12/6/18

مسعود حسین خاں کی خاکہ نگاری ۔ مضمون نگار: مرزا خلیل احمد بیگ







مسعود حسین خاں کی خاکہ نگاری
مرزا خلیل احمد بیگ
خاکہ نگاری اردو ادب کی ایک مقبول صنف ہے۔ اسے اردو اصنافِ نثر میں ایک منفرد مقام حاصل ہے،کیوں کہ مرزا فرحت اللہ بیگ 1 (1883-1947)سے لے کر مرزا اکبر علی بیگ 2(1942-2005)تک اردو کے تقریباً ہر چھوٹے بڑے ادیب نے خاکے لکھے ہیں اور اس صنفِ ادب کو استحکام بخشا ہے۔ ہر چند کہ خاکہ نگاری کے ابتدائی نقوش ہمیں محمد حسین آزاد (1830-1910) کے تذکرے ’آبِ حیات‘ (1880)میں دیکھنے کو ملتے ہیں، لیکن اس کا باقاعدہ طور پر ارتقا مرزا فرحت اللہ بیگ کی ادبی تحریروں سے ہوتا ہے جنھوں نے ڈپٹی نذیر احمد (1830-1912)کا نہایت دلکش اور دلچسپ خاکہ لکھا۔ اس کے بعد اردو خاکہ نگاروں کی ایک کہکشاں نظر آتی ہے جس میں مسعود حسین خاں کے علاوہ مولوی عبدالحق، خواجہ حسن نظامی، شاہد احمد دہلوی، رشید احمد صدیقی ، سید عابد حسین، مالک رام، محمد حسن، صالحہ عابد حسین، چراغ حسن حسرت، سعادت حسن منٹو، عصمت چغتائی، یوسف ناظم، مجتبیٰ حسین، عابد سہیل اور عوض سعید کے نام خصوصی طور پر قابلِ ذکر ہیں۔
خاکہ نگاری کو بالعموم اسکیچ (Sketch)کہا جاتا ہے، لیکن یہ اس کا صحیح انگریزی ترجمہ یا متبادل نہیں ہے۔ اسکیچ کسی شے یا شخص کا محض بیرونی یا بالائی ڈھانچا (Surface Structure)ہوتا ہے جس کے صرف ظاہری نقوش اور خد و خال ہی دیکھے جاسکتے ہیں۔ خاکہ اسکیچ سے بڑی اورآگے کی چیز ہے۔ اس میں خاکہ نگار کسی شخص کے ظاہری نقوش، خد و خال، چہرے اور حلیے کے مشاہدے کے ساتھ ساتھ اس کی شخصیت کی باطنی پرتیں بھی ٹٹولتا ہے، اور اپنے ذاتی تاثرات بھی پیش کرتا ہے۔ کسی شخصیت کا خاکہ بیان کرتے وقت اس کی ہوبہو تصویر کشی کی جاتی ہے اور معروضی انداز سے کام لیا جاتا ہے، نیز اس کی خوبیوں کے ذکر کے ساتھ ساتھ اس کی خامیوں کو بھی اجاگر کیا جاتا ہے۔ ایک اچھا خاکہ وہی سمجھا جاتا ہے جس میں صاحبِ خاکہ کی شخصیت جیسی کہ وہ ہے، ابھر کر سامنے آجائے خواہ وہ اس کا حلیہ اور لباس ہو یا وضع قطع، عادات و اطوار ہوں یا طرزِ بود و ماند، اندازِ گفتگو اور مزاج ہو یا افتادِ طبع۔ اس شخصیت کے ساتھ پیش آنے والے بعض حالات و واقعات بھی خاکہ نگار کی دلچسپی کا باعث ہوسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض خاکے سوانح نگاری اور سیرت نگاری کی حدوں کو چھو لیتے ہیں۔
مسعود حسین خاں (1919-2010)ایک ماہرِ لسانیات تھے، اور لسانی مسائل و مباحث سے انھیں پیشہ ورانہ دلچسپی تھی، لیکن وہ ناقد، شاعر، محقق، مدون اور خاکہ نگار بھی تھے۔ انھوں نے ’ورودِ مسعود‘ کے نام سے اپنی خود نوشت سوانح حیات بھی لکھی جس میں بہترین شخصی مرقعے پائے جاتے ہیں۔ مسعود حسین خاں کے چار مقتدر شخصیات پر لکھے ہوئے خاکے یہ ہیں: رشید احمد صدیقی ،ڈاکٹر ذاکر حسین، جسٹس محمد ہدایت اللہ، عبدالقادر سروری۔
رشید احمد صدیقی :
مسعود حسین خاں کا سب سے دلچسپ خاکہ ان کے استاد رشید احمد صدیقی (1894-1977)پر ہے جو ان کے انتقال کے بعد لکھا گیا اور ’رشید صاحب: چند یادیں‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔ رشید احمد صدیقی، مسعود حسین خاں کے نہ صرف شفیق و محترم استاد تھے بلکہ مربی بھی تھے، چنانچہ انھوں نے ہمیشہ اس رشتے کا پاس رکھا۔ وہ جب بھی ان سے ملتے حفظِ مراتب کا ضرور خیال رکھتے۔ رشید احمد صدیقی بھی انھیں اپنے تمام شاگردوں میں سب سے زیادہ عزیز رکھتے تھے۔ رشید احمد صدیقی سے ان کی پہلی ملاقات اس وقت ہوئی جب وہ ذاکر حسین کالج(سابق اینگلو عربک کالج)، دہلی سے بی اے کرنے کے بعد ایم اے میں داخلے کی غرض سے جولائی 1939میں علی گڑھ پہنچے تھے۔ رشید احمد صدیقی اس وقت علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں استاد تھے۔ مسعود حسین خاں نے پہلے ایم اے (تاریخ) میں داخلہ لیا تھا، لیکن ہفتے عشرے کے اندر تبدیلیِ مضمون کی درخواست دے کر ایم اے (اردو) میں منتقل ہوگئے تھے۔ مسعود حسین خاں اپنے متذکرہ خاکے کی ابتدا ان الفاظ سے کرتے ہیں :
’’میں شاگردِ رشید ہوں۔ یہ کلمۂ توصیفی نہیں، کلمۂ اضافی ہے۔ اس کو کلمۂ توصیفی کہنا میرے اختیار کی بات نہیں۔ یہ اختیار تو رشید صاحب کو تھا۔‘‘
مسعود حسین خاں نے اپنے استاد سے پہلی ملاقات کی جو تصویر کشی کی ہے وہ لاجواب ہے۔اس سے ان کی شگفتگیِ مزاج اور افتادِ طبع کا بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ جاننے میں ذرا بھی دیر نہیں لگتی کہ مسعود حسین خاں کی ملاقات ایک ایسی شخصیت سے ہورہی ہے جو منفرد ہے اور جس کا طنز و مزاح کی دنیا میں کوئی ثانی نہیں ہے۔ اس سے یہ بھی مترشح ہوتا ہے کہ رشید احمد صدیقی کی یونیورسٹی برادری میں کتنی عزت و توقیر تھی، اور لوگ ان کا کس قدر ادب و احترام کرتے تھے۔ مسعود حسین خاں لکھتے ہیں :
’’جولائی 1939 میں جب میں سابق اینگلو عربک کالج، دہلی سے بی اے پاس کرنے کے بعد ایم اے میں داخلے کے لیے علی گڑھ پہنچا تو رشید صاحب سے پہلی مڈبھیڑ ہوئی۔ یہ ان کے نئے تعمیر شدہ مکان کے مردانہ حصے میں، کمرے سے باہر، پھوس کے چھپر کے نیچے، بے کمر اور باکمر سرکنڈوں3کے مونڈھوں پر میرا ان کا پہلا سامنا غالب کے مشہور شعر ’روکے‘ اور ’کھینچے‘ سے بخوبی تعبیر کیا جاسکتا ہے۔4عرضِ حال سن لی اور بولے، ’کل شعبۂ اردو میں تشریف لائیے،‘ اور اس کے ساتھ ملاقات یک لخت ختم کردی۔ لوٹتے وقت ایسا محسوس ہوا نہ تماشا کامیاب آیا نہ تمنا بے قرار۔ داخلے کی حاجت مندی سوار تھی اس لیے دوسرے دن شعبۂ اردو میں جا دھمکا۔ بغیر توجہ کے انھوں نے میرے ہاتھ سے داخلے کا فارم لیا اور ’آئیے حضرت‘ کہہ کر میرے ساتھ ساتھ جا نکلے۔ اسٹریچی ہال میں، جہاں ان دنوں داخلے کا بازار لگتا تھا، کلرکوں سے لے کر پرووسٹ اور دیگر اربابِ داخلہ تک، بے شمار میزیں: یہاں اندراج کرائیے، یہاں ہال اور ہوسٹل کا انتخاب کیجئے، یہاں فیس داخلہ جمع کیجئے، ہر میز پر ٹھٹ کے ٹھٹ لگے ہوئے تھے۔ پیروکار عام طور پر سینیر طلبہ اور رشید صاحب جیسے بعض اساتذہ تھے۔ میں نے دیکھا کہ رشید صاحب کا جس میز کی طرف رخ ہوتا ہے، پرے کا پرا ہٹ جاتا ہے۔ کلرک ہو کہ اسسٹنٹ رجسٹرار ا یک ہلکی سی اٹھک بیٹھک لگاتا ہے اور ان کے فقرے کی تاب نہ لا کر جھٹ ان سے فراغت حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
اس دن رشید صاحب کے وار بھرپور پڑ رہے تھے اور شاید ہی کوئی مردہ دل ہو جو اس سودا اور ان کے غنچے کے کام سے پہلو تہی کرنے کی ہمت کرتا ہو،لیجیے جو کام گھنٹوں میں ہونا تھا وہ منٹوں میں ہوگیا۔ اس درمیان میری طرف سے مسلسل تجاہلِ عارفانہ رہا۔ ایک دھچکا اور لگا جب آخر میں مجھے داخلے کا فارم تھماتے ہوئے انھوں نے کہا ’لیجیے حضرت! باقی کام آپ کا ہے، فیس وغیرہ داخل کیجیے اور شعبۂ تاریخ... کا رخ کیجیے۔‘‘5
شعبۂ تاریخ سے شعبۂ اردو میں منتقل ہونے کا حال مسعود حسین خاں یوں بیان کرتے ہیں، یہاں بھی ان کا سابقہ رشید احمد صدیقی اور ان کی حسِ مزاح سے پڑتا ہے :
’’ابھی میرے قدم شعبۂ تاریخ میں جمنے بھی نہ پائے تھے کہ ایک مؤرخ ہی کے ورغلانے پر (میری مراد پروفیسر مجیب سے ہے جو ان دنوں علی گڑھ آنکلے تھے) اکھڑ گئے اور ہفتہ عشرے کے اندر ہی تبدیلیِ مضمون کی درخواست لے کر سہما سمٹا شعبۂ اردو میں صورتِ سوال کھڑا ہوا تھا۔ جب رشید صاحب سے میں نے اپنی اس نیت کا تذکرہ کیا تو بولے، ’خوب! یہ میں نے کب کہا تھا کہ آپ مجھ پر نازل ہوں۔‘ پھر ٹھوک بجا کر پوچھا، ’کیا بالکل طے کرلیا ہے؟‘ میں نے کہا، ’جی ہاں، ایک مؤرخ ہی کے کہنے پر‘۔ کہا، ’اچھا تو لائیے درخواست۔‘ اور ایک شانِ بے نیازی سے دستخط کردیے۔ لیجیے، اب میں شعبۂ اردو کا طالب علم بن گیا، یعنی شاگردِ رشید!‘‘6
رشید احمد صدیقی طبعاً کم آمیز واقع ہوئے تھے۔ وہ محفلوں اور مجمعوں سے گھبراتے تھے۔ انھیں خلوت ہی میں سکون ملتا تھا۔ ان کے مزاج کی دوسری خصوصیت یہ تھی کہ وہ عام لوگوں سے بہت کم ربط ضبط رکھنا پسند کرتے تھے۔ ان کا دیرینہ ملازم سکندر ان کے اس مزاج سے بخوبی واقف تھا، چنانچہ جب کوئی ان سے ملنے جاتا اور درِدولت پر دستک دیتا تو سکندر ہی وارد ہوتا اور وہ اگر گھر میں موجود بھی ہوتے تو سکندر نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ ان کے درونِ خانہ وجود کی نفی کردیتا اور ملنے والا نامراد واپس لوٹ جاتا۔ مسعود حسین خاں نے رشید احمد صدیقی کا خاکہ لکھتے وقت ان کی اس سماجی کمزوری کو نظر انداز نہیں کیا اور جیسا دیکھا اور محسوس کیا ویسا بیان کردیا۔ وہ لکھتے ہیں :
’’رشید صاحب ابتدا سے خواص پسند تھے۔ طالب علموں سے وہ اپنا رشتہ یا تو درس تک محدود رکھتے تھے یا چلتے چلاتے ایک آدھ فقرے تک۔ ان کی اس خواص اور خلوت پسندی کی وجہ سے اکثر حضرات کو شاکی پایا۔ ان کا مکان ان کا حصار تھا۔ اس کا احاطہ کچھ اس قسم کا تھا کہ ملنے والا یا تو مردانے دروازے سے ٹکریں مار کر رہ جاتا یا زنانے دروازے پر پہنچ کر چلا جاتا۔ ان کی رہائش کا کمرہ دونوں دروازوں سے اس قدر محفوظ فاصلے پر تھا کہ ان کے وفادار ملازم سکندر کے توسط کے بغیرآپ کی کوئی صدا یا پیغام ان تک نہیں پہنچ سکتا تھا، اور سکندر نہ صرف وفادار تھا، تربیت یافتہ اور مردم شناس بھی تھا۔ وہ نہایت خوش اسلوبی سے حاضر کو غائب اور غائب کو حاضر کردیتا تھا۔ بس یہیں سے سماجی رشتوں کی نزاکتیں پیدا ہوتی تھیں۔ جمیع خلائق کو معلوم تھا کہ رشید صاحب ہمہ وقت علی گڑھ اور اپنے مکان میں موجود رہتے ہیں اور یہ صرف سکندر کی سکندری ہے جو اس خضرِ ادب کو غائب اور حاضر بنائے رکھتی ہے۔‘‘7
رشید احمد صدیقی کو پھولوں سے بہت رغبت تھی، بالخصوص گلاب کے پھولوں سے۔ یہ ان کا پسندیدہ پھول تھا۔ انھوں نے اپنے مکان کے وسیع اور کشادہ صحن میں گلاب کی کاشت کر رکھی تھی اور ہمہ وقت اس کی دیکھ بھال میں لگے رہتے تھے، کھرپی ان کے ہاتھ میں ہوتی تھی۔ مسعود حسین خاں، رشید احمد صدیقی کے اس ’شوقِ فضول‘ کا تذکرہ اپنے خاکے میں یوں کرتے ہیں :
’’رشید صاحب معاشرتی و جمالیاتی دونوں اعتبار سے بیرونِ خانہ سے زیادہ اندرونِ خانہ کی زیبائش کے قائل تھے۔ چنانچہ جب کہ مکان کے باہری حصے میں خاک دھول اڑتی تھی اندر ایک لہلہاتا چمن اور سبزہ زار تھا اور پھولوں کی وہ بھرمار کہ پریاں قطار اندر قطار۔ قلم کے بعد صرف کھرپی کو یہ شرف حاصل تھا کہ ان کے دستِ مبارک میں دیکھی جاتی جس سے وہ کیاریوں میں قلم کاری کرتے۔‘‘8
پھولوں کی نسبت سے وہ رشید احمد صدیقی کے بارے میں مزید لکھتے ہیں :
’’پھولوں ہی کی نسبت سے انھیں جانوروں سے چڑ تھی۔ میں نے کبھی ان کے مکان پر کوئی کتا پلا ہوا نہیں دیکھا۔ انھیں سالانہ چوریاں گوارا تھیں، لیکن کتا پالنا منظور نہیں تھا۔ اکثر کہتے کہ انسان سے بہتر جانور ہوتا ہے، لیکن سب سے بہتر یہ خاموش پھول پودے ہوتے ہیں۔ ان کا سب سے قیمتی تحفہ گلاب کا پھول ہوتا اور سب سے بڑی مرحمت گلاب کی پود جسے وہ دوسروں پر اعتبار نہ کرتے ہوئے اپنے خاص مالی سے آپ کے مکان میں لگوادیتے۔‘‘ 9
خاکے کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ خاکہ نگار صاحبِ خاکہ کے بارے میں اپنے تاثرات بیا ن کرتا ہے۔ مسعود حسین خاں نے 1941میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے کا امتحان پاس کیا تھا۔ وہ دو سال تک رشید احمد صدیقی کے باقاعدہ طور پر شاگرد رہے تھے، چنانچہ مسعود حسین خاں کے ادبی ذوق کو پروان چڑھانے میں ان کا زبردست رول رہا ہے۔ وہ بھی اپنے استاد کے طریقۂ درس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے تھے۔ وہ رشید احمد صدیقی کے بارے میں اپنے تاثرات اس انداز سے بیان کرتے ہیں کہ ان کے طریقۂ تدریس کی تمام خوبیاں قاری کے سامنے آجاتی ہیں، ملاحظہ ہو یہ اقتباس:
’’رشید صاحب کا طریقۂ درس منفرد اور نرالا تھا۔ مطالعہ کی طرح درس کے میدان بھی مخصوص اور محدود تھے، یعنی بیشتر غالب یا اقبال یا جدید شعرا میں حسرت، فانی، اصغر اور جگر۔ انھوں نے تمام شعرا کے بارے میں اپنے انداز میں سوچا تھا۔ ان کی یہ سوچ ان کے بلیغ فقروں کی شکل اختیار کرلیتی تھی جن میں ندرت اور اپج ہوتی اور صاف معلوم ہوتا تھا کہ کسی اور کی ٹکسال سے ڈھل کر نہیں نکلے ہیں۔ ہم لوگ اکثر آپس میں مختلف اساتذہ کے طریقۂ تدریس اور علمیت کا موازنہ کرتے اور عام طور پر یہ رائے قرار پاتی کہ علمِ کتابی رشید صاحب کا میدان نہ تھا۔ لیکن ایک تو رچے ہوئے ذوقِ ادب اور دوسرے خداداد طباعی کی وجہ سے ان کی تحسین شناسی دوسروں سے بالکل مختلف انداز کی ہوتی۔ سونے پر سہاگہ ان کا منفرد اندازِ بیان جو صرف تحریر تک محدود نہ تھا، بلکہ ایک ایک فقرے سے جھلکتا تھا۔ جب کہ دوسرے اساتذہ کی تقریر یاد رہ جاتی، ان کی یادگار بن جاتی!‘‘10
مسعود حسین خاں نے اپنے مشاہدے کی بنیاد پر رشید احمد صدیقی کی بعض ادبی شخصیات سے غیرمعمولی دلچسپی اور قربت کا تذکرہ کیا ہے۔ ان کے الفاظ میں :
’’غالب رشید صاحب کے محبوب شاعر تھے۔ اقبال سے وہ مرعوب تھے، لیکن ان کے ادبی ذوق کی تربیت غالب کے زیر سایہ ہوئی تھی جس کا کلام ان کے منفرد اسلوب کا سب سے بڑا ماخذ تھا۔ اصغر اور جگر سے ان کا ذاتی تعلق تھا، لیکن اصغر کی تراشیدہ شاعری کے وہ زیادہ قائل تھے۔‘‘ 11
اس خاکے میں مسعود حسین خاں نے رشید احمد صدیقی کی خامیوں اور کمزوریوں کا بھی برملا ذکر کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں :
’’شعر سے شغف کے باوجود یہ عجیب و غریب بات تھی کہ انھیں شعر بالکل یاد نہیں رہتے تھے۔ وزن کا احساس بہت کمزور تھا۔ کبھی آدھے مصرعے سے آگے نہیں بڑھ پاتے، اور ہر بار اہلِ حلقہ میں سے کسی کو شعر اٹھانا پڑتا، یا بڑھ جاتے تو ’بحرِ ہزج میں ڈال کر بحرِ رمل چلے، کی سی صورت پیدا ہوجاتی، لیکن شعر کا مفہوم حیرت ناک طریقے پر ان کے ذہن میں محفوظ ہوتا تھا جس سے وہ انتہائی محظوظ ہوتے اور بے ساختہ اس شعر کے کچھ الفاظ ان کی نوکِ زبان پر آجاتے۔‘‘12
مسعود حسین خاں نے ایم اے (اردو) کرنے کے بعد آل انڈیا ریڈیو، دہلی میں ملازمت اختیار کرلی تھی جہاں ان کی ملاقات اردو ادب کی تین ممتاز شخصیات پطرس بخاری، ن.م. راشد اور میرا جی سے ہوئی، لیکن چھ ماہ کے اندر ہی ان کی طبیعت ریڈیو کی ملازمت سے اچاٹ ہوگئی، اوروہ وہاں سے مستعفی ہو کر علی گڑھ آگئے اور رشید احمد صدیقی سے ملے اور ریسرچ میں داخلے کی خواہش ظاہر کی۔ مسعود حسین خاں لکھتے ہیں کہ رشید صاحب اس بار خنداں نہیں، انگشت بدنداں تھے، کہنے لگے، ’آپ کو کیا پڑی ہے کہ اچھی خاصی ملازمت چھوڑ کر پچاس روپے کے ریسرچ وظیفے پر آنا چاہتے ہیں۔‘ مسعود حسین خاں نے کہا، ’بس یہی اب ٹھانا ہے۔‘ اس پر رشید احمد صدیقی بولے، ’آجائیے، اور کوئی دن یہ زندگانی بھی کرلیجیے۔‘ کچھ ہی عرصے کے بعد مسعود حسین خاں کو شعبۂ اردو میں عارضی جگہ پر بہ حیثیت لکچرر کام کرنے کا موقع مل گیا۔ مسعود حسین خاں لکھتے ہیں کہ’اب رشید صاحب کا اور میرا ہمہ وقت کا ساتھ تھا۔‘ ان دونوں شخصیات کا ساتھ اور ملنا جلنا 1976 تک قائم رہا، تا آنکہ جنوری 1977میں رشید احمد صدیقی کا علی گڑھ میں انتقال ہوگیا۔
بہترین خاکہ نگار وہ ہوتا ہے جس کی صاحبِ خاکہ سے نہ صرف معاصرت ہو، بلکہ ملاقات اور قربت بھی ہو۔ مسعود حسین خاں کی رشید احمد صدیقی سے نہ صرف معاصرت تھی، بلکہ گہری ملاقات اور قربت بھی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے نوکِ قلم سے رشید احمد صدیقی کا بہترین خاکہ نکلا۔ مسعود حسین خاں نے انھیں بہت قریب سے دیکھا تھا۔ ان کی شخصیت کے عام پہلوؤں پر ان کی گہری نظر تھی جن میں سے بعض کا ذکر انھوں نے اپنے اس خاکے میں کیا ہے۔ انھیں میں سے ایک پہلو مذہب کے متعلق ان کا رویہ تھا۔ بقول مسعود حسین خاں’رشید صاحب طبعاً ایک مذہبی ذہن کے مالک تھے۔ خاص طور پر اسلام کی عظمت اور فوقیت کے مقر اور قائل، لیکن طاعت و زہد کی جانب عملی رجحان بہت کم تھا۔ اس لیے انھوں نے مذہبی مباحث اور فرائض سے بیشتر خود کو دور رکھا، لیکن ہندی مسلمانوں کی تاریخ، تہذیب اور معاشرت سے انھیں گہری دلچسپی تھی جو ان کی تحریر و تقریر دونوں سے ظاہر ہوتی ہے۔ سرسید کو وہ مسلمانوں کا مسیحا سمجھتے تھے اور علی گڑھ تحریک کو ان کی نشاۃِ ثانیہ۔‘13 مسعود حسین خاں ان کے بارے میں مزید لکھتے ہیں کہ ’بنیادی طور پر وہ انسان اور قوم پرست تھے۔ اس لیے گاندھی، نہرو، محمد علی، اقبال اور ذاکر حسین جیسی شخصیتیں ان کے تخیل کو گرماتی تھیں۔‘‘ 14
رشید احمد صدیقی اور مسعود حسین خاں کا علی گڑھ میں تقریباً 37سال تک ساتھ رہا تھا۔ رشید احمد صدیقی، مسعود حسین خاں کے سب سے پہلے شفیق استاد اور مربی بنے، پھر شعبۂ اردو میں دونوں ایک دوسرے کے رفیقِ کار ہوگئے۔ اس کے بعد تادمِ آخر رشید احمد صدیقی، مسعود حسین خاں کے ہمدرد اور بہی خواہ بنے رہے۔ اس طویل عرصے کے دوران دونوں کے درمیان نہایت مخلصانہ اور خوشگوار تعلقات قائم رہے۔ جوں جوں وقت گزرتا گیا رشید احمد صدیقی کی گوناگوں شخصیت کی پرتیں کھلتی گئیں جس کا ’مجموعی تاثر‘ مسعود حسین خاں نے ان کا خاکہ لکھتے ہوئے یوں پیش کیا :
’’ میرا رشید صاحب کی شخصیت کا مجموعی تاثر ایک شدید انفرادیت، داخلیت پسند اور حساس طبیعت رکھنے والے فن کار کا ہے۔ وہ غیر معمولی، غیر تعقلی ذہانت اور بصیرت کے مالک تھے۔ ایک مخصوص طبقے ا ور عہد کی اقدار اور وضع داریوں کو عزیز رکھتے تھے، اور انھیں پیمانوں سے ان سب کو ناپتے جو ان کی رہ گذرِ حیات پر آنکلتے۔ وہ بت شکن سے زیادہ خدا ساز تھے ...اپنی ستائش سے گھبراتے، لیکن دوسروں کی ستائش جی کھول کر کرتے...انسانی ہمدردی ان میں کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ جہاں تک ممکن ہوتا ہر ایک کی حاجت روائی کرتے۔ سیکڑوں پران کے خاموش احسان ہیں، بعض احسان فراموش ہیں۔‘‘ 15
ڈاکٹر ذاکر حسین :
مسعود حسین خاں کا ڈاکٹر ذاکر حسین (1897-1969)پر خاکہ اولاً تقریری صورت میں معرضِ وجود میں آیا، پھر اسے تحریر کا جامہ پہنایا گیا جو ’ذاکر صاحب: ذاتی یادیں‘ کے عنوان سے اشاعت پذیر ہوا۔ ذاکر حسین، مسعود حسین خاں کے حقیقی چچا تھے۔ ان کی پرورش و پرداخت اور تعلیم و تربیت میں ذاکر حسین کا اہم رول رہا ہے، کیوں کہ ان کے (مسعود حسین خاں کے) والد کا انتقال جب وہ صرف دو سال اور دو مہینے کے تھے تبھی ہوگیا تھا۔ مسعود حسین خاں کی ذاکر حسین سے قرابت تو تھی ہی، انھیں ان کا قرب بھی حاصل تھا، چنانچہ انھیں اپنے چچا کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا تھا۔ اس خاکے میں مسعود حسین خاں نے ذاکر حسین کی شخصیت کی نمایاں خوبیوں کو بیان کرنے میں کوئی کسرباقی نہیں چھوڑی۔
ذاکر حسین جب جرمنی سے 1926میں پی ایچ .ڈی کی ڈگری لے کر اپنے وطن قائم گنج (ضلع فرخ آباد) لوٹے تو اس وقت مسعود حسین خاں کی عمر غالباً چھ سات برس کی تھی۔ وہ ان کا حلیہ یوں بیان کرتے ہیں :
’’ان کے چہرے پر کالی داڑھی تھی۔ معلوم نہیں انھوں نے بمبئی یا کہاں سے ایک سفید شیروانی حاصل کرلی تھی، وہ پہنے ہوئے تھے۔اسی شیروانی کے کپڑے کی ٹوپی بھی تھی، ان کے سر پر۔‘‘ 16
مسعود حسین خاں کی اپنے چچا سے یہ پہلی ملاقات تھی اور پہلا تاثر بھی، کیوں کہ تین چار سال قبل جب وہ جرمنی گئے تھے تو مسعود حسین خاں بہت چھوٹے تھے اور انھیں اس وقت کا کچھ یاد نہ تھا۔ جرمنی سے واپسی پر ذاکر حسین کو جامعہ ملیہ اسلامیہ کا شیخ الجامعہ (وائس چانسلر) بنادیا گیا تھا اور وہ دہلی چلے گئے تھے۔ چوں کہ قائم گنج میں تعلیم کا معقول انتظام نہ تھا، اس لیے ذاکر حسین نے اگلے سال (1927) مسعود حسین کو جامعہ ملیہ اسلامیہ بلالیا اور درجہ دوم میں داخلہ دلوا کر بورڈنگ ہاؤس میں رہنے کا انتظام کروادیا۔ جامعہ ملیہ اس زمانے میں قرول باغ میں واقع تھی، اور وہیں شیخ الجامعہ کی رہائش گاہ بھی تھی، لہٰذا ذاکر حسین کے گھر ان کا برابر آنا جانا رہتا تھا جس سے چچا اور بھتیجے میں قربت بڑھتی گئی۔ خاکہ نگاری کے لیے ضروری ہے کہ خاکہ نگار اور صاحبِ خاکہ میں معاصرت کے علاوہ قربت بھی ہو۔ مسعود حسین خاں کی ذاکر حسین سے نہ صرف قرابت تھی، بلکہ انھیں ذاکر حسین کا قرب بھی حاصل تھا۔ اسی لیے اس خاکے میں انھوں نے ذاکر حسین کی شخصیت کے بعض ایسے ذاتی نقوش کو اجاگر کیا ہے جن کا کسی کو بھی علم نہیں۔
جس زمانے میں ذاکر حسین نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شیخ الجامعہ کا عہدہ سنبھالا تھا وہ نہایت آزمائش کا زمانہ تھا۔ جامعہ بری طرح ’افلاس‘ کا شکار ہوگئی تھی۔ اخراجات کافی حد تک بڑھ گئے تھے اور ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ وہ اب بند ہوجائے گی، لیکن ذاکر حسین کو قوم کے نونہالوں کی تعلیم عزیز تھی۔ انھوں نے حالات کا مقابلہ کیا، دکھ جھیلے، اور کم مشاہروں پر کام کیا، لیکن جامعہ کو بند ہونے نہ دیا۔ یہ ان کے کردار کی ایک نمایاں خوبی اور ان کے عزم و عمل کا روشن پہلو ہے۔ مسعود حسین خاں لکھتے ہیں:
’’اس وقت ذاکر صاحب کی تحریک پر پندرہ بیس جاں بازوں کے ایک قافلے، ایک ٹولی نے عزم کیا کہ جامعہ کو بند نہیں ہونے دیں گے، اور اس عزم کے ساتھ وہ جتنے جامعہ کے مربی تھے ان سے ملا ... کہا کہ ہم اپنی تنخواہیں بند کرلیں گے، لیکن جامعہ کو بند نہیں ہونے دیں گے... بہرحال جامعہ بند نہ ہوئی اور ہم لوگ مکانوں اور گھروں کوواپس نہ کیے گئے۔‘‘ 17
ایک عمدہ خاکہ نگار کی نظر صاحبِ خاکہ کی ایک ایک چیز پر مرتکز ہوتی ہے جس کی وہ دلکش قلمی تصویر بنا کر قاری کے سامنے پیش کرتا ہے۔ علاوہ ازیں وہ صاحبِ خاکہ کی بعض ایسی باتوں کا بھی ذکر کرتا ہے جس سے اس کی شخصیت کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے، مثلاً اپنے مشاہدے کی بنیاد پر مسعود حسین خاں، ذاکر حسین کی حسِ مزاح اور انداز گفتگو کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’میں نے دیکھا کہ ان کے ہاں مزاح اور ٹھٹھول، بہت ہی شائستہ قسم کا مزاح بات بات سے ٹپکتا تھا۔ وہ اچھے کنورسیشنلسٹ (Conversationalist) تھے، مقرر تو تھے ہی ...لیکن ان کی ٹیبل ٹاکس (Table Talks)اس سے بھی زیادہ دلچسپ ہوتی تھیں، اور وہ اپنے مخصوص حلقوں میں جب کھلتے تھے تو واقعی ان کی زبان سے پھول جھڑتے تھے۔‘‘18
ذاکر حسین کی سرشت میں فیاضی کی صفت بھی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ وہ دوسروں کی مدد کرنے اور مالی امداد بہم پہنچانے میں پیش پیش رہتے تھے۔ مسعود حسین خاں نے ان کے حوالے سے ایک واقعے کا ذکر کیا ہے جس سے ان کی شخصیت کے اس پہلو پر بھی روشنی پڑتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’اس زمانے میں یہ اکثر ہوا ہے کہ کئی برس کے انتظار کے بعد نیا لحاف یا نیا گدّا، جڑاول بنائی گئی اور بعد کو معلوم ہوا کہ ایک دن وہ جڑاول، ابھی سردیاں آ بھی نہیں پائی تھیں، اس کا استعمال بھی نہیں شروع ہوا تھا کہ گھر سے غائب ہوگئی۔ تمام شورمچ رہا ہے، کون لے گیا، کہاں لے گیا، تو معلوم ہوا کہ انھوں نے کسی غریب طالب علم کو جو سردی میں اکڑ رہا تھا یا کسی اور غریب ساتھی کو اڑھادی 151 اور خود اپنے پرانے لحاف میں، گدے میں پڑے رہتے تھے۔‘‘19
ذاکر حسین کی شخصیت کئی صفات سے متصف تھی جن میں سے ایک تحمل اور قوتِ برداشت ہے۔ مسعود حسین خاں نے اسے ان کی ’اخلاقی صفت‘ قرار دیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں :
’’سب سے بڑی ان کی اخلاقی صفت جو تھی وہ تحمل تھا، برداشت تھی۔ وہ خود اپنی جان پر عذاب لیتے تھے، لیکن دوسروں کے لیے عذاب نہیں بنتے تھے۔‘‘20
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا وائس چانسلر بننے کے بعد بھی ان کے اندر وہی تحمل تھا۔ مسعود حسین خاں کے الفاظ میں :
’’علی گڑھ میں انھیں دیکھنے سے مجھے اندازہ ہوا کہ جتنا ضبط و تحمل ان کے پاس تھا وہ واقعی کم لوگوں کے پاس ہوگا۔‘‘21
مسعود حسین خاں نے ذاکر حسین کو خلوت اور جلوت، نیز گھر کے اندر اور باہر، ہر جگہ دیکھا تھا۔ انھوں نے ان کی سیرت و شخصیت کا نہایت گہرائی سے مشاہدہ کیا تھااور اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ وہ بنیادی طور پر ایک ’اخلاقی آدمی‘ تھے اور اخلاقی اقدار کی پابندی کرتے تھے۔ مذہب کی جانب بھی ان کارجحان تھا، چنانچہ وہ لکھتے ہیں :
’’آخری عمر میں ان کا رُجحان مذہب کی طرف ہوگیا تھا۔ ویسے وہ مذہب کے خلاف کبھی بھی نہیں رہے، اور اسلام کی جو بھی عبادات ہیں ان میں حسبِ توفیق حصہ بھی لیتے رہے، لیکن بنیادی طور پر وہ اخلاقی آدمی تھے...انھوں نے اپنی زندگی چند اخلاقی قدروں کے گرد بنائی تھی۔ وہ اخلاقی قدریں کچھ تو انھیں خود مذہبِ اسلام میں ہی مل گئی تھیں، کچھ انسانیت دوستی کی تحریک میں مل گئی تھیں جس سے یورپ کی فضا معمور تھی۔‘‘22
انگریزی کا ایک مقولہ ہے: A picture on the wall is the picture of the mind of the man who hangs it.اس کا سیدھا سا مفہوم یہ ہے کہ کسی شخص کی پسند و ناپسند اس کے ذہن کی غمازی کرتی ہے۔ مسعود حسین خاں نے ذاکر حسین کی تین سب سے زیادہ پسندیدہ شخصیتوں کا ذکر کیا ہے جس سے ان کی ذہنی قربت تھی اور اسی سے ان کی شخصیت کے خمیر کا پتا چلتا ہے۔ یہ شخصیتیں ہیں : گاندھی جی، علامہ اقبال اور حکیم اجمل خاں۔ گاندھی جی سے ذاکر حسین کا جو ذہنی ربط رہا ہے اس کے بارے میں ساری دنیا جانتی ہے، لیکن اقبال سے ذاکر حسین کے قلبی لگاؤ کے بارے میں بہت کم لوگوں کو علم ہے۔چوں کہ، جیسا کہ پہلے بھی کہا جاچکا ہے، مسعود حسین خاں کی ذاکر حسین سے نہ صرف قرابت تھی بلکہ قربت بھی تھی، اس لیے وہ ان کے گھر کے ’بھیدی‘ کے مانند تھے۔وہ بتاتے ہیں کہ گاندھی جی کے بعد ’’دوسری بڑی شخصیت جس سے کہ وہ [ذاکر حسین] متاثر تھے اور جو ان کی ذہنی ساخت کے بہت قریب تھی وہ اقبال کی شخصیت تھی۔ اقبال کا جادو سر پر بہت پہلے چڑھ گیا تھا ...انھیں اقبال کے اشعار بے شمار یاد تھے۔‘‘ 23
اقبال سے ذاکر حسین کی ذہنی قربت اور ہم آہنگی کے بارے میں وہ مزید لکھتے ہیں :
’’اقبال کے کلام کا وہ حصہ جو کہ عمل کی آواز دیتا ہے، انسان کی خودی کو بیدار کرتا ہے، جو نفس کو مارتا ہے، اوپر لے جاتا ہے اور انسان کو خدا صفت اور خدا نما بنانے کی کوشش کرتا ہے، یہ تمام چیزیں یقیناًان کے مزاج سے ہم آہنگ تھیں۔‘‘ 24
مسعود حسین خاں نے اپنے خاکے میں اس بات کا انکشاف کیا کہ ذاکر حسین کو اقبال کی نظم ’مسجدِ قرطبہ‘ بہت پسند تھی اور اس کا حسبِ ذیل بند انھیں بے حد ’محبوب‘ تھا :
ہاتھ ہے اللہ کا بندۂ مومن کا ہاتھ
غالب و کار آفریں، کار کشا، کار ساز
مسعود حسین خاں کا بیان ہے کہ ذاکر حسین آخری دور میں جب وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر تھے’شام کو کھانے کے بعد‘اس بند کو’گنگنا کر‘ پڑھا کرتے تھے۔ اقبال نے متذکرہ بند میں ’بندۂ مومن‘ کی تعریف یوں کی ہے :
اس کی امیدیں قلیل اس کے مقاصد جلیل
رزم ہو یا بزم ہو، پاک دل و پاک باز
مسعود حسین خاں لکھتے ہیں کہ ’ذاکر صاحب کی شخصیت بھی اسی سے عبارت تھی، جو رزم اور بزم میں دلِ پاکبازکے ساتھ رہے۔‘‘ 25
ایسا نہیں ہے کہ مسعود حسین خاں نے ذاکر حسین کی صرف خوبیاں ہی بیان کی ہوں، انھوں نے ان کی کمزوریوں کو بھی اجاگر کیا ہے، خاص طور پر اس زمانے میں جب وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر (شیخ الجامعہ تھے)۔ جامعہ کے ملازمین کے ساتھ ان کا رویہ نہایت نرم تھا، خواہ وہ استاد ہو یا کلرک یا چپراسی۔ وہ کسی پر سختی کرنا جانتے ہی نہ تھے۔اگر کبھی کوئی کسی بات پر خفا ہوجاتا تو اس کے مکان پر جا کر تاسف کا اظہار کرتے اور اسے منالیتے۔ ہر شخص کو برابری کا درجہ حاصل تھا، کوئی بھی شخص کسی کو بھی خواہ وہ عہدیدار ہی کیوں نہ ہو ٹوک دیتا تھا۔ یہاں تک کہ ’’جب مجلسِ شوریٰ ہوتی تھی تو ہر شخص شیخ الجامعہ سے یا دوسرے کسی عہدیدار سے، خازن سے برابری کی گفتگو کرتا تھا، اور اپنی تجاویز پر اٹھ کر واک آؤٹ (Walkout)بھی کرجاتا تھا۔‘ 26جب وہ 1948میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر بن کر آئے تو مسعود حسین خاں وہاں شعبۂ اردو میں لکچرر تھے۔ انھوں نے ذاکر حسین سے کہا، ’علی گڑھ کو آپ اس انداز سے نہ چلائیے جس انداز سے کہ جامعہ ملیہ چلائی ہے۔‘ وہ ان سے کہتے تھے یہ بڑا ادارہ ہے، یہاں آپ کو’ایڈمنسٹریٹر‘ بننا ہے۔27
ذاکرحسین پر مسعود حسین خاں کے اس خاکے کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں نہ تو تعلیمی میدان میں ان کی خدمات سے بحث کی گئی ہے اور نہ ہی ان کے سیاسی کارنامے بیان کیے گئے ہیں، بلکہ اسے صرف ذاتی باتوں تک ہی محدود رکھا گیا ہے اور ان کی شخصیت کے وہ نقوش پیش کیے گئے ہیں جو عام نظروں سے اوجھل تھے۔
محمد ہدایت اللہ :
مسعود حسین خاں نے جسٹس محمد ہدایت اللہ (1905-1992)کا بھی خاکہ لکھا ہے جن سے ان کے تقریباً پانچ سال تک 1973)تا1978) مراسم رہے تھے۔ ہدایت اللہ سے مسعود حسین خاں کی پہلی ملاقات اس وقت ہوئی جب انھوں نے جامعۂ ملیہ اسلامیہ (نئی دہلی) کے شیخ الجامعہ (وائس چانسلر) کا عہدہ سنبھالا۔ ہدایت اللہ جامعہ ملیہ اسلامیہ (جو اس وقت ’ڈیمڈ‘ یونیورسٹی تھی)کے امیرِ جامعہ (چانسلر) تھے۔ انھوں نے ہی، بحیثیتِ امیرِ جامعہ، مسعود حسین خاں کو جامعہ ملیہ اسلامیہ کی وائس چانسلر شپ کے لیے تین اشخاص کے ایک پینل میں سے منتخب کیا تھا۔28
مسعود حسین خاں کی ہدایت اللہ سے جب پہلی ملاقات ہوئی تو ان کے ذہن پر ہدایت اللہ کی شخصیت کا بہت اچھا تاثر قائم ہوا۔ وہ اپنے خاکے ’امیرِجامعہ جسٹس ہدایت اللہ‘ میں لکھتے ہیں :
’’15 منٹ کی گفتگو کے بعد میرے ذہن میں جو ان کا تاثر قائم ہوا وہ یہ تھا کہ اعلیٰ مناصب پر فائز رہنے کے باوجود ان کی باتوں میں ایک خاص قسم کی سادگی اور بے تکلفی تھی۔یہ معلوم ہی نہیں ہوتاتھا کہ وہ مدھیہ پردیش کے چیف جسٹس یا چیف جسٹس آف انڈیا کے اعلیٰ مناصب پر فائز رہ چکے ہیں، جن کے قانونی فیصلے تاریخ ساز رہے، اور جو اپنی دیانت اور حق گوئی کے باعث اعلیٰ ترین سرکاری حلقوں میں عزت کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔‘‘29
مسعود حسین خاں کا خیال یہ تھا کہ چوں کہ ہدایت اللہ ملک کے اعلیٰ مناصب پر فائز رہ چکے تھے، اس لیے جامعہ ملیہ اسلامیہ کی چانسلری ان کے لیے ایک ’معمولی منصب‘ تھا۔ مسعودحسین خاں نے اپنے متذکرہ خاکے میں ہدایت اللہ کی شخصیت کے حقیقی خد و خال بلا تکلف بیان کردیے ہیں۔ ان کی شخصیت کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ سے جو ایک قومی و ملی طرز کا ادارہ تھا، ان کی دلچسپی، امیرِ جامعہ ہونے کے باوجود ’برائے بیت‘ تھی۔ مسعود حسین خاں کے الفاظ میں :
’’ان کا تعلق ان قوم پرست سرفروشوں کے گروہ سے نہیں رہا تھا جنھوں نے اس ادارے کی بنیاد ڈالی تھی، اور پھر اپنے بے پناہ جذبۂ ایثار و قربانی سے اسے پروان چڑھایا۔ در اصل ان کی شخصیت مولانا محمد علی، حکیم اجمل خاں یا ڈاکٹر ذاکر حسین کے کینڈے سے بالکل مختلف تھی۔‘‘30
ہدایت اللہ کی شخصیت کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے، اور غالباً اسی میں ان کی شخصیت کی جیتی جاگتی اور چلتی پھرتی تصویر ابھرتی ہوئی نظر آتی ہے، ملاحظہ کیجیے :
’’عوام سے دور، خواص میں مقبول، گولف اور برج کے شائق، مگر اپنے فن میں طاق!‘‘31
مسعود حسین خاں نے اس ایک بھرپور جملے میں ان کی شخصیت کی پوری عکاسی کردی ہے۔ یہ ان کی خاکہ نگاری کا کمال ہے۔
چونکہ امیرِ جامعہ ہدایت اللہ کی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے معاملات سے دلچسپی برائے نام تھی، اس لیے جامعہ کو چلانے کی پوری ذمے داری مسعود حسین خاں کے کندھوں پر آن پڑی، جن کا بنیادی رشتہ اور گہرا تعلق علمی دنیا سے تھا اور انتظامی امور کا انھیں نہ تو کوئی تجربہ تھا اور نہ اس سے کوئی دلچسپی تھی۔ انھوں نے (بقولِ خود) صرف جامعہ کی محبت میں ’اوکھلے میں سر‘ دیا تھا۔32 وہ طبعاً سرکار کی دہلیز سے دور ہی رہنا پسند کرتے تھے۔ وہ بحیثیتِ شیخ الجامعہ گورنمنٹ آف انڈیا کے کسی جوائنٹ سکریٹری یا ڈپٹی سکریٹری سے ملنے میں بھی اپنی ’سبکی‘ محسوس کرتے تھے۔ ایسی صورت میں جامعہ کی ترقی یا Expansionکا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مسعود حسین خاں لکھتے ہیں کہ’جب جسٹس صاحب سے میں نے اپنی کمزوری کا ذکر کیا تو معلوم ہوا کہ اس معاملے میں وہ مجھ سے بھی زیادہ خستہ تر نکلے۔‘‘33
ہدایت اللہ کی عوام سے دوری اور خواص میں مقبولیت کا ذکر آچکا ہے، چنانچہ جامعہ کے سلسلے میں جب بھی کسی صاحبِ معاملہ سے ملنے ملانے کا ذکر آتا تو بقولِ مسعود حسین خاں :
’’ان کا ٹکا سا جواب ہمیشہ یہ ہوتا کہ مَیں وزیر اعظم سے مل سکتا ہوں، صدرِ جمہوریۂ ہند کے یہاں حاضری دے سکتا ہوں، لیکن ان سے کم درجہ عہدہ داروں سے ملنا میرے لیے کسرِشان ہے۔‘‘ 34
یہ ہدایت اللہ کا خواص پسند مزاج تھا کہ وہ وزیر اعظم کا ذکر بار بار مسعود حسین خاں سے کرتے تھے، چنانچہ انھی کے مشورے سے یہ طے پایا تھا کہ سال 1976کے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے کانووکیشن ایڈریس کے لیے وزیرِ اعظم مسزاندراگاندھی (1917-1984)کو مدعو کیا جائے۔ مدعو کرنے کی ذمے داری بھی انھوں نے ہی لے لی، چنانچہ اندرا گاندھی جامعہ ملیہ تشریف لائیں اور کانووکیشن بحسن و خوبی انجام پذیر ہوا۔
مسعود حسین خاں نے ہدایت اللہ کی خواص پسند افتادِ طبع کی ایک اور مثال بھی پیش کی ہے۔ اگلے سال جب جامعہ ملیہ اسلامیہ کے کانووکیشن کا زمانہ آیا تو ملک کا سیاسی منظرنامہ بدل چکا تھا، اور اب مرکز میں جنتا پارٹی کی حکومت قائم تھی اور اس کے قائد کی حیثیت سے شری مرارجی ڈیسائی (1896-1995) ملک کے وزیر اعظم تھے۔ چنانچہ ہدایت اللہ کے مشورے سے مرارجی ڈیسائی کو کانووکیشن ایڈریس کے لیے مدعو کیا جانا طے پایا۔ اس بار بھی انھوں نے وزیر اعظم کو جامعہ میں لانے کی ذمے داری قبول کی اور وہ اس ادارے میں بخوشی تشریف لائے۔ مسعود حسین خاں ہدایت اللہ کے اس عمل پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’معلوم ہوا کہ ان کی رسائی نئے وزیر اعظم کے در تک اسی طرح ہے جیسی کہ سابق وزیرِ اعظم کے در تک تھی۔‘‘35
مسعود حسین خاں نے ا پنے خاکے میں ہدایت اللہ کی شخصیت کی بھرپور عکاسی کی ہے، اور ان کی خوبیوں کے ساتھ ساتھ ان کی خامیوں اور کمزوریوں کو بھی اُجاگر کیا ہے۔ ان میں سے بعض باتوں کا ذکر اوپر آچکا ہے۔ اس خاکے میں مسعود حسین خاں نے صاحبِ خاکہ سے متعلق اپنے مشاہدات اور قیاسات بھی بیان کیے ہیں جس کا ایک خاکہ نگار کی حیثیت سے انھیں پورا حق حاصل ہے،مثلاً151
.1 ’جسٹس ہدایت اللہ پر امیرِ جامعہ کا منصب ایک طریقے سے تھوپا گیا تھا۔‘
.2 ’ہدایت اللہ صاحب اپنی قانونی مہارت، حلم اور دیانت داری کاشہرہ رکھتے تھے۔‘
.3 ’جن کے قانونی فیصلے تاریخ ساز رہے۔‘
.4 ’جسٹس ہدایت اللہ وزیرِ اعظم سے کم درجہ کے عہدے دار سے کسی قسم کی بات کرنے کو ...اپنی کسرِ شان سمجھتے تھے۔‘
.5 ’وہ مجمع کے نہیں مجلس کے انسان تھے۔‘36
اس خاکے سے ہدایت اللہ سے متعلق بعض ذاتی نوعیت کی باتوں کا بھی انکشاف ہوتا ہے جن کا ان کی شخصیت سے بھی گہرا تعلق ہے، مثلاً 151
.1 وہ چیف جسٹس آف انڈیا کے عہدے پر فائز رہ چکے تھے۔
.2 ان کی اہلیہ کا نام پشپا تھا جنھیں رفاہی کاموں سے دلچسپی تھی۔
.3 وہ جب دہلی آتے تھے تو اشوکا ہوٹل ان کا مسکن ہوتا تھا۔
.4 ان کے کپڑے کناٹ پلیس (نئی دہلی) میں واقع Laffon Tailorsکے یہاں سلتے تھے۔
.5 وہ گولف اور برج کے شائق تھے۔ 37
ہدایت اللہ کی شخصیت میں جو اَنا تھی اس کی عکاسی مسعود حسین خاں ان کے اس خاکے میں کرچکے ہیں۔ اب وہ ان کی شخصیت کے ایک اور رُخ کو پیش کرنا چاہتے ہیں۔ یہ اپنے سے کم رتبے والے بالخصوص اعلیٰ تعلیم کی دانش گاہ کے باعزت اساتذہ کے تئیں ان کا غیر اخلاقی، غیر مہذب اور آمرانہ رویہ تھا۔ مسعود حسین خاں کی جامعہ ملیہ اسلامیہ کی وائس چانسلرشپ کے دوران میں وہاں کے اساتذہ نے اپنی بات منوانے کے لیے دھرنے اور اسٹرائک کا سہارا لیا تھا۔ اساتذہ کی یہ ’شورش‘ وہاں کے شعبۂ اردو کے ایک معروف پروفیسر کے خلاف اور نتیجتاً مسعود حسین خاں (وائس چانسلر) کے خلاف تھی۔ مسعود حسین خاں نے جب اس بات کا تذکرہ ہدایت اللہ (چانسلر) سے کیا تو انھوں نے ’مٹھی باندھ کر اور ہاتھ اٹھا کر‘ غصے کے لہجے میں کہا :
’’مسعود صاحب! ان کا علاج ڈنڈا، بس ڈنڈا ہے۔‘‘
مسعود حسین خاں نے جو خود ایک استاد رہ چکے تھے اس غیر ذمہ دارانہ بیان پر یوں تبصرہ کیا :
’’بحیثیت ایک پیشہ ور استاد کے مجھے ان کے اس فقرے پر تعجب ہوا اور کسی قدر تکلیف بھی، لیکن بعد کو جب معلوم ہوا کہ جسٹس کی حیثیت سے وہ مجرموں کی سزائے موت اور جسمانی سزا دونو ں کی تائید میں تھے،تو زیادہ تعجب نہیں ہوا۔‘‘ 38
عبدالقادر سروری :
عبدالقادر سروری (1906-1971)پرمسعود حسین خاں کاخاکہ اس جملے سے شروع ہوتا ہے :
’’مرنے والے کی خوبیاں اور نیکیاں یاد رہ جاتی ہیں۔‘‘39
اس میں کوئی شک نہیں کہ عبدالقادر سروری کی شخصیت بے شمار خوبیوں کا مرقع تھی جن کا ذکر مسعود حسین خاں نے اپنے خاکے ’پروفیسر عبدالقادر سروری مرحوم‘ میں بڑی محبت سے کیا ہے، لیکن اسی کے ساتھ ان کی شخصیت کی بعض کمزوریاں بھی نوکِ قلم پر آگئی ہیں اور بعض ایسی باتیں بھی جو چونکادینے والی ہیں۔ عبدالقادر سروری سے مسعود حسین خاں کے نہایت دیرینہ مراسم تھے۔ عبدالقادر سروری کا تعلق دکن سے تھا، اور مسعود حسین خاں نے بھی چھے سال (1962تا 1968) حیدرآباد (دکن) میں گزارے تھے جب وہ عثمانیہ یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں پروفیسر و صدر تھے، لہٰذا ان دونوں اکابرین میں معاصرت کے علاوہ قربت بھی تھی۔ اسی لیے مسعود حسین خاں نے ان کی شخصیت کا نہایت گہرا مطالعہ کیا تھا۔ وہ لکھتے ہیں :
’’میں نے انھیں قریب و دور، ہر فاصلے اور ہر رنگ میں دیکھا ہے۔‘‘40
عبدالقادر سروری علمی میدان میں شروع ہی سے سرگرم رہے تھے۔ ان کی سب سے پہلی کتاب ’دنیائے افسانہ‘ اس وقت شائع ہوئی تھی جب وہ محض بیس سال کے تھے۔ تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد ان کا تقرر جامعہ عثمانیہ (حیدرآباد) کے شعبۂ اردو میں ’’مددگار پروفیسر‘‘ کی حیثیت سے ہوگیا تھا۔ ’دنیائے افسانہ‘ کے بعد ان کی کئی اور کتابیں شا ئع ہوئیں، مثلاً ’کردار اور افسانہ‘، ’جدید اردو شاعری‘، ’اردو مثنوی کا ارتقا‘، وغیرہ۔ عثمانیہ یونیورٹی کے بعد انھوں نے میسور یونیورسٹی کے شعبۂ اردو و فارسی میں پروفیسر اور صدرِ شعبہ کی خدمات انجام دیں، چنانچہ وہاں بھی ان کی علمی سرگرمیاں جاری رہیں اور وہاں کے دورانِ قیام بھی انھوں نے کچھ نہ کچھ لکھا ۔ آخرِ عمر میں وہ کشمیر یونیورسٹی (سری نگر) کے شعبۂ اردو میں پروفیسر و صدر کے عہدے پر فائز ہوگئے تھے، اور وہیں 11مارچ 1971کو ان کا انتقال ہوگیا۔ سری نگر (کشمیر) کے دورانِ قیام بھی انھوں نے دو کتابیں بعنوان ’کشمیر میں اردو‘اور ’کشمیر کے دو ادیب، دو بھائی‘ تصنیف کیں۔ غرض کہ وہ جہاں کہیں بھی رہے، ان کی علمی سرگرمیاں جاری رہیں۔
عبدالقادر سروری نے پونا کے دکن کالج میں 1956میں منعقدہ لسانیات (Linguistics)کے سَمراسکول میں بھی شرکت کی اور وہاں سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد ’زبان اور علمِ زبان‘کے نام سے ایک کتاب تصنیف کی جس سے طلبہ آج بھی استفادہ کرتے ہیں۔ یہ بات نہایت دلچسپ ہے کہ جب انھوں نے دکن کالج (پونا) کے سَمر اسکول میں داخلہ لیا تھا تو وہ سن رسیدہ تھے۔ وہ مسعود حسین خاں (جو اس سَمر اسکول میں ا ستاد کی حیثیت سے پہنچے تھے) سے بھی عمر میں کافی بڑے تھے۔ یہ عبدالقادر سروری کا علمی ذوق و شوق ہی تھا جو انھیں کشاں کشاں پونا( دکن کالج) لے گیا تھا۔ مسعود حسین خاں عبدالقادر سروری کی شخصیت کے اس پہلو کو اپنے خاکے میں اُجاگر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’علمی مشاغل میں ان کی بے پناہ لگن، تحصیلِ علم کے لیے ان کی سن و سال سے بالا تر ہو کر مسلسل تگ و دو ... اپنے کم عمروں سے علمی استفادہ کرنے میں ان کی بے تکلفی ...بے شمار واقعات ہیں جو اس سلسلے میں یاد آرہے ہیں۔‘‘ 41
پونا کے لسانیات کے سَمر اسکول میں عبدالقادر سروری کی شرکت کاذکر مسعود حسین خاں ذرا تفصیل سے کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں :
’’جب 1955 میں پونا میں لسانیات کے اسکولوں کا آغاز ہوا تو دوسرے ہی اسکول میں ایک طالب علم کی حیثیت سے [عبدالقادر سروری نے] اپنا نام درج کرایا اور ڈیڑھ ماہ تک طالب علم کی حیثیت سے دیگر طالب علموں کے ساتھ ہاسٹل میں مقیم رہے۔ مَیں ان اسکولوں میں استاد کی حیثیت سے پڑھانے جاتا تھا، جب بھی ان کی اس ریاضت کے ذکر پر تعجب کا ذکر کرتا، ہنس کر کہتے، اکتسابِ علم کے لیے یہ بھی ضروری ہے۔‘‘42
مسعود حسین خاں نے عبدالقادر سروری کا خاکہ لکھتے ہوئے ان کی شخصیت کی تین خصوصیات کا بطورِ خاص ذکر کیا ہے 151 سادگی، توانائیِ مجسم اور نئے دوست بنانا۔ ان کے الفاظ میں :
’’سروری صاحب کی شخصیت کی سب سے پرکار خصوصیت ان کی سادگی تھی۔ کیا لباس، کیا خوراک اور کیا سفرو حضر، ہمیشہ موٹر نشین رہے، لیکن اسے ہمیشہ اپنامرکب سمجھا، اپنے لیے باعثِ افتخار نہیں بنایا ...سروری صاحب توانائیِ مجسم تھے، مسلسل حرکت ان کے لیے ناگزیر تھی۔ جہاں جاتے نئی دوستیاں... بآسانی پیدا کرلیتے۔‘‘43
عبدالقادر سروری کی شخصیت کی ایک خامی یا کمزوری یہ تھی، بلکہ ان کی شخصیت کا تضاد تھا کہ جہاں وہ لوگوں سے ’دوستیاں‘ پیدا کرتے تھے وہیں’مخالفتیں‘ بھی مول لے لیتے تھے، اور اس پر اظہار تاسف نہیں کرتے تھے، بلکہ اس کے جواز میں مولوی عبدالحق (1870- 1961)کا ایک قول دہراتے تھے جو انھیں بے حد پسند تھا، وہ یہ کہ 151 ’انسان کی مخالفت درختوں یا جڑوں سے نہیں پیدا ہوتی، انسانوں ہی سے ہوتی ہے۔‘ مسعود حسین لکھتے ہیں :
’’میں ہمیشہ اس قول پر ان کو داد ان الفاظ میں دیتا، سروری صاحب آپ میں مخالفت پیدا کرنے اور پھر اس کو سر کرنے کی غیر معمولی صلاحیت ہے۔‘‘ 44
اس کے جواب میں وہ مسکرادیتے۔ مسعود حسین خاں اس کی منظر کشی ایک فارسی مصرع کے ذریعے یوں کرتے ہیں، ع
تبسمے بہ لبِ او رسید و ہیچ نہ گفت
عبدالقادر سروری کا تعلق اگرچہ خطۂ دکن سے تھا، لیکن انھوں نے کبھی دکنی، غیر دکنی یا ملکی، غیر ملکی (شمالی) کی تفریق کے بارے میں نہیں سوچا۔ وہ علاقائیت سے بالاتر ہو کر اردو زبان و ادب کی بے لوث خدمت انجام دیتے رہے۔ وہ حیدرآباد میں بھی رہے اور میسور میں بھی، اور آخری زمانے میں ان کا قیام سری نگر (کشمیر) میں بھی رہا۔ وہ جہاں کہیں بھی رہے، اردو کی خدمت کرتے رہے اور اس کی ترویج و اشاعت میں مقدور بھر حصہ لیتے رہے۔ اردو کی خدمت کا جذبہ ان کے اندر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔مسعود حسین خاں نے ان کے اس جذبے کو جو ان کی شخصیت کے خمیر میں شامل تھا خوب سراہا ہے۔ وہ لکھتے ہیں :
’’سروری صاحب کی وفاداری ایک عالم کی حیثیت سے مقام سے نہیں زبان سے تھی۔ اردو کو جہاں جہاں جس روپ میں پایا اس کے تحفظ و بقا کے لیے اپنی علمی صلاحیتوں کو وقف کردیا۔ اس زبان کے لیے ان میں ایک لگن تھی...ہمہ وقت وہ اس کی تعلیم اور تنظیم میں منہمک رہے۔ اسی کا کھایا، اسی کا گایا، اسی کو اپنی میراث جانا، اسی کو اپنی نجات مانا۔‘‘45
ان کے سانحۂ ارتحال سے اردو پر کیا گذری، مسعود حسین خاں کے الفاظ میں :
’’آج جو وہ ہم میں نہیں تو اردو کے قافلے کا ایک اہم شہسوار نابود ہوگیا ہے، آج جو وہ دور چلے گئے ہیں تو اردو کا افق کچھ اور غبار آلود ہوگیا ہے۔‘‘46
حواشی:
.1 مرزا فرحت اللہ بیگ دہلی کے رہنے والے تھے، لیکن ان کی عمر کا بیشتر حصہ حیدرآباد (دکن) میں گذرا اور وہیں انھوں نے وفات پائی۔ وہ اردو کے مایۂ ناز خاکہ نگار تھے۔ ’ڈاکٹر نذیر احمد کی کہانی، کچھ میری اور کچھ ان کی زبانی‘ ان کا بہترین خاکہ ہے جس کی وجہ سے ان کا شمار اردو کے صفِ اول کے خاکہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ اسے اردو کا پہلا کامیاب ترین طویل خاکہ کہا گیا ہے۔ یہ خاکہ سب سے پہلے انجمن ترقی اردو کے سہ ماہی مجلے ’اردو‘، بابت جولائی 1927 (ساتویں جلد) میں شائع ہوا۔
.2 مرزا اکبر علی بیگ کا تعلق بھی حیدرآباد (دکن) سے تھا۔ وہ عثمانیہ یونیورسٹی (حیدرآباد) میں اردو کے استاد تھے۔ خاکہ نگاری سے انھیں بے حد دلچسپی تھی۔ ان کے خاکوں کے دو مجموعے، ’خوش نفساں‘ (1983)اور ’نفوسِ گرامی‘ (2003)شائع ہوچکے ،ہیں۔
.3 ایک مونڈھے میں Backنہیں تھی اور دوسرا مونڈھا Backکے ساتھ تھا، جیسے کہ Back Chairہوتی ہے۔ (م خ ا ب)
.4 غالب کا وہ شعر یہ ہے :
ایماں مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر
کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے
(م خ ا ب)
.5 مسعود حسین خاں، ’رشید صاحب: چند یادیں‘، مشمولہ ’مضامینِ مسعود‘ از مسعود حسین خاں
(علی گڑھ: ایجوکیشنل بک ہاؤس، 1997)، ص209-10
.6 ایضاً، ص 210، .7 ایضاً، ص 211، .8 ایضاً ،ص211
.9 ایضاً ،ص212، .10 ایضاً ،ص212، .11 ایضاً ،ص212
.12 ایضاً ،ص212-13، .13 ایضاً ،ص215-16، .14 ایضاً ،ص216، .15 ایضاً ،ص215
.16 مسعودحسین خاں، ’’ذاکر صاحب: ذاتی یادیں‘‘، مشمولہ ’مضامینِ مسعود‘ از مسعود حسین خاں
(علی گڑھ: ایجوکیشنل بک ہاؤس، 1997)، ص192
.17 ایضاً ،ص194، .18 ایضاً ،ص195، .19 ایضاً ،ص196، .20 ایضاً ،ص200، .21 ایضاً ،ص203
.22 ایضاً ،ص204-205، .23 ایضاً ،ص205،.24 ایضاً ،ص206،.25 ایضاً ،ص208،
.26 ایضاً ،ص198-99، .27 ایضاً ،ص201
.28 وہ تین اشخاص یہ تھے: (1) پروفیسر مسعود حسین خاں، (2) پروفیسرمحمد شفیع (علی گڑھ)
(3) ڈاکٹر سلامت اللہ (جامعہ ملیہ اسلامیہ)
.29 مسعود حسین خاں، ’امیرِ جامعہ جسٹس ہدایت اللہ‘، مشمولہ ’مضامینِ مسعود‘
از: مسعود حسین خاں (علی گڑھ:ایجوکیشنل بک ہاؤس، 1997)، ص218-19
.30 ایضاً ،ص219، .31 ایضاً ،ص219
.32 یہ فقرہ مسعود حسین خاں کا ہے۔جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کے جس علاقے میں واقع ہے اسے ’اوکھلا‘ کہتے ہیں۔ ’اوکھلی میں سر دینا‘ اردو کا ایک عام محاورہ ہے۔ اوکھلی میں سر دینے کا کیا انجام ہوتا ہے یہ سبھی کو معلوم ہے۔ اوکھلی از روئے قواعد اسمِ تصغیر ہے۔ (اور اسمِ مونث بھی)۔اوکھلا اسمِ مذکر ہے اور اوکھلی سے بڑا بھی ہے، چنانچہ اس میں اگر سر دیا جائے تو کیا انجام ہوگا، یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔ مسعود حسین خاں نے اوکھلی (جو یہاں مضمر ہے) اور اوکھلا میں لغوی مناسبت پیدا کی ہے اور لفظ ’اوکھلا‘ میں ذو معنیت جس سے مزاح کی چاشنی پیدا ہوگئی ہے۔ (دیکھیے ’مضامینِ مسعود‘، ص 219)
.33 ایضاً ،ص219، .34 ایضاً ،ص219، .35 ایضاً ،ص221
.36 دیکھیے مسعود حسین خاں کا مضمون ’امیرِ جامعہ جسٹس ہدایت اللہ‘، مشمولہ ’مضامینِ مسعود‘، ص 218-24
.37 ایضاً ،ص218-24، .38 ایضاً ،ص223
.39 مسعود حسین خاں، ’پروفیسر عبدالقادر سروری مرحوم‘، مشمولہ ’اردو کا المیہ‘ از مسعود حسین خاں،
مرتبہ :مرزا خلیل احمد بیگ (علی گڑھ: شعبۂ لسانیات، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، 1973)،ص 189
.40 ایضاً ،ص190، .41 ایضاً ،ص190، .42 ایضاً ،ص190، .43 ایضاً ،ص191
.44 ایضاً ،ص191، .45 ایضاً ،ص192-93، .46 ایضاً ،ص193
v
Mirza Khalil Ahmed Beg
Brookfield, CT, USA

سہ ماہی فکر و تحقیق
اپریل تا جون 2018

7/6/18

مضمون:۔ اردو کی تین جدید مثنویاں: ایک تجزیاتی مطالعہ۔ منظر اعجاز








اردو کی تین جدید مثنویاں : ایک تجزیاتی مطالعہ
منظر اعجاز
اردو مثنوی نگاری کی تاریخ کم و بیش چھ سو برسوں پر مشتمل ہے۔ جب کہ تین سو برسوں کا سفرخطۂ دکن کے دائرے میں محدود ہے اور بعد کے تین سو برسوں میں شمال اورشمال مشرقی علاقے شامل ہیں۔ اس دوران مختلف اور متعدد موضوعات و مسائل پر اردو مثنویاں معرض تخلیق و تحریر میں آئیں۔ تنوع، رنگا رنگی اور بوقلمونی پیدا ہوئی۔ لیکن اردو مثنویوں کے اس طویل سفر میں اقبال کو ایک اہم موڑ قرار دیا گیا۔ جواز کے طور پر’ساقی نامہ‘ کو بطور خاص پیش کیا جاتا ہے۔ اقبال نے اس کے 99اشعار کو سات بندوں میں تقسیم کیا ہے اور ہر بند کے اخیر میں ٹیپ کا شعر دے کر ترکیب بند کی صورت عطا کردی ہے۔ اس کا شمار نہ صرف اقبال کی بلکہ اردو کی شاہکار نظموں میں ہوتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اقبال کے نظامِ فکر میں خودی کا فلسفہ جو کلیدی حیثیت و اہمیت کا حامل ہے اور اسرار و رموز میں تفصیل کے ساتھ پیش کیا گیا ہے، وہی اختصار و جامعیت’ کے ساتھ’ ساقی نامہ‘ میں بھی آگیا ہے۔ فکری تعمیر اور فنی و صوری تشکیل کے لحاظ سے بھی یہ نظم اقبال کی جدت طراز یوں کا مظہر ہے۔ اقبال کی ادبی و شعری شخصیت کا امتیازی پہلو یہ بھی ہے کہ ان کے اثرات متاخرین پر کسی نہ کسی جہت سے ضرور مرتب ہوئے۔ اس سلسلے میں جمیل مظہری کے علاوہ ان کے کئی معاصرین کے نام بھی آتے ہیں۔ جمیل مظہری کی نظم نگاری کے حوالے سے اظہارخیال کرتے ہوئے مظہر امام رقم طراز ہیں :
’’ جمیل مظہری کا شمار اردو نظم کے بڑے شاعروں میں ہوتا ہے۔ اقبال کے بعد اردو نظم نگاری کے افق پر جوش ملیح آبادی، سیماب اکبر آبادی، حفیظ جالندھری، اختر شیرانی، احسان دانش، ساغر نظامی، روش صدیقی وغیرہ نے اپنی روشنی بکھیری، یہ سب جمیل مظہری کے ہم عصر ہیں اور وہ ان اکابر کی صف میں نہ صرف شامل ہیں، بلکہ اپنی فکری صلابت اور فنی بالیدگی کے اعتبار سے اپنے کئی ہم عصروں میں ممتاز ہیں۔ ان تمام نظم گو شعرا کے یہاں اقبال کا اثر کسی نہ کسی لحاظ سے موجود ہے۔ جمیل مظہری کے یہاں بھی یہ تاثر پذیری ملتی ہے۔ اقبال کو انھوں نے اپنا’مرشد فن‘ کہا ہے۔ لیکن اس تاثر پذیری کے باوجود انھوں نے ہر جگہ اپنی انفرادیت برقرار رکھی ہے۔ ان کی فکر اپنی ہے، ان کا لب و لہجہ اپنا ہے۔‘ ‘
 ( جمیل مظہری، ہندوستانی ادب کے معمار،ساہتیہ اکادمی۔ ص :47)
مظہر امام نے اقبال کے بعد کے جن نظم گو شعرا پر اقبال کے اثرات کا مجموعی طور پر تذکرہ کیا ہے ان میں اکثر و بیشتر نے مثنویاں لکھی ہیں۔ جمیل مظہری نے بھی دو مثنویاں لکھیں۔ ’آب و سراب‘ اور ’جہنم سے‘ لیکن میں یہاں آب وسراب کے سلسلے میں ہی گفتگو کروں گا۔ میں نے بہار کی جن تین مثنویوں کا انتخاب کیا ہے، ان میں آب و سراب سرِ فہرست ہے۔ اور میرے خیال میں اقبال کی’ساقی نامہ‘ اور جمیل مظہری کی آب و سراب مقاصد و نتائج کے اعتبار سے بہت حد تک یکسانیت رکھتی ہیں۔ لیکن سر دست میرا مقصد ان دونوں کا موازنہ اور تقابلی تجزیہ نہیں۔ البتہ یہ ضرور ہے کسی نہ کسی جہت سے جمیل مظہری کے یہاں اقبال کی تاثر پذیری ملتی ہے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ جمیل نے اپنی انفرادیت برقراررکھی ہے اور اپنے ہم عصر ومتعاقب نسل کو بھی متاثر کیا ہے۔ عبد الحمید شمس کی مثنوی’حیات و کائنات‘ اور مرتضیٰ اظہار رضوی کی مثنوی’خور و خواب‘ جمیل مظہری کی تاثر پذیری کا نتیجہ ہی نہیں، یہ دونوں مثنویاں باز گشت کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مثنوی کی جو روایتی صورت صدیوں سے اپنی مستحکم شناخت رکھتی ہے، وہ یہاں بھی برقرار ہے۔ جمیل مظہری سے تاثر پذیری کا اظہار و اعتراف خود ان کے تخلیق کاروں نے بھی کیا ہے۔
عبد المجید شمس معترف ہیں کہ :
آیا جو خیال مثنوی کا
احسان ہے جمیل مظہری کا
کچھ مجھ پہ کھلے سرّ باریک
یہ آب و سراب کی ہے تحریک
تاہم آب و سراب اور حیات و کائنات میں فرق ہے۔ آب و سراب میں جو جذباتی و وجدانی کیفیت اور جمالیاتی شعور کی کارفرمائی ہے، وہ حیات و کائنات میں نہیں۔ حیات و کائنات کا بنیادی فکری نظام جغرافیائی اور حکیمانہ ہے۔ بلکہ چارلس ڈارون کے نظریۂ ارتقا پر اس کا گہرا اثر ہے جس نے مادیت پسندی کے میلان کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ گویا دونوں میں فرق زاویۂ نظر کا ہے جب کہ تخلیق و تکوین کانظریہ دونوں میں قدرِ مشترک کی حیثیت رکھتا ہے۔ لیکن زاویۂ نظر کے اس فرق کی وجہ سے دونوں کے اسلوب اور شدت تاثیر میں نمایاں فرق پیدا ہوگیا ہے۔ ان دونوں کے امتیازی پہلوؤں کی وضاحت، کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد ابراہیم نے لکھا ہے کہ :
’’ مثنوی آب و سراب اگر ہمیں خود شناسی کی تعلیم دیتی ہے تو مثنوی حیات و کائنات ہمیں فطری، اخلاقی اور تمدنی ارتقا کے مسائل سے روشناس کراتی ہے اور ہمیں حیات و کائنات کے رموز کی آگہی بخشتی ہے۔‘‘ (اردو مثنوی کا سفر ص:171)
میرے خیال میں حیات و کائنات کا موضوع بھی خشک ہے اور شعری بیان میں بھی حسن و اثر کی کمی ہے اور بہ ظاہر اس کی ایک لائق اعتنا وجہ بھی ہے۔ آب وسراب میں ہبوط آدم کا پس منظر ایک فسانۂ رنگیں کی حیثیت رکھتا ہے حالانکہ جمیل مظہری نے اس روایتی قصّے سے اتفاق نہیں کیا ہے۔
بہر حال حیات و کائنات کی زبان سادہ و شستہ ہے اور اس وجہ سے فکر و فلسفے کی گرانی محسوس نہیں ہوتی۔ حیات و کائنات کا شاعر ابتدا ہی میں تنبیہ و تاکید کرتا ہے:
سائنس کا کلیّہ رہے یاد
ہوتی نہیں کوئی شے برباد
صورت ہر آن نئی ہے
جوہر وہی، مادہ وہی ہے
گرمی سے دباؤ سے نمی سے
خلط اجزا سے روشنی سے
ہر آن بدل رہی ہے ہر شے
قدرت کا نظام ہی یہی ہے
کوئلا جو ہوا بدل کے ہیرا
ہوجاتی ہے اس سے آنکھ خیرا
چونے سے صدف، صدف سے موتی
تبدیلیِ شکل یوں ہے ہوتی
اب ارتقا کا سائنسی نظریہ بھی شاعر پیش کرتا ہے لیکن اس کی آگہی بردار بصیرت سے قدرت کا نظام اوجھل نہیں ہوتا، روایتی تصورات اور تہذیبی محرکات کے اثرات بھی اکثر اپنی جھلک دکھاتے ہیں اور ان سے فکر و فلسفے کی بھی آنچ آتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ شاعر کے تخیل کی پرواز متوجہ کرتی ہے:
پانی جو برس کے کھل گیا تھا
گردوں میں دھنک کا تھا تماشا
سورج کی کرن کے سات جلوے
تھے رنگ برنگ کے اکٹھے
ہر شام شفق کی رنگ سازی
نارنجی، سرخ اور پیازی
تاروں کی بہ وقت شب وہ محفل
وہ نرم خرام ماہ کامل
تھا سب کا گماں یہ کہکشاں پر
ہے نور کی نہر آسماں پر
آسمان کے حسن و جمال کے ان پیکروں کی تشکیل کے ساتھ ساتھ، دو شعر زمین کی جلوہ سامانیوں کے سلسلے میں بھی دیکھیں 
تھی مثل فلک زمیں بھی شاداں
اور حسن و ادا پہ اپنے نازاں
گو بزم جماد سج گئی تھی
حیوان و نبات کی کمی تھی
یعنی کائنات کی تخلیق ہوچکی تھی۔ بارش کے بعد موسم سہانا لگ رہا تھا رات کی تاریک فضاؤں میں آسمان نے اپنی مانگ میں ماہ و انجم کی افشاں بھرلی تھی۔ کہکشاں سے آسمان کا آنچل زرنگار اور زیب نگاہ تھا۔ لگتا تھا کہ آسمان پر نور کی ندی محوِ خرام ہے۔ آسمان کی جلوہ سامانیوں نے زمین کے سینے میں بھی جذبات کی لہروں کو جگادیا تھا۔ چنانچہ وہ بھی آسمان ہی کی طرح شاداں تھی۔ آسمان کے نور سے زمین کے حسن کا ظہور تھا اور اس حسن پر زمین بھی نازاں تھی۔ حالانکہ زمین کا یہ حسن مکمل نہیں تھا کیونکہ ابھی تک اس کی آغوش حیوانات و جمادات کی تخلیق سے محروم تھی۔ زمین کو شاید پانی کی اہمیت کا احساس نہ تھا جو برس کے کھل گیا تھا اور شاید وہ سطحِ آب پر حیات کے نزول سے باخبر نہ تھی اور ہو تی بھی تو کیسے؟ ابھی حیات کے آثار مشاہدے میں آئے ہی نہیں تھے۔ وہ نمو پذیری کے مرحلے سے گزر رہے تھے:
آخر ہونے لگا ہویدا
پانی میں وجود زندگی کا
یہ راز ابھی نہیں کھلا ہے
تخم شجر حیات کیا ہے
دو شاخیں حیات کی ہیں معلوم
جو الگا ایمیبا سے ہیں موسوم
دونوں تھے الگ الگ خلیے
حیوانات و نباتات جن سے پھیلے
سب کچھ تھا مگر کہاں تھا انساں
تخلیق کا گوہر درخشاں
یہ زیب جہاں، جمال ہستی!
یہ معجزہ و کمال ہستی
یعنی ارتقا کے سلسلے کی اہم ترین تخلیق انسان جو تخلیق کا گوہر درخشاں، زیب جہاں اور جمال ہستی بلکہ معجزہ اور ہستی کا کمال، بزم حیات کا مرکز و محور انسان اب تک معرض وجود میں نہیں آیا تھا جسے از روئے اسلام اس روئے زمیں پر خلافت و نیابت الٰہی کا جلیل القدر منصب عطا ہونے والا تھا۔
مذاہب عالم کے علاوہ فلسفے نے بھی وجود کے مظاہر میں انسان کو مرکزی حیثیت و اہمیت کا حامل قرار دیا ہے۔ قدیم یونانی فلسفی فیثاغورث نے انسان کو تمام عقائد و تصورات کی کسوٹی مانا ہے اور خود شناسی کی تلقین کی ہے۔
"Man is measure of all know thyself"
لیکن تہذیب کے مادیت پسند مفکرین بالخصوص ڈارون نے انسانی وجود کی آفرینش کے سلسلے میں جو نظریہ پیش کیا اور جس کی وجہ سے روایتی عقائد و تصورات پر جو ضرب پڑی اس کی گونج ابھی تک سنائی دیتی ہے۔ اس کے خیال میں اس روئے زمین پر بندر کی صورت میں انسان معرض وجود میں آیا۔ اس سلسلے میں اکبر الہ آبادی کا شاعرانہ رد عمل نئی تہذیب کی تکذیب و تردید پر مشتمل ہے۔ ان کا نہایت ہی مشہور شعر ہے:
نئی تہذیب کو کیا واسطہ ہے آدمیت سے
جناب ڈارون کو حضرت آدم سے کیا مطلب
عبدالمجید شمس نے ڈارون کے خیال کو بھی پیش نظر رکھا ہے۔ کہتے ہیں 
مانیں جو اصول ڈارون کے
انسان بنا ہے ارتقا سے
بندر کے سے چلن تھے اس کے
چلتا تھا زمیں پہ دست و پا سے
آزاد ہوئے جو دست و بازو
چوپایوں پہ پاگیا یہ قابو
یہ ماجرا بھی ہے اب پرانا
ہے لاکھوں برس کا یہ فسانہ
گویا حیوان سے انسان بننے میں صدیاں بیت گئیں۔ اس دوران وحشت کم ہوئی اور جب وحشت کم ہوئی تو گھر بھی بنے اور سماج کی بھی بنیاد پڑی۔ پھر تعداد بھی بڑھنے لگی۔ اسی کے ساتھ مسائل بھی بڑھے اور قدرتی وسائل میں کمی آتی گئی جس کے نتیجے میں خود غرضی، بے وفائی اور کج ادائی آئی تب اس کائنات کے خالق کو کچھ خیال آیا۔ اس مسئلے پر اس نے سوچا :
سوچا، انھیں راستے پر لائے
ایماں کا مرتبہ بتائے
چین و ہندوستان و ایراں
شام و عرب و عراق و یوناں
آنے لگے ہر جگہ پیمبر
لانے لگے سب کو راہِ حق پر
ہر دور میں اک امام آیا
ہر قرن میں اک پیام آیا
ا س طرح فیضانِ سماوی سے عقلِ انسانی تجلّی ریز ہونے لگی اور فروغِ تجلّی سے ظلمت کے پردے چاک ہونے لگے۔ نمود سحر کے آثار و امکان کے ساتھ قافلۂ زندگی کی پیش رفت شروع ہونے لگی۔ حیات کی تگ و دو، کشمکش اور جد و جہد کے ساتھ ہی تہذیب کی داستان کا آغاز ہوا، علم و ہنر کا چرچہ عام ہونے لگا، عقل و شعور کی رسائی بڑھنے لگی۔ مسائل حیات سے نبرد آزمائی کے لیے حیات میں قوت، حوصلے میں شدّت اور بصیرت میں تیزی آئی۔ کمزوروں میں طاقت پیدا ہوئی اور مجبوروں کی جرأت بڑھی۔ حالات بدلے۔ ماحول اور معاشرہ بدلا۔ اور اس طرح انسان نے ارتقا کے، کئی مراحل طے کیے ، اس کی سمت و رفتار میں تنوع پیدا ہوا، رنگا رنگی آئی، بوقلمونی پیدا ہوئی یہ سفر اور سلسلہ اب بھی جاری ہے:
اخلاق و تمدن و حکومت
تہذیب و فنون و علم و حکمت
سب مائل ارتقا ہیں ہر آن
قدرت کا یہ بیکراں ہے احسان
فطرت کا ہے ارتقا سبک رو
اور عقل کی ہے تیز تگ و دو
پوشیدہ جو عقل میں ہے اک نظم
اور فطرت آدمی میں اک عزم
انسان کی اسی سے ہے بلندی
تہذیب میں جس سے ہے ترقی
فطرت کا ہے ہم سے یہ تقاضا
جاری رہے ارتقا ہمیشہ!
اس لیے کہ :
معراج یہ ارتقائی ہوگی
بندے میں صفت خدا کی ہوگی
مثنوی حیات و کائنات کا گویا اصل موضوع انسانی زندگی کے’ آدم سے ایں دم تک‘ سفر کی تاریخ ہے۔ آب و گل کی یہ دنیا قدرت کے ارتقائی عمل سے وجود پذیر ہوئی ہے، اور اسی کے ذریعے ہستی کے مدارج طے ہوئے ہیں۔ انسان بھی تہذیب و تمدن اور ماحول کے زیر اثر ارتقائے شعور کے تحت ان مراحل و منازل کو طے کرتا ہواجان جوکھم میں ڈالتا ہوا، موجودہ منزل تک پہنچا ہے۔ فکر کے نئے نئے تناظر اور عمل کی نئی نئی حرکتوں نے اس سفر کی روداد کو نہ صرف رنگا رنگی اور بوقلمونی بخشی ہے بلکہ اسے تمام تر دلچسپ اور دلفریب بنادیا ہے۔
دلچسپی کے لحاظ سے ڈاکٹر مرتضیٰ اظہر رضوی کی مثنوی’خور و خواب‘ بھی کم نہیں بلکہ حیات و کائنات سے فزوں تر ہے۔ مرتضیٰ اظہر رضوی بڑے ہی باغ و بہار اور شگفتہ مزاج انسان تھے۔ شاد کے بعد دبستانِ عظیم آباد میں شاعروں کی جو تثلیث قراردی جاتی ہے اس کے تین زاویے علامہ جمیل مظہری ، پرویز شاہدی اور اجتبیٰ حسین رضوی تسلیم کیے جاتے ہیں۔ ان تینوں کے فکری و فنی مزاج و مذاق میں زمین، آسمان کا فرق تھا لیکن یہ تینوں گہرے دوست تھے ڈاکٹر مرتضیٰ اظہررضوی موخر الذکر کے صاحبزادے تھے۔ شاعری کا ذوق وراثت میں ملا تھا۔غیر شعوری طور پر اشعار موزوں ہونے لگے تھے۔ میں نے تقریباً چار دہائی پہلے پہلی بار انھیں دیکھا تھا۔ تعلقات و مراسم قائم ہوئے تو دو طرفہ کیفیت اس انگریزی جملے’’Keep me in touch’’ کے مطابق رہی۔ اور یہ سلسلہ ہمیشہ جاری رہا۔ میں انھیں پندرہ برسوں تک قریب سے دیکھتا رہا اور ان سے سیکھتا بھی رہا طبیعت موزوں اور رواں تھی۔ حافظہ بھی غضب کا تھا۔ متقدمین فارسی و اردو کے سیکڑوں اشعار از بر تھے۔ بدیہہ گوئی کا یہ عالم تھا کہ شروع ہوئے توبرسات ہونے لگی۔ سیلاب سا آنے لگا۔ ہنستے کھیلتے مسکراتے سگریٹ کے کش لگاتے شعر کہتے جاتے تھے۔ فلسفہ کے شعبے میں درس و تدریس سے متعلق تھے لیکن شاعری میں شگفتگی تھی۔ ان کی حس مزاح بھی غضب کی تھی۔ زیر تذکرہ و تجزیہ مثنوی کے عنوان پر غور کریں تو ان کی حس مزاح یہاں بھی بھڑکتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔’خور و خواب‘ یعنی کھاؤ اور سوؤ۔ لیکن تمہید میں فکری اور لفظیاتی نظام پر غور کریں تو جمیل مظہری کی یاد تازہ ہوجاتی ہے؛
بکھری ہوئی دھجیاں خبر کی
الجھی ہوئی گتھیاں نظر کی
افلاس سا فلسفوں پہ طاری
ادیان میں انحطاط جاری
حکمت کی فضا میں بے یقینی
ہوتی ہوئی دور کور بینی
الجھی ہوئی زلف آگہی کی
اکھڑی ہوئی سانس آدمی کی
اقدار کی نبض چھوٹی چھوٹی
افکار کی آس ٹوٹی ٹوٹی
تھی سینۂ ذات کی تمنا
امکانِ حیات کی تمنا
ایسے میں کوئی طبیب آتا
صحت کی دوا انھیں کھلاتا
موجودہ امام شاعری نے
علامہ جمیل مظہری نے
سمجھی کچھ وقت کی ضرورت
افکار کو دے کے حسنِ صورت
اک طرحِ پیام نکالی
اک راہِ کلام نکالی
اس عہدِ خراب کی کہانی
’آب و سراب‘ کی کہانی‘‘
لیکن اظہر یہ کہہ رہا ہے
یہ مسئلہ نصف حل ہوا ہے
تَوام ہیں بھوک پیاس دونوں
تکوین کی ہیں اساس دونوں
میں آبِ حیات کیسے لاؤں
ہاں بھوک کی داستاں سناؤں
تعمیر نمو کی کہانی
تالیف حدود کی کہانی
دریا کی حیات کی حقیقت
ہے بس خور و خواب کی حقیقت
گیتی میں نمود رزق دے کر
پھیلائی ہے شب کی اس پہ چادر
جب سے ہونے کا سلسلہ ہے
کھانے سونے کا سلسلہ ہے
پہلے کیا تھا یہ کون جانے
خلقت کے گڑھے گئے فسانے
بھوکا تھا ذوق آگہی کا
چلایا شعور آدمی کا!
ہم کون ہیں، کیوں ہیں اور کیا ہیں؟
یہ مسئلے ذہن کی غذا ہیں
خود اپنی غذا کو ڈھونڈھتی ہے
فطرت یہ قدیم بھوک کی ہے
جب کچھ نہ ملے تو خود کو کھانا
اس کا دستور ہے پرانا
جب یہ دنیا نہیں بنی تھی
خود بھوک کو بھوک کھارہی تھی
قرنوں رہی خود میں مبتلا بھوک
بنتی رہی بھوک کی غذا بھوک
جب بھوک نے بھوک کو پچایا
دو چیزوں نے تب ظہور پایا
یہاں مثنوی کی روایتی صوری تشکیل کے باوجود اقبال کی نظم ساقی نامہ کی طرح ہیئتی تنظیم کا امتزاج دکھائی دیتا ہے۔ تمہید چار بندوں پر مشتمل ہے۔ تیسرے بند میں پانچ اور بقیہ میں سات اشعار ہیں۔ گویا ان میں اشعار کی قید نہیں۔ آگے چل کر ہم جدّت طرازیوں کے کچھ اور آیات و آثار بھی دیکھیں گے۔
اب جہاں تک فکری تنظیم اور فلسفیانہ موشگافیوں کا تعلق ہے تو پہلے بند میں اس صورت حال کا بیان ہے جو بیسویں صدی کے ربع اول میں پیدا ہونے لگی تھی۔ سترہویں صدی سے پہلے فلسفہ کو سرچشمۂ علم ماناجاتا تھا چنانچہ اس کی اہمیت بفتوائے تاریخ ثابت تھی۔سترہویں صدی میں اسی سرچشمہ سے حکمت (سائنس) الگ ہوئی اور ارتقا کے مختلف مراحل سے گزرکر اس نے اپنی حیثیت و اہمیت منوالی۔ تہذیبی روایات اور مذہبی اعتقادات پر اس نے شدید ضرب لگائی چنانچہ مذہب پسندوں کے حلقے میں اس سے بیزاری بھی آئی لیکن حکمتوں کی دین سے زندگی کے مشکل سفر میں جو آسانیاں پیدا ہوئیں ان سے کون انکار کرسکتا تھا۔ فکری و صنعتی انقلاب سے عالم انسانی بہر صورت مرعوب ہوا۔ لیکن حکمتوں کی مادیت اور قطعیت پسندی سے مطمئن نہ ہوسکا۔ اس کے دل و دماغ سے صانعِ ازل و صانعِ عالم کا روایتی عقیدہ محو نہ ہو سکا۔ اسی وجہ سے سائنس کو غارت گرِ دین و مذہب بھی قرار دیا گیا۔ لیکن خود طبعیات کے علوم سے متعلق نئی نسل اور نئی ذہنیت کے علمائے انتقادیات نے بھی کلاسیکل فزکس کے کائنات کے ٹھوس ہونےSolid validity)) کے دعوے سے اختلاف کیا اور بیسویں صدی کے ربع اول میں مادے کو خیال ثابت کردیا۔ اس طرح قطعیت پسندی کی بنیاد پر شدید ضرب پڑی اور انسانی ذہن کی فطری سیالیت کو تازہ ہوا کے جھونکے محسوس ہونے لگے۔ ڈی بروگلے، ہیزن برگ، شرو ڈنگر اور آئنسٹائن وغیرہ نے فکر کے سانچے اور کائنات کے ڈھانچے کو ہی بدل کر رکھ دیا۔ کائنات کیSolid validity سائنسی عقیدے کے مطابق لہروں کے نظام میں بدل گئی۔ یہ ایک بڑا انقلاب تھا جس نے اٹھارہویں، انیسویں صدی کی قطعیت پسندی کو باطل قرار دیالیکن اس کے ساتھ لا تعینیت پیدا کردی۔ یہ صورتِ حال دانشورانِ عصر کے لیے خوش کن تھی۔ اقبال نے مذہبی تجربات کے لیے اس صورت حال کو موزوں قرار دیا۔ ابوالکلام آزاد نے اپنے مخصوص انداز و اسلوب میں اس کا خیر مقدم کیا۔ لیکن عوام میں تشکیک کی لہر پیدا ہوئی۔ حد تو یہ ہے کہ حکمت و سائنس کی فضا میں بھی بے یقینی کی کیفیت پیدا ہوئی۔ تمہید کے پہلے بند میں اسی عمومی ذہنی صورت حال کا بیان ہے۔آخری شعر اور ٹیپ کے شعر میں جس تمنا کا اظہار کیا گیا ہے۔ وہ بہ ظاہر تو مضحکہ خیز ہے کیونکہ جس طبیب اور دوا کی تمنا کا اظہار ہے، وہ ایک شاعر ہے یا اس کی شاعری ہے۔ لیکن دانشورانہ تفکر کی روسے یہ بہت ہی بلیغ ہے کیونکہ بیماری کی جو نوعیت اور بیماری کی جو کیفیت ہے، اس کا علاج کسی ڈاکٹر، کسی انجینئر یا کسی سائنس داں کے پاس نہیں۔ اگر ہے تو شاعر کے پاس ہی ہے۔ اس کا اعتراف ایک فلسفی اور دانشور ڈاکٹر رادھا کرشنن نے بھی کیا ہے۔
بہرحال تمہید کے آخری بند کا آخری شعر ذہن میں رکھیں تو اس کو قصے کی اگلی کڑی کی تمہید قرار دے سکتے ہیں۔ شعر مذکور میں دو چیزوں کے ظہور کی خبر دی گئی ہے چنانچہ اگلا حصہ انہی دو چیزوں پر مشتمل ہے اور عنوان ہے’خلقت پانا روح اور مادے کا‘۔ یہ حصہ تین بندوں پر مشتمل ہے۔ پہلے یہ دو بند دیکھیں :
جوہر بنا اس سے اور فُضلا
پیدا ہوئی سطح پست و بالا
جوہر جزو گرسنگی تھا
فُضلے کو لقب ملا عرض کا
جوہر وحدت عرض ہے کثرت 
جوہر معنی عرض ہے صورت
منظور ہے فہم کی سہولت
جوہر ہے نور عرض ہے ظلمت
کیسا عجیب ماجرا ہے
ظلمت ہی نور کی غذا ہے
جوہر سے عمل، عمل سے گرمی
گرمی سے زندگی کی نرمی
فضلے سے فگندگی گرانی
فضلے سے مادے کی سختی
نرمی لگی سختیوں کو کھانے
بننے لگے بھوک کے فسانے
نرمی میں قدم ہے اور روانی
سختی میں حدوث و سرگرانی
اک دائرہ بن گیا انوکھا
فضلے سے غذا، غذا سے فضلہ
پستی کو بلندیوں نے کھایا
اک طرفہ تماشا سا دکھایا
ظاہر ہوئے بھوک کے مظاہر
آپس میں ملے کثیف و طاہر
ہے ظلمت و نور کا تسلسل
امکانِ ظہور کا تسلسل
خود اپنی غذا بنائے جانا
پیدا کر کے کھائے جانا
دھرتی سے اگے گا جو بھی پودا
دھرتی ہی کی پھر غذا بنے گا
ہے بھوک جو آخری حقیقت
ہے گرسنگی مزاجِ فطرت
فطرت کا مزاج کون بدلے
کھانے کا رواج کون بدلے
اس خیال کی تائید و توثیق کے لیے چار ماخوذ اشعار پیش کیے گئے ہیں۔ یہ ایک طرح کی جدّت طرازی کے مظہر ہیں:
کھانا ہے وجود کی نشانی
کھانا ہے دلیل زندگانی
کھانے پہ ہے زندگی جہاں کی
یہ رسم قدیم ہے یہاں کی
(قرآن)
’ہے دوڑتا اشہبِ زمانہ
کھا کھا کے طلب کا تازیانہ‘
(اقبال)
کھانے والے نکل گئے ہیں
بھوکے جو رہے کچل گئے ہیں 
(ڈارون)
جوہر اور مادے کی ازلی ابدی خصوصیات کی وضاحت و تفصیلات کے بیان کے بعد’قصہ تخلیق آدم کا‘ پیش کیا گیا ہے اور افسانۂ رنگیں و دلکش میں تفکر و تفلسف کی روح سمودی گئی ہے۔
امکانِ نمو مچل رہا تھا
طوفاں ساحل پہ پل رہا تھا
جادہ بننا تھا آگہی کا 
کھلتا تھا بھید زندگی کا
تخلیقِ عرض کا سلسلہ تھا
جوہر جوہر کو ڈھونڈھتا تھا
پابند گر سنگیِ فطرت
تھیں لہریں کئی فرشتہ صورت
دل ان میں تھا نہ ہوک ان میں
ظاہر نہ ہوئی تھی بھوک اُن میں
وہ نور کے پیکری مظاہر
بیگانۂ گرمیِ عناصر
پیکر نوری، مزاج نوری
خالی ز ارادہ ناصبوری
نَے اُن کی دمِ بیخودی سے محروم
رقص اُن کا رمِ خودی سے محروم
تھے گرچہ امینِ راز پیکر
تھے بھوک سے بے نیاز پیکر
قدرت اپنی گرسنگیِ کا !
ان میں پاتی نہ تھی تقاضا
تسکینِ طلب جو حد سے گزری
قدرت قامت سے قد سے گزری
پتلہ مٹی کا اک بنایا
اس پر طرفہ ستم یہ ڈھایا
پھونکی پتلے میں ہو‘ک اپنی
دے دی مٹی کو بھوک اپنی
تشریفِ شرافت اس کو دے دی
حتیٰ کہ خلافت اُس کو دے دی
سجدہ کرواکے نوریوں سے
دوری دے دی حضوریوں سے
اس پیکرِ گرم و مشتعل کو!
اس طینتِ نرم و منفعل کو
اسماء کا بنا کے تر نوالا
تخلیق کی بھوک نے کھلایا
پھر حکم ہوا اسے پچاؤ
جنت کی اوس دھوپ کھاؤ
ہوتی رہی تربیت خودی کی
بڑھتی گئی اشتہا دوئی کی
جنت نا مہرباں نہیں تھی
درد آگہ و ہمزباں نہیں تھی
پہلو میں دل مچل رہا تھا
تنہائی کا درد پل رہا تھا
قدرت نے کیا تب ارادہ
پسلی سے بناؤ اس کی مادہ
تنہائی کے درد کی دوا دی
’حوّا‘ اس کے لیے بنادی
پھر حکم دیا ساتھ جاؤ
جنت میں جو نعمتیں ہیں کھاؤ
لیکن دکھلا کے اک شجر کو
یہ حکم دیا ابو البشر کو!
آدم دیکھو ادھر نہ جانا
سب کھانا پر اس کا پھل نہ کھانا
تاثیر تھی اس میں رد و کد کی
اس پھل میں تھی آگہی جسد کی
روزی کی تلاش کا جھمیلا
یا کسبِ معاش کا جھمیلا
مدت تک اوس دھوپ کھائی
آنکھ اس طرف نہ اپنی اُٹھائی
روزی کا ڈھونڈنا نہیں تھا
کھانا کوئی مسئلہ نہیں تھا
لیکن جب دل نے گدگدایا
پھل توڑکے اس شجر کا کھایا
تب حکم ہوا زمیں پہ جاؤ
اپنے لیے خود غذا اگاؤ
اب آج سے بھوک ہے تمھاری
تسکین کی ہے تم پہ ذمے داری
ڈاکٹر محمد ابراہیم نے تقابلی پیرایۂ تنقید و تحریر اختیار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ :
’’ڈاکٹر رضوی کی مثنوی ’خور و خواب‘ آب و سراب کے جواب میں ہے۔ آب و سراب کا کلیدی تصور گرسنگی اور بیداری ہے جب کہ خور و خواب کا کلیدی تصور گرسنگی اور خوابیدگی ہے۔ آ ب و سراب میں شعور کو قدیم مانا گیا ہے جبکہ خور و خواب میں مادے کو۔ مادہ خلقی طور پر گرسنگی اور ماندگی سے وابستہ ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ مثنوی صرف برائے جواب لکھی گئی ہے۔ اس میں جذباتی شدّت کا فقدان ہے اور صرف منطقی تعمیر کا میلان ہے۔ یہ مثنوی ایک نظریہ ہو تو ہو پارۂ فن نہیں ہے۔‘‘ 
(اردو مثنوی کا سفر۔ ص:181)
میرے خیال میں یہ خیال درست نہیں کہ مثنویِ خور و خواب‘۔ ’ آب و سراب‘ کے جواب میں ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ ڈاکٹر رضوی آب و سراب سے متاثر ہوئے اور اسی سے انھیں خور و خواب کی تحریک ملی۔ اس میں جذباتی شدّت کی کمی ضرور ہے لیکن فقدان قرار دینا محل نظر ہے۔ اس طرح منطقی تعمیر کا میلان بھی نمایاں ہے اور ایک نظریہ بھی ہے۔ البتہ شہکار فن نہیں لیکن کیا کسی پارۂ فن کے لیے جذبات کی شدّت ناگزیر ہے؟ میں سمجھتا ہوں کہ فکر وفن کے امتزاج سے تخلیق ہونے والا یہ اچھوتا فن پارہ بھی ہے۔ اور تاثرات کے لحاظ سے بھی عبد المجید شمس کی مثنوی’ حیات و کائنات‘ سے فزوں تر ہے۔ آب و سراب سے اس کے موازنے کا جواز تو ہے مگر بہت ہی کمزور جواز ہے۔ اس سلسلے میں یہ وضاحت بھی غیر ضروری نہ ہوگی کہ یہ کوئی باضابطہ موازنہ یا تقابلی تجزیہ نہیں۔ یہ اصلاً ضمنی تبصرہ ہے جو بر سبیل تذکرہ معرضِ گفتگو میں آگیا ہے اور یہاں بھی جمیل مظہری کی فنی، فکری اور جذباتی عظمت کا اعتراف ہے۔ علامہ جمیل مظہری واقعی اپنے زمانے اور اپنی زمین یعنی پورب کے تاجور سخنوری’ سلطانِ معانی زار اور الفاظ کے شہرِ یار تھے۔ان کا یہ دعویٰ لائق بے اعتنائی نہیں کہ
روداد لطیف ایں زمانی
یوں نقل ہے خامہ کی زبانی
پورب میں ایک مظہری تھا
وہ تاجور سخنوری تھا
سلطانِ معانی زار تھا وہ
الفاظ کا شہر یار تھا وہ
(مثنوی در مدح میر فضل اللہ(محسن جمیل)، مشمولہ عکس جمیل، مرتب رضا مظہری۔ ص:177)
میں نے ’ساقی نامہ‘ اور آب و سراب کا تقابلی تجزیہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ 
’’ علامہ جمیل مظہری بنیادی طور پر نظم کے شاعر ہیں اور اقبال کے بعد اردو نظم نگاری کے افق پر درخشاں ہونے والے ستاروں مثلاً سیماب اکبر آبادی، جوش ملیح آبادی، حفیظ جالندھری، اختر شیرانی، احسان دانش، ساغر نظامی اور روش صدیقی وغیرہ کے مابین اپنی تابانی سب سے الگ رکھتے ہیں۔ حالانکہ اقبال سے تاثر پذیری کے آیات و آثار کم و بیش اور کسی نہ کسی جہت سے ان سبھوں کی شاعری میں دکھائی دیتے ہیں لیکن جمیل مظہری دانش و بینش، فکر و آگہی اور حکمت و فلسفہ میں نہ صرف اپنے معاصرین میں ممتاز نظر آتے ہیں بلکہ بعض نظموں بالخصوص مثنویوں میں اقبال کے مد مقابل کے طور پر ضرور ابھرتے ہیں۔‘‘ ( مشمولہ نئی غزل میں تلمیح کی معنوی وسعت۔ ص:76)
ساقی نامہ میں خودی کا فلسفہ بیان کیا گیا ہے، اقبال اس کے ذریعے خودی اور خود شناسی کی تعلیم دیتے ہیں۔ نتائج اور نقطۂ کمال کے لحاظ سے جمیل مظہری کی آب و سراب بھی مختلف نہیں ہے لیکن ان دونوں میں کچھ فرق بھی ہے۔ فرق ہے اظہار کے اسلوب، بیان کے پیرائے اور لہجے کا۔ اگر اول الذکر میں رجائیت اور فعالیت ہے تو موخر الذکر میں یاسیت اور انفعالیت کا لہجہ نمایاں ہے لیکن یہاں بھی خودی اور خود شناسی کی ہی تجلیاں حریمِ قلب و نظر میں جلوہ ریز دکھائی دیتی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ساقی نامہ کا آغاز صہبا گساری کے اہتمام سے ہوا ہے جب کہ جمیل مظہری نے ابتدا ہی میں تشنگی کو آب آفریں کے چھینٹے سے شعلے کی مانند بھڑکادیا ہے، جیسا کہ افتتاحیہ قطعہ’اعتراف‘ کے تاثرات سے واضح ہے 
تو پوجتی آئی ہے ازل سے
تدبیر سراب آفریں کو
اے تشنہ دلی ہوش میں آ
اک سجدہ کر آب آفریں کو
شعلے کی مانند بھڑکی ہوئی پیاس نے طلبِ آب کو بڑھادیا ہے۔ یہی پیاس، یہی تشنگی اس مثنوی کی کلیدی علامت ہے۔ عصری ذہنی نا آسودگی کی کیفیات اس علامتی تعبیر میں مضمر ہیں۔ شاعر نے پیاس ، ناآسودگی اور کرب و اضطراب سے پیدا ہونے والی ذہنی کیفیات کو سہارا دینے کے لیے آسودگی کا ایک امکان دیا ہے اور آب آفریں کا ایک تصور دیا ہے۔ اس کے بعد کاروانِ حیات کے حالِ زار پر روشنی ڈالی ہے۔
اللہ اللہ یہ ہولناک صحرا
کیا دے گا سوائے خاکِ صحرا
بے آب و گیاہ ہے یہ صحرا
بے چشمہ و چاہ ہے یہ صحرا
لو چلتی ہے کارواں ہیں پیاسے
بچے پیاسے جواں ہیں پیاسے
یہاں مایوسی اور محرومی کا احساس شدید سے شدید تر ہوتا چلا گیا ہے۔ یاسیت اور قنوطیت کے مہیب غار سے انسانیت کی بلبلاتی ہوئی آواز ابھرتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ تنہائی اور نا پرسانی کے بیان سے مترشح ہے کہ شاعر وجودسریتExistentialism)) کے فلسفے سے متاثر ہے اور اس سے یہ بھی واضح ہے کہ اس کائناتِ فطرت میں انسان اجنبی ہے۔ آؤٹ سائڈرOutsider) (ہے، تنہائی اور ناپرسانی اس کا مقدر ہے۔ بقول ڈاکٹر مرتضیٰ اظہر رضوی :
اس شورشِ رنگ و بو میں
سرگرداں ہے اپنی جستجو میں
تنہا ہے رفیق بھی نہیں ہے
اور کوئی شفیق بھی نہیں ہے
یہ اس انسان کا مقدر ہے جو وجہ تخلیق کائنات بھی ہے اور خلیفتہ اللہ فی الارض بھی لیکن زندگی کا راز اس پر نہیں کھلتا، وہ اس کی جستجو میں سرگرداں ہے۔ اس کا دل بے تاب اور وقفِ اضطراب ہے۔ اقبال کی رجائیت ہر چند کہ ناقابل تردید ہے لیکن انھوں نے بھی کسی موقع پر قدرت کے اس ستم کو محسوس کیا تھا اور شدت کے ساتھ محسوس کیا تھا اور اسی احساس نے انھیں’انسان‘ جیسی نظمیں لکھنے پر مجبور کیا تھا
قدرت کا یہ عجب ستم ہے
انسان کو راز جو بنایا!
راز اس کی نگاہ سے چھپایا
بے تاب ہے ذوقِ آگہی کا 
کھلتا نہیں بھید زندگی کا
حیرت آغاز و انتہا ہے
آئینے کے گھر میں اور کیا ہے
اس نظم میں جس حزن کی کیفیت ہے، جمیل مظہری کے یہاں یہی تشنگی کی علامت کے طور پر ابھری ہے۔ اشعار ملاحظہ ہوں :
اے مطربِ بزم آشنائی
ماتم خانہ ہے یہ خدائی
ماتم ہے کرانہ تا کرانہ
چھیڑ آب و سراب کا فسانہ
پیاسوں کا ہجوم فوج در فوج
دریائے سراب موج در موج
جلوے پیاسے نگاہ پیاسی
حیرت بالائے چاہ پیاسی
کچھ شوق کنارِ جو‘ بھی پیاسے
کچھ لب بہ لب سبو بھی پیاسے
ہر موجِ حیات کی زبانی
اک تشنہ لبی کی سو کہانی
تاریخ ہماری کیا ہے
اک تشنہ لبی کا مرثیہ ہے
یہ عصر حاضر کے ذہنی فکری ماحول کی منظرکشی ہے۔ اس میں’شوق کنارِ جو‘ اور’لب بہ لب سبو‘ بالترتیب عصری حکمت اور عصری الٰہیات کی علامتی تعبیریں ہیں۔ معاملہ یہ ہے کہ ہر ساز میں ایک تپش نہاں ہے۔ موسیقی اسی کی نوحہ خوانی ہے۔ یہی بانسری کی فریاد اور شاعری کی آواز ہے۔ افسانوں میں بھی یہی دہائی ہے۔ غرض کہ ہر دل میں ایک بے بجھائی سی آگ لگی ہے۔ یہ کسی فرد واحد کا ذاتی اور انفرادی مسئلہ نہیں ہے۔ یہ ایک اجتماعی اور آفاقی مسئلہ ہے۔ یہ وہ مسئلہ ہے جس کے حل کرنے کا دعوی ہر فلسفہ اور ہر منطق‘ ہر دین اور حکمت کو تھا لیکن انھوں نے جو حل پیش کیا وہ بذات خود ایک مسئلہ ہی تھا۔ اس معنوی تناظر میں ذہن تاریخ فلسفۂ مغرب کے مصنف برٹرانڈ رسل کے مشہور زمانہ قول کی طرف منتقل ہوجاتا ہے۔ اس نے کہا تھا کہ فلسفے مسائل کا حل نہیں دیتے، مسائل کی آگہی دیتے ہیں۔ یہی بات جمیل مظہری نے بھی محسوس کی جب انھوں نے کہا :
وہ عقل کے بندگانِ زنجیر! 
تکتے تھے ادھر ادھر بچشم تحقیر
یہ مدعیانِ عقل و دانش
یہ سادہ دلانِ عقل و دانش
اپنی تمیزِ نیک و بد پر
دانش پر شعور پر خرد پر
مغرور نہ ہوں بقولِ عرفی
یہاں جمیل مظہری کا رد عمل اس طبقے کے بھی خلاف نظر آتا ہے جسے نہ تو مسئلے کا احساس تھا، نہ مسئلے کے حل کی تلاش، وہ :
نامحرم جلوۂ معانی 
سمجھا کیے ریت ہی کو پانی
جمیل مظہری علمائے فلسفہ اور حکمائے طبعیات کے بعد صوفیوں اور تارکین دنیا کی بھی خبر لیتے ہیں، جنہوں نے ترک کا شیوہ اختیار کیا تو منزل کو بھی ترک کردیا۔ اس صورتِ حال کے پیشِ نظر جمیل مظہری متاسفانہ انداز میں فرماتے ہیں :
لیکن جو تھے رازدان و عارف
جویائے حقائق و معارف
جن کی ساری حیات موہوم
اک لطف سراب سے محروم
پانی کو بھی وہ سراب سمجھے
جلوہ تھا مگر نقاب سمجھے
یعنی ان کا بھی حشر وہی ہوا جو مفکرین و حکماء کا ہوا تھا۔ وہ بھی آسودگی اور مسئلے کے حل سے اتنی ہی دور رہے۔ چنانچہ 
دونوں کا نتیجہ ایک ہی ہے
انجام غرض کہ تشنگی ہے
جمیل مظہری فلسفہ، حکمت اور مذہب کی ناکامی کو اسی طرح محسوس کرتے ہیں جس طرح مغربی مفکر برٹرانڈ رسل محسوس کرتا ہے۔ ان ناکامیوں کا لازمی نتیجہ اس فراریت اور یاسیت کو جنم دیتا ہے جو اس عہد کا ذہنی سرمایہ ہے، جس نے مسائل کے حل کے امکانات کو مشکوک و مشتبہ کردیا ہے اور جس کے نتیجے میں زندگی اپنی مقصدیت کھوچکی ہے اور بہتری کی توقعات سے نا امید ہو کر بیزاری کی کیفیت میں مبتلا ہوگئی ہے۔ تشنگی کے اس احساس نے زندگی کا رخ موڑدیاہے۔ چنانچہ جمیل مظہری قلب و نظر کے تشنہ کاموں اور ریگ و سراب کے غلاموں کو اس صورتِ حال سے آگاہ کرتے ہیں:
اے قلب و نظر کے تشنہ کامو!
اے ریگ و سراب کے غلامو!
احساس تمہاری تشنگی کا
رخ پھیر چکا ہے زندگی کا
جمیل مظہری کے خیال میں اس صورتِ حال کے اسباب دو ہیں جن کو وہ حد درجہ انکسار کے ساتھ بیان کرتے ہیں:
ہم کیا کہیں ہم تو بے ادب ہیں
اس تشنہ لبی کے دو سبب ہیں
پہلی ہے یہ وجہ سرگرانی
یعنی کہ ملا جو تم کو پانی
پانی نہیں عکسِ آب تھا وہ
جوکچھ بھی ملا سراب تھا وہ
اور دوسری وجہ جو ہے پیارے
وہ دل کی تہوں میں ہے تمہارے
جو روح پہ ازل سے ہے طاری 
تشنہ لبی نہیں تمہاری
یہ پیاس تمھاری نہیں ہے بابا
تم میں جو خدا ہے وہ ہے پیاسا

جو قدرتیں اس نے تم کو دی ہیں
وہ سینۂ شوق میں گھٹی ہیں
حالت طاری ہے ان پر غش کی
ہونٹوں پہ شور ہے العطش کی
خطرے میں ہے ان کی زندگانی
لللّٰہ پلاؤ ان کو پانی
حالانکہ ان کی سبیل کے لیے مذاہب مقرر تھے جو متحجر ہوچکے ہیں۔ اسDogmaکا احساس چارلس ڈکنس نے اپنی دو شہروں کی کہانیTales of two citiesکے ذریعے دلایا ہے:
''It was a time when dogma was eating dogma?"
جمیل مظری نے اسی سلسلے میں دانش کے فتور اور مذہب کے قصور پر تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی ہے۔ انھوں نے دیر و حرم کی سجدہ گاہوں اور مدرسوں اور خانقاہوں کو جہل کدہ قرار دیا ہے اور ذہنوں کو اس عذابِ دانش حاضر سے نکالنے کے لیے ان جہل کدوں پر قفل ڈالنے کی تلقین کی ہے، تحریک دی ہے۔ یہی نہیں انھوں نے چراغِ دیر و حرم کو بجھاکر تاریکی کو اور بھی بڑھادینے کا مشورہ دیا ہے۔ کیونکہ:
اقبال کے یہاں تصوف، تکلم، شریعت اور کلام کی جو کیفیتیں ہیں، یا یہ کہ:
جلوتیانِ مدرسہ کور نگاہ و مردہ ذوق
خلوتیانِ میکدہ کم طلب و تہی کدو

کیوں خالق و مخلوق میں حائل رہیں پردے
پیرانِ کلیسا کو کلیسا سے اٹھادو
اس کیفیت یا بحرانی صورتِ حال نے عصری ذہن کو جس خلفشار میں مبتلا کر رکھا ہے اس کے اظہار پر اقبال و جمیل ہی مجبور نہیں ہیں۔اگر جمیل مظہری اپنی ایک رباعی میں اس خیال کا اظہار کرتے ہیں کہ:
میں یہ نہیں کہتا کہ سویرا کردے
دو کام میں اک کام میرا کردے
یا روشنی تیز کر کہ کچھ دیکھ سکیں
یا اوربھی گھنگھور اندھیرا کردے
تو اجتبیٰ رضوی بھی یہی محسوس کرتے ہیں۔ ذیل کی رباعی میں وہ جمیل کے ہم خیال اور ہم نوا نظر آتے ہیں۔
بدتر ہونا بھی اس سے بہتر ہوتا
دل کاش نہ ہوتا کوئی پتھر ہوتا
جب علم پہ دسترس نہیں ہے یارب
تو جہل پہ صبر ہی میسر ہوتا
یہ عصری بے چینی اور اس دور کا المیہ ہے جس پر کسی مفکر یا شاعر کا اجارہ نہیں ہے۔ جمیل مظہری کی مثنوی ’آب و سراب‘ میں یہاں تک عصری ذہن کی عکاسی ملتی ہے۔ کوئی نظریہ یا فلسفہ نہیں ملتا۔ البتہ مثنوی کے ساتویں بند سے ایک تکوینی تصور(Cosmological concept) کی شروعات ہوتی ہے۔ جمیل مظہری انسان کی قدرتِ نہانی سے اس قصے کا آغاز کرتے ہیں
تم میں جو ہیں قدرتیں نہانی
اب ان کی سنو ذرا کہانی
اقبال ہی کی طرح جمیل مظہری کی آب و سراب میں تصوف، تکلم، شریعت، کلام یہاں تک کہ سیاست گری بھی ذلیل و خوار نظر آتی ہے۔ خودی کا عالم یہ ہے کہ اسے ترک نہ کیا جائے تو تشنہ کامی اور ترک کردیا جائے تو اُس کا نتیجہ غلامی ہے۔ گویا کہ حالتِ اعتدال کا راز تہذیب خودی میں مضمر ہے۔ کیونکہ 
نار اس کی ہے اصل نور بنیاد
یہ خود ہے ربوبیت کی اولاد
تہذیبِ خودی مشقِ دل گدازی ہے :
ہے بسکہ مشقِ دل گدازی
اک ربط نیاز و بے نیازی 
تادیب محرکاتِ ذاتی
تخریب تعیّنات ذاتی
ہر لحظہ جو اس میں معرکے ہیں
تہذیبِ خودی کے مرحلے ہیں
خودی کی تہذیب و تربیت کے مراحل کا تعین اقبال نے بھی کیا ہے لیکن مذہبی نقطۂ نظر سے اس میں شبہ نہیں کہ وہ مذہب پسند بھی تھے۔ فلسفی بھی اورشاعر بھی اور ان کے خیال میں تینوں کا مطمح نظر ایک ہی ہے حالانکہ طریقۂ کار اور اسالیبِ اظہار میں فرق ہے جمیل مظہری کا اندازِ فکر اور اسلوبِ اظہار شاعرانہ و فلسفیانہ ہے۔ وہ صرف مسئلے کی تحقیق ہی نہیں کرتے بلکہ اس سے پیدا ہونے والے مرض کی تشخیص بھی کرتے ہیں اور اس سے نمٹنے کے طریق کار کی کی تجویز بھی پیش کرتے ہیں:
ہر صورت حال مرحلہ ہے
ہجر اور وصال مرحلہ ہے
ہر سانس میں اک نیا تلاطم
ہر گام پہ اک نیا تصادم
بخشے ہیں دلوں کو راز اس نے
سونپی ہے فضا کو آگ اس نے
تم اس سے تپا کے اپنے سینے
طے کرکے بہ سرعت اس کے زینے
پہلے تو خودی پہ فتح پالو
کنبے کو خدا کے پھر سنبھالو
ہے بسکہ خودی سوار تم پر
ہے غلبہ روح نار تم پر
تم نور سے نار کو دباؤ
مٹی سے شرار کو بچاؤ
یہ کیوں کہوں موت دو خودی کو
دو معرفت اس گمرہی کو
اتنی کہ وہ دام کو سمجھ لے
اور اپنے مقام کو سمجھ لے
یعنی تمھاری خودی تم پر آشکارا ہو جائے۔ اور اقبال کے خیال میں بھی 
یہ ہے مقصدِ گردشِ روزگار
کہ تیری خودی تجھ پہ ہو آشکار
اقبال کے نظامِ فکر میں قدیم متصوفین، شعرا اورمتکلمین سے جدید مفکرین تک کے افکار کی جھلک ملتی ہے۔ انھوں نے ساقی نامہ کو اپنے نظام فکر کے اظہار کے لیے تخلیق کیا۔ اردو مثنویوں میں یہ ایک نیا تجربہ تھا جس نے بعد کے مفکر شعرا کے افکار کے لیے نہ صرف ایک اہم محرک کی حیثیت اختیار کرلی بلکہ وسیلۂ اظہار کے لیے راہ بھی ہموار کردی جس پر اقبال کے بعد جمیل مظہری نے مثنوی آب و سراب میں کامیابی و کامرانی کے ساتھ اپنی جولانیِ فکر و فن کا مظاہرہ کیا۔ مثنوی کا دور جدید اس مثنوی پر ختم ہوتا ہے لیکن عصررواں کے لیے نئے آفاق بھی کھول دیتا ہے جس کے نتیجے میں پرنسپل عبد المجید شمس کی مثنوی ’حیات و کائنات‘ اور ڈاکٹر مرتضیٰ اظہر رضوی کی’مثنوی’خور و خواب‘ معرض وجود میں آتی ہے۔ اور بہتر امکانات کا پتہ دیتی ہے۔
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
Manzar Aijaz
Prof. & Head, P.G. of Urdu
A. N. College, Patna
Patna (Bihar)
Mob : 09431840245

فکر و تحقیق۔ اپریل تا جون۔ 2018

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...