اور اردو تو ویسے بھی لشکری زبان ہے۔ اس کی خوبصورتی ہی یہی ہے کہ اس میں دیگر
زبانوں کے الفاظ کثرت سے ملتے ہیں۔
ع
م ص: کیا علی گڑھ میں اردو میڈیم اسکولوں کی تعداد اب اتنی ہے جتنی آپ کے طالب
علمی کے زمانے میں یااب سے دس پندرہ سال
پہلے تھی ایسا کیوں؟
ح
س ظ ر: یقینا اس کا جواب آپ مجھ سے بہتر جانتے ہوں گے کیونکہ آپ کا بھی تعلق اسی
شہر سے بلکہ علی گڑھ تو آپ کا آبائی وطن ہے۔ آپ نوجوان بھی ہیں میرا تو باہر
نکلنا ہی بہت کم ہوتا ہے۔ اس لیے اس سوال کا جواب آپ کے پاس مجھ سے بہتر ہوگا۔
ع
م ص: کیا اردو کے فروغ کے لیے گھر کے تمام افراد کو اردو میں اعلیٰ تعلیم حاصل
کرنا چاہیے۔
ح
س ظ ر: نہیں صرف اردو آنی چاہیے۔
ع
م ص: کیا آپ کے اہل خانہ اردو پڑھنا لکھنا اور بولنا جانتے ہیں؟
ح
س ظ ر: الحمداللہ بلکہ میری بیٹی ’صفیہ اختر‘ کی تو ’اردو شاعری کی تدریس کے
مسائل‘ کے عنوان سے ایک تصنیف بھی منظر عام پر آچکی۔ جس کو ابن سینا اکاڈمی،
تجارہ ہاؤس دودھ پور نے گذشتہ سال شائع کیا جس میں شاعری کی تدریس پر سیر حاصل
گفتگو کی گئی ہے۔
ع
م ص: کیا آپ یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ آپ کے بعد بھی آپ گھر میں اسی طرح
زندہ رہے گی جس طرح آج ہے۔
ح
س ظ ر: دعویٰ تو نہیں کرسکتا کیونکہ دنیا کی رفتار کا اندازہ عمر کے اس مرحلے پر
لگانا میرے لیے ممکن نہیں لیکن امید ہے کہ انشاء اللہ ضرور زندہ رہے گی۔
ع
م ص: ہم غیر مسلم بھائیوں میں اردو کو کس طرح فروغ دے سکتے ہیں؟
ح
س ظ ر:ان کو ان کے اسلاف کی خدمات سے متعارف کراکے تقسیم سے پہلے کی تاریخ کا
اعادہ کرا کے جہاں اردو ہندوستانی زبان کا درجہ رکھتی تھی۔ ناکہ مسلمانوں کی زبان
کا۔
ع
م ص: اور وہ کس طرح؟
ح
س ظ ر: ان کو پریم چند، کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی، منشی ہرگوپال تفتہ، پنڈت دیا
شنگر نسیم، پنڈت برج نارائن چکبست، فراق گورکھپوری، جگن ناتھ آزاد، بلراج کومل وغیرہ
کی خدمات سے متعارف کرائیں۔
ع
م ص: اور جو طبقہ مسلمان ہے لیکن اس کا شمار غیر اردو حلقے میں ہوتا ہے اس کے لیے
آپ کیا حکمت عملی اختیار کرنے کا مشورہ دینا چاہیں گے ؟
ح
س ظ ر: پہلے تو میں یہی کہوں گا کہ افسوس کا مقام ہے کہ مسلمان کا بھی شمار غیر
اردو حلقے میں ہوتا ہے اس برصغیر میں دیکھیے یہ حقیقت کہ زبان کسی قوم و ملت ملکیت
نہیں ہوتی اور اردو کے تو خاص طور پر کسی مذہب یا قوم و ملت کی ملکیت نہیں ہوسکتی
کیونکہ اس کے فروغ میں ہندو مسلم دونوں قوموں کی قربانیاں برابر ہیں، لیکن آزادی
کے بعد مسلمانوں کی اردو کے تئیں ذمے داری زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ میں یہ بات اس لیے
کہہ رہا ہوں کیونکہ مسلمانوں نے اردو کو نہ صرف ادب تک اپنایا بلکہ اپنی مذہبی
کتابوں کو بھی عربی، فارسی سے اردو زبان میں منتقل کیا۔ آپ کو اس بات کا علم ہوگا
برصغیر میں سب سے پہلے قرآن کا اردو لفظی ترجمہ1786 میں شاہ رفیع الدین نے کیا۔
اور آگے چل کر نہ صرف قرآن کے اردو تراجم ہوئے بلکہ احادیث اور فقہ کی کتابوں کو
بھی ہمارے بزرگوں نے اردو زبان میں منتقل کیا۔دیکھیے برصغیر کے مسلمان کویہ بات
تسلیم کرنی ہوگی کہ یہ دینی اثاثے تین زبان میں مستند انداز میں موجود ہے۔ عربی،
فارسی اور اردو میں یہ نہیں کہتا کہ انگریزی زبان میں کام نہیں ہوا ہے لیکن جس نوعیت
