29/12/25

فراق گورکھپوری کی غزلوں میں ہندوستانی عناصر،مضمون نگار:رئیس احمد فراہی

اردو دنیا،اگست 2025

اردو زبان و ادب خصوصا اردو شاعری ہندوستانی تہذیب و ثقافت کی وارث اور امین ہے۔ اس کی جڑیں ہندوستان کی تہذیب، کلچر، رسم و رواج اور یہاں کی مٹی میں پیوست ہیں۔ اردو شاعری اپنی ابتدا سے ہی ہند کی تہذیب و ثقافت اور اس کی بو قلمونی سے عوام و خواص کو مسرورومسحور کرتی رہی ہے۔ اردو شاعری میں ہندوستانی عوام کے دلوں کی دھڑکن اور اس پر لگے ہوئے ضرب کے ساز صاف سنائی دیتے ہیں۔ امیر خسرو کی تلمیحی غزلیں ہوں جن کا ایک مصرع فارسی اور دوسرا ہندوی (اردو) کا ہے، یا وہ اشعار جو پورے کے پورے فارسی میں ہیں سوائے چند الفاظ و افعال کے، ان سب میں مہک اور کسک اسی مٹی اور تہذیب کی محسوس ہوگی۔ مثال کے طور پر اس مشہور غزل کو سامنے رکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس میں الفاظ و تراکیب تو گرچہ فارسی کی استعمال ہوئی ہیں مگر خیالات و وجدان خالص ہندوستانی ہیں        ؎

زحالِ مسکیں مکن تغافل درائے نیناں بنائے بتیاں

چو تاب ہجراں نہ دارم اے جاں نلیوہ گاہے لگائے چھتیاں

یکایک از دل دو چشم جادو بصد فریبم ببرد تسکیں

کسے پڑی ہے کہ جا سناوے پیارے پی سے ہماری بتیاں

شبان ہجراں دراز چوں زلف زمان  وصلت چو عمر کوتہ 

سکھی پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں

اسی طرح قلی قطب شاہ کی نظمیں ہوں یا غزلیں ہر جگہ یہ اثرات دیکھنے کو ملیں گے۔ ولی دکنی کی اس مشہور غزل کو ہی لے لیجیے جس میں وہ اپنے پیتم کو اس طرح آہستہ آہستہ رام کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جیسے کوئی شکاری ہرن کو آہستہ آہستہ اپنے پھاندے میں لاتا ہے۔  ولی کہتے ہیں         ؎

ہوئے ہیں رام پیتم کے نین آہستہ آہستہ

کہ جیوں پھاندے میں آتے ہیں ہرن آہستہ آہستہ

مرا دل مثل پروانے کے تھا مشتاق جلنے کا

لگی اس شمع سوں آخر لگن آہستہ آہستہ

اس غزل کے پیرایۂ بیان کے ساتھ زبان اور لفظوں کا انتخاب بھی قابل غور ہے۔ایسی بے شمار مثالیں اردو شاعری میں بھری پڑی ہیں۔ اس کے باوجود اردو شاعری پر ایک بڑا اعتراض یہ ہے کہ اس میں ہندوستان کی مٹی، یہاں کے رنگ و روپ،پھل پھول، چرند و پرند اور دیگر جمادات و نباتات کا ذکر نہیں ہے یا کم کم ہے۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے اگر ہم اردو شاعری کا بنظر غائر مطالعہ کریں تو اکثر اشعار میں یا اس کی بُنت میں ہمیں اسی تہذیب اور مٹی کی سگندھ ملے گی۔  یہ الگ بات ہے کہ کچھ اشعار میں یہ باتیں بالکل صاف اور واضح انداز میں نظر آئیں گی تو کہیں زیریں تہوں میں۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ تمام اشعار میں یہ خصوصیات موجود ہوں، کیونکہ شاعری تہذیب و ثقافت کی ترجمان سے زیادہ شئے لطیف اور نازک آرٹ ہے۔ اس میں رمز و کنائے اور دیگر صنائع سے حظ و انبساط حاصل کرنے کا اہتمام کیا جاتا ہے،۔اس لیے یہ تاریخ و تہذیب سے زیادہ سرور و ابتہاج کی چیز ہے۔چونکہ اس کی جڑیں ہندوستان کی مٹی اور اس کی تہذیب میں پیوست ہیں اس لیے اس میں بات کہیں کی اور کسی کی بھی ہو، اس کی تہوں میں کسی نہ کسی شکل میں ہندوستانیت نظر آ ہی جائے گی۔ یہاں تک کہ غالب کے اس مشہور شعر پر غور کریں تو اس میں بھی ہندو مذہب کے فلسفۂ آواگون کی جھلک دکھائی دے جائے گی        ؎

سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں

خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں

 اسی طرح اگر ہم مرثیوں پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگاکہ جو مراثی خالص واقعۂ کربلا سے متعلق لکھے گئے ہیں جو کہ یہاں سے ہزاروں کلومیٹر کی دوری پر واقع ہوا تھا، اس کی تہذیب، ثقافت، سرزمین اور اس کے کردار سب کچھ بالکل الگ ہیں اور یہاں سے کسی بھی طرح میل نہیں کھاتے،لیکن چونکہ اس کے لکھنے والے اور اس کی عکاسی کرنے والے اسی مٹی کے پروردہ ہیں۔ اس لیے انھوں نے اس پورے واقعے اور تہذیب و کردار کو اپنے نظریہ سے دیکھا اور وہی ہمیںبھی دکھایا۔ اسی لیے وہ سب ہمیں اپنے اور اپنی تہذیب کے معلوم ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر میر انیس کا صرف ایک شعر پیش کیا جا رہا ہے        ؎

بانوئے نیک نام کی کھیتی ہری رہے

صندل سے مانگ بچوں سے گودی بھری رہے

اس شعر میں قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ شعر مرثیہ کا ہے جس کا تعلق خالص اسلامی عربی روایت سے تعلق رکھتا ہے اس کے باوجود اس میں جو تہذیب بیان ہوئی ہے وہ خالص ہندوستانی ہے۔ مثلا کھیتی کا ہرا رہنا، صندل سے مانگ اور بچوں سے گودی کا بھرا رہنا جیسی بلیغ دعا صرف ہندوستانی تہذیب و ثقافت کی عکاس ہے۔ جیسے کوئی عمر رسیدہ کسی نوجوان خاتون کو سدا سہاگن رہنے اور بال بچوں کے ساتھ پھلنے پھولنے کی دعائیں دے رہی ہے۔ ظاہر ہے اس شعر کے سیاق کواگر ہم اس سرزمین سے جوڑ کر دیکھیں تو یہ ساری چیزیں وہاں مفقود ہیں۔ اس صحرائی علاقے سے کھیتی اور اس کے ہرے بھرے رہنے کا کیا تعلق؟ اسی طرح عورتوں کا مانگ میں سندور یا صندل بھرنا بھی خالص ہندوستانی کلچر ہے، جس کو میر انیس نے وہاں کے کردار کے روپ میں پیش کیا ہے۔ گویا مرثیے کے اس شعر میں دو تہذیبوں کا سنگم اس طرح ظاہر ہوا ہے کہ اس سے اس کی دل کشی اور طرفگی مزیدبڑھ گئی ہے۔

نظموں کے تناظر میں ہندوستانیت کی بات کی جائے تو نظموں میں ہندوستانی زندگی کا جیتا جاگتا روپ اپنی آب و تاب کے ساتھ جگہ جگہ نظر آئے گا، مگر غزلوں کا معاملہ قدرے مختلف ہے۔ پھر بھی غزلوں میں ہندوستان کی مشترکہ تہذیب اس خوبصورتی کے ساتھ جلوہ گر نظر آتی ہے کہ اس سے انکار ممکن نہیں۔ اس تعلق سے اکثر غزل گویوں کا کلام بطور مثال پیش کیا جا سکتا ہے۔ مگر یہاں ہمیں صرف فراق گورکھپوری کی غزلوں سے سروکار ہے۔ ان کی نظمیں اور رباعیاں تو اس تعلق سے بے نظیر ہیںہی، ان کی غزلوں میں بھی یہ خصوصیت پائی جاتی ہے کہ ہندوستانی تہذیب و ثقافت اور خصوصا ہندو دیو مالائی عناصر ان میں رچے بسے نظر آتے ہیں۔ غم و شادی کا معاملہ ہو یا محبوب کے حسن کی عکاسی کا،غرض ہر جگہ ان غزلوں میں یہ صفت کسی نہ کسی سطح پر نظر آئے گی۔چاہے وہ الفاظ و خیالات کی سطح پر ہو یا تلمیحات و استعارات کی سطح پر۔ شعلہ ساز کے دیباچے میں یوسف ظفر نے فراق گورکھپوری کا ایک قول نقل کیا ہے جس میں وہ اپنے بارے میں لکھتے ہیں :

 ’’(میں) شاعری ایسی کرنا چاہتا تھا، اپنے اشعار میں ایسی روح،ایسی فضا اور فضا میں ایسی تھرتھراہٹ چاہتا تھا کہ وہ تمام خوبیاں جلوہ گر اور اجاگر ہو جائیں جو اس قوم کی تہذیب میں ملتی ہیں جس قوم نے رامائن اور مہا بھارت،سیتا، شکنتلا، کرشن، بدھ اور ہندوستان کے قدیم آرٹ اور کلچر کو پیدا کیا۔‘‘

(شعلۂ ساز، فراق گورکھپوری، مکتبہ اردو، لاہور، 19 45،ص3)

اس حوالے سے فراق کی غزلوں کا جائزہ لیں تو بے شمار ایسے اشعار نظر آئیں گے جن میں سیتا، شکنتلا، کرشن، رام اور دیگر شخصیتوں کے ساتھ ہندو دھرم کے خواص اور ان کی خوبصورتی کا،پوری حسن کاری کے ساتھ برمحل استعمال ملے گا۔ اس سے جہاں ایک تہذیب اور قوم کی عکاسی ہوتی ہے وہیں نت نئی تشبیہات و استعارات اردو شاعری کا جزو بن کر اس کے حسن کو چار چاند لگاتے ہیں۔ مثلاً زندگی کے فلسفے سے متعلق فراق سے پہلے بہت سارے اشعار کہے جا چکے ہیں اور سب اپنی نوعیت کے لحاظ سے جداگانہ ہیں مگر فراق نے زندگی کو جس استعارے میں دیکھا اور اس کو برتا ہے وہ اپنی نظیر آپ ہے۔ شعر ملاحظہ فرمائیں         ؎

ہر لیا ہے کسی نے سیتا کو

زندگی ہے کہ رام کا بن باس

زندگی کو اس نظریے سے دیکھ کر اتنے آسان اور اچھوتے انداز سے باندھنا فراق ہی کا کمال ہے۔ اس میں صرف زندگی اور اس کے درد و کرب کی داستان ہی نہیں ہے بلکہ اس میں دو بچھڑے پریمی کی محبت اور ان کے ہجر کی کسک بھی موجود ہے۔ یہاں زندگی اپنے استعاراتی انداز میں رام کا بن باس اور اس سے متعلق تمام طرح کے آلام و مصائب کا استعارہ بن جاتی ہے اور تلمیحی انداز میں اس 14 سالہ بن باس اور اس سے جڑے تمام متعلقات کی بھی یاد دلاتی ہے۔ اسی ضمن میں ایک اور شعر دیکھیے جس میں فراق نے انسانی زندگی کی پریشانیوں اور بے چینیوں کو بیمار کی رات سے تشبیہ دے کر تجرباتی اور مشاہداتی انداز کا ایک عمدہ نمونہ پیش کیا ہے        ؎

اس دور میں زندگی بشر کی

بیمار کی رات ہو گئی ہے

بیماری ایک ایسی کیفیت ہے جس کی شدت اور تلخیوںسے تقریبا ہر انسان کبھی نہ کبھی دو چار ہوتا ہے۔ اس حالت میں رات پہاڑہو جاتی ہے اور اس کا کاٹنا انتہائی تکلیف دہ ہو تا ہے۔اس انفرادی تجربہ کو فراق نے اجتماعی زندگی کے دکھ درد کا استعارہ بنا دیا ہے۔ عاشق و معشوق اور ان کی یادوں سے متعلق مضامین بھی ہماری شاعری کے غالب رجحانات میں سے ہیں۔ عموماً عاشق کو جب اپنے معشوق کی یاد آتی ہے تو بجائے فرحت و شادمانی کے اس کی بے چینیاں اور پریشانیاں مزید بڑھ جاتی ہیں اور وہ اس کو یاد کر کے مایوس و مغموم ہو جاتا ہے۔مگر فراق نے اس مضمون کو تشبیہی انداز میں مندروں کے چراغ کے حوالے سے بالکل الگ انداز میں پیش کیا ہے جس سے زندگی،روشنی اور امید کی کرنیں پھوٹ نکلتی ہیں       ؎

دلوں کو تیرے تبسم کی یاد یوں آئی

کہ جگمگا اٹھیں جس طرح مندروں میں چراغ

یہ تشبیہ بھی اپنے طور کی نادر تشبیہ ہے کہ اس میں محبوب کی مسکراہٹ اور اس کے تبسم کو مندروں میں چراغ کے جگمگا اٹھنے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ گویا دل کو ہی مندر بنا دیا ہے اور اس کے تبسم کی یاد اس کے دل یعنی مندر میں چراغ جلانے کا کام کر رہی ہے۔ جس طرح دل اور مندر میں ایک علاقہ موجود ہے اسی طرح تبسم اور جگمگا اٹھنے میں بھی ایک طرح کی رعایت پائی جاتی ہے۔ اس طرح غور کریں تو یہ شعر اپنے معنی و مفاہیم،الفاظ کی سلاست، تشبیہی ندرت، رعایت و مناسبت اور دیگر فنی لوازمات کے ساتھ ایک عمدہ شعر کی شکل میں سامنے آتا ہے۔ اس ضمن میں ڈاکٹرخلیق انجم کا یہ قول ملاحظہ فرمائیں    :

’’فراق نے محبوب کے حسن کا بیان ہندوستانی زبان، استعاروں اور تشبیہوں میں اس طرح کیا ہے کہ ان کا محبوب اردو کے عام محبوب کی طرح اجنبی اور غیر ملکی نہیں ہے صرف ان استعاروں اور تشبیہوں نے اس محبوب کو ہندوستانی کر دیا ہے۔‘‘

(فراق گورکھپوری،انجمن ترقی اردو ہند، نئی دہلی، 1984، ص 196)

فراق کی شاعری میں اس طرح کے بے شمار پیکر ہیں جن میں ایک عام ہندوستانی محبوب اپنی تمام تر اداؤں اور دلفریبیوں کے ساتھ جلوہ گر ہے۔ فراق کی نظمیں اور روپ کی رباعیاں تو اس کی بہت ہی نمایاں مثالیں ہیں جن میں پیکر تراشی اور محبوب کے حسن کی عکاسی ہندو دیو مالائی اثرات کے تحت اس طرح کی گئی ہے کہ کہیں کہیں ان میں رکاکت پسندی کا شائبہ بھی پیدا ہو گیا ہے۔ حالانکہ غزلوں میں بھی ایسے اشعار موجود ہیں مگر نسبتاً کم ہیں۔ بطور نمونہ ایک دو مثالیں یہاں پیش کی جا رہی ہیں        ؎

ذرا وصال کے بعد آئینہ تو دیکھ اے دوست

ترے جمال کی دوشیزگی نکھر آئی

مرے آغوش سے اٹھ کر کبھی آئینہ دیکھا ہے

سحر کو اور بڑھ جاتی ہے کچھ دوشیزگی تیری

مندرجہ بالا اشعار میں نجی حالات و معاملات اور محبوب کے حسن کی تصویر کشی جس صاف اور واضح انداز میں کی گئی ہے، وہ غزل کی زبان اور اس کی تہذیب کے منافی ہے، مگر فراق کے لیے یہ کوئی معیوب بات نہیں ہے کیونکہ انھوں نے اس طرح کے اشعار میں ہندو دیومالائی تہذیب کے زیر اثر محبوب کے حسن کی عکاسی کاجواز پیدا کیا ہے۔ ہاں، ایسے اشعار کی بھی کمی نہیں ہے جن میں تہذیب اور شائستگی کے ساتھ ایک ہندوستانی محبوب کی تصویر کشی کا نیرنگ آرٹ دکھائی دیتا ہے۔ مندرجہ ذیل اشعار کو اس ضمن میں دیکھا جا سکتا ہے       ؎

جھلک روپ کی شبنمی پیرہن میں

ہزاروں چراغوں کی یہ جگمگاہٹ

یوں زیر شفق پو پھوٹی ہے انفاس سحر کے جھرمٹ میں

جیسے کسی شاہد رعنا نے گھونگھٹ سا ذرا سرکایا ہے

قاتل اس کو کون کہے

ہنس مکھ آنکھیں کومل گال

سنگم پہ نہانے میں یہ بل کھاتا ہوا جسم

اک موج سر گنگ و جمن کھیل رہی ہے

فراق نے اپنی غزلوں میں ہندوستانی تہذیب و ثقافت کی عکاسی کے لیے ہندی اور سنسکرت زبان کا استعمال بھی کثرت سے کیا ہے۔ چونکہ کوئی بھی زبان محض زبان نہیں ہوتی بلکہ وہ اپنے تہذیبی تشخص اور ثقافت کی رازدار اور امین ہوا کرتی ہے۔اس کے پس پشت ایک پوری تہذیب اور تاریخ کارفرما ہوتی ہے۔ بریں بنا شاعری میں لفظوں کا انتخاب بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ کبھی کبھی تو صرف ایک لفظ ہی پورے شعر کی روح اور اس کی جان ہوا کرتا ہے۔ فراق اس رمز سے بخوبی واقف تھے،اس لیے انھوں نے اپنے اشعار میں ہندوستانیت کو اجاگر کرنے کے لیے شعوری طور پر اس سے کام بھی لیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان کے اشعار میں دیو مالائی عناصر کے ساتھ ساتھ ہندی، سنسکرت اور عوامی زبان کے الفاظ کی بہتات ملے گی۔اس سے متعلق فراق گورکھپوری خود اپنے ایک خط میںلکھتے ہیں:

ــ’’ہم لوگوں کی کوششیں ہندوستانی زندگی کو اردو ادب میں زیادہ سے زیادہ اجاگر کرنے اور ابھارنے کی رہی ہیں۔ البتہ ایسا ہونے میں ہندوؤں کی زندگی کے مخصوص جلوے زیادہ نظر آئیں گے۔اس لیے ہرگز ہرگز نہیں کہ ہندو اکثریت میں ہیں بلکہ اس لیے کہ کئی لحاظ سے ہندو زندگی زیادہ رنگا رنگ اور پہلودار ہے۔ خارجی اور داخلی دونوں لحاظ سے۔ یہ رنگا رنگی اور پہلوداری اردو ادب میں اسی طرح آجانا چاہیے جس طرح وہ سنسکرت، پالی، بنگالی، ہندی، ماگدھی، اڑیا، پنجابی، مرہٹی، گجراتی اور جنوبی ہند کی زبانوں میں ملتی ہے۔‘‘

(من آنم،فراق گورکھپوری، ساقی بک ڈپو، دہلی، 1997، ص128،127)

فراق اپنی اس کوشش میں بہت حد تک کامیاب بھی ہوئے۔یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری ان کے ہم عصروںمیں بلکہ یہ کہنا بجا ہے کہ پوری اردو شاعری میںاس لحاظ سے نمایاں اور منفرد مقام رکھتی ہے۔ اکثراس نوعیت کے الفاظ و خیالات اشعار کے دروبست میں بہتر طور پر کھپ کر شعر کی شعریت اور اس کے حسن کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ اردو شعر و ادب کے دامن کو وسیع اور رنگا رنگ بناتے ہیں۔ساتھ ہی ان میں دیگر زبانوں کے الفاظ بھی اپنی تہذیب و ثقافت کے ساتھ اپنے حسن کا جادو جگاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں        ؎

ہم سمندر متھ کے لائے گوہر راز دوام

داستانیں ملتوں کی ہیں جہاں نقش بر آب

زندگی کے سنوارنے والو

کر دیا زندگی کا ستیاناس

سکھ ہی سکھ ہو جہاں دن رات

اس جنت سے ڈھونڈ نجات

رات چلی ہے جوگن بن کر بال سنوارے لٹ جھٹکائے

چھپے فراق گگن پر تارے دیپ بجھے ہم بھی سو جائیں

جہاں میں تھی بس اک افواہ تیرے جلووں کی

چراغ دیر و حرم جھلملائے ہیں کیا کیا

فراق نے اپنی غزلو ں میں فطری فضا اور ارضیت پیدا کرنے کے لیے بعض ایسے الفاظ و خیالات، تشبیہات و استعارات،اور لفظ سازی کا سہارا لیا ہے جن سے ان کا مقصد تو پورا ہو گیا ہے مگر ان کی غرابت، نامانوسیت اورکھردرے لب و لہجے کی وجہ سے شعر کا حسن غارت ہو کر رہ گیا ہے۔ بسااوقات تو وہ ہندی اور سنسکرت الفاظ و تراکیب کو اردو کے قالب میں ڈھالنے میں کامیاب نظر آتے ہیںمگر کہیں کہیں وہ اپنی اس کوشش کو فنکاری میںتبدیل کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔ چند مثالوں سے یہ بات مزید واضح ہو جائے گی       ؎

زلف شب گوں کی چمک، پیکر سیمیں کی دمک

دیپ مالا ہے سر گنگ و جمن کیا کہنا

وہ پچھلی شب نگہ نرگس خمار آلود

کہ جیسے نیند میں ڈوبی ہوئی ہو چندر کرن

یہ سرمئی فضاؤں کی کچھ کنمناہٹیں

ملتی ہیں مجھ کو پچھلے پہر تیری آہٹیں

ہو سامنا اگر تو خجل ہو نگاہ برق

دیکھی ہیں عضو عضو میں وہ اچپلاہٹیں

رخسار تر سے تازہ ہو باغ عدن کی یاد

اور اس کی پہلی صبح کی وہ رسمساہٹیں

فراق کی غزلوں کے مطالعے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ جس طرح فراق کا محبوب ایک سیدھا سادہ عام ہندوستانی ہے، کچھ ایسی ہی نوعیت ان کی غزلوں کی بھی ہے جن میں عام فہم اور سادہ و سلیس انداز اختیار کیا گیا ہے۔ الفاظ و خیالات کی سادگی کے ساتھ ان کی غزلوں میں ایک طرح کی کیفیت تو پائی جاتی ہے مگر تہ داری اور معنی آفرینی جیسی چیزیں تقریباًمفقود ہیں۔

 

Dr. Rais Ahmad Farahi

Assistant Professor, Dept. of Urdu

University of Hyderabad-

Hyderabad- 500046 (Telangana

Mob.: 8802252580

rafarahi82@gmail.com

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...