4/12/18

مرزا عبدالقیوم سے خصوصی ملاقات۔ عبد الحی






مرزا عبدالقیوم سے خصوصی ملاقات

عبد الحی

عبدالحی: پیدائش و خاندانی پس منظر پر روشنی ڈالیں:
مرزا عبدالقیوم ندوی: میرا پورا نام مرزا عبدالقیوم ندوی، والد کانام: مرزا گلزار بیگ،ہم تین بھائی اور چار بہنیں ہیں۔ میری پیدائش 15 اگست 1975 کو ملک کے تاریخی شہر اورنگ آباد (جسے مفکر اسلام مولاناسید ا بوالحسن علی ندوی نے’غرناطۂ ہند‘کہا ہے ) کے ایک محلہ نارے گاؤں میں ایک غریب کسان و مزدور کے گھرمیں ہوئی۔ والد صاحب ہمارے آبائی وطن کونبھے پھل (جو اورنگ آباد شہر سے 20کلو میٹر کی دوری پر ایک دیہات ہے )،1975میں قحط سالی کی وجہ سے شہرمیں روزگار کی تلاش میں آئے تھے۔میرے والدصاحب کو ایک فیکٹری میں ملازمت مل گئی۔
ع ح: ابتدائی تعلیم و تربیت پر گفتگو کریں۔
مرزا عبدالقیوم ندوی: میری ابتدائی تعلیم چوتھی جماعت تک ضلع پریشد مراٹھی اسکول نارے گاؤں میں ہوئی۔ جہاں اردوزبان میں ذریعہ تعلیم کا کوئی نظم نہیں تھا،ہاں مدینہ مسجد نارے گاؤں میں مکتب ضرور چلتا تھا جہاں میں پابندی سے جایاکرتا تھا۔ والد صاحب مرحوم، تبلیغی جماعت میں چالیس دن کے لیے گئے اور وہاں سے آنے کے بعد انھوں نے فیصلہ کیاکہ مجھے دینی تعلیم دلائی جائے،چنانچہ مجھے اسکول سے نکال کرمدرسہ عربیہ انوارالعلوم نگینہ مسجد،نواب پورہ اورنگ آبادمیں پہلی جماعت میں شریک کیاگیا۔ چوتھی جماعت سے پہلی جماعت میں بیٹھنا بڑا عجیب لگ رہا تھا،کیاکیاجائے مجبوری تھی، اردو نہیں آتی تھی۔ہاں ابتدائی تعلیم مراٹھی میں ہونے سے ایک فائدہ یہ ضرورہوا کہ ریاستی زبان مراٹھی ہونے کے سبب سے سرکاری دفاتر میں کام کرنے میں بہت آسانی ہوئی،گاؤں کی ہندومسلم مشترک آبادی، مذہبی تقریبات میں شرکت سے ہندوستانی تہذیب و تمدن،یہاں کے تہواروں اوررسم ورواج کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ 
ابتدائی دینی تعلیم مدرسہ عربیہ انوارالعلوم نگینہ مسجد میں ہوئی اور اعلی تعلیم کے لیے ملک کی عظیم دینی درسگاہ، اسلامی یونیورسٹی دارالعلوم ندوۃ العلماء میں 1993 میں گیا۔ وہاں سے 1998میں عا لمیت و فضیلت تک کی تعلیم مکمل کی۔ فراغت کے بعد کچھ مہینے پونا میں مشہور ماہر تعلیم،انیس چشتی کی تربیت میں رہا، جہاں ’’تحریک پیام انسانیت‘‘ فورم کے تحت غیر مسلموں کے درمیان کام کرنے کا موقع ملا۔
ع ح: کتابوں کی فروخت کے کاروبار میں کس طرح آئے؟ 
مرزا عبدالقیوم ندوی: 31 ؍ دسمبر 1999 کو مولانا سید ابوالحسن علی ندوی ؒ کا انتقال ہوا۔اورنگ آباد میں ایک تعزیتی جلسہ منعقد کیا گیاتھا،جس میں پونہ سے انیس چشتی اور ناگپور سے مفسر قرآن مولانا عبدالکریم پاریکھ تشریف لائے تھے۔محترم انیس چشتی صاحب نے میرا تعارف مولانا پاریکھ سے کرواتے ہوئے کہا کہ یہ لڑکاابھی ابھی ندوۃ العلما سے فارغ ہوا ہے اور کچھ ماہ میری تربیت میں بھی رہاہے۔ آپ کے پاس اگر کچھ کام ہو تو اسے دیجیے، اس پر مولانا پاریکھ نے کہا کہ ٹھیک ہے،میرے پاس ایک کام ہے،جو تمھارے لائق ہے وہ یہ کہ میری جو درس قرآن کی کیسیٹس ہیں انھیں تحریری شکل میں شائع کرنا ہے اور تم ایک ندوی عالم ہو اور یہ کام بخوبی انجام دے سکتے ہو، ایسا کرو میں جب ناگپور پہنچ جاؤں مجھ سے رابطہ کرنا اور ساتھ ہی انھوں نے اپنا کارڈ دیا۔
میں نے کچھ دنوں کے بعد مولانا سے رابطہ کیا۔ انھوں نے مجھے درس قرآن کی اپنی کچھ کیسیٹیں بھیجیں اور ایک خط لکھا کہ آپ اس کو ٹیپ ریکارڈ کی مدد سے کتابی شکل دواور ذیلی سرخیوں کے ساتھ کتابچہ کی شکل میں مجھے بھیجو۔ اگر تمھارا کام پسند آگیاتو باقی کام بھی تمھیں دے دوں گا۔ میں نے مولانا کا وہ کام کردیا جو انھیں بہت پسند آیا انھوں نے مجھے معاوضہ یا تحفہ کے طورپر اپنی مطبوعات جس کی قیمت آٹھ ہزار روپے تھی بھیجوادیں۔میں نے سائیکل پر دو تھیلوں میں کتابیں رکھیں اور نکل پڑا۔ 
یقین جانیے یہ میری زندگی کا پہلا تجربہ تھا۔میں ایک ایسے وقت میں مولانا کی کتابیں فروخت کررہا تھا جس وقت کہ ایک پوسٹ کارڈ پر اگر کوئی مولانا سے ان کی مطبوعات کی فرمائش کرتاتو وہ بھیج دیتے تھے۔
ابتدا میں مسجدوں کے باہرنماز کے بعد کپڑا بچھاکر کبھی مسجد کے صحن میں اور کبھی سائیکل پر ہی میں دکان لگاتا تھا۔میرا معمول تھا کہ میں ہر جمعہ کو شہر کی جامع مسجد میں کسی پیڑ کے نیچے دکان لگا کر بیٹھ جاتااور آواز لگا کر کتابیں فروخت کرتا تھا۔ یہ میرا بڑاکامیاب تجربہ رہا، جامع مسجد میں ہزاروں لوگ نماز پڑھنے آتے ہیں،شروع شروع میں کچھ ہفتوں تک کسی نے میری طرف توجہ نہیں کی، آہستہ آہستہ لوگ میرے ارد گرد جمع ہونے لگے اور اپنے ذوق کی کتابیں خریدنے لگے۔ اس میں ایک کام میں نے یہ کیا کہ لوگوں کو ادھا رکتابیں دینا شرو ع کیں، کیونکہ اکثر لوگ پیسے لانا بھول جاتے تھے،میں ان سے کہتا کوئی بات نہیں آئندہ ہفتہ دے دینا۔ایک اور کام میں نے یہ بھی کیا کہ میں لوگوں سے کہتاصاحب میں آپ کے مکان، دکان یا آفس پر آجاتاہوں اور آپ وہاں پیسے دے دیجیے۔ جب میں وہاں جاتاتو کتابوں کی تھیلی بھی ساتھ رکھ لیتا اور مزیدانہیں کتابیں دکھاتا تو اکثر لوگ کتابیں خرید لیتے۔ کچھ دنوں کے بعد میں نے گھروں پر کتابیں لے جانا شروع کی جہاں گھرکی خواتین بھی کتابیں خریدنے لگیں۔مجھے چند ہی مہینوں میں لوگوں کا ذوق اور پسند معلوم ہوگئی او ر جب بھی میرے پاس نئی کتابیں آتیں میں انہیں فون کردیاکرتا کہ صاحب آپ کے موضوع و دلچسپی کی کتابیں آئی ہیں دیکھ لیجیے یا میں آتا ہوں۔
ایک اور تجربہ یہ کیا کہ اورنگ آباد شہر اردو کا بہت بڑا مرکز ہے۔ یہاں بہت سارے اردو ہائی اسکول و کالج ہیں۔ میں نے وہاں جاناشروع کیا، ابتدا میں بڑی شرمندگی اور اجنبیت سی محسوس ہوتی تھی۔آہستہ آہستہ یہ مسئلہ بھی حل ہوگیااورمیں اساتذہ کو کتابیں دکھانے لگا،یہاں بھی میں نے یہ کیاکہ ان سے کتابوں کے پیسے نہیں مانگے بلکہ میں کہتاجب آپ کی تنخواہ آجائے اس وقت دے دیں۔ میں مہینہ کی ابتدائی تاریخوں میں اسکولوں میں جاتا سابقہ ادھاری لیتا اور پھر انھیں نئی کتابیں دے دیتا۔ ہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ میں ان سے درخواست کرتا کہ اپنے دوست احباب،رشتہ داروں کو بھی بتائیے یامجھے ان کا پتہ وفون نمبردیجیے میں انھیں کتابیں دکھاؤں گا، اس سے وہ خوشی خوشی بتادیا کرتے اور اپنے طورپربھی میرا تعارف اپنے دوست احباب سے کرواتے رہتے۔ 
دو سال تک میں سائیکل پر گھوم پھرکرکتابیں فروخت کرتا رہا، میں روزانہ تقریباً 25تا30کلو میٹر سائیکل پر گھوم کر کتابیں فروخت کرتا تھا اور اس کے بعد میں نے ایک گاڑی خریدی اور اس پر کتابیں بیچنا شروع کیا۔ جس سے میرا کاروبار خوب بڑھنے لگا۔ اب مجھے شہر کا ذوق اور مزاج معلوم ہوگیاتھا اس لیے جب نئی کتابیں آتیں میں لے کر ان کے پاس چلاجاتا۔ لوگ بہت خوش ہوتے اور مجھے دعائیں دیتے اور کہتے کہ،ہاں بھئی مجھے اس کتاب کی بہت دنوں سے تلاش تھی۔بزرگوں او رخواتین نے مجھے بہت دعائیں دیں کہ انہیں ان کی پسند کی کتابیں گھربیٹھے مل جاتی تھیں۔
میں نے یہ محسوس کیاکہ لوگوں کے پاس دکانوں پر جاکر کتابیں خریدنے کے لیے فرصت نہیں ہے اس لیے میں کتابیں لے کران کے پاس پہنچ جاتا تھا،یہ اس وقت کی بات ہے جب کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں نے ہوم سروس دینا شروع نہیں کی تھی۔میں شہر میں ہونے والے ہر چھوٹے بڑے ادبی، سماجی، ملی،سیاسی جلسوں، میٹنگوں، نشستوں، کانفرنسوں،سمیناروں میں اپنی کتابوں کی دکان لگایاکرتا تھا۔ لوگوں کو اتنا یقین ہوگیا تھاکہ آج جہاں پروگرام ہورہا ہے وہاں مولانا مرزاعبدالقیوم ندوی ضرور ہوں گے،اس لیے وہ فون پر مجھ سے دریافت کرتے کہ پروگرام شروع ہوا یا نہیں۔ اخبار والے،پولیس والے مجھ سے پوچھتے کہ مہمان کون کون ہے،کس کی تقریر ہوئی بلکہ یہاں تک کہ کس نے کیا کیابولااور خاص بات کیاتھی۔ شہر میں میری پہچان ’’کتاب والے مولانا‘‘کے نام سے ہوگئی۔ 
ابتداء میں Mobile Book Service کے نام سے دکان چلاتا تھا۔ کوئی مستقل دکا ن نہیں تھی بس Call me میرا طریقہ کار تھا۔ لوگ مجھے موبائل پر فون کرتے تھے۔یہ اس وقت کی بات ہے جب موبائل پر بات کرنا ہے توایک منٹ کے لیے آٹھ (8)روپیے لگتے تھے۔ 2006میں میں نے Mirza World Book House کے نا م سے دکان شروع کی۔ جس دن دکان کا افتتاح تھا یقین کریں تین سو(300)سے زیادہ لوگ موجود تھے۔ یہ دراصل میری پانچ سال کی محنت اور لوگوں سے رابطوں کی بنا پرتھا۔ کئی دنوں تک لوگ دکان کھولنے پر مجھے مبارک باد دیتے رہے۔ 
ع ح: آپ کے خیال میں کن موضوعات پر کتابیں زیادہ فروخت ہوتی ہیں ؟
مرزا عبدالقیوم ندوی:سماجی، معاشرتی، تاریخی موضوعات پرزیادہ کتابیں فروخت ہوتی ہیں۔ میں اپنے تجربات کی روشنی میں کہہ سکتاہوں کہ کسی بھی دکان دار کو یا کتب فروش کو خود پہلے کتابوں کا شوق ہوناچاہیے،وہ خود کتابیں پڑھتا ہواس کا مطالعہ وسیع ہو اسے ہر موضوع پر تقریباً سو پچاس کتابوں کے نام معلوم ہوں یا اس نے وہ کتابیں پڑھی ہوںیا ان کے بارے میں جانتاہو۔کتابیں لوگ خریدتے نہیں بلکہ آپ کوایک سیلز مین کی طرح کتابوں کی مارکیٹنگ کرنی ہوگی،اس کی خوبیاں کچھ اس اندازسے بیان کرنی ہوں گی کہ وہ کتاب خریدنے پر مجبور ہوجائے یا وہ آپ کی دکان پر اپنی مطلوبہ کتابوں کی لسٹ لے کرآئے اور وہ کتابیں آپ کے پاس نہ ہوں تو آپ اسے واپس نہ جانے دیں بلکہ اس کی مطلوبہ فہرست سے ملتی جلتی کتابیں اسے دکھائیں۔ 
ع ح: کیا یہ بات درست ہے کہ اردو میں سب سے زیادہ کاروبار مذہبی کتابوں سے ہی ہوتا ہے۔؟
مرزا عبدالقیوم ندوی: ہاں اس میں کوئی شک نہیں کہ آج بھی ملک میں زیادہ ترمذہبی کتابیں ہی فروخت ہوتی ہیں۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ اول تو یہ کہ مسلمانوں کی آبادی کسی نہ کسی مکتب فکر سے منسلک ہے او رسال بھر ملک میں جلسے،جلوس، اجتماعات منعقد ہوتے رہتے ہیں جہاں مقرر ین و واعظین اپنے وعظ وبیان میں اپنے اپنے مسلک و مکتب فکرکی کتابوں کا تذکرہ کرتے ہیں، سامعین کو کتابوں کی اہمیت یا مصنف کے بارے میں بتاتے ہیں جس سے کہ ان کے اندر کتاب پڑھنے یا خریدنے کا شوق وجذبہ پیدا ہوتاہے۔ اس لیے مذہبی کتابیں زیادہ فروخت ہوتی ہیں،مگر افسوس کے ساتھ کہناپڑتا ہے کہ ان میں اکثریت چند کتابوں پر ہی قناعت کرتے ہیں یا اپنے اپنے مسلک و مکتب فکر کے مصنّفین کی کتابیں خریدتے وپڑھتے ہیں۔ 
دوسری بات میں یہ کہنا چاہوں گا کہ ادبی کتابیں زیادہ کیوں نہیں فروخت ہوتی ہیں تو اس کی میری نظر میں چندوجوہات ہیں۔ادبی کتابوں کو ہم نے بہت محدود کردیا ہے،ادبی کتابوں کے خریدنے اور پڑھنے کا رجحان صرف ضرورت کے تحت کیاجارہاہے اور وہ ضرورت یہ ہے کہ صرف امتحانات کی حد تک ہی ان کتابوں سے مدد لی جاتی ہے۔ حال یہ ہے کہ جو کتابیں کالج و یونیورسٹیوں کے نصاب میں شامل ہیں طلبا کتابیں نہ پڑھتے ہوئے نوٹس، گائیڈ جیسی کتابوں سے استفادہ کرتے ہیں۔ادب نما، شعورفن، تنقیدی زو ایے جیسی کتابوں کو پڑھ کر بی اے، ایم اے اور نیٹ،سیٹ کے امتحانات دیے جارہے ہیں۔ اصل کتابوں سے رجوع کا رجحان بہت کم ہوگیاہے۔ 
ع ح: موجودہ دور میں ناشرین کتب اورتاجرحضرات کو کیامشکلات پیش آرہی ہیں؟
مرزا عبدالقیوم ندوی: موجودہ دور میں ناشرین کتب او رتاجر حضرات کو جو پریشانیاں لاحق ہیں، یقیناًوہ تشویش کا باعث ہیں۔کاغذکی گرانی نے ناشرین کی کمرتوڑ دی ہے۔ قیمتوں میں اضافہ کے بغیر کوئی چارہ کار نہیں ہے۔
ناشرین حضرات، تاجر وں اور عام لوگوں میں فرق نہیں کررہے ہیں،جس رعایت پروہ کتابیں تاجروں کو دیتے ہیں اسی رعایت پر عام لوگوں کو بھی دے رہے ہیں۔ دونوں میں کوئی تال میل نہیں ہے۔دونو ں کے اپنے اپنے مسائل ہیں۔ایک بات یہ ہے کہ دونوں موجودہ کاروباری نظام سے دور ہیں۔انگریزی اور ہندی کے بڑے ناشرین اور تاجرین میں ایک طرح کا تال میل ہے۔بڑے بڑے ناشرین عام گاہک کو کتاب نہیں دیتے ہیں۔ انھوں نے ملک بھرمیں ریاستی سطح پر یا بڑے بڑے شہروں میں اپنی کتابوں کی ایجنسیاں دے رکھی ہیں۔ اگرکوئی عام آدمی یا چھوٹے تاجر حضرات ان سے براہ راست کتابیں منگواتے ہیں تو ان سے کہتے ہیں کہ فلاں تاجر کوہم نے اپنی کتابوں کی ایجنسی دے رکھی ہے،آپ ان سے خریدیں۔ جبکہ اردو ناشرین و تاجرین میں اس طرح کا کوئی تال میل نظرنہیں آتاہے۔ اس میں نقصان دونوں کا بھی ہے۔
اس سلسلے میںیہ کہنا چاہوں گا کہ اردو کے ناشرین و تاجرین یہ طے کرلیں کہ ہم انگریزی او رہندی ناشرین کی طرح کام کریں گے،جس طرح وہ اپنی ایجنسیاں دیتے ہیں ہم بھی دیں گے۔اس سے یہ فائدہ ہوگا کہ ناشرین ایک ریاست میں یا ایک ضلع میں کسی ایک دوکاندار ہی کو اپنی ایجنسی دیتے ہیں توان سے کاروبار کرنے میںآسانی ہوگی۔ تاجر حضرا ت کا یہ فائدہ ہوگا کہ انہیں سب کی کتابیں اسٹاک رکھنے کی ضرورت نہیں رہے گی،وہ تمام ناشرین کی کتابیں رکھنے کی بجائے آپسی تال میل کے تحت جیسے آرڈر آئیں گے وہ شہر کی متعلقہ ایجنسی سے کتاب منگواکر گاہک کو دے سکیں گے۔ 
ع ح: کتابوں کے تئیں بیداری پیدا کرنے سے متعلق آپ مختلف پروگراموں کاانعقاد کرتے رہے ہیں ؟ ہمیں یہ بتائیں کہ ان پروگراموں سے کتنے فائدے ہوئے؟
مرزا عبدالقیوم ندوی: کتابوں کے تئیں دلچسپی پیدا کرنے کے لیے جو طریقہ کارمیں نے اپنایا ہے وہ بالکل انوکھا اوراپنی نوعیت کاپہلا علمی تجربہ ہے۔ میں نے شہر کے مختلف اسکولوں میں طلباء کے درمیان مفت ’گلک‘ (وہ ڈبہ جس میں بچے پیسے جمع کرتے ہیں) Piggy Bank تقسیم کیے،اس کا طریقہ کار یہ رہتاہے کہ میں اسکول چلاجاتا ہوں تمام طلباء کوجمع کردیاجاتاہے۔ ان کے سامنے کتابوں کی اہمیت، مطالعہ کے فائدے اور زندگی میں بچت کیسے کی جاتی ہے اس پرشہر کی کسی علمی و مشہور شخصیت کوبات کرنے کے لیے مدعو کیا جاتا ہے۔ تقریر کے بعدوہ ’گلک‘بچوں میں تقسیم کردی جاتی ہیں اور ان سے کہاجاتاہے کہ روزانہ جو پیسے آپ کو جیب خرچ کے لیے والدین دیتے ہیں ان میں سے کچھ نہ کچھ روزانہ ’گلک‘میں ایک ماہ تک جمع کرنا ہے۔ ایک مہینے کے بعد آپ کے اسکول میں کتابوں کی نمائش لگے گی اس وقت اس میں جمع رقم کتابیں خریدنے کے کام آئے گی۔ 
یقین جانیے میرا یہ تجربہ اتنا کامیاب رہا کہ بچوں نے ’گلک‘ میں سو روپیے،دوسو روپیے جمع کرلیے تھے جس کی انھوں نے کتابیں خریدیں۔ اس طرح میں نے اورنگ آبادکے مختلف اسکولوں میں 37000’گلکیں‘ تقسیم کی۔
ع ح: نئی نسل میں مطالعے کا شوق کس طرح پیدا کیاجاسکتاہے؟ 
مرزا عبدالقیوم ندوی:دیکھیے موجودہ دور مارکیٹنگ کا دور ہے،ہر چیز تیزی سے بدل رہی ہے۔’’جو نظر آتا ہے وہی بکتا ہے‘‘لوگوں کے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ وہ کتابوں کی دوکانوں پر جاکر کتابیں دیکھیں اور پھر خریدیں۔آج اسکولوں وکالجوں میں مطالعے کا ذوق تقریباً ختم ہوگیاہے،طلباء پر درسی کتابوں کااتنا بوجھ ہے کہ ان کے پاس غیر درسی کتابیں پڑھنے کے لیے وقت ہی نہیں ہے۔اس لیے ضروری ہوگیا ہے کہ اسکول انتظامیہ اور اساتذہ کے تعاون سے اسکولوں میں ایسے پروگرام منعقدکیے جائیں جس سے طلبا میں غیر درسی کتابیں پڑھنے کا رجحان پیدا ہو۔ دوسرے یہ کہ موجود ہ نسل تیزی کے ساتھ سوشل میڈیاکی زدمیں آرہی ہیں،پہلے گھروں میں کتابیں پڑھنے پڑھانے کاماحول تھا،گھرکے بڑے بزرگ،والدین کتابیں خود پڑھتے تھے جن کو دیکھ کر گھر کے چھوٹے بچے بھی کتابیں پڑھنے کی کوشش کرتے تھے، آج تقریباًگھروں سے وہ ماحول ختم ہوگیاہے۔ نہ گھروں میں ماحول ہے اور نہ اسکولوں میں اساتذہ کتابیں پڑھتے نظرآتے ہیں، اکثریت موبائل کے عشق اور سوشل میڈیا کی زلف گرہ گیر کی اسیر نظرآتی ہے۔ آخر بچوں میں پڑھنے کا شوق کیسے پیدا ہوگا۔ گھراور اسکول میں ہمیں ویسا ماحول فراہم کرناہوگا تبھی ہم نئی نسل کوکتابوں سے جوڑسکتے ہیں۔ خود پسندی پر محمول نہ فرمائیں تو مجھے یہ کہنے کی اجازت دیجئے کہ میں نے اپنی دوکان کے توسط سے ادبی اور نصابی کتابوں کی بڑی تعدادقارئین سے متعارف کروائی ہے۔ مخلصین تو یہ کہہ کر میرا حوصلہ بڑھاتے ہیں کہ ادبی کتابیں اتنی بڑی تعداد میں کسی اسٹال پر کبھی دیکھنے میں نہیں آئیں۔مجھے یہ کہنے میں فخرمحسوس ہوتاہے کہ آج کئی گھروں میں چھوٹی چھوٹی لائبریاں قائم ہوگئی ہیں۔ لیکن بہرحا ل اس میں قارئین کا تعاون بھی اشد ضروری ہے۔
ع ح:کتاب میلے سے اردو زبان و ادب کا فروغ ہوتا ہے؟ آپ کیا کہتے ہیں؟ 
مرزا عبدالقیوم ندوی:جی بالکل درست، کتاب میلوں سے اردو زبان و ادب کو فروغ ملتا ہے، لوگوں کو بیک وقت،ایک ہی مقام پر لاکھوں کتابیں نظر آتی ہیں، لوگ آتے ہیں،شوق سے کتابیں خریدتے ہیں، طلبااساتذہ کے علاوہ بھی لوگ آتے ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ کتابوں کے مستقبل اوراردوزبان و ادب کے وجود وبقاء کے لیے کتاب میلے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ میرا اپناتجربہ ہے کہ صرف کتاب میلے منعقد کرنے سے کام نہیں چلے گا،بلکہ کتاب میلوں کو کامیاب بنانے کے لیے، مقامی ادبی انجمنوں،اردواسکولوں، کالجوں کے ساتھ جولوگ اردوسے وابستہ ہیں یا جن کی معاش اردو سے جڑی ہوئی ہے۔ ان پر سخت محنت کرنی ہوگی،تبھی جاکر کتاب میلے کامیاب ہوسکتے ہیں۔میں یہاں یہ بات بھی بتا تا چلو ں کہ 2014میں اورنگ آباد میں جو کتاب میلہ ہواتھا میں اس کا کوآرڈینٹر تھا،جس میں صرف نودن میں ایک کروڑ روپے سے زائد کی کتابیں فروخت ہوئی تھیں،جو ایک ریکارڈہے۔اس کے لیے اورنگ آبادکی تنظیموں، جماعتوں اور اردو سے محبت کرنے والوں نے مسلسل دو ماہ تک محنت کی تھی۔ 
ع ح: اسکول کی سطح پربچوں کو کس طرح کتابوں کی جانب مائل کیاجاسکتاہے؟
مرزا عبدالقیوم ندوی: بہت آسان ہے،بچے اسکول میں پڑھنے،لکھنے اور سیکھنے کے لیے ہی آتے ہیں، اس لیے کتابیں کیسے پڑھی جاتی ہیں،کیا،کب اور کیسے پڑھنا چاہیے یہ بھی انھیں سیکھنا ہوگا۔ بچوں کو غیر درسی کتابوں کا بھی مطالعہ کرناچاہیے اس طرف ہماری توجہ بہت کم ہے۔ اس کے لیے میرا طریقہ کار یہ رہاہے کہ میں بین المدارس، تقریری، تحریری مقابلے منعقد کرتا ہوں، وقتاً فوقتاً سیرت، تاریخی و مختلف شخصیات کی زندگی پرلکھی کتابوں میں سے سوالات کا انتخاب کر کے کوئزمقابلے کا انعقاد کیا جاتا ہے، جن کتابوں میں سے سوالات لیے جاتے ہیں طلباء کوان کتابوں کو خریدنالازمی ہوتاہے۔ تاکہ وہ کتابیں پڑھ کر جوابات دیں سکے۔ ان پروگراموں سے بہت فائدہ ہوتا ہے،طلباء میں غیردرسی کتابوں کے تئیں دلچسپی پیداہوتی ہے۔ اسی طرح میں ہر دو چارمہینے میں شہر کے اسکولوں میں کتابوں کا اسٹال لگاتاہوں،جہاں طلباکے معیارو استعداد کی کتابیں رکھی جاتی ہیں،جیسے قومی کونسل کی مطبوعات، مکتبہ جامعہ کا بچوں کا ادب ودیگر اداروں کی کتابیں۔اس سے بہت فائدہ ہوتا ہے، بچوں میں خرید کر کتابیں پڑھنے کا رجحان پیداہوتاہے۔
ع ح:موجودہ دورمیں کتابوں کاکاروبا رکس حدتک منافع بخش ہے؟
مرزا عبدالقیوم ندوی: کافی حدتک فائدہ مند ہے، آج جدیدتکنیک کی وجہ سے کتابوں کی اشاعت میں آسانی ہوگئی ہے، پہلے کے مقابلہ میں خرچ بھی کم آرہا ہے۔ کتابیں بڑی دیدہ زیب چھپ رہی ہے اور پھر یہ کتابوں کا کاروبارہے،روزانہ کی ضرورت کی چیز نہیں ہے، روز بروز ناشرین کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے، شہروں میں بھی نئی نئی کتابوں کی دوکانیں کھل رہی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ صحیح ڈھنگ سے مارکیٹنگ کی جائے، نئے نئے موضوعات پر کتابیں شائع کی جائیں تو یہ کاروبار مزید منافع بخش ہوسکتاہے۔
بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتاہے کہ اردو کتابوں کا سب سے زیادہ مارکیٹ جنوبی ہند میں ہے،جس میں مہاراشٹر،آندھرا،کرناٹک کے علاقے اردو کتابوں کے لیے بڑے زرخیز ہیں۔ جنوب میں اردوکے فروغ کے لیے بے لوث اوران تھک کوششیں جاری ہیں۔برخلاف اس کے شمال میں اردوکتابوں کا کاروبار کسی حد تک مذہبی کتابوں پر چل رہا ہے۔برا مت مانیے شمال میں اس کے لیے زوردارکوشش نظرنہیںآتی۔ 
ع ح: نئی نسل کی اردو سے بڑھتی دوری پر آپ کیا کہیں گے؟
مرزا عبدالقیوم ندوی: نئی نسل کی دوری صرف اردو زبان کی حد تک ہی محدود نہیں بلکہ یہ مسئلہ ہر علاقائی زبان کو درپیش ہے۔مراٹھی،ہندی، گجراتی،تمل ودیگر علاقائی زبانوں کے ساتھ یہی کچھ ہورہاہے۔ لیکن مہاراشٹر میں آج لاکھوں بچے اردو میڈیم سے تعلیم حاصل کررہے ہیں،یہاں اردو کے فرو غ کے لیے حکومت کا بھی تعاون حاصل ہے،پورے ملک میں مہاراشٹرواحد ایسی ریاست ہے جہاں سب سے زیادہ اردو میڈیم کے پرائمری اسکول، ہائی اسکول اورجونئیرکالجزہیں۔اگرچہ کہ یہاں بھی اب عام مسلمان انگریزی اسکولوں میں اپنے بچوں کو تعلیم دلوا رہے ہیں،مگرایک بات قابل ذکر ہے کہ وہ ایک سبجکٹ اردو کا ضرور رکھتے ہیں،ساتھ ہی یہاں مسجدوں میں مکتب کا نظام بہت اچھا ہے،جہاں بچوں کو تعلیم اردو میں دی جاتی ہے،جس کی وجہ سے مہاراشٹر کے 80%بچے اردو پڑھنا لکھنا جانتے ہیں۔ 
ع ح: بچوں کے رسائل کو اسکولوں اور بچوں تک پہنچانے کے لیے کون سی حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے ؟
مرزا عبدالقیوم ندوی: ایک منظم تحریک چلانے کی ضرورت ہے۔سب سے پہلے تو بچوں کویہ معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے لیے ان کے معیار کا کوئی اردو رسالہ شائع ہوتاہے۔ جسے پڑھ کر انہیں اپنے نصاب تعلیم اور آئندہ زندگی میں فائدہ ہوگا۔رسالہ دیدہ زیب ہونا چاہیے، قیمت بھی کم ہو،مواد اورمعلومات کا معیار ان کے نصاب سے مناسبت رکھتاہوتو یقین جانیے بچے خوشی خوشی ان رسائل و جرائد کو خریدیں گے۔صرف رسالے چھاپ کر رکھ دینے سے یا چند کاپیاں اسکول کے پرنسپل کو بھجوانے سے کام نہیں چلے گا،اسی طرح کتابیں او رسائل دوکانوں پر رکھنے سے بھی کام نہیں چلے گا۔اس کے لیے ہمیں طلبا کے بیچ جاناہوگا۔ ان پر رسالوں کی اہمیت واضح کرنی ہوگی، ان سے بھی اس میں لکھنے کے لیے ترغیب دلانی ہوگی۔ 
کونسل سے شائع ہونے والا ’ماہنامہ بچوں کی دنیا‘ کو میں نے ایک سال کے مختصرعرصہ میں مہاراشٹرکے ہرگاؤں وشہرمیں پہنچا دیا تھا،اس کے لیے میں ایک ایک اسکول گیا،کئی بار اسکول میں رسالہ کا تعارف کرانے کی اجازت انتظامیہ اوراساتذہ کی طرف سے نہیں ملتی تھی۔ میں چھٹی کے بعداسکول سے باہر سڑک کے کنارے کھڑے ہوکر آوازلگاکر بچوں میں رسالہ کا تعارف کراتا تھا۔ اسکول انتظامیہ کی اپنی بہت ساری مجبوریاں ہوتی ہیں جس کے سبب وہ اسکول میں مارکیٹنگ کی اجازت نہیں دیتے ہیں اور نہ ہی اسکول میں رسالوں کو بیچنے کی اجازت دیتے ہیں۔ ایسی صورت میں،میں اسکول کے باہر کینٹین یا چھوٹی موٹی کھانے پینے کی جودکانیں ہوتی ہیں ان پر رسالہ رکھ جاتاتھا،جہاں سے بچے انٹرول میں رسالہ خرید لیتے تھے۔ 
ع ح: بچوں کے لیے نکل رہے رسائل کے مزاج اورمعیار سے آپ کس حد تک مطمئن ہیں؟ 
مرزا عبدالقیوم ندوی: کافی حد تک مطمئن ہوں، بچوں کے لیے کام کرنا بڑا مشکل کام ہے، خصوصاََ جب ان کے لیے لکھنا ہویا ان سے گفتگو کرنی ہوتو بڑی دقت پیش آتی ہے۔ معیار،مواداور ایسے مضامین جس سے طلبا میں دلچسپی پیدا ہو ایسے مضامین کی تعداد میں اضافہ ان رسائل کے لیے ضروری ہے،سب سے پہلے تو چھپائی اچھی ہو، کاغذ عمدہ ہواور قیمت بھی مناسب ہوتو طلبا یقیناًرسائل خریدتے ہیں۔ لیکن ایک بات ضرور ہے کہ ’بچوں کی دنیا ‘جیسے رسائل شائع کرنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے،جب تک حکومت کی سرپرستی حاصل نہیں ہوتی اس وقت تک معیاری اوردیدہ زیب چھپائی ممکن نہیں۔ ظاہر سی بات ہے جب مدیران معیار اور چھپائی پر زیادہ دھیان دیں گے تو لاگت میں اضافہ ہوگا جو طلباء کی قوت خرید سے باہر ہوگا۔ 
ع ح:اردو زبان کے فروغ کے لیے آپ کے پاس کیا تجاویز ہیں؟
مرزا عبدالقیوم ندوی: اردو عوامی زبان ہے، اسے عوامی سطح پر لانا ہوگا، اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے جوسمینار منعقدکیے جارہے ہیں سب سے پہلے ان کی تعداد کم ہونی چاہیے کیونکہ جو اردو کی کانفرنسوں پر سالانہ کروڑوں روپیے خرچ ہورہاہے اور نتائج کچھ بھی نہیں ہیں۔ا ن سمیناروں میں کیا ہوتاہے ؟کون تقریریں کرتا ہے؟وہی ہمیشہ ہمیشہ کے چہرے جنہیں سنتے زمانہ ہوگیا اور اب تو زبان و ادب بہت آگے نکل چکے ہیں۔
اردو زبان کو فروغ دینے کے لیے ہمیں عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ اردو زبان کے فروغ کے لیے سب سے بڑی ذمے داری توان لوگوں پرعائد ہوتی ہیں جن کی روزی روٹی اردو زبان سے وابستہ ہے،انہیں سامنے آنا ہوگا۔ اردو کو پہلے اپنے گھرسے شروع کرنا ہوگا،بعد میں باہرکے لوگوں سے آپ توقع رکھ سکتے ہیں،آج المیہ یہ ہے کہ90%وہ لوگ شمال میں اردو کی روزی روٹی کھارہے ہیں اور صورتِ حال یہ ہے کہ ان کے گھروں میں ان کے علاوہ کسی اور کواردو پڑھنی بھی نہیں آتی ہے۔ وہ اپنی اولادوں کو غیر اردو اسکولوں میں تعلیم دلارہے ہیں۔
چند تجاویزات:
سب سے پہلے ان لوگوں کو جمع کیاجائے جو اردو کے لیے زمینی سطح پر بے لوث کام کررہے ہیں۔جن کا مقصدصرف اردو زبان کی نشر واشاعت اور اس کا استحکام ہے۔ان کی خدمات کااعتراف اوران کے ذریعہ کیے گئے کاموں کو سراہا جائے،انھیں اعزا ز واکرام سے نوازا جائے۔ اردو آج کل VIP ہوتی جارہی ہے،اسے پھر عوامی بنانا ہوگا۔ ملک کے مختلف حصوں میں چھوٹے چھوٹے علاقائی کتاب میلے منعقد کیے جائیں۔یہ کہنا کہ بچے پڑھتے نہیں،بچوں پر الزام ہے۔آپ ایسے مواقع فراہم کیجیے کہ وہ پڑھیں اور یہ اسی صورت میں ہوسکتاہے کہ آپ پہلے خود پڑھنے کی عادت ڈالیں، گھر، اسکول، کالج میں پڑھنے کاماحول بنائیں۔ طلبا میں کتابوں کا تعارف،مصنّفین کا تعارف، ادیبوں، شاعروں، عظیم شخصیتوں کی آپ بیتیوں کا تذکرہ یا پھر ا ن کی ولادت یا یومِ وفات پر ان کی تخلیقات کاتعارف کرانا،لائبریوں سے یا بازار سے حسب گنجائش کتابیں خریدنے کے لیے انھیں تیار کرنا ضروری ہے۔ اس کے لیے سب سے پہلے سرپرستوں اور اساتذہ کومیدان عمل میںآنا ہوگا۔ اس سلسلے میں،میں نے ہزاروں کتابیں خصوصاً’بچوں کی دنیا‘کے وہ شمارے جو عظیم شخصیتوں پر شائع ہوئے تھے،جیسے فروری میں مولانا ابوالکلام آزادی کی یوم پیدائش پر شائع شمارہ،اکتوبر مہاتما گاندھی، سرسید، اے پی جے عبدالکلام وغیرہ پر خصوصی شمار ے بڑی تعداد میں تقسیم کیے تھے۔
ع ح:ہمارے قارئین کے لیے کوئی پیغام یا مشورہ؟ 
مرزا عبدالقیوم ندوی: اردو زبان و ادب کے تحفظ و بقا کے لیے نئے قاری کا ہونا ضروری ہے اور یہ پیدا ہوگا نئی نسل سے جو اسکولوں،کالجوں،یونیورسٹیوں میں پروان چڑھ رہی ہے۔ صورتِ حال یہ ہے کہ مصنّفین کی تخلیقات کو، کالم نگاروں کے کالموں کو،ادیبوں کی نگارشات اور شاعروں کی شاعری کو خود ان کے اہل خانہ تک پڑھنے سے قاصر ہیں۔جب آپ کا ادب،آپ کی شاعری،آپ کے مضامین آپ کے خاندان والوں کو متاثر ومتوجہ نہیں کرسکتے ہیں تو آپ دوسروں سے کیسے توقع وابستہ کرسکتے ہیں کہ وہ پڑھیں گے۔؟ 
آخری بات: میری روح کانپ جاتی ہے جس وقت میں یہ سوچتاہوں کہ ان کروڑوں کتابوں کا کیا ہوگا،جو ملک کے مختلف کتب خانوں میں موجود ہیںیا دوکانوں اور گھروں پر ذخیرہ ہیں۔ اس کے علاوہ آئندہ جو کتابیں شائع ہوں گی ان کا مستقبل کیاہوگا۔ اگر ہم نے آج سے ہی اس کے لیے کوئی ٹھوس لائحہ عمل نہیں بنایا توڈر ہے کہ یہ ساری کتابیں،سارے علم کے موتی کہیں ضائع نہ ہوجائیں۔

Dr. Abdul Hai
ahaijnu@gmail.com
Mirza Abdul Qayyam Nadwi
Mirza World Book House, Qaisar Colony
Aurangabad - 431001 (MS)


Mob.: 9325203227



قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

3/12/18

ہندوستانی موسیقی میں پرانے فلمی نغموں کا مقام. مضمون نگار: نثار احمد





ہندوستانی موسیقی میں پرانے فلمی نغموں کا مقام

نثار راہی
موسیقی کا شمارفائن آرٹ میں کیا جاتا ہے اور دنیا میں بے شمار لوگ موسیقی سنتے اور سر دُھنتے آرہے ہیں۔ کچھ لوگ (کہ جن میں عمر رسیدہ زیادہ ہوتے ہیں) ہندوستانی کلاسیکی موسیقی بہت شوق سے سنتے ہیں اور ملک کا نوجوان طبقہ انگریزی اور ہندی پاپ میوزک کا شوقین ہے۔ دیکھا جائے تو موسیقی ہندوستانیوں کے دلوں اور خون کی رگوں میں رچی بسی ہے کیونکہ صوبوں اور ریاستوں میں دیہات کے لوگ لوک گیت اور لوک سنگیت بڑے شوق سے سنتے ہیں۔ کرناٹک، بنگال اور کشمیر کے لوک گیت اور سنگیت وہاں جب بجتے سنائی دیتے ہیں تو کانوں میں جیسے رس گھولتے ہیں۔
لیکن..... بڑی اہمیت ہے ہمارے پرانے فلمی گانوں کی چالیس سے لے کر ستر کی دہائی تک یعنی چالیس سال کے عرصے میں بننے والی فلموں سے نکل کر جو گانے آئے تھے وہ آج بھی بہت لوگوں کے دل و دماغ پر راج کررہے ہیں بلکہ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ برصغیر میں بے شمار لوگوں کو فلموں کے پرانے گانوں کا دیوانگی کی حد تک شوق ہے اور کیوں نہ ہو کہ ان پرانے گانوں میں کیا نہیں ہے۔ ان میں بھرپور نغمگی ہے، سرور ہے، مستی ہے، اور اس سے بھی آگے یہ کہ وہ دماغ کو تناؤ سے چھٹکارا دلا کر سکون عطا کرتے ہیں اور میں تو یہ بھی کہوں گا کہ پرانی فلموں کے گانوں کی یہ موسیقی دماغ کا علاج بھی ہے۔ شائقین کے لیے تو یہ موسیقی جادو ہے۔
اس دنیا میں یہ ایک جادو ہی تو ہوگیا کہ فلموں کی اس موسیقی کا جنم ہوا۔ نہ جانے کہاں کہاں سے بڑے Genius موسیقار آئے اور فلموں کے لیے گانے بناتے گئے۔ وہ لوگ ایک دوسرے سے سبقت لے جانے میں اچھے اچھے گانے بناتے گئے۔ خصوصاً پچھلی صدی کی پچاس سے ستر کی دہائی کا ایک دور تھا کہ اس دور میں جہاں اچھے موسیقار آئے وہیں بہت اچھے گلوکار بھی ممبئی آئے اور گانے بنتے ہی چلے گئے۔ اچھے گانوں کی تعداد کچھ کم نہیں ہے، ہزاروں میں ہے۔ ہر گانہ اپنی جگہ لطف و سرور دیتا ہے۔ 
شروع کے موسیقاروں میں انل بسواس، حسن لال بھگت رام، پنکج ملک، آرسی بورال، کھیم چند پرکاش اور سجاد حسین وغیرہ تھے۔ آگے آنے والوں میں کچھ اور زیادہ Genius نوشاد علی، غلام محمد، شنکر جے کشن، ایس ڈی برمن، اوپی نیر، سی رام چندر، مدن موہن، خیام، ہنس راج بہل، سلیل چودھری، وسنت دیسائی، ہیمنت کمار، روشن، ناشاد، چترگیت، آرڈی برمن، لکشمی کانت پیارے لال وغیرہ آئے۔
یہ موسیقار لوگ تھے جنھوں نے بے شمار خوبصورت گانوں کی بارش کی جس سے ہلکی پھلکی موسیقی سننے والے شرابور ہوئے۔ ان موسیقاروں میں کون بڑا ہے اور کون چھوٹا یہ کہنا مشکل ہے کیونکہ خوبصورت گانے ان سبھی نے بنائے۔ پھر بھی تین یا چار موسیقار ایسے ہیں جنھیں فہرست میں اوپر رکھنا پڑتا ہے۔ پہلا نام تو موسیقار نوشاد ہی کا ہے جن کے سنگیت میں ہندوستانی کلاسیکی موسیقی یعنی راگ راگنیوں کی دھوم ہے۔ اب راگ راگنیوں والے گانوں اور ان کے موسیقاروں کو تو فہرست میں اوپر ہی رکھا جائے گا کیونکہ راگ اور راگنیاں ہندوستانی موسیقی کی روح ہیں۔ اچھی دُھن ان ہی سے بنتی ہیں جو لازوال ہیں۔ موسیقار ایس ڈی برمن کے بیشتر گانے بنگال اور آس پاس کے پہاڑی صوبوں کی لوک دھنوں پر مبنی ہیں۔ پھر آئیے موسیقار جوڑی: شنکر جے کشن پر جنھوں نے نہ صرف ہندوستانی اور انگریزی کلاسیکی موسیقی پر بے شمار گانے بنائے بلکہ ملک کے لوک گیتوں اور انگریزی پاپ موسیقی سے بھی فیض حاصل کیا اور بہترین دھنیں بنا کر عوام کے دل جیت گئے۔ اب آئیے موسیقار اوپی نیر پر جن کی موسیقی ذرا الگ قسم کی ہے اور جنھوں نے کئی فلموں میں آشا بھوسلے کی آواز لے کر گانوں میں جادو سا بھر دیا تھا۔ لتا منگیشکر کی آواز کے بغیر وہ بہت کامیاب ہوئے۔ ان کے گانوں کی Rhythm میں بڑی مستی ہے۔ انھوں نے پنجابی لوک سنگیت سے فیض حاصل کیا۔ اوپی نیر نے ایک بار وودھ بھارتی ریڈیو پر پروگرام دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہندوستانی فلموں کے موسیقاروں کی فہرست میں سے تیسرے نمبر پر آنے سے انھیں کوئی نہیں روک سکتا۔ بلاشبہ دو بڑے تو نوشاد اور شنکر جے کشن ہوئے لیکن تیسرے نمبر پر ایس ڈی برمن اور اوپی نیر میں سے کسی ایک کو لانے میں میں خود ناکامیاب ہوا ہوں کیونکہ دونوں کی ٹکر یا اہمیت برابر کی ہے۔ تیسرے نمبر پر اگر میں ایس ڈی برمن کو لاتا ہوں تو اوپی نیر کے ساتھ ناانصافی ہوجائے گی اور اگر اوپی نیر کو تیسرے نمبر پرلاتا ہوں تو ایس ڈی برمن کے ساتھ ناانصافی ہوجائے گی۔ یہ فیصلہ تو آپ کیجیے لیکن مجھے لگتا ہے کہ یہ فیصلہ تو آپ بھی نہیں کرپائیں گے۔
مندرجہ بالا چار موسیقاروں کے بعد فہرست میں پھر کسی کو بھی لاتے رہیے، سب ایک جیسی قابلیت کے لوگ ہیں اور بڑے اچھے ہیں۔ جیسے ہیمنت کمار، غلام محمد، ہنس راج بہل، مدن موہن، سی رام چندر، خیام، سلیل چودھری، روشن، جے دیو، این دتا (فلم سادھنا فیم)، وسنت دیسائی (جھنک جھنک پائل باجے فیم) وغیرہ۔ سب ایک سے بڑھ کر ایک ہیں۔ ان کو فہرست میں اوپر رکھو یا نیچے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ سب برابر کے درجے کے ہیں اور سبھی بہت لائق اور شاندار ہیں۔ میں عموماً تین موسیقاروں کو اپنے موڈ کے حساب سے سنتا ہوں۔ زیادہ شنکر جے کشن کو، پھر اوپی نیر کو۔ اور جس دن نوشاد کی موسیقی سننے کا زبردست موڈ ہو تو پھر نوشاد ہی نوشاد کو سنتا ہوں اور تب لگتا ہے کہ نوشاد سے بڑا کوئی نہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ہماری پرانی فلموں کی موسیقی کا بادشاہ نوشاد ہی ہے۔ ششی کپور نے ایک بار کہا تھا کہ سب میں بہتر شنکر جے کشن ہیں۔ کوئی شک نہیں۔ وہ بہترین ہیں مگر نوشاد لاجواب ہیں اور اوپی نیر کسی سے کم نہیں۔ اس بحث سے یہ ثابت ہوا کہ تیسرے نمبر پر رکھے جانے لائق اوپی نیر ہی ہیں۔ ہاں جب کبھی موڈ ایس ڈی برمن کو سننے کا ہو تو سب دھرے رہ جاتے ہیں اور بڑے میاں کا جادو لتا منگیشکر کی آواز میں سر چڑھ کر بولتا ہے۔ ذرا پیئنگ گیسٹ، ابھیمان، عشق پر زور نہیں، دیوداس اور منزل (دیوآنند والی) کے گانے سن کر دیکھیے تو پتہ لگ جائے گا کہ موسیقی کے راجاؤں میں ایک بڑے راجہ ایس ڈی برمن صاحب بھی ہیں۔
ابھی تک میں نے ان موسیقاروں کے ’گانوں کی‘ بات نہیں کی ہے۔ اب کروں گا تو سوچنا پڑے گا کہ سب میں پہلے یعنی سب سے ٹاپ پر کون سا گانا آتا ہے لیکن یہ کام بھی مشکل ہے کیونکہ بے شمار پرانے گانوں کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔ اس سلسلے میں گانوں پر آگے بات کرنے سے قبل اگر ہم گلوکاروں پر تھوڑی سی بات کرلیں تو بہتر ہوگا۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں مرد گلوکاروں میں کے ایل سہگل، پنکج ملک، محمد رفیع، منّاڈے، مکیش، طلعت محمود، ہیمنت کمار، سی ایچ آتما، کشور کمار اور مہندر کپور سرفہرست ہیں۔ وہیں خواتین گلوکاروں میں لتا منگیشکر، آشا بھوسلے، گیتادت، شمشاد بیگم، ثریا، نورجہاں اور مبارک بیگم اہم ہیں۔ خواتین گلوکاروں میں لتا منگیشکر اور مرد گلوکاروں میں محمد رفیع سب سے بہتر ہیں۔ بے شک سہگل صاحب اونچی چیز ہیں اور دیگر ساری آوازوں سے الگ ہٹ کر ہیں۔ مگر سچ یہ ہے کہ محمد رفیع ان سے بازی مار لے گئے۔ سہگل کے سننے والے بہت ہی کم ہیں جبکہ رفیع کا دیوانہ ہر کوئی ہے۔ انھوں نے ہر رنگ اور ہر موڈ کے گانے گائے ہیں۔ دراصل سہگل کا مقابلہ کسی سے نہیں کیا جاسکتا کہ واقعی وہ بہت اونچی چیز ہیں۔ سی ایچ آتما اور پنکج ملک بھی خاص موڈ میں سننے کی چیز ہیں لیکن یہ تینوں آج کے وقت میں پیچھے رہ گئے جبکہ لتا منگیشکر، محمد رفیع اور مناڈے سدابہار ہیں۔ خصوصاً لتا منگیشکر اور محمد رفیع کی آوازیں امر ہوچکی ہیں اور ممکن ہے کہ ایک ہزار سال بعد بھی سنی جائیں۔
اب گانوں پر بات کرتے ہیں ۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ لتا منگیشکر کے کون سے گانے بہترین ہیں۔ سب ایک سے ایک اچھے۔ وہ سیب اور آم کے باغ کے لدے ہوئے پھلو ں کی طرح ہیں لیکن میرا خیال ہے کہ لتا جی نے فلم ’اُڑن کھٹولہ‘ میں اپنی بہترین آواز دی ہے۔ مورے سیاں جی اتریں گے پار... میرا سلام لے جا... حال دل میں کیا کہوں... ڈوبا تارا امیدوں کا سہارا چھوٹ گیا... وغیرہ۔ اس کے بعد فلم ’ناگن‘ کے گانے اور ناگن کے بعد فلم ’امر‘ کے گانے جو نوشاد ہی نے بنائے۔ ان کے اچھے گانوں کی فہرست اتنی طویل ہے کہ میں گناتے گناتے تھک جاؤں گا۔ چند کے نام سن لیجیے: اے دل ناداں (رضیہ سلطان)، بول ری کٹھ پتلی (کٹھ پتلی)، تونے ہائے میرے زخم جگر کو چھو لیا (نگینہ)، محفل میں جل اٹھی شمع (نرالا)، آجاؤ تڑپتے ہیں ارماں (آوارہ)، جو میں جانتی بسرت ہیں سیاہ (جوگن) سیاں پیارا ہے اپنا ملن (دو بہنیں)، پیاسی ہرنی بن بن ڈولے (دو دل)، رجنی گندھا پھول تمھارے (رجنی گندھا)، میرے پھولوں سے بھی پیار (ناستک)، آجا رے میں تو کب سے کھڑی اس پار (مدھومتی) وغیرہ۔ لتا منگیشکر کے گانوں میں سوز بھی ہے، سنجیدگی بھی ہے، مستی بھی ہے اور ان میں انگڑائیاں لیتی مدھ بھری جوانی بھی ہے۔
اسی طرح محمد رفیع کے اچھے گانے بھی بے شمار ہیں جو گنائے نہیں جاسکتے۔ آپ سنتے ہی رہتے ہیں۔
مندرجہ بالا موسیقاروں کے گانوں میں خاص بات یہ ہوتی تھی کہ دُھنوں اور گانوں میں دل کو چھو لینے والی نغمگی تو ہوتی ہی تھی، سازوں کا بہترین جوڑ (سنگت) ہوتا تھا۔ گانا شروع ہونے سے پہلے کے ساز اور پھر مکھڑا گائے جانے او رانترا آنے سے قبل کے ساز اور ان کی آواز سے نکلی دُھن لاجواب ہوتی تھی۔ نہ جانے کیسے انھوں نے گانے کے شروع میں اور درمیان میں اتنے بہترین ساز بجائے کہ بہترین دھن بن گئی۔ یہ کام بہت مشکل تھا۔ سازوں میں کہیں ڈھیر سارے وائلن تو کہیں گٹار، کہیں مینڈولن، کہیں ستار، کہیں سرود، کہیں اکارڈین، کہیں جل ترنگ، کہیں طبلہ، کہیں کانگو ڈرم، کہیں بونگو ڈرم، کہیں پیانو، کہیں سیکسافون، کہیں ٹرمپیٹ اور نہ جانے کیا کیا۔ ان سازں کا سنگت اتنا لاجواب ہوتا تھا کہ یہ وہی قابل اور عظیم موسیقار کرسکتے تھے کہ جن کے نام میں نے اوپر گنائے۔ ہر کسی کے بس کی بات نہیں تھی۔ آپ شنکر جے کشن کا گانا ’بول ری کٹھ پتلی‘ اور فلم اناڑی‘ کے سارے گانے سن کر دیکھیے کہ گانے کے شروع میں اور پھر اندر سازوں سے دھن بجانے میں شنکر جے کشن کا جواب نہیں تھا۔ گانوں میں سازوں کی دُھنیں ان سے اچھی شاید کسی دیگر نے نہیں دیں۔ گانوں کے شروع میں اور اندر بہترین ساز بجانے میں اوپی نیر کا مقام دوسرا ہے۔ ان کے ساز ہی تو دل و دماغ میں مستی پیدا کرتے ہیں۔ ممبئی کی لوکل ٹرین میں ایک زمانے میں پیسے مانگنے والے دو مٹھے بجا کر بڑی پیاری کھٹ کھٹ کی آواز نکالتے تھے۔ اس آواز کا استعمال اوپی نیر نے کئی گانوں میں، خصوصاً نائٹ کلب کے ڈانس کے گانوں میں استعمال کیا اور کئی گانوں میں انھوں نے سارنگی بھی خوب بجوائی ہے۔ فلموں کے موسیقار لوگ نہ جانے کہاں کہاں سے ساز اور آواز لائے جن کا انھوں نے اپنے گانوں میں استعمال کیا۔ اس طرح کے تجربے اور اتنے پیارے پیارے گانے اور کہاں مل سکتے ہیں۔ شاید کہیں نہیں۔ ایک گانے میں سب کچھ ہوتا ہے۔ پیارے ساز، پیاری دُھن اور پیاری آواز جو سننے والوں کے جذبات کو ٹچ کیے بغیر نہیں مانتی۔ جیسے کہ فلم ’سیما‘ کا شنکر جے کشن کا بنایا اور محمد رفیع کا گایا گانا ’کہاں جارہا ہے تو اے جانے والے‘ جیسے فلم ’بسنت بہار‘ کا منّا ڈے کا گانا ’سر نا سجے کیا گاؤں میں‘ آج کی ٹیکنالوجی کے زمانے میں ساز تو بڑے اچھے اچھے آگئے ہیں مگر ان سے نغمگی، سرور اور مستی پیدا کرنے والا کوئی نہیں۔
فلمی موسیقاروں کے کئی گانے راگ اور راگنیوں پر بھی مبنی ہیں۔ انھوں نے گانوں میں جابجا راگ بھیروں، راگ یمن اور دیگر کچھ راگوں کا خوب استعمال کیا ہے۔ نوشاد کی فلم ’بیجوباورا‘ اور شنکر جے کشن کی فلم بیشتر گانے ہندوستانی کلاسیکی موسیقی پر ہی مبنی ہیں۔ ایسے گانوں میں بلا کی نغمگی ہے جو دل کو چھو لیتی ہے۔ فلمی گانوں کو مؤثر بنانے میں بولوں یعنی شاعری کی بڑی اہمیت ہے۔ چنانچہ جیسے شاندار گانے شکیل بدایونی، مجروح سلطان پوری، ساحر لدھیانوی، شیلندر، راجندر کرشن، حسرت جے پوری، راجہ مہدی علی خاں، کیفی اعظمی، جاں نثار اختر، قمر جلال آبادی، اور ایس ایچ بہاری وغیرہ نے بڑی کثرت سے مندرجہ بالا موسیقاروں کے لیے لکھے ویسے پھر کسی نے نہیں لکھے۔ پرانے گانوں کی کشش میں جہاں موسیقاروں کی قابلیت کو دخل ہے وہیں مندرجہ بالا شاعروں اور گیت کاروں کابھی بڑا Contribution ہے۔
پرانے فلمی گانوں کے شائقین ہندوستان، پاکستان اور دیگر ممالک میں بے شمار ہیں۔ ایسی موسیقی کو نظرانداز کرنا مناسب نہیں۔ ہندوستان میں بہت سے کلب ایسے ہیں جو کبھی کبھی پرانے فلمی گانوں کو نئے گلوکاروں کی آواز میں جب کبھی پیش کرتے ہیں تو بے شمار شائقین ان گانوں پر سر دھنتے ہیں۔ وہ گانے شائقین کے لیے ہماری پرانی فلموں کے موسیقاروں اور گائکوں کا بہت بڑا تحفہ ہیں۔

Nisar Rahi (Advocate)
P-44, B.D.A Colony
Teela, Jamal Pura
Bhopal - 462001 (MP)





قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

عصمت چغتائی ’چوتھی کا جوڑا‘کے آئینے میں. مضمون نگار:۔ غزالہ فاطمہ





عصمت چغتائی ’چوتھی کا جوڑا‘کے آئینے میں

غزالہ فاطمہ



اردو کے افسانوی ادب میں عصمت چغتائی ایک بڑا نام ہے۔ جسے منٹو کا نسائی قالب بھی کہا گیا۔مگر عصمت کی اپنی ایک شناخت ہے۔عصمت چغتائی نے اپنے افسانوں میں جس بے باکی سے جنس کو موضوع بنایا اس نے اس عہد کو حیران کر دیاکیوں کہ اس سے قبل خواتین صرف اخلاقی اور اصلاحی ادب کی طرف ہی مائل تھیں۔قدامت پسند مسلم گھرانے عورتوں کی تعلیم کو آوارگی سمجھتے تھے۔ عصمت نے اصلاحی اور تبلیغی دور میں اس قدر بے باکی سے لکھا تو انھیں شہرت بھی خوب ملی اور وہ لوگوں کے لعن طعن کا شکار بھی ہوئیں۔لیکن اس سے ان کی مقبولیت میں کمی نہ آئی بلکہ ان کی شہرت میں اضافہ ہی ہوااور ساتھ ہی ساتھ انھوں نے خواتین قلم کاروں کو اظہار کے نئے امکانات سے آشنا بھی کیا۔
اردو افسانہ نگاری میں عصمت چغتائی کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ ’’چوتھی کا جوڑا ‘‘ان کا شاہکار افسانہ ہے۔اس کے علاوہ بھی انھوں نے کئی اہم افسانے لکھ کر اپنے فن کے جوہر دکھائے ہیں۔متوسط مسلم گھرانوں کے لڑکے اور لڑکیوں کی زندگی ان کے فکشن کااہم موضوع رہا ہے۔ وہ اس طبقے سے گہری واقفیت رکھتی ہیں۔اپنے ہم عصروں کے مقابلے ان کا دائرہ محدود ضرور ہے لیکن ان کو فن پر کمال قدرت حاصل ہے۔ ان کے یہاں فنّی پختگی ہے، روایت سے بغاوت ہے ۔ عصمت نے افسانہ نگاری کے ذریعے سماج اور معاشرے کی حقیقت پسندانہ عکاسی کی ہے۔ان کے یہاں سماج کی ناہمواری ،ذہنی غلامی،رجعت پسندی،توہم پرستی،مذہبی تعصب،ظلم و استحصال اور طبقاتی کشمکش کے خلاف احتجاج ملتا ہے۔ان کی تخلیقات میں جنسی اور نفسیاتی حقائق کا بے باکانہ تخلیقی اظہار ملتا ہے۔عصمت چغتائی کو مغربی مفکروں ، دانشوروں اور ادیبوں سے گہری مناسبت تھی۔
عصمت چغتائی نے جس دور میں لکھنا شروع کیا اس دور میں ایک نئی روش کا آغاز ہونے کے ساتھ ادیبوں میں حقیقت پسندی کا رجحان عام ہو رہا تھا۔جنس عصمت کا پسندیدہ موضوع تھا۔انھیں متوسط طبقے کی جنسی زندگی کے بارے میں گہری معلومات ہے اور وہ جسے بڑی بے باکی سے اپنے افسانوں میں پیش کر دیتی ہیں۔جس کی وجہ سے اہل زمانہ نے ان پر لعنت و ملامت بھی کی ۔ فحش نگاری کے الزام میں ان پر مقدمے بھی چلے اور ان افسانوں نے اپنی اشاعت کے ساتھ زمانہ میں تہلکہ مچا دیا تھا۔تل، گیندا،لحاف ،بھول بھلیاں،عصمت کی بدنام کہانیوں میں شامل ہیں۔ عصمت کی کہانیاں ہی نہیں بلکہ اپنی تیزی و طراری اور تیکھے پن کی وجہ سے خود عصمت بھی بہت بدنام ہوئیں کیونکہ منٹو کی طرح عصمت بھی سماج کو آئینہ دکھاتی ہیں۔سماج میں پھیلی ہوئی بُرائیوں اورعیبوں کو آشکار کرنا چاہتی ہیں تاکہ ان کا علاج کیا جاسکے۔ایک جگہ عصمت خود بھی لکھتی ہیں۔’’جب زخم میں مواد بھر جائے تو اس پر پٹیاں باندھنے سے بہتر ہے کہ نشتر لو اور جراحی شروع کر دو۔‘‘
عصمت چغتائی کا افسانہ ’’چوتھی کا جوڑا‘‘ ہندوستانی سماج کے غربت زدہ طبقے کی محرومیوں کی جیتی جاگتی تصویر ہے ۔اس افسانے میں بڑا درد و کرب نمایاں ہے۔ہمارے سماج کے نچلے طبقے میں غریب ماں باپ کے لیے سب سے بڑا مسئلہ جوان ہوتی ہوئی لڑکیوں کی شادی کا ہے۔ان کی شادی کے لیے لڑکا ڈھونڈنا ایک مشکل امر ہوتا ہے۔یہ مسئلہ خاص کر ان لوگوں کے لیے ہے جو غریب ہیں اور بیٹی کے لیے لمبا چوڑا جہیز نہیں دے سکتے۔ بیٹیوں کی شادی کی فکر میں ماں باپ کا دن کا چین اور رات کی نیند حرام ہو جاتی ہے۔وہ مسلسل کوشش کیے جاتے ہیں۔لیکن جب کوئی مناسب رشتہ نہیں ملتا تو ناچار قسمت کے مارے تھک ہار کر امید کا دامن چھوڑ دیتے ہیں۔ادھر لڑکی بڑھتی عمر کے ساتھ احساس کمتری کا شکار ہوتی جاتی ہے اور دولہے کے انتظار میں اپنی جوانی کے حدود سے گزر جاتی ہے۔اسے اپنا مستقبل تاریک اور ڈراؤنے خواب کی طرح خوف زدہ کرتا رہتا ہے۔ ماں باپ کا بڑھاپا دن بہ دن انھیں قبر تک لے جانے کے لیے بے تاب رہتا ہے ۔ان کے صبر اور استقلال کا باندھ ٹوٹتا ہوا نظر آتا ہے۔وہ اس بے رحم سچائی سے منھ چھپا کر کسی غیبی طاقت سے مدد کی امیدلگائے بیٹھے رہتے ہیں۔لیکن کسی کو کیا پتا کہ زندگی کس قدر بے رحم ہے خاص طور سے غربت کے مارے ماں باپ کی جو بیٹیوں کے والدین بھی ہیں۔
یہ کہانی ایک ایسے خاندان کی ہے جس کی سرپرست بی اماں ہیں جن کے شوہر کا انتقال ہو چکا ہے۔ان کے انتقال کے بعد گھر کی کفالت کی ذمہ داری بی اماں کی ہے۔ ان کی دو جوان لڑکیاں کبریٰ اور حمیدہ ہیں۔بی اماں کی زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ اور مقصد کبریٰ کی شادی ہے۔کبریٰ ڈری ،سہمی ،خاموش طبیعت کی معمولی شکل و صورت والی لڑکی ہے۔والد کے انتقال کے بعد اس کے لیے شادی کا کوئی پیغام نہ آیا اس کے انتظار میں اس کی عمر تیزی سے گزر رہی تھی۔امیدیں ختم ہو رہی تھیں۔تبھی بی اماں کے منجھلے بھائی کا لڑکا راحت پولس کی ٹریننگ کے لیے ان کے گھر میں قیام کرنے کے لیے آتا ہے تو ان کی امیدیں اس سے وابستہ ہو جاتی ہیں ۔وہ اپنا زیور بیچ کر گھر ٹھیک کرواتی ہیں اور راحت کے رہنے کا انتظام بھی کرتی ہیں:
’’اسی وقت اماں نے کانوں کی چار ماشہ کی لونگیں اتار کر منھ بولی بہن کے حوالے کیں کہ جیسے تیسے کر کے شام تک تولہ بھر گوکھرو،چھ ماشہ سلمہ ستارہ اور پاؤ گز نیفے کے لیے ٹول لادیں۔باہر کی طرف والا کمرہ جھاڑ پونچھ کر تیار کیا۔تھوڑا سا چونا منگا کر کبریٰ نے اپنے ہاتھوں سے کمرہ پوت ڈالا۔کمرہ تو چٹّا ہو گیا مگر اس کی ہتھیلیوں کی کھال اڑ گئی ۔اور جب وہ شام کو مسالہ پیسنے بیٹھی تو چکّر کھاکر دوہری ہو گئی۔ساری رات کروٹیں بدلتی گزری۔ایک تو ہتھیلیوں کی وجہ سے ،دوسرے صبح کی گاڑی سے راحت آرہے تھے۔‘‘
(افسانہ ’’چوتھی کا جوڑا‘‘)
بی امّاں تواس قدر گھبرائی ہوئی تھیں کہ مانو راحت ان کے گھر بارات لے کر آرہا ہو۔وہ خوش تھیں کہ اللہ نے ان کی دعا سن لی ایسا لگتا ہے جیسے دروازے پر بارات کھڑی ہو۔حمیدہ نے اپنی ماں اور آپا کی دلی کیفیت کو سمجھتے ہوئے فجر کی نماز میں سر بسجود ہو کر دعائیں مانگی۔
’’اللہ !میرے اللہ میاں!اب کے تو میرے آپا کا نصیبہ کھل جائے۔میرے اللہ میں سو رکعت نفل تیری درگاہ میں پڑھوں گی۔‘‘
یہ ایک چھوٹی بہن کی اپنی بڑی بہن کے لیے سچّے دل سے نکلی ہوئی دعا تھی۔کبریٰ اپنے جذبات کو ظاہر نہ ہونے دیتی تھی کیوں کہ وہ شرم و حیا کی ماری لڑکی تھی اورزبان کھولنے سے قاصر تھی۔لیکن دل ہی دل میں وہ خوش تھی۔ کب سے اپنے دولہے کا انتظار کر رہی تھی اب انتظار کی گھڑی ختم ہونے کا وقت تھا۔راحت آیا سیویوں اور گھی ٹپکتے پراٹھوں کا ناشتہ کرکے بیٹھک میں چلا گیا۔ راحت کی روز خوب خاطر مدارات ہوتی۔اس کی خاطر تواضع کے لیے وہ لوگ روکھا سوکھا کھاکر روز راحت کو مزہ دار اور اچھے سے اچھا کھانا کھلاتیں۔ان سب میں بی اماں کا چھوٹا موٹا جو زیور موجود تھا سب بک گیا،مگر مہمان نوازی میں کوئی کمی نہیں آنے دی۔ان کی اس غربت کے حالات کا بیان عصمت نے اس طرح کیا ہے:
’’جس راستے کان کی لونگیں گئی تھیں اسی راستے پھول پتہ اور چاندی کی پازیب بھی چل دی اور ہاتھوں کی دو چوڑیاں بھی جو منجھلے ماموں نے رنڈاپا اتارنے پر دی تھیں۔روکھی سوکھی خود کھاکر آئے دن راحت کے لیے پراٹھے تلے جاتے کوفتے،بھنا پلاؤ مہکتے۔خود روکھا سوکھاسانوالہ پانی سے اتار کر وہ ہونے والے داماد کو گوشت کے لچھے کھلاتیں۔‘‘
بی اماں یہ سب اپنی بیٹی کے بہتر مستقبل کے لیے کر رہی تھیں۔آخر کو ان کا ہونے والا داماد ہے ۔مصلحت کا تقاضا یہی ہے کہ جس شجر کا پھل کل کوکھانا ہو اس کی آبیاری تو آج ہی سے کرنی پڑتی ہے۔بی اماں سوچتی ہیں کل کو راحت ان کا اپنا ہو جائے گاجو کمائے گاان کی بیٹی کے ہاتھ پر ہی تو رکھے گا۔اس پر مسرت خیال سے ہی ان کو تقویت ملتی ہے۔اتنی خاطر مدارت کرنے کے بعد بھی جب راحت کی کوئی رضامندی ظاہر نہیں ہوتی تو بی اماں اپنی منھ بولی بہن کو بلا کر مشورہ کرتی ہیں تو وہ صلاح دیتی ہیں کہ حمیدہ راحت سے ہنسی مذاق کرے ۔بہنوئی کی طرح اس سے چھیڑ چھاڑ کرے۔ بی اماں کا نسخہ کامیاب ہوتا ہے اور راحت دن کا زیادہ تر وقت گھر پر گزارنے لگتا ہے اور کسی نہ کسی بہانے سے حمیدہ کو آوازیں دیتا رہتا ہے۔وہ حمیدہ کو چھیڑتا ہے اور اسے غلط نظروں سے دیکھتا ہے۔حمیدہ کو یہ سب برا تو لگتا ہے لیکن وہ اپنی بہن کی خاطر یہ سب برداشت کرتی رہتی ہے۔راحت کی بیباکیاں بڑھتی جاتی ہیں اور بی اماں اور ان کی منھ بولی بہن بہت خوش ہوتی ہیں کہ اب بات بن جائے گی لیکن نہ راحت کچھ کہتا ہے اور نہ اس کے گھر سے کوئی پیغام آتا ہے ۔آخر کار بی اماں اپنے توڑے گروی رکھ کر مشکل کشا کی نیاز دلاتی ہیں۔محلے کی لڑکیاں اور عورتیں آتی ہیں ۔کبریٰ شرما کر مچھروں والی کو ٹھری میں بیٹھ جاتی ہے۔مولوی صاحب کا دم کیا ہوا ملیدہ حمیدہ کو دیا جاتا ہے کہ راحت کو کھلا آئے۔ مجبورو لاچار حمیدہ اپنی بہن کے لیے وہاں جاتی ہے ۔اس واقعے کا بیان عصمت نے اس طرح کیا ہے۔
’’یہ....یہ ملیدہ۔‘‘اس نے اچھلتے ہوئے دل کو قابو میں رکھتے ہوئے کہا...اس کے پیر لرز رہے تھے۔جیسے وہ سانپ کی بانہی میں گھس آئی ہو۔اور پھر پہاڑ کھسکا...اور منھ کھول دیا۔وہ ایک قدم پیچھے ہٹ گئی۔مگر دور کہیں بارات کی شہنائیوں نے چیخ لگائی جیسے کوئی ان کا گلا گھونٹ رہاہو۔کانپتے ہاتھوں سے مقدس ملیدے کا نوالہ بنا کر اس نے راحت کے منھ کی طرف بڑھادیا۔ ایک جھٹکے سے اس کا ہاتھ پہاڑ کی کوہ میں ڈوبتا چلا گیا...نیچے تعفّن اور تاریکی کے اتھاہ خار کی گہرائیوں میں اور ایک بڑی سی چٹان نے اس کی چیخ کو گھونٹ دیا۔نیاز کے ملیدے کی رکابی ہاتھ سے چھوٹ کر لالٹین کے اوپر گری اور لالٹین نے زمین پر گر کر دوچار سسکیاں بھریں اور گل ہو گئی۔صبح کی گاڑی سے راحت مہمان نوازی کا شکریہ ادا کرتا ہوا روانہ ہو گیا۔اس کی شادی کی تاریخ طے ہو چکی تھی اور اسے جلدی تھی۔‘‘
راحت جو مہان نوازی کا شکریہ ادا کر کے جا چکا ہے ۔اصل میں ناشکرے پن کی مثال ہے ۔وہ ڈھٹائی اور بے شرمی کے ساتھ ان کے گھر میں بن بلائے مہمان کی طرح پڑا رہا اور آخر میں ان سب کاچین و سکون لے کر چلا گیا۔اس کا چلے جاناجہاں بی اماں کی تمنّاؤں کا خون تھا وہیں حمیدہ کے لیے وجۂ سکون و اطمینان ،اور کبریٰ کے لیے کیا تھا اس کا بیان تو نہایت ہی افسوس ناک ہے :
’اس کے بعد اس گھر میں کبھی انڈے نہ تلے گئے،پراٹھے نہ سکے اور سویٹر نہ بنے۔دِق نے جو ایک عرصے سے بی آپا کی تاک میں بھاگتی پیچھے پیچھے آرہی تھی ایک ہی جست میں انھیں دبوچ لیااور انھوں نے چپ چاپ اپنا نامراد وجود اس کی آغوش میں سونپ دیا۔‘
کبریٰ کو اس زندگی سے نجات مل گئی جو اس کے لیے مسلسل موت کی مانند تھی جس سے وہ روز مرتی اور روز جیتی تھی۔وہ افسانے کا ایسا کردار ہے جو ہمیشہ خامو ش رہ کر اپنے ہونے کا احسا س دلاتا ہے ۔وہ جب تک زندہ رہی اپنی زندگی کا بوجھ ڈھوتی رہی۔اسے زندگی میں کبھی کوئی خوشی نہ ملی۔ نہ اس نے کبھی زور سے قہقہہ لگایا نہ کبھی شوق سنگھار کیے وہ تو بے چاری غریب ماں باپ کی ایسی اولاد تھی جو غریبی کے باعث اس کا گھر نہ بسا سکے اوراس کی شادی نہ ہو سکی۔اس کی زندگی اسی پر بوجھ بن گئی تھی جسے وہ مسلسل ڈھوئے جا رہی تھی۔ موت نے اس بوجھ سے نجات دلا دی۔غربت کی چکّی میں پستی رہی اور ازدواجی زندگی کے خواب بنتے ہوئے وہ اس دنیاسے رخصت ہو گئی:
’’کبریٰ جوان تھی۔کون کہتا تھا کہ وہ جوان تھی۔وہ تو جیسے بسم اللہ کے دن سے ہی اپنی جوانی کی آمدکی سناؤ نی سن کرٹھٹھک کر رہ گئی تھی۔نہ جانے کیسی جوانی آئی تھی کہ نہ تو اس کی آنکھوں میں کرنیں ناچیں نہ اس کے رخساروں پر زلفیں پریشاں ہوئیں۔نہ اس کے سینے پر طوفان اٹھے۔اور نہ کبھی ساون بھادوں کی گھٹاؤں سے مچل مچل کر پریتم یا ساجن مانگے۔وہ جھکی جھکی ،سہمی سہمی جوانی جو نہ جانے کب دبے پاؤں اس پر رینگ آئی ،ویسے ہی چپ چاپ نہ جانے کدھر چل دی ۔میٹھا برس نمکین ہوا اور پھر کڑوا ہو گیا۔‘‘
یہ افسانہ بلا شبہ عصمت چغتائی کی حقیقت نگاری کی بہترین مثال ہے۔ اس افسانے میں عصمت چغتائی نے متوسط طبقے کے اس اہم مسئلہ سے جڑی کمزوریوں کو موثر انداز میں پیش کیا ہے۔افسانے کی ابتداء عصمت بہت جاذب اور دلچسپ انداز میں کرتی ہیں۔ اس کا انجام درد غم سے لبریز تعجب خیز اور فکر انگیز ہے۔اس افسانے کے کردار اور زبان و بیان میں عصمت نے بڑی مہارت کا ثبوت دیا ہے ۔جزئیات نگاری میں تو عصمت کا جواب نہیں اس کا اندازہ اس اقتباس سے لگایا جاسکتا ہے:
’’کبریٰ کی ماں کے پر استقلال چہرے پر فکر کی کوئی شکل نہ تھی۔چار گرہ گزی کے ٹکڑے کو وہ نگاہوں سے بیونت رہی تھیں۔لال ٹول کا عکس ان کے نیلگوں زرد چہرے پر شفق کی طرح پھوٹ رہا تھا۔وہ اداس اداس گہری جھریاں اندھیری گھٹاؤں کی طرح ایک دم اجاگر ہو گئیں،جیسے جنگل میں آگ بھڑک اٹھی ہواور انہوں نے مسکرا کر قینچی اٹھا لی۔‘‘
افسانے کی زبان خوبصورت تشبیہ،استعارہ اور محاوروں سے آراستہ ہے۔عصمت کو لفظوں سے کھیلنے کا ہنر خوب آتا ہے۔ کب کون سا جملہ استعمال کرنا ہے انھیں اس بات کا بخوبی اندازہ ہے ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لفظ کسی نگینہ کی طرح جڑے ہوئے ہیں۔لفظوں کا استعمال موقع کے لحاظ سے موزوں و مناسب ہوتا ہے ۔اس کی چند مثالیں پیش کرتی ہوں۔
۰’’ابّا کتنے دبلے پتلے جیسے محرم کا علم۔ایک بار جھک جاتے تو سیدھا کھڑا ہونا دشوار تھا۔‘‘
۰’’کس کی بکری اور کون ڈالے دانہ گھاس۔اے بی مجھ سے تمہارا یہ بیل نہ ناتھا جائے گا۔‘‘
۰’’اری او نک چڑھی !بہنوئی سے کوئی بات چیت‘‘
ان کے افسانوں کی کامیابی کا راز ہی ان کی دلکش زبان ہے۔ بقول کرشن چندر:
’’نہ صرف افسانہ دوڑتا ہوا معلوم ہوتا ہے بلکہ فقرے ،کنائے اشارے اور آوازیں کرداراور جذبات و احساسات ایک طوفان کی سی بلا خیزی کے ساتھ چلتے اور آگے بڑھتے نظر آتے ہیں‘‘۔
عصمت اپنے زبان و بیان اور طنزیاتی لب و لہجہ کے اعتبار سے بھی قابل قدر اور انفرادیت کی حامل ہیں۔ان کی زبان متوسط طبقے کی معیاری زبان ہے ۔عورتوں کے مخصوص لب ولہجے اور محاورات کا جیسا بر محل استعمال عصمت کے یہاں ملتا ہے اس کی مثال نہیں۔ان کے لفظی مصوری کا ہی کمال ہے کہ ان کی کہانی کا ہر کردار اور واقعہ قاری کی نگاہوں کے سامنے روشن ہو جاتا ہے۔
Ghazala Fatma 
Research Scholar
Deparment of Urdu 
Jamia Millia Islamia 

New delhi 110025



قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...