7/1/26

نئی تعلیمی پالیسی اور علاقائی زبان ،مضمون نگار:غزالہ شیریں

 اردو دنیا،اکتوبر 2025

کسی بھی انسان کی تعلیمی زندگی میں مادری یا علاقائی زبان کی اہمیت بنیادی ہے اور اگر یہ کہا جائے تو زیادہ بہتر ہوگاکہ انسان کی تمام تر تعلیمی اور علمی ترقی کا دارومدار اس کی مادری زبان پر ہی منحصر ہوتا ہے کیونکہ اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ درس و تدریس کی زبان اگر فطری اور قابل فہم ہو تو طلبہ نہ صرف نفس مضمون کو بہتر طریقے سے سمجھ سکتے ہیں بلکہ اپنے خیالات کو بھی موثر انداز  میں پیش کرنے کے قابل ہوجاتے ہیں، یہی سبب ہے کہ ہندوستان میں آزادی کے بعد سے علاقائی زبانوں کو درس وتدریس کے میدان میں خصوصی اہمیت دی جاتی رہی ہے اور آج بھی اس کی ضرورت کے پیش نظر تعلیمی منصوبہ بندیوں میں علاقائی زبانوں کو خاص مقام حاصل ہے ۔

جنوری 2015 میں مجلس عاملہ کے سابق سیکریٹریT.S.R. Subramanian  کی قیادت میں ایک تعلیمی کمیٹی کی تشکیل کی گئی۔ کمیٹی نے ملک کی ضرورت کے پیش نظر اپنی رپورٹ تیار کی اور بہت سے اہم نکات پر حکومت کی توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی۔ اس رپورٹ کی بنیاد پر 2019 میں نئی تعلیمی پالیسی تیار کرنے کے لیے ایک پینل تشکیل دیاگیا، جس کی قیادت ISRO کے سابق چیف کرشنا سوامی کستوری رنگن نے کی اور بہت غور وفکر کرنے کے بعد 30 جولائی2020 کو کیبنیٹ نے کمیٹی کے مشوروں کی بنیاد پر نئی تعلیمی پالیسی کومنظوری دے دی۔ یعنی دوران کووڈ 2020 میں بھارت نے عالمی تعلیمی ترقی کے ایجنڈے کو قبول کرتے ہوئے اس میں ترمیم واضافہ کیا اور اسی کے ساتھ ساتھ معیاری تعلیم اورتا حیات سیکھنے کے مواقع فراہم کرنے کا مقصد طے کیا گیا۔ موجودہ دور میں نئی تعلیمی پالیسی کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جس کی تفصیل ذیل میں پیش کی جا رہی ہے:

.1       نئی تعلیمی پالیسی کازمرۂ اول اسکول کی تعلیم سے متعلق ہے۔ اس میں اچھے اسکول کی خوبیاں اور جماعت سوم تک تمام طلباء کی خواندگی اور بنیادی ریاضی کی صلاحیت پیدا کرنے کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔ اس پالیسی کی اہم تبدیلی، اسکولی تعلیم کے پیٹرن کو بدلنا اور نئے زمانے سے اس کو ہم آہنگ کرنا ہے۔ اس میں ابتدائی پانچ سالوں میں پری پرائمری کے تین سال اور اول و دوم درجے شامل ہیں۔  دوسرے مرحلے میں سوم تا پنجم جماعتیں شامل کی گئی ہیں۔  تیسرے مرحلے میں ششم، ہفتم، ہشتم درجے میں شامل کیے گئے ہیں۔ آخری چار سالہ مرحلے میں از نہم تا بارہویں جماعتیں شامل کی گئیں ہیں۔ اس کے علاوہ آنگن واڑی استاد کی تقرری اور اس کی اہلیت وغیرہ پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ مہاجرطلبہ کے لیے الگ سے متبادل تعلیمی ادارے قائم کرنے کی بات بھی کہی گئی ہے اور مادری یا علاقائی زبان میں تعلیم دینے اور اس کو ترجیح دینے کی ترغیب دی گئی ہے۔

.2         اس پالیسی کازمرۂ دوم اعلیٰ تعلیم کے بارے میں ہے جس میں مقامی زبان میں کالج کی تعداد بڑھانے کی سفارش کی گئی ہے اور خود مختار ڈگری فراہم کرنے والے کالج کے قیام کی سفارش کی اہمیت وضرورت کو اجاگر کیا گیا ہے ۔ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلے کو 24 فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد تک لانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ نئے زمانے کے تقاضوں کے پیش نظرکالج اور یونیورسٹی میں آن لائن کورسیز چلائے جانے کی افادیت پر زور دیا گیاہے۔

.3         نئی تعلیمی پالیسی کا زمرۂ سوم ’ دیگر قابل توجہ اہم خطے‘ کے عنوان سے ہے۔ اس میں تاحیات تعلیم اور تعلیم بالغان کے لیے رہنما خد و خال کا ذکر کیا گیا ہے۔ بھارتی زبانوں کے فروغ کے لیے مختلف اقدامات کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس حصے میں کتابیں، رسالے، اخبارات ، ترجمے ، کورسیز اور میڈیم وغیرہ جیسے اقدامات مذکور ہیں ۔

.4         زمرۂ چہارم کا عنوان ہے ’پالیسی کو عمل میں لائیں‘  یہ زمرہ تین موضوعات پر مشتمل ہے:

1        CABE کے اہم رول کو واضح کیا گیا ہے۔

2        سب کے لیے کفایتی ، معیاری تعلیم فراہم کرنے کی بات کہی گئی ہے۔

3        اس پالیسی پر عمل آوری کے متعلق ہدایات دی گئی ہے۔

نئی ایجوکیشن پالیسی میں مادری زبان اور علاقائی زبانوںمیں تعلیم دینے کا ذکر خصوصی طور پر کیا گیا ہے ۔ جو کئی اعتبار سے بہت اہمیت کا حامل ہے،کیونکہ ماہرین تعلیم کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ انسان کی تخلیقی صلاحیتوں کا سب سے بہترین اظہار مادری زبان میں ہی ممکن ہے، اور یہ نکتہ بھی لائق توجہ ہے کہ اپنے خیالات کے درست اظہار کے لیے بھی مادری زبان کا ہی سہارا لیا جاتا ہے۔ فہم انسانی کا براہ راست تعلق بھی ذہن انسانی اور مادری زبان کے رابطے سے ہی ممکن ہوسکتا ہے۔ یہ ایک قدرتی امر ہے کہ فہم انسانی میں جامعیت، وسعت اور گہرائی صرف مادری زبان میں ہی ممکن ہے ۔ الغرض سیکھنے اور سکھانے کے لیے آسان ترین زبان علاقائی یا مادری زبان ہی ہو سکتی ہے اور اس کے علاوہ کسی دوسری زبان کے ذریعے تخلیقی صلاحیتوں کو درست طریقے سے استعمال نہیں کیا جا سکتاہے ۔دنیا میں ہونے والی مختلف قسم کی ایجادات اور انکشافات کا براہ راست تعلق بھی مادری زبان سے ہی ہوتا ہے تاریخ گواہ ہے کہ دنیامیں بڑے بڑے کارنامے انجام دینے والے دانشوروں نے اپنی مادری اور علاقائی زبانوں کی مدد سے اپنی ایک انفرادی پہچان بنائی ہے۔

علاقائی زبان انسانی شناخت، تشخص اور کردار سازی میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ہر وہ زبان جس میں لٹریچر تخلیق پا سکتا ہو، ترسیل علم کے لیے بھی بہترین مانی جاتی ہے۔ جب کہ لٹریچر کا تعلق بھی علاقائی زبان سے ہی ہوتاہے تعلیم کے لیے مادری یا علاقائی زبان سے بہتر کوئی زبان نہیں ہو سکتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ دنیا میں زیادہ تر ممالک میں تعلیم ان کی علاقائی زبانوں میں ہی دی جانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

نئی ایجوکیشن پالیسی میں بھی مادری یا علاقائی زبان میں تعلیم دینے کو ضروری بلکہ لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس پالیسی میں پرائمری تعلیم بذریعہ مادری زبان کو یقینی بنانے کی پر زوروکالت کی گئی ہے اور یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ مادری زبان کے ذریعے تعلیم سائنٹفک نظریے کو مد نظر رکھ کر اپنائی گئی ہے۔ حکومتی پالیسی میں ابتدا سے چھٹی کلاس تک لازمی طور پر علاقائی زبان میں تعلیم دینے کی بات کہی گئی ہے۔  رپورٹ میں کہا گیاہے کہ علاقائی زبان میں تعلیم دینے سے بچوں کی تحقیقی اور تخلیقی صلاحیتوں میں حیرت انگیز حد تک اضافہ ہوتا ہے ۔ مادری زبان میں تعلیم دئیے جانے میں ایک آسانی یہ ہوتی ہے کہ بچے کے پاس اپنی زبان کے علم کا ایک ذخیرہ پہلے سے موجود ہوتا ہے اس لیے دوران تعلیم بوریت کے بجائے بچہ خوشی محسوس کرتا ہے ۔ مادری زبان میں تعلیم دینے سے بچوں کے ننھے ذہنوں پر کم بوجھ پڑتا ہے اور بچوں کے اسکول چھوڑنے کی شرح میں بھی بڑی حد تک کمی دیکھنے کو ملتی ہے۔ ظاہر ہے کہ جب پرائمری سطح پر مادری زبان میں تعلیم دینے کو لازمی بنایا جائے گا تو مختلف علاقوں میں علاقائی زبانوں کے فروغ کا راستہ بھی ہموار ہوجائے گا اور اس ضمن میں اردو کے لیے بھی ترقی کی نئی فضا قائم ہوگی البتہ اس کے لیے شرط یہ ہے کہ تمام اسکولوں میں طلبہ کی ضرورت کے مطابق اردو اساتذہ بحال کیے جانے کے سلسلے میں ضروری اقدامات کو یقینی بنایا جائے ۔

مادری زبان مین تعلیم کے بارے میں ’یونیسکو ‘ کا کہنا ہے کہ ’’ جو بچے اپنی مادری زبان سے تعلیم کی ابتدا  کرتے ہیں شروع سے ہی ان کی کار کردگی بہتر ہوتی ہے اور ان کی یہ اچھی کار کردگی مسلسل قائم رہتی ہے بہ نسبت ان بچوں کے جو اپنی تعلیم کی ابتدا ء نئی زبان سے کرتے ہیں ۔ ‘‘

نئی ایجوکیشن پالیسی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ لوگ اپنی مقامی زبان میں تعلیم حاصل کر سکتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی مقامی زبانوں کے فروغ کی بابت سفارشات بھی پیش کی گئی ہیں۔ اسکول کی زبان کے سلسلے میں سہ لسانی فارمولہ اختیار کرنے کی بات کہی گئی ہے ، سہ لسانی فارمولوں میں سنسکرت زبان کا انتخاب کرنے کی ترغیب دی گئی ہے لیکن کہیں پر بھی سنسکرت زبان کو لازمی قرارنہیں دیا گیا ہے ۔ پالیسی میں یہ بھی کہا گیاہے کہ کسی بھی علاقائی زبان کو کسی دوسری ریاست کے افراد کو سیکھنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا ہے۔ نئی ایجوکیشن پالیسی میں مقامی زبان اور مادی زبان کے فروغ اور ترقی کی بات خصوصی طور پر کہی گئی ہے۔ پالیسی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ لسانی فارمولوں میں کم سے کم دو زبانیں بھارت کی ہوں جب کہ ایک غیر ملکی زبان بھی پڑھی جا سکتی ہے۔ کسی بھی زبان کو کسی پر لازمی قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔  اس سہ لسانی فارمولے میں خاص لچک رکھی گئی ہے۔

دنیا کے تمام ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ بچوں کو بنیادی تعلیم ان کی علاقائی زبان میں ہی دی جانی چاہیے۔ سائنس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ بچوں کی ذہن سازی میں ان کی مادری اور علاقائی زبانوں کی بہت اہمیت ہوتی ہے۔ ہمارے ملک میں انگریزی میڈیم اسکولوں پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔ حالانکہ آزادی کے بعد حکومت کی طرف سے یہ کوشش کی گئی تھی کہ ملک کے بنیادی اسکولوں میں قومی زبان ہندی کو فروغ ملے لیکن افسوس کہ اس پر عمل نہ کیا جا سکا۔ جہاں تک ملک کی دیگر علاقائی زبانوں کی بات ہے جو اب تک زندہ ہیں تو وہ صرف ان کے چاہنے والوں کی ذاتی کوششوں اور محبتوںکی وجہ سے ہی ممکن ہو سکا ہے ورنہ انگریزیت کے نشہ نے علاقائی زبان کے فروغ کے تمام راستے نا ہموار بلکہ مسدود کر دیے تھے۔ انگریزیت کے اس اثر نے دیگر علاقائی زبانوں کے ساتھ ساتھ ہندی اور اردو کو بھی بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ اسی لیے نئی ایجوکیشن پالیسی میں بنیادی تعلیم بذریعہ مادری زبان یا علاقائی زبان کو مرکزی حیثیت عطا کی گئی ہے ۔ میرے خیال میں یہ اس پالیسی کی سب سے اہم خوبی ہے۔ اگر واقعی قومی سطح پر پرائمری اسکولوں میں مادری زبان میں تعلیم کو فروغ ملتا ہے اور اس پالیسی کے اہم نکات کو نافذ کیا جاتاہے تو اس میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے کہ اس سے نہ صرف علاقائی زبانوں کے پھلنے پھولنے کا ماحول سازگار ہوگا بلکہ قومی زبان کے لیے بھی راہیں ہموار ہوں گی اور اس سے اردو زبان کے لیے بھی نئی شاہراہیں تشکیل پائیں گی۔

ہمارے یہاں بچے گھر میں جو زبان بولتے ہیں اس زبان سے انھیں اسکول میں سابقہ نہیں پڑتا ہے بلکہ ان کی تعلیم کی ابتدا انگریزی زبان سے کی جاتی ہے جس کا اثر ان کی پوری تعلیمی زندگی پر پڑتا ہے اور بعد میں وہ کسی بھی شعبے میں کتنی ہی مہارت حاصل کیوں نہ کر لیں  لیکن ابتدائی تعلیم مادری زبان میں نہ ہونے کی وجہ سے جو نقص ان میں رہ جاتا ہے وہ کبھی پورا نہیں ہوتا ہے ۔ مادری زبان سے نا واقفیت اور بے پروائی ہمارے معاشرے کی پسماندگی کی بڑی وجہ ہے ۔ اگر ہم اپنے ملک کا جائزہ اس عالمی تناظر کے پس منظر میں لیں تو بہت ہی افسوسناک صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے یہاں نہ صرف پیشہ ورانہ کورسیز انگریزی میں پڑھائے جاتے ہیں اور انجینئرنگ،طب اور قانون میں انگریزی کے غلبہ کو برقرار رکھا گیا ہے، بلکہ ابتدا سے ہی بچوں کو مادری زبان کے بجائے انگریزی زبان میں تعلیم دینے کو خوبی سمجھتے ہیں اور انھیں اپنی زبان سے ناواقف رکھنے کی گویا شعوری کوشش کرتے ہیں ۔ یہاں اس بات پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ مادری زبان میں تعلیم پر زور دینے سے ہرگز یہ مطلب نہیں کہ دوسری زبانوں کو کمتر سمجھا جائے یا انھیں پوری طرح سے نظر انداز کیا جائے۔ اس سلسلے میں سابق نائب صدر جمہوریہ جناب وینکیانائیڈو کی یہ بات اہم ہے کہ ہر شخص کو کئی زبانوں کا ماہر ہونا چاہیے، لیکن مادری زبان میں حصول تعلیم کی حیثیت کلیدی اور بنیادی ہونی چاہیے لیکن انسان اپنی ذاتی صلاحیتوں اور ذوق کے مطابق کتنی بھی زبانیں سیکھ سکتاہے لیکن یہ حقیقت پیش نظر رہنا بے حد ضروری ہے کہ کسی بھی ملک کے تعلیمی نظام میں مادری زبان کو نظر انداز کیا جانا بڑے خسارے کا سبب بن سکتا ہے اور اس وجہ سے ہماری آنے والی نسلیں اپنے ملک اور قوم کے بے انتہا ثروت مند تہذیب وتمدن سے محروم ہو سکتی ہیں جو یقیناایک بڑا نقصان ہے۔

تحقیق سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ہر سال دنیا کی کئی زبانیں دم توڑ رہی ہیں۔ اس لیے یہ مشکل بھی ہے کہ قومی سطح پر علاقائی زبان میں تعلیم کا انتظام صد فی صد درست طور پر نافذ کیا جا سکے۔ لیکن نئی ایجوکیشن پالیسی میں اس عمل کو یقینی بنانے کا عہد کیا گیا ہے اور اس کے لیے تمام ریاستی حکومتوں سے تعاون کی درخواست بھی کی گئی ہے اور مرکز کی تعلیمی پالیسی کا نفاذ اسی وقت ممکن اور کامیاب ہو سکتا ہے جب تک کہ ریاستی حکومتیں اس پر لبیک نہ کہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ اس وقت مرکزی حکومت کی اس پالیسی کی حمایت کرنے والی ریاستوں کی تعداد زیادہ ہے۔ اس لیے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ آنے والے وقت میں علاقائی زبانوں میں بنیادی تعلیم کے راستے ضرور ہموار ہوں گے اگر علاقائی زبان میں تعلیم کا انتظام کیا جاتا ہے تو خود بخود مادری زبان کو بھی استحکام حاصل ہو گا جو ہمارے ملک کی ترقی کا ضامن قرار دیا جاسکے گا ۔

اس طرح اگرہم حقیقی معنوں میں مادری زبان سے محبت کرتے ہیں اور اس کی کامیابی کے لیے سنجیدہ ہیں تو ہمیں پوری دیانت داری اور حقیقت پسندی کے ساتھ اس کو عملی جامہ پہنانے کی ضرورت ہے۔ جہاں بچوں کی ابتدائی تعلیم کا انتظام مادری زبان میں کرنا ہوگا وہیں اس چیز کو بھی یقینی بنانا ہوگا کہ ہمارے اساتذہ اس قابل ہوں جو کہ واقعی مادری زبان میں مختلف موضوعات کی تدریس کا فریضہ بخوبی انجام دے سکیں۔ سرکار کی یہ نئی تعلیمی پالیسی اپنے دیگر پہلوؤں کے ساتھ ساتھ اس اعتبار سے بھی قابل تعریف ہے کہ اس میں مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے پر غیر معمولی توجہ دی گئی ہے۔ بس اس کو عمل میں لانے کے لیے سنجیدگی اور قوتِ ارادی سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یقینی طور پر ہمارے ملک میں مادری زبان میں تعلیم کے حوالے سے ایک خوش گوار انقلاب رو نما ہو سکتا ہے۔

سرکار کا کام پالیسی بنانا ہے مگر اسے زمینی سطح پر عمل میں لاناان لوگوں کا کام ہے جو اس شعبے سے براہ راست وابستہ ہیں ، مثلاً تدریس سے وابستہ اساتذہ کی ذمے داری ہے کہ وہ دیانت داری سے اپنے فرائض کو ادا کریں اور اسکول کے ذمہ داران مقامی تعلیمی افسران اور انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر علاقے میں وہاں کے طلبا کی مادری زبان کے اساتذہ کی تقرری کا نظم کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ چھٹی کلاس تک طلبہ کی تعلیم مادری زبان میں ہو۔ خلاصہ یہ کہ نئی ایجوکیشن پالیسی میں مقامی زبانوں کے فروغ کے بارے میں بار بار ہدایت دی گئی ہے، اسی طرح پالیسی نے تعلیم سے متعلق ہر فرد اور ہر ادارے کو اس کی ذمہ داریوں کا احساس دلایا ہے ۔ اس نئی تعلیمی پالیسی کے مؤثر عملی نفاذ اور بھارت کے موجودہ تعلیمی نظام میں اس کی شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے ملک و معاشرے کے ہر باشعور اور بیدار ذہن فرد، نیم سرکاری و نجی اداروں کو باہمی تال میل کے ساتھ آگے آنا ہوگا۔

ماخذ و مصادر

1        نئی تعلیمی پالیسی اور اردو تدریس، اشاعت 1989، اردو اکادمی، دہلی ۔

2        قومی پالیسی برائے تعلیم2020، وزارت تعلیم حکومت ہند ۔

3        نئی تعلیمی پالیسی اور تعلیم کا مقصد، شمیم طارق۔

4        تعلیمی پالیسی، 1979: ڈاکٹر حفیظ الرحمن صدیقی، پروفیسر احمد انس، انسٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد۔

5        ’نئی تعلیمی پالیسی 2020 اور سندی تحقیق‘ مقالہ نگار: سلمان فیصل، مقام ابن سینا اکیڈمی علی گڑہ ،2022

6        نئی تعلیمی پالیسی 2020مواقع اور اندیشے، از محمد قمر انجم فیضی۔

 

Ghazala Shireen

Research Scholar

Supervsior: Dr. Neelofar Hafeez

Department of Arabic and PersianUniversity of Allahabad

Prayagraj- 211002 (UP)

Mob.: 9984123852

ghazalashireen95@gmail.com


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

تازہ اشاعت

ابواللیث جاوید کے افسانوں کے امتیازات،مضمون نگار:آصف سلیم

  اردو دنیا،اکتوبر 2025 معاصر افسانوی منظرنامے میں ابواللیث جاوید منفرد اور جداگانہ طرزِ تحریر کی بدولت ایک الگ شناخت رکھتے ہیں۔ 1970 کے قری...