19/7/21

حسان الہند مولانا احمد رضا خاں - مضمون نگار: محمد یٰسین

 



مولانا احمدرضا خاں نے شاعری کے تمام اصناف میں باکمال شاعری کی ہے۔ آپ کی شاعری میں تغزل کا رنگ زیادہ گہرا نظر آتا ہے۔ غزل کے انداز میں حمد، نعت، منقبت، قصیدہ وغیرہ خوب خوب کہا۔ علاوہ ازیں مثنوی، قطعات، رباعیات میں طبع آزمائی بھی کی ہے۔ مولانا کی قادر الکلامی کو دیکھ کر دنیائے اردو ادب کے بڑے بڑے علما، شعرا، ماہرین انگشت بدنداں ہیں۔ ان کے اشعار اور دوسرے شعرا کے اشعار میں تھوڑا موازنہ کرتے ہیں۔

 شکیل بدایونی کا ایک شعر ہے جس میں استعارے کا استعمال ہے     ؎

اے میرے ماہ کامل پھر آشکار ہوجا

اُکتا گئی طبیعت یاروں کی روشنی ہے

شاعر نے یہاں اپنی محبوبہ کے لیے اصل معنی ترک کر کے ’ماہ کامل‘ کے مجازی معنی کا استعمال کیا ہے اپنی معشوقہ کے لیے۔ وہیں احمدرضا خاں کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں  استعاروں کو زندگی کا سکون و آرام بتایا ہے      ؎

آنکھیں ٹھنڈی ہوں جگر تازے ہوں جانیں سیراب

سچے سورج وہ دل آرا ہے اجالا تیرا

نعمتیں بانٹتا جس سمت و ذی شان گیا

ساتھ ہی منشیِ رحمت کا قلمدان گیا

واللہ جو مل جائے میرے گل کا پسینہ

مانگے نہ کبھی عطر نہ پھر چاہئے دلہن پھول

اٹھادو پردہ دکھا دو چہرہ کہ نور باری حجاب میں ہے

زمانہ تاریک ہو رہا ہے کہ مہر کب سے نقاب میں ہے

کعبہ کے بدر الدجیٰ تم پہ کروڑوں درود

طیبہ کے شمس الضحیٰ تم پہ کروڑوں درود

اب یہاں تشبیہ کے کچھ اشعار موازنے کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ میر تقی میر کا مشہور زمانہ شعر ہے       ؎

نازکی ان کے لب کی کیا کہیے

پنکھڑی ایک گلاب کی سی ہے

شاعر نے بڑے فنکارانہ انداز میںاپنے محبوب کے ہونٹ کو گلاب کی پنکھڑی سے تشبیہ دی ہے۔

احمدرضا خاں اپنے محبوب کی شان میں کیا لاجواب اشعار کہے ہیں: ملاحظہ ہوں۔ جس میں نبی کریمؐ  کے نازک اور مبارک ہونٹوں کی سچی تصویر پیش کی ہے        ؎

پتلی پتلی گلِ قدس کی پتیاں

ان لبوں کی نزاکت پہ لاکھوں سلام

ماہر چاند پوری کا ایک شعر ہے       ؎

چاند سے چہرے میں بکھری ہے وہ زلف عنبریں

رات کیوں ہے آج اتنی دل ربا معلوم ہے

شاعر نے اس شعر میں اپنے محبوبہ کے چہرے کو چاند سے مشابہت کی ہے احمدرضا لکھتے ہیں       ؎

دل کرو ٹھنڈا میرا وہ کف پا چاند سا

سینے پہ رکھ دو ذرا تم پہ کروڑوں درود

ان اشعار میں احمدرضا خاں اپنے محبوب یعنی محمد رسول اللہ ؐ کے تلوؤں کی مثال چاند سے دی ہے         ؎

ریش خوش معتدل مرہم ریش دل

ہالۂ ماہ ندرت پہ لاکھوں سلام

احمدرضا خاں نے نبی کریمؐ کے چہرۂ مبارک اور داڑھی شریف کو ہالہ ٔ ماہ یعنی چاند کے ارد گرد جو کنڈل ہوتا ہے اس سے تشبیہ دی ہے بہت ہی خوبصورت انداز میں تصویرکشی کی ہے۔

صنعتِ مبالغہ میں اردو شعرا نے تو ایک سے بڑھ کر ایک شعر کہے ہیں یعنی حد سے مبالغہ کرنا اسی ضمن میں امیر مینائی کا شعر ہے         ؎

ہنس پڑے آپ تو بجلی چمکی

بال کھولے تو گھٹا لوٹ آئی

لیکن مولانا نے ایسے جو اشعار کہے ہیں اس میںمبالغے کی کوئی بات ہی نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کی جو شان  قرآن میں بیان کی ہے اس کو انھوں نے شعری پیرائے میں بڑی فنکاری سے پرو دیا ہے        ؎

اے رضا خود صاحب قرآن ہے مداح حضور

تجھ سے کب ممکن ہے پھر مدحت رسول اللہ کی

ہماری اردو شاعری میں صنعت اقتباس کا بھی استعمال کچھ شاعروں نے کیاہے یعنی اپنے شعر میں قرآن مجید کا ایک ٹکڑا لے کر مصرعے کو مکمل کرتے ہیں۔آئیے غالب کے دو مصرعے دیکھتے ہیں اور غالباً ایسے اشعار صرف دو ہی ہیں          ؎

دھوپ کی تابش آگ کی گرمی

وقنا ربنا عذاب النار

جاں مطرب ترانہ ٔ ھل من مزید ہے

لب پر وہ سنج زمزمۂ الاماں نہیں

آئیے علامہ اقبال کے کچھ اشعار پیش کرتے ہیں         ؎

رنگ اوادنی میں رنگین ہو کے اے ذوق طلب

کوئی کہتا تھا کہ لطف ِ ما خلقنا اور ہے

زندگی از دھر و دھر از زندگی ست

لا تسبو االدھر فرمان نبی ست

کس کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھے

منہ کے بل گرکے ھو اللہ احد کہتے تھے

چشم اقدام یہ نظارہ ابد تک دیکھے

رفعت شان رفعنا لک ذکرک دیکھے

علامہ اقبال کے علاوہ اردو کے بہت سے شعرا نے صنعتِ اقتباس کا استعمال اپنے اپنے اشعار میں اپنی فنی صلاحیت سے کیا ہے لیکن احمدرضا خاں کے کلام میں صنعتِ اقتباس کی موجودگی اتنی کثرت سے پائی جاتی ہیں کہ اس کو ایک مضمون میں بیان کرنا مشکل ہے کچھ اشعار مثال کے طور پر آئیے دیکھتے ہیں           ؎

ورفعنا لک ذکرک کا ہے سایہ تجھ پر

بول بالا ہے ترا  ذکر ہے اونچا تیرا

غنچے مایوحیٰ کے جو چٹکے دنی ٰکے باغ میں

بلبل سدرہ تک ان کی بو سے بھی محر م نہیں

فاذا فرغت فانصب یہ ملا ہے تم کو منصب

جو گدا بنا چکے اب اٹھو وقت بخشش کرو قسمت عطایا

مژگان کی صفیں چار ہیں، دو ابرو ہیں

والفجر کے پہلو میں لیال عشر

دیکھنے والوں نے کچھ دیکھا نہ بھالا نور کا

من رای کیسا ؟ یہ آئینہ دکھا یا نور کا

ک گیسو ہ دہن ابرو آنکھیں ع ص

کھیٰعٰص ان کا چہرہ ہے نور کا

صنعتِ تضاد میں بھی احمدرضا خاں کا کوئی جواب نہیں۔اس صنعت میں ان کے ہزاروں اشعار ہیں ان کو یہاں پیش کر پانا بہت مشکل ہے۔ کچھ اہم اشعار ہم ضرور نقل کریں گے اور ساتھ میں اکابرین ِ اردو کے شاعروں کے اشعاربھی مثال کے طور پر تحریر کریں گے جس سے احمدرضا خاں کی وصف کی توضیح و موازنہ بھی ہوجائے گا۔

مرزا اسد اللہ خاں غالب کا شعر ہے      ؎

فرش سے تا عرش، واں طوفاں تھا موج ِ رنگ  کا

یا زمین سے آسمان تک سوختن کا باب تھا

اس شعر میں فرش و عرش کا تضاد دکھایا گیا ہے۔

اکبرالٰہ آبادی کا شعر ہے       ؎

نگاہ ناز بتاں پر نثار دل کو کیا

زمانہ دیکھ کے دشمن سے دوستی کرلی

 یہاں پر دوستی اور دشمنی ایک دوسرے کے ضد میں شعری پیرائیے میں لایا گیا۔

اصغر گونڈوی کا شعر ہے        ؎

اس عالم ہستی میں نہ مرنا ہے نہ جینا ہے

تونے کبھی دیکھا نہیں، مستوں کی نظر سے

اس میں مرنا اور جینا دو متضاد کو پیش کیا گیا ہے۔

فیض احمد فیض کا شعر ہے       ؎

وصل کی شب تھی تو کس درجہ سبک گزری تھی

ہجر کی شب ہے تو کیا سخت گراں ٹھہری ہے

اس شعر میں وصل کی ضد ہجر، سبک کی ضد گراں اور ’ تھی ‘ کی ضد ’ ہے‘ ہے۔

جگر  مرادآبادی کا شعر ہے       ؎

خدا جانے محبت کون سی منزل کو کہتے ہیں

نہ جس کی ابتدا ہی ہے، نہ جس کی انتہا ہی ہے

اس شعر میں ابتدا اور انتہا دومتضاد الفاظ ہیں۔

 احمدرضا خاںکے اشعار کو دیکھتے ہیں کہ صنعت تضاد کو بڑی فنی خوبیوں و صلاحیتوں سے اردو شعری پیرائے کو مزیّن و آراستہ کیا ہے      ؎

بڑھ چلی تیری ضیا اندھیر عالم سے گھٹا

کھل گیا گیسو ترا، رحمت کا بادل گھر گیا

نہ آسمان کو یوں سر کشیدہ ہونا تھا

حضور خاک مدینہ خمیدہ ہونا تھا

نار و دوزخ کو چمن کردے بہار عارض

ظلمت حشر کو دِن کردے نہار ِ عارض

کبھی خاک پر پڑا ہے، سر چرخ زیرپا ہے

کبھی پیش در کھڑا ہے۔ سر بندگی جھکایا

ہلکا ہے اگر ہمارا پلّہ

بھاری ہی ہے تیرا وقار آقا

صنعت ِ تلمیح کے کچھ اشعار کا موازنہ کرتے ہیں :

مرزا اسد اللہ خاں غالب کا شعر ہے        ؎

قید میں یعقوب نے لی گو نہ یوسف کی خبر

لیکن آنکھیں روزنِ دیوار زنداں ہوگئیں

فانی بدایونی کا شعر ہے       ؎

طور نے جل کر ہزاروں طور پیدا کردیے

ذرہ ذرہ میرے دل کی خاک کا دل ہوگیا

مولانا احمدرضا خاںکے اشعار دیکھتے ہیںجس میں صنعت تلمیح بڑی فنکاری سے پیش کی گئی ہے          ؎

تیری مرضی پاگیا، سورج پھر الٹے قدم

تیری انگلی اٹھ گئی مہ کا کلیجا چِر گیا

اس شعر میں جناب علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نماز عصرقضا کو ادا کرنے کے لیے حضور اقدسؐ  نے سورج کو واپس ہونے کا حکم دیا تھا اسی واقعے کو اس شعر میں بحسن خوبی پیش کیا ہے        ؎

اپنے مولیٰ کی ہے بس شان عظیم

جانور بھی کریں جن کی تعظیم

سنگ کرتے ہیں ادب سے تسلیم

پیڑ سجدے میں گرا کرتے ہیں

اس مصرعے میں جانوروں کے سجدے اور سنگریزوں کے آقا علیہ السلام پر درود و کلمہ ٔ شہادت اور مصرعۂ ثانی میں معجزۂ شق القمر یعنی چاند کے دو ٹکڑے ہونے کے معجزہ کی طرف اشارہ ہے۔

حسن ِتعلیل کے کچھ اشعار دیکھتے ہیں۔

مرزا غالب کا شعر ہے        ؎

میں چمن میں کیا گیا، گویا دبستان کھل گیا

بلبلیں سن کر میرے نالے غزل خواں ہوگئیں

فیض احمد فیض کا شعر ہے       ؎

رنگ پیراہن کا، خوشبو زلف لہرانے کا نام

موسم گل ہے تمھارے بام پر آنے کا نام

مولانا  احمدرضاخاںکے اشعار میں حسن ِ تعلیل کا کس فنی صلاحیتوں سے استعمال کیا گیا ہے وہ لائق ستائش ہے       ؎

خم ہوگئی پشت فلک اس طعن ِ زمین سے

سن ہم پہ مدینہ ہے وہ رتبہ ہے ہمارا

چمن طیبہ میں سنبل جو سنوارے گیسو

حور بڑھ کر شکن ناز پہ وارے گیسو

رخ انور کی تجلی جو قمر نے دیکھی

رہ گیا بوسہ دہ ِ نقش کف ِ پا ہو کر

مولانا احمدرضا خاںنے سبھی اجزائے ترکیبی میں شعر کہے ہیں یہاں پر سبھی ترکیبوں کا ذکر کر پانا بہت مشکل ہے۔ شاعری کی شاید ہی کوئی ایسی صنعت ہو جس کو انھوں نے کلام آراستہ نہ کیا ہو۔ جب کہ اردو ادب کے صفِ اول کے شاعر کہلانے والے نامور شاعروں کے دیوان اردو شاعری کی بہت سی صنعتوں سے محروم ہیں۔ آپ کی تمام شاعری کا جائزہ لینے میں اہل ادب تأمل نہ کرتے اور فن و ادب کے کمال کے ترازو میں رضا کے اشعار اور دیگر شعرائے اردو ادب کے اشعار کا موازنہ کرتے لیکن ایسا نہیں ہوا اہل ادب نے تنگ نظری اور تعصب پذیر ذہنیت کا ثبوت دیا فن و ادب سے وابستگی رکھنے والے با صلاحیت اور دانش ور طبقے کو بھی طوطا چشمی کا مرض لگ گیا جو عدل قائم کرنے میں ناکام رہے اردو ادب میں ایک عظیم سخن ور کو نظر انداز کیا گیا۔ کاش ایسا نہ ہوتا تو اہل اردو ادب رضا کے کلام کو بطور مثال پیش کرتے۔ جس نے تمام صنعتوں میں اشعار کہہ کر فن شاعری کو سر بلندی عطا کی ہے۔ جس کا اعتراف کرنا پڑے گا        ؎

چمک تجھ سے پاتے ہیں سب پانے والے

میرا دل بھی چمکا دے چمکانے والے

تو زندہ ہے واللہ تو زندہ ہے واللہ

میری چشم عالم سے چھپ جانے والے

بگڑا جاتا ہے کھیل میر

آقا آقا سنوار آقا


Dr. Mohammad Yaseen

A-380, G.T.B

Nagar Karela

Allahabad - 211016

Mob.: 9336084416

ماہنامہ اردو دنیا، جون 2021 

 

 


اکیسویں صدی میں ہندوستان کا اردو افسانہ - مضمون نگار شہاب ظفر اعظمی

 



اکیسویں صدی اردو فکشن کے لیے بہت زرخیز ثابت ہوئی ہے۔قلم کاروںاور قارئین دونوںکونثری اصناف میں سب سے زیادہ اردو فکشن نے ہی متوجہ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آہستہ آہستہ یہ صدی ’فکشن کی صدی‘ کے طور پر پہچان قائم کررہی ہے۔میںیہ بات مبالغتاً نہیں حقیقتاً کہہ رہاہوں کیونکہ اس صدی کی دو دہائیوں میںجس تواتر کے ساتھ افسانوی مجموعے اس کی مقبولیت، افسانہ نگاروں اور افسانہ پسند قارئین کے بیدارمغز ہونے کا ثبوت فراہم کیاہے۔ 2017 میںمعروف ناقد ڈاکٹر نعیم انیس نے اپنی کتاب ’اکیسویں صدی میںاردو افسانہ‘ میںنئے افسانوی مجموعوںکی جو نامکمل فہرست بنائی ہے اس میں محض سترہ سالوں میں 350   افسانوی مجموعے شمار کروائے گئے ہیں۔اس تناسب کا خیال رکھا جائے تو دو دہائی میں یہ تعداد تقریباً 500 تک پہنچ جاتی ہے۔ جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ صدی افسانوی ادب کی صدی کے طور پر شناخت قائم کررہی ہے۔

اکیسویں صدی میں اردو افسانہ لکھنے والوں کی کئی نسلیںایک ساتھ لکھ رہی ہیں۔کچھ ترقی پسند تحریک کی یادگار ہیں،کچھ جدیدیت کی دین ہیں،کچھ مابعد جدیدیت کے قائل اور کچھ بالکل نئے زمانے یعنی اکیسویں صدی کی نئی نسل سے تعلق رکھنے والے۔اِن تمام لکھنے والوں میںکم وبیش سب نے عصری مسائل کو اپنے فکشن میں برتا ہے۔ موضوعات کی تخصیص نہیں رہی ہے۔مثبت اور منفی کی خانہ بندی نہیں رہی۔افسانہ چاہے بیانیہ ہو یا علامتی، جدید  رہاہو یا غیر جدید،عصری موضوع ہر زمانے میں اور ہر طرح کے افسانوں میں موجود رہا۔اس سلسلے میں اقبال مجید، رتن سنگھ، شفیع جاوید، جیلانی بانو سے حسین الحق، عبدالصمد، شوکت حیات، سلام بن رزاق،انیس رفیع،علی امام، شموئل احمد اور بعد میں سید محمد اشرف، نورالحسنین، مشرف عالم ذوقی، نگارعظیم، قمر جہاں، خورشید حیات، ثروت جہاں اور صغیر رحمانی وغیرہ کی نسل تک کے متعدد افسانے بطور مثال پیش کیے جاسکتے ہیں۔

موجودہ جدید ترین عہد جسے اکیسویں صدی کے نام سے جانا جاتاہے،یہ موضوعاتی،فکری اور تہذیبی اعتبار سے گذشتہ صدی سے کئی معنوں میں مختلف ہے۔یہ عہد انفارمیشن ٹکنالوجی کا عہد ہے،انٹرنیٹ،ویب سائٹ،  پورٹل، ای میل،ایس ایم ایس، واٹس اپ، ٹوئٹر، گوگل سرچ،  وکی پیڈیا موبائل، انٹر نیٹ،  ای کتب، ای لائبریری نے اسکول کالج اور یونیورسٹی ہی نہیںہماری زندگیوں میںبھی انقلاب پیدا کردیاہے۔نئے مسائل، نئے موضوعات اور نئے راستوں سے آشنا کیا۔مگر دوسری طرف زندگی کو سہل اور آسان بنانے کی جتنی راہیںہموار ہوئیں،آسائشوں کے دروازے بھی کھل گئے۔ کاریں، فلیٹس، موبائل اور ٹیبلیٹ ہمارے لیے اسٹیٹس سمبل بن گئے۔انسان کی پوری توجہ مادی آسائش، پرائیویسی حصول دولت پر ہو گئی۔نتیجہ یہ ہواکہ فحاشی،ہوس پرستی،قتل وغارت گری، زنا، درندگی اور غیر انسانی افعال نے معاشرے کو اپنی گرفت میںلے لیا۔انسانیت کا زوال آخری حد کو پہنچ گیا اور رشتوں کا تقدس باقی نہ رہا۔ اب مسائل کا ایک نیا انبار ہے جو اسے اپنی گرفت میںلے کر مثبت اور توانا قدروں کی جانب سوچنے کا بھی موقع نہیںدیتا۔چنانچہ وہ فکشن نگار جو بیسویں صدی سے لکھتے آرہے ہیں یا وہ جنھوں نے اسی صدی میںلکھنا شروع کیاہے،دونوں کے یہاں اِس عہد کے نئے مسائل شعوری یا غیر شعوری طور پر حاوی ہیں۔ ایک طرف جیلانی بانو، عبدالصمد، غضنفر، حسین الحق، سلام بن رزاق،شوکت حیات،شموئل احمد،طارق چھتاری، سید محمد اشرف، بیگ احساس، نورشاہ، خورشید حیات،انیس رفیع، نورالحسنین، شاہد اختر، ذکیہ مشہدی،ترنم ریاض،نگار عظیم،احمد صغیر،صغیر رحمانی،اسرار گاندھی،مشرف عالم ذوقی، مشتاق احمد نوری، غزال ضیغم، دیپک بدکی، اسلم جمشیدپوری، فیاض رفعت، عشرت بیتاب، اقبال متین، انجم عثمانی، مشتاق اعظمی،ف س اعجاز، صدیق عالم، حمید سہروردی، اقبال حسن آزاد، شہیرہ مسرور، قاسم خورشید، فخرالدین عارفی،عشرت ظہیر اور ابن کنول وغیرہ ہیںجو ماقبل صدی سے لکھ رہے ہیںمگر نئی صدی کے مسائل و موضوعات نے بھی انھیںاپنی طرف متوجہ کیا ہے۔ دوسری طرف نئے لکھنے والے بھی خاصی تعدا د میںہیں جن کے موضوعات نئی صدی کے مسائل کے ساتھ ہی شروع ہوئے ہیں۔ایسے افسانہ نگاروں میں کہکشاں پروین، مسرورتمنا، اشرف جہاں، شبیر احمد،پرویز شہریار،ایم مبین، سید احمد قادری، فہیم اختر، فاروق راہب، بلراج بخشی، وحشی سعید، یسین احمد، خالد جاوید، اشتیاق سعید، سلمیٰ صنم، بشیر مالیرکوٹلوی، صادقہ نواب سحر، شائستہ فاخری، تسنیم فاطمہ، افشاں ملک، شبانہ رضوی، غزالہ قمر اعجاز، فرقان سنبھلی، ارشد نیاز،مشتاق احمد وانی، مہ جبیں انجم، زیب النسا، ریاض توحیدی، ابرارمجیب، آشا پربھات، عشرت ناہید، شہناز رحمان، نشاں زیدی، احمد رشید، نوشابہ خاتون، رخسانہ صدیقی، عنبری رحمان، اختر آزاد، مہتاب عالم پرویز، نیاز اختر، نصرت شمس، شارقہ شفتین، سلمان عبدالصمد، سفینہ، شفقت نوری، نہال آڑھوی، ترنم جہاں شبنم،وسیم عقیل شاہ،مستمر،محمد علیم اسماعیل،رومانہ تبسم اور ذاکر فیضی وغیرہ کے نام آتے ہیں۔میں یہاںپر واضح کردوں کہ کسی نسل کا  ذکر کرتے ہوئے فہرست سازی قطعی مقصود نہیںاس لیے مثالاً جن کے نام یاد آرہے ہیں ذکر کررہاہوں۔اس سے کہیں زیادہ نام ہو سکتے ہیں جو اپنے عہد کی نمائندگی کرتے ہیں۔اِن تمام لکھنے والوں نے عہد حاضر کے جن مسائل کو خصوصی طور پر اپنے افسانوں میں برتاہے وہ ہیں ماحولیات کا تحفظ،پانی کی قلت، مذہبی منافرت، شدت پسندی، مسلک کی لڑائی، فرقہ پرستی، دہشت گردی، عورتوں کی آزادی، روایتی عورتوں کے خانگی مسائل، تانیثی احتجاج، انسانیت کا زوال، خودغرضی و بے ضمیری، وطن سے محبت، انسان کی جنسی کج روی، زرد صحافت اور دلت طبقات کے مسائل وغیرہ۔کچھ افسانوں کے نام شمار کرتے ہوئے مثالاً ایک دو ا فسانے پر گفتگو کرنے کی کوشش کروں گا۔مثلاً ماحولیات کے تحفظ،پانی کی قدروقیمت،شجر کاری کی اہمیت پر جو افسانے لکھے گئے ہیں ان میں مہتاب عالم پرویز کا افسانہ ’کارواں‘ مہ جبین نجم کا افسانہ’بے جڑ کا پودا‘ فرقان سنبھلی کا ’آب حیات‘ اور اختر آزاد کا افسانہ ’پانی‘ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ان میں ماحولیات کے تحفظ کے ساتھ شجر کاری،پانی کی قدروقیمت اور آلودگی یعنی Pollution کے مسائل خوبصورتی سے پیش کیے گئے ہیں۔

پانی،پودے اور ماحول : نئی صدی میں پورے ملک میں رائج کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔مہ جبیں نجم نے اپنے افسانے ’بے جڑ کا پودا‘ میں اسی فکر کو فنکاری سے برتا ہے۔ کہانی میں ایک درخت اور اس کا نگہبان بس دو کردار ہیں اور دونوں ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں۔ مگر وقت کے ساتھ ان دونوں کی محبت میںکمی ہوجاتی ہے اور درخت سوکھنے لگتاہے۔کہانی بیانیہ کی تہ داری کے سبب مختلف ابعاد کی حامل ہے۔پیڑ کا سوکھنا محبت کے فقدان کی علامت بھی ہو سکتاہے۔مگر ظاہری سطح پر یہ کہانی تحفظ ماحولیات کی نمائندگی کرتی ہے۔یہ ایک طرف پانی کے تحفظ کا درس دیتی ہے تو دوسری طر ف پیڑ پودوں کی بقا کی اہمیت واضح کرتی ہے جس کا تعلق پانی کے وجود سے ہی ہے۔اسی لیے کہانی کے اختتام پر جب پیڑ کی زندگی کے لیے پانی کی ضرورت پڑتی ہے تو نگہبان اس کی تلاش میں نکل پڑتاہے:

’’نگہبان مجھے دلاسہ دے کر پانی کی تلاش میں نکل پڑا۔

دن ڈھل گیا،وہ نہیں لوٹا تو مجھے تشویش ہونے لگی۔ مگر رات کے پر پھیلانے سے پہلے وہ لوٹ آیا۔ بدحال۔ تھکا ماندہ... مگر اس کے ہاتھوںمیںپانی دیکھ کر میرے نازک وجود میں سرور کی لہریں دوڑ گئیں۔اس نے وہ پانی مجھ پر چھڑکا تو مجھے لگا جیسے میرے تن سے جڑیں پھوٹ رہی ہوں۔‘‘(افسانوی مجموعہ’پیاس‘، 2004 )

گویا پیڑ پودوں کی بقا پانی پر منحصر ہے۔افسوس ہم پانی کی اہمیت سے ناواقف ہیں۔ زندگی کے وجود کے لیے سب سے ضروری چیز پانی کا تحفظ نہیں کرسکے ہیں۔ اسی لیے فرقان سنبھلی اپنے افسانہ ’آب حیات‘ میں ایک کردار سے کہلواتے ہیں کہ :

’’ہمارے سیارے پر ہر سہولت اور ہر شے موجود ہے جو کسی بھی آکاش گنگا میں پائی جاتی ہوگی لیکن ہمارے بزرگوں نے ترقی کی اندھی خواہش میں نہ صر ف کنکریٹ کے جنگل کھڑے کیے بلکہ تالاب پاٹ ڈالے،ہرے بھرے پیڑ کاٹ ڈالے اور یہاں تک کہ قدرت کے ساتھ دشمنی کی کہ سیارے کی آب وہوا آلودہ ہو گئی،پانی سوکھ گیا۔ندی نالے ختم ہو گئے۔ یہاںکی مخلوق پانی کی قلت سے تِل تِل مرنے لگی۔‘‘ (مجموعہ ’آب حیات‘ 2010)

فرقان سنبھلی نے پانی کی قدروقیمت او راس کے تحفظ کو زندگی و دنیا کی بقا کے لیے بنیاد قرار دیاہے۔

مذہب،نفرت اور دہشت: مذہبی شدت پسندی ہمارے ملک کا بڑا مسئلہ ہے،جس نے منافرت کی ایسی دیوا رکھڑی کی ہے کہ بدامنی،فرقہ واریت اور فسادات ہمارا مقدر ہو گئے ہیں۔فسادات اور فرقہ واریت پر یوں تو پہلے سے افسانے لکھے جاتے رہے ہیں،مگر موجودہ عہد میں مذہبی شدت پسندی اور منافرت کو افسانہ نگاروں نے نئے تناظر میں دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ اس سلسلے میں خورشید اکرم کا افسانہ ’مذبح کی بھیڑیں‘،  ذوقی کاافسانہ ’لیباریٹری‘ ایم مبین کا ’نئی صدی کا عذاب‘ خورشید حیات کا ’انسانیت کے دشمن‘ صغیر رحمانی کا افسانہ ’داڑھی‘  ارشد نیاز کا ’یہ جہاد نہیں انتقام ہے‘اور ریاض توحیدی کا افسانہ ’جنت کی چابی‘ وغیرہ پڑھے جاسکتے ہیں۔

مثلاً خورشید حیات نے ’انسانیت کے دشمن‘ میں دو دوستوں کی طنزیہ کہانی رقم کی ہے جن میں ایک ہندو ہے اور دوسرا مسلم۔یہ دونوں نئی نسل کے ان نوجوانوں کی نمائندگی کر رہے ہیں جن کے ذہن ہر قسم کی فرقہ واریت، شدت پسندی اور منافرت سے آزاد ہیں۔یہ ایک صالح، امن پسند اور محبتوں سے بھرپور معاشرے کا خواب دیکھتے ہیں۔مگر سیاست اور فرقہ واریت اۡنہیں ایسے حالات سے دوچار کردیتی ہے جسے وہ سمجھنے سے قاصر ہیں:

’’رحیم میرے بھائی، ابھی کوئی ہندو نہیں، کوئی مسلمان نہیں،سبھی انسانیت کے دشمن ہیں۔چلو ہم دونوں اِس شہر،جنگل سے دور چلیں۔غموں سے لدے ہوئے دونوں راکیش اور رحیم ایک دوسرے کو سہارا دیتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے، ان کے معصوم ذہن میںطرح طرح کے سوالات ابھر رہے تھے مگر وہ اپنے سوالوں کا جواب کس سے پوچھیں؟کس سے مانگیں؟ (مجموعہ ’ایڈز‘  2000)

اسی نفرت اور شدت پسندی کو کشمیر کے تناظر میں ریاض توحیدی نے ’جنت کی چابی‘ میں ایک نئے کینوس پر پیش کیاہے۔

’جنت کی چابی‘ یا اِس طرح کے دیگر افسانے دراصل دہشت گردی،مذہبی منافرت اور شدت پسندی کی صورت میں عصر حاضر کے اۡن المیوں کا آئینہ ہیں جو ہمارے معاشرے میںتیزی کے ساتھ پنپ رہے ہیں۔

سیاست،فرقہ واریت اور قومی یک جہتی: اِس طرح کے مسائل کا تعلق ہماری سیاست سے بھی ہے۔ سیاست اور ملک کی سیاسی صورت حال پر مشرف عالم ذوقی کے افسانے گلدان،لیباریٹری،ذکیہ مشہدی کا ’بھیڑیے سیکولر تھے‘  شاہد اختر کا ’کتے‘  ابرار مجیب کا ’رات کا منظر نامہ‘ اور احمد رشید کے افسانے ناخدا،مداری اور اندھا قانون وغیرہ پڑھے جاسکتے ہیں۔

مگر ان افسانہ نگاروں نے سیاسی صورت حال سے پیدا شدہ تاریکی میں روشنی بکھیرنے والے کرداروں کو بھی گڑھا ہے۔ہمارے ملک کی بنیاد قومی یک جہتی اور وسیع المشربی پر قائم ہے۔صدیوں سے ہند و مسلمان اس ملک میں ایک ساتھ رہتے چلے آرہے ہیں اور ان میں باہمی تعلقات بھی ہیں۔کبھی کبھی ان کے درمیان اختلافات ہوتے ہیں۔اس کا فائدہ سیاسی پارٹیاں اٹھاتی ہیں۔ نئے افسانہ نگاروں نے اکثر اپنی کہانیوں سے ہندو مسلمان کے درمیان خلیج کو کم کرنے اور محبت کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ ذوقی کے افسانے مگر نینی،ہجرت،قیصر اقبال کا افسانہ ’مٹی‘ شفیع مشہدی کا ’پنڈدان‘ سید احمد قادری کا ’زندگی کے لیے‘ مجیر احمد آزاد کے افسانے پہچان، تاریک راتیں اور قیام نیر کا افسانہ ’دھوپ سایہ‘ وغیرہ اسی قبیل کی کہانیاں ہیں۔ مثلاًسید احمد قادری کے دو کردار دیکھیے شیخ رحمت اور مکند پرساد،جن کے درمیان نہر کے پانی کے بٹوارے پر جھگڑا ہوجاتاہے اور گائوں دو گروپ میں منقسم ہو جاتاہے۔اسی دوران زبردست سیلاب آگیا اور افراتفری مچ گئی۔ رمضان کا مہینہ تھا، سارے گائوں نے سب سے اونچی جگہ یعنی مندر کو پناہ گاہ بنالیا۔ افطار کا وقت آگیا۔شیخ رحمت نے سوچا افطار کیسے ہو؟ ابھی وہ یہ سوچ ہی رہے تھے کہ اچانک بھیڑ کو چیرتاہوا مکند پرساد اور ان کا بیٹا ارون سامنے آیا۔ان کے ہاتھ میں پنڈت کی تھالی تھی، جس میںکئی طرح کے پھل تھے اور لوٹا میںپانی تھا۔ مکند پرساد شیخ رحمت کے قریب آکر کھڑا ہوگیا اور بولا’’تم لوگ روزہ سے ہو،سمئے ہو گیاہے،روزہ کھول لو‘‘۔شیخ رحمت نے مکند پرساد کی باتیں سنیں اور ان کی آنکھیں بھر آئیں۔ وہ جلدی سے کھڑے ہو گئے اور مکند پرساد کو گلے لگاتے ہوئے کہا’’ انسانیت ایک ایسا رشتہ ہے جس کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔‘‘(افسانوی مجموعہ ’ملبہ2015)

اسی طرح مجیر احمد آزاد ’برگد‘ میں سماجی ہم آہنگی کا درس دیتے ہیںکہ چودھری ونشی دھر کی شخصیت برگد کے پیڑ کی طرح ہے جس کے سائے میں ہندو مسلمان راحت اور سکون پاتے ہیں۔رحمان شاہی’سانپ کا پھن پکڑنے والے‘  میں یہ دکھاتے ہیں کہ گائوں کے بھولے بھالے عوام آپس میں مل جل کر رہتے ہیں لیکن نیتا جی کی طرح کوئی خرافاتی سیاست کا کھیل کھیل کر سماجی اعتماد کو ختم کرنے کی کوشش کرتاہے۔اس طرح تمام نئے افسانہ نگار نہ صرف سیاسی دائوں پینچ سے قارئین کو واقف کراتے ہیں بلکہ ملک کی سالمیت،سماجی ہم آہنگی کا درس دے کر سماج کو بہتر اور پرامن بنانے میں تعاون کرتے ہیں۔

تانیثیت،بغاوت اور نسائی حسیت: ’عورت‘ ہمیشہ اردو فکشن کا مرکزی موضوع رہی ہے۔اۡنہیں موضوع بنانے والوں میں عورتیں خود بھی رہیں اور مردوں نے بھی اپنے طور پر انھیں پیش کیا۔نئے زمانے میں تانیثیت،نسائی حسیت اور نسوانیت کے حوالے سے عورتوں کے مسائل کو سمجھنے کی کوشش فکشن نگاروں نے کی ہے۔موجودہ عہد کی عورت روایتی عورتوں کے برعکس خوداعتمادی اور جرات کا مظاہرہ کرتی ہے۔وہ مجبور نہیں رہی،اپنے مسائل سے خود نبردآزما ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔وہ خود کو Empower بھی کررہی ہے۔ اور اپنی ہم جنس خواتین کو Empower   کرنے کی کوشش بھی کررہی ہے۔ اشرف جہاں کا افسانہ ’اکیسویں صدی کی نرملا‘  نفیس بانو شمع کا ’برف کا آدمی‘  غزال ضیغم کا ’سوریہ ونشی چندرونشی‘ شائستہ فاخری کا ’اداس لمحوںکی خود کلامی‘ رفیعہ شبنم عابدی کا ’کہو قبول ہے‘  غزالہ قمر اعجاز کا ’کھوکھلے ر شتے‘ کہکشاں پروین کا ’تواپر کی عورت ‘ تسنیم فاطمہ کا ’آدھا چاند‘ سلمیٰ صنم کا ’یخ لمحوں کا فیصلہ‘ ترنم جہاں شبنم کا ’کوکھ کی تلاش‘ عشرت ناہید کا ’آج کی حوا ‘  اور رخسانہ صدیقی کے ’وجود‘ میں عورت ایک خاص تیور کے ساتھ جلوہ گر نظر آتی ہے۔یہ عورت آج کی عورت ہے جو سماج کی ناانصافیوں کو برداشت تو کرتی ہے مگر اسے نوشتہ ٔ تقدیر سمجھ کر قبول نہیںکرتی۔نگار عظیم کا افسانہ ’حصار‘ دیکھیے جس میں زاہدہ اپنی بیٹی کی تعلیم کے لیے اپنے شوہر کے سامنے تن کر کھڑی ہو جاتی ہے۔زاہدہ تعلیم یافتہ تھی اس لیے تعلیم کی اہمیت سے واقف تھی۔اۡس کا شوہر مزمل بیٹی کو زیادہ پڑھانے کے حق میں نہیں تھا۔ اپنی بیٹی کا کالج کے دوستوں کے ساتھ ایک گروپ فوٹو دیکھ کر مزمل آگ ببولا ہو جاتاہے۔زاہدہ سے تو تو میں میں کے بعد وہ بیٹی کو گھسیٹ کر ایک طرف لے گیا اور زاہدہ کو کئی تھپڑ رسید کردیے کہ بیٹی کی بے راہ روی کا ذمہ دار وہ اسی کو مانتا تھا۔ایسے میں زاہدہ کے اندر کی عورت بیدار ہوگئی:

’’تھپڑ کھانے کے بعد زاہدہ سنبھلی... اور اپنی تمام قوت بٹور کر دہاڑی...بس...خاموش... ہاتھ میرا بھی اۡٹھ سکتاہے۔میری بیٹی پڑھے گی اور ضرور پڑھے گی۔بیوی کی مضبوط آواز اور اٹل قوت ارادی دیکھ کر مزمل بھونچکا سا رہ گیا‘‘( گہن)

اسی طرح سلمیٰ صنم عورتوں کے ساتھ عدم مساوات اور جانبدارانہ رویے سے دلبرداشتہ ہیںاس لیے عورت کے حقوق منواتے ہوئے ان کے لہجے میںسہمناکی کے بجائے بلا خوفی ہے۔انھیں ان مراعات سے کدہے جن سے رحم اور ترس کی بو آتی ہے۔وہ معاشرہ جس کی کم وبیش نصف آبادی عورت پر مشتمل ہے محض اس لیے اسے آزادی سے محروم نہیںرکھا جاسکتا کہ وہ عورت ہے۔اس کے لیے اختیارات و قوانین کا معیا رجدا کیوں؟یہ سوال بار بار صادقہ نواب سحر،ثروت خان،سلمیٰ صنم،اشرف جہاں، شائستہ فاخری، افشاں ملک سے شہناز رحمان تک سب نے اٹھائے ہیں۔سلمیٰ صنم کی کہانی ’یخ لمحوںکا فیصلہ‘ کی ثانیہ اپنے فیصلے کا حق نہیںکھونا چاہتی۔اسی لیے شوہر منصور کی خواہش کہ ’لڑکی ہے اس لیے حمل ضایع کردو‘ اور دھمکی کہ ’ایسانہ کرنے پر وہ دوسری شادی کرلے گا‘کے باوجود ثانیہ بیٹی کو جنم دینے کے اپنے حتمی فیصلے پر اٹل رہتی ہے۔ ثروت خان کی ’مانکی‘ کی عزت نفس پر حملہ ہوتا ہے تو وہ شوہر پر ہاتھ اٹھا دیتی ہے،شائستہ فاخری کی ثانیہ غفور بڑے اعتما د کے ساتھ شوہر کو طلاق دے کر آزادی حاصل کرتی ہے اوراشرف جہاں کی عورت بیٹی کو یہ تعلیم دیتی ہے کہ ’عورت کی شکتی کچھ ارن کرنے میں ہے‘۔ صادقہ نواب سحر کے افسانے ’راکھ سے بنی انگلیا ں کی تبسم زیدی،اختر آزاد کے ’شدھی کرن‘ کی ’عورت‘،تبسم فاطمہ کے حجاب کی ’نجمہ باجی‘ نورالحسنین کے’زہر‘ کی اوشا اوربشیر مالیر کوٹلوی کے افسانہ ’سلگتے لمحوں کا حساب‘ کی نیلما میں بھی ایسی ہی عورت دکھائی دیتی ہے۔گویا اکیسویں صدی کے افسانوں میںعورت کا ایک نیا روپ ابھر کر سامنے آتا ہے جس نے حالا ت کا مقابلہ کرنا سیکھ لیاہے اورجو مردوں کے شابہ بشانہ چل کر سماج اور ملک کو بہتر بنانے میں نمایاں رول ادا کررہی ہے۔

دلت،انصاف اور احتجاج: دلت کردار اور دلت طبقے کے مسائل ہندستانی سماج کا اہم حصہ رہے ہیں اور دوسری زبانوں میںماقبل صدی سے ہی اہم موضوع کے طور پر برتے جاتے رہے ہیں۔مگر اردو میں دلت مسائل پر افسانے نسبتاً کم لکھے گئے ہیں۔ہمارے سینئر لکھنے والوں میں پریم چند،کرشن چندر،عصمت چغتائی،خواجہ احمد عباس، سلام بن رزاق،انور قمر،ساجد رشید،غضنفر،شوکت حیات اور جابر حسین وغیرہ نے دلت کہانیاں لکھی ہیں مگر اس میں زیادہ رفتار اکیسویں صدی میں پیداہوئی ہے۔شموئل احمد، مشتاق احمد نوری، ذوقی، رحمان شاہی، صغیر رحمانی،احمد صغیر، قاسم خورشید،اختر آزاد اور مجیر احمد آزاد وغیرہ کے یہاں دلت موضوعات پر کہانیاںکثرت سے ملتی ہیں۔ احمد صغیر نے تو ایک مجموعہ ہی مکمل طور پر دلت افسانوں کا پیش کردیاہے جو ’کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے‘ کے نام سے دلت ڈسکورس کو آگے بڑھاتاہے۔دلت موضوع پر اکثر افسانہ نگاروں نے احتجاج اور انتقام کے بجائے حالات کی تبدیلی کی ضرورت پر زور دیاہے۔احمد صغیر کے افسانے تعفن، شدھی کرن، پیاسی زمیں پیاسا آسماں، اسلم جمشیدپوری کا افسانہ ’بنتے مٹتے دائرے‘ صغیر رحمانی کا ’ناف کے نیچے‘ مجیر احمد آزاد کا ’ڈوم‘ وغیرہ اس سلسلے میں نمائندہ کہانیاں کہی جاسکتی ہیں۔

گویا جہاں تک موضوعات کا تعلق ہے، نئے افسانوں میں وہ سب کچھ ہے جو ہماری آج کی زندگی کو متاثر کررہاہے۔نئے افسانہ نگار اپنے عہد کے مسائل اور مزاج سے باخبر ہیں او ر ظاہری طور متاثر کرنے والے واقعات و حالات سے گزر کر ان کے اسرارورموز تک پہنچ جاتے ہیں۔اس لیے ان کے افسانے محض تہذیب اور قدروں کی بے ضابطگی،بے اصولی اور آزادروی کو نہیں درشاتے،بلکہ دھڑکتے دل اور بے چین روح کی حقیقتوں کو پیش کرتے ہیں۔گویا نئے افسانہ نگاروں کے یہاں موضوعات کا تنوع ہے۔انھوں نے قومی،ملکی مسائل اور تغیرات کے ساتھ چھوٹی چھوٹی باتوں،معمولی اور غیراہم حادثوں کو بھی افسانے کا موضوع بنایاہے جو بظاہر غیر اہم ہوتے ہیں مگر ان کے بطن سے قدروں کے زوال، رشتوں کی ناقدری، کرپشن، استحصال اور بے بسی جیسے مسائل سر ابھارتے ہیں اور قاری کو دعوت فکر دیتے ہیں۔

فن،اظہار اور اسلوب: موضوعات کے علاوہ فنی ٹریٹمنٹ، تکنیک اور اسلوب کے اعتبار سے بھی کچھ نئے افسانہ نگاروں کے یہاں تبدیلی کی ایک جھلک ملتی ہے۔اۡن کے افسانوں میں اۡس طرح کا بیانیہ یا علامتی اظہار نہیں پایا جاتا جس طرح جدیدیت کے دور میں افسانوں میں پایا جاتاتھاکہ عام قاری کی اکتاہٹ کا سبب بن جائے۔نئے افسانے نئی لفظیات اور تہ دار معنویت کے ساتھ قاری کو جوڑے رکھتے ہیں۔یہ پورے اعتماد کے ساتھ اظہار و اسلوب کے تجربات کررہے ہیں۔ نئی ترکیبوں، نئی تشبیہات اور نئے الفاظ و محاورات کے ساتھ وہ مروجہ اسالیب کو نئی جہت بخشنے کی کوشش کررہے ہیں۔ان کے افسانوں پر عینیت پسندی کے بجائے حقیقت پسندی اور عقلیت زیادہ حاوی ہے۔سائنسی اصطلاحات،انگریزی ہندی الفاظ اور گلوبل ولیج کے طور پر انٹر نیٹ یا سوشل میڈیا کے ذریعے پوری دنیا میںرائج ہونے والی زبان ان کے افسانوں کی زبان بن رہی ہے۔زبان ہی نہیں افسانوں کی ہیئت اور تکنیک پر بھی سوشل میڈیا اور فلمی تکنیکوں کے اثرات مرتسم ہورہے ہیں۔کولاژ تکنیک،مکالماتی تکنیک اور Patches   کے سہارے لکھے جانے والے افسانے مشرف عالم ذوقی،اسلم جمشیدپوری،اختر آزاد،خورشید حیات سے سلمان عبدالصمد، اویناش امن، فرقان سنبھلی اور رومانہ تبسم وغیرہ تک پائے جاتے ہیں۔یہ واضح بیانیہ کا استعمال کرتے ہیں مگر ساتھ ساتھ ’’برہنہ حرف نگفتن کمال گویائیست‘‘ کی طاقت سے بھی واقف ہیں اس لیے اپنی کہانیوں میں تہہ داری،معنویت اور تاثیر پیدا کرکے تخلیقی افسانوی اسلوب پر گرفت کا بھی اظہار کرتے ہیں۔یہ کرداروں اور واقعے کے اعتبار سے زبان کا استعمال کرتے ہیںاور کوشش کرتے ہیںکہ مصنوعی زبان کے بجائے حقیقی اور رائج زبان میںکہانی کہی جائے تاکہ حقیقت نگاری مجروح نہ ہو۔چنانچہ انگریزی،ہندی یا علاقائی زبان کے الفاظ استعمال کرتے ہوئے انھیں کہیں جھجھک محسوس نہیں ہوتی۔ روزمرہ کی زبان میں چونکہ انگریزی ہندی یا علاقائی لفظیات گھۡل مل گئی ہیں اس لیے ان کا افسانوں میں در آنا تعجب خیز نہیں شرط یہ ہے کہ استعمال میںت خلیقیت، روانی اور برجستگی برقرار رہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ افسانہ نگاروں نے ایسی لفظیات کو نہ صرف بخوبی متن کا حصہ بنایاہے بلکