3/12/19

مالک رام کا اسلامی شعور مضمون نگار۔ نذرانہ شفیع




مالک رام کا اسلامی شعور

نذرانہ شفیع

مالک رام اردو دنیا میں بنیادی طور پر محقق کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں لیکن ان کی شخصیت کے بعض پہلوبھی بہت اہم اور قابل ذکر ہیں جن کی حیثیت مسلم ہے۔وہ ایک محقق ہونے کے علاوہ تاریخ کے بھی اسکالرہیں لہٰذا واقعات کی چھان بین اور صحت کا خیال انھوں نے اپنی تحریروں میں حد درجہ پیش نظر رکھا ہے۔ انھوں نے’سبد چین‘ اور ’ذکر غالب‘ میں  غالب کے حالات مستند روایت کے ساتھ قلم بند کیے ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے ’تلامذہ غالب‘ میں غالب کے ڈیڑھ سو شاگردوں کے حالات درج کیے ہیں۔حقیقتاً ا س نوع کے تحقیقی کام بے حد دشوار ہوتے ہیں مگر مالک رام اس سے بہتر طور پر عہدہ برآ ہوئے ہیں۔ ’بابلی تہذیب و تمدّن‘ (دو جلدیں)بھی ان کا بہترین تحقیقی کارنامہ ہے۔ تحقیقی کاموں کو جاری رکھتے ہوئے انھوں نے مولوی مہیش پرشاد کے مرتب کردہ خطوط کی از سر نو تدوین کے ساتھ  غالب کے دور اور ان کے معاصرین پر بے شمار مضامین تحریرکیے اس کے علاوہ ’گل رعنا‘ کے عنوان سے خود غالب کا انتخاب کردہ فارسی کلام بھی شائع کیا۔ فضلی کی ’کربل کتھا‘ جوپروفیسر مختار الدین احمد کی تلاش تھی مالک رام نے مختار الدین احمد کے ساتھ مل کر اس کے حواشی لکھے اوراس کی نئے سرے سے تدوین کی۔ مالک را م کا ایک قابل ذکر تحقیقی کارنامہ ’تذکرہ معاصرین‘کی اشاعت بھی ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد کے تذکرہ، غبار خاطراور خطبات کی بھی تدوین کی۔ 
مالک رام کی دلچسپی اور شغف کا میدان اسلامیات بھی ہے۔ وہ قرآن اور حدیث میں کافی مہارت رکھتے تھے اس میں ان کا ایمان اور عقیدہ کسی بھی صاحب ایمان سے کم نہیں تھا۔ اسلامی علما کی طرح مالک رام بھی پہلے تونص صریح سے استناد کرتے ہیں اور ثانیاً ان احادیث سے جن سے اس کی تصدیق ہوتی ہے۔
 انھوں نے بیٹی، بیوی، ماں، مطلقہ اور وارثہ کے عنوان سے اسلام میں عورت کے مقام اور مرتبے کا تعین کیا ہے۔ قرآن اور احادیث کی روشنی میں انھوں نے مختلف انداز سے عورت کے حقوق کی وضاحت کی ہے۔ ان کا انداز بیان استدلالی اور قطعیت سے پر ہے۔ بے جا گفتگو سے پرہیز کرتے ہوئے بے لاگ انداز میں انھوں نے تمام امور کو بیان کیا ہے۔ یہاں ان کا موقف بالکل واضح اور صاف ہے۔ ان کا طریقہ کارایک محقق کا ہے۔ آیات قرآنی کا برمحل استعمال کیا گیا ہے احادیث کی صحت اور ترتیب کا خیال رکھا گیا ہے تاریخی شواہد سے بہت سے امور کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کسی معاملے پر بحث کے دوران احادیث کی شمولیت بطور دلیل موجود ہے ایسے موقع پر وہ عہد نبوی و عہد خلفائے راشدین میں موجود واقعات کو بھی پیش کرتے ہیں جن میں سے بعض احادیث کی صورت میں بطور متن موجود ہیں اور بعض کی حیثیت مستند واقعات کی ہے جو محققین اور فقہا کی کتب اور مخطوطات میں درج ہیں۔ لہٰذااس اعتبار سے مالک رام کی تصنیف ’عورت اور اسلامی تعلیم‘میں عورت کے نظریہ حیات کے حوالے سے رقم شدہ بحث اور بھی استناد کا درجہ حاصل کر لیتی ہے۔
مالک رام نے عورت کی سماجی حیثیت کا خیال رکھتے ہوئے اس کے الگ الگ مقامات طے کیے ہیں یعنی ایک عورت سماج میں ایک بیٹی ہوتی ہے، بیوی ہوتی ہے، ماں ہوتی ہے اور جب وہ ان تینوں میں سے کسی حیثیت سے سماج میں نہیں رہ پاتی تو اس کی حیثیت ایک مطلقہ یا بیوہ کی ہوتی ہے۔ اسلام نے ان تمام حالتوں یا صورتوں میں باقاعدگی سے عورت کو باوقار زندگی گزارنے کے اختیارات عطا کیے ہیں جن کے حصول کے بعد وہ سماج میں اپنی عزت اور ناموس کے ساتھ پاکیزہ سماج میں اپنے مقام کو قائم رکھتی ہے۔ یہاں پر اسلوب احمد انصاری کا یہ قول درج کرنا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔
”معاشرتی زندگی میں عورت کے حقوق کے ضمن میں مالک رام نے چار شقیں قائم کی ہیں تعدد ازدواج، طلاق وخلع، نکاح بیوگان اوروراثت، اور ان چاروں کے ضمن میں انھوں نے ہندو دھرم، شریعت موسوی، عیسائیت اور اسلامی قوانین کے باہمی موازنے سے تشفی بخش طریقے پر یہ ثابت کیا ہے کہ اسلامی احکام نہ صرف سب سے زیادہ مبنی بر انصاف ہیں۔“
مالک رام نے پہلے باب میں ’بیٹی‘ کا عنوان قائم کرتے ہوئے سماج میں اسلامی قوانین کے اعتبار سے اس کے حقوق کی وضاحت کی ہے یہاں انھوں نے دور اسلام سے قبل ایام جاہلیت میں بیٹیوں پر ہونے والے مظالم کا ذکر کیا ہے اور مختلف تاریخی حوالوں سے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ کس طرح بچیّوں کو زندہ درگور کردیا جاتا تھا یا قتل کردیا جاتا تھا نہ تو ان کی تعلیم و تربیت کا بندوبست تھا، نہ کھانے پینے کا اور نہ ہی جسمانی اور ذہنی تربیت کا کوئی انتظام تھا۔ اس کے بعض اسباب کی جانب بھی انھوں نے اشارے کیے ہیں جو بے حد مناسب اور درست معلوم ہوتے ہیں۔                                              
زمانہَ قدیم میں قبائل کی جنگیں کثرت سے ہوتی تھیں لہٰذا ہارنے والے قبیلے یا قوم کی عورتوں کو جیتنے والے ملکیت بنا لیتے تھے۔ یا دوسری صورت یہ کہ خود سسر بننا اور بچیوں کا نکاح کرنا باعث ذلت تصور کیا جاتا تھا۔ مالک رام نے اس کی اور بھی توجیہیں پیش کی ہیں:
”اسی طرح ہندوستان کے عہد وسطےٰ کے راجپوتوں کے دل میں بھی یہ جھوٹا خیال بیٹھاہوا تھا کہ ہم اور کسی کو بیٹی دے کر سسر کہلائیں! اس سے مر جانا بہتر ہے۔“ 
”کاہنوں اور دینی بزرگوں نے کہہ رکھا تھا کہ لڑکیوں کو زندہ نہ رکھو کیوں کہ یہ ذلّت کاموجب ہیں۔“
”جزیرۃالعرب جیسا صحرا آج ہے۔ ویسا ہی جب بھی تھا۔ سامان خوراک کے مہیا کرنے کے لیے ان لوگوں کو جیسی کچھ محنت کرنا پڑتی ہوگی،اس کااندازہ ہم موجودہ حالات سے کر سکتے ہیں۔“
اس صورت حال کی اسلام نے کھل کر مخالفت کی اور قرآن میں اس کی مخالفت میں باقاعدہ آیتوں کا نزول ہوا۔ ان آیات کو مالک رام نے بڑی ہنر مندی سے پیش کرتے ہوئے بچیوں کے زندہ رکھنے اور ان کے وجود کی بقا کا جواز بھی دیا ہے کہ عورت نسل انسانی کی بقا کے لیے کس حد تک ضروری ہے۔ اور لڑکا یا لڑکی اللہ کے پیدا کردہ ہیں تو ایک کو دوسرے پر ترجیح دینے کی کوئی وجہ نہیں۔ تعلیم و تربیت کے سلسلے میں بھی اسلام نے بچیوں کی تعلیم کو فرض قرار دیا ہے۔ حتیٰ کہ اگر وہ لونڈی بھی ہے تو اس کی تربیت کو بھی ضروری خیال کیا گیا ہے۔ مالک رام نے قرآن اور احادیث کی روشنی میں اسلام کے اندر عورت کے لیے تعلیم و تربیت کو لازم جزو قرار دیا۔ وہ ابن ماجہ کی معروف و مقبول حدیث ’طلب العلم فریضۃ علیٰ کل مسلم و مسلمہ‘کوبھی بطور دلیل پیش کرتے ہیں۔ مالک رام نے تربیت کے حوالے سے اندرون خانہ زندگی کے ذیلی عنوان کے تحت ایک اہم بحث کو بھی اٹھایا ہے کہ اسلام نے عورت کے تحفظ اور اس کی ناموس کی بقا کے لیے کیا کیا قدم اٹھائے ہیں انھوں نے سورہ نور کی آیت نمبر 23 اور 24 کے حوالے سے کس طرح اس مسئلے کی وضاحت کی ہے قابل ذکر ہے۔ وہ لکھتے ہیں۔ 
”یہ آئے دن کا تجربہ ہے کہ لڑکے اور لڑکیاں معمولی علم حاصل کرکے پندار و عجب کا شکار ہوجاتی ہیں اور نمائش ان کا شیوہ بن جاتا ہے۔ یہ یقینا نا مناسب اور غلط طریقہ ہے اورقرآن اس کا سخت مخالف ہے۔ چنانچہ اس کا حکم ہے کہ جب لڑکی سن بلوغ کو پہنچے تو اپنی آرائش اور خوبصورتی کونمایاں نہ کرے، بلکہ شرم و حیا کو ملحوظ رکھے۔ باہر نکلے تو بھی احتیاط سے، چلے تو ایسی روش اختیار کرے جس سے حیا ٹپکے۔“
درحقیقت یہ بندش نہیں بلکہ احتیاط ہے کہ عورتیں اپنی پاکیزگی کو قائم رکھ سکیں۔ ورنہ اسلام میں کسی کے ملنے جلنے والے گھروں میں آنے جا نے کی پابندی نہیں۔ یہ تصور کہ عورتیں قید ہوکر گھٹ کر جیتی ہیں نہایت غلط ہے۔ مالک رام نے اس جانب بھی اشارہ کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
 ”گھر کے مردوں کا یہ فرض ہے کہ وہ اس بات کی احتیاط رکھیں کہ جو غیر عورتیں ان کے گھر میں آرہی ہیں، ان کے اخلاق کیسے ہیں اور کیا وہ اس قابل ہیں کہ ان کے گھر کی عورتوں سے ملیں جلیں، اس طرح کیا غلام اور تابعین ایسے ہیں کہ واقعی ان پر اعتماد کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔“
مالک رام نے ’استیذان‘ کے ذیلی عنوان کے تحت استیذان کے لغوی اور شرعی معنی کی وضاحت کرتے ہوئے استیذان کے حکم پر قرآنی آیات اور احادیث کی روشنی میں بحث کی ہے۔ یہاں مالک رام کی یہ رائے درج کرنا مناسب معلوم ہوتی ہے۔
”غرض یہ ہے کہ عموماً آدمی تکلیف سے نہیں بیٹھتا اور غیر محرم کے سامنے آنے میں جس تکلّف کی ضرورت ہے۔ اگر اس کے بغیر پردے کے پیچھے ہی سے کام نکل جائے،تو کیا ضرورت ہے کہ عورت مرد کے سامنے آئے۔ چونکہ بلا ضرورت مرد اور عورت ایک دوسرے کے سامنے آنے جانے سے معاشرتی خرابیوں کے پیدا ہونے کا اندیشہ ہے اس لیے فرمایا کہ جہاں آمنے سامنے ہوئے بغیر مطلب حل ہو سکتا ہے۔ وہاں بے شک پردے کی اوٹ سے بات کر لو۔یہاں پیرایہئ بیان نہایت بلیغ اختیار کیا ہے۔اسے مرد، عورت دونوں کے کیے پاکیزگی کا موجب بتایا ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ عورت کو غیرمحرم سے بات چیت کرنے کی ممانعت نہیں۔“
انھوں نے آگے پردہ پر بھی ذیلی عنوان کے تحت بحث کی ہے اور مختلف واقعات اور قرآن میں درج اس کے لیے مخصوص الفاظ کے مخصوص تصور کو بیان کیاہے۔ مالک رام نے پردہ کی اہمیت اور اس کی پابندی کا مثبت انداز میں تذکرہ کرتے ہوئے مختلف احادیث اور قرآن کی روشنی میں پردہ کے تصور کی وضاحت کی ہے جس میں باہرنکلنے کے وقت، جسم اورچہرے کا ڈھکا ہونا، خوشبووَں کا یابجنے والے زیورات کے استعمال نہ کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ مالک رام اس حکم کے جواز اور اثبات کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
 ”عورتوں کو باہر نکلنے کی ممانعت نہیں کیوں کہ کام کاج کی ضرورت سے ایسا کرنے کی اجازت ہے، لیکن آنکھ نیچی رکھیں، آرائش اور بناو سنگار کو ظاہر نہ کریں اور حیا سے چلیں۔“ 
”یہ احکام ان تمام لڑکیوں کے لیے ہیں جو سنِّ  رُشد کو پہنچ جائیں اور جن پر لڑکی سے زیادہ لفظ عورت کا اطلاق ہوتا ہے اور جب تک وہ خود نکاح کی خواہش مند ہیں، یاان کے نکاح کرلینے کا امکان ہے، ان پر احکام کی پابندی لازم ہے۔“
مالک رام نے ’بیوی‘ کے عنوان سے اپنی کتاب میں ایک اہم باب قائم کرتے ہوئے مختلف آیات قرآنی اور احادیث کی روشنی  میں مرد کے مقابلے عورت کی حیثیت اور اہمیت کو واضح کیا ہے۔ قرآن میں جگہ جگہ جوڑے کا لفظ یا حدیث میں عورت کی تخلیق مرد کی پسلی سے بتائی گئی ہے۔ جس کی مالک رام نے بہترین تشریح و توجیہہ کرتے ہوئے یہ ثابت کیا ہے کہ یہ مرد کے وجود کی طرح نسل انسانی کا اہم حصّہ ہے مزید آگے انھوں نے عورت کی سماجی حیثیت بھی متعین کی ہے۔ مالک رام کی یہ وضاحت اور دلیل قابل ذکر ہے وہ رقم طراز ہیں کہ:
”اس میں کوئی شک نہیں کہ عورت ہر حیثیت میں باعث سکون ہے۔خواہ اس کی حیثیت ماں کی ہو،خواہ بیٹی کی یا بہن کی، وہ اپنے بیٹے یا باپ یا بھائی کے لیے سامان راحت پیدا کرتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس کی سرشت میں نرمی اور ہمدردی بہت زیادہ رکھی ہے۔جس کے سبب وہ دوسروں کی تکلیف زیادہ محسوس کرتی اور ان کے لیے سامان سکون وراحت مہیّا کرتی ہے۔ لیکن اس میں شبہ نہیں کہ وہ سکون و راحت کا مظہر اتم اس وقت بنتی ہے جب اس کی حیثیت بیوی کی ہوتی ہے اس صورت میں جس خلوص و محبت کا اظہار اس کی ذات سے ہوتا ہے وہ واقعی اللہ تعالیٰ کے نشانات میں سے  ایک نشان ہے۔“
دوسرا مقصدنکاح ’بقائے نسل‘ کے ذیلی عنوان کے تحت بھی انھوں نے بیوی کے وجود کی ضرورت اور اہمیت کا ذکر کیا ہے۔ وہ اس موقع پر بھی قرآن کی آیات اور حدیث کو پیش نظر رکھتے ہیں جس میں درج ’نساؤکم حرث لکم‘ میں لفظ حرث کی بے حد مدلل اور منطقی تعریف و تشریح کی ہے۔ یہاں ان کی یہ عبارت اہم ہوجاتی ہے۔ 
”قرآن پہلی قسم کے تعلق کے خلاف ہے چنانچہ اس نے عورت کو حرث یعنی کھیتی سے تشبیہ دے کر اپنا مقصد واضح کردیا ہے۔ اس کے نزدیک مرد اور عورت کو رشتہئ نکاح سے وابستہ کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ان کا یہ تعلق مستقل حیثیت کا ہو۔ کسان یہ نہیں کرتا کہ آج کھیتی لے لی اور کل اسے چھوڑ دیا، بلکہ وہ اس سے نفع کرنے کی خاطر اسے دائمی طور پر اپنے قبضے میں  رکھتا ہے۔ دوسرے وہ اس سے غلّہ اور اناج حاصل کرتا ہے۔ وہ اسے یوں ہی بنجر نہیں چھوڑتا،تیسرے جب وہ اس میں بیج ڈالتا ہے تو جب تک فصل تیار نہیں ہو لیتی۔ وہ ہرطرح اس کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ یہ نہیں کہ گھر آکر ہاتھ پر ہاتھ دھر کے بیٹھ گئے۔     
عورت کی سماجی حیثیت متعین کرنے کے لیے اسلام نے باقاعدہ قوانین وضع کیے اور اس کا دائرہ عمل مرد کے دائرہ عمل کی طرح طے کیا۔ اس کے لیے باقاعدہ اور علی الاعلان نکاح کا تصوّر پیش کیا تاکہ عزت و احترام سماج میں قائم ہو سکے اس کے علاوہ کسی بھی صورت کو اسلام نے جرم کے زمرے میں رکھا ہے۔مالک رام نے اس نکتے کی جانب بھی بحث میں اشارہ کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
”وہ دونوں آزادی سے صرف دو حالتوں میں یکجاہوسکتے ہیں یعنی یا ان دونوں کا نکاح شریعت کی رو سے حرام ہو یا پھر وہ شرعی بیوی ہوں۔ یہ رشتہ قانونی طور پر اختیار کیا جائے۔ سماج اسے منظور کرے اور اسے اس کا علم ہو اور اس میں کوئی بات خفیہ نہ ہو، بلکہ وہ دونوں علی الاعلان میاں بیوی کی طرح رہیں۔“
اسی سے متعلق غیر شرعی طور پر عورت اور مرد کے جسمانی رشتے کو قائم کرنے پر جس طرح اسلام نے حد نافذ کرنے کا شرعی حکم صادر کیا ہے اس کے تحت مالک رام نے آگے زنا، سنگساری، چار گواہ، لعان کے عناوین قائم کرتے ہوئے بحث کی ہے اور ان جملہ امور کی وضاحت کی۔ اس کے علاوہ انھوں نے محرمات نکاح کے تحت اس بحث کو قائم کیا ہے جس میں مخصوص رشتوں کے سبب عورتیں مرد کے نکاح میں جائز نہیں ٹھرتیں۔ 
تعداد ازدواج پر بھی الگ عنوان کے تحت بحث کی ہے اور اس کی شرائط طے کی ہیں۔ یہاں سارا معاملہ عدل باہم کا ہے جس کا نفاذ ازحد ضروری ہے۔ جس کے تعلق سے وہ سورۃ نساء کی آیات کی توضیح پیش کرتے ہوئے اپنی بحث کو مستند بنا دیتے ہیں۔ وہ رقم طراز ہیں:
 ”بیویوں کے درمیان عدل کرویعنی ان کی ضروریات کے مہیّا کرنے میں، کھا نے کپڑے میں، ان سے تعلقات میں، عدل کرو۔ ایسا نہ ہو کہ ایک کے گھر میں جشن ہو، تو دوسری کے گھر فاقہ۔ ایک جگہ شب عید ہو، تو دوسری کے دیے میں تیل بھی نہ ہو۔ عورت کی فطرت میں خدا نے رشک و حسد کا مادّہ بہت زیادہ رکھا ہے۔ عام حالات میں وہ دوسری عورت تو درکنار، سیج کی مکھی کو بھی برداشت نہیں کر سکتی۔ پس جہاں سوتن کا معاملہ ہو، وہاں مرد کو بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ اس کا فرض ہے کہ اپنی تمام بیویوں کو ہر ایک چیز ایک سی دے۔ مکان، سامان، کپڑے،زیورات، خوراک اور دیگر ضروریات کی اشیاء سب ایک سی ہوں۔ان کے یہاں اپنے آنے جانے کا بھی ایک اصول بنالے۔ رسول کریم ؑ کا اسوہئ حسنہ تو اس باب میں اتنا وسیع تھا کہ وہ بیویوں کے جذبات تک کا خیال رکھتے تھے اور حتی الوسع انھیں کسی قسم کی شکایت کاموقع نہیں دیتے تھے۔(بخاری، کتاب المظالم)“
یہاں انھوں نے رسولؐ  کے کردار احسن کو پیش کرتے ہوئے مثال دی اور حجت تمام کردی۔ ان کا یہ طریقہ کار ان کے منطقیانہ درک اور استدلالی انداز کی بہترین مثال ہے۔
مالک رام نے الگ الگ ذیلی عنوان کے تحت بیوی کے حقوق بھی بیان کیے ہیں یہاں بھی ان کا طریقہ استدلال قرآن و حدیث کے حوالہ جات پر مشتمل ہے۔ انھوں نے حسن سلوک، نان و نفقہ، اعتماد، حقوق زوجیت اور عدم تشدد کے تحت عورتوں کے اختیارات اور ان کی سماجی حیثیت نیز احترام اور قدر کو واضح کیا ہے یعنی جس طرح مرد کا فرض ہے کہ وہ عورتوں کے لیے اچھا سلوک روا رکھے، ان کے نان و نفقہ کا خیال رکھے اور حق زوجیت ممکنہ حد تک ادا کرے حتی ٰ کہ کثرت سے عبادت بھی نہ کرے کہ اگر اس سے بیوی کے حق میں خلل پڑتاہو اور اس پر ظلم و زیادتی نہ کرے۔ مالک رام نے بڑی ہنر مندی سے ان تمام امور کی وضاحت کی ہے کہ اسلام واحد مذہب ہے جس میں عورت کے لیے اتنے حقوق وضع کیے گئے ہیں۔اسی طرح انھوں نے بیوی کی ذمہ داریوں کا بھی تذکرہ کیا ہے کہ عورتوں میں اپنے شوہر کے لیے اطاعت شعاری ہونی چاہیے اور شوہر کی غیر حاضری میں اس کے حقوق کی حفاظت کرنی چاہیے۔ اولاد کی ترتیب میں بھی اس کابے حد اہم رول ہے اور شوہر اگر نیکی کرے تو وہ اس کو نہ روکے بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کرے۔          
مالک رام نے ’ماں‘ کے عنوان سے عورت کی تیسری بے حد اہم سماجی حیثیت کی جانب اشارہ کیا ہے۔ یعنی جب عورت ماں ہوتی ہے تو وہ دنیا کی سب سے عظیم ہستی ہوتی ہے۔ ماں کا اسلام میں بے حد بلند درجہ ہے حتیٰ کہ اسے باپ سے بھی زیادہ احترام اور قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے۔ انھوں نے سورہئ بقرہ آیت 215، سورہئ بنی اسرائیل آیت 23 تا 25، سورہء لقمان آیت 14، 15اور مختلف احادیث کی روشنی میں والدین اور بالخصوص ماں کی اہمیت اور اس کے مرتبہ پر روشنی ڈالی ہے جس کے نتیجے میں وہ کہتے ہیں:
 ”والدین کی خدمت کا حکم اور نصیحت تمام مذہبوں میں ہے لیکن قرآن نے حسب معمول اس مسئلے پر بھی تفصیل سے بحث کی ہے اور اس کے تمام پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے۔حکم دیا کہ والدین سے نیکی اور احسان سے پیش آؤ اور ان پر اپنے اموال خرچ کرو،گویا صرف ماں باپ کی ضروریات کی کفالت ہی کا نہیں، بلکہ ہر حال میں ان پر خرچ کرنے کا حکم دیا۔“
اسلام میں والدین کے حقوق کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے مشرک ہونے کے باوجود ان سے رفاقت قائم کرنے اور حسن سلوک قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور ان کی خدمت کو جہاد سے بھی افضل ترین عمل قرار دیا گیا ہے۔ مالک رام نے اپنی بحث میں ان جملہ امور کی بہتر طور پر وضاحت کی۔ مالک رام نے خلع کی تعریف اور تصور کی وضاحت کرتے ہوئے قرآن اور احادیث نبوی کا حوالہ دیا ہے کہ جس طرح قرآن نے طلاق سے اجتناب برتا ہے اسی طرح خلع کے سلسلے میں بھی حتیٰ الامکان پرہیز کرنے پر زور دیا ہے۔ مالک رام نے ثابت اور ان کی بیوی جمیلہ اور حبیبہ کے دو واقعات کو اس ضمن میں بطور دلیل بیان کیا ہے جہاں مہر کی واپسی کے بعد نبیؐ نے دونوں کی علاحدگی کی اجازت مرحمت فرمائی اس سے ثابت ہوا کہ جس طرح مرد کو طلاق دینے کا اختیار ہے اسی طرح علیٰحدگی کے لیے عورت کو بھی بعینہ خلع کے ذریعے علیٰحدگی کا اختیار حاصل ہے۔اسلام نے یہ خصوصی حق عورت کو عطاکیا ہے۔ مالک رام نے اس امر کی طرف نشاندہی کی ہے وہ لکھتے ہیں:
 ”اسلام نے عورت کو خلع کا حق دے کر اس پر بہت بڑی ذمہ داری عائد کر دی ہے۔اس لیے چاہیے کہ وہ اس کے استعمال میں نہایت درجہ احتیاط سے کام لے۔“ 
’عدّت کے اغراض‘ کے تحت انھوں نے استدلالی اور منطقی انداز میں ان مصلحتوں کی جانب توجہ دلانی چاہی ہے جس کی وجہ سے اسلام نے باقاعدگی سے عدّت کو لے کر مختلف قوانین یا اصول شریعت میں وضع کیے اور ان کو عورت کے لیے لازم قرار دیا۔ وہ ان مصلحتوں کی نشاندہی کچھ اس طرح کرتے ہیں۔
”دراصل تین ماہ کی عدّت کا اوّلین مقصد ہی یہی ہے کہ میاں بیوی میں صلح ہو جائے۔چوں کہ عورت، مرد کے ساتھ ایک ہی مکان میں رہتی ہے، اس لیے یہ تو نہیں ہو سکتا کہ اس کے دل میں خیال نہ آئے۔ نیز اگر طلاق کسی فوری اشتعال یا ہنگامے کے دوران میں دی گئی ہے تو بھی مرد کو حالات پر ٹھنڈے دل سے سوچنے کا کافی موقع مل جاتا ہے۔ عدّت کا دوسرا مقصد نسب کی حفاظت ہے ممکن ہے کہ طلاق کے وقت عورت کو صرف چند دن کا حمل ہو۔ تیسری مصلحت جو دراصل مندرجہئ صدر وجہ ہی سے پیدا ہوتی ہے، ورثہ کی صحیح تقسیم ہے یعنی یہ معلوم ہوجائے کہ بچّہ کون سے خاوند کا وارث ہوگا۔عدّت کی ایک اور غرض یہ بھی ہے کہ مطلّقہ عورت کوبیجا تکلیف نہ ہو۔اگر طلاق کے ساتھ ہی خاوند اس کو گھر سے نکال دینے کا مجاز ہوتا تو وہ بیچاری ایک مصیبت میں مبتلا ہوجاتی۔ نہ صرف وہ بے گھر ہوتی بلکہ اسے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی دقّت پیش آتی کیوں کہ اس طرح اس کے اخلاق سے متعلق شبہات پیدا ہو سکتے تھے۔“
مالک رام نے ’وارثہ‘ کے عنوان کے تحت ایک باب قائم کیا ہے۔ یہ ایک اہم باب ہے جس کا تعلق خالصتاً معاش کے لیے اور سماجی حیثیت کا تعین کرنے میں اہم ثابت ہوتا ہے۔ دنیا میں مال واسباب انسان کی اہم ضرورت، جینے کا ذریعہ اور سماجی مقام اور وقار کے حصول میں اہم سبب خیال کیا جاتا ہے۔ اسلام نے اسی وجہ سے دولت کی تقسیم میں اعتدال اور توازن برقرار رکھنے کے لیے بنیادی اصول اور قوانین بنائے ہیں۔ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اسلام میں زکوٰۃ اور صدقہ کا باقاعدہ ایک نظام موجود ہے۔ جس کے لیے بیت المال کا تصوّر بھی موجود ہے۔ سود کی حرمت بھی اسی وجہ سے ہے کہ اس کے بہت سے نقصانات ہیں۔ اسی طرح وصیت اور میّت کے ترکے کی تقسیم کے بھی خاص اصول و قوانین ہیں۔ سورۃ بقرہ اور سورۃ نساء میں باقاعدگی سے ان اصولوں کو ربّ کائنات نے بیان کر دیاہے۔ مالک رام نے الگ الگ عناوین کے تحت قرآن اور احادیث کی روشنی میں وصیت کے اصول،وصیت کی مستقل اہمیت، وصیت کو معتبر اور مضبوط بنانے کے لیے شہادت کے طریقوں اور قرائن سے شہادت مرتب کرنے کا جواز، میت کے قرض کی اس کے مال سے ادائیگی، وراثت کی تقسیم اور اس کے اصول پر ٹھہر کر گفتگو کی ہے۔ جس سے ان کی محققانہ دقت نظری کا ثبوت ملتا ہے۔ 
 مجموعی طور پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ مالک رام کا محبوب میدان اسلامیات ہے۔ وہ قرآن اور حدیث کی بہترین فہم رکھتے ہیں۔ ان کا انداز بے حد دو ٹوک، بے لاگ اور منصفانہ ہے۔ وہ دلیلوں کی روشنی میں گفتگو کرتے اور بحث کو آگے بڑھاتے ہیں۔ انھوں نے محقق اور معروضیت کے ساتھ مواد کی چھان پھٹک کی ہے۔اسلامی قوانین کی روشنی میں عورت کا مقام طے کیا ہے اور اس کے حقوق کی وضاحت کی ہے۔ ان کے نزدیک متن بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ تاریخی شواہد کو بھی وہ پیش نظر رکھتے ہیں۔ انھوں نے تنگ نظری سے کہیں بھی کام نہیں لیا ہے اور نہ ہی غیر معتبر حوالوں کو شامل کیا ہے۔ انھوں نے اپنے ماخذ کے حصول میں حد درجہ احتیاط برتا ہے اور اس مواد کو ترتیب اور سلیقے سے پیش کیا ہے۔ ان کی زبان سنجیدہ اور متین ہے اور طرز استدلالی اور منطقیانہ ہے۔ ایک محقق کی زبان اور ظرز جس طرح کا ہونا چاہیے مالک رام اس کسوٹی پر کھرے اترتے ہیں۔ 

Nazrana Shafi
Research Scholar, Dept of Urdu
Aligarh Muslim University
Aligarh - 201001 (UP)


ماہنامہ اردو دنیا،نومبر 2019

 قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے



حسرت جے پوری اور آبشارِ غزل مضمون نگار۔ شاہد احمد



حسرت جے پوری اور آبشارِ غزل

شاہد احمد
جب ہم اردو شاعری و غزل کی تاریخ کے اوراق الٹتے ہیں تو ہمیں میر، غالب اور مومن کی غزلیں مسرور و ممنون کرتی نظر آتی ہیں۔ وہیں داغ اور جگر کا رنگِ سخن اردو شاعری کی جان ہے۔ حسرت جے پوری بھی اسی مزاج کے روح رواں ہیں۔ ان کی غزلیں، اور نغمے خود ان کا پتہ دیتی ہیں۔ ان کی رومانی غزلوں اور نغموں نے پوری دنیا کو اپنا گرویدہ بنا لیا        ؎
حسرت ہمارے دم سے ہے یہ سرخیِ شفق
یہ چرخ خون روئے گا گر ہم نہیں رہے
حسرت جے پوری کا اصل نام اقبال حسین تھا۔ 15/ اپریل 1922 کو گلابی نگر شہر جے پور میں آنکھیں کھولی۔ اردو، فارسی، اور انگریزی میں تعلیم حاصل کی۔ آپ نے تقریباً سترہ برس کی عمر میں اپنی شاعری کی شروعات کی۔ شاعری آپ کو ورثہ میں ملی تھی۔ اپنے نانا فدا حسین فدا جے پوری سے اصلاح لیتے تھے جو آپ کے اردو اور فارسی کے استاد بھی تھے۔ آپ کی رہائش گاہ پر شعراء کرام کا مجمع ہمیشہ لگارہتا تھا چونکہ آپ جے پور میں ایک استاد شاعر کی حیثیت رکھتے تھے۔ اسی  شعری ماحول میں حسرت کی شاعری پروان چڑھی۔ حسرت جے پوری کا تعلق غالب اسکول سے تھا۔ چونکہ آپ کا سلسلہ اردو غزل کے عظیم شاعر مرزا غالب تک پہنچتا ہے۔ آپ کے نانا آغا دہلوی کے شاگرد تھے اور آغا دہلوی کا شمار مرزا غالب کے شاگردوں میں ہوتا تھا۔ اسی نسبت سے آپ کا سلسلہ تلمذ مرزا غالب تک پہنچتا ہے۔
حسرت جے پوری کی عمر جب بیس برس کی تھی تو آپ رادھا نام کی ایک لڑکی (جو کہ آپ کے گھر کے سامنے رہتی تھی) کے خاموش عشق میں ایسے مبتلا ہوئے کہ شاعری کی سیڑھیاں چڑھنے لگے اور اس کی یاد میں لفظوں کا ایسا تانا بانا بنا کہ ملک کے ہزاروں نوجوانوں کو اپنی محبت کاا ظہار کرنے کے لیے بہترین غزلیں اور نغمے دے دیے۔ حسرت  خود رقم طراز ہیں کہ:
”شعر و شاعری کی تعلیم میں نے اپنے نانا جان سے حاصل کی لیکن عشق کا سبق رادھا نے پڑھوایا“
رادھا  اکثر جھروکے پہ آیا جایا کرتی تھی جسے دیکھ کر حسرت کہہ اٹھتے تھے     ؎
تو جھروکے سے جو جھانکے تو میں اتنا پوچھوں 
میرے محبوب تجھے پیار کروں یا نہ کروں 
مزید یہ کہ       ؎
تم سامنے بیٹھی ہو اور جان نکل جائے
مرنا تو کسی دن ہے ارمان نکل جائے
حسرت جے پوری سہل ممتنع کے قائل ہیں۔ اسی لیے انھوں نے اپنی شاعری میں عام فہم، پراثر اور پرکیف لب و لہجہ اختیار کیا۔ مشکل الفاظ سے پرہیزکیا اور کہا کہ مشکل الفاظ کو اس طرح استعمال کیا جائے کہ وہ آسان ہوجائے اور ہر کوئی ان سے متاثر ہوسکے۔ بقول حسرت جے پوری:
”شاعری خداداد ہے۔ شاعر بنتے نہیں اللہ پیدا کرتا ہے۔“
حسرت جے پوری اردو کے عظیم شاعر مولانا حسرت موہانی سے بے حد عقیدت رکھتے تھے۔ اسی نسبت سے آپ نے اپنا تخلص حسرت اختیار کیا۔ ان کی پہلی غزل کا یہ شعر ملاحظہ ہو    ؎
کس ادا سے وہ جان لیتے ہیں 
مرنے والے بھی مان لیتے ہیں 
حسرت جے پوری نے 1940 میں تلاش معاش کے لیے بمبئی کا رخ کیا اور تقریباً آٹھ سال بس کنڈکٹری کی۔ راہوں میں کئی تکالیف اٹھائیں لیکن کبھی ہمت نہیں ہاری۔ زندگی میں جو کچھ دیکھا محسوس کیا اسے اپنے الفاظ دے دیے۔ آپ دکھ اٹھاتے رہے، مسکراتے رہے، گنگناتے رہے، اور ان کی غزلیں اور نغمے انھیں سکون بخشتے رہے۔ فٹ پاتھ پہ ان کے ساتھ رہنے والے ان کے ساتھی ان کی محفل میں کردار نبھاتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ عزم محکم ہو تو خودراہیں نکل آتی ہیں۔ اس سلسلے میں ان کا ایک قطعہ ملاحظہ ہو    ؎
ظلمت شب میں بھٹکتے ہوئے راہی کے لیے
عزم محکم ہو تو راہیں بھی نکل آتی ہیں 
اپنی منزل پہ وہ انسان پہنچ جاتا ہے
بجلیاں خود اسے قندیلیں سی دکھلاتی ہیں 
اور اسی عزم محکم کا اثر رنگ لاتا رہا۔ دن میں بس کنڈکٹری کرتے اور رات کو بزم سخن سجاتے اور اسی مشق سخن نے انھیں ایک بس کنڈکٹر سے عظیم المرتبت شاعر اور گیت گار بنا دیا۔ جتنے ایوارڈ حسرت جے پوری کو ملے ہیں اتنے شاید ہی کسی شاعر کو نصیب ہوئے ہوں۔ 
حسرت جے پوری کی شاعری میں جو فنکارانہ حسن اور پرکاری ہے وہ دل کو چھو لینے والی ہے جس کا اعتراف ہر صاحب ذوق نے کیا ہے اور اسے احساس کی شدت کہیے یا ان کی سحربیانی۔ ان کے  اشعار کا تاثر ہر شعر میں اور ہر بار نئے انداز سے ابھر کر دل کے تاروں کو جھنجھوڑتا ہے، ان کے الفاظ خود بخود ترنم بکھیرنے اور گنگنانے لگتے ہیں، پڑھنے اور سننے والے پر ایک پرکیف نشہ طاری ہوجاتا ہے    ؎
مجھ سے خود ہے چمن کی زیبائی
میں گلوں کا کوئی سفیر نہیں 
مزید یہ کہ   ؎
حسرت جہاں میں اور ہیں لاکھوں غزل سرا
وہ کیا غزل جو ہوش جہاں کے اڑا نہ دے
حسرت جے پوری غزل کی اہمیت و مقبولیت اور اس کی عظمت کے قائل ہیں جس کا اعتراف اور غزل سے اپنی محبت کا اظہار اپنی غزلوں میں اس طرح پیش کرتے ہیں     ؎
ہے سہانہ غزل کا سفر
ختم ہوگا نہ یہ عمر بھر
میر و غالب بھی شیدائی تھے
اس حسینہ پہ دونوں بشر
ذوق و مومن بھی پروانے تھے
ہے یہ شمع بڑی معتبر
چلتی آئی ہے صدیوں سے یہ
لکھتے آئے ہیں داغ و ظفر
ابتدا کرگئے ہیں ولی
انتہا کرگئے ہیں جگر
ہر زباں پر ہے چھائی ہوئی
دشمنوں کی لگے نہ نظر
اس کے حسرت بھی شیدائی ہیں 
بات اتنی سی ہے مختصر
حسرت جے پوری کی غزل کا مجموعہ ’آبشار غزل‘ کے عنوان سے نومبر 1989 میں شائع ہوا جس میں تقریباً 128 غزلیں شامل ہیں۔ ایک ہی صفحہ پر اردو اور ناگری لپی میں غزلیں یکجا کی گئی ہیں۔ پیش لفظ فیاض رفعت نے قلم بند کیا ہے۔ حسرت جے پوری کی غزل پر فیاض رفعت نے اپنی ناقدانہ رائے کا اظہار کیا ہے:
”حسرت کی لفظیات قدیم و جدید کا بہترین امتزاج ہے مگر انھوں نے قدیم لفظوں کو نئی شکل عطا کی ہے۔ خوشبو، آنسو، جادو، چاند، پتھر، شبنم، آنچل، پائل، دھنک، نیند، تنہائی، سناٹا، مفلسی، مجبوری، درد و الم، بے کسی، فراق، تاثر، بیلا، گلاب، چمپا، چمیلی جیسے الفاظ استعاروں کی صورت میں غیرشعوری طور پر حسرت کی شاعری میں جگہ پاتے گئے۔ ان لفظوں میں حسرت کی شاعری کی دنیا آباد ہے۔“ (آبشار غزل، ص 7)
بلاشبہ حسرت کی شاعری میں پانی اور پتھر کے استعاروں کا استعمال انتہائی خوبصورتی سے ہوا ہے     ؎
بات سنتا نہیں وہ جان چمن پتھر کا
مجھ کو محبوب ملا شعلہ بدن پتھر کا
سانولا رنگ ہے کیا انگ ہے اللہ اللہ
صرف اتنی ہے کمی یار کا من پتھر کا
پھول کے بدلے برستے ہیں جفا کے پتھر
ہائے اس دور میں ہے اب تو چلن پتھر کا

کون بنیاد رکھے ماہ لقا پانی پر
آشیاں کون بناتا ہے بھلا پانی پر
آپ کے حسن خراماں کے تصدق جاؤں 
آپ چلتے ہیں کہ چلتی ہے صبا پانی پر
خود ہی لے کر گیا طوفان کنارے اس کو
وہ سفینہ تیری یادوں میں چلا پانی پر
یار کو جھوٹی محبت تھی کچھ ایسی حسرت
جس طرح نقش بناتی ہے ہوا پانی پر
.حسرت جے پوری کی غزل گوئی کو موضوعات کے لحاظ سے دیکھیں تو اس میں مختلف النوع مضامین کے درمیان ایک خاص موضوع عورت کا تصور بھی رہا ہے۔ حسرت عورت کی شان و عظمت کے نہ صرف قائل تھے بلکہ ان کے نزدیک عورت اللہ کی رحمت کا وہ شاہکار ہے جس کے مراتب کو ترازو میں تولا نہیں جاسکتا     ؎
اوتار و پیمبر کو جنم جس نے دیا ہے
اللہ کی رحمت کا وہ شہکار ہے عورت
عورت نہیں ہوتی تو جہاں کچھ نہیں ہوتا
دل جس پہ نچھاور ہے وہ دلدار ہے عورت
عورت کے مراتب بھی کوئی کم تو نہیں 
دنیائے محبت کی علمبردار ہے عورت
حسرت جے پوری کی جو بھی تخلیقات منظرعام پر آئیں اس پر اگر ناقدانہ نظر ڈالیں تو یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ ان کے فلمی گیتوں کے علاوہ ان کی اردو شاعری اور غزل کی خاموش خدمت کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ جو انھیں ایک بڑے شاعر کی حیثیت سے روشناس کراتی ہے۔ ان کی اسی ادبی خدمات کے پیش نظر دوسری عظیم الشان عالمی اردو کانفرنس کے چوتھے اجلاس میں جو 11 فروری 1989 کو دہلی کے پرگتی میدان میں منعقد ہوئی تھی۔ حسرت جے پوری کو ’جوش ملیح آبادی عالمی ایوارڈ‘ سے نوازا گیا۔ حسرت جے پوری 77 سال کی عمر میں  1999 میں اس دارفانی سے کوچ کرگئے۔

Shahid Ahmed
24, Behind Kalka Mata Temple
Ganesh Nagar Pahada
Udaipur - 313001 (Rajasthan)
Mob.: 08107868785



ماہنامہ اردو دنیا،نومبر 2019

 قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے



2/12/19

فوارہ آبپاشی سے پانی کی بچت اور بہتر کاشت کاری مضمون نگارـ محمد اویس



فوارہ آبپاشی سے پانی کی بچت اور بہتر کاشت کاری
محمد اویس

زراعت اور گلّہ بانی (Animal Husbandry) کے لیے پانی ایک اہم پیداوار ی عنصر ہے اوران کی ترقی کے لیے پانی بہت معاون ہے۔ملک میں موجود کل پانی کا تقریباً 78 فیصد حصہ زراعت میں آبپاشی کی شکل میں استعمال ہوتا ہے۔ لیکن پانی کی کم ہوتی دستیابی، ماحولیاتی تبدیلی اور معیشت کے دیگر شعبہ جات کی بڑھتی مانگ، مستقبل میں پانی کی گھٹتی دستیابی کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور ایک تخمینہ کے مطابق سال 2050  تک زراعت میں پانی کی موجودگی گھٹ کر 68   فیصد تک آنے کے امکان ہیں۔ نیتی آیوگ کی تازہ رپورٹ میں ملک میں پانی کے بحران سے آگاہ کیا گیا ہے اور سائنسی حقائق کی بنا پر زراعت میں پانی کی کھپت کو 50 فیصد سے کم کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ زراعت میں آبپا شی  کے لیے زمینی پانی کا تقریباً ایک تہائی حصّہ استعمال کیا جاتا ہے اور زمینی پانی کے اندھا دھند استعمال کی وجہ سے اس کی سطح میں گراوٹ ہو رہی ہے۔ آبپاشی کے روایتی طریقے میں زیادہ پانی کے استعمال اور نقصان کی وجہ سے بھی پانی کی کمی محسوس کی جارہی ہے کیونکہ اس سے کم رقبہ میں آبپا شی  ہو پاتی ہے۔ اس کے علاوہ آبپا شی  کے شعبے میں سبھی معیاروں (سرکاری اور ذاتی) پر مسلسل کوششوں کے باوجود ابھی ملک کے کل مزروعہ رقبہ کے آدھے سے کم (49  فیصد) حصے میں آبپا شی کی سہولیات مہیا کی جا سکی ہیں اور باقی زیر کاشت رقبے کی قسمت ما نسونی بارش پر منحصر ہے۔ تبدیلیِ موسم کا بارانی علاقوں پر سب سے زیادہ اثر ہوتا ہے اور ایک مطالعے کے مطابق بارانی فصلوں سے حاصل سالانہ آمدنی ا ٓبپا شی  والے علاقوں کے بہ نسبت 25 - 30  فیصد کم ہوتی ہے۔ ایسے حالات میں آبپا شی کے بہتر طریقوں (فوارہ اور قطرہ قطرہ) کے تحت زیادہ سے زیادہ زرعی رقبہ شامل کرنے کی ضرورت ہے جس سے کہ موجودہ پانی کا مناسب اور منافع بخش استعمال ہو سکے اور فی قطرہ زیادہ پیداوار اور آمدنی حاصل کی جا سکے۔
ان حالات میں پانی کی دستیابی بنائے رکھنے،زیادہ رقبہ میں آبپا شی کرنے اور لاگت میں کمی لانے کے لیے فوارہ ا ٓبپا شی طریقہ اناج فصلوں کے لیے ایک اچھا متبادل ہے۔ اس آبپا شی میں پانی کو چھڑکاؤ کی شکل میں فصلوں کو دیا جاتا ہے جس سے پانی پودوں پر بارش کی بوندوں کی طرح پڑتا ہے اور کھیت میں پانی کا بھراؤ بھی نہیں ہوتا ہے۔ اس طریقے سے ا ٓبپا شی  زمین کے ڈھلان کے مطابق کی جا سکتی ہے اور مٹی کا کٹاؤ بھی نہیں ہوتا ہے۔ چنانچہ پودوں کو برابر مقدار میں پانی ملتا ہے جس سے ان کی نشوو نما یکساں ہونے سے زیادہ پیداوار ملتی ہے۔اناج فصلوں کے علاوہ دلہن اور تلہن فصلوں کے لیے بھی یہ طریقہ بہت فائدہ مند ہے کیونکہ ان فصلوں میں کم پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔
خرد آبپا شی کی ترقی اور سرکاری اقدام  
نظامِ خردآبپا شی(Microirrigation)   پانی کا مناسب استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ زیادہ رقبے میں آبپا شی  کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ اس نظام میں دو طریقے فوارہ (Sprinkler)اور قطرہ قطرہ(Drip) رائج ہیں۔ پانی کی کم ہوتی موجودگی اور دیگر شعبہ جات کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے لیے خرد آبپا شی کو حکمت عملی کے طور پر سال 2005-06  میں مرکزی حکومت کے ذریعے اسکیم کی شکل میں شروع کیا گیا تھا۔ اس اسکیم کا جائزہ کرنے والی کمیٹیوں نے وقتاً فوقتاً اس میں بدلاؤ کیا۔ سال 2010  میں اس اسکیم کو National Mission on Microirrigation  اور سال 2014  میں پھر اسے National Mission on Sustainable Agriculture کے تحت ”کھیت میں پانی کا نظام“ کی شکل میں شروع کیا گیا۔ موجودہ وقت میں خرد آبپاشی اورآبپا شی کی دیگر اسکیموں کو وزیر اعظم زرعی آبپاشی اسکیم (2015) کے تحت شامل کر دیا گیا ہے جس کا خاص مقصد ’ہر کھیت کو پانی‘ اور’فی قطرہ مزید فصل‘ حاصل کرنا ہے۔ وزیر اعظم زرعی آبپاشی اسکیم کے شروع ہونے کے بعد کے سالوں میں خرد آبپاشی کے رقبے میں پرکشش توسیع ہوئی ہے اور اس کے تحت کل رقبہ بڑھ کر 11.58  لاکھ ہیکٹیئر ہو گیا ہے۔ جس میں قطرہ قطرہ 5.75 لاکھ ہیکٹیئر اور فوارہ کا 5.83 لاکھ ہیکٹیئررقبہ شامل ہے۔

خرد آبپاشی کی صوبہ وارانہ پیش رفت  

خرد آبپاشی خاص طور سے حکومت کے ذریعے اضافی امدادکے ساتھ اپنائی جا رہی ہے۔اس نظام ِآبپاشی کے تحت سب سے بڑا حصہ راجستھان میں (%19.4) تیار کیا گیا ہے اس کے بعد مہاراشٹرا  (%15.3)، آندھرا پردیش (%15.2)، گجرات(%12.4) اور کرناٹک (%11.4) آتے ہیں۔ ان کے علاوہ دیگر ریاستوں ہریانہ (%6.3)، مدھیہ پردیش (%5.2)، تملناڈو (%4.3) اور چھتیس گڑھ (%3.10)نے بھی خرد آبپاشی کے تحت رقبہ پوشی کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ مندرجہ بالا ریاستوں میں خرد آبپاشی کے تحت کل رقبہ کا تقریباً 93 فی صد حصہ محیط ہے۔ ان ریاستوں میں راجستھان کو خرد آبپاشی کے شعبے میں قیادت کرنے کا فخر حاصل ہے، جہاں نظام فوارہ کے تحت تقریباً ایک تہائی حصہ (%33) موجود ہے۔ تجزیہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہریانہ، گجرات اور کرناٹک وغیرہ ریاستوں میں فوارہ طریقہ کو اپنانے میں زیادہ دلچسپی ہے جبکہ آندھرا پردیش‘ مہاراشٹرا اور تملناڈو قطرہ قطرہ طریقے کو اپنانے کی جانب زیادہ متوجہ ہیں۔

فوارہ آبپاشی  کے فوائد  
جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے کہ اس طریقہ کار میں پانی کو فوارہ کی مدد سے فصل یا مخصوص پودوں پر بارش کی شکل میں برسایا جاتا ہے۔ فصل کی نوعیت کے اعتبار سے مختلف قسم کے فوارے استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس نظام کو چلانے کے لیے بڑے پمپ کی ضرورت پڑتی ہے تا کہ پانی کا دباؤ بنایا جا سکے۔ یہ نظام زیادہ تر روایتی فصلوں میں استعمال کیا جاتا ہے جس میں پانی کے پائپ زمین پر بچھانا مشکل یا  نا ممکن ہوتا ہے۔ اس طریقے میں زمین میں نمی بنی رہتی ہے اور پودوں کو برابر پانی ملتا رہتا ہے۔ اس میں آبپاشی کے ساتھ کیمیاوی کھاد، حشرات کش ادویات وغیرہ کا چھڑکاؤ بھی آسانی سے ہو جاتا ہے۔ایسا کرنے پر پانی کی بربادی نہیں ہوتی ہے۔فصلوں کے علاوہ گھاس کے میدانوں، پارکوں و سجاؤٹی پودوں میں بھی فوارہ آبپاشی کی جا سکتی ہے۔ شروعاتی دور میں ضمنی طور پر فوارہ کا استعمال  صرف چائے، کافی، سونف اور ڈھالدار کھیتوں میں اگائی گئی فصلوں میں کیا جاتا تھا۔

جدول1 :  فوارہ آبپاشی کے تحت پانی کی بچت اور پیداوار میں اضافہ

      فصل کا نام                     پانی کی بچت(%)                            پیداوار میں اضافہ (%) 
1       گندم                                   35                                                      24
2        جو                                   56                                                      16
3      باجرا                                  56                                                      19
4      کپاس                                   36                                                      50
5     چنا                                      69                                                      57
6     جوار                                     55                                                      34
7   سورج مکھی                            33                                                       20 
 پانی کی کمی والے علاقوں میں یہ طریقہ آبپاشی بہت زیادہ فائدہ مند ثابت ہو رہا ہے جس کے ذریعے پانی کی تقریباً  30-50 فیصد تک بچت کی جا سکتی ہے۔ موجودہ وقت میں تقریباً 3 ملیئن ہیکٹیئر زمین میں فوارہ کا استعمال ہو رہا ہے۔ 
حدود و قیود  
ان سب فوائد کے علاوہ اس کے کچھ حدود و قیود بھی ہیں جن کا ذکر حسبِ ذیل ہے:
1 -   یہ نظام تمام اقسام کی فصلوں کے لیے ایک جیسے نتائج نہیں دیتے ہیں۔
-2  فصلوں کے حساب سے ان کی استعداد کار میں تبدیلی آتی ہے۔
-3  اس نظام کی سب سے اہم ضرورت توانائی ہے اور اس کی تنصیب سے پہلے کاشتکار کے پاس بجلی کا کنکشن، جنریٹر یا شمسی توانائی کا ہونا ضروری ہے۔
-4  ہوا کی رفتار تیز ہونے کی وجہ سے پانی صحیح طریقے سے تقسیم نہیں ہو پاتا ہے۔ چکنی مٹی اور گرم ہوا والے علاقوں میں اس نظام سے آبپاشی نہیں کی جا سکتی ہے۔
-5  پانی کھارا نہ ہو، صاف ہو اور اس میں ریت،کنکر اور کوڑا کرکٹ نہیں ہونا چاہیے۔
وزیر اعظم زرعی آبپاشی اسکیم  

(PMKSY)
اس اسکیم کے اہم مقاصد میں کھیتوں کی سطح پر آبپاشی کے سلسلے میں سرمایہ کاریوں کا انضمام حاصل کرنا ہے یعنی آبپاشی (ہر کھیت کو پانی)کے تحت قابلِ کاشت رقبہ میں اضافہ کرنا، پانی کے ضیاع کو کم کرنے کے لیے کھیتوں میں پانی کے استعمال کی اثر پزیری کو بہتر بنانا، مناسب آبپاشی اور پانی کی بچت کی دیگر ٹیکنالوجیاں اپنانے میں اضافہ کرنا اور آبی ذخائر کی دوبارہ بھرائی میں اضافہ کرنا۔ اس کے علاوہ محیطی شہری کاشت کاری کے لیے میو نسپل پر مبنی صاف کردہ پانی کا دوبارہ استعمال کرنے کے قابل عمل ہونے کا پتہ لگا کر پانی کی بچت کے پائدار طریقے شروع کرنا اور آبپاشی کے نظام میں زیادہ سے زیادہ نجی سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے۔ اس طریقے کو اپنا نے سے 40-50  فیصد پانی کی بچت کے ساتھ 35-40  فیصد پیداوار میں اضافہ اور فصل کے معیار میں بہتری ممکن ہے۔ اس اسکیم کا فائدہ سبھی زمرہ کے کسان اُٹھا سکتے ہیں۔  اس اسکیم کو حاصل کرنے کے لیے کسان کے پاس اپنی زمین اور پانی کا ذریعہ ہونا چاہیے۔ایک کسان کو اُسی زمین پر دوبار ہ سات سال بعد اسکیم کا فائدہ لینے کی اجازت ہے۔فطری طور سے یہ اسکیم پانی کی بچت اور آبپاشی کے لیے ایک پائدار ماڈل کا باعث بن سکتی ہے۔ نیز آگے چل کر دیہی اور زرعی ترقی یقینی موجب ہو سکتی ہے۔

وزیر اعظم زرعی آبپاشی اسکیم کے تحت گرانٹ 
خواہش مند کسان اپنا رجسٹریشن اپنے صوبہ کے شعبہ زراعت اور باغبانی پر آن لائن درخواست جمع کر سکتے ہیں اور اس اسکیم کا فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔ رجسٹریشن کے لیے کسان کے پاس شناخت کے لیے آدھار کارڈ، زمین کے لیے کھتونی اور گرانٹ کی رقم منتقلی کے لیے بینک پاس بک کے صفحہ اوّل کی نقل ہونا لازمی ہے۔
قطرہ قطرہ اور فوارہ آبپاشی تنصیب کرنے والی رجسٹرڈ کمپنیوں میں سے کسی بھی فرم سے کسان اپنے مطلوبہ طور پر فراہمی/ تنصیب کاری کرانے کے لیے آزاد ہے۔کمپنی یا  اس کے ڈیلر کو BIS معیار کے مطابق سسٹم کے اجزاء کی فراہمی کرنا لازمی ہے اور فروخت کے بعد کم از کم 3 سال تک مفت سروس کی سہولت مہیا کرنا بھی کمپنی کی ذمہ داری ہے۔
قطرہ قطرہ اور فوارہ آبپاشی کے لیے چھوٹے و حاشیہ دار کسان کو یونٹ لاگت کی 90 فیصدگرانٹ سرکار کی طرف سے دی جاتی ہے۔ اس میں 50  فیصد مرکزی حکومت و 40   فیصد ریاستی حکومت کا حصہ شامل ہے۔ 10  فیصد لاگت کسانوں کو لگانی ہوتی ہے۔ دیگر زمرہ کے کسانوں کو یونٹ لاگت پر 80 فیصدگرانٹ دی جاتی ہے۔ باغبانی،زرعی اور گنّا فصلوں میں قطرہ قطرہ و فوارہ آبپاشی کو فروغ دینے اور زیادہ معیاری فصل پیدا کرنے کے لیے کسانوں کو حکومت اتر پردیش نے 35  فیصد اضافی امداد دینے کا نظم کیا ہے۔ حکومت اترپردیش نے سال 2018-19  میں  198.74 کروڑ روپیہ کی اسکیم میں درج فہرست اقوام /قبائل کسانوں کے لیے 42.74  کروڑ  روپیہ کا خصوصی بندوبست کیا ہے۔تنصیب کار کمپنیوں / فرموں کی مجوزہ قیمت کی بِنا پر حکومتِ ہند کے ذریعے تعین شدہ یونٹ لاگت کے مطابق ضلع کمیٹی کے تصدیق کرنے کے بعد گرانٹ کی رقم ڈائرکٹ بینیفٹ ٹرانسفر (DBT) سے براہ راست کسان کے کھاتے میں منتقل کی جاتی ہے۔
خلاصہئ کلام 
زرعی فصلوں کی پیداواربڑھانے میں پانی ایک کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔پانی کی عدم موجودگی اور زراعت میں پانی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے فوارہ آبپاشی ایک مناسب نظام ہے۔ اس نظام کے تحت آبپاشی کرنے سے زیادہ رقبے میں آبپاشی کی جا سکتی ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی اور صنعت کاری کی وجہ سے زراعت میں پانی کی دستیابی مستقبل میں ایک سنگین چیلنج ہو سکتا ہے۔اس لیے فوارہ نظام کو جامع سطح پر اپنانے کی ضرورت ہے۔

Dr. Mohd Awais
ICAR-National Insititute of Agrcultural Economics & Policy Research,
DPS Marg, Pusa, New Delhi - 110012
E-mail: drmohdawais@gmail.com
Mob.: 9319324585



ماہنامہ اردو دنیا،نومبر 2019

 قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے




تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...