17/5/18

مضمون: لوک ادب: تحفظ اور بازیافت۔ مضمون نگار:۔ ڈاکٹر یوسف رام پوری






مضمون: لوک ادب تحفظ اور بازیافت
مضمون نگار: ڈاکٹر یوسف رام پوری

لوک ادب کسی بھی قوم کا عظیم سرمایہ ہوتا ہے۔ کیونکہ لوک ادب کے دامن میں اُس قوم کے گزشتہ ادوار، روایات، تہذیبی و معاشرتی اقداراورلسانی وادبی سلسلے آباد ہوتے ہیں۔ جو قوم اپنے تہذیبی، سماجی،ادبی اور لسانی ورثے کو محفوظ رکھتی ہے اور اس سے وابستہ رہتی ہے، اس قوم کے لیے ماضی و حال کے آئینے میں اپنے مستقبل کا لائحۂ عمل طے کرنا آسان ہوتا ہے۔اس کے برعکس جو قوم اپنے ماضی سے کٹ جاتی ہے، اس کی جڑیں کھوکھلی ہوجاتی ہیں اور اسے اپنے مستقبل کی تصویر دھندلی نظرآتی ہے۔ اسی لیے زندہ قومیں اورملتیں حال کے سفر کو طے کرتے ہوئے عہدِ رفتہ کی مشعلوں کو ہاتھ میں اٹھائے اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہتی ہیں۔

زندگی کے سفرمیں جدید تقاضوں اور نئے مطالبوں کو بروئے کار لانے کے لیے عہدِ رفتہ کی روشنی میں اپنی منزل کے نشانات کی تلاش وجستجو کے لیے ضروری ہے کہ ماضی کی کئی پرتوں کو کریدا جائے۔ کیونکہ ماضی وہ بھی ہے جو ابھی گزرا ہے، ماضی وہ بھی ہے جو چند دہائیوں اور صدیوں قبل گزرا تھا اور ماضی وہ بھی ہے جو ہزاروں سال پہلے گزرچکا ہے۔ انسان اپنے ان بیتے ہوئے زمانی ابعاد اور فاصلوں سے اسی طرح وابستہ ہے جس طرح گزرے ہوئے کل یااس پَل سے، جو ابھی گزرا ہے۔انسان کاوہ وجودجو آج ہے اُس وجود کاتسلسل ہے جو ہزاروں سال پہلے تھا۔

یہ بات بڑے وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ آج کی ترقیات صرف دورِ حاضرکے انسان کی رہین منت نہیں بلکہ گزشتہ کئی ادوار کے اسلاف کی جہدِمسلسل کا بھی نتیجہ ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ بعض لوگوں کی نگاہیں محض حال و مستقبل کی جانب مرکوز ہیں اوروہ ماضی کو کالعدم یا فرسودہ خیال کرکے اسے لائقِ اعتنا نہیں سمجھتے۔غالباً یہی وجہ ہے کہ انسانی زندگی کے نئے افق پر عہدِرفتہ کے بہت سے گراں قدرنقوش دھندلے دھندلے سے دکھائی دے رہے ہیںیا آنکھوں سے اوجھل ہوتے جارہے ہیں۔

زندگی کو دیکھنے کے نئے زایوں نے اگرچہ بہت سے ایسے پہلوؤں کو اُجاگر کیا ہے، جو اب تک گمنامی کے دھندلکوں میں روپوش تھے،تاہم انسانی زندگی کے کئی پہلوایسے بھی ہیں جوآج کے منظرنامے سے تیزی کے ساتھ اوجھل ہوتے جارہے ہیں۔ جیساکہ قدیم روایتیں، تہذیبی، اخلاقی اور معاشرتی قدریں، پرانی زبانیں، بولیاں، قصّے کہانیاں وغیرہ۔نئے زمانے میں تیزی کے ساتھ پردۂ گمنامی میں جانے والی اشیا کی فہرست میں لوک ادب بھی شامل ہے۔ وہ لوک ادب جس کی جڑیں بیتی ہوئی صدیوں سے گزرتی ہوئی نامعلوم زمانوں تک پہنچتی ہیں۔جی ہاں، وہی لو ک ادب جس کے آنگن میں کتنی ہی کہانیاں نسل درنسل سنائی جاتی رہی ہیں۔کتنی ہی پہیلیاں زبان درزبان کہی جاتی رہی ہیں اور کتنے ہی گیتوں کی نغمگی فضامیں تحلیل ہوکرمختلف ادوار کے انسان کے ذہن ودل کے نہاں خانوں میں گونجتی رہی ہے۔
لوک ادب کو ماضی کا آئینہ کہا جاسکتاہے جس میں ہم اپنے عہدِ رفتہ کو دیکھ بھی سکتے ہیں اور اس کی بازیافت بھی کرسکتے ہیں۔ہماری پچھلی نسلوں کے افکاروخیالات کے دائرے کیا تھے،ان کے سماجی وتہذیبی عناصر کیا تھے، وہ کس طرح کی زبانیں اور بولیاں بولتے تھے،جب خوش ہوتے تو فرحت وانبساط کااظہار کس طرح کرتے اور جب مغموم ہوتے تو ان کے یہاں غم کے اظہارکی کیا نوعیت ہوتی۔ ان کے یہاں تقریبات، رسوم وروایات، باہمی تعلقات اور عشق ومحبت کے انداز کیا تھے۔ ان سب چیزوں کی دریافت لوک ادب کے توسط سے بآسانی کی جاسکتی ہے۔ گزشتہ ادوار کے جو حالات ہم لوک ادب کے ذریعے جان سکتے ہیں، اس کی توقع ہم تاریخی کتب سے بھی نہیں کرسکتے۔کیونکہ تاریخی موادکے حوالے سے استناد اورمعتبریت کا سوال ہمیشہ قائم رہتاہے۔ 
لوک کہانیوں، لوک گیتوں اورلوک پہیلیوں کا سلسلہ سینہ بہ سینہ چلتا رہتاہے۔ گواس بات کا علم نہ ہوکہ ان کہانیوں، گیتوں،پہیلیوں کے تخلیق کار کون تھے،لیکن بہرحال یہ اپنی جگہ سچ ہے کہ وہ گیت، کہانیاں،پہیلیاں مختلف نسلوں کے جذبات کی ترجمان وآئینہ دار رہی ہیں، تبھی تو ان کہانیوں کوعہدبہ عہد عوام الناس دہراتے رہے ہیں۔ لوک ادب کوانسانی زندگی سے قریب اس لیے بھی ماناجاسکتاہے کہ وہ عوام الناس سے جڑا ہواہوتا ہے۔ وہ دیہی، قصباتی زندگی کی ترجمانی زیادہ کرتا ہے،کسی حد تک شہری زندگی کی بھی عکاسی لوک ادب کے ذریعے ہوتی ہے۔ زیادہ ترانسانی آبادی کا تعلق چھوٹی چھوٹی بستیوں، گاؤں اور قصبوں سے رہا ہے۔یہ الگ بات ہے کہ فی زمانہ دنیابھر میں بڑی بڑی آبادیوں والے بڑی تعداد میں شہر آباد ہوگئے ہیں، لیکن گزشتہ ادوار میں یہ صورت حال نہ تھی۔اس لیے گزرے ہوئے زمانوں میں لوک ادب عوامی زندگی کی عکاسی کا موثروسیلہ تھا۔ اس بابت پروفیسر قمر رئیس رقمطرازہیں:
’’لوک ادب اور لوک گیتوں کی چند مابہ الامتیاز خصوصیات کی طرف اشارہ کیا جاسکتاہے۔مثلاً یہ کہ ان کا مصنف گمنام ہوتاہے۔یہ گیت زیادہ تر اجتماعی اور کم تر انفرادی جذبات کی ترجمانی کرتے ہیں۔اکثر یہ گیت محنت کش عوام کی اجتماعی تخلیقی محنت کے عمل میں خلق ہوتے اور گائے جاتے ہیں، ان کا آہنگ کسی عروضی قاعدے کے بجائے، عوام کے احساس موسیقی کا تابع ہوتا ہے۔ عوامی قصوں کے مآخذ بھی یا تو عوام کے تلخ وشیریں تجربات ہوتے ہیں یا پھر مصائب حیات سے نجات پانے کی ازلی خواہش اور ایک بہترزندگی کے خواب ہوتے ہیں۔
لوک ادب المیہ اور حزنیہ بھی ہوتا ہے اور طربیہ بھی۔ یہ عوام کی ذہانت کا تخلیقی اظہار بھی ہوتا ہے اور ان کی تفریح و تفنن کا ذریعہ بھی۔اس میں ہنسی مذاق، ٹھٹھول، طنزوتعریض، مذہبی عقیدت، دشمنوں سے نفرت، وطن دوستی، مظاہرِ فطرت سے محبت، جنسی جبلّت، ا لغرض ہر طرح کے جذبات، احساسات اور واردات کا اظہار ہوتا ہے۔‘‘ (اردومیں لوک ادب، ص8، مرتب : پروفیسر قمر رئیس)
لوک ادب سے عوامی رشتے کی گہرائی اور مضبوطی کے بارے میں پروفیسر محمد حسن نے مزید وضاحت کے ساتھ لکھا ہے:
’’عوامی ادب سے مراد وہ ادب ہے جس کو عوام نے جنم دیا ہو۔کوچہ وبازار میں، قریے اور دیہات میں، کھیت اور کھلیان میں اور عام طورپر اس ادب کا جنم داتا کوئی ایک شخص نہیں ہوتا، پورا معاشرہ ہوتا ہے۔کبھی کبھی اس قسم کا ادب کسی ایک شخص سے منسوب بھی ہوگیا ہے۔ بعد میں تحقیق نے پتہ چلایاکہ یا تو یہ شخص ہی فرضی تھا یا پھر اس سے اس پورے کے پورے ادب کو منسوب کرنا غلط یا مشتبہ تھا۔...وہ کہانیاں جو نانی دادی سناتی ہیں، وہ گیت جو جانے اَن جانے آپ کے ہونٹ گنگنانے لگتے ہیں، وہ بول جنھیں آپ کچھ سمجھتے ہیں کچھ نہیں سمجھتے مگر کھیل کود میں دہراتے ہیں، یہ سب معاشرے کی دین ہیں اوران کا خالق کوئی ایک فرد نہیں ہے اور اگر ہے تو گم نام ہے۔‘‘
(اردومیں عوامی ادب ایک روایت، از پروفیسر محمد حسن، اردومیں لوک ادب، ص25)
گزشتہ ادوار کی سادہ اور فطری زندگی میں لوگوں کی زبانوں سے اگرایسا کچھ نکل جاتا جس سے عوام الناس کے جذبات کی تسکین ہوتی یا اس میں ان کی زندگی جھلکتی ہوئی محسوس ہوتی یا کوئی تفریحی پہلو پنہاں ہوتا تو وہ سینہ بہ سینہ دور دور تک پھیل جاتا۔ اس عوامی ادب میں اتنی طاقت ہوتی کہ وہ ترسیل واِبلاغ کے وسائل و ذرائع کے فقدان کے باوجودزمانی اور مکانی ابعاد اور فاصلوں کو طے کرتے ہوئے دوسرے ملکوں تک چلاجاتا اور اگلی صدیوں میں داخل ہوجاتا۔
ادوارِرفتہ میں لوک ادب کی مقبولیت کا راز یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت عوام الناس کے لیے نہ اتنے تفریحی سامان تھے، جتنے کہ اس دورمیں ہیں، نہ زندگی کے اتنے پہلو تھے، نہ رنگ رنگ کے واقعات،نہ ناول، نہ افسانے، نہ اخبارات ورسائل، نہ کتب،نہ ریڈیواور نہ ٹی وی چینل،نہ کمپیوٹر، نہ انٹر نیٹ،نہ موبائل،نہ فیس بُک، نہ واٹس ایپ،نہ نوع بہ نوع کاروباروصنعتیں، نہ ملازمتیں، نہ مصروفیتیں۔ان کے پاس فرصت کے اوقات تھے، کہانیاں کہنے اور سننے کا، پہلیاں تخلیق کرنے اور حل کرنے کا ان کے پاس وقت تھا،گیت گانے کے لیے خواتین کے پاس فرصت بھی تھی اور ماحول وفضا بھی۔ کھیت کھلیان، بدلتے موسموں کے نظارے، اور ان سے بھرپورلطف لینے کے مواقع بھی ان کے پاس تھے۔ اگرکسی کے یہاں شادی کا موقع آجاتا تو ایک مہینے پہلے سے اس گھر میں عورتیں جمع ہوکر گیت گاتیں، وہی گیت جو کبھی ان کی دادیاں اور نانیاں گایا کرتیں۔ بہاراور برسات کے موسموں میں متعدد خواتین اکٹھی ہوکر باغوں میں چلی جاتیں، پیڑوں میں جھولے ڈال لیتیں، جھولتیں اور گیت بھی گاتی جاتیں، ہاں وہی گیت جو لوک ادب کا قیمتی سرمایہ تھے اور ہیں۔بوڑھی عورتیں اپنے پوتوں، پوتیوں، نواسوں، نواسیوں کو کہانیاں سناتیں، بچے بڑے انہماک سے سنتے۔ پھر جب وہ بڑے ہوجاتے، جوانی سے گزرکر دادا، دادی،نانا نانی بن جاتے تو وہ بھی اپنے گھر کے بچوں کو اکٹھاکرکے وہی کہانیاں دوہراتے جو انھوں نے اپنے دادادادی، نانا، نانی وغیرہ سے اپنے بچپن میں سنی تھیں، اس طرح ان کا وقت بھی گزرجاتا، قصے کہانیوں میں بچے نصیحت کی باتیں بھی سیکھ لیتے تھے۔جوان چوپالوں میں جمع ہوجاتے اور پھر طویل قصے چھیڑ دیے جاتے۔ بعض اوقات وہ قصے اتنے طویل ہوجاتے کہ ہفتوں ہفتوں تک ختم نہ ہوتے، داستان گو قصے کے مناظر یہاں تک کہ جزئیات کو بھی بڑی خوبی سے بیان کرتا۔ یہ قصے لکھے ہوئے نہ ہوتے تھے،چنانچہ داستان گوکے لیے ان میں اپنی طرف سے بھی کچھ اضافہ کرنے کی گنجائش ہوتی۔بعض اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی تخلیقی صلاحیت کا استعمال کرتے اور بعض چیزوں اورپہلوؤں کو جوڑکراان قصوں کو مزید طویل اور دلچسپ بنادیتے۔ اس طرح سامعین کے لیے مزید سامانِ تفریح وتفنن بھی جمع ہوجاتا۔ ان کا وقت گزرجاتا،مختلف علاقوں، زمانوں اور طبقوں کی تہذیب وثقافت کا بھی علم ہوجاتا اور کچھ عبرت کی باتیں بھی سیکھنے کو مل جاتیں۔ 
لوک کہانیوں، پہیلیوں وغیرہ سے ہر دور کے بچے بھی وابستہ رہے ہیں۔ وہ اپنے بزرگوں سے قصے کہانیاں سنتے تھے، ساتھ ہی خود بھی بعض ایسی باتیں یا نظمیں دہراتے تھے جن سے انھیں خوشی ملتی، گاتے،مچلتے اور فطری زندگی کامزہ لوٹتے۔ دراصل اس نوع کی باتوں سے ان کا واسطہ ماں کی گود سے ہی پڑنا شروع ہوجاتا۔ ماں بچے کو لوریاں سناتی ہوئی کہتی :
چندا ماموں دور کے 
بڑے پکائیں بوٗر کے 
آپ کھائیں تھالی میں
اوروں کو دیں پیالی میں 
پیالی گئی ٹوٹ
چندا ماموں گئے روٹھ
جب بچہ ذرا ہوش سنبھالتا تھا، بولنا سیکھتا، بچوں کے درمیان کھیلتا تو سنتا،’’ اکڑ بکڑ بمبے بو‘‘ اور پھر خود بھی گانے لگتاہے :
اکڑ بکڑ بمبے بو
اسّی نوّے پورے سو
سو میں لگ گا تاگا
چور نکل کے بھاگا
اس طرح کے بول بولتے ہوئے بچوں کو کھیل کود میں بڑامزہ آتا تھا۔ کوئی پہیلی کہتا اور دوسرے اس کو حل کرنے میں دماغ صرف کرتے۔بعض پہیلیاں نہ جانے کب سے چلی آرہی ہوتیں اور بعض پہیلیاں کچھ ذہین بچے غور وفکر کرکے خود ایجاد کرلیتے، لیکن اب ان پہیلیوں، لوریوں اور بچوں کے درمیان معروف مذکورہ مرتب لفظوں کا تحفظ مشکل نظرآرہا ہے۔ کیونکہ موجودہ زمانے میں ان کا سلسلہ ٹوٹتا دکھائی دے رہا ہے۔آج بچے ذرا ہوش سنبھالتے ہیں تو ان کے سامنے ٹی وی کی اسکرین ہوتی ہے یا موبائل اور موبائل پر انواع واقسام کے گیمز ہوتے ہیں۔بچے ان گیموں کو دیکھنے اور کھیلنے میں دلچسپی لینے لگتے ہیں، ان گیموں میں موٹر گاڑیاں، ٹرینیں، ہوائی جہاز اور نئے آلات دکھائے جاتے ہیں۔ بچے خواہی نہ خواہی اس طرح ان سے وابستہ ہوجاتے ہیں۔
بچپن سے ہی ٹیکنکل آلات سے جڑجانے کی وجہ سے بچوں کاذہن بھی ٹیکنکل ہوتا چلا جارہاہے، اور تخلیقی سطح پر وہ کمزور ہوتے جارہے ہیں۔ جو داستانیں کبھی بچوں کو سنائی جاتیں، آج ٹی وی پر دکھائی جاتی ہیں۔داستانیں خواہ وہی یا ایک جیسی کیوں نہ ہوں لیکن دونوں کے اثرات جداگانہ ظاہرہوتے ہیں۔بچے جو کہانیاں سنتے ہیں،ا ن کے کرداروں، ان کے راستوں، پگڈنڈیوں،پہاڑوں، ندیوں، پرانی حویلیوں، شادی بیاہ کے ہنگاموں، سب کی تصویریں خود بخود ان کے ذہن میں بنتی چلی جاتی ہیں، یعنی ان کے ذہن کی تخلیقی صلاحیت کو جلاملتی ہے، لیکن جب انھیں کہانیوں اور قصوں کوفلماکر بچوں کو دکھایا جاتا ہے تو وہ ان سے محظوظ تو ہوسکتے ہیں، مگر ان کے ا ذہان خودکردار وں کے حلیے، ان کی حرکات وسکنات، خوبصورت جھیلیں، آبشاروں کی تصویریں اور گزرگاہیں خلق نہیں کرتے، اس طرح ان کی تخلیقی قوت زنگ آلود ہوتی چلی جاتی ہے۔ جیسے ہی بچے بڑے ہوتے ہیں، جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہیں یا رکھنے والے ہوتے ہیں، ان کے ذہن یا تو اسکولوں کے نصابات کی کوٹھریوں میں قید ہوجاتے ہیں یا پھر وہ کچھ کمانے کی تگ ودومیں دنیا کے جمگھٹوں میں الجھ جاتے ہیں اور ایسے مصروف ہوجاتے ہیں کہ پھر کبھی زندگی بھر انھیں فرصت کے لمحات میسر نہیں آتے۔ اگر کچھ وقت بچتا ہے تو ٹی وی آن کرلیتے ہیں، اور فلمی، تفریحی،خبری چینلوں کودیکھتے اور بدلتے رہتے ہیں۔بچوں کو کہانیاں سنانے،پہیلیاں کہنے اورلوک گیت گانے کی نوبت ہی نہیں آتی۔
لوگ گیتوں سے خواتین کا گہرا تعلق رہا ہے،خواہ وہ تعلق شادی کے موقع پر گائے جانے والے گیتوں کی شکل میں ہو، یا بارہ ماسہ کی شکل میں ہو، یا پھر خوشی وغم کے دیگر مواقع کی صورت پرگائے جانے روایتی لفظوں کی شکل میں ہوں، لیکن موجودہ زمانے میں خواتین کا ان گیتوں سے رشتہ کمزورہوتاجارہا ہے، اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ آج فلمی گانوں کا چلن زیادہ ہے، جنھیں بڑے بڑے فنکار موسیقی کے ساتھ گاتے ہیں، چنانچہ خواتین ان فلمی گیتوں کو زیادہ سنتی اورگاتی دکھائی دیتی ہیں۔ یہی فلمی گیت اب ان کی زبان پر آتے ہیں نہ کہ وہ پرانے گیت ونغمے جو ان کی دادیوں اور نانیوں نے گائے تھے۔اس کے علاوہ ٹی وی کی طرف مائل ہونے کی وجہ سے خواتین اب سیریلوں میں مگن دکھائی دیتی ہیں۔ سیریلوں میں ان کی بڑھتی دلچسپی نے قدیم روایتوں سے ان کے رشتے کو منقطع یا کمزور کردیا ہے۔چنانچہ اب انھیں شادی کے مواقع پر گیت گانے میں بھی کوئی خاص دلچسپی نظرنہیں آتی۔ جو گیت اب سے کچھ دہائیوں پہلے ساری عورتوں کو یاد ہوتے تھے، اب چندفیصد عورتوں کو بھی یاد نہیں ہیں۔ایسی صورت میں لوک گیتوں کا تحفظ یقیناًدشوار ترین مرحلہ ہے۔یہ ممکن ہے کہ ان گیتوں کو لکھ کر کتابوں میں محفوظ کردیاجائے، جیسا کہ کیا بھی گیا ہے اور کیا بھی جارہا ہے،۔ اس طرح کچھ چیزوں کو کاغذوں میں توضرور محفوظ کیاجاسکتاہے،مگر سینوں میں نہیں۔ جب سینوں میں لوک گیت محفوظ نہیں ہوں گے، زبانوں پر نہیں آئیں گے تو قدیم لوک ادب کی زندگی وفنا کا سوال تواٹھے گا ہی۔
قدیم لوک ادب کی بازیافت اورجولوک ادب ہنوز زندہ ہے، اس کے تحفظ کا مسئلہ میرے خیال سے ادب کا ایک ایسا مسئلہ ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا اورنہ ہی کیا جانا چاہئے۔یہ مسئلہ اردولوک ادب کاہی نہیں بلکہ اس جہانِ رنگ وبو کے ساتھ بدلتے حالات وتغیرات میں تمام دنیا کی زبانوں کے لوک ادب کا ہے۔ہر زبان اپنے قدیم عوامی ادب کو گم کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ عہدِ حاضر میں کتنی ہی زبانیں، بولیاں اپنا وجود معدوم کرچکی ہیں۔جس کے سبب بہت سی قیمتی قدریں، روایتیں، تہذیبیں مٹ چکی ہیں اور مٹ رہی ہیں۔ اگر دورِ حاضر کی قومیں حال ومستقبل کے ساتھ اپنے ماضی،اپنے سماج اور تہذیب سے جڑے رہنا چاہتی ہیں تو انھیں اپنی زبانوں اور ان کے ادبی سرمایوں کی حفاظت کرنے اورزندہ رکھنے کی راہیں تلاش کرنی ہوں گی۔ 
جہاں تک اردوزبان وادب کے لوک ادب کا سوال ہے تو لوک ادب سے اردوکا رشتہ اتنا ہی قدیم ہے جتنی کہ خود اردو زبان۔اس کا ایک ثبوت تو یہ ہے کہ اردو کا خمیر ہندوستان کے مختلف علاقوں کی جن بولیوں سے مل کرتیار ہوا ہے، ان میں لوک گیت، لوک کہانیاں اور لوک پہیلیاں پہلے سے موجود ہیں۔جب اردو وجود میں آئی توان بولیوں کا لوک سرمایہ اردومیں منتقل ہوگیا۔ کھڑی بولی، قنوجی، ہریانوی، پنجابی اوردکنی بولیوں اور زبانوں کے لوک ادب کا خاصا بڑا ذخیرہ آج اردو ادب کاحصہ ہے۔امیر خسرو کے ہندوی کلام اس حصّے کو جوپہیلیوں اور گیتوں پر مشتمل ہے، اردو لوک ادب کاقیمتی اور قدیم ذخیرہ کہا جاسکتاہے۔ایسے ہی بہت سے صوفی سنتوں کی حکایتیں اور دوہے بھی اردو کے لوک ادب میں شامل ہیں۔دہلی اوراس کے مضافاتی علاقوں،نیزشمال اور دکن کے مختلف اضلاع میں جو عوامی گیت گائے جاتے رہے ہیں، یا جو پہیلیاں زبان زد عام رہی ہیںیا جو داستانیں عوام کے درمیان سنی سنائی جاتی رہی ہیں، وہ بھی اردو لوک ادب کا سرمایہ ہیں۔اس اعتبار سے دیکھاجائے تو اردو لوک ادب کا دائرہ کافی وسیع ہے۔یہ الگ بات ہے کہ امتدادِ زمانہ کے باعث یا نئے تقاضوں اور مطالبوں کے سبب اردو لوک ادب کا بہت بڑا حصہ محفوظ نہیں رہ سکاہے۔
اردو لوک ادب کے سرمایہ کی حفاظت اور اس کی اشاعت سے عدم دلچسپی یا کم توجہی کے باعث بھی اردو لوک ادب کی کمیابی کامسئلہ کھڑا ہوا۔دراصل اردو زبان نے بہت جلددرباروں تک رسائی حاصل کرلی اور شرفا ورؤسانے اسے اپنا لیا۔وقت کے اہم ادبا وشعرا بھی اس کی طرف متوجہ ہوئے، اس لیے اعلیٰ زبان بولنے اور اعلیٰ شاعری کرنے کی طرف زیادہ توجہ دی گئی۔ میر، سودا، بہادرشاہ ظفر،ذوق، غالب، داغ،مومن، انشا، مصحفی اوراقبال جیسے شاعروں نے اردو شاعری کے لیے جوراہ ہموار کی اس پر لوک گیتوں اور دوہو ں کو کمترخیال کیا گیا۔ اس کے باوجود یہ کہنا کسی بھی طورمناسب نہ ہوگا کہ اردوکے پاس لوک ادب کا سرمایہ نہیں ہے۔بلاشک وشبہ اردو کا انسلاک شاہوں، رئیسوں اور درباروں سے رہاہے لیکن یہ عوامی زبان بھی رہی ہے۔اگر عوامی نہ ہوتی اور صرف درباروںیاشاہوں تک ہی اس کا دائرہ محدود ہوتا تورجواڑو ں کی تباہی کے ساتھ اس کی بساط بھی الٹ جاتی اور آج اس کا زندہ وتابندہ رہنا تو دورکی بات اس کے آثار کو ڈھونڈ پانا بھی مشکل ہوتا،لیکن اردو نہ صرف یہ کہ ہنوز زندہ ہے بلکہ وقت کے ساتھ اس کا دائرہ پھیلتا جارہا ہے اور اسے عوام کے درمیان شوق کے ساتھ بولا اور سمجھا جارہاہے۔
اردو میں ضرب الامثال اور کہاوتوں کاایک جہان آباد ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اردو کی جڑوں میں لوک ادب موجود رہاہے۔ کیونکہ عوام کے بغیر نہ زبان پوری طرح وجود میں آسکتی ہے، نہ وہ دور تک پھیل سکتی ہے اور نہ دیر تک قائم رہ سکتی ہے۔ظاہرہے کہ اردو کئی زمانوں اور صدیوں پر محیط ہے اور اس کامکانی کینوس بھی کئی ملکوں اور براعظموں تک پھیلاہوا ہے، اس لیے اردو کی تہوں میں لوک ادب کی شمولیت خود بخود ثابت ہوجاتی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اردو والے اپنے لوک ادب کی بازیافت کریں اور اسے زبانی اور تحریری طورپر محفوظ کرنے کے لیے امکانی اور عملی کوششیں کریں۔
n
Mohammad Yousuf
Research Scholar, University of Delhi
Delhi - 110007

 اگر آپ رسالے کا آن لائن مطالعہ کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے لنک پر کلک کیجیے:۔



قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

14/5/18

مضمون’’ مجنوں گورکھ پوری کی افسانہ نگاری۔ مضمون نگار: ڈاکٹر ثاقب عمران







احمد صدیق مجنوں گورکھپوری 10مئی 1904کو مشرقی یوپی کے ضلع بستی، تحصیل خلیل آباد میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے اپنے مضمون ’’مجھے نسبت کہاں سے ہے‘‘ میں اس سلسلے میں خامہ فرسائی کی ہے۔ یہ مضمون پہلے پہل رسالہ نقوش لاہور1964کے شخصیات نمبر میں شائع ہوا، بعد ازاں ’ادب اور زندگی‘ میں بھی اسے شامل کر لیا گیا۔ مجنوں گورکھپوری نے شاعری بھی کی اور افسانے بھی لکھے ، لیکن اردو ادب میں ان کی بنیادی پہچان ترقی پسند نقاد کی حیثیت سے نمایاں ہے۔ ان کی تنقید نگاری کے سلسلے میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے لیکن بطور افسانہ نگار وہ ناقدین کی توجہ کم ہی مبذول کرا سکے۔ مجنوں گورکھپوری کے زیادہ تر افسانے 1925سے 1935کے درمیان شائع ہوئے۔ جس میں سے بیشتر افسانے انھوں نے 1929 تک لکھ لیے تھے۔ 1935 کے بعد ترقی پسند تحریک کا دور شروع ہوتا ہے۔ ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہونے کے بعد مجنوں گورکھپوری نے مضامین اور تنقیدیں تو لکھیں لیکن ان کے افسانے خال خال ہی نظر آتے ہیں۔

میری تحقیق کے مطابق مجنوں گورکھپوری کے صرف تین افسانوی مجموعے منظر عام پر آئے ہیں۔ ان میں سے پہلے دو مجموعے ’خواب و خیال‘ اور ’سمن پوش‘ کی اشاعت مجنوں گورکھپوری کی نگرانی میں ہی ’ایوان اشاعت‘ گورکھپور سے ہو چکی تھی۔ تیسرا افسانوی مجموعہ ’مجنوں کے افسانے‘ کے عنوان سے ان کے علی گڑھ تشریف لانے کے بعد شائع ہوا۔ یہ مجموعہ چند افسانوں کا انتخاب ہے جسے مجنوں گورکھپوری نے حالی پبلشنگ ہاؤس، دہلی کے روح رواں جناب اظہر عباس صاحب کی خواہش پر کیا تھا۔ انھوں نے اس انتخاب پر جو مقدمہ لکھا تھا اس پر 5؍اکتوبر 1935کی تاریخ درج ہے۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مجموعہ پہلی مرتبہ 1935کے آخری مہینوں میں شائع ہوا تھا۔ میرے اس مضمون کا محرک ان کا یہی تیسرا افسانوی مجموعہ ہے۔اس کتاب کی شان نزول کے بارے میں مجنوں گورکھپوری لکھتے ہیں:
’’۔۔۔حالی پبلشنگ ہاؤس،دہلی کے کارفرما جناب خواجہ اظہر عباس صاحب بی اے (علیگ) نے مجھ سے یہ فرمائش کی کہ میں ان کو اپنی کوئی کتاب شائع کرنے کے لیے دوں۔ میں نے فوراً اپنے ضخیم مجموعے سے کل مختصر افسانے علیحدہ کر کے ان کے حوالے کر دیے۔ نہ صرف اس لیے کہ اس طرح مجھے کچھ رقم مل گئی بلکہ بالخصوص اس لیے کہ ایک حوصلہ مند نوجوان کا ادبی حوصلہ پورا ہو رہا ہے، اور میرے بعض افسانوں کی اشاعت ہوئی جاتی ہے۔ یہ ہے اس مجموعے کی شان نزول۔‘‘1
کسی کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے مجنوں گورکھپوری کی ایک تحریر پر نظر پڑی تھی جس میں انھوں نے اپنے افسانوں کا ذکر کیا تھا۔ انھوں نے لکھا تھا کہ1930کے آس پاس وہ بحیثیت افسانہ نگار مشہور تھے۔ ان کے اس جملے نے مجھے جامعہ ملیہ اسلامیہ اور دہلی کی دیگر لائبریریوں کے چکر بھی لگوائے لیکن مجنوں گورکھپوری سے متعلق افسانوں کا سرا ہاتھ نہیں آ رہا تھا۔ اس واقعے کے کچھ وقت بعد عالمی کتاب میلہ 2014 دہلی میں منعقد ہوا۔ وہاں پر مجھے عالمی میڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ کے اسٹال پر ’مجنوں کے افسانے‘ کے عنوان سے ایک پاکٹ سائز کتاب نظر آئی۔ میں نے اسے شوق سے اٹھایا تو یہ مجنوں گورکھپوری کا تیسرا افسانوی مجموعہ تھا۔ اس افسانوی مجموعے کے مل جانے کے بعد میں نے ایک مرتبہ پھر سے مجنوں گورکھپوری کے افسانوں کو تلاش کرنے کا ارادہ کیا اور پہلی مرتبہ یہ دیکھنے کی کوشش کی کہ ان پر کیا کچھ کام ہو چکا ہے۔ ڈاکٹر شاہین فردوس کی ایک کتاب ’مجنوں گورکھپوری: حیات اور ادبی کارنامے‘ کے عنوان سے ایجوکیشنل بک ہاؤس علی گڑھ نے 2001میں شائع کی ہے۔ یہ کتاب شاہین فردوس کا پی ایچ ڈی کا مقالہ ہے۔ مقالے کا ایک حصہ جو تقریباً 73صفحات کو محیط ہے ، مجنوں گورکھپوری کی افسانہ نگاری کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ اس حصے کا مطالعہ کرنے کے بعد اندازہ ہوا کہ شاہین فردوس کی رسائی پہلے دو مجموعوں یعنی ’’خواب و خیال‘‘ اور ’’سمن پوش‘‘ تک تو ہو گئی تھی لیکن تیسرا افسانوی مجموعہ ان کی دسترس سے باہر تھا۔ ممکن ہے کہ ان کے علم میں نہیں رہا ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تلاش و جستجو کے بعد بھی تیسرے مجموعے تک رسائی نہ ہو سکی ہو۔ اس مجموعے میں کل آٹھ افسانے شامل ہیں۔ (1) ہتیا (2)گہنا (3) حسنین کا انجام (4) مراد (5)جشن عروسی (6)بڑھاپا (7) کلثوم (8) محبت کا دم واپسیں۔ ان آٹھ افسانوں میں سے ابتدائی چار افسانوں کا ذکر تو شاہین فردوس نے بھی اپنے مقالے میں کیا ہے جو غالباً پہلے دونوں افسانوی مجموعوں میں شامل رہے ہوں گے لیکن آخر کے چار افسانوں کا ذکر ان کے مقالے میں نہیں ملتا اور نہ ہی انھوں نے اپنے مقالے میں تیسرے افسانوی مجموعے کا کہیں ذکر کیا ہے۔ پہلے چار افسانوں کے تعلق سے میں نے لکھا ہے کہ ’غالباً‘ یہ افسانے پہلے دو مجموعوں یعنی ’خواب و خیال‘ اور ’سمن پوش‘ میں شامل ہوں گے۔ ’غالباً‘ اس لیے لکھا کہ ابھی تک میری رسائی ان مجموعوں تک نہیں ہو سکی ہے لیکن شاہین فردوس کے مقالے میں ابتدائی چار افسانوں کا ذکر میری بات کو قوی بناتا ہے۔ خیر جب بات ڈاکٹر شاہین فردوس کے تحقیقی مقالے پر آہی گئی ہے تو صرف اتنا کہنا چاہوں گا کہ ان کے اس تحقیقی کام کے بعد بھی مجنوں گورکھپوری کی افسانہ نگاری پر ایک اچھے اور بھرپور کام کی ضرورت باقی ہے۔ جیسا کہ میں نے اس سے پہلے بھی عرض کیا ہے کہ یہ شاہین فردوس کا پی ایچ ڈی کا مقالہ تھا اور پی ایچ ڈی یا دیگر مقالے جو کسی خاص بندھے ٹکے اصول کے تحت لکھے جاتے ہیں ان میں مقالہ نگار کو بعض اوقات آزادی سے کام کرنے کا موقع نہیں ملتا اور اس کے لیے اصول و ضوابط کی پابندی لازمی ہوتی ہے۔ بہرحال شاہین فردوس کے مقالے پر مزید گفتگو نہ کرتے ہوئے ہم اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔
مجنوں گورکھپوری نے ’مجنوں کے افسانے‘ میں ’شان نزول‘ کے عنوان سے مقدمہ بھی لکھا ہے۔ مقدمہ میں وہ اپنے افسانوں کے متعلق لکھتے ہیں:
’’ مجھے ارمان تھا اور میں اس کا اہتمام بھی کر رہا تھا کہ اب میرے جتنے مختصر اور طویل افسانے مختلف رسائل میں منتشر پڑے رہ گئے ہیں، ان کو بڑی تقطیع پر، یکجا کرکے شائع کر دیا جائے۔ یہ کتاب اگر وجود میں آتی تو 800صفحات سے کم ضخیم نہ ہوتی۔ لیکن ضعیف البنیان انسان کا ارادہ ہی کیا؟ سوچتا کچھ ہے اور ہوتا کچھ ہے۔‘‘2
مجنوں گورکھپوری کے درج بالا اقتباس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے مختصر سی مدت میں کتنی کثیر تعداد میں افسانے لکھے ہیں۔ بہرحال ان کے تمام افسانے ابھی رسائل تک ہی محدود ہیں جن کو کتابی صورت میں شائع کرنے کا عمل ابھی باقی ہے۔ ایسا کیوں ہوا کہ اپنے جن افسانوں کو یکجا کرنے کی ابتدا مجنوں گورکھپوری نے کی تھی اور کتابی صورت میں شائع کرنے کا ارادہ رکھتے تھے وہ مرحلہ طے نہ ہو سکا۔ اس سلسلے میں وہ اپنے مقد مہ میں لکھتے ہیں:
’’۔۔۔ میرے اس ضخیم مجموعہ کی کتابت شروع ہو چکی تھی اور ڈیڑھ سو صفحات لکھے جا چکے تھے کہ وہ بے درد و سفاک قوت جس کو عرف عام میں ’آب و دانہ‘ کہتے ہیں خلاف توقع مجھے کشاں کشاں کر کے علی گڑھ لے آئی اور اس طرح میں اپنے ارادوں کو ارادہ کے ساتھ ملتوی بھی نہ کرسکا۔ اس کی مہلت بھی نہ ملی کہ ’ایوان‘ اور ’ایوان اشاعت‘ کے التوا کا اعلان کر سکتا۔ چنانچہ اکثر احباب کو اس کی مطلق خبر نہیں ؂
وہ جو بیچتے تھے دوائے دل وہ دکان اپنی بڑھا گئے3
درج بالا اقتباس سے معلوم ہوتا ہے کہ ’ایوان اشاعت‘ جہاں سے ان کے پہلے دو مجموعے اشاعت پذیر ہوئے وہ مجنوں گورکھپوری کا ہی ادارہ تھا۔ ساتھ ہی مجنوں اس ادارے سے ’ایوان‘ رسالہ بھی شائع کرتے تھے جس کے مدیر وہ خود تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انھیں اشاعت کے التوا کا اعلان نہ کرنے کا قلق تھا۔ رزق کے لیے گورکھپور چھوڑنا ان کے لیے تکلیف دہ عمل تھا۔ وہ اپنے وطن سے حد درجہ محبت کرتے تھے۔ اس لیے وہ گورکھپور واپس جانے کے خواہش مند بھی رہتے تھے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’۔۔۔ مجھے گورکھپور چھوڑنا پڑا اور گورکھپور سے الگ ہو کر میں کوئی ایسی سنجیدہ زندگی بسر نہیں کر سکتا جس کو شعر و ادب کی زندگی کہتے ہیں اور جس کو ایک نقاد شعر ایک ’لطیف دیوانگی‘ بتاتا ہے۔ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ میرا یہ ادبی جمود ہمیشہ قائم رہے گا اس لیے کہ گورکھپور واپس جانے کی آرزو میرے اندر اسی قدر موجود ہے جس قدر کہ ہارڈی کے مشہور ناول "The Return of the Native" کے ہیرو Clym اور خود میرے افسانے ’بازگشت‘ کے ہیرو ادریس کے اندر موجود تھی اور بہت ممکن ہے کہ میں ان ہی دونوں کی طرح پھر گورکھپور واپس جاؤں، چاہے وہ مٹ جانے کے لیے ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن فی الحال تو میں گورکھپور میں نہیں ہوں اور ’ایوان‘ اور ’ایوان اشاعت‘ کا کاروبار بند ہے۔‘‘ 4؂
مجنوں گورکھپوری کی افسانہ نگاری کی جانب مائل ہونے کی وجہ بھی دلچسپ ہے۔ دراصل نیاز فتحپوری کا ایک افسانہ ’شہاب کی سرگزشت‘ رسالہ نگار میں قسط وار شائع ہو رہاتھا۔ مہدی افادی کی صاحب زادی جمیلہ بیگم کو یہ افسانہ حد درجہ پسند تھا لیکن مجنوں گورکھپوری کو افسانے میں کوئی افادیت کا پہلو نظر نہیں آیا اس لیے ان کی رائے اس افسانے کے متعلق اچھی نہیں تھی۔ ایک ملاقات میں ’شہاب کی سرگزشت‘ پر گفتگو شروع ہوئی تومجنوں گورکھپوری نے اپنی رائے کا اظہار جمیلہ بیگم کے سامنے بھی کر دیا۔ ردعمل میں جمیلہ بیگم نے طنزاً کہا کہ ’یہ سب تو نہ لکھ سکنے کی تاویلیں ہیں، میں جب جانوں کہ جب آپ بھی کوئی ایسا ہی بے نتیجہ افسانہ لکھ دیں۔‘ نتیجتاً مجنوں گورکھپوری نے اسی رات اپنا پہلا افسانہ ’زیدی کا حشر‘ کا کچھ حصہ لکھ ڈالا اور اگلے روز جمیلہ بیگم کے سامنے پیش کر دیا۔ ان ہی دنوں نیاز فتح پوری گورکھپور تشریف لائے ہوئے تھے۔ انھوں نے مجنوں گورکھپوری کا ادھورا افسانہ پڑھا تو ان سے افسانہ مکمل کرنے کی درخواست کی اور مسودہ اپنے ساتھ کانپور لے آئے جسے انھوں نے رسالہ ’نگار‘ میں بالاقساط شائع کیا۔ 5
مجنوں گورکھپوری کا یہ پہلا افسانہ تھا۔ اس کے بعد انھوں نے نیاز فتح پوری کی تحریک پر بہت سے افسانے قلم بند کیے۔ اس سلسلے میں لکھتے ہیں:
’’۔۔۔ میں نے اول اول اپنی زندگی کا نصب العین کچھ اور بنایا تھا، لیکن انسان اپنی قسمت سے مجبور ہے۔ نیاز صاحب نے تحریک کی اور میں نے افسانہ نگاری شروع کردی اور آج صرف افسانہ نگار مشہور ہوں۔‘‘6
مجنوں گورکھپوری کے افسانوں میں مغربی افسانوں کی جھلک بہت ملتی ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ انھوں نے مغربی افسانوں کا وسیع مطالعہ کیا تھا۔ ان کے ایسے افسانوں کی تعداد بھی زیادہ ہے جو کسی نہ کسی سطح پر مغربی افسانوں سے ماخوذ ہیں۔ اس کا اعتراف مجنوں گورکھپوری بھی کرتے تھے۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ ان کے ایسے تمام افسانے مغربی افسانوں کا ترجمہ ہیں۔ اس مجموعے میں شامل افسانہ ’جشن عروسی‘ بائرن کے افسانے "The Bride of Abydos" کا آزاد ترجمہ ہے۔ اس کے علاوہ دیگر افسانوں کے متعلق خود مجنوں گورکھپوری نے ’شان نزول‘ میں تحریر کیا ہے کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر مغربی افسانوں کے اثرات لیے ہوئے ہیں اور اگر ان کا کوئی افسانہ طبع زاد بھی ہے تو اس کے متعلق لکھتے ہیں کہ :
’’۔۔۔ دعوے کے ساتھ یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس میں میرے مطالعے کی کوئی آمیزش نہیں ہے۔‘‘7
’شان نزول‘ میں مجنوں گورکھپوری نے ’مجنوں کے افسانے‘ میں شامل تمام افسانوں پر تھوڑی تھوڑی خامہ فرسائی بھی کی ہے۔ اس کتاب میں شامل افسانوں میں تین کے علاوہ دیگر افسانے 1929سے پہلے قلم بند کیے گئے تھے۔ دراصل 1929کے بعد مجنوں گورکھپوری نے افسانے لکھنے کم کر دیے تھے۔ انھوں نے اس کی کوئی خاص وجہ تو نہیں بیان کی ہے ، بس ایسا لگتا ہے جیسے ان کا جی افسانہ خلق کرنے پر مائل نہ ہو اور اپنا آپ ظاہر کرنے کے لیے کسی دوسری صنف کی تلاش میں بھٹک رہا ہو۔ وہ لکھتے ہیں:
’’اس مجموعے میں جتنے افسانے شامل ہیں ان میں سے تین کو چھوڑ کر باقی سب 1929سے پہلے کے لکھے ہوئے ہیں اور ایسے زمانے کی یادگار ہیں جب کہ میرا ادبی نشہ عروج پر تھا، جب کہ میرے قویٰ میں اضمحلال کی کوئی علامت نمودار نہیں ہوئی تھی جو 1929کے بعد دھیرے دھیرے مجھ پر چھاتا گیا۔ اب میں اپنے اندر وہ کیف و نشاط نہیں پاتا جس کو اب سے چند سال پیشتر میں اپنی دولت لازوال سمجھ رہا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اب جو کام کرتا ہوں اس میں ایک قسم کی بے دلی اور بے حوصلگی پائی جاتی ہے۔ میرے بعض پڑھنے والوں کو مجھ سے شکایت ہے جو ایک لحاظ سے بجا ہے۔ یعنی اب میرے افسانے اتنے ولولہ خیز اور ذوق انگیز نہیں ہوتے جتنا کہ پہلے ہوتے تھے۔ یہ کہنا بڑی حد تک صحیح ہے کہ اب میں جو کچھ لکھتا ہوں اس میں وہ پختگی جس قدر بھی ہو ، جو محض عمر اور مشق کے تجربہ سے پیدا ہو جاتی ہے لیکن اس ’حسن خیال‘ اور اس شوخی تحریر کا دور تک پتہ نہیں جو صرف جوانی کی روحانیت اور شوریدہ سری کا تقاضا ہوا کرتی ہے۔ یہ انحطاط بھی ہے اور ارتقا بھی۔‘‘8
طبیعت میں تبدیلی کا واقع ہونا فطری بات ہے۔ عموماً قلم رکنے کے بعد جب طبیعت پھر سے بحال ہوتی ہے تو مصنف اسی ادب پارے یا فن پارے میں لوٹنا چاہتا ہے جس میں وہ طبع آزمائی کرتا رہا ہے۔ لیکن یہاں معاملہ اس کے برعکس نظر آتا ہے۔ مجنوں گورکھپوری نے جب تک افسانہ نگاری کو اپنا بنائے رکھا تب تک انھوں نے خوب افسانے لکھے لیکن پانچ سال کے اندر ہی اس صنف سے ان کی دلی وابستگی برقرار نہیں رہی۔ ویسے بھی وہ ابتداً افسانہ نگار نہیں بننا چاہتے تھے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کا ذہن دھیرے دھیرے اس صنف سے دوری بناتا گیا اور آخر کار انھوں نے افسانہ نگاری کو چھوڑ کر تنقید کو اپنا میدان خاص بنا لیا۔ شاید ان کی طبیعت کے لیے تنقید کا میدان ہی موزوں تھا۔ فراق گورکھپوری اور ان کے بعض دیگر دوستوں نے بھی انھیں تنقید کوہی اولیت دینے کا مشورہ دیا۔ طبیعت کی موزونیت اور دوستوں کے مشورے ہی تھے کہ آج ہم مجنوں گورکھپوری کو بطور افسانہ نگار نہیں بلکہ ایک نقاد کی صورت میں جانتے اور پہچانتے ہیں۔ مجنوں گورکھپوری اس سلسلے میں رقم طراز ہیں:
’’گذشتہ چند سال سے میں تنقیدیں زیادہ لکھ رہا ہوں اور افسانہ نگاری کی طرف میلان کم رہا ہے، یہ کوئی اضطراری حرکت نہیں تھی بلکہ اس کے مختلف اسباب تھے جس کی تفصیل و تشریح بے کار ہی ثابت ہوگی۔ اس ذکر کو چھیڑنے سے میرا ایک خاص مقصد تھا۔ میرے بعض احباب نے جن میں بابو رگھوپتی سہائے کا نام خاص طور پر قابل ذکر ہے حال میں میرے متعلق اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ تنقید ہی میرا غیر فانی ادبی کارنامہ ہے۔۔۔ ان لوگوں کی رائے میں جو چیز میرا نام زندہ رکھے گی وہ تنقید ہی ہوگی۔‘‘9
انسان کی فطرت میں شامل ہے کہ وہ ان ہی چیزوں کے مشورے دیتا ہے جس میں اسے امکانات نظر آتے ہیں۔ فراق اور دیگر احباب کے مشورے اپنی جگہ لیکن بہت سے احباب ایسے بھی تھے جنھوں نے مجنوں کو مشورہ دیا تھا کہ وہ افسانے کے علاوہ کچھ نہ لکھیں۔ دوستوں کے ان دو گروہوں کے درمیان کون صحیح ہے اور کون غلط، مجنوں گورکھپوری نے اس کا فیصلہ نہیں کیا ہے اور انھیں کرنا بھی نہیں چاہیے تھا۔ لیکن انھوں نے افسانہ نگاری اور تنقید نگاری کے ضمن میں ایک اہم بات کی جانب اشارہ کیا ہے۔ وہ دونوں کے مابین افسانہ نگاری کو بہتر خیال کرتے ہیں۔وہ لکھتے ہیں:
’’مجھے صرف اس قدر عرض کرنا ہے کہ اگر چہ افسانہ لکھنامیری زندگی کا اولین مقصد نہیں تھا، تاہم مجھے اس قدر تو ماننا ہی پڑتا ہے کہ جب میں تنقیدیں لکھتا ہوں تو ان کی تمام تر بنیاد مطالعہ اور فکر و تخیل پر ہوتی ہے۔ برخلاف اس کے جب افسانے لکھتا ہوں تو ان میں میرے مطالعے اور مشاہدے دونوں آ جاتے ہیں اور تجربات و تخیلات مل کر ایک تخئیلی کل کی صورت اختیار کر لیتے ہیں یعنی میرے افسانوں میں ادب اور زندگی دونوں عناصر شامل ہوتے ہیں، جس کی بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ میرے افسانے میری زیادہ مکمل نمائندگی کرتے ہیں۔‘‘10
ماخذ:
1۔ مجنوں گورکھپوری، شان نزول، مجنوں کے افسانے،عالمی میڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ، دہلی، 2014، ص ج
2۔ ایضاً، ص ب
3۔ ایضاً، ص ب،ج
4۔ ایضاً ،ص ج
5۔ شاہین فردوس، مجنوں گورکھپوری:حیات اور ادبی کارنامے، ایجوکیشنل بک ہاؤس علی گڑھ، 2001، ص96
6۔ مجنوں گورکھپوری، شان نزول، مجنوں کے افسانے،عالمی میڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ، دہلی، 2014، ص د
7۔ ایضاً، ص ذ
8۔ ایضاً، ص د ،ہ
9۔ ایضاً ، ص ذ
10۔ ایضاً، ص ح
n
Dr. Saqib Imran
Guest Teacher, Dept of Urdu
Jamia Millia Islamia
New Delhi - 110025
   اگر آپ رسالے کا آن لائن مطالعہ کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے لنک پر کلک کیجیے:۔



قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

8/5/18

مضمون: ’’زاہدہ خاتون شروانیہ کے تخلیقی وجود سے مکالمہ‘‘




ڈاکٹر نعمان قیصر

انیسویں صد ی کے اوائل میں جن شاعرات نے اردو کی نظمیہ شاعری میں کمال حاصل کیا، ان میں ایک نمایاں نام ز۔خ۔ ش۔ یعنی زاہدہ خاتون شروانیہ کا نام بھی شامل ہے۔ انھوں نے غزلیں بھی کہیں اور نثرکو بھی اپنے اظہار کا وسیلہ بنایا،لیکن ان کے تخلیقی وفور کا احساس ان کی نظمیہ شاعری میں نمایاں ہے۔ان کا تاریخی اور تہذیبی شعور انتہائی بالیدہ ہے۔ان کو اسلامی اقداروروایات سے دلی لگاؤ ہے،جس کا احساس ان کی نظموں کی قرأ ت سے ہوتا ہے۔ان کے یہاں مضامین کا تنوع بھی ہے،عصری حسیت اور عصری مسائل وموضوعات سے ہم آہنگی بھی ان کی نظموں میں نظر آتی ہے۔ان کی نظمیہ شاعری میں نسائی حسیت کا بھر پور اظہار بھی ملتاہے۔ زاہدہ خاتون شروانیہ غالباً اردو کی پہلی شاعرہ ہیں جو اپنی مثبت فکر اور منفردطرز اداکی وجہ سے اتنی نمایاں ہیں کہ انھیں نہ تو نظرانداز کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی سرسری ذکر کرکے گزراجاسکتا ہے۔انیسویں صدی کی ابتداء میں ان کی تاریخی نظموں نے بے انتہا مقبولیت حاصل کی۔انیسہ ہارون شروانی کے لفظوں میں’ دنیائے ادب میں انھوں نے تہلکہ مچادیاتھا۔پردۂ خفا میں رہنے کے باوجودوہ اپنی نغمہ باریوں سے عالم کومسحور و متحیر کرتی رہیں۔‘

ز۔ خ۔ ش۔کا اصل نام زاہدہ خاتون شروانیہ ہے، لیکن رسائل وجرائد میں ز خ ش کے نام سے ہی ان کی تخلیقات منظر عام پر آئیں اور ادبی دنیا میں بھی وہ اپنے اسی مخفف نام سے جانی جاتی ہیں۔ان کاشاعری کا ذوق فطری تھا۔ دس برس کی عمر سے ہی انھوں نے اشعار کہنا شروع کردیاتھا اور اس وقت کے معیاری رسائل وجرائد ’زمیندار ‘ لاہور ’خاتون ‘ علی گڑھ ’تہذیب نسواں،اخبار النساء، شریف بی بی،نظام المشائخ،کہکشاں ’لاہور‘ اور ’ستارۂ صبح ‘ وغیرہ میں ان کی شعری اورنثری کاوشیں اشاعت پذیر ہوئیں۔انھوں نے شاعری میں پہلے ’گل ‘ اور بعد میں ’نزہت ‘ تخلص اختیار کیا۔ان کے گھر کا ماحول علمی اور ادبی تھا۔ہوش سنبھالتے ہی ز۔خ۔ ش۔ کا گھر کے ادبی ماحول سے متاثرہونا فطری تھا۔ان کی بڑی بہن احمدی بیگم اور چھوٹا بھائی احمد اللہ خان کو بھی شعروادب سے خاص دلچسپی تھی۔شاعری میں احمدی بیگم ’نکہت ‘ تخلص کرتی تھیں جبکہ احمد اللہ خان کا تخلص ’حیران ‘تھا۔ز خ ش کے والد نواب مزمل اللہ خاں شروانی، سرسیداحمد خان کے افکارونظریات سے نہ صرف متفق تھے بلکہ وہ صحیح معنوں میں سرسیدکے متبعین میں سے تھے اور ان کے تعلیمی مشن کے فروغ میں عملی طورپر دلچسپی بھی لیتے تھے۔نواب مزل اللہ خان بھی شعروداب کا کڑھا ہوا ذوق رکھتے تھے اور فارسی میں اشعاربھی کہتے تھے۔ اس وقت کے فارسی کے معروف شاعر آغا کمال الدین سنجر سے آپ مشورۂ سخن کرتے تھے۔

8دسمبر 1894میں بھیکم پور،علی گڑھ (اتر پردیش ) میں زاہدہ خاتون شروانیہ کی ولادت ہوئی اور زندگی کی بہت کم بہاریں دیکھنے کے بعد محض 27سال کی عمر میں 2فروری 1922کو ان کا انتقال ہوگیا۔ان کے ادبی کارنامے کی مدت صرف سترہ سال پر محیط ہے۔لیکن سترہ برس کی قلیل مدت میں انھوں نے جو ادبی اور تخلیقی سرمایہ چھوڑا ہے، اس کے مطالعے سے ان کی افتاد طبع اور ان کی تخلیقی اٹھان کا اندازہ ہوتا ہے۔’آئینہ حرم ‘ اور ’فردوس تخیل ‘ ان کے مجموعہ کلام ہیں۔ ’رویائے صادقہ ‘ کے نام سے انھوں نے ایک مثنوی بھی تحریر کی ہے۔ ’دیوان نزہت ‘ (نزہت الخیال )کے نام سے ان کا دیوان بھی منظر عام پر آیا۔’قید فرنگ، گنج شہیداں، اضغاث احلام، عالم نسواں میں انقلاب، بہنوں سے دودو باتیں،مہذب بہنوں سے خطاب، اور چیست یاران طریقت،بعد ازیں تدبیر ما! آئینہ حرم، تصادم رواج وشرع،دام فریب،قدوم میمنت ملزوم،اور ثمر کا شجر کا خطاب‘ان کی مشہور نظمیں ہیں۔‘ز خ ش کی نظمیہ شاعری روایتی اسلوب کی پابند ضرور ہے لیکن اس میں مضامین کی رنگارنگی بھی ہے،اس میں عصری مسائل وموضوعات کی جلوہ گری بھی نظر آتی ہے۔
تعلیم کا فقدان اور دقیانوسی خیالات کے عام ہونے کی وجہ سے انیسویں صدی میں شعروادب سے خواتین کی دلچسپی معیوب تصور کی جاتی تھی،جبکہ اخبارات ومیگزین میں ان کے نام کی اشاعت ناپسندیدگی پرمحمول کی جاتی تھی۔میرے خیال سے اسی لیے زاہدہ خاتون شروانیہ نے اپنی تخلیقات کی اشاعت کے لیے مخفف نام( ز۔ خ۔ ش۔) کا سہارا لیا۔اس زمانے میں تعلیم نسواں کا رجحان عام نہیں تھا۔والدین اپنی بچیوں کے لیے گھریلوتعلیم کو ہی کافی سمجھتے تھے۔لیکن ز خ ش کے والد نواب مزمل اللہ خاں ایک تعلیم یافتہ اور روشن خیال انسان تھے اور وہ تعلیم کی اہمیت وافادیت سے بھی واقف تھے۔اسی لیے انھوں نے اپنی بچیوں کی تعلیم وتربیت میں خصوصی دلچسپی لی۔زخ ش کے لیے فارسی کی تدریس کے لیے ایران سے ترک وطن کر کے آنے والی باکمال شاعرہ فرخندہ بیگم طہرانیہ کی خدمات حاصل کی گئیں،جبکہ صرف ونحو،حساب اور فقہ کی تعلیم مولوی محمد اسرائیل سے حاصل کی اورعربی کی اعلیٰ تعلیم کے لیے مولوی سید احمد ولایتی جیسے متبحر عالم کا انتخاب کیا گیا۔ 
انتہائی کم عمر پانے کے باوجود ز۔خ۔ش نے نظمیہ شاعری کا جو قیمتی اثاثہ اپنے پیچھے چھوڑا ہے وہ کسی کارنامے سے کم نہیں ہے۔ان کی وقیع شعری خدمات کو جمیل الدین عالی نے کرامت سے تعبیر کیا ہے،وہ لکھتے ہیں۔ ’اس دور جہالت کی ماری ہوئی حیرت انگیز خاتون نے صرف 28 برس کی عمر پائی اور اتنا کچھ لکھ گئی۔یہ شاعرہ قدرت کی ایک کرامت کہی جاسکتی ہے۔(اور میں معجزہ کہتے کہتے رک گیا ہوں )سچ تو یہ ہے کہ اس کے والد نواب سرمزمل اللہ خاں شروانی (علی گڑھ کے حوالے سے ہندوستان کی بہت مشہور شخصیت)نے گھر میں ہی ان کی اعلیٰ تعلیم کاانتظام کر رکھا تھا۔
’آئینہ حرم‘ زاہدہ خاتون شروانیہ کا اولین شعری مجموعہ ہے،جو1931میں دارالاشاعت پنجاب، لاہور سے شائع ہوا۔یہ ان کی مختصر نظموں کا مجموعہ ہے۔ 39صفحات پر مشتمل اس مجموعے میں ایک حمد کے علاوہ 9نظمیں ہیں۔ اس مجموعے کی تمام نظموں میں قوم کی اصلاح اوراس کی بہتری کا جذبہ کارفرما ہے۔مجموعے کی بیشتر نظمیں خطابیہ آہنگ لیے ہوئے ہے۔مجموعے کاانتساب خاص طورپر پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔انتساب میں قوم وملت کے تئیں شاعرہ کی دردمندی کوبھی محسوس کیا جاسکتا ہے۔زاہدہ خاتون نے مجموعے کی نظموں کو آنسوؤں کی لڑی سے تعبیر کیا ہے۔ملاحظہ کریں۔ ’’یہ آنسوؤں کی لڑی،یہ دردکی تڑپ، یہ سوزش کی آہ،ہاں ایک فریادی کااسترحام،ایک ناشاد کی نوحہ گری،ایک زخمی کی چیخ،یعنی کتاب آئینہ حرم،اسلام کے اس سچے شیدائی،تعلیم نسواں کے اس زبردست حامی کے نام نامی منسوب ومعنون کی جاتی ہے جس کا فیضان تربیت اس مجموعہ پریشان خیالی کی تسوید وتنشید کا معنوی سبب ہے اور جس کی قومی محبت وراثتی اثر ونسلی خصوصیت کے طورپر خاکسار مصنفہ کی رگ وپے میں سرایت کیے ہوئے ہے۔‘‘انتساب کا ایک ایک لفظ رقت آمیز و درد انگیزہے،جسے پڑھ کر قاری کے لوح دل پر دردوغم کی وہی لہریں مرتسم ہوتی ہیں جس سے شاعرہ کا ربطِ خاص رہا ہے۔
’فردوس تخیل ‘زاہدہ خاتون کا دوسرا شعری مجموعہ ہے، جو 1941 میں دارالاشاعت لاہور سے شائع ہوا۔ اس میں انھوں نے اپنی نظموں کو تین ادوار میں تقسیم کیا ہے۔ مجموعے میں ایک طویل غزل بھی شامل ہے لیکن اس میں بھی نظم کی کیفیت نمایاں ہے۔ ایک مسلسل خیال ہے جوپوری غزل میں رواں ہے۔رومانی تصور یہاں بھی عنقا ہے۔ پوری غزل میں سنجیدگی کا پہلو نمایاں ہے،اس کا لہجہ بھی غزل کے لہجے سے میل نہیں کھاتا،چونکہ زاہدہ خاتون کی طبیعت اوران کے مزاج میں متانت ہے جو غزل کے رومانی تصورسے میل نہیں کھاتی۔ان کی تخلیقات میں اقبال کے اثرات نمایاں ہیں۔وہ اقبال کی فکر سے بہت متاثر ہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ دونوں کا مقصدایک ہے۔ زاہدہ خاتون کے اشعارمیں معنی ومفہوم کی سطح پر وہی گہرائی اور گیرائی ہے جس سے اقبال کی شاعری کے دروبام روشن ہیں۔موضوع اور مفہوم کی سطح پر مماثلت اور یکسانیت کی وجہ سے ان کے اشعار پر کلام اقبال کاالتباس ہوتا ہے۔
ترقی پسند تحریک کا قیام 1936میں عمل میں آیا،لیکن اس کی تاسیس سے برسوں قبل زاہدہ خاتون شروانیہ اپنی شاعری میں عوامی جذبات واحساسات اور ترقی پسند نظریات کی ترجمانی کررہی تھیں۔ان کی ایک طویل غز ل ہے جس میں مزدوروں اور محنت کش طبقوں کی حمایت وتائید کے ساتھ ساتھ استحصالی قوتوں اور ظالمانہ نظام کے خلاف ان کا مزاحمتی رویہ اور احتجاجی آہنگ محسوس کیا جاسکتا ہے۔ البتہ اس میں وہ گھن گرج نہیں ہے جس سے ترقی پسندوں کاشعری سرمایہ مملو ہے۔ایک واضح مقصدکی ترسیل اورخاص نظریے کی تشہیرکے باوجود ان کی غزل پرنعرے بازی کاالزام عائد نہیں کیا جاسکتا۔ غزل کے چند اشعار ملاحظہ کریں ؂
شاہد ارض کرے کیوں یہ دعائے مزدور 
بہر زینت ہے وہ محتاج بقائے مزدور
دیکھ کر حسن مکاں کی صفت عقل مکیں 
آہ! نکلی نہ کسی لب سے ثنائے مزدور
کارخانے میں جو بارود کا بم آکے پھٹا 
جل گیا پیکر بے جرم وخطائے مزدور 
غلہ ڈھونے سے پسینے میں نہائے سوبار 
جب ہوا ایک پارۂ ناں روزہ کشائے مزدور
کلبۂ برف دسمبر میں ہے سر کے اوپر 
فرش آتش ہے مئی میں تہہ پائے مزدور
مذکورہ اشعار میں زاہدہ خاتون کے ترقی پسند نظر یات بدرجہ اتم محسوس کیے جاسکتے ہیں۔مزدوروں کی زبوں حالی اور امرا کے استحصالی رویے سے شاعرہ کبیدہ خاطر ہے۔ حالات کی ستم ظریفی شاعرہ کے حساس دل کو ملول ضرور کرتی ہے،لیکن امیدوں وآرزوؤں کی قندیل کو وہ اپنے دل میں بجھنے نہیں دیتی۔انھیں آنے والے کل پر امید ہی نہیں یقین بھی ہے مایوسی کے بادل چھٹیں گے اور حالات بہتر ہوں گے۔ان کا یہ ماننا ہے کہ دشوار راہوں کا سفر مشکل ضرور ہوتا ہے،لیکن عزم جوان ہو اورحوصلہ بلند ہو تو مشکلیں بھی آسان ہوجاتی ہیں۔اشعار ملاحظہ کریں ؂ 
سناہے ہم نے دورِ عیش وعشرت آنے والا ہے
ہوئی کافور ظلمت اب اجالا ہی اجالا ہے 
یہ دونوں لفظ و معنی کی طرح ملزوم ولازم ہیں
یہ گل،وہ شاخ،یہ جاں،وہ بدن،یہ مے، وہ پیالا ہے
نہ سمجھو دل کو تم بے غم،نہ سمجھو غم کو معمولی
ہمارا درد بے پایاں، ہمارا زخم آلا ہے 
زاہدہ خاتون شروانیہ نے قطعات ورباعیات کے علاوہ اساتذہ میں غالب اور اقبال کے کلام کی تضمین بھی کی ہے۔تضمین نگاری میں بھی انھوں نے فنی حرمت کا پاس ولحاظ رکھا ہے۔ان کے اشعار حسن معنی اور حسن اظہار دونوں اعتبارسے چونکاتے ہیں۔
کلام غالب کی تضمین:
درد الفت یونہی تھا رگ رگ میں ساری ہائے ہائے 
کیوں لگایا پھر وفا کا زخم کاری ہائے ہائے 
دنیا میں زحمت کش دنیا کوئی دن اور
ہے طوعاً وکرہاً مجھے جینا کوئی دن اور
تھا صبرو سکوں تم کو بھی زیبا کوئی دن اور
تنہا گئے کیوں اب رہو تنہا کوئی دن اور 
ز۔خ۔ش۔اپنے عہد کے حالات کی خاموش ناظر نہیں رہیں۔انہو ں نے اپنی شاعری،خطوط اور مضامین میں اپنے عہد کے سیاسی حالات،سماجی محرکات اورقومی اورملی انتشار کو قلم بند کیا ہے۔انھوں نے طویل اور موضوعاتی نظمیں بھی کہی ہیں۔ان کے یہاں موضوع کی سطح پر جدت اور ندرت تو نہیں ہے، لیکن ان کی تخلیقات میں ان کے جذبۂ صادق،ان کے نازک احساس اور ان کی ملی درد مندی کوضرور محسوس کیا جاسکتا ہے۔ان کی نظموں میں تاریخی شواہد بھی ہیں اور جمالیاتی احساس بھی۔وہ ہمیشہ مشرقی تہذیب کے فروغ کے لیے کوشاں رہیں۔ان کے انتقال پر تعزیتی نوٹ کے تحت ’تہذیب نسواں ‘ کے ایڈیٹر مولوی ممتاز علی نے اپنے تاثرات کااظہار ان الفاظ میں کیا۔’مرحومہ کی بے وقت موت سے تہذیب نسواں کو بے حد صدمہ پہنچا ہے۔وہ اپنی صنف کے لیے درد بھرا دل رکھتی تھیں اور اس درد کو تہذیب کے ذریعے ظاہر کرتی تھیں۔‘
مصور غم علامہ راشدالخیری نے رسالہ ’عصمت ‘ میں زخ ش کی بے وقت موت پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ان کا دل قومی دردوغم سے لبریز تھا۔ ’ز خ ش اس پائے کی عورت تھی کہ آج مسلمانوں میں اس کی نظیر مشکل سے ملے گی۔علاوہ ذاتی قابلیت جو ان کے مضامین میں نظم ونثر سے ظاہر ہوتی ہے،ان کا دل قومی درد سے لبریز تھا۔‘حکیم الامت شاعر مشرق علامہ اقبال نے نواب مزمل اللہ خان کو زخ ش کے انتقال پر تعزیتی خط میں ان کی شعری اور تخلیقی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ’اگر یہ طبعی عمر کو پاتیں تو میری ہم پلہ شاعرہ ہوتیں۔ ان کے استاذ مولوی یعقوب علی جو ایک معمر بزرگ اور اعلیٰ درجے کے انشا پرداز تھے۔انھوں نے زخ ش کی فنی پختگی کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے ’صرف سترہ برس کی عمر میں ان کے کلام میں پختگی اور فکر میں وسعت پیدا ہوچکی تھی۔‘
ز خ ش کوترجمہ نگاری میں بھی مہارت تھی۔اس میدان میں بھی ان کی صلاحیت کو اہلِ نظر نے نہ صرف تسلیم کیا ہے بلکہ اس باب میں ان کی کدوکاوش کو استحسان کی نظرسے بھی دیکھا ہے۔آخری ایام میں انھوں نے فرانسیسی مصنف پیر لوتی (Pier Loti) کے ناول ڈیزان شانتے (Desenchantees) کے فارسی ترجمے ’پری رویان ناکام‘ کا اردو ترجمہ کیا۔
ایک عرصے تک ز خ ش ادبی دنیا میں معمہ بنی رہیں، اس لیے ایک عرصے تک ان کے فکروفن پر کسی نے توجہ نہیں دی۔لیکن جب زمانے کا ورق پلٹا،تو ان کی تخلیقی اور فنی ہنرمندیوں کا اعتراف بھی کیا گیا۔’ز خ ش کی حیات وشاعری کا تحقیقی وتنقیدی جائزہ ‘ کے عنوان سے سب سے پہلے انیس فاطمہ نے ڈاکٹر اسلم فرخی کی نگرانی میں کراچی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی۔ان کی پھوپھی زاد بہن انیسہ خاتون شروانیہ نے ’حیات ز خ ش ‘ کے نام سے ایک کتاب تصنیف کی،جو اعجاز پرنٹنگ پریس چھتہ بازار حیدر آباد (دکن ) سے 1940میں شائع ہوئی۔’اس میں نقطۂ راز‘ کے عنوان سے شان الحق حقی نے ایک طویل مقالہ لکھا۔’زخ ش طاق نسیاں کا ایک روشن چراغ ‘ کے عنوان سے مدیحہ خانم شروانی نے ادبی ماہنامہ’آج کل‘ دہلی، اپریل 1996میں ایک مضمون قلم بند کیا۔صاحب طرزادیب اورمعروف انشائیہ نگار خواجہ حسن نظامی کی بیگم لیلیٰ خواجہ بانو سے ز خ ش کی طویل خط وکتابت رہی۔ان مکاتیب میں ز خ ش کی پسند وناپسند کے علاوہ قوم وملت کے تئیں ان کی ہمدردی،خلوص اوران کے دلی اضطراب کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔
زخ ش کے سینے میں ایک دردمند دل تھا جو ملت کی بہتری کے لیے دھڑکتا تھا۔قوم کے درد پر وہ تڑپ اٹھتیں،اور اس کے ازالے کی تدبیر وں پر غورو فکر کرتی۔ ترکی میں خلافت عثمانیہ کے زوال سے پوری قوم ایک ذہنی اضطراب میں مبتلا تھی۔حددرجہ حساس طبیعت رکھنے والی زخ ش بھلا اس قومی اور ملی سانحے سے خود کو بھلا کیسے دور رکھتی۔ڈاکٹر فاطمہ حسن اس حوالے سے لکھتی ہیں۔’’زاہدہ خاتون خود بھی غیر معمولی سیاسی اور سماجی شعور رکھتی تھیں اور اردگرد کے حالات سے شدیدمتاثر ہوتی تھیں۔ان کی زود رنج طبیعت دنیا کے تمام انسان خصوصاً مسلمانوں کے دکھ کو اس طرح محسوس کرتی تھی کہ وہ ان کا ذاتی غم بن جاتا۔خصوصاً ترکی کے حالات نے اس وقت برصغیر کے تمام مسلمانوں کو مضطرب کیا ہوا تھا۔زاہدہ خاتون اپنے اضطراب کااظہار شاعری اور مضامین میں کرتی رہیں۔‘‘
زخ ش کا تعلق علی گڑھ سے ہے۔یہ ایک قدیم شہر ہے،اس کی تاریخ کی کڑی ابراہیم لودھی سے ملتی ہے۔ اس کے آباد ہونے کی تاریخ پر ڈاکٹر انیس فاطمہ کچھ اس طرح روشنی ڈالتی ہیں۔’لودھی خاندان کے اعلیٰ فرمانروا ابراہیم لودھی نے عیسیٰ خاں شروانی کو آگرے کا حاکم مقرر کیااور عمر خاں کے منجھلے فرزند محمد خاں شروانی کو کول کی حکومت سپر د کی۔کول آنے پر محمد خاں نے محسوس کیا کہ شہر کا پرانا قلعہ اب اس قابل نہیں رہا کہ اس سے ایسے اہم علاقے کی حفاظت ہوسکے اور اس چاروں اطرف آبادی کے پھیل جانے کی وجہ سے استحکام کی بجائے انتشار پیدا ہوگیا ہے۔چنانچہ اس نے 1554 میں ایک بڑا اور مستحکم قلعہ شہر سے دو میل شمال کی طرف تعمیر کیا اور اس کانام محمد گڑھ رکھا۔یہی وہ علاقہ ہے جس کا نام مغلوں کے آخری عہد میں ثابت خاں نے ثابت گڑھ رکھا اور جس کی وجہ سے صرف شہر کول بلکہ پورا نوا ح علی گڑھ کہلایا۔‘
ہندوستان میں شروانی خاندان کاشمار ہمیشہ سے معزز اور باوقار خاندان میں ہوتا رہا ہے،چونکہ منصب اور امارت کے ساتھ ساتھ علم وادب میں بھی اس خاندان کے افراد پیش پیش رہے ہیں۔مولوی حبیب الرحمن خاں نواب صدر یار جنگ کا تعلق اسی شروانی خاندان سے ہے۔ ان کی علمیت ولیاقت سے بیشتر لوگ واقف ہیں۔ انھوں نے متعدد کتابیں تصنیف وتالیف کیں،وہ ’الندوہ ‘ کے مدیر بھی رہے۔نظام دکن نے ان کی ملی خدمات،علمی استعداد اور انتظامی صلاحیتوں کے اعتراف میں انھیں 1918میں صدرالصدور کے عہدے پر فائز کیا اور 1922 میں نواب صدر یار جنگ کے خطاب سے سرفراز کیا۔ حبیب الرحمن خاں شروانی کو جامعہ عثمانیہ حیدرآباد کے اولین وائس چانسلر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ انھیں مولانا ابوالکلام آزاد کی قربت بھی حاصل رہی، ایام اسیری کے دوران مولانا آزاد نے ان کو جو خطوط لکھے،وہ ’غبار خاطر ‘ کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہیں اور وہ اردو میں ادب العالیہ کا درجہ رکھتے ہیں۔
زخ ش کے والد نواب مزمل اللہ خاں کا شمار بھی شروانی خاندان کے سرکردہ افراد میں ہوتا ہے۔نواب مزمل اللہ خاں ذاتی حوالے سے بھی معروف اور ممتاز شخصیت کے مالک تھے۔1820 میں بھیکم پور علی گڑھ میں پیدا ہوئے۔ سرسید کاقائم کردہ ادارہ’ محمڈن اینگلو اورینٹل کالج میں عربی،فارسی اور انگریزی کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔سرسید سے قربت کی وجہ سے مسلمانوں کی تعلیمی ترقی میں حصہ لیااور 1886 میں ایم اے او کالج کے ٹرسٹی منتخب ہوئے۔ 1910 سے 1913 تک کالج کے سکریٹری کے طورپر خدمات انجام دیں،جبکہ 1918 میں آپ کو بورڈ آف ٹرسٹیز کا نائب صدر مقرر کیا گیا۔1904 میں انھیں ’خان بہادر‘ 1910 میں ’نواب ‘اور پھر ’سر ‘ کے خطاب سے نوازا گیا۔زندگی بھر قومی اور ملی خدمات انجام دینے کے بعد 28ستمبر 1938کو اپنی جان،جان آفریں کے سپر کردی۔
ز خ ش کی والدہ حجازی بیگم کا تعلق بھی ایک صاحب ثروت اور متمول خاندان سے تھا۔علی گڑھ کے مضافات میں واقع بوڑھ گاؤں کے رئیس حاجی کریم اللہ کی وہ صاحبزادی اور عنایت اللہ خاں کی نواسی تھیں۔محمد عنایت اللہ خاں رشتے میں مزمل اللہ خاں کے حقیقی چچا بھی تھے۔حجازی بیگم ان کی عم زاد بہن تھیں۔محمد عنایت اللہ خاں خود بھی علم دوست انسان تھے اور سرسید کے قریبی حلقۂ احباب میں تھے اور ان کی اعانت میں پیش پیش رہتے۔یونیورسٹی میں ان کی بہت سی یاد گاریں ہیں۔پکی بیرک کے کئی کمروں کے علاوہ اسٹریچی ہال میں ان کے نام کی تختی نصب ہے۔ کالج میں ایک بڑا کنواں اور ایک فوارہ ان کی یاد گار ہے۔


Dr. Noman Qaisar
C-66, First Floor, Back Side 
Shaheen Bagh, Okhla
New Delhi - 110025
Mob.: 8130646324



   اگر آپ رسالے کا آن لائن مطالعہ کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے لنک پر کلک کیجیے:۔



قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...