کی کتابیں فی الحال عربی، فارسی اردو میں موجود ہیں وہ انگریزی زبان میں نہیں ہیں۔
اب مسلمانوں کے بچے عربی، فارسی میں دسترس حاصل کرنے سے تو رہے کیونکہ انگریزی کی
طرح یہ دونوں زبانیں بھی ان کے لیے غیر ملکی زبان ہیں۔ تو ان کے پاس اردو زبان کو
سیکھنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ دیکھیے اس کے لیے ایک حکمت عملی یہ اختیار
کرنی ہوگی کہ مسلمان اپنے بچوں کو میٹرک تک اردو ضرور پڑھائیں یعنی ان کو آٹھویں
جماعت کے اختیاری مضمون کے طور پر اردو دلائیں۔ اردو کے فروغ کے لیے یہ ہرگز ضروری
نہیں کہ ہر طالب علم BA,MA اردو زبان
سے کریں اردو میں ایک کثیر تعداد جن کا تعلق دوسرے شعبوں سے رہا اور انھوں نے اردو
کی خدمات میں وہ کردار ادا کیا جو خود اردو والے نہیں دے سکیں۔ فراق، وحید اختر،
اسلوب احمد انصاری، اور تنقیدی میدان میں ایک بڑا نام شمس الرحمن فاروقی کا ہے جن
کا تعلق شعبہ انگریزی سے تھا لیکن اردو تنقید میں فاروقی صاحب ایک مکمل ادارے کی حیثیت
رکھتے ہی۔
ع
م ص: آپ کو حکومت ہند نے 2005 میں پدم شری اعزاز سے نواز۔ آپ نے اردو ادب کو بھی
اپنی خدمات دیں ہیں اس کے لیے کوئی اعزاز حکومت ہند کی طرف سے ملا۔
ح
س ظ ر: دیکھیے پدم شری تو مجھے طب کی خدمات کے لیے ملا جو میرا اصل میدان ہے اردو
ادب میں میری خدمات فقط شوق و ذوق کی حد تک ہے۔پھر بھی مجھے اردو اکیڈمی لکھنؤ نے
1968، 1974، 1978 اور 1993 میں اعزازات سے نوازا۔ میں ان کا شکر گزار ہوں۔
ع
م ص: عثمانیہ یونیورسٹی کے بعد مولانا آزاد نیشنیل اردو یونیورسٹی جس کا قیام
1998 میں عمل میں آیا جس کا ذریعۂ تعلیم اردو ہے کیا آپ کو لگتا ہے کہ اس سے
اردو زبان کو فروغ ہوگا؟
ح
س ظ ر:بالکل ہوگا جب اردو ذریعہ تعلیم ہوگا تو ظاہر ہے اردو کو فروغ ہوگا اس سے میں
کیا شبہ ہے یہ تو شبے سے بالا تر بات ہے۔
ع
م ص:کیا آپ اردو کے مستقبل سے مایوس ہیں آپ کی نظر میں اردو کا مستقبل کیسا ہے؟
ح
س ظ ر: میں بالکل مایوس نہیں 1947 کے بعد جو اچانک صورت حال رو نما ہوئی 1960 تک
رہی جو پانچویںصدی کی دھائی اور چھٹی صدی کی دھائی میں تھی وہ اب بالکل نہیں ہے
البتہ دو نسلوں کا نقصان ہوا ہے۔ ہماری ایک نسل میں 25-29 سال ہوتی ہے 50-60 تک
اردو کی طرف ہماری توجہ کم رہی اب توجہ بڑھ رہی ہے لوگ اپنے بچوں کو اردو پڑھا رہے
ہیں میرے سننے میں یہاں تک آیا ہے کہ بہت سی مساجد کے اندر شام کے وقت جہاں قرآن
کے ساتھ ساتھ اردو پڑھائی جاتی ہے ان بچوں کو جن کے اسکول میں اردو نہیں ہے بیداری
تو پیدا ہوئی ہے۔ اس لحاظ سے آپ کہہ سکتے ہیں کہ اردو کا مستقبل بہت تابناک ہے۔
ع
م ص:NCPUL کی خدمات کے تعلق سے آپ کیا کہنا
چاہتے ہیں:
ح
س ظ ر:کوئی شک نہیں ہے NCPUL نے بڑا کام
کیا اور تقریباً دو ہزار کے قریب کتابیں شائع کی ہیں۔ ظاہر ہے اس سے بہت مدد ملی
ہے اردو کے مطالعے میں اردو کی اشاعت میں بہت بڑا حصہ ہے اس ادارے کا اس کا اعتراف
کرنا چاہیے ہر وقت شکوہ شکایت لعن طعن سے کام نہیں چلتا بلکہ جو لوگ کام کررہے ہیں
ان کی تحسین ہونی چاہیے۔
ع
م ص: بہت شکریہ آپ کا ہمیں وقت دینے کے لیے۔
Abdul Mannan Samadi
H. No.:2939, Gali 5, Tayyab Colony Koil
Aligarh- 202001 (UP)
Mob.: 9286300994
abdulmannansamadi123@gmail.com

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں