8/5/20

قرۃ العین حیدر کے چند منتخب افسانوں کے امتیازی خطوط مضمون نگار: فصیح الرحمن






قرۃ العین حیدر کے چند منتخب افسانوں کے امتیازی خطوط

 فصیح الرحمن

ایک صدی سے زائد عرصہ پر محیط تاریخ میں اردو افسانہ مختلف ادوار سے گزرتے ہوئے مسلسل ارتقا پذیر رہاہے۔ افسانے کے ابتدائی یعنی رومانی دور میں علامہ راشدالخیری، سجاد حیدر یلدرم، نیاز فتح پوری، مجنوں گورکھپوری وغیرہ کی کوششیں لائق تحسین ہیں۔ جبکہ حقیقت نگاری کے رجحان کے تحت پریم چند، سدرشن اور اعظم کریوی وغیرہ نے کامیاب تخلیقات پیش کیں۔ 1932 میں ’انگارے‘ کی اشاعت نے اردو افسانے کو جہاں ایک طرف نئے موضوعات ومسائل سے روشناس کرایاتو دوسری جانب ہیئت و اسلوب کے اعتبارسے بھی انقلاب پیداکیا۔ دس کہانیوں کے مجموعے ’انگارے‘ میں ان پہلوؤں کی تصویر کشی کی گئی تھی جنھیں کراہیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ دولت کی نابرابری، جھوٹی مذہبیت،معاشرے میں حد درجہ بڑھی ہوئی ریاکاری، گھٹتے ہوئے ماحول کی نفسیاتی اور جنسی الجھنیں ان کہانیوں کے موضوعات بنے۔ 1936 کے لگ بھگ اردو ادب میں ترقی پسند تحریک کی ابتدا ہوئی۔ ترقی پسند تحریک جس نے غلامانہ سوچوں کی قدیم، بوسیدہ اور شکستہ دیواروں کو مسمار کرکے ادب کو روشن فکر تعمیر سے آشناکیا۔ آزادی سے قبل اردو افسانے میں جن افسانہ نگاروں نے اپنی شناخت قائم کی ان کی فہرست طویل ہے۔ اس ضمن میں بیدی، غلام عباس، منٹو،احمد ندیم قاسمی، کرشن چندر، خواجہ احمد عباس، عصمت چغتائی، اپندرناتھ اشک، بلونت سنگھ، عزیز احمد، اختر انصاری، سہیل عظیم آبادی، کوثر چاندپوری، ممتاز مفتی، محمد حسن عسکری وغیرہ کے نام خاصے اہم ہیں۔
1956 کے بعد ترقی پسند تحریک کا زوال شروع ہوگیا۔ اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ ان افسانہ نگاروں کے پاس کوئی نیا مواد باقی نہیں رہاتھاکیونکہ یہ لوگ جنگ آزادی اور تقسیم ہند کے دوران جو نئے تجربات کرچکے تھے ان کے سامنے مزید نیا تجربہ کرنا ایک نہایت مشکل امر تھااور ان فنکاروں کے لیے قارئین کی توقعات پر کھرا اترناآسان نہیں تھا جس کا نتیجہ یہ ہواکہ انھیں پڑھنے والوں کی تعداد کم ہوگئی اس صورتِ حال میں یہ بات فطری تھی کہ کوئی نئی آواز، نیا رجحان افسانوی میدان میں دَر آئے لہٰذا ترقی پسند تحریک کے بعد دو ایسے منفرد افسانہ نگار افسانوی اُفق پر نمودار ہوئے جو پہلے سے خامہ فرسائی کررہے تھے اور کسی نہ کسی سطح پر ترقی پسند تحریک سے متأثر بھی تھے لیکن وقت کے ساتھ ان دونوں نے اپنا الگ الگ رنگ اور جدا انداز اختیار کرلیایہ دومنفرد تخلیق کار تھے: انتظار حسین اور قرۃ العین حیدر۔
قرۃ العین حیدر 20 جنوری 1927 کو علی گڑھ میں پیدا ہوئیں۔ اپنے والد سجاد حیدر یلدرم کی ملازمت اور والدہ کی غیر مستقل مزاجی کی وجہ سے ان کی ابتدائی تعلیم باضابطہ کسی اسکول میں نہیں ہو پائی۔ نتیجہ یہ ہواکہ کبھی دہرادون، کبھی علی گڑھ، کبھی لاہور، کبھی لکھنؤ کے مختلف اسکولوں میں وقت گزارا۔ آخر میں دہرادون لوٹ آئیں یہیں سے پرائیویٹ طورپر میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ ایزا بیلا تھو برن کالج لکھنؤ سے انٹرکیا۔ اندرپرستھ کالج دہلی سے 1945 میں انگریزی میں بی اے کیا اور لکھنؤ یونیورسٹی  سے1947 میں ایم۔اے کی ڈگری حاصل کی۔
تقسیم کے بعد قرۃ العین حیدر کا خاندان ستمبر/ 1947 میں پاکستان منتقل ہوگیا۔ بعد ازاں 1960 تک پاکستان میں مختلف عہدوں پر کام کرتی رہیں۔ 1961 میں ہندوستان واپس آگئیں اور ممبئی میں ’امپرنٹ‘ اور ’السٹریٹیڈ ویکلی‘ کے ادارتی بورڈ میں شامل ہو گئیں۔ اردو، انگریزی میں صحافتی تحریریں لکھتی رہیں۔ انھوں نے ہندوستانی فلموں کے لیے مکالمے اور کہانیاں بھی لکھیں اور فلم سنسربورڈ کی ممبر بھی رہیں۔ ممبئی سے دہلی آئیں تو 1979 میں جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی میں بطور وزٹنگ پروفیسر مقیم رہیں۔ 1981-82 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں بطور وزٹنگ پروفیسر خدمات انجام دیں۔اس کے بعد مستقل طورپر نوئیڈا میں مقیم ہوگئیں۔ 21 اگست 2007 کو نوئیڈا میں ہی انتقال ہوا۔
اس سلسلے میں جمیل اختر لکھتے ہیں:
قرۃ العین حیدر آج ہمارے درمیان نہیں ہیں۔ اردو ادب کی عہد ساز، روایت شکن اور قدآورادیبہ آٹھ دہوں تک اردو ادب کے اُفق پر ایک درخشاں اور تابندہ ستارے کی مانند جگمگانے کے بعد آخر 21/ اگست 2007 کی درمیانی شب میں تقریباً ساڑھے تین بجے (کیلاش ہاسپٹل نوئیڈا میں جہاں وہ ایک ماہ سے زیادہ مدت تک زیر علاج تھیں)داعی اجل کو لبیک کہا اور اپنے مالکِ حقیقی سے جا ملیں۔“1
قرۃ العین حیدر کو بہت سے اعزازات سے نوازا گیا۔ جن میں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ 1967، غالب ایوارڈ 1984، پدم شری ایوارڈ 1984 اور گیان پیٹھ ایوارڈ 1989 خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔
قرۃ العین حیدر نے 6-7سال کی عمر میں لکھنا شروع کردیا تھا۔ پہلی تحریر ’کاٹھ گودام کا اسٹیشن‘کے نام سے لکھی۔ باقاعدہ طور پر پہلا افسانہ ’ایک شام‘ جسے وہ اسکرپٹ کہتی ہیں، فرضی نام لالہ رخ سے ’ادیب‘ نومبر 1943 میں شائع ہوا۔جس شخص کی تحریک اور دعوت پر قرۃ العین نے معتبر رسائل میں لکھنا شروع کیا اس کا ذکر خود مصنفہ نے کچھ یوں کیا ہے:
ایک روز حکیم یوسف حسن لاہور سے تشریف لائے اماں سے کہا ’نیرنگِ خیال‘ کی حالت دگر گوں ہوچکی ہے۔ کوشاں ہوں کہ پھر اسی آب وتاب سے نکلے۔ معاً مجھے مخاطب کیا، اب قلم آپ کے ہاتھ میں آیا ہے۔ آپ نیرنگ خیال میں لکھنا شروع کیجیے۔ میں نے نہایت اطمینان اور خود اعتمادی سے جواب دیابہت اچھا ضرور لکھیں گے۔“2
قرۃ العین حیدر کے مندرجہ ذیل افسانوی مجموعے شائع ہوئے۔
(1)     ستاروں سے آگے  1947 (چودہ افسانے)
(2)     شیشے کے گھر 1954(بارہ افسانے(
(3)     پت جھڑ کی آواز 1966(آٹھ افسانے)
(4)     روشنی کی رفتار1982(اٹھارہ افسانے)
(5)     قندیل چیں 2007(تیرہ افسانے)
)مذکورہ آخری مجموعے کو جمیل اختر نے ترتیب دے کر قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی سے شائع کیا۔(
اس مضمون میں قرۃ العین حیدر کے چند منتخب افسانوں پر گفتگو کرنا مقصودہے۔ اولاً مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے کے سیاسی اورسماجی محرکات کا جائزہ لیا جائے۔ جس زمانے میں قرۃ العین حیدر کا تخلیقی شعور پروان چڑھ رہاتھا۔
اردو افسانے کے تعلق سے قرۃ العین حیدر کے تخصص کو سمجھنے کے لیے یہ بھی جاننا اہم ہے کہ انھیں کس قسم کا سماجی، تہذیبی اور علمی ترکہ وراثت میں ملا۔ قرۃ العین حیدر کی افسانہ نگاری کی ابتدا اُس وقت ہوئی جب ملک کے سماجی اور سیاسی حالات میں تغیرات کا دَور دورہ تھا۔ سیاسی حالات روز بروز تبدیل ہورہے تھے۔ ماضی کی قدریں سیّال ہوچکی تھیں حال کی کیفیت اضطرابی اور مستقبل شبہات کے دائرہ میں قید تھا۔ قرۃ العین حیدر نے اپنے مخصوص علمی نظریے اور منفرد اسلوب کی بدولت اردو افسانے میں اپنی الگ پہچان قائم کی۔ اسلوب کی انفرادیت کے ساتھ ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ نفسیاتی اور فلسفیانہ پہلو ؤں پر گہری نظر ڈالتی ہیں۔ افسانوں میں عصری شعور کی روشنی میں انسانی تہذیب اور حیات وکائنات کے مسائل کو فلسفیانہ ڈھنگ سے پیش کرتی ہیں۔ انھیں ماضی کی بازیافت اور وقت کے تسلسل پر مکمل گرفت حاصل ہے۔ قرۃ العین حیدر موضوع اور اسلوب کے نقطہئ نظر سے بھی اپنے ہمعصروں میں ممتاز ہیں۔ تقسیم کے بعد ان کے موضوعات میں تنوع پیدا ہوا۔ بٹوارے کے المناک نتائج، ہجرت اور بے وطنی کا احساس، دونوں ملکوں کے عوام کی ذہنی کشمکش، اعلیٰ طبقے کا تہذیبی و اخلاقی زوال، سیاسی وسماجی اقدار کا انہدام، طبقاتی تضادات، وقت کا جبر، رومانیت سے گریز جیسے موضوعات کو انھوں نے جس فنی چابک دستی کے ساتھ اپنے افسانوں میں برتااس کی مثال نہیں ملتی۔
1960 تک آتے آتے قرۃ العین حیدر کے فن میں مزید پختگی پیدا ہوگئی اور ان کا افسانوی کینوس وسیع ہوتا گیا۔ شاید ہی کوئی ایسا ثقافتی اور تمدنی موضوع تھا جو ان کے قلم کی گرفت میں نہ آیا ہو۔ قرۃ العین حیدر تاریخ، تہذیب و تمدن پر عالمانہ گرفت رکھتی ہیں۔ وہ بیک وقت ماضی اور حال دونوں میں سانس لیتی ہیں اور اپنے جذبات و احساسات کو اپنی تخلیقات میں ضم کردیتی ہیں۔ان کی تخلیقات کو اقدار کی شکست و ریخت کی تاریخ بھی کہا جاسکتاہے جس کا بیان کرتے وقت وہ ایسی فضا قائم کرتی ہیں کہ قاری خود ان قدروں کے خاتمہ کا عینی شاہد بن جاتاہے۔ وہ اندھی تقلید سے اجتناب برتتی ہیں۔ ان کی، عالمی ادب، بطور خاص مغربی ادب سے گہری وابستگی تھی۔ اپنے وسیع مطالعے، گہرے مشاہدے اور بے پناہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے انھوں نے اپنی راہ خود منتخب کی۔ قرۃ العین حیدر کی فنکارانہ عظمت کے پروفیسر گوپی چند نارنگ یوں معترف ہیں:
قرۃ العین حیدر جو پہلے سے لکھ رہی تھیں بلاکی ذہانت اور عمیق مشاہدہ رکھتی ہیں۔ ان کے افسانوں میں خاص طور سے اودھ کی جاگیردارانہ اقدار کے مٹنے کا نوحہ اور ان سے متعلق Nostalgiaہے۔ اس امر سے انکار نہیں کیا جاسکتاکہ فن، ہیئت، اسلوب واظہار کے تجربوں ہی نے انھیں انفرادی حیثیت عطاکی۔“ 3
قرۃ العین حیدر اپنی افسانہ نگاری کے شروعاتی دور میں جن حالات اور ماحول سے دوچار تھیں اس سے چشم پوشی ممکن نہیں تھی اس لیے انھوں نے اپنے افسانوں میں مٹتی ہوئی اعلیٰ قدروں کو پیش کیا۔ تقسیم کے بعد منظر عام پر آئے ان کے افسانوں میں ایسی تخلیقات کی کثیر تعداد ہے جن میں تقسیم ہند کے ردِّعمل کو موضوع بنایا گیاہے۔ اور منقسم خاندانوں کی روداد، ہندومسلم اتحاد، باہمی دشمنی، قتل وغارت گری، ملکی انتشار، ملک وعوام کے حالات و واقعات اور نفسیاتی کیفیات کا بھرپور نقشہ کھینچا گیا ہے۔ تقسیم کے اس المناک سانحہ کا اثر دیگر ادبی اصناف کی طرح افسانے نے بھی قبول کیا۔ آزادی کے بعد فرقہ وارانہ فسادات، نقل مکانی، مہاجرین کی آباد کاری، جمہوری نظام کا قیام، نئی منصوبہ بندی اور اس پر عمل جیسے موضوعات اردو افسانے میں پیش کیے گئے۔ ان موضوعات پر خامہ فرسائی کرتے ہوئے جن فنکاروں نے اعتدال کو ملحوظ رکھا اور انسانی اقدار کی پاسداری کی ان میں قرۃ العین حیدر کا نام اہمیت کا حامل ہے۔
قرۃ العین حیدر کے افسانوں میں ’جلاوطن‘ان کا شاہکار افسانہ ہے۔ افسانے میں 1947 کے فسادات، ان کی وجوہات، تقسیم کے سماج پر مرتب ہونے والے اثرات اور بٹوارے سے قبل کے منظرنامے کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ یہ افسانہ اس پورے ماحول کی عکاسی کرتاہے جس میں بے بسی، کرب اور انتشار ہے۔ قرۃالعین نے مؤثر انداز میں اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ کس طرح دو تہذیبیں آپس میں متصادم ہوتی ہیں۔ کشوری،کھیم وتی، کنول کماری اور آفتاب رائے اس افسانے کے اہم کردار ہیں پوری کہانی انھیں کے ارد گرد گھومتی ہے علاوہ ازیں بعض ہندو، مسلم اور عیسائی رئیس گھرانوں کی تہذیبی زندگی کی عکاسی اس افسانے کا خاصہ ہے۔ افسانے کے ابتدائی حصے میں ہندو مسلم طبقے کی مشترکہ تہذیب کی تصویر کشی کچھ اس طرح کی گئی ہے:
زبان اور محاورے ایک ہی تھے۔ مسلمان بچے برسات کی دعا مانگنے کے لیے منھ نیلا پیلا کیے گلی گلی ٹین بجاتے پھرتے اور چلاتے... برسورام دھڑاکے سے بڑھیا مرگئی فاقے سے۔ گڑیوں کی بارات نکلتی تو وظیفہ کیا جاتا.. ہاتھی گھوڑا پالکی... جے کنہیا لال کی۔ ذہنی اور نفسیاتی پس منظر چونکہ یکساں تھا لہٰذا غیر شعوری طور پر... Imagery کبھی ایک ہی تھی۔ جس میں رادھا اور سیتا اور پنگھٹ کی گوپیوں کا عمل دخل تھا۔ مسلمان پردہ دارعورتیں جنھوں نے ساری عمر کسی ہندو سے بات نہ کی تھی۔ رات کو جب ڈھولک لے کر بیٹھتیں تو لہک لہک کر الاپتیں... بھری گگری موری دھرم کائی شام... کرشن کنہیا کے اس تصور سے ان لوگوں کے اسلام پر کوئی حرف نہ آتاتھا۔ یہ سب چیزیں اس تمدن کی مظہر تھیں۔ جنھیں پچھلی صدیوں میں مسلمانوں کی تہذیبی ہمہ گیری اور وسعت نظر اور ایک رچی ہوئی جمالیاتی حس نے جنم دیا تھا۔ یہ گیت اور کجریاں اور خیال یہ محاورے ’یہ زبان‘ ان سب کی بڑی پیاری اور دل آویز مشترکہ میراث تھی۔ یہ معاشرہ جس کا دائرہ مرزاپور اور جون پورسے لے کر لکھنؤ اور دلی تک پھیلا ہواتھا۔ ایک مکمل اور واضح تصویرتھا۔ جس میں آٹھ سو سال کے تہذیبی ارتقا  نے بڑے گمبھیر اور خوبصورت رنگ بھرے تھے۔“ 4
کہانی میں مشترکہ تہذیبی علامتیں اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ اس طرح جلوہ گر ہیں کہ قاری کے سامنے ہندوستانی تہذیب و ثقافت کا پورا منظر گھوم جاتا ہے۔ لیکن تقسیم کے بعد ہندوستانی مسلمانوں کے سامنے جو حالات درپیش تھے وہ یقینا بڑے دشوار تھے۔ کشوری کا پورا خاندان پاکستان ہجرت کرجاتاہے۔ وہ اپنے بابا کے ہمراہ ہندوستان رہ جاتی ہے لیکن اسے اپنے اس فیصلے کے عوض اپنے ہی ملک میں رہ کر مشکلات سے نبردآزما ہونا پڑتاہے۔ اس صورتِ حال کا بیان فنکار نے بڑی خوبصورتی سے کیا ہے۔ افسانے کا آخری ٹکڑا دیکھیے:
کنول رانی.... کسی نے اندھیرے میں یک لخت پہچان کر چپکے سے پکارا۔ یہاں آجاؤ۔ اب کسی پچھتاوے، کسی افسوس کا وقت نہیں ہے۔
پرانے عہد نامے منسوخ ہوئے۔ کشوری نے آہستہ سے دہرایا۔ ہم اس طرح زندہ نہ رہیں گے۔ ہم یوں اپنے آپ کو نہ مرنے دیں گے۔ ہماری جلاوطنی ختم ہوگی۔ ہمارے سامنے آج کی صبح ہے، مستقبل ہے۔ ساری دنیا کی نئی تخلیق ہے۔
لیکن کنول کماری.... تم اب بھی رورہی ہو....؟“ 5
قرۃ العین حیدر ایک مؤرخ کی حیثیت سے کہانی بیان کرتی ہیں۔ جس کی قرأت سے پورے عہد کی سماجی، سیاسی اور ثقافتی صورتِ حال ہمارے سامنے واضح ہوجاتی ہے۔ ان کے افسانوں میں رومانیت کے ساتھ ساتھ سیاسی شعور اور داخلی مشاہدات کی ترجمانی بھی شامل ہے۔ ’جلاوطن‘ کا یہ رجائی اختتام یقینا ٹوٹے پھوٹے اور شکست خوردہ انسانوں کو حوصلے کے ساتھ زندگی گزارنے کی ترغیب دیتاہے۔ ساتھ ہی نئے عہد، نئی صبح اور نئے مستقبل کی بشارت دیتاہے کہ ماضی کی ناکامیوں سے نہ گھبراتے ہوئے ایک تابناک مستقبل کی بنیاد رکھنی چاہیے جس سے آئندہ زندگی روشن ہو سکے۔ اس لحاظ سے دیکھاجائے تو یہ قرۃ العین حیدر کا ایک منفرد افسانہ ہے۔
افسانہ ’سیتاہرن‘ آزادی کے بعد کے ماحول اور نچلے طبقے کی غربت، بے بسی، المناکی اور محرومی کے حوالے سے لکھی گئی ایک عمدہ کہانی ہے۔ اس افسانے میں ایک سندھی پناہ گزیں لڑکی سیتا کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ معاشرے کے اعلیٰ طبقے کی ذہنیت اونچے عہدوں پرفائز لوگوں اور بین الاقوامی شہرت کے مالک آرٹسٹ اور تہذیبی سرگرمیوں میں حصہ لینے والے آزاد خیال نوجوانوں، مرد اور عورتوں کے ذہن کی عکاسی اس کہانی میں بڑے فنکارانہ انداز میں کی گئی ہے۔ سیتا ایک ایسی لڑکی ہے جو جنگل میں وہاں کا قانون اپناکر زندگی گزار سکتی ہے۔ انسانی قوانین وہاں بے معنی ہیں۔ اس سیتا کو آج کے راون نے اغوا کرلیا ہے۔ عورت یہاں کمزوری اور استحصال کی علامت ہے۔ مگر یہ شکست اور استحصال صرف سیتا جیسی لڑکیوں کے لیے ہی مخصوص نہیں بلکہ کم وبیش یہی حال اس جدید معاشرے کا بھی ہے جہاں عورتوں کو آج بھی کمزور سمجھا جاتا ہے۔
ہاؤسنگ سوسائٹی‘ قرۃ العین حیدر کی علامتی انداز میں لکھی گئی کہانی ہے جس میں جدید تہذیب، سیاست و معیشت پر بے باک انداز میں طنز کیا گیا ہے۔ اس کہانی میں موجودہ تہذیب کی خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ افسانے کا ہیرو جمشید سید ایک نودولت مند انسان ہے جو دولت کے نشے میں اس قدر چور ہے کہ اپنا ماضی بھی فراموش کردیتا ہے۔ لیکن جب اسے اپنا ماضی یاد آتاہے تو وہ بہت شرمندہ ہوتا ہے۔ یہ افسانہ غیر منقسم ہندوستان سے شروع ہوکر تقسیم کے بعد پاکستان کی سرزمین پر اختتام پذیر ہوتاہے۔ اس افسانے میں انکشاف، اسرار، تجسس، اور حادثات قدم قدم پر رونما ہوتے ہیں۔ جمشید سید افسانے کے اختتام پر اعترافِ حق کے ذریعے انسان دوستی کا پتہ دیتا ہے۔
جاگیر دارانہ نظام کے زوال اور جدید طرز پر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے نتیجے میں ہندوستانی معاشرے میں تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ اس صورت حال نے جہاں انسان کو اپنی آن بان کو خیرباد کہنے پر مجبورکیاوہیں شخصی آزادی کا ایک تصور بھی دیا کہ وہ یک لخت تمام بندشوں سے آزاد ہوگیا معاشرے کے ٹوٹنے بکھرنے کے باعث اخلاقی قدروں کی شکست و ریخت کو بھی اپنی زد میں لیا۔ چنانچہ شخصی آزادی کی آڑ میں انسان نے تمام سماجی، تہذیبی، تمدنی اور اخلاقی اقدار کو فراموش کردیا۔ نیز ہندوستان کے سیاسی حالات بہ طور خاص تقسیم ہند کے واقعے سے اس تصور کوجلاملی۔ انسان نہ صرف نقل مکانی کے عمل سے دو چار ہوا بلکہ اسے ایسے بہت سے مسائل بھی درپیش ہوئے جن کا حل تلاش کرنے سے اس کی ذات قاصر تھی۔ آزادی کے سبب اخلاقی قدروں کا انہدام ہوا اور جدید تعلیم کے زیر اثر اعلیٰ سوسائٹی سے ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے جنسی کج روی کو فروغ دیاگیا۔
قرۃ العین حیدر نے ’پت جھڑ کی آواز‘ میں ان ہی دو تصورات سے پیداہونے والے معاشرتی مسائل کو پیش کیا ہے۔اس میں انھوں نے جہاں ایک طرف زمیندارانہ نظام کے خاتمے کا شدید احساس دلایاہے وہیں وہ دوسری جانب اعلیٰ سوسائٹی میں خوش حال زندگی بسر کرنے والے افراد کی جنسی آزادی کے وسیع پس منظر کے ذریعے زندگی کی ایک واضح اور نئی تصویر پیش کرنا چاہتی ہیں۔ ان کے یہاں جنس کا ذکر محض جنسی تلذذ کے لیے نہیں ہوتا بلکہ اس کے ذریعے وہ سماج میں پھیلی برائیوں اور تلخ حقیقتوں سے پردہ اٹھاتی ہیں۔ جنس بلاشبہ انسانی فطرت میں داخل ہے لیکن اس افسانے میں انھوں نے اعلیٰ طبقے کے افراد کے جنسی جذبات کی ترجمانی بڑے فن کارانہ انداز میں کی ہے اور سماج کو اصل حقیقت سے روشناس کرانے کی سعی کی ہے۔ کس طرح ہماری تہذیب و ثقافت پر مغربی تہذیب اثر انداز ہوئی ہے اس المیے کو اس افسانے میں پیش کیا گیا ہے۔ اس افسانے میں نئی نسل کے خیالات کی ترجمانی بھی بڑے معنی خیز انداز میں کی گئی ہے۔
مندرجہ بالاباتوں سے ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ قرۃ العین حیدر کے اسلوب، فن اور تکنیک میں کثیرالجہتی پائی جاتی ہے نیز ان کی کم آمیزی، کم گوئی اور مشکل پسندی نے ان کی انفرادیت کو اور نمایاں کردیا اس لیے کہا جاتاہے کہ اپنے اسلوب کی خالق و خاتم وہی ہیں۔
قرۃ العین کے افسانے عصری شعور کی روشنی میں انسانی تہذیب اورحیات و کائنات کے مسائل کا فلسفہ بڑی دیانت داری سے پیش کرتے ہیں۔ وہ صدیوں کے رشتوں، ماضی کی بازیافت اور وقت کے تسلسل کو گرفت میں لینے میں ید طولیٰ رکھتی ہیں۔ ان کے کردار وقت کے شکنجے میں جکڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔ جلاوطن، ڈالن والا اور دوسیاح کے کردار وقت کے زندانی ہیں جو نامعلوم عہدقدیم سے محسوس ماضی قریب یا عہد جدید کا سفر کرکے پھر اپنے اس معین وقت میں مقید ہوجاتے ہیں۔ وقت کا یہ تصور قرۃ العین حیدر کے یہاں جبرکی علامت بن جاتاہے جو تقدیر اور تاریخ کا جبر ہے اور ان کے اکثر کردار وقت کی اسی جبریت کا شکار ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ قرۃ العین نے مغربی ادیبوں کا براہ راست مطالعہ کیا اور اسے اپنے فن میں برتا۔ پروفیسر عبدالمغنی رقم طراز ہیں:
وہ (قرۃ العین حیدر) اردو کی پہلی افسانہ و ناول نگار ہیں جنھوں نے براہِ راست عصر حاضر کے انگریزی فکشن کے جدید ترین ہیئتی تجربوں سے استفادہ کیاہے، گرچہ یہ ایک مجتہدانہ استفادہ ہے، مقلدانہ نہیں“6
بیسویں صدی میں انگریزی کے جن فن کاروں سے قرۃ العین حیدر نے استفادہ کیا ہے ان میں جیمس جوائس اور ورجینیاوولف کے نام لیے جاسکتے ہیں۔ قرۃ العین حیدر نے یوروپ کی زندگی کو بھی اپنا موضوع بنایاہے اور بین الاقوامی سطح پر عصر حاضر کے متعدد واہم مسائل کو مدنظر رکھاہے، اس کے علاوہ ماضی سے حال تک وقت کا جو بسیط احساس قرۃ العین حیدر کے یہاں ہے وہ انگریزی ناول یا افسانہ نگار کے یہاں نہیں ہے۔
اس کے علاوہ قرۃ العین حیدر ایک Criticalذہن کی مالک ہیں اس لیے اشیاکو سطحی نظر سے دیکھنے کے بجائے ان کی ماہیت جاننے کی خواہش مند رہتی ہیں۔ ان کے لیے تخلیق ایک داخلی تجربہ کی حیثیت رکھتی ہے اور ان کے اکثر افسانوں کی فضا ان کے داخلی احساس کی فضا ہوتی ہے۔
حواشی
(1)     جمیل اختر: دفتر ہستی میں تھی زریں ورق تیری حیات (مضمون)  مشمولہ۔ کتاب نماکا خصوصی شمارہ قرۃ العین حیدر فن اور شخصیت۔ مرتبین۔ ہمایوں ظفر زیدی، محمد محفوظ عالم، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، نئی دہلی، 2007، ص 7
(2)     قرۃ العین حیدر:کارجہاں درازہے (جلداول، دوم) ایجوکیشنل  پبلشنگ ہاؤس،دہلی، 2003، ص425
(3)     گوپی چند نارنگ۔ اردو افسانہ روایت اور مسائل۔ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،دہلی،2013،ص736
(4)     قرۃ العین حیدر: جلاوطن، مشمولہ شیشے کے گھر، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی، 2019 ص284-85
(5)     قرۃ العین حیدر: جلاطن، مشمولہ شیشے کے گھر، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی، 2019، ص 311
(6)     عبدالمغنی۔ قرۃ العین حیدر کافن، موڈرن پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی، 1994، ص 7


Fasi ur Rehman
Room No. 81, Amin Hostel, M.M Hall,
A.M.U, Aligarh-UP,
Pin code 202002
Mob: 9319949794
Email: fasi.khan90@gmail.com


ماہنامہ اردو دنیا، اپریل 2020

7/5/20

وارث علوی کی تنقیدی بصیرت مضمون نگار: محمد زبیر




وارث علوی کی تنقیدی بصیرت

محمد زبیر

وارث علوی دورِجدید کے ان ناقدین میں سے ہیں جنھوں نے نہ صرف اردو تنقید کو نئے امکانات سے روشناس کیا بلکہ اپنے فکروفن اور غیر جانب دارانہ رویوں سے اردو ادب کو اعتباربھی بخشا ہے۔ انھوں نے جس موضوع پر قلم اٹھا یا،بے لاگ لکھا اور بڑی جرأ ت مندی کے ساتھ اپنی ناقدانہ آرا پیش کیں۔ ان کی تحریریں دوسرے ناقدین کی خامیوں، کمزوریوں اور دیگر پہلوؤں پر گرفت کرتی ہیں۔ انھیں اردو اور انگریزی دونوں زبانوں پر دسترس حاصل ہے، لہٰذا ہندوستانی ادبیات کے ساتھ مغربی لٹریچر بھی زیر مطالعہ رہے۔یہی مطالعے اور ذوقِ کتب بینی ان کے ادبی شعورکو پروان چڑھانے میں اہم اور کارگر ثابت ہوئے اور تنقید ی رجحان کا سبب بھی بنے۔  وارث علوی کی تنقید حقیقت پسندانہ اور منصفانہ رویوں پر مبنی ہے لیکن اسلوب میں طنز و استہزا کی فراوانی کے سبب بعض ناقدین کے لیے گراں بار ہوتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ اردو کے اکثر ناقدین ان کی ناقدانہ صلاحیتوں کے معترف تو ہیں لیکن انھیں وہ مقام دینے کے حق میں نہیں جس کے وہ مستحق ہیں۔
وارث علوی نے ادب کی مختلف اصناف پر اپنے تنقیدی نظریے پیش کیے ہیں۔ہرچند کہ ان کا شمار فکشن ناقدین میں ہوتا ہے اور ان کی فکشن تنقید ایک مستقل عنوان کی حیثیت بھی رکھتی ہے۔ انھوں نے افسانے کی تنقید میں نظری اور عملی دونوں پہلوؤں سے اضافے کیے ہیں تاہم ان کی نگارشات نہ صرف ناول اورافسانے کا ہی احاطہ کرتی ہیں بلکہ اردو شاعری اور تنقیدیں بھی ان کے مطالعے کے اہم موضوعات رہے ہیں۔اس لحاظ سے دیکھیں تو ان کی درجن بھر کتابیں ان موضوعات کابھرپور احاطہ کیے ہوئے ہیں، جن میں ’خندہ ہائے بیجا’(1987)، ’پیشہ توسپہ گری کا بھلا‘ (1990)،’کچھ بچایالاہوں‘ (1990)، ’اوراق پارینہ‘ (1998)،’بورژواژی بورژواژی‘ (1999) ’ادب کا غیر اہم آدمی‘ (2001)، ’لکھتے رقعہ لکھے گئے دفتر‘ (2001)،’ناخن کاقرض‘ (2003)، ’حالی، مقدمہ اور ہم‘ اور ’بتخانہئ چین‘ (2010) وغیرہ اہم ہیں۔
 کسی اہم اور غیر جانب دارانہ ناقدکی تنقید ا دب میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوا کرتی ہے۔ وارث علوی کا تنقیدی شعور ایسا ہی ہے جو ان کے خالص علمیاتی جذب واخذ کا نتیجہ ہے۔ تنقید کا کام نہ صرف شعروادب کی آبیاری کرنا ہے بلکہ باذوق قارئین بھی پیداکرنا ہے۔ تنقیدی دورانیے میں باذوق قارئین کا اضافہ اسی وقت ممکن ہے جب نقاد اپنے علومِ دبیزہ سے ادب میں کسی نئے پہلو کو ایک نئے استدلال اور نئے طریقۂ کار کے ساتھ پیش کرے اور یہ امر ملحوظ رکھے کہ موضوع اور لفظ ومعنی کے مابین کوئی حدفاصل موجود نہ ہو۔ کیونکہ موضوعِ نقد اپنے اندربے پناہ وسعت رکھتا ہے اور اس بات کا متقاضی بھی ہوتاہے کہ اسی کے موافق لفظ ومعنی لائے جائیں۔اگرموضوع ان خصوصیات سے  عاری ہے تو قاری کے لیے گراں بارہوتاہے اور بآسانی وہ اسے قبول بھی نہیں کرتا۔ وارث علوی کی تنقید اس کے خلاف صدائے احتجاج ہے۔جیسا کہ آلِ احمد سرور کی تنقید سے متعلق لکھا ہے:
سرور کے یہاں تفحص اور انکشاف کی کوشش ملتی ہے، لیکن کوشش بارآور ثابت نہیں ہوتی۔ کیونکہ تنقید میں موضوع اسی وقت اپنے معنوی اسرار بے نقاب کرتاہے جب تجزیہ، تحلیل، تفسیر اورتشریح کے محاذوں سے اس پر بیک وقت دھاوابولا جائے۔ سرور ایسا نہیں کرتے۔ وہ تلوار چلانے کے بجائے تلوار سے کھیلنے لگ جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ چکاچوند سے بھی وہی نتیجہ برآمد ہوگا جوتُلا ہوا وار کرنے سے پیدا ہوتاہے………… اگر وہ اپنے موضوع سے انصاف نہیں کرسکے تو اس میں قصور ان کی تنقیدی صلاحیتوں کا نہیں، بلکہ طریقۂ کار کا ہے۔سرور کے طریقۂ کار کے نقائص ہیں، تجزیاتی مطالعہ کی کمی، عمومی بیانات کی فراوانی، غیر متعلق مباحث کی بھرمار،پیش پا افتادہ خیالات کا چمک دار اقوال میں آواگون، اور وہ خاص نیم مدرسانہ، نیم شاعرانہ، نیم متصوفانہ اور نیم شاطرانہ رویہ شامل ہے۔ 
( خندہ ہائے بیجا:وارث علوی،ص88)
 وارث علوی نے ایک طرف سرورکی کمزوریاں اجاگر کی ہیں تو دوسری جانب ان کی ادب فہمی اور تنقیدی صلاحیتوں کا اعتراف بھی کیاہے۔ ہر چند کہ اردو تنقید میں آل احمد سرور کو ایک معتبر مقام حاصل ہے۔ ان کے ادب پاروں نے نہ صرف شعروادب کوایک معیار عطا کیاہے بلکہ اسے ایک رخ بھی دیا ہے اور مختلف زاویوں سے دیکھنے اورپرکھنے کی ضرورت کا احساس بھی دلایاہے۔ یہ بات کسی حد تک درست ہے کہ ہمارے ناقدین اور ادیبوں کے یہاں مغربی دانشوروں کے طرزپر سوچنے، غور و فکر کرنے، حق وصداقت اورفنی خوبیوں کو اجاگر کرنے کی وہ صلاحیت نہیں جو ان کے یہاں موجود ہے تاہم اس بات سے انکار بھی نہیں کہ اردو ناقدین  نے اپنی تنقیدی صلاحیتوں سے ادب کو فروغ دینے میں حتی الوسع سعی کی ہے۔ وارث علوی نے مشرقی ادب اورناقدین کے تنقیدی رویوں  کے متعلق لکھا ہے:
علم کو علم کی طرح حاصل کرنا، جہانِ افکار کی بے لوث سیاحت پر نکل جانا، مکمل معروضیت سے حقائق کو چانچناپرکھنااور ایک بے لاگ اور بے پایاں تجسس کے تحت صداقت کی تلاش کرنا، دانشوری کے وہ آداب ہیں جن کا مغرب کے ادیبوں اور مفکروں کی طرح ہم نے کبھی پاس نہیں کیا۔کچھ سلیقے کا کام ہونے لگتاہے کہ عظمت لیڈری اور چودھراہٹ کا کیڑا سر میں کلبلانے لگتاہے۔ پھر تو نظریہ عقیدہ بن جاتاہے اور عقیدہ مذہب اور نقاد پیغمبریہ پورا رویہ مخالف دانشورانہ ہے۔
(لکھتے رقعہ لکھے گئے دفتر:ص150)
وارث علوی کا نظریۂ نقد نہ کسی عقیدہ اور مذہب کا پابند ہے اور نہ ہی ان کے یہاں پیغمبرانہ رویے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ان کی تنقیدی نگارشات کا اگرہم بغور مطالعہ کریں تو یہ بات پوری طرح واضح ہوجاتی ہے۔ان کی کتاب ”حالی، مقدمہ اور ہم“ اس لحاظ سے بڑی اہمیت کی حامل ہے کہ اس میں انھوں نے حالی اور مقدمہ پر کھل کر بحث کی ہے۔ یہ کتاب حالی فہمی میں بڑی کارآمد ثابت ہوئی ہے۔مولاناحالی وہ پہلے شخص ہیں جنھوں نے اردو تنقید کومقام ومعیاربخشا۔ انھوں نے ’مقدمہئ شعرو شاعری‘ اپنے دیوان کے لیے بطورمقدمہ لکھ کراردوتنقید کی بنیاد ڈالی۔ یہ کتاب ہمارے ناقدین ادب کے نزدیک اس قدر منفرد اورگراں قدرثابت ہوئی کہ انھوں نے اس کواردوادب کی مستند تنقیدی کتاب کے طورپر تسلیم کیا اورحالی کوباقاعدہ اردوتنقیدکا بانی مان لیاکیونکہ حالی سے پہلے جوتنقید ملتی ہے وہ محض چند تذکروں تک ہی محدود ہے۔ ان تذکروں میں میرکے تذکرے ’نکات الشعرا‘ کو اولیت حاصل ہے،اس کے بعد یہ سلسلہ قائم چاندپوری کے تذکرے سے ہوتاہوا محمد حسین آزاد کی کتاب ’آب حیات‘تک پہنچتاہے۔ آزاد نے اردوتنقید وتحقیق کے موضوع پر اپنی کتاب ’آب حیات‘ادبی دنیا کے سامنے پیش کرکے اپنی خلاقانہ صلاحیت کاثبوت پیش کیاہے۔ اردو تنقید کے ابتدائی دورمیں محمد حسین آزاد سے قبل تذکروں کی تنقید اورآگے چل کر مولاناحالی سے شروع ہونے والی ادبی تنقید سامنے آتی ہے۔
 محمد حسین آزاد کی کتاب ’آب حیات‘ کے بعد اردوادب میں باقاعدہ طورپر تنقید کی شروعات حالی کے ’مقدمہ‘  سے تسلیم کی  جاتی ہے۔ مولاناحالی نے اردوتنقید وتحقیق میں نظم وضبط کی پوری پوری پاسداری کی ہے جب کہ آزاد کے یہاں تنقیدی تصورات  نہ صرف منتشرمعلوم ہوتے ہیں بلکہ بنیادی مسائل پر تفصیلی اظہاربھی نہیں کرتے۔ حالی کواپنے ماقبل نقادوں پر فوقیت حاصل ہے کیونکہ ان سے قبل تنقید کے موضوع پر کوئی تخلیق نہیں ملتی صرف چند تذکرے یادوایک تاریخی کتب ہی سامنے آتی ہیں۔ یہ تذکرے یاتاریخی کتب تنقید کے فرائض انجام نہیں دیتے۔ مولانا حالی کی تصنیف’مقدمۂ شعروشاعری‘ (1893) اردوکی پہلی باضابطہ تنقیدی کتاب کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس مقدمہ میں جن باتوں پر تفصیلی بحث کی ہے، ان میں ایک اہم اوربنیادی پہلو اردو شاعری کی خصوصیات سے متعلق بھی ہے۔  ایک شاعرمیں شاعری کے لیے ایسی خصوصیات کا ہونالازم ہے جواسے غیرشاعر سے ممیز کرسکے۔مقدمۂ حالی کا سب سے اہم وصف یہ ہے کہ انھوں نے اپنی باتوں کو ثابت کرنے کے لیے دلائل کو بنیاد بنایا۔ ان  کے مطابق برائے شعر گفتن ایک شاعر میں تین خصوصیات،تخیل، مطالعۂ کائنات اورتفحصِ الفاظ کا پایا جانا ضروری ہے، جن کے بغیر عمدہ شاعری کا تصور ممکن نہیں کیونکہ حالی نے جن خصوصیات کو ناگزیرقراردیاہے ان میں اولیت تخیل کو ہی ہے۔ کسی شاعرمیں شاعرانہ تخیل کی پرواز جتنی بلندہوگی اس کی شاعری اسی قدر معیاری اوراعلیٰ پائے کی ہوگی، اگرپروازِ تخیل  بلند نہیں ہے تو اس کی شاعری کمتردرجے کی ہوگی۔ وارث علوی نے مولانا حالی اور ’مقدمۂ شعروشاعری‘ پر صرف اپنی ناقدانہ آراہی پیش نہیں کیں بلکہ ان ناقدین ادب پر ضربِ  کاری بھی لگائی ہے جنھوں نے حالی کو اپنا ہدف بنایا۔انھوں نے لکھا ہے:
ہمارے نقاد نئے نئے انگریزی کے پروفیسر بن کر آئے۔ انگریزی تنقیدمیں کالرج کے تخیل کے چرچے بھی عام تھے۔ انگریزی کا بی اے کا طالب علم چوں کہ اسکاٹ جیمز کو پڑھتاہے اس لیے فینٹسی اور امیجینیشن اور Esemplastic امیجینیشن کی گردان کیا کرتاہے۔ حالی کے نکتہ چیں بھی یہی گردان کرنے لگے۔ حالی آج کے فنکاروں کی طرح یہ بتانا نہیں چاہتے تھے کہ تخیل کے موضوع پر انھوں نے کون کون سے تیس مار خانوں کی کتابوں کا مطالعہ کیا ہے۔وہ تو تخیل کے موضوع پر کچھ ایسی کام کی باتیں بتانا چاہتے تھے جو تخلیق شعر کے عمل پر کچھ روشنی ڈال سکیں۔ چناں چہ انھیں جانسن، مِکالے وغیرہ کے یہاں سے اس موضوع پر جو کچھ تھوڑا بہت مواد مل سکتاتھا اس سے فائدہ اٹھایا اوراس مواد کو بنیاد بناکر تخیل کی ایسی تعریف کی جو آج بھی اردو تنقید میں حرفِ آخر کا مقام رکھتی ہے۔
(حالی، مقدمہ اورہم:وارث علوی،ص19-20)
وارث علوی نے بھی تخیل کا گہرا مطالعہ کیاتھا۔ انھوں نے کالرج جیسے مغربی نقاد کو پڑھااوراپنی ذہنی اور فکری صلابت سے تخیل جیسے خشک موضوعات کی باریکیوں سے نہ صرف آگاہی حاصل کی بلکہ اپنی ناقدانہ آرا سے  نام نہاد ناقدین کو آئینہ بھی دکھایا۔حالی اردو کے اہم  نقاد تسلیم کیے گئے ہیں تاہم بعض ناقدینِ ادب نے نظریاتِ حالی سے اختلاف کیا ہے۔ لیکن وارث علوی کی نظر میں حالی کا مقدمہ اس لحاظ سے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ قبل ازیں اس موضوع پر کوئی مستند کتاب دستیاب نہیں تھی اور نہ ہی بعدمیں کوئی ایسی مفصل اور مدلل کتاب سامنے آسکی۔  لہٰذا اس کے بعد جن ناقدین نے مذکورہ موضوع پر لکھنے کی سعی کی ہے وہ تحریریں یا تو غیر معیاری ہیں یاحالی کے مقدمہ کی نقالی۔بقول وارث علوی ”حالی پورے آدمی تھے جب کہ ہم لوگ ادھورے آدمی ہیں۔ ہمارے پاس نظامِ اقدارنہیں، تاریخی تناظر نہیں، روایت کاشعورنہیں، کھرے کھوٹے کے پیمانے نہیں۔ روشن خیالی کی جگہ تنگ نظری اور انتہاپسندی ہے…… ہم اثرات قبول نہیں کرتے، نقالی کرتے ہیں۔ تنقید نہیں کرتے، رائے زنی کرتے ہیں، نظریہ سازی نہیں کرتے،  حزبی اور گروہی اعلان نامے شائع کرتے ہیں۔ تنقیدی کتابیں نہیں لکھتے، تعصبات کے دفتر سیاہ کرتے ہیں۔“ (ایضاً،ص84)
 بعینہٖ احسن فاروقی کی تنقید سے استدلال کرتے  ہوئے وارث علوی نے لکھاہے:
آپ یہ نہ سمجھیں کہ احسن فاروقی کے دل میں حالی کے لیے کوئی عزت نہیں۔ حالی کی تعریف میں چند بہترین جملے بھی انھوں نے ہی لکھے ہیں۔ میں تو صرف یہ بتانا چاہتاہوں کہ نقاد جب حولداروں کی طرح بات کرنا شروع کرتاہے تو اس کاطرزِ گفتگو بھی کتنا غیرشریفانہ بن جاتاہے۔ جوشِ تنقید میں انھیں یہ تک خیال نہیں رہاکہ حالی جیسے نقاد پر قلم اٹھاتے وقت ہمیں آداب گفتگو کی پاس داری کرنی پڑتی ہے۔ اگر احسن فاروقی ’مقدمہ‘ کو ذرا غورسے پڑھتے تو حالی کا اسلوب نگارش انھیں آدابِ تنقید بھی سکھاتا۔ میں یہ نہیں کہتا کہ تنقید سخت نہیں ہونی چاہیے۔ میں توصرف عرض کرنا چاہتاہوں کہ سخت ترین تنقید میں بھی ایک لفظ ایسا نہیں آنا چاہیے جونقاد یا فن کار کی شخصیت کے شایانِ شان نہ ہو، یا جو نقاد کو ہمارے سامنے حقیر بناکر پیش کرتاہو۔احسن فاروقی کی نیت خراب نہیں، صرف زبان خراب ہے۔“ ( ایضاً، ص 25,26)
احسن فاروقی کی تنقیداور زبان  پر وارث علوی کا ایسا شدید طنزیہ وار ان کی ادب دوستی اور ادب پروری کاہی ثبوت ہے۔ اردو تنقید میں  کلیم الدین احمد، محمد احسن فاروقی اور وحید قریشی جیسے ناقدین ادب نے حالی کے مقدمہ سے جس قدر فیض حاصل کیا ہے اسی قدر اس کی تنقیص بھی کی ہے۔ ادب میں اس طرح کی نقص طرازی دانش مندانہ کام نہیں کیونکہ یہ رویہ ناقدین ادب اور ان کے دامن کو داغ دار کرتاہے۔حالی اور مقدمہ شناسی میں وارث علوی کا معیارِ نقد خاصا وقیع ہے جو  زبان پر ان کی قدرت اور مختلف ادبیات پر مطالعے کی وسعت کی دین ہے۔ انھوں نے مشرقی اصولِ تنقیدکے ساتھ مغربی افکار و نظریات کا نہ صرف سرسری مطالعہ کیا ہے بلکہ تصوراتِ نقد اور نت نئے اصول وضوابط کا بھرپور جائزہ بھی لیا ہے۔ یہی سبب ہے کہ علوی نے مستند اور مدلل حوالوں سے مذکورہ ناقدینِ ادب کی تنقیدپر اپنی مہرِ تنقید ثبت کی ہے۔ اس لحاظ سے وارث علوی اور ان کی تنقیدی جہات دوسروں سے نہ صرف منفرد ہیں بلکہ لائقِ اعتنا بھی ہیں۔
حالی پر متعدد ناقدین نے اپنی بے لاگ آرا پیش کی ہیں ان میں کلیم الدین احمد کانام خصوصی اہمیت رکھتاہے۔ حالی کی تنقیدی بصیرت اور ادب فہمی کے بارے میں ان کا نظریہ تھا کہ”خیالات ماخوذ،واقفیت محدود، نظرسطحی، فہم وادراک معمولی، غوروفکر ناکافی، تمیز ادنیٰ، دماغ وشخصیت اوسط۔ یہ تھی حالی کی کائنات۔
(اردو تنقید پر ایک نظر: کلیم الدین احمد،ص109)
کلیم الدین احمدکی تنقید چونکہ مغربی ادب کے زیراثروجود میں آئی تھی،بایں سبب ان کی آنکھوں پر انگریزی ادب کی عینک چڑھ گئی تھی،لہٰذامشرقی ادب میں بھی ان کی نظر مغربی طرزِادب کی متلاشی تھی۔اسی لیے انھوں نے حالی کی انگریزی ادب سے واقفیت کو محدود گردانا۔یہ بات ملحوظ رہنا چاہیے کہ حالی کا مقدمہ مشرقی ادب خصوصاً اردو شاعری کی تنقید سے متعلق ہے نہ کہ انگریزی ادب سے۔ جیسا کہ کلیم الدین احمد نے اپنی کتاب”اردو تنقید پر ایک نظر“میں حالی کے مقدمہ کے متعلق لکھا ہے ”یہ بات ایک حد تک صحیح ہے کہ مقدمہ میں گہرائی اور گیرائی کے ساتھ حالی پوری عربی، فارسی اور اردوشاعری پر حاوی نظر آتے ہیں لیکن انگریزی ادب سے حالی کی واقفیت محدودتھی۔“ (ایضاً،ص109)
وارث علوی نے کلیم الدین احمد کے ان جملوں پر گرفت کرتے ہوئے لکھا ہے:
ان جملوں میں حالی کی طاقت اور کلیم الدین احمد کی کمزوری کا پوراراز چھپا ہوا ہے۔ ’مقدمہ‘ کا اہم اور وافرحصہ انگریزی ادب پرنہیں بلکہ اردوشاعری کی نہایت جزرس اوربصیرت افروز تنقید پر مشتمل ہے۔ عربی، فارسی، اردوشاعری، غزل،قصیدے،مثنوی اور مرثیے پر حالی نے جوکچھ لکھا، کلیم الدین احمد کو اس سے سروکار نہیں۔ انھیں توصرف انگریزی ادب سے حالی کی ناواقفیت کوبے حجاب کرنے کے مزے لوٹنے ہیں۔ ایسی تنقیدطبیعت کو بہت منغض کرتی ہے کیونکہ اس کا بڑا عیب اکسپرٹائز (Expertise) کا کلچر پرحملہ ہے۔“   (حالی، مقدمہ اورہم:وارث علوی،ص51)
 بعینہٖ وارث علوی نے شمیم حنفی کی تنقیدپر اپنے خیالات کا اظہارکرتے ہوئے لکھا ہے:
شمیم حنفی کو اس بات کابڑابھرّا ہے کہ شاعری میں اساسی حیثیت خیالات کی نہیں شعری تجربے کی ہے۔ لیکن حالی کی کتاب کا نام ’مقدمۂ شعروشاعری‘ہے، جب کہ شمیم حنفی کی کتاب کانام ’جدیدیت کی فلسفیانہ اساس‘ ہے۔ شمیم حنفی فلسفۂ تاریخ، سائنس، نفسیات پر نہایت بور مبتدیانہ لن ترانیاں کرتے ہیں اور پوری کتاب میں ایک نظم، ناول اورڈرامے کا تجزیہ نہیں ملتا۔ اِدھر حالی ہیں کہ غزل، مرثیے، قصیدے اورمثنوی پر لگاتار بحث کرتے چلے جاتے ہیں اوربحث بھی ایسی کہ قدامت پسند حلقوں میں مخالفت کا ایک طوفان کھڑاہوجاتاہے۔“  (ایضاً،ص62)
ان اقتباسات میں ہم دیکھتے ہیں کہ وارث علوی نے کس طرح اردو کے اہم ناقدین کے خیالات کی تردید کرتے ہوئے اپنے نظریات پیش کیے ہیں۔ ان کے یہاں جس طرح کے بے باکانہ اور بے مہابانہ رویے دیکھنے کو ملتے ہیں، دوسروں کے یہاں اکثر مفقود ہیں۔ ان کی تنقید میں بصیرت کے ساتھ مسرت بھی ہے اور طنز کے ساتھ مزاح بھی ہے۔ان کی یہی خوبی انھیں دیگر نقادوں سے ممتاز ونمایاں کرتی ہے۔ شمیم حنفی سے وارث علوی کا یہ اختلاف کوئی ذاتی مسئلہ نہیں اور نہ ہی ان سے بغض وعناد رکھتے ہیں بلکہ یہ ان کے اسلوب، ان کی فکراور طرزِ تحریر کا تقاضا ہے جو ادب کے لیے کارآمد اور سودمند بھی ہے۔ شمیم حنفی کی کتاب ’جدیدیت کی فلسفیانہ اساس‘ کی اہمیت وافادیت سے انکار ممکن نہیں اور نہ ہی وارث علوی کی سچی تنقید نگاری سے روگردانی کی جاسکتی ہے۔ ان کی تنقید براہ راست ہوتی ہے لہٰذا وہ سیدھی بات کرتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ ان کے یہاں تنقیدی رویے بالمقابل دیگر ناقدین کے مختلف اور معنی خیز ہوتے ہیں اسی لیے ذہن ودل پر اثرانداز بھی ہوتے ہیں۔
وارث علوی نے اردوکے اکثر بڑے ناقدین پر اپنے تنقیدی مضامین لکھ کر اپنی ناقدانہ صلاحیتوں سے بھر پور جائزہ لیاہے۔   بات دراصل یہ ہے کہ وارث علوی نہ صرف ادب کے بنیادی پہلوؤں سے کماحقہٗ واقف تھے بلکہ تنقیدوتبصرہ کی اساس ان کی سرشت میں پوری طرح داخل تھی۔ یہی سبب ہے کہ انھوں نے اردو کی تقریباً تمام اصناف پر اپنے تنقیدی نظریات کھل کرپیش کیے ہیں۔ مولانا حالی کی کتاب ’مقدمہ شعروشاعری‘ پر ایک پوری کتاب (حالی، مقدمہ اور ہم) لکھ ڈالی ہے، انھوں نے مولانا کو جس روپ میں پایا اپنی تنقیدی بصیرت سے اسے جاوداں کردیا۔ اس سے حالی اور وارث علوی کے تنقیدی اسلوب کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔انھوں نے اس کتاب  میں حالی کے مقدمہ کا عالمانہ جائزہ لیاہے اور اپنے منفرد طرزِ اسلوب سے اس کے وقارمیں نہ صرف اضافہ کیاہے بلکہ اس کو  ایک معیار بھی عطا کردیاہے۔ علاوہ ازیں وارث علوی نے اپنے مطالعے کی بناپر وزیر آغاکی تنقید نگاری اور گوپی چند نارنگ، شمس الرحمن فاروقی اور محمد حسن جیسے ناقدین ادب کے شعورِ نقد سے بھی اختلاف کیاہے، لہٰذا وارث علوی کا یہ اختلاف بے سبب نہیں۔ ادب کے ان  جید ناقدین سے اختلاف صرف وہی کرسکتاہے جس کے اندر جذبہ وحوصلہ ہو اور دلائل وبراہین بھی ہوں۔ اس لحاظ سے بھی غورکریں تو وارث علوی کے یہاں یہ فکری خوبیاں بدرجۂ اَتم پائی جاتی ہیں۔اس سلسلے میں پروفیسر انورظہیر انصاری کا یہ اقتباس  دیکھیے،  رقم طراز ہیں:
کسی کی تنقید پر تنقیدکرنا بہت مشکل نہ سہی لیکن آسان تو قطعاً نہیں ہے، وہ بھی پروفیسر نارنگ جیسا جید عالم ہوتو اور بھی ناممکن ہے۔ یہ کام وہی کرسکتاہے جونہ صرف الفاظ کے استعمال کاسلیقہ شعارہو بلکہ لفظیات پر قدرت، صنائع لفظی ومعنوی پر دسترس، ان کی جزئیات سے کماحقہٗ واقفیت اور اس سے بھی زیادہ اردوہی نہیں دوسری ادبیات سے متعلق گہرامطالعہ اوروسیع تر بصیرت وآگہی رکھتاہو اور سب پر بالابے مثل انتقادی قوت سے بہرہ وربھی ہو تو باورکرنا چاہیے کہ یہ حوصلہ وارث علوی کاہی ہوسکتاہے۔ 
(سرسید سے شہریارتک: پروفیسرانورظہیر انصاری، ص206)
وارث علو ی کے مطابق تنقید وہی اچھی ہوتی ہے جو ذوقِ سلیم کی تربیت کے ذریعے قاری میں ہر رنگ اور ہر آہنگ کے اشعار سے لطف اندوزی کی صلاحیت پیدا کردے۔ انھوں نے شمس الرحمن فاروقی کی کتاب ’شعر غیر شعر اور نثر‘ پر اپنی تنقیدی آرا پیش کی ہیں اور حسن عسکری کی اس رائے کو بھی درست ٹھہرایا ہے جس میں انھوں نے فاروقی کا نام حالی کے ساتھ جوڑنے کی سعی کی ہے۔شمس الرحمن فاروقی اردو تنقید کا ایک معتبرنام ہے۔اردو تنقید خصوصاً شعریات فہمی میں جس ڈھنگ سے انھوں نے اپنا عندیہ پیش کیا ہے، عہدِ حاضر میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔ وارث علوی،شمس الرحمن فاروقی کی تنقید کے حوالے سے رقم طراز ہیں:
فاروقی کے یہاں اکثر محسوس ہوتاہے کہ وہ شعر میں ضرورت سے زیادہ معنی پڑھ رہے ہیں۔لیکن یہ احساس بھی صرف ان مضامین میں ہوتاہے جو فی الواقعی سبق اور درس ہیں اور لفظ کے جدلیاتی استعمال، لفظی انسلاکات اور ابہام کی نوعیت سے بحث کرتے ہیں ورنہ فاروقی کو معنی آفرینی کا خاص شوق نہیں اور حتی الامکان وہ اس سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔اگر شوق ہوتا تو وہ اسطوری تنقیدکی طرف ضرور توجہ دیتے کیونکہ دور ازکار تاویلات، بوالعجب تفاسیر اور محیرالعقول معنی آفرینی کی جتنی گنجائش اسطوری تنقید میں ہے اتنی ہیئتی تنقید اور اسلوبیات میں نہیں۔“  (ادب کا غیر اہم آدمی: وارث علوی،ص28)
 وارث علوی نے اپنی زبان دانی، بے لاگ تنقیدی سوجھ بوجھ، اپنے بے باک لب ولہجے اور اپنے فکروخیال کی گہرائی  وجدت کے سبب معاصرناقدین میں ایک منفرد شناخت قائم کرلی ہے۔ ادب کے تئیں ان کا تنقیدی رویہ اور نظریہ غیر جانب دارانہ اور راست گوئی پر مبنی ہے۔ انھوں نے ادبی تجربات میں اپنا فکری ارتباط ہمیشہ برقرار رکھا۔ ان کے مطابق تخلیقی تجربات میں قلم کارکو مکمل آزاد ہوناچاہیے کیونکہ آزادیِ اظہار سے ہی فن کار اپنے فن کو بخوبی اجاگر کرسکتاہے۔انھوں نے اپنے مضامین کے ذریعے تنقیدی خیالات کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے موقف کو جس بے باکانہ انداز میں پیش کیاہے اردو تنقید میں ایسی مثالیں مشکل سے ملیں گی۔ان مضامین میں جس نہج پر انھوں نے مختلف اصطلاحات اور تشبیہات کے وسیلے سے اردو کا موجودہ منظر نامہ پیش کرنے کی سعی کی ہے  وہ یقینی طورپر قارئین کے لیے پرلطف ہونے کے ساتھ دل پذیربھی ہے۔برمحل فقروں، لفظوں اوراصطلاحوں کے استعمال میں ان کا طریقِ کار بڑا دلچسپ اور نرالاہے لیکن کبھی کبھی جارحانہ اندازاختیار کرجاتاہے اور گراں باربھی ہوتاہے۔ادب کے لیے انھوں نے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا اور نہ ہی صداقت کو اجاگر کرنے میں بخل اور مصلحت پسندی سے کام لیاہے، جس کو جیسا پایا ویساہی پیش کردیا۔ ان کی یہی خوبی قارئین کو اپنی گرفت میں لیتی ہے اور مطالعے کی جانب راغب بھی کرتی ہے۔
Dr. Mohammad Zubair
Dept. of Urdu, Sahitya Vidya Peedh
Mahatma Gandhi Antar Rashtriya Hindi Vishv Vidyalaya, Wardha.(M.S)-442001
Mob:9022951081
Email:m.zubair.mau@gmail.com


ماہنامہ اردو دنیا، اپریل 2020

6/5/20

متن، قرأت اور معانی کے چند وظائف مضمون نگار: مصطفی علی

متن، قرأت اور معانی کے چند وظائف

مصطفی  علی

ادبی متن کی قرأت اوراس سے درست معانی کی یافت بھی ایک فن ہے۔ کسی متن کو متن تسلیم کر لینے کے بعد سب سے پہلے تو یہ طے کرنا پڑے گا کہ متن ادبی ہے یا غیر ادبی،ا گر غیرادبی ہے تووہ متن ہماری بحث سے خارج ہے اور اگر ادبی ہے تویہ سوچنا پڑے گا کہ اس کی قرأت (بہ لحاظِ تفہیم و تاویل)کا زاویہ کیا ہو، آزاد یا پابند؟اب یہاں پر دشواری یہ طے کرنے میں ہے کہ متن کی آزادانہ قرأت سے درست معنی تک رسائی حاصل ہوگی یا کسی نظریے کی پابند قرأت سے۔اگر آزادانہ قرأت طے پائی تو ایک بات ہوئی اور اگر نظریاتی قرأت جواب آیا تو پھر سوال یہ پیدا ہوگا کہ کس نظریے کا پابند ہو۔ ترقی پسند، جدید، ما بعد جدیدیا کوئی اور؟ اور اگر یہ تسلیم کرلیا جائے کہ جو متن جس زمانے میں یا جس نظریے سے تحریک پاکر تخلیق کیاگیا ہو اسے اسی نظریے سے پڑھنا ٹھیک ہوگا تو پھر امیر خسرو، ولی، میر اور داستانوں و مثنویوں کو کس نظریے کے تحت پڑھا جائے گا؟ یا اگرمان ہی لیں کہ زید نے اپنے کو ترقی پسند نظریے کا پابند بنا لیا اور ترقی پسند دور کے ہی کسی فن پارے کو اپنی قرأت کا موضوع بنایا تو کیا اس کی قرأت سے بر آمد شدہ معانی درست ہی ہوں گے؟ اور یہ طے کون کرے گا کہ متن کے جو معنی زید نے سمجھے ہیں وہ درست ہیں کہ نا درست؟
مذکورہ بالا بیان سے یہ قطعی نہ سمجھا جائے کہ کسی فن پارے کی نظریاتی قرأت صحیح نہیں۔ میں تو بس یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ متن کی قرأت جس زاویے کا تقاضا کرے اور جس سے اس کو کما حقہ سمجھا جا سکے اسی زاویے سے اس کی قرأت کی جائے۔میں یہ بھی نہیں کہتا کہ ایک متن کی قرأت محض ایک ہی زاویے سے ممکن ہے، جہاں پر بھی الگ الگ زاویہئ قرأت کے نتیجے میں قاری کے ذہن میں کیفیت و تأثر کے الگ الگ زاویے بنتے ہوں یا معنی کے کثیر الجہات پہلو روشن ہوتے ہوں وہاں مختلف زاویوں کے حوالے سے متن کے تخلیقی تنوع کا عرفان اسے حاصل کرنا چاہیے۔
کسی فن پارے کی قرأت کا زاویہ واحد ہو یا مختلف مگرقرأت کئی بار ہونی چاہیے کیونکہ الفاظ گنجینۂ معانی کا طلسم ہوتے ہیں؛ ان کے بندھن میں کوئی ایک معنی نہیں بندھا ہوتا۔ ہو سکتا ہے کہ پہلی دفعہ کی قرأت میں فن پارہ قاری کے پلے ہی نہ پڑے یا پڑے بھی تو بعد والی کسی قرأت میں اس سے ہٹ کر کوئی ایسا معنی ہاتھ لگ جائے کہ وہ اچھل پڑے۔یہی وجہ ہے کہ قرأت کو ایک بے حد صبرآزما کام تصور کیا جاتاہے۔ پروفیسر عتیق اللہ کے الفاظ میں کہیں تو ’قرأت ایک عمل ہی نہیں، ایک پورا عملیہ ہے‘ مکمل اقتباس ملاحظہ فرمائیں:
ہر تخلیقی متن کئی لسانی اور تکنیکی پیچیدگیوں کے ساتھ مشروط ہوتا ہے۔وہ بہ یک وقت کئی نسلوں کو خطاب کرتا ہے اور کئی دماغوں اور تخیلات سے گزرکر ہم تک پہنچتا ہے۔قرأت ہمیشہ صبر کی متقاضی ہوتی ہے اور تخلیق ازخود بے حد شرمیلی،کم گو، نخریلی، شوخ اور چنچل ہوتی ہے ایک دم نہیں کھلتی اس کی ناز برداری کرنی پڑتی ہے۔ جب کہیں جاکر تھوڑی بہت، زیادہ سے زیادہ آپ کے قابو میں آتی ہے اور پھر نکل جاتی ہے۔ حصولِ معنی اس طرح صبر کا تقاضا کرتا ہے جس طرح بقول ٹیری ایگلٹن ہمیں عقل ڈاڑھ کو نکلوانے کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ قرأت ایک عمل ہی نہیں ایک پورا عملیہ(پروسیس) ہے۔
(بحوالہ:مجلہ ارمغان، شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی، شمارہ:6، مقالہ:قاری اور قرأت از عتیق اللہ، ص117-18)
قاری کو ہر قرأت میں سابقہ قرأت سے مختلف یااضا فے کی صورت میں کچھ نیا معنی و مفہوم فراہم ہو سکتا ہے، اس لیے اس کو کسی بھی متن کے سرسری مطالعے سے پرہیز کرنا چاہیے اور متن کے غائر مطالعے سے جو معنی ہاتھ لگے اسے بر وقت اپنی درست رائے تسلیم کرلینی چاہیے۔ بر وقت اس لیے کیونکہ بعد میں کسی موقع محل (Situation)  کے تحت خود اس کے یا کسی اور قاری کے ذہن میں متن کے معنی کا کوئی نیا اورپہلے سے بہتر یا ان دونوں میں سے کوئی ایک پہلو آشکارہو سکتا ہے۔ قاری کو یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ کوئی بھی معنی متن کے ساتھ دائمی طور پر مختص نہیں کیا جا سکتا۔ اسی بات کو پروفیسر عتیق اللہ یوں بیان کرتے ہیں:
کوئی بھی شعری یا افسانوی شہ پارہ کسی ایک خیال یا کسی ایک معنی نہیں خیالات اور معنی کے گچھوں کا مجموعہ ہوتا ہے اور زبان کا اپنا مجرد اور تخلیقی عمل اسے نامانوس اور اجنبی بنا دیتا ہے۔ شاعری ہی نہیں فکشن میں بھی بہت کچھ مقدر چھوڑ دیا جاتا یا چھوٹ جاتا ہے جنہیں قاری کو قیاس کرنا پڑتا ہے..... ہر دوسری قرأت پہلی قرأت کو پیچھے ڈھکیل دیتی ہے اور خود کو اجنبی بنانے کے لیے تیار بھی ہو جاتی ہے۔ تنقیدی قرأت دراصل کئی قرأتوں کو اجنبی بنانے کا مجموعہ ہوتی ہے۔“ (ایضاً، ص 116)
در اصل الفاظ پردہئ متون میں وہ معنی بھی بیان کرجاتے ہیں جو منشائے مصنف اور منشائے متن سے خارج ہوتے ہیں کیوں کہ کسی معنی کی غلامی متن کی سرشت میں شامل نہیں ہوتی۔جب تک متن کا وجود باقی رہے گا قاری اس کی قرأت سے نئے معانی دریافت کرتا رہے گا۔ا س کی متعدد مثالیں ہیں مگر میں یہاں ایک کے ذکر پر اکتفا کروں گا۔ میرکو کافی عرصے تک لوگ رونے رلانے اور دل و دلی کی مرثیہ خوانی کرنے والا شاعر گردانتے رہے مگر عصرِحاضر کے معتبر نقاد شمس الرحمن فاروقی نے جب کلام میرکی قرأت کی تو انھیں ایک نیا اور منفرد گوشہ نظرآیا۔ جس کی بنا پر انھوں نے میر سے متعلق روایتی مفروضے کو غلط قرار دے دیا اور میر کے خدائے سخن ہونے کی دوسرے مدلل ومعتبر وجوہات کو پیش کیا مثلاً ڈرامائی اور افسانوی اظہار، جنس اور عشق کے معاملات میں بے تکلفی، زبان کے سلسلے میں تحکمانہ اور بے پروانہ انانیت، رعایت لفظی سے شغف، استعارہ اور پیکر کی کثرت، معنی آفرینی اور مضمون آفرینی کا التزام، حس مزاح اور طنز کی فراوانی، کائناتی احساس جو بیک وقت مقامی بھی ہے اور مقام سے ماورا بھی، تصوف سے واقعی اور اصلی دلچسپی وغیرہ۔
اس فہرست میں ہم کلیم الدین احمد کا نام ’اردو شاعری پر ایک نظر‘ کے حوالے سے اورشمیم حنفی کا نام بھی ’کہانی کے پانچ رنگ‘کے حوالے سے جوڑسکتے ہیں اور کلام ِ غالب و اقبال کی متعدد شرحوں کا وجود بھی اس کی زندہ مثال ہے۔
ملٹن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ ہمیشہ مقبول رہے گا کیونکہ اسے کوئی نہیں پڑھتا۔یہ سچ ہے کہ شہرت یافتہ ادیب ہر دور میں بڑاادیب تسلیم کر لیا جاتا ہے اور المیہ یہ ہے کہ بغیر مطالعے کے کر لیاجاتاہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ کسی ادیب کو خواہ وہ مقبول ہو یا نا مقبول،اس کے متعلق تسلیم شدہ آرا سے متأثرہوئے بغیرپہلے پڑھا جائے پھر جو بھی تاثر قائم ہو اسے تسلیم کیا جائے۔ ضروری نہیں کہ مقبول ادیب ازسرِ نوپڑھا جائے تواس کی مقبولیت پر سوالیہ نشان نہ لگے۔ ہو سکتا ہے اس کی شہرت کے دعوے میں جو دلیل پیش کی گئی ہو وہ باطل ہو جائے یاپھر اس کی مقبولیت کی کوئی نئی جہت مل جائے۔
اختلاف جنس پر بھی معنیِ متن تبدیل ہو سکتا ہے۔ مرد اور عورت دو الگ جنس ہیں۔دونوں کی طبیعت، ان کے مسائل اور ضروریات بھی مختلف ہیں،اس لیے ان کے زاویہ نگاہ بھی مماثل نہیں۔ کسی متن یا فن پارے میں بہت سی ایسی باتیں مضمر ہوتی ہیں،مرد کو جن کی ہوا تک نہیں لگتی اورعورتیں ان کو بآسانی پہچان لیتی ہیں،اس لیے کسی متن کی قرأت سے جو معنی مرد اخذ کرے گا یاجو اثرات اس پر مرتب ہوں گے ضروری نہیں کہ اس متن سے عورت بھی وہی معنی مستنبط کرے یا وہی اثرات اس پر بھی مرتب ہوں۔مثال کے طور پر نیر مسعود کا ایک مشہور افسانہ ہے ’طاؤس چمن کی مینا‘۔اس افسانے پر اظہارِ خیال کرنے والوں میں سے ہم ایک مرد ’قاضی افضال حسین‘ اور ایک عورت ’سیما صغیر‘کو منتخب کر لیتے ہیں۔ان دونوں نے دو مختلف نظریات کی روشنی میں اس کی قرأت کی ہے۔ قاضی افضال نے مابعد جدید اور سیما صغیر نے ترقی پسندنقطہئ نظر سے اس کا جائزہ لیا ہے لیکن ہمیں یہاں نظریاتی اختلاف اور تجزیاتی فضیلت سے کوئی سروکار نہیں بلکہ ان دونوں سے الگ ایک اختلاف ہے جنس کا، ہمارا مدعا یہی Gender conflictہے۔
جب قاضی افضال حسین اس افسانے کا مطالعہ کرتے ہیں تو انھیں تشکیل و لا تشکیل کی عینک سے چمن، قفس،تاریخ، تہذیب، طلسم اور روایت تو خوب نظر آتا ہے مگر کالے خاں کی بے ماں کی بیٹی کے جذبات اور باپ بیٹی کے رشتے کی لطیف و نازک کیفیات کی طرف ان کا دھیان ہی نہیں جاتا۔اس ننھی بچی کا بس ایک بار ذکر ہوتا ہے اور وہ بھی عام چھوٹی بچیوں کی طرح۔اقتباس ملاحظہ کیجیے:
اسی طرح ایجادی قفس کی فلک آرا اور کالے خاں کی فلک آرا جو آواز کی میٹھاس و حرارت تک میں یکساں ہیں، ایک دوسرے کے معنی کو وہ جہات فراہم کرتے ہیں، جو اس افسانے میں ابھرتے ہیں یعنی ان دونوں کے صفات کی یکسانیت کے حوالے سے یہ کہانی ایجادی قفس کے اندر کی معلوم ہوتی ہے اور کبھی اس تمثیلی قفس کے باہر کی۔ کبھی کبھی فلک آرا پرندہ سے زیادہ شہزادی معلوم ہوتی ہے اور کبھی کالے خان کی فلک آرا وہ معصوم پرندہ لگتی ہے جو اس قفس/ شہر میں آزادی لطافت اور شفقت سے معمور زندگی گزار رہی ہے۔
(طاؤس چمن کی مینا: حسن تشکیل کا افسانہ/تاریخ کی لاتشکیل، قاضی افضال حسین، مشمولہ: متن کی قرأت، ص139)
اور جب سیما صغیر اس افسانے کا مطالعہ کرتی ہیں تو وہ ترقی پسند آلے سے کالے خان کو غریب، مزدور، محنت کش، بادشاہ کو مطلق العنان اور معاشرہ کوفیوڈل ہی نہیں ماپتی بلکہ ان کی نظر اس ننھی سی بے ماں کی بچی پر بھی مرکوز ہوتی ہے اور تہی دست باپ پر بھی اور ان کی نظر میں باپ، بیٹی کے یہ نازک جذبات کہانی کا بنیادی تھیم بن جاتے ہیں۔ اقتباس دیکھیے:
کہانی کا مرکزی نقطہ وہ انسانی واردات ہے جس میں ایک باپ اپنی بے ماں کی بیٹی کی محبت سے مجبور ہوکر اس کی دیرینہ خواہش پوری کرنے کے لیے بادشاہ کے چمن سے ایک پہاڑی مینا چرا کر گھر لاتا ہے جب کہ اس کو طاؤس چمن کی نگہداری کے لیے مقررکیا گیاہے۔اس طرح محبت اور ضمیر کی کش مکش جو اصلاًانسانی فطرت کے تضادات کا مظہر ہے اور جس کو کسی خاص وقت اور مقام سے مخصوص نہیں کیا جا سکتا، کہانی کی بنیادی تھیم قرار پاتی ہے۔
(طاؤس چمن کی مینا‘ کا تجزیاتی مطالعہ: ترقی پسند نقطۂ نظر سے، مشمولہ: متن کی قرأت، ص144)
اسی طرح مشرف عالم ذوقی کے ناول ’لے سانس بھی آہستہ‘ کی قرأت سے جو نقطہ شائستہ فاخری اور دوسری عورتیں  دریافت کرلیتی ہیں ستیہ پال آنند اور دوسرے مردوں کو ان کے وجود کا احساس تک بھی نہیں ہوتا۔ ایک اور مثال غضنفر کے ناول ’فسوں‘ کی ہے۔اس کو شافع قدوائی اور سیما صغیر دونوں نے جس انداز سے پرکھا ہے اس میں بھی مردانہ اور زنانہ نظریاتی افتراق در آیا ہے۔      
جس طرح اختلافِ جنس سے ایک ہی متن کی قرأت سے الگ الگ معنی کی دریافت ممکن ہے،اسی طرح نظریاتی اختلاف سے بھی ایسا ہونا ممکن ہے۔ اس ضمن میں پروفیسر عتیق اللہ رقم طراز ہیں:
ضروری نہیں کہ دو ناظرین یا قارئین کسی ایک رائے یا ردعمل پر متفق ہوں کیونکہ رائے زنی کا بھی ایک سیاق ہوتا ہے اور رائے زنی کرنے والے کے ذوق و مذاق کی بھی ایک سطح ہوتی ہے نیز بیشتر صورتوں میں اس سوال کی اہمیت ہے کہ آپ اس چیز کو کس زاویے سے دیکھ رہے ہیں یا وہ چیز کس رخ سے آپ کو نظر آ رہی تھی اور دیکھنے کے اس عمل کا سیاق و سباق کیا تھا، انسان کا اپنا داخلی جبرو دباؤ ہی اپنا اثر نہیں دکھاتا، خارجی جبرو دباؤ کا اثر بھی کم اہمیت نہیں رکھتا۔ اس لیے قرأتوں میں جہاں اشتراک کی صورتیں واقع ہوتی ہیں وہیں ان میں کم یا زیادہ افتراق و اختلاف بھی پایا جاتا ہے۔
(بحوالہ:مجلہ ارمغان،شعبہئ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی، شمارہ:6، مقالہ:قاری اور قرأت از عتیق اللہ، ص123)
آپ کو معلوم ہوگا کہ’نظیر اکبرآبادی‘ کو ترقی پسندی سے قبل وہ رتبہ و مرتبہ حاصل نہیں تھا جوانہیں اس تحریک کے بعد حاصل ہوا۔ ترقی پسند ناقدین نے جب اپنے قائم کردہ اصول ونظریات کی روشنی میں اردو شاعری کو پرکھنا شروع کیا تو انھیں نظیر اکبرآبادی بڑا شاعرلگااور غالب چھوٹا۔ انھوں نے بڑے کے بڑاہونے کا اعلان تو کر دیامگر ان کی سوئی اٹکی غالب پر۔اس موقعے پر ان کے سامنے دو ہی صورتیں تھیں؛پہلی تو یہ کہ وہ اپنے متعینہ تنقیدی اصولوں پر کلام غالب کو پرکھیں اور غالب کوچھوٹا موٹا شاعر کہہ دیں اوردوسری صورت یہ تھی کہ وہ کلام غالب کو پڑھنے کا کوئی دوسرا ڈھنگ اختیار کریں۔ پہلی صورت اختیار کرنا خطرے سے خالی نہیں تھا کیونکہ غالب کے عظیم شاعر ہونے پر اس وقت تک اجماع ہو چکا تھا، ایسے میں وہ اسے چھوٹا کہہ کر اپنی فضیحت کیوں کراتے، لہٰذااس وقت احتشام حسین جیسے قدآور ترقی پسند ناقد اس نتیجے پر پہنچے کہ انہیں کلام غالب کی قرأت کا کوئی دوسرا طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔
 اسی طرح فیض کی نظم’صبح آزادی‘ کے تعلق سے علی سردار جعفری کی رائے کو دیکھ لیجیے۔یہ فیض کی معروف ترین نظموں میں سے ایک ہے۔ پڑھنے کے بعدلوگوں نے اس نظم کی خوب پذیرائی کی لیکن جب اس نظم کی قرأت ترقی پسند ناقد علی سردار جعفری نے کی تو ان کو اس نظم کا آخری(مرکزی) مصرع ’چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی‘ کسی پر بھی فٹ بیٹھتانظر آیااوراس طرح یہ نظم کسی بھی تحریک کی ترجمانی کرتی ہوئی معلوم ہوئی اس لیے انہیں ترقی پسند نقطہئ نظر سے یہ نظم کسی خاص اہمیت کی حامل نظر نہیں آئی۔
متن کی قرأت اگر بغور کیا جائے تو اس سے اسلوب نگارش کی پہچان سے عہدا ور مصنف کی پہچان بھی ممکن ہے۔خالق باری کو لوگ بڑے زمانے تک امیر خسرو کی تصنیف سمجھتے رہے لیکن جب حافظ محمود خان شیرانی نے اس کی قرأت کی تو اس کے اسلوب کو پہچان لیا اور اسلوب کی شناخت کی بنیاد پر ہی انھوں نے اس کے عہد کو جانا پھر عہدا ور اسلوب کی بنیاد پر خالق باری کے ضیاء الدین خسرو کی تصنیف ہونے کا اعلان کر دیا۔ اسی طرح شاعر عرب کو جب اطلاع دی گئی کہ دیوار کعبہ پر تم سے عمدہ کلام معلق ہے تو وہ بھاگا ہوا اس کے پاس آیا اور اس کی قرأت کرتے ہی پکار اٹھا کہ یہ کسی انسان کا کلام نہیں ہو سکتا۔در اصل اس دیوار پر کلام اللہ کی ایک چھوٹی سورۃ ’سورۃ الکوثر‘ لٹکائی گئی تھی اور شاعر کو عربی شعرا کے اسلوب کی بخوبی جانکاری تھی، اس لیے اول قرأت ہی سے اس نے جان لیا کہ یہ انسانی کلام نہیں ہے۔
 ایک آخری بات یہ کہ ادبی و فنی اصولوں کے تحت پڑھناادبی متن کی قرأت کی ترجیحی صورت ہونی چاہیے۔ اگر ایسا ہوگا توقاری آزادانہ طور پر فن پارے کے درست معنی و مفہوم تک رسائی حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ہر خلفشار و اعتراض سے محفوظ بھی رہے گا اور اس کی یہ قرأت غیر جانبدارانہ تسلیم کی جائے گی۔خاص بات یہ ہے کہ ہر نظریے کے افراد اس سے متفق بھی ہوں گے۔ جس طرح انسان کو انسانیت کے نقطۂ نگاہ سے دیکھنے پر ملک و مذہب کی دیوار آڑے نہیں آ سکتی یعنی کوئی اس پر ہندو، مسلم، یہودی،عیسائی یا ہندوستانی، پاکستانی، افریقی، یورپی ہونے کے تعصب کا الزام نہیں لگا سکتا اور اس سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ تم نے انسانیت کے نظریے سے انسان کو کیوں دیکھاتمھیں اس کو فلاں مذہب یا ملک کے آئینے میں دیکھنا چاہیے تھا، ٹھیک اسی طرح ادبی متن کو ادب کے نقطۂ نگاہ سے پڑھنے پر کوئی نظریہ رکاوٹ نہیں بن سکتا اور کسی بھی نظریے کا ماننے والا اس سے یہ نہیں کہہ پائے گا کہ تم نے ادبی متن کو ادبی اصولوں کے تحت کیوں پڑھا تمھیں اس کو فلاں نظریے سے پڑھنا چاہیے تھا۔کسی نظریہئ مخصوصہ کے پابند قاری کے گلے میں تعصب کی گھنٹی باندھنے سے کوئی دریغ نہیں کرتا۔پروفیسر عتیق اللہ ایسے ہی لوگوں کی مثال دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
ایک قاری متعصب یا جانب دار ہوتا ہے جو کسی خاص نظریے یا عقیدے کا پابند ہوتا ہے یا علاقائی اور گروہی عصبیت کے باعث اس میں معروضیت اور کشادگی ذہن و نظر کی گنجائش کم سے کم ہوتی ہے۔“(ایضاً، ص123)
اسی لیے میرا ماننا تو یہی ہے کہ کسی بھی متن کی قرأت ادبی و فنی اصولوں کے تحت اس دور کے سیاسی، سماجی، تاریخی اور تہذیبی سیاق و سباق میں کی جانی چاہیے۔ یہ منصف میزان ہوگا ورنہ تحریکاتی و رجحاناتی قرأت چاہتی ہے کہ متن وہی کہے جو وہ اس سے کہلوانا چاہتی ہے،گویا ایک طرح سے وہ مجبور کرتی ہے کہ متن اس کے مطابق تھیوری اور معانی بیان کرے۔ظاہر سی بات ہے کہ اس طرح متن سے مبنی بر انصاف معانی کی دریافت ناممکن ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ آزادانہ قرأت ہی بہتر تسلیم کی جانی چاہیے۔ ہاں!مگر آزادی ایسی نہ ہو کہ متن آم کی خصوصیات سے متصف ہو اور قاری اپنی قرأت سے املی تصور کر بیٹھے۔ جس معنی کا متن میں کوئی سیاق موجود نہ ہو اگر آزادی قرأت سے قاری اس طرف بھٹک رہا ہو تو ضروری ہے کہ اس کے پاؤں میں کوئی نظریاتی بیڑی ڈال کر ہی محفل متن میں رقص کرنے کے لیے لایا جائے،ورنہ ناظرین معانی برہم ہوکر چلے جائیں گے۔ ایسی ہی آزادی کوہدف تنقید بناتے ہوئے پروفیسر کوثر مظہری لکھتے ہیں:
بے شک قاری کو یہ آزادی ہے کہ وہ متن سے معنی اخذ کرے اور اپنی طرح کرے، لیکن وہ اس قدر بھی آزاد نہیں کہ اس متن کو اس کی اصل سے اتنی دور لے جائے کہ متن اور اس میں سانس لیتے ہوئے تہذیبی اور ثقافتی نشانات و علامات (Cultural signs)کا دم پھولنے لگے۔“(قرأت اور مکالمہ، کوثر مظہری، ص13)
ہر قاری کی اپنی لیاقت اوراستعداد ہوتی ہے۔ یہ قطعی ضروری نہیں کہ اسے ہر فن پارے کا متن سمجھ آ ہی جائے۔کبھی ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی متن اسے مہمل معلوم ہو مگر وہ بامعنی ہو۔ندا فاضلی کا ایک شعر ہے         ؎
سورج کو چونچ میں لیے مرغا کھڑا رہا
کھڑکی کے پردے کھینچ دیے رات ہو گئی
اس شعر کو بہت سوں نے بے معنی خیال کرکے چھوڑ دیا مگر یہ شعر تھا بامعنی اور اس نے اپنی معنویت ثابت بھی کرا لی اور آج کی تاریخ میں یہ شعر جدید دور کا اعلامیہ بن چکا ہے۔ کبھی کبھی متن وا قعی مہمل ہوتا ہے،اس صورت میں اگر اسے معنی سے عاری گردانا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں،مگر اکثر قاری اپنی کم فہمی کی بنا پر گچا کھا جاتا ہے۔ دونوں صورتیں بعید از قیاس نہیں۔پروفیسر کوثر مظہری اس سلسلے میں بالکل درست فرماتے ہیں:
کبھی کبھی آپ جس طرح متن کو بے معنی اور ازکارِ رفتہ سمجھ کر پڑھنا چھوڑ دیتے ہیں اسی طرح متن بھی قاری کو کبھی کبھی ٹھینگا دکھا دیتا ہے۔وہ بھی قاری کا منہ چڑھاتا ہے۔ جس طرح ہم آپ متن کی اوقات پرگفتگو کرتے ہیں اس کے ڈھیلے پن اس کی فرسودگی کوزیر بحث لاتے ہیں، متن بھی قاری کی بے ذوقی اور کچے تنقیدی شعور کو کوستا ہے۔“ (ایضاً، ص9)
خیر!یہ رہے متن کی قرأت اور اس کے معانی کے چندوظائف۔ ان متذکرہ وظائف کی روشنی میں میں پھروہی بات دہراؤں گا کہ ادبی متن کی قرأت اور اس سے درست معانی کی یافت بھی ایک فن ہے،جو کہ خود متن کی سیپ میں گہر کی طرح پنہا ں ہے لہٰذاجس کو اس معانیِ گوہر بار کی دولت سے مالا مال ہونا ہو اسے چاہیے کہ اس میں غوطہ لگائے اور اپنی مراد پائے۔
معاون کتب:
.1       متن کی قرأت (مجموعۂ مقالات سیمینارمنعقدہ 25,26 نومبر 2006)، مرتبہ: صغیر افراہیم، شائع کردہ: شعبۂ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ، سنہ اشاعت:2007
.2      قرأت اور مکالمہ،کوثر مظہری، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، کوچہ پنڈت، دہلی6، سنہ اشاعت2010
.3        معرفت شعر نو (تنقیدی مضامین)،شمس الرحمن فاروقی، مرتبہ: سید ارشاد حیدر، الانصار پبلی کیشنز، ریاست نگر، حیدرآباد59،  سنہ اشاعت2010
.4        شعر شور انگیز (تیسرا ایڈیشن مع ترمیم و اضا فہ)، شمس الرحمن فاروقی، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، دہلی66، سنہ اشاعت 2006
.5        افسانوی ادب کی نئی قرأت،صغیر افراہیم، ایجوکیشنل بک ہاؤس، علی گڑھ2، سنہ اشاعت 2011
.6        لے سانس بھی آہستہ کا تہذیبی پس منظر، جہاں نظیر، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی، سنہ اشاعت 2013
.7      فکشن مطالعات (پس ساختیاتی تناظر)، شافع قدوائی، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی6، اشاعت 2010
.8      شعر،غیر شعر اور نثر(طبع سوئم تصحیح شدہ ایڈیشن)، شمس الرحمن فاروقی، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان،نئی دہلی66، سنہ اشاعت2005
.9      اردو شاعری پر ایک نظر، کلیم الدین احمد، بک امپوریم، سبزی باغ، پٹنہ4
.10    کہانی کے پانچ رنگ، شمیم حنفی، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، نئی دہلی25، اشاعت: دسمبر 1983
.11    مجلہ ’ارمغان‘، شمارہ:6، نگراں: پروفیسر شہپر رسول،ناشر:شعبہ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی25، سنہ اشاعت2017

Mustafa Ali
Research Scholar, Dept of Urdu
Jamia Millia Islamia
New Delhi - 110025
Mob.:8299535742
Email: mustafaaliias@gmail.com

ماہنامہ اردو دنیا، اپریل 2020

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...