تکمیل پا رہا
ہے بتدریج میرا فن
ہوتا ہے ماہتاب بھی کامل ذرا ذرا
حسن الہاشمی ایک
ایسی شخصیت کا نام ہے کہ جب وہ عملیات کے میدان میں قدم رکھتے ہیں تو طلسماتی دنیا
جیسا اپنی نوعیت کا شاہکار رسالہ منظر عام پر لے آتے ہیں— جب وہ اپنے اندر کی
ظرافت کو صفحہ قرطاس پر مضامین کی شکل میں پیش کرتے ہیں تو ابو الخیال فرضی بن
جاتے ہیں اور’اذان بتکدہ‘ جیسی تخلیق وجود میں آجاتی ہے۔ جب شاعری کے میدان میں
قدم رکھتے ہیں تو واصل شفائی ہو جاتے ہیں۔
وہ طلسماتی دنیا کے حسن الہاشمی ہوں، ’اذان بتکدہ‘ والے ابو
الخیال فرضی ہوں یا غزلوں کے مجموعے ’ذرا ذرا‘ کے خالق واصل شفائی ہوں، اپنے ہر
رنگ میں بے پناہ متاثر کرتے ہیں۔ یہ ان کی بوقلمونی کی دلیل ہے۔
واصل کا تعلق اتر پردیش کے بہت مشہور قصبہ دیوبند سے ہے۔
بچپن میں ہی والدین کے سایۂ شفقت سے محروم ہو گئے۔ مشہور و معروف شاعر، ادیب اور
مفکر جناب مولانا عمر عثمانی صاحب کی رہنمائی میں انھوں نے زندگی کی کھردری زمین
پر چلنے کا ہنر سیکھا۔ دارالعلوم دیوبند سے عالمیت کی سند حاصل کی۔ مولانا عامر کی
زندگی نے بھی ان سے وفا نہ کی اور آپ پر ان کی علمی وراثت ’ماہنامہ تجلی‘ کی ذمہ
داری آن پڑی جسے آپ نے بخوبی انجام دیا۔ اس دوران آپ نے عامر عثمانی کی کتابوں
کی اشاعت کی ذمے داری بھی انجام دی۔ کچھ عرصے بعد آپ کا رحجان عملیات کی جانب ہوا
تو آپ نے ماہنامہ ’طلسماتی دنیا‘ شروع کیا جس نے مقبولیت کی نئی داستان رقم کی۔اس
کے علاوہ آپ نے ماہنامہ ’شریک حیات‘، ماہنامہ ’الہامی دنیا‘ پندرہ روزہ ’اجتماع
اخبار‘ اور ایک سو سے زائد کتابیں تحریر کیں۔
’ذرا
ذرا‘ ان کی غزلوں کا مجموعہ ہے۔یہ مجموعہ
ان کے دار فانی سے کوچ کر جانے کے بعد ان کے صاحب زادے مفتی وقاص ہاشمی نے اپنے
ادارے مکتبہ روحانی دنیا دیوبند سے حال ہی میںشائع کیا ہے۔ اس مجموعے میںان کی 80
سے زائد غزلیں شامل ہیں۔ واصل مشاعروں کے شاعر کبھی نہیں رہے۔ ان کی شاعری داد و
تحسین کی خواہش مند نہیں رہی، نہ ہی وہ شاعروں کی فہرست میں اپنا نام سنہرے حروف میں
درج کروانے کے خواہاں رہے۔ شاعری ان کے لیے ایک فطری رحجان ہے جو ان کی رگ و پے میں
موجود ہے۔ شاعری ان کے لیے اپنی قلبی واردات کو غزل کے خوب صورت پیرائے میں ڈھال
کراپنی ڈائری میں درج کر لینا تھا۔
ایک حساس طبع انسان کے لیے زندگی کبھی خوش گوار نہیں ہوا
کرتی۔ زمانے کے فریب، بے وفائی اور بے اعتنائی اسے تکلیف دیتی ہے۔واصل کی زندگی بھی
ایک ٹوٹی ہوئی کچی سڑک پر ہچکولے کھاتی ہوئی بیل گاڑی کی طرح رہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ
واصل کی شاعری میںجابجا ایک کرب ابھر آیا ہے ۔مثال کے طور پر شعر دیکھیے ؎
زمانہ میری حالت کا تمسخر کیوں اڑاتا ہے
جسے میں نے سنوارا وہ میرا دل کیوں دکھاتا ہے
وقت کی دھوپ سے واصل نہ پگھل جائے تو
میری راہوں میں کہیں سایہ گیسو بھی نہیں
اس شعر کو پڑھ کر مجھے طرب میرٹھی کا یہ شعر یاد آ گیا
ہے ؎
دور تک زلف کا سایہ ہے نہ آنچل کی ہوا
یہ سفر دھوپ کا کس طرح گزارا جائے
حالانکہ وہ دل کو تسلی دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ؎
زمانہ کی ملامت پر نہ یوں غمگین ہو واصل
زمانہ جس کو ٹھکرا دے خدا اس کو اٹھاتا ہے
عموماً کسی بھی انسان کو سب سے زیادہ اذیت اور تکلیف اس کے
سب سے زیادہ قربت رکھنے الے اور سب سے زیادہ عزیز لوگ ہی دیا کرتے ہیں۔ کسی بھی
حساس انسان کے لیے یہی بات سب سے زیادہ تکلیف دہ ہوتی ہے۔ واصل اس سے مستثنیٰ نہیں
تھے۔ ایسے حالات میں ان کے قلب پر جو گزری اور انھوں نے جس طرح اس کا مشاہدہ کیا
اسے ان اشعار کی شکل میں یوں محفوظ کیا
؎
وفائوں کے بدلے جفائیں ملی ہیں، محبت کے بدلے عداوت ملی ہے
یہاں ہر قدم پر ہے دھوکہ ہی دھوکہ کسی کو کسی سے محبت نہیں
ہے
زمیں مجھ سے نالاں ، فلک میرا دشمن، میرا سایہ مجھ سے خفا
ہو چکا ہے
خدا دل کی دھڑکن کو خاموش کر دے مجھے زندہ رہنے کی حسرت نہیں
ہے
حسن رو رہا ہے جنازے پہ اپنے وہ خود اپنی میت کہاں لے کے
جائے
کفن نے غریبوں کے جس کو پکارا اسی نے کہا ہے کہ فرصت نہیں
ہے
کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ واصل کاغم اور میر کا غم یکساں
ہے۔ میر کہتے ہیں ؎
یوں پکارے ہیں مجھے کوچہ جاناں
ادھر آ بے، ابے
او !
چاک گریباں
واصل لکھتے ہیں
؎
ایک وہ شخص کہ کہتے ہیں جسے واصل بھی
جب بھی دیکھا ہے اسے چاک گریباں دیکھا
چھوٹی بحروں اور کم الفاظ میں بھی واصل اپنے کرب کو اتنے
خوب صورت اور موثر انداز میں پیش کرتے ہیں کہ چوٹ سیدھے دل پر لگتی ہے اور شعر ذہن
و دل کے کسی کونے میں اپنی مستقل جگہ بنانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر
چند اشعار دیکھیں ؎
کتنا بھاگے سرپٹ یارو
دنیا پھر بھی راس نہ آئی
کل موضوع خاص بنیں گے
میرے غم میری تنہائی
سب نے دل توڑا ہے واصل
کس نے کی ہمت افزائی
واصل حالات کو بدلنے کے لیے کسی جستجو کی بات نہیں کرتے ہیں،
وہ کوئی انقلاب برپا کرنے کے خواہش مند بھی نظر نہیں آتے ہیں بلکہ وہ حالات پر
صبر و قناعت کا راستہ اختیار کرتے ہیں اور تنہائی میں خدا سے اس کا شکوہ کرتے ہیں ؎
خورشید سے جب ضو مل نہ سکی راتوں کی سیاہی پر خوش تھے
ہم راہ محبت میں واصل ہر شے پہ قناعت کرتے رہے
تقسیم غلط ہے نعمت کی ظالم کو حکومت بخشی ہے
خلوت میں ہمیشہ یہ آنسو خالق سے شکایت کرتے رہے
کبھی کبھی درد
کی شدت مایوسی کا سبب بھی بن جاتی ہے اورشایداسی جذبے کے غالب آ جانے کی صورت میں
ان کے قلم سے یہ اشعار نکلے ہیں ؎
سامان طرب حاصل ہوں گے قسمت کی لکیریں کہتی ہیں
ہم ملک عدم جا پہنچیں گے یہ زیست کے ساماں ہونے تک
سو سال بتوں کو پوجے گا ضدی نے قسم کھائی دیکھو
کیا خاک جئیں گے دنیا میں واصل کے مسلماں ہونے تک
حالانکہ وہ اس امر سے بھی واقفیت کا اظہار کرتے ہیں کہ ؎
بھلا رونے سے دنیا میں مقدر کب بدلتے ہیں
وہی دکھ ہے، وہی غم ہے، وہی روداد باقی ہے
غالب کہتے ہیںکہ ’’درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا‘‘ مگر
واصل اس سے اتفاق نہیں رکھتے بلکہ کہتے ہیں کہ ؎
مانا کہ یہ درد قلب و جگر خود ایک دوا بن جائے گا
جذبات فنا ہو جائیں گے اس درد کے درماں ہونے تک
اسی سلسلہ کا یہ شعر کہ جس میں بلا کا درد ہے، سوز و گداز
ہے، اور ایک ایسی روح کا نوحہ ہے جو اپنے وقت سے آگے سوچتی ہے، اور اسی وجہ سے
مصائب کا شکار ہو جاتی ہے۔اسے ہم ’روحِ عصر سے بغاوت کی سزا‘ بھی کہہ سکتے ہیں ؎
ہوں نہیں، لگتا ہوں میں گمراہ قوموں کا رسول
جس نے بھی دیکھا مجھے پتھر اٹھایا زندگی
انسان اپنی پوری زندگی ایک ایسی منزل کی جستجو میں کوشاں
رہتا ہے کہ جہاں پہنچ کر اسے راحت جاں اور سکون قلب حاصل ہوگا۔ یہی امیداسے راستے
کی تمام تر تکالیف اور مشکلات کا صبر و تحمل کے ساتھ سامنا کرنے کی طاقت عطا کرتی
ہے۔ مگر اس انسان کے کرب کا عالم کیا ہوگا جسے ایک نہایت ہی دشوار گزار راستے کو
پار کرنے کے بعد منزل پر پہنچ کر بھی کچھ حاصل نہ ہوا ہو ؟ واصل کا حال بھی وہی ہے اس لیے وہ لکھتے ہیں ؎
منزل پہ تو پہنچے ہیں پر کچھ نہ ملا واصل
پرخار وہ راہیں تھیں پردرد یہ منزل ہے
دنیا وی زندگی کی حقیقت یہی ہے کہ اس کی کوئی منزل نہیں ہے
بلکہ ہر منزل ایک پڑائو کی طرح ہے۔ ایک سفر ختم ہوتا ہے تو اگلے ہی پل ایک نئی
منزل کا پتہ چلتا ہے اور انسان پھر سفر پر گامزن ہو جاتا ہے۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے
خلا میں تیرتے ہوئے سیاروں کی کوئی منزل نہیں ہوتی، انھیں بس اپنے مدار میں مستقل
تیرنا ہوتا ہے۔وہ رک بھی نہیں سکتے کیونکہ ٹھہرائو ان کی موت کا سبب ہے۔وہ شاید
زندگی کی اس حقیقت سے آشنا ہیں تبھی تو رکنے کے قائل نہیں ہیںبلکہ چلتے رہنے کی
بات کرتے ہیں چاہے اس سفر کی کوئی بھی منزل نہ ہو۔وہ لکھتے ہیں ؎
اب چلو اس راہ پر جس راہ کی منزل نہ ہو
ہر قدم پر ہو بھنور لیکن کوئی ساحل نہ ہو
اور یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ ؎
واصل تیرا کلام اگرچہ وحی نہیں
رہبر رہا ہے پھر بھی جوانی کی راہ میں
غزل کی بات ہو اور محبت کا ذکر نہ ہو یہ تو ممکن ہی نہیں
ہے۔ واصل کے یہاں بھی محبت کے تعلق سے اشعار ملتے ہیں لیکن ان میں ایک طرح کی محرومی اور مایوسی کا احساس ابھر کر
سامنے آتا ہے۔ وہ کہتے ہیں ؎
ہمیں آج ان پر حسد ہو رہا ہے کہ جن کو چھلکتے یہ ساغر ملے
ہیں
ہمیں مل نہ پائی شراب محبت کہ خون تمنا پئے جا رہے ہیں
اوراسی سلسلہ کا یہ شعر دیکھیں، جس میں شامل لفظ ’ذرا ذرا‘
سے اس مجموعے کا عنوان بھی اخذ کیا گیا ہے
؎
ملتی رہی ہے عشق کی پاداش دن بہ دن
ڈالے گئے ہیں طوق و سلاسل ذرا ذرا
واصل کے لیے عشق میں لطافتیں،لذتیں اورسرور و انبساط نہیں
ہے بلکہ اس میں تکلیفیں اور مصیبتیں ہیں ۔وہ کہتے ہیںکہ محفل حسن و عشق میں انسان
کو فریاد نہیں کرنی چاہیے کیونکہ یہاں تو ظلم روا ہوتا ہے۔لیکن اس سب کے بعد بھی
وہ وفا کی بات کرتے ہیں ۔ انھیں امید ہے کہ اس جہان فانی میں نہ سہی وادیٔ خلد میں
ان کی وفا کا بدلہ ضرور ملے گا۔ اس سلسلہ کے چند اشعار دیکھیے ؎
محفل حسن میں فریاد نہ کر اے ناداں
یہ وہ محفل ہے جہاں ظلم روا ہوتا ہے
زندگی ہار گیا بزم وفا میں لیکن
اپنی یہ ہار میرے دل پہ گراں ہو نہ سکی
بعد مرنے کے ملیں گے خلد کی وادی میں ہم
ختم مرنے سے وفا کا سلسلہ ہوتا نہیں
ان کو خدا سے مانگ کہ بس اتنا کہہ دیا
بعد اس دعا کہ کوئی دعا پر اثر نہ ہو
ایسا نہیں ہے کہ ان کے تصور میں کسی محبوب کی تصویر ہی نہیں
ہے اور انھوں نے اس کی شان میں کچھ بیان ہی نہیں کیا ہے ۔ ایسی بھی غزلیں آپ کو
ان کے کلام میںمل جائیں گی لیکن یہ خال خال ہی ہیں۔مثال کے طور پر ایک غزل کے چند
اشعار دیکھیں ؎
زندگی چاند ستاروں کی جواں تم سے ہے
رونق بزم خوشی بزم جہاں تم سے ہے
تم نہ ہوتے تو زمانے میں اندھیرا ہوتا
روشنی شمس و قمر میں یہ رواں تم سے ہے
تم نہ ہوتے تو خیالات پہ کیا رنگ آتا
میرے اشعار میں یہ حسن بیاں تم سے ہے
تم نہ ہوتے تو یہ واصل بھی فسردہ ہوتا
جس کو خاروں پہ بھی پھولوں کا گماں تم سے ہے
مندرجہ بالا اشعار اعلیٰ درجے کی فکری، قلبی اور فنی پختگی
کے آئینہ دار ہیں۔ یہ اشعار شاعر کے باطن کی گہرائیوں، اس کے مزاج، جذباتی کیفیت،
اور اس کے فنی شعور کی جھلک دکھاتے ہیں۔ساتھ ہی عشق حقیقی اور عشق مجازی دونوں کی
عکاسی کرتے ہیں ۔ سب سے اہم اور قابل ذکر امر یہ ہے کہ اس پوری غزل میں بلا کی
روانی پائی جاتی ہے۔
شاعری صرف کلام کو موزوں کر لینا نہیں ہے ۔یہ صرف اپنے
احساسات اور خیالات کو غزل یا نظم کے پیرائے میں پیش کرنے کا نام بھی نہیں ہے۔بلکہ
شاعر اپنے گردو پیش میںجو کچھ ہو رہا ہے اسے بھی اشعار کے سانچے میں ڈھال کر پیش
کر تا ہے۔ اس طرح سے شاعر ایک مورخ کی حیثیت بھی رکھتا ہے جو اشارے کنایے میں اور
کبھی سیدھے طور پر بھی اپنے حال کو قلم بند کر دیتا ہے، جو مستقبل کے لیے تاریخ کی
حیثیت رکھتاہے۔ واصل کی بھی اپنے حال پر گہری نظر ہے ۔ وہ اس کا نہ صرف مشاہدہ
کرتے ہیں بلکہ اسے اپنے اشعار کے سانچے میں ڈھال کر محفوظ بھی کرتے جاتے ہیں۔ جہاں
کہیں ضروری ہو جاتا ہے تو واصل بڑی جرات اور بے باکی سے ظالم کو اس کے انجام سے
آگاہ کرنے سے بھی نہیں ہچکچاتے ہیں۔ چند اشعار دیکھیے ؎
ہو گیا انساں درندہ، سلطنت کے واسطے
پھر، سمجھ لو آدمیت کا چلن خطرے میں ہے
رہبر نو کے ستم سے ہر بشر برباد ہے
شیخ بھی رسوا ہے واصل برہمن خطرے میں ہے
پھر کسی تازہ لہو کا تذکرہ ہے غالباً
شور ہے کیوں آج کے اخبار کا چاروں طرف
ہر حرف مٹ گیا ہے تیرے اشتہار کا
ہوتا رہا ہے حشر یہ جھوٹے وقار کا
تم پہ طاری ہے تکبر کا نشہ لیکن سنو
یہ نشہ بھی ظالموں کچھ دیرپا ہوتا نہیں
واصل کے کلام کی فنی خصوصیات کی بات کی جائے تو ان کے اشعار
میں بلا کی روانی ہے۔ وہ اپنے اشعار میں بہت سادہ اور عام الفاظ کا استعمال کرتے ہیں
لیکن جہاں کہیں انھوں نے کسی مشکل اور دقیق لفظ کا انتخاب کیا ہے تو اسے بھی اتنی
چابک دستی اور خوب صورتی کے ساتھ شعر میں پرویا ہے کہ وہ مصرعہ کے دیگر تمام الفاظ
کے ساتھ مکمل طور پر شیر و شکر ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے شعر کی روانی اور تسلسل پر
کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن اس کے تاثر میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔ اسی طرح انھوں
نے بہت سے ایسے غیر روایتی الفاظ کو بھی بڑی خوب صورتی کے ساتھ برتا ہے کہ وہ قاری
کو چونکا بھی دیتے ہیں اور شعر کو زندہ و جاوید بھی بنا دیتے ہیں۔ان کے یہاں منفرد
تشبیہات اور تراکیب کا استعمال بھی بہت عام ہے جو قاری کومحو حیرت کردیتی ہیں
اوراس طرح وہ شعر کے تاثر کو ایک الگ ہی سطح پر لے جاتے ہیں۔ چند اشعار ملاحظہ
ہوں ؎
دنیا نے کبھی جھانک کے دیکھا نہیں مجھ میں
اک شخص میرے دل کی گپھائوں میں چھپا ہے
جو دل کو کسی گائوں کی پنگھٹ سے ملا تھا
شہروں کی فضائوں نے وہ غم لوٹ لیا ہے
ٹھوکریں عشق کے ماتھے کا ہیں جھومر واصل
جتنا گرتے ہیں محبت میں ابھر جاتے ہیں
ان کے چہرے پہ امنڈتا ہے جو طوفان غضب
برف کے کھیت میں انگارے بکھر جاتے ہیں
سوچتا ہوں میرے افکار کے زخمی طوطے
دل کے پنجرے سے نکل کر یہ کدھر جاتے ہیں
آپ کا شہر کسی چاند کا ٹکڑا تو نہیں
ڈھیر پتھر کے ہی ملتے ہیں جدھر جاتے ہیں
کئی شعرا کے یہاں ہمیں شاعری کا استفہامیہ انداز بھی دیکھنے
کو ملتا ہے۔ اس طرح کے اشعار میں شاعر اپنے شعر کو ایک سوال کی شکل میں سامعین اور
قارئین کے سامنے اس انداز میں پیش کرتا ہے کہ سننے اور پڑھنے والا عش عش کر اٹھتا
ہے۔ واصل کے یہاں بھی یہ انداز موجود
ہے۔مگر واصل صرف سوال نہیں کرتے ہیں بلکہ وہ اس کا جواب بھی خود ہی دیتے ہیں۔یہ
انداز بھی اپنے آپ میں انوکھا ہے۔مثال کے لیے میں بس ایک شعر پیش کر رہا ہوں ؎
سوال یہ ہے میرا قتل ہو گیا کیسے
جواب یہ ہے میں اک دوست کی امان میں تھا
اس مضمون کو میں واصل کے اس شعر کے ساتھ مکمل کرنا چاہتا
ہوں جو دو مصرعوں پر مشتمل ہونے کے باوجود ایک گہری روحانی، فکری اور فنی کیفیت کا
حامل ہے، جس میں انھوں نے بہت کم الفاظ میں
ایک مکمل فلسفۂ وجود اور بعدازمرگ شعور کو سمیٹ دیا ہے۔شعر دیکھیں ؎
اب جسم میں نہیں ہوں کتابوں میں مجھ سے مل
شہروں میں جنگلوں میں میری جستجو نہ کر
یہاں شاعر اپنے مادی وجود سے ماورا ہو چکا ہے۔ یہ نہ صرف
جسمانی موت کی طرف اشارہ ہے، بلکہ اس طرف بھی کہ اس کی اصل پہچان اس کی تخلیقات
(کتابیں) میں ہے، نہ کہ جسم میں۔ یہ بات
اُس شعوری تسلسل کو ظاہر کرتی ہے جو جسم سے آزاد ہو کر بھی باقی رہتا ہے۔ شاعر
جانتا ہے کہ اب وہ ان مقامات پر موجود نہیں جن پر عام انسان اُسے ڈھونڈنے کی کوشش
کرے گا۔ یہ ایک روحانی پختگی اور دنیاوی ظواہر سے ہٹ کر حقیقت کو دیکھنے والی سوچ
کا اظہار ہے۔ وہ خود کو زندہ یا حاضر ماننے کے بجائے قاری کو تنبیہ کرتا ہے کہ وہ
اس کی تلاش وہاں نہ کرے جہاں عام انسان سوچتا ہے یعنی شہروں کی رونقوں یا فطرت کی
وسعتوں میں۔ یہ موت کے بعد بقا بالذات یا علم میں حلول کا تصور ہے۔یہ صرف ایک شعر
نہیں، ایک فکری لوح ہے جس پر ’علم و وجود کی وحدت‘ کندہ ہے۔ واصل شفائی بظاہر اب
ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں لیکن وہ اپنی تصنیفات و تخلیقات کے ذریعہ آج بھی
ہمارے درمیان ہی ہیں۔
Akmal Naeem Siddiqui
G Sector, Partap Nagar, Near
Faize-Aam Masjid
Jodhpur- 342003 (Rajasthan)
Mob.: 9413844624
vedandquraan@gmail.com

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں