21/8/20

ڈاکٹر سیدہ جعفر کے تنقیدی و تحقیقی کارنامے مضمون نگار: رشدہ شاہین

 



سیّدہ جعفرحیدر آباد کی ایک مایہ ناز علمی و ادبی شخصیت ہیں۔اُن کا شمار ہندوستان کی دانشور خواتین میں ہوتا ہے۔ وہ ایک اعلیٰ پایہ کی استاد، انشا پرداز، محقق اور نقاد ہیں۔ 

سیدہ جعفر کا تعلق تنقید کے کسی مخصوص دبستان سے نہیں تھا۔ انھوں نے کسی نظریاتی یاموضوعاتی دائرے کو اپنے پاؤں کی زنجیر نہیں بننے دیا بلکہ عملی تنقید کرتے ہوئے صحت مند ادب پر زور دیا۔ انھوں نے تحقیق و تنقید کے تعلق سے بہت سے کام کیے لیکن ان کا اصل میدان تحقیق ہی تھا۔ انھوں نے جس متن کی بھی تدوین کی ہے، اس کے طویل مقدمے سے واضح ہوتا ہے کہ انھوں نے اپنی طرف سے تمام مآخذ کو دیکھ کر ہی قلم اٹھایا۔ انھوں نے تنقید میں اپنی بصیرت اور شعور کا مکمل ثبوت دیا ہے۔سیدہ جعفر نے ’تنقید‘ پر کوئی مستقل کتاب تصنیف نہیں کی ہے۔ تاہم ان کے مضامین میں ان کے تنقیدی نظریات اور زاویۂ نگاہ کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے جو اردو زبان و ادب کی نقاد خواتین میں انھیں منفرد مقام عطا کرتا ہے۔ ان کے تنقیدی مضامین کے چار مجموعے، فن کی جانچ، تنقید اور اندازِ نظر، مہک اور محک دکنی ادب کا تنقیدی مطالعہ شائع ہو چکے ہیں۔ انھوں نے تنقید کے تعلق سے اپنا نقطئہ نظر واضح کرتے ہوئے لکھا ہے:

’’تنقید کے بارے میں میرا نقطئہ نظر یہ رہا ہے کہ وہی تنقید بھر پور اور وزن رکھنے والی ہو سکتی ہے جس میں اس پس منظر کا عطر کھنچ آئے جس میں کسی فن پارے کی تخلیق ہوئی ہو لیکن محض تاریخی پس منظر میں انسانی عمل اور رد عمل کے نتائج کا اظہار جامع تنقید نہیں۔اس پس منظر کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہمیں اس فن پارے کے شعری محاسن اور فنی نکات پر بھی نظر رکھنی ہوگی اور اس کے ساتھ ہی ساتھ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ فنکار کی تخلیقات میں اس کی شخصیت کی مہک، اس کے نظریات کا اظہار اور اس کی ذات کی جلوہ گری کس طرح ہوئی ہے اور اس کے پیچھے فنکار کے نفسیاتی محرکات اور نجی تجربات زندگی کے گوناگوں اثرات کس طرح کار فرما ہیں۔‘‘

(فن کی جانچ: سیدہ جعفر،نیشنل فائن پرنٹنگ پریس چار کمان، حیدرآباد،  1965، ص، 3)

تحقیق اور تنقید تو ان کے مستقل اور پسندیدہ میدان تھے۔ڈاکٹر سیدہ جعفر کی تنقیدنگاری کا انداز تجزیاتی ہے۔ وہ تہذیبی تناظر کو بھی پیش نظر رکھتی ہیں اور فنی نزاکتوں پر بھی روشنی ڈالنا ضروری سمجھتی ہیں۔ وہ موضوع کے ساتھ انصاف کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ اس لیے موضوع کے تمام پہلوئوں کا احاطہ کرنا ضروری سمجھتی تھیں۔ ان کی تنقیدمیں فقرہ بازی یا سطحیت سے کام نہیں لیا گیاہے۔

ڈاکٹر سیدہ جعفرکی تنقید ان کے وسیع مطالعے کی ترجمان ہیں۔ ’تنقید اور انداز نظر‘ اور ’مہک اور محک‘ کے مضامین میں مغربی مصنّفین کے متعدد حوالے ہماری نظر سے گزرے ہیں جن کا مقصد محض قاری کو مرعوب کرنا نہیں ہے۔ ان کا مقصد موضوع کے کسی مخصوص گوشے کی وضاحت ہے۔

ڈاکٹر سیدہ جعفر کے تنقیدی محاکمے متوازن اور سنجیدہ ہوتے ہیں وہ تنقید میں جذباتیت کو راہ نہیں دینا چاہتیں اور افراط و تفریط سے بچنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ان کے فیصلے جذباتی نہیں ہوتے، وہ اپنے موضوع کا غائرمطالعہ کرتی ہیں۔ان کی نظرصرف محاسن یا صرف معائب پر نہیں ہوتی۔ ڈاکٹر سیدہ جعفر تنقید کو قصیدہ خوانی یا ہجوگوئی تصور نہیں کرتیں بلکہ بے لاگ تبصرہ فرماتی تھیں۔

’فن کی جانچ‘ سیدہ جعفر کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ ہے۔ اس مجموعے میں کل بارہ مضامین شامل ہیں لیکن کچھ مضامین ایسے بھی ہیں، جو تحقیقی نوعیت کے ہیں۔اس ضمن میں ’تذکروں کی تنقیدی اہمیت‘ اور ’کچھ مضمون نگاری کے بارے میں‘ کو پیش کیا جا سکتا ہے۔آخرالذکر ان کے تحقیقی مقالہ ’اردو میں مضمون نگاری‘ کے تعلق سے ہے۔اس مضمون میں انھوں نے واضح کیا ہے کہ اردو کے پہلے مضمون نگار ماسٹر رام چندر تھے۔1846کے آس پاس ان کے مضامین منظر عام پر آئے۔سر سید احمد خاں اور ان کے رفقا (حالی، محسن الملک، چراغ علی اور وقارالملک) نے 1857کی ناکامی کے بعد اپنے مضامین کو ذہنی بیداری اور سماجی شعور کو عام کرنے کا ذریعہ بنایا۔اس تناظر میں دیکھا جائے تو اردو میں مضمون نگاری کا آغاز 1846کے آس پاس ہوا۔ سیدہ جعفر نے ماسٹر رام چندر کو اردو کا پہلا مضمون نگار ثابت کیا ہے۔سر سید اور ماسٹر رام چندر کے درمیان مضمون نگاری کا فاصلہ تقریباً دس سا ل کا ہے۔اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ ماسٹررام چندراردو کے پہلے مضمون نگار ہیں لیکن سر سید اور ان کے رفقا نے اس کی توسیع میں بلاشبہ غیرمعمولی کردار ادا کیا۔البتہ جب زمانی فاصلہ اتنا کم ہو تو ایسے میں بہت سی باریکیوں سے آگاہی ہونی چاہیے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو سیدہ جعفر نے جس محنت اور تجزیے سے یہ ثابت کیا ہے کہ اردو کے پہلے مضمو ن نگار ماسٹر رام چندر ہیں، یہ ان کا ایک گرانقدر کارنامہ ہے۔یہ تبھی ممکن ہو سکاہے، جب انھوں نے ان مضامین کا تنقیدی جائزہ لیا ہوگا۔مذکورہ بالامضمون میں سیدہ جعفر نے سرسری تاریخ بیان کی ہے، جو ماسٹر رام چندر سے شروع ہوتی ہے اور آل احمد سرور پر ختم ہو جاتی ہے۔

’تذکروں کی تنقیدی اہمیت‘ میں سیدہ جعفر نے لکھا ہے کہ جس طرح سے اردو نے دوسری اصناف ادب میں عربی اور فارسی روایات اور پیرایٔہ بیان کو اپنایا ہے، اسی طرح سے ادبی جانچ پڑتال کی کسوٹیاں بھی عربی اور فارسی سے لی ہیں۔کیونکہ اردو میں تذکرہ نویسی کا رواج فارسی کے اثر سے ہوا ہے اور فارسی تذکروں کے تتبع میں اردو دانوں نے تذکرہ نویسی کا فن اختیار کیاہے۔سیدہ جعفر نے ایک طرح سے تذکرے کی روایت کو سرسری طور پر پیش کیا ہے۔اس کے بعد اردو تذکروں کا تنقیدی جائزہ لیا ہے اور بتایا ہے کہ کس طرح سے ان تذکروں نے اردو تنقید کو فروغ دیاہے۔انھوں نے لکھا ہے:

’’تذکروں کی تنقیدی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ تذکرہ نویسی میں تنقید نگاری کا ہیولا بنتا ہوا نظر آتا ہے۔شعرا کے کلام پر رائے دینا اور انتخاب کلام پیش کرنا یا معاصر ین سے ان کا مقابلہ کرنا، یا فارسی شعرا سے اردو شعرا کا موازنہ کرنا، بغیر تنقیدی صلاحیت کے کیسے ممکن تھا۔تذکروں کا ایک تنقیدی پہلو یہ بھی تھا کہ میر، میر حسن، قائم، شیفتہ اور مصحفی وغیرہ نے جہاں ضرورت محسوس کی تھی کلام پر اصلاحیں بھی دی تھیں۔اصلاح کلام دراصل فنی اور عملی تنقید ہی کا ایک پر تو ہے۔اصلاح ایک طرح سے اصولی تنقید اور عملی تنقید کا بڑا اچھا امتزاج ہوتا ہے۔ تذکروں میں جو اصلاحیں ملتی ہیں ان کی نوعیت زیادہ تر صوری اور لسانی ہے، لیکن معنوی پہلو بھی ان کے پیش نظررہا ہے۔‘‘(فن کی جانچ، سیدہ جعفر ،ص69-70)

’اردو مضمون کا ارتقا 1950 تک‘ کے موضوع پر سیّدہ جعفر نے عبدالقادر سروری کی نگرانی میں پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھا ہے ۔ڈگری انھیں 1959 میںحاصل ہوئی۔یہ مقالہ کافی ضخیم تھا لیکن اس کو مختصر کر کے کتابی شکل دے دی گئی۔مقالے میں کئی قسموں کے مضامین شامل کیے گئے ہیں جیسے سماجی، سیاسی، تاریخی، تنقیدی، تحقیقی، رومانی وٖغیرہ۔ مقالے میں کئی ایسے مضامین دیکھنے کو ملتے ہیں جہاں تک دوسروں کو رسائی حاصل نہ ہو سکی۔’ماسٹر رام چندر اور اردو نثر کے ارتقا میں ان کا حصہ‘ یہ کتاب1960 میں منظر عام پر آئی۔یہ ان کی پہلی مطبوعہ کتاب ہے۔اردو مضمون کا ارتقا لکھتے وقت سیّدہ جعفر کو ماسٹر رام چندر سے متعلق کئی اہم معلومات فراہم ہوئیں، جن کو پی ایچ ڈی کے مقالے میں سمیٹنا مشکل تھا ۔اسی لیے انہوں نے یہ کتاب لکھ کر الگ سے ان کے کارناموں پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ اس کتاب سے پہلے ماسٹر رام چندر کے حالات و واقعات تذکروں میںدھندلے سے ملتے تھے لیکن سیّدہ جعفر نے طویل بحث کر کے اردو دنیا کو ان سے روشناس کروایا۔ اس کتاب میں مصنفہ نے بحث کر کے یہ ثابت کیا کہ آیا سرسیّد جن کو آج تک مضمون نگاری کا امام سمجھاجا تا تھا درست ہے یا نہیں اور آخرمیںبتایاکہ اس صنف کے اوّلین نقوش ماسٹر رام چندر کے ہاں ملتے ہیں۔

’ڈاکٹر زور‘ سیّدہ جعفر کی ایک غیر تدوینی تحقیقی کتاب ہے۔ اس میں انھوں نے ڈاکٹر زور کے حالات و واقعات کے ساتھ ساتھ ان کی تصانیف پر بھی روشنی ڈالی ہے۔اس میں انھوں نے چند اہم گوشوں کی طرف نشاندہی کی ہے۔ 

’من سمجھاون‘ سیّدہ جعفر کی ایک اور تحقیقی کاوش ہے۔ یہ تامل ناڈو کے ایک مشہور شاعرشاہ تراب کی طویل نظم ہے جوترجمہ شدہ ہے۔اس سے پہلے شاہ تراب کی زندگی اور ان کی تصانیف کے بارے میں بہت کم جانکاری ملتی تھی لیکن مصنفہ نے ان کے تقریباً ہر ایک پہلو پر روشنی ڈالی ہے۔ مثلاً اس کتاب کے علاوہ ان کی چھ اور کتابوں، غزلوں اور چھ مخطوطات کی تفصیل بیان کی ہے۔

’دکنی رباعیات‘ سیّدہ جعفر کی تحقیقی تصنیف ہے۔ رباعی اور اس کے فن پرقلم اٹھاناکافی مشکل کام ہوتا ہے۔ سیّدہ جعفر نے محنت شاقہ سے اس پر طویل گفتگو کی ہے۔ انھوں نے اس میںدکنی شعرا کی رباعیاںجمع کر کے ایک اہم فریضہ انجام دیاہے۔یہ کتاب تحقیق وتدوین دونوں کے ضمن میںآتی ہے۔ 

’سکھ انجن‘ ابوالحسن بیجاپوری کی نظم ہے۔سیّدہ جعفر کی تحقیقی کاوش سے پہلے اس نظم کا ذکر کہیں نہیں ملتا تھا لیکن انھوں نے اس کتاب کو مرتب کر کے اہم مقام حاصل کیا ہے۔اس کتاب میں انھوں نے ان کی زندگی کے اہم اور غیر اہم پہلوئوں پر روشنی ڈالی ہے۔یہ کتاب 1968میں منظر عام پر آئی۔ یہ ایک صوفیانہ نظم ہے اس میں صوفیانہ موضوع پر تنقید اور اس کے بعدلسانی تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔

’یادگار مہدی‘ اور’دکنی نثر کا انتخاب‘ بھی سیّدہ جعفر کی یادگار تصانیف ہیں۔اول الذکر ان کے جد اعلیٰ نواب مہدی نواز جنگ کے کارناموں پر مشتمل ہے اور مؤخر الذکر دکن کے نثری ادب پر محیط ہے ،جو بہمنی دور سے لے کر عہد عالمگیر تک کے تمام اہم شعرا اور ادیبوںکی تخلیقات پر مشتمل ہے۔اس میں اس بات کا خیال رکھا گیا ہے کہ تاریخ ادب کے ابتدائی تین سو سال کا نمائندہ انتخاب پیش کیا جائے اور بہمنی دور اور اس کے بعد وجود میں آنے والی سلطنتوں کی تخلیقات کی مکمل نمائندگی ہو جائے۔

’یوسف زلیخا‘ بھی ان کی اہم تحقیق ہے۔یہ احمد گجراتی کی مثنوی ہے۔سیّدہ جعفر نے اس مثنوی کو دبستان گولکنڈہ کی پہلی مثنوی قرار دیا ہے۔کیونکہ اس سے پہلے وجہی کی قطب مشتری کو گولکنڈہ کی پہلی مثنوی تسلیم کیا جاتا تھا لیکن سیدہ جعفر نے اختلاف کر کے یوسف زلیخا کو اولیت دی ہے۔ انھوں  نے اس میں مثنوی کے مصنف احمد گجراتی کے نام،تاریخ پیدائش،وطن، مذہب، شاعر کا پیشہ غرض زندگی کے اہم گوشوں پر روشنی ڈالی ہے۔

’کلیات محمد قلی قطب شاہ‘ سیّدہ جعفر کا ایک اور تحقیقی کارنامہ ہے۔کلیات محمد قلی قطب شاہ کو محی الدین قادری زور نے پہلے مرتب کیا تھا بعد میںسیّدہ جعفرنے اضافہ کر کے اس کو دوبارہ شائع کیا ہے۔سیّدہ جعفر نے ڈاکٹر زور کی بہت مدح سرائی بھی کی ہے لیکن یہ کہنے میں بھی وہ نہیںہچکچاتیں کہ اس میں بھاگ متی کا واقعہ اختلافی ہے۔ ڈاکٹر زور نے یہ کلیات اگر چہ پہلے مرتب کیا لیکن ان کی رسائی وہاں تک نہیں ہوئی جہاں تک سیدہ جعفر پہنچ گئیں۔ سیدہ جعفر نے مزید اضافہ کر کے محمد قلی قطب شاہ کی دو غزلیں اور بارہ نظمیں پہلی بار شائع کیں۔ اس تدوین کا مقدمہ281 صفحات پر مشتمل ہے۔مقدمہ سے ایک اہم بات ثابت ہوتی ہے کہ مسعود حسین خان نے محمد قلی قطب شاہ کی مشہور ترین غزل ’پیا باج پیالہ پیا جائے نا‘ کو قدیم اردو جلد دوم ص 402 میںغواصی سے منسوب کیا ہے۔اگر سیدہ جعفر نے اس کلیات کو مرتب نہ کیا ہوتا تو نہ مقدمہ کی نوبت پیش آتی اور نہ ہی مسعود حسین خاںکی غلط فہمی کی اصلاح ہو پاتی ۔

مقیمی کی مثنوی ’چندر بدن اور مہیار‘ سیّدہ جعفر نے ترتیب دے کر ہندی میں تفصیل کے ساتھ اس کا مقصد بیان کیا ہے۔مقیم اور مقیمی کو ایک ہی شخص تصور کیا جاتا تھا لیکن سیّدہ جعفر نے ثابت کیا کہ یہ دو الگ الگ شخص ہیں۔ اس میں مثنوی کے مصنف مقیمی کے حالات زندگی کوبھی پیش کیا ہے۔ 

’ماہ پیکر‘ جنیدی کی مثنوی ہے اس کے مرتب ہونے سے سیدہ جعفر کی ادبی کاوش میں اور اضافہ ہوگیا۔عبداللہ قطب شاہ کے دور میں لکھی گئی یہ مثنوی غیر مطبوعہ تھی ڈاکٹر سیّدہ جعفر نے اسے مرتب کر کے شائع کیا ۔

’اردو ادب کی تاریخ1700 تک‘ (پانچ جلدیں) یہ کتاب سیّدہ جعفر نے گیان چند جین کے اشتراک سے لکھی ہے۔اصل میں ترقی اردو بیورو نے یہ کام ان دو مصنفوں کو سونپا تھا ۔سیدہ جعفر نے 1700صفحات لکھے ہیں جب کہ گیان چند جین نے 400صفحات لکھے ہیں۔

آخر میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اردو تنقید کا ذکر ہو یا تحقیق کا، سیدہ جعفر کا ذکر دونوں صورتوں میں ہوگا۔ انھوں نے جو کچھ کیا ہے، علمی حلقوں میں اس کا اعتراف بھی کیا گیا ہے، اور آگے بھی کیا جاتا رہے گا۔جب بھی دکن کے محققین یا ناقدین کا شمار کیا جائے گا، سیدہ جعفر کا شمار ان اہم لوگوں میں ہوگا جنھوں نے اردو تحقیق و تنقید میں گرانقدر اضافہ کیا ہے۔ ان کی خدمات سے آنے والی نسلیں مستفید ہو تی ہیں۔


Rushda Shaheen

Research Scholar, Dept of Urdu

Room no 101, LH9,South Campus

University of Hyderabad- 500046   (Telengana)

Mob. No: 8125931503, 8707317633

Mail Id:- rushdashaheen25@gmail.com


ماہنامہ اردو دنیا، جولائی 2020

20/8/20

اردو شاعری میں برسات مضمون: عمرانہ خاتون


 اُردو شاعری میں دیگر موضوعات کے علاوہ موسم برسات کے موضوع پر بھی شاعروں نے اظہارِ خیال کرکے اپنی فنّی دسترس اور تخلیقی قوتوں کا ثبوت فراہم کیا ہے۔ رنگا رنگی اور تنوع اس جہان کی اہم خصوصیت ہے۔ مالکِ کائنات نے دُنیا کی پیدائش کے وقت سے ہی اسے اختلاف اور امتیاز کی دولت عطا کردی۔ اس اختلاف میں دُنیا کا حُسن بھی پوشیدہ ہے اور یہ انسانی ضروریات کی تکمیل کا ذریعہ بھی ہے۔ انسانوں میں مختلف رنگوں، زبانوں اور تہذیب وتمدّن کی پیروی کرنے والے افراد موجود ہیں۔ اسی طرح جب ہم موسموں پر نظر ڈالتے ہیں تو ان میں بھی اختلاف نظر آتا ہے۔ کبھی سردی کبھی گرمی، کبھی موسم خزاں اور کبھی موسم بہار۔ ان موسموں میں موسم برسات کی اپنی ہی خصوصیت ہے۔ برسات کا موسم ماحول میں نمایاں اور اہم تبدیلی لانے کا باعث ہوتا ہے۔ زندگی میں پانی کی ضرورت اور اہمیت سے کون انکار کرسکتا ہے؟ برسات کا موسم تو ہمارے گرد وپیش کے منظر کو یکسر تبدیل کردیتا ہے۔ آسمان سے پانی کا برسنا صرف خدا کے وجود کو ہی ثابت نہیں کرتا بلکہ اِس میں انسانوں کے لیے بے شمار نشانیاں بھی موجود ہیں۔ 

بھارت جیسے زرعی ملک میں مونسون کی آمد کسانوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیر دیتی ہے۔ ہماری زراعت کا دارومدار زیادہ تر بارش پر ہے۔ ملک میں پائی جانے والی پانی کی کمی کو بھی دور کرنے میں بارش معاون ثابت ہوتی ہے اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ بعض دفعہ شدت کی بارش شہری علاقوں میں نقصان کا باعث بھی بن جاتی ہے۔ بہرحال مجموعی طور پر اطمینان بخش بارش پر عوام کی جانب سے اظہار مسرت کیا جاتا ہے اور اسے ملک کی معیشت کے لیے نیک شگون تصور کیا جاتا ہے۔ 

برسات کے موسم پر جن شاعروں نے اپنی نظم گوئی کے ذریعے قارئین کو متاثر کیا اُن میں ایک اہم نام الطاف حسین حالی کا ہے۔ انھوں نے ’برکھارُت‘ عنوان کے تحت اس موضوع پر شہرۂ آفاق نظم تخلیق کی۔ ملک میں موسم برسات کے منظر کو ’برکھارُت ‘خوبصورتی سے بیان کرتی ہے۔ حالی کا خیال ہے کہ برسات نہ صرف گرمی کی شدّت کو کم کرتی ہے بلکہ یہ سردی کا بھی پیام لاتی ہے۔ 

گرمی کی تپش بجُھانے والی 

سردی کا پیام لانے والی 

بارش سے پہلے گرمی کے ماحول کی تصویر کشی کرتے ہوئے کہتے ہیں    ؎

گرمی سے تڑپ رہے تھے جاندار 

اور دھوپ میں تپ رہے تھے کہسار 

تھی لُوٹ سی پڑ رہی چمن میں

اور آگ سی لگ رہی تھی بن میں

طوفان تھے آندھیوں کے برپا

اٹھتا تھا بگولے پر بگولا 

بچوں کا ہوا تھا حال بے حال

کملائے ہوئے تھے پھول سے گال 

آنکھوں میں تھا اُن کا پیاس سے دم

تھے پانی کو دیکھ کر کرتے مم مم

لیکن اچانک آسمان پر بادلوں کی آمدسے منظر کیسے تبدیل ہوجاتا ہے اس کو بیان کرتے ہوئے شاعر کہتا ہے        ؎

کل شام تلک تو تھے یہی طور

پر رات سے ہے سماں ہی کچھ اور

برسات کا بج رہا ہے ڈنکا

اک شور ہے آسماں پر برپا

ہے ابر کی فوج آگے آگے

اور پیچھے ہیں دَل کے دَل ہوا کے

ہے چرخ پہ چھاؤنی سی چھائی 

ایک آتی ہے فوج اک جاتی

گھنگھور گھٹائیں چھارہی ہیں 

جنّت کی ہوائیں آرہی ہیں

بارش کے پانی نے چاروں طرف جل تھل کردیا ہے۔ اس کیفیت کو شاعر یوں بیان کرتا ہے   ؎

پانی سے بھرے ہوئے ہیں جل تھل 

ہے گونج رہا تمام جنگل 

کرتے ہیں پپیہے پیہو پیہو

اور مور چنگھاڑتے ہیں ہر سو

کوئل کی ہے کوک جی لبھاتی 

گویا کہ ہے دل میں بیٹھی جاتی 

مینڈک جو ہیں بولنے پہ آتے

سنسار کو سرپہ ہیں اٹھاتے 

حالی کی اس نظم میں ہندوستانی رنگ غالب ہے۔ شاعر کا خیال ہے کہ بادلوں کے برسنے سے فطری مسرّت کا اظہار مسجدوں، مندروں، شوالوں اور گوردواروں میں یکساں کیا جاتا ہے   ؎ 

ابر آیا ہے گھر کے آسماں پر 

کلمے ہیں خوشی کے ہر زباں پر

مسجد میں ورد اہل تقویٰ 

یا ربِّ لنا ولا علینا

مندر میں ہے ہر کوئی یہ کہتا 

کرپا ہوئی تیری میگھ راجا

کرتے ہیں گرو گرو گرنتھی 

گاتے ہیں بھجن کبیر پنتھی

اس نظم میں حالی نے برسات سے قبل کی صورتِ حال اور بارش کے بعد آنے والی تبدیلی کو خوبصورت انداز سے پیش کیا ہے۔ 

محمد حسین آزاد نے اپنی نظم ’ابر کرم‘ میں منظر نگاری کا اعلیٰ نمونہ پیش کرتے ہوئے بارش کے پانی کی مختلف کیفیات کو اشعار کا جامہ پہنایا ہے   ؎ 

وہ ٹہنیوں میں پانی کے قطرے ڈھلک رہے 

وہ کیا ریاں بھری ہوئی تھالے چھلک رہے 

آب رواں کا نالیوں میں لہر مارنا 

اور روئے سبز زار کا دھو کر سنوارنا 

گرنا وہ آبشار کی چادر کا زور سے

اور گونجنا وہ باغ کا پانی کے شور سے 

 اسماعیل میرٹھی بھی اپنی نظم گوئی خصوصاً ادبِ اطفال کے لیے اپنے اہم رول کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ’بارش کا پہلا قطرہ‘ ان کی مقبول نظم ہے۔ نظم کا اسلوب علامتی ہے۔ نظم کی ابتدا سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاعر قوم میں حوصلہ اور ولولہ پیدا کرنے کا آرزو مند ہے گھنگھور بادلوں کے باوجود بارش کی بوندیں اس بات کے لیے خود کو تیار نہیں کرپارہی تھیں کہ پہلے کون جائے گا۔ زمین کی تپش سے جل جانے کا خوف ہر بوند کو تھا مگر ان بوندوں میں ایک بوند ایسی بھی تھی جس نے آگے بڑھنے اور اپنے ساتھیوں کی ہمت اور حوصلہ بڑھانے میں نمایاں رول ادا کیا        ؎ 

اک قطرہ کہ تھا بڑا دلاور 

ہمت کے محیط کا شناور

فیاض وجواد ونیک بخت 

بھڑکی اس کی رگِ حمیت

بولا پکار کر کہ آؤ 

میرے پیچھے قدم بڑھاؤ

1857کے بعد ملک کے حالات کے پس منظر میں اس نظم کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو اشعا ر کا مفہوم جلدی سمجھ میں آجاتا ہے۔ بارش کی پہلی بوند کے حوصلے نے دوسروں کے اندر بھی نیا جوش بھردیا اور وہ برسنے کے لیے تیار ہوگئے   ؎

دیکھی جرأت جو اس سَکھی کی

دوچار نے اور پیروی کی

پھر ایک کے بعد ایک لپکا

قطرہ قطرہ زمیں پہ ٹپکا

آخر قطروں کا بندھ گیا تار

بارش ہونے لگی موسلا دھار

پانی پانی ہوا بیاباں 

سیراب ہوئے چمن خیاباں 

گہرائی سے دیکھا جائے تو اسماعیل میرٹھی کی نظم بارش کا پہلا قطرہ، اتحاد واتفاق کا بھی درس دیتی ہے       ؎

اے صاحبو قوم کی خبر لو

قطروں کا سا اتفاق کرلو 

قطروں میں سے ہوگی نہر جاری 

چل نکلیں گی کشتیاں تمھاری

علاّمہ اقبال کی نظمیں بھی فطرت کی تصویر کشی کے اعلیٰ نمونے پیش کرتی ہیں۔ اقبال کی شاعری میں خوبصورت تشبیہوں اور استعاروں کا برمحل استعمال بھی ہمیں کافی متاثر کرتا ہے۔ علاّمہ کی نظم ’ابرِ کوہسار‘ فطرت کی بھر پور ترجمانی کرتی ہے۔ شاعر کا تمثیلی اسلوب بھی قابل تعریف ہے۔ بادل کو جاندار کی شکل میں پیش کرکے اس کی زبان سے اپنی خوبیوں کو بیان کرنا قابل تعریف ہے۔ شاعر کا خیال ہے کہ بارش کے طفیل ہی کسانوں کے کھیت اور میدان ہرے بھرے ہوتے ہیں       ؎

مُجھ کو قدرت نے سکھایا ہے دُر افشاں ہونا

ناقۂ شاہدِ رحمت کا حُدی خواں ہونا

غم زدائے دل افسردۂ دہقاں ہونا

رونقِ بزمِ جوانانِ گلستاں ہونا 

نظم کے تیسرے بند میں اس حقیقت کو بیان کرتے ہیں کہ بادل کچھ مقامات پر برستا ہے اور کہیں خاموشی سے گزر جاتا ہے۔ بغیر برسے گزر جانے سے لوگ مایوس ہوجاتے ہیں لیکن جہاں برستا ہے وہاں کی نہر کو بھنورکی بالیاں پہناتا ہے   ؎

دور سے دیدۂ امید کو ترساتا ہوں

کسی بستی سے جو خاموش گزر جاتاہوں

سیر کرتا ہوا جس دم لبِ جو آتا ہوں

بالیاں نہر کو گر داب کی پہناتا ہوں

اقبال کہتے ہیں کہ بارش کے سبب ہی کسانوں کے جھونپڑوں میں محلوں جیسی خوشی پیدا ہوجاتی ہے   ؎

فیض سے میرے نمونے ہیں شبستانوں کے

جھونپڑے دامنِ کہسار میں دہقانوں کے 

علاّمہ اقبال کی نظم ’ابر‘ بھی شاعر کے بلند تخیل اور محاکاتی شاعری کی اعلیٰ مثال ہے      ؎ 

شاعر نے گھٹاکے اُٹھنے اور پھر برسنے کی تصویر کھینچ دی ہے   ؎

جو پھول مہر کی گرمی سے سو چلے  تھے  اُٹھے 

زمیں کی گود میں جو پڑکے سورہے تھے اُٹھے

ہوا کے زور سے ابھرا ‘بڑھا‘ اڑا بادل

اُٹھی وہ اور گھٹا لو! برس پڑا بادل

نظیر اکبرآبادی کی حیثیت عوامی شاعر کے طور پر تسلیم شدہ ہے۔ ان کی شاعری ہندوستانی تہذیب وتمدن کی بہترین عکاسی کرتی ہے۔ برسات کی بہاریں نظیر کی پُرکشش نظم ہے۔ پوری نظم برسات کی طرح پر بہار کہی جاسکتی ہے۔ سبزہ کی لہلہاہٹ ہے۔ باغات ہرے بھرے ہیں۔ ہوا کے دوش پر مست بادل چھارہے ہیں۔ پانی کے باعث چاروں طرف جل تھل ہے۔ سبزہ نہارہا ہے۔ ہرے سبزے کو نظیر بچھونے سے تشبیہ دیتے ہیں          ؎

ہیں اس ہوا میں کیا کیا برسات کی بہاریں

سبزوں کی لہلہاہٹ باغات کی بہاریں

بُوندوں کی جھمجھماہٹ  قطرات کی بہاریں

ہر بات کے تماشے ہر گھات کی بہاریں

کیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں 

ان کی نظم ’برسات‘ میں ان کا ظریفانہ رنگ بھی نمایاں ہے   ؎ 

برسات کا جہاں میں لشکر پھسل پڑا

بادل بھی ہر طرف ہَوا پر پھسل پڑا

جھڑیوں کا مینہ بھی آکے برابر پھسل پڑا 

چھتہ کسی کا شور مچاکر پھسل پڑا

کوٹھا  جھکا اٹاری گری در پھسل پڑا

نظیر کو مقامی موسموں سے محبّت ہے۔ موسموں کی دلفریبی اور رعنائیوں سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ وہ قارئین کی ضیافتِ طبع کا سامان بھی مہیّا کرتے ہیں۔ درج ذیل اشعار اس کا ثبوت ہیں        ؎ 

کوچے میں کوئی اور کوئی بازار میں گرا 

کوئی گلی میں گرکے ہے کیچڑ میں لوٹتا 

رستے کے بیچ پاؤں کسی کا رپٹ گیا

اس سب جگہ کے گرنے سے آیا جو بچ بچا

وہ اپنے گھر صحن میں آکر پھسل پڑا 

نظیر کی منظر کشی میں حقیقت نگاری غالب ہے۔ نظیر نے وہی کچھ بیان کیا جو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ نظیر کی منظر نگاری میں انسانی جذبات کی بھی عکاسی کی گئی ہے    ؎

جو خوش ہیں وہ خوشی میں کاٹے ہیں رات ساری 

جو غم میں ہیں انھوں پر گذرے ہے رات بھاری 

سینوں سے لگ رہی ہیں جو ہیں پیا کی پیاری 

چھاتی پھٹے ہے ان کی جو ہیں برِہ کی ماری 

کیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں 

جوش ملیح آبادی اپنے انقلابی اور رومانی خیالات کے لیے اردو ادب میں مخصوص شناخت کے حامل ہیں۔ ان کے کلام میں رندانہ سرمستی کا عنصر بھی قابل توجہ ہے۔ جوش کو مناظرِ فطرت سے ازلی تعلق ہے ’رُوح عصر‘ میں اس موضوع پر بہت سی یادگار نظمیں موجود ہیں۔ اِسی طرح شعری مجموعہ ’شعلہ وشبنم‘ میں بھی منظر نگاری کے اعلیٰ نمونے موجود ہیں۔ اپنی نظم ’برسات کی پہلی گھٹا‘ میں جوش نے موسم کی مختلف تبدیلیوں اور کیفیات کو بیان کرکے انسانی ذہن پر ان کے اثرات کا کامیاب احاطہ کیا ہے    ؎ 

کیا جوانی ہے فضا میں مرحبا صد مرحبا

چل رہی ہے روح کو چھوتی ہوئی ٹھنڈی ہوا 

آرہی ہے دور سے کافر پپیہے کی صدا 

حسن اٹھا ہے خاک سے انگڑائیاں لیتا ہوا

جھوم کر برسی ہے کیا برسات کی پہلی گھٹا

نظم میں ارمانوں اور آرزوؤں کا جوش، کسانوں کا کاندھوں پر ہل دھرے ہنستے ہوئے جانا، چرواہے کا جنگل میں مست ہونا، گھاس کا زندہ ہوجانا، پھولوں کا سکون سے چمن میں سانس لینا، ہر طرف جل تھل ہوجانا وغیرہ شاعر کی توجہ اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ گھٹا پر بھی جوش کی نظم رنگین اور مرصع ہے۔

 نظم کا آغاز اس مصرعے سے ہوتا ہے   ؎ 

اُٹھی گھٹا وہ رنگ وبو کا کارواں لیے ہوئے

جوش کی نظم ’برسات ہے برسات‘ بھی کافی مشہور ہے     ؎

آدیکھ تو ساون کے برستے ہوئے لمحات 

ہوجائے گا کل خاک یہ مجموعۂ ذرّات 

کرتا نہیں کیوں عشق وجوانی کی مدارات 

برسات ہے، برسات ہے، برسات ہے برسات 

اگرچہ جوش کے رومانی آہنگ نے نظم کی فطری منظر نگاری کو متاثر کیا ہے۔ پھر بھی جوش کا مختلف موسموں خصوصاً برسات سے والہانہ عشق اشعار سے صاف ظاہر ہورہا ہے۔ اپنی نظم ’ساون کے مہینے‘ میں بھی ساون کی فطری کیفیات کو اشعار کا جامہ پہنایا ہے۔ 

حفیظ جالندھری کی نظم ’برسات‘ بارش کے دوران لڑکیوں کی جانب سے آموں کی شاخوں پر جھولے ڈال کر گیت گاکر خوشی منانے کا احاطہ کرتی ہے۔    ؎

آموں کے نیچے ڈالے ہیں جھولے 

پیکروں نے 

سیمیں تنوں نے 

ہلکی صدائیں سادہ ادائیں 

خود مسکرانا 

خود منہ چرانا 

داغ کے شاگرد جو ش ملسیانی کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ آپ کے کلام میں داغ کا پرتو دیکھنے کو ملتا ہے ’برسات‘ ’برسات آگئی ہے‘ اور ’بادل آئے‘ موسمِ برسات کے زیر عنوان کہی گئیں ان کی مشہور نظمیں ہیں۔ کتنے سادہ اور متاثر کن انداز سے موسم برسات کی تصویر کھینچی ہے۔ ملاحظہ فرمائیں     ؎

کالی گھٹا اُٹھی ہے ہر سمت چھاگئی ہے

ٹھنڈی ہوا چمن کی جُھولا جھلاگئی ہے

بجلی کڑک کڑک کر سب کو جگاگئی ہے

لے جاگ او پپیہے برسات آگئی ہے

رنگینیاں عطا کیں ہر پھول کو خدا نے

 ہر شے کو زندگی دی امرت بھری ہوا نے 

ہر گھر کو روشنی دی چھائی ہوئی گھٹا نے 

لے جاگ او پپیہے برسات آگئی ہے

برسات نظم میں برسات کی گھٹاؤں کی منظر کشی کی تعریف کئے بغیر نہیں رہا جاسکتا   ؎

ہوتی ہیں نورِ پیکر برسات کی گھٹائیں 

رکھتی ہیں خاص منظر برسات کی گھٹائیں 

کتنی ہیں رُوح پرور برسات کی گھٹائیں

تم بھی تو دیکھو اُٹھ کر برسات کی گھٹائیں

کیا جھومتی ہیں سرپر برسات کی گھٹائیں

بادل آئے نظم میں بادل کی فیاضی کا ذکر کس شان سے کرتے ہیں   ؎

رحمت خاص کا اعلان پھر اس زور کے ساتھ 

آسماں سر پہ اُٹھاتے ہوئے بادل آئے

واہ کیا جوش کرم ہے کہ خزانہ اپنا 

دونوں ہاتھوں سے لٹاتے ہوئے بادل آئے 

کرپال سنگھ بیدار کی نظم گوئی کو ناقدین معنوی نزاکتوں، شعری لطافتوں اور فنّی رعنائیوں کی عکّاس قرار دیتے ہیں۔ ’آغازِ بہار‘ نظم شاعر کی قادر الکلامی کا ثبوت بھی فراہم کرتی اور فطرت کی عکاسی کا حق بھی ادا کررہی ہے۔ کہتے ہیں   ؎

وُسعت آفاق پر ایک کیف سا چھانے لگا 

عرش سے کوئی شراب ناب برسانے لگا 

بھاپ بن کر اُڑ چلا کُہسار کے دل کا بخار

وُسعت گردُوں پہ ابرِ سیمگُوں چھانے لگا 

مضطرب جلووں سے روشن ہوگیا قصرِ خیال 

پردۂ ہستی میں کوئی برق چمکانے لگا 

آگ دے نکلی دل شاعر کے داغوں کی بہار 

دیکھیے کیا گل کھلائے اِن چراغوں کی بہار

موسم برسات کے موضوع پر ذیل کے متفرق اشعار بھی مختلف زاویوں سے روشنی ڈالتے ہیں۔ ان کا مطالعہ بھی دلچسپی سے خالی نہیں     ؎ 

اُداس رہتا ہے محلے میں بارش کا پانی آج کل 

سُنا ہے کاغذ کی کشتی بنانے والے اب بڑے ہوگئے 

ہم سے پوچھو مزاج بارش کا 

ہم جو کچّے مکان والے ہیں 

یہ دولت بھی لے لو یہ شہرت بھی لے لو

بھلے چھین لو مجھ سے میری جوانی 

مگر مجھ کو لوٹا دو بچپن کا ساون 

وہ کاغذ کی کشتی وہ بارش کا پانی 


بارش ہوئی تو تیری خوشبو کے قافلے 

ایسے اڑے کہ شہر گلابوں سے بھر گیا


چڑیا پوری بھیگ چکی ہے 

اور درخت بھی پتہ پتہ ٹپک رہا ہے

گھونسلہ کب کا بکھر چکا ہے 

ان مثالوں کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ اردو شاعروں نے موسم برسات پر جو نظمیں کہی ہیں ان میں نہ صرف فطرت کی بہترین عکاسی موجودہے بلکہ موسم برسات کے مختلف مناظر بھی دلکش انداز سے پیش کیے گئے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ان نظموں میں شاعرانہ مصوری کا کمال بھی موجود ہے اور برسات کی تمام کیفیات کی جھلک بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔ اردو شاعروں کی یہ شعری نگارشات نہ صرف ادبی نقطۂ نگاہ سے اہمیت کی حامل ہیں بلکہ محاکاتی شاعری میں بھی قابل قدر اضافہ کہا جاسکتا ہے۔ 


Imrana Khatoon

Research Scholar, Dept of Persian, Urdu & Arabic

Rbi. University, Patiala - 148023 (Punjab)

ماہنامہ اردو دنیا، جولائی 2020


مہدی افادی کی انفرادیت مضمون نگار: زیبا محمود




 زبان ایک ذریعہ خیال ہی نہیں بلکہ سماجی عمل بھی ہے۔ اس کی غیر معمولی اہمیت اور افادیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہ انسانی تہذیب سے سرشار ہونے کے ساتھ ساتھ اسے ارتقائی عمل سے بھی آشکار کرتی ہے۔ اس مقام پر اسلوب میں انفرادیت کا مسئلہ بھی قابل توجہ ہے کیونکہ شخصیت کی بلند آہنگی سے شخصیت کی بو قلمونی اور اس کے وقار کا پتہ چلتا ہے۔مہدی افادی باغی نہیں مجتہد تھے، ان کا اندازو اسلوب انفرادی کوششوں کا بر ملا اظہار ہے۔ 

مہدی افادی کا گورکھپور کے قدیم شیوخ خاندان سے تعلق تھا۔ ان کا سنہ پیدائش پروفیسر محمود الٰہی کی تحقیق کے مطابق 1870 کے لگ بھگ ہے حاجی علی حسن کی گیارہویں اولاد ہوئی جس کا نام انھوں نے مہدی حسن رکھا ( رشحات: پروفیسر محمود الٰہی کی ادبی کاوشیں ص28 )۔ مہدی افادی کی شخصیت اور مزاج کی تعمیر میں شیوخ خاندان کا زبردست رول رہا ہے۔ اسی کی پیروی کرتے ہوئے اپنی ذاتی زندگی میں نظم و ضبط کے قائل تھے۔ ناقدین ادب نے انھیں اوصاف کو ان کی تخلیقیت کا خمیر قرار دیا۔ مہدی افادی پیشے کے اعتبار سے ایک غیر شاعرانہ ماحول سے وابستہ رہے لیکن ان کی سرکاری دلچسپیوں اور مصروفیتوں سے الگ وہ اپنا تمام تر وقت انگریزی عربی فارسی اور اردو کی بہترین کتابوں کے مطالعے میں صرف کرتے تھے جنھیں وہ ’نازنین ادب‘کہتے تھے۔قدیم ادب کے ساتھ نئے علوم پر بھی ان کی گہری نظر تھی۔ یورپ کی رومانوی تحریک اور اس کے ادب کا مہدی افادی نے بڑے شوق و شغف کے ساتھ مطالعہ کیا تھا اور اس کا ان کے طرز فکر اور اسلوب ادا پر بہت گہرااثر ثبت ہوا۔ بقول سید سلیمان ندوی :

’’ ان کا قلم باغ و بہار تھا بلا کی شوخ اور شگفتہ طبیعت پائی تھی۔ اچھے خاصے خشک فلسفیانہ مباحث میں بھی وہ اپنے طرز بیان سے رنگینی پیدا کردیتے تھے جس طرح لبریز ساغر سے شراب چھلک جاتی ہے۔ 

ان کی طبیعت کی رنگینی الفاظ میں بکھری رہتی ہے۔ ‘‘

  ( مہدی افادی از فیروز احمد ص 128 )

مہدی افادی کی زبان و بیان میں جو شوخی شگفتگی اور شائستگی تھی اس کا اظہار یا اس کا تعارف دوسروں کی زبانی نہیں خود مہدی افادی کے اپنے قلم کی زبانی ہی سب سے بہتر طریقے سے ہوسکتا ہے۔ مثال پیش ہے:

’’ سچ کہیے عذرا واقعی بہت حسین ہے۔ حسین تو ایک معمولی اور سر سری لفظ ہے عورتیں سبھی اپنی اپنی جگہ حسین ہوتی ہیں لیکن میں اپنے تخیل میں اوروں سے اس قدر مختلف ہوں کہ صرف گوشت پوست سے کام نہیں چلتا، عذرا مری عذرا تو نظم زندگی یعنی پوری شاعری ہے۔ اس کی آواز کامل موسیقی، اس کاتبسم میرا عنصر حیات ہے وہ قطعاً  توبہ شکن اور کافر ایمان... جہاں آنکھیں ملیں بس یہ معلوم ہوتا ہے تمام جسم میں بجلی دوڑ گئی۔ مدت ہوئی پہلی نظر میں جب شیدا ہوا دل سے آواز آئی ’خدا یا خیر‘ جس کا نتیجہ آج تک بھگت رہا ہوں۔ ‘‘ ( ادیب علی گڑھ ص180) 

مہدی افادی کے لٹریچر کی یہ خوبی ہے کہ سنجیدہ تحریریں بھی ان کے یہاں خشک و بے مزہ نہیں۔ان کے رشحات قلم میں ایک ایسی تازگی اور ندرت ادا ہے جو صر ف اور صرف ان کے اسلوب کاحصہ ہے۔ وہ ہمارے ادیبوں اور دانشوروں میں محمد حسین آزاد سے سب سے زیادہ متأثر معلوم ہوتے ہیں مگر انھوں نے آزاد کی صرف تقلید نہیں کی بلکہ ان کی شوخی میں نذیر احمد کی ظریفانہ نکتہ سنجیوں کو شامل کر کے ایک نئی پر کاری پیدا کردی۔ جہاں تک ان کی ادبیات کا سوال ہے مہدی کی تحریریں اردو لٹریچر میں قطعتاً غیر فانی ہیں۔ بقول ڈاکٹر تنویر احمد علوی:

’’ان میں وہ جوانی ہے جس پر عمر کا اثر نہیں ہوتا وہ مستی ہے جس میں شراب انگور کی مہک نہیں وہ بانکپن ہے جس پر سادگی قربان اور وہ سادگی ہے جس پر بانکپن نثار ہے۔‘‘ ( ماہنامہ ادیب علی گڑھ ص190 ) 

یہاں یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ یہ مہدی افادی کے اپنے مذاق و مزاج کی تصویر ہی ہے۔ 

  تعلیم کسی قوم کے ارتقائی عمل میں کیا کردار ادا کرتی ہے اس سے مہدی افادی بخوبی واقفیت رکھتے تھے۔ تعلیمی تصورات کوئی مسئلہ نہیں مگر اس کی شرحیں ’کثرت شرح پریشان خواب من از کثرت تعبیر ہا ‘ کا مصداق بن گئی ہیں۔ تعلیمی تصورات اور تعلیمی فلسفہ اور زندگی کا رشتہ گوشت اور ناخن کا ہے۔ مہدی افادی کے نزدیک تعلیم ایک ’ذریعہ‘ جس میں انسانیت کے تمام مادی اور ذہنی قویٰ کی مکمل ہم آہنگ نشو ونما ہوتی ہے اس کے ساتھ ہی مہدی افادی ایسی تعلیم کے خواہاں تھے جو اپنے تہذیبی ورثے کی عظمت کو برقرار رکھنے میں  پیش پیش رہے۔  پروفیسر محمود الٰہی نے صحیح لکھا ہے کہ:

’’ علی گڑھ تحریک کے اغراض و مقاصد ان کے پیش نظر تھے۔ لیکن جب علی گڑھ والوں میں طائوس و رباب کی طرف میلان بڑھا تو مہدی افادی نے بڑی سختی سے اس کا احتساب کیا۔ ‘‘ ( صحیفۂ محبت ص28 ) 

موصوف کے مطابق سماجی حالات میں ان کی فکری بالیدگی  بین ثبوت ہے اور اس سے یہ بات بھی پایۂ ثبوت کو پہنچتی ہے کہ وہ اپنے پیش روئوں کے نظریات کے محض خوشہ چیں نہیں تھے۔ مہدی افادی کے مطابق انسانی اور اخلاقی قدریں ہر دور میں مذہب کے زیر سایہ ہی پروان چڑھی ہیں۔ مذہب اور سائنس کے متعلق ان کے خیالات کافی دلچسپی سے مملوہیں۔ مثال پیش ہے:

’’ مذہب کے اولیات کا انحصار کلیتہً امور غیر مادّی یعنی ایسی چیزوں پر ہے جو مدرکات انسانی سے باہر ہیں۔ یعنی ہمارے حواس فطری ان کے سمجھنے بوجھنے سے عاری ہیںاور سائنس صرف مادیت سے غرض نہیں رکھتا بلکہ اس کا دعویٰ ہے ’ عالم غیر‘ کا خیر سے وجود ہی نہیں ہے۔ جس پر ہم آپ اس قدر مٹے ہوئے ہیں۔ بہرحال فلسفہ اتنا برا ہی نہیں کہ ’ سنی سنائی ‘ کبھی کبھی مان لیتا ہے لیکن سائنس اتنا کٹر ہے کہ جب تک ’ آنکھوں دیکھی ‘ نہ ہو ہزار کہیے، کتنے ہی بڑے جبہ و دستار پیش کیجیے، مذہب کی دہائی دیجیے ایک نہیں سنتا ظاہر ہے کہ اتنا بڑا کافر بر خود غلط، کسی ’ شریعت سہلتہ ‘ کی گرفت میں کہاں تک آسکتا ہے، لیکن کیا اس کے یہ معنیٰ ہیں کہ ہم مذاہب سے عموماََ دست بردار ہوجائیں ؟ اس کا فیصلہ میں انسان کی اگلی پچھلی اخلاقی تاریخ پر چھوڑتا ہوں جس کی تکمیل کی نسبت خود فلسفے کا یہ دعویٰ ہے کہ بغیر مذہب کے، ہو، ہی نہیں سکتی... ‘‘( افادات مہدی ص 223 ) 

مندرجہ بالا اقتباس کے افکار کو مذہب بیزاری، کے مترادف نہیں کہا جاسکتا۔ مہدی افادی نے بلا خوف و خطر اپنی آرا کو صفحۂ قرطاس پر بکھیر دیا۔ اپنے مضمون ’اردو لٹریچر کے عناصر خمسہ‘ میں ببانگ دہل اور مثالوں کے ساتھ اردو کے پانچ بڑے انشا پر دازوں پر گہرائی اور گیرائی کے ساتھ تنقیدی نگاہ ڈالی ہے جس میں زبان کے تاریخی حالات اس کی خصوصیات اور مختلف دور میں جو انقلابات رو نما ہوئے اس کا جائزہ پیش کردیا اور دو ٹوک انداز بیان میں کہہ دیا کہ آزاد جامع اللغات اور تذکرئہ شعرائے فارسی کی تکمیل نہ کرسکے نذیر احمد قاموس الاسلام کے وسیع پیمانے کو گھٹا کر لغات اسلام مرتب نہ کرسکے اور اسی طرح شبلی سیرۃ النبی کے ساتھ مسلمانوں کی تاریخ بھی رقم نہ کرسکے۔ ان کو یہ احساس تھا کہ تصنیفی عہد ہمیشہ کے لیے رخصت ہو گیا۔ 

مہدی افادی کے وضع اصطلاحات اور تراکیب و جملے کے میلان کو دیکھتے ہوئے اسلوب احمد انصاری لکھتے ہیں:

’’ مہدی کی طباعی اور ذہانت کا ثبوت یوں تو ان کے قلم کی ہر کشش سے ثابت ہے مگر انھوں نے انگریزی الفاظ کے لیے جو مترادفات تراشے ہیں اور جو نئی ترکیبیں وضع کی ہیں وہ اپنی جگہ کسی تخلیق سے کم نہیں، مہدی انگریزی کا شائستہ اور ستھرا مذاق رکھتے تھے اور اس کے ساتھ ہی اپنی زبان میں توسیع بلاغت اور رمزیت پیدا کرنے کے ذرائع سوچتے رہتے تھے یوں تو اب اردو میں فنی اصطلاحات کی کمی نہیں مگر مہدی نے انگریزی الفاظ کے لیے جیسے چست اور برجستہ الفاظ ڈھالے ہیں وہ ان کی غائر نظر اور لطافت طبع کے غماز ہیں۔ ‘‘ ( فن اور تنقید ص 282) 

مہدی افادی شمس العلما شبلی نعمانی کی وسعت نظر کے محض قائل ہی نہیں بلکہ ان کے بے پناہ معتقد تھے۔ شبلی کی تصنیف الکلام پر جہاں انھوں نے اپنے تاثر ات کا اظہار کیا وہیں اپنے مضمون ’آدھ گھنٹہ علامہ شبلی کے ساتھ ‘ میں اس خیال کا اعادہ کردیا کہ:

’’عربی کا یہ پروفیسر نہایت سخت عجمی ہے۔ توبہ یہ کیا کہہ گیا... ہاں تو یہ وصف اضافی ان کی عربیت میں اس قدر دب گیا ہے کہ بہتیروں کو یہ بات معلوم نہیں۔ ‘‘ 

( ماہ نامہ ادیب علی گڑھ ص 192 ) 

 غرض علامہ شبلی نعمانی کے مذاق فلسفہ تاریخ اور معیار تحقیق کے متعلق جو کچھ مہدی افادی نے کہا ہے اس میں صحت و مذاق کا عنصر غالب نظر آتا ہے۔ شبلی کی نثر کو ایک عالم ادب کی نگارش قلم سے موسوم کرتے ہیں جس میں شگفتگی کے ساتھ سنجیدگی کے وہ زبردست قائل ہیں۔ 




جہاں تک مہدی افادی کی مکتوب نگاری کا سوال ہے انھوں نے خط کو انسانی دل کا آئینہ قرار دیا اس ضمن  میں وہ سیمول جانسن کے اس قولA man letter are only the mirror of his herartکی پیروی کرتے نظر آتے ہیں کیونکہ یہ خطوط ہی ہیں جو انسان کے دلی جذبات و خیالات کا روز نامچہ اور اسرار حیات کا صحیفہ ہوتے ہیں۔ مہدی افادی کے اکثر خطوط دل سے لکھے گئے ہیں جن سے انسانی فطرت کے را ز ہائے سربستہ کی عقدہ کشائی ہوئی ہے۔ مکاتیب مہدی کے بعد ان کے خطوط کامجموعہ صحیفئہ محبت کے نام سے شائع ہوا جسے انھوں نے اپنی رفیقۂ حیات عزیز النساء کے نام رقم کیے اور جس کی ترتیب و تدوین میں پروفیسر محمود الٰہی نے خون جگر صرف کر دیا اور ایک بسیط مقدمہ بھی تحریر کیا۔ فرماتے ہیں:

’’ مہدی افادی اپنے اور مہدی بیگم کے خطوط کو صحیفۂ محبت یا صحیفۂ عشق کہا کرتے تھے، اور یہ خطوط اپنے حاوی اور غالب موضوع کی وجہ سے ہیں بھی اسم بامسمٰی، زن و شوہر کی محبت کی ان گنت داستان موجود ہیں لیکن محبت میں اتنا استحکام اور استحکام کے ساتھ مواظبت بہت کم ملے گی ان کے یہ خطوط بارہ سال کی مدت کو محیط ہیں، پہلے خط میں جس محبت کا اظہار ہے وہی آخری برسوں کے خطوط میں بھی موجود ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ ان خطوط میں صرف محبت کی بات ہو، یہ بہر حال خطوط ہیں جن میں اور بھی موضوعات لازماََ آگئے ہیں جن سے ان کے مزاج اور ان کی شخصیت کی گرہیں کھلتی ہیں، اور یہ وہ صحیفۂ محبت ہیں جس نے گھر میں اور گھر کے باہر بھی زندگی کرنے کا سلیقہ سیکھایا اور ایک خاندان کو ایک طرز فکر اور ایک راہ عمل عطا کیا۔ ‘‘ ( صحیفۂ محبت ص31-32 )

 صحیفۂ محبت کے خطوط بیک وقت ایک مخلص دوست ایک سچے عاشق ایک دیوانہ وار شوہر اور ایک شفیق باپ کے جذبات کا شفاف آئینہ ہیں۔ غالب کا مشہور مصرع خط لکھیں گے گر چہ کچھ مطلب نہ ہو کے مصداق مہدی افادی کے خطوط خلوص و محبت کے پیکر ہیں۔ پروفیسر محمود الٰہی کے اس خیال میں بڑا وزن ہے کہ صحیفۂ محبت کے خطوط میں اکثر انشاپر دازی کے بہتر سے بہتر نمونے ملیں گے جو افادات کے مضامین کی بازآفرینی کے زمرے میں شمار کیے جائیں گے۔ غرض صحیفۂ محبت کے خطوط بقول ڈاکٹر فیروز احمد، مہدی کی نفیس الطبعی اور جدت طرازی کے غماز ہیں اور یہ میلان اردو خطوط نگاری میں کہیں اور نظر نہیں آتا۔ مہدی افادی کی جدت طرازی اور چابکدستی کے متعلق مولانا احسن مارہروی کی تنقیدی تحریر جو نقاد، میں شائع ہوئی وہ مہدی افادی کی زبان اور انشاء پردازی کے بالکل شایان شان ہیں جس کا ایک اقتباس نقل کر رہی ہوں جس سے مہدی افادی کی انشاء پردازی کے خد و خال واضح ہو جاتے ہیں:

’’واقعی آپ کے مضامین میں جدت و ندرت، نزاکت و لطافت اور اختراعی خصوصیات دل کش ہوتی ہیں اور خاص ترکیبوں کے ساتھ نئے لفظوں کی تراش خراش پوری ذہانت کا پتہ دیتی ہے، طبیعت کی روانی کے ساتھ قوت آخذہ بھی چولی کی طرح دامن سے لگی ہوئی، ایسی مستعد اور قابل طبیعتیں ان زبانوں میں ترجمہ کرنے کے لیے بہت موزوں و مناسب ہیں جن میں سرمایۂ الفاظ کم ہوںاور اس کے واسطے نئی اصطلاحات کی ضرورت ہو جیسے ہماری اردو۔ ‘‘ (الناظر ص 60 نمبر 45 جلد8،  1913)

الغرض مہدی افادی بڑے لطافت پسند اور حسن پرست واقع ہوئے۔ ان کا مقصد تھا کہ جو شے حسین ہے میری رشتہ دار ازلی ہے۔ حسن سے اپنے اس ازلی تعلق کا اظہار انھوں نے اپنی زندگی کے ہر موڑ پر کیا ہے اور ان کا ہر جنبش قلم سے اس کا اظہار بھی ہوتا ہے۔ان کی رعنائی خیال اور حسن نظر خود کو رومانی قلم کے ساتھ شائستہ و دلکش اور ترشے ہوئے پیرائے میں پیش کرتی ہے جسے’عروس جمیل و لباس حریر‘ سے تشبیہ دی جائے تو بیجا نہ ہوگا۔ مزاج کی نفاست اور ایک نئے البیلے انداز تحریر کی وجہ سے مہدی افادی ہمیشہ یاد کیے جائیں گے۔ 


Dr. Zeba Mahmood 

Dept of Urdu, Ganpat Sahai

PG College 

Sultanpur - 228001 (UP)

ماہنامہ اردو دنیا، جولائی 2020

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...