7/1/26

گاندھی جی کا تعلیمی وژن: بنیادی تعلیم سے ڈیجیٹل عہد تک،مضمون نگار:ندیم احمد

 اردو دنیا،اکتوبر 2025

یہ مضمون موہن داس کرم چند گاندھی کے تعلیمی نظریات کا ایک دلچسپ اور تفصیلی جائزہ پیش کرتا ہے، جو ان کے ’نئی تعلیم‘ کے تصور سے شروع ہو کر آج کے ڈیجیٹل دور تک کے سفر کو بیان کرتا ہے۔ گاندھی جی نے تعلیم کو صرف کتابی علم کا ذریعہ نہیں، بلکہ ایک ایسی طاقت سمجھا جو انسان کو خود کفیل، اخلاقی، اور سماج سے مربوط کرتی ہے۔ 1937 کی وردھا کانفرنس میں پیش کیے گئے ان کے ’نئی تعلیم‘ کے اصول دست کاری، مقامی زبانوں، اور سماجی ہم آہنگی پر مبنی ہیں۔ یہ مضمون گاندھی جی کے نظریات کو اردو زبان کے تناظر میں بھی پرکھتا ہے، جسے انھوں نے ہندو-مسلم اتحاد کا ایک میڈیم بنایا۔ یہ نئی تعلیم کو نیشنل ایجوکیشن پالیسی 2020 اور عالمی تعلیمی رجحانات سے جوڑتا ہے، اور ماحولیاتی چیلنجز، امن کی تعلیم، اور جامع تعلیم کے لیے اس کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ 2 اکتوبر، گاندھی جینتی کے موقع پر، یہ مضمون ان کے تعلیمی پیغام کو اردو رسائل کے ذریعے عام کرنے کی ضرورت پر زور دیتا ہے، تاکہ ان کا یہ تصور نئی نسل تک پہنچے۔

جب بات گاندھی جی کی ہوتی ہے، تو ذہن میں ایک سادہ دھوتی میں لپٹا ہوا، چھڑی تھامے، سچائی اور عدم تشدد کا علمبردار ایک عظیم رہنما سامنے آتا ہے۔ لیکن گاندھی جی صرف سیاسی یا سماجی تحریکوں کے لیڈر ہی نہیں تھے، وہ ایک تعلیمی مفکر بھی تھے، جنہوں نے تعلیم کو ایک ایسی روشنی سمجھا جو انسان کے دل، دماغ، اور ہاتھ کو ایک ساتھ روشن کرتی ہے۔ ان کا ’نئی تعلیم‘ کا تصور، جو 1937 کی وردھا کانفرنس میں دنیا کے سامنے آیا، ایک ایسی تعلیم کی بات کرتا ہے جو نہ صرف کتابی علم دیتی ہو، بلکہ انسان کو خود کفیل، اخلاقی، اور سماج سے جڑا ہوا بناتی ہو۔

گاندھی جی کا ماننا تھا کہ تعلیم کو ہر اس شخص تک پہنچنا چاہیے جو اس کا حقدار ہے، چاہے وہ شہر کا رئیس ہو یا دیہات کا غریب۔ انہوں نے مقامی زبانوں، جیسے اردو اور ہندی، کو تعلیم کا ذریعہ بنانے پر زور دیا، تاکہ ہر بچہ اپنی ثقافت اور شناخت سے جڑا رہے۔ خاص طور پر اردو ان کے لیے ایک خاص اہمیت رکھتی تھی، کیونکہ وہ اسے ہندو-مسلم اتحاد کا ایک مؤثر وسیلہ سمجھتے تھے۔ ان کا اخبار ’ہریجن سیوک‘ اس کی ایک زندہ مثال ہے، جس کے ذریعے انھوں نے اپنے خیالات کو سادہ اور دلچسپ اردو میں عوام تک پہنچایا۔

2 اکتوبر، یعنی گاندھی جینتی، جو اقوام متحدہ کی طرف سے عالمی یوم عدم تشدد کے طور پر بھی منایا جاتا ہے، ان کے تعلیمی نظریات پر بات کرنے کا ایک سنہری موقع ہے۔ آج کا دور ڈیجیٹل انقلاب کا دور ہے، جہاں تعلیم آن لائن پلیٹ فارموں تک جا پہنچی ہے۔ لیکن کیا یہ تعلیم ہمیں وہ اقدار سکھا رہی ہے جو گاندھی جی نے اپنی نئی تعلیم میں بیان کی تھیں؟ یہ مضمون گاندھی جی کے تعلیمی فلسفے کا ایک گہرا جائزہ لیتا ہے، اسے نیشنل ایجوکیشن پالیسی 2020 اور عالمی تعلیمی رجحانات سے جوڑتا ہے، اور اردو زبان کے ذریعے ان کے پیغام کو عام کرنے کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ یہ ایک ایسی دعوت ہے کہ ہم گاندھی جی کے انقلابی خیالات کو آج کے دور میں زندہ کریں۔

گاندھی جی کا تعلیمی فلسفہ ان کے سماجی اور سیاسی نظریات کا آئینہ ہے۔ 1937 کی وردھا کانفرنس میں انھوں نے ’نئی تعلیم‘ یا ’بنیادی تعلیم‘ کا تصور پیش کیا، جو ہندوستان کے دیہاتوں کے لیے ایک انقلاب کی مانند تھا۔ ان کا ماننا تھا کہ تعلیم کو ہر اس شخص تک پہنچنا چاہیے جو اس کا حقدار ہے، چاہے وہ غریب ہو یا دیہاتی۔ نئی تعلیم صرف کتابی علم پر نہیں، بلکہ عملی تربیت، خود انحصاری، اور سماجی ہم آہنگی پر مبنی تھی۔ گاندھی جی نے کہا تھا: ’’تعلیم وہی ہے جو انسان کے ہاتھ، دل، اور دماغ کو ایک ساتھ ترقی دیتی ہے۔‘‘

اس تصور کے تحت انھوں نے ہاتھ کے کام، جیسے کہ چرخا چلانا، بنائی، یا زراعت، کو نصاب کا لازمی حصہ بنایا۔ ان کا خیال تھا کہ ہاتھ سے کام کرنے سے طلبہ نہ صرف خود کفیل بنتے ہیں، بلکہ اپنی ثقافت اور مٹی سے بھی جڑے رہتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ایک بچہ جو چرخا چلاتا ہے، وہ نہ صرف ایک ہنر سیکھتا ہے، بلکہ اسے محنت کی قدر اور خود انحصاری کا سبق بھی ملتا ہے۔ یہ نظریہ ہندوستان کے دیہی معاشرے کے لیے نہایت موزوں تھا، جہاں وسائل کی کمی تھی، لیکن ہاتھ کے ہنر کی کوئی کمی نہیں تھی۔

بنیادی تعلیم کے تین بنیادی ستون تھے: خود انحصاری، سماجی ہم آہنگی، اور اخلاقی ترقی۔ گاندھی جی نے تعلیم کو ایک ایسی طاقت سمجھا جو نہ صرف فرد کو بااختیار بناتی ہے، بلکہ پورے سماج کو جوڑتی ہے۔ انھوں نے زور دیا کہ تعلیم کو مقامی زبانوں، مثلاً اردو اور ہندی، میں ہونا چاہیے، تاکہ یہ طلبہ کے لیے سمجھنے میں آسان ہو اور ان کی ثقافتی شناخت کو مضبوط کرے۔

گاندھی جی کے لیے تعلیم صرف کتابی علم کا نام نہیں تھا، بلکہ ایک روحانی سفر تھا۔ انھوں نے سچائی (ستیہ) اور عدم تشدد (اہنسا) کو تعلیم کامقصد بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک سچا طالب علم وہی ہے جو اپنی تعلیم کو سماج کی بہتری کے لیے استعمال کرے۔ انھوں نے اخلاقی تعلیم پر زور دیا، جو طلبہ کو ہمدردی، ذمے داری، اور سماجی انصاف کا سبق سکھاتی ہے۔ ان کے الفاظ میں: ’’ایک تعلیم یافتہ شخص وہی ہے جو اپنے علم کو دوسروں کی خدمت کے لیے استعمال کرے۔‘‘

نئی تعلیم کا ایک اہم مقصد یہ بھی تھا کہ یہ طلبہ کو مادی دنیا کی دوڑ سے ہٹ کر سوچنے کی ترغیب دے۔ آج کے دور میں، جہاں تعلیم اکثر ملازمتوں اور مادی کامیابیوں سے ہی منسلک کی جاتی ہے، گاندھی جی کا یہ نظریہ ہمیں ایک گہرا سبق دیتا ہے۔ وہ چاہتے تھے کہ تعلیم انسان کے اندر کی خودی کو جگائے، نہ کہ اسے ایک مشین بنا دے۔

گاندھی جی نے اپنے نظریات کو عملی شکل دینے کے لیے کئی تجربات کیے۔ سابرمتی اور سیوا گرام آشرموں میں انھوں نے ایسی تعلیمی درسگاہیں قائم کیں جہاں طلبہ کو ہاتھ کے کام کے ساتھ ساتھ اخلاقی اقدار کی تعلیم دی جاتی تھی۔ یہاں طلبہ کتابیں پڑھنے کے ساتھ ساتھ زراعت، دست کاری اور دیگر ہنر سیکھتے تھے۔ یہ تجربات اس بات کا ثبوت ہیں کہ گاندھی جی کا تعلیمی فلسفہ محض نظریاتی نہیں، بلکہ عملی طور پر قابل عمل بھی تھا۔

آج بھی ہندوستان کے کچھ علاقوں میں، جیسے کہ گجرات اور مہاراشٹر، نئی تعلیم کے اصولوں پر مبنی اسکول چل رہے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے، یہ تصور قومی سطح پر مکمل طور پر نافذ نہ ہو سکا۔ اس کی وجہ وسائل کی کمی اور سیاسی عزم کا فقدان تھا۔ تاہم، گاندھی جی کے نظریات آج بھی ایک متبادل تعلیمی نظام کی طرف ہماری رہنمائی کرتے ہیں۔

گاندھی جی کا اردو سے ایک گہرا اور جذباتی رشتہ تھا۔ وہ اسے ہندو-مسلم اتحاد کا ایک طاقتور وسیلہ سمجھتے تھے۔ انھوں نے اپنے اخبارات، جیسے کہ ’ہریجن‘ اور ’ہریجن سیوک‘، کو اردو میں شائع کیا تاکہ ان کے پیغامات ہندوستان کے کثیر ثقافتی معاشرے تک پہنچ سکیں۔ گاندھی جی نے کہا تھا: ’’اردو ہماری مشترکہ تہذیب کی ایک زندہ علامت ہے۔‘‘  ان کے لیے اردو صرف ایک زبان نہیں تھی، بلکہ ایک ایسی آواز تھی جو ہندو اور مسلم دونوں کے دلوں کو جوڑ سکتی تھی۔

انھوں نے تعلیم کو مقامی زبانوں میں حاصل کرنے کی اہمیت پر زور دیا، اور اردو کو ایک اہم ذریعہ سمجھا۔ ان کا اخبار ’ہریجن سیوک‘ اس کی نمایاں مثال ہے، جس میں انھوں نے سادہ اور دلچسپ اردو میں مضامین لکھے، جو عام لوگوں تک آسانی سے پہنچ سکتے تھے۔ یہ اخبار نہ صرف سیاسی مسائل پر بات کرتا تھا، بلکہ تعلیم، خود انحصاری، اور سماجی ہم آہنگی جیسے موضوعات پر بھی روشنی ڈالتا تھا۔

ہریجن سیوک‘ گاندھی جی کا ایک اہم اردو اخبار تھا، جس کے ذریعے انھوں نے اپنے تعلیمی اور سماجی خیالات کو عام کیا۔ اس اخبار کے مضامین سادہ لیکن گہرے تھے، جو عام لوگوں کے لیے قابل فہم تھے۔ گاندھی جی نے اس کے ذریعے ہندوستان کے شمالی اور وسطی علاقوں کے قارئین تک اپنا پیغام پہنچایا۔ انھوں نے اردو کو ایک ایسی زبان سمجھا جو ہندوستان کی کثرت میں وحدت کی علامت تھی۔

آج کے دور میں، جب کہ اردو کو بعض اوقات صرف ایک مخصوص طبقے کی زبان سمجھا جاتا ہے، گاندھی جی کا یہ نظریہ ہمیں اس کی اہمیت کو دوبارہ سمجھنے کی دعوت دیتا ہے۔ ان کا اخبار ’ہریجن سیوک‘ اس بات کا ثبوت ہے کہ اردو نہ صرف ایک خوبصورت زبان ہے، بلکہ ایک ایسی طاقت بھی ہے جو مختلف ثقافتوں کو جوڑ سکتی ہے۔

گاندھی جی کے لیے اردو ایک پل تھا جو مختلف ثقافتوں اور مذاہب کو جوڑتا تھا۔ انھوں نے اپنے خطبات میں بارہا کہا کہ ہندوستان کی ترقی اس کی کثیر ثقافتی شناخت کو مضبوط کرنے میں ہے۔ اردو، جو ہندی اور فارسی کا امتزاج ہے، اس اتحاد کی ایک خوبصورت مثال تھی۔ انھوں نے اپنے آشرموں میں اردو کو فروغ دیا، تاکہ طلبہ اسے سیکھ کر اپنے پڑوسیوں کے ساتھ بہتر تعلق قائم کر سکیں۔

آج کے دور میں، اردو رسائل گاندھی جی کے تعلیمی نظریات کو عام کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہ رسائل ان کے پیغام کو ایک وسیع اور متنوع حلقۂ قارئین تک پہنچا سکتے ہیں، اور ان کی اس سوچ کو زندہ رکھ سکتے ہیں کہ اردو ہماری مشترکہ وراثت کا ایک اہم ترین حصہ ہے۔

گاندھی جی کے تعلیمی نظریات آج کے ہندوستان کی نیشنل ایجوکیشن پالیسی (NEP) 2020 کے ساتھ گہری مماثلت رکھتے ہیں۔ NEP 2020 مقامی زبانوں میں تعلیم، عملی تربیت، اور طلبہ کی جامع ترقی پر زور دیتی ہے، جو گاندھی جی کے نئی تعلیم کے اصولوں سے ملتی جلتی ہے۔ مثال کے طور پر،  NEP 2020 میں تین زبانوں کے فارمولے کو ترجیح دیا گیا ہے، جس میں مادری زبان کو ترجیح دی جاتی ہے۔ یہ گاندھی جی کے اس خیال سے ہم آہنگ ہے کہ تعلیم طالب علم کی اپنی زبان میں ہونی چاہیے تاکہ وہ اسے بہتر طور پر سمجھ سکے۔

تاہم، NEP 2020 اور نئی تعلیم میں کچھ فرق بھی ہیں۔ جہاں گاندھی جی نے ہاتھ کے کام اور دیہی ترقی پر زور دیا، وہیں NEP 2020 ڈیجیٹل تعلیم اور ٹیکنالوجی پر زیادہ توجہ دیتا ہے۔ لیکن دونوں کا مقصد ایک ہی ہے: تعلیم کو ہر فرد تک قابل رسائی اور سماج کے لیے مفید بنانا۔ گاندھی جی کا یہ نظریہ کہ تعلیم کو خود انحصاری اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینا چاہیے، NEP 2020 کے مقاصد سے ملتا ہے۔

آج کا دور ڈیجیٹل انقلاب کا دور ہے۔ آن لائن کلاسز، ای-لرننگ پلیٹ فارمز، اور مصنوعی ذہانت نے تعلیم کے منظر نامے کو بدل دیا ہے۔ لیکن کیا یہ ڈیجیٹل تعلیم ہمیں وہ اقدار سکھا رہی ہے جو گاندھی جی نے اپنی نئی تعلیم میں بیان کی تھیں؟ گاندھی جی کا ماننا تھا کہ تعلیم کا مقصد صرف معلومات کا حصول نہیں، بلکہ انسان کی اخلاقی اور روحانی ترقی ہے۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں، جہاں طلبہ کے پاس معلومات کی بھرمار ہے، گاندھی جی کے نظریات ہمیں یہ سوال پوچھنے پر مجبور کرتے ہیں کہ کیا ہماری تعلیم واقعی ہمیں ایک بہتر انسان بنا رہی ہے؟

مثال کے طور پر، گاندھی جی کے خود انحصاری کے اصول کو ڈیجیٹل تعلیم میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ طلبہ کو آن لائن سیکھنے کی تربیت دی جا سکتی ہے، جیسے کہ کوڈنگ، گرافک ڈیزائننگ، یا ڈیجیٹل مارکیٹنگ، جو انھیں خود کفیل بناتی ہیں۔ اسی طرح، ان کے عدم تشدد کے اصول کو آن لائن پلیٹ فارموں پر امن کی تعلیم اور سماجی ہم آہنگی کے پیغامات کے ذریعے فروغ دیا جا سکتا ہے۔

گاندھی جی کے تعلیمی نظریات کی گونج نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا میں سنائی دیتی ہے۔ یونیسکو کا ''Education for Sustainable Development'' پروگرام گاندھی جی کے نظریات سے متاثر ہے، جو ماحولیاتی تحفظ، سماجی مساوات، اور امن کی تعلیم پر زور دیتا ہے۔ ان کا یہ خیال کہ تعلیم کو انسان کو سماج کے لیے مفید بنانا چاہیے، عالمی تعلیمی پالیسیوں میں شامل ہو رہا ہے۔

مثال کے طور پر، جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ جیسے ممالک میں گاندھی جی کے نظریات سے متاثر تعلیمی پروگرام رائج ہیں، جو طلبہ کو مقامی ثقافت اور ماحولیاتی اقدار سے جوڑتے ہیں۔ یہ پروگرام گاندھی جی کے نئی تعلیم کے اصولوں سے ملتا جلتا ہے، جو عملی تربیت اور سماجی ذمے داری پر زور دیتا ہے۔

ہندوستان میں کئی ادارے گاندھی جی کے تعلیمی نظریات سے متاثر ہیں۔ گجرات ودیاپیٹھ، جو گاندھی جی نے قائم کیا، آج بھی نئی تعلیم کے اصولوں پر عمل کرتا ہے۔ یہاں طلبہ کو زراعت، دستکاری، اور سماجی خدمت کی تربیت دی جاتی ہے۔ اسی طرح، سیوا گرام آشرم میں قائم تعلیمی پروگرام گاندھی جی کے ہی نظریات کی عملی شکلیں ہیں۔

عالمی سطح پر، مونٹیسوری اور والڈورف جیسے تعلیمی نظام گاندھی جی کے نظریات سے کچھ حد تک متاثر ہیں۔ یہ نظام طلبہ کی انفرادی صلاحیتوں اور ہمہ جہت ترقی پر زور دیتے ہیں، جو گاندھی جی کے فلسفے سے ملتا جلتا ہے۔

2 اکتوبر، یعنی گاندھی جینتی، ہندوستان اور پوری دنیا کے لیے ایک خاص دن ہے۔ اقوام متحدہ نے اسے عالمی یوم عدم تشدد کے طور پر تسلیم کیا ہے، جو گاندھی جی کے عدم تشدد کے فلسفے کی عالمی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس دن گاندھی جی کے تعلیمی نظریات پر بات کرنا نہ صرف مناسب ہے، بلکہ ضروری بھی ہے۔ انھوں نے تعلیم کو ایک ایسی طاقت سمجھا جو انسان کو سچائی اور عدم تشدد کے راستے پر لے جاتی ہے۔

گاندھی جینتی کے موقع پر، ہندوستان بھر میں اسکولوں، کالجوں، اور کمیونٹیز میں گاندھی جی کے نظریات پر مباحثے اور سرگرمیاں منعقد کی جاتی ہیں۔ یہ ایک بہترین موقع ہے کہ ہم ان کے تعلیمی پیغام کو نئی نسل تک پہنچائیں، اور خاص طور پر اردو زبان کے ذریعے، جو ان کے لیے ہندو-مسلم اتحاد کا ایک اہم ذریعہ تھی۔

آج کے دور میں، جب دنیا ماحولیاتی تبدیلی، سماجی عدم مساوات، اور تشدد جیسے مسائل سے دوچار ہے، گاندھی جی کے تعلیمی نظریات ایک روشنی کی کرن ہیں۔ ان کا یہ خیال کہ تعلیم کو ماحولیاتی تحفظ اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینا چاہیے، اقوام متحدہ کے Sustainable Development Goals (SDGs) سے ہم آہنگ ہے۔ خاص طور پر SDG4 (Quality Education) کا مقصد ہر فرد کے لیے معیاری اور جامع تعلیم کو یقینی بنانا ہے، جو گاندھی جی کے نئی تعلیم کے تصور سے ملتا ہے۔

ان کے عدم تشدد کے اصول آج کے امن کی تعلیم کے پروگراموں کے لیے ایک رہنما اصول ہیں۔ مثال کے طور پر، یونیسکو کے پروگرام گاندھی جی کے نظریات سے متاثر ہیں، جو طلبہ کو امن، رواداری، اور سماجی انصاف کا درس دیتے ہیں 

گاندھی جی کے تعلیمی نظریات آج بھی ہمارے لیے ایک مشعل راہ ہیں۔ ان کا نئی تعلیم کا تصور، جو خود انحصاری، سماجی ہم آہنگی، اور اخلاقی ترقی پر مبنی ہے، موجودہ تعلیمی نظام کے لیے ایک عظیم سبق ہے۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں، جب کہ تعلیم تیزی سے ٹیکنالوجی کے تابع ہو رہی ہے، گاندھی جی ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ تعلیم کا اصل مقصد انسان کی ہمہ جہت ترقی ہے۔

اردو زبان، جو گاندھی جی کے لیے ہندو-مسلم اتحاد کا ایک اہم ذریعہ تھی، خود ان کے اپنے نظریات کی ترسیل کا بھی ایک طاقتور وسیلہ تھی۔ اردو  رسائل، مثلاً ’تہذیب الاخلاق‘ اور ’آجکل‘، ان کے تعلیمی نظریات کو نئی نسل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ خاص طور پر، 2 اکتوبر کے موقع پر، جب پوری دنیا گاندھی جینتی اور عالمی یوم عدم تشدد مناتی ہے، ان کے تعلیمی نظریات پر گفتگو کی ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔

ہمیں چاہیے کہ ہم گاندھی جی کے نظریات کو اپنے اسکولوں، کالجوں، اور کمیونٹیز میں شامل کریں، تاکہ ایک ایسی نسل تیار ہو جو نہ صرف علمی طور پر مضبوط ہو، بلکہ اخلاقی اور سماجی طور پر بھی ذمے دار ہو۔ گاندھی جی کا یہ پیغام کہ تعلیم ایک انقلاب ہے، آج بھی ہمارے لیے ایک رہنما اصول ہے۔

ماخذ و مصادر

1        گاندھی، ایم۔ کے۔ (1927) ہند سوراج۔، نومیل پرنٹنگ پریس، احمد آباد۔

2        گاندھی، ایم۔ کے۔ (1938)۔ ہریجن، مختلف مضامین۔ احمد آباد۔

3        گاندھی، ایم۔ کے۔ (1937)۔ ’نئی تعلیم‘، وردھا کانفرنس رپورٹ، سیوا گرام آشرم پبلی کیشنز۔

4        نیشنل ایجوکیشن پالیسی 2020۔ وزارت تعلیم، حکومت ہند۔

5        کمار، کرشنا۔ (1994)۔ Learning from Gandhi۔ گجرات ودیاپیٹھ، احمد آباد۔

6        یونیسکو۔ (2020)۔ Education for Sustainable Development: A Roadmap۔ یونیسکو پبلی کیشنز۔

7        ’ہریجن سیوک‘ اخبار،1933-1940، مختلف ایڈیشن۔ احمد آباد۔

8        پاریک، آر۔ (2008)۔ ’گاندھیان ایجوکیشن: نئی تعلیم کی عصری اہمیت‘۔ جرنل آف ایجوکیشنل ریسرچ، والیوم 12، نمبر 3۔


Dr. Nadeem

Dept of Urdu

Kirori Mal Cellege (University of Delhi)

Delhi- 110007

ahmad_126@yahoo.co.in


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

تازہ اشاعت

مجروح کا شعری آفاق،مضمون نگار:محمد دانش

  اردو دنیا،اکتوبر 2025 اردو غزل کا ذکر جب جب ہوگا،متعدد شعرا کے ہجوم میں ایک شاعر ہمارے تصور کے پردے پر ابھر آئے گا۔ مجروح نے اردو غزل کو ...