8/3/21

نذیر بنارسی کی شاعری میں عصری حسیت - مضمون نگار: جاوید احمد

 



نذیر بنارسی کی شاعری کا مطالعہ کرنے سے ایک بات پورے طور پر واضح ہو جاتی ہے کہ ان کے شعری تخیل کا مرکز و محور عام انسان کی زندگی،زبان اور ماحول سے بیحد متاثر ہے اور انھیں کے حالات و واقعات کو انھوں نے ادبی زبان کا جامہ پہنا کر پیش کیا ہے،لیکن اس سے بھی بڑھ کر ان کے یہاں کیف و انبساط سے پر اس رومانی شاعری سے استفادے کا رجحان ملتا ہے، جس کا ایک زمانے میں حقیقت سے بڑا گہرا تعلق رہا ہے۔ اس قسم کے خیالات عام مشاعروں کی کامیابی کے ضامن ہیں اور عام لوگوں کے اردو زبان کی شیرینی سے متا ثر ہوکر اس کی جانب توجہ کرنے اور اسے سیکھنے کے رجحان کی آبیاری میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔لیکن ان کے درمیان ان کے ذخیرہ ئ شاعری میں ایسے اشعار کی کثرت بھی ہے جو نہ صرف ان کے گہرے ادبی شعور کے غماز ہیں بلکہ عصری احساسات اور زمانے کی رو کو دیکھتے ہوئے موجودہ حالات اور مستقبل کے امکانی حالات سے بھی زمانے کے ذہن کو متوجہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ظاہر ہے کہ زبان کے اتنے رخوں کو ایک ساتھ برتنا زبان کی ماہیت اور اس کے لوازمات پر ان کی دسترس کے ضامن ہیں۔شعری گفتگو ذاتی ہو یا شخصی،نذیر بنارسی نے ابہام کو ان اشاراتی زاویوں کے طور پر استعمال کیا ہے جن کی گہرائی اور گیرائی سے معنویت کے سوتے پھوٹتے ہیں۔ اس کے لیے انھوں نے فلسفے کی معنوی پیچیدگیوں سے کام نہیں لیا ہے بلکہ مادیت کے سیاق میں منتخب موضوعات کے تخلیقی اظہار کے ضمن میں ان ادیبوں میں شامل ہیں جن کے بارے میں احتشام حسین نے لکھا ہے:

مادّی نظریے پر عام طور سے یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اس پر عمل کر نے والے ادب میں ادبیت کے بجائے فلسفہ،تاریخ،معانیات اور دوسرے عناصر کی جستجو کرتے ہیں۔یہ درست نہیں ہے کیوں کہ ادب محض فنی خصوصیات کا مجموعہ نہیں ہے،اس سے کچھ زیادہ ہے۔پھر نئی فنی خصوصیات خود تاریخی حالات اور سماجی ارتقا سے وجود میں آتی ہیں۔

(بحوالہ، جدید اردو تنقید،اصول و نظریات، شارب ردولوی، ص، 369)

دلیل کے طور پر نذیر بنارسی کے چند اشعار ملاحظہ ہوں          ؎

 لڑکے آپس میں مریں،اور وطن پر نہ مریں

اس  قدر  خون  مگر خون  شہیداں کی کمی

مٹ گیا تھا اختلاف باہمی کل رات کو

زندگی تھی زندگی  در زندگی،کل رات کو

تھی کسی کی ہر نظر،پہلی کرن، خورشید کی

ہو رہی تھی صبح کی  سی روشنی،کل رات کو

رہ گئی ہچکی سی لے کر، فکر دنیا، اے نذیر

غم کو بھی کرنا پڑی تھی خودکشی کل رات کو

زندگی بھر چل کے ہم آئے ہیں منزل کی طرف

دو  قد م  منزل کو بھی اب  چل کے آنا چاہیے

جیسا کہ اشعار سے ظاہر ہے کہ یہ زندگی کے مختلف رنگ کی ترجمانی کر رہے ہیں،اور ہر ایک میں نذیر بنارسی کی علمی لیاقت اور زبان کو برتنے کے مختلف زاویوں کی نشاندہی ہوتی ہے۔پہلا شعر عصر حاضر کے غالباً سب سے پیچیدہ مسئلے،جو کہ ہندوستانی معاشرے کے لیے ناسور کی شکل اختیار کر گیا ہے،کی آئینہ داری کے ساتھ ساتھ اس کے غالب آنے کے خطرناک نتائج کی جانب بھی ہماری توجہ منعطف کرتاہے۔دوسراشعر زندگی کی تکرار کے ساتھ رومانی چاشنی میں مزید اضافہ کرتا ہے۔تیسرا شعرتضاد کی بہترین مثال ہے۔چوتھا شعر عام رومانی شعری روش کے بالکل الٹ ہے۔غم کے بھی خودکشی کرنے کا موضوع نیا نہ سہی لیکن اس کو جس طرح نذیر نے رومانیت کے لمحات کے ساتھ منسلک کر کے نیا معنوی جامہ پہنایا ہے،میرے خیال میں بے مثال ہے۔آخری شعر مجھے بانی کے اس شعر کی یاد دلاتا ہے         ؎

عجیب مرحلہ تھا، بھیڑ سے گزرنے کا

اسے بہانہ ملا مجھ سے بات کرنے کا

یہ خودداری یا اپنے وجود کے احترام کا جذبہ بانی کے اس شعر کی بہ نسبت موضوع کے اعتبار سے نذیر بنارسی کے مندرجہ بالا آخری شعر میں زیادہ وسیع کینو س میں نظر آتا ہے۔ممکن ہے ان کا شعری موقف رومانیت تک محدود ہو، لیکن اصل میں یہ بھی ہے کہ الفاظ کے اندر جو معنی پوشیدہ ہوتے ہیں،اس کے مختلف ابعاد کی ترسیل ہی مختلف معنوی جہات کی ضامن ہوتی ہے۔شاعر کی شعری نفسیات شعر کہتے ہوئے بھلے ہی کسی ایک موضوعی دائرہ کار میں رقص کرے،لیکن خیال اور معنی کی امکانی وسعت سے اس کو الگ کرنا ناممکن ہے۔ہارڈنگ نے لکھا ہے۔

اگر ہم شاعر سے یہ پوچھتے ہیں کہ وہ کس شے کی ترسیل کر رہا ہے تو گویا ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس کے پاس پہلے سے کوئی خیال یا معنی تھا،جس کو اس نے نظم کے الفاظ میں ترجمہ کر دیا۔حالانکہ جو بات اسے کہنا تھی،اس کا وجود ہی اس وقت تک نہ تھا جب تک وہ کہی نہیں گئی تھی۔کوئی سوچا ہوا خیال جو خود نظم نہ ہو،لیکن ہو بہ ہو نظم کی طرح ہو،ناممکن تھا... ایک ہی خیال کے لیے ایک سے زیادہ لسانی اسلوب نہیں ہو سکتا۔ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ کوئی ایسی عینی لسانی شکل ہو جو درستی اور کفایت کے ساتھ اس سب کو ظاہر کر دے،جو خیال کے اندر چھپا ہوا ہے۔

(بحوالہ شعر،غیر شعر اور نثر،ازشمس الرحمن فاروقی،ص95) 

نذیر بنارسی نے رومان کے مخصوص الفاظ کے لسانی برتاؤ میں جدید معنوی امکانات بھی تلاشے ہیں۔ان کے بعض اشعار ایسے ہیں جو زمان و مکاں کی حدود سے ماورا ہیں۔یعنی ان کو کسی بھی زمانے کے آئینے میں پرکھا جا سکتا ہے۔چند اشعار ملاحظہ ہوں         ؎

بدلتا ہے ہر دور کے ساتھ ساقی

یہ دنیا ہے کتنی بڑی انقلابی

کوئی  لا  سکو  تو  لاؤ،مر ا  وہ  حسیں    زمانہ

جسے میں نے کچھ نہ سمجھا،جسے میں نے کچھ نہ جانا

یہ مجبوری سی مجبوری،یہ ناچاری سی ناچاری

کہ تنہا ہو نہ سکنے  پر  بھی تنہا ہو گئے ہم تم

ایسی سحر کہ جس میں کوئی جلوہ گر نہ ہو

وہ رات کا کفن ہو،ہماری  سحر نہ ہو

بچا لو  وحشت  دیوار و در سے

کھنڈر بہتر ہے غیر آباد گھر سے

چوتھے شعرمیں جلوہ گر کا معنی اگر خواہش یا آرزو لے لیا جائے،جس کے پورا ہونے کے امکان میں تذبذب ہو تو اس شعرکے معنوی امکانات بہت وسیع ہو جاتے ہیں۔ اس قسم کے اشعار جہاں تنہا احساسات کی آئینہ داری کرتے ہیں وہیں اجتماعیت کے عناصر بھی رکھتے ہیں۔ جدیدیت کے رجحان کی ناکامی یا اس کے تاثر کے جلد زائل ہوتے چلے جانے کا ایک سبب یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ پیچیدہ الفاظ برتنے کی زبردستی کی شعو ری کوشش نے اس کے اسرا رو رموز کی معنویت کا وہ اثر برقرار نہ رہنے دیا جو ان کا خاصہ تھا۔باقر مہدی اس سلسلے میں لکھتے ہیں:

جدید شاعری کا ڈئیلیما یہ ہے کہ اس نے مسائل کو رد کر کے جو تخلیقی اسرار و رموز کی تلاش کی، وہ اسے دوسرے جزیروں تک نہیں لے گئی،یعنی تخلیق کے لیے تشکیل کیسے کی جائے؟ پر غور نہیں کیا گیا بلکہ ذات کو ہی سر چشمہ شعرو ادب سمجھ لیا گیا اور پھر ان پر تکیہ کر لیا گیا۔

(باقیات باقر مہدی،مرتب، یعقوب راہی،ص، 134)

ظا ہر ہے کہ نذیر بنارسی کے یہاں اسرار و رموز کی جستجو کا وہ رجحان نہیں ہے اور تخلیق کی تشکیل کا وہ اعلیٰ معیار جو کہ پوری دنیا کی بوطیقا میں شامل ہے یا ہو سکتا ہے، نذیر بنارسی کے یہاں موجود ہے۔ ان کے یہاں ماحول اور حالات کے وہ عناصر سرچشمہ ئشعر و ادب ہیں جوتخیل کو واقعاتی صورت میں تبدیل کر کے بیک وقت مختلف مراکز میں نمایاں ہوتے ہیں۔ اشعار ملاحظہ ہوں        ؎

اپنے سر ہر اک مسافر کی بلا لینے کے بعد

ناخدا ڈوبا، مگر بیڑا بچا  لینے  کے بعد

اپنا  اپنا  زور  بازو   آزما  لینے  کے  بعد

سب کنارے ہو گئے طوفاں  اٹھا لینے کے بعد

آپ سے کس نے کہا  تھا  کہ سہارا دیجے

آپ نے ڈوبنے والوں کو ابھرنے نہ دیا

کچھ تازہ حوصلے دیے،کچھ تازہ ولولے

طوفاں نے زندگی کو بھی  طوفاں  بنا دیا

ہر گھڑی چپ بھی رہنا کچھ اچھا نہیں

جانے کتنے یوں ہی بے زباں ہو گئے

بڑھتے جاتے ہیں زمانے میں مسیحا جتنے

زندگی  اتنی  ہی  بیمار  نظر  آ تی  ہے

ان اشعار کا اطلاق بھی دنیا کی کسی قوم،ملک اور حالات پر ہو سکتا ہے جہاں یہ مسئلے یا واقعات موجود ہیں۔جیسے کہ پہلا شعر کسی بھی ملک کے رہنما یا لیڈر جس نے قوم اور ملک کے لیے قربانی دی ہو،کی شخصیت پر صادق آتا ہے۔ اسی طرح دوسرے اشعار بھی ہیں جو آج کے مسائل کی مختلف صورتوں میں آئینہ داری کرتے ہیں۔ نذیر بنارسی کے اشعار کی آفاقیت کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ ان کے شعری تخیل ان کے بعد شاعری کر نے والوں کے یہاں بھی ان محسوسات کے ساتھ مل جاتے ہیں جو نذیر بنارسی نے بیان کیے ہیں۔مندرجہ بالا پانچویں شعر کو ذہن میں رکھتے ہوئے ڈاکٹر زبیر فاروق العرشی جو کہ پہلے صاحب دیوان عرب شاعر ہیں اور دبئی (متحدہ عرب امارات) ان کا وطن ہے،کا شعر پیش ہے        ؎

چپ رہنے کی عادت تجھے پتھر نہ بنا دے

تو  اب  در و دیوار  سے گفتار کیا کر

زبیر فاروق کے یہاں صیغہ ئ واحد کو مرکز بنا کر جو بات کہی گئی ہے اس سے بہت پہلے نذیر بنارسی کے یہاں وہی بات دلیل کے ساتھ جس کا سرا مختلف تاریخی شواہد میں بھی تلاش کیا جا سکتا ہے،کو اپنے احاطے میں لیے ہوئے ہے اور اس کا تاثر بھی اجتماعی ہے۔آخری شعر کے ماحول میں نذیر کی شعری شخصیت کاڈویل کے اس بیان کی مماثل نظر آتی ہے۔وہ لکھتا ہے:

وہ (کوئی با شعورشخص)معاشی زندگی کے ارتقا کے تسلسل میں ماحول سے جدو جہد کرتے ہوئے اور عملاً اس (جدو جہد)کی تعبیر کرتے ہوئے اپنے آپ کو شعوری طور پر ماحول سے الگ کرتا ہے۔جب انسان بیرونی حقیقت کی نوعیت کو اقتصادی پیداوار کی مسلسل کوششوں کے ذریعے گرفت میں لے لیتا ہے تو ماحول اور اپنی ذات کا باہمی امتیاز اس کی سمجھ میں آجاتا ہے کیوں کہ اب وہ ان کی وحدت کو بھی سمجھتا ہے۔وہ یہ جان لیتا ہے کہ انسان ایک مشین کی طرح (سماجی) ضرورت کا تابع بھی ہے اور کائنات کے تسلسل میں (اس سے ہم آہنگ)آزادانہ ارتقا کا تماشہ(تھیٹر) بھی۔

(بحوالہ جدیدیت کی فلسفیانہ اساس،ازشمیم حنفی،ص114-15) 

اس قبیل کے متعدد اشعار ان کے یہاں موجود ہیں۔ ان کے علاوہ انھوں نے حسن و عشق کے مثبت اور منفی پہلوؤں کو پیش کرتے ہوئے ان میں سے بیش تر میں اپنی فنکاری کا ثبوت دیا ہے۔اس ضمن میں چند اشعار ملاحظہ ہوں   

عمر بھر کی بات بگڑی،اک ذرا سی بات میں

ایک  لمحہ  زندگی  بھر  کی  کمائی کھا گیا

تمھیں چند قطرہ اشک بھی،کیے پیش جس کے جواب میں

وہ  سلام  نیچی  نگاہ  کا،  تمھیں   یاد  ہو  کہ  نہ یاد ہو

اک نظر ان کو  دیکھنے  کے لیے

کی ہے کتنوں نے دوستی ہم سے

بخشا اسی کو درد جو شایان  درد تھا

دل بھی دیا خدا نے تو پیچان کر دیا

کچھ روز ہم بھی تارک دنیا و دیں رہے

انجام  یہ  ہوا  کہ کہیں کے نہیں رہے

آسماں سے  اتارا گیا

زندگی دے کے مارا گیا

یہ وہ اشعار ہیں جن میں دوسرے معنوی امکانات بھی تلاشے جا سکتے ہیں،لیکن میرے خیال میں غالب موضو ع حسن و عشق کی فضا کے ارد گرد ہی سفر کرتا ہے۔وزیر آغا نے اردو غزل کے حوالے سے لکھا ہے:

غزل بت پرستی کی ایک صورت بھی ہے اور بت شکنی کا ایک عمل بھی۔اس میں جزو کی بے قراری بھی ہے اور کل کا تھپک کر سلا دینے والا ہاتھ بھی۔غزل میں ان دونوں پہلوؤں کا وجود ضروری ہے۔جہاں ایسا نہیں ہوتا اور وہ کسی ایک پلڑے کی طرف واضح طور پر جھک جاتی ہے تو اس سے غزل کا مزاج بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ اردو غزل کے تدریجی ارتقا میں ایسے ادوار بھی آئے ہیں، جن میں غزل توازن کی اس صفت کو برقرار نہیں رکھ سکی اور اسی لیے خالص بت پرستی یا خالص تخیل پسندی کی رو میں بہہ گئی ہے،تاہم بحیثیت مجموعی اس نے اپنی بنیادی صفت سے انحراف نہیں کیا ہے۔“ (معنی اور تناظر،از، وزیر آغا،ص249) 

 بلا شبہ یہ توازن نذیر بنارسی کے یہاں موجود ہے۔ کلاسکی اور جدید طرز فکر میں انھوں نے تحریک آزادی اور وطن پرستی کے موضوع پر بھی شعر کہے ہیں۔ان کے علاوہ شہر بنارس جس کو ’یاران دلبراں‘ بھی کہا جاتا ہے،کی خصوصیات کا محاکمہ کرتے ہوئے پوری غزل اور دوسری غزلوں میں اشعار موجود ہیں۔

کسی پہلو سے جب دنیا ہمیں زندہ نہ چھوڑے گی

وطن  ہی  کے  لیے  ہم  سر کٹا  لیتے تو اچھا تھا

اپنے آنسو پونچھ لے ائے  مادر ہندوستاں

اس لٹی حالت پہ بھی سب کچھ لٹا سکتے ہیں ہم

اس پرانی بے وفا دنیا کا رونا  کب تلک

آئیے مل جل کے اک دنیا نئی پیدا کریں

دوسروں سے کب تلک ہم پیاس کا شکوہ کریں

لاؤ  تیشہ،  ایک  دریا  دوسر ا  پید ا   کریں

ایسا بھی ہے بازار بنارس کی گلی  میں

بک جائیں خریدار بنارس کی گلی میں

ہشیاری سے رہنا نہیں آتا جنھیں اس پار

ہو جاتے ہیں اس پار بنارس  کی گلی میں

اس کے علاوہ بھی نذیر بنارسی نے سماج کے ایک بہترین نبض شناس کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ان کے یہاں موجودہ معاشرے سے بیزاری کا رجحان نہیں ملتا اور نہ ہی اپنی انفرادیت کے کھو جانے کا جذبہ انھیں پریشان کرتا ہے۔وہ در اصل کثرت میں وحدت اور وحدت میں کثرت کے قائل ہیں۔ان کے یہاں دونوں صورتیں یکساں اہمیت کی حامل ہیں۔ان کا فن کبھی اذیتوں سے نجات کی کوشش کی صورت میں نمایاں ہوتا ہے تو کبھی زندگی کی وحشت خیزی کی تلافی کے عناصر کی صورت میں۔اور ان کے درمیان زندگی کے دوسرے شعبہ ذات مثلاًدینی،تہذیبی،مادی،سیاسی وغیرہ گردش کرتے ہیں۔ان مختلف موضوعاتی محوروں کے اسباب میں سے ایک یہ بھی ہے کہ منزل کا نشاں ہنوز دھندلا ہے، جو مختلف نجات کے راستوں کی جانب لے جاتا ہے۔ میکس شلر نے کہا ہے۔

ہم پہلی نسل ہیں،جس میں انسان آپ اپنے لیے متنازعہ بن گیا ہے۔جس میں اسے یہ علم نہیں رہ گیا ہے کہ حقیقتاًوہ کیا ہے۔لیکن اس کے ساتھ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ وہ کچھ نہیں جانتا۔

(بحوالہ،جدیدیت کی فلسفیانہ اساس،ازشمیم حنفی،ص180)

اور اسے جانتے ہوئے بھی نہ جاننے اور نہ جانتے ہوئے جاننے کی مختلف صورتوں کا اظہار جب نذیر بنارسی اپنے مخصوص انداز میں کرتے ہیں تو اس پورے سیاق میں آڈن کے یہ الفاظ یاد آتے ہیں:

زبان کی ماہیت پر کوئی غور و فکر اس فرق کو سامنے رکھے بغیر شروع نہیں کی جا سکتی جو الفاظ کے اس طریقہئ استعمال میں،جب ہم انھیں ذاتی گفتگو کے لیے کام میں لاتے ہیں... جب ہم واقعی گفتگو کرتے ہیں تو ہمارے پاس ہمارا حکم بجا لانے پر تیار الفاظ،موجود پہلے سے نہیں ہوتے،بلکہ ہمیں انھیں ڈھونڈنا پڑتا ہے اور جب تک ہم بات کہہ نہیں لیتے۔ہمیں ٹھیک ٹھیک پتہ نہیں ہوتا کہ ہمیں کیا کہنا ہے۔

(بحوالہ شعر غیر شعر اور نثر،از شمس الرحمن فاروقی،ص 94)

میرے خیال میں زبان کی ماہیت کے ساتھ ساتھ تخیل کی ماہیت اورمکمل ادائیگی پر بھی صادق آتے ہیں۔ نذیر بنارسی کے یہاں حقیقت کی عکاسی کے بیان کی دوسری پرتیں بھی ہیں جن میں تغزل کے ساتھ سنجیدگی اساطیر ی،دیو مالائی،تاریخی اور فلسفیانہ عناصر بھی شامل ہیں۔  اشعار      ؎

جو اکیلے ہنسے،  وہ پاگل ہے

صرف اپنی خوشی،خوشی تو نہیں

اک مسافر اس طرح سویا ہے تیرے در کے پاس

ایک  پتھر  سر کے نیچے،  ایک  پتھر سر کے پاس

تم مبارک باد کے قابل ہو اے اہل جنوں

تم  بگڑتے  بھی گئے  تو کارواں بنتا گیا

مرے خیال نے پہنچا دیا ہے کس کے پاس

شکنتلا  کی انگوٹھی  کی طرح گم ہیں حواس!

زمانہ ہو گیا،بن سائیں سائیں کرتا ہے

تمھارے بعد کسی  کو نہ مل سکا بن باس

اس کے جینے کی  داستان نہ پوچھ

سانس بھی لے کے جو ادھار چلے

اگر نذیر بنارسی کے ان اشعار کا جائزہ نہ لیا جائے جو کہ ان کے مندرجہ بالا تمام اشعار کے بالمقابل ان کی شاعرانہ شخصیت پر اگرمنفی اثر نہیں ڈالتے تو ان کے وقار میں کسی قسم کا اضافہ بھی نہیں کرتے،تو مضمون مکمل نہ ہوگا۔مجھے لگتا ہے کہ انھوں نے اس قسم کے اشعار عام مشاعروں کے قارئین کے جذبات اور ان کی ذہنی سطح کو ملحوظ رکھتے ہوئے کہے ہیں۔اس قبیل کے بھی چند اشعار ذیل میں درج ہیں         ؎

تم ساتھ میں لے کر چلنا بھی چاہو تو میں شاید چل نہ سکوں

پابند ہوں  اب آزاد کہاں،  مجبور ہوں،  خود مختار نہیں

بہار آئی، سبزے کھلے دھانی دھانی

پھر  انگڑائی  لینے  لگی  ہے جوانی

مرے شانے پر یہی زلف تھی،جو ہے آج مجھ سے کھنچی کھنچی

مرے  ہاتھ  میں  یہی  ہاتھ تھا، تمھیں یاد ہو، کہ نہ یاد ہو

کلیوں میں مسکرا کے،پھولوں میں کھلکھلا کے

یہ کون  جھانکتا  ہے،پردہ  اٹھا  اٹھا  کے

نذیر آؤ رو لیں گلے مل کے ہم تم

نہ جانے کہاں پھر ملاقات ہوگی

کہیں دیکھا ہے میں نے تم سا حسیں

سوچتا  ہوں  کہ  تم  وہی  تو نہیں

اس قسم کے مزید اشعار بھی نذیر بنارسی کی شاعری میں تلاش کیے جا سکتے ہیں۔ ان میں بھی ایک خوبی یہ ہے کہ رومانی اور سماجی سطح پر یہ ان موضوعات کا احاطہ کرتے ہیں جن کی قدرو قیمت شعبہ ئ زندگی میں اپنی انفرادیت رکھتی ہے،خواہ وہ اانسان کے کتنے ہی قدیم روایتی احساسات کی ترجمانی کریں،انسان ان سے ازل سے ابد تک نہ الگ ہو سکتا ہے اور نہ فرار حاصل کر سکتا ہے۔ جب مجموعی طورپر ان کی شاعری کا مطالعہ کیا جائے،تو ان کی قدر و قیمت قارئین کے دلوں میں خود نذیر بنارسی کے اس شعر کے عین مطابق جگہ بنا نے کی صلاحیت رکھتی ہے۔وہ شعر یہ ہے        ؎

وقت کی  قدر کرو،وقت کی قیمت سمجھو

وقت ہوں،وقت نہیں لوٹ کے پھر آنے کا


Jawed Ahmad (Javed Anwar)

Editor 'Tahrik-e-Adab'

Research Scholar, Dept of Urdu, BHU

Varanasi - 221005




4/3/21

ہند اسلامی تہذیب و ثقافت اور فاروقی کا ناول ’کئی چاند تھے سرآسماں‘ - مضمون نگار :نورین علی حق

 



اکیسویں صدی کے اوائل میں شائع ہونے والے ناول ’کئی چاندتھے سرآسماں‘ نے گزشتہ دوصدیوں یعنی اٹھارہویں اورانیسویں صدی کی ہندوستانی تہذیب وثقافت اورفکری نہج کواپنے پیمانے میں سمیٹ لیاہے اور مذکورہ ان دوصدیوں کے گلاس میں باقی ماندہ تہذیبی تلچھٹ کے اثرات بیسویں صدی پربھی تھے،جودیگرادبی شاہپاروںاورناولوںمیں نظر آتے ہیں، کئی چاندتھے سرآسماںپراکثرتنازعے ہوتے رہے ہیں،فاروقی کے مخالفین کئی چاند تھے سرآسماں کونصف تاریخی توکچھ تاریخی ناول قراردیتے ہیں۔ شاید فاروقی کوموجودہ عہدکے ادبی رویوں کااحساس پہلے سے تھا اس لیے انھوں نے خوداپنے ناول کے اظہار تشکر کے باب میں رقم کیاہے کہ :

’’یہ بات واضح کردوں کہ اگرچہ میں نے اس کتاب میں مندرج تمام اہم تاریخی واقعات کی صحت کاحتی الامکان مکمل اہتمام کیاہے،لیکن یہ تاریخی ناول نہیںہے۔اسے اٹھارویں۔انیسویں صدی کی ہنداسلامی تہذیب اورانسانی ا ورتہذیبی وادبی سروکاروں کامرقع سمجھ کر پڑھا جائے توبہترہوگا۔‘‘(ص850)

فاروقی کایہ بیان سوفیصددرست ہے کہ ’کئی چاند تھے سرآسماں‘ بنیادی طورپراٹھارویں اورانیسویں صدی کا تہذیبی مرقع ہی ہے۔حالانکہ فاروقی یہ بات کہنے کے لیے بڑاعاجزانہ اسلوب اختیارکرتے ہیں،لیکن اس حقیقت سے انکارنہیں کیاجاسکتاکہ اردوناول کی تاریخ میں کئی چاندتھے سرآسماں کے علاوہ کوئی دوسرا ایسا ناول نہیں،جو اٹھارویں اورانیسویں صدی کی ہنداسلامی تہذیب اوراس کے عبرت ناک زوال کواس قدر مفصل اور مبسوط انداز میں بیان کرتا ہو۔ ناول میں اٹھارویں اور انیسویں صدی کی تہذیب وثقافت،طرزفکر، شاعری، تصوف، فن موسیقی، فن عروض، سیاست، حکمرانی، ہندوستان سے مغل حکمرانی کے خاتمے کی جھلکیاں سب کچھ موجود ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ اتنے وسیع کینوس کاناول فاروقی کس طرح لکھ سکے۔شایدیہ ان کے لیے اس لیے ممکن ہوسکاکہ انھوں نے اپنی پوری زندگی ادب اورادبی مطالعے میں صرف کی ہے۔

ناول کئی چاندتھے سرآسماں ہندوستان کی تہذیب وثقافت کوپیش کرتاہے۔ناول کے بیانیے اوراس کی جزئیات نگاری میں تہذیبی عکاسی کا بھرپورخیال رکھاگیا ہے اوراسی لیے کئی چاندتھے سرآسماں کودیگرناولوں پر تفوق وامتیازحاصل ہے۔ناول کے مطالعے سے اٹھارویں اور انیسویں صدی کی طرزبودوباش،رہن سہن،کھان پان، چلت پھرت، آداب مجلس، آداب مے نوشی، آداب آمد و رفت، آداب گفتگو، چھوٹوں پرشفقت اور بڑوں کی عزت، ملازمین اورنوکروں کے آداب،خواتین کے سفر کا طریقہ، نوابوں اور بادشاہوں کی نشست و برخاست کاطریقہ یہ سب اس ناول کا اختصاص ہیں۔نواب شمس الدین احمد خان جب وزیرخانم کے گھرپہنچتے ہیں تووزیرکس طرح استقبال کرتی ہے۔ملاحظہ کریں۔

’’نواب صاحب پوری شان سے اترے، صدر دروازے پروزیرنے خودتعظیم کی،جھک کرمبارک سلامت کہا، چاندی کے گلاب پاش سے ان کے کپڑوں پرہلکے عطرکی پھوار ڈالی، گلے میں ہارڈالااورکہا:اے آمدنت باعث دل شادی ما۔زہے نصیب کہ آپ کے قدم اس حقیرکفش خانے تک پہنچے،ہم تنہانشینوں کانصیبہ جاگا۔ بسم اللہ تشریف لائیے۔‘‘(ص 270)

استقبال کایہ طریقہ ناول میں متعددجگہ مل جائے گا۔ ولیم فریزرکے گھرمشاعرے میں جب وزیرخانم پہنچتی ہے توولیم فریزربھی اس کا استقبال ’اے آمدنت باعث دل شادی ما‘کہہ کرکرتاہے۔یہ طریق کارخالص ہند اسلامی تہذیب کاحصہ تھا۔ مسلم حکمرانی کے زوال پذیر عہدکے آداب پڑھ کردل خوش ہوجاتاہے۔اس عہد کے آمد و رفت کے آداب سے انسان متاثرہوئے بغیرنہیں رہتا۔ مرزافخرووزیرخانم کی تصویردیکھنے کے بعدامام بخش صہبائی کوطلب کرتے ہیں۔طلب کرنے کااندازبھی نرالاہے اوراس میں بھی ہنداسلامی تہذیب کی ندرت نمایاں ہے۔

’’اگلی صبح کومولوی صہبائی ابھی چاشت کی نمازسے فارغ ہوئے ہی تھے کہ صاحب عالم وعالمیان کاایک چوبدار ایک کوزے میں ٹھنڈادودھ اورایک کوری ہانڈی میں گرم گلاب جامنیں اوردوسری ہانڈی میں مال پوے لے کرمولوی صاحب کے دروازے پرپہنچاکہ صاحب عالم نے ناشتہ بھجوایاہے اورارشادفرمایاہے کہ مولانا صاحب بشتاب حویلی مبارک میںصاحب عالم وعالمیان مرزامحمدسلطان غلام فخرالدین بہادرکے ایوان خاص میں تشریف لے آویں۔چوبدارکوتوانعام دے کررخصت کیاگیااورصہبائی دوگھڑی بعد برآمد ہو کر قلعے کے لیے سوارہوئے۔‘‘(ص722)

 بادشاہ زادے کااس طرح صہبائی صاحب کوطلب کرنانہ صرف یہ بتاتاہے کہ صاحب عالم اورمولاناصہبائی میں کتنی قربت تھی اس اقتباس سے یہ بھی ظاہرہوتاہے کہ اٹھارویں اورانیسویں صدی میں کسی شخص کواپنے کسی کام کے لیے طلب کرنے کاطریقہ کیاتھا۔ لین دین کایہ سلسلہ ناول میں بیشترمقامات پرمل جائے گا۔ اس اقتباس میں مولاناصہبائی کے لیے ہی صرف ناشتہ نہیں آیابلکہ ناشتہ لانے والے چوبدارکو مولانا صہبائی انعام سے بھی نوازتے ہیں۔ ناول کاہرصفحہ ہنداسلامی تہذیب کاعکاس ہے۔ جگہ جگہ تہذیبی رفعت نظرآتی ہے۔ ناول کی قرأت سے اٹھارویں اورانیسویں صدی کی طرزمعاشرت کابخوبی اندازہ ہوجاتاہے۔ قلعہ معلی سے لے کرشاہ جہاں آباد کے عوام وخواص کی معاشرت آنکھوں میں سماجاتی ہے۔ ایک طرف ناول جہاں بادشاہ اورنوابوں اورعملی طور پر ہندوستان کے حکمراں انگریزوں کی زندگی کوبیان کرتاہے تودوسری جانب عوام اورپیشے کے اعتبارسے نچلے طبقے کے یوسف سادہ کاراوران کے خاندان کوبھی بیان کرتاہے۔ وزیرخانم کے لیے مرزافخروکارشتہ لے کرمولاناصہبائی جب مولوی محمدنظیررفاعی مجددی یعنی وزیرخانم کے بہنوئی کے گھرپہنچتے ہیں تووہاں کس طرح پردے کاخیال رکھا جاتا ہے۔ وہ قابل ذکرہے۔

’’بندگی سرکار۔ پردہ کرالیں۔ مولانا صہبائی صاحب اوران کی بیگم تشریف لائے ہیں۔بڑی بیگم کچھ گھبراکر اٹھیں۔ مولوی صہبائی صاحب کی بیگم توبہت کم کہیں آتی جاتی تھیں، آج کوئی خاص بات ہوگی۔انھوں نے نواب مرزاسے کہا:بیٹے توجلددیوان خانے میںمولوی صاحب کوبٹھا،ان کی خوب تعظیم کیجو۔تیرے خالو صاحب شاہ صاحب کے یہاں گئے ہیں،آتے ہی ہوں گے۔اتنے میں تومولوی صاحب سے باتیں کر،میں ابھی بھنڈا اور پان بھیجتی ہوںاورچل،توجلدیہاں سے ہٹ کہ میں پردہ کراؤں۔

نواب مرزا توٹوپی، کرتا، درست کرتا ہوا بھاگ کر مردانے دروازے پرگیااورمولوی صاحب کوسلام کرکے ہوا دار سے اتار کر بصدتکریم دیوان خانے میں لے آیا۔ اس درمیان اندرسے آوازآچکی تھی کہ پردہ ہے اوربیگم صہبائی صاحب کی پالکی زنانہ دروازے پرلگادی گئی تھی اور چادر کا پردہ چاروں طرف کھنچوادیاگیاتھا۔ڈیوڑھی کے پردے کے پیچھے بڑی بیگم نے ان کااستقبال کیا،اہتمام کے ساتھ آنگن کے پاراندرونی دالان میں لائیں اور انھیں صدر میں بٹھایا۔ تشریف آوری کی غایت پوچھنا خلاف تہذیب تھا۔ مہمان کو اظہار مدعا میں کتنی ہی دیرلگتی، میزبان کوانتظارکرناپڑتااوربظاہروہ مہمان کی غیرمتعلق باتوں پراس قدرمتوجہ رہتاگویامہمان کی آمد صرف معمولی ملاقات اور دیدوادیدکی غرض سے ہے۔‘‘ (ص750-751)

اقتباس میں ہنداسلامی تہذیب کی کئی جھلکیاں موجودہیں کہ خواتین پالکی میں ہی چلتی تھیں،چھوٹی بیگم بڑی بیگم یامنجھلی بیگم کوبھی ایک دوسرے کے گھر آنا جانا ہوتا تو وہ بھی پالکی کا استعمال کرتی تھیں۔گھرمیں آنے والی خواتین  کے لیے بھی گھرکے مردوں سے پردہ کرانالازمی تھا، لڑکوں کابچپن اورلڑکپن ٹوپی اورکرتے پجامے میں ہی گزرتاتھا۔گھرمیں اگرکوئی بڑاموجودنہ ہواورکوئی مہمان آن پڑے توخواتین اس کااستقبال نہیں کرتی تھیں،اپنے بچوں کو نصیحت کرکے مہمان کے استقبال کے لیے انھیں بھیجتیں، مہمان سے آمدکا مقصد دریافت کرنا خلاف تہذیب  تھا۔یہ وہ تہذیبی رفعتیں ہیں،جواس عہدکوموجودہ عہدسے ممتازکرتی ہیں۔

کئی چاندتھے سرآسماں کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ ناول تہذیبی جھلکیاں اورجزئیات نگاری کے کسی موقع کوہاتھ سے جانے نہیں دیتا،لیکن تہذیبی جھلکیوں کی بھرپور عکاسی اورجزئیات نگاری کی بہتات کے باوجود ناول کے اصل قصے پرکوئی منفی اثربھی نہیں پڑتا۔مولوی محمدنظیررفاعی مجددی کاتعارف کراتے ہوئے فاروقی سلسلہ رفاعیہ کے راتب اوررسوم کوبھی بیان کرتے ہیں۔ ناول میں جس طرح اٹھارویں اورانیسویں صدی کے تمام اہم شعراکاتذکرہ ہے اسی طرح مذکورہ دوصدیوں میں پائے جانے والے صوفیااورماقبل کے بھی اہم ہندوستانی صوفیاکابھرپورتذکرہ ہے۔کئی جگہوںپر حضرت خواجہ معین الدین چشتی،حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی، حضرت بابافریدالدین گنج شکر اور خواجہ نظام الدین اولیا کابھی ذکر آیاہے۔

ولیم فریزرکے گھرپرمنعقدشعری نشست میں مرزا غالب کی غزل پردادکی برسات دیکھ کرفینی پاکس سوچتی ہے کہ’’میرے ملک میں تو شیکسپیئر کے ڈرامے پربھی لوگوں کی یہ حالت نہیں ہوتی۔سچ ہے اہل ہندکی تہذیبی بناہی شاعری پرقائم ہے۔‘‘(ص259)

اس فکرکی تصدیق کرتے ہوئے فاروقی نے پورے ناول میں جگہ جگہ شعری اہمیت کااحساس کرایاہے کہ ہندوستانی سماج،معاشرے اوراس کی تہذیب میں شعری جڑیں کافی گہرائی تک پیوست ہیں۔ اٹھارویں اور انیسویں  صدی کے اکثرقابل ذکرشعراکاکسی نہ کسی طور ذکر اس میں موجودہے۔وزیرخانم،نواب شمس الدین احمد خان اوران کے بعد آغا مرزا تراب علی اورنواب مرزاداغ کی آپسی گفتگومیں عموماشعری ذوق کی پختگی کا احساس ہوتا ہے۔ ان کے مابین شعرپیش کرناایک عام بات ہے۔اس طرح اس ناول میں سیکڑوں فارسی اور اردو کے کلاسکی اشعار بھی درج ہیں۔ وزیرخانم اورشاہ نصیرکی استادی وشاگردی کے مناظرکوپیش کرتے ہوئے فاروقی نے عروضی بحثیں بھی کی ہیں۔

ناول میں ہندو مسلم اتحاد اور یگانگت کو بھی دکھایا گیا ہے۔ ہندومسلم اتحاد اور آپسی بھائی چارہ اورمحبت کاایک منظردل ونظرمیں کھب جاتاہے، جہاں وزیرخانم شمس الدین احمدخان کی طرف پیش رفت سے پہلے پنڈت نندکشورکواپنے گھرمدعوکرتی ہے اوران کی تشریف آوری کابہترین انتظام کرتی ہے، جب وہ آتے ہیں تووہ اس معاملے میں لسان الغیب حافظ کے دیوان سے فال نکالتے ہیں۔ سکھ مسلم اتحادکامظاہرہ اس وقت ہوتاہے، جب شمس الدین احمدخان کودہلی طلب کیاجاتاہے اور ایسا خدشہ  درپیش ہوتاہے کہ وہ دہلی میں ولیم فریزرکے قتل کے الزام میں گرفتارکرلیے جائیںگے۔اس وقت پنجاب کا ایک سکھ انھیںکہتاہے کہ آپ پنجاب چل چلیںوہاں سے آپ کوگرفتارکرناحکومت انگریز کے لیے آسان نہیں ہوگا۔کئی چاندتھے سرآسماں بنیادی طورپرتہذیبی ناول ہے،اس میں ایک طرف اتحادویگانگت کامظاہرہ ہوتاہے تو دوسری جانب ہندوستان کی مغل حکمرانی کے زوال وانحطاط اورٹوٹتی بکھرتی مغل تہذیب کوبھی پیش کیاگیا ہے۔ زوال آمادہ عہدمیں ہندوستانیوں کی فکری سطحیت اور انگریزوں کے بڑھتے قدم بھی قارئین کوپریشان کرتے ہیں۔ہندوستانی تشخص اورتحفظ کوانگریزوں کی آمد نے پارہ پارہ کردیاتھا۔لیوان ریلیشن کاتصوربھی اس ناول میں موجودہے۔

اٹھارویں انیسویں صدی کی دلی میں عمومی طور پر گھروں کے باہرچوبدار، لٹھیت، برچھیت اور دربان ملازم ہوتے تھے، جو آنے والوں کی آمدکی اطلاع پہلے گھروالوں کو دیتے اور اجازت ملنے کے بعد انھیں اندورن خانہ جانے کی اجازت دیتے۔ گھروں میں مامائیں، اصیلیں، کنیزیں اور باندیاں بھی ہوا کرتی تھیں، جو  گھر یلو کام کرتی تھیں۔ آنے والااگرکوئی خاص مہمان ہو تو اسے ملازم جوتے پہناتے۔ملازم اپنے مالکوں کوتین اور سات سلام کرتے۔مہمانوں کی تواضع کے لیے بھنڈے، پان، شربت، عطروغیرہ کاانتظام گھرمیں ہوتا تھا۔  ٹوٹتی پھوٹتی تہذیب اورتہذیبی اثرات کوفاروقی نے کئی چاندتھے سرآسماں میں بڑی خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ ایسالگتاہے کہ ناول جس عہد کو محیط ہے، اسی عہد کے فاروقی بھی ہیں، اس کے باوجود فاروقی اس عہدکی کسی تہذیبی عکاسی سے چوکتے نہیں۔ فنون لطیفہ سے بھی فاروقی کوبخوبی واقفیت اوردلچسپی ہے۔وہ مخصوص اللہ کی شبیہ سازی کی باریکیوں اورندرتوں پرپینی نظررکھتے ہیں تو مخصوص اللہ کے پوتوں داؤد او ریعقوب کی گائیکی اور موسیقی کو بھی پوری دلچسپی کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ فاروقی شبیہ سازی، قالین بافی کے فن کوبیان کررہے ہوں یاموسیقی کے فن کووہ کسی بھی فن کوچھوکرگزرنے کے قائل نہیں،جس فن کووہ موضوع بحث بناتے ہیں اس پرتسلی اوراطمینان کی حدتک اپنے علم کاثبوت پیش کرتے ہیں۔

’’اس اثنامیں تینوں سنتورآہستہ آہستہ بجنے لگے تھے۔ بیٹوں نے پھرسے طاؤسوں کوچھیڑا،جب سب سرمل گئے تودونوں نے سروقدکھڑے ہوکرحضارمحفل کو سلام کیا، باپ کے قدم دوبارہ لیے اورکہا:

عالی جاہا،ہمارے نصیب کی بلندی ہے کہ ایسی والاشان وصفات مجلس میں اپنے والدگرامی کی موجودگی میں کچھ ٹوٹا پھوٹا کہنے کی سعادت حاصل ہورہی ہے۔ درخواست ہے کہ ہمارے عیوب پرآشفتہ نہ ہوں، بنظر اصلاح ملاحظہ فرمائیں:

’’اللہ اللہ،عزیزان گرامی ارشادفرمائیں۔ سب ہمہ تن گوش ہیں‘۔کسی بزرگ نے جواب دیا۔

بے شک، اب تاب انتظار نہیں۔بسم اللہ، ایک اورآوازآئی۔

دریں اثناسہ تاروں کی صدامیں سنتورکی گنگناہٹ شامل ہوکربلندہوئی۔محمدداؤدنے راگ چاندنی کدارامیں الاپ شروع کیا۔پھریعقوب نے کہا:حضرت سلطان ابوسعیدابی الخیرکی رباعی ہے،گوش ہوش کامتمنی ہوں۔ سب ذرااورسنبھل کربیٹھ گئے۔یعقوب نے گاناشروع کیا۔

جزدررہ عشق تونہ پوید ہرگز

دل رازترابہ کس نہ گوید ہرگز

صحراے دلم عشق تو شورستاں کرد

تامہرکسے دگرنہ رویدہرگز

پہلامصرعہ کہہ کرمحمدیعقوب نے توقف کیا، محمدداؤد نے الاپ کو اور اونچا کیا، پھر دوسرا مصرعہ ہلکے سروں میں ادا کیا۔ اب دونوں کی جگل بندی شروع ہوئی۔ عام طور پر جوڑے میں گانے والوں میں ایک کی آوازہلکی یا پست اور دوسرے کی آوازبھاری یااونچی ہوتی ہے۔ لیکن یہاں تو معاملہ ہی عجب تھا۔ دونوں کی آوازیں متوسط تھیں اورآپس میں اس قدرمشابہ تھیں اوردونوں کاریاض اتنا پختہ تھاکہ معلوم ہی نہ ہوتاتھاکہ کس نے الاپ لی اورکس نے انترے سے استھائی میں قدم رکھا۔‘‘(ص124-125)

 اس اقتباس میں فاروقی نہ صرف یہ کہ آلات موسیقی سے اپنی واقفیت کااظہارکررہے ہیںبلکہ الاپ،راگ اورراگوں کی متعددقسمیں بھی وہ بیان کرتے ہیں۔دادرا، ٹھمری، خیال، یمن، بسنت، بہار، باگیسری اور کھتریوں اور چرواہوں کی دھنیں جیسے چیتی، بنارسی وغیرہ کابھی ذکر بڑی بیگم، منجھلی بیگم اورچھوٹی بیگم کے حوالے سے آیاہے۔

ناول کئی چاندتھے سرآسماں میں تہذیبی جھلکیاں پوری طرح موجود ہیں، ناول نگارکی کوشش کامیاب ہے کہ ان دو صدیوں کی پوری تہذیب، ثقافت، تمدن اور فکری جہتیں نکھر کر سامنے آگئی ہیں۔ ادبی اور سماجی تہذیب سے لیس یہ ناول اپنی مثال آپ ہے۔ اس ناول کاراست تعلق اٹھارویں اورانیسویں صدی کی سیاست، تہذیب، ادب،طرزمعاشرت،معاشرت کی بدلتی تصویریں،تبدیل ہوتے ہندوستانی رجحانات ومزاج، ہندوستان سے کمزور ہوتی مغل حکمرانی، اس کے اسباب وعلل، انگریزوں کے بڑھتے قدم، ہندوستان پران کے مضبوط ہوتے شکنجے، ہندوستانی معاشرت اور تہذیب کے رنگ میں انگریزوں کے رنگنے کی تاریخ، ہندوستانیوں میں انگریزوں کے خلاف باغیانہ تیور، ہوا کارخ دیکھ کر ادباکی انگریزوں سے بڑھتی قربت، ہندوستانی سماج ومعاشرت کی تفہیم کے لیے انگریزوں کی کوشش، ہندوستان اورہندوستانیوں پرعرصۂ حیات تنگ کرنے کے لیے انگریزوں کی سیاسی تدبیر،شاہ اور ولی عہدسے خفیہ معاہدے۔کئی چاندتھے سرآسماں بظاہر وزیر خانم کی زندگی کے گردگھومتااورطواف کرتا ہوا نظر آتاہے۔ لیکن وزیرخانم کے بہانے مصنف نے اس عہد کے بیشترقابل ذکرموضوعات کوبصراحت روشن کیا ہے۔ مصنف نے اس عہدکی زبان کوبھی اپنے موضوع کے دائرے میں شامل کرلیاہے۔ کئی چاندتھے سرآسماں ایک مخصوص عہدکی تاریخ کو پیش کرتا ہے، لیکن یہ ناول تاریخ کے لفظ کواس کے وسیع تر تناظر میں دیکھتا اور اس عہد کی ہر چیز اور ہر قابل  ذکر شے کو موضوع بحث بناتا ہے۔ کئی چاندتھے سرآسماں کے مطالعے سے کسی بھی تاریخی کتاب کی طرح صرف اس عہدکی سیاسی تاریخ کاعلم نہیں ہوتا بلکہ  اس کے مطالعے سے سیاست، تہذیب، ادب، ادبی تاریخ، ٹھگی، گنگا جمنی تہذیب،مشترکہ ثقافت، سیاسی، تہذیبی، سماجی، مالی واقتصادی،علمی وفکری عروج سے زوال کی طرف گامزن ہونے کی تاریخ بھی پتہ چلتی ہے۔ بسی بسائی دہلی نوآبادکاروں کے شکنجے سے آزادی کے لیے 1857میں اجڑگئی۔ ایسے دہلی کے اجڑنے اوربسنے کی تاریخ بھی عجیب وغریب ہے۔دہلی عمومایکساں صورت پر باقی نہیں رہتی۔اس نقطہ نظرکے ساتھ اگر دیکھا جائے، جس نقطہ نظرکے ساتھ فاروقی دلی کودیکھتے اوردکھاتے ہیں توہمیں یہ ماننا ہوگاکہ دہلی کے اجڑنے کاسلسلہ تو انگریزوں کی عملی حکمرانی اورمغل سلطنت کے عملی زوال کے ساتھ ہی شروع ہوچکاتھا۔ چونکہ دلی صرف ایک شہر نہیں دلی ایک دبستان ہے، دہلی تہذیب کاایک نمائندہ شہر ہے، دہلوی ثقافت کاانحطاط ہی دراصل دلی کازوال ہے اوریہ کام انگریزوں کے عملی طورپرہندوستان کاحکمراں بننے کے ساتھ ہی شروع ہوچکا تھا۔ ہاتھی گھوڑوں پرمع جلوس گلیوں میں گھومنے کارواج عمومامغلوں کے یہاں نہیں پایاجاتاتھا لیکن انگریزولیم فریزرگلیوں میں ہاتھی پرگھومتے تھے اورکسی وزیرخانم کے گھرپیشگی اجازت کے بغیرہی پہنچ جاتے توکبھی برسرعام نواب شمس الدین سے ان کی بہن کاہاتھ مانگ لیتے تھے۔یہ سوچے بغیرکہ ہندوستانیوںکی بھی کوئی عزت اور وقار ہے۔

ایسی زوال آمادہ صورت حال کااستعارہ فاروقی کووزیرخانم میں اوروزیرخانم کی زندگی کی بے سروسامانی اوربے بسی کااستعارہ مغلیہ سلطنت میں مل گیا، جس طرح وزیرخانم اپنی زندگی اورنصیبے کوبباطن رورہی تھی،اسی طرح مغل سلطنت بھی اپنے روشن وتابناک ماضی اورناگفتہ بہ صورت حال پرماتم کناں تھی۔

’’اگلے دن مغرب کے بعدقلعۂ مبارک کے لاہوری دروازے سے ایک چھوٹاساقافلہ باہرنکلا۔ایک پالکی میں وزیر،ایک بہل پراس کااثاث البیت اورپالکی کے دائیں بائیں گھوڑوں پرنواب مرزاخان اور خورشید میرزا۔  دونوں کی پشت سیدھی اورگردن تنی ہوئی تھی۔ محافظ خانے والوں نے روکنے کے لیے ہاتھ پھیلائے تومیرزا خورشید عالم نے ایک ایک مٹھی اٹھنیاں چونیاں دونوں طرف لٹائیںاوریوں ہی سراٹھائے ہوئے نکل گئے۔ ان کے چہرے ہرطرح کے تاثرسے عاری تھے لیکن پالکی کے بھاری پردوں کے پیچھے چادرمیں لپٹی اور سر جھکائے بیٹھی ہوئی وزیرخانم کوکچھ نظرنہ آتاتھا۔‘‘(ص848)

 اس اقتباس کاآخری جملہ بڑا ہی معنی خیزہے۔ اس کے باوجودیہ کہاجاسکتاہے کہ وزیرخانم کو کچھ نظرآرہاہویانہ آرہا ہو، بہرحال وہ اپنے گھریعنی نواب شمس الدین کے دیے ہوئے گھرتک توپہنچ ہی گئی ہوگی لیکن مغل سلطنت جب قلعہ مبارک سے باہرکی گئی تواس کے لیے کہیں جائے اماں نہ مل سکی اوربہادرشاہ ظفر،ملکہ اوران کے صاحبزادگان پیدل ہمایوں کے مقبرے تک پہنچے تھے اور انھیں کچھ بھی کہیں نظرنہ آیاحتی کہ خود آخری مغل تاجدار کو ضعیفی کی حالت میں ننگے تختے پربیٹھ کررنگون تک کا سفر کرنا پڑا اور بے بسی وغربت میں کوئے یارمیں دو گززمین کی تمنا لیے جاں جان آفریں کے سپردکرناپڑی۔

کئی چاندتھے سرآسماں کاموضوع بظاہر وزیر خانم اور اس کی زندگی ہے لیکن وزیرخانم اوراس کی زندگی کوپیش کرتے ہوئے مصنف نے اٹھارویں اور انیسویں صدی کے پورے ہندوستان، انگریزوں کے خلاف ہندوستانیوں کے جذبے، دہلوی تہذیب وتمدن، مذکورہ دو صدیوں کی کوثر و سلسبیل سے دھلی دھلائی زبان، نوابیت و بادشاہت، ہندوستانیوں کے رنگ وآہنگ، مزاج و اطوار سب کو موضوع بنالیا ہے۔ اس لیے ناول کا کینوس خاصاوسیع اور دلکش ہوگیاہے۔

کئی چاندتھے سرآسماں اپنے اسلوب اور انداز تحریر کے اعتبارسے بلامبالغہ اکیسویں صدی کاسب سے اہم اردو ناول ہے۔اکیسویں صدی کے ہندوپاک میں ایسا اسلوب بس کئی چاندتھے سرآسماں کایک وتنہااسلوب ہے اور دور دور تک سناٹاہے۔چونکہ ایسے اسلوب کی تخلیق کے لیے قرآن پاک کی آیتوں کاعلم، جگرکاوی، دہائیو ںپرمبنی اردو، عربی، فارسی اورانگریزی کا مطالعہ،تصوف کے اعلی پائے اورماخذکی حیثیت رکھنے والی کتابوں پر گہری نظر، فارسی واردو کے کلاسیکی شعرا کے دواوین کی قرأت،فن عروض وتقطیع کی مہارت،عربی محاورات سے دلچسپی، صوفیائے کرام کے حالات زندگی اور اقوال پرنظر، ہندستان میں انگریز و ں کی تاریخ، اٹھارویں وانیسویں صدی کے ہندوستان کی بھرپور واقفیت، اس عہد کے علما، شعرا، ادبا اور دانش وروںکے تذکروںپر نظر، کم ازکم دہلی کے جغرافیہ کی واقفیت، باڑہ ہندوراؤ، پہاڑی، ہندوراؤ اسپتال اور پرانی دلی کی دیگر گلیوں اور محلوں کا مشاہدہ، خانوادۂ فرنگی محل اور خانوادۂ ولی اللہی اوران خانوادوں کی اہمیت اورعلمی فروغ میں ان کے کردارسے واقفیت کی ضرورت ہوتی ہے اوریہ تقاضافاروقی نے پورا کیاہے، یہ انسائیکلوپیڈیائی علم اور واقفیت کئی چاند تھے سر آسماں کے اسلوب کو منفرد، ممتاز اور یکتابناتی ہے اوربات پھربھی بنتی نہیں کہ جب تک اٹھارویں اورانیسویں صدی کی زبان کی واقفیت نہ ہو۔مجھے لگتاہے کہ اس ناول کی زبان سب سے قیمتی شے ہے، جواسے باقی رکھے گی۔یہ خوش کن حیرت کی بات ہے کہ دوصدیاں پیچھے جاکر ایک انسان اس سماج، معاشرے اوراس میں رائج زبان کولکھے۔کم ازکم اردوناول کی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ ہے۔

اس ناول کا بیانیہ رواں دواں اور جدید عہد کی تراکیب سے بناگیاہے،اس کی تراکیب کی بنت فارسی تراکیب پرمبنی نہیں ہیں۔البتہ درمیان میں ایسے الفاظ ضرورآتے ہیں،جن کارواج اکیسویں صدی میں عمومی طورپرنہیں ہے،وہ اسمائے معرفہ (Proper nouns)  جن کارواج اٹھارویں اورانیسویں صدی میں تھا، لیکن اب یعنی اکیسویں صدی میں نہیںہے۔ایسے اسماسیکڑوں اورہزاروں کی تعدادمیں آئے ہیں، جن کی توضیحات وتشریحات عام فہم لغات میں میسرنہیں لیکن وہ ناول کی قرأت میں مانع نہیں ہوتے،سیاق وسباق سے مفہوم ادا ہوجاتے ہیں۔ انسانی فہم اپناکام کرجاتی ہے۔ جیسے بندوقوں  کی بہت سی قسموں کاتذکرہ فاروقی نے اپنے ناول میں کیا ہے اوران کی تشریح بھی کردی ہے، اکیسویں صدی میں لفظ بندوق کے علاوہ بندوقوں کی کسی بھی قسم کا اردو نام شاید ہے  ہی نہیں توہم ان کی تشریح کوسمجھنے سے بھی عاری ہی رہتے ہیں۔ بہت سے ایسے مقامات ہیں،جہاں فاروقی نے اٹھارویںاور انیسویں صدی میں رائج محاورات کا استعمال کیاہے تو اس کی تشریح بھی کردی ہے،جس سے بیانیے اورمکالمے کی تفہیم آسان ہوگئی ہے۔ ولیم فریزرکی ہفوات کے بعدنواب شمس الدین احمدخان،جب فریزرکی کوٹھی پرپہنچے تواس وقت کایہ مکالمہ دیکھیں۔

’’ہماری کیامجال جوپھاٹک نہ کھولیںلیکن صاحب کلاں بہادرسکھ کرگئے ہیں۔ان کے حکم کے بغیرہم کسی کواندر نہ آنے دیں گے۔ ‘‘ (437)

اس سے آگے فاروقی بڑے عالمانہ اندازمیں سکھ کرگئے ہیں، محاورے کی تشریح بھی کرتے ہیں اوراپنی تشریح کوبیانیے کاجزوبھی بنادیتے ہیں۔

’’سکھ کرگئے ہیں، کافقرہ شمس الدین احمدکے کانوں میں تیزاب بن کرٹپکا، ’سوجانے‘کے لیے یہ محاورہ صرف بادشاہ ذی جاہ کے لیے بولا جاتاتھا۔ دوسروں کے لیے مناہی نہ تھی، لیکن ایک رسم سی بن گئی تھی اورقلعے کے باہریہ محاورہ رائج بھی نہ تھا۔اس دوٹکے کے مجہول النسب فرنگی کی یہ مجال کہ ہمارے بادشاہ دیں پناہ کے لیے جو فقرہ استعمال ہوتاہے اسے یہ ہتھیالے!ملک تویہ لوگ لیے ہی جارہے ہیں۔اب ہمارے خاص روزمرے اورمحاورے بھی اپنے اوپرصرف کرنے لگے۔(ص437)

فاروقی کے اسلوب کی ایک بڑی خصوصیت ناول کئی چاندتھے سرآسماں کے حوالے سے یہ بھی سامنے آئی ہے کہ وہ خوداپنی عبارت کی تشریح بھی ناول کے متن میں داخل اورشامل کرلیتے ہیں۔ایسامتعددمقامات پرہوا ہے۔لیکن اس کاکوئی منفی اثرناول کے متن پرنہیں ہوتا۔ فاروقی جتنی توجہ ناول کی قصہ گوئی اورجزئیات نگاری پر مرکوز رکھتے ہیں۔اتنی ہی توجہ اسلوب اورزبان وبیان پربھی دیتے ہیں۔بیک وقت وہ اپنی نگاہیں ناول کے تمام عناصرپررکھتے ہیں۔ناول کاکوئی پہلوان کی توجہ سے محروم نہیں رہ پاتا۔

کئی چاندتھے سرآسماںمیں فارسی اورعربی زبان کے بھی کافی اثرات ہیں۔ناول میں فارسی کے بہت سے اشعاردرج ہیں۔ فارسی میں لکھے گئے خطوط بھی موجود ہیں۔ ناول کے ابواب کے بہت سے عناوین فارسی اشعار کے مصرعوں پرمبنی ہیں۔آپسی گفتگو کو آگے بڑھانے اور گفتگو کا لطف دوبالا کرنے کے لیے بھی فارسی اشعار کا سہارا لیاگیاہے۔ اس کے علاوہ قرآن پاک کی بہت سی آیتیں بھی موقع ومحل کے مطابق درج کی گئی ہیں۔عربی محاورات خصوصی طورپرقابل ذکرہیں،جن کی موجودگی کی وجہ سے فاروقی کاناولانہ اسلوب مزید نکھر گیا ہے، ناول کے متن میں رنگارنگی پیداہوئی ہے اورخصوصی طورپرناول کے مکالموں کامعیارقابل رشک ہو گیاہے،جس سے اس عہدکے لسانی ذوق کابھی اندازہ ہوتاہے۔ عربی کے محاورات ایسے نہیں ہیں،جنھیں پڑھ کرکہہ دیاجائے کہ بس کہیں سے مل گیااورفاروقی نے اپنی عبارت میں چسپاں کردیا، محاورات ایسے ہیں،جنھیں پڑھ کراردو،فارسی کے ساتھ فاروقی کی عربی پرعمیق نظرکااندازہ ہوتاہے اورناول کے متن میں جوشگفتگی، شائستگی، لطافت، ندرت اورسہ لسانی مٹھاس پیدا ہوئی ہے وہ تواپنی جگہ، ناول کی عبارت میں ان محاورات کے استعمال کی برجستگی سے اندازہ ہوتاہی نہیں کہ جومتن ہم پڑھ رہے ہیں، وہ کسی غیرعربی داںکا ہے، ایسالگتاہے کہ ناول نگار نبض شناس مزاج عربی ہے۔کئی چاندتھے سرآسماںمیںصرف قرآنی عربی محاورات نہیںہیں، ایسے محاورات بھی ہیں، جنھیں عربی کے فکشن نگار اور شعرا استعمال کرتے ہیں۔لیس بین الموت والفراق فرق (ص730)  شبابیات کے شعراعمومی طورپراس طرح کے محاوروں کا استعمال کرتے ہیں۔اس مفہوم کے اردومیںبہت سے اشعار  موجود ہیں،لیکن فاروقی نے ان اشعار کا استعمال نہیں کیا، وہ عربی کے محاورات لاتے ہیںاوریہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اٹھارویں اورانیسویں صدی کے ہند اسلامی معاشرے میں زبان وبیان کے حوالے سے کیا ترجیحات تھیںاوراس سے عوام وخواص دونوں کوکتنی رغبت تھی،ظاہرہے کہ اس اظہارکے ساتھ فاروقی کے قاری کولطف زبان سے جس طرح آشنائی ہوتی ہے۔وہ خود بڑی قیمتی شے ہے        ؎

اذاحاق القضاضاق القضا

الانتظاراشدمن الموت

کل عام وانتم بخیر

البحرلایخاف من السرق

الفضل للمتقدم

نورالقمرمستفیدمن الشمس

مذکورہ بالاتمام محاورات برجستہ استعمال ہوئے ہیں اور مشرقی شعریات کی عظمت، لسانی خودمختاری وخود انحصاری اور خود مکتفی ہونے پردال ہیں،ہم محسوس کرسکتے ہیں کہ اگرکسی مستحکم پس منظررکھنے والے شخص سے ہمیں گفتگو کا موقع مل جائے اوروہ دوران گفتگوفارسی اشعار، اردو و فارسی کے محاورات اوراپنی گفتگوکوآگے بڑھانے کے لیے قرآن پاک کی آیتوں کاسہارالیتاہے توہم کس طرح کی داخلی وخارجی مسرتوں سے گزرتے ہیں،اسی طرح کا احساس کئی چاندتھے سرآسماں کوپڑھتے ہوئے قاری کو ہوتا ہے۔ اس طرح کی عبارت آرائی اوراسے 848صفحات تک نبھانا بچوں اورعام فہم فکشن نگاروں کاکام تویقینانہیں ہوسکتا،یہ حق فاروقی کاہی ہے،جوانھوں نے اداکیاہے۔

فاروقی اپنے ناول میں جہاں کلاسیکی شعراکی اردو وفارسی شاعری سے کام لیتے ہیں،وہیں ان کے پیش نظر صوفیا کے حالات اوران کے اقوال بھی ہیں،وہ صوفیاکے اقوال کوحسب منشااورحسب ضرورت برجستگی کے ساتھ اپنے بیانیے کاجزوبنادیتے ہیں،جس سے عبارت خوانی کالطف دوبالاہوجاتاہے اوراگرناول کے قاری کی نگاہ دوررس اورمطالعاتی مشقتوں کی عادی ہے تووہ نہ صرف فاروقی کی علمیت اورگہری نگاہ کاقائل ہوتاہے بلکہ وہ ناقابل بیان حدتک فاروقی کی عبارت سے حظ حاصل کرتا ہے اوراس کی پڑھی ہوئی چیزوں کی بازیابی بھی ہوجاتی ہے۔

ذراغورکریں کہ ایک ناول نگارناول لکھنے کے لیے جہاں کلاسیکی اردووفارسی دواوین اور تذکرے کامطالعہ کررہاہے وہیں اس کی نگاہ اس طرح کے قدیم اور معتبر تصوف کے متن پربھی ہے۔کئی چاندتھے سرآسماں کے متن کی عظمت،اس کے عروج،اس کی شگفتگی، شائستگی، سنجیدگی، متانت اورعمق کے رازہائے سربستہ چوطرفہ مطالعے اور دہائیوں کے مشاہدے میں پوشیدہ ہیں۔غورکرنے کامقام یہ بھی ہے کہ فاروقی حضرت خواجہ نظام الدین اولیاکانام درج کرتے وقت بھی یہ خیال رکھتے ہیں کہ یہ ناول اٹھارویں اورانیسویں صدی کے دہلوی سماج اور معاشرے کانمائندہ ناول ہے،اس کی زبان بھی دہلی کی ٹکسالی زبان ہے، اس لیے وہ حضرت کے نام کے ساتھ سلطان جی کااضافہ کرتے ہیں،چوں کہ پرانی دہلی بلکہ کہناچاہیے کہ دہلی کے باشندے خواجہ صاحب کی زندگی سے اب تک انھیں سلطان جی صاحب ہی کہتے آئے ہیں۔زبان و بیان کی باریکیوں اورندرتوں سے فاروقی کہیں صرف نظرنہیں کرتے۔امیرخسرونے بھی کہاتھا         ؎

صاحب جی سلطان جی تم بڑوگریب نواج

 اپناکرکے راکھیوتوہے بانہہ پکڑے کی لاج

کئی چاندتھے سرآسماں کردارکے معاملے میں بھی اکیسویں صدی کاشاندارناول ہے،جس نے اردوناول کو وزیرخانم جیساتاریخی اورناقابل فراموش کرداردیا۔اس کے زیادہ تر کردار تاریخی،تہذیبی اورثقافتی ورثے کاحصہ ہیں،خیالی اورفرضی کردار سازی نسبتاآسان ہے،لیکن تاریخی کرداروں کولکھنے اورانھیں پیش کرنے کے اپنے تقاضے ہوتے ہیںاوران تقاضوںکوفاروقی نے پوراکیاہے۔اس ناول کے زیادہ ترمردکرداراٹھارویں اورانیسویںصدی کے شناسا کردارہیں، جن کا تذکرہ تاریخی کتابوں میں موجود ہے۔

 ناول کے بیانیہ کاابتدائی تذکراتی اورشجراتی اسلوب شعوری اورتکنیکی وجوہ کی بناپرہے اورایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اس ناول میں بیان کیے جانے والے واقعے کاتعلق چونکہ اٹھارویں اورانیسویں صدی سے ہے اوران صدیوں میں تذکرے کارواج اورخاندانوں کے علم اور شجرے جوڑنے اوربنانے کا رواج کافی تھااورمصنف انہی صدیوں میں ڈوب کرناول تحریرکرناچاہتے تھے،لہذااس کا آغاز تذکراتی اسلوب سے کیاتاکہ زبان اوربیان کے ساتھ اس کاطرزاوراندازبھی اٹھارویں اورانیسویں صدی کا ہو اور ناول کا پلاٹ مضبوط ومستحکم اورقاری کے لیے دلچسپ ہوجائے،گوکہ اس طریق کارکی وجہ سے پلاٹ میں پیچیدگی آئی ہے مگروزیرخانم مرکز میں ضرور ہے۔ناول نگارکی جزئیات نگاری میں بھی تذکراتی اسلوب کابڑادخل ہے۔

فاروقی نے ایک ناول لکھتے ہوئے ناول نگاری کے تمام عناصرکوقوت بخشی ہے۔ انھوں نے تہذیبی، فکری، سیاسی، سماجی، موضوعاتی، اسلوبیاتی، کرداری، استعاراتی اورتکنیکی نقطۂ نظرسے ناول کوباندھے رکھاہے اورقاری کی دلچسپی کہیں ختم نہیں ہوتی، پورا ناول پڑھنے کے باوجود اسے تشنگی کا احساس ہوتا ہے۔ چونکہ اس کا اسلوب اور واقعات کی برجستگی اور سماجی حقیقت نگاری خاصے کی چیز ہے، جو قاری کو مطمئن نہیں ہونے دیتی۔ ناول کئی چاند تھے  سرآسماں ہرلحاظ سے قابل ذکر اور ناول نگاری کی روایت اورتاریخ کو مستحکم اور مضبوط کرنے والاناول ہے۔


Noorain Ali Haque

C-139,  Gali No.3, Near Iqra Masjid

Wazirabad

Delhi- 84

Mob.: 9210284453





3/3/21

ناول ’میری یادوں کے چنار‘ - مضمون نگار : محمد محسن

 



کرشن چندر کی پیدائش بھرت پور راجستھان میں ہوئی مگر ان کا بچپن جموں و کشمیر کے ضلع پونچھ میں گزرا۔ وہیں انھوں نے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔وہ بچپن سے لے کر 1929 تک پونچھ میں رہے۔کرشن چندر کے والد ملازمت کے سلسلے میں پونچھ میں رہے اور اس کے بعد دہلی آگئے۔ اس طرح کرشن چندر کا ناطہ کشمیر سے ٹوٹ گیا۔مگر تاحیات وہ کشمیر کے گیت گاتے رہے۔ ان کی ادبی زندگی کا آغاز بھی پونچھ میں ہوااور پہلی تین چار کہانیوں کا پس منظر بھی پونچھ ہی رہا۔ کشمیر سے نکلنے کے بعد اگرچہ وہ اپنے کاموں میں مصروف ہوگئے مگر اس کے باوجود ان کی یادوں اور تحریروں میں کشمیر زندہ رہا۔ انھوں نے ’’ کشمیر کی کہانیاں ‘‘ کے دیپاچہ میں لکھا ہے کہ ’’ میرے بچپن کی حسین ترین یادیں اور جوانی کے بیش قیمت لمحے کشمیر سے وابستہ ہیں‘‘۔ اردو نثر میں کرشن چندر کے اسلوب کو ہرکسی نے سراہا ہے اور ناقدین کا ماننا ہے کہ ان کا یہ شاعرانہ اسلوب کشمیر کی ہی دین ہے۔ کشمیر کے حوالے سے انھوں نے کئی افسانے اور ناول یاد گار چھوڑے ہیں۔

کرشن چندر کا شمار اردو کے بڑے ناول نگاروں میں ہوتا ہے۔ انھوں نے کوئی تیس سے زائد ناول لکھے ہیں۔ ان کے ناولوں میں  شکست ، میری یادوں کے چنار اور ’ مٹی کے صنم ‘ پونچھ کے حوالے سے کافی اہم ہیں۔ انھوں نے ناول نگاری کا آغاز ’ شکست ‘ سے کیا۔ناول ’شکست ‘ ترقی پسند نظریہ کا حامل ہے جبکہ ’ مٹی کے صنم ‘ ایک سوانحی ناول ہے۔کرشن چندر نے افسانہ نگاری کے میدان میں بھی اپنا ایک منفرد مقام حاصل کیا اور آج بھی افسانہ نگاری کی تاریخ میں ان کا نام سر فہرست ہے۔ انھوں نے کشمیر کے متعلق کافی تعداد میں افسانے لکھے ہیں۔ کشمیر کے حوالے سے  جنت اور جہنم،  بند والی، کفارہ، سڑک کے کنارے، کشمیر کو سلام، جیل سے پہلے اور جیل کے بعد، لاہور سے بہرام گلہ تک، چاند کی رات،’ گرجن کی ایک شام  وغیرہ اہم افسانے ہیں۔

میری یادوں کے چنار ‘ کا براہ راست تعلق پونچھ سے ہے کیونکہ اس میں کرشن چندر نے وہی زندگی پیش کی ہے جو انھوں نے پونچھ میں گزاری ہے۔ ناول ’’ میری یادوں کے چنار ‘‘ ان کی ابتدائی زندگی پر مبنی ہے اور ان کی ابتدائی زندگی پونچھ میں گزری ہے اس لیے وہاں کی تہذیب، سماج اور علاقائی منظر کشی فطری ہے۔ ناول ’میری یادوں کے چنار‘1962میں شائع ہوا۔۔یہ ناول کرشن چندر کا سوانحی ناول ہے۔بیشک اس ناول میں تاریخی ربط نہیں پایا جاتا جو سوانح عمری میں ملتا ہے لیکن اس کے باوجود یہ ناول سوانحی خصوصیات کا حامل ہے۔یاد رہے کہ ’ مٹی کے صنم‘ اور ’ آدھے سفر کی پوری کہانی‘ بھی ان کے سوانحی ناول ہیں۔’میری یادوں کے چنار‘ میںکرشن چندر نے اپنے بچپن کے سوانحی کوائف کو افسانوی رنگ دے کر پیش کیاہے۔اس ناول کے متعلق جگدیش چندر ودھاون لکھتے ہیں ؛

میری یادوں کے چنار ‘ کا کینوس بہت محدود ہے۔ زیادہ تر اس کا تعلق کرشن چندر کے لڑکپن اور ان کے والدین کی خانگی زندگی سے ہے۔ مختلف ابواب کے موضوعات کی نوعیت اس امر کو واضح کردے گی۔ ملاحظہ ہو: کرشن چندر کے والد کا مچھلی کے شکار کے لیے کرمان جانا اور وہاں کے ناخوشگوار واقعات کا کرشن چندر پر دائمی اثر... کرشن چندر کی اچھوت لڑکی تاراں سے دوستی اور ڈاب پر ننگا نہانا...پونچھ کے مختلف علاقوں میں امیر اور غریب لوگوں کی زندگی کا گھنائونا تضاد ‘‘

(کرشن چندر شخصیت اور فن، جگدیش چندر ودھاون،2003، ص634)

کرشن چندر نے اس ناول میں اپنے بچپن کے وہ ایام جو وادی کشمیر کے حسین ترین خطے میں گذارے تھے ان کو ہو بہو پیش کیا ہے ۔ایک بچہ کس طرح اپنا بچپن وادی کے پہاڑی علاقوں میں گزارتا ہے اور کس طرح ان پہاڑی علاقوں سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ ان تمام حرکات و سکنات کو انھوں نے خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا ہے اس حوالے سے ناول کا ایک اقتباس ملاحظہ ہو:

 ’’ اس پگڈنڈی کے راستہ میں دھان کے کھیت آتے تھے۔ اور چھوٹے چھوٹے جنگلی مر غز ار آتے تھے۔ اور نیچے نیچے ٹیلے آتے تھے۔ اور لکڑی کے دو پل آتے تھے۔ جن کے نیچے شور مچاتے ہوئے خطرناک نالے بہتے تھے۔ اور جن کے دونوں طرف چیل کے چھتنارے پھیلائے ہوئے درخت کھڑے تھے جن میں سے جب ہوا چلتی تھی تو درخت اس طرح شائیں شائیں کرتے جیسے دور کہیں بارش ہو رہی ہے۔ ‘‘

 کرشن چندر، میری یادوں کے چنار، ص51)

یہ ناول پڑھتے وقت اختر الایمان کی نظم ’ایک لڑکا‘ کے تما م مناظر آنکھوں کے سامنے آجاتے  ہیں۔ جس طرح نظم ’ ایک لڑکا ‘ اختر الایمان کے ماضی کی یادوں کی عکاسی کرتی ہے اسی طرح ’ میری یادوں کے چنار ‘ کرشن چندر کے ماضی کا عکاس ہے۔کرشن چندر نے اپنے بچپن کے حالات و و اقعات نہایت ہی حقیقی اور فطری طور پر پیش کیے ہیں اور ساتھ ہی اپنے والدین کا تعارف،ان کا مزاج،ان کے آپسی تعلقات و نظریات نیز اپنے گھر کے ماحول کو اس ناول میں پیش کیا ہے۔کرشن چندر کی والدہ اپنے مذہبی نظریات میںشدت کی حامل تھیں۔وہ اونچ نیچ اور ذات پات کی پابند تھیں۔ لیکن ان کے والد آریہ سماج کو ماننے والے تھے اور کھلے اشتراکی ذہن کے مالک تھے۔ وہ مہاتما گاندھی کے عقیدہ کے قائل تھے۔ کرشن چندر نے خود ایک جگہ لکھا ہے کہ ان کے والد نے ان سے وعدہ لیا تھا کہ وہ کبھی اپنی ذات پر فخر نہیں کریں گے اور کبھی اپنے نام کے ساتھ ذات کا نام نہیں لکھیں گے۔کرشن چندر کی بچپن کی دوست ’’تاراں ‘‘ہے جو کہ ایک اچھوت کنبے سے تعلق رکھتی ہے۔ کرشن چندر نے اس ناول میں تاراں کو یوں متعارف کروایا ہے :

’’ لیکن تاراں مجھے پسند ہے۔ اس کا چہرہ بالکل گول ہے چاند کی طرح اور جب وہ اپنے چھوٹے چھوٹے لب کھول کر ہنستی ہے تو مجھے بہت پیاری لگتی ہے۔ میں نے  طے کر لیا کہ میں بڑا ہوکر تاراں سے شادی کرلوں گا۔ مگر ابھی اس میں بہت عرصہ باقی ہے کیونکہ میری عمر آٹھ سال کی ہے۔ اور تاراں چھ سال کی ہے۔ اور ہم لوگوں کو اپنے ماں باپ کی طرح بڑے ہونے میں بہت سال لگ جائیں گے۔ نہ جانے یہ بڑی عمر کے لوگ ہم چھوٹے بچوں کو شادی کیوں نہیں کرنے دیتے۔ ‘‘

( کرشن چندر، میری یادوں کے چنار، ص7)

یہ وہ زمانہ تھا جہاں چھوت چھات عام اور ذات پات کا خاص خیال رکھا جاتا تھا۔ کرشن چندر کی والدہ کا تاراں کے تئیں نظریہ ملاحظہ ہوں :

’’میری ما ں نے تاراں کو پکڑ لیا تھا۔اور اسے زور زورسے طمانچے اور مکے مار مار کر کہہ رہی تھی۔کمبخت اچھوت کم ذات لڑکی۔آج پورن ماشی کے شبھ دن بھی میرے بچے کے ساتھ کھیلتی ہے !جبھی تو وہ اچھا نہیں ہوتا !دیکھ تو سہی۔آج میں تیری ہڈیاں توڑ کر رہوں گی... میرے پتا جی نے روتی ہوئی تاراںکواپنی گود میں اٹھا لیا اور اسے باغیچے میںلے گئے۔اور اس کی جھولی سرخ سرخ سیبوں سے بھردی اور ان خوبصورت سیبوں کو دیکھ کر روتی ہوئی تاراں ساری مار بھول گئی۔اور اپنے آنسوئوں میں مسکرانے لگی۔‘‘

اس اقتباس سے کرشن چندر کے والدین کو بخوبی جانا جا سکتا ہے۔ دونوں مزاج کے اعتبار سے ایک دوسرے کی ضد تھے۔کرشن چندر نے ناول میں جگہ جگہ ذکر کیا ہے کہ ان کی ماں کے اندر چڑچڑاپن بہت تھا اور شکی مزاج تھیں جبکہ ان کے والد ایک سنجیدہ ذہن انسان پرست اور عاشق مزاج انسان تھے۔یہی عاشق مزاجی انھوں نے اپنے بیٹے کرشن چندر کو بخشی تھی۔کرشن چندر اپنے والد سے بہت متاثر تھے۔ انھوں نے اپنے والد کے کردار کو اس ناول میں بڑی خوبی سے پیش کیا ہے۔ جہاں ایک طرف ان کی ماں کٹر اور تنگ ذہن رکھتی تھیں وہیں ان کے باپ آزاد طبیعت کے مالک تھے۔ ان کے والد نہایت ایماندار اور کھلا ذہن رکھنے والے انسان تھے۔ اور اس بات کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ وہ فجے کی موت پر افسوس کرتا ہے اور خانم کو آخری بار فجے کا  چہرہ دیکھنے میں مدد کرتا ہے،وہ نیاز احمد کا اچھا دوست ہے اور جب نیاز احمد کے خلاف گرفتاری کا حکم جاری ہوتا ہے اور اس کو زندہ یا مردہ پکڑنے کے لیے انعام کا اعلان ہوتا ہے تب کرشن چندر کے والد اس کی مدد کے لیے آگے نکلتے ہیں اور اپنے گھر میں چھپائے رکھتے ہیں۔ اور آخر میں جب ایک مسلمان ہیڈ ماسٹر زخمی حالت میں اسپتال میں پڑا ہوا تھا اور راجہ کی طرف سے حکم ہوا تھا کہ وہ زندہ نہیں رہنا چاہئے۔ لیکن اس کے باوجود کرشن چندر کے والد نے اپنے انجام کی پرواہ کیے بغیر ایمانداری سے ہیڈ ماسٹر کا علاج کیا۔ اسی وجہ سے بعد میں انھیں ریاست بدر کیا گیا۔

اس کے علاوہ اس ناول میں کرشن چندر نے پونچھ کے مختلف علاقوں میں امیر اور غریب لوگوں کی زندگی کے رہن سہن کا بھی ذکر کیا ہے۔ خانم سے فیض محمد( فجے) کی محبت،فجے کی موت اور کرشن چندر کے والد کا کردار بھی اس ناول میں خوبی سے پیش کیا ہے۔ریاست پونچھ جو آج جموں و کشمیر کا ایک ضلع ہے آج بھی ایک پچھڑا ہوا علاقہ مانا جاتا ہے۔ کرشن چندر نے اپنے ناول ’’ میری یادوں کے چنار ‘‘ کے ذریعے پونچھ کی تہذیبی، سیاسی اور معاشی زندگی کی بھی بڑی عمدہ عکاسی کی ہے۔ اس ناول میں انھوں نے فجے اور موسیٰ خان کے ذریعے وہاں کے نظام، غریب اور امیر طبقے کے درمیان مسائل اور پھر حکومت کے رویے کو بڑی سنجیدگی سے پیش کیا ہے۔ فجے ایک ڈاکو ہے جو غریب طبقے سے تعلق رکھتا ہے۔ غریبوں پر حکمران اور امیر طبقے کے مظالم برداشت نہیں کرپایا اس لیے ڈاکو بن گیا۔ ان دنوں ریاست پونچھ میں وہاں کے راجہ کی حکمرانی الگ ہوا کرتی تھی اور انگریزوں کی حکومت الگ۔ اور ان کا بے رحمانہ راج عوام پر تھا جو امیر اور غریب دو طبقے میں بٹی ہوئی تھی۔اس سارے نظام کی پیداوار فجے ڈاکو تھا جس کے ساتھ پورے غریب طبقے کی ہمدردی تھی۔ یہاں تک کہ لڑکیاںاس کے نام کا گیت گایا کرتی تھیں۔ فجے موسیٰ خان کی بیٹی خانم سے پیار کرتا تھا۔دوسری طرف حکومت نے فجے کے پکڑنے پر انعام رکھا ہوا تھا۔ موسیٰ خان خانم کی خالہ کے ذریعے فجے تک پہنچ جاتا ہے اور نہتے فجے کو گولیوں سے بھون ڈالتا ہے۔ اس پر راجہ اور امیر طبقہ چین کی سانس لیتا ہے جبکہ غریب طبقہ مزید دب جاتا ہے۔ اس طرح غریب طبقے کو اٹھنے نہیں دیا جاتا تھا اور جو کوئی سر اٹھاتا اس کا سر کچل دیا جاتا۔ وہاں ذات پات اور اونچ نیچ کا مسئلہ عام تھا اور اس حوالے سے اس ناول میںکرشن چندر ایک جگہ لکھتے ہیں۔ اقتباس ملاحظہ ہو :

’’ گو کسی طرح کا ایسا قانون نہ تھا اور کوئی تحریری ممانعت بھی نہ تھی۔ مگر بس ایک غیر تحریری سا معاہدہ تھا جس کی پابندی دونوں دنیائوں میں ہوتی تھی۔ ہماری دنیا الگ تھی۔ ان کی دنیا الگ تھی۔ دونوں کے درمیان ایک اوپری قسم کی مفاہمت تھی۔ جس کی وجہ سے آفیسر لوگ مقامی باشندوں پر اعتماد نہ کر سکتے تھے۔ نہ مقامی باشندوں کو آفیسروں پر پورا بھروسہ تھا۔ یوں بھی نشیب و فراز میں تضاد تو ہوسکتا ہے۔ اعتماد کیسے ہو سکتا ہے۔ ایک حکم دیتا ہے۔ دوسرا اس حکم کو برداشت کرتا ہے۔ اس رشتہ میں محبت کہاں سے آئے گی۔ ؟ ‘‘

( کرشن چندر، میری یادوں کے چنار، ص69)

اس ناول کے ذریعے کرشن چندر نے پونچھ کے راجہ کی بد نظامی کو بھی ظاہر کیا ہے جو اپنے فائدے کے لیے کسی کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیتا تھا۔ اس ناول میں فجے اور تھانیدار نیاز احمد کا قتل راجہ کے حکم سے ہوا۔اور راجہ نے ہیڈ ماسٹر کے قتل کا بھی حکم دے دیا تھا۔جسے کرشن چندر کے والد نے ناکام بنا دیا۔ تھانیدار نیاز احمد ایک بہادر اور ایماندار سپاہی تھا۔ اور فوجی افسران میں کافی مشہور ہوچکا تھا۔ ایک دن اچانک راجہ اس کی گرفتاری کا حکم جاری کر دیتا ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ یہ حکم بھی جاری کیا کہ جو کوئی نیاز احمد کو زندہ یا مردہ راجہ کے سامنے پیش کرے گا اسے راجہ کی طرف سے دس ہزار کا انعام دیا جائے گا۔ نیاز احمد کرشن چندر کے والد کا اچھا دوست تھا اس لیے اسی کے گھر چھپ کے رہنے لگا۔ مگر ایک دن نیاز احمد وہاں سے بھی غائب ہوگیا اور بعد میں اس کی لاش کے چار ٹکڑے ملے۔

 اس کے علاوہ کرشن چندر کے والد کے معاشقے شانو اور پیرن کے ساتھ اور ان کی والدہ کا شدید ردعمل کا مظاہرہ بھی اس ناول میں کرشن چندر نے بڑی بے باکی اور خوبی سے پیش کیا ہے۔معاشقے کی ایک کہانی یہ ہے کہ شانو دق کا مرض لے کر اسپتال میں داخل ہوئی۔ وہ بہت خوبصورت تھی۔ وہ بے سہارا اور بیوہ تھی جس کا شوہر منڈپ میں ہی مر گیا تھا۔ کرشن چندر کے والد گوری شنکر اسے دیکھتے ہی اس پر فدا ہوگئے۔ انھوں نے بڑے پیار اور احترام کے ساتھ اس کا علاج کیا۔ دن کو چار چار دفعہ اس کے پاس آتے اور گھنٹوں اس کے پاس بیٹھے رہتے۔ شانو جو بیوہ ہونے کے سبب گھر سے بے سہارا تھی، جس کی امیدیں مر چکی تھیں، گوری شنکر کی وجہ سے اس کی امیدیں پھر سے زندہ ہوگئیں۔ اس کی مرجھائی ہوئی زندگی پھر سے کھلنے لگ گئی۔ مگر یہ معاملہ زیادہ عرصہ نہ چل پایا۔ کرشن چندر کی ماں کو پتہ چل گیا اور شانو غائب ہوگئی۔جیسا کہ ظاہر ہے کہ یہ ناول کرشن چندر کے گھریلو حالات پر مبنی ہے اس لیے مذکورہ بیرونی تمام واقعات کا تعلق کرشن چندر کے گھر سے ہے۔ کرشن چندر کے والد جب بیمار ہوتے ہیں تو ان کی بیماری کا ذکرکرشن چندر نے بڑی فنکاری سے کیا ہے، اسی طرح جب ان کی والدہ کو سانپ ڈس لیتا ہے اور اس کے بعد وہ جن حالات سے گزرتے ہیں ان کی منظر کشی کرشن چندر کا ہی کمال ہے۔

میری یادوں کے چنار‘ ان کی اس زندگی کی عکاسی کرتا ہے جو انھوں نے پونچھ میں گزاری۔مختصراًیہ کہ یہ ناول کرشن چندر کے لڑکپن اور ان کے والدین کی گھریلو زندگی کے ساتھ جڑا ہوا دکھائی دیتا ہے۔اس ناول میں کرشن چندر نے ہر واقعہ کو اسی طرح بیان کیا ہے کہ طبیعت کھل اٹھتی ہے۔وہ خود نوشت تو نہیں لکھ پائے مگر ’ مٹی کے صنم ‘، ’ میری یادوں کے چنار‘ اور ’ آدھے سفر کی پوری کہانی‘ کی صورت میں اپنی زندگی کا کچھ حصہ منظر عام پر لے ہی آئے۔





تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...