5/7/18

فکشن تنقید کا سپہ سالار: وارث علوی۔ مضمون نگار آس محمد صدیقی


فکشن تنقید کا سپہ سالار: وارث علوی
آس محمد صدیقی


وارث علوی (11 جون1928۔9 جنوری 2014) اردو کے اہم اور منفرد نقاد ہیں۔ انھوں نے تقریباً دو درجن کتابیں تصنیف کرکے فکشن تنقید میں اپنی انفرادیت اور اہمیت کے پرچم نصب کیے۔ان کی اہم تصانیف میں تیسرے درجے کا مسافر،اے پیارے لوگو،حالی مقدمہ اورہم، خندہ ہائے بیجا،کچھ بچالا یا ہوں،پیشہ تو سپہ گری کا بھلا،جدید افسانہ اور اس کے مسائل،فکشن کی تنقید کا المیہ، اوراق پارینہ،ادب کا غیر اہم آدمی، لکھتے رقعہ لکھے گئے دفتر، ناخن کا قرض،سرزنش خار، راجندر سنگھ بیدی ایک مطالعہ،گنجفہ باز خیال،او ربتخا نہ چین وغیرہ کا شمار ہو تا ہے۔علاوہ ازیں ان کے کئی مضامین رسائل و جرائد کی زینت بنے جن کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ انھوں نے مختلف النو ع موضوعات پر مضامین تحریر کیے۔
یوں تو وارث علوی کا شما ر فکشن کے ناقدین میں ہو تا ہے لیکن انھوں نے اردو شعرا کو بھی اپنے مطالعے کا موضوع بنا یا اور متعدد شاعروں پر تنقیدی مضامین تحریر کر کے اس بات کا ثبوت فراہم کیا کہ وہ نہ صرف نثری اصناف ادب کے پارکھ ہیں بلکہ شاعری کی دنیا بھی ان کی نگاہوں میں ہے۔غالب اور اقبال سے لے کر محمد علوی او رندا فاضلی تک ایسے بے شمار شعرا ہیں جن کے کلام پر وارث علوی نے جامع اور مدلل بحث کی ہے۔ 
انھوں نے اردو فکشن او ر فکشن نگاروں کا فنی و جمالیاتی مطالعہ کیا او ر پھر ان پر غیر جانبدارانہ طور پر رائے دی۔ کلاسیکی فکشن نگاروں سے لے کر جدید او رمابعد جدید فکشن نگاروں تک شاید ہی کو ئی ایسا قابل ذکر افسانہ نگار ہو جس کے فن کا تنقیدی جا ئزہ وارث علوی نے نہ پیش کیا ہو، کرشن چندر، اپندر ناتھ اشک، بلونت سنگھ،عصمت چغتائی، رام لعل، عزیز احمد، انتظار حسین، غیاث احمد گدی، ضمیر الدین شاہ،لالی چودھری،فہمیدہ ریاض،شفق،شیر شاہ سید، ترنم ریاض، خالد جاوید او ردوسرے بہت سے فکشن نگاروں پر انھوں نے جامع اور مدلل مضامین لکھے۔وہ جب کرشن چندر جیسے بڑے فکشن نویس پر قلم اٹھاتے ہیں تو ان کا منشا صرف کرشن چندر کی فنی خوبیوں اور خامیوں کو موضوع بحث بنانا ہو تا ہے۔کرشن چندر کی شخصیت کو وہ بحث کا موضوع نہیں بناتے۔
ان کا اصل میدان افسانوی تنقید ہے۔انھوں نے سعادت حسن منٹو پرایک کتاب ’منٹو۔ایک مطالعہ‘ کے نام سے لکھی جس میں منٹو کے متعلق پھیلی ہو ئی غلط فہمیوں کو دور کر نے کی کو شش کی۔ اردو کا ایک طبقہ منٹوپرجنس نگاری کا لیبل لگاتا ہے بلکہ اس موضوع کو بنیاد بناکر ان پر مقدمات بھی قائم کیے گئے۔ اس قسم کے لوگوں میں جلد بازی کا عنصر کچھ زیادہ نظر آتا ہے۔وہ دور بینی سے بھی محروم دکھائی دیتے ہیں،ان کی نظریں سکے کے ایک ہی رخ کو دیکھ سکیں۔یہ صحیح ہے کہ منٹو نے جنسی موضوعات پر قلم اٹھا یا بہت بیباکی سے ان پر باتیں کی لیکن ان کے علاوہ بھی موضوعات کی ایک دنیا ان کے یہاں نظر آتی ہے۔اگر ایک طرف وہ ’ٹھنڈا گوشت‘ اور ’کالی شلوار‘ جیسے افسانے لکھتے ہیں تو دوسری طرف ’ تماشہ‘اور’ نیا قانون‘ جیسے افسانے بھی ہیں جو منٹو کے سماجی اورسیاسی شعورکا پتہ دیتے ہیں۔ وارث علوی نے منٹو کے فکر و فن کا نہایت ہی سنجیدگی سے مطالعہ کیا اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ منٹو دراصل ایک ایسے فن کار ہیں جو حقیقت او رتخیل کی آمیزش میں کامیاب ہیں،اس تعلق سے وہ لکھتے ہیں:
’’فن کے اس اعلیٰ مقام پر تھا جہاں حقیقت اور افسانہ کا فرق مٹ جاتا ہے۔اس لیے یہ فریب پیدا ہو تا ہے کہ منٹو کیمرے کی آنکھ سے ہر چیز کو دیکھتا ہے،کیمرے کی آنکھ سے آرٹ پیدا نہیں ہو تا،کیونکہ آرٹ حقیقت اور تخیل کی آمیزش کا نام ہے۔تخیل کے پر لگا کر اڑنا لیکن حقیقت سے اپنا رشتہ نہ توڑنا فن کی معراج ہے ۔‘‘1
منٹوکے فکر وفن سے آگہی کے لیے دراصل ایک ایسا ذہن درکار ہے جو ادب اور جمالیات کی پرکھ بھی رکھتا ہواور ادبی نقطہ نظر سے ایک پختہ ذہن کا بھی مالک ہو کیونکہ وارث علوی کے مطابق :
’’منٹو اور میرا جی نے اپنی نظمیں اور افسانے نا پخت اور فاتر العقل لوگوں کے لیے تخلیق نہیں کیے۔ان کی تخلیقات اعصاب سے نہیں کھیلتیں،بلکہ جمالیاتی تجربے کی تشکیل کی کوشش کر تی ہیں۔‘‘2
اسی طرح راجندر سنگھ بیدی پر ایک کتاب ’راجندر سنگھ بیدی۔ایک مطالعہ‘کے نام سے لکھی جس میں بیدی کے تقریباً 58 افسانوں کا تجزیاتی مطالعہ پیش کیا ہے۔ وارث علوی نے افسانے کی تنقید سے متعلق اپنی اس اہم کتاب میں بیدی کے ان افسانوں کو موضوع بحث بنایا ہے جنھیں عام طور پر پڑھنے اور سمجھنے سے گریزکیا گیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ افسانے کے عام قاری ان تک رسائی نہ حاصل کر سکے۔ وارث علوی نے اس کتاب کو دو حصوں میں منقسم کیا ہے،حصہ اول میں انھوں نے بیدی کے فکر وفن اور اسلوب پر سیر حاصل بحث کی تو حصہ دوم میں ان کے افسانوں کا تجزیاتی مطالعہ پیش کیا ہے،اس کے علاوہ بیدی کے مشہور ناول ’ایک چادر میلی سی ‘کاتنقیدی مطالعہ بھی پیش کیا ہے۔ اس ناول پراب تک تبصرے اور مضامین کی شکل میں سیکڑوں صفحے سیاہ کیے جا چکے ہیں لیکن وارث علوی نے اس ناول کے کرداروں کا جس طرح اپنے مخصوص اور منفرد اسلوب کے ساتھ مطالعہ پیش کیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔اس تعلق سے ساجد رشید ’راجندر سنگھ بیدی۔ ایک مطالعہ‘پر تبصرہ کر تے ہوئے لکھتے ہیں:
’’وارث علوی نے جس گہرائی اور گیرائی سے ناول کے مرکزی کرداروں کی نفسیاتی گتھیوں کو کھو لا ہے وہ بیدی کے اس فن پارے کو معنویت عطا کر تا ہے۔دیگر ابواب میں افسانوں کو عنوانات کی مناسبت سے یا ان کے موضوع کی مطابقت سے گفتگو کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ بیدی کے اٹھاون افسانوں کی قرأت اور پھر ان کے موضوعات کی تخصیص کوئی سہل کام نہ تھا۔وارث علوی نے افسانوں کے جو باب قائم کیے ہیں وہ ان کی تفہیم کو ضرورسہل بناتے ہیں۔‘‘3
وارث علوی نے منٹو اور بیدی کے بعض افسانوی کردار وں کا تجزیہ اس قدر دلچسپ اور سائنٹفک انداز میں پیش کیا کہ کہا جانے لگا ان کی تنقیداتنی ہی دلچسپ ہے جتنے کہ افسانے مثلاً منٹو کے افسانے ہتک،بواو ر بابو گو پی ناتھ اور بیدی کے افسانے گرہن،کوکھ جلی،گرم کوٹ وغیرہ۔
وارث علوی نے فکشن کی تنقید میں افسانے اور ناول کی ساخت اور اس کی تکنیک کا بہت گہرا مطالعہ کیا ہے۔ پلاٹ،کردار،واقعہ نگاری،افسانے کی زبان و بیان اور افسانوی ادب کے مختلف لوازمات پر مفصل اور مدلل انداز میں لکھا۔ انھیں خاص طور پر ناول سے حد درجہ رغبت ہے۔ اس کا اندازہ ان کے ایک مضمون جس کا عنوان ہی ہے ’ناول بن جینا بھی کوئی جینا ہے ‘سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ان کے نزدیک نا ول کی تعریف یہ ہے کہ وہ انکشاف کر تا ہو، صداقت کا متلاشی ہو اور حقیقت کی تھاہ پالینے کی کوشش دکھاتا ہو۔ وہ ناول او رافسانہ کو ایک ایسا فریم مانتے ہیں جس کے اندر انسانی زندگی کی تصویر کو زیادہ معنی خیز،بصیرت افروز اور نشاط انگیز طریقہ سے دیکھ سکتے ہیں۔ وارث علوی جدید افسانہ کی مخالفت تو نہیں کرتے لیکن تجربات او رتبدیلیوں کے نام پر جدید افسانہ نگار نہ ہی افسانہ کے روایتی فن میں کوئی سود مند اضافہ کر سکا اور نہ ہی نیا فن تشکیل کر سکا انھیں جدید افسا نہ نگاروں سے حد درجہ شکایت ہے کہ:
’’نئے افسانہ نگار سے اجتہاد بن نہیں پڑا،اور نہ پلاٹ،نہ کہانی،نہ کر دار نگاری،نہ ہی زمان ومکان کی قید اس کے سامنے کسی ایسے جامد اور محجر رسومات تھے جو اس کے لیے نقطۂ انحراف کا باعث بنتے۔انحراف اور اجتہاد دونوں سے محروم نیا افسانہ نگار نہ تو پرانے فارم ہی کو کوئی تازگی دے سکا نہ نیا فارم ایجا د کر سکا۔‘‘4
تنقیدکا مسلمہ اصول ہے کہ کوئی بھی دعوی بغیر دلیل کے قابل قبول نہیں ہوتا۔اور ظاہر ہے دلائل کی بازیافت کے لیے وسیع مطالعہ درکار ہوتا ہے۔ چونکہ انگریزی،روسی او رفرانسیسی ادبیات کا مطالعہ بھی ان کا گہرا تھا اس لیے ان کی شخصیت نئے نئے افکار و آرا سے مزین تھی اور شاید یہی وجہ ہے کہ وہ ٹھوس دلائل پیش کرنے میں کامیاب رہے۔ وہاب اشرفی کی طرح وارث علوی بھی کبھی کسی ازم کاشکار نہیں ہوئے کیونکہ انھیں اپنی نظر پر مکمل اعتماد ہے۔ لکھتے ہیں:
’’میں ادب آرٹ اور تہذیب کے معاملہ میں کسی تحریک، رجحان یا مکتب سے کمٹ ہو نا پسند نہیں کر تا۔مجھے اپنی نظر پر اعتماد ہے اورنظر کو میں کسی نظریہ کا پابند کر نا گوارا نہیں کر تا۔‘‘5
وہ نظریات سے کام لیتے ضرور ہیں لیکن انھوں نے کبھی بھی ایک نظریے کی علمبرداری نہیں کی۔کیونکہ اگر کوئی تخلیق کار یاپھر تنقید نگار اپنے آپ کو کسی ایک نظر یے میں قید کر لیتا ہے تو پھر اس کی تنقیدنگار ی اسی نظریے کی تعبیر و تشریح کا عکس نظر آتی ہے یا بہ الفاظ دیگر کہا جا سکتا ہے کہ وہ اس نظریے کا علمبردار ہو تا ہے۔وارث علوی نے اپنے کئی مضامین میں یہ بتایا ہے کہ ادب کسی حصار میں مقید رہ کر ترقی کے منازل نہیں طے کر سکتا۔بلکہ ایک ادیب کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ آزادانہ ذہن کا مالک ہو تاکہ اس کی تخلیقات کسی مخصوص نظریے کی تعبیر و تشریح سے یکسر پاک ہوں۔ان کا کہنا ہے ایک اچھے ادیب کا ذہن تمام طرح کی بندشوں سے پاک ہوتا ہے۔وہ بہت سارے خیالات سے فیض ضرور حاصل کرتا ہے مگر کسی ایک خیال اور نظریے کا پابند نہیں ہوتا۔اس ضمن میں وہ لکھتے ہیں:
’’فنکار تو اپنے فن کے ذریعے اپنی ذات کا عرفان حاصل کر کے پوری کائنات کو سمجھتا ہے وہ تو یہی دیکھتا ہے وہ خود کیا ہے،پرچھائیں یا آدمی۔اگروہ پرچھائیں ہے تو ایک طرفی میکانکی،تبلیغی اور تلقینی ادب پیدا کر تا ہے۔اگر آدمی ہے تو وہ ادب پیدا کر تا ہے جو پہلودار ہے، آرزوؤں کی انجمن اوراندیشوں کا نگار خانہ ہے،سوز ساز و رومی اور پیچ و تاب رازی کی رزم گاہ ہے۔‘‘6
وارث علوی ترقی پسند تنقید سے تو خاصا بدظن نظر آتے ہیں کیونکہ اس کی بنیاد چند ایسے عقائد اور تصورات پر ہے جو ادب نہیں بلکہ ایک مخصوص فلسفہ سے ماخوذ ہیں اور فلسفہ بھی ایسا جو یا تو مبلغانہ ہے یا محاربانہ۔ ایک مبلغ کے نزدیک صحیح اور غلط کی اتنی اہمیت نہیں ہوتی جتنی اس کے نظریے کی۔اسے اس بات سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا کہ دراصل حقیقت کیا ہے،وہ اسی کو حقیقت مان رہا ہوتا ہے جس کے لیے وہ اپنے حواس کو بہت پہلے ہی قائل کر چکا ہوتا ہے اور اب اس کی نظر اپنے اسی نظریے کی تعبیر و تشریح پر مرکوز رہتی ہے۔اس تناظر میں اگر ہم ترقی پسندوں کو دیکھیں تو بقول وارث علوی وہ اتنے راسخ العقیدہ ہوتے ہیں کہ دوسرے لوگ انھیں دشمن نظر آتے ہیں۔اپنی کتاب ’خندہ ہاے بیجا‘ میں وہ لکھتے ہیں:
’’جو ان کے ہم عقیدہ نہیں انھیں ترقی پسند یا تو اپنا دشمن سمجھتے ہیں یا اگرکشادہ دلی کا ثبوت دیں تو ناگوار دوست۔ترقی پسند تنقید یا تو مبلغانہ ہے یا محاربانہ اس میں فکر کی کمی اور جذبہ کا وفور ہے۔آدرش واد اور یوٹوپیائزم کا اتنا غلبہ ہے کہ آنکھ حقیقت دیکھ ہی نہیں پاتی۔حقیقت سے مراد یہاں زندگی کی حقیقت بھی ہے اور ادب کی حقیقت بھی۔‘‘7
محولہ بالا اقتباس کا آخری جملہ قابل غور و فکر ہے۔ وارث علوی نے اس جملے کے ذریعے ترقی پسند تنقید کو یکسر بے معنی بتا دیا ہے۔کیونکہ جس تنقید یا فن پارے میں زندگی کی بھی حقیقت نہ ہو اور ادب کی بھی تو ظاہر ہے ایسی تنقید اور ایسا فن پارہ چہ معنی دارد؟ لیکن وارث علوی کا یہ اپنا خیال ہو سکتا ہے۔اپنے تمام تر نقائص اور کمیوں کے باوجود ترقی پسند تحریک اور اس کے زیر سایہ وجود میں آئے ادبی اور تنقیدی کارناموں کی اہمیت و افادیت اپنی جگہ مسلم ہے۔
وارث علوی نے افسانوی تنقید کے علاوہ نظریاتی مضامین بھی لکھے ہیں جو ان کے وسیع مطالعے کا پتہ دیتے ہیں۔مثلاًادب او رکمٹ منٹ،ادب اور سماج،ادب اور سیاست،،فسادات اور ادب،ادب اور پرو پیگنڈہ،ادب اور عوام،ادب او رآئیڈیو لو جی، وغیرہ۔مذکو رہ بالا مضامین میں انھوں نے اپنے موقف کی وضاحت عالمانہ اور دانشورانہ انداز میں کی ہے۔
ان کی تنقید نگاری کی ایک خاصیت یہ ہے کہ و ہ پڑھنے میں بہت دلچسپ ہو تی ہے۔ان کے متعلق یہ صحیح بات کہی جاتی ہے انھوں نے فلسفے کو پانی کر دیاہے۔وہ مشکل سے مشکل اور پیچیدہ مسئلے کو صاف اور ستھرے اور آسان زبان میں پیش کر تے ہیں کہ بات مکمل طور پر واضح ہو جاتی ہے۔دراصل ان کے اسلوب میں طنز و مزاح کا عنصر بھی ہے۔وارث علوی کے تنقیدی مضامین پر مبنی کتاب ’بت خانہ چیں‘ کے پیش لفظ میں محی الدین بمبئی والا نے لکھا ہے:۔
’’ان کو حسّ ظرافت خدا کی اتنی بڑی دین ہے کہ غالب کی طرح انھیں بھی حیوان ظریف کہا جا سکتا ہے۔ کالج کے پروفیسروں کا تو کہنا تھا کہ جس طرح ڈاکٹر جانسن کے پاس بوسویل تھا جو اس کی ہر ظریفانہ بات نوٹ کر لیا کر تا تھا،وارث صاحب کے پاس بھی ایسا ایک بوسویل ہونا چاہیے تھا۔ان کی ظرافت ان کے گجراتی ڈراموں میں کھل اٹھی اور کمال یہ ہوا کہ تنقید جیسی سنجیدہ اور اصطلاحوں سے بھری ہوئی صنف ادب کو بھی ان کی ظرافت نے لالہ زار بنا دیا۔‘‘8
وارث علوی نے اپنے مخصوص مزاحیہ انداز میں اس وقت کے تنقید نگاروں پر مضامین لکھے۔ ان مضامین میں وزیر آغا، قمر رئیس، ڈاکٹر محمد حسن، سید محمد عقیل، گوپی چند نارنگ، شمس الرحمان فاروقی اور شمیم حنفی وغیرہ کے نظریات پر ظرافت کے انداز میں بہت ہی بیباک تنقید کی ہے۔انھوں نے ان ناقدین ادب سے اختلاف ضرور کیا مگر یہ اختلاف نظریاتی تھے انھیں ذاتیات کا حصہ نہ بننے دیا کیونکہ وہ مذہب، مسلک، ذات، گروہ بندی اور علاقائیت جیسی بڑی اور بری بیماریوں سے اوپر اٹھ کر صحت مند ادب کے قائل اور اس کے فروغ میں ہمیشہ کوشاں رہے۔
’’تنقیدہماری زندگی کے لیے اتنی ہی ناگزیرہے جتنی سانس‘‘ ایلیٹ کا یہ جملہ یقیناًاپنے اندر معنویت کاایک اتھاہ سمندر لیے ہوئے ہے۔پیدائش سے لے کر موت تک انسان کا تنقیدی شعور زندگی کے ہر قدم اورہر موڑ پر اس کی رہنمائی کر تا ہے۔ اگر محاسن و معائب کی تمیز نہ ہو تو انسانی زندگی اپنے حدود سے باہرہوکرجانوروں کے مماثل قرار پائے اور وہ کبھی دانشمندی کے اس وصف کامستحق قرارنہ پائے جہاں پہنچ کرکہا جاتا ہے :
پہنچا جو آپ کو تو میں پہنچا خدا کے تئیں
تنقید زندگی کا ایک اہم حصہ ہے جس پربڑی حد تک انسانیت کا دار ومداربھی ہے۔وہ تنقید ی شعو رہی ہے جو انسان کو تمام قسم کی گمراہیوں سے بچاکر صراط مستقیم کی طرف رہنمائی فرماتی ہے۔ تنقیدی ذہن کی اہمیت کا اندازہ آپ وارث علوی کے اس اقتباس سے بخوبی لگا سکتے ہیں وہ لکھتے ہیں:
’’تنقید ی ذہن کی قدر و قیمت، غیر تنقیدی ذہن سے اسی لیے زیادہ ہے کہ وہ جذبات کو بھڑکانے سہانے خواب دکھانے او رتعصبات کو پالنے دل خوش کن خیالات کا آسانی سے شکار نہیں ہوتا۔تنقیدی ذہن ہر قوم کی آئیڈیولوجی اور ہر قسم کے فلسفے کا مطالعہ کرتا ہے اور اسے یہ خوف نہیں ہو تا کہ کوئی آئیڈیولوجی اسے بھی اس طرح مغلوب کرے گی جس طرح جاہل عوام کو کرتی ہے ۔‘‘9
دیگر تمام شعبہ ہائے زندگی کی طرح ادب کے لیے بھی تنقید اتنی ہی ضروری ہے جتنی زندگی کے لیے سانس کیوں کہ تنقیدفن پاروں کو وہ حرارت بہم پہنچاتی ہے جس سے ان کی پژمردگی دور ہو تی ہے اور وہ ادبی فن پارے کا حصہ بن پاتی ہے۔وارث علوی فکشن تنقید کو وہی حرارت اپنی تحریروں سے پوری زندگی پہنچاتے رہے نیز ان کی تحریریں علم کا وہ بحر بے کراں ہیں جن میں غوطہ زنی کے بغیر کچھ ہاتھ نہیں لگتا گہرکی بات تو کجا۔ ان کا اسلوب الفاظ و معنی کو برتنے کا ہنر سکھا تا ہے۔
حوالہ جات
-1 وارث علوی،منٹو: ایک مطالعہ(وجے پبلشر ز، دریاگنج، نئی دہلی، 1997) ص23
-2 وارث علوی، تیسرے درجے کا مسافر (امت پرکاشن، جودھپور، راجستھان،1981) ص95
-3 ساجد رشید، سہ ماہی نیا ورق ( جلد نمبر10، شمارہ26،اپریل تا جون، 2007بمبئی) ص 203
-4 وارث علوی،بتخا نہ چین (گجرات اردو ساہتیہ اکادمی،گاندھی نگر، 2010) ص 532
-5 ایضاً ص92
-6 وارث علوی، تیسرے درجے کا مسافر(امت پرکاشن، جودھپور، راجستھان1981) ص 113
-7 وارث علوی، خندہ ہائے بیجا (مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، جامعہ نگر، نئی دہلی25، 1987) ص25
-8 وارث علوی،بتخانہ چین (گجرات اردو ساہتیہ اکادمی،گاندھی نگر، 2010) ص9
-9 وارث علوی، پیشہ تو سپہ گری کا بھلا (گجرات اردو ساہتیہ اکادمی، گاندھی 1990) ص37
n
Aas Mohammad Siddiqui
Research Scholar, Dept of Urdu
Jamia Millia Islamia
New Delhi - 110025


قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

4/7/18

ہندوستانی تصور تانیثیت۔ مضمون نگار شاذیہ تمکین الہ آباد۔ انڈیا




ہندوستانی تصور تانیثیت
شاذیہ تمکین
تانیثی تحریک نے دنیا کے مختلف ممالک میں ان کی ضروریات کے مطابق شکل اختیار کی ہے۔Kamla Bhasinکہتی ہیں کہ:
"I believe Feminism has been and should be like a water. Water takes the shape of the pot it is put into." (http://www.youtube.com/watch?v=GiGjq3dGeJI&t=2031s) ہرملک میں عورت کے معاشرتی ‘سیاسی اور معاشی حالات‘ تعلیم‘ رسم و رواج‘طبقاتی درجوں کے تحت نسائی مطالبات سامنے آئے ہیں ۔مگر چند ایسے مطالبات بھی موجود ہیں جو عالمی حیثیت رکھتے ہیں کیوں کہ عورتوں کے مسائل اور ان کے خلاف امتیازی رویہ مشرق و مغرب دونوں خطوں میں نظر آتا ہے۔تقریباًڈیڑھ صدی قبل مغربی خاتون ووٹ ڈالنے ‘جائداد کی ملکیت اور اپنی مزدوری کا معاوضہ حاصل کرنے سے محروم تھی۔زندگی کے ہر شعبے میں مساوی حقوق حاصل کرنے میں اسے کافی جد و جہد کرنی پڑی۔آہستہ آہستہ اپنے حقوق کی لڑائی لڑتے ہوئے اس نے قانونی ‘سیاسی ‘معاشی میدانوں میں اپنی قابلیت کو منوایا۔آج بھی اس کی یہ لڑائی جاری ہے کیوں کہ زیادہ تر حقوق حاصل کرنے کہ باوجود کچھ بنیادی مطالبات آج بھی سر اٹھائے کھڑے ہیں۔
مجوعی طور پر اگر دیکھا جائے توہندوستانی عورت اپنے حقوق سے آگاہ ہے۔اور اس کے حصول کے لیے کوشاں بھی نظر آتی ہے۔ہندوستان میں تانیثی تصورات کے متعلق عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ مغرب سے مستعار ہیں۔مگر ہندوستانی عورت نے اپنے حقوق کی آگہی کا جو سفر ویدک عہد سے لے کر اب تک طے کیا ہے اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ہندوستانی عورت کا تانیثی نظریہ کوئی آج کی بات نہیں ہے۔رگ وید کو تصنیف کرنے والوں میں جو بیس عورتوں کے نام شامل ہیں ان کا ادبی شعور اور تعلیمی آگہی ان کے تانیثی شعور کے ضامن ہیں۔ویدک عہد میں Yajnavalkyaسے پوچھے گئے ایک ویدک اسکالرگارگی کے دقیق اور پیچیدہ سوالات اس کے تانیثی شعور کی گواہی دیتے ہیں۔کملا بھسین (Kamla Bhasin)اس کے متعلق اپنی ایک تقریر میں کہتی ہیں:
"Even a feminism was western but it was a good idea, I would accept it. Political ideology of marxism came from there we had adopted it. Feminism is not western it is local.......At Mahatma Buddha's time women went and said, Buddha! we want to join your Sangha. He said no First, women did not go back. They went to Ananda and said, see, your director is saying we can't join. Then Ananda went to Mr Buddha and said, "Buddha! woh to hadtal kar rahi hain, woh nahin jayengi." 2500 hundred years ago in India, debate taking place for women's rights within religion......After this debate Budhdha said, You may join......he took a revolutionary step of allowing women to come in. So, for me Buddha is feminst and those five hundred women who went the Buddha, were feminst fighting for their rights.
(http://www.youtube.com/watch?v=GiGjq3dGeJI&t=2031s)
سمراٹ اشوک کی بیٹی سنگھ مترا پہلی مبلغ خاتون تھی جو بدھ کی تعلیمات کی تبلیغ کی غرض سے شری لنکا تک گئی تھی۔جین مت کے چوبیس گروؤں میں ویدیا کی راج کماری ملّی بھی شامل تھی اور اگر مشرقی تناظر میں دیکھا جائے تو حضرت محمدؐ پہلے انسان ہیں جنہوں نے چودہ سو سال پہلے مردانہ بالادستی (Petriarchy)کے خلاف مہم چھیڑی۔چودہ سو سال پہلے کہاں تھا مغرب اور کہاں تھے ان کے حقوق؟اسلام پہلا مذہب ہے جس نے صحیح معنوں میں عورت کو اس کے حقوق سے روشناس کرایا اور روایتی قانون کے خلاف پہلی احتجاجی لے وہیں سے سنائی دیتی ہے۔
ڈاکٹر نجیبہ عارف کے ذیل کے بیان سے مشرقی عورت کے احساس اور مطالبے کی بہترین عکاسی ہو رہی ہے:
’’عورت نہ تو اپنے بنیادی وظیفۂ حیات سے منکر ہے نہ اخلاقی قیود سے آزادی کو اپنی منزل قرار دیتی ہے۔سوال صرف اس ذہنی نشو و نما اور ارتقاء کا ہے جس کا حق مرد وزن کو یکساں طور پر فراہم کیاجانا چاہیے۔عورت کو بھی اپنی ذات کی تکمیل اور شخصیت کے اظہار کے وہ تمام مواقع ملنے چاہئیں جو اب تک صرف مرد کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔‘‘
(مشمولہ:پاکستانی اردو افسانہ نگار خواتین کے افسانوں میں نسوانی کردار‘فوزیہ رانی‘ ص۔49)
ہندوستانی عورت اپنے بنیادی فرائض سے قطعاًمنکر نہیں ہے۔یہ وہ فرائض ہیں جو مرد مقابل صنف ہونے کے ناطے ایک منظم معاشرے کی تکمیل کے سبب اس کی شخصیت کے ساتھ منسلک ہیں۔ان فرائض کے تئیں وہ ہمیشہ باشعور رہی ہے مگر مرد بالادست سماج میں اسے ہمیشہ ثانوی درجہ ملا۔اس لیے وہ عزت نفس اور اپنی ذہنی وفکری آزادی کے تشخص کی صدا بلند کرتی ہے جو ایک انسان کی حیثیت سے اس کا حق ہے۔
تانیثی فکر پر عورتوں کی اجارہ داری ضروری نہیں۔مرد بھی اس نظریے کے حامل اور ان کے حقوق کے حصول میں معاون ہو سکتے ہیں۔ جدید ہندوستان میں انگریزوں کی ما تحتی میں سب سے پہلے عورتوں کی فلاح و بہبودی کے لیے صدا بلند کرنے والے مرد حضرات ہی تھے جن کی کوششوں سے مختلف تحریکات وجود میں آئیں جن میں ’برہمو سماج اور آریہ سماج‘نے نمایاں کام انجام دیا۔راجا رام موہن رائے‘ایشور چندر ودیہ ساگر‘کشیپ چندر سین وغیرہ روشن خیال اور باشعور مردوں کی انتھک کوشش اور بے لاگ مخالفتوں کی وجہ سے 1829میں ستی کے خلاف اور 1856میں بیواؤں کی دوسری شادی کی حمایت میں قانون پاس ہوا۔مسلمانوں میں عورتوں کے حقوق کے تئیں بیداری کی تھوڑی سی لہر سر سید احمد خان کی تحریک کے بعد پیدا ہوئی۔اگرچہ سر سیدعورتوں کی جدید تعلیم کے حق میں نہیں تھے مگر سر سید کی علی گڑھ تحریک کے زیر اثر جو تعلم یافتہ طبقہ سامنے آیا ‘اس میں آگے چل کر یہ شعور بیدار ہوا کہ عورت معاشرتی ‘معاشی اور سیاسی زندگی میں اہم رول ادا کرتی ہے۔سماجی اور سیاسی بیداری کے پہلو بہ پہلو ادبی دنیا میں بھی تانیثی تصور کے اثرات صاف جھلک رہے تھے۔اردو ادب کی بات کی جائے تو یہاں بھی پہل مرد ادیبوں نے ہی کی۔سب سے پہلے عورت کو ایک محبوبہ کے چولے سے نکال کر ایک ماں‘ایک بہن‘ایک بیٹی اور ایک بیوی کی حیثیت سے دنیائے شاعری میں متعارف کروانے والے خواجہ الطاف حسین حالیؔ ہیں۔نظم’چپ کی داد‘کے ابتدائی اشعار ملاحظہ ہوں:
اے ماؤ‘ بہنو ‘بیٹیو
دنیا کی زینت تم سے ہےملکوں کی بستی ہو تمھیقوموں کی عزت تم سے ہےصالحہ عابد حسین لکھتی ہیں:’’واقعہ یہ ہے کہ اس زمانے میں ہندوستانی عورت کے حقوق کی حفاظت (اور یاد رکھیے یہاں مسلمان عورت کا سوال نہیں ہے بلکہ ہندوستان کی ہر عورت کی حمایت پیش نظر ہے)سب سے پہلی آواز جس شخص نے بلند کی اور اس کی سماجی مظلومی کا سب سے پہلے اعتراف کیا اور اس کی حمایت کا علم اٹھایا ‘وہ حالیؔ ہی تھے۔‘‘
(صالحہ عابد حسین‘یادگار حالی‘ص۔227)
ہندوستانی عورت کے لیے تانیثیت سے مراد مرد دشمنی بالکل نہیں ہے بلکہ عورت کے استحصال کا رویہ قابل مذمت ہے چاہے ان رویوں کو اپنانے والے مرد ہوں یا عورتیں‘تانیثیت دونوں کی مخالفت کرتا ہے۔ ہندوستان میں ایسے ہزاروں گھر موجود ہیں جہاں خواتین کا استحصال خواتین ہی کرتی ہیں عموماًجس کی ابتداء بہو کے گھر میں قدم رکھتے ہی ہو جاتی ہے۔تانیثی تصور کے علم بردار ان خواتین کے خلاف بھی علم بغاوت بلندکرتے ہیں۔
تانیثی تصور کے علم بردار مثبت معاشرتی قدروں کو مسمار نہیں کرنا چاہتے بلکہ ان اقدار کا خاتمہ چاہتے ہیں جو عورت کے حقوق کی پامالی کے ذمہ دار ہیں۔جس طریقے سے عورت کا استعمال ہو رہا ہے‘ان کو غلام بنانے کی جو تدبیریں کی جارہی ہیں ان سے عورت کو اپنی فطری صلاحیتوں کی آگہی اور پیش کش کا موقع نہیں مل رہا ہے‘صرف یہی نہیں بلکہ اس کا اثر پورے معاشرے پر بھی پڑ رہا ہے جس سے معاشرہ انتشار کی طرف گامزن ہے۔ کیوں کہ ایک مثالی معاشرے کی تکمیل میں مرد وزن دونوں برابر کے ذمہ دار ہیں ،اس لیے عورت کو اس کا جائز مقام اور عزت نہ دینے کے باعث معاشرے کا استحکام اور بنیادی انسانی قدروں کا تحفظ خطرے میں پڑ گیا ہے۔اس لیے عورتوں کے حقوق کی لڑائی لڑنے والے ہندوستانی تانیثی تصور کے علمبردار جن میں مرد اور عورت دونوں شامل ہیں‘اپنے اخلاقی قیود میں رہ کر ہندوستانی عورت میں اپنے حقوق کے تئیں شعور و بیداری پیداکرنے میں کوشاں نظر آتے ہیں۔جس میں سب سے پہلے قدیم عہد سے چلی آرہی ستی کا رواج اور بیوہ کی دوسری شادی نہ کرنے کی رسم کی مخالفت کی گئی‘جس کے سبب 1829میں ستی کے خلاف اور 1856میں بیواؤں کی دوسری شادی کی حمایت میں قانون پاس کیا گیا۔ان دانشوروں کے ذریعہ علاقائی اعتبار سے بھی ان انسان سوز رسموں کے خلاف مہم چلائے گئے۔مکمل طور پر نہ سہی مگر کہیں کہیں بیداری کا جذبہ بھی پیدا ہونے لگا۔انہیں کوششوں کا ثمرہ تھا کہ کشمیری پنڈتوں کے فرقے میں پہلی مرتبہ ایک بیوہ لڑکی کی شادی آگرہ میں ہوئی۔اس اصلاح کی تعریف اور خیر مقدم میں چکبست نے نظم’برق اصلاح‘تحریر کی ۔اس نظم میں معاشرے میں رائج بیوہ کے عقد ثانی کے خلاف رسم کی مذمت کرتے ہوئے نئے دور میں بدلے ہوئے حالات اور قومی مصلح کی تعریف میں قصیدہ خوانی کر رہے ہیں۔کہتے ہیں کہ اگرچہ اس عمل سے کہنے کو دین و مذہب برباد ہوا مگر ہمیں اس کا کوئی دکھ نہیں ہے۔ہماری خوشی یہ ہے کہ انسان کی آزادی کا بت صحیح سلامت رہے۔اس نظم کاابتدائی حصہ ملاحظہ ہو۔
مرحبا جرأت اصلاح دلانے والو
قوم کے بارِ امانت کے اٹھانے والو
دل کی اجڑی ہوئی نگری کے بسانے والو
مادر ہند کی بگڑی کے بنانے والو
کسے طوفاں میں دیا ہے یہ سہارا تم نے
خوب ڈوبی ہوئی کشتی کو ابھارا تم نے
اسی درمیان عورتوں کی تعلیم کو بھی ضروری گردانتے ہوئے حقوق نسواں کے حامیوں نے تعلیم نسواں کو عام کرنے کی کوشش کی۔پونے میں1848میں لڑکیوں کے اسکول کی سب سے پہلی شروعات ساوتری بائی پھولے سے ہوئی تھی۔اس وجہ سے انہیں جدید ہندوستان کی سب سے پہلی فیمنسٹ مانا جاتا ہے۔تخلیق کاروں کے یہاں بھی تانیثی تصورات کی جھلک پائی جاتی ہے۔اردو شاعری کی بات کی جائے تو حالیؔ اپنی نظم ’’نظم چپ کی داد‘‘میں مرد کی اس ذہنیت کہ عورت تعلیم سے ناآشنا رہے کے پیچھے پوشیدہ اسباب پر روشنی ڈالتے ہوئے عورت کو شعوری طور پر بے دار کر رہے ہیں کہ :
دنیا کے دانا اور حکیم اس خوف سے لرزاں تھے سب
تم پر مبادا علم کی پڑ جائے پر چھائیں کہیں
ایسا نہ ہو مرد اور عورت میں رہے باقی نہ فرق
تعلیم پا کر آدمی بننا تمھیں زیبا نہیں
ہندوستان میں عورت کے مسائل اور مطالبات اس کے اپنے ماحول اور اقدار سے متعلق ہیں۔ یہاں کی عورت اخلاقی قید سے بالا تر آزادی کی خواہاں نہیں۔ وہ مغرب کی نسائی تحریک کی علمبرداروں کی طرح ایسی جنسی آزادی کی خواہش مند با لکل بھی نہیں ہے جس سے وہ بے راہ روی کا شکار ہو جائے۔ یہاں کی عورت مرد کی رقابت کے بجائے اس کی رفاقت کی خواہاں نظر آتی ہے۔رفیعہ شبنم عابدی کی نظم ’نصف بہتر‘ملاحظہ ہو:
’کچھ اختلاف نظر نے بھی دل دکھایا تھا؍کچھ اضطراب کا باعث بنا سلوک اس کا؍خیال دل میں تو آیاکہ چھوڑ جاؤںیہ در؍یہ آرزو بھی نہیں تھی کہ روک لے وہ مجھے؍سوال یہ تھا کہ دہلیز کیسے پار کروں؍ہزار مسئلے گھیرے ہوئے تھے گھر میں اسے؍۔۔۔۔۔۔وہ احتساب کے گرداب میں اکیلا تھا؍اسی لیے تو قدم اٹھ نہیں سکے شاید؍میں جانتی تھی کہ اسے مری ضرورت ہے!!‘
اس تصور کے ساتھ ہندوستانی خاتون گھر کو توڑنے کے بجائے اسے خوشحال بنانے کی چاہ میں ہمیشہ کو شاں رہتی ہے۔اس صورت میں وہ مرد اور عورت دونوں کی ذات کے تشخص اور دونوں میں حقوق نسواں کے تئیں شعوری بیداری پیداکرنا چاہتی ہے۔مغرب میں بن بیاہی ماؤ ں کے مسائل موجود ہیں جب کہ ہمارے یہاں اس کا تصور ممکن نہیں۔ہر عورت ماں بنے سے پہلے شادی جیسے پاک جذبے کی خواہش مند رہتی ہے۔طلاق یا بیوگی کی حالت میں اس عورت اور بچوں کی کفالت کی ذمہ داری مغرب کی طرح ریاستی نہیں بلکہ معاشرتی ہے۔بیوگی کی حالت میں خاندان یا برادری کے لوگ اور طلاق کی حالت میں شوہر اس عورت کی کفالت کی ذمّہ داری اٹھاتا ہے۔
ہندوستان کے آئین کے مطابق عورتوں کا درجہ بحیثیت انسان مردوں کے مساوی ہے وہ آزاد شہری کے حقوق رکھتی ہیں۔ عورتوں کے لیے کئی قوانین بھی موجود ہیں جو ان کوحق تلفی سے بچانے اور ان کی دفاع کے لیے بنائے گئے ہیں مگر عملی اعتبار سے خواتین اس سے بہت کم مستفید ہو پاتی ہیں۔اس کی سب سے بڑی وجہ ان کی جہالت ہے اور دوسری وجہ ہر معاملے میں گھر کے مردوں پر انحصار کرنا ہے۔یہاں تک بھی دیکھا جاتا ہے کہ ووٹ ڈالنے سے پہلے انہیں پتہ نہیں رہتا ہے کہ وہ کس کا اور کیوں انتخاب کریں۔یہاں بھی وہ گھر کے مرد پر ہی منحصر رہتی ہیں۔اس لیے ہندوستانی تانیثی تصور کے علمبردار سب سے پہلے عورت میں ہی اپنے حقوق کے تئیں بیداری پیدا کرنا چاہتے ہیں۔انگریزی کی پروفیسر اور ناول نگار منجو کپور لکھتی ہیں:
"A women should be aware, selfcontrol, strong will, self reliant and rational, having faith in the inner strength of womenhood. A meaningful change can be deeper psychic sense."
(Manju Kapur, 'A married women', penguin pub, New Delhi, 2002, p-23)
عورتوں کی گھریلو مشقت جسے کام کے زمرے میں شمولیت نہیں ملتی ‘پوری دنیا میں تانیثی تحریک کے پیش نظر رہا ہے۔ ہندوستانی عورت اپنے اس کام کا معاوضہ تو نہیں مانگتی مگر یہ چاہتی ہے کہ اس کے اس کام کی قدر کی جائے ۔چوں کہ اس کے اس گھریلو کام کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی اس لیے وہ بھی گھر سے باہر نکل کر مردوں کی طرح مختلف شعبوں میں کام کرنے کی بھی خواہاں نظر آتی ہے۔ہندوستان کے دیہی علاقوں میں ایسی بھی خواتین موجود ہیں جو گھر اور کھیتوں میں بلا معاوضہ محنت و مشقت کرتی دکھائی دیتی ہیں۔تعلیم سے محروم ان خواتین کی اکثریت اپنے حقوق سے آگاہ نہیں ہے۔ان کی محنت سے جو بھی آمدنی ہوتی ہے زیادہ ترایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ اس کی شکل تک بھی دیکھنے سے محروم رہتی ہیں۔اس پر صرف مرد کا حق ہوتا ہے۔مگر یہ خواتین ان بنیادی انسانی مطالبات کی ضرورت شدت سے محسوس کرتی ہیں جو بحیثیت انسان ان کی محنت کا اجر اور ان کی کمائی پر انہیں آزادانہ تصرف کا اختیار دے سکیں۔ایک شعر ملاحظہ ہو:
ظلمتوں کے دشت میں اب کس لیے بھٹکا کروں
مجھ کو میرے خضر نے وہ راہ دکھلائی نہ پوچھ
(رخسانہ جبیں)
موجودہ دور میں لڑکیوں کی تعلیم پر زیادہ توجہ دی جارہی ہے ۔وہ اپنی ماؤں سے زیادہ تعلیم حاصل کر رہی ہیں مگر زیادہ تر یہی دیکھا جاتا ہے کہ خاندان کی ترقی لڑکوں کے ساتھ ہی وابستہ ہےA.S. Altekarکے مطابق؛
"In ancient times an all patriarchal soceities the birth of a girl was generally an unwelcome event. Almost everywhere the son was valued more than the daughter. He was a permanent economc asset of the family.He lived with his aged parents and didnot like the daughter to another family after the marriage. He perpetuated the name of his father's family."
(A.S. Altekar,The position of women in Hindu civilization: from prehistoric times to the present day, p-3)
آلٹیکر کا مذکورہ بیان قدیم ہندوستان کے تناظر میں ہے مگر آج بھی ہندوستان میں زیادہ تر ایسے گھرانے موجود ہیں جو لڑکیوں سے زیادہ لڑکوں کی پیدائش اور ان کی تعلیم کو ترجیح دیتے ہیں۔بنیادی وجہ وہی ہے جو آلٹیکر نے بیان کیا مگر ہندوستان کی تعلیم یافتہ عورت اپنے علم و ہنر کی قدر و قیمت چاہتی ہے۔اپنی ذات کے تئیں اپنے والدین کی توجہ اور محبت و شفقت کی متقاضی ہے ۔پیدائش سے پہلے ہی جبراًماں کی کوکھ میں اسے ختم کر دیا جاتا ہے اس لیے یہاں کی عورت اسقاط حمل میں اپنا اختیار چاہتی ہے۔
عورتوں پر ہو رہے گھریلو تشدد کی خبریں آئے دن سننے میں آتی ہیں جس کا شکار نچلے اور غریب طبقے کی عورت ہی نہیں بلکہ اوسط‘ اونچے اور امیر گھرانوں کی عورتیں بھی ہوتی ہیں۔ایسابھی ہوتا ہے کہ عورتوں کو اپنی جان تک گنوانی پڑتی ہے۔اشعار ملاحظہ ہو:
ایک چھوٹی سی چھت کی خاطر کیا کیا خواب گنوا بیٹھی تھی
بھول گئی کہ اینٹیں اس کی مٹی گارے اس کے تھے
زنجیروں کے بدلے اب بھی گہنے پاتے بنتے ہیں
صدیوں سے یہ جبر کے بندھن بیچ ہمارے اس کے تھے
(کہکشاں تبسم)
اس آگہی کے ساتھ ہندوستانی عورت گھر میں برابری کا درجہ چاہتی ہے۔مردوں کے ظلم و جبر سے آزادی کی طلب گار ہے۔اپنی ذات کی شناخت کے لیے آزاد ملک کی آزادی کے ثمرات سے بہرہ ورعورت آئے دن نئے نئے مسائل سے دو چار ہوتی رہتی ہے۔ گھر تک محدود تھی تو گھریلو مسائل کا سامنا تھااور گھر سے باہر نکلی تو اس طرف بھی مسائل کا انبار اس کا استقبال کررہا ہوتا ہے۔یہ آج کی عور ت کا کرب ہے کہ بیک وقت اسے دوہری زندگی گزارنی پڑ رہی ہے۔ایک طرف دوہری ذمہ داری کے بوجھ سے پریشان ہے تو دوسری طرف ہر ہر قدم پر عزت کے تشخص کا مسئلہ درپیش نظر آتا ہے۔آج کی عورت ایک ایسے معاشرے کا تقاضا کرتی ہے جہاں مرد کی طرح عورت بھی بلا خوف و خطر کہیں بھی آجا سکے۔مردوں کی شہوت بھری نگاہوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔دیگر پریشانیوں کے ساتھ ساتھ عزت کے تحفظ کی فکر دامن گیر نہ رہے۔ایسی حالت میں آج کی خاتون اس جذبے سے معمور نظر آتی ہے:
بدل دیں گے ذرا سا وقت کو بس
اِدھر کا کچھ اُدھر کرنا پڑے گا
(مسرت انجم)
ہندوستان میں چونکہ مختلف مذاہب سے جڑے ہوئے لوگ رہتے ہیں جو مذہبی اعتبار سے مختلف قاعدے و قوانین کی پیروی کرتے ہیں۔ہندو مذہب میں مختلف ورنوں کا رواج ہے جہاں سب سے چھوٹا طبقہ شودر کہلاتا ہے جن میں دلت طبقہ بھی شامل ہے۔اس طبقے کی عورتیں دو طرح کے مسائل سے دوچارہوتی ہیں ۔ایک توشودر کے لحاظ سے مرد کے ساتھ ساتھ ان کا بھی مختلف طرح سے استحصال کیا جاتا ہے اور دوسرا ایک عورت ہونے کے ناطے مختلف طرح کے مسائل کا سامنا کرتی ہیں ۔ اسی طرح مسلمانوں میں بھی ہندوستانی تہذیب کے اثرات کی بنسبت مختلف علاقوں میں عورت نسلی امتیازات کا شکار رہتی ہے۔اس لیے ہندوستان میں بھی اس تصور کے حامی"The personal is the political"یعنی ’’نجی ہی سیاسی ‘‘کے نعرے کی تائید کرتے ہیں۔ کیوں کہ جس کسی بھی گھر میں عورت تشدد کا شکار ہے چاہے وہ کسی بھی مذہب یا طبقے سے کیوں نہ تعلق رکھتی ہو‘تو یہ گھریلو یا نجی معاملہ نہیں ہے بلکہ عوامی معاملہ ہے۔اگر کسی بھی لڑکی کی شادی جہیز دے کر کی جائے تو یہ ان کا نجی معاملہ نہیں ہے اس سے پورا معاشرہ متا ثر ہوتا ہے۔اس لیے ہندوستانی عورت بھی گھر اور معاشرے میں نیچے سے اوپر تک ہر طرح کے تشدد کا خاتمہ چاہتی ہے۔اس لیے فیمنسٹ "Universal Sisterhood"کی بات کرتے ہیں۔
ہندوستان میں دور حاضر میں کھل عام نہ سہی مگر پوشیدہ طور پر عورت عصمت فروشی کے بیوپار سے بھی جڑی ہوئی ہے۔اس کے پیچھے کئی وجوہات کارفرما نظر آتے ہیں۔مگر عمومی طور پرغریبی‘بے روزگاری اہم اسباب ہیں۔اس لیے تانیثی نظریہ رکھنے والے مانتے ہیں کہ چونکہ ہندوستانی قانون سماج میں عورتوں کو برابری کا درجہ دیتا ہے تو سب سے پہلے سماج کو انہیں معاشی‘سماجی اور نفسیاتی تحفظ کی ضمانت دینی ہوگی اور حکومت سے یہ مانگ کرتے ہیں کہ عورتوں کو اس پیشے سے نجات دلانے کے لیے ان کی معاشی بحالی کا انتظام کیا جائے۔
جہاں تک ادب کی بات آتی ہے یہاں بھی مردوں کی اجارہ داری موجود تھی ۔مغربی خاتون کی طرح ہندوستانی خاتون اس عصبیت کو دور کرنا چاہتی ہے۔ایک وہ دور تھا جب خواتین اپنے احساسات و جذبات کو الفاظ کے موتیوں سے پرونے کے لیے بے چین و بے قرار تھیں مگران کی تحریری صلاحیتوں کو لائق اظہار نہیں سمجھا جاتا تھا۔ادیبائیں اپنا نام بدل کر اپنی تخلیقات کو منظر عام پر لاتی تھیں۔اشعار ملاحظہ ہوں:
میں درد جاگتی ہوں‘ زخم زخم سوتی ہوں
نہنگ جس کو نگل جائے ایسا موتی ہوں
وہ میری فکر کے روزن پہ کیل جڑتا ہے
میں آگہی کے تجسس میں خون روتی ہیں
(ترنم ریاض)
اور آج کا دور ہے جہاں انہوں نے ادب میں بھی اپنی صلاحیتوں کو منوایا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ ماضی میں مردوں کے ذریعہ تخلیق کردہ ادب جس میں انہوں نے عورت کو اسی طرح پیش کیا جس طرح انہیں رکھا گیاتھا‘انہوں نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ اسے کیسا ہونا چاہیے‘یا اس روایتی ڈھانچے سے الگ اور کیسی ہو سکتی ہے؟اس لیے متون میں عورت کردار کا ازسرِنو مطالعہ عورت کے نظریے سے کیا جانا چاہیے۔اس لیے مرد تخلیق کاروں کے ذریعہ پیش کی گئی عورت کی شبیہہ کو فیمنسٹ ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ان کا ماننا ہے کہ انہوں نے عورت کو جس طرح دکھایا ہے وہ کسی بھی پہلو سے قریب از قیاس نہیں ہے۔ان تخلیقات میں جس روایتی Stereotypeعورت کو پیش کیا گیا ہے ‘ا س کے مطالعے سے قاری کبھی بھی یہ نہیں جان پائے گا کہ عورت کے اندر بھی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت موجود ہے‘جیسا مرد اسے دکھارہا ہے وہ ویسی ہی ہے یا ویسی بنا دی گئی ہے۔
گزشتہ دو صدیوں میں فیمنزم کی تحریک نے عورتوں کے لئے تعلیم اور ملازمت کے مساوی مواقع‘جائیداد کی ملکیت کا موقع‘ووٹ دینے کا حق ‘پارلیمنٹ میں نمائندگی کا موقع‘برتھ کنٹرول‘شادی اور طلاق وغیرہ کے حق کے حصول میں خاطر خواہ کام انجام دیا ہے۔جو ہندوستانی عورت کے جد وجہد کی کامیابی کی ضمانت ہے۔مگر کہیں کہیں یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ مغربی خواتین کی نقالی میںآج کی جدیدہندوستانی عورت اس تحریک کے بنیادی مقاصد کو بھلا کر بے راہ روی کا شکار ہو گئی ہے۔ مردوں سے جنگ یااپنے حیاتیاتی نظام کے خلاف جاکر ان کی طرح بن جانایا صدیوں سے ہو رہے ظلم و جبر کا بدلہ مردوں سے لینا‘ان کو ان کے حقوق سے دور کر دینا‘قدرت کے ذریعہ رائج کیے گیے سہولیات سے انہیں محروم کر دینا ‘زندگی کے ہر میدان میں انہیں کمتر اور خود کو برتر دکھانا وغیرہ اس تحریک کے مقاصد نہیں ہیں ۔مگر آج مساوات مرد و زن کے متعلق جدید عورت کا نظریہ کہیں نہ کہیں انہیں سارے عناصر سے جڑچکا ہے۔عورت نے اپنے بدلے کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے فطری روش کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور مصنوعی طریقے کو اپنا لیا ہے جس کی بدولت خاندانی نظام تتر بتر ہو رہاہے ‘بچے اپنے والدین کی محبت سے محروم ہو رہے ہیں‘نوجوان پیڑھی جنسی بے راہ روی کا شکار ہو رہی ہے‘مجرد رہ کر ہم جنس پرستی جیسے لعنت کو اپنایا جارہا ہے‘تولید کے فطری طریقے کو چھوڑ کر مثنوعی طریقوں کو اپنایا جا رہا ہے۔شادی شدہ زندگیاں ابدی خوشیوں سے محروم ہو رہی ہیں جس کی وجہ سے معاشرے میں طلاق کی کثرت دیکھنے کو مل رہی ہے۔عورتیں اپنی ایسی ہی ناجائز مطالبات کو پورا کرنے کی دھن میں عقل سے عاری ہو چکی ہیں ۔انہیں احساس بھی نہیں ہے کہ کل ان کا استحصال گھر کے اندر ہو رہا تھا اور آج گھر کے باہر ہو رہا ہے۔یہ آزادی نہیں ہے سراب کا سا دھوکہ ہے جو اس کے ارد گرد دبیز دھوئیں کی شکل میں گھیرا بنائے ہوئے ہے جس کے اس پار اسے کچھ نہیں دکھ رہا۔
ایسے کئی ایک تصورات موجود ہیں جو ہندوستانی عورت کے تانیثی شعور کے ضامن ہیں جن کا احاطہ ایک چھوٹے سے مضمون میں کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔المختصر یہی کہا جا سکتا ہے کہ ہندوستانی عورت کا تانیثی شعور بیدار بھی ہے اور متحرک بھی۔ایک خوشحال زندگی کے لیے اپنے بنیادی حقوق کا شعور اور بحیثیت انسان سماج میں برابری کے درجے کی معلومات سے وہ نہ صرف آگاہ ہے بلکہ اس کا مطالبہ بھی کرتی ہے۔دیہی علاقے کی انپڑھ عورت فیمنزم یا تانیثیت کے لفظ سے نا مانوس ہو سکتی ہے مگر اپنے حقوق کے تئیں بے داری کاجذبہ اس کے اندر بھی موجزن نظر آتا ہے۔اس لیے عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ ایسی عورتیں بھی معاشرے کے خلاف جاکر اپنی بیٹیوں کو تعلیم دلانے میں کوشاں نظر آتی ہیں کہ آگے چل کر ان کی بیٹیاں ان کی طرح زندگی نہ گزاریں۔یہاں یہ عورتیں بھی فیمنزم سے نا واقفیت کے باوجود فیمنسٹ کہلائی جائیں گی۔بیس سال پہلے ساؤتھ ایشیا کی چند روشن خیال خواتین کے ذریعہ حقوق نسواں کے علمبرداروں کے لئے پیش کیاگیا تعارف ایک فیمنسٹ کی شخصیت کی بہترین عکاسی کر رہا ہے:
"Anyone who recognizes discrimination against women and girls, within the family, at the place of work and in society in general, and who takes action against this discrimination is a feminist."
آج ہندوستانی عورت ایک ایسے دن کی صبح کا انتظار کر رہی ہے جب آزادی‘ تحفظ اور برابری کے حق سے مرد کی طرح عورت بھی مکمل طور سے بہرہ ورہو۔میں اپنے اس مقالے کو ادا جعفریؔ کی نظم’ سانجھ سویرے‘کے ان اشعار پر ختم کرنا چاہتی ہوں جن میں ایسی ہی روشن صبح کا ذکر کیا گیا ہے:
بھیگی بھیگی پلکوں والی
جتنی آنکھیں ہیں میری ہیں
دکھ کی فصلیں کاٹنے والے
جتنے ہاتھ ہیں میرے ہیں
شاخ سے ٹوٹی کچی کلیاں
آگ میں جھلسے کومل مکھڑے
الجھی الجھی لٹ بھی میری
دھجی دھجی آنچل بھی
کالی رات کی چادر اوڑھے
اجلے دن کا رستہ دیکھ رہی ہوں
qqq
Shazia Tamkeen
C/o. Dr. Shahnawaz Alam
156-Wasiabad, Noorullah Road
Allahabad-21100 (U.P)






قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

2/7/18

اردو افسانے میں پانی کی قلت کا مسئلہ۔ مضمون نگار سید احمد قادری




اردو افسانے میں پانی کی قلّت کا مسئلہ
سید احمد قادری

پانی کی قلّت کامسئلہ، اب مقامی کے بجائے بین الاقوامی مسئلہ بن چکاہے۔ پانی، جوقدرت کاانمول تحفہ اور بیش بہاخزانہ ہے،جونہ صرف انسانی زندگی بلکہ حیوانات و نباتات تک کے لیے بھی نعمت سے کم نہیں ہے، یعنی ہر جاندار کی زندگی کاانحصارپانی پرہے، اس ضمن میں ہندی زبان کا بڑا ہی خوبصورت سلوگن سننے کو عام طور پر ملتا ہے کہ ’ جل ہی جیون ہے‘۔پھر بھی اس کا استعمال (جہاں موجود ہے) بہت بے دردی کے ساتھ کیا جاتاہے۔ ہم کسی کی دی گئی اس پیشن گوئی پر بھی توجہ نہیں دے رہے ہیں کہ تیسری جنگ اگر ہوئی، تو وہ پانی کے لیے ہوگی۔ ہم اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے ہیں کہ پانی زندگی کی اہم ضرورت ہی نہیں بلکہ یہ ہماری سماجی وراثت بھی ہے جس کے بحران نے ہماری انسانیت اورسماجیت کے درمیان بھی بحران پیداکردیا ہے۔ ماحولیات اورانسان کے درمیان کے آپسی رشتے کوبھی عصری مادّی ترقی اور صارفیت نے شدت سے متاثر کیاہے۔ ماحولیات کو نظرانداز کیے جانے کاہی یہ انجام سامنے آرہاہے کہ زمین کی تپش بڑھتی جارہی ہے اورپانی ہماری پہنچ سے دور بہت دور بھاگتا جارہا ہے۔ زیادہ عرصہ نہیں گز را ہے کہ دیکھنے والوں نے دیکھاہے کہ پہلے ہر شہر، گاؤں اور قصبوں میں کنواں، پوکھر، تالاب اورندیاں ہواکرتی تھیں جس کے وجود کو دھیرے دھیرے ختم کرکے ان پربڑی بڑی عمارتیں تعمیر کردی گئی ہیں۔ جوندیاں بچ رہی ہیں، ان میں اتنے کوڑے کرکٹ، غلاظت،سیوریج،کل کارخانوں سے نکلنے والے تیزاب اوردیگر اشیاء ڈالی جارہی ہیں کہ ان ندیوں کاپانی نہ صرف آلودہ اورکثافت بھرا ہے،بلکہ یہ ندیاں، دن بہ دن سطح آب کو کھوتے ہوئے اپنے وجود کوبھی ختم کرتی جارہی ہیں۔ ایسے حالات میں پانی کی قلت کا ہونا لازمی ہے اورجب ہمارے سماج میں کوئی قلت سامنے آتی ہے توہمارے سماج کے سوداگر ایسی قلت کواپنی تجارتی منفعت کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت دنیاکے بیشتر حصوں میں بندبوتل پانی، جسے منرل واٹر کا نام دیاگیاہے، وہ عام ہے اوراس کاروبار سے، عالمی بینک کے ایک اندازے کے مطابق آج دنیا بھرمیں پانی کی فراہمی کاسالانہ کاروبار ایک کھرب ڈالرکے قریب پہنچ چکاہے جوبلاشبہ عہد حاضر میں دنیاکاسب سے بڑا تجارتی کاروبار بن چکاہے۔ 
پانی کی قلت کے بڑھتے عالمی مسئلہ کے مد نظر اس کے تدارک کے لیے اقوام متحدہ نے 22؍مارچ 1993 سے ہرسال 22؍مارچ کو’عالمی یوم آب‘کے نام سے منسوب کیاہے تاکہ زندگی سے جڑے اس اہم مسئلے پر غوروفکر اور تدارک کے لیے لائحہ عمل تیارکیاجائے لیکن افسوسناک پہلویہ ہے کہ پانی کے سوداگر وں نے امیروں کے لیے منرل واٹر مہیاکراکر اس مسئلے کوغریبوں تک محدود کردیاہے۔ یہی وجہ ہے کہ غریب لوگ اپنی ضروریات زندگی کے لیے کوسوں دورسے پانی لانے یا پھرگندے پانی پینے پرمجبور ہیں۔جس کے باعث شرح اموات میں تیزی سے اضافہ ہورہاہے۔غریب لوگ شہروں میں پوری پوری رات سرکاری نلوں میں پانی کے آنے کے انتظارمیں بیٹھے رہتے ہیں، اور بیشتر جگہوں پرپانی کے سوداگروں کے جب پانی سے بھرے، ٹینکرمحلوں اورقصبوں میں پہنچتے ہیں اوراس وقت جس طرح پانی کے حصول کے لیے مرد، عورتوں اور بچوں کے درمیان آپادھاپی مچتی ہے اور ماراماری ہوتی ہے،وہ نظارہ یقینی طور پر شرمسار کر دینے والا ہوتا ہے کہ انسان اپنی بے حد بنیادی ضرورت کے لیے کس طرح ایک دوسرے سے پانی جھپٹ لینا چاہتا ہے۔ پانی کے حصول کے لیے ہونے والے جھگڑوں میں اب تک کئی اموات بھی ہو چکی ہیں۔
پانی کی قلت سے نبرد آزما اس اہم اور بہت ہی نازک انسانی مسئلے کی عکاسی اردوادب میں بھی بڑے ہی مؤثر اندازمیں کی گئی ہے۔ ادب سماج کا آئینہ ہوتا ہے، اس لیے اس مسئلے کا فنکارانہ اظہار ادب خصوصا اردو افسانہ میں بھی کیا گیا ہے۔ اس وقت چونکہ میراموضوع اردوافسانوں میں پانی کی قلّت کامسئلہ ہے،اس لیے میں افسانوں کے حوالے سے ہی گفتگو کروں گا۔ 
پانی کے مسئلے کوہمارے بہت سارے اردوکے افسانہ نگاروں نے مختلف عنوانات اورجہات سے پیش کیاہے۔ مثلاً پانی کے مسئلے کوہم آج اس شدت سے محسوس کررہے ہیں، لیکن ہمارے اردوافسانے کے امام پریم چندنے پیاس کی شدت اور قلّت کواب سے کئی دہائیوں قبل دیکھا، سمجھااور محسوس کیاتھا،جو آج بھی اسی شد و مد کے ساتھ موجود ہے۔ اس ضمن میں پریم چندکے افسانہ ’ٹھاکر کاکنواں‘ کا ذکر کرناچاہوں گا، جس میں قدرت کے انمول خزانہ پانی پرکس طرح بڑی ذات کے لوگوں نے پہر ے بٹھارکھے ہیں، یہاں تک کہ چھوٹی ذات کے لیے مخصوص کنواں میں کوئی جانور گرکرمر گیاہے اور اس کی سڑاندھ سے پانی آلودہ ہے اور بدبودے رہا ہے توبھی گاؤں کی چھوٹی ذات کے بیمار شخص جوکھو کو بڑی ذات کے لیے مخصوص کنواں سے پانی لینے کی اجازت نہیں۔بیمار جوکھوکی پیاس کی شدت اوراس کی بیوی گنگی کی تڑپ کوپریم چندنے اپنے اس افسانے میں اس کرب کے ساتھ پیش کیاہے۔ 
’’جوکھونے لوٹامنہ سے لگایاتوپانی میں سخت بدبو آئی۔ گنگی سے بولا.....
یہ کیسا پانی ہے ؟ مارے باس کے پیا نہیں جاتا۔ گلاسوکھاجارہاہے اورتوسڑاہواپانی پلائے دیتی ہے‘‘۔ 
(افسانہ ’ ٹھاکر کا کنواں‘)
گھرمیں پانی ہے نہیں،جوکھوکی بیوی گنگی نے اس پانی کوپینے سے منع کیاکہ سڑاپانی پینے سے بیماری بڑھ جائے گی۔وہ مضطرب نظرآتی ہے اوررات گئے بڑی خاموشی سے ہمت جٹاکرچپکے چپکے ٹھاکرکے کنواں کے قریب جاتی ہے۔ دھیرے دھیرے کنواں میں ڈول ڈالتی ہے، آہستہ آہستہ ڈول کورسّی کے سہارے اوپر لاتی ہے، پانی سے بھراڈول اب بس اس کے ہاتھ میںآیاہی چاہتا ہے کہ ٹھاکرکاآدمی باہر نکلتاہے،کچھ آواز سن کر،تیز آواز میں پوچھتاہے، ’’کون ہے‘‘اورمارے خوف سے گنگی کے ہاتھ سے پانی سے بھرے ڈول کی رسّی چھوٹ جاتی ہے اورپانی سمیٹ ڈال کنواں میں ڈوب جاتاہے۔ گنگی کسی طرح بھاگ کر اوراپنی جان بچاکر گھرپہنچتی ہے تودیکھتی ہے کہ ۔۔۔
’’جوکھولوٹا منہ سے لگائے وہی میلاگندہ پانی پی رہاتھا۔‘‘ 
پانی کے لیے غیرمنصفانہ اورغیرانسانی سلوک کوپریم چند نے اس افسانہ میں جس طرح غیر معمولی فنّی کمال کا مظاہرہ کرتے ہوئے ، گاؤں کے ایک غریب اور بیمار شخص کا صاف پانی کے لیے تڑپ اور بے بسی کے احساسات و جذبات کی ترجمانی کی ہے، اسے پڑھ کر قاری بے اختیار تڑپ اٹھتاہے۔
پانی پر بٹھائے گئے پہرے اور جبروظلم کافسانہ پریم چندکے عہدسے لے کر عصر حاضر تک کے افسانہ نگاروں کاموضوع اسی کیفیت اور تخلیقی حُسن کے ساتھ برقرار ہے۔ معروف افسانہ نگارابواللیث جاوید کے افسانہ ’پانی ‘ کایہ حصہ ملاحظہ کریں : ......
’’بستی کے کسی بھی کنویں یاہینڈ پمپ سے ہمیں پانی لینے کی اجازت نہیں تھی، کیونکہ ہم اچھوت تھے۔ ہم گاؤ ں کے پورب جانب دومیل کے فاصلے پربہنے والی ایک چھوٹی سی برساتی ندی سے پانی لاتے تھے۔ برسات میں توپانی آسانی سے مل جاتا تھامگر اوردنوں میں ندی کی ریت میں دس بارہ فٹ گڑھا کرنے کے بعدجوتھوڑاپانی ملتا، وہی ہم دلتوں کی پیاس بجھاتاتھا ۔۔۔۔۔۔‘‘( افسانہ ’پانی‘)
ابواللیث جاوید نے اپنے اس افسانہ میں پانی پر امیروں اور اونچی ذات کے لوگوں کے ذریعے غریبوں پربٹھالیے گئے پہروں کے ساتھ ساتھ گاؤں میں پانی کے بڑھتے مشکل حالات کی بڑی سچی عکاسی کی ہے۔
پانی کی قلّت کے مسئلے کوموضوع بناکر نامورافسانہ نگارکرشن چندر نے بھی ایک بے حداہم افسانہ ’پانی کا درخت ‘ کے عنوان سے لکھاہے جس میں انھوں نے اپنے ایک گاؤں کی سوکھتی ندی اوربڑھتی تپش سے ہانپتی زمین کامنظر نامہ اس طرح پیش کیاہے : 
’’ہمارے گاؤں میں پانی بہت کم ہے،جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے، میں نے اپنے گاؤں کے آسمان کوتپتے ہوئے پایاہے۔یہاں کی زمین کوہانپتے ہوئے دیکھاہے اورگاؤں والوں کے محنت کرنے والے ہاتھوں اورچہروں پر ایک ایسی ترسی ہوئی بھوری چمک دیکھی ہے،جوصدیوں کی ناآسودہ پیاس سے پیداہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔‘‘ 
’’مجھے یاد ہے ہماری رویل ندی سال میں صرف چھ مہینے بہتی تھی، چھ مہینے کے لیے سوکھ جاتی۔جب چیت کامہینہ جانے لگتا توندی سوکھناشروع ہوجاتی اورجب بیساکھ ختم ہونے لگتاتوبالکل سوکھ جاتی اورپھر اس کی تہہ پرکہیں کہیں چھوٹے چھوٹے نیلے پتھر رہ جاتے یانرم نرم کیچڑ ۔۔۔۔۔۔‘‘(افسانہ’پانی کا درخت‘)
اس افسانہ میں راوی اپنے گاؤں کی سوکھتی ندی کے باعث بڑھتی پیاس کی شدت سے ہروقت ہرلمحہ فکرمند اورمضطرب رہتا ہے۔ اس کے دل ودماغ میں ہرپل اس مسئلے کے تدارک کے لیے آندھیاں سی چلتی رہتی ہیں،کہ ایک شب وہ خواب دیکھتاہے کہ گاؤں کے مرکزمیں ایک بہت بڑا درخت کھڑا ہے یہ درخت سارے کاسار اپانی کاہے۔اس کی جڑیں، شاخیں، پھل، پھول، پتیاں سب کی سب پانی کی ہیں اور اس درخت کی شاخوں سے بھی پانی ابل رہاہے اوریہ پانی گاؤں کی بنجر زمین کوسیراب کررہاہے۔ 
جب خواب سے بیدار ہوتاہے تووہ اپنے اندربے پناہ انبساط اورخوشی محسوس کرتاہے اوراپنی اس خوشی میں شامل کرنے کے لیے وہ اپنے اباسے اس خواب کوبیان کرتاہے۔ لیکن اباجہاندیدہ شخص ہیں،وہ پوراخواب سننے کے بعد کہتے ہیں۔
’’اس خواب کاچرچا کرکے اس سے کچھ نہیں ہوگا۔سوکھی ندی ہمیشہ سوکھی رہے گی اورپیاسے سداپیاسے رہیں گے۔‘‘ (افسانہ’پانی کا درخت‘)
کرشن چندر نے اپنے اس افسانہ میں جس مخصوص لب ولہجہ اور منفرد اسلوب میں گاؤں کے لوگوں کی پیاس کی شدّت کوجگایاہے اور ایک خواب کے ذریعہ مختلف تشبیہات اور استعارے کے ساتھ بے بسی اور پیاس کو بجھانے کی کوشش کی ہے،وہ کرشن چندر کواس خاص مسئلہ کی پیش کش میں ایک خاص مقام عطاکرتاہے۔ 
لوگوں کی بڑھتی پیاس کوکس طرح صارفیت،اپنی گرفت میں لیتی ہے،اس کابڑاہی مؤثر اظہار خدیجہ مستور کے افسانہ ’ہینڈ پمپ‘ میں دیکھنے کوملتاہے۔ اپنے اس افسانہ ’ہینڈپمپ‘ میں خدیجہ مستورنے دکھایاہے کہ ایک غریب خاتون اپنی بے بس زندگی گزارنے کے لیے ایک امیرگھرمیں ملازمہ کے طورپر کام کرتی ہے،لیکن جب اس گھرمیں،اس غربت زدہ عورت کی ضرورت نہیں رہتی ہے تواس کی تمام پریشانیوں اوربے بسی کو نظر انداز کرتے ہوئے اسے ملازمت سے ہٹادیا جاتا ہے۔ جس کے بعداس غریب عورت کے سامنے زندگی گزارنے کے تمام راستے مسدود نظرآتے ہیں۔ وہ جسمانی طورپر نہایت نحیف اورناتواں ہوچکی ہے۔ پریشانی کے عالم میں اس کے ذہن میں ایک خیال آتاہے اوروہ اس پرعمل کرتے ہوئے اپنے گھرمیں ایک ہینڈ پمپ کسی طرح لگالیتی ہے اور اس ہینڈپمپ کاپانی فروخت کراپنے فاقہ کودورکرتی ہے۔اس عورت کے اس عمل کو لوگ بُرا سمجھتے ہیں،لیکن زندگی کے سنگلاخ سفرپرچلنے کے لیے وہ عورت ا یساکرنے پر خودکومجبور پاتی ہے۔ 
پانی کی بڑھتی قلت اوراس قلت سے پانی کے سوداگر کس طرح فائدہ اٹھاتے ہیں، اس کااظہار گلزار نے اپنے افسانہ ’اوور‘ میں بڑے معنی خیز انداز میں کیا ہے، یہ اقتباس ملاحظہ کریں ........
’’اجی یہاں توریگستان ہی میں جاکر جنگل کرآتے ہیں۔ریت بھی کام آجاتی ہے اتناپانی یہاں کہاں ملے گا ؟ 
تونہانے دھونے اورکھانے پینے کوکہاں سے آتا ہے پانی ؟ 
’’پائپ لائن توہے صاحب جی، لیکن کنٹرول تو جسمیلر میں ہے۔ یہاں آتے آتے پورا نہیں پڑتا۔اس لیے پانی کے ٹینکر منگانے پڑتے ہیں۔ ٹھیکیدار وں کادھنداپانی بھی چلتا رہتاہے۔‘‘ (افسانہ’اوور‘)
اس افسانہ میں گلزار نے پانی کے مسئلے کوپیش کرنے کے ساتھ ساتھ پانی کاکاروبار کرنے والوں کو بھی بے نقاب کیاہے۔ 
علّامہ اقبال نے اپنی ایک مشہور نظم میں گنگا ندی کے تعلق سے کہاتھاکہ گودی میں کھیلتی ہیں، اس کی ہزاروں ندیاں۔لیکن افسوس کہ گنگا کی گودمیں کھیلنے والی ہزاروں ندیوں کاوجود دھیرے دھیرے ختم ہوتا جا رہا ہے۔ خود گنگا اپنے وجود کو کن مشکلوں سے بچائے ہوئی ہے،یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔ گنگاکی گودسے ندیاں نکل گئیں،اب اس کی گودمیں دنیاجہاں کی غلاظتیں اورکثافتیں بھری پڑی ہیں اور اس کاتقدس بھی پامال ہورہاہے، گنگا کے اس کرب کااظہار مشہور افسانہ نگار جوگندرپال نے اپنے افسانہ ’’گنگانے تم سے کیاکہاتھا ‘‘ میں اپنے منفرد اسلوب میں اس طرح کیاہے۔
’’ہاں فائدہ توماں سے ہی پہنچتاہے۔سوکھے میں ذرا ذرا بہتی ہے کہ بچے نہادھوکر سیراب ہوتے رہیں۔‘‘ 
اس جملے کے بعد جوگندر پال گنگاکی وسعت قلبی کے ساتھ انسانوں کی گنگاکے تئیں ناقدری کواس طرح افسانوی حسن کے ساتھ بیان کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔
’’شاید وہ کہناچاہتی تھی،لیکن کسی کے پوتے نے اپنے داداکی ہڈیوں کے پھول اس کی جھولی میں ڈال دیے اوروہ مسکراتے ہوئے اس کی طرف متوجہ ہوگئی ۔۔۔۔۔۔‘‘ (افسانہ’گنگا نے تم سے کیا کہا تھا‘)
گنگامیں بڑھتی آلودگی اورروزبروز اس کے سمٹتے وجود پرمبنی جوگندرپال کایہ افسانہ یہ احساس کراتاہے کہ گنگا اپنی تمام ترکربناکیوں کو سمیٹے ہوئے،اپنی پامالی کے باوجود انسانی خوشیوں کے لیے ہمہ وقت تیار رہتی ہے، زبان پرکوئی حرف شکایت نہیں۔ 
گنگاندی کی عظمت،اس کی خوبصورتی،اس کے بانکپن، اس کی مدھر اورمترنم سرگوشیوں اوراس کی طغیانی اور سرشاری کے اعتراف کے بعد عہد حاضر میں اس کی بڑھتی کثافت اورآلودگی کے ساتھ ساتھ اس کے سمٹتے وجود پر راقم ا لحروف (سیّد احمد قادری) کابھی ایک افسانہ بہ عنوان ’درد گنگا کا‘ کافی پسند کیاگیاہے۔ جس میں افسانہ کامیں گنگاکی ان جملہ اوصاف کوبیان کرتے ہوئے اس کے ساتھ ہونے والے سلوک پراظہار افسوس کرتا ہے۔ جس کے جواب میں گنگااپنی بے بسی کو بڑے کرب سے بیان کرتی ہے۔ اس افسانہ کا آخری اقتباس دیکھیے:
’’میں نے اسے سمجھانے کی بہت کوشش کی ۔۔۔ تم واقعی مہان ہوگنگا،جوسارے زمانے کی کثافتوں کواپنے وجود کے اندر سموئے لے رہی ہواورتمہیں تواس بات پرخوش ہوناچاہیے کہ ۔۔۔۔۔۔ 
میری بات ابھی مکمل بھی نہیں ہوئی تھی کہ گنگا دردبھری آواز میں گویاہوئی۔
مجھے اپنے ختم ہوتے وجود اوراپنی ماندپڑتی شادابی کی فکر نہیں، مجھے تواس بات کاغم ہے کہ جولوگ مجھے امرت سمجھ کرہونٹوں سے لگاتے ہیں، ان کے لیے میں کہیں وش نہ بن جاؤں ۔۔۔۔۔۔‘‘ (افسانہ’درد گنگا کا‘)
دراصل گنگاکے پانی کو ہندو مذہب میں اس قدر مقدس سمجھاجاتاہے کہ جوشخص مرنے سے قبل گنگا جل گرہن کرے گا،وہ سیدھا سورگ میں جائے گا۔لیکن افسوس کہ عہد حاضر میں گنگاکے مذہبی تقدس کابھی لوگوں کو احساس نہیں ہے اوراس کی آلودگی میں اضافہ ہی ہوتا جارہاہے۔
پانی کے بغیر حیات انسانی کاتصور بھی نہیں کیا جاسکتاہے۔ پیدائش سے لے کرموت تک پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔مسلم سماج میں مرنے والے کاغسل ضروری ہے۔ لیکن جہاں پانی،پینے تک کو میسر نہ ہو، وہاں میّت کاغسل کیسے ممکن ہے۔اس کرب کو طاہرمحمود نے اپنے افسانہ ’پانی کاجبر‘ میں ا س انداز سے بیان کیاہے کہ قاری درد و غم میں ڈوبتا چلا جاتا ہے۔ ’پانی کا جبر‘ دراصل بلوچستان کے خانہ بدوشوں کی پریشان حال زندگی پرمبنی افسانہ ہے جس میں ان لوگوں کی بے بس اوربے کیف زندگی اوربہت ساری ضروریات اورسہولیات کی عدم فراہمی کے ساتھ ساتھ پانی کی قلت کوبھی بڑے ہی دردانگیز لیکن فنکارانہ حسن کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ خاص طورپر اس افسانہ میں پانی کے مسئلہ کوطاہر محمود خاں نے ایک الگ روپ دیاہے۔تصویرکے اس رُخ کودیکھیے ۔۔۔۔۔۔ 
’’میں سوچ رہاتھا کہ صبح کی پہلی خبررضائی کی بیوی کی موت ہوگی۔اس کی موت سے زیادہ مجھے اس کی تجہیز وتکفین کی فکررہی۔کیونکہ اس کھلے صحرا میں کوئی ایسانظام نہیں تھا۔ پھرمجھے خیال آیا کہ بیڈشیٹوں سے یہ کام لیا جاسکتا ہے، لیکن شریعت کاخیال آیاکہ ہم اتنے مہینوں سے ان پر سورہے ہیں۔ لازماََیہ نجس ہوئے ہوں گے۔صاف پانی پینے کونہیں، بھلابیڈشیٹوں کوکیسے دھویاجائے اورمیت کوکیسے غسل دیاجائے گا۔‘‘ (افسانہ ’پانی کاجبر‘ )
افسانہ ’پانی کاجبر‘ میں اس ننگی حقیقت کی اس تصویر کو دیکھنے کے بعد انسانیت کراہ اٹھتی ہے کہ ایک جانب ہم اپنی غرض میں اس طرح آئے دن پانی کوبرباد کررہے ہیں اور دوسری طرف میت کے غسل کے لیے پانی میسر نہیں ہے۔ 
پانی کی عدم دستیابی کے عالم میں انسان کس طرح تڑپتااور بے چین ہوتا ہے۔اس کابڑاکربناک منظرنامہ واقعہ کربلا،آب زم زم اور عہد حاضر میں پانی کی بڑھتی آلودگی اورسوکھتی ندی، گندے تالاب کے حوالے سے اسلم جمشید پوری نے اپنے افسانہ ’پانی اورپیاس ‘ میں پیش کیاہے۔ درج ذیل اقتباس میں پانی کی قلّت کے باعث موت قریب نظر آتی ہے.......
’’ اب اس کی گھبرا ہٹ میں خوف در آیا تھا۔اُسے لگ رہا تھا کہ اگر اور تھو ڑی دیر میں پانی نہ ملا تو شاید اس کی جان نہ چلی جائے۔وہ کیا کرے اُ سے سمجھ نہیں آ رہا تھا.... اس کے جسم کی طاقت، سو راخ زدہ غبارے کی مانند نکلی جارہی تھی۔ہاتھ،پا ؤں میں دم نہیں تھا، حلق خشک ہو چکا تھا جیسے دور تک صحرا ہی صحرا ہو، سورج کی تپش بھی شدید ہو اور پانی کا کہیں نام نہ ہو.....آج اُسے پانی کی اہمیت کا اندا زہ ہو ر ہا تھا۔ اُ س نے کبھی اپنے کمرے میں پانی بھر کر نہیں رکھا۔ کبھی جگ میں رکھ لیا، کبھی گلاس بھر کے......بس.....ایسا تو علم نہیں تھا کہ بات یہاں تک آجائے گی....‘‘( افسانہ ’پانی اورپیاس ‘) 
حالات کی چیرہ دستی اورجبر وظلم نے کشمیر،جوکبھی ارض جنتّ سے تعبیرکیاجاتاہے۔ جہاں کے پانی کونہ جانے کتنے خوبصورت نام دیے گئے ہیں۔وہاں کے آبشار اورجھرنوں کے خوبصورت نظارہ کوجنّت کے نظارہ کانام دیاگیاتھا۔لیکن آج صورت حال یہ ہے کہ وہاں کی فضا میں بارود کی مہک رچی بسی ہے توپانی میں شورے کی آمیزش ہے۔اس تلخ حقیقت کااظہار دیپک بدکی نے اپنے افسانہ ’ریزہ ریزہ حیات‘ میں بڑے خوبصورت پیرائے میں کیاہے وہ بتاتے ہیں۔۔۔۔۔۔
’’نہ ہو امیں وہ تازگی رہی تھی اورنہ پانی میں مٹھاس۔ہوا میں بارودکی وہ تیز بدبوبسی ہوئی تھی،جبکہ پانی میں شورے کی تیزابیت گھلی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔‘‘ 
(افسانہ ’ریزہ ریزہ حیات ‘ )
دیپک بُدکی نے اپنے اس افسانہ میں،کشمیرکے عصری حالات کے پیش نظر جس طرح گولہ، بارود، بم، گولی کابے دریغ استعمال ہو رہاہے اوران کے منفی اثرات جس شدت سے مرتب ہو رہے ہیں،اس سے کشمیرکا قدرتی حسن معدوم ہورہاہے اور یہاں کی آب و ہوا زہرآلود ہو رہی ہے۔
پانی کی قیمت کیا ہو سکتی ہے، اس کااندازہ اس وقت ہوتاہے،جب انسان پیاس کی شدت سے تڑپتا ہے، بے قراراوربے چین ہوتاہے اوراسے محسوس ہوتاہے کہ مزید تھوڑی دیراسے پیاس بجھانے کے لیے پانی نہ ملا تو اس کی زندگی ختم ہوجائے گی،ایسے حالات میں زندگی پر بن آتی ہے تو وہ اپنی ساری دولت کے بدلے ایک گلاس کیا، پانی کے چند ہی بوند حاصل کرنے کو تیار ہو جاتا ہے۔ اس امرکا اظہار، احمد رشید (علیگ) کے افسانہ ’دھوئیں کی چادر ‘میں موجود ہے۔اس افسانہ کاایک کردار اپنے دوست سے اس طرح مخاطب ہے۔ 
’’۔۔۔۔۔۔اگرہندوستان میں قحط پڑجائے تو ان حالات میں ایک گلاس پانی کی قیمت تمہاری کل جائداد ہوتو تم کیاکروگے ‘‘؟ 
اس سوال کے جواب سے پہلے ہی وہ کردار،ایک دوسراسوال کردیتاہے کہ ۔۔۔
’’جس جائداد کی قیمت پانی کے ایک گلاس کے برابربھی نہ ہو،اس پراتنا غرور کیوں؟ 
( افسانہ ’دھوئیں کی چادر ‘)
یعنی پیاس کی شدت کے آگے،ساری دولت بے کار ہے۔ زندگی باقی ہی نہیں رہے گی،تو پھریہ دولت کس کام کی۔ 
پانی کی قلت کے مسئلے پر اردو میں سیکڑوں کی تعداد میں افسانے لکھے گئے ہیں،پانی کامسئلہ ایسامسئلہ ہے، جس سے بہت سارے مسئلے جڑے ہوئے ہیں اور ادب، جوکہ حیات وکائنات کاآئینہ ہے توپھرحیات و کائنات سے تعلق رکھنے والے اس اہم مسئلے کوکیسے نظرانداز کیا جاسکتا ہے۔یہ الگ بات ہے کہ پانی کے مسئلے کے کئی روپ ہمارے سامنے آتے ہیں۔ ایک طرف پریم چند کے افسانہ میں پانی پرٹھاکروں کے پہرے ہیں تو دوسری جانب کرشن چندر کے افسانہ میں Global Warming سے پیداہونے والے منفی اثرات اورپانی کی قلت کا فنکارانہ اظہارہے۔ دیپک بُدکی کے افسانہ میں جہاں بارود کے بڑھتے استعمال سے فضائی آلودگی اورپانی میں گھلتے زہر یلے مادے کوموضوع بنایاگیاہے تووہیں جوگندرپال کے افسانے میں گنگاندی کی بڑھتی کثافت کے المیہ کوپیش کیاگیاہے۔گلزار کے افسانہ میں پانی کی قلت سے دم توڑتی انسانیت کی چیخ سنائی دیتی ہے،تو خدیجہ مستور کے افسانہ میں پانی کی صارفیت کامنظرنامہ ہے۔ ان افسانوں کے علاوہ بھی ہمارے سامنے ایسے بہت سارے اردوکے افسانے ہیں، مثلاً زاہدہ حناکا ’پانی کے سراب‘، سلام بن رزاق کاافسانہ ’ندی‘، احسان بلوچ کاافسانہ ’آب مرگ‘ شموئل احمد کا افسانہ ’منرل واٹر‘، انتظار حسین کاافسانہ ’ندی ‘ خورشید حیات کا افسانہ ’پہاڑ ندی عورت‘ اخترآزاد کا افسانہ ’پانی‘ اور ’پانی والا انکل‘ سلمان عبدالصمد کا افسانہ ’دامودر داس‘ وغیرہ،جن میں پانی کی قلّت کے مسئلے کو مختلف عنوانات کے تحت موضوع بنا یاہے۔


Dr. Syed Ahmad Quadri 
7 New Karimganj
Gaya - 823001(Bihar)


 اگر آپ رسالے کا آن لائن مطالعہ کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے لنک پر کلک کیجیے:۔




قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...