دنیا
میں ہونے والی برق رفتار ترقیوں نے نہ صرف انسانی زندگی کو متاثر کیا بلکہ زبان وبیان
اور تہذیب وثقافت کو بھی جدّت آشنا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اِن ترقیوں کے پس منظر میں
جہاں طبّی معاملات اور طعام و قیام کے نئے نئے مسائل پر غور وخوض کیا جاتا ہے، وہیںوسائلِ
علوم اور معلوماتی ذرائع کو زیر بحث لایا جاتا ہے۔ کیونکہ گلوبلائزیشن کے اس عہد میں
بے شمار ناممکنات، ممکنات کے زمرے میں آچکے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ شعبہ ہائے زندگانی
کے نت نئے مسائل ہمارے سامنے ہیں۔ گلوبلائزیشن اور انفارمیشن ٹکنالوجی کے اس دور میں
ہمارے زاویۂ فکر میں تبدیلی آئی اور ہم مختلف طریقوں سے مستقبل کے مناظر کو بھی
ا بھارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ظاہر ہے مستقبل کے حالات کا جائزہ قیاس آرائیوں سے
جڑا ہوگا، مگر جب حال سے مستقبل کو جوڑ تے ہیں تو اِن قیاس آرائیوں میں بہت سی حقیقتیں
نظرآجاتی ہیں۔ اگر ہم گلوبلائزیشن اور انفارمیشن ٹکنالوجی کے عہد میں فروغ ِ اردو
کے امکانات کا تجزیہ کریں گے تو بہت سی باتیں واضح ہوں گی اور ہم یہ کہنے میں حق
بہ جانب ہوں گے کہ آئندہ اردو ٹکنالوجی کے سہارے کس حد تک اپنا مقام متعین کرے گی۔
کیونکہ اردو آج نئی نئی ایجادات کے سہارے فروغ پارہی ہے تو ظاہر ہے مستقبل میں
ترقیوں کی رفتار کے پروں پر سوار ہوکر مزید آگے بڑھے گی، مگر اس کے لیے لازمی شر
ط ہے کہ اہلِ اردو جدید میڈیا کے بدلتے امکانات پر مسلسل غور وفکر کرتے رہیں۔
میڈیا
کا نظام زبان کے معاملات سے جڑا ہوتا ہے۔ کیونکہ میڈیا میں اسلوب سے کہیں زیادہ
زبان کا معاملہ مضبوط ہوتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ میڈیا سے منسلک افراد زبان پر خاصی
توجہ دیتے ہیں۔ پھر اس توجہ کا تعلق لغت سے کہیں زیادہ سماج سے ہوتا ہے۔ گویا سما
ج میں جس طرح کی زبان کی اہمیت ہوتی ہے، میڈیا کے افراد اسی طرح کی زبان تشکیل دینے
کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لیے اس کی زبان کو
Language of demandکہا جاسکتا ہے۔یہاں ٹھہر کر ہم یہ بھی
کہہ سکتے ہیں کہ میڈیا کی بگڑتی زبان کے لیے فقط میڈیا کو قصور وار تسلیم کرنا زیادہ
مناسب نہیں ہے۔ کیونکہ میڈیا کے افراد اسی زبان کو ترجیح دیتے ہیں جیسی زبان
معاشرے کے مطابق ہو۔ اب ہم یہاں ایک بات اور کرسکتے ہیں۔ اردو کی لفظیات کے مسئلے
کو سامنے رکھیں۔ جب تک سامعین کو اردو الفاظ سمجھ میں آتے ہیں، اس وقت کہا جاتا
ہے کہ یہ اردو ہے۔ اگر اردو سے جڑے ہوئے افراد مشکل لفظ استعمال کرلیتے ہیں تو اسے
عربی سے قریب مان لیا جاتا ہے۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ جس سماج کے لیے ہم لکھتے
ہیں، اس سماج کے افراد لفظوں سے غیر مانوس ہیں، اس لیے قدرے مشکل لفظ کو دوسری
زبان سے جوڑ دیتے ہیںبلاشبہ لفظیات کا تعلق سماج کی نفسیات سے بھی ہوتا ہے۔
میڈیا
سے منسلک افراد کو زبان کے تعلق سے ہمیشہ طعن وتشنیع کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔
اس میں شک نہیں کہ میڈیا والوں کی زبان خراب ہورہی ہے۔ مگر یہاں ٹھہر کر ہم یہ بھی
محاسبہ کرسکتے ہیں کہ ہمارے ادیبوں کی زبان بھی خراب ہورہی ہے۔ جب ادیبوں کی زبان
میںبازاری پن پیدا ہوجائے تو میڈیا کے افراد سے شکوہ کیسا ؟ کیوں کہ میڈیا والوں
کو زبان کے فروغ سے کہیں زیادہ کمیو نیکیشن سے رشتہ رکھنا ہوتا ہے۔ جب کہ ادیبوں
کا تعلق زبان اور ادب کے فروغ سے ہوتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں جس زبان کی اہمیت
ہوسکتی ہے، ویسی ہی زبان میڈیا والے بنانے
کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لیے ہمیشہ میڈیا سے منسلک افراد کی زبان پر اعتراض غیر منطقی
ہے۔
مذکورہ باتوں کو ہم
کچھ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ میڈیا والوں کی اپنی کوئی زبان نہیں ہوتی ہے۔ وہ فقط
معاشرے میں رائج زبان سے استفادہ کرتے ہیں اور اسی زبان میں معاشرے سے ہم کلام
ہوتے ہیں۔ گویا اگر میڈیا کی زبان کمزور ہورہی ہے اور اس میں نقائص پیدا ہورہے ہیں
تو ہم اپنے معاشرے کو بھی سامنے رکھ سکتے ہیں کیونکہ انھیں افہام وتفہیم سے واسطہ
ہوتا ہے۔
ایک ادیب کو زبان کی
سطح پر بہت آزادی حاصل ہوتی ہے۔ وہ جیسے چاہے، جس اسلوب میں چاہے، جن لفظیات کے
سہارے چاہے، اپنے اندر کی بات لکھ سکتا ہے۔ اگر ادیب کا اسلوب گہرا ہے تو بھی اس
پر کسی کو اعتراض کرنے کی گنجائش نہیں نکلتی ہے،بلکہ زبان کے اس گہرے پن کو ادیب کا
اپنا اسلوب تسلیم کرلیا جاتا ہے۔ اگر کوئی ادیب اپنی زبان میں آسانی پیدا کرلے تو
اسے اس کا اسلوب کہہ دیا جاتا ہے۔ گویا ایک ادیب کا امتحان زبان کی سطح پر کم لیا
جاتا ہے، مگر ایک صحافی کو زبان کے امتحان میں ہمیشہ پاس ہونا ہوتا ہے۔ اگر وہ بہت
زیادہ نہ سہی، قدرے مشکل زبان لکھ دے تو لوگ اعتراض کردیتے ہیں۔ ایک صحافی کی زبان
ادیب کی طرح نہیں ہوسکتی ہے، مگر ادب سے جڑے ہوئے لوگ صحافت کی زبان کا تجزیہ کرتے
ہیں۔ اس لیے ہمیں صحافت کی زبان کمزور نظر آتی ہے۔
میڈیا کی زبان میں
آرٹ اور کرافٹ کے مسئلے کو بھی ملاسکتے ہیں۔ Art سے فن کاری جڑی ہوتی ہے مگر اس میں بہت زیادہ تجربات کی اہمیت نہیں ہوتی
ہے۔ جب کہ Craft میں آرٹ سے کہیں زیادہ تجربات کی
گنجائش نکلتی ہے۔ ادب سے جڑے افراد آرٹ پر توجہ دیتے ہیں اور میڈیا کے افراد
کرافٹ سے رشتہ استوار کرتے ہیں۔ یہاں ادیب اور میڈیا کے افراد کا موازنہ کچھ یوں
بھی کیا جاسکتا ہے کہ ادیب کو معلومات فراہم کرنے میں بھی آزادی ہوتی ہے۔ وہ جیسی
معلومات فراہم کرے، یا تاریخ کو مسخ کرکے پیش کرے تو فکشن کہہ کر اسے نظر انداز
کردیا جاتا ہے، مگر میڈیا کے افراد پر یہ ذمے داری ہوتی ہے کہ وہ سماج کے مطابق
زبان بھی بنائیں، ساتھ میں ٹھیک ٹھیک حقائق بھی پیش کریں۔ ظاہر سی بات ہے کہ ایک ادیب اس بات کا مکلف نہیں
ہوتا ہے کہ وہ عوام کے مطابق زبان پیش کرے۔
جدید
ٹکنالوجی سے اردو کو جوڑنے میں یونی کوڈ نے اہم کردار ادا کیا۔ کیونکہ اسی کے
سہارے اردو کا استعمال فیس بک، انسٹاگرام، واٹس ایپ، ٹویٹر، ای میل کے علاوہ دیگر
سوشل نیٹ ورکس پر بہ آسانی کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ آن لائن یونی کوڈ کنورٹر
نے بھی اردو کے دائرے کو وسیع کیا ہے۔ان پیج سے یونی کوڈ اور یونی کوڈ سے ان پیج میں
فائل تبدیل کرنے کی سہولت نے اردو کے فروغ کو یقینی بنایا ہے۔ اسی یونی کوڈ کی دین
ہے کہ پی ڈی ایف فائل کے علاوہ سافٹ ویئر میں اردو کی کتابیں، خبریں، مضامین اور
تقاریر ویب سائٹ پر موجود ہیں۔ پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین اس حوالے سے لکھتے
ہیں:
’’اب آپ کو انٹر نیٹ اور کمپیوٹر کے استعمال کے لیے کسی اور
زبان کے سہارے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ اپنے پورے کمپیوٹر کو اردو میں منتقل کرسکتے
ہیں۔ ای میل، چیٹنگ، براؤزنگ سب اردو زبان میں کرسکتے ہیں۔ اردو یونی کوڈ کی ایجاد
نے یہ ممکن کردکھایا ہے۔ اب آپ گوگل یا کسی بھی سرچ انجن میں جاکر اردو میں ٹائپ
کریں اور اردو میں جوابات حاصل کریں۔‘‘1
اردو
میں قرۃ العین حیدر کا اپنا اسلوب ہے۔ پریم چند کی زبان الگ نوعیت کی ہے۔ بیدی کی
زبان میں پنجابیت ہے۔ کسی او رکی زبان میں کوئی اور کیفیت ہے مگر ملک بھر کے صحافیوں
کو اپنے معاشرے کے لیے زبان تیار کرنا ہوتی ہے جو کہ ایک مشکل امر ہے۔ انھیں یہ
آزادی حاصل نہیں ہوتی ہے کہ وہ جس طرح چاہے، اپنی زبان بنائیں۔
لسانیات
کے ماہروں نے بھی ساختیات اور نظامِ زبان کے مدنظر دو اہم بات میں کہی ہیں۔ ادب کی
زبان کا تعلق Expressive سے
ہوتاہے۔ جس میں ہر طرح کے معاملات کی گنجائش ہوتی ہے۔ ہر ادیب اپنا
Narration تیار کرسکتا ہے۔ اپنے بیانیے میں کمی بیشی
کرسکتا ہے۔ گویا طرزِ اظہار میں وہ اپنے من کے مطابق جملوں کو ڈھال سکتا ہے۔ مشکل یا
آسان لفظوں سے کام لے سکتا ہے۔ مگر میڈیا کے افراد کو اس کی آزادی نہیں ہوتی ہے،
کیونکہ ان کی زبان کوCognative کہا جاتا ہے۔ ظاہر
ہے اس میں اطلاع اور ترسیل اہم ہوتی ہے۔ جب کہ ادیبوں کی زبان میں اطلاعات کی اتنی
بڑی اہمیت نہیں ہے۔ اس لیے ہر زبان میں مشکل سے مشکل اسلوب میں لکھنے والوں کو بھی
ادیب تسلیم کیا جاتا ہے۔یہ الگ بات ہے کہ مشکل زبان لکھنے والے ادیبوں کے قارئین
کم ہوتے ہیں مگر اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ ان کی اپنی الگ دنیا ہوتی ہے۔
مگر زبان کے تناظر میں کسی طبقے کو ذہن میں نہیں رکھنا ہوتا ہے۔ وہ جیسی زبان لکھ
دے، اس کو کوئی نہ کوئی طبقہ ہاتھ آجاتا ہے جو اس کے ادب سے لطف اندوز ہوتا ہے۔
مگر میڈیا والے کے سامنے معاملہ کچھ او ر ہوتا ہے۔اس تناظر میں یہ اقتباس دیکھیں
:
’’اخبار پڑھنے والے علما بھی ہوتے ہیںاور عامی بھی۔جن کا علم
برائے نام ہوتا ہے۔ صحافتی زبان کو نہ اتنا دقیق ہونا چاہیے کہ عام آدمی کی سمجھ
سے باہر اور نہ ہی اتنا بازاری کہ عالم کو اسے پڑھنے سے گھن آنے لگے۔‘‘2
اس
اقتباس سے اندازہ ہورہا ہے کہ میڈیا کے افراد کو نصیحت کی جارہی ہے۔ ظاہر ہے جس کو
نصیحت کی جاتی ہے، اس پر ہمیں اشکال کرنے کا حق بھی ہوتا ہے۔ جب کہ کسی ادیب کو یہ
سمجھانے کی کوشش نہیں کی جاتی ہے کہ وہ کیسی زبان لکھے۔ اس لیے ادیب کو آزادی ہے
کہ جیسے چاہے وہ لکھے، مگر ایک صحافی کو عوام اور معاشرے کے متعلق زبان بنانے میں
توجہ دینی پڑتی ہے۔ لفظوں کو بار بار کاٹنا پڑتا ہے اور مناسب لفظ کے استعمال کے لیے
غور وفکر کرنا ہوتا ہے۔ اس لیے فقط یہ کہہ دینا کہ میڈیا کی زبان آسان ہوتی ہے،
اس زبان میں ہر فرد لکھ سکتا ہے۔ گویا میڈیا والوں پر حقائق کو چھاننے اور زبان
بنانے، دونوں کی ذمے داری ہوتی ہے۔ اس لیے میڈیا کی زبان کو پرکھنے اور سمجھنے کے
لیے ہمیں اپنے معاشرے کو نگاہ میں رکھنا لازمی ہے۔ ترسیلی نظام کو چست درست رکھنے
میں ادیبوں سے کہیں زیادہ ایک صحافی کا کردار ہوتا ہے۔ یہاں ایک اقتباس ملاحظہ
فرمائیں :
’’ترسیل میں ایک مشترکہ علامتی ماحول، سماجی رابطے یعنی اپنے
سماج میں جن کے درمیان ہم ایک دوسرے کے ربط میں آتے ہیں، سبھی اس کے دائرے میں
آتے ہیں۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ بہت سہل معنوں میں ترسیل،پیغامات،خیالات اور
دوسرے کے تئیں رابطے کے تبادلے پر مبنی ہے۔‘‘3
انفارمیشن
ٹکنالوجی کے دور میں اردو کئی سطحوں پر متاثر ہوئی ہے اور اس کا دائرہ کار بہت وسیع
ہوا ہے۔ یونی کوڈ کے انقلاب کے بعد اردو سیکھنے کا رواج عام ہوا ہے۔ ہمیشہ اردو
زبان کے رسم الخط کے متعلق بھی بات ہوئی
اور آج بھی ہورہی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اردو اپنے رسم الخط سے بھی زندہ ہے۔ کیونکہ
اس کی ساخت یونی کوڈ کے عہد میں اسے ممتاز بناتی ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی کہنے میں
کوئی عار نہیں کہ انفارمیشن ٹکنالوجی کے دور میں اردو کے رسم الخط میں خود بہ خود
کچھ نہ کچھ نیا ہوا ہے۔ وہ اس طرح کہ آج سوشل نیٹ ورک سائٹس پر بے شمار لوگ رومن
رسم الخط میں اردو کا استعمال کررہے ہیں۔ ان کے استعمال سے اردو کا فائدہ کسی نہ
کسی سطح پر ضرور ہورہا ہے، مگر سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اردو رومن استعمال کرنے
والے تمام افراد ایک طرح سے رومن اردو لکھ رہے ہیں؟ اس کا جواب نفی میں ہے کہ ہر ایک
کا رومن لکھنے کا طریقہ الگ الگ ہے۔ یہ الگ موضوع ہے کہ آخر ان کے الگ الگ طریقے
سے لکھنے سے اردو کا کیا نقصان ہوگا یا بھلا، مگر اتنی بات ضرور ہے کہ اردو رومن
رسم الخط کا سلسلہ جاری ہے۔ انفارمیشن ٹکنالوجی کے عہد میں یہ امکان ہے کہ آئندہ
رومن میں اردو لکھنے والوں کا سلسلہ دراز ہوگا۔ اردو کو رومن میں لکھنے کے لیے
باضابطہ کوئی کمیٹی تیار نہیں کی گئی، مگر ازخود رومن اردو کا سلسلہ شروع ہوگیا
ہے۔ اس کے شروع ہونے میں ٹکنالوجی کا بھی عمل دخل ہے۔
اس
کے علاوہ ٹکنالوجی کے استعمال سے اردو اسلوب بھی متاثر ہوا ہے۔ وہ اس طرح کہ کاغذ
پر اردو لکھنے یا کتاب لکھنے والے اپنے متعینہ قاری کو ذہن میں رکھتے ہیں اور اپنے
موضوع ومواد پر دھیان دیتے ہیں۔ اس لیے ایسے لکھنے والوں کا اسلوب الگ ہوتا ہے،
مگر جب کوئی فرد سوشل سائٹس پر اردو لکھتا ہے تو اس کا اسلوب الگ ہوتاہے۔ وہ اپنے
میسیج کو آسان بنانے اور قابل فہم رکھنے کے لیے اپنی زبان میں لچک پیدا کرتا ہے۔
دوسری زبانوں کے الفاظ کا استعمال بڑی خوب صورتی سے کرتاہے۔ اس طرح اردو اسلوب بھی
متاثر ہوا ہے۔ امید ایسی ہی کی جاسکتی ہے کہ آئندہ سوشل نٹ ورکنگ سائٹس استعمال
کرنے والوں کا اسلوب اور بھی زیادہ متاثر ہوگا۔ الغرض یہ کہا جاسکتاہے کہ انفارمیشن
ٹکنالوجی کے دور میں اردو کا دائرہ وسیع ہوا ہے۔
سوشل سائٹس کے ذریعے اردو سے قریب ہونے کے بعد لوگوں میں اردو تہذیب کو
جاننے کا شوق بھی پیدا ہوا ہے۔ گلوبلائزیشن کے عہد میں ہر فرد نئی تہذیب جاننے کا
شوقین نظر آتا ہے۔ تہذیب کے تئیں لوگوں کو شوقین بنانے میں انفارمیشن ٹکنالوجی کا
اہم کردار رہا ہے۔ ظاہر ہے جب عالمی سطح پر اردو کے تئیں لوگ متجسس ہوں گے تو اردو
کا دائرہ وسیع ہوگا۔ میڈیا کے حوالے سے بھی لوگ اردو سے قریب ہوں گے۔ ادب اور تہذیب
کے حوالوں سے بھی لوگ اردو کی طرف متجسس نظروں کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔ اس صورت حال
میں اردو مزید فروغ پائے گی۔ گویا اکیسویں صدی میں اردو کے امکانات بہت ہیں، مگر
شرط یہ ہے کہ کچھ مثبت ومستحکم طریقے سے آگے بڑھنے کی کوشش کی جائے۔
اپنے
اندر کی بات کو دوسرے تک آسانی سے پہنچانے کے لیے ہم تصنع نہیں برتتے ہیں،بلکہ ایسی
زبان استعمال کرتے ہیں جس میں مفہوم اور ترسیل کا کوئی مسئلہ پیدا نہ ہو۔ سماجی
رابطے میں ہم ہمیشہ جیتے ہیں۔ اس لیے ایسی
زبان کی اہمیت ہوتی ہے، جس میں بناوٹ نہ ہو۔ ظاہر ہے میڈیا والے جب معاشرے کے
مطابق زبان کو ڈھالتے ہیں، اس میں ان کی فن کاری بھی شامل ہوتی ہے۔ گویا ایک اوسط
درجے کی زبان میڈیا کی زبان ہوتی ہے۔
خاص
طور پر یہاں میں اردو میڈیا کی زبان کی بات کروں تو سوال یہ ہوتاہے کہ اردو میں
زبان کو بہتر بنانے کے کیا طریقے استعمال میں لائے جاتے ہیں۔ ادب کے طالب علموں کی
زبان بہتر کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی ہے۔ ادب کے طالب علم بھی بھونڈی بھونڈی غلطیاں
کررہے ہیں۔ ایسے میں میڈیا کی زبان کا محاسبہ بڑا عجیب سالگتا ہے۔ کیونکہ میڈیا کا
سروکار عوام سے ہوتا ہے۔ عوام جس زبان کو سمجھ جائے، اسے سمجھانے کی اجازت ہونی
چاہیے۔
یہاں
ایک بات اور یہ کہی جاسکتی ہے کہ کسی زبان میں صحافیوں کی زبان سن سن یا پڑھ پڑھ
کر لوگ اپنی زبان درست کرتے تھے۔ لیکن یہاں مجھے یہ بات کہنے کی جازت ہونی چاہیے
کہ اردو صحافت کی شروعات میں ادیبوں کا کردار رہا ہے۔ جو ادیب ہوتے تھے،وہی رسائل
وجرائد نکالتے تھے۔مولانا آزاد ادیب بھی تھے۔
حسرت موہانی ادیب بھی تھے۔ مولانا محمد علی جوہر ادیب بھی تھے۔ گویا ادیبوں
نے صحافت کو مضبوطی عطا کی ہے۔
اب
محاسبے کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ ہم نے ادیب اور صحافیوں کو دو خانوں میں بانٹ دیا
ہے۔ ادب سے جڑے لوگ صحافت سے قریب نہیں آتے ہیں۔ ظاہر ہے جب ادیب صحافت سے قریب
نہیں آئیں گے تو صحافت سے بہترین زبان کی امید بھی فضول سی بات لگتی ہے۔ گویا آج
کی اردو صحافت ادیبوں سے محروم ہوگئی ہے۔ اس لیے صحافت سے جڑے لوگ اپنی زبان پر
توجہ نہیں دیتے ہیں۔ جب تک ادب وصحافت کا اختلاط نہ ہوگا، اس وقت تک صحافت کی زبان
میں معیار کی بات کرنا قدرے مشکل ہے۔ یہاں ایک سوال یہ ہوتاہے کہ کیا میڈیا والے ایسی
زبان کا استعمال کرتے ہیں یا نہیں، جس سے ہم معانی سمجھ سکیں۔ میرا خیال ہے کہ
سمجھنے والی زبان میڈیا والے لکھ رہے ہیں۔ یہاں ایک اقتباس دیکھیں
:
’’اگر لکھنے یا کہنے والے کی بات پڑھنے یا سننے والے کی سمجھ میں
نہ آئے یا وہ پوری طرح نہ سمجھے یا غلط سمجھے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ زبان کے
استعمال کا مقصد پورا نہیں ہوا۔ یا تو لکھنے یا کہنے والا صحیح اور مناسب الفاظ
استعمال نہیں کرسکا یا پھرپڑھنے یا سننے والا ان الفاظ کو سمجھ نہیں سکا۔ ‘‘ 4
میڈیا
والے ہمیں سمجھا پارہے ہیں۔ ہم ان کی باتوں کو سمجھ رہے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ لغوی
اعتبار سے میڈیا والوں کے یہاں غلطیاں ہوتی ہیں۔ محاوروں سے ان کی زبان دور ہے۔
ظاہر ہے ان غلطیوں کو دور کرنے کے لیے ایک ادیب کا صحافت سے تعلق رکھنا ضروری ہے۔
میڈیا
کی زبان میں بہتری لانے کے لیے ہمیں دو سطحوں پر کام کرنا لازمی ہے۔ پہلی سطح یہ
ہے کہ صحافت سے ادیب حضرات دوری نہ بنائیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہمیں اپنے معاشرے
کو علم بیدار بنانا لازمی ہے۔ جب ان دونوں سطحوں پر کام ہونے لگے گا تو ضرور ہمیں
میڈیا کی زبان میں سلاست وروانی اور ادبی چاشنی ملے گی۔
حواشی
.1 اردو میڈیا،ڈاکٹر
خواجہ محمد اکرام الدین، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی، 2012، ص351
.2 سید ضیاء اللہ،
اردو صحافت :ترجمہ وادارت، کرنا ٹک اردو اکادمی بنگلور 1996، ص 23
.3 ایم جے وارثی،
زبان وترسیل :اردو پرنٹ اور برقی میڈیا کا لسانیاتی مطالعہ، این سی پی یو ایل نئی
دہلی 2015،ص 23-24
.4 مسکین علی حجازی،
صحافتی زبان، سنگ میل پبلی کیشنز چوک اردو بازار، لاہور 1984،ص 27
Prof. M J Warsi
Chairman, Department of Linguistics
Aligarh Muslim University
Aligarh- 202002 (UP)
Mob.: 9068771999
warsimj@gmail.com

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں