18/10/18





سرسید کے پنجاب کے پانچ سفر
اصغر عباس


1987 میں’سرسید اقبال اور علی گڑھ‘ کے عنوان سے مونوگراف شائع ہوا اس میں سرسید کے پنجاب کے تین سفر کا ذکر ہے لیکن علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ میرے لیے انیسویں صدی کے علم وخبر کا بہترین سرچشمہ ہے جس پر میں ایک پیاسے کی طرح پہنچتا ہوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ سرسید نے پنجاب کے تین نہیں پانچ سفر کیے تھے۔ یہاں ان کا مختصر احوال پیش کررہا ہوں۔
پنجاب کی سرزمین سرسید کے قدوم میمنت لزوم سے پہلی بار 1873 میں سرفراز ہوئی۔ وہ 25 دسمبر 1873 کو بنارس سے جہاں وہ سب ججی کے عہدہ پر مامور تھے، علی گڑھ آئے اور یہاں سے 25 دسمبر 1873 کی ڈاک گاڑی سے لاہور کے لیے روانہ ہوئے۔اس سفر میں ان کے ہم کاروں میں مولوی سمیع اللہ خاں، سید محمد محمود، سید زین العابدین، مرزا عابد علی بیگ، محمد حمید اللہ خاں، سید ظہور حسین، خواجہ محمد یوسف، منشی وجیہ الدین ہیڈماسٹر بلند شہر، منشی محمد یار خاں اور منشی مشتاق حسین ساتھ تھے۔ یہ ٹرین 26 دسمبر کو صبح دس بجے امرتسر پہنچی۔یہاں سرسید اور ان کے رفقا کا استقبال کرنے والوں میں آغا کلب عابد، خان محمدشاہ، میاں محمد خاں، شیخ الٰہی بخش سوداگر، شیخ غلام حسین، شیخ خدا بخش، منشی مہدی علی خاں، میاں غلام حسن، میاں اسد اللہ خاں، شیخ غلام صادق، حاجی محمد سیف الدین، میاں یوسف شاہ، وزیر شاہ اور شیخ سکندر خاں تھے۔ ان عمائدین امرتسر نے سرسید اور ان کے قافلہ کی شیرینی سے تواضع کی۔
26 دسمبر 1873 کو یہ ٹرین بارہ بجے دن میں لا ہور پہنچی۔ یہاں سرسید اور ان کے احباب کا خیرمقدم کرنے والوں میں برکت علی خاں، سردار محمد حیات خاں، نواب عبدالمجید خاں، شیخ غلام محمد سبحانی، ڈاکٹر رحیم بخش، فقیر سید قمر الدین، منشی محمد لطیف،سید فضل شاہ ریلوے ڈپارٹمنٹ، منشی محمد شمس الدین ایڈیٹر پنجابی اخبار، سیدنادر علی شاہ ایڈیٹر کوہ نور، منشی ہر سکھ رائے مالک مطبع کوہ نور، مولوی احمد شفیع چیف محرر، وہاب الدین ہیڈ ماسٹر، سید عالم شا ہ تحصیلدار، محمد حسین آزاد اور مولانا الطاف حسین حالی اسٹیشن پر موجود تھے۔
سرسید اور ان کے رفقاء کا قیام بازار انارکلی میں شیخ رحیم بخش سوداگر کی کوٹھی میں تھا۔ 26 دسمبر 1873 کی شام میں مولوی سمیع اللہ خاں اور سید محمود نے بادشاہی مسجد، مسجد وزیر خاں کے علاوہ رنجیت سنگھ کی چھتری اور اس کے دیگر مقامات کو دیکھا۔ 28 دسمبر 1873 کو سرسید اوران کے ساتھیوں نے شالی مار باغ دیکھا۔ 
29 دسمبر 1873 کو صدر کمیٹی کاجلسہ ساڑھے بارہ بجے دن میں راجہ دھیان سنگھ کے دیوان خانے میں ہوا۔ اس جلسہ میں جدید اردو تنقید کے بانی مبانی مولانا الطاف حسین حالی موجود تھے۔ وہ حیات جاوید میں لکھتے ہیں :
’’جس گرم جوشی کے ساتھ اہل لاہور نے ریلوے اسٹیشن پرسرسید اور ان کے ہمراہیوں کا استقبال کیا اور جس چاؤ اور امنگ اور فیاضی اور فراخ حوصلگی کے ساتھ ان کی مدارات کی اور جس شوق سے لوگ بیرونِ لاہور سے سرسید کی آمد سن کر لاہور میں آئے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سرسید اور ان کے کام کی عظمت کا نقش عموماً اہل پنجاب کے دلوں پر بیٹھا ہوا ہے۔ مگر 29 دسمبر کو جو لکچر سرسید نے راجہ دھیان سنگھ کے دیوان خانے میں جہاں کئی ہزار آدمیوں کا مجمع تھا، دیا اس کا سماں مجھے ہمیشہ یاد رہے گا۔ سامعین پر ایک سکتے کا عالم تھا اور کوئی ایسا نہ ہوگا جو زار و قطار نہ روتا ہو اور جو اپنی بساط سے زیادہ چندہ دینے پر آمادہ نہ ہو۔‘‘
اسی جلسہ میں ہمارے زمانے کے رسالہ ’ادبی دنیا‘ لاہور کے ایڈیٹر صلاح الدین احمد کے والد احمد بخش بھی موجود تھے۔ وہ ایک اسکول میں ہیڈ ماسٹر تھے لیکن انھوں نے اپنی بساط سے کہیں زیادہ زر تعاون پانچ سو روپیہ مدرسۃ العلوم کو دیا تھا۔ اس جلسہ کو مولوی سمیع اللہ خاں، سید محمود اور سردار محمد حیات خاں نے بھی خطاب کیا۔ جلسہ کے اختتام کے بعد سردار محمد حیات خاں کی رہنمائی میں سرسید اوران کے ساتھیوں نے جہانگیر کا مقبرہ دیکھا۔
30 دسمبر 1873 کو ’انجمن اشاعت مطالب مفیدہ پنجاب‘ نے سرسید کے اعزاز میں جلسہ کیا۔ اس زمانے میں اس کے سکریٹری سنسکرت اور انگریزی کے عالم نوین چندر تھے۔ انھوں نے سرسید کا استقبال کیا۔ انجمن کی جانب سے محمد حسین آزاد نے سرسید کی خدمت میں سپاس نامہ پیش کیا جس میں ان کی دانشورانہ خدمات کا بڑے والہانہ انداز میں اعتراف کیا گیا ہے۔ سپاس نامہ کی تحریر محمد حسین آزاد کی ہے۔ اسی سفر کے دوران سرسید کی ملاقات اقبال کے استاد سید میر حسن سے ہوئی۔
31 دسمبر 1873 کو سرسید ا ور ان کے رفقا 8 بجے کی میل ٹرین سے لاہور سے علی گڑھ کے لیے روانہ ہوئے۔ ان لوگوں کے ساتھ برکت علی خاں امرتسر تک آئے۔ سرسید اور ان کے ساتھی آغا کلب عابد کی کوٹھی میں فروکش ہوئے۔ امرتسر میں سرسید اپنے احباب محمد شاہ خاں، خواجہ محمدجان، شیخ غلام حسن منشی، محمد مہدی خاں اور سردار دیال سنگھ کے مکانوں پر ان سے ملنے کے لیے گئے۔
سرسید دربار صاحب بھی گئے۔ دربار صاحب میں جہانگیر کے مقبرے کے قیمتی پتھر نصب ہیں جس نے اس زیارت گاہ کی زینت بڑھادی ہے۔ شب میں آغا کلب عابد کے یہاں رات کا کھانا کھاکر یہ حضرات علی گڑھ کے لیے روانہ ہوئے۔ امرتسر اسٹیشن تک آغا کلب عابد اور برکت علی خاں ساتھ آئے۔
دوسری بار سرزمین پنجاب 1884 میں سرسیدکے قدموں سے مفتخر ہوئی۔ اس سفر سے پہلے اردو میں نسائی تحریک کے قائد اول سید ممتاز علی کو 11 نومبر1883 کے خط میں سرسید لکھتے ہیں: 
’’میرا ارادہ ماہ دسمبر میں پنجاب آنے کا ہے مقصد صرف خلیفہ محمد حسن صاحب سے پٹیالہ میں، گورداس پور میں سردار محمد حیات خا ں سے ا ور لاہور میں آپ (سید ممتاز علی) سے اور برکت علی خاں سے ملنے کا ہے۔ غالباً ہمارے دوست محمد اسمٰعیل خاں رئیس دتاولی بھی ساتھ ہوں گے۔ میں تو مناسب نہیں سمجھتاکہ میرے وہاں آنے کی بابت کچھ زیادہ چرچا کیا جائے۔اس کی دھوم دھام کیا۔ ہاں اگر کالج کے لیے کچھ چندہ مل جائے تو جو دھوم دھام چاہو کرو۔‘‘
علی گڑھ سے 22 جنوری 1884 کو حاجی محمد اسمٰعیل رئیس دتاولی، سرسید کی بہن کے نواسے سید محمد علی، سرسید کے سفر نامہ پنجاب کے مرتب سید اقبال علی کے ہمراہ سرسید دہلی پہنچے۔ اس پارٹی میں یہاں اکرام اللہ خاں رئیس دہلی بھی شامل ہوگئے۔ 23 جنوری 1884 کو یہ حضرات لدھیانہ آئے۔ یہاں ان لوگوں کا قیام نواب علی محمد خاں کی کوٹھی میں تھا۔ 24 جنوری 1884 کو سرسید اور ان کے ہمراہی جالندھر کے لیے روانہ ہوئے۔ یہاں سرسید اور ان کے رفقاء کنور ہر نا م سنگھ اہلووالیہ کی کوٹھی میں ان کے مہمان ہوئے۔ 25 جنوری 1884 کو یہ قافلہ امرتسر کے لیے روانہ ہوا۔ یہاں ان کا قیام ہوٹل میں تھا۔ 27 جنوری 1884 کو سرسید اور ان کے ساتھی گورداس پور کے لیے روانہ ہوئے۔ یہاں سردار محمد حیات خاں نے ان کی میزبانی کی۔ 
گورداس پورمیں سرسید یہاں کے گوردوارے میں بھی گئے جہاں انھیں دستار اور خشک وتر میوے پیش کیے گئے جسے انھوں نے بڑے ادب و احترام سے لیا۔ 29 جنوری 1884 کو سرسید اور ان کی پارٹی دوبارہ امرتسر گئی اور اسی ہوٹل میں مقیم ہوئی۔ جہاں پہلے قیام کرچکی تھی۔ 
اس سفر میں سرسید اور ان کے ساتھیوں کا گذر لدھیانہ، جالندھر، گورداس پور اور امرتسر کے اسٹیشنوں سے ہوا اور ہر اسٹیشن پر سرسید کے فدائیوں اور چاہنے والوں کا ایک انبوہ کثیر ان کے استقبال کو موجود ہوتا تھا۔ اُن مقامات پر انھیں ڈھیروں سپاس نامے بھی پیش کیے گئے۔ 
30 جنوری 1884 کو سرسید اور ان کے ساتھی لاہور پہنچے۔ سید اقبال علی سرسید کے سفر نامہ پنجاب میں لکھتے ہیں: ’’لاہور کے ا سٹیشن پر ایسا سماں دکھائی دیا جیسا کہ الف لیلیٰ کے قصوں میں بیان ہوا ہے۔‘‘ یہاں سرسید سے ملنے سیال کوٹ سے اقبال کے استاد سید میر حسن بھی آئے تھے۔ اخبار انجمن پنجاب اپنی 9 فروری 1884 کی اشاعت میں لکھتا ہے : ’’مولوی سید احمد خاں بہادر 30 جنوری کی شام کو وارد لاہور ہوئے اور کڑی باغ میں مہاراجہ کپورتھلہ کی کوٹھی میں قیام فرمایا۔ اسی روز سے ان کی قیام گاہ زیارت گاہ بن گئی ہے۔‘‘ پنجاب یونیورسٹی لاہورمیں انھیں عصرانہ دیا گیا۔ جلسہ میں محمد حسین آزاد نے نظم پڑھی۔ لاہور کی متعدد تنظیموں نے انھیں مدعو کیا اور سپاسنامے پیش کیے۔ آغا محمد باقر کا بیان ہے کہ’’ ان سب سپاسناموں کو میرے باوا جان محمد حسین آزاد نے بڑی عقیدت سے لکھا تھا‘‘۔ ان میں پنجاب کی پردہ دار بیبیوں کی جانب سے جو سپاس نامہ محمدحسین آزاد نے لکھا تھا اس کے جہاں تہاں سے اقتباس پیش کررہا ہوں۔
’’یا حضرت، آپ جانتے ہیں کہ ہمارے ملک پنجاب میں بہت تھوڑی بیبیاں پڑھی لکھی ہیں۔ گھر میں بیٹھی اللہ اللہ کرتی ہیں اوراسی نعمت میں خوش ہیں جتنا سنتے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے ہندوستان کے لوگوں کو بہت سمجھایاہے اور بہت جتایا ہے کہ یہ لوگ اپنی بد نصیبی سے جس مفلسی اور بدحالی میں پڑے ہیں یہ سب بے علمی کے سبب ہے۔ آپ کی ہدایتوں سے لوگ بہت سمجھ گئے اورتھوڑا ہو یا بہت ان باتوں کا خیال ہوگیا ہے۔ آپ نے سب کو بھلائی کا راستہ بتایا۔ خدا آپ کا بھلا کرے۔‘‘
ہم سنتے ہیں کہ آپ نے علی گڑھ میں ایک مدرسہ بنایا ہے۔ اس میں بہت لوگ بڑے بڑے علموں کی کتابیں پڑھتے ہیں ا ور بڑی عزت کی نوکریاں پاتے ہیں۔ اللہ آپ کی اور آپ کی اولادکی عزت بڑھائے۔
ہم نے سنا ہے کہ آپ نے بہت اچھی اچھی نئے نئے علموں کی کتابیں ان کے لیے تیار کرائی ہیں اور آپ اخبار بھی چھاپتے ہیں۔ ان کے پڑھنے سے لوگوں کی بہت آنکھیں کھل گئی ہیں اور دل بڑے ہوگئے ہیں۔ خدا آپ کی نیت میں برکت دے۔ 
ہم نے سنا ہے کہ آپ نے اپنے مدرسہ میں ہمارے بچوں کے لیے رہنے سہنے کے گھر اور کھانے پینے اور آرام کی سب چیزیں بہت اچھی طرح بنوا دی ہیں اور آپ اور آپ کے دوست ہر وقت ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور دین آئین، نماز روزے کے لیے بھی تاکید کرتے ہیں۔ اس بات کو سن کر جس طرح پہلے بچوں کو با ہر بھیجنے سے ہمارا جی ڈرتا تھا اب خاطر جمع ہوگئی ہے۔ اسی طرح آپ کا اور آپ کے بچوں کا اللہ نگہبان رہے۔
آپ جانتے ہیں کہ اولاد ماں باپ کو جان سے سوا پیاری ہے۔ آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ ماں اپنے بچوں کو باپ سے کتنا زیادہ چاہتی ہے۔سمجھ لیجیے کہ ہمارے دل مردوں سے کتنا زیادہ آپ کو دعائیں دیتے ہوں گے۔ 
آپ پیر و مرشد ہیں،سید ہیں۔ آلِ رسول ہیں اور سب کی بھلائی کے لیے محنت کرتے ہیں۔ یہ نذرانہ غریبانہ کہ ماتھے کا پسینہ اور آنکھوں کا تیل ٹپکا کر جمع کیا ہے۔ آپ کے لائق نہیں لیکن مان کا پان ہے اور سچے دل کی نیاز ہے۔ امیدوار ہیں کہ قبول ہو۔‘‘
سرسید کے دوسرے سفر پنجاب کی مفصل روئداد سرسید کا سفر نامہ پنجاب مرتبہ سید اقبال علی میں موجود ہے۔اس کے علاوہ محرم علی چشتی کے ا خبار رفیق ہند، پنجابی اخبار، رہبرہند، اخبار کوہ نور، اخبار انجمن پنجاب، عربی اخبار شفاء الصدور اورانگریزی اخبار ٹریبیون میں اس سفر کی تفصیلات موجود ہیں۔
4 فروری 1884 کو سرسید اور ان کے احباب لاہور سے علی گڑھ کے لیے روانہ ہوئے۔ 4بجے شام کو یہ لوگ جالندھر پہنچے اور یہاں سردار بکرمان سنگھ کی کوٹھی میں ان کے مہمان ہوئے۔یہاں سرسید نے لکچربھی دیا اور انھیں سپاسنامہ بھی پیش کیا گیا۔
جالندھر سے 4 فروری 1884 کی شب میں سرسید اوران کے رفقاء پٹیالہ کے لیے روانہ ہوئے۔ رات میں یہ لوگ راج پورہ اسٹیشن پہنچے اور یہاں ریاست پٹیالہ کے ڈاک بنگلہ میں قیام کیا اور علی الصباح پٹیالہ کے لیے روانہ ہوئے۔ یہاں سرسید کے آنے کا مقصد خلیفہ سید محمد حسن اور خلیفہ سید محمد حسین سے ملاقات تھی۔یہ دونوں حضرات علی گڑھ کالج اور سرسید تحریک کے زبردست حامیوں میں تھے۔ پٹیالہ میں سرسید اور ان کے احباب خلیفہ سید محمد حسن کی کوٹھی میں مقیم اور ان کے مہمان ہوئے۔ یہاں دو دن ٹھہرنے کے بعد6 فروری 1884 کو مظفر نگر کے لیے روانہ ہوئے۔ اس شہر میں نواب مصطفی خاں شیفتہ کے بیٹے نواب اسحاق خاں انڈین سول سروس کے عہدہ پر مامور تھے۔ ان کی خواہش تھی کہ لاہور سے مراجعت کے بعد سرسید اور ان کے رفقاء مظفر نگر میں ایک دن قیام کریں یہ لوگ نواب اسحاق خاں کی کوٹھی میں فروکش ہوئے۔ انھوں نے بڑی محبت سے پارٹی کی تواضع کی۔ مظفر نگر کے اسکول میں سرسید کا لکچر ہوا اور انھیں عربی اور اردو میں سپاسنامے پیش کیے گئے۔ دوسرے دن یہ لوگ مظفر نگر سے علی گڑھ پہنچے۔
سرسید کا پنجاب کا تیسرا سفر محمدن ایجوکیشنل کانفرنس کے تیسرے اجلاس لاہور میں شرکت کے لیے تھا۔اس اجلاس کے صدر سردار محمد حیات خاں تھے۔ یہ 27دسمبر 1888 سے 30 دسمبر 1888 تک لاہور میں منعقد ہوا۔ اس کانفرنس میں 347 ممبر اور کئی سو وزیٹر شریک ہوئے۔ جلسہ میں سرسید نے تعلیم نسواں کے سلسلہ میں مفصل تقریر کی۔ نسائی تحریک کے قائد اول سید ممتاز علی بھی کانفرنس میں شریک تھے۔ کانفرنس میں کالجوں کے غریب طلباء کی امداد کے لیے کمیٹیاں بنائی گئی اور شادیوں کے اخراجات میں تخفیف کے لیے تجاویز پیش ہوئیں۔ کانفرنس میں مدرسۃ العلوم کے ہر دل عزیز پرنسپل تھیوڈوربک بھی شریک تھے جنھوں نے انگریزی میں تقریر کی جس کا برجستہ اردو ترجمہ شیخ عبدالقادر نے کیا۔ سرسید نے شیخ عبدالقادر کی نفیس اردوکی بڑی تعریف کی اور انھیں گلے لگا لیا۔
محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کے تیسرے اجلاس میں شرکت کے لیے سرسید 25 دسمبر 1888 کو علی گڑھ سے لاہور کے لیے روانہ ہوئے۔ راستہ میں اکثر ممبران کانفرنس اس گاڑی پرسوار ہوتے گئے۔ امرتسر اسٹیشن پر سرسید کے وفد کے لیے حاضری چنی گئی۔ جب یہ ٹرین لاہور اسٹیشن میں داخل ہوئی تو اسٹیشن پر ہزاروں افراد سرسید کے استقبال کے لیے موجود تھے۔ان پر پھولوں کی اتنی بوچھار کی گئی کہ سارا لاہور اسٹیشن پھولوں سے ڈھک گیا۔ اس کانفرنس کے مہمانوں کی رہائش اورآسائش کا اہتمام سرسید کی سائنٹفک سوسائٹی کے ممبراوران کے دوست محمد برکت علی خاں نے کیا تھا۔ مہاراجہ کپورتھلہ کی کوٹھی میں سرسید اور ان کے ساتھیوں کے قیام کا انتظام تھا۔ اس میں تقریباً ساٹھ مہمان فروکش تھے یہ کوٹھی مہاراجہ رنجیت سنگھ کے ایک فرانسیسی جنرل نے بنائی تھی۔ جس کمرے میں سرسید مقیم تھے وہاں ہمہ وقت ان کے پنجابی دوستوں کا ہجوم رہتا تھا۔ اس سفر میں بھی لاہور کے کالجوں کے طلبا نے انھیں سپاس نامے پیش کیے۔ سرسید نے اعتراف کیا ’’محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس لاہور کا یہ اجلاس خوبیوں اورشان و شوکت اور انتظام کے لحاظ سے سب کانفرنسوں سے اول رہا اور اسی طرح وہ عملی کارروائی میں بھی قابل توصیف اور لائق تقلید ہوا۔‘‘
سرسید کا پنجاب کا چوتھا سفر اپریل 1894 میں ہوا۔ لاہور میں مدرسۃ العلوم علی گڑھ کے حامیوں اور مخلصین نے سرسید کو لاہور آنے کی دعوت دی تھی۔ اس وفد میں ڈپٹی نذیر احمد، مولوی ذکاء اللہ، محمد مزمل اللہ خاں، مرزا عابد علی بیگ، ذکاء اللہ کے بیٹے عنایت اللہ بی اے، نذیر احمد بی اے اور سرسید کے مخلص رفیق سیدممتاز علی جن کے نام سرسید کے سب سے زیادہ خطوط مکاتیب سرسید میں موجودہیں، شامل تھے۔
یہ ڈیپوٹیشن 14 اپریل 1894 کو علی گڑھ سے لاہور کے لیے بمبئی میل سے روانہ ہوا اور 15 اپریل 1894 کو لاہور پہنچا۔ اسٹیشن پر تقریباً ڈھائی تین ہزار سرسید کے عقیدت مندوں نے ان کا استقبال کیا۔ سارا اسٹیشن پھولوں کا بچھونا ہوگیا تھا۔ اسٹیشن سے سرسید کی فرودگاہ تک دونوں طرف لوگ جھنڈیاں لیے کھڑے تھے۔انجمن حمایت ا سلام لاہور کے سکریٹری بھی بہ نفس نفیس اس وفدکے استقبال کے لیے کھڑے تھے اور اس ڈیلیگیشن کے اعزاز کے لیے جتنے جلسے ہوئے ان سب میں وہ شریک تھے۔ انجمن حمایت ا سلام کے کارکنان اور انجمن کے کالجوں کے طلباء اسٹیشن سے سرسید کی قیام گاہ تک ساتھ گئے۔اس وفد کے اعزاز میں جو اجلاس ہوئے ان میں پہلے جلسہ کے صدر سردار محمد حیات خاں تھے اور دوسرے اجلاس کے صدر محمد شاہ دین ہمایوں تھے۔ مذکورہ جلسوں میں سے کسی جلسہ میں بہ سبب ناسازیِ طبع سرسید شریک نہ ہوسکے۔ ان کو جتنے سپاسنامے پیش کیے گئے ان کے بھی وہ جواب نہ دے سکے۔ اپریل کے گرم موسم میں وہ علی گڑھ سے لاہور بہ حالت علالت گئے تھے تاکہ علی گڑھ کالج کے لیے ابیض نورانی جمع ہوسکے۔ اس سلسلے میں ڈیپوٹیشن کو بڑی کامیابی ہوئی اور وزنی جیب کے ساتھ وہ علی گڑھ واپس ہوا۔
سرسیدکے چوتھے سفر پنجاب کے دوران پنجاب کے بعض اخبارات نے اعتراض کیا تھا کہ اہل پنجاب کو مدرسۃ العلوم کے بجائے پنجاب کے اسکولوں کی امداد کرنی چاہیے۔ سرسید کواس کا بھی افسوس تھا کہ لوگوں کے خیال میں معلوم نہیں کس سبب سے یہ بات جم گئی تھی کہ حامیان مدرسۃ العلوم مدرسہ حمایت الاسلام کے مخالف ہیں۔ سرسیدنے لکھا ہے کہ وہ جو خود’’جو مسلمانوں کی تعلیم و ترقی کی کوشش میں مصروف ہیں کسی ایسے کام سے جو مسلمانوں کی تعلیم و ترقی اورتہذیب سے متعلق ہو، مخالفت ہونی محالات سے ہے، مگر ہاں یہ ان کی مستقل رائے ہے کہ مسلمانوں کی ترقی اعلیٰ تعلیم و تربیت سے ہوگی۔‘‘ لیکن پنجاب میں سرسید کی مخالفت کا سب سے بڑا مرکز محرم علی چشتی کا اخبار رفیق ہند تھا حالانکہ وہ سرسید کے دوسرے سفر پنجاب کے دوران ان کے ا ستقبال میں پیش پیش تھے اور انھوں نے اس موقع پر اپنے اخبار کا خصوصی ضمیمہ بھی شائع کیا تھا جس میں سرسید کو بے نظیر رہنما، اپنی صدی کا سب سے جلیل ا لقدر عالم اور موجودہ اور آئندہ نسلوں کا قائد بتایا گیا تھا۔ لیکن 1894 میں وہ سرسید کے جانی دشمن بن گئے تھے۔ اس انقلاب احوال کا معمہ ابھی تک لاینحل ہے۔ میری نظر سے رفیق ہند کے اس دور کے جتنے شمارے گذرے ہیں ان میں سرسید کے مذہبی افکار کو بنیاد بنا کر ان پر لعن طعن کی گئی ہے۔ لیکن سرسید کے مذہبی افکار تو 1870 سے معلوم و معروف تھے۔ اغلب خیال ہے کہ انھیں سرسید سے کوئی ذاتی توقع تھی جو پوری نہ ہوئی ہو اور اسے انھوں نے مذہبی رنگ دے دیا ہو۔ اورسرسید اوران کے احباب اخبار رفیق ہند کی ملاحیوں کا نشانہ بنے ہوں لیکن ان سب کے باوجود پنجاب میں سرسید کی مقبولیت میں شمہ بھر کمی نہیں آئی اور اہل پنجاب نے ان سے وعدہ لیا کہ وہ موسم سرما میں سید محمود اور محسن الملک کے ساتھ آئیں گے۔پنجاب کے اخبار ’اخبار عام‘ نے سرخی جمائی ’’سرسیدپنجاب سے فائز المرام واپس ہوئے‘‘ یہی نہیں علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ میں سرسید نے انجمن حمایت اسلام لاہور کا ان کے برادرانہ برتاؤ کا شکریہ ادا کیا ہے۔
19 اپریل 1894 کو مدرسۃ العلوم کا یہ وفد لاہور سے علی گڑھ کے لیے روانہ ہوا۔ آٹھ بجے امرتسر پہنچا۔ ایک دن وہاں قیام کیا۔ 20 اپریل 1894 کو جالندھر پہنچا وہاں ایک روز ٹھہر ا۔ جالندھر سے قریب بارہ بجے رات کو علی گڑھ پہنچا۔ دوران سفر ہوشیار پور، گجرات، راولپنڈی، سیال کوٹ، جموں اور ملتان کے سرسید کے عقیدت مندوں نے ان سے التجا کی کہ مدرسۃالعلوم کا یہ وفد مذکورہ مقامات پر بھی آئے لیکن ابتدائے سفر سے سرسید کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔ وفد ان جگہوں پر نہ جا سکا۔ اثنائے سفر میں جب ٹرین پانی پت پہنچی تو یہاں تقریباً چار پانچ سو افراد سرسید کے چاہنے والے موجود تھے۔ انھوں نے نہایت تکلف سے اس وفد کی تواضع کی۔
سرسید پانچویں دفعہ انجمن حمایت اسلام لاہور کے جلسہ میں شرکت کے لیے پنجاب گئے۔ یہ جلسہ 22 اور 24 فروری 1895 کو لاہور میں ہوا۔سرسید، محسن الملک، حاجی محمد اسماعیل، رئیس دتاولی، مولانا شبلی اور خواجہ غلام الثقلین 20 فروری 1895 کو علی گڑھ سے لاہور کے لیے روانہ ہوئے۔ اسی اثنا میں پانی پت اور کرنال میں سرسید کے معتقدین نے ان سے درخواست کی کہ وفد ایک دن کرنال میں قیام کرے۔ 20 فروری 1895 کو شام سات بجے یہ ڈیلیگیشن کرنال پہنچا۔یہاں اس کا قیام رستم علی خاں کی کوٹھی میں تھا۔ پانی پت سے مولانا الطاف حسین حالی مع دیگر اعزہ کے کرنال آئے۔ سجاد حسین کرنال میں ڈپٹی انسپکٹر مدارس تھے۔ دورانِ قیام وہ سرسید اور ان کے رفقاء کے ساتھ ساتھ رہے۔ 21 فروری 1895 کو رستم علی خاں کے دوسرے مکان میں وفد کے لیے خیر مقدمی تقریب ہوئی۔ جلسہ کی صدارت خان بہادر الطاف حسین نے کی۔ مولانا الطاف حسین حالی نے کرنال اورپانی پت کی جانب سے سرسید کی خدمت میں سپاسنامہ پیش کیا۔ میرا قیاس ہے کہ یہ سپاس نامہ حالی کا ہی تحریر کردہ تھا۔ لیکن یہ ان کے کلیات نثر حالی میں موجود نہیں ہے۔ اس سپاسنامہ کا جواب سرسید نے دیا۔ اس کے بعدمحسن الملک نے تقریر کی۔ خواجہ سجاد حسین نے کرنال اور پانی پت کی جانب سے علی گڑھ کالج کے لیے زر تعاون پیش کیا۔ 21 فروری کی شام کو یہ ڈیپوٹیشن لاہور کے لیے روانہ ہوا اور 22 فروری کی شام کو ساڑھے چار بجے لاہور پہنچا۔ استقبال کے لیے انجمن حمایت اسلام کے سکریٹری مولوی شمس الدین ا سٹیشن پر چشم براہ تھے۔ ان کے ہمراہ انجمن حمایت اسلام کے معززین اور کارکنان کے علاوہ انجمن اسلام کے کالجوں کے طلبا کا ہجوم تھا۔
لاہور پہنچ کر سرسید کی طبیعت ناساز ہوگئی۔ وہ انجمن کے جلسوں میں شریک نہ ہوسکے۔ محسن الملک نے 24 فروری 1895 کو انجمن کے جلسہ کو خطاب کیا۔ ’’انجمن حمایت اسلام کے دسویں سالانہ جلسہ کی مختصر کیفیت‘‘ کے عنوان سے پنجاب گزٹ سیال کوٹ نے لکھا ’’یہ جلسہ بڑی خوبی کے ساتھ سر انجام ہوا۔ وہ عالی جناب سرسید احمد خاں، محسن الملک اور مولوی شبلی نعمانی کی تشریف آوری کی وجہ سے تھا۔ پچھلے جلسوں کی بہ نسبت ہجوم زیادہ تھا اورکامیابی بھی زیادہ ہوئی۔ اس جلسہ میں ایک ایسے مستقل سرمایہ کے فنڈ کی بنیاد پڑی جو انجمن حمایت اسلام کو زیادہ گدائی سے بچاوے گا وہ یہ کہ ایک فنڈ ’سرسید فنڈ‘ کے نام سے قائم ہوا ہے جس میں سو حصے دار مقرر کیے گئے ہیں۔ ہر ایک حصہ سو روپیہ کا ہے۔ پس اس حساب سے ہر حصہ دار سو سو روپیہ جمع کرکے انجمن حمایت اسلام کے سپرد کردے گا۔ اس سے دس ہزار جمع ہوجاوے گا جس سے انجمن ایک خاص جائداد خریدے گی اور انجمن حمایت اسلام کے کالجوں کو استقلال ہوجائے گا۔‘‘
علی گڑھ کالج کے وفد کی واپسی 24 فروری 1895 کو شام ساڑھے سات بجے لاہور سے ہوئی اور 25 فروری 1895 کو بارہ بجے یہ وفد علی گڑھ پہنچا۔
سرسید جس تحریک کے پیغام کو لے کر پانچ بار پنجاب گئے تھے وہ کوئی عارضی مصلحتوں اور جزوی اصلاحات یا ہنگامی ضروریات کے تحت پیدا نہیں ہوئی تھی وہ ایک تہذیبی تحریک تھی جس کا مقصد تمام تر زندگی کی تطہیر تھا۔ اس میں تغیر اور تسلسل دونوں پر نظر تھی۔ سرسید نے جو کچھ کیا اس سے بہتر طریقہ آج اکیسویں صدی میں بھی اب تک سامنے نہیں آیا۔ اس تحریک کا خیر مقدم اہل پنجاب نے بڑے جوش وولولہ سے کیا۔ حالی نے لکھا ہے کہ قومی خدمات کی داد جو سرسید کو ملنی چاہئے تھی اس کا حق پنجاب کے برابر کسی صوبے سے ادانہ ہوسکا۔
خدا کی برکتیں پنجاب اور پنجاب والوں پر
جنھوں نے ہر سفر میں تجھ کو آنکھوں پر بٹھایا ہے
(حالی)
مراجع و مآخذ:
1۔ حیات جاوید۔ الطاف حسین حالی۔اکادمی پنجاب لاہور
2۔ سرسید اقبال اور علی گڑھ۔ اصغر عباس۔ ایجوکیشنل بک ہاؤس، علی گڑھ 1987
3۔ علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ 1873، مولانا آزاد لائبریری، مسلم یونیورسٹی علی گڑھ
4۔ علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ1874،مولانا آزاد لائبریری، مسلم یونیورسٹی علی گڑھ
5۔ سرسید کا سفر نامہ پنجاب۔سید اقبال علی۔مجلس ترقی ادب لاہور
6۔ مکتوبات سرسید جلد دوم اسماعیل پانی پتی۔
7۔ علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ1883، مولانا آزاد لائبریری، مسلم یونیورسٹی علی گڑھ
8۔ علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ 1884، مولانا آزاد لائبریری، مسلم یونیورسٹی علی گڑھ
9۔ علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ 1887،مولانا آزاد لائبریری، مسلم یونیورسٹی علی گڑھ
10۔ علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ 1888، مولانا آزاد لائبریری، مسلم یونیورسٹی علی گڑھ
11۔ علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ1889،مولانا آزاد لائبریری، مسلم یونیورسٹی علی گڑھ
12۔ علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ 1893، مولانا آزاد لائبریری، مسلم یونیورسٹی علی گڑھ
13۔ علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ 1894، مولانا آزاد لائبریری، مسلم یونیورسٹی علی گڑھ
14۔ علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ 1895، مولانا آزاد لائبریری، مسلم یونیورسٹی علی گڑھ
15۔ علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ 1896، مولانا آزاد لائبریری، مسلم یونیورسٹی علی گڑھ
16۔ اخبار ’الوقت‘ گورکھپور، 1892،کریمیہ لائبریری،ا نجمن اسلام ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، بمبئی
17۔ اخبار ’گورکھپور‘، گورکھپور1893، کریمیہ لائبریری،انجمن اسلام ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، بمبئی
18۔ اخبار ’رفیق ہند‘، لاہور 1892،کریمیہ لائبریری،انجمن اسلام ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، بمبئی
19۔ مقالات محمد حسین آزاد۔ مجلس ترقی ادب، لاہور
20۔ مکتوبات آزاد، مجلس ترقی ادب، لاہور
21۔ کلیات نظم حالی۔ مرتبہ ڈاکٹر افتخاراحمد صدیقی، مجلس ترقی ادب، لاہور

Asghar Abbas
Gulshan Dost, Sir Syed Nagar
Civil Lines
Aligarh - 202002 (UP)

Mob.: 9358209974



قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

15/10/18

ندا فاضلی کے دوہے۔ مضمون نگار عبد السمیع





ندا فاضلی کے دوہے
عبد السمیع


ندافاضلی کی شہرت اور مقبولیت کا دائرہ بہت وسیع ہے اگر یہ کہا جائے کہ شہرت اور مقبولیت کا سفر ندا فاضلی سے زیادہ ان کی تخلیقات نے طے کیا ہے تو کچھ بے جا نہ ہوگا۔ میں نے اپنا مطالعہ ان کے دوہے تک محدود رکھا ہے۔ دوہا سنسکرت،اودھی اور ہندی کے اثر سے اردو میں آیا ہے۔ اس صنف کو کبیر، سور،تلسی، میرا، ان سے پہلے رحیم اور رسخان وغیرہ نے ایک خاص مقام پر لاکھڑا کیا تھا۔ ہندوستانی اصناف سخن میں دوہے کو وہی اہمیت حاصل ہے جو عربی اور فارسی میں غزل کو ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دوہا فنی اعتبار سے بھی غزل سے بہت قریب ہے۔غزل کا فنی امتیاز یہی ہے کہ اس کا ہر شعر اپنے آپ میں مکمل ہوتا ہے ، اگر غزل کے مطلع کو دوہا کے مقابلے میں رکھ کر دیکھیں تو سوائے تہذیبی وراثت اور عروض و بحر کے، دونوں میں بہت زیادہ فرق نہیں ہے۔ دوہا ہندی عروض کے ساتھ ہندوستان کی شعری ، لسانی اور تہذیبی وراثت کا پابند ہے جبکہ کلاسیکی اردو غزل کی شریانوں میں عربی اور فارسی شعروادب کا خون رواں ہے۔ موضوعاتی سطح پردوہا کا رشتہ کبھی رباعی، کبھی قصیدہ اور کبھی شہرآشوب سے قائم ہوجاتا ہے۔ دوہا کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ ابتدا سے ہی عوامی زندگی سے وابستہ رہا ہے، جس کی وجہ سے اس کی لفظیات اور تلازمات بھی عوامی زندگی سے ماخوذ ہیں۔ اس لیے اس کی زبان سادہ مگر پراثرہوتی ہے۔ یہ صنف مرصع کاری کی متحمل نہیں۔ ندافاضلی کا شعری مزاج بھی سادہ کاری سے تشکیل پایا ہے۔
دوہا ہمیشہ سے سماجی مسائل کو پیش کرتا رہا ہے۔اس کا شاعر سامنے کی باتوں کو مانوس الفاظ میں کچھ اس طرح بیان کرتا ہے کہ اس میں تازگی اور انوکھا پن پیدا ہو جاتا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ دوہا میں اشیا اور مسائل کی قلب ماہیت ہوجاتی ہے تو شاید بے جا نہ ہو۔ ندا فاضلی کو اپنے زمانے کے حالات اور اس کی کربناکی کا ادراک تھا، وہ اپنے دوہوں میں انسانی اور معاشرتی مسائل کوپیش کرتے ہوئے کھردرے الفاظ کو بھی رچاؤ اور خوش سلیقگی کے ساتھ نظم کرتے ہیں۔یہ دوہا ملاحظہ کیجیے ؂ 
سودا لینے ہاٹ میں، کیسے جائے نار
چاقو لے کے ہاتھ میں بیٹھا ہے بازار
سودا، ہاٹ، نار، چاقو، بازار جیسے الفاظ روزمرہ کا حصہ ہیں۔ ہاٹ اور بازار میں جو نسبت ہے اس سے سبھی واقف ہیں۔ ہاٹ عام طور پر چھوٹے شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں شام میں لگتا ہے۔ بازار بھی اسی قسم کی چیز ہے لیکن اس کا دائرہ کچھ بڑا ہوتاہے۔ دوہے میں لفظ ’نار‘ ناری یا عورت کی نمائندگی نہیں کررہا ہے بلکہ یہ لفظ ایسے تمام لوگوں کو محیط ہے جن میں معصومیت اور خارجی دنیا سے ناآشنائی ہوتی ہے۔جو چالاکی اور عیاری سے کام لینا نہیں جانتے اور اپنی فطری معصومیت کے سبب تمام لوگوں کو اپنی طرح بے ضرر سمجھتے ہیں۔ دنیا جس تیزی سے تبدیل ہوئی ہے ، اس کی اخلاقی اور تہذیبی قدریں جس طرح سے پامال ہوئی ہیں ،اسے بیان کرنا بھی مشکل ہے۔ تبدیلی ایک ناگزیر عمل ہے۔ مثبت تبدیلی انسانی زندگی کو پائیدار ترقی کی طرف لے جاتی ہے جبکہ منفی تبدیلی تہذیب و تمدن کو زیربار کرتی ہے۔ ندا فاضلی نے یہاں سامنے کی مثال کے ذریعہ تبدیلی کے نظام کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ان کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ مختلف مذاہب کی علامتوں اور استعاروں کی مدد سے ایک نیا جہان معنی آباد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔وہ مذہب کو اس کی روحانیت کے ساتھ قبول کرتے ہیں۔ کوئی بھی مذہب انسانی اقدار سے روگردانی نہیں کرتا لیکن مادہ پرستی نے مذہب کو بھی نام ونمود کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ ندا فاضلی کا یہ دوہا اسی جانب اشارہ کرتا ہے ؂
بچہ بولا دیکھ کر مسجد عالیشان
اللہ تیرے ایک کو اتنا بڑا مکان
ندافاضلی جس روایت کے پاسدار ہیں اس کی فکری اساس نظیر، سور، تلسی، کبیر ، وارث شاہ اور بلھے شاہ کے ساتھ ساتھ سرمد اور منصور کے افکار پر قائم ہے۔ندا فاضلی کا شاعرانہ تیور بھی وہی ہے جو مذکورہ لوگوں کے یہاں ہے۔ کبیر مسجد اور مندر کو ایک جیسا پاتے ہیں تو اس کی وجہ یہی ہے کہ یہ دونوں مقامات ابتدا میں روحانیت سے عبارت رہے لیکن جب ان میں مادیت کے عناصر نمو پانے لگے تو یہ رفتہ رفتہ اپنے اساسی مقصد سے منحرف ہوگئے اور یہ صرف رسم کی صورت میں باقی رہ گئے۔ ندافاضلی کومندر و مسجد اور دوسری عبادتگاہوں میں وہی گورکھ دھندہ نظر آتا ہے جسے کبیر نے دیکھا اور محسوس کیا تھا۔ انھیں مسجد کے عالیشان ہونے کا شکوہ اور بچہ کے بے مکان ہونے کا احساس ہے تو مندر کا چڑھاوا اور نذر ونیاز بھی روحانیت اورانسانی اقدار سے خالی نظر آتی ہے ؂
اندر مورت پر چڑھے، گھی ، پوری، لوبان
مندر کے باہر کھڑا ، ایشور مانگے دان
ندا فاضلی کی شاعری میں مذہب کی سیاست جس طرح سے بے نقاب ہوئی وہ ہماری شعری روایت میں نئی تو نہیں ہے لیکن ان کا اسلوب کلاسیکی روایت سے الگ ہے۔ وہ قاری کو اپنی سمجھ اور اپنے تجربات و مشاہدات پر بھروسہ کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ ندا فاضلی زندگی اور مذہب دونوں میں اجتہاد کے قائل ہیں۔ وہ کلیہ اور کلیشے کو نہ صرف رد کرتے ہیں بلکہ قاری سے بھی یہی توقع رکھتے ہیں کہ وہ اپنے تجربات و مشاہدات سے دنیا کو دیکھے، پرکھے پھر اس کی صداقت کو قبول کرے ؂
وہ صوفی کا قول ہو یا پنڈت کا گیان
جتنی بیتی آپ پر، اتنا ہی سچ مان
صوفی، قول، پنڈت ،گیان یہ الفاظ مذہب سے وابستہ ہیں۔ پہلے دو الفاظ اسلامی روایت سے متعلق ہیں، ہندوستان میں یہ دونوں الفاظ مذہبی انتہا پسندی کے مقابلے میں مذہب کا متوازن سماجی اقدار پیش کرنے کی روایت سے منسلک ہیں۔ پنڈت اور گیان کا تعلق سناتن دھرم سے ہے۔ ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی روایت میں پنڈت اور گیان ’صوفی اور قول‘ کے متوازی قرار دیے گئے ہیں۔ قول اور گیان کے دائرے میں وہ تمام ملفوظات اور اشلوک آجاتے ہیں، جنھیں مختلف مذاہب کے علما نے مختلف اوقات میں عوام کو ’راہ راست‘ پر لانے یا ’حصول نجات‘ کے لیے کچھ اصول وضع کیے تھے۔ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ ان ملفوظات میں کتنی صداقت ہے۔ نیز ان کی صداقت آج کتنی معنویت رکھتی ہے۔ اگر ان کی معنویت موجودہ زندگی میں ہے تو اس کا ادراک بھی انسان کو اس کے اپنے تجربے اور مشاہدے سے ممکن ہے۔ اس دوہے میں یہ معنی بھی پوشیدہ ہے کہ خواہ مخواہ کے جھمیلوں میں پڑنے سے بہتر ہے کہ وہ خود کو اپنے مشاہدے تک محدود رکھے۔ ندا فاضلی نے مذہبی اجارہ داری اور مادہ پرستی کو کئی دوہوں میں پیش کیا ہے ؂
ساتوں دن بھگوان کے، کیا منگل کیا پیر
جس دن سوئے دیر تک بھوکا رہے فقیر
سب کی پوجا ایک سی، الگ الگ ہر ریت
مسجد جائے مولوی، کوئل گائے گیت
چاہے گیتا باجیے یا پڑھیے قرآن
میرا تیرا پیار ہی، ہر پستک کا گیان
اس میں شک نہیں کہ مذہب انسان کوکئی سطحوں پر متاثر کرتا ہے۔مذہب کے اس پہلو سے بھی انکار ممکن نہیں کہ افکار و خیالات کی بنیاد پر وہ انسان کو خانوں میں تقسیم بھی کرتا ہے۔ تقسیم کے اس عمل میں انسانی زندگی کو بہتر بنانے کا مقصد مضمر ہے۔ یہ تفریق بہتر سے بہتر زندگی کے حصول کو آسان بنانے کا ذریعہ بھی ہے لیکن تقسیم اور تفریق کے اساسی مقصد کا سہارا لے کر مذہب کی سیاست بھی ہوتی رہی ہے۔ مذہب کی صداقت اور فوائد سے انکار ممکن نہیں لیکن یہ اسی وقت کارآمد ہوسکتا ہے جب تک مذہب اپنی روحانیت کے ساتھ ہماری زندگی میں شامل رہے۔ مذہبی رسوم میں مذہب کی روح پیوست ہو ایسا لازمی نہیں۔ بہت سے رسوم جغرافیائی اثرات سے بھی مذہب کا حصہ بن جاتے ہیں۔ گزرتے وقت کے ساتھ ’رسم اذاں‘رہ جاتی ہے جبکہ ’روح بلالی ‘ ختم ہونے لگتی ہے۔ آج ہم جس ماحول میں سانس لے رہے اس میں روحانیت کی شدید ضرورت ہے۔ روحانیت کسی ایک مذہب سے مخصوص نہیں بلکہ اس کا تعلق احساسات سے ہے۔ انسان جب مذہب، نسل، رنگ اور جغرافیائی امتیاز سے بلند ہوکر انسانی اقدار کی بنیاد پر زندگی کا مشاہدہ کرتا ہے تو اسے یہ دیواریں پست اور بے معنی معلوم ہونے لگتی ہیں۔ 
ندا فاضلی کی شاعری بالخصوص دوہوں کے موضوعات پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ ان کی نگاہ عرفان ذات، انسانی دکھ پر رہتی ہے ساتھ ہی وہ انسانی قدروں کی پامالی ، خاندانی رشتوں کی بے حرمتی اور مذہبی اجارہ داری کے خلاف ایک محاذ قائم کرتے بھی نظر آتے ہیں۔انسان کو اپنی مٹی اور تہذیب سے جو والہانہ عشق ہو سکتا ہے اس کی بہترین صورت ندا فاضلی کی شاعری میں موجود ہے۔ ہمارے معاشرے میں مذہب کا جو مقام ہے اور اس کے نام پر جس طرح کا استحصال کیا جاتا ہے، ندافاضلی کے دوہوں کی مدد سے اس کی ایک دھندلی تصویر پیش کی جا چکی ہے۔ انسانی زندگی میں مذہب ایک بڑی صداقت کے طور پر شامل ہے لیکن مذہب سے الگ بھی بہت کچھ ہوتا ہے جس سے انسان کی زندگی متاثر ہوتی ہے۔ ضروریات زندگی میں بھوک مٹانے کے لیے روٹی اورتن کے لیے کپڑامبادیات کی حیثیت رکھتے ہیں لیکن ان کے بعد انسان سر چھپانے کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔ دربدری اور بے سروسامانی میں انسان جس کرب سے گزرتا ہے اس کی تفصیل میں جانے کا یہ محل نہیں ، ایسے حالات میں انسان خدا کو یاد تو کرتا ہے لیکن یاد کے اس اضطراری عمل میں فریاد، شکوہ اور آہ و زاری ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان اپنے گھر ، اپنے گاؤں اور اپنی مٹی کو کبھی نہیں بھول پاتا، اس سے الگ ہوکر اس کے حصول کی خواہش سے دل ایک لمحہ بھی غافل نہیں ہوتا۔ ڈار سے بچھڑا ہوا شخص بار بار اس کی جانب لوٹ جانا چاہتا ہے۔ وہاں کی چھوٹی چھوٹی چیزوں میں کشش محسوس کرتا ہے اور معمولی سی شے (جس کی موجود گی میں اس کی کوئی اہمیت نہیں تھی)کے گم ہوجانے کا ماتم ایسے کرتا ہے جیسے کوئی بہت قیمتی شے کھو گئی ہو۔ندا فاضلی کے یہاں اس قسم کی ناسٹلجیائی کیفیت ملتی ہے، جس میں کچھ کھو جانے کا درد محسوس کیا جاسکتا ہے ؂
گھر کو کھوجیں رات دن، گھر سے نکلا پاؤں
وہ رستہ ہی بھول گیا، جس رستے تھا گاؤں
سنا ہے اپنے گاؤں میں رہا نہ اب وہ نیم
جس کے آگے ماند تھے سارے وید حکیم
بوڑھا پیپل گھاٹ کا، بتیائے دن رات
جو بھی گزرے پاس سے سر پر رکھ دے ہاتھ
گھر کو کھوجیں رات دن کا مطلب بہتر اور آسودہ زندگی کی تلاش ہے۔ تلاش ایک ایسا راستہ ہے جس کی کوئی منزل نہیں ہے۔ ایک معنی میں یہ لاحاصلی کا سفر بھی ہے۔ اس سفر میں مسافر اپنے اس گھر کو بھول جاتا ہے جس میں اس نے اپنی زندگی کے خوبصورت لمحات بسر کیے۔ گھر کی تلاش میں گھر سے نکلنا دراصل لامکانی کا سفر ہے جس میں واپسی کی راہیں مسدود ہوتی ہیں۔ اسی لیے شاعر نے اس راستے کے کھوجانے کا ذکر کیا ہے جس پر چل کر پہلے گاؤں اور پھر گھر پہنچا جا سکتا تھا۔ اب جبکہ کے گاؤں کی طرف جانے والا راستہ ہی گم ہوچکا ہے تو گھر تک پہنچنا کیونکر ممکن ہے۔یہاں احساس زیاں تو ہے لیکن اس زیاں کا تعلق انسان کی اپنی فراست سے ہے۔ ندا فاضلی کا ایک شعری وصف یہ بھی ہے کہ وہ انسانی شکست و ریخت کے لیے قدرت یا نظام فطرت کو موردالزام نہیں ٹھہراتے۔ انسانی زندگی کے تمام حادثات کی ذمہ داری خود انسان پر عائد ہوتی ہے۔ 
گاؤں یا بستی صرف انسانی زندگی سے عبارت نہیں ہے بلکہ اس میں چرند و پرند، راستہ، پگڈنڈی، کنواں، تالاب، پیڑ وغیرہ کے بغیر گاؤں کا تصور ممکن نہیں۔ نیم کے پیڑ کو انسانی پیکر عطا کرنے کی کوشش ہے۔ پہلے دوہے میں گھر اور گاؤں کے کھو جانے کا غم ہے تو دوسرے میں گاؤں کے نیم کی موت کا نوحہ ہے۔ گھر،گاؤں اور نیم صرف لفظ نہیں بلکہ ایک تہذیب کی علامت ہیں جن سے ہماری دیہی زندگی تشکیل پاتی ہے۔ ان سب کے کھو جانے کا ماتم دراصل ایک صحت مند تہذیب کے مٹ جانے کا دکھ ہے۔ تیسرا دوہا ہماری مشرقی روایت بالخصوص ہندوستانی تہذیب کے ایک بلیغ عنصر کا بیانیہ ہے۔ پیپل اور برگد کے درخت سایہ دار تو ہوتے ہی ہیں ان کے سایے میں نہ جانے کتنی زندگیاں نمو پاتی ہیں اور سانس لیتی ہیں۔ پیپل اور برگد شفیق بزرگوں کا استعارہ بھی ہیں۔ ہندوستانی اسطور میں ان کی جو اہمیت ہے ان سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اسطوری اہمیت کے پیش نظر قابل احترام بھی ہیں۔ ندافاضلی نے اسی روایت کو پیش کیا ہے ؂
بوڑھا پیپل گھاٹ کا، بتیائے دن رات
جو بھی گزرے پاس سے سر پر رکھ دے ہات
ذاتی زندگی کی مصروفیات اور اپنے آپ میں گم ہوجانے کی وجہ سے انسان آس پاس کی چیزوں سے لاعلم ہوتا جارہا ہے۔ لاعلمی کا دائرہ اشیا سے لے کر انسانی رشتوں تک پھیل چکا ہے۔ اپنی زندگی سے باہرکچھ نہ دیکھنے کا رویہ انسان کو تنہا بھی کرتا ہے۔ ندافاضلی کے یہاں جو تنہائی ہے اس کی وجہ عالمی معاشرے کی بدلتی صورتِ حال نہیں بلکہ اس کے لیے انسان کا اپنا رویہ زیادہ ذمے دار ہے۔ مٹتی ہوئی تہذیب کے پاسداروں کی ذمے داری اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ انھیں خود کو اپنی شناخت کے ساتھ زندہ بھی رکھنا ہے اور اپنے بعد آنے والی نسل کی تربیت بھی کرنی ہے۔ ندافاضلی کے یہاں تہذیب کی بازیافت کی کوشش ان معنوں میں نہیں ہے کہ اسے زندہ کرنے کے لیے اپنی صحت خراب کی جائے۔ اس تہذیب کی مثبت قدروں کو یادداشت کاحصہ بنانا بھی زندگی عطا کرنے کی ایک صورت ہے۔ ندا فاضلی کے یہاں یہ کوشش ان کی کئی نظموں اور غزلوں میں بھی نظرآتی ہے۔
ندا فاضلی کی شعر گوئی کا آغاز اس وقت ہواجب فرد اپنی ذات میں گم نئی دنیا تلاش کرنے پر مجبور تھا۔ ایسے حالات میں انسانی رشتے اپنی معنویت کھو دیتے ہیں۔ندا فاضلی نے جس معاشرے میں ہوش سنبھالا اس میں بے چہرگی ایک عام مرض تھی۔ اسی لیے ان کے یہاں رشتوں کی گم ہوتی معنویت اور فرد کی بے چہرگی کا اظہار بار بار ہوتا ہے۔ دوہے ملاحظہ ہوں ؂
مجھ جیسا اک آدمی، میرا ہی ہم نام
الٹا سیدھا وہ چلے، مجھے کرے بدنام
اوپر سے گڑیا ہنسے، اندر کاٹ کباڑ
گڑیا سے ہے پیار تو کیلیں نہیں اکھاڑ
ماٹی ماٹی سے ملے، کھو کے سبھی نشان
کس میں کتنا کون ہے، کیسے ہو پہچان
دکھ تو مجھ کو بھی ہوا، ملا نہ تیرا سات
شاید تجھ میں بھی نہ ہو، تیرے جیسی بات
ندا فاضلی نے اپنی شاعری میں جسم اور دماغ کی دوری کو کئی مقامات پر پیش کیا ہے۔ دوسرا دوہا بھی اسی جانب اشارہ کرتا ہے کہ ظاہر اور باطن میں کتنا فرق اور تضاد ہوتا ہے۔ ظاہری اشیا کی اپنی جمالیات ہوتی ہے۔ انسانی زندگی میں ان کی بھی اہمیت ہے۔ اگر کسی کو کوئی چیز یا کوئی شخص اچھا لگتا ہے تو اسے اسی طرح سے قبول کر لینا چاہیے۔ اس کی جڑوں میں جانا اور اس کے باطن میں جھانکنا عام طور پر نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ 
ندافاضلی کی شاعری میں ہجرت، دربدری، اور اپنوں سے جدا ہوجانے کا غم کئی سطحوں پر نظر آتا ہے۔ وہ اس کا اظہا کبھی برملا تو کبھی اشارے کنائے میں کرتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ دکھ بانٹنے سے ہلکا ہوجاتا ہے۔ دکھ کا موسم گزر جاتا ہے البتہ اس کی یادیں تازہ رہتی ہیں۔ ’ماں‘ معاصراردوشاعری میں مستقل موضوع کی حیثیت رکھتی ہے۔ ماں کی ممتا اور بدلتے معاشرتی منظرنامے میں پیچیدہ ہوتے انسانی رشتوں میں ماں کی اہمیت پر نظم لکھنے کا ایک سلسلہ چل پڑا ہے۔ اس سیاق میں ندا فاضلی کی ایک غزل جس کی ردیف ’جیسی ماں‘ ہے، قابل ذکر ہے۔ یہاں کچھ دوہے ملاحظہ کیجیے، جن میں انسانی دکھ اور اس دکھ کی جمالیات کا اظہار ہوا ہے ؂
میں رویا پردیس میں بھیگا ماں کا پیار
دکھ نے دکھ سے بات کی بن چٹھی بن تار
دکھ کی نگری کون سی، آنسو کی کیا ذات
سارے تارے دور کے سب کے چھوٹے ہات
سورج سے دھرتی تپے، چھایا ڈھونڈے کاگ
تن کے اندر من جلے دھواں دکھے نہ آگ
دنیا میں ماں کی ذات ایسی ہے جسے اولاد کا غم اپنے غم سے بڑا محسوس ہوتا ہے۔دوسرا دوہا دکھ کی شعریات سے متعلق ہے۔ دکھ کسی ایک مقام سے وابستہ نہیں ہے۔ اسی طرح آنسو کی پہچان اس کے نکلنے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ بذات خود آنسو کی کوئی پہچان نہیں۔ دکھ اور غم انسان تک جس آسانی سے پہنچ جا تا ہے، اس سے نجات حاصل کرنا اتنا ہی مشکل ہوتا ہے۔ ندافاضلی نے تیسرے دوہے میں اسی نکتے کی جانب اشارہ کیا ہے۔
یہ کہاجاتا ہے کہ دنیا انسانوں کے لیے بنائی گئی ہے۔ اس لیے اس میں موجود ہر چیز پر انسان کا اختیار ہونا چاہیے۔ ندا فاضلی کا تصورکائنات اس سے مختلف ہے۔ ان کا خیال ہے کہ یہ دنیا انسانوں کے لیے بنائی گئی ہے لیکن اس کی ساری چیزیں سارے انسانوں کے لیے نہیں ہیں۔ یہ دنیا قدرت نے بناکر انسانوں کے حوالے کردیا ہے۔ انسان کی اپنی صلاحیت اور اس کی بصیرت پر منحصر ہے کہ وہ اپنی دنیا کس طرح سے بناتا ہے۔ یعنی جو شخص جتنی محنت اور تگ ودو کرے گا اسے اسی مقدار میں دنیا عطا کی جائے گی۔ ندا فاضلی کا خیال ہے کہ انسان اپنی استعداد ، قوت اور بصیرت میں اضافہ کرے تو منزل مقصود مل سکتی ہے ؂
برکھا سب کو دان دے ، جس کی جتنی پیاس
موتی سی یہ سیپ میں، مٹی میں یہ گھاس
سا سے سا تک سات سر، سات سروں میں راگ
اتنا ہی سنگیت ہے جتنی تجھ میں آگ
چاقو کاٹے بانس کو، بنسی کھولے بھید
اتنے ہی سر جانیے، جتنے اس میں چھید
ندا فاضلی کے دوہوں کو نظرانداز کرکے ان کی تخلیقی حسیت کو بہتر طور پر سمجھا نہیں جاسکتا۔ اس حسیت کا تعلق ایک شعری روایت سے ہے۔ جس سے شعوری یا غیر شعوری طور پر ہم نے فاصلہ اختیار کیا ہے۔ ندا فاضلی نے اپنے طور پر اس فاصلے کو کم کرنے کی کوشش کی۔ وہ بنیادی طور پر اردو کے شاعر ہیں لیکن ہندی کا رس جس ان کے لیے کبھی مسئلہ نہیں رہا۔ ندافاضلی کی شاعری کے مطالعے سے اس حقیقت تک پہنچا جاسکتا ہے کہ ان کی غزل کا ایک رشتہ ان کے دوہے سے بھی ہے۔ فکری اور لسانی سطح پر دونوں اصناف ایک دوسرے سے گریزاں نہیں لیکن اس زاویہ نظر سے ابھی تک مطالعہ نہیں کیا گیا۔ 


Abdus Sami
Astt. Prof. Dept of Urdu, 
Banaras Hindu University (BHU)
Ajagara , Varanasi - 221005 (UP)


قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

8/10/18

عبدالغفور نساخ: فن اور شخصیت (تحقیقی و تنقیدی مطالعہ)۔ مضمون نگار: پروفیسر صغیر افراہیم








عبدالغفور نساخ: فن اور شخصیت
(تحقیقی و تنقیدی مطالعہ)
پروفیسر صغیرافراہیم
سرزمین ہند ہمیشہ سے باہر سے آنے والوں کے لیے کشش کامرکز ومحور رہی ہے۔ ماضی بعید میں دور دراز سے آکر بس جانے والے مختلف رنگ ونسل کے لوگ، ہندوستانی رنگ میں رنگتے چلے گئے۔ اس لیے اجنبیت یا حاکم ومحکوم کا احساس عارضی طور پر تو ضرور رہا مگر کبھی وہ شدت اختیار نہیں کرسکا۔ مئی 1857 میں ہندوستانیوں کو نہ صرف پہلی بار اجنبیت کا احساس ہوا بلکہ انھوں نے اپنی شکست بھی تسلیم کرلی جب کہ فرنگیوں کو اپنی فتح کااحساس اس مکمل تبدیلیِ اقتدار سے سو سال پہلے پلاسی کے میدان میں ہوچکاتھا۔ یہی وجہ ہے کہ انگریزوں نے 1757 سے ہی اپنے خواب کی تکمیل کے منصوبے بنانے شروع کردیے تھے۔ نواب سراج الدولہ سے بہادر شاہ ظفر تک اُن (ایسٹ انڈیا کمپنی) کا نفسیاتی، تنظیمی، تعلیمی اور لسانی ڈھانچہ مکمل ہوچکا تھا۔ ایسا نہیں ہے کہ ہمارے مفکرین اور رہبرانِ ملک وملت خاموش رہے ہوں مگر برصغیر کے طول وعرض میں معدودے چند مصلحین پیش آئند صورتِ حال کے پیش نظر عملی اقدامات کررہے تھے۔ بنگال کچھ زیادہ ہی بیدار تھا۔ اُس کے توسط سے ملک میں ہونے والی تبدیلی کو بھانپتے ہوئے سرسید احمد خاں نے مستقبل کے لیے منظم اور جامع خاکے ترتیب دیے۔ ملک کی اقتصادی اور سیاسی صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے انھوں نے دانش ورانِ ملک وملت کے حضور میں سوالات قائم کیے کہ کیا ہمارے روایتی علوم وفنون جدید تقاضوں کو پورا کررہے ہیں؟ اگر نہیں تو ہمیں ان پر نئے سرے سے غور وفکر کی ضرورت ہے۔ افراتفری، بے چینی، بے قراری اور اضطراب کے ماحول میں انھوں نے دوسروں کے ساتھ مل کر ٹھہراؤ پر زو ردیتے ہوئے منتشر افکار ونظریات اور رُجحانات کو یکجا کیا۔ اتحاد واتفاق کے اسی تال میل نے تحریک کی شکل اختیار کرلی۔ سرسید کے نظریۂ حیات کو استحکام بخشنے میں بنگال کے دانشور خصوصاً عبدالغفور نساخ کے بڑے بھائی نواب عبداللطیف اور اُن کی محمڈن لٹریری سوسائٹی بے حد معاون ثابت ہوئی ہے۔
سرسید احمد خاں اور نواب عبداللطیف، دونوں کی دور رَس اور دوربیں نگاہوں نے ملک میں برپا ہونے والے انقلاب کو بھانپ لیا تھا۔سرسید نے 1857 کے بعد اپنا لائحہ عمل تبدیل کیا اور نواب عبداللطیف نے اُس سے کچھ پہلے ہی اِس جانب توجہ دیتے ہوئے اینگلوپرشین کلاسیز کا آغاز کیا، پریسیڈنٹی کالج کھلوایا، مجلس مذاکرہ اسلامیہ کی داغ بیل ڈالی۔ انھوں نے محسوس کرلیا تھا کہ بدلتے ہوئے منظر نامے میں عربی، فارسی اور اردو کے ساتھ جدید علوم وفنون خصوصاً انگریزی زبان سے واقفیت لازمی ہے۔ اس جانب قوم کو راغب کرنے کے لیے دوسرے دانش وروں اور مفکروں کو مدعو کیا۔ اِس کٹھن ڈگر پر خود بھی عمل کیا، بھائی (عبدالغفور) کو بھی اسی طرح کی تعلیم وتربیت دلانے کا جتن کیا۔
سرسید احمد خاں شروع سے ادبی میدان خصوصاً تخلیق، تحقیق اور تدوین میں بھرپور حصّہ لے رہے تھے۔ اُنھیں اِس کا احساس ہوگیا تھا کہ مذکورہ ادبی سرگرمیوں کے ساتھ ہندوستانیوں کے تئیں عملی جدوجہد کے لیے بیدار کرنے والوں میں جو دانشور سرفہرست تھے، اُن میں بیش ترکا تعلق صوبہ بنگال سے تھا اور صوبہ بنگال کے ہی بے حد فعال رُکن نواب عبداللطیف نے اُن کی (سرسید) صلاحیتوں کے پیش نظر اُنھیں مذاکرے کی دعوت دی تھی۔6اکتوبر 1863 کو سرسید نے ’ضرورتِ ترقیِ علم وتہذیب درمیان اہل ہند‘، جیسے اہم اور جدید موضوع پر فارسی میں خطبہ پیش کیا جس کی دھوم اور گونج دُور تک پہنچی۔ نساخ بھی اِس علمی مذاکرے اور اُس پر ہونے والی پُرمغز گفتگو سے بہت متاثر ہوئے تھے۔وجہ یہ کہ اُنھیں اِس طرح کے موضوعات پسند تھے اور بحث ومباحثہ سے بڑی دلچسپی تھی۔ اُس وقت وہ بھائی کے گھر سے کچھ فاصلہ پر، ہوڑہ، (کلکتہ) میں تعینات تھے۔ دوسرے یہ احساس بھی کہ پدرانہ شفقت رکھنے والا بھائی گھر میں عالی شان مذاکرے کا اہتمام زوروشور سے کررہا تھا او روہ چاہ کر بھی اُس اہتمام وانتظام میں پوری طرح شریک نہیں ہوپارہے تھے۔ موضوع کی کشش اور مذاکرے میں شرکت کی شدید خواہش نے بھی اُنھیں ذہنی طور پر سرسید سے قریب کردیا، حالانکہ دونوں دانش وروں کے مزاج ومذاق اور عملی طریقہ کار میں بڑا فرق تھا۔ یہ فرق تو دونوں بھائیوں عبداللطیف اور نساخ میں بھی بے پناہ قربت کے باوجود برقرار رہا ہے۔
آئیے مختلف النوع سوالات قائم کرنے سے پہلے عبدالغفور کے منظر اور پس منظر میں بھی ذرا جھانک کر دیکھ لیں۔ اُن کا سلسلۂ نسب حضرت خالد بن ولید سے ملتا ہے جس کی گواہی ناول خالد بن ولید (اشاعت1995) کے مصنف قاضی عبدالستار اور’تہذیب الاخلاق‘ کے مدیر نورالحسن نقوی بھی دیتے ہیں کیونکہ یہ ناول منظر عام پر آنے سے پہلے قسط وار ماہنامہ ’تہذیب الاخلاق‘ میں نہ صرف شائع ہوا بلکہ ادبی محفلوں میں موضوع بحث بھی رہا ہے۔ نساخ کے بزرگ شاہ عین الدین 1623 میں عہدِ جہانگیر میں بغداد سے دہلی آئے۔ اور وہاں تین دہائیوں تک قیام کیا۔ شاہ عین الدین کے بیٹے عبدالرسول کو مغل شہنشاہ شاہجہاں نے بنگال کے ضلع فریدپور کی جاگیرعطا کی، اِس سبب بھی دہلی سے خوش گوار رابطہ برقرار رہا۔
نسّاخ کی اپنی نگارشات کے علاوہ گیان چند جین، مختار الدین احمدآرزو، نذیر احمد، انصار اللہ نظر، حبیب الرحمن وغیرہ کی تحریروں کے مطابق ادبی معرکوں کو گرمانے، محفلوں کو گل افشائی گفتار سے زعفران زاربنانے والے ممتاز دانش ور ابومحمد عبدالغفور خاں خالدی جو عوام وخواص میں عبدالغفور نسّاخ کے نام سے مشہور ہوئے، 11فروری 1834 بروز منگل، اُس وقت پیدا ہوئے جب گھر کے مرد افراد عیدالفطر کی نماز پڑھ کر گھر واپس آئے تھے۔ ایسے میں عید کی خوشیاں شہر کلکتہ میں ہی نہیں بلکہ جنگل میں بھی منگل منانے کا سبب بن گئیں۔ شاید اِسی رعایت سے اُن کا تاریخی نام شمس الضحیٰ رکھا گیا۔ والد قاضی فقیر محمد شہر کلکتہ کے مانے ہوئے وکیل تھے۔ اُنھیں علمی اور ادبی ذوق ورثے میں ملا تھا۔ خود فقیر محمد کے والد قاضی محمد رضا دینی اور دنیاوی علم سے مالا مال تھے۔ قاضی فقیر محمد نے دو کتابیں (1۔جامع التواریخ، 2۔منتخب النجوم) لکھیں اور دوشادیاں کیں۔ پہلی بیگم سے عبداللطیف اور عبدالغفور، دوسری بیگم سے عبدالحمید اور عبدالباری تھے۔ عبدالغفور سب سے چھوٹے تھے۔ اُن سے بڑی ایک بہن تھیں جن کے تعلق سے کوئی خاص مواد نہیں مل سکا ہے۔ سبھی تینوں بھائی خصوصاً عبداللطیف اُنھیں جان سے زیادہ عزیز رکھتے تھے۔ ساڑھے چار برس کی عمر میں نسّاخ کی رسم بسم اللہ ہوئی۔ وہ مشکل سے دس سال کے تھے کہ یکم محرم 1259ھ کو والد اورپھر ایک ماہ بعد والدہ کا انتقال ہوگیا۔ اِس سانحہ کی وجہ سے تعلیمی سلسلہ میں رُکاوٹ آئی جس کو دیکھتے ہوئے عبداللطیف نے اُنھیں پھر سے مدرسہ عالیہ کلکتہ میں داخل کرادیا۔ اِس معروف مدرسہ کاقیام اکتوبر 1780 میں عمل میں آیا تھا۔ ابتداءً اِس کا نصاب تعلیم درس نظامیہ کے مطابق رکھا گیا۔ رفتہ رفتہ ضرورتاً اِس میں تبدیلیاں آتی گئیں۔ نواب عبداللطیف نے خود یہاں تعلیم حاصل کی تھی۔ لہٰذا نسّاخ کو بھی وہ یہاں لائے۔ اُس دور میں یہ مدرسہ مشرقی علوم وفنون کے ساتھ مغربی تعلیم کابھی ایک اہم مرکز بن چکاتھا۔’اردوئے معلی‘ کے دوشماروں اور ’نقوش‘ کے آپ بیتی نمبر میں نسّاخ کے بچپن کی شرارتوں کے ساتھ اساتذہ خصوصاً مولوی کرامت علی، مولوی رمضان علی اور خواجہ محمدمستقیم کا ذکر دلچسپ انداز میں ہے جو ناطقہ بند کردینے والے اقدام کے باوجود اپنے ذہین شاگرد کو بیحد عزیز رکھتے تھے۔ البتہ بڑے بھائی سے اکثر شکایت کرتے تھے۔اُن کی طبیعت کی شوخی، تیزی، طراری اور بے باکی کے ڈھیروں افسانوی قصّے مشہور ہیں۔
نسّاخ کی سوانح بڑے بھائی عبداللطیف کے ذکر کے بغیر ادھوری محسوس ہوتی ہے۔ نواب عبداللطیف رئیس اعظم کلکتہ کی پیدائش 12مارچ 1828 کو اور انتقال 10جولائی 1893 کو ہوا۔ ابتدائی تعلیم تاریخی روایت کے مطابق گھر پراور ثانوی تعلیم مدرسہ عالیہ کلکتہ میں ہوئی۔ عربی، فارسی کے ساتھ انگریزی اختیاری مضمون کی حیثیت سے پڑھنا شروع کیا۔ 1849 میں ڈپٹی مجسٹریٹ اور پانچ سال بعد ڈپٹی کلکٹر درجہ اوّل ضلع 24 پرگنہ وجسٹس آف دی پیس صوبہ جات بنگالہ وبہار و اُڑیسہ ہوئے۔ کئی بار بنگال لیجیسلیٹیوکونسل کے ممبر رہے۔ اپریل 1863میں مجلس مذاکرہ اسلامیہ کلکتہ کی داغ بیل ڈالی۔ 1886 میں بھوپال کی حکمراں شاہجہاں بیگم کی درخواست پر قائم مقام وزیر ریاست بھوپال مقرر ہوئے مگر بنگال کی محبت اور نسّاخ کی چاہت نے اُنھیں وطن سے دور رہنے نہیں دیا کیونکہ نسّاخ تپ دق میں مبتلا تھے اور اسی مرض کے سبب 14جون 1889 بروز جمعہ کلکتہ میں انتقال ہوا۔ آبائی قبرستان تال بگان، درگاہ روڈ میں تدفین ہوئی۔ 55 سالہ بھائی کو رُخصت کرنے کے پانچ سال بعد وہ بھی بھائی کی بغل میں آرام فرما ہوئے۔دونوں بھائیوں کی چاہت کے قصے داستانوی رنگ اختیار کرچکے ہیں۔ عمر میں عبداللطیف، نساخ سے پانچ سال بڑے تھے لیکن اپنے بیمار چھوٹے بھائی کے انتقال کے پانچ سال بعد وہ اِس جہان فانی سے رخصت ہوئے۔ اپنے دور میں عبداللطیف تہذیبی اور فلاحی منظر نامے پر چھائے ہوئے تھے لیکن بعد میں ادبی اُفق نسّاخ کے حصہ میں آیا، جس کا دائرہ روز بروز بڑھتا گیا بلکہ اُن کی اہمیت اور افادیت آج بھی برقرار ہے۔
عبدالغفور کو بچپن سے شعروشاعری کاشوق تھا۔ ہوش سنبھالتے ہی اساتذہ سے اپنے کلام پر اصلاح لینے لگے۔ جن شعرا کے آگے زانوئے تلمذ تہہ کیا اُن میں رشید النبی وحشت اور حافظ اکرام الدین حشمت جو بعد میں ضیغم رامپوری کے نام سے مشہور ہوئے، بے حداہم ہیں۔ دونوں اپنے زمانے کے عالم وفاضل تھے۔ وحشت حضرت مجدد الف ثانی کے خاندان سے تھے، وہ مدرسہ عالیہ میں مدرس اور ضلع ہوگلی کے مفتی تھے۔ ادبی حلقے میں اُن کی حیثیت اُستاد شاعر کی تھی، اُن کا اثر نساخ نے قبول ہی نہیں کیا بلکہ بقول انصار اللہ نظر، وحشت کی مناسبت سے اپنے لیے مہجور تخلص اختیار کیا۔ تعلیم سے اُنسیت کم، اور شعروشاعری سے بڑھتی ہوئی رغبت کو دیکھ کر نواب عبداللطیف فکر مند ہوئے۔ انھوں نے 1847 میں ہی جب عبدالغفور کی عمر تیرہ برس کی تھی، ہوگلی کالج میں اینگلوپرشین شعبے میں داخل کرایاتھا۔ نساخ کو انگریزی سے زیادہ عربی فارسی سے رغبت تھی۔ وہ کالج میں بھی شعری محفلیں سجانے لگے تو1853 میں اُنھیں ہنری بیلی جو ایڈیشنل جج تھے، اُن کے پاس بھیج دیا گیا جن کے توسط سے کچہری میں محرری کی ملازمت مل گئی۔ کچھ دنوں بعد عدالت میں مترجم مقرر ہوئے لیکن وہ اِس چاکری سے مطمئن نہیں تھے۔ خوددار تھے، انا کو ٹھیس پہنچتی تھی لہٰذا سفارشی ملازمت چھوڑ کر گھر لوٹ آئے۔ بھائی کی مصروفیت اور اپنی بے کاری سے اُکتاکر شعبہ تعلیم کے پروفیسر مسٹر کاول (Cowell)کی فارسی میں مدد کرنے اور ایشیاٹک سوسائٹی سے لائی ہوئی کتابوں کی نقل کرنے کی ذمہ داری قبول کی۔ کچھ عرصے کے بعد کپتان سینٹ جارج کو بھی فارسی پڑھانے لگے۔ پروفیسر انصار اللہ اُن کی ذہنی، فکری اور نفسیاتی تہوں کو کھنگالتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’نساخ اُن لوگوں میں سے تھے جن کے مزاج میں استقلال اور جن کے فکر وخیال میں ہمواری ہوتی ہے، جو زمانے کے حوادث سے گھبراکر اپنی روش بدل نہیں دیتے بلکہ ہر مشکل کا مقابلہ کرنے کے لیے آمادہ رہتے ہیں اور بالآخر گوہر مقصود حاصل کرلیتے ہیں۔ تحصیل علم کے فوراً بعد اُنھیں ملازمت نہیں ملی تو وہ دل برداشتہ ہوکر بیٹھ نہیں رہے بلکہ اپنے وقت کا بہتر مصرف نکال لیا اور اپنی صلاحیت کو مناسب تر معاملات پر صرف کرنے لگے‘‘۔ (مقدمہ زبانِ ریختہ، ص29)
نواب عبداللطیف اپنے بے حد حساس بھائی کے لیے فکر مند تھے۔ وہ ملازمت کے لیے اُن سے برابر درخواست دلواتے رہتے تھے۔ بالآخر18ستمبر 1860 میں انھیں عارضی طور پر ڈپٹی مجسٹریٹ کامنصب مل گیا۔ بریسال میں پوسٹنگ ہوئی اور دو سال بعد ہی وہ مستقل طورپر ڈپٹی مجسٹریٹ ہوگئے۔ مارچ 1863 میں ہوڑہ(کلکتہ) تبادلہ ہوگیا۔ جنوری 1864 میں راجشاہی منتقل ہوئے۔ اگست 1866 میں بھاگلپور کے ضلع بانکااور مارچ 1869 میں چھپرہ کے ضلع سارن میں تعینات ہوئے۔ 12اپریل 1870 کو پھر بھاگلپور آگئے۔ 2مئی 1870 کو مونگیر تبادلہ ہوا۔ وہاں سے پانچ ماہ بعد سلہت، 6جولائی 1874 کو ڈھاکاگئے جہاں وہ 10اپریل 1879 تک کام کرتے رہے۔ 28اپریل 1879 میں بیربھوم، 18ستمبر 1880 کو ہگلی، 6جون 1881 کو ڈھاکا، 29جولائی 1884 کو میدنی پور میں چارج سنبھالا۔
فروری 1864 میں سرسید کو نواب عبداللطیف کے گھر سے واپس جانے کے پانچ ماہ بعد مغل شہزادے مرزا ہمایوں بخت کی بیٹی سے نسّاخ کی شادی ہوئی۔ گیارہ ماہ بعد ایک لڑکی پیدا ہوئی جس کا پیدائش کے دو گھنٹے بعد ہی انتقال ہوگیا۔ دسمبر 1866 میں بیٹا ابوالقاسم پیدا ہوا۔ تاریخی نام مظہر الحق، ادبی دنیا میں وہ شمس کلکتوی کے نام سے مشہور ہوئے۔ شادی کے تین سال بعد جب وہ بھاگلپور کمشنری کے ضلع بانکا میں مقیم تھے، منھ سے خون آنے لگا، ویسے بچپن سے کبھی کبھار ایسا ہوتا رہا تھا اس لیے بہت گھبرائے نہیں لیکن جب کئی دنوں تک متواتر خون آیا اور مقامی حکیموں سے کوئی افاقہ نہیں ہوا تو دو ماہ کی رخصت لے کر کلکتہ آگئے اور بھائی کے مشورے سے پہلی بار1868 میں بغرض علاج دہلی کے لیے روانہ ہوئے۔ پٹنہ،الٰہ باد، علی گڑھ ٹھہرتے ہوئے دہلی پہنچے، اور باقاعدہ علاج کراکے آگرہ، علی گڑھ، کانپور، لکھنؤ ہوتے ہوئے بانکا لوٹ آئے۔ دوسری مرتبہ جنوری 1870 میں بغرض علاج پھر دہلی گئے۔ ادبی محفلوں میں شریک ہوئے، تاریخی عمارتوں کی زیارت کی۔آگرہ، باندہ، کانپور، اناؤ، لکھنؤ کی سیر کرتے ہوئے بھاگلپور واپس آگئے۔ تیسری مرتبہ اکتوبر 1880 میں کلکتہ سے دہلی کے لیے روانہ ہوئے اور چوتھی مرتبہ 2اکتوبر 1885 کو بغرض علاج دہلی گئے۔ دورانِ سفر متعدد شعرا سے ملاقات ہوئی جن میں غالب، مومن، شیفتہ، حالی اور داغ کی اہمیت ہے کہ نسّاخ ان سب سے متاثر تھے اور موصوف نے خود اِن کا ذکر کیا ہے۔ کیو نکہ ادبی مباحثہ کے علاوہ گفتگو کے اور بھی موضوع تھے مثلاً غالب کا مقدمۂ پنشن اور بھائی کے تعلق سے حالی سے، سرسید کی گفتگو نکلتی تو داغ سے منّی بائی حجاب خاص موضوع ہوتا۔
حیرت اس پر ہوتی ہے کہ نسّاخ نے زندگی کی پچپن بہاریں دیکھیں اور انہی بہاروں کا کرم تھا کہ تخلیقات کا انبار لگادیا۔ تقریباً چار دہائیوں پر مشتمل ادبی ورثے پر نظر ڈالیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اُن کے قبضے میں کوئی جن تھا جو آقا کے حکم پر ادبی شکل میں فوراً حاضر ہوجاتا تھا۔ غفور سے مہجور اور مہجور سے نسّاخ بننے کی بھی عجیب داستان ہے۔ انصار اللہ صاحب مختلف شہادتوں سے یہ جواز مہیا کرتے ہیں:
’’...وحشت نے مصحفی سے بھی فائدہ اُٹھایا تھا اور جرأت سے بھی۔ جرأت اور مصحفی طرزِ ناسخ کے خلاف تھے۔ اِسی لیے مولوی عبدالغفور نے غالباً اپنے اُستاد مولوی رشید النبی وحشت کے مشورے سے نساخ تخلص اختیار کیا‘‘۔ (مقدمہ زبانِ ریختہ، ص17) 
اور ایسا انھوں نے غالباً 1275ھ میں کیا ہے۔ اِس تناظر میں ہندوپاک کے محققین کی نگارشات سے دوزاویے اُبھرتے ہیں۔ پہلا یہ کہ اساتذہ کی نظرِ کرم اور احباب کے مشورے پر مہجور تخلص اختیار کیا۔ دوسرا یہ کہ مٹیا برج اور اُس کے قرب وجوار میں برپا دبستانِ لکھنؤ کی برتری اور خود ستائی کے احساس نے اُنھیں اپنا تخلص بدلنے پر مجبور کردیا۔ انصار اللہ صاحب اِس جانب بھی توجہ دلاتے ہیں کہ اِسی مہجور نے نساخ ہوکر ناسخ کے دیوان ’دفترِ پریشان‘ کے جواب میں اپنا دیوان ’دفترِ بے مثال‘ ترتیب دیا مگر اِس کا جواز وجواب پیش کرنے کے لیے ضروری تھا کہ وہ ناسخ کے مخصوص طرز میں مہارت پیدا کریں:
’’نساخ نے جب شیخ امام بخش ناسخ کا جواب دینا چاہا تو اُن کے طرز میں وہ استعداد بہم پہنچائی کہ باید وشاید لیکن اُن کی یہی کامیابی فی الاصل اُن کے حق میں تباہ کُن ثابت ہوئی۔ نقل کی انتہائی کامیابی یہ ہے کہ وہ اصل کے مطابق ہوجائے لیکن اصل کی موجودگی میں اُس کی حیثیت ہمیشہ ثانوی رہے گی۔ ناسخ کا جواب پیش کردینے کی دُھن میں نساخ نے خود اپنی صلاحیتوں سے کما حقہٗ فائدہ نہیں اُٹھایا چنانچہ سب کچھ کرنے کے باوجود شاعر کی حیثیت سے اُن کی شخصیت کے انفرادی اور امتیازی خدوخال اُبھر کر سامنے نہ آسکے‘‘۔ (مقدمہ زبانِ ریختہ، ص21)
انصار اللہ صاحب کی اِس رائے سے اتفاق نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ نساخ کاکلام منفرد بھی ہے اور اُس نے اپنے عہد کو متاثر بھی کیا ہے البتہ اِس میں ضرور صداقت جھلکتی ہے کہ زبان وکلام کی اصلاح کی غرض سے ناسخ نے تراش خراش کا جو سلسلہ شروع کیا اُس کی ضد میں مہجور، نسّاخ بن گئے۔ سید لطیف الرحمن ’نسّاخ سے وحشت تک‘ میں لکھتے ہیں:
’’نساخ اپنی شعرگوئی کے ابتدائی دور میں مہجور تخلص کرتے تھے بعد کو اس تخلص کو بدل کر نساخ رکھا۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ ان کے کلام میں جب پختگی آئی اور اُستادانہ رنگ میں شعر کہنے لگے تو اُنھیں ناسخ لکھنوی کا حریف اور حریف بھی غالب بننے کا خیال ہوا۔ اس خیال کے زیر اثر انھوں نے اپنا تخلص بدل کر نسّاخ رکھا جو ناسخ کا صیغہ مبالغہ ہے‘‘۔ (ص54)
اسی بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے ڈاکٹر جاوید نہال’انیسویں صدی میں بنگال کااردو ادب‘ میں لکھتے ہیں کہ:
’’ناسخ شکن کہلانے کے لیے انھوں نے نساخ تخلص اختیار کیا‘‘۔ابوذرہاشمی نے بھی اِس سلسلہ میں نئے زاویوں سے بحث شروع کی ہے۔ بہر حال تاویلیں بہت سی ہیں۔ ضد میں یا پھر اپنی انا کو تسکین پہنچانے کے لیے وہ ناسخ پر ’نسخ‘ کا قلم پھیر کر نسّاخ بنے۔ لیکن سچ یہ بھی ہے کہ لکھنوی دبستان نے اُن پر جو بے جا اعتراضات کیے، ردعمل کے طور پر انھوں نے اہلِ لکھنؤ کی زبان وکلام پر ویسے ہی جوابات دیے۔ یہ سلسلہ صرف ناسخ تک ہی نہیں رہا، انیس ودبیر سے ہوتا ہوا، آگے بڑھتا چلا گیا جس کی حمایت اور مخالفت میں ’اودھ پنچ‘ پیش پیش تھا اور جس کا حوالہ شبلی کی کتاب ’موازنۂ انیس ودبیر‘ میں بھی مل جاتاہے۔
نساخ بے حد ذہین، پُرگواور قلم برداشتہ تحریر کے مالک تھے۔ مذاقِ سخن لکھنوی، مائل بہ عمل دہلوی ہونے کے باوجود ادبی دنیا میں اپنی الگ پہچان بنانے میں کامیاب ہوئے۔ انھیں ادبی نکتہ چینی، معرکہ آرائی، جواب درجواب میں خوب مزا آتا تھا۔ بحث ومباحثہ کو تکرار کی شکل دینے میں ان کی طبیعت خوب مائل رہتی تھی۔ اِس ماحول میں وہ متواتر لکھتے رہتے تھے۔ گمان گزرتا ہے کہ شاید وہ نگارشات کو خلق کرنے کے لیے ہی یہ فضا تیار کرتے ہوں۔ اُن کے چار دیوان ہیں۔ 184صفحات پر مشتمل ’دفتر بے مثال‘ نسّاخ کا پہلا دیوان ہے۔ یہاں یہ وضاحت کرتا چلوں کہ تمام کتابوں کا پہلا ایڈیشن موجودہ کتابی شکل 18x22=8کے بجائے بڑے سائز میں منظرِ عام پر آیا ہے جسے جہازی، ڈبل فُل اسکیپ، امپیریل، سُوپر رائل یا ڈیمائی سائز کہا گیا ہے۔ 1860 میں ’دفتر بے مثال‘ ترتیب دیا گیا۔ 1863 میں مظہر العجائب پریس کلکتہ سے شائع ہوا۔ اس کا ترمیم شدہ ایڈیشن اکتوبر 1874 میں منشی نولکشور پریس لکھنؤ سے منظر عام پر آیا۔ مشکل زمینوں پر طبع آزمائی کے پیش نظر، رعایت لفظی اور صنائع سے خوب کام لیا گیا ہے۔ بقول شاعر:
کھود ڈالی کیسی ہی ہو وے زمینِ سنگلاخ
کِلک میں اپنی ہے عالم تیشۂ فرہاد کا
الفاظ کی پیچیدگی، محاورہ بندی، قوافی کا پُرتکلف انداز جس میں دبستانِ لکھنؤ کے مخصوص رنگ کو اپنانے کی وجہ سے معنوی خوبیاں کم، لفظی خوبیاں زیادہ ہیں۔بلکہ ناسخ اور ان کے رفیقوں کی اتباع کے ساتھ ساتھ اُن پر طنز کا آغاز بھی اِسی ’دفترِ بے مثال‘ سے شروع ہوتا ہے۔ دو غزلہ، سہ غزلہ بلکہ چہار غزلہ انداز کے ساتھ ممکن قافیوں کو آزماتے ہوئے ردیف کو بدل بدل کر اسی زمین میں غزلیں کہنے کے نساخ کے انداز پر محمدصدر الحق اس طرح تبصرہ کرتے ہیں:
’’صنائع لفظی اور الفاظ کی بازیگری کو شاعری کی معراج گرداناتو نتیجہ ظاہر ہے کہ ناسخ کی طرح اُن کا کلام بھی روحانی کوائف اور قلبی تاثرات سے خالی ہی رہا، اور معشوق کے خارجی اوصاف جمالِ جسمانی اور لوازماتِ آرائش کا عنصر غالب رہا..... یہی وجہ ہے کہ فلسفیانہ خیالات اور حکیمانہ افکار تقریباً مفقود ہیں البتہ صنائع لفظی کو نسّاخ نے شاعری کا کمال تصور کرتے ہوئے نہایت فنکاری اور چابکدستی سے استعمال کیا ہے کیونکہ یہی چیز اُن کے لیے معراج شاعری تھی اور اسی رنگ میں کمال کا مظاہرہ کرکے اپنے ہم چشمکوں سے استادی کا اُنھیں لوہا منوانا تھا‘‘۔ (ص 175)
(نسّاخ: حیات وتصانیف‘‘ ڈاکٹر محمدصدر الحق، انجمن ترقی اردو پاکستان، طبع اول، 1979)
نسّاخ نے یہی دیوان مرزا اسداللہ خاں غالب کو تحفتاً بھیجا تھا جس کے جواب میں غالب نے ان کو ایک تعریفی خط بھی لکھا تھا۔ظاہر ہے کہ غالب کو شعری لفظیات سے مزین ایک بے بہا خزانہ جو دستیاب ہوگیاتھا، اور نساخ اسے اپنے لیے سند سمجھتے ہوئے اس کی نمائش کرتے رہتے تھے۔
دوسرا دیوان ’اشعار نسّاخ‘ہے۔ یہ 1867 میں ترتیب دیاگیا اور اکتوبر 1874 میں نولکشور پریس سے شائع ہوا۔ ڈیڑھ ہزار اشعار پر مشتمل اس دیوان میں غزلوں کے علاوہ رباعیاں اور قطعات بھی کثرت سے ہیں۔ ’دفتر بے مثال‘ کی طرح ’اشعار نسّاخ‘ بھی دبستان لکھنؤ کے طرز پر ہے تاہم اس میں لکھنوی دبستان کی زبان وکلام پر طنز بھی ہے۔ اُن کی شاعری کا یہ موڑ بڑی اہمیت رکھتا ہے کہ مشکل زمینوں سے نکل کر سادگی اور اثر آفرینی کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ در اصل نواب واجد علی شاہ کے ساتھ مٹیا برج میں آنے والی لکھنوی تہذیب جو مرشدآباد کے قرب وجوار میں جلد ہی رچ بس گئی تھی، نسّاخ اُس سے متاثر تھے اور کلکتہ میں فروغ پارہی لسانی وتہذیبی تبدیلیوں کومتاثر بھی کرنا چاہتے تھے۔ ’’ایماں مجھے روکے ہے، جوکھینچے ہے مجھے کفر‘‘ والی تذبذب کی کیفیت جس میں احساس کمتری اور احساسِ برتری تحلیل ہوجاتے ہیں۔ غور کیجیے نساخ کو اپنے خاندانی بزرگوں پر جس طرح فخر تھا، اُس کے پیشِ نظر وہ دہلی اور اہلِ دہلی سے ایک اُنسیت اور محبت محسوس کرتے تھے۔ پھر اُس دور کے شعری مزاج کے مطابق حریف دیرینہ یعنی اہلِ لکھنؤ سے اُکتاہٹ اور بیزاری کی صورت میں جذبات وخیالات کا صفحہ قرطاس پر منتقل ہونا، قدرتی نتیجہ کہا جاسکتا ہے۔ لہٰذا نساخ نے اپنے تذکرے ’سخن شعرا‘ کے صفحہ نمبر16 میں اُس کا اظہار اِن لفظوں میں کیاہے:
’’اختر تخلص، واجد علی شاہ بادشاہِ لکھنؤ... اِن دنوں کلکتہ کے موچی کھولے میں تشریف رکھتے ہیں‘‘۔
جہاں ایک طرف ’شاہِ اودھ‘ کے آشیانے کو ’موچی کھولے‘ سے نسبت دینا مذکورہ کشمکش اور تذبذب کی کیفیت کو واضح کرتا ہے، وہیں دوسری جانب نساخ کی ذہنی کشادگی اور عظمت اِس سے عیاں ہے کہ انھوں نے اپنے دوسرے دیوان ’اشعار نساخ‘ میں سادگیِ بیان اور نزاکتِ احساس کے ذریعہ دلی جذبات واحساسات کا بھی اظہار کیا ہے جس کی وجہ سے ناسخ کی پیروی کم، مومن وغالب کا رنگ زیادہ جھلکتا ہے جو نہ صرف معتدل رُجحان کی طرف جھکاؤ کا غماز ہے بلکہ اِس رویہ سے اُن کی قادر الکلامی کا بھی پتہ چلتاہے۔
دبستانِ دہلی کے رنگ میں رنگا ہوا ’ارمغان‘ نسّاخ کا تیسرا دیوان ہے۔ اِس نام سے تاریخ 1292ھ نکلتی ہے۔128صفحات پر مشتمل یہ دیوان مکمل ہونے کے ڈیڑھ سال بعد 1294ھ مطابق 1877 میں نظامی پریس کانپور سے شائع ہوا۔ اِسے ترتیب دینے سے قبل نسّاخ دوبار دہلی کا سفر کرچکے تھے۔ وہاں کی ادبی محفلوں میں شریک ہوئے تھے۔ کلام سُنا اور سُنایا تھا لہٰذا شعرائے دہلی کااثر لازمی تھا۔ غزلیات، رباعیات، قطعات وغیرہ میں سادگی وسلاست ہے۔ غالب، مومن، شیفتہ، حالی کی اتباع میں ہلکی پھلکی بحروں کا استعمال ہوا ہے۔ ناقدین نے یہ نتیجہ اخذ کیاہے:
1۔ اس میں فارسی اشعار نہیں، خالص اردو کادیوان ہے۔
2۔ غزلیں طویل نہیں ہیں۔
3۔ صنائع وبدائع کی بازی گری بھی کم ہے۔
4۔ زبان میں نرمی، روانی اور سادگی ہے۔
چوتھا دیوان ’ارمغانی‘ بھی خالص اردو دیوان ہے اور اِس نام سے بھی تاریخ نکلتی ہے۔ 116صفحات پر مشتمل ’ارمغانی‘ 1884 میں ترتیب دیا گیا اور نومبر 1886 میں مطبع نامی لکھنؤ سے شائع ہوا۔ غزلوں، مطلعوں اور تاریخی قطعات میں اساتذہ دہلی کا انداز جھلکتا ہے۔ دیوان کا پہلا شعر ہے:
جلوۂ کوہِ طور نے مارا 
دلِ خاکی کو نور نے مارا
تذکروں میں ’قطعۂ منتخب‘، ’تذکرۂ سخن شعرا‘ اور ’تذکرۃ المعاصرین‘ خاصے اہم ہیں۔ ’قطعہ منتخب‘ نسّاخ نے 1860 کے آس پاس تالیف کیا۔ تقریباً چودہ سال بعد یہ تذکرہ جولائی 1874 میں نولکشور پریس لکھنؤ سے شائع ہوا۔ 106صفحات پر مشتمل ساڑھے پانچ سو قطعات کے اِس مجموعے میں نہ صرف کلام ردیف وار ہے بلکہ شاعر، نام اور تخلص بھی حروفِ تہجی کے لحاظ سے درج ہے۔ عبدالسلام ندوی نے اس تذکرہ میں اخلاقی، ثقافتی، بلکہ صوفیانہ رنگ کی بھی نشاندہی کی ہے جس سے وہ کوسوں دُور بھاگتے تھے۔مشہور محقق پروفیسر انصار اللہ نظر نے نسّاخ کے عاشقانہ مزاج میں رچے ہوئے فن پر توجہ مرکوز کی ہے۔ کتابت کی غلطیوں کو دُرست کرتے ہوئے مزید چار شعرا، خواجہ محمد وزیر، ہدایت اللہ خاں ہدایت، میر محفوظ علی ہمدم اور نواب محمدتقی ہوس کے ذکر کو دریافت کرتے ہوئے اس میں اپنے نوٹ کے ساتھ شامل کیا اور اسے قطعہ منتخب (تذکرہ نسّاخ کا خلاصہ) کے نام سے 1976 میں انجمن ترقی اردو پاکستان، کراچی سے شائع کرایاہے۔
’تذکرۂ سخن شعرا‘ کو نسّاخ نے 1864 میں تالیف کیا جو دس سال بعد اکتوبر 1874 میں منشی نولکشور پریس لکھنؤ سے شائع ہوا۔ اس کی اہمیت، افادیت اور ضرورت کو دیکھتے ہوئے اُترپردیش اردو اکادمی لکھنؤ نے اسے بڑے اہتمام کے ساتھ شائع کرایا۔ کیونکہ قدیم ادب کی تاریخ مرتب کرنے میں یہ تذکرہ واضح رہنمائی کرتاہے۔ تقریباً ڈھائی ہزار شعرا اور 39شاعرات پر مشتمل اِس تذکرے میں معروف شعرا کے فنی کمالات کے ساتھ غیر معروف شعرا کا بھی ذکر ہے حالانکہ اس ذکر میں نام، تخلص، وطن، ولدیت، استاد وشاگرد کے تعلق سے بطور نمونہ چند اشعار پر اکتفا کیا گیا ہے۔ لیکن نظروں سے اوجھل شعرا کا مختصر تعارف بھی مستقبل میں کارآمد ثابت ہوا۔ محققین کے مطابق اِس تذکرے کے منظر عام پر آنے کے بعد بنگال اور اس کے قرب وجوار کے شعرا کی تلاش وتحقیق میں سہولت میسر آئی ہے۔
فارسی زبان میں لکھا جانے والا ’تذکرۃ المعاصرین‘ مکمل نہیں ہونے پایا تھا کہ نسّاخ کا انتقال ہوگیا۔ یہ 24صفحات پر مشتمل ہے۔ اس میں 236فارسی گو شعرا کا ذکر ہے۔ ڈاکٹر شبانہ نسرین کی تحقیق کے مطابق یہ تذکرہ مغربی بنگال اردو اکادمی میں موجود ہے۔ یہ وہ پہلا تذکرہ ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ سرسید احمد خاں آہی تخلص کے ساتھ فارسی اور اردو میں شعر کہتے تھے اور اُن کے کئی اشعار بھی اِس میں موجود ہیں۔
مذکورہ چار دیوان اور تین تذکروں کے علاوہ نسّاخ کی سولہ دیگر تخلیقات کا پتہ چلتا ہے۔ مثلاً سولہ صفحات پر مشتمل ’زبانِ ریختہ‘ مکمل تحقیقی رسالہ ہے۔ یہ 1874 میں نول کشور پریس لکھنؤ سے شائع ہوا۔ پروفیسر انصار اللہ کے مطابق یہ نسّاخ کی پہلی تصنیف ہے جو بعد میں شائع ہوئی۔ اس کا پورا نام ’رسالہ درتحقیق زبان اردوے معلی‘ اور تاریخی نام ’زبان ریختہ‘ ہے۔ اس میں اردو کی وجہ تسمیہ اور شاعری کے ارتقا کے اسباب مربوط انداز میں، نہایت اختصار کے ساتھ پیش کیے ہیں اور ممکنہ حد تک عہد بہ عہد ہونے والی تبدیلیوں کا مختصراً ذکر کیا گیا ہے۔
’چشمۂ فیض‘ 48صفحات پر مشتمل نیشاپور کے مشہور فارسی شاعر فریدالدین عطار کی مثنوی ’پندنامہ‘ کامنظوم اردو ترجمہ ہے۔ غیر مستعمل اور متروک الفاظ سے مبرا صاف ستھری اور منجھی ہوئی زبان کا یہ ترجمہ جون 1876 میں منشی نولکشور پریس لکھنؤ سے شائع ہوا۔ مثنوی کاآغاز اس شعر سے ہوتاہے:
حمد بے حد کے ہے قابل وہ خدا
جس نے مشتِ خاک کو ایماں دیا
دوسری مختصر مثنوی ’شاہد عشرت‘ اکتوبر 1874 میں نولکشور پریس سے شائع ہوئی۔ اشعار کی مجموعی تعداد 177ہے۔ ابتداء ساقی نامہ سے ہوتی ہے۔ 18صفحات کے اِس شہ پارے میں مثنوی گوئی کے تمام فن مثلاً سراپائے محبوب، جزئیات نگاری، منظر کشی وغیرہ موجود ہیں۔ اِن دونوں مثنویوں کے علاوہ نسّاخ ایک اور مثنوی بہ عنوان ’درمذمت شراب‘ لکھ رہے تھے لیکن ناگہانی موت نے اُسے مکمل ہونے نہیں دیا۔
34صفحات پر مشتمل ’باغِ فکر‘ قطعات کا ردیف وار مجموعہ ہے۔ جون 1887 میں لکھنؤ کے نامی پریس سے شائع ہونے والے اس مجموعے میں قطعات کے علاوہ مطلعے بھی ہیں جن میں صنائع بدائع کا خوب استعمال ہوا ہے۔
رسالہ ’قندپارسی‘ایک سو اٹھارہ صفحات پر مشتمل ہے۔ یہ جولائی 1872 میں نول کشور پریس لکھنؤ سے شائع ہوا۔ دیباچہ کے ساتھ ’قندپارسی‘ دس مشہور شعرا کا کلام اور کچھ غیر مشہور کلام کو بھی اس میں منتخب کیا گیا ہے۔
’گنج تواریخ‘ تاریخی قطعات کا مجموعہ ہے۔ ستاسی صفحات پر مشتمل، مشاہیر اسلام کی وفات پر کہے گئے تاریخی قطعات کا یہ مجموعہ اکتوبر 1874 میں نول کشور پریس، لکھنؤ سے شائع ہوا۔ اس میں نساخ کی تاریخ گوئی کی مہارت کا بھرپور تاثر ملتا ہے۔ بعد میں ’گنجِ تواریخ‘ کاضمیمہ ’کنزالتواریخ‘ کے نام سے مطبع نظامی کانپور سے شائع ہوا جس پر ابومحمد ثاقب کانپوری نے تفصیلی گفتگو کی۔ بعد میں اس گفتگو کوثاقب صاحب کے بیٹے پروفیسر ابوالخیر کشفی نے کراچی سے بھی شائع کیا۔ فارسی اور اردو قطعات پر مبنی یہ کتاب ادبی حلقے میں ’ضمیمہ گنج تواریخ‘کے نام سے مشہور ہے۔
’نصاب زبانِ اردو‘ کو نسّاخ نے کلکتہ یونیورسٹی کی نصابی ضرورت کے پیش نظر ستمبر 1862 میں ترتیب دیا جسے اگلے تعلیمی سال میں کلکتہ کالج پریس نے شائع کیا۔ ایک سو اسّی صفحات پر مشتمل یہ کتاب دو حصوں، نثر ونظم کے انتخاب پر مبنی ہے جسے انتظامیہ نے بھی پسند کیاتھا۔
’منتخبات دواوین شعرائے ہند‘ ردیف وار اساتذۂ اردو کی منتخب غزلوں کا رسالہ ہے۔ 1864 میں کالج پریس کلکتہ سے شائع ہونے والی یہ تالیف معروف شعرائے اردو کی غزلوں اور قصیدوں کا مجموعہ ہے جس کا ذکر ’تہذیب الاخلاق‘ کے اشتہار میں موجود ہے۔
’نصرۃ المسلمین‘ ردِّ وہابی کے نام سے بھی مشہور ہے۔ چالیس صفحات پر مشتمل اس مجموعے میں چوہتر رباعیاں ہیں۔ ان میں قرآن وحدیث کی مدد سے وہابیت کی تشریح، تفہیم اور تردید کی گئی ہے۔ اس سے متاثر ہوکر مشہور رباعی گو جگت موہن لال رواں نے کئی رباعیاں قلم بند کی ہیں، خصوصاًمہاتماگوتم بدھ پر رواں نے جوسلسلہ شروع کیا تھا اس پر مذکورہ کتاب کی گہری چھاپ ہے۔ ہمیں اِس کے حوالے حسرت موہانی کے تعلق سے اردوئے معلی میں اور اشتیاق عارف کے تعلق سے ’افکار‘ بھوپال میں ملتے ہیں۔
بیس صفحات کا رسالہ ’انتخاب نقص‘، نظامی پریس کانپور سے ماہ محرم 1879 میں شائع ہوا۔ اس میں دبستان لکھنؤ کے نامور شعرا، خصوصاً انیس ودبیر کے کلام پر اعتراضات ہیں۔ نساخ اہل لکھنؤ کی شیخی سے جسے وہ مٹیابرج میں دیکھتے،سنتے رہے، نالاں تھے۔ وہ گل افشانی گفتار، تصنع، بے جا محبت وعقیدت کو بھی پسند نہیں کرتے تھے حالاں کہ وہ خود اِس سے مبرّا نہیں تھے۔ پھر یہ کہ ادبی جھگڑوں اور معرکہ آرائیوں میں شامل ہوتے رہتے تھے۔ اِس کی مختلف کہانیاں مشہور ہیں جن سے گُریز کرتے ہوئے یہ کہ نسّاخ، میر وانیس کے کلام میں زبان، عروض، محاورے، معانی اور قواعد کی غلطیاں نکالتے جس سے جواب در جواب ہی نہیں، لکھنؤ اور غیر لکھنؤ کے تعلق سے تذلیل وتضحیک کا بھی سلسلہ شروع ہوا جس کے شکار کئی شاعر ہوئے، اُن میں یگانہ چنگیزی بھی شامل ہیں۔ اس ادبی حملے کے جواب میں نسّاخ کے کلام کا خوب مذاق اڑایا گیا اور جواب میں کئی کتابیں لکھی گئیں۔ اعتراضات کے اِس سلسلے کو موضوع بحث بناتے ہوئے ڈاکٹر شبانہ نسرین ’نسّاخ اور تلامذہ نسّاخ کی ادبی خدمات‘ میں لکھتی ہیں:
’’کلام انیس ودبیر اور دوسرے شعرائے لکھنؤ پر نسّاخ کے بے جا اعتراضات پیش کرنا اور اس کے جواب میں اہل لکھنؤ کا جذباتی رو میں بہہ کر اشعار نسّاخ کی دھجیاں اُڑا کر رکھ دینا، ان سب کے پس منظر میں دونوں ہی کا احساس تعصب اور انتقامی جذبہ کام کررہا تھا۔ تنگ نظری اور خود پسندی کے دونوں ہی شکار تھے‘‘۔ (ص74)
فارسی رباعیوں کا ردیف وار مجموعہ ’مرغوبِ دل‘ کے عنوان سے انھوں نے راجشاہی کے دورانِ قیام لکھا تھا۔ 24صفحات کا یہ رسالہ پہلے کلکتہ میں شائع ہوا، پھر اکتوبر 1874 میں نولکشور پریس، لکھنؤ سے منظر عام پر آیا۔ رباعیوں کے اِس مجموعے پر جگت موہن لال رواں نے تفصیلی بحث کرتے ہوئے رائے قائم کی ہے کہ نسّاخ کو صنائع بدائع پر بھر پور عبور حاصل تھا۔
15صفحات کا رسالہ ’مظہر معمّا‘ کے عنوان سے بحر العلوم لکھنؤ سے شائع ہوا۔ اِس میں انتیس فارسی کے اور دس اردو کے معمے ہیں۔ دلچسپ انداز میں سلجھائے گئے یہ معمے ’اشعارِ نساخ‘ اور ’ارمغان‘ میں بھی موجود ہیں۔
’ترانۂ خامہ‘ یعنی مرغوبِ جان ڈیڑھ سو اردو رباعیوں کا مجموعہ ہے جو مطبع بحر العلوم لکھنؤسے شائع ہوا۔ اس میں ’ارمغان‘ کی پینتالیس اور ’اشعار نسّاخ ‘ کی آٹھ رباعیاں بھی شامل ہیں، سبھی رباعیاں ردیف وار ہیں۔ مجموعے کی ترتیب میں حمد، نعت، منقبت وغیرہ کا خیال رکھا گیا ہے۔
’سفینہ منتخب‘ مرزا وصال شیرازی کے فارسی کلام کا انتخاب ہے جو نامی پریس لکھنؤ سے اپریل 1888 میں شائع ہواہے۔
’سوانح عمری نسّاخ‘ قلمی نسخے کی شکل میں ایشیاٹک سوسائٹی آف بنگال لائبریری، کلکتہ میں موجود ہے۔ یہ سوانح اُن کی زندگی میں شائع نہیں ہوسکی۔ کئی دوستوں نے عہد کیا مگر کوئی نہ کوئی عذر پیش کرتے ہوئے اشاعت کو ٹال دیا۔ قیاس آرائیاں، کہانیوں کا سبب بنتی ہیں اور پھر وہ مفروضہ کی شکل اختیار کرلیتی ہیں۔ تحقیق میں ان سے اجتناب برتا جاتا ہے۔ تاہم محققین اس پر متفق ہیں کہ اس سوانح عمری سے اُن کی زندگی کے اہم واقعات اور حادثات کے ساتھ ساتھ اُن کی خوئے خود پسندی اور زعم انانیت بھی بے نقاب ہوتی ہے لہٰذا ’خودنوشت تاریخِ حیات نساخ ‘ کے عنوان سے عبدالسبحان، اُستاد زبان وادبیات فارسی، مولانا آزاد کالج، کلکتہ کی کوششوں سے عوام تک اس کی رسائی ہوسکی۔
اس روشنی میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ قدیم اور جدید ادب کی حد بندی کے عہد میں عبدالغفور نسّاخ کانام ایک معتبر وجود کی مہر لگاتا ہے۔ اُن کی تخلیقات کادائرہ وسیع ہے۔ شاعری کے حصہ کو دیکھیں تو چار دیوان کے علاوہ قطعات کے تین، رباعیات کے تین، مثنویوں کے دو مجموعے اور ایک مختصر مجموعہ قصائد کا دستیاب ہے۔ نثر میں تین تذکروں کے علاوہ ایک ایک کتاب تحقیق، تنقید، تدوین اور سوانح پر موجود ہے۔ اِس کے علاوہ انھوں نے نصاب کو بھی ترتیب دیا ہے اور معمے بھی حل کیے ہیں۔ اُن پر خوب لکھا گیا ہے مگر اب بھی فکروفن کے بہت سے گوشے سامنے نہیں آسکے ہیں۔ شاید اِس وجہ سے کہ ہم ثانوی باتوں میں الجھ کر رہ جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر نسّاخ کی پیدائش، وفات وغیرہ کی صحیح تاریخ ووقت یا پھر بھائی، بہن، بیوی، بیٹی سے منسلک معمولی اختلاف طول پکڑتاہے۔ تخلیقات اور اُن سے وابستہ فکری اور فنی باتوں پر کم، ترتیب وتنظیم، اشاعت واشاعتِ ثانی پر زیادہ توجہ مرکوز ہوجاتی ہے جب کہ موصوف کے تعلق سے، عصرِ حاضر میں تحقیق کے یہ عنوانات خاصے اہم ہوسکتے ہیں:
1۔ نسّاخ کو معرکہ آرائی، ہنگامہ برپا کرنے اور شعر کہنے کا جنون تھا۔ شہرت اور مقبولیت کی چاہ نے شاعرانہ جذبے کے ساتھ اُستادانہ جذبۂ برتری کو ہوادی مگر اِس نکتہ کو ملحوظ رکھتے ہوئے کہ اُنھیں خود پر، اپنے کلام پر تنقید گوارا نہیں تھی۔
2۔ اِن نکات پر بھی تحقیق ہوسکتی ہے کہ نسّاخ کو شاگرد بنانے کا شوق تھا۔ جہاں بھی تبادلہ اور قیام ہوتا کچھ نہ کچھ شاگرد ضرور بناتے۔ پھر یہ بھی کہ خط یا اصلاح کافوری جواب دیتے تھے۔ یہ عمل داغ دہلوی کے یہاں بھی نظر آتا ہے لیکن ہمیں داغ کے شاگردوں کی فہرست اور انھیں لکھے گئے خطوط کا ذخیرہ دستیاب ہے مگر نسّاخ کے یہاں یہ گوشہ کچھ تشنہ سا ہے۔ اگر اِس جانب یکسوئی اور دلجمعی سے توجہ دی جائے تو بہت سی تجاویز اور کارآمد لسانی گفتگو سامنے آسکتی ہے۔ اِس سے یہ بھی پتہ چل سکتا ہے کہ نسّاخ کی قصائد اور مراثی پر توجہ کیوں کم رہی؟ اور یہ بھی کہ تصوف اور اخلاق کے مضامین سے انھوں نے کیوں کر گُریز برتا۔
یہ گوشہ بھی تحقیق طلب ہے کہ باندہ جودہلی اور کلکتہ کے لیے انگریزوں کی بنائی ہوئی گزرگاہ سے تقریباً سو کلومیٹر کے فاصلے پر الگ واقع ہے اور جہاں وہ غالب کے عزیز اور شاگرد نواب باندہ علی بہادر ثانی علی سے ملنے جنوری 1870 میں گئے تھے۔ کانپور میں نواب پٹکاپور سے اور اناؤ میں حکیم ارشاد علی سے ملتے ہوئے وہ لکھنؤ آئے تھے۔ احسان آوارہ باندوی کی تحقیق کے مطابق یہ کہہ کر ہم دامن نہیں جھاڑ سکتے کہ باندہ سے لکھنؤ کے لیے، کانپور اور اناؤ ہوتے ہوئے بہت ہی صاف ستھرا راستہ تھا جس کا ذکر مرزا ہادی رسوا نے بھی کیاہے۔ ممکن ہے کوئی اور بھی وجہ ہو کیونکہ پہلی ہی ملاقات میں غالب نے نواب باندہ اور وہاں کے ماحول کا ذکر کیا تھا۔ تقریباً نصف صدی کے وقفے پر محیط اُستاد، شاگرد یعنی غالب اور نسّاخ کے سفر میں فرق ہے۔ غالب کا قصدِ سفر مالی مدد، عزیزوں اور شاگردوں سے ملاقات تھی جب کہ نسّاخ ملاقات سے زیادہ علاج کی غرض سے سفر پر نکلے تھے۔ نساخ سرکاری ملازم تھے، اس لیے اُن پر وقت مقررہ کی پابندی تھی لیکن اُس مختصر وقفے کے دوران جو واقعات پیش آئے اُن کے مختلف پہلوؤں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ نساخ کے تعلق سے کئی سوال سر اُٹھاتے ہیں جواُن کے فکری اور فنّی نہج کو سمجھنے کے لیے اہم ثابت ہوسکتے ہیں۔
یہ مطالبہ اِس لیے کہ میرے نزدیک نساخ کی نثری تخلیقات بھی پُرپیچ، پُراثر اور بے حد معلوماتی ہیں۔ ان میں انسانی نفسیات اور تاریخی واقعات کے ساتھ سماجی شعور جلوہ گر ہے۔ شاعر کی حیثیت سے دیکھیے تو صنعتِ ترصیع اور صنعتِ تضاد کے ساتھ، موقع ومحل کی مناسبت سے ممکنہ صنعتوں کو برتنے کا سلیقہ، لفظ ومعنی کا ارتباط اور مضمون باندھنے کا جو دلآویز انداز ہے، وہ نساخ کی تخلیقی قوت کے ساتھ لسانی ترتیب کا جواز فراہم کرتا ہے۔ انتخابِ الفاظ میں مہارت، عروض وبلاغت پر دسترس اور مصرعے موزوں کرنے کے سلیقہ نے اسلوب میں جدت او رطرزِ ادا میں نُدرت پیدا کی ہے۔ اُن کے کلیات کو کہیں سے بھی اُٹھا کر دیکھ لیجیے، معاصر اثرات کے ساتھ کلاسیکی شاعری کے حُسن کی جھلک صاف دکھائی دیتی ہے۔ 
یہ نکتہ بھی غور طلب ہے کہ ضخامت کے اعتبار سے نساخ کے کئی ادب پارے نہایت مختصر ہیں مگر موضوع کے لحاظ سے ان سب کا کینوس بے حد وسیع ہے۔ سوانح، تاریخ، خطوط اور تذکروں میں نثری صفات کے سرچشموں سے قاری سیراب ہوتا ہے تو منظوم نگارشات میں تمام شعری کمالات کو خوبی سے تحلیل کردیاگیا ہے۔ یہی سبب ہے کہ نسّاخ کے کلام میں صناعی، حُسن کاری اور الفاظ کی تراش کے علاوہ انسانی جذبات واحساسات کو متشکل کرنے کاعمل فطری اور لہجہ نرم وخوشگوار ہے جوہر دور میں قاری کی دلچسپی کا سبب بنتا رہے گا ؂
سچ سچ جو مُجھ سے پوچھیے تو فنِ شعر میں
نسّاخ اپنے وقت کے تم بھی امام ہو

Prof. Saghir Afraheim
Editor 'Tahzibul Akhlaq & Professor
Dept of Urdu, AMU
Aligarh - 202002 (UP)
Contact no: 09358257696


قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...