23/5/18

مضمون۔ جنوبی ہند کے عصری اردو ادب میں علاقائی اثرات از مہ نور زمانی بیگم






جنوبی ہند کے عصری اردو ادب میں علاقائی اثرات

مہ نور زمانی بیگم




ادب میں علاقائی اثرات زبان اورمواددونوں میں ملتے ہیں۔ جہاں تک زبان پر پائے جانے والے علاقائی اثرات کا سوال ہے ان ریاستوں میں کنڑ، تلگو، تمل اور ملیالم ہی نہیں بلکہ مرہٹی زبانوں کے اثرات شروع سے ہی اردو زبان کے ڈھانچے پر اس طرح سے اثر انداز رہے ہیں کہ یہاں بولی جانے والی اردو زبان’دکنی‘ کے مخصوص نام سے جانی جاتی ہے۔ اس حقیقت سے قطع نظریہ بھی ایک حقیقت ہے کہ 1985سے بہت پہلے ہی جنوبی ہند کے کئی ادباء و شعرا نے معیاری اردو کے استعمال پر پوری قدرت حاصل کرلی تھی۔ چنانچہ پچاسی تا حال کے جنوبی ہندکے اردو ادب میں علاقائی اثرات کی تلاش یہاں کے شعری اور تنقیدی سر مایے میں بے سود ہے۔اس دورتک کر ناٹک اور حیدر آبادمیں محمودایاز، خالد عرفان، مغنی تبسم، سلیمان اطہر جاوید، ڈاکٹر سیدہ جعفر وغیرہ کئی احباب کی ادبی تنقیدوں نے شمالی ہند اور پاکستان سے شائع ہونے والے موقر رسائل میں جگہ بنا لی تھی لیکن فکشن میںآج بھی علاقائی اثرات کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔اگر ہم یہاں کے فکشن کا جائزہ لیں تو نہایت خوش کُن نتائج سامنے آتے ہیں اور ادب میں علاقائیت کی تلاش کا عمل معتبر محسوس ہونے لگتا ہے۔ 

در حقیقت علاقائی اثرات ہر ادیب کا اٹوٹ حصہ ہوتے ہیں کیو نکہ ادیب معاشرے کا حساس،د رد منداور دوربین فرد ہوتا ہے۔ ادیب و شاعر کا بچپن جس علاقے میں بسر ہوتا ہے اور وہ زندگی بھر جس علاقے میں رہتا بستا ہے وہاں کی زبان اور تہذیب و ثقافت کے اثرات اس کے لاشعور میں اس طرح مر تسم ہوجا تے ہیں کہ اس کی تخلیقات میں کہیں نہ کہیں ان کی جھلک نمایاں ہو جاتی ہے۔ لہٰذا ادب میں علاقائی اثرات کا وجود ایک ایسا وصف ہے جو اپنے تخلیق کار کے، کسی مخصوص علاقے سے وابستہ ہونے کا ثبوت پیش کرتا ہے۔ 
تو آئیے میں بات شروع کرتی ہوں شمالی کرناٹک کے شہر ہبلی کے ایک مشہور افسانہ نگار ملّاعبدالغنی کے ناولٹ ’ نقشی کٹورا‘ سے! یہ ایک ایسا ناولٹ ہے جس میں مصنف نے انتہائی فنکاری کے ساتھ زبان اور مواد دونوں کے اعتبار سے علاقائیت کی جیتی جاگتی تصویریں پیش کردی ہیں۔ا س میں بظاہر ایک ایسی پاگل عورت کی کہانی ہے جس کے تنے ہوئے خد و خال، چَڑھی ہوئی بھوئیں اورلال لال آنکھیں دیکھ کر کوئی بھی عام آدمی اس کے قریب تک نہ پھٹکتا تھا، اورخود اس کے اپنے بچے اس کی جنگجو یانہ اورخونخوار اضطراری حرکتوں کا سامنا کر نے سے کتراتے تھے۔ملّاعبدالغنی نے اس ناولٹ کے پردے میں بیجاپور، ہبلی اور دھارواڑکی علاقائی معاشرت، زندگی کے شب و روز، تہذیب و ثقافت، غربت، عظمت، توہم پرستی،زبان، روز مرہ، کہاوتوں اور چٹکلوں سب کو قلمبند کردیا ہے۔
وہاں پر استاد کو ’جناب‘ کہا جاتا ہے جیسے کہ ناولٹ میں جناب چھوٹے شاہ، جناب چھوٹے گدگ وغیرہ ہیں، تایا کو’ بڑے باپ ‘کہا جاتا ہے جو کہ کنڑ ’ دوڈاپّا‘ کاہو بہو اردوترجمہ ہے۔ جب ’ہاں‘ کہنا ہو ’ھوئے ‘ کہا جاتا ہے۔ ’ذ ‘ اور’ ز ‘ کی آواز کو’ج ‘کی آواز سے اداکیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی کئی اور قسم کی لسانی خصوصیات یہاں کی مخصوص دکنی اردو کے مزاج کا حصہ ہیں۔ لہذا شمالی کرناٹک کی اردو زبان کے مخصوص علاقائی اثرات سے مملواس ناولٹ کے چند اقتباسات ہیں : 
’’اللہ کاں بسریاچنگا ماں اِسے، برس پہلے پکتے ہوئے کھانے میں کنکر مٹی ڈالی، دو برس پچھے بڑے باپ کے نوے اِجار جامے کو جلا ئی، تب بڑے باپ کیتّی عاجزی سے پاؤں پکڑ کو بولے تھے ایسا کرو نکو ماں کر کو، اِنے چھوڑی تو بول۔ ‘‘ (ص72)
’’ وھئے۔۔۔مجے معلوم۔۔۔ مچھی کے بچے کو تیرنا شکانا کیا۔۔۔‘‘ (ص42) 
’’میں بلا لے کو جاتوں تمنا کل سال کو۔۔۔ بولو بھی،نیں تو دیکھو حجرت بھینساں چرانے لگاتیں کتے۔‘‘ 
’’ اجی خالہ اسے جرا دودھ پلاؤ جی، کل سے دودھ نیں پئے جی‘‘ (ص14)
ملّا عبدالغنی نے شمالی کر ناٹک کی زبان کے اس طرح کے جیتے جاگتے نقوش کے علاوہ جو معاشرتی تصویریں ’نقشی کٹورا‘ میں پیش کی ہیں اُن کا شائبہ آج بھی دھارواڈ، بیلگام اور بیجاپور کے علاقوں میں نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ اس ناولٹ میں تعویز، فلیتے، پیروں، شہدوں، حکیموں اور ڈاکٹروں کے آستانوں پر سر جھکانے کا تذکرہ، بھوت پریت اتارنے والوں کا کہا ماننے کے واقعات، نئے رہن سہن کو اپنانے کی طرٖ ف بڑھائے جانے والے بے ہنگم اقدامات،اس علاقے میں پائے جانے والے پیشوں کی اونچ نیچ و غیرہ باتوں کونہایت دلچسپی اور فنکاری کے ساتھ بیان کردیاگیا ہے۔محرم میں ادا کی جانے والی رسومات کا نقشہ کھینچتے ہوئے لکھتے ہیں’’ لوگ اپنے ہر دکھ کا علاج حضرت بی بی فاطمہ کی عودی کو مانتے تھے۔ چوکی کے سامنے ماتھا ٹیکتے، شِرسٹانگ نمسکار کرتے، عودی کی ایک چٹکی جیبھ پر ڈالتے، گلے پر لگاتے،ماتھے پر ٹیکہ لگاتے، دعائیں دی جاتیں،منتیں مانی جاتیں اور فاتحہ پڑھی جاتی۔۔۔ .بکرے ذبح کرکے کندوری کی جاتی، ہُدّے (ڈھائی سیر گڑ ڈھائی سیر مونگ پھلی کا تیل حضرت امام حسین کے نام نذر و نیاز کرنا) دئے جاتے۔ ‘‘ پھر یہ کہ ’’روایت کے مطابق تقریباً ہر مسلمان کے گھر میں پانچویں کو شربت، گھی کے بگھار کی مونگ کی کھچڑی اور سارے بیگن کا سوکھا سالن، تور کی دال یا گوشت کا سالن پکتا،ساتویں کو گھوڑے (ایک میٹھا پکوان) اور گوشت کا سالن اور گھی سے بگھارے چاول اور ’ قتل ‘ (یعنی محرم کی نویں تاریخ) کو ملیدہ اور بریانی،نیز نویں کو خاص طور سے مہندر گڑھ کے تقریباً ہر ہندو گھر انے میں محرم کا تہوار منایا جاتا۔دن بھر روزہ رکھ کر نہا دھو کر لنگایتوں اور برہمنوں، چھتریوں کے ہاں بھاجی،بیگن، روٹی،پھیکے چاول اور ملیدہ شربت تیار کرکے مغرب کے بعد بی بی فاطمہ کے نام عاشور خانے آکر فاتحہ نہ دلائی جاتی توان کے منہ میں کھیل تک اڑ کر نہ جاتی۔ دَھیڑوں، چماروں، دھوبیوں کے گھر کندوریاں ہوتیں، بکرے کٹتے اور ان کی عورتیں نہا دھو کر دھلے دھلائے کپڑوں میں ملبوس ایک جگہ جمع ہوکر صبح ہی صبح رونا بین کرنا شروع کر تیں،بکرے کو بھی نہلا دھلا کر اس کے پاؤں میں صندل لگایا جاتا،پیشانی پر کُم کُم کی انگلیاں بٹھائی جاتیں اور گلے میں پھولوں کے ہار پہنائے جاتے۔۔۔ ‘‘ (ص 61-62)۔ جنوب میں برسوں سے چلی آرہی قومی یکجہتی کی مستحکم روایات کو مٹانے کی جو کوششیں ہوتی رہی ہیں انھیں بھی ملّاعبدالغنی نے بڑی دانشوری کے ساتھ اس ناولٹ میں سمیٹ لیا ہے (صفحہ 145 )۔ 
اسی طرح ہبلی کے ایک اور مشہو ر افسانہ نگار انل ٹھکر کے ہاں بھی علاقائیت کی بہت ساری مثالیں مل جاتی ہیں۔ ان کے ایک ڈرامے’چوتھی دیوار‘ میں انھوں نے ایک پسماندہ ذات، اس کی بیوی اور اس کے ایک مسلمان دوست کے درمیان گفتگو کو پیش کرتے ہوئے جس زبان کا عکس پیش کیا ہے اس میں علاقائی اثرات کی نو عیت اس طرح ہے : 
کملی : لوگن کی نیت جب خراب ہوئی تب ہوئی، مجھے توہار نیت اچھی ناہیں لاگے ہے۔ 
کالو : کیوں کافرک دِکھے ہے تیرے کو؟
رمجو : (باہر سے ) کالو بھیا ....(داخل ہوکر) کا بتیارے ہو ہمارا بھاوج سنگ؟ 
کالو : رمجو آ بھئی آ۔ بیٹھ ادھر ..... رمجو، ایک بات بتا۔۔۔ تو ہار جات کا ہے؟ وغیرہ 
اوپر جو حوالے میں نے پیش کیے ہیں ان میں زبان کے اعتبار سے توفنکاروں نے جان بوجھ کر اپنے اطراف و اکناف کے علاقائی نقوش ابھارے ہیں لیکن جہاں تک ان کے بیانیہ میں ان کی اپنی زبان کا سوال ہے اس میں بھی کرناٹک کے اکثرفکشن نگاروں کے ہاں علاقائی اثرات کی دلیل کے طور پر کبھی جملوں کی ساخت میں صحت کی کمی نظر آتی ہے تو کہیں پر ’نے‘ کے استعمال کی خامیاں پائی جاتی ہیں۔ مثلاً ’’ انھوں نے اپنے بیٹے کو قریبی محلے کی اسکول کو لے گئے اور داخلہ کرادیا‘‘ اور ’’اُس نے ملّا گیری کو چھوڑ بیٹھا تھا‘‘ وغیرہ۔
ریاست کرناٹک کے ایک افسانہ نگار منظر قدوسی نے اپنے افسانوں کے مجموعے ’برگ آوارہ ‘(2010 ) میں کرناٹک کے علاقے شیموگہ کے ایک دیہات کی معاشرتی زندگی کے دلچسپ مرقعے پیش کیے ہیں۔ ان کا افسانہ ’چاوڑی کا درخت ‘‘یہاں کی اوہام پرستی کی عمدہ مثال ہے۔ اس میں بتا یا گیا ہے کہ بچے ’کٹّے‘ تالاب کے آگے والے چاوڑی کے نہایت خوشبو دار پھول توڑ لاتے تو عورتیں انھیں پہنتی نہیں تھیں بلکہ پتہ چل جاے تو دور سے ہی بھگا دیتی تھیں کیونکہ یہ خیال عام تھا کہ ہر پھول کی خوشبو سے ایک چڑیل لپٹی ہوتی ہے، چونڈے میں پھول لگاتے ہی وہ چڑیل جسم پر سوار ہو جائے گی۔ اس کے بعد کیا ہوگا اس کے تصور سے ہی عورتیں کانپ جاتی تھیں۔ (ص37) 
چاوڑ کیا تھا ؟ اس کی بھی تصویر انھوں نے اس میں نہایت خوبی سے کھینچ دی ہے۔ یہ چاوڑ دراصل ایک میدان میں بنی ہوئی چار دیواری کے اندر نصب کیا ہوا سانپ کی مورت والا ایک پتھر تھا، اس گاؤں کے غیر مسلم اسے چاوڑی کہتے تھے۔ اس کے بازو میں جو درخت تھا اس میں سفید پھول لگتے تھے، وہی چاوڑی کے پھول تھے جن کی خوشبو سے سارا ماحول معطر ہو جاتا تھا۔اک مر تبہ جب راوی کا دوست وزیر،دوستوں کے ساتھ کھڑی دوپہر کے وقت درخت پر چڑھتا ہے اور اتفاقاً نیچے گر پڑتا ہے تو اُس کے گھر پہنچنے کے بعد اس کی ماں یقین کے ساتھ کہتی ہے کہ شیطانوں کے ناچنے کے وقت تم لوگ چاوڑی کے پاس گئے تھے، شیطان نے ہی وزیر کو گرایا ہے۔ وہ پھر اپنے شوہر سے کہتی ہے کہ چلو جاکر چاوڑی کو کُم کُم لگا آئیں ورنہ سانپ رات بھر کو اِسے ستائے گا (ص38)۔ برس میں ایک مرتبہ یہاں جاترا لگتا، بکرے کٹتے، ڈھول پیٹے جاتے، شنکھ پھونکے جاتے، کھانا پکتا اور خوب دھوم دھڑاکا ہوتا۔ یہ ایک ایسی سچائی ہے جو آج بھی کئی دیہاتوں میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ ہر سال ایک مقررہ دن میں’اُورُو ہبّا‘ یعنی ’گاؤں کا میلہ‘ دھوم دھام سے منایا جاتا ہے اور شہروں میں کام کرنے والے اِن دیہاتوں کے افراد دفتروں میں چھُٹی لگا کر اس میں شریک ہوتے ہیں۔ غرض کہ ’چاوڑی کا درخت ‘ افسانے میں علاقائیت کے مرقع خوبی کے ساتھ منعکس کردیے گئے ہیں۔اس میں اندھی عقیدت کوصالح روایت میں بدلنے کا سامان بھی موجود ہے۔ افسانہ نگارنے سماج کی پامال ہوتی ہوئی انسانی قدروں کو نئے راستوں پر ڈالنے کے لیے بھی اس افسانے میں اپنے فن کا استعمال کیاہے۔
یہ تو رہیں خالص علاقائیت کی مثالیں۔ اس کے علاوہ بھی کئی فکشن نگاروں کے ہاں جن کی تعداد بیسیوں تک پہنچتی ہے حوالوں اور اشاروں کی صورت میں علاقائی اثرات کی چھاپ صاف نظر آتی ہے۔ وہ اپنے مختصر افسانوں میں بنگلور کے پس منظر میں یا کسی اور شہر میں نظر آنے والی معاشرتی قدروں کی پامالی کااحاطہ کرکے قاری کی فکر کو مہمیزکرتے ہیں۔
فرحت کمال،ضیا میر، فیاض قریشی، انیس الحق،حسنیٰ سرور،یحییٰ نسیم، اثر سعید،ضیا کرناٹکی اور فریدہ رحمت اللہ وغیرہ کے افسانوں میں ہمیں کر ناٹک کے شہر بنگلورکے یا کسی اور مقام کے پس منظر میں علاقائی اثرات کی اچھی خاصی جھلکیاں مل جاتی ہیں جیسے کہ فرحت کمال کے افسانے’اجالے کہاں ہیں‘ اور ’چٹھی پیار کی!‘ میں سٹی مارکیٹ، شیواجی نگر، گوشہ ہسپتال، ودھان سودھا وغیرہ جانے پہچانے مقامات سے بسیں گزرتی ہیں اور افسانہ نگار ان سے وابستہ مسائل کا نقشہ افسانے کہانی کی شکل میں پیش کرتا جاتا ہے۔ اسی طرح قاضی انیس الحق کے افسانوں میں ہری مسجد اور ہوٹل کوشس کی رنگیں شامیں وغیرہ کئی باتوں کا ذکر نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ کیا گیا ہے۔ 
علاقائی اثرات فنکارکی تخلیقی قوتوں کو نئی منزلوں کی طرف رواں دواں کر دیتے ہیں۔ ہر ادیب اپنے اپنے علاقائی اثرات کو اپنے فن میں سمیٹ کر آگے قدم بڑھاتے ہوئے آفاقیت کی منزل پرپہنچ جاتا ہے۔لہٰذا موضوع اور مواد کے اعتبار سے کئی ادب پاروں میں علاقائیت کا عمل دخل اس طرح سے نظر آتا ہے کہ یہ ادب پارے علاقائی اثرات کی منہ بولتی تصویریں ثابت ہونے کے علاوہ عمدہ معیاری ادب پاروں کے زمرے میں بھی شامل ہوجاتے ہیں۔لہٰذا علاقائیت کی حسین فضاؤں میں گذربسر کرتے ہوئے اگر ایک ادیب یا شاعر غروب آفتاب کی پھولی ہوئی شفق کو سورج کے قتل کی گواہی سے تعبیر کرتا ہے تو اس کی ادبی تخلیق کے ڈانڈے جدیدیت اور آفاقیت سے مل جاتے ہیں اورقاری واہ کہنے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔ اکثر ہوتا یہی ہے کہ ادباء وشعراء علاقائیت کے نشیب و فراز سے گزر کر آفاقی سوچ کی ضیا سے آسمانوں کی بلندیوں پر اڑانیں بھرنے لگتے ہیں تو شاہکار ادب پارے وجود میں آ جاتے ہیں۔
گلبرگہ کے ایک مشہور افسانہ نگار اکرام باگ کے افسانے اس بات کے مظہر ہیں کہ انھوں نے زندگی کی تصویر وں میں علاقائی رنگ بھر کر حیات و کائنات کی صداقتوں کو اخذ کرنے کی ایسی کوشش کی ہے کہ ان کے قلم نے آفاقیت کی منزل کو چھو لیا ہے۔اکرام باگ کا افسانہ ’حیات‘ ایسا ہی ایک افسا نہ ہے۔ اس کا راوی اپنے محلے کے گلیاروں میں بسنے والے معذور اور اپاہج افراد کے مشاہدے سے انسان کی جینے کی ہوس کا اندازہ لگاتا ہے اور یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ اس کی جینے کی ہوس نے ہی شاید روح کی عظمت کا فلسفہ ایجاد کیا ہوگا۔(ص13، افسانوں کا مجموعہ کُوچ )۔ ایک کوڑھی کو پانچ سال سے گھسٹ گھسٹ کر جیتے ہوئے دیکھنے تک جوکہانی علاقائیت کی حدود میںآگے بڑھ رہی ہوتی ہے،آگے چل کر آفاقیت کی طرف کُوچ کر جاتی ہے۔ کئی حسی علامتوں کی مدد سے اِکرام باگ یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ زندگی کے راز نہ تو سماجیات کا پروفیسر جان سکتا ہے، نہ کوئی مذہبی عالم انھیں کھول سکتا ہے، نہ ہی سیاست میں ہر بات کو جائز سمجھنے والا سیاست دان انھیں پہچان سکتا ہے، نہ ہی کوئی سائنس دان ان کی حقیقت معلوم کر سکتا ہے اور نہ ہی یہ کسی مجنوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں، حیات تو ننگی دیواروں، خالی کمروں، کھلی چھت اور سُونے فرش والے خالی کمرے کی طرح ہے۔چنانچہ اکرام باگ کے افسانے اس بات کے مظہر ہیں کہ ادیب زندگی کی تصویروں کو علاقائی رنگوں میں ابھار کرحیات و کائنات کی سچائیاں عیاں کر دیتا ہے اور اپنے ادب پاروں کوآفاقیت کے شاہکار تسلیم کروالیتا ہے۔ ان کے افسانے علاقائیت سے گذر کر فلسفیانہ سوچ و فکر کی آئینہ داری کرتے ہیں،ان میں افسانہ نگار علاقائیت کے نشیب و فراز سے گزر کر آفاقیت کی ضیا حاصل کر لیتا ہے اورآسمانوں کی بلندیوں پر اڑانیں بھرکر عا لمی قدروں کا نگار خانہ تخلیق کر دیتا ہے۔ علاقائیت کا یہ عمل صرف اکرام باگ کے ہاں ہی نہیں بلکہ پورے ترقی پسند، جدید، مابعد جدید ہر قسم کے ادب میں کسی نہ کسی نہج پر اپناچہرہ دکھاتا ہے۔ چنانچہ جد ید نظموں کی شاعرہ شائستہ یوسف بھی قطب شاہ کے قلعے کے کھنڈروں کا نظارہ کرتی ہیں تو تنہائی کی لذت و کرب کے تجربہ سے گزرتی ہیں اور اسے ’’قطب شاہی قلعے کے کھنڈرات کی ایک شام ‘‘ کے بطور نظم قلم بند کر نے میں سکون محسوس کرتی ہیں۔ 
اسی طرح کرناٹک کے مشہور شاعرماہر منصورکی نظم ’’کمرشیل اسٹریٹ کی ایک شام‘‘ میں ہمیں علاقائیت سے آفاقیت اور خارج سے باطن کی طرف سفر کرتا ہوافنکار ملتا ہے۔ نظم ہے : 
ہوا ہے قتل ابھی آفتابِ تیرہ شکن/ بکھرگئی ہیں ہر یک سمت خون کی لہریں / یہ رہ گزر ہے یا بہتا ہے نور کا دریا / ادھر اُدھر سے گزرتی ہوئی حسینوں کے / گداز جسموں سے اٹھتی ہیں بھینی خوشبوئیں / ہر ایک سمت سے آتا ہوایہ جمِ غفیر / نئی تراش کے ملبوس میں حسیں جوڑے / چمکتی کاروں میں آ آ کے یوں اترتے ہیں / نوازتے ہوں۔۔۔ قدم رکھ کے۔۔۔جیسے دھرتی کو /۔۔۔ ہر ایک دل میں مچلتا ہے آرزوکا لہو / ٹھہر گیا ہے سبک گام کارواںِ حیات / پڑی ہے پاؤں میں زنجیر دلفریبی کی / ابھی گلی سے نکلنے کی دیر تھی ماہر / میرے ضمیر نے چپکے سے یہ کہا مجھ سے / اسی گلی میں کہیں کھو گیا ہوں۔۔۔ میں ۔۔۔ ڈھونڈو۔ (ص38 مجموعہ فاصلہ، ماہر منصور)
جنوب میں گلبرگہ اور حیدر آبادایسے علاقے ہیں جہاں 1948 میں پولیس ایکشن نے بے انتہا تباہی و بربادی مچائی تھی۔ اس کے اثرات یہاں کے اکثرفکشن نگاروں کے ذہن پر اس طرح چھائے ہوئے ہیں کہ ان کی تخلیقات میں وقفہ بہ وقفہ ان اثرات کے سائے منڈ لاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔کبھی مالی حالات کے بگاڑ کی صورت میں تو کبھی ’رسی جل گئی پر بل نہیں گیا‘ کے مصداق احساس برتری کی پیچیدہ بھول بھلیوں میں ان کا عکس ہمیں نظر آ جاتا ہے۔ ڈاکٹر بیگ احساس کے افسانے’ نجات‘ اور’ کھائی‘ ان اثرات کی نمایاں مثالیں ہیں۔ جیلانی بانوکے افسانوں میں بھی ہمیں ان اثرات کے مختلف روپ نظر آتے ہیں۔ جیلانی بانو کے دورِ حاضر کے افسانے حیدر آباد کے جدید تر معاشرتی مسائل کا انتہائی فنکاری کے ساتھ احاطہ کرتے ہیں اور اس احاطے میں وہاں کے علاقائی اثرات کی دھوپ چھاؤں آنکھ مچولی کھیلتی نظر آتی ہے۔ ان کے ایک افسانے ’جنت کی تلاش‘ میں ایک ایسے مولوی صاحب کو پیش کیا گیا ہے جو سڑکوں پر بھیک مانگنے والے اور جھونپڑیوں میں رہنے والے بے سہارا بچوں کو مسجد کے آنگن میں بٹھا کر مذہبی تعلیم دیتے ہیں۔ ایک دن جب وہ ان بچوں کو دوزخ کے بارے میں بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ دوزخ آسمان پر ہے، وہاں اندھیرا ہوگا، بھوک لگے گی،مگر کھانا نہیں ملے گا،پینے کو پانی نہیں ہوگا، سانپ اور بچھو کاٹنے کو آئیں گے،بچھانے کو بستر ملے گا نہ اوڑھنے کو چادر ملے گی تو ایک بچی اپنی ساتھی رضیہ سے کہتی ہے کہ مولوی صاحب کو معلوم نہیں ہے کہ دوزخ آسمان پر نہیں ہے۔ اس بات پر مولوی صاحب کی ڈانٹ پھٹکار کے بعد مولوی صاحب کی ناراضگی سے ڈر کر وہ بچی روتے ہوئے دونوں کانوں پر ہاتھ رکھ کر کہتی ہے ’’ میں جھوٹ نہیں بول رہی ہوں مولوی صاحب، جنگم بستی میں ہماری جھونپڑی دوزخ میں ہے۔ رات کو جب ہمارا باوا سیندھی پی کر آتا ہے، اماں کو مارتا ہے تو اماں روتے روتے بولتی ہے ’ یہ گھر تو دوزخ میں ہے‘‘ اس کے بعد ایک دوسرا بچہ کہتا ہے ’’ ہو مولوی صاحب، ہمارا گھر بھی دوزخ میں ہے،آپ بولے نادوزخ میں اندھیرا ہوگا، کھانا پانی نہیں ملے گا!ہمارے گھر میں لائٹ نہیں ہے۔ چراغ میں تیل نہیں ہوتا تو اندھیرا ہو جاتا ہے۔‘‘ اسی طرح ایک اور بچہ کہتا ہے’’اور بارش ہوتی ہے تو ہماری جھونپڑی میں پانی آجا تا ہے، رات سانپ بھی نکلا تھا۔‘‘ وغیرہ، وغیرہ۔ یہ سب سن کر مولوی صاحب کا سر جھک جاتا ہے اور وہ سوچتے ہیں کہ اب کون سا عذاب ہے جس سے ان بچوں کو ڈراؤں۔ غرض کہ یہ افسانہ بڑی خوبی کے ساتھ، کئی علاقائی حقائق کے علاوہ نہ صرف حیدر آباد کی اس حقیقت کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ آج وہاں پرایک طرف دولت کی ریل پیل نظر آتی ہے تو دوسری طرف ایسے مسلمان خاندان بھی بستے ہیں جن کی زندگی دوزخ کا نمو نہ پیش کرتی ہے بلکہ پوری دنیا کے غریبوں کے رستے ہوئے زخموں کا جیتا جاگتا نقشہ پیش کر دیتا ہے۔ اسی طرح جیلانی بانو کی کئی تخلیقات ایسی ہیں جن میں آندھرا پردیش کی علاقائیت کو نہایت سلیقے کے ساتھ منعکس کیا گیا ہے۔ افسانہ بعنوان ’’ کل رات ہمارے گھر مرزا غالب اور عصمت چغتائی آئے تھے ‘‘ میں جیلانی بانو نے بڑے تیکھے انداز میں وہاں کے علاقائی پکوان’’ کھٹی دال اور چاول ‘‘ کا مذاق اڑایا ہے۔ اس کے علاوہ مرزا غالب عصمت چغتائی کو ’’ عصمت بی بی! ‘‘ کہہ کر مخاطب کرتے ہیں تو خواتین کے لیے حیدر آباد اور گلبرگہ والوں کا روایتی طرز تخاطب سامنے آجاتا ہے۔ 
جنوبی ہند کے اردو ادب کو یہاں کے جغرافیائی حالات نے بھی علاقائیت کے اثرات کا ایک انمول نگار خانہ بنانے میں بڑی مدد کی ہے۔چنانچہ حیدر آباد کی افسانہ نگار فیعہ منظور الامین اور تمل ناڈو کے علیم صبا نویدی ایسے فنکار ہیں جن کے افسانوں میں جغرافیائی حالات کے ا ثرات کے نادر نادر نمو نے ملتے ہیں، نادر اس لیے کہ ان فنکاروں نے اپنے دیکھے بھالے مناظر کواپنے تخیل کی مدد سے ایک نئی حسیت عطا کرکے زبان و بیان کو نیا رنگ و روپ عطا کیا ہے۔اس کے علاوہ رفیعہ منظور الامین کے افسانوں میں تلنگانہ کے معاشرتی حالات کا احاطہ اس طرح کیا گیا ہے کہ وہاں کے مناظر،اُن کی خوبصورتی، زبان،عوام کے گذرِ معاش سب کی دلکش عکاسی ملتی ہے۔ مثلاً ایک اقتباس ہے: ’’ اس چھوٹے سے گاؤں کے تقریباً سارے ہی باغیچے کندنا کے باپ ہلّپا کے تھے۔پان کے باغیچے جہاں ......چھوٹے بڑے کلی دار پانوں کے پتے کسی بھارت ناٹیم رقاصہ کی خوبصورت ہتھیلیوں کی طرح ہلکی ہوا میں تھرکتے جاتے۔ جب کامگار اپنی انگلیوں میں لوہے کے تیز ناخن پہنے ان پانوں کو ڈنڈی سے کاٹ کر جمع کرتے تو ہمیشہ گیلی رہنے والی زمین میں اُن کے پیر دھنستے جاتے، باغیچے کے اندر گہرے زمردی سائے میں دوسرے ہر رنگ کا احساس مٹ جاتا۔ ......... پان کے ان باغیچوں کے کناروں پر سپاری کے اکہرے پتلے بانس نما پیڑ تھے جو ایک دوسرے سے کافی دور، شیو جی کے لمبے ترشول کی طرح ایستادہ اور سیدھے تھے۔ یہ پتلے بنسی نما لمبے لمبے پیڑ اپنے سروں پر سپاری کے اکہرے ٹوکرے اٹھائے کسے کسائے برسوں سے یوں ہی کھڑے تھے۔ ..... ’’ یلّی گے ہوگتی؟ ‘‘ (کہاں جا رہی ہو ؟) کندنا نے مینڈھ پر کھڑے کھڑے پوچھا۔ وہ ٹوکری میں بڑے بڑے چیکو جمع کر رہی تھی۔۔۔ وہ کرناٹک کی سانولی سحر تھی، جس میں کولار کے سونے کا رنگ گھلاتھا۔‘‘ (دستک سی درِ دل پر ص 78-79)۔
اسی طرح تامل ناڈو کے ادیب و شاعر علیم صبا نویدی کے افسانے بھی وہاں کے جغرافیائی اثرات کی ایک بہتریں مثال ہیں۔مدراس کی نمایاں خصو صیات یہ ہیں کہ وہاں پرانگارے برساتی ہوئی تمازتِ آفتاب، لہریں مارتے ہوئے خوشنما سمندر اور سیاہ فام عوام سے ہمارا سامنا ہوتا ہے۔ اس علاقے کے پروردہ ادیب و شاعر علیم صبا نویدی کے شعور کوان علاقائی خصوصیات نے اس طرح متاثر کیا ہے کہ انھوں نے ان سب کو انتہائی خوبی کے ساتھ بے شمار استعاروں اور تلازموں میں ڈھال دیا ہے۔وہ آفتاب کی تمازت کو جذبات و احساس کی تمازت کا پیکر عطا کرتے ہیں اور ٹھاٹیں مارتے ہوئے سمندر کے وجود کا احساس ان کے شعور پر اس طرح طاری ہے کہ انھوں نے اس کے زیر اثر ریت کا سمندر، دھوپ کا کھولتا ہوا سمندر، چیخوں کا بے کراں سمندر، زندگی کا بے کراں سمندر، اجالوں کا اتھاہ سمندر، وجود کا سمندر اورآکاشی سمندر جیسے استعارے وجود میں لا کرنہ صرف دلچسپی اور جاذبیت کے پہلو پیدا کر دیے ہیں بلکہ سمندر کے تصور کو نئی جہتیں عطا کرکے نئی حسیت کو جنم دیا ہے،یہاں تک کہ وہ ریت کے سمندر کو گرم گرم سانسیں لیتاہوا محسوس کرتے ہیں۔
ان کے افسانے’جسموں کی دیوار‘ کا ایک اقتباس ہے ’’ ہر طرف دھوپ ہی دھوپ تھی، تیز دھوپ، کڑکتی ہوئی دھوپ، دور دور تک دھوپ کا کھولتا ہوا سمندر ٹھاٹیں مار رہا تھا۔‘‘ (ص24،مجمو عہ اجلی مسکراہٹ) 
علیم صبا نویدی کے ایک اور افسانے کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے ’’ چاروں طرف پُوندا ملّی (موگرے) کی خوشبوسے ساحل مدراس کی فضا معطر تھی۔۔۔ ساحل سے دور،بہت دور افق کے کناروں پر بچھی ہوئی سرخ چادریں سورج کے قتل کی گواہی دے رہی تھیں۔۔۔‘‘
(افسانہ شناخت ص60 مجموعہ ہذا )۔ 
جنوبی ہند کے ادب میں علاقائی اثرات کی جھلکیاں پیپل کے درخت سے وابستہ عقیدت، اس کی چھاؤں، اس کی چھاؤں میں لگائی ہوئی مورتیوں کی پوجا (اکثر فیاض قریشی کے افسانوں میں)وغیرہ کے ذکر میں بھی ملتی ہیں۔ کبھی کبھی تخلیق کار ایسی معلومات بھی فراہم کر دیتے ہیں جو قاری کی واقفیت کے خزانے میں اضافہ کرتی ہیں۔ رفیعہ منظور الامین کا افسانہ ’ تنگا منی‘ (مشمولہ مجموعہ دستک سی درِ دل پر ) اسی نوعیت کا افسانہ ہے. اس کے ذریعے کوچین کے ساحل پر بسنے والے مچھیروں کے نشیب و فرازسامنے آتے ہیں تو اس بات کا بھی پتہ چلتا ہے کہ کوچین کے چھ سو سال پرانے کلیسا میں پُرتگیزی سیاح اور جہازراں واسکوڈی گاما کو دفن کیا گیا تھا اور دفنانے کے صدیوں بعد اس کے تابوت کو قبر سے نکال کرپرتگال پہنچا دیا گیا تھا ( ص 15 مجموعہ ہذا)۔ انھوں نے بھی علاقائی مناظر کے زیر اثر بعض نادر تشبیہیں اور سحر انگیز زبان استعمال کی ہے جیسے کہ ’’ طوفانی سمندر اژدھے کی طرح پھنکار رہا تھا ‘‘ یا یہ کہ ’’ ...... اس کی سسکیوں کی آواز جھونپڑے کے باہر تہس نہس کرتی ہوا کے تانڈو رقص میں گم ہو کر رہ گئی ‘‘ یاپھر ’’ گِنی چُنی مچھلیاں اس کے جال میں دیدے چمکا رہی ہوتیں ‘‘ وغیرہ۔کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ علاقائی رسوم و رواج اور عقائدکے پردے ہٹائے جاتے ہیں تو علاقائیت کو جدیدیت اور مابعد جدیدیت کے ساتھ جوڑ کر تخلیق کی قدروقیمت بڑھانے کی کوشش نمایاں نظرآتی ہے (مثلاًآبگینہ، ادھورا پہیہ۔ اکرام باگ )۔ محمد مظہر الزماں خاں اور مجتبیٰ حسین جیسے عا لمی شہرت یافتہ فنکاروں نے علاقائیت سے کام لے کر زندگی کے تلخ حقائق کوبہت ہی پیارے اور شگفتہ سے اسلوب میں اس طرح سجا دیا ہے جیسے کہ کونین کی کڑوی گولیوں کو شکر کی چاشنی میں لپیٹ کر پیش کیا جاتاہے۔ غرض یہ کہ ادب اور علاقائیت میں ایک اٹوٹ سا رشتہ پایا جاتا ہے اورتنقید کی ریڈیائی لہریں جب ادب پاروں کے باطن کو تلاش کرتی ہیں توایک ایسا لمحہء فکریہ بھی جنم لیتا ہے جسے جد ید اور آفاقی تخلیقات کے اندر بھی کہیں نہ کہیں علاقائیت کے سوتے ابلتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ 

Dr. Mahnoor Zamani Begum
No.15, Golden Castle Appt.
Flat No.206, Ganesha Block 
Sultanpalya Main Road,3rd Main 
Sultanpalya, Bangalore- 560032 (Karnataka)
اگر آپ رسالے کا آن لائن مطالعہ کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے لنک پر کلک کیجیے:۔



قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

17/5/18

مضمون: لوک ادب: تحفظ اور بازیافت۔ مضمون نگار:۔ ڈاکٹر یوسف رام پوری






مضمون: لوک ادب تحفظ اور بازیافت
مضمون نگار: ڈاکٹر یوسف رام پوری

لوک ادب کسی بھی قوم کا عظیم سرمایہ ہوتا ہے۔ کیونکہ لوک ادب کے دامن میں اُس قوم کے گزشتہ ادوار، روایات، تہذیبی و معاشرتی اقداراورلسانی وادبی سلسلے آباد ہوتے ہیں۔ جو قوم اپنے تہذیبی، سماجی،ادبی اور لسانی ورثے کو محفوظ رکھتی ہے اور اس سے وابستہ رہتی ہے، اس قوم کے لیے ماضی و حال کے آئینے میں اپنے مستقبل کا لائحۂ عمل طے کرنا آسان ہوتا ہے۔اس کے برعکس جو قوم اپنے ماضی سے کٹ جاتی ہے، اس کی جڑیں کھوکھلی ہوجاتی ہیں اور اسے اپنے مستقبل کی تصویر دھندلی نظرآتی ہے۔ اسی لیے زندہ قومیں اورملتیں حال کے سفر کو طے کرتے ہوئے عہدِ رفتہ کی مشعلوں کو ہاتھ میں اٹھائے اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہتی ہیں۔

زندگی کے سفرمیں جدید تقاضوں اور نئے مطالبوں کو بروئے کار لانے کے لیے عہدِ رفتہ کی روشنی میں اپنی منزل کے نشانات کی تلاش وجستجو کے لیے ضروری ہے کہ ماضی کی کئی پرتوں کو کریدا جائے۔ کیونکہ ماضی وہ بھی ہے جو ابھی گزرا ہے، ماضی وہ بھی ہے جو چند دہائیوں اور صدیوں قبل گزرا تھا اور ماضی وہ بھی ہے جو ہزاروں سال پہلے گزرچکا ہے۔ انسان اپنے ان بیتے ہوئے زمانی ابعاد اور فاصلوں سے اسی طرح وابستہ ہے جس طرح گزرے ہوئے کل یااس پَل سے، جو ابھی گزرا ہے۔انسان کاوہ وجودجو آج ہے اُس وجود کاتسلسل ہے جو ہزاروں سال پہلے تھا۔

یہ بات بڑے وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ آج کی ترقیات صرف دورِ حاضرکے انسان کی رہین منت نہیں بلکہ گزشتہ کئی ادوار کے اسلاف کی جہدِمسلسل کا بھی نتیجہ ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ بعض لوگوں کی نگاہیں محض حال و مستقبل کی جانب مرکوز ہیں اوروہ ماضی کو کالعدم یا فرسودہ خیال کرکے اسے لائقِ اعتنا نہیں سمجھتے۔غالباً یہی وجہ ہے کہ انسانی زندگی کے نئے افق پر عہدِرفتہ کے بہت سے گراں قدرنقوش دھندلے دھندلے سے دکھائی دے رہے ہیںیا آنکھوں سے اوجھل ہوتے جارہے ہیں۔

زندگی کو دیکھنے کے نئے زایوں نے اگرچہ بہت سے ایسے پہلوؤں کو اُجاگر کیا ہے، جو اب تک گمنامی کے دھندلکوں میں روپوش تھے،تاہم انسانی زندگی کے کئی پہلوایسے بھی ہیں جوآج کے منظرنامے سے تیزی کے ساتھ اوجھل ہوتے جارہے ہیں۔ جیساکہ قدیم روایتیں، تہذیبی، اخلاقی اور معاشرتی قدریں، پرانی زبانیں، بولیاں، قصّے کہانیاں وغیرہ۔نئے زمانے میں تیزی کے ساتھ پردۂ گمنامی میں جانے والی اشیا کی فہرست میں لوک ادب بھی شامل ہے۔ وہ لوک ادب جس کی جڑیں بیتی ہوئی صدیوں سے گزرتی ہوئی نامعلوم زمانوں تک پہنچتی ہیں۔جی ہاں، وہی لو ک ادب جس کے آنگن میں کتنی ہی کہانیاں نسل درنسل سنائی جاتی رہی ہیں۔کتنی ہی پہیلیاں زبان درزبان کہی جاتی رہی ہیں اور کتنے ہی گیتوں کی نغمگی فضامیں تحلیل ہوکرمختلف ادوار کے انسان کے ذہن ودل کے نہاں خانوں میں گونجتی رہی ہے۔
لوک ادب کو ماضی کا آئینہ کہا جاسکتاہے جس میں ہم اپنے عہدِ رفتہ کو دیکھ بھی سکتے ہیں اور اس کی بازیافت بھی کرسکتے ہیں۔ہماری پچھلی نسلوں کے افکاروخیالات کے دائرے کیا تھے،ان کے سماجی وتہذیبی عناصر کیا تھے، وہ کس طرح کی زبانیں اور بولیاں بولتے تھے،جب خوش ہوتے تو فرحت وانبساط کااظہار کس طرح کرتے اور جب مغموم ہوتے تو ان کے یہاں غم کے اظہارکی کیا نوعیت ہوتی۔ ان کے یہاں تقریبات، رسوم وروایات، باہمی تعلقات اور عشق ومحبت کے انداز کیا تھے۔ ان سب چیزوں کی دریافت لوک ادب کے توسط سے بآسانی کی جاسکتی ہے۔ گزشتہ ادوار کے جو حالات ہم لوک ادب کے ذریعے جان سکتے ہیں، اس کی توقع ہم تاریخی کتب سے بھی نہیں کرسکتے۔کیونکہ تاریخی موادکے حوالے سے استناد اورمعتبریت کا سوال ہمیشہ قائم رہتاہے۔ 
لوک کہانیوں، لوک گیتوں اورلوک پہیلیوں کا سلسلہ سینہ بہ سینہ چلتا رہتاہے۔ گواس بات کا علم نہ ہوکہ ان کہانیوں، گیتوں،پہیلیوں کے تخلیق کار کون تھے،لیکن بہرحال یہ اپنی جگہ سچ ہے کہ وہ گیت، کہانیاں،پہیلیاں مختلف نسلوں کے جذبات کی ترجمان وآئینہ دار رہی ہیں، تبھی تو ان کہانیوں کوعہدبہ عہد عوام الناس دہراتے رہے ہیں۔ لوک ادب کوانسانی زندگی سے قریب اس لیے بھی ماناجاسکتاہے کہ وہ عوام الناس سے جڑا ہواہوتا ہے۔ وہ دیہی، قصباتی زندگی کی ترجمانی زیادہ کرتا ہے،کسی حد تک شہری زندگی کی بھی عکاسی لوک ادب کے ذریعے ہوتی ہے۔ زیادہ ترانسانی آبادی کا تعلق چھوٹی چھوٹی بستیوں، گاؤں اور قصبوں سے رہا ہے۔یہ الگ بات ہے کہ فی زمانہ دنیابھر میں بڑی بڑی آبادیوں والے بڑی تعداد میں شہر آباد ہوگئے ہیں، لیکن گزشتہ ادوار میں یہ صورت حال نہ تھی۔اس لیے گزرے ہوئے زمانوں میں لوک ادب عوامی زندگی کی عکاسی کا موثروسیلہ تھا۔ اس بابت پروفیسر قمر رئیس رقمطرازہیں:
’’لوک ادب اور لوک گیتوں کی چند مابہ الامتیاز خصوصیات کی طرف اشارہ کیا جاسکتاہے۔مثلاً یہ کہ ان کا مصنف گمنام ہوتاہے۔یہ گیت زیادہ تر اجتماعی اور کم تر انفرادی جذبات کی ترجمانی کرتے ہیں۔اکثر یہ گیت محنت کش عوام کی اجتماعی تخلیقی محنت کے عمل میں خلق ہوتے اور گائے جاتے ہیں، ان کا آہنگ کسی عروضی قاعدے کے بجائے، عوام کے احساس موسیقی کا تابع ہوتا ہے۔ عوامی قصوں کے مآخذ بھی یا تو عوام کے تلخ وشیریں تجربات ہوتے ہیں یا پھر مصائب حیات سے نجات پانے کی ازلی خواہش اور ایک بہترزندگی کے خواب ہوتے ہیں۔
لوک ادب المیہ اور حزنیہ بھی ہوتا ہے اور طربیہ بھی۔ یہ عوام کی ذہانت کا تخلیقی اظہار بھی ہوتا ہے اور ان کی تفریح و تفنن کا ذریعہ بھی۔اس میں ہنسی مذاق، ٹھٹھول، طنزوتعریض، مذہبی عقیدت، دشمنوں سے نفرت، وطن دوستی، مظاہرِ فطرت سے محبت، جنسی جبلّت، ا لغرض ہر طرح کے جذبات، احساسات اور واردات کا اظہار ہوتا ہے۔‘‘ (اردومیں لوک ادب، ص8، مرتب : پروفیسر قمر رئیس)
لوک ادب سے عوامی رشتے کی گہرائی اور مضبوطی کے بارے میں پروفیسر محمد حسن نے مزید وضاحت کے ساتھ لکھا ہے:
’’عوامی ادب سے مراد وہ ادب ہے جس کو عوام نے جنم دیا ہو۔کوچہ وبازار میں، قریے اور دیہات میں، کھیت اور کھلیان میں اور عام طورپر اس ادب کا جنم داتا کوئی ایک شخص نہیں ہوتا، پورا معاشرہ ہوتا ہے۔کبھی کبھی اس قسم کا ادب کسی ایک شخص سے منسوب بھی ہوگیا ہے۔ بعد میں تحقیق نے پتہ چلایاکہ یا تو یہ شخص ہی فرضی تھا یا پھر اس سے اس پورے کے پورے ادب کو منسوب کرنا غلط یا مشتبہ تھا۔...وہ کہانیاں جو نانی دادی سناتی ہیں، وہ گیت جو جانے اَن جانے آپ کے ہونٹ گنگنانے لگتے ہیں، وہ بول جنھیں آپ کچھ سمجھتے ہیں کچھ نہیں سمجھتے مگر کھیل کود میں دہراتے ہیں، یہ سب معاشرے کی دین ہیں اوران کا خالق کوئی ایک فرد نہیں ہے اور اگر ہے تو گم نام ہے۔‘‘
(اردومیں عوامی ادب ایک روایت، از پروفیسر محمد حسن، اردومیں لوک ادب، ص25)
گزشتہ ادوار کی سادہ اور فطری زندگی میں لوگوں کی زبانوں سے اگرایسا کچھ نکل جاتا جس سے عوام الناس کے جذبات کی تسکین ہوتی یا اس میں ان کی زندگی جھلکتی ہوئی محسوس ہوتی یا کوئی تفریحی پہلو پنہاں ہوتا تو وہ سینہ بہ سینہ دور دور تک پھیل جاتا۔ اس عوامی ادب میں اتنی طاقت ہوتی کہ وہ ترسیل واِبلاغ کے وسائل و ذرائع کے فقدان کے باوجودزمانی اور مکانی ابعاد اور فاصلوں کو طے کرتے ہوئے دوسرے ملکوں تک چلاجاتا اور اگلی صدیوں میں داخل ہوجاتا۔
ادوارِرفتہ میں لوک ادب کی مقبولیت کا راز یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت عوام الناس کے لیے نہ اتنے تفریحی سامان تھے، جتنے کہ اس دورمیں ہیں، نہ زندگی کے اتنے پہلو تھے، نہ رنگ رنگ کے واقعات،نہ ناول، نہ افسانے، نہ اخبارات ورسائل، نہ کتب،نہ ریڈیواور نہ ٹی وی چینل،نہ کمپیوٹر، نہ انٹر نیٹ،نہ موبائل،نہ فیس بُک، نہ واٹس ایپ،نہ نوع بہ نوع کاروباروصنعتیں، نہ ملازمتیں، نہ مصروفیتیں۔ان کے پاس فرصت کے اوقات تھے، کہانیاں کہنے اور سننے کا، پہلیاں تخلیق کرنے اور حل کرنے کا ان کے پاس وقت تھا،گیت گانے کے لیے خواتین کے پاس فرصت بھی تھی اور ماحول وفضا بھی۔ کھیت کھلیان، بدلتے موسموں کے نظارے، اور ان سے بھرپورلطف لینے کے مواقع بھی ان کے پاس تھے۔ اگرکسی کے یہاں شادی کا موقع آجاتا تو ایک مہینے پہلے سے اس گھر میں عورتیں جمع ہوکر گیت گاتیں، وہی گیت جو کبھی ان کی دادیاں اور نانیاں گایا کرتیں۔ بہاراور برسات کے موسموں میں متعدد خواتین اکٹھی ہوکر باغوں میں چلی جاتیں، پیڑوں میں جھولے ڈال لیتیں، جھولتیں اور گیت بھی گاتی جاتیں، ہاں وہی گیت جو لوک ادب کا قیمتی سرمایہ تھے اور ہیں۔بوڑھی عورتیں اپنے پوتوں، پوتیوں، نواسوں، نواسیوں کو کہانیاں سناتیں، بچے بڑے انہماک سے سنتے۔ پھر جب وہ بڑے ہوجاتے، جوانی سے گزرکر دادا، دادی،نانا نانی بن جاتے تو وہ بھی اپنے گھر کے بچوں کو اکٹھاکرکے وہی کہانیاں دوہراتے جو انھوں نے اپنے دادادادی، نانا، نانی وغیرہ سے اپنے بچپن میں سنی تھیں، اس طرح ان کا وقت بھی گزرجاتا، قصے کہانیوں میں بچے نصیحت کی باتیں بھی سیکھ لیتے تھے۔جوان چوپالوں میں جمع ہوجاتے اور پھر طویل قصے چھیڑ دیے جاتے۔ بعض اوقات وہ قصے اتنے طویل ہوجاتے کہ ہفتوں ہفتوں تک ختم نہ ہوتے، داستان گو قصے کے مناظر یہاں تک کہ جزئیات کو بھی بڑی خوبی سے بیان کرتا۔ یہ قصے لکھے ہوئے نہ ہوتے تھے،چنانچہ داستان گوکے لیے ان میں اپنی طرف سے بھی کچھ اضافہ کرنے کی گنجائش ہوتی۔بعض اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی تخلیقی صلاحیت کا استعمال کرتے اور بعض چیزوں اورپہلوؤں کو جوڑکراان قصوں کو مزید طویل اور دلچسپ بنادیتے۔ اس طرح سامعین کے لیے مزید سامانِ تفریح وتفنن بھی جمع ہوجاتا۔ ان کا وقت گزرجاتا،مختلف علاقوں، زمانوں اور طبقوں کی تہذیب وثقافت کا بھی علم ہوجاتا اور کچھ عبرت کی باتیں بھی سیکھنے کو مل جاتیں۔ 
لوک کہانیوں، پہیلیوں وغیرہ سے ہر دور کے بچے بھی وابستہ رہے ہیں۔ وہ اپنے بزرگوں سے قصے کہانیاں سنتے تھے، ساتھ ہی خود بھی بعض ایسی باتیں یا نظمیں دہراتے تھے جن سے انھیں خوشی ملتی، گاتے،مچلتے اور فطری زندگی کامزہ لوٹتے۔ دراصل اس نوع کی باتوں سے ان کا واسطہ ماں کی گود سے ہی پڑنا شروع ہوجاتا۔ ماں بچے کو لوریاں سناتی ہوئی کہتی :
چندا ماموں دور کے 
بڑے پکائیں بوٗر کے 
آپ کھائیں تھالی میں
اوروں کو دیں پیالی میں 
پیالی گئی ٹوٹ
چندا ماموں گئے روٹھ
جب بچہ ذرا ہوش سنبھالتا تھا، بولنا سیکھتا، بچوں کے درمیان کھیلتا تو سنتا،’’ اکڑ بکڑ بمبے بو‘‘ اور پھر خود بھی گانے لگتاہے :
اکڑ بکڑ بمبے بو
اسّی نوّے پورے سو
سو میں لگ گا تاگا
چور نکل کے بھاگا
اس طرح کے بول بولتے ہوئے بچوں کو کھیل کود میں بڑامزہ آتا تھا۔ کوئی پہیلی کہتا اور دوسرے اس کو حل کرنے میں دماغ صرف کرتے۔بعض پہیلیاں نہ جانے کب سے چلی آرہی ہوتیں اور بعض پہیلیاں کچھ ذہین بچے غور وفکر کرکے خود ایجاد کرلیتے، لیکن اب ان پہیلیوں، لوریوں اور بچوں کے درمیان معروف مذکورہ مرتب لفظوں کا تحفظ مشکل نظرآرہا ہے۔ کیونکہ موجودہ زمانے میں ان کا سلسلہ ٹوٹتا دکھائی دے رہا ہے۔آج بچے ذرا ہوش سنبھالتے ہیں تو ان کے سامنے ٹی وی کی اسکرین ہوتی ہے یا موبائل اور موبائل پر انواع واقسام کے گیمز ہوتے ہیں۔بچے ان گیموں کو دیکھنے اور کھیلنے میں دلچسپی لینے لگتے ہیں، ان گیموں میں موٹر گاڑیاں، ٹرینیں، ہوائی جہاز اور نئے آلات دکھائے جاتے ہیں۔ بچے خواہی نہ خواہی اس طرح ان سے وابستہ ہوجاتے ہیں۔
بچپن سے ہی ٹیکنکل آلات سے جڑجانے کی وجہ سے بچوں کاذہن بھی ٹیکنکل ہوتا چلا جارہاہے، اور تخلیقی سطح پر وہ کمزور ہوتے جارہے ہیں۔ جو داستانیں کبھی بچوں کو سنائی جاتیں، آج ٹی وی پر دکھائی جاتی ہیں۔داستانیں خواہ وہی یا ایک جیسی کیوں نہ ہوں لیکن دونوں کے اثرات جداگانہ ظاہرہوتے ہیں۔بچے جو کہانیاں سنتے ہیں،ا ن کے کرداروں، ان کے راستوں، پگڈنڈیوں،پہاڑوں، ندیوں، پرانی حویلیوں، شادی بیاہ کے ہنگاموں، سب کی تصویریں خود بخود ان کے ذہن میں بنتی چلی جاتی ہیں، یعنی ان کے ذہن کی تخلیقی صلاحیت کو جلاملتی ہے، لیکن جب انھیں کہانیوں اور قصوں کوفلماکر بچوں کو دکھایا جاتا ہے تو وہ ان سے محظوظ تو ہوسکتے ہیں، مگر ان کے ا ذہان خودکردار وں کے حلیے، ان کی حرکات وسکنات، خوبصورت جھیلیں، آبشاروں کی تصویریں اور گزرگاہیں خلق نہیں کرتے، اس طرح ان کی تخلیقی قوت زنگ آلود ہوتی چلی جاتی ہے۔ جیسے ہی بچے بڑے ہوتے ہیں، جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہیں یا رکھنے والے ہوتے ہیں، ان کے ذہن یا تو اسکولوں کے نصابات کی کوٹھریوں میں قید ہوجاتے ہیں یا پھر وہ کچھ کمانے کی تگ ودومیں دنیا کے جمگھٹوں میں الجھ جاتے ہیں اور ایسے مصروف ہوجاتے ہیں کہ پھر کبھی زندگی بھر انھیں فرصت کے لمحات میسر نہیں آتے۔ اگر کچھ وقت بچتا ہے تو ٹی وی آن کرلیتے ہیں، اور فلمی، تفریحی،خبری چینلوں کودیکھتے اور بدلتے رہتے ہیں۔بچوں کو کہانیاں سنانے،پہیلیاں کہنے اورلوک گیت گانے کی نوبت ہی نہیں آتی۔
لوگ گیتوں سے خواتین کا گہرا تعلق رہا ہے،خواہ وہ تعلق شادی کے موقع پر گائے جانے والے گیتوں کی شکل میں ہو، یا بارہ ماسہ کی شکل میں ہو، یا پھر خوشی وغم کے دیگر مواقع کی صورت پرگائے جانے روایتی لفظوں کی شکل میں ہوں، لیکن موجودہ زمانے میں خواتین کا ان گیتوں سے رشتہ کمزورہوتاجارہا ہے، اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ آج فلمی گانوں کا چلن زیادہ ہے، جنھیں بڑے بڑے فنکار موسیقی کے ساتھ گاتے ہیں، چنانچہ خواتین ان فلمی گیتوں کو زیادہ سنتی اورگاتی دکھائی دیتی ہیں۔ یہی فلمی گیت اب ان کی زبان پر آتے ہیں نہ کہ وہ پرانے گیت ونغمے جو ان کی دادیوں اور نانیوں نے گائے تھے۔اس کے علاوہ ٹی وی کی طرف مائل ہونے کی وجہ سے خواتین اب سیریلوں میں مگن دکھائی دیتی ہیں۔ سیریلوں میں ان کی بڑھتی دلچسپی نے قدیم روایتوں سے ان کے رشتے کو منقطع یا کمزور کردیا ہے۔چنانچہ اب انھیں شادی کے مواقع پر گیت گانے میں بھی کوئی خاص دلچسپی نظرنہیں آتی۔ جو گیت اب سے کچھ دہائیوں پہلے ساری عورتوں کو یاد ہوتے تھے، اب چندفیصد عورتوں کو بھی یاد نہیں ہیں۔ایسی صورت میں لوک گیتوں کا تحفظ یقیناًدشوار ترین مرحلہ ہے۔یہ ممکن ہے کہ ان گیتوں کو لکھ کر کتابوں میں محفوظ کردیاجائے، جیسا کہ کیا بھی گیا ہے اور کیا بھی جارہا ہے،۔ اس طرح کچھ چیزوں کو کاغذوں میں توضرور محفوظ کیاجاسکتاہے،مگر سینوں میں نہیں۔ جب سینوں میں لوک گیت محفوظ نہیں ہوں گے، زبانوں پر نہیں آئیں گے تو قدیم لوک ادب کی زندگی وفنا کا سوال تواٹھے گا ہی۔
قدیم لوک ادب کی بازیافت اورجولوک ادب ہنوز زندہ ہے، اس کے تحفظ کا مسئلہ میرے خیال سے ادب کا ایک ایسا مسئلہ ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا اورنہ ہی کیا جانا چاہئے۔یہ مسئلہ اردولوک ادب کاہی نہیں بلکہ اس جہانِ رنگ وبو کے ساتھ بدلتے حالات وتغیرات میں تمام دنیا کی زبانوں کے لوک ادب کا ہے۔ہر زبان اپنے قدیم عوامی ادب کو گم کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ عہدِ حاضر میں کتنی ہی زبانیں، بولیاں اپنا وجود معدوم کرچکی ہیں۔جس کے سبب بہت سی قیمتی قدریں، روایتیں، تہذیبیں مٹ چکی ہیں اور مٹ رہی ہیں۔ اگر دورِ حاضر کی قومیں حال ومستقبل کے ساتھ اپنے ماضی،اپنے سماج اور تہذیب سے جڑے رہنا چاہتی ہیں تو انھیں اپنی زبانوں اور ان کے ادبی سرمایوں کی حفاظت کرنے اورزندہ رکھنے کی راہیں تلاش کرنی ہوں گی۔ 
جہاں تک اردوزبان وادب کے لوک ادب کا سوال ہے تو لوک ادب سے اردوکا رشتہ اتنا ہی قدیم ہے جتنی کہ خود اردو زبان۔اس کا ایک ثبوت تو یہ ہے کہ اردو کا خمیر ہندوستان کے مختلف علاقوں کی جن بولیوں سے مل کرتیار ہوا ہے، ان میں لوک گیت، لوک کہانیاں اور لوک پہیلیاں پہلے سے موجود ہیں۔جب اردو وجود میں آئی توان بولیوں کا لوک سرمایہ اردومیں منتقل ہوگیا۔ کھڑی بولی، قنوجی، ہریانوی، پنجابی اوردکنی بولیوں اور زبانوں کے لوک ادب کا خاصا بڑا ذخیرہ آج اردو ادب کاحصہ ہے۔امیر خسرو کے ہندوی کلام اس حصّے کو جوپہیلیوں اور گیتوں پر مشتمل ہے، اردو لوک ادب کاقیمتی اور قدیم ذخیرہ کہا جاسکتاہے۔ایسے ہی بہت سے صوفی سنتوں کی حکایتیں اور دوہے بھی اردو کے لوک ادب میں شامل ہیں۔دہلی اوراس کے مضافاتی علاقوں،نیزشمال اور دکن کے مختلف اضلاع میں جو عوامی گیت گائے جاتے رہے ہیں، یا جو پہیلیاں زبان زد عام رہی ہیںیا جو داستانیں عوام کے درمیان سنی سنائی جاتی رہی ہیں، وہ بھی اردو لوک ادب کا سرمایہ ہیں۔اس اعتبار سے دیکھاجائے تو اردو لوک ادب کا دائرہ کافی وسیع ہے۔یہ الگ بات ہے کہ امتدادِ زمانہ کے باعث یا نئے تقاضوں اور مطالبوں کے سبب اردو لوک ادب کا بہت بڑا حصہ محفوظ نہیں رہ سکاہے۔
اردو لوک ادب کے سرمایہ کی حفاظت اور اس کی اشاعت سے عدم دلچسپی یا کم توجہی کے باعث بھی اردو لوک ادب کی کمیابی کامسئلہ کھڑا ہوا۔دراصل اردو زبان نے بہت جلددرباروں تک رسائی حاصل کرلی اور شرفا ورؤسانے اسے اپنا لیا۔وقت کے اہم ادبا وشعرا بھی اس کی طرف متوجہ ہوئے، اس لیے اعلیٰ زبان بولنے اور اعلیٰ شاعری کرنے کی طرف زیادہ توجہ دی گئی۔ میر، سودا، بہادرشاہ ظفر،ذوق، غالب، داغ،مومن، انشا، مصحفی اوراقبال جیسے شاعروں نے اردو شاعری کے لیے جوراہ ہموار کی اس پر لوک گیتوں اور دوہو ں کو کمترخیال کیا گیا۔ اس کے باوجود یہ کہنا کسی بھی طورمناسب نہ ہوگا کہ اردوکے پاس لوک ادب کا سرمایہ نہیں ہے۔بلاشک وشبہ اردو کا انسلاک شاہوں، رئیسوں اور درباروں سے رہاہے لیکن یہ عوامی زبان بھی رہی ہے۔اگر عوامی نہ ہوتی اور صرف درباروںیاشاہوں تک ہی اس کا دائرہ محدود ہوتا تورجواڑو ں کی تباہی کے ساتھ اس کی بساط بھی الٹ جاتی اور آج اس کا زندہ وتابندہ رہنا تو دورکی بات اس کے آثار کو ڈھونڈ پانا بھی مشکل ہوتا،لیکن اردو نہ صرف یہ کہ ہنوز زندہ ہے بلکہ وقت کے ساتھ اس کا دائرہ پھیلتا جارہا ہے اور اسے عوام کے درمیان شوق کے ساتھ بولا اور سمجھا جارہاہے۔
اردو میں ضرب الامثال اور کہاوتوں کاایک جہان آباد ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اردو کی جڑوں میں لوک ادب موجود رہاہے۔ کیونکہ عوام کے بغیر نہ زبان پوری طرح وجود میں آسکتی ہے، نہ وہ دور تک پھیل سکتی ہے اور نہ دیر تک قائم رہ سکتی ہے۔ظاہرہے کہ اردو کئی زمانوں اور صدیوں پر محیط ہے اور اس کامکانی کینوس بھی کئی ملکوں اور براعظموں تک پھیلاہوا ہے، اس لیے اردو کی تہوں میں لوک ادب کی شمولیت خود بخود ثابت ہوجاتی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اردو والے اپنے لوک ادب کی بازیافت کریں اور اسے زبانی اور تحریری طورپر محفوظ کرنے کے لیے امکانی اور عملی کوششیں کریں۔
n
Mohammad Yousuf
Research Scholar, University of Delhi
Delhi - 110007

 اگر آپ رسالے کا آن لائن مطالعہ کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے لنک پر کلک کیجیے:۔



قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

14/5/18

مضمون’’ مجنوں گورکھ پوری کی افسانہ نگاری۔ مضمون نگار: ڈاکٹر ثاقب عمران







احمد صدیق مجنوں گورکھپوری 10مئی 1904کو مشرقی یوپی کے ضلع بستی، تحصیل خلیل آباد میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے اپنے مضمون ’’مجھے نسبت کہاں سے ہے‘‘ میں اس سلسلے میں خامہ فرسائی کی ہے۔ یہ مضمون پہلے پہل رسالہ نقوش لاہور1964کے شخصیات نمبر میں شائع ہوا، بعد ازاں ’ادب اور زندگی‘ میں بھی اسے شامل کر لیا گیا۔ مجنوں گورکھپوری نے شاعری بھی کی اور افسانے بھی لکھے ، لیکن اردو ادب میں ان کی بنیادی پہچان ترقی پسند نقاد کی حیثیت سے نمایاں ہے۔ ان کی تنقید نگاری کے سلسلے میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے لیکن بطور افسانہ نگار وہ ناقدین کی توجہ کم ہی مبذول کرا سکے۔ مجنوں گورکھپوری کے زیادہ تر افسانے 1925سے 1935کے درمیان شائع ہوئے۔ جس میں سے بیشتر افسانے انھوں نے 1929 تک لکھ لیے تھے۔ 1935 کے بعد ترقی پسند تحریک کا دور شروع ہوتا ہے۔ ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہونے کے بعد مجنوں گورکھپوری نے مضامین اور تنقیدیں تو لکھیں لیکن ان کے افسانے خال خال ہی نظر آتے ہیں۔

میری تحقیق کے مطابق مجنوں گورکھپوری کے صرف تین افسانوی مجموعے منظر عام پر آئے ہیں۔ ان میں سے پہلے دو مجموعے ’خواب و خیال‘ اور ’سمن پوش‘ کی اشاعت مجنوں گورکھپوری کی نگرانی میں ہی ’ایوان اشاعت‘ گورکھپور سے ہو چکی تھی۔ تیسرا افسانوی مجموعہ ’مجنوں کے افسانے‘ کے عنوان سے ان کے علی گڑھ تشریف لانے کے بعد شائع ہوا۔ یہ مجموعہ چند افسانوں کا انتخاب ہے جسے مجنوں گورکھپوری نے حالی پبلشنگ ہاؤس، دہلی کے روح رواں جناب اظہر عباس صاحب کی خواہش پر کیا تھا۔ انھوں نے اس انتخاب پر جو مقدمہ لکھا تھا اس پر 5؍اکتوبر 1935کی تاریخ درج ہے۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مجموعہ پہلی مرتبہ 1935کے آخری مہینوں میں شائع ہوا تھا۔ میرے اس مضمون کا محرک ان کا یہی تیسرا افسانوی مجموعہ ہے۔اس کتاب کی شان نزول کے بارے میں مجنوں گورکھپوری لکھتے ہیں:
’’۔۔۔حالی پبلشنگ ہاؤس،دہلی کے کارفرما جناب خواجہ اظہر عباس صاحب بی اے (علیگ) نے مجھ سے یہ فرمائش کی کہ میں ان کو اپنی کوئی کتاب شائع کرنے کے لیے دوں۔ میں نے فوراً اپنے ضخیم مجموعے سے کل مختصر افسانے علیحدہ کر کے ان کے حوالے کر دیے۔ نہ صرف اس لیے کہ اس طرح مجھے کچھ رقم مل گئی بلکہ بالخصوص اس لیے کہ ایک حوصلہ مند نوجوان کا ادبی حوصلہ پورا ہو رہا ہے، اور میرے بعض افسانوں کی اشاعت ہوئی جاتی ہے۔ یہ ہے اس مجموعے کی شان نزول۔‘‘1
کسی کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے مجنوں گورکھپوری کی ایک تحریر پر نظر پڑی تھی جس میں انھوں نے اپنے افسانوں کا ذکر کیا تھا۔ انھوں نے لکھا تھا کہ1930کے آس پاس وہ بحیثیت افسانہ نگار مشہور تھے۔ ان کے اس جملے نے مجھے جامعہ ملیہ اسلامیہ اور دہلی کی دیگر لائبریریوں کے چکر بھی لگوائے لیکن مجنوں گورکھپوری سے متعلق افسانوں کا سرا ہاتھ نہیں آ رہا تھا۔ اس واقعے کے کچھ وقت بعد عالمی کتاب میلہ 2014 دہلی میں منعقد ہوا۔ وہاں پر مجھے عالمی میڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ کے اسٹال پر ’مجنوں کے افسانے‘ کے عنوان سے ایک پاکٹ سائز کتاب نظر آئی۔ میں نے اسے شوق سے اٹھایا تو یہ مجنوں گورکھپوری کا تیسرا افسانوی مجموعہ تھا۔ اس افسانوی مجموعے کے مل جانے کے بعد میں نے ایک مرتبہ پھر سے مجنوں گورکھپوری کے افسانوں کو تلاش کرنے کا ارادہ کیا اور پہلی مرتبہ یہ دیکھنے کی کوشش کی کہ ان پر کیا کچھ کام ہو چکا ہے۔ ڈاکٹر شاہین فردوس کی ایک کتاب ’مجنوں گورکھپوری: حیات اور ادبی کارنامے‘ کے عنوان سے ایجوکیشنل بک ہاؤس علی گڑھ نے 2001میں شائع کی ہے۔ یہ کتاب شاہین فردوس کا پی ایچ ڈی کا مقالہ ہے۔ مقالے کا ایک حصہ جو تقریباً 73صفحات کو محیط ہے ، مجنوں گورکھپوری کی افسانہ نگاری کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ اس حصے کا مطالعہ کرنے کے بعد اندازہ ہوا کہ شاہین فردوس کی رسائی پہلے دو مجموعوں یعنی ’’خواب و خیال‘‘ اور ’’سمن پوش‘‘ تک تو ہو گئی تھی لیکن تیسرا افسانوی مجموعہ ان کی دسترس سے باہر تھا۔ ممکن ہے کہ ان کے علم میں نہیں رہا ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تلاش و جستجو کے بعد بھی تیسرے مجموعے تک رسائی نہ ہو سکی ہو۔ اس مجموعے میں کل آٹھ افسانے شامل ہیں۔ (1) ہتیا (2)گہنا (3) حسنین کا انجام (4) مراد (5)جشن عروسی (6)بڑھاپا (7) کلثوم (8) محبت کا دم واپسیں۔ ان آٹھ افسانوں میں سے ابتدائی چار افسانوں کا ذکر تو شاہین فردوس نے بھی اپنے مقالے میں کیا ہے جو غالباً پہلے دونوں افسانوی مجموعوں میں شامل رہے ہوں گے لیکن آخر کے چار افسانوں کا ذکر ان کے مقالے میں نہیں ملتا اور نہ ہی انھوں نے اپنے مقالے میں تیسرے افسانوی مجموعے کا کہیں ذکر کیا ہے۔ پہلے چار افسانوں کے تعلق سے میں نے لکھا ہے کہ ’غالباً‘ یہ افسانے پہلے دو مجموعوں یعنی ’خواب و خیال‘ اور ’سمن پوش‘ میں شامل ہوں گے۔ ’غالباً‘ اس لیے لکھا کہ ابھی تک میری رسائی ان مجموعوں تک نہیں ہو سکی ہے لیکن شاہین فردوس کے مقالے میں ابتدائی چار افسانوں کا ذکر میری بات کو قوی بناتا ہے۔ خیر جب بات ڈاکٹر شاہین فردوس کے تحقیقی مقالے پر آہی گئی ہے تو صرف اتنا کہنا چاہوں گا کہ ان کے اس تحقیقی کام کے بعد بھی مجنوں گورکھپوری کی افسانہ نگاری پر ایک اچھے اور بھرپور کام کی ضرورت باقی ہے۔ جیسا کہ میں نے اس سے پہلے بھی عرض کیا ہے کہ یہ شاہین فردوس کا پی ایچ ڈی کا مقالہ تھا اور پی ایچ ڈی یا دیگر مقالے جو کسی خاص بندھے ٹکے اصول کے تحت لکھے جاتے ہیں ان میں مقالہ نگار کو بعض اوقات آزادی سے کام کرنے کا موقع نہیں ملتا اور اس کے لیے اصول و ضوابط کی پابندی لازمی ہوتی ہے۔ بہرحال شاہین فردوس کے مقالے پر مزید گفتگو نہ کرتے ہوئے ہم اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔
مجنوں گورکھپوری نے ’مجنوں کے افسانے‘ میں ’شان نزول‘ کے عنوان سے مقدمہ بھی لکھا ہے۔ مقدمہ میں وہ اپنے افسانوں کے متعلق لکھتے ہیں:
’’ مجھے ارمان تھا اور میں اس کا اہتمام بھی کر رہا تھا کہ اب میرے جتنے مختصر اور طویل افسانے مختلف رسائل میں منتشر پڑے رہ گئے ہیں، ان کو بڑی تقطیع پر، یکجا کرکے شائع کر دیا جائے۔ یہ کتاب اگر وجود میں آتی تو 800صفحات سے کم ضخیم نہ ہوتی۔ لیکن ضعیف البنیان انسان کا ارادہ ہی کیا؟ سوچتا کچھ ہے اور ہوتا کچھ ہے۔‘‘2
مجنوں گورکھپوری کے درج بالا اقتباس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے مختصر سی مدت میں کتنی کثیر تعداد میں افسانے لکھے ہیں۔ بہرحال ان کے تمام افسانے ابھی رسائل تک ہی محدود ہیں جن کو کتابی صورت میں شائع کرنے کا عمل ابھی باقی ہے۔ ایسا کیوں ہوا کہ اپنے جن افسانوں کو یکجا کرنے کی ابتدا مجنوں گورکھپوری نے کی تھی اور کتابی صورت میں شائع کرنے کا ارادہ رکھتے تھے وہ مرحلہ طے نہ ہو سکا۔ اس سلسلے میں وہ اپنے مقد مہ میں لکھتے ہیں:
’’۔۔۔ میرے اس ضخیم مجموعہ کی کتابت شروع ہو چکی تھی اور ڈیڑھ سو صفحات لکھے جا چکے تھے کہ وہ بے درد و سفاک قوت جس کو عرف عام میں ’آب و دانہ‘ کہتے ہیں خلاف توقع مجھے کشاں کشاں کر کے علی گڑھ لے آئی اور اس طرح میں اپنے ارادوں کو ارادہ کے ساتھ ملتوی بھی نہ کرسکا۔ اس کی مہلت بھی نہ ملی کہ ’ایوان‘ اور ’ایوان اشاعت‘ کے التوا کا اعلان کر سکتا۔ چنانچہ اکثر احباب کو اس کی مطلق خبر نہیں ؂
وہ جو بیچتے تھے دوائے دل وہ دکان اپنی بڑھا گئے3
درج بالا اقتباس سے معلوم ہوتا ہے کہ ’ایوان اشاعت‘ جہاں سے ان کے پہلے دو مجموعے اشاعت پذیر ہوئے وہ مجنوں گورکھپوری کا ہی ادارہ تھا۔ ساتھ ہی مجنوں اس ادارے سے ’ایوان‘ رسالہ بھی شائع کرتے تھے جس کے مدیر وہ خود تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انھیں اشاعت کے التوا کا اعلان نہ کرنے کا قلق تھا۔ رزق کے لیے گورکھپور چھوڑنا ان کے لیے تکلیف دہ عمل تھا۔ وہ اپنے وطن سے حد درجہ محبت کرتے تھے۔ اس لیے وہ گورکھپور واپس جانے کے خواہش مند بھی رہتے تھے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’۔۔۔ مجھے گورکھپور چھوڑنا پڑا اور گورکھپور سے الگ ہو کر میں کوئی ایسی سنجیدہ زندگی بسر نہیں کر سکتا جس کو شعر و ادب کی زندگی کہتے ہیں اور جس کو ایک نقاد شعر ایک ’لطیف دیوانگی‘ بتاتا ہے۔ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ میرا یہ ادبی جمود ہمیشہ قائم رہے گا اس لیے کہ گورکھپور واپس جانے کی آرزو میرے اندر اسی قدر موجود ہے جس قدر کہ ہارڈی کے مشہور ناول "The Return of the Native" کے ہیرو Clym اور خود میرے افسانے ’بازگشت‘ کے ہیرو ادریس کے اندر موجود تھی اور بہت ممکن ہے کہ میں ان ہی دونوں کی طرح پھر گورکھپور واپس جاؤں، چاہے وہ مٹ جانے کے لیے ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن فی الحال تو میں گورکھپور میں نہیں ہوں اور ’ایوان‘ اور ’ایوان اشاعت‘ کا کاروبار بند ہے۔‘‘ 4؂
مجنوں گورکھپوری کی افسانہ نگاری کی جانب مائل ہونے کی وجہ بھی دلچسپ ہے۔ دراصل نیاز فتحپوری کا ایک افسانہ ’شہاب کی سرگزشت‘ رسالہ نگار میں قسط وار شائع ہو رہاتھا۔ مہدی افادی کی صاحب زادی جمیلہ بیگم کو یہ افسانہ حد درجہ پسند تھا لیکن مجنوں گورکھپوری کو افسانے میں کوئی افادیت کا پہلو نظر نہیں آیا اس لیے ان کی رائے اس افسانے کے متعلق اچھی نہیں تھی۔ ایک ملاقات میں ’شہاب کی سرگزشت‘ پر گفتگو شروع ہوئی تومجنوں گورکھپوری نے اپنی رائے کا اظہار جمیلہ بیگم کے سامنے بھی کر دیا۔ ردعمل میں جمیلہ بیگم نے طنزاً کہا کہ ’یہ سب تو نہ لکھ سکنے کی تاویلیں ہیں، میں جب جانوں کہ جب آپ بھی کوئی ایسا ہی بے نتیجہ افسانہ لکھ دیں۔‘ نتیجتاً مجنوں گورکھپوری نے اسی رات اپنا پہلا افسانہ ’زیدی کا حشر‘ کا کچھ حصہ لکھ ڈالا اور اگلے روز جمیلہ بیگم کے سامنے پیش کر دیا۔ ان ہی دنوں نیاز فتح پوری گورکھپور تشریف لائے ہوئے تھے۔ انھوں نے مجنوں گورکھپوری کا ادھورا افسانہ پڑھا تو ان سے افسانہ مکمل کرنے کی درخواست کی اور مسودہ اپنے ساتھ کانپور لے آئے جسے انھوں نے رسالہ ’نگار‘ میں بالاقساط شائع کیا۔ 5
مجنوں گورکھپوری کا یہ پہلا افسانہ تھا۔ اس کے بعد انھوں نے نیاز فتح پوری کی تحریک پر بہت سے افسانے قلم بند کیے۔ اس سلسلے میں لکھتے ہیں:
’’۔۔۔ میں نے اول اول اپنی زندگی کا نصب العین کچھ اور بنایا تھا، لیکن انسان اپنی قسمت سے مجبور ہے۔ نیاز صاحب نے تحریک کی اور میں نے افسانہ نگاری شروع کردی اور آج صرف افسانہ نگار مشہور ہوں۔‘‘6
مجنوں گورکھپوری کے افسانوں میں مغربی افسانوں کی جھلک بہت ملتی ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ انھوں نے مغربی افسانوں کا وسیع مطالعہ کیا تھا۔ ان کے ایسے افسانوں کی تعداد بھی زیادہ ہے جو کسی نہ کسی سطح پر مغربی افسانوں سے ماخوذ ہیں۔ اس کا اعتراف مجنوں گورکھپوری بھی کرتے تھے۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ ان کے ایسے تمام افسانے مغربی افسانوں کا ترجمہ ہیں۔ اس مجموعے میں شامل افسانہ ’جشن عروسی‘ بائرن کے افسانے "The Bride of Abydos" کا آزاد ترجمہ ہے۔ اس کے علاوہ دیگر افسانوں کے متعلق خود مجنوں گورکھپوری نے ’شان نزول‘ میں تحریر کیا ہے کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر مغربی افسانوں کے اثرات لیے ہوئے ہیں اور اگر ان کا کوئی افسانہ طبع زاد بھی ہے تو اس کے متعلق لکھتے ہیں کہ :
’’۔۔۔ دعوے کے ساتھ یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس میں میرے مطالعے کی کوئی آمیزش نہیں ہے۔‘‘7
’شان نزول‘ میں مجنوں گورکھپوری نے ’مجنوں کے افسانے‘ میں شامل تمام افسانوں پر تھوڑی تھوڑی خامہ فرسائی بھی کی ہے۔ اس کتاب میں شامل افسانوں میں تین کے علاوہ دیگر افسانے 1929سے پہلے قلم بند کیے گئے تھے۔ دراصل 1929کے بعد مجنوں گورکھپوری نے افسانے لکھنے کم کر دیے تھے۔ انھوں نے اس کی کوئی خاص وجہ تو نہیں بیان کی ہے ، بس ایسا لگتا ہے جیسے ان کا جی افسانہ خلق کرنے پر مائل نہ ہو اور اپنا آپ ظاہر کرنے کے لیے کسی دوسری صنف کی تلاش میں بھٹک رہا ہو۔ وہ لکھتے ہیں:
’’اس مجموعے میں جتنے افسانے شامل ہیں ان میں سے تین کو چھوڑ کر باقی سب 1929سے پہلے کے لکھے ہوئے ہیں اور ایسے زمانے کی یادگار ہیں جب کہ میرا ادبی نشہ عروج پر تھا، جب کہ میرے قویٰ میں اضمحلال کی کوئی علامت نمودار نہیں ہوئی تھی جو 1929کے بعد دھیرے دھیرے مجھ پر چھاتا گیا۔ اب میں اپنے اندر وہ کیف و نشاط نہیں پاتا جس کو اب سے چند سال پیشتر میں اپنی دولت لازوال سمجھ رہا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اب جو کام کرتا ہوں اس میں ایک قسم کی بے دلی اور بے حوصلگی پائی جاتی ہے۔ میرے بعض پڑھنے والوں کو مجھ سے شکایت ہے جو ایک لحاظ سے بجا ہے۔ یعنی اب میرے افسانے اتنے ولولہ خیز اور ذوق انگیز نہیں ہوتے جتنا کہ پہلے ہوتے تھے۔ یہ کہنا بڑی حد تک صحیح ہے کہ اب میں جو کچھ لکھتا ہوں اس میں وہ پختگی جس قدر بھی ہو ، جو محض عمر اور مشق کے تجربہ سے پیدا ہو جاتی ہے لیکن اس ’حسن خیال‘ اور اس شوخی تحریر کا دور تک پتہ نہیں جو صرف جوانی کی روحانیت اور شوریدہ سری کا تقاضا ہوا کرتی ہے۔ یہ انحطاط بھی ہے اور ارتقا بھی۔‘‘8
طبیعت میں تبدیلی کا واقع ہونا فطری بات ہے۔ عموماً قلم رکنے کے بعد جب طبیعت پھر سے بحال ہوتی ہے تو مصنف اسی ادب پارے یا فن پارے میں لوٹنا چاہتا ہے جس میں وہ طبع آزمائی کرتا رہا ہے۔ لیکن یہاں معاملہ اس کے برعکس نظر آتا ہے۔ مجنوں گورکھپوری نے جب تک افسانہ نگاری کو اپنا بنائے رکھا تب تک انھوں نے خوب افسانے لکھے لیکن پانچ سال کے اندر ہی اس صنف سے ان کی دلی وابستگی برقرار نہیں رہی۔ ویسے بھی وہ ابتداً افسانہ نگار نہیں بننا چاہتے تھے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کا ذہن دھیرے دھیرے اس صنف سے دوری بناتا گیا اور آخر کار انھوں نے افسانہ نگاری کو چھوڑ کر تنقید کو اپنا میدان خاص بنا لیا۔ شاید ان کی طبیعت کے لیے تنقید کا میدان ہی موزوں تھا۔ فراق گورکھپوری اور ان کے بعض دیگر دوستوں نے بھی انھیں تنقید کوہی اولیت دینے کا مشورہ دیا۔ طبیعت کی موزونیت اور دوستوں کے مشورے ہی تھے کہ آج ہم مجنوں گورکھپوری کو بطور افسانہ نگار نہیں بلکہ ایک نقاد کی صورت میں جانتے اور پہچانتے ہیں۔ مجنوں گورکھپوری اس سلسلے میں رقم طراز ہیں:
’’گذشتہ چند سال سے میں تنقیدیں زیادہ لکھ رہا ہوں اور افسانہ نگاری کی طرف میلان کم رہا ہے، یہ کوئی اضطراری حرکت نہیں تھی بلکہ اس کے مختلف اسباب تھے جس کی تفصیل و تشریح بے کار ہی ثابت ہوگی۔ اس ذکر کو چھیڑنے سے میرا ایک خاص مقصد تھا۔ میرے بعض احباب نے جن میں بابو رگھوپتی سہائے کا نام خاص طور پر قابل ذکر ہے حال میں میرے متعلق اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ تنقید ہی میرا غیر فانی ادبی کارنامہ ہے۔۔۔ ان لوگوں کی رائے میں جو چیز میرا نام زندہ رکھے گی وہ تنقید ہی ہوگی۔‘‘9
انسان کی فطرت میں شامل ہے کہ وہ ان ہی چیزوں کے مشورے دیتا ہے جس میں اسے امکانات نظر آتے ہیں۔ فراق اور دیگر احباب کے مشورے اپنی جگہ لیکن بہت سے احباب ایسے بھی تھے جنھوں نے مجنوں کو مشورہ دیا تھا کہ وہ افسانے کے علاوہ کچھ نہ لکھیں۔ دوستوں کے ان دو گروہوں کے درمیان کون صحیح ہے اور کون غلط، مجنوں گورکھپوری نے اس کا فیصلہ نہیں کیا ہے اور انھیں کرنا بھی نہیں چاہیے تھا۔ لیکن انھوں نے افسانہ نگاری اور تنقید نگاری کے ضمن میں ایک اہم بات کی جانب اشارہ کیا ہے۔ وہ دونوں کے مابین افسانہ نگاری کو بہتر خیال کرتے ہیں۔وہ لکھتے ہیں:
’’مجھے صرف اس قدر عرض کرنا ہے کہ اگر چہ افسانہ لکھنامیری زندگی کا اولین مقصد نہیں تھا، تاہم مجھے اس قدر تو ماننا ہی پڑتا ہے کہ جب میں تنقیدیں لکھتا ہوں تو ان کی تمام تر بنیاد مطالعہ اور فکر و تخیل پر ہوتی ہے۔ برخلاف اس کے جب افسانے لکھتا ہوں تو ان میں میرے مطالعے اور مشاہدے دونوں آ جاتے ہیں اور تجربات و تخیلات مل کر ایک تخئیلی کل کی صورت اختیار کر لیتے ہیں یعنی میرے افسانوں میں ادب اور زندگی دونوں عناصر شامل ہوتے ہیں، جس کی بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ میرے افسانے میری زیادہ مکمل نمائندگی کرتے ہیں۔‘‘10
ماخذ:
1۔ مجنوں گورکھپوری، شان نزول، مجنوں کے افسانے،عالمی میڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ، دہلی، 2014، ص ج
2۔ ایضاً، ص ب
3۔ ایضاً، ص ب،ج
4۔ ایضاً ،ص ج
5۔ شاہین فردوس، مجنوں گورکھپوری:حیات اور ادبی کارنامے، ایجوکیشنل بک ہاؤس علی گڑھ، 2001، ص96
6۔ مجنوں گورکھپوری، شان نزول، مجنوں کے افسانے،عالمی میڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ، دہلی، 2014، ص د
7۔ ایضاً، ص ذ
8۔ ایضاً، ص د ،ہ
9۔ ایضاً ، ص ذ
10۔ ایضاً، ص ح
n
Dr. Saqib Imran
Guest Teacher, Dept of Urdu
Jamia Millia Islamia
New Delhi - 110025
   اگر آپ رسالے کا آن لائن مطالعہ کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے لنک پر کلک کیجیے:۔



قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...