13/4/20

شاہ غلام حسین چشتی ایلچ پوری ایک صوفی شاعر ایک ولی اللہ (1721-1795) مضمون نگار: حیدر بیابانی





شاہ غلام حسین چشتی ایلچ پوری
ایک صوفی شاعر ایک ولی اللہ (1721-1795)
حیدر بیابانی
تلخیص
شاہ سید غلام حسین چشتی ؒ علاقۂ برار (ودربھ) کے ایک صوفی شاعر گزرے ہیں۔ وہ برار کے دکنی ایوانِ شاعری کے اہم ستون ہیں۔ ولی دکنی کے بعد برج بھاشا کا جتنا اثر شاہ صاحب کے کلام میں نظر آتا ہے اتنا شاید کسی اور شاعر کے کلام میں ہوگا۔ شاہ حسین کے دکنی کلام پر علاقائی زبان مراٹھی (دراوڑی بھاشا) کا بھی کافی اثر دکھائی دیتا ہے۔
          آپ کا کلام علاقہئ برار میں بہت مقبول رہا ہے۔ آج بھی ان کی کئی طویل نظمیں علاقے میں نہایت پسند کی جاتی ہیں۔ اور زبان زدِ خاص و عام ہیں۔ اردو زبان میں منظوم سفر نامہ لکھ کر شاہ صاحب نے اولیّت کا درجہ پا لیا ہے۔ اس کے علاوہ اُن سے پہلے ہندو مسلم ایکتا پر لکھی گئی کسی کی کوئی نظم شایدہی کہیں ملے۔
کلیدی الفاظ
شاہ سیّد غلام حُسین ولی دکنی، ولی اللہ، توشیحی نظم، منظوم سفر نامہ، دکنی زبان،برج بھاشا، صنائع بدائع، عارفانہ صوفیانہ شاعری، ہندی بحور واوزان، کرشن ساہتیہ۔
——————
شہر اچل پور جو صوبۂ  مہاراشٹر کے علاقۂ ودربھ میں ضم ہوئے خطۂ برار کا وہ شہر ہے جو ودربھ کے وجود میں آنے سے پہلے سلطنت ِبرار کا پایہ تخت ہوا کرتا تھا۔ ست پڑا پہاڑ کے دامن میں بسا یہ شہر ماضی میں شاعروں، ادیبوں، صوفیوں اور فنکاروں کی آماجگاہ رہا ہے۔ دہلی سے حیدر آباد دکن جانے والے قدیم و واحد راستے میں واقع اس بستی سے بڑے بڑے بادشاہوں، سورماؤں، سپاہ سالاروں  اور بزرگوں کے ساتھ ساتھ چوروں، ڈاکوؤں اور ٹھگوں کا گزر بھی ہوا ہے۔
گمان غالب ہے کہ برار میں اسلام کی آمد شاہ دولہا رحمن غازی ؒ کے معرکۂ جہاد (392ھ بمطابق 1002) سے ہوئی لیکن یہ حقیقت ہے کہ ہندوستان میں حدیث کی روشنی سورت (گجرات) سے ہوتے ہوئے سب سے پہلے اچل پور میں نمودار ہوئی جس کے ثبوت میں یہاں عظیم الشّان تاریخی مدرسوں کا قیام اور ملک و بیرون ملک سے آئے مایہ ناز مدرسین کی آمد اور ان کے مزارات کو پیش کیا جاسکتا ہے۔ ہندو دیو مالائی گرنتھوں میں اس کا نام اچل پور ہی ملتا ہے۔ مختلف ادوار میں اسے اڑس پور، ایلچا پور اور ایلچ پور بھی کہا جاتا رہا ہے۔ اور اب پھر سے اچل پور کے نام سے جانا جانے لگا ہے۔
اچل پور کی ادبی تاریخ بھی اپنے اندر بلا کی آب و تاب رکھتی ہے۔ مراٹھی زبان کی پہلی نثر بعنوان ’لیلا چرتر‘ یہیں لکھی گئی جو سوامی چکر دھر مہاراج کے فرمودات پر مبنی ہے جسے اُس زمانے میں ماہم بھٹ نے تحریر کیا (اس تحقیق پر ڈاکٹر کولتے کو ناگپور یونیورسٹی سے ڈی۔لٹ کی ڈگری بھی تفویض ہوئی ہے) سوامی چکر دھر مہاراج جو مہاانو بھؤ پنتھ کے بانی گردانے جاتے ہیں۔ جہاں تک اردو شعر و ادب کا سوال ہے یہ شہر ہمیشہ ہی علم و فن کا گہوارہ رہا ہے۔ ایک وقت تھا جب یہاں پر قائم شدہ مدرسہ ملک بھر کا مرکز نگاہ بنا رہا دور  دور سے عالم و فاضل مدرسین حضرات یہاں تشریف لائے اور عربی و فارسی زبان میں درس و تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے ملک بھر سے طالب علم اور تشنگانِ ادب اپنی پیاس بجھانے یہاں آتے جاتے رہے۔ اس طرح کے علمی ماحول کے ہوتے یہاں سیکڑوں کی تعداد میں ادیب و شاعر پیدا ہوتے رہے ہیں جن میں ودربھ کا پہلا اردو نثر نگار حاجی امام الدّین عرف حاجی محمد عبداللہ (کتاب شہادت الانوار 1279ھ مرتبہ سید غلام علی بیابانی)  اور پہلا صاحب دیوان ہندو شاعر انبا پرشاد طرب (کتاب کلیات طرب 1327ھ مرتبہ سید غلام علی بیابانی) اسی شہر کی ہواؤں کے پروردہ تھے۔
اچل پور (برار) کے صوفی شاعر شاہ سید غلام حسین (1721 سے 1795) بڑے پائے کے بزرگ اور مستند شاعر گزرے ہیں جن کی کئی تخلیقات زبان زد خاص و عام ہیں اور جو مخطوطات کی شکلوں میں خطیبیہ لائبریری جامع مسجد میں محفوظ و موجود ہیں۔ شاہ غلام حسین غضب کے کاتب بھی تھے۔ اپنے حجرے میں بیٹھے قرآن پاک کی کتابت کرنے میں مشغول رہتے تھے۔ ان کے کئی مخطوطات خود ان کی خوبصورت کتابت میں شہر کے مختلف لوگوں کے پاس موجود ہیں۔ ان کا صوفیانہ کلام آج بھی شہر اور اطراف ِشہر بڑی عقیدت سے پڑھا اور سنا جاتا ہے۔ ان کی شاعرانہ عظمت کو سلام کرتے ہوئے ایک توشیحی نظم یوں کہی گئی ہے      ؎
ش::
شمار اُن کا ہے اگلے وقت کے روشن مناروں میں
گنیں اہل ادب ان کو قلم کے شہسواروں میں
۱:
اچل پور ان کا مسکن تھا، ادب کا جو ٹھکانہ تھا
یہیں پر زندگی گزری یہیں کا آب و دانہ تھا
ہ:
ہوئے تھے اُن پہ نازل علم و فن کے ایسے سی پارے
کہ جن کو پڑھ کے روشن ہوگئے ان پر طبق سارے
غ:
غلام ابنِ علی تھے وہ، ولی اللہ تھے بے شک
ادب پر حکمرانی تھی، قلم کے شاہ تھے بے شک
ل:
”لگن نامہ“، لکھا کیا خوب، کیا جادو بیانی ہے
ہے ایسی نظم کہ جس کی نہ کوئی نظم ثانی ہے
ا:
انھیں دل سے عقیدت تھی شہئ رحمن غازی سے
وہ منزل پا گئے اپنی رہ رحمن غازی سے
م:
مبارک نام والے تھے، مبارک کام تھے ان کے
خدا کی بندگی کو وقف صبح و شام تھے اُن کے
ح:
حکومت کرگئے ہر دل پہ اپنی بردباری سے
گزاری زندگی ساری کی ساری دین داری سے
س:
”سفر نامہ“، بھی اک منظوم ان کے نام ایسا ہے
زبانِ ریختہ میں سب سفر ناموں سے پہلا ہے
ی:
یہ جو ”یک رنگ نامہ“، ہے محبت کا سبق پہلا
ہے اردو شاعری میں ”قومی ایکتا“ کا ورق پہلا
ن:
نمائندہ کلام ان کا، چنندہ ان کی تحریریں
رہیں گی تا قیامت یونہی زندہ ان کی تحریریں


حیدر بیابانی
لگن نامہ
’لگن نامہ‘ شاہ صاحب کی وہ نظم ہے جو ان کی اپنی زندگی میں ہی بے حد مقبول و مشہور ہوچکی تھی۔ یعنی گھر گھر پڑھی اور سنی جاتی تھی اور آج بھی اُسی طرح پسند خاص و عام ہے۔ ہر میلاد کی محفل میں بڑے ذوق و شوق سے پڑھی اور بڑی عقیدت و احترام سے سنی جاتی ہے۔ دیوان حسین میں شامل اس نظم کے قدیم نسخے سالار جنگ میوزیم لائبریری حیدر آباد، انجمن ترقی اردو ہند علی گڑھ اور کتب خانہ جامع مسجد ممبئی میں موجود ہیں۔ اس کے ایک مخطوطے کا ذکر قومی کونسل کی کتاب ”تذکرۂ مخطوطات (از ڈاکٹر سید محی الدین قادری زور) میں بھی ملتا ہے۔ اس کی نقل بھی اس کتاب میں موجود ہے لیکن غالباً مخطوطہ آخر و اول ناقص ہونے کی صورت میں یہ خداداد جہاں نما کا ہوسکتا ہے۔ ایسا شک ظاہر کیا گیا ہے۔
’لگن نامہ‘ یہ پوری نظم تمثیلی انداز لیے ہوئے ہے۔ انسان کو ایک دلہن کا روپ دے کر اُسے آگے بڑھایا گیا ہے۔ اس دنیا کو عالم فانی قرار دے کر اس کو دلہن نما انسان کا میکہ مانا ہے۔ جہاں چند دن کا ٹھکانہ ہے لیکن سسرال یعنی عالم بالا اصل اور دائمی ٹھکانہ ہے۔ اس ٹھکانے پر جانے کے لیے اپنے اچھے اعمال کا سودا لے جانا نہایت ضروری ہے تاکہ سسرال میں دلہن کی قدر و قیمت ہو اور اس کا ٹھکانہ جنت نشان بن جائے۔ شیطان کو سوتن سے تعبیر کیا گیا ہے، ایک ایسی سوتن جو کبھی نہیں چاہتی کہ سجنی (انسان) کا ساجن (یعنی اللہ سے ملن ہو۔ اس لیے سجنی کو اپنے ساجن کے حصول کے لیے دنیا میں رہ کر ہر طرح کی کوششیں کرلینی چاہیے۔ یعنی اچھے اعمال کے ساتھ اپنے میکے سے رخصت ہونا چاہیے تاکہ اپنے ساجن کا قربت و خوشنودی پاسکے اس طرح شاعر نے اپنے علم اور معرفت کے ذریعے اس نظم کو صوفیانہ کلام کا بہترین نمونہ بنادیا ہے۔ نظم کا اسلوب ہندی کویتاؤں کی طرح ہے دکنی لہجے میں متروک الفاظ کے استعمال کے باوجود نظم بڑی سلیس اور رواں دواں ہوگئی ہے۔ ہندی، دکنی، براری اور کہیں کہیں مراٹھی زبان کی لفظیات کے استعمال کے ساتھ ساتھ عربی اور فارسی تراکیب بھی بڑی عمدگی سے نظم ہوئی ہیں     ؎
تمنا کو اے سہیلیاں میٹھا بچن سُنادوں
ٹک کان دھر سنو تو پیوں سوں لے جا ملا دوں
پیو کے اُپر تمہیں سب تن من اپس کا وارو
پیو کون سمجھ کے دل میں یک دم نکو بسارو
پیو کے چرن کی ماٹی سرمہ نین میں بھادو
مثلِ عبیر اُس کو ماتھے اوپر لگا  دو
پیو باج کوئی سانچا ساتھی ملے نہ دوجا
کیوں تجھ کوں اے دیوانی دنیا کا عشق سوجا
جو بن پو ہورہی کیوں بدمست اے دیوانی
جو بن کے آونے میں چلنے لگی اوتانی
جوبن ڈھلے گا تیرا، جیوں دوپہر کا سایا
دو دن کی زندگانی جوبن رہے نہ مایا
اس مایکے کے گھر سوں ہرگز نہ دل لگانا
جانا ہے ساسری کوں آخر وہی ٹھکانا
پھر مایکے کے گھر میں آنا نہیں دوبارا
کچھ سات اپنے لے کر چل ساسری کے ٹھارا
جب ساسری کے گھر میں پیو سوں ملاپ ہووے
تب مایکے کے گھر کے سپنوں سوں یاد دھووے
ساس اور ماں کے گھر کی پت کوں نبھا کے چلنا
اس دو پنے میں اپنی ست کوں نبھا کے چلنا
دونوں میں ہو کے شامل ہرگز دوئی نہ بھانا
دونوں کوں ایک تن میں آپس میں کر دکھانا
دل پیو کا ہات لینا دونوں میں رہ کے ہل مل
اپنا جنم نبھانہ کہ پیو کی یاد تل تل
مہری وہی ہے گرتی جس میں گرت پنا ہے
پوہڑ کے ہاتھ نیچے گھر بار سب فنا ہے
گرتی کے حق میں روزے ہے فاطمہٰ کا دامن
پوہڑ کی خاصیت ہے جیسے چڑیل ڈاین
دیکھو تمہیں سہلییاں گرتی کے کیا بنی ہے
من پیو کو موہنے کوں اوس پانی موہنی ہے
ساری سوہاگنوں میں وو ہے بڑی سوہاگن
پیو کے سہاگ کانت گہنا سو ہاوے جس تن
درکار نئیں ہے جگ میں اوس کو سوہاگ ابرن
ہے مہر پیو کی ذرہ کئی کئی ہزار ابرن
سوکن سکھی دوہا گن دن رات کڑکڑاوے
دونوں کا ایک ہونا ہرگز اوسے نہ بھاوے
دوکھ درد کی اگن میں نا دیکھ سکھ چلے ری
صدقے سوں پیو کے سر کی کچھ اس کانا چلے ری
سن اے سکھی ایانی میٹھا بچن یو میرا
سوکن کہاں ہے تیری اور پیوہے کون تیرا
توں مایکے کے گھر کو ں نادان ہو نہ جانے
بھئی ساسرے کے گھر کوں اب لگ نہیں پھچانے
چاروں حرف کے معنی میں تجھ کوں کھول بولوں
جو ہر شناس آنگے جوہر کا مول بولوں
پیو نام حق کا برحق تجھ دل میں نت بست ہے
سوکن تریچ تن میں شیطاں کی شیطنت ہے
دنیا کی زندگانی ہے مایکے کا پھیرا۔۔۔ٗ
آخر کا گھر مدامی و و  ساسرا ہے تیرا
سارا ظہور جگ کا ہے تجھ بدن کے بھیتر
ظاہر ہے پیو کی صورت تیرے نین کے بھیتر
 مصحف میں نحنُ اقرب رب نے خبر دیا ہے
پتلی میں تجھ نین کوں یو بھید کیا کیا ہے
اس بھید کو سمجھ کر اللہ کا دید کرنا
بازار بھر رہا ہے سودا خرید کرنا
ایمان نقد پونجی تیرے کنے عجب ہے
مت جائے بات خالی سودے کا وقت اب ہے
اندھی رہے گی وو کوئی غفلت سوں اس جگت میں
اندھیچ وہ اُٹھے گی آخر کوں آخرت میں
اللہ پیو کوں اپنے حاصل یہینچ کرنا
شیطاں اگر ہے سوکن کچھ دل میں ڈر نہ دھرنا
دنیا کے مایکے سوں ہر گز نہ کر محبت
آخر کے ساسرے میں پیو بن نہ مانگ جنت
ہر حال اے سہیلی رکھ چاہ اپنے پیو کی
بوڑھے بڑے کے پیچھے لے راہ اپنے پیو کی
بالک پنا اپس کا سب کھیل میں گنوائی
آخر ہوئی جوانی پیو کا مزہ نہ پائی
تجھ عمر کے چمن کی ہوئی ہے بہار آخر
تجھ قد کے جھاڑ اوپر دستا ہے بار آخر
تجھ تن کے باغ بھیتر باد خزاں پڑی ہے
گرتے ہیں پھول جھڑ جھڑ ہنگام پت جھڑی ہے
نرگس نین سوں تیرے یو جوت اب جلے گی
سوسن زبان تیری لذّت کوں تل ملے گی
خوش    رنگ   مثل    لالہ  چہر ا   تر ا      رنگیلا
جیوں رنگ گلِ اشرفی ہووے ترنج پیلا
ہے   ایک   جانور  کا   تجھ    جھاڑ   پر    بسیرا
ہووے اڑان اُس کا اب سانجھ یا سبیرا
رہتا نہیں ہے دایم اس پینجرے کے بھیتر
یک دن ہے پینجرے میں یک دن ہوا کے اوپر
پھر پینجرے کے بھیتر آتا نہیں دوبارا
سٹ پینجرے کوں خالی جاتا ہے جان ہارا
اس رمز کوں سمجھنا یو جانور سو کیا ہے
اور  اوس کا پینجرا بھی رہنے کا گھر سو کیا ہے
کانو سوں دل کے سن لے کیا خوب یو بچن ہے
ارواح جانور ہے اور پینجرا بدن ہے
دائم رہے نہ ہرگز ارواح تجھ بدن میں
قائم رہیں نہ پھولاں کھل کھل کے پھول بن میں
اپنے چمن کے پھولاں مالی اپیچ توڑے
اس جھاڑ بارور کوں اس باج کون جھوڑے
وہ پھول بھی اپیں ہے مالی بھی وہ اپیں ہے
وو جھاڑ بھی اپیں ہے ڈالی بھی وہ اپیں ہے
قمری بھی وو اپیں ہے بلبل بھی وو اپیں ہے
گلشن بھی وہ اپیں ہے، سنبل بھی وو اپیں ہے
جنگل بھی وو اپیں ہے اور باغ بھی اپیں ہے
لالہ بھی وو اپیں ہے اور داغ بھی اپیں ہے
چاروں طرف جگت میں بھر پور سب ووہی ہے
تجھ مکھ پو اے سہیلی یو نور سب ووہی ہے
دانے پرو کے دم کے تسبیح دل کی سجنا
سمرن سوں اپنے من کی اللہ ھو کو بھجنا
ہووے گی عمر آخر موہن سوں من لگالے
اپنے لگن کا نامہ لکھ کر لگن لگالے
لکھتا ہوں پیو طرف سوں تیرے لگن کا نامہ
نوبت لگن کی ہو کر بجتا رہے دمامہ
رکھ دل میں چاہ پیو کی میرے کنے تو آئے
ساری بتھا اپس کی سب کھول کر سنائے
پیو آپ جانتا ہے بندی کے دل کی خواہش
کئی کئی طرح سوں اُس کوں کرتا ہے آزمائش
تجھ میں اگر سہیلی کچھ سات پانچ نئیں ہے
رکھ دل میں سانچ اپنے کچھ اُس کوں آنچ نئیں ہے
سر پر چھڑا کے اپنے پیو کا سہاگ لے چل
اب لگ رہی ابھاگی اب نیک بھاگ لے چل
سنتی اگر نہیں توں اُس آخری سگن کوں
پنڈت بچار پوتھی بولیا ہے اس سگن کوں
پیو کی طرف سُوں آیا دولہن کوں جب بولاوا
سنگت کی سب سہیلیاں رو رو کریں بدھاوا
اور سب سکھیاں سہیلیاں دے نیوتا بولایاں
شادی کے گھر میں وو سب دلگیر ہوکے آیاں
کپڑوں کا بیونت کر کر دولہن کے تن برابر
اُس کا برن کیاں سب تیار سی سلا کر
چوّا، عبیر، چندن خوشبوئی سب لگا کر
جوڑے کوں تہہ کیاں ہیں کیا خوب چن چناکر
دولہن کوں گود میں لے باہر اُٹھا کے لایاں
کلمے کے گیت گا گا مل مل بدن نہلایاں
کاجل، مسی لگا کر جوڑا اوسے پنہایاں
مثل پری بناکر لے تخت پر اوڑایاں
پھر کر نکاح پھڑنے دولہن کا تخت رکھ کر
مجلس کو زیب دینے باندھیاں صفاں برابر
قاضی نکاح پڑھنے ہو کر امام آیا
وارث، وکیل مطلق اور شاہداں بولایا
وارث وکیل نے جب اپنی زباں سوں بولا
دولہن کا مہر کہتے دل میں اُٹھا ملولا
سب شاہداں نے بولے جب کلمہ شہادت
باندھیا نکاح قاضی ہے سب کوں عام رخصت
سارے سکھیاں سہیلیاں دولہن کا تخت لے کر
دینے چلے ہیں جلوہ نے کوٹھری کے بھیتر
اس تنگ کوٹھری میں جلوہ لگا سولایاں
آپس نکل کے باہر جلدی سوں پٹ لگایاں
اس ٹھار پر بچاری دولہن پڑی اکیلی
کوئی ایک بھی رہی نئیں اس کی سکھی سہیلی
ہے کوٹھری اندھاری اس میں دیوا نہ باتی
پیو بن نہیں ہے کوئی اس وقت سنگ ساتی
اس تنگ کوٹھری میں پیو باج ہے اندھارا
جو پیو سوں ہووے لٹ پٹ اس کوں دسے اوجالا
سورج کے ڈوبنے میں دستی ہے رین کالی
وو چاند پاس ہے تو ہے چاندنی اوجالی
پیو کے بدل پپیہا پیو پیو پوکارتا ہے
کیا خوب دوستی توں دم پیو کا مارتا ہے
توں بھی لگن اپس کے پیو سوں لگا سہیلی
پیو ہے سنگات تیرے توں مت رہے اکیلی
چشتی حسین نے اب مرشد سوں فیض پایا
تیرے لگن کا نامہ کیا خوب لکھ سنایا
چشتی حسین فدوی پیران پیر کا ہے
 درویش سیدوں میں میران میر کا ہے
چشتی حسین دل سوں پیو کا غلام ہے گا
اُس کے لگن کا نامہ تمت تمام ہے گا
سفر نامہ (منزل)
’سفر نامہ‘ کی روایت بہت قدیم ہے۔ قبل مسیح سے سفر نامے لکھے جارہے ہیں۔ لیکن عربی سیاحوں نے اس صنف سخن کو بام عروج پر پہنچایا۔ اردو زبان میں دو لفظوں پر مشتمل اس صنف ادب کا نام ’سفر نامہ‘ عربی اور فارسی زبانوں کا مرہون منت ہے۔ ’سفر‘ عربی زبان کا لفظ ہے اور ’نامہ‘ فارسی زبان کا۔ ایک شخص ایک مقام سے دوسرے مقام تک جائے تو وہ سفر کہلائے اور دوران سفر یا بعد از سفر اس سفر میں پیش آنے والے حالات ضبط تحر یر میں لائے تو وہ ’نامہ‘ (مضمون یا کتاب) ہوجائے۔
اردو میں طبع زاد سفر ناموں سے پہلے ترجمہ شدہ سفر ناموں کا بول بالا تھا۔ اب تک اردو نثر یا نظم میں پہلا طبع زاد سفر نامہ ’عجائبات فرنگ‘ (1948) کو سمجھا جاتا رہا ہے جو محمد یوسف کمبل پوش حیدر آبادی نے اپنے انگلستان کے سفر کے بارے میں تحریر کیا تھا۔ لیکن اس سے پہلے اچل پور برار کے استاد شاعر شاہ غلام حسین چشتی نے ایک منظوم ’سفر نامہ‘ منزل منزل کے عنوان سے لکھ دیا تھا۔ 88 اشعار پر مشتمل یہ سفر نامہ اردو کا پہلا سفر نامہ ٹھہرتا ہے۔ اب جبکہ نئی ایجادات موٹر، ریل گاڑی اور ہوائی جہاز وغیرہ کے ہوتے سفر میں بہت آسانیاں ہوچکی ہیں لیکن شاہ صاحب نے اچل پور سے اورنگ آباد کا سفر پونے چار سو کلو میٹر، بیل گاڑی سے کیا۔ سفر کو وسیلہ ظفر جان کر کیا جانا الگ بات ہے لیکن آپ نے یہ سفر اپنے پیر و مرشدشاہ اسماعیل کے پیر و مرشد نظام الدین اورنگ آبادی کی زیارت کی غرض سے کیا تھا۔ باوجود پیرانہ سالی کے انھوں نے یہ سفربڑے جوش و خروش اور عقیدت کے جذبے کے ساتھ کیا اور اس کی روداد خوبصورتی سے منظوم کردیا۔ شاہ صاحب کا یہ سفر اپنی عمر کے آخری پڑاؤ یعنی 1785  سے 1705 کے درمیان میں ہوا۔ یہ سفر نامہ دورانِ سفر ہی لکھا گیا تھا۔ دوران سفر جہاں جہاں قیام ہوا اور منزلیں بدلیں وہاں وہاں منظوم سفر نامہ کی بحریں بھی بدلتی گئیں۔ تاریخی اعتبار سے یہ سفر نامہ جس قدر اہمیت کا حامل ہے۔ اتنا ہی لسانی حیثیت سے بھی اپنی مثال آپ ہے۔
منزل
پیروئے مصطفےٰ نظام الدین
صوفی باصفا نظام الدین
میری حاجت روا کرو یا پیر
تم ہو مشکل کشا نظام الدین
مجھ مسافر کو راہ دیکھلا دو
ہادیئ رہنما نظام الدین
درس کی بھیک دیو بھوکے کوں
ہوں تمہارا گدا نظام الدین
اب تمھارے طواف درگہ کا
شوق دل نے کیا نظام الدین
چھوڑ دے کر مکان ایلچپور
ایلچ پور میں مسافر ہوا نظام الدین
شاہ رحمں میرے ہیں پشتیاں
ہو تمھیں پیشوا نظام الدین
پیر میرے ہیں شاہ اسمٰعیل
تم ہو پیر ان کے یا نظام الدین
ہے مسافر غریب پنچھی کوں
آب و دانہ نوا نظام الدین
روز بستی نوی نظر آوے
لوگ نا آشنا نظام الدین
ہے غلامِ حسین فدوی پر
فضل کرنا بجا نظام الدین
منزل
ناظم کشور دیں شاہ نظام الدیں ہیں
مرشد صدر نشیں شاہ نظام الدیں ہیں
درۃ التاج شہاں بادشاہ ہر دو جہاں
زینت تخت نگیں شاہ نظام الدین ہیں
شرف ملکوت سما اشرف مخلوق زماں
فخرِ انسانِ زمیں شاہ نظام الدین ہیں
صاحب نام و نشاں رونق درگاہ و مکاں
اہلِ تمکین و مکیں شاہ نظام الدین ہیں
قطع منزل سوں زیارت کوں چلا جلد حسین
دن بدن دل میں قریں شاہ نظام الدین ہیں
منزل
رہا پیچھے اب ایلچپور یا مرشد نظام الدین
انگے آیا ہے بالا پور یا مرشد نظام الدین
تمھارے درس خاطر چھوڑ میں رحماں نگر نکلا
نگر دل کا رکھو معمور یا مرشد نظام الدین
تمھاری ذات میں دیکھوں ظہور اب شاہ رحمں کا
سراپا ہو رہوں پر نور یا مرشد نظام الدین
دیکھوں تصویر اسمٰعیل کی تمنا کی صورت میں
رہوں نت شوق سوں مسرور یا مرشد نظام الدین
حسین آوے نہ قدرت سوں مقدر اس کوں لایا ہے
اوسے بس اسقدر مقدور یا مرشد نظام الدین
منزل
ہمیں قسمت نے ایلچپور سوں جنگل میں لایا ہے
ہے بالا پور پیچھے اب یو بالا گھاٹ آیا ہے
ہمیں اس گھاٹ کے چھڑنے کی سختی سوں نہیں کچھ غم
نظام الدین سا رہبر دستگیر اب ہم نے پایا ہے
ہلاک راہ کا اور دھوپ کی گرمی کا کیا ڈر ہے
ہمارے سر پر اسمعٰیل اہل اللہ کا سایا ہے
خدا حافظ ہے اس کا خوف یک ذرّہ نہیں اس کوں
عقیدت سوں جو فدوی پیر کامل کا کہایا ہے
ووہی حافظ، ووہی ناضر، ووہی حاصر ووہی ناظر
حسین اب دل میں اپنے دھیان موئے سوٗں لگایا ہے
منزل
نظام الدین کا ہم کوں اس سفر میں آسرا دستا
بجز ان کے ہمیں رہبر نہیں کوئی دوسرا دستا
نوا جنگل، نوے جھاڑاں، نوی بستی، نوے لوگاں
نوا کھانا، نوا پینا، نوا آب و ہوا دستا
چلے ہم گھاٹ چھڑ کر دستگیری سوں وو مرشد کے
نہیں اس راہ کے چلنے سوں ڈر میداں صفا دستا
نہایت آرزو ہے ان کا درسن ہووے بیگی سوں
ہمارے دل کا عالم بے قرار و مبتلا دستا
حسین آتا ہے سرسوں سر اوپر اس کے قدم رکھنا
نہایت خاکساری سوں تمھارا خاک پا دستا

منزل
نظام الدین سوں ہم نے دل لگائے
اب امڑا پور کے منزل سوں دھائے
لیے ہیں راہ بنیاد خجستہ
اتر کر پیم گنگا پار آئے
سکونت کرکے ایلچپور نگر میں
دم رحمن غازی ہم جگائے
ہمیں اصلاً خطر نئیں اس سفر سوں
نظام الدیں سا رہبر ہم نے پائے
ہیں اسمٰعیل ہم بندوں کے خاوند
حسین اب ہات میں ان کے بگائے
منزل
نظام الدیں ولی مشکل کشا ہیں
ہمارے مرشدِ حاجت روا ہیں
نظام الدیں نے ٹالے کل بلایاں
دعائے وافع قہر و بلا ہیں
نظام الدیں کا ہم کوں آسرا ہے
ولئی والئی ہر دوسرا ہیں
نظام الدیں امیر ناظم دیں
نظام ملک قلبِ اولیاء ہیں
نظام الدیں سوں مانگے درس کی بھیک
حسین ان کے ہمیں عاجر گدا ہیں
منزل
راہ اس شہر کی پہاڑی ہے
جنگل اوپر تمام جھاڑی ہے
خار کے جھاڑ کی قطار وسے
باڑ ہے پن نہ ایک باڑی ہے
ملک ویران بے چراغ و خراب
کم ہے بستی بہت اوجاڑی ہے
آب کمیاب مثل آبِ حیات
چاہ نئیں، ہے تو بے گھڑاڑی ہے
کوچ ہے اب پلاس کھیڑے سوں
راہ میں موضع وبھاڑی ہے
جلدی ہم آویں یا نظام الدین
پن سواری ہمن کی گاڑی ہے
پیر کے عشق میں چلا ہے حسین
گرچہ وو عاشق بڑاڑی ہے
منزل لاڑ سانگوی
کھانا اب لاڑسانگوی کا ہے
پانی اس دودنا ندی کا ہے
صاف شیریں ہے دو دنا کا آب
آب و تاب اس میں دودھ گھی کا ہے
ہم غریباں مسافراں کتیں
آسرا حضرت نبی کا ہے
ہے مدد حضرت نظام الدین
سر اوپر سایہ اُس ولی کا ہے
آج پہنچے گے منزلِ مقصود
اے حسین اب ہلاس جی کا ہے
منزل خجستہ بنیاد
مجھ دل میں بسی ہے پیر کی یاد
سینے کا نگر ہوا ہے آباد
دروازۂ من ہوا ہے روشن
آیا نظر خجستہ بنیاد
داخل ہوئے آکے اس نگر میں
کرنے کوں طواف جد امجاد
درگاہ پناہ جاں کی دیکھی
ہے عالمِ جاں چھان چھان شاد
فتراء میں نطام الدیں ولی کے
درویش ہوا حسین آزاد
مدح
نظام الدیں ولی کی خانقاہ آباد کر یا رب
جو دشمن ہوئے اس گھر کا اسے برباد کر یارب
مراد ہمناکے صاحبزادہا کے دل کی بر آوے
جو ان کا دوست ہے ان کا درد ناشاد کر یارب
نگر سینے کانت بستا رہے ان کی محبت سوں
مریداں طالباں کا جان و دل آباد کر یا رب
عقیدت سوں جو آوے چل کے اس مرشد کے روضے میں
اُسے درگاہ سوں اپنے عطا ارشاد کر یارب
حسین احقر فقیروں میں دسیا ہے طالب مولٰے
اوسے ہر دو جہاں کی قید سوں آزاد کر یارب
مدح
آج ہم روضے چلے کرنے کوں شاہاں کا طواف
مکہّ خوردِ زیارت گاہ مرداں کا طواف
دولت آباد اب ہمیں دکھنے لگا ہے دور سوں
ہے مگر وھاں سانکڑی سلطاں سے سلطاں کا طواف
شاہ مومن سوں بھی اس بستی کوں ہے امن و اماں
مومناں کے حق میں ہے جیوں دین و ایماں کا طواف
جب گیا درگاہ میں برہان الدیں کے میں فقیر
ہو نماز جمعہ سوں فارغ کیا وھاں کا طواف
ہیں گے چودا سو ولی کے بادشاہ برہان الدیں
اب ہوا حاصل مجھے اُس دین برہاں کا طواف
خادم برہان دیں ہیں شاہ زین الحق ولی
زینت حق ہے ہمیں ان حق شناساں کا طواف
زرزری زر بخش کی بخشش سوں تن من زر ہوا
دل اوپر اب فرض ہے اس زیور جاں کا طواف
حضرتِ قتال راجو قاتل کفّار ہیں
عشق کے شہدا کریں شمشیرِ براں کا طواف
ہیں حسن شیر اس مکاں میں برزخ شیر حسن
حسن میں دستا ہے ان کے شیر یزداں کا طواف
حضرتِ خواجہ حسین و حضرتِ خواجہ عمر
ایک گنبد میں کیئے ہم دونوں بھایاں کا طواف
سید احمد کبیر و اکبرِ والا نسب
خوب ہے اس سید پیر کبیراں کا طواف
دفن ویراں میں ہوئے ہیں حضرت گنج رواں
دل کی بستی میں کرو اس گنج ویراں کا طواف
حضرت گلّہ رواں کی یاد میں گلرواں
گلہّ قرباں ہوکروں اس گلہّ قرباں کا طواف
ہیں وو ظاہر خاکسار ازروئے باطن شہسوار
خاکساری سوں کروں ان خاکساراں کا طواف
اوس مکاں کے اولیاء کا کاں تلک لکھنا بیاں
دل سوں اب کرنا بجا ہے سب محباّں کا طواف
پھر چلوں حضرت نظام الدیں بڑے مرشد کنے
کرکے حاصل اس اس نظام دینِ د وراں کا طواف
لے کے رخصت جاووں پھر رحماں نگر کی راہ لے
شہر داخل ہووں کر کر شاہِ رحماں کا طواف
حال دل سب جاکے بولوں شاہ اسمٰعیل کوں
صدق دل سوں جاکروں اس پیرِ پیراں کا طواف
پیر کے قدموں کے نیچے نت رہوں تا زندہ گی
وقت مرنے کے کروں اس شمس تاباں کا طواف
روضہئ جنت نشاں مرشد کا جب دیکھوں حسین
قمریئ دل جاکرے اس سرو بستاں کا طواف
منزل گشتن
ہم گئے تھے چھڑ کے بالا گھاٹ پوں
اب اُتر آئے ہیں دیول گھاٹ سوں
گئے تھے ایلچپور سوں تنہا ہمیں
فضلِ مرشد سے پھرے اس ٹھاٹ سوں
دین کا سودا بنج گھر کوں چلے
دل لگا رحماں نگر کے ہاٹ سوں
جاکر یں گے شاہ رحماں کا طواف
پار ہو بچھن ندی کے پاٹ سوں
اے حسین اب شاہ اسمعٰیل پاس
جائیں گے ہم چشم دل کے باٹ سوں
یک رنگ نامہ:
اردو میں ہندو مسلم ایکتا کے گیت سب سے پہلے کبیر نے گائے لیکن اب جبکہ ہندی والوں نے کبیر پر پورا ادھیکا ر جمالیا ہے تو ہمیں اردو زبان میں بھائی چارے اور قومی یکتا کی پہلی آواز شاہ غلام حسین کے کلام میں سنائی دیتی ہے۔ گویا ہندو مسلم یک رنگ نامہ اردو کی سب سے قدیم نظم ہے جس میں ہندؤں اور مسلمانوں کو یک جہتی کا سبق پڑھایا گیا ہے۔ اور بڑے عارفانہ انداز میں دونوں کے مذاہب میں شامل کیے گئے ان آڈمبروں کا مذاق اڑایا گیا جو ان کی پہچان بن گئی ہے۔
یو دونوں جنھے ایک جاگا سوں آئے
جگت میں مسلمان ہندو کہائے
گھڑا ہے کمار ایک ماٹی کے بھانڈے
ہوا کون ملاں، ہوا کون پانڈے
یو دونو جھنے کیوں بہکتے چلے ہیں
کدھر سوں، کدھر کوں بھٹکتے چلے ہیں
مسلمان مسجد میں سجدے کوں وہاویں
وو ہندو بھی پوجا کو دیول میں جاویں
وہاں جاکے ماٹی کی دیوار دیکھیں
اپس گھٹ کوں چھانے تو دیدار دیکھیں
مسلمان تسبیح لنبی پھراویں
وو ہندو بھی مالا بھکل کر دیکھاویں
دیکھاتے ہیں لوگوں کو دانے پھرا کر
اپس من کا منکانہ ہیریں ہرا کر
مسلمان اللہ کا نام بولیں
وو ہندو بھی ہر ہر جپیں رام بولیں
زباں سوں کہے دل سوں اپنے بساریں
وو حاضر کو غائب سمجھ کر پوکاریں
مسلمان جاہو ویں مکے کے حاجی
وو ہندو بھی جاہو ویں کاسی کے باسی
گھروں گھر پھریں ڈھونڈتے ہو دیوانے
اپس گھر میں دیکھں تو جانے پچھانے
مسلمان سب غسل کر پاک ہو ویں
وو ہندو بھی اسنان کر تن کوں دھوویں
اپس کوں بناکر پھریں ہو کے چھیلا
کریں تن کو اُجلا رکھیں دل کوں میلا
مسلمان پھڑتے ہیں مسئلے کتاباں
وہ ہندو کریں بید پوتھی کے باتاں
بغل میں پھریں مکر (کا) لے کے دفتر
نہ سمجھے پرت پنتھ کا ایک اچھّر
مسلمان کوں گور میں لے دبادیں
وو ہندو کو لے کر اگن میں جلا دیں
پڑی ڈھیر ماٹی نکل جیو گیا ہے
دبا کیا دیا اور جلا کیا دیا ہے
مسلمان سنت کرا گوشت کھاویں
وو ہندو چھدا کان چوٹی رکھاویں
وہیں سوں اسی بھانت کیوں ہو نہ آئے
یہیں آکے جھگڑا دوئی کا مچائے
دوئی عشق کے پنتھ میں نئیں ہے یارو
مسلمان ہندو یو اچھرّ بچارو
تمہیں کفر و اسلام کی بات سمجھو
اندھیارے اوجالے کوں دن رات سمجھو
اسی رات میں دن ہے اور دن میں ہے رات
مری بات سمجھو تو ہے بات میں بات
مسلمان ہندو تمھیں فرض جانو
پچھانت کوں دنیا میں جیوں قرض جانو
بھی اندھے رہیں گے جو کوئی اس جگت میں
اوٹھیں گے وواند ھیچ ہو آخرت میں
اسی جگ میں آنا نہیں پھر دوبارا
چلا جائے گا جان یو جان ہارا
اسی گھٹ میں اللہ کوں پہچان لینا
بھروسا نہیں جان کا جان لینا
ووہی ذات میں سب کے پرگھٹ ہوا ہے
اُسی نور سوں پور گھٹ گھٹ ہوا ہے
ووہی کل شی محیط ایک ہے گا
اُسی ایک کا سب طرف بھیک ہے گا
ترے گھٹ میں شہ رگ سوں نزدیک ہے رب
کہا اوس نے قرآن میں نحن و اقرب
تری ذات میں دو اپیں ذات ہے گا
سمجھ  و ھو معکم ترے سات ہے گا
اپس گھٹ میں تحقیق کر یک حرف کوں
یو دفتر کوں سٹ دھو کے لے یک حرف کوں
عجب کنت کنزاً کا سانچا رتن ہے
غلام حسین و حسن کا بچن ہے
الغرض یہ کہ شاہ غلام حسین نے اپنے براری دکنی لہجے کی شاعری کو نئے مدارج عطا کیے ہیں اور بہت سارے میدانوں میں اولیت کا سہرا اپنے سر باندھ لیا ہے۔ ویسے دیکھا جائے تو شاہ صاحب کے والدین کا وطن جائس (اتر پردیش) تھا اس لیے آپ کے کلام میں برج بھاشا کا کافی اثر ہے اور دوسرے آپ کی پیدائش و پرورش اچل پور میں ہوئی یہی وجہ ہے مقامی (دکنی براری) زبان شاعری میں غالب نظر آتی ہے۔ کہیں کہیں مراٹھی زبان کے چھینٹے بھی مزہ دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ نے عربی و فارسی تراکیب کا استعمال بڑی خوبصورتی سے کیا ہے۔
          زیر نظر تینوں نظموں میں زبان و بیاں کی وہی خوبیاں ہیں جو ان کے تمام کلام میں موجود ہیں۔ بعض لسانی خصوصیات بڑی توجہ طلب ہیں خصوصاً وہاں جہاں علاقائی و مقامی لب و لہجہ اختیار کیا گیا ہے۔ آپ نے کہیں کہیں املے میں تحریف بھی کی ہے اور گاہے گاہے تلفظ میں بھی فرق رکھاہے۔ بطور نمونہ چند الفاظ تحریر ہیں۔ جیسے کو، کو کوں اور  اور سے کو سوں۔
کوں: کو
سوں: سے
اُپر: اوپر
نئیں: نہیں
پو: پر
آوے: آئے
جیوں: جیسے
دونو: دونوں
وو: وہ
اوسے: اسے
آنگے: آگے
دستا: دکھتا
یو: یہ
پھچانے: پہچانے
چھڑا: چڑھا
توں: تو
ووہی: وہی
سوہاگ: سہاگ
کانو: کانوں
بولیا: بولا
بولاوا: بلاوا
کیاں: کیا
اوسے: اسے
پھڑنے: پڑھنے
اوٹھا: اُٹھا
بولا یا: بلایا
صفاں: صفیں
باندھیا:باندھا
دولھن: دلہن
لگاسو: لگاکے
اندھاری: اندھیاری
دسے: دیکھے
اوجالا:اُجالا
دیوا: دیا
پوکارتا: پکارتا
دیکھلادو: دکھلادو
دستی: دکھتی
کہایا: کہلایا
چھڑنے: چڑھنے
دیو: دو
آویں: آئیں
بلایا: بلائیں
نوا: نیا
نوی: نئی
زندگانی: زندگانی
پن: پر
کاں: کہاں
دود: دودھ       
تمنا: تم کو
ہمنا: ہم کو
کہائے: کہلائے
ملاں: ملا
دیکھاتے: دکھاتے
بید: وید
جیو: جی
ہے گا: ہوگا      




نظموں میں چند مقامی دکنی الفاظ یوں در آئے ہیں جیسے
باج۔۔۔بھی۔۔۔ بغیر :  ابرن۔۔ زیور          ٹھار۔۔۔ٹھکانہ     سنگات۔۔ساتھ    بھایاں۔۔۔بھائی  
بیگی۔۔۔جلدی     بساریں۔۔۔بھلائیں          چھان۔۔۔اچھا     گرتی۔۔۔گرہستی اپیں۔۔۔خود
اس طرح شاہ صاحب نے اپنے کلام کو رنگا رنگ دھنکی کی صورت آسمان ادب پر تان دیا جس کی رنگا رنگی ہر زمانے میں قائم و دائم رہے گی خود وہ اپنے کلام کے بارے میں گویا ہیں کہ
”از خرمن ِ اہل کمال دانہ ہا آوردہ ام“
حوالہ جات:
*       دیوان حسین      مرتبہ    ڈاکٹر سید عبدالرحیم
*       مضامین ازسید غلام علی بیابانی
*       مقالات  ازڈاکٹر نعیم الدین
*       اچل پور کے چند قدیم شعرا        مرتبہ    سیدہ وسیم دردانہ باسط
*       اردو میں شعری و نثری اصناف     مرتبہ    پروفیسر مجیدار بیدار
*       چراغ برار         ازخطیب امجد حسین امجد
*       تذکرۂ مخطوطات شائع کردہ  قومی کونسل برائے فروغ اردوزبان، نئی دہلی



Hyder Bayabani
Basera, Achalpur City - 444806
Distt: Amravati (MS)
Mob: 8055056961

سہ ماہی فکر و تحقیق،جنوری تا مارچ 2020

9/4/20

قرۃ العین حیدر مضمون نگار: صدیق محی الدین



قرۃ العین حیدر
صدیق محی الدین
قرۃ العین حیدر اپنی خود نوشت سوانح ’کارِ جہاں دراز ہے‘ میں رقم طراز ہیں:
”سیدجلال الدین غازی سید کمال الدین ترمذی کے صاحب زادے اس تذکرہ نویس فقیر حقیر پر تفصیر عاجزہ فدویہ کے مورثِ اعلیٰ  ہیں۔ موصوف اس علاقے میں جاکر بسے جو بعد میں روہیل کھنڈ کہلایا۔ سید جلال الدین کے اخلاف میں سیداشرف گنج بخش، سید احمد، سید محمد، سید محمود اور سید حسن عسکری کازمانہ پندرھویں صدی ہے۔ سید حسن عسکری کے صاحب زادے سید ضیاء الدین سرکار سنبھل میں چہار ہزاری تھے۔ ٹھاٹھ کرتے ہوں گے۔ موصوف کٹھیرراجپوتوں کو قابو رکھنے کے لیے نہٹور ضلع بجنور میں تعینات تھے۔ سید ضیاء الدین ترمذی کو ایک بغاوت فروکرنے لیے مع لشکر پورپ بھیجاگیا۔ معرکے میں کام آکے اور جیاشہید کہلائے۔“1
وہ مزیدلکھتی ہیں:
”اگر کمال الدین ترمذی کے جی میں یہ نہ سمائی ہوتی کہ ہندوستان چلیں تو ہم آج یہاں کاہے کو وکٹوریہ کی غلامی کررہے ہوتے ترمذ میں اگر چنگیز کی تباہ کاری سے بچ گئے ہوتے تو اس وقت بیٹھے زار روس کی غلامی کررہے ہوتے آج اپنے پوتوں کو لندن بھیج کر بیرسٹری پڑھانے کے خواب نہ دیکھتے۔ ترمذیا بخارا سے سینٹ پیٹرز برگ روسی پڑھنے کے لیے بھیجنے کے منصوبے بناتے ………………  والد مرحوم کو کیا معلوم تھا کہ اُن کی اولاد پر کیا گزرے گی۔ نہ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے پوتے کس قسم کی دنیا کا مقابلہ کریں گے۔ والد مرحوم نے نہٹور میں جھیل کے کنارے ایک پلکھن بوئی تھی جو اب چھتنار ہے۔ دوسری پلکھن کا پودا ہم نے لگایاتھا۔ دونوں چھوٹی بڑی پلکھن کہلاتی ہیں جب یہ چھوٹی پلکھن چھتنار ہوتی تب ہم نہ ہوں گے۔“  2
قرۃ العین حیدرکی ولادت 20جنوری 1927 کو علی گڑھ میں ہوئی۔ ان کے والد سید سجاد حیدر یلدرم علی گڑھ کالج کے ہی تعلیم یافتہ تھے۔ اس وقت برطانوی ہندوستان میں ان کی ملازمت انڈمان اور پھر دہرادون میں رہی اور آخر میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں رجسٹرار کی خدمات انجام دیں۔ قرۃ العین حیدر بچپن میں انھیں کے ہمراہ رہیں۔ ان کی ابتدائی تعلیم دہرادون میں ہوئی۔ بعد ازاں اندرپرست کالج دہلی اور لکھنؤ یونیورسٹی سے انھوں نے انگریزی ادب میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ چونکہ ان کے والدین اس عہد کے ادبی رحجان کے لحاظ سے اُردو کے افسانوی ادب میں اپنی مخصوص شناخت رکھتے تھے اس لیے ادبی ذوق اور تخلیقی رحجان گویا انھیں ورثے میں ملا ہے۔ لیکن اپنے وسیع مطالعے اور تخلیقی جدت و انفرادیت کے ساتھ انھوں نے اُردو کے افسانوی ادب میں بہت جلد اپنی شناخت قائم کرلی۔ ابتدا میں وہ بچوں کی کہانیاں لکھا کرتی تھیں۔ یہ زمانہ برصغیر ہند میں بے حد تغیر پذیر تھا۔ ملک تقسیم ہوچکا تھا۔ تقسیم ہند کو وہ ایک زبردست انسانی المیہ قرار دیتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں لاکھوں انسانوں کی ہلاکتوں اور مجبوروبے بس لوگوں کی ہجرت بے شک بیسویں صدی میں ہندوستان کی تاریخ کا المناک حادثہ تھا۔ تقسیم وطن کا واقعہ ان کی تخلیقی فکر کا اہم محرک بن گیا۔ انھوں نے بھی 1947 میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ پاکستان ہجرت کی۔ پاکستان ہجرت کے واقعے کو انھوں نے کارِ جہاں دراز ہے۔ میں اس طرح بیان کیا ہے:
”ہفتہ بھر بعد بھائی نے ٹرین میں ایک پورا سیکنڈکلاس کمپارٹمنٹ ریزرو کروایا۔ اور ہم کراچی روانہ ہوئے۔ ابھی برطانوی زمانے کوگزرے فقط تین مہینے گزرے تھے اور پرانی ریلیں چل رہی تھیں۔ جنوبی پنجاب اور سندھ کے ریگزاروں سے گزرتے ہوئے وسیع وعریض ڈبہ گردوغبار سے اٹ گیا۔ اماں، بھائی، بھابی اور میں کھڑکیاں بند کرکے باہر دیکھنے لگے۔ دور دور تک جلے ہوئے ٹھنٹھ، تھوہڑ ناگ پھنی اور کیکراور ببول۔“
پاکستان آنے کے بعد تصنیف و تالیف اور ملازمت کے سلسلے شروع ہوئے۔ انھوں نے پاکستان میں انفارمیشن آفیسر وزارت اطلاعات نشریات پاکستان، پاکستانی ہائی کمیشن لندن، انفارمیشن آفسیر پی آئی اے کراچی اور ایکٹنگ ایڈیٹرپاکستان کواٹرلی، کراچی جیسے اداروں میں 1951 تا 1956تک خدمات انجام دیں۔
قیام پاکستان کے دوران اُن کی افسانہ نگاری اور ناول نگاری کا نیا دور شروع ہوتا ہے۔ اس دور میں انھوں نے اردو افسانے اور ناول کو نئے جہات اور آفاق سے روشناس کروایا۔ تقسیم ہند کا کرب، ہجرت، لاکھوں افراد کی ہلاکت، بے بس اور مجبور و مایوس انسانیت، انسانی دردو الم کی لامتناہی داستانیں بیان کررہی تھیں۔ یہ حسیت اور کرب ان کے مختلف افسانوں میں بھی ظاہر ہوا ہے۔ ’ستاروں سے آگے‘، ’شیشے کے گھر‘ اور ’پت جھڑکی آواز‘، جیسے افسانوی مجموعے انسانی کرب و الم کی روح فرسا کہانیاں سناتے ہیں۔ یہ قرۃ العین حیدرکی شدید انسان دوستی کا احساس کرواتے ہیں۔ افسانے ’جلاوطن‘ اور ’پت جھڑ کی آواز‘، اسی ہجرت اور کربِ تنہائی کے شدید احساس سے دوچار کراتے ہیں۔یہی ہجرت اور انسانی رشتوں کی شکست وریخت افسانہ ’یاد کی اک دھنک جلے‘میں ظاہر ہوئی ہے۔ پت جھڑ کی آواز کی تنویر فاطمہ اسی کرب سے دوچار ہے۔ ملاحظہ کیجیے افسانے کا یہ اقتباس:
”اسی زمانے میں دلیّ میں گڑبڑ شروع ہوئی اور فسادات کا بھونچال آگیا۔ فاروق نے مجھے میرٹھ خط لکھا کہ تم فوراً پاکستان چلی جاؤ۔ میں تم سے وہیں ملوں گا۔ میراپہلے ہی سے یہ ارادہ تھا۔ ابا بھی بے حد پریشان تھے۔ اور یہی چاہتے تھے کہ ان حالات میں اب انڈیا میں نہ رہوں جہاں شریف مسلمان لڑکیوں کی عزتیں مستقل خطرے میں ہیں۔ پاکستان اپنا اسلامی ملک تھا۔ اس کی بات ہی کیا تھی ابا جائیداد وغیرہ کی وجہ سے فی الحال ترک ِ وطن نہ کرسکتے تھے۔ میرے بھائی دونوں بہت چھوٹے چھوٹے تھے اور اماں جان کے انتقال کے بعد ابّا نے ان کو بڑی خالہ کے پاس حیدرآباد دکن بھیج دیاتھا۔ میرا رزلٹ نکل چکاتھا۔ اور میں تھرڈ ڈویژن میں پاس ہوئی تھی۔ میرا دل ٹوٹ گیا۔ جب بلوؤں کا زور ذرا کم ہوا تو میں ہوائی جہاز سے لاہور آگئی۔3
صدیوں سے قائم ہندوستان کی مشترکہ تہذیب تقسیم ہند اور ہجرت کے نتیجے میں بالکل ختم ہوگئی۔ یہ اس وقت کی نسل کے لیے ایک عظیم سانحہ تھا۔ لاکھوں لوگو ں کی نفسیات بالکل بدل چکی تھی۔ آپسی یگانگت اور رواداری کی جگہ منافرت اور مخاصمت نے لے لی اس سے نوجوان نسل بے حد متاثر ہوئی قرۃ العین حیدر کے مختلف افسانوں میں اس موضوع کی ترجمانی ہوئی ہے۔شیشے کے گھر میں شامل افسانے بھی اسی مرکزی موضوع کا احاطہ کرتے ہیں۔ بطور خاص ’یہ داغ داغ اجالا‘ اور’دجلہ بہ دجلہ یم بہ یم‘،  افسانوں میں شدت سے اس کا اظہار ہوا ہے۔ اس افسانے کا یہ اقتباس اسی انسانی کرب اور ناگہانی صورت حال کا عکاس ہے۔ ملاحظہ کیجیے:
”لیکن جب وہ لوٹا ہم لوگوں میں سے کوئی بھی وہاں نہ تھا۔ ہماری پرانی کوٹھی بند پڑی تھی۔ سرخ قالین والے کمرے اور لکڑی کے گھوڑوں پر گردجم گئی تھی۔ دنیا کا خاتمہ ہوچکاتھا۔ تقسیم کی خونی آندھی آکرنکل چکی تھی۔ سب خزاں زدہ پتوں کی طرح دور دور سارے عالم میں تتر بتر ہوگئے تھے اور جیمی کو تعجب ہوا کہ اتنا سب کچھ دیکھنے محسوس کرنے اور جھیل لینے کے باوجود اب تک کس طرح جی رہا ہے۔ سب کس طرح جیے جارہے ہیں۔لیکن ہم یقینا زندہ تھے اور اس وقت کھانے کے بعد اپنے اس نئے ملک میں بیٹھے قہوہ پی رہے تھے اور اسٹیشن سے واپسی پر نادر بچوں کی طرح ہاتھ ہلا ہلا کر اپنے کلب اور اچھن یار جنگ اور جانے کہاں کہاں کے قصے سنارہا تھا اور پولی کہہ رہی تھی بھی واہ جیمی کی نئی جائے تقرر کا نام کس قدر دلچسپ ہے۔گویا کبھی کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ گویا ہم سب ہمیشہ سے اسی جگہ اسی طرح رہتے آئے ہیں۔ انسان کتنی جلدی اپنی ساری تکلیفیں ساری پریشانیاں بھول کر نئے حالات اور نئے ماحول سے مانوس ہوجاتا ہے۔“
قرۃ العین حیدر کو افسانہ نگاری کی روایت یوں تو اپنے والدین سے ہی ملی تھی جو اپنے وقت کے اہم افسانہ نگار تھے ان کے ابتدائی افسانے یقینا والدین کی ادبی نگارشات کے زیر اثر وجود میں آئے ہیں۔ لیکن جب انھوں نے اپنے گھر کے علاوہ خارجی ادبی منظر نامے کو دیکھا تو ان کی شناسائی ادب کے وسیع وعریض منظر نامے سے ہوئی۔ اُردو ادب میں ترقی پسند تحریک کے تحت افسانوی ادب کے مختلف النوع اسالیب وجود میں آچکے تھے۔ اُردو افسانے کے سرخیل پریم چند کے بعد منٹو، بیدی، عصمت، کرشن چندر اور حیات اللہ انصاری جیسے افسانہ نگاروں نے اُردو کے افسانوی ادب میں بیش بہا اضافے کیے قرۃ العین حیدر کا امتیازیہ ہے کہ انھوں نے ترقی پسندی اور جدیدیت کے درمیانی عرصہ میں اُردو افسانہ نگاری کو نئے اسالیب اور اظہاروبیان کے نئے پیرائے عطاکیے۔1960 کے بعد جب ادب میں جدیدیت کا رحجان شروع ہوا تو نئے لکھنے والوں کو قرۃ العین حیدر کی افسانوی روایت نے متاثر کیا۔ اس طرح انھوں نے جدیدیت کے رحجان کو فروغ دینے میں اہم کردار کیا ہے۔ قرۃ العین حیدر کے افسانوی رویے کا تجزیہ کرتے ہوئے وحید اختر لکھتے ہیں:
”قرۃ العین حیدر کا رویہ کہیں کہیں رومانی ہے لیکن موضوعات کو برتنے کا انداز کئی مقامات پر حقیقت پسندانہ بلکہ صحیح طور پر مخالف رومانی ہوجاتا ہے۔ ان کے اسلوب کو توانائی، زبان پر ان کی قدرت، موضوع سے ان کی واقفیت مسائل سے اُن کی ذاتی تعلقInvolvement اور تاریخ وتہذیب کے اُن کے وسیع مطالعے نے دی ہے۔ تجربہ اورمشاہدہ تخلیق میں بنیادی اہمیت کے حامل سہی، لیکن ریاضت اور مطالعہ اسے جوگہرائی اور تکمیل عطا کرتا ہے۔ اس کا ثبوت یہ افسانے ہیں۔ اُن پر کوئی لیبل چسپاں کرنے کی ضرورت نہیں، یہ جدید بھی ہیں، ان میں کہانی پن بھی ہے،سماجی آگہی بھی، تاریخ و بصیرت بھی ان میں سے بہترین ہماری زبان کے افسانوی ادب کے شہکار ہیں۔“
قرۃ العین حیدر کے تخلیقی اظہار کی دوسری اہم صنف ناول ہے۔ ناول کی صنف وسیع کینوس گہری فکر اور زندگی کے معاملات میں اتنی ہی شمولیت کا مطالبہ کرتی ہے۔ قرۃ العین حیدر کے تجربات مشاہدات یقینا ہمہ گیر ہیں۔ ان کا مشرقی اور مغربی ادب کا مطالعہ بھی گہرا اور ہمہ گیر ہے۔ اس وجہ سے بھی اُن کی فکر میں گہرائی اور آفاقیت نظرآتی ہے۔ انھوں نے اب، ناول نگاری کی دنیا میں قدم رکھا۔ ان کی ادبی تخلیقی فکر کا ایک اہم پہلو اُن کی تاریخ اور دیگر سماجی علوم کے ساتھ اپنے عصری، سماجی اور معاشرتی حالات وواقعات سے گہری وابستگی بھی ہے جواُن کے افسانوں اور ناولوں میں واضح طور پر دیکھی جاسکتی ہے۔
دراصل قرۃ العین حیدر کی تعلیم و تربیت اورشخصیت کی تعمیر وتشکیل برطانوی ہندوستان میں ہوئی تھی۔شمالی ہند کا زمینداری اور جاگیرداری نظام برسوں سے قائم ودائم تھا۔ہندوستان کی گنگاجمنی تہذیب، مشترکہ تہذیب وتمدن، مختلف فرقوں اور قوموں کے مابین رواداری اور قومی یکجہتی جیسی اقدار نے قرۃ العین حیدر کی شخصیت کی تعمیر و تشکیل میں اہم کردار ادا کیاتھا۔ ملک کی تحریک آزادی اور اس کے ساتھ ہی دو قومی نظریے کی تحریک بھی فروغ پارہی تھی۔ آزادی ہند کے ساتھ ہی تقسیم کا ناگہانی اور المناک سانحہ وقوع پذیر ہوا، جولاکھوں افراد کی ہلاکت اور غارت گری کا سبب بنا، ہندوستان میں مشترکہ تہذیب و تمدن اور قومی رواداری کے جوبت صدیوں سے قائم تھے یکلخت منہدم ہوگئے۔ ہرچہارسوانسانیت آہ و بکاکررہی تھی۔ فرقہ پرستی کا عفریت انسانی لاشوں کو روند رہا تھا، مجبوروبے بس انسانوں کی آہ و بکااور چیخ وپکار سننے کے لیے سماعت پتھراچکی تھی، ہر طرف خون آگ، دہشت کی سیاہ آندھی نے بصارت کو اندھا کردیاتھا۔ یہ حالات قرۃ العین حیدر کے لیے بے حد روح فرسا ثابت ہوئے لہٰذا انھوں نے وسیع تناظر میں ان مسائل کا تخلیقی اظہار اپنے ناولوں کے ذریعے کیا ہے۔ ان ناولوں کے مطالعے سے اُن کی ژرف نگاہی اور عمیق فکر کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں ان کا پہلا ناول ’میرے بھی صنم خانے‘ ہے جسے انھوں نے 1947 میں ہندوستان میں ہی لکھنا شروع کیاتھا اور جب وہ تقسیم ہند کے بعد پاکستان منتقل ہوئیں تو وہاں پر یہ ناول 1949 میں شائع ہوا۔ اس ناول کا بنیادی موضوع ہی تقسیم ہند اور اس کے المناک حادثات ہیں۔ ناول میں بنیادی طور پر دو نسلوں کے کردار نظرآتے ہیں۔ غفران منزل کے مالک کنور عرفان علی جن کو ملک کے تیزی سے بدلتے ہوئے حالات سے کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے وہ اپنی ریاست کے زمینداری کے معاملات میں مصروف رہتے ہیں۔ دوسری طرف نوجوان نسل میں ناول کا مرکزی کردار رخشندہ اس کے دو بھائی اور اس کی سہیلیاں کرن اوماڈائمنڈ کر، اور شہلارحمان وغیرہ ملک کے حالات پر مباحثے کرتے ہیں۔رخشندہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ’نیوایرا‘  نامی پرچہ نکالتی ہے۔ یہ سب نوجوان تصور پرست اور مثالیت پسندہیں۔ رخشندہ کے بھائی پی چو کا لکھنؤ کی ملٹری پولس میں تقررہوچکا ہے۔ دوسری طرف کنور عرفان علی کی بیوی بیگم نواب سلطنت آرا تمام انتظامی معاملات پر نظر رکھتی ہے۔ ادھر رخشندہ کی والدہ کو اپنی بیٹی کی شادی کی فکر لاحق ہوتی ہے۔
ادھر امبرپورہاؤس کے سیدمرتضیٰ رخشندہ کے بھائی پی چو سے ان کی بیٹی کے ساتھ طے شدہ رشتہ کی بات یاد دلاتے ہیں لیکن یہاں اُن کوکوئی مثبت جواب نہیں ملتا وہ مایوس لوٹ جاتے ہیں پی چو بھی گھر سے فرار ہوجاتا ہے۔ وہ رخشندہ کی سہیلی کرسٹابل سے شادی کرنا چاہتا تھا۔ کنور عرفان علی حسب سابق سردیوں کے موسم میں اپنے آبائی قصبے ماناٹھیر چلے جاتے ہیں۔ اس دوران ملک تقسیم ہوجاتا ہے۔ ملک کے حالات بہت تیزی سے بدلنے لگتے ہیں۔ کنور عرفان علی کی زمینداری اور جاگیرداری کی اب کوئی حیثیت نہیں رہی اور پھر ایک دن اچانک کنور عرفان علی کا انتقال ہوجاتا ہے۔ امبرپور ہاؤس کے لوگ بھی پاکستان منتقل ہونے کی سوچ رہے تھے۔ سندیلے کے چودھری شمیم جو کنور رانی کے دور کے رشتے دار ہیں، رخشندہ سے اپنے رشتے کی بات کرتے ہیں۔ لیکن اُن کا یہ منصوبہ ناکام ہوتا ہے۔ ملک کی تقسیم سے لوگوں کی زندگیاں درہم برہم ہوجاتی ہیں۔ سارے منصوبے خاک میں مل جاتے ہیں۔ ملاحظہ کیجیے ’میرے بھی صنم خانے‘سے یہ اقتباس:
”دنیابدل رہی تھی، پرانی دنیا ختم ہوچکی تھی۔ یہ معرکے مشاعرے منعقد کرنے والی یہ تہذیب وثقافت پر جان دینے والی یہ زبان کونکھارنے سنوارنے والے لوگ یہ روایتیں یہ پرانی انجمنیں دم توڑچکی تھیں جو کچھ باقی بچاتھا وہ اس قدر بے کس اتنا حماقت زدہ ایسا مجبور تھا کہ دنیا اس کا مذاق اڑارہی تھی۔ تہذیب کے مرکزوں اور گہواروں میں پلنے والے در بہ در کی ٹھوکریں کھانے کے لیے صحراؤں کی طرف نکل گئے۔ امام باڑے ویران اور مسجدیں شکستہ ہوگئیں۔ پرانے خاندان مٹ گئے۔ زندگی کی پرانی قدریں خون اور نفرت کی آندھیوں کی بھینٹ ہوگئیں۔ ایک عالم تہ و بالا ہوگیا۔ وہ تہذیب ہندوؤں اور مسلمانوں کاوہ معاشرتی اور تمدنی اتحاد وہ روایات وہ زمانے سب کچھ ختم ہوگیا۔“
لکھنؤ کی زمینداری اورجاگیرداری معاشرت کے پس منظر میں لکھاگیا یہ ناول انسانی جذبات اور رشتوں کی شکست وریخت کے عجیب واقعات اپنے اندررکھتاہے۔ امبر پور ہاؤس کے سید مرتضیٰ، جن کی بیٹی جمیلہ کارشتہ پی چو سے طے ہواتھا۔ اس رشتے کے ٹوٹنے کے صدمے سے انتقال کرجاتے ہیں۔ پی چو خود گھر سے فرار تھا۔ وہ دلی میں تعینات تھا اور پاکستان جانے والی ٹرینوں اور لوگوں کی حفاظت کے لیے مقرر کیاگیا تھا لیکن فسادات میں وہ خود بھی مارا جاتا ہے۔ ادھر کنور عرفان علی کی موت کے بعد کنور رانی چودھری شمیم سے نکاح کرکے سندیلے چلی جاتی ہے۔ رخشندہ کے ساتھی دوست جو مثالیت پسندی اور متحدہ قومیت کی باتیں کرتے تھے حیران و پریشان سب بکھرجاتے ہیں۔سب سے اہم یہ کہ کنور عرفان علی کی وفات کے بعد کنور رانی کا چودھری شمیم سے نکاح کرنا نام نہاد زمینداری اور جاگیرداری کے اخلاقی نظام پر زبردست طنز ہے۔ رخشندہ دہلی سے لکھنؤ آجاتی ہے لیکن اسے یہ دیکھ کر اب حیرت ہوتی ہے کہ لکھنؤ اب بالکل بدل چکا ہے۔ غفران منزل پر اب حکومت کا قبضہ ہوچکا ہے۔ لکھنؤمیں اب اس کا کوئی ساتھی دوست نہیں ہے وہ ایک دو منزلہ پرانی کوٹھی پرپہنچتی ہے جہاں اسے حکومت کے کچھ کارندے نظر آتے ہیں۔ ناول سے یہ اقتباس ملاحظہ کیجیے:
”جب پھاٹک کے سامنے آکر رکی تو وہاں کھڑے ہوئے ایک سنتری نے جو غالباً مقامی ہوم گارڈ کا ایک فرد تھا اور صبح دفتر آنے کی جلدی میں دھوتی کے اوپرہی اپنے یونیفارم کا کوٹ پہن آیا اپنی کھدرکی گاندھی ٹوپی تیڑھی کرکے کان کھجاتے ہوئے ذار آگے بڑھ کر اس سے کہا ”اجی شریمتی مہیلاؤں کے لیے ری سٹلمنٹ کا دفتر امین آباد میں کھولاگیا ہے۔ یہاں صرف پرشوں کاکام دلایاجاتا ہے۔  ترلوکی نندن بابو آپ کو دس بجے وہیں ملیں گے۔“
اودھ کی جاگیرداری اور زمینداری اور متحدہ تہذیبی پس منظر میں لکھاگیا یہ ناول ایک بے حد دلچسپ ادبی تخلیق ہے لیکن تقسیم ہند کے بعد اس مشترکہ تہذیب کا شیرازہ بکھرجاتا ہے۔ شاید مصنفہ اس بدلی ہوئی صورت حال کے لیے ذہنی طور پر تیار نہیں تھی وہ بالکل ششدر رہ جاتی ہے۔  وہ خلا میں گھورتی رہ جاتی ہے۔ یہ منظر نامہ فرقہ پرستی کی ہیت ناک صورت اختیار کرلیتا ہے اب مشترکہ تہذیب کے کوئی معنی نہیں تھے۔
قرۃ العین حیدر کا دوسرا ناول ’سفینہئ غم دل‘ ہے جو 1952 میں شائع ہوا۔ یہ ناول بھی ایک لحاظ سے ’میرے بھی صنم خانے‘ کی ہی تکرار ہے۔ لیکن اس میں وہ فنی پختگی نہیں جو میرے بھی صنم خانے میں نظر آتی ہے۔
قرۃ العین حیدر کاشاہکار ناول ’آگ کا دریا ہے‘ یہ ناول 1959 میں پاکستان میں شائع ہوا۔ میرے بھی صنم خانے کو اس ناول کا دیباچہ سمجھنا چاہیے۔ ’میرے بھی صنم خانے‘ میں مصنفہ نے ہندوستان کی جس مشترکہ تہذیب کی پردہ کشائی کی تھی۔ ’آگ کا دریا‘ میں اس کی توسیع کرتے ہوئے وہ ہندوستان کے عہد قدیم سے اپنا سفر شروع کرتی ہیں۔ اس ناول کا مرکزی موضوع اور کردار وقت ہے۔ گوتم بدھ اور ویدک عہدسے شروع ہوکر پاٹلی پتر مگدھ اور دوروسطیٰ میں مسلمانوں کی آمد، مغلوں کا زوال، برطانوی ہندوستان، آزادی کی تحریک اور پھر تقسیم ہند کا المیہ اور پھر ہندو پاک میں مہاجروں اور شرنارتھیوں کی باز آبادکاری کے مسائل، غرض یہ ناول برصغیر ہندوپاک کی تاریخی سماجی تہذیبی سیاسی اور تمدنی زندگی کا منظر نامہ ہے۔ ہندوستان کی تاریخ میں رزم وبزم دونوں طرح کے عناصر کارفرمارہے ہیں۔
اس ناول کے اہم کرداروں میں گوتم ہری شنکر، چمپاکمال اور طلعت شامل ہیں۔ یوں ضمنی کردار بے شمار ہیں۔ ناول کے مرکزی کردار مختلف زمانوں میں اپنی شناخت اپنے سماجی منظرناموں کے حوالے سے قائم کرتے ہیں۔ وقت ایک متلاطم دریا ہے۔ جو ان کی شناخت ہیئت اور شکل و صورت بدل کرانھیں متعارف کرواتا ہے یہی اس ناول کا تخلیقی اسلوب ہے۔ تقسیم اور ہجرت کے مسئلے پر اظہار خیال کرتے ہوئے قرۃ العین حیدر  ناول کے آخری حصے میں لکھتی ہیں:
”پاکستان میں جو نفسا نفسی کا عالم اور حبّ وطن کی کمی نظر آتی ہے اس کی یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کو اس سرزمین سے کوئی بے اختیار جذباتی اور روحانی لگاؤ نہیں۔ وہ موقع اور سیکوریٹی کی تلاش میں یہاں آئے ہیں جس طرح یورپین اقوام امریکہ پہنچی تھیں۔ نیویارک میں رہنے والا پولش بوڑھا وارسا کو یاد کرکے آہیں بھرتا ہے مگر پولینڈ کے اس دھندلے تصوّر سے اس کی اولاد کو کوئی غرض نہیں جو نئے ملک میں امریکن کی حیثیت سے پروان چڑھتی ہے۔ اسی طرح یہاں پر جو لوگ گومتی کے خربوزوں اور پریاگ کے میلے اور ساون کی گھٹاؤں کو یاد کرکے روتے ہیں ان کی اولاد جو یہاں بڑی ہورہی ہے اس کے لیے یہ سارے تصورات بے معنی اور مضحکہ خیز ہیں۔
غرض ’آگ کا دریا‘ قرۃ العین حیدر کے تخلیقی سفر کا شاہکار اور اُردو ناول کی تاریخ کا سنگِ میل کہنا چاہیے۔ پاکستان میں ’آگ کا دریا‘ کی اشاعت کے بعد وہ کچھ عرصے کے لیے لندن چلی گئیں وہاں پر انھوں نے ڈیلی ٹیلیگراف میں صحافتی خدمات انجام دیں۔ 1960 میں لندن سے ہندوستان لوٹ آئیں۔ ہندوستان آکر ممبئی میں صحافتی خدمات انجام دیں۔ ’امپرنٹ‘ میگزین میں (1964تا 1968) تک خدمات انجام دیتی رہیں، بعدازاں السٹریٹ ویکلی کے  ایڈیٹوریل بورڈ میں 1968-1975) تک خدمات انجام دیتی رہیں۔
اس دوران اُن کا ایک اہم ناول ’آخرشب کے ہم سفر‘ 1971میں شائع ہوا۔ اس ناول میں 1942 کی بنگال کی دہشت پسندانقلابی تحریک کو موضوع بنایاگیا ہے۔ مزیدیہ کہ یہ ناول ملک کی آزادی قیام پاکستان اور پھر قیام بنگلہ دیش جیسے اہم واقعات کے پس منظر میں لکھاگیا ہے۔ اس ناول کے اہم کردار ریحان الدین احمد دیپالی سرکار،اومارائے اور جہاں آراوغیرہ ہیں۔ اس دوران اُن کا ایک سوانحی ناول ’کارِ جہاں دراز ہے‘ دو جلدوں میں شائع ہوا۔ اس ناول کی ایک تیسری جلد’شاہراہِ حریر‘ کے عنوان سے شائع ہوئی یہ ناول مصنفہ کی نہ صرف سوانح ہے بلکہ اس میں برصغیر ہندوپاک کی تاریخی تہذیبی سیاسی سماجی معاشرتی مذہبی زندگی کی مختلف تحریکات کے علاوہ علمی و ادبی رحجانات کا بیان بھی بہت ہی عالمانہ انداز میں کیاگیا ہے۔
قرۃ العین حیدر کے آخری دوناول ’گردش رنگِ چمن‘ اور ’چاندنی بیگم‘میں برصغیر ہند کی تاریخی تہذیبی ومذہبی اور سماجی زندگی کی مرقع کشی ہے۔ گردش، رنگ چمن میں تصوف اور اس کے مختلف عقائدبھی زیر بحث آتے ہیں۔ جبکہ چاندنی بیگم میں لکھنؤ کی جاگیرداری تہذیب کے اعلیٰ طبقات کو ناول کا موضوع بنایاگیا ہے۔
قرۃ العین حیدر نے افسانے اور ناول کے علاوہ ناولٹ بھی لکھے ہیں۔ ان کے چار ناولٹ ’دلربا‘، ’چائے کے باغ‘، ’سیتاہرن‘ اور ’اگلے جنم موہے بٹیانہ کیجو‘مقبول ہوچکے ہیں۔ ’دلربا‘ ممبئی کی پارسی تھیٹریکل کمپنی کے پس منظر میں لکھاگیا ہے۔ جبکہ ’چائے کے باغ‘ میں سلہٹ میں اونچے طبقے کے لوگوں کی کھوکھلی زندگی کے علاوہ چائے کے باغات میں کام کرنے والے مزدوروں کی زندگی کو بھی پیش کیا گیا ہے۔ ناولٹ ’سیتاہرن‘ سندھ کراچی کے شرنارتھی خاندان سے متعلق ہے۔ سیتا تقسیم کے بعد کراچی سے دہلی آکر بس جاتی ہے۔ ’اگلے جنم موہے بٹیانہ کیجو‘عرس اور میلے ٹھیلے کی فضا میں تخلیق کیاگیا یہ ناولٹ بنیادی طور پر رشک قمر اور جمیلن ان دولڑکیوں کی دردبھری زندگی کو پیش کرتا ہے۔
قرۃ العین حیدر کاآخری افسانوی مجموعہ’روشنی کی رفتار‘ ہے جو 1982 میں شائع ہوا۔ اس مجموعے میں کل 18 افسانے ہیں جو مختلف النوع موضوعات اور اسالیب بیان کے لحاظ سے بھی جدت آمیز ہیں۔
قرۃ العین حیدر کے نثری اظہار کی ایک اہم صنف رپورتاژ نگاری بھی ہے۔ ان کے تحریر کردہ رپورتاژ کی تعداد12 ہے ان ’رپورتاژوں میں کوہِ دمادند‘، ’چھٹے اسیرتوبدلا ہوا زمانہ تھا‘، ’گل گشت‘، ’خضرسوچتا ہے‘، ’وولرکے کنارے‘،  ’دکن سانئیں ٹھار سنسار میں‘، ’قیدخانے میں تلاطم ہے کہ ہند آتی ہے‘، ’ستمبر کا چاند‘، ’درچمن ہرورقی حال دگرست‘ اور جہان دیگر شامل ہیں۔ ان رپورتاژوں میں مختلف مقامات پر ان کی سیاحت اور وہاں کی مجالس کی روداد عمدگی سے بیان کی گئی ہے۔ ان کی ادبی خدمات میں مغربی ادب سے کیے گئے تراجم بھی بے حد اہم ہیں۔ انھوں نے ہنری جیمس کے ناول (پورٹریٹ آف اے لیڈی) کا ترجمہ ’ہمیں چراغ ہمیں پروانے‘ کے عنوان سے کیا۔ انھوں نے ٹی ایس ایلیٹ کے ڈرامے ’مرڈر ان کیتھڈرل‘ کا ترجمہ کلیسا میں قتل کے عنوان سے کیا اس کے علاوہ کچھ روسی ادب سے بھی ترجمے کیے ہیں۔مزید اپنے افسانوں اور ناولوں کے ترجمے بھی انگریزی میں کیے ہیں۔
اُن کی ادبی خدمات کے عوض انھیں مختلف انعامات اور اعزازات سے بھی نوازا گیا۔ ان کے افسانوی مجموعے ’پت جھڑ کی آواز‘پر 1967، ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ دیاگیا۔ 1969 میں اُن ادبی ترجمہ نگاری کے لیے انھیں سوویت لینڈ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ 1984 میں پدم شری ایوارڈ اور 1985 میں غالب ایوارڈ عطا کیاگیا۔
ناول ’آگ کا دریا‘کے لیے ہندوستانی ادبیات کا سب سے بڑا ایوارڈ گیان پیٹھ ایوارڈ دیا گیا۔ سنہ 2000 میں بہادر شاہ ظفر ایوارڈ 2005  میں پدم بھوشن ایوارڈ بھی دیاگیا۔ اس کے علاوہ انھیں اقبال سمان سے بھی نوازا گیا۔
قرۃ العین حیدر ہندوستانی ادبیات کا وہ روشن ستارہ ہے جس کی روشنی میں تشنگان ادب ہمیشہ اپنی نئی راہیں دریافت کرتے رہیں گے۔انھوں نے اُردو کے افسانوی ادب کو جدّت آمیز اسالیب اور طرزِ اظہار عطاکیا۔ ناول اور افسانہ دونوں اصناف میں انھوں نے منفرد شناخت قائم کرلی۔ اُردو اور انگریزی ادبیات کے گہرے مطالعے کے علاوہ تاریخ اور دیگر علوم سے ان کی دلچسپی نے بھی ان کی فکر کو ہمہ گیری عطا کی۔ انسانی دردمندی اور شدید انسان دوستی نے انھیں اُردو ادب کی عظیم شخصیت کا مرتبہ عطا کیا۔ اُردو ادب ان کی تخلیقات سے ہمیشہ گراں بار رہے گا۔
ماخذات
(1)     قرۃ العین حیدر: کارِ جہاں دراز ہے، ص 21-22
(2)     قرۃ العین حیدر:کارِ جہاں دراز ہے، ص 225  
(3)     قرۃ العین حیدر: پت جھڑکی آواز، صفحہ
(4)     قرۃ العین حیدر: شیشے کے گھر، ص 225               
(5)     وحید اختر: قرۃ العین حیدرکے افسانے فکروفن ایک مطالعہ، ص 460
(6)     قرۃ العین حیدر:آگ کا دریا

Professor Shaikh Siddiq Mohiuddin
H.O.D Department Of Urdu
Dr.Baba Saheb Abmedkar Marathwada
University, Aurangabad. M.S.
Mob: 9096157937

ماہنامہ اردو دنیا، مارچ 2020

داغ کے ایک شاگرد، مولانا حسن رضا خاں بریلوی مضمون نگار: اعلم شمس






داغ کے ایک شاگرد، مولانا حسن رضا خاں بریلوی
اعلم شمس
مولانا حسن رضا خاں بریلی کے مشہور علمی خانوادے کے چشم و چراغ تھے۔ آپ کے آبا و اجداد مغلیہ عہد میں قندھار سے واردِ ہندستان ہوئے تھے۔ محمد سعادت یار خاں، محمد شاہ کے وزیر تھے جن کے نام سے دہلی میں بازار سعادت گنج اور سعادت خاں کی نہر منسوب تھی۔ آپ کے جدِ اعلیٰ محمد کاظم علی خاں کو بدایوں کی تحصیلداری کا منصب عطا ہوا تھا جس کے تحت آٹھ گاؤں معافی کے عطا ہوئے تھے۔ آپ کے دادا بریلی کے مشہور صوفی بزرگ رضا علی خاں تھے جنھوں نے حافظ رحمت خاں والیِ روہیل کھنڈ کے پوتے خان بہادر خاں کے ساتھ انگریزوں سے جنگ کی۔ آپ کے والد مولانا نقی علی خاں جید عالم تھے، انہی نقی علی خاں کے یہاں آپ 4 ربیع الاوّل 1276ھ مطابق 19 اکتوبر 1859 میں پیدا ہوئے۔ مشہور عالمِ دین، متقی و پرہیزگار، عاشقِ رسول، بلند پایہ نعت گو شاعر مولانا احمد رضا خاں فاضل بریلوی آپ کے بڑے بھائی تھے۔ حسن رضا نے مروجہ علوم و فنون اپنے خاندانی بزرگوں سے حاصل کیے اور معقولات و منقولات میں مہارت حاصل کرنے کے بعد خدمتِ دینِ متین انجام دینے لگے۔ تشنگانِ علوم کو اپنے چشمہئ علم سے سیراب کرنے لگے۔
خدا نے طبیعت موزوں عطا کی تھی لہٰذا شعرگوئی کی وادی میں بھی قدم رکھا۔ اس وقت دنیا جہاں میں فصیح الملک داغ دہلوی کا ڈنکا بج رہا تھا۔ داغ کی شہرت پورے ملک کیا بیرونِ ملک بھی پہنچ چکی تھی۔
ظاہر ہے کہ یہ شہرت مولانا حسن رضا خاں کے کانوں تک بھی پہنچی ہوگی اور کیوں نہ پہنچتی، آپ کی پھوپھی کی شادی رام پور میں جناب فضل حسن خاں سے ہوئی تھی۔ مولانا حسن رام پور اپنی پھوپھی کے یہاں جایا کرتے تھے۔ اُس وقت حضرت داغ کا قیام رام پور ہی میں تھا کیونکہ دہلی کی بساط اجڑنے کے بعد داغ رام پور آچکے تھے اور گھر گھر ان کا چرچا ہونے لگا تھا، ان کے رنگ کی دھوم مچی ہوئی تھی۔ روزمرہ اور محاوروں کے دلکش اسلوب کی سحرکاری نے ہر کسی کو گرویدہ بنا رکھا تھا۔ غزل اپنے شباب پر تھی اس پر جب داغ کا رنگ چڑھا تو یہ اور بھی حسین ہوگئی۔ داغ کے اس رنگ کا یہ اثر ہوا کہ رام پور دربار سے جڑے دیگر شاعروں نے بھی انھیں کے رنگ کی اتباع کرنے میں بھلائی سمجھی۔
داغ نے اپنے چراغ سے بہت سے چراغ روشن کردیے۔ ہندوستان کی تاریخ میں داغ اکیلے ایسے استاد ہیں جنھوں نے بقول نوراللہ محمد نوری پانچ ہزارسے زائد شاگردوں کی ایک کثیر تعداد چھوڑی جو غالباً ایک تاریخ ہے جن میں علامہ اقبال، سیماب اکبرآبادی، نوح ناروی، احسن مارہروی، سائل دہلوی، بیخود دہلوی، بیخود بدایونی، ناطق گلاؤٹھی، اختر نگینوی، اشک دہلوی، محمود رام پوری، نسیم بھرت پوری، آغا شاعر دہلوی، جوش ملسیانی، رسا بلند شہری، مہر گوالیاری، طیش مارہروی، متین مچھلی شہری، نظام الملک میر محبوب علی خاں آصف اور حسن رضا خاں بریلوی وغیرہ خاصے مشہور ہیں۔ یوں تو ان شاگردوں میں ایک سے بڑھ کر ایک تھے لیکن حسن بریلوی کا کچھ الگ مقام تھا، وہ پوری طرح داغ کے رنگ میں رنگ گئے تھے۔
حسن بریلوی کو شعر و سخن کا شوق لڑکپن سے تھا لیکن جوانی آتے آتے یہ شوق بھی جواں ہوگیا۔ رام پور آتے آتے مشقِ سخن چلتی رہی اور آخرکار اپنے پھوپھا فضل حسن خاں کی وساطت سے داغی ہوگئے۔ بریلی سے رامپور صرف 60 کلومیٹر ہے لہٰذا رام پور آنا جانا کوئی زیادہ مشکل نہ تھا۔ حسن بریلوی نے داغ سے اصلاح لینا شروع کردیا اور ایک مدت تک رام پور میں رہ کر استاد کے گلشن سے پھول چنتے رہے۔ یہاں تک کہ بجائے خود استادِ مستند قرار پائے۔ حسن بریلوی کا داغ کے شاگرد ہونے کا سب سے بڑا ثبوت تو خود ان کا کلام ہے۔ اس کے علاوہ تذکروں میں لالہ سری رام کے تذکرے ’خمخانۂ جاوید‘ یعنی تذکرہئ ہزار داستان میں لالہ سری رام، حسن بریلوی کے خاندانی حالات بیان کرنے کے بعد کہتے ہیں:
”علم و فضل آپ کا خاندانی ہے نعت گوئی میں اپنے برادرِ بزرگ مولوی احمد رضا خاں صاحب سے مستفیض ہیں اور عاشقانہ رنگ میں بلبلِ ہندوستان سے تلمذ تھا۔ جس زمانے میں حضرت داغ رام پور میں تھے آپ ان کے شاگرد ہوئے اور ہر سال ایک دو مہینے ان کی خدمت میں رہ کر فیض صحبت سے مستفیض ہوتے رہے۔ داغ صاحب کو ان سے خاص انس تھا اور اکثر پیارے شاگرد انھیں کہا کرتے تھے۔“ (ص 450)
خود حسن رضا کہتے ہیں:
پیارے شاگرد تھا لقب اپنا
کس سے اس پیار کا مزہ کہیے
رسالہ ’نگار‘ کے داغ نمبر 1953 کے ایک مضمون میں نوح ناروی نے داغ کے 58 خاص شاگردوں کا ذکر کیا ہے جس میں حسن بریلوی کو انھوں نے 22 ویں نمبر پر رکھا ہے۔ اسی رسالے میں ڈاکٹر نفیس سندیلوی اپنے مضمون میں لکھتے ہیں:
”حاجی مولانا حسن رضا خاں حسن بریلوی حضرت شاہ مولانا احمد رضا خاں صاحب کے چھوٹے بھائی، شعر و سخن کا طبعی و فطری ذوق تھا، غیرمعمولی ذہانت و فطانت کے مالک تھے، مزاج میں شوخی و شگفتگی اور زندہ دلی تھی۔ حضرت داغ کے ارشد تلامذہ میں شمار تھا۔ نعتیہ کلام میں ان کا دیوان ذوقِ نعت اور عاشقانہ میں ثمرِ فصاحت یادگار ہے۔“ (ص133(
’انتخابِ سخن‘ میں حسرت موہانی لکھتے ہیں:
”شاگردانِ مرزا داغ دہلوی میں حسن مرحوم بریلوی کا پایہئ شاعری بہت بلند تھا وہ بجائے خود استادِ مستند تھے۔“ (ص 91)
مولانا عبدالسلام ندوی ’شعرالہند‘ میں لکھتے ہیں:
”نواب مرزا داغ کے تلامذہ میں بیخود بدایونی، بیخود دہلوی، نسیم بھرت پوری، نوح ناروی، سائل دہلوی، حسن بریلوی اور اشک وغیرہ مشہور ہیں۔“
’چند شعرائے بریلی‘ میں سید لطیف حسین ادیب بریلی کے ایک اور اہم شاعر نواب نیاز احمد خاں ہوش کی وفات 1892 کے بعد کی حالت بتاتے ہوئے لکھتے ہیں:
”ان کی وفات کے وقت داغ کا آفتابِ شہرت نصف النہار پر تھا اور بریلی میں ان کے شاگردحسن رضا خاں حسن کے ذریعے زبان دانی، فصیح البیانی اور معاملہ بندی کی ترویج و اشاعت ہورہی تھی، یہ ایسا سیلاب تھا جس میں بریلی کے شعرا بہہ گئے۔ مشاعروں میں وہی کلام پسند کیا جاتا تھا جو داغ کے اثرات کا حامل تھا۔ چونکہ داغ کے طرز میں شعر کہنا آسان تھا، شاعروں کی تعداد اور مشاعروں کی محافل میں اتنی کثرت سے اضافہ ہوا کہ بریلی کی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔“ (ص140)
لطیف حسین ادیب کے اس بیان سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان دنوں واقعی بریلی شہر مشاعروں کی رزم گاہ بنا ہوا تھا اور ہر کوئی داغ کے رنگ میں رنگ جانا چاہتا تھا بلکہ ایک مرتبہ بریلی کے ایک مشاعرے کی صدارت بھی جناب داغ دہلوی نے کی تھی، اس سلسلے میں لطیف لکھتے ہیں:
”محلہ معمارانِ بریلی میں وہ عمارت جو امام باڑہ کہلاتی ہے اور جس میں ہر سال سات محرم کو بڑی دھوم دھام ہوتی ہے، نئے شہر میں مشاعروں کا بڑا مرکز تھی۔ اسی عمارت میں استاد داغ کی زیرِ صدارت بھی مشاعرہ ہوا تھا۔“ (ص143(
اس میں کوئی شک نہیں حسن بریلوی داغ کے چہیتے شاگرد تھے اور وہ اپنے کلام پر شاگردِ داغ ہونے پر ناز کرتے ہوئے کہتے ہیں:
کیوں نہ ہو میرے سخن میں لذتِ سوز و گداز
اے حسن شاگرد ہوں میں داغ سے استاد کا
غزلوں پر مشتمل حسن بریلوی کا دیوان ’ثمر فصاحت‘ 1910 میں مطبع اہل سنت بریلی سے آپ کی وفات کے بعد شائع ہوا۔ جس زمانے میں آپ نے شاعری میں قدم رکھا اس زمانے میں مقبول صنفِ شاعری غزل بامِ عروج پر تھی۔ حسن بریلوی نے بھی مروجہ روش کے مطابق اپنی شاعری کی ابتدا غزل سے کی، بعد میں نعت گوئی کی طرف متوجہ ہوئے۔
حسن بریلوی کے کلام میں وہ تمام خوبیاں ہیں جو کلامِ داغ کا طرہئ امتیاز ہیں جیسا کہ ہمیں معلوم ہے کہ داغ کے کلام میں شوخی اور تیکھا پن ہے، زبان میں چٹخارہ ہے، سہلِ ممتنع کی بھرمار ہے، محاوروں کی کثرت ہے، روزمرہ ہے۔ جرأت کی معاملہ بندی،  محبوب سے آزادانہ چھیڑ چھاڑ ہے۔ حسن کی طلب تو عشق کی رفاقت و حمایت ہے۔ عشق محسوس کا جلوہ ہے۔ طنزِ لطیف، حاضری جوابی اور محبوب سے شکوہ و شکایت۔ مترنم بحروں وغیرہ کی تمام خوبیاں حسن کے یہاں بھی پائی جاتی ہیں۔
داغ کی طرح حسن رضا کے کلام کی جاذبیت اور دل کشی میں روزمرہ کا عمل دخل سب سے زیادہ ہے۔ روزمرہ کے استعمال نے ان کے کلام کو سادگی، سلاست، روانی عطا کی۔ روزمرہ کی چاشنی کے باعث ان کی شاعری میں بے ساختگی اور بے تکلفی کی وہ فضا قائم ہوتی ہے جس سے مسلسل گفتگو کا مزہ آتا ہے۔ اشعار دیکھیے      ؎
کیوں دلِ زار محبت کا نتیجہ دیکھا
دردِ فرقت کا کوئی پوچھنے والا دیکھا
بس رخِ یار سے اٹھتے ہوئے پردہ دیکھا
پھر خبر ہی نہ رہی کیا کہیں پھر کیا دیکھا
داغ کا شعر ہے      ؎
یوں تو دنیا نے زمانے کا تماشا دیکھا
منصفی شرط ہے ہم نے تمھیں کیسا دیکھا
داغ کے چند اشعار اور دیکھیے اور اسی زمین میں حسن کے بھی اشعار ملاحظہ کیجیے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ صفائیِ زبان، چٹخارہ، روزمرہ اور سہلِ ممتنع کو دونوں نے کیسے برتا ہے     ؎
داغ:
غضب کیا تیرے وعدہ کا اعتبار کیا
تمام رات قیامت کا انتظار کیا
کسی طرح جو نہ اس بت نے اعتبار کیا
مری وفا نے مجھے خوب شرمسار کیا
نہ اس کے دل سے مٹایا کہ صاف ہوجاتا
صبا نے خاکِ پریشاں مرا غبار کیا
(ص10، م د)
حسن بریلوی:
عدو نے حالِ محبت جو آشکار کیا
تمھیں خدا کی قسم تم نے اعتبار کیا
تمھیں تو شرم سے منہ کھولنا بھی مشکل ہے
عدو کو رات مگر ہم نے ہمکنار کیا
ستم گروں کے ستم کی ترقیاں دیکھو
کہ مجھ کو خاک کیا خاک کو غبار کیا
(ص9، ث ف)
داغ:
روئے انور نہیں دیکھا جاتا
دیکھیں کیونکر نہیں دیکھا جاتا
کیا رہیں ہم کہ ترا چال چلن
پاس رہ کر نہیں دیکھا جاتا
حسن:
ان کا جلوہ نہیں دیکھا جاتا
دیکھ دیکھا نہیں دیکھا جاتا
کیسے عیسیٰ ہو تمھارا بیمار
کبھی اچھا نہیں دیکھا جاتا
قابلِ دید ہے ترا جلوہ
پر کریں کیا نہیں دیکھا جاتا
حسن بریلوی کے یہاں روزمرہ کی چند مثالیں اور دیکھیے  :
نوچ لیتے ہیں کلیجہ نالہائے بیکسی
منہ نہ کھلوائے کوئی میرے لبِ فریاد کا
اس ستم پر بھی تری محفل سے
کوئی آتا نہیں دیکھا جاتا
چھٹ گیا دامن کلیجہ تھام کر ہم رہ گئے
لے چلا دل چھین کر وہ دشمنِ جاں لے چلا
میرے گھر تک پاؤں پڑ کر ان کو لایا تھا نیاز
نازِ دامن کھینچتا سوئے رقیباں لے چلا
موسمِ گل ہے چمن ہے گل رخانِ دہر میں
ہم کو دیوانہ جنوں سوئے بیاباں لے چلا
الفاظ کی الٹ پھیر اور تکرارِ الفاظ سے بھی حسن بریلوی نے اپنے کلام میں تاثیر پیدا کی ہے، چند مثالیں دیکھیے:
یاد کرنا اتو بھلا یا بھول جانا یاد ہے
بھول جانے والے قائل ہوں میں تری یاد کا
بے خبر ہو بے خبر کو کیا خبر اس درد کی
سنگ دل ہو سنگ دل پر کیا اثر فریاد کا
کس نے سنایا اور سنایا تو کیا سنا
سنتا ہوں آج تم نے مرا ماجرا سنا
فارسی عطف و اضافت کے بغیر بھی حسن بریلوی نے سیکڑوں اشعار کہے ہیں اور اس سے تاثیر میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ احسن مارہروی نے ’منتخبِ داغ‘ میں لکھا ہے کہ داغ کے چاروں دیوانوں میں صرف غزل کے اشعار کی تعداد سولہ ہزار ایک سو باسٹھ (16,162) ہے اور ایسے اشعار جن میں فارسی اضافت اور عطف نہیں چھ ہزار دو سو چوالیس (6,244) ہیں۔ دراصل ’منتخب داغ‘ دو حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلے حصے میں بغیر فارسی عطف و اضافت والے اشعار ہیں اور دوسرے حصے میں باقی کلام کے بہترین اشعار ہیں۔ حسن بریلوی کے بغیر عطف و اضافت کے چند اشعار دیکھیے    ؎
جب انھیں ملنا نہ ہو منظور تو کیسا اثر
کیا بھروسہ آہ کا کیا آسرا فریاد کا
سب صورتوں میں جلوہ گری ایک ہی کی ہے
نقشہ جما ہوا ہے کسی کے جمال کا
جلوہ کسی حسین کا ہے دل کی آرزو
تصویر ڈھونڈتا ہے مرقع خیال کا
یہ مانا دکھ ہمارا لادوا ہے
جو وہ پوچھیں تو اے دل پوچھنا کیا
ستاؤ دل دکھاؤ مار ڈالو
نہ آئے گا کبھی روزِ جزا کیا
مومن نے رقیب کے لیے لفظ ’غیر‘ کا استعمال سب سے زیادہ کیا ہے بلکہ یہ ان کی خصوصیت ہے۔ داغ نے تو کہیں کہیں رقیب کا لفظ استعمال کیا ہے، جیسے اس شعر میں      ؎
وہ اس ادا سے وہاں جا کے شرمسار آیا
رقیب پر مجھے بے اختیار پیار آیا
لیکن حسن بریلوی نے کہیں رقیب کا لفظ استعمال نہیں کیا اور ہر جگہ مومن کا رنگ ہے، مثال دیکھیے اس میں محاورہ بھی  ہے      ؎
غیر کی باتوں کو سن کر پی گئے
چپ رہے کیا جانیے کس ڈر سے ہم
سو کی سو اچھی اگر سو خواہشیں ہوں غیر کی
میری لاکھوں حسرتوں میں ایک بھی اچھی نہیں
الفتِ غیر کا مذکور ہے میرے آگے
وہ بھی اس ڈھب سے کہ ہیں چاہنے والا ہی نہیں
زبان بامحاورہ، الفاظ مناسب اور بندش چست ہو تو شعر میں جان پڑجاتی ہے۔ سامع کا ذہن فوراً اثر قبول کرلیتا ہے۔ فصیح و بلیغ کلام کی یہی نشانی ہے۔ حسن رضا نے شاعری کی ان خصوصیات کو اپنے استاد سے سیکھا۔ فصاحت اور بلاغت جو شعر میں معنوی خوبیاں، موزوں اور مناسب الفاظ سے ظاہری حسن پیدا کرتی ہے ان کے یہاں دونوں پہلو دلکش اور لطف انگیز ہیں۔
داغ اور شاگردانِ داغ کی ہمیں ایک خصوصیت ایسی ملتی ہے جس نے ان کو فصیح اللسان بنا دیا اور وہ ہے صنائع و بدائع کا بالقصد استعمال نہ کرنا جس سے کلام میں تصنع پیدا نہ ہو جیسا کہ سابقین کے کلام میں پایا جاتا ہے۔ جب شاعر کسی بدائع یعنی تشبیہ، استعارہ، تلمیح، مبالغہ، حسنِ تعلیل وغیرہ کو بالقصد استعمال کرتا ہے تو کلام سے فطری پن رخصت ہوجاتا ہے لیکن اگر کلام میں فطری پن کے ساتھ بداعت کا استعمال ہو تو وہ کلام فصیح کہلاتا ہے۔ خاص طور سے جب اس میں غیرمانوس ترکیب ثقیل الفاظ، اشعار میں ایک جیسے دو حرف کا اجماع جیسا کہ غالب کے یہاں نقشِ پا پایا ہے۔ اسی طرح غیرمانوس الفاظ اور مشکل لغات الفاظ نہ ہوں۔ حسن بریلوی کے دیوان کا شعر بہ شعر مطالعہ کرنے کے بعد یہ معلوم ہوا کہ انھوں نے استاد کی مکمل تقلید کی۔ ان کے الفاظ، تراکیبِ لغات، روزمرہ، محاورہ، جانِ فصاحت ہیں ان کو زبان میں غضب کی کشادگی اور خوش گوئی ملتی ہے۔
مجموعی طور پر حسن بریلوی کے غزلیہ دیوان ’ثمر فصاحت‘ کا گہرائی سے مطالعہ کرنے کے بعد تنقیدی طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان کی شاعری اپنے عہد کے غزل کے  تقاضوں کو پورا کرتی ہے۔ انھوں نے صرف رسمی طور پر شاعری نہیں کی ہے بلکہ اسے ایک فن کے طور پر برتا ہے اور اس کے تمام تقاضوں کو پورا کیا ہے۔ ان کی شاعری میں وہ تمام خصوصیات موجود ہیں جو ایک بلند اور معیاری شاعری کے لیے ضروری ہیں۔ ان کی غزلوں میں بلند خیالی اور رفعتِ تخیل پائے جاتے ہیں، ندرت اور افکارِ نو کی فضا بندی بھی ملتی ہے۔ زبان و بیان کی لطافت و نزاکت، حسن و رعنائی، دلکشی اور بانکپن، شدتِ احساس، عام بول چال، روزمرہ کی زبان، مانوس اور شگفتہ الفاظ اور حسبِ ضرورت محاورات و کنایات و استعارات اور پیکروں کا استعمال ان کی شاعری کا طرہئ امتیاز ہے۔ داخلیت کا رنگ ان کی شاعری میں بہت گہرا ہے۔ احساسات و جذبات کی فراوانی نے خارجیت کو تقریباً ختم کردیا ہے۔ احسا س کی شدت نے فطرت کی رنگینیو ں کو ان کے دامن میں بھر دیا ہے۔ بہار و شباب، فصلِ گل، بادِ بہاری، شادابی و رعنائی وہ کیا ہے جو ان کی شاعری میں نہیں پایا جاتا۔ ان کے اشعار و بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی شاعری میں داغ کا رنگ گہرا اور بہت گہرا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ دبستانِ داغ سے متعلق تھے اور اپنی غزلوں اور نعتیہ شاعری سے تا دم حیات اس رنگ سے دنیا کو رنگتے رہے۔ بقول لالہ سری رام، نواب فصیح الملک مرزا داغ دہلوی کے تلامذہ  میں آپ ایک امتیازی درجہ رکھتے تھے اور کچھ عجب نہیں کہ زندگیِ مستعار وفا کرتی اور یہ مشغلہ قائم رہتا تو ان کے نام کو جلا دیتے۔ حسن بریلوی کا قریب 50 سال کی مختصر عمر میں 1908 میں انتقال ہوگیا اور بریلی کے سٹی قبرستان میں مدفون ہوئے۔

Dr. Alam Shams
Dept of Urdu, Zakir Husain College
New Delhi - 110002
Mob.: 9312365749



ماہنامہ اردو دنیا، مارچ 2020

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...