14/11/18

ڈپٹی نذیر احمد کے مکتب میں سائنس کی تعلیم مضمون نگار:۔ شاداب تبسم





ڈپٹی نذیر احمد کے مکتب میں سائنس کی تعلیم
شاداب تبسم

دنیائے اردو ادب میں ڈپٹی نذیر احمد کو ناول نگار کی حیثیت سے اولیت حاصل ہے۔ وہ اعلیٰ درجے کے نثر نگار، ماہر زبان داں، مترجم، مقرر اور عالم تھے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم اپنے والد سعادت علی سے حاصل کی لیکن دلی کالج کی تعلیم نے انھیں مولوی نذیر احمد سے ڈپٹی نذیر احمد اور صحیح معنوں میں جدید افکار سے روشناس کرایا۔ دہلی کالج میں ان کی تعلیم کا زمانہ 1845 سے 1854 تک تھا۔ یہاں انھوں نے عربی، فلسفہ، سائنس وغیرہ کی تعلیم حاصل کی۔ دوران ملازمت الہ آباد میں انگریزی بھی سیکھ لی۔
ڈپٹی نذیر احمد ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے۔ معاشرتی اصلاح بالخصوص عورتوں کی اخلاقی تربیت میں گہری دلچسپی تھی۔ جدید تعلیم کی تبلیغ اور اصلاح نسواں ان کا بڑا کارنامہ ہے۔ ان کا خیال تھا کہ راست پندو نصائح کا طریقہ مؤثر نہیں ہوسکتا اس لیے اپنے مقصدکی تکمیل کے لیے مذہبی اور اخلاقی کتابیں تحریر کیں ۔ ایک ماہر نفسیات کی طرح قصے اورکہانیوں کو اصلاح کا ذریعہ بنایا۔ چنانچہ بنات النعش، مراۃ العروس، توبۃ النصوح، فسانۂ مبتلا، ابن الوقت، رویائے صادقہ اور ایامیٰ جیسے ناول لکھے۔ان تمام ناولوں کا مقصد مجموعی طورپر فرسودہ خیالات کو رفع کرنا اور نئے تقاضوں کے تحت داخلی رویوں میں تبدیلی پیدا کرنا تھا۔ ناول’ابن الوقت‘ اور ’رویائے صادقہ‘ میں نذیر احمد انگریزی تعلیم اور تہذیب کے زیر اثر فروغ پانے والے جدید تہذیبی رویوں کے غلبے کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دوسری طرف ناول ’بنات النعش‘ میں لڑکیو ں کے لیے مکتب کھول کر اس میں امور خانہ داری اور اخلاقی تعلیم کے ساتھ مغربی علوم اور سائنسی ادراک سے ہندستانی سماج بالخصوص مسلم خواتین کو روشناس کرانے میں دیگر افراد کے ساتھ نذیر احمد بھی پیش پیش نظر آتے ہیں۔ جس دور میں اسکول کے نظام کی کوئی صورت گری نہیں ہوئی تھی اور لڑکیوں کے لیے اسکول کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا ۔ نذیر احمد نے ناول ’بنات النعش‘ میں لڑکیوں کے لیے مکتب کھول کر تعلیم و تربیت کا بہترین طریقہ اختیار کیا۔
جدید تعلیمی تحریک کی مرکزی حیثیت تو سرسید احمد خاں کی تھی مگر ان کے رفقا میں نذیر احمد کا حصہ سرسید کے بعد سب سے زیادہ نظر آتا ہے۔ سرسید اور ڈپٹی نذیر احمد کی تحریریں اس بات کی گواہ ہیں کہ دونوں قدیم تعلیم سے بیزار اور جدید تعلیم کے حامی تھے۔ 1862 میں سائنٹفک سوسائٹی کا قیام بھی مغربی علوم کو ورناکیولر میں منتقل کرنے کے مقصد سے عمل میں آیا تھا۔ اس سوسائٹی کو سرسید تحریک کا نقطۂ آغاز کہا جاسکتا ہے۔ اس کے تحت انگریزی سے اردو میں ترجمے کا کام شروع ہوا تو مندرجہ ذیل مضامین کا انتخاب کیا گیا۔
حرکیات (Mechanics) برقیات (Electronics)، ریاضی (Mathematics)، فلسفۂ قدرت (Natural Philosophy) اور جدید زراعت (Agriculture) وغیرہ۔ 
سائنس لاطینی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی علم کے ہیںیعنی تجربات ومشا ہدات کے ذریعے حاصل ہو نے والے علم کو سائنس کہتے ہیں۔یوروپ میں انیسویں صدی سے سائنس کا زریں دور شروع ہوتا ہے اس لیے اخلاق اور امور خانہ داری کے ساتھ سائنس کی تعلیم کے پیش نظر ناول ’مراۃ العروس‘ میں ڈپٹی نذیر احمد ناول کے کردار اصغری کے ذریعہ لڑکیوں کے لیے ایک مکتب قائم کراتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں کے حقوق کی پاسبانی ، ان کی فلاح و بہبود اور اس سے زیادہ ان کی تعلیم و تربیت کے جذبات نذیر احمد کے قلب میں موجزن تھے۔ اگرچہ اس کا نقطۂ آغاز ان کی اپنی بیٹیوں کی تعلیم تھی۔ لیکن انھوں نے اپنے مقصد کو اس طرح پھیلایا کہ اس کے فوائد نے اجتماعی صورت اختیار کرلی اوراصغری کے مکتب کی تصویر کشی کر کے اس کی عملی شکل ہمارے سامنے پیش کی ہے۔
ناول ’بنات النعش‘ کا کردار معلمہ اصغری میں علم کے اعتبار سے اتنا وزن اور وقار ہے کہ وہ ابتدائی درجات کے بچوں کو مذہب اور اخلاق جیسے علوم کے ساتھ ابتدائی سائنس ، حساب ، جغرافیہ اور تاریخ جیسے علوم کو اعتماد کے ساتھ پڑھا سکتی ہے۔ ڈپٹی نذیر احمد چاہتے تھے کہ گھر کے اخراجات ، لین دین، آمد و خرچ وغیرہ کے حساب کتا ب میں خواتین کو کسی کا دست نگر نہ ہونا پڑے۔ اس لیے مکتب میں معلمہ ریاضی جیسے خشک مضمون کی ایک شاخ حساب (Arithmatics) کی تعلیم دلچسپ انداز میں دیتی ہے۔ جس سے لڑکیاں ریاضی کی طرف راغب ہوں۔ ناول ’بنات النعش‘ کے ایک باب ’حساب کی دلچسپ باتیں‘ سے چند مثالیں پیش ہیں:
محمودہ: کیوں کلثوم تین اور سات اور نو مل کر کے ہوتے ہیں؟
کلثوم: انیس
محمودہ: اور بھلا آٹھ اور چھ اور دو۔
کلثوم: سولہ‘‘ 1
محمودہ: اچھا زبیدہ تم کلثوم سے زیادہ بڑی ہو۔ بھلا بتاؤ بارہ لڑکیاں اگر ہنڈ کلہیا میں تین تین پیسے کا ساجھا ملائیں تو سب کے آنے ہوں گے
زبیدہ: نو آنے
محمودہ: ڈیڑھ سیر میں اگر چھ لڑکیوں کے برابر حصے لگائے جائیں تو ہر ایک لڑکی کو کتنا کتنا پہنچے گا۔
زبیدہ: پاؤ پاؤ بھر‘‘۔ 2
مکتب میں نہ صرف جوڑنا، باقی نکالنا، ضرب، تقسیم ہی نہیں بلکہ رقبہ (Area)، حجم (Volume) اور اربعہ متناسبہ (Property of ratio and proportion)کا قاعدہ بھی سکھا یا جاتا ہے۔ مثلاً 
محمودہ: بھلا یہ بتاؤ کہ یہ دالان جس میں ہم سب بیٹھے ہیں چھ گز لمبا اور ڈھائی گز چوڑا ہے ، چاندنی میں کتنا مارکین خرچ ہوگا؟
رابعہ: اورمارکین کا عرض
محمودہ: یہی معمولی گز بھر۔
زبیدہ: پورے پندرہ گز۔
محمودہ: ایک سوال بتاؤ تو تم کو بڑی شاباشی دیں۔ یہ بڑی مسجد کا حوض چھ گز مربع ہے یعنی لمبان چوڑان برابر۔ اور دو گز گہرا اور ایک گز مربع میں تین مشک پانی آتا ہے اور ایک مشک میں پچیس لوٹے اور ایک لوٹے میں پندرہ گلاس اور ایک گلاس میں آدھ پاؤ پانی تو سارے حوض میں کتنا پانی ہو ا‘‘۔ 3
معلمہ محمودہ جامع مسجد کی مینار کو بغیر گز، بغیر رسی اور مینار کے اوپر جائے بغیر ناپنے یعنی سایہ (Shade) کے ذریعے لمبائی ناپنے کی بابت متعدد سوالات قائم کرتی ہے تو ہاجرہ اربعہ متناسبہ کے قاعدے سے قطب صاحب کی لاٹ ناپنے کے تعلق سے کہتی ہے:
’’ہاجرہ: ابھی ایک بڑی آسان بات ہے ۔ ایک تنکا لے کر اس کوناپ لیا ۔ پھر اس کو دھوپ میں کھڑا کر کے اس کے سایہ کوناپ لیا، پھر لاٹ کے سایہ کو ناپ ڈالا تو اربعہ متناسبہ کے قاعدے سے جو تم کو معلوم ہے لاٹ کالمبان نکل آئے گا۔ اس طور پر کہ اپنے لمبے تنکے کا سایہ اس قدر لمبا پڑتا ہے تو لاٹ جس کا سایہ اتنالمبا ہے کتنی اونچی ہوگی۔‘‘ 4
معلمہ اصغری کی ساس حرف شناس نہیں تھیں۔ اس لیے ان کو ماما عظمت جیسی عورت تباہ کرتی چلی گئی۔ معقول آمدنی کے باوجود خاندان تنگ دستی میں مبتلا رہا۔ لیکن اصغری کے گھر کا حساب کتاب رکھنے سے اندازہ ہوا کہ موجودہ آمدنی سے گذر بسر آسانی سے ہوسکتی ہے۔ ڈپٹی نذیر احمد کا خیال تھا کہ خواتین روزمرہ کی زندگی میں پیش آنے والی ضرورتوں کے لیے کسی کی محتاج نہ رہیں۔ ان بنیادی باتوں کے علاوہ انھوں نے خواتین کے لیے اوپری درجے کی تعلیم کو بھی پیش نظر رکھا ہے۔ اس لیے مکتب میں ان موضوعات پر گفتگو کی گئی ہے جنھیں حقائق اشیاء کاعلم کہہ سکتے ہیں۔ سائنسی علوم میں حساب کے علاوہ علم جرثقیل کامختصر تذکرہ ملتا ہے۔ مثلاً محمودہ کہتی ہے:
محمودہ: علم جرثقیل میں اسی قسم کی ہزاروں باتیں ہیں۔ حکمت بڑی چیز ہے۔اکیلا آدمی حکمت کے زور سے ہزاروں من کا بوجھ تنکے کی طرح اٹھا کر پھینک دے۔‘‘ 5
ڈپٹی نذیر احمد لڑکیوں کو صرف گھرکی چار دیواری میں محدود نہیں رکھنا چاہتے تھے۔ بلکہ ان کی خواہش تھی کہ خواتین کو علم کی روشنی حاصل ہو اوران کے دماغ روشن ہوں۔ اس لیے ناول میں حساب اور علم جرثقیل کے علاوہ زمین کی کشش، وزن مخصوص، ہوا کا دباؤ، کشش، مقناطیس، زمین کی گردش، خوردبیں، جغرافیہ، سمندر کے منافع، بجلی، بادل وغیرہ کے بارے میں کچھ بنیادی باتیں بتائی گئی ہیں۔
زمین کی کشش یاکشش ثقل (Gravity) یعنی جب کوئی چیز آسمان کی طرف اچھالتے ہیں تو وہ واپس زمین پر آکر گرتی ہے دراصل ثقل وہ پُر اسرار طاقت ہے جو ہر چیز کوزمین کی طرف کھینچتی ہے۔ سب سے پہلے اسحاق نیوٹن (Issac Newton) نے سترہویں صدی میں ریاضی کے ذریعے اجسام کی کشش کے بارے میں دریافت کیا تھا۔ ان کا یہ نظریہ قانون تجاذب (Law of Gravity) کہلاتا ہے۔ کشش ثقل کے بارے میں محمودہ حسن آرا کوبتاتی ہے:
’’جتنی چیزیں ہیں سب کو زمین اپنی طرف کھینچتی ہے ۔ جوچیز اوپر کو پھینکتے ہیں، کچھ دور تک تو پھینکنے والے کے زور اور زبردستی سے اوپر چلی جاتی ہے پھر آخر زمین کی کشش اس کونیچے کھینچ لاتی ہے۔ پتھر کواوپر پھینکو اور دیکھتی رہو تو ایسا معلوم ہوگا کہ جوں جوں اوپر جاتا ہے اس کی چال سست اور دھیمی ہوتی جاتی ہے اور پھر جو الٹتا ہے تو تیر کی طرح زمین کی طرف دوڑتا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ چیزیں زمین کی کشش کے مارے اوپر کو نہیں جانا چاہتیں اور جاتی بھی ہیں تو زبردستی اور بڑی مشکل سے۔‘‘6
باب ’وزن مخصو ص ‘کے تحت تیرتے ماأعات (Liquids) یعنی ایک مایع چیز دوسرے مایع پر کیوں تیرتی ہے۔یہ قاعدہ آرکمیڈیز (Archimedes) کی دریافت ہے جسے کثافت (Density) کہتے ہیں۔ محمودہ پانی اور تیل کی مثال دے کر حسن آرا کو سمجھاتی ہے کہ تیل کی کثافت کم ہونے کی وجہ سے تیل پانی کے اوپر تیرتا ہے:
’’کوئی چیز ہلکی ہے کوئی بھاری۔ جتنی ہلکی چیزیں ہیں خود بخود اوپر آجاتی ہیں۔ مثلاً گلاس میں اول تیل ڈال دیجیے، اس کے اوپر پانی ۔ تو چوں کہ تیل پانی کی نسبت ہلکا ہے خود بخود اوپر آجائے گا۔‘‘ 7
طالبات کے فہم و بصیرت میں اضافے کے لیے باب ’ہوا کا داب‘ (Air Pressure)میں استانی محمودہ اور حسن آرا کے درمیان موضوع پر گفتگو مکالمہ اور مذاکرہ کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔ مثلاً ہوا میں وزن ہے تو کیسے، خالی بوتل میں ہوا ہے تو کس طرح۔ غرض اسی نوعیت کے استفسارات کے تسلی بخش جواب دیے جاتے ہیں۔ معلمہ یہ سمجھانے میں کامیاب ہوجاتی ہے کہ دھواں بھی ہوا سے ہلکا ہونے کے سبب اوپر کو ہی جاتا ہے۔
’کشش اتصال ‘(Force of Attraction) باب کے تحت ذکر کیا جاتا ہے کہ کل چیزیں ایک دوسرے کو اپنی طرف کھینچتی ہیں۔ اس کے ساتھ مقناطیس (magnet) جو میگنیس (Magnes) کی دریافت ہے، پر بھی سیر حاصل گفتگو ہوتی ہے کہ مقناطیس کیا ہے اور کس طرح لوہے کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ زمین گول ہے اور آفتاب کے گرد گھومتی ہے۔ مقناطیسی کشش کی مناسبت سے زمین کی گولائی اور آفتاب کے گرد گھومنے کا ذکر کرتے ہوئے محمودہ شاگردہ کو اس بات سے آگاہ کرتی ہے کہ کشش کی وجہ سے زمین گیند کی طرح آفتاب کے گرد چکر لگاتی ہے۔ 
’خوردبیں‘ (Microscope ) یعنی بصری آلہ جس کے ذریعہ انتہائی چھوٹے اجسام جن کو آنکھیں نہیں دیکھ پاتیں آسانی سے دیکھا جاسکتا ہے۔ استانی خوردبیں کا استعمال کرتی ہیں تو شاگردہ مکتب میں حیرت و استعجاب کے انداز میں کہتی ہے: 
’’بدن کے رونگٹے رونگٹے میں چھید مکھی تو دیکھو ہزاروں لاکھوں آنکھیں اور پروں میں اتنے رنگ۔افوہ ہوا میں اتنے بھنگے۔الہ اکبرپانی میں بلا کے کیڑے شیشہ تو عجب طلسمات کا شیشہ ہے۔‘‘8
باب ’’رنگ‘‘ میں رنگوں کے بکھراؤ کے تعلق سے عام معلومات فراہم کرتی ہے۔ اور سمجھاتی ہے کہ آسمان میں نکلنے والی رنگین کمان قوس قزح ( Rainbow )کس طرح بنتی ہے۔ رنگوں کے بیان پر مشتمل ایک کتاب الماری سے نکال کر شاگردہ کو پڑھنے کے لیے دیتی ہے۔
کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ہم آسمان کی طرف دیکھتے ہیں تو پھٹے ہوئے بادل میں چاند بھاگتا ہوا نظر آتا ہے۔ لیکن جب بادل نہیں ہوتا تو چاند میں کوئی حرکت نہیں ہوتی۔ اس تعلق سے مکتب کی لڑکیوں کے ذہنوں میں پنپنے والے سوالات کا جواب استانی اس طرح وضاحت کے ساتھ دیتی ہے کہ کوئی پہلو تشنہ نہ رہے۔متحرک چیزوں میں ’آنکھ کا غلطی کرنا‘ باب کے تحت نہایت ہی تفصیل کے ساتھ تمام باتوں کو اس انداز سے بیان کرتی ہے کہ عام ذہن رکھنے والی لڑکیاں بھی آسانی سے سمجھ سکتی ہیں۔کہتی ہے:
محمودہ: ’’میں بتادوں یہ بھی آنکھ کی ایک غلطی ہے۔ ہوا بادل کو اڑائے لیے چلی جاتی ہے اور بادل چل رہا ہے ، ہم کو ایسا نظر آتا ہے کہ گویا چاند بھاگ رہا ہے۔‘‘ 9
’زمین گول ہے‘ اس بات کی دریافت کا سہرا جان سبسٹین (John Sebastian) اور فرڈیننڈ میگلن (Ferdinand Magellan) کے سر باندھا جاتا ہے۔ مکتب کی استانی زمین کی جسامت، ہیئت اور تقسیم پر بات کر کے شاگردہ حسن آرا کو سمجھانے میں کامیاب ہوجاتی ہے کہ زمین گول ہے ۔ انداز بیان اتنا دلکش اور دلچسپ ہے کہ ثقیل کی باتیں بھی ذہن پر بار نہیں معلوم ہوتیں۔
موجودہ دور میں بدلتی ہوئی آب و ہوا ایک سنگین عالمی مسئلہ ہے۔ ماحولیاتی آلودگی سے نجات پانے کے لیے سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر مختلف اقدامات کیے جارہے ہیں لیکن آلودگی خواہ وہ ہوا کی ہو، پانی کی ہو یا شور کی ہو، بڑھتی آبادی کے سبب خطرناک شکل اختیارکرتی جارہی ہے۔ ناول ’بنات النعش‘ میں ڈپٹی نذیر احمد نے اب سے تقریباً ڈیڑھ سو سال پہلے شہرو دیہات کی آب و ہوا کی آلودگی کے اسباب اور ان سے پیدا ہونے والے مسائل پر روشنی ڈالی ہے۔ معلمہ کے ذریعہ جغرافیہ مثلاً کرۂ ارض کا نقشہ دکھا کر لڑکیوں کو اس کی معلومات فراہم کراتے ہیں۔ سمندر کے فائدے بیان کرنے کے ساتھ بارش، روشنی اور رفتار کی معلومات فراہم کی جاتی ہے کہ کس طرح بھاپ سے بادل اور بادل سے بارش ہوتی ہے اور کس طرح ہوا کی نسبت روشنی کی رفتار تیز ہوتی ہے۔ غرض یہ کہ موسیمات (Climatology) کی بنیادی معلومات مکتب میں دی جاتی ہے۔
اجرام فلکی (Celestial Bodies) کی بناوٹ اور علم ہیئت پر بات کرتے ہوئے استانی کہتی ہیں:
’’جن کتابوں میں چاند اور سورج اور ستاروں کا بیان ہوتا ہے وہ علم ہیئت کی کتابیں کہلاتی ہیں۔‘‘ 10
سورج کے سامنے زمین کی اپنے محور پر گردش کے سبب دن اور رات وجود میں آتے ہیں۔ زمین کی یہ گردش لاکھوں اربوں سالوں سے اسی طرح قائم ہے۔اس لیے ایسا ممکن نہیں کہ سال کے مختلف دنوں میں دن اور رات کے جو اوقات ہیں ان میں کسی بھی قسم کی کوئی تبدیلی آسکے۔حسن آرا استانی سے غروب آفتاب کے بعد دھوپ کے نہ ہو نے کا سبب دریافت کرتی ہے تو استانی دن اور رات کے تعلق سے بیان کرتی ہے:
’’زمین گول ہے جس طرف سے آفتاب کے سامنے ہوتی ہے وہاں دن ہوا اور دوسری طرف اندھیرا جس کو رات کہتے ہیں‘‘۔11
مکتب میں زمین سے آفتاب اور ستاروں کی دوری ، ان کی گردش وغیرہ کی تعلیم بھی دی گئی ہے۔ توہم پرستی کی وجہ سے مدرسے کی شاگردہ سورج گہن (Solar Eclipse) اور چاند گہن (Lunar Eclipse) کو عذاب الٰہی کہتی ہے تو استانی اس کا وہم دورکرنے کی غرض سے رسالہ ’سیرآسمان‘‘ پڑھنے کی تاکید کرتے ہوئے سورج گہن اور چاند گہن کے بارے میں بتاتی ہے:
’’جب سورج اور چاند کے بیچ میں زمین آپڑے گی، چاند گہن ہوگا اور جب سورج اور زمین میں چاند حائل ہوگا تو سورج گہن۔‘‘ 12
ناول ’بنات العنش‘ میں اصل توجہ سائنس کی عام معلومات یا بنیادی باتوں پر مرکوز کی گئی ہے۔ ساتھ ہی ان موضوعات پر بھی گفتگو کی گئی ہے جن سے اخلاق کی درستی مقصود ہے۔
ڈپٹی نذیر احمد کو دہلی کالج میں دوران تعلیم سائنسی علوم میں بہت زیادہ دلچسپی نہ رہی اپنے اوقات کا بیشتر حصہ ادب کے مطالعے میں صرف کیا۔ کالج میں علوم کیمیا و طبعیات کے اسباق و تجربات مختلف آلات کے ذریعے سکھائے جاتے تھے۔ نت نئے انکشافات ، سائنس کے تجربے اور مشاہدے طلبا کے لیے حیرت و مسرت کا باعث ہوتے تھے۔ سائنس سے بے توجہی کے باوجود استاتذہ اور ہم جماعتوں کے مسابقت کے جذبے کی بدولت انھوں نے سائنسی علوم میں کافی دست گاہ بہم پہنچائی۔ان کے خطبات اور خطوط سے بھی اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ بڑے دقیق مسائل ان کے ذہن میں آخری وقت تک محفوظ رہے۔ڈپٹی نذیر احمد سائنس کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے اپنے لکچر بتاریخ 2دسمبر 1888 میں کہتے ہیں: 
’’سائنس نے ایسا سراٹھارکھا ہے کہ زور جسمانی اور بہادری اورپہلوانی کسی کی کوئی حقیقت باقی نہ رہی۔‘‘ 13
ایک خطبے میں ساحل پر موجوں کے زور و شور اور سمندر کے اندرونی سکون کا سبب بیان کیا ہے اور علم طبیعات کے اس مسئلے کو نقشہ بناکر سمجھایا ہے اور ایک خطبے میں قوم کے عروج و زوال کے ضمن میں بطور مثال پتھر کے اوپر پھینکنے اور نیچے گرنے پر اس کی حرکت صعودی اور حرکت ہبوطی کی رفتار کا فرق بھی سمجھایا ہے۔ سائنس کی تعلیم کا اثر یہ ہوا کہ نذیر احمد کے ذہن میں زندگی اور کائنات کے عام حقائق کا صحیح شعور اور ادراک پیدا ہوا۔ اسی شعور کا پیدا ہونا تعلیم کا بنیادی مقصد ہونا چاہیے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر ڈپٹی نذیر احمد نے ناول ’بنات النعش‘ میں سائنس کی عام معلومات کو دلچسپ اور مربوط انداز میں قصے کے پیرائے میں ذہن نشیں کرانے کی کوشش کی ہے۔ سائنس اور تکنیک کے موجودہ دور میں یہ باتیں ہمارے لیے اہم نہ ہوں لیکن آج سے تقریباً ایک سو پچاس سال پہلے یہ باتیں بالخصوص خواتین کے لیے تعجب خیز تھیں۔ ان سے نہ صرف معلومات میں وسعت پیدا ہوئی بلکہ بہت سے توہمات بھی دور ہوئے۔ آخر میں حسن آرا استانی سے کہہ اٹھتی ہے :
’’جتنی باتیں آپ نے فرمائیں سب مرے دل نے قبول کیں۔ اور علم بڑی دلچسپ چیز ہے اور میں رسالہ ’سیر آسمان‘ ضرور پڑھوں گی۔‘‘ 14
مصنف نے ناول کے مختلف کرداروں کے ذریعے نہ صرف علم بلکہ علوم جدیدہ کے متعلق معلومات فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔ تاکہ مستورات کو زندگی کے نشیب و فراز سمجھنے میں آسانی ہو اور ان کا ذہن علوم و فنون کے سیکھنے کی طرف مائل ہو ۔ غرض ڈپٹی نذیر احمد نے اصغری کے مکتب کو مثالی مکتب کی شکل میں پیش کیا ہے۔
حواشی:
1: بنات النعش، ڈپٹی نذیر احمد، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان،2013، ص52
2: ایضاً،ص53 3: ایضاً، ص54
4: ایضاً،ص55 5: ایضاً،ص43
6: ایضاً،ص58 7: ایضاً،ص59
8: ایضاً،ص67 9: ایضاً،ص69
10: ؁ٍایضا،ص139 1: ایضا،ص141
12: ایضاً،ص144
13: لکچروں کا مجموعہ ، مرتبہ: مولوی بشیر الدین احمد، جلد اول، مفید عام پریس آگرہ، ص54، 1918
14: بنات النعش،ص143

Shadab Tabassum
PDF, Depf of Urdu
Jamia Millia Islamia
New Delhi - 110025






قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

13/11/18

نیّر مسعود کی افسانہ نگاری۔ مضمون نگار:۔ عریشہ تسنیم




نیّر مسعود کی افسانہ نگاری

عریشہ تسنیم 

اردو ادب میں 1970 کے بعد جن افسانہ نگاروں کی واضح شناخت قائم ہوئی ان میں نیر مسعود (پ: 16نومبر 1936، و: 24 جولائی 2017) کا نام بھی آتا ہے۔ نیر مسعود اعلیٰ درجہ کے محقق، مترجم اور نقاد کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ لیکن ان کی شہرت کی خاص وجہ ان کے وہ افسانے ہیں جو چار مجموعوں میں شائع ہوئے ہیں۔ یہ مجموعے سیمیا، عطر کافور، طاؤس چمن کی مینا اور ’گنجفہ‘ کے نام سے مشہور ہیں۔ انھوں نے اپنے افسانوں میں روایتی بیانیہ سے الگ ہٹ کر اسے مغربی پیرائے اظہار دے کر پیش کیا ہے۔ نیر مسعود کے بیش تر افسانے ان کے خواب میں نظر آئے زماں اور مکاں سے پرے نقوش، عوامل یا واردات کے عکس ہیں جنھیں لفظی جامہ پہنا کر افسانہ یا قصہ کا روپ دیاگیا ہے۔ ساتھ ہی اس بات پر بھی خاص توجہ دی گئی ہے کہ خواب اس طرح پیش کیا جائے کہ قاری کے دل پر بھی ویسے ہی احساسات واثرات مرتب ہوں جو مصنف کے دل پر ہوئے۔ اس کے لیے موقع کے اعتبار سے صحیح الفاظ کا انتخاب کرنا، جملوں کو ایسے ترتیب دینا جس سے نقوش ابھرکر سامنے آئیں اور کم سے کم اور عام فہم الفاظ کا استعمال کرنا وغیرہ شامل ہیں۔ یہ سب ان کے اسلوب کی غیر معمولی خصوصیات ہیں۔ نیر مسعود کے افسانے چونکہ ان کے خوابوں سے تراشیدہ ہوتے ہیں اس لیے عموماً ان کے افسانوں کا کوئی موضوع پہلے سے طے نہیں ہوتا۔
ساگری سین گپتا سے انٹرویو کے دوران انھوں نے اس بات کو تسلیم کیا ہے۔’’میری کہانیوں میں، بلکہ پوری زندگی میں خوابوں کا بہت بڑا کردار ہے۔ بعض خواب تو اس قدر مربوط، گویہ پورے بنائے افسانے کے طور پر دیکھے۔ بہت لمبے خواب بھی دیکھے۔۔۔قسطوں میں کوئی خواب نہیں دیکھ سکا ہوں اب تک بار بار دکھائی دینے والے خواب بھی دیکھے۔ یہ تو سبھی کے ساتھ ہوتا ہے کہ کوئی ایک یاد و خواب بار بار دکھائی دیتے ہیں اور سمجھ میں نہیں آتا کہ کیوں؟‘‘ 1
نیرمسعود ہر اعتبار سے ادب کی ایک پروقار شخصیت ہیں لیکن جس چیز نے انھیں عالمی سطح پر شہرت اور مقبولیت دلائی وہ ان کے افسانے ہیں۔ افسانوں میں بھی ان کا وہ خاص اسلوب جس کے لیے نیرمسعود پہنچانے جاتے ہیں۔ اسی خاص اسلوب کی وجہ سے ان کے افسانے اتنے مشہور ہوئے۔ ہندوستان اور بیرون ملک میں بھی ان کے افسانوں کے مداحوں کی اچھی خاصی تعداد ہے۔ یہ افسانے انگریزی اور دیگر غیر ملکی زبانوں میں ترجمہ ہوکر دور دور تک پھیلے اور انھیں بھرپور داد وتحسین حاصل ہوئی۔ ان کے افسانوں کے منفرد اور متنوع موضوعات اور ان میں پوشیدہ معنی خیزی اور اسرار کے عنصر کی وجہ سے مغربی ممالک کی ادبی دنیا ان سے متاثر ہوئی۔ انگریزی میں ان کے افسانوں کو موضوع بناکر کئی چھوٹے بڑے مضامین لکھے گئے، ان میں سب سے اہم تحریریں محمد عمر میمن کی ہیں جو University of Wiscosin, Madison کے پروفیسر ہیں۔ ان کے علاوہ ایلی زبیتھ بیل (Elizabeth Bell)، محمد سلیم الرحمن، زینو (صفدرمیر) اور مظفر علی سید کی تحریریں بھی نیر مسعود کی افسانہ نگاری سے متعلق ہیں۔ ان تحریروں سے یہ اندازہ ہوجاتا ہے کہ نیر مسعود کو بیرون ملک میں کتنی شہرت و مقبولیت حاصل ہوئی۔ اردو میں ان کی افسانہ نگاری کی طرف اتنی توجہ نہیں دی گئی جتنی بیرون ممالک میں دی گئی۔
نیر مسعود کی افسانہ نگاری سے متعلق کچھ نامور دانشوروں کی رائیں مندرجہ ذیل ہیں:
(i) ’’نیر مسعود کی ایک اپنی نجی دنیا ہے جسے وہ اپنے نفس (اپنی ہستی) کے حوالے سے دیکھتے ہیں۔ یہ آئینے سے جھانکتے ہوئے عکسوں، ابہامات اور بیک وقت نمایاں اور دھندلی بے خیالوں کی دنیا ہے جو اپنے خلا کے کھنچاؤ سے ہمیں پر اسمیاں بھی کرتی ہے۔ ماضی یہاں مسلسل حال پر مسلط رہتا ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ اس میں معنی پیدا کرنے کی ہر کوشش کی تادیب بھی کرتا رہتا ہے۔‘‘ (Elizabath. Bell) 2
(ii) ’’نیر مسعود کی کہانیاں بنیادی طور پر اپنی ہیئت کے لحاظ سے تجدد پسند اور مواد کے لحاظ سے روایت پسند کہی جاسکتی ہیں۔ ان کہانیوں میں صرف ’’وقوعے‘‘ ہیں۔(ان میں) رسمی معنوں میں کہانیاں نہیں ہیں۔‘‘3
(زینو:The Fiction of Past as Present)
ان جائزوں اور تاثرات کے ساتھ اگر ان متفرق رایوں کو بھی شامل کرلیا جائے جن کا اظہار ان کی کہانیوں کے انگریزی تراجم کی اشاعت کے بعد کیا گیا تو ایک دلچسپ اور الجھی ہوئی تصویر رونما ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر مارکس (Globe Correspondant) نے کہا کہ یہ کہانیاں (عطر کافور)ماورائی اشاروں اور نفسیاتی حرارتوں کے ایک چابکدست آمیزی کی صورت میں سامنے آتی ہیں۔ نیر مسعود کی (قاری کے احساسات کو) گرفت میں لے لینے والی مافوقیت (Supernaturalism) کی دور افتادگی اپنے حقیقی (اورصداقت پر مبنی) ہونے کا اثر پیدا کرتی ہے، جسے برآمد (Export) کرنے کے لیے پیدا نہیں کیاگیا۔
Elle Mazazine کے مطابق: 
’’یہ کہانیاں ایک جادوئی قالین کے گنجان دھاگوں سے بنی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ گویا کہ مجموعی اعتبار سے یہ کہانیاں ایک اجنبی، نادیدہ مگر پر کشش حقیقت اور ایک ایسی دنیا کی تشکیل کرتی ہیں جو ہمارے لیے ہے بھی اور نہیں بھی ہے۔‘‘4
افسانوی مجمو عہ عطرکافور کاپہلا افسانہ ’مراسلہ‘ ہے۔اس میں پلاٹ بظاہر سیدھا سادہ معلوم ہوتا ہے لیکن افسانے کو آخرتک پڑھنے پر بھی قاری کہانی کی مختلف کڑیاں جوڑ کر اسے قصے کی شکل دینے میں مشکل محسوس کرتا ہے۔ یہ نیر مسعود کے فن کی ایک بڑی خصوصیت ہے کہ بظاہر سیدھا سادہ نظر آنے والا پلاٹ بھی کئی معنوی جہات کا حامل ہوتاہے۔افسانہ ’سلطان مظفر کا واقعہ نویس‘ میں پلاٹ کافی الجھاہوا معلوم ہوتا ہے۔ اس میں صحرا جس میں سلطان مظفر کا بغیر چھت کا مقبرہ ہے، قلعہ جس میں ہیولائی قسم کے کردار رہتے ہیں اور صحرائی مہم وغیرہ کا بیان ہے۔ واقعہ نویس کا بیان بڑے پر اثر انداز میں ہوا ہے جس سے قاری عجب طرح سے اس میں جکڑا رہتا ہے۔ اس میں کئی کردار ہیں۔ مثلاً سلطان مظفر، واقعہ نویس، صحرائی عورت وغیرہ کا ذکر ہے۔نیرمسعود کے یہاں پلاٹ کاباضابطہ التزام نہیں ملتا۔ بہ الفاظ دیگر انھوں نے وحدت تاثر اور مربوط پلاٹ پر استوار یک رخے افسانے لکھنے سے احتراز کیاہے۔ ان کے افسانوں کے پلاٹ اکہرے نہیں ہوتے بلکہ اصلی پلاٹ سے ذیلی پلاٹ نکلتے رہتے ہیں۔ کبھی کبھی ذیلی پلاٹ ان کے اصلی پلاٹ پر حاوی ہوجاتے ہیں، لیکن ان کا یہ فنی کمال ہے کہ اختتام کے وقت اس کا اصلی پلاٹ پھر کسی نہ کسی صورت میں سامنے آجاتاہے اور تمام ذیلی پلاٹ کے نقوش دھندلے پڑجاتے ہیں۔ پھر بھی اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ذیلی قصوں کی کثرت کی وجہ سے ان کے افسانوں میں بھول بھلیاں کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے، جس سے پڑھنے والے کا ذہن الجھ کر رہ جاتا ہے اور کہانی کی اصل روح تک پہنچنے کے لیے بڑی ژرف بینی درکار ہوتی ہے۔
نیر مسعود کے زیادہ تر افسانوں میں محض کسی ایک قصے کا بیان نہیں ملتا بلکہ اس سے جڑے اور قصوں کا بیان بھی شامل رہتا ہے۔ مثال کے طور پر افسانہ ’اوجھل‘ میں نو عمر واحد متکلم کے جنسی تجربات کے بیان کے علاوہ مکان کے معائنوں کا ذکر، ایک نا معلوم تیماردار اور غرقاب دوشیزہ کا تفصیلی تذکرہ ہے۔’نصرت‘ میں مرکزی کردار کی کہانی کے علاوہ بدکار عورت اور بوڑھے جراح کا بیان ہے۔ ’سلطان مظفر کا واقعہ نویس‘ میں سلطان کی صحرائی مہم، مقبرہ کی تعمیر کا حال، ایک دوشیزہ سے سلطان کے تعلقات اور پھر ایک زہریلے درخت کاذکر ہے۔ ’عطر کافور‘ میں کافوری چڑیا، عطر سازی کے مختلف مراحل اور پھر ماہ رخ سلطان اور اس کی نامعلوم بیماری کا بیان ہے۔ ان کے بیشتر افسانوں میں ذیلی قصوں کی کثرت اور تنوع کی وجہ سے پیچیدگی اورمبہم سی کیفیت پیدا ہوگئی ہے۔البتہ یہ کیفیت پیدا کرنے کا شعوری مقصد شاید یہ ظاہر کرناہے کہ دنیا اصل میں مترادفات کا مجموعہ ہے۔ اسی فلسفے کو مد نظر رکھتے ہوئے وہ اپنے افسانے تحیر خیزی، بے مرکزیت، بھول بھولیوں والے پلاٹ اور فضا اور کردار کے عجوبے پن سے خلق کرتے ہیں۔ بعض اوقات تو محض بیان سے بھول بھلیاں کا تاثر پیدا کردیتے ہیں مثلاً:
’’پھر میں پھاٹک کے اندر داخل ہوگیا۔ مجھے ہر طرف دیواریں ہی دیوار یں نظر آئیں۔ آگے پیچھے بنی ہوئی اونچی دیواریں مختلف زاویوں سے ایک دوسرے کے قریب آتیں، پھر دور ہوجاتیں۔ سب سے اونچی دیواریں سب سے پیچھے تھیں۔ یہ نیم دائرے کی شکل میں اٹھائی گئی تھیں اور یہی دور سے چھت کا فریب دیتی تھیں۔‘‘5
بورخیس کی طرح نیر مسعود نے بھی بھول بھلیاں کی تمثیل اپنے افسانوں میں کثرت سے استعمال کی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ معاشرتی وسماجی تصورات کی مضحکہ خیزی کو اجاگر کرنے کے لیے بھی انھوں نے متعدد ذیلی قصوں کو بیک وقت بیان کیا ہے تاکہ اس میں چھپے ہوئے عناصر کی نشاندہی کی جاسکے۔ سہیل وحید سے ایک انٹرویو میں نیر مسعود اپنی کہانیوں کے موضوع کے متعلق فرماتے ہیں:
’’میں موضوع کے بارے میں سوچتا نہیں ہوں۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ کہانیاں مبہم ہیں اور یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ کہانی میں آپ کہنا کیا چاہ رہے ہیں۔ ضمنی موضوعات بہت سے ہوتے ہیں لیکن بنیادی موضوع کوئی ایک نہیں ہوتا۔ بعض کہانیوں میں ہے لیکن عام طور پر کہانیوں کا کوئی موضوع نہیں ہے۔ ضمناً تمام موضوعات زیر بحث آتے ہیں۔ اس کو چاہے میری کمزوری سمجھ لیجیے کہ موضوع بناکر کہانی نہیں لکھ پاتا ہوں۔‘‘ 6
دو مختلف افسانوں کے درمیان ارتباط قائم کرنے کا ہنر، وہ ہنر ہے جس میں نیر مسعود کا کوئی شریک نہیں۔ وہ ایک افسانے کی تفصیلات؍واقعات کو دوسرے افسانے میں ہنر مندی سے اس طرح شامل کرتے ہیں کہ افسانہ خود اپنے آپ میں مکمل ہونے کے باوجود ایک دوسرے متن کی تشکیل میں بھی شریک ہوتا ہے۔ مثلاً ’جانوس‘ میں ایک شخص افسانے کے راوی کو کہتا ہے کہ وہ یہیں لکھنؤ کا رہنے والا ہے اور یہاں نواب سہراب کی حویلی اس کے خاندان کی تھی جواب اس کی نہیں ہے۔ ’جانوس‘ میں اس مفلوک الحال شخص کی صرف ایک شناخت بتائی گئی ہے کہ اس کا رنگ بہت کالا تھا۔ اب اس مجموعے کے دوسرے افسانے ’جرگہ‘ میں ایک منظور صاحب نامی شخص نے ایک پرانی حویلی خرید کر اسے پھر سے باز تعمیر کے بعد اس میں پہلی دعوت کی ہے۔ کوٹھی کے سامنے محمد میاں کی چائے کی دکان میں موجود ایک شخص ہے جس کا رنگ سیاہ ہے اس کوٹھی کی باز تعمیر کا حال بیان کررہا ہے۔ اس گفتگو میں سیاہ رنگ والا شخص بتاتا ہے اس کوٹھی کا سامنا ایسانہیں جیسا کہ اصل عمارت میں تھا۔ پھر مکالمے کے دوران محمد میاں اس سے پوچھتا ہے۔
’’تو تمہیں پتہ ہے حویلی کا سامنا کیسا تھا؟‘‘
’’مجھے پتہ نہیں ہوگا‘‘ دوسرے آدمی نے دھیرے سے کہا اور محمد میاں اچانک افسردہ نظر آنے لگا۔ ’’سچ کہا خیرچھوڑو۔ یہ بتاؤ کہیں رہنے کا ٹھکانہ ہوا‘‘؟ میری مانو تو وہ ٹھٹک کر رہ گیا۔‘‘7
سیاہ رنگ والا یہ شخص جسے چائے والا ’نواب‘ کہہ کر مخاطب کرتا ہے ’جانوس‘ کا وہی اجنبی ہے جو کانپور سے واپس لکھنؤ آگیا ہے اور جس نے ڈاکٹر صاحب کو بتایا تھا کہ اس کی آبائی کوٹھی وہی ہے جسے منظور صاحب نے خریدلی۔
افسانوی مجموعہ ’عطر کافور‘ کی اشاعت (1990) کے بعد چوتھے مجموعے ’گنجفہ‘ اشاعت (2008) میں ’پاک ناموں والا پتھر‘ کے عنوان سے ایک افسانہ شامل ہے۔ اس میں پاک ناموں والے پتھر کو راوی کا خاندانی نشان بتایاگیا ہے ’’جس کی خاطر خون بہا ہے۔‘‘ اس افسانے میں وہ استاد بھی موجود ہے جس نے ’وقفہ‘ میں راوی کو پڑھایاتھا اور ’طاہرہ بی بی‘ بھی جنھوں نے ’وقفہ‘ میں راوی کو ایک لڑکی کے ذریعہ استاد کے مرنے کی خبر اور ایک سرخ رومال میں رکھی کنجیاں بھجوائی تھی۔ اس خاندانی نشان کا ذکر نیر مسعود نے اپنے پہلے افسانوی مجموعے کے پہلے افسانے ’اوجھل‘ میں بھی کیا ہے۔ مثال:
’’میری روانگی سے کئی دن پہلے جب میرے گلے میں پاک ناموں والا پتھر ڈالا گیا، جومیرے خاندان میں کئی پشتوں سے چلا آرہا تھا، تو میری بیزاری اور بڑھ گئی۔‘‘8
نیرمسعود کے افسانوں کا فنی جائزہ لینے پر پتا چلتا ہے کہ نیر مسعود نے روایت سے انحراف کرتے ہوئے اپنے افسانوں میں وقوعہ کو مرکز توجہ بنانے کے بجائے لسانی اظہار کو زیادہ اہمیت دی ہے۔ اس لیے ان کے افسانوں میں بیانیہ معروضی ہونے کے ساتھ اس میں ممکنہ تمام امکانات کی گنجائش، قول محال کا استعمال،ایک کہانی میں کئی ذیلی قصوں کی موجودگی جس کے نتیجے میں بھول بھلیاں جیسی کیفیت اور ریاضیاتی توازن یعنی ایک ایک جزو کا باریکی سے تذکرہ وغیرہ خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ تکنیک کے سلسلے میں نیر مسعود بورخیس سے متاثر ہیں اور اسی لیے اپنے افسانے ’’جانوس‘‘ کے سرنامہ کے طور پر انھوں نے بورخیس کا ایک قو ل "The world, unfortunately is real" تحریر کیا ہے۔
نیر مسعود کے افسانوں میں جابہ جا میجکل ریلزم کی جھلک بھی ملتی ہے اور قاری جب ان کے افسانوں کا مطالعہ کرتا ہے تو اسے محسوس ہوتاہے کہ گو یہ وہ کسی عجوبے، کسی جادوئی دنیا میں پہنچ گیا ہے یا خوابوں کی دنیا میں سیر کر رہا ہے جہاں کشش بھی ہے، خوف کا عنصر بھی ہے اور زندگی اور مناظر کے کئی معنی دیتے اشارے بھی۔ میجکل ریلزم کی کارفرمائی نیر مسعود کے افسانوں کے مندرجہ ذیل اقتباسات میں دیکھے جاسکتے ہیں:
1۔ ’’دھوپ میں تیزی آگئی تھی اور اب کچی سڑک کے آثار بھی ختم ہوگئے تھے، البتہ گرد آلود پتیوں والے درختوں کی دو رویہ مگر ٹیڑھی میڑھی قطاروں کے درمیان اس کا تصور کیاجاسکتاتھا، لیکن اچانک یہ قطاریں اس طرح منتشر ہوئیں کہ سڑک ہاتھ کے پھیلے ہوئے پنجے کی طرح پانچ طرف اشارہ کرکے رہ گئی۔ یہاں پہنچ کر میں تذبذب میں پڑگیا۔ مجھے گھر سے نکلے ہوئے بہت دیر نہیں ہوئی تھی اور مجھے یقین تھا کہ میں اپنے محلے سے بہت دور نہیں ہوں، پھر بھی میں نے وہاں پر ٹھہرکر واپسی کا راستہ یاد کرنے کی کوشش کی۔ میں نے پیچھے مڑکر دیکھا۔ گرد آلود پتیوں والے درخت اونچی نیچی زمین پر ہر طرف تھے۔ میں نے ان کی قطاروں کے درمیان سڑک کا تصور کیا تھا لیکن وہ قطاریں بھی شاید میرے تصور کی پیداوار تھیں، اس لیے کہ اب ان کا کہیں پتہ نہ تھا۔ ‘‘ 9
2۔ ’’اس کی نظر اب بھی مجھ پر جمی ہوئی تھی لیکن یقیناًمیں اسے دکھائی نہیں دے رہا تھا‘‘۔10
3۔ ’’اگلے موڑ پر اس کی ایک ہلکی سی جھلک دکھائی دی اس کے بعد درختوں اور ٹیلوں کے درمیان وہ بار بار نظر آتا اور غائب ہوتا رہا اور اب ہر جھلک کے ساتھ اس کی شائستگی نمایاں ہورہی تھی اور ہر جھلک کے ساتھ اس کی کہنگی دور ہورہی تھی۔ ‘‘11
نیر مسعود کے افسانوں میں میجکل ریلزم کے عناصر پر گفتگو کرتے ہوئے کچھ ادیبوں نے اپنی رائیں اس طرح ظاہر کی ہیں۔
عتیق اللہ اپنے مضمون میں فرماتے ہیں:
’’نیر مسعود کے ذہن کی پرداخت بھی ہماری کلاسیکی داستانوں اور مثنویوں کے ماحول میں ہوئی تھی۔ اسی باعث قدیم سے رشتہ جوڑ کر جدید کی مانوسیت کو انھوں نے نامانوسیت میں بدلنے کی سعی کی ہے۔ جس ماحول اور باغ کو انھوں نے پیش کیا ہے وہ کتاب سے حاصل کردہ تجربے کے طور پر ان کے ذہن کے اندر اور بہت اندر تہہ نشست ہے۔ جس نے اب محض ایک اسرار اور ایک گم شدہ خزانے کی صورت اختیار کرلی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نیر مسعود کے اکثر افسانوں میں ایک گم شدہ تہذیبی اور طلسمی سیاق وسباق،ایک ڈراونے خواب میں بدل جاتا ہے۔‘‘ 12
مہدی جعفر نے نیر مسعود کے علامتی بیانیہ کا جائزہ لیتے ہوئے اس خصوصیت کی طرف اشارہ کیا ہے:
’’ان کے افسانے ’کافکا ‘اور ’پو‘ جیسے فن کاروں سے قریب مگر ’’جو ائس‘‘ وغیرہ کی فن کاری سے فاصلے پر ہیں۔ ان کے چند افسانوں میں میجک ریلزم کی کارفرمائی ہے۔ دیوندر اسرکی حقیقت پر مبنی Magic Realism کے برخلاف نیر مسعود کی میجک ریلزم خواب ناک علامتوں پر استوار ہے۔ جب کہ سریت دونوں کے یہاں موجود ہے۔ نیر مسعود کا فن اتنا محدود نہیں ہے کہ وہ محض لکھنؤ کے زوال کا المیہ رقم کریں۔ در اصل وہ فنا کا افسانہ لکھتے ہیں۔ صاف اور لطیف زبان کے باوجود نیر مسعود کے افسانے قارئین کے لیے پیچیدہ ہوتے ہیں۔‘‘13
ان اقتباسات سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ نیر مسعود کے افسانوں کے کینوس پر میجکل ریلزم کی جابہ جا کار فرمائی ہے۔جس کے نتیجے میں ان کے افسانے مبہم، خواب ناک اور خوف کی فضالیے معلوم ہوتے ہیں۔ 
نیرمسعود کے افسانوی مجموعہ ’عطر کافور‘ کے سارے افسانے علامتی قسم کے ہیں۔ ان میں مرکزی افسانہ ’عطر کافور‘ علامتی قسم کے افسانے کی بہترین مثال ہے۔ اس میں کافور اور عطر کافور مختلف معنوں میں استعمال ہوئے ہیں۔
(i)۔ کافورکا مفہوم انسان کاوجود اور اس کی شخصیت سے متعلق ہے۔ افسانے میں چوکور مرتبان جس میں کافور رکھا ہے انسان کا جسم، مرتبان میں رکھا کافور انسان کا وجود اور اس کی خوشبو روح ہے جو دوسروں کو متاثر کرتی رہتی ہے۔ انسان کا وجود رفتہ رفتہ موت کی طرف بڑھتا رہتا ہے جس طرح کافور خوشبو کے ساتھ دھیرے دھیرے اڑتا رہتا ہے۔ کچھ وقفے کے بعد کافور کی طرح انسان کا وجود عدم میں گم ہوجاتا ہے۔
(ii)۔ عطر کافور دو معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ 
(الف) عطر کافور سے مراد نیر مسعود کے افسانے ہیں جو بظاہر سادہ، جذبات سے خالی اور ویرانی جیسی کیفیت لیے ہوتے ہیں جس طرح عطر کافور میں کوئی رنگ نہیں ہوتا اور اس کی خوشبو سے موت، بیزاری اورعدم کا تصور ذہن میں آتا ہے۔ لیکن افسانوں کا جب بغور مطالعہ کیا جاتا ہے تو ان میں فنا پذیری اور نظام قدرت سے متعلق فلسفے چھپے ہوتے ہیں۔
(ب) عطر کافور جو بے رنگ اور اس میں کوئی خوشبو نہیں ہوتی ہے افسانے کی ہیروئن ماہ رخ سلطان کا تلازمہ ہے کیونکہ ماہ رخ بھی جذبات سے خالی ایک کردار ہے جو رفتہ رفتہ مرض کے سبب موت کے قریب ہوتی جاتی ہے اور اخیر میں اس کا وجود ختم ہوجاتا ہے۔
نیرمسعود کے افسانوں کا موضوعاتی مطالعہ کیا جاتا ہے تو افسانوں میں موضوعاتی وحدت دیکھنے کوملتی ہے۔ اگر موضوعاتی وحدت سے افسانوں کو بچایا گیا ہوتا تو ان کی ادبی اہمیت اور زیادہ ہوتی ساتھ ہی وسعت پیدا ہونے کے زیادہ امکانات ہوتے۔ اس کے علاوہ ان کے افسانوں میں موجود کرداروں کے اعمال وکیفیات میں بھی یکسانیت پائی جاتی ہے۔ ان کے تمام افسانوں پر نگاہ ڈالنے پر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ بیشتر کردار کسی نہ کسی بیماری میں مبتلا ہیں۔ ان کے زیادہ تر افسانے علالت، معالج اور تیماردار کے ذکر سے خالی نہیں ہیں۔ بہت سے کردار سحر کے اثر میں مبتلا لگتے ہیں۔ اس کے علاوہ کرداروں پر اکثر کسی نہ کسی مرحلہ میں غنودگی ضرور طاری ہوتی ہے۔ افسانوی مجموعہ ’سیمیا‘ میں شامل افسانے ’اوجھل‘ اور ’مسکن‘ میں مرکزی کردار بولنا اور سوچنا چھوڑ دیتے ہیں۔’سیمیا‘ کے بیشتر کردار سحر گزیدہ معلوم ہوتے ہیں، ان کے اعمال وافعال سے وہ کسی قدیم داستان کے مافوق الفطری کردار لگتے ہیں۔۔دوسری بات جو شدت کے ساتھ محسوس ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ ان کے یہاں رمز واشارات کثرت سے پائے جاتے ہیں، نتیجتاً افسانوں کے معنوی اور موضوعاتی پہلو بآسانی سامنے نہیں آتے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کے افسانے معنی سے خالی ہیں بلکہ ان میں معنی کا ایک جہاں آباد ہے جہاں تک رسائی کے لیے ژرف بینی درکار ہوتی ہے۔
حوالہ جات:
1۔ رسالہ آج،1998
2۔ سہ ماہی اردو ادب،2002، ص،66
3۔ سہ ماہی اردو ادب،2002،ص67
4۔ سہ ماہی اردو ادب،2002،ص67
5۔ عطر کافور،ص،62 6۔ رسالہ آجکل،2008
7۔ جرگہ، ص،8 8۔ اوجھل،ص،19
9۔ مراسلہ،ص16 10۔ سیمیا،ص،174
11۔ سیمیا،ص،174
12۔ نیر مسعود کی افسانوی واہمہ سازی،ص،283
13۔ افسانہ بیسوی صدی کی روشنی میں،ص،56,57
n
Arisha Tasneem
Ph. D Research Scholar
Maulana Azad National Urdu University
Urdu University Road, Near LNT Towers, Telecom Nagar, Gachibowli
Hyderabad -500032 Telangana 





قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

12/11/18

جاں نثار اختر کی طویل نظمیں۔ مضمون نگار:۔ صدیق محی الدین





جاں نثار اختر کی طویل نظمیں
صدیق محی الدین



اُردو کی شعری روایت میں مثنوی، مرثیہ اور قصیدہ یوں تو طوالت کی حامل شعری اصناف ہیں لیکن موضوعات اور تخلیقی محرکات و مقاصد کے پیش نظر اُن کی مخصوص صنفی شناخت قائم ہے۔ یہ قدیم اصناف جدید نظم کے صنفی تصور سے یقیناًمختلف شعری حیثیت کی حامل ہیں۔اُردو شاعری میں نظم کی روایت یوں تو دکنی عہد میں قلی قطب شاہ، ولی و سراج اور میر و سودا کے عہد میں بھی مثنویات کی صورت میں موجود رہی ہے۔ مثنوی کی ہئیت میں لکھی ہوئی میر کی مختلف شعری کاوشات کو نظم کے تحت شامل کیا جاسکتا ہے لیکن پھر بھی نظم کے جدید صنفی تصور کے حوالے سے انھیں نظم نہیں کہا جا سکتا۔ لگ بھگ اسی عہد میں نظیر اکبر آبادی نے بھی اپنی پیش رو اور معاصر شعری روایت سے انحراف کرتے ہوئے نظم نگاری کی منفرد روایت قائم کی، اپنی تمام تر معاشرتی سماجی، تہذیبی وابستگی کے باوجود نظیر کے ذہن میں بھی نظم کا صنفی تصور واضح نہیں تھا۔ وہ مخمس، مسدس یا غزل کی ہئیت میں کسی موضوع پر اپنی شعری کاوش کی بنیاد رکھتے ہیں۔اگرچہ اُن کا یہ اجتہاد اپنے معاصر شعری روایت سے یقیناًمختلف ہے۔آزاد اور حالی نے انجمن پنجاب کے مشاعروں کے تحت جس نظم جدید کو فروغ دینے کی کوشش کی وہ بھی ایک لحاظ سے تجربہ پسندی کا ہی رحجان تھا، لیکن ان کی کاوشات کو نظم کے صنفی تعین کی جانب ایک اہم قدم ضرور کہہ سکتے ہیں۔نظم کو اپنے تعمیری اور تشکیلی کردار کے ساتھ اقبال نے نئی جہات سے آشنا کیا، اور نظم کو موضوع و ہئیت کی جدت کے ساتھ اپنی مخصوص فکر کا ترجمان بنایا۔اقبال کا یہ کارنامہ اُردو نظم کے تخلیقی ارتقامیں انھیں منفرد اور ممتاز مقام عطا کرتا ہے۔اقبال نے شعوری طور پر اُردو میں طویل نظم کی ہئیت کو اختیار کیا، اگرچہ اس کی ابتداحالی کر چکے تھے، لیکن حالی کی کاوشات ابتدائی نوعیت کی تھیں۔اقبال نے اسے نئی وسعتوں اور بلندیوں سے آشنا کیا۔اقبال کی طویل نظم نگاری کی کامیابی کا اہم راز یہ ہے کہ انھوں نے غزل کی ہئیت سے خوب فائدہ اُٹھایا۔اُن کے مخصوص نظام فکر کے اظہار کے لیے جس وسعت بیانی کی ضرورت تھی انھوں نے غزل کی ہئیت میں ہی اس کی تشکیل کی۔اُن کی بیشتر طویل نظمیں اسی ہئیتی جدت کا مظہر ہیں۔طویل نظم ایک مخصوص تخلیقی منصوبہ بندی کا مطالبہ کرتی ہے۔اس کے ساتھ ہی اس میں بیانیہ کا تخلیقی ارتکاز بھی ناگریز ہے۔اس کے تخلیقی امکانات بھی بے شمار ہیں۔کہانی، بیانیہ ڈرامائی مکالمہ نگاری، خود کلامی،تاریخی واقعات اور اسی نوع کے متعدد تخلیقی اظہارات سے طویل نظم نگار کام لے سکتا ہے اور حسب ضرورت اپنی نظم میں تسلسل بیان اور تخلیقی وحدت بھی قائم کر سکتا ہے۔طویل نظم کے تخلیقی جواز کا تجزیہ کرتے ہوئے قمر رئیس اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں :
’’طویل نظم کے شاعر کے لیے اجتماعی شعور اور تاریخی بصیرت لازمہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس سے زیادہ کٹھن وہ مر حلہ یا عمل ہے جو فکر و شعور کے اس حاصل کو نظم کا تخلیقی فارم دیتا ہے۔ان گنت تجربات اور تصورات کو سیاّل بناکر جذبہ و احساس کی زبان یعنی شاعری کے پیکر میں ڈھالتا ہے۔ظاہر ہے کہ اس کے لیے انسانی زندگی اور معاشرے سے گہری وابستگی اور دلچسپی ہی نہیں تخلیقی فکر کا ایک خاص استقراء اور نظم و ضبط بھی درکار ہوگا۔‘‘ 
مذکورہ اقتباس سے طویل نظم کے صنفی تقاضوں کی بڑی حد تک وضاحت ہو جاتی ہے۔ظاہر ہے کہ طویل نظم کی ہئیت کو شاعر اسی وقت اختیار کرتا ہے جب اس کے موضوع اور بیانیہ کے لیے مختصر ہئیت نا کافی لگتی ہے۔ لہٰذا فطری طور پر شاعری کی تخلیقی رَو وسعت و طوالت اختیار کرتی ہے۔یہاں شاعر پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ نظم میں تسلسل کے ساتھ تخلیقی وحدت ار تکاز کو بھی پیش نظر رکھے۔بہر حال طویل نظم کی شعریات میں ایسے کوئی متعین قواعد و ضوابط کی تدوین نہیں ہو سکی ہے کہ جس سے مطلق طور پر یہ معلوم ہو سکے کہ نظم کی عمومی حدوں سے تجاوز کے بعد طوالت کی تعریف میں آتی ہے۔
جاں نثار اختر کو شعرو ادب کا ذوق ورثے میں ملا تھا۔ نیز علی گڑھ کے علمی و ادبی ماحول نے اس کو مزید حسن آفریں بنایا۔اُن کے ادبی مذاق کی تشکیل و تعمیر میں جہاں پر کلاسیکی شعریات کا اہم حصّہ ہے۔وہیں پر رومانوی رحجان کے اثرات بھی شدت سے پائے جاتے ہیں۔بلکہ اُن کے رومانی مزاج پر کلاسیکیت کی سخت گیری بے اثر ثابت ہوئی۔وہ بہت جلد اشتراکی حقیقت نگاری کے حوالے سے ترقی پسند تحریک کے زیر اثرآگئے۔اس عہد میں ترقی پسندوں نے آزادی کے حصول اور معاشی عدم مساوات کو اپنے منشور میں نمایاں اہمیت دی اورموضوعاتی اور بیانیہ شاعری کو رواج دیا۔جاں نثار اخترنے بھی اپنے عہد کے سماجی و معاشی مسائل کو نظموں کا موضوع بنایا۔ جاں نثار اختر نے بھی کچھ طویل نظمیں لکھی ہیں۔اگرچہ یہ نظمیں بہت زیادہ طویل نہیں ہیں،لیکن موضوعاتی وسعت اور شعری بیانیہ کے سبب ان میں کسی حد تک طوالت آگئی ہے اس قبیل کی نظموں میں مورخ سے، ریاست، دانائے راز، پانچ تصویریں اور امن نامہ شامل ہیں۔یہ نظمیں اُن کی تاریخی،سیاسی، معاشرتی اور تہذیبی و تمدنی شعور کی ترجمان ہیں۔ نظم ’مورخ سے ‘ شاعر کے سماجی تاریخی اور سیاسی شعور کی آئینہ دار ہے۔شاعر اس نظم میں مورخ سے مخاطب ہے کیونکہ مورخ انسانی تاریخ کے تمام ادوار سے واقف ہے۔اور وہ ہر دور کی حکومت اور حکمرانی سے واقف ہے۔ ملک گیری کی ہوس اور مذہبی منافرت کے سبب لاکھوں انسانوں کا خون بہایا گیا۔لیکن شاعر مورخ سے یہ سوال کرتا ہے کہ کیا تاریخ محض اسمائے رجال اور تقویم پارینہ کا نام ہے؟ شاعر کے پیش نظر تاریخ جامد تصور نہیں بلکہ یہ فطرت کے قانون تغیر سے عبارت ہے۔اسی سے انسانی زندگی میں انقلاب آتے ہیں۔جس کے سبب پیداوار کے طریقے بدل جاتے ہیں۔یہی تبدیلیاں مختلف سماجی طبقوں میں کشمکش پیدا کر تی ہے۔اور سر مایہ دار صنعت کار اور محنت کش عوام کے طبقات وجود میں آئے۔ بقول شاعر ؂
مختلف فرقوں کے سادہ ابتدائی دور سے
کس طرح پیدا ہوئی تمیز آقا و غلام 
کیوں ہوا دنیا میں سائنسی تمدن کا ظہور
کس لیے قائم ہوا سرمایہ داری کا نظام 
کس طرح سر مایہ داری اپنی قوت کے لیے
خون سے مزدور کے پیستی رہی گل رنگ جام
شاعر کے پیش نظر انسانی تاریخ یہ بھی ہے کو دنیا میں ہر طرح کے استحصال کی شکار اور محکوم قومیں بیدار ہو جاتی ہیں اور وہ صدیوں کی غلامی کی زنجیریں توڑ ڈالتی ہیں۔شاعر انسانی تاریخ کے اسی دور میں اشتراکیت کے ظہور کا ذکر کرتا ہے۔جس نظام نے دنیا میں ایک انقلاب پیدا کیا ؂
زندگی کی ظلمتوں میں کس طرح مشعل لیے 
سینۂ گیتی سے اُبھرا آفتاب لالہ فام
یہ تجسس، یہ تفکر، یہ بصیرت، یہ نظر 
ذہن میں کرتی ہے وا تاریخ کے عقدے تمام 
اخذ کر سکتی ہے دنیا ان سے وہ محکم اصول 
نشوِ آدم کے لیے رکھتے ہوں جو حکم دوام 
غرض اس طرح تاریخ حیات انسانی میں تغیرات اور تبدیلیوں سے عبارت ہے۔انسانی افکار اور نظریات انسانی سماج کو بدلتے ہیں اور خوش آئینہ اور روشن مستقبل کا پیام بھی سناتے ہیں۔اس نظم کا یہ اختتام ملاحظہ کیجیے ؂
ختم ہوئے نسل آدم کی فنا کے تذکرے 
ثبت ہوتی زیست کے قرطاس پر مہر دوام
یہ بشارت ایک زریں عہدِ استقبال کی
کیا ہے خود تاریخِ انسانی کا اک روشن پیام 
اُن کی دوسری طویل نظم’ریاست ‘ بھی ایک لحاظ سے نظم ’مورخ سے‘ کی توسیع کہنا چاہیے۔اس نظم میں بھی ابتداء میں رومانوی انداز میں حیاتِ انسانی کی فطری افتاد اور خوش گوار کیفیات کا شعری بیانیہ خلق کیا گیا ہے۔لیکن جب انسان نے فطری ارتقا کے بعد شعور کی اگلی منزلوں میں قدم رکھا تو ریاست وجود میں آئی۔دور شہنشاہی نے طبقاتی سماج کو جنم دیا۔اور سر مایہ و مزدور کی آویزش شروع ہوئی۔ آمریت اور ملوکیت نے سارے عالم میں انسانی قتل و غارت گری کو عام کیا ہے۔
آخرکار محنت کش عوام کے اتحاد نے آمریت اور شخصی حکومتوں کے خلاف اپنی بغاوت کو شدید کیا۔یوں یہ نظم اشتراکیت کے ظہور اور سماجی مساوات کے تصور پر منتج ہوتی ہے۔بقول شاعر ؂
متحد ہو چکے ہیں وہ طبقے
جن کی محنت پہ راحتوں کا مدار
جن کے بڑھتے ہوئے قدم لینے
خود بخود دوڑتی ہے راہ گزار
سامنے جن کے دست و بازو کے
ایک جھٹکے کی تھی حکومت زار
جن کے آوازہ بغاوت سے 
اصل جمہوریت ہوئی بیدار
نظم ’دانائے راز‘ جاں نثار اختر نے مکالماتی تکنیک میں لکھی ہے۔یہ نظم اقبال کی ’خضرراہ‘ اور ’ابلیس کی مجلس شوریٰ‘ کی یاد دلاتی ہے۔نظم میں دانائے راز،اجتماعی زندگی کا اصول، انسانی فکر و عمل، مادی نشوونما،پیدا وار کے آئین اور انسانی زندگی کے مختلف ادوار اور عصر حاضر کے بارے میں سوالات کرتا ہے۔دانائے راز ان سوالات کے جوابات اسی تاریخی جدلیات اور اشتراکی فکر کے حوالے سے دیتا ہے اور آخر کار اشتراکیت کو تصور کرتا ہے۔ اس نظم پر اقبال کی ایک اور نظم ’ساقی نامہ‘ کے اثرات بھی واضح ہوتے ہیں۔لیکن اقبال کی نظموں کو جو شعری کمال اور جاودانی حاصل ہوئی، جاں نثار اختر کی نظم اس سے محروم ہے۔بیشتر ترقی پسند شعری سر مایے کی طرح جاں نثار اختر کی یہ نظمیں بھی اپنے عہد کی پیداوار تھیں۔اقبال اپنے عہد میں اشتراکیت سے متاثر ضرور ہوئے تھے لیکن آخر کار انھوں نے اس نظریے کو ردّ کیا تھا۔ انھوں نے کارل مارکس کو یہودی فتنہ گر کہا ہے۔اپنے معاصر ترقی پسند شعرا کی طرح جاں نثار اختر بھی اشتراکی نظریے کو نجات دہندہ اور تمام انسانی مسائل کا حل تصور کرتے ہیں۔ ملاحظہ ہو جاں نثار اختر نے نظم کے آخر میں اس نظریے کی کامیابی و کامرانی ظاہر کرنے میں اپنا زورِ قلم کسی طرح صرف کیا ہے ظاہر ہے کہ یہ شعری اظہار اپنے وقت میں بھی اتنا ہی غیر متعلق اور بے معنی تھا جیسا تھا کہ آج ہے ؂
زندگی نے آج باجاہ و چشم 
ایک دورِ نو میں رکھا ہے قدم
کھل گیا پیشانیِ عالم کا رنگ
جیت لی محنت نے سرمایہ سے جنگ
اب نہیں وہ خون سے مے کی کشید
کوڑیوں میں زور بازوں کی خرید
رشتۂ افراد ہے یا آب و تاب
پید اور قوتوں کے ہمرکاب
رنگِ پیداوار اب کچھ اور ہے
وقت کی رفتار اب کچھ اور ہے
کوہ و معدن، دشت و دریا، کوہسار
آلہ و اوزارو کشت و ردوبار
اجتماعی ملکیت ہے یہ زمیں
آج یہ تیری نہیں میری نہیں
آدمی کا آدمی سے اتحاد 
آدمی کا آدمی پر اعتماد 
ساز میں یہ نغمۂ جمہور ہے
زندگی آزاد ہے مسرور ہے
نظم ’پانچ تصویریں‘ مثنوی کی ہیئت میں لکھی گئی ہے۔اگر چہ اس نظم پر اقبال کے ’ساقی نامہ‘ کے اثرات واضح ہیں لیکن فکری لحاظ سے یہ نظم بھی ترقی پسند تحریک کے نظریات کی ترجمان ہے۔حیات انسانی کے مختلف ادوار کا سفر تاریخی جدلیات کے تحت پیش کرتے ہوئے اس کے اختتام اور انتہا سرخ انقلاب یعنی اشتراکیت پر ہوتا ہے۔ ظاہر ہے یہ ایک محدود زاویہ نگاہ ہے اور ایک مخصوص نظریہ کا پابند اقبال کے ’ساقی نامہ‘ کو جو دوامی اور جاوداں حیثیت حاصل ہے یہ نظم اس کی گرد کو بھی نہیں پہنچتی۔یہ ضرورہے کہ جاں نثار اختر میں تخلیقی صلاحتیں غیر معمولی ہیں اور شعری بیانیہ پر بھی انھیں قدرت حاصل ہے لیکن ایک مخصوص نظریے سے وابستگی نے آزادی فکر کو ختم کیا ہے اُن کی نظر صرف مزدور محنت کش عوام پیداوار کے ذرائع استحصال، آمریت بادشاہت، طریقہ اور پھر ان سب کے نجات دہندہ اشتراکی انقلاب تک ہی دیکھتی ہے۔ مزدور اور محنت کش طبقے کا بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں :
زمینوں کے ہمراہ بکتے غلام 
وہ اُٹھتے ہوئے آدمیت کے دام
وہ ذوق ہوسِ ملکیت آفریں
وہ ٹکڑوں میں تقسیم ہوتی زمیں
گراں بار طبقے ابھرتے ہوئے
زمیں پر وہ صدمے گزرتے ہوئے 
زمانے کے دامن میں پلتے تضاد
وہ سوتے میں کروٹ بد لتے فساد 
فضا زہر آمیز ہوتی ہوئی 
زمیں فتنہ انگیز ہوتی ہوئی
یہ سب گویا فضول اور مصرف ہے۔یہ سب گویا مزدور کسان اور محنت کش طبقے کے استحصال کے ذریعے تعمیر کیا گیا ہے۔اسی سلسلے کو آگے بڑھتے ہوئے مزید کہتے ہیں :
تفخر سے دیتے وہ مونچھوں پہ بل 
وہ کھاتے کسانوں کی محنت کا پھل
وہ بھاری لگانوں پہ اٹھتی زمیں
زمیندار اُلٹے ہوئے آستین
بقایا چکاتے وہ مفلس کسان
وہ بکتے ہوئے ہل، مویشی مکان
وہ فاقوں سے مرتے ہوئے کا شتکار
کلیجوں میں جدتی ہوئی ہل کی دھار
وہ جاگے ہوئے ملکیت کے فساد
جماہی سی لیتے وہ ذاتی مفاد
استحصالی نظام کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں :
ذرائع پہ قابض وہ سرمایہ دار 
غریبوں کی محنت کا کرتے شکار
مظالم وہ حد سے گزرتے ہوئے
تصادم کے امکاں ابھرتے ہوئے
وہ ہر لمحہ تیور بدلتے فساد
وہ سرمایہ داری کے اپنے تضاد 
وہ زائد زخیرے جلاتی ہوئی
وہ خود آگ گھر میں لگاتی ہوئی
آخر کارمحنت کش مزدور و عوام اس استحصالی نظام کے خلاف بغاوت کرتے ہیں اور اشتراکی سرخ انقلاب کے ذریعہ اس فر سودہ نظام کو بدل دیتے ہیں اور گویا اس نظام کا قیام تمام انسانیت کے لیے ذریعہ نجات ہے۔ظاہر ہے کہ یہ فکر کسی لحاظ سے بھی درست نہیں ہے۔جاں نثار آگے مزید کہتے ہیں ؂
وہ نشہ بغاوت کا چڑھتا ہوا
وہ اک سرخ طوفان بڑھتا ہوا
زمیں گل بدن، آسماں لالہ تاب
ابھرتا ہوا سرخ رو آفتاب
نظم کے آخر میں کہتے ہیں ؂
عزائم کی زر پر وہ مریخ و ماہ
زمیں پر قدم، آسماں پر نگاہ
وہ پیہم نقابیں اُلٹتی حیات
وہ تسخیر ہوتی ہوئی کائنات
جھلکتا ہوا باہزاراں غرور
وہ فطرت کے ماتھے پہ انساں کا نور
ڈاکٹر قمر رئیں اس نظم کا جائزہ لیتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’اس نظم میں ابتدا سے آخر تک روانی ہی نہیں حسن تناسب اور حسن تعمیر کا احساس بھی ہوتا ہے۔اس بہاؤ اور زیروبم میں نغمہ کی سی کیفیت ہے۔اس کا موضوع بھی انسانی سماج کا ارتقا ہے۔ابتدائی کمیونزم سے عصر حاضر کے اشتراکی سماج تک انسانی زندگی جن پانچ اہم ارتقائی مراحل سے گزری ہے۔نظم میں خیال انگیز اشاروں کے ساتھ اُن کی الگ الگ تصویر یں پیش کی گئی ہیں۔‘‘ 
مذکورہ اقتباس سے بھی یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ اشتراکی نظریہ ہی گویا ساری انسانیت کے لیے نجات دہندہ ہے۔بحیثیت مجموعی جاں نثار اختر کی یہ نظم اسی نظریہ کی تر جمان ہے اور انسانی زندگی کی تعبیر و تشریح اسی زاویہ سے کرتی ہے۔جیسا کہ ابتداء میں عرض کیا جا چکا ہے نظم میں حیات انسانی کا تاریخی، سماجی،معاشی اور تہذیبی و تمدنی ارتقا پانچ مختلف ادوار کے حوالے سے دکھایا گیا ہے اور ترقی پسند نظریے کے حوالے سے زندگی کی تصویر کشی کی گئی ہے۔اسی لیے یہ نظم ایک مخصوص نظریے کی تر جمان بن گئی ہے اور یہ نظم اسی تاریخی حیثیت کی حامل بن گئی ہے۔شاعری میں جو لازمانی کیفیت ہونی چاہیے اس سے یہ نظم محروم ہے۔
نظم ’امن نامہ‘ مثنوی کی ہئیت میں لکھی گئی ایک دلچسپ شعری تخلیق ہے۔ اس نظم میں اقبال کے ’ساقی نامہ‘ کی طرح ساقی سے خطاب ہے۔اور عصری، سماجی،سیاسی اور معاشرتی مسائل پر ساقی سے گفتگو ہے۔دراصل یہ نظم عالمی طور پر انسانی اخوت اور اتحاد و اتفاق کی بے مثل شعری تخلیق ہے۔نظم کے عنوان ’امن نامہ‘ سے ہی ظاہر ہے کہ عالمی طور پر امن و امان اور انسانی اخوت کا خواہشمند ہے۔ کیونکہ بیسویں صدی کے نصف اول میں دنیا نے دو عالمگیر جنگوں کی ہولناکیوں کی تباہ کاریوں دیکھا ہیں۔ بقول شاعر ؂
جہاں میں غلامی کا عنواں ہے جنگ
لیے برق و فولاد و آہن کا زور
دہکتا یہ شعلہ دہکتی یہ آگ
لگاتی ہے اس گلستاں میں یہ آگ
سراسر ہلاکت کا ساماں ہے جنگ
مچاتی ہوئی قتل و غارت کا شور
جلا جس میں دنیا کا برسوں سہاگ
لگائی ہے اس نے بیاباں میں آگ
ظاہر ہے کہ جنگ کا یہ بازار اور کاروبار دنیا کی بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے تحفظات کے لیے جاری رکھتی ہیں۔برطانوی سامراج نے دنیا کے بڑے حصے پر اپنی نو آبادیات قائم کر کے حکومت کی ہے۔دوسری عالمی جنگ میں امریکہ نے جاپان پر ایٹمی بم گرا کر انسانیت کا ہلاکت خیز نظارہ دیکھا۔لیکن شاعر ان سب انسانیت سوز و اقعات کو بھلا کر اب عالمی امن کا خواہش مند ہے ؂
بھُلا دیں کہو ہیرو شیما کی بات
ہر اک شور و شر آج بے سود ہے
رہے امن ہر آدمی کے لیے
نہ دھونا پڑے اپنی جانوں سے ہات
کہ اب امن دنیا کا مقصود ہے
رہے امن محنت کشی کے لیے 
نظم کے اگلے حصے میں شاعر نے ہندوستان اور اس کی عظیم روایات سے اپنی غیر معمولی محبت کا اظہار کیا ہے۔عہد قدیم سے لے کر مختلف تاریخی ادوار میں ہندستان کی سماجی، تہذیبی، معاشی، ثقافتی اورعلمی و ادبی روایات کی عظمت کا اظہار کیا ہے۔ اُردو شاعری میں حُبّ وطن کے موضوع پر جاں نثار اختر کی نظم شاہ کار کا درجہ رکھتی ہے۔ بیانیہ شاعری کا یہ دلچسپ اظہار ہے۔ اس سلسلے کے کچھ اشعار ملاحظہ کیجیے:
پلا ساقیا خانۂ بادہ ساز
محبت ہے خاک وطن سے ہمیں
ہمیں اپنی صبحوں سے شاموں سے پیار
ہمیں پیار اپنے ہر اک گاؤں سے
ہمیں پیار اپنی عمارات سے 
کہ ہندوستاں پر رہے ہم کو ناز 
محبت ہے اپنے وطن سے ہمیں
ہمیں اپنے شہروں کے ناموں سے پیار
گھنے برگدوں کی گھنی چھاؤں سے
ہمیں پیار اپنی روایات سے
اُٹھا جام، ہاں دور ساقی رہے 
جہاں میں صدا امن باقی رہے
اسی طرح مختلف مظاہرات کا بیان کرتے ہوئے آخر میں دنیا میں امن کے قیام کا اس طرح اظہا ر کیا ہے ؂
خوشا میکدے کی بہاریں رہیں
صراحی سے ساغر رہے متصل
سلامت ترا جام و مینا رہے
مچلتی یہ مئے کی پھواریں رہیں 
نہ ٹوٹے کبھی تیرے شیشوں کا دل
بڑے لطف کے ساتھ پینا رہے
غرض جاں نثار کی یہ نظم امن عالم اور قومی یکجہتی کے لحاظ سے ایک شاہ کار تخلیق کہی جا سکتی ہے۔اُن کو بیانیہ شاعری پر بے مثل قدرت حاصل ہے۔طویل نظم کے امکانات کو شاعر نے برتنے کی کوشش کی ہے۔۔ایک مخصوص نظریے سے وابستگی کے سبب اُن کے پاس اظہار ی پابندیاں یقیناًتھیں، اگر چہ اُن کے شعری مزاج میں رو مانویت کے عنصر کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔


Dr. Siddiq Mohiuddin
Dept of Urdu
Dr. Babasaheb Ambedkar Marathwada
University, Aurangabad -431004 (MS)
Cell. No: 90961557937




قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...