اردو شاعری میں برسات مضمون: عمرانہ خاتون


 اُردو شاعری میں دیگر موضوعات کے علاوہ موسم برسات کے موضوع پر بھی شاعروں نے اظہارِ خیال کرکے اپنی فنّی دسترس اور تخلیقی قوتوں کا ثبوت فراہم کیا ہے۔ رنگا رنگی اور تنوع اس جہان کی اہم خصوصیت ہے۔ مالکِ کائنات نے دُنیا کی پیدائش کے وقت سے ہی اسے اختلاف اور امتیاز کی دولت عطا کردی۔ اس اختلاف میں دُنیا کا حُسن بھی پوشیدہ ہے اور یہ انسانی ضروریات کی تکمیل کا ذریعہ بھی ہے۔ انسانوں میں مختلف رنگوں، زبانوں اور تہذیب وتمدّن کی پیروی کرنے والے افراد موجود ہیں۔ اسی طرح جب ہم موسموں پر نظر ڈالتے ہیں تو ان میں بھی اختلاف نظر آتا ہے۔ کبھی سردی کبھی گرمی، کبھی موسم خزاں اور کبھی موسم بہار۔ ان موسموں میں موسم برسات کی اپنی ہی خصوصیت ہے۔ برسات کا موسم ماحول میں نمایاں اور اہم تبدیلی لانے کا باعث ہوتا ہے۔ زندگی میں پانی کی ضرورت اور اہمیت سے کون انکار کرسکتا ہے؟ برسات کا موسم تو ہمارے گرد وپیش کے منظر کو یکسر تبدیل کردیتا ہے۔ آسمان سے پانی کا برسنا صرف خدا کے وجود کو ہی ثابت نہیں کرتا بلکہ اِس میں انسانوں کے لیے بے شمار نشانیاں بھی موجود ہیں۔ 

بھارت جیسے زرعی ملک میں مونسون کی آمد کسانوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیر دیتی ہے۔ ہماری زراعت کا دارومدار زیادہ تر بارش پر ہے۔ ملک میں پائی جانے والی پانی کی کمی کو بھی دور کرنے میں بارش معاون ثابت ہوتی ہے اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ بعض دفعہ شدت کی بارش شہری علاقوں میں نقصان کا باعث بھی بن جاتی ہے۔ بہرحال مجموعی طور پر اطمینان بخش بارش پر عوام کی جانب سے اظہار مسرت کیا جاتا ہے اور اسے ملک کی معیشت کے لیے نیک شگون تصور کیا جاتا ہے۔ 

برسات کے موسم پر جن شاعروں نے اپنی نظم گوئی کے ذریعے قارئین کو متاثر کیا اُن میں ایک اہم نام الطاف حسین حالی کا ہے۔ انھوں نے ’برکھارُت‘ عنوان کے تحت اس موضوع پر شہرۂ آفاق نظم تخلیق کی۔ ملک میں موسم برسات کے منظر کو ’برکھارُت ‘خوبصورتی سے بیان کرتی ہے۔ حالی کا خیال ہے کہ برسات نہ صرف گرمی کی شدّت کو کم کرتی ہے بلکہ یہ سردی کا بھی پیام لاتی ہے۔ 

گرمی کی تپش بجُھانے والی 

سردی کا پیام لانے والی 

بارش سے پہلے گرمی کے ماحول کی تصویر کشی کرتے ہوئے کہتے ہیں    ؎

گرمی سے تڑپ رہے تھے جاندار 

اور دھوپ میں تپ رہے تھے کہسار 

تھی لُوٹ سی پڑ رہی چمن میں

اور آگ سی لگ رہی تھی بن میں

طوفان تھے آندھیوں کے برپا

اٹھتا تھا بگولے پر بگولا 

بچوں کا ہوا تھا حال بے حال

کملائے ہوئے تھے پھول سے گال 

آنکھوں میں تھا اُن کا پیاس سے دم

تھے پانی کو دیکھ کر کرتے مم مم

لیکن اچانک آسمان پر بادلوں کی آمدسے منظر کیسے تبدیل ہوجاتا ہے اس کو بیان کرتے ہوئے شاعر کہتا ہے        ؎

کل شام تلک تو تھے یہی طور

پر رات سے ہے سماں ہی کچھ اور

برسات کا بج رہا ہے ڈنکا

اک شور ہے آسماں پر برپا

ہے ابر کی فوج آگے آگے

اور پیچھے ہیں دَل کے دَل ہوا کے

ہے چرخ پہ چھاؤنی سی چھائی 

ایک آتی ہے فوج اک جاتی

گھنگھور گھٹائیں چھارہی ہیں 

جنّت کی ہوائیں آرہی ہیں

بارش کے پانی نے چاروں طرف جل تھل کردیا ہے۔ اس کیفیت کو شاعر یوں بیان کرتا ہے   ؎

پانی سے بھرے ہوئے ہیں جل تھل 

ہے گونج رہا تمام جنگل 

کرتے ہیں پپیہے پیہو پیہو

اور مور چنگھاڑتے ہیں ہر سو

کوئل کی ہے کوک جی لبھاتی 

گویا کہ ہے دل میں بیٹھی جاتی 

مینڈک جو ہیں بولنے پہ آتے

سنسار کو سرپہ ہیں اٹھاتے 

حالی کی اس نظم میں ہندوستانی رنگ غالب ہے۔ شاعر کا خیال ہے کہ بادلوں کے برسنے سے فطری مسرّت کا اظہار مسجدوں، مندروں، شوالوں اور گوردواروں میں یکساں کیا جاتا ہے   ؎ 

ابر آیا ہے گھر کے آسماں پر 

کلمے ہیں خوشی کے ہر زباں پر

مسجد میں ورد اہل تقویٰ 

یا ربِّ لنا ولا علینا

مندر میں ہے ہر کوئی یہ کہتا 

کرپا ہوئی تیری میگھ راجا

کرتے ہیں گرو گرو گرنتھی 

گاتے ہیں بھجن کبیر پنتھی

اس نظم میں حالی نے برسات سے قبل کی صورتِ حال اور بارش کے بعد آنے والی تبدیلی کو خوبصورت انداز سے پیش کیا ہے۔ 

محمد حسین آزاد نے اپنی نظم ’ابر کرم‘ میں منظر نگاری کا اعلیٰ نمونہ پیش کرتے ہوئے بارش کے پانی کی مختلف کیفیات کو اشعار کا جامہ پہنایا ہے   ؎ 

وہ ٹہنیوں میں پانی کے قطرے ڈھلک رہے 

وہ کیا ریاں بھری ہوئی تھالے چھلک رہے 

آب رواں کا نالیوں میں لہر مارنا 

اور روئے سبز زار کا دھو کر سنوارنا 

گرنا وہ آبشار کی چادر کا زور سے

اور گونجنا وہ باغ کا پانی کے شور سے 

 اسماعیل میرٹھی بھی اپنی نظم گوئی خصوصاً ادبِ اطفال کے لیے اپنے اہم رول کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ’بارش کا پہلا قطرہ‘ ان کی مقبول نظم ہے۔ نظم کا اسلوب علامتی ہے۔ نظم کی ابتدا سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاعر قوم میں حوصلہ اور ولولہ پیدا کرنے کا آرزو مند ہے گھنگھور بادلوں کے باوجود بارش کی بوندیں اس بات کے لیے خود کو تیار نہیں کرپارہی تھیں کہ پہلے کون جائے گا۔ زمین کی تپش سے جل جانے کا خوف ہر بوند کو تھا مگر ان بوندوں میں ایک بوند ایسی بھی تھی جس نے آگے بڑھنے اور اپنے ساتھیوں کی ہمت اور حوصلہ بڑھانے میں نمایاں رول ادا کیا        ؎ 

اک قطرہ کہ تھا بڑا دلاور 

ہمت کے محیط کا شناور

فیاض وجواد ونیک بخت 

بھڑکی اس کی رگِ حمیت

بولا پکار کر کہ آؤ 

میرے پیچھے قدم بڑھاؤ

1857کے بعد ملک کے حالات کے پس منظر میں اس نظم کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو اشعا ر کا مفہوم جلدی سمجھ میں آجاتا ہے۔ بارش کی پہلی بوند کے حوصلے نے دوسروں کے اندر بھی نیا جوش بھردیا اور وہ برسنے کے لیے تیار ہوگئے   ؎

دیکھی جرأت جو اس سَکھی کی

دوچار نے اور پیروی کی

پھر ایک کے بعد ایک لپکا

قطرہ قطرہ زمیں پہ ٹپکا

آخر قطروں کا بندھ گیا تار

بارش ہونے لگی موسلا دھار

پانی پانی ہوا بیاباں 

سیراب ہوئے چمن خیاباں 

گہرائی سے دیکھا جائے تو اسماعیل میرٹھی کی نظم بارش کا پہلا قطرہ، اتحاد واتفاق کا بھی درس دیتی ہے       ؎

اے صاحبو قوم کی خبر لو

قطروں کا سا اتفاق کرلو 

قطروں میں سے ہوگی نہر جاری 

چل نکلیں گی کشتیاں تمھاری

علاّمہ اقبال کی نظمیں بھی فطرت کی تصویر کشی کے اعلیٰ نمونے پیش کرتی ہیں۔ اقبال کی شاعری میں خوبصورت تشبیہوں اور استعاروں کا برمحل استعمال بھی ہمیں کافی متاثر کرتا ہے۔ علاّمہ کی نظم ’ابرِ کوہسار‘ فطرت کی بھر پور ترجمانی کرتی ہے۔ شاعر کا تمثیلی اسلوب بھی قابل تعریف ہے۔ بادل کو جاندار کی شکل میں پیش کرکے اس کی زبان سے اپنی خوبیوں کو بیان کرنا قابل تعریف ہے۔ شاعر کا خیال ہے کہ بارش کے طفیل ہی کسانوں کے کھیت اور میدان ہرے بھرے ہوتے ہیں       ؎

مُجھ کو قدرت نے سکھایا ہے دُر افشاں ہونا

ناقۂ شاہدِ رحمت کا حُدی خواں ہونا

غم زدائے دل افسردۂ دہقاں ہونا

رونقِ بزمِ جوانانِ گلستاں ہونا 

نظم کے تیسرے بند میں اس حقیقت کو بیان کرتے ہیں کہ بادل کچھ مقامات پر برستا ہے اور کہیں خاموشی سے گزر جاتا ہے۔ بغیر برسے گزر جانے سے لوگ مایوس ہوجاتے ہیں لیکن جہاں برستا ہے وہاں کی نہر کو بھنورکی بالیاں پہناتا ہے   ؎

دور سے دیدۂ امید کو ترساتا ہوں

کسی بستی سے جو خاموش گزر جاتاہوں

سیر کرتا ہوا جس دم لبِ جو آتا ہوں

بالیاں نہر کو گر داب کی پہناتا ہوں

اقبال کہتے ہیں کہ بارش کے سبب ہی کسانوں کے جھونپڑوں میں محلوں جیسی خوشی پیدا ہوجاتی ہے   ؎

فیض سے میرے نمونے ہیں شبستانوں کے

جھونپڑے دامنِ کہسار میں دہقانوں کے 

علاّمہ اقبال کی نظم ’ابر‘ بھی شاعر کے بلند تخیل اور محاکاتی شاعری کی اعلیٰ مثال ہے      ؎ 

شاعر نے گھٹاکے اُٹھنے اور پھر برسنے کی تصویر کھینچ دی ہے   ؎

جو پھول مہر کی گرمی سے سو چلے  تھے  اُٹھے 

زمیں کی گود میں جو پڑکے سورہے تھے اُٹھے

ہوا کے زور سے ابھرا ‘بڑھا‘ اڑا بادل

اُٹھی وہ اور گھٹا لو! برس پڑا بادل

نظیر اکبرآبادی کی حیثیت عوامی شاعر کے طور پر تسلیم شدہ ہے۔ ان کی شاعری ہندوستانی تہذیب وتمدن کی بہترین عکاسی کرتی ہے۔ برسات کی بہاریں نظیر کی پُرکشش نظم ہے۔ پوری نظم برسات کی طرح پر بہار کہی جاسکتی ہے۔ سبزہ کی لہلہاہٹ ہے۔ باغات ہرے بھرے ہیں۔ ہوا کے دوش پر مست بادل چھارہے ہیں۔ پانی کے باعث چاروں طرف جل تھل ہے۔ سبزہ نہارہا ہے۔ ہرے سبزے کو نظیر بچھونے سے تشبیہ دیتے ہیں          ؎

ہیں اس ہوا میں کیا کیا برسات کی بہاریں

سبزوں کی لہلہاہٹ باغات کی بہاریں

بُوندوں کی جھمجھماہٹ  قطرات کی بہاریں

ہر بات کے تماشے ہر گھات کی بہاریں

کیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں 

ان کی نظم ’برسات‘ میں ان کا ظریفانہ رنگ بھی نمایاں ہے   ؎ 

برسات کا جہاں میں لشکر پھسل پڑا

بادل بھی ہر طرف ہَوا پر پھسل پڑا

جھڑیوں کا مینہ بھی آکے برابر پھسل پڑا 

چھتہ کسی کا شور مچاکر پھسل پڑا

کوٹھا  جھکا اٹاری گری در پھسل پڑا

نظیر کو مقامی موسموں سے محبّت ہے۔ موسموں کی دلفریبی اور رعنائیوں سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ وہ قارئین کی ضیافتِ طبع کا سامان بھی مہیّا کرتے ہیں۔ درج ذیل اشعار اس کا ثبوت ہیں        ؎ 

کوچے میں کوئی اور کوئی بازار میں گرا 

کوئی گلی میں گرکے ہے کیچڑ میں لوٹتا 

رستے کے بیچ پاؤں کسی کا رپٹ گیا

اس سب جگہ کے گرنے سے آیا جو بچ بچا

وہ اپنے گھر صحن میں آکر پھسل پڑا 

نظیر کی منظر کشی میں حقیقت نگاری غالب ہے۔ نظیر نے وہی کچھ بیان کیا جو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ نظیر کی منظر نگاری میں انسانی جذبات کی بھی عکاسی کی گئی ہے    ؎

جو خوش ہیں وہ خوشی میں کاٹے ہیں رات ساری 

جو غم میں ہیں انھوں پر گذرے ہے رات بھاری 

سینوں سے لگ رہی ہیں جو ہیں پیا کی پیاری 

چھاتی پھٹے ہے ان کی جو ہیں برِہ کی ماری 

کیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں 

جوش ملیح آبادی اپنے انقلابی اور رومانی خیالات کے لیے اردو ادب میں مخصوص شناخت کے حامل ہیں۔ ان کے کلام میں رندانہ سرمستی کا عنصر بھی قابل توجہ ہے۔ جوش کو مناظرِ فطرت سے ازلی تعلق ہے ’رُوح عصر‘ میں اس موضوع پر بہت سی یادگار نظمیں موجود ہیں۔ اِسی طرح شعری مجموعہ ’شعلہ وشبنم‘ میں بھی منظر نگاری کے اعلیٰ نمونے موجود ہیں۔ اپنی نظم ’برسات کی پہلی گھٹا‘ میں جوش نے موسم کی مختلف تبدیلیوں اور کیفیات کو بیان کرکے انسانی ذہن پر ان کے اثرات کا کامیاب احاطہ کیا ہے    ؎ 

کیا جوانی ہے فضا میں مرحبا صد مرحبا

چل رہی ہے روح کو چھوتی ہوئی ٹھنڈی ہوا 

آرہی ہے دور سے کافر پپیہے کی صدا 

حسن اٹھا ہے خاک سے انگڑائیاں لیتا ہوا

جھوم کر برسی ہے کیا برسات کی پہلی گھٹا

نظم میں ارمانوں اور آرزوؤں کا جوش، کسانوں کا کاندھوں پر ہل دھرے ہنستے ہوئے جانا، چرواہے کا جنگل میں مست ہونا، گھاس کا زندہ ہوجانا، پھولوں کا سکون سے چمن میں سانس لینا، ہر طرف جل تھل ہوجانا وغیرہ شاعر کی توجہ اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ گھٹا پر بھی جوش کی نظم رنگین اور مرصع ہے۔

 نظم کا آغاز اس مصرعے سے ہوتا ہے   ؎ 

اُٹھی گھٹا وہ رنگ وبو کا کارواں لیے ہوئے

جوش کی نظم ’برسات ہے برسات‘ بھی کافی مشہور ہے     ؎

آدیکھ تو ساون کے برستے ہوئے لمحات 

ہوجائے گا کل خاک یہ مجموعۂ ذرّات 

کرتا نہیں کیوں عشق وجوانی کی مدارات 

برسات ہے، برسات ہے، برسات ہے برسات 

اگرچہ جوش کے رومانی آہنگ نے نظم کی فطری منظر نگاری کو متاثر کیا ہے۔ پھر بھی جوش کا مختلف موسموں خصوصاً برسات سے والہانہ عشق اشعار سے صاف ظاہر ہورہا ہے۔ اپنی نظم ’ساون کے مہینے‘ میں بھی ساون کی فطری کیفیات کو اشعار کا جامہ پہنایا ہے۔ 

حفیظ جالندھری کی نظم ’برسات‘ بارش کے دوران لڑکیوں کی جانب سے آموں کی شاخوں پر جھولے ڈال کر گیت گاکر خوشی منانے کا احاطہ کرتی ہے۔    ؎

آموں کے نیچے ڈالے ہیں جھولے 

پیکروں نے 

سیمیں تنوں نے 

ہلکی صدائیں سادہ ادائیں 

خود مسکرانا 

خود منہ چرانا 

داغ کے شاگرد جو ش ملسیانی کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ آپ کے کلام میں داغ کا پرتو دیکھنے کو ملتا ہے ’برسات‘ ’برسات آگئی ہے‘ اور ’بادل آئے‘ موسمِ برسات کے زیر عنوان کہی گئیں ان کی مشہور نظمیں ہیں۔ کتنے سادہ اور متاثر کن انداز سے موسم برسات کی تصویر کھینچی ہے۔ ملاحظہ فرمائیں     ؎

کالی گھٹا اُٹھی ہے ہر سمت چھاگئی ہے

ٹھنڈی ہوا چمن کی جُھولا جھلاگئی ہے

بجلی کڑک کڑک کر سب کو جگاگئی ہے

لے جاگ او پپیہے برسات آگئی ہے

رنگینیاں عطا کیں ہر پھول کو خدا نے

 ہر شے کو زندگی دی امرت بھری ہوا نے 

ہر گھر کو روشنی دی چھائی ہوئی گھٹا نے 

لے جاگ او پپیہے برسات آگئی ہے

برسات نظم میں برسات کی گھٹاؤں کی منظر کشی کی تعریف کئے بغیر نہیں رہا جاسکتا   ؎

ہوتی ہیں نورِ پیکر برسات کی گھٹائیں 

رکھتی ہیں خاص منظر برسات کی گھٹائیں 

کتنی ہیں رُوح پرور برسات کی گھٹائیں

تم بھی تو دیکھو اُٹھ کر برسات کی گھٹائیں

کیا جھومتی ہیں سرپر برسات کی گھٹائیں

بادل آئے نظم میں بادل کی فیاضی کا ذکر کس شان سے کرتے ہیں   ؎

رحمت خاص کا اعلان پھر اس زور کے ساتھ 

آسماں سر پہ اُٹھاتے ہوئے بادل آئے

واہ کیا جوش کرم ہے کہ خزانہ اپنا 

دونوں ہاتھوں سے لٹاتے ہوئے بادل آئے 

کرپال سنگھ بیدار کی نظم گوئی کو ناقدین معنوی نزاکتوں، شعری لطافتوں اور فنّی رعنائیوں کی عکّاس قرار دیتے ہیں۔ ’آغازِ بہار‘ نظم شاعر کی قادر الکلامی کا ثبوت بھی فراہم کرتی اور فطرت کی عکاسی کا حق بھی ادا کررہی ہے۔ کہتے ہیں   ؎

وُسعت آفاق پر ایک کیف سا چھانے لگا 

عرش سے کوئی شراب ناب برسانے لگا 

بھاپ بن کر اُڑ چلا کُہسار کے دل کا بخار

وُسعت گردُوں پہ ابرِ سیمگُوں چھانے لگا 

مضطرب جلووں سے روشن ہوگیا قصرِ خیال 

پردۂ ہستی میں کوئی برق چمکانے لگا 

آگ دے نکلی دل شاعر کے داغوں کی بہار 

دیکھیے کیا گل کھلائے اِن چراغوں کی بہار

موسم برسات کے موضوع پر ذیل کے متفرق اشعار بھی مختلف زاویوں سے روشنی ڈالتے ہیں۔ ان کا مطالعہ بھی دلچسپی سے خالی نہیں     ؎ 

اُداس رہتا ہے محلے میں بارش کا پانی آج کل 

سُنا ہے کاغذ کی کشتی بنانے والے اب بڑے ہوگئے 

ہم سے پوچھو مزاج بارش کا 

ہم جو کچّے مکان والے ہیں 

یہ دولت بھی لے لو یہ شہرت بھی لے لو

بھلے چھین لو مجھ سے میری جوانی 

مگر مجھ کو لوٹا دو بچپن کا ساون 

وہ کاغذ کی کشتی وہ بارش کا پانی 


بارش ہوئی تو تیری خوشبو کے قافلے 

ایسے اڑے کہ شہر گلابوں سے بھر گیا


چڑیا پوری بھیگ چکی ہے 

اور درخت بھی پتہ پتہ ٹپک رہا ہے

گھونسلہ کب کا بکھر چکا ہے 

ان مثالوں کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ اردو شاعروں نے موسم برسات پر جو نظمیں کہی ہیں ان میں نہ صرف فطرت کی بہترین عکاسی موجودہے بلکہ موسم برسات کے مختلف مناظر بھی دلکش انداز سے پیش کیے گئے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ان نظموں میں شاعرانہ مصوری کا کمال بھی موجود ہے اور برسات کی تمام کیفیات کی جھلک بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔ اردو شاعروں کی یہ شعری نگارشات نہ صرف ادبی نقطۂ نگاہ سے اہمیت کی حامل ہیں بلکہ محاکاتی شاعری میں بھی قابل قدر اضافہ کہا جاسکتا ہے۔ 


Imrana Khatoon

Research Scholar, Dept of Persian, Urdu & Arabic

Rbi. University, Patiala - 148023 (Punjab)

ماہنامہ اردو دنیا، جولائی 2020


1 تبصرہ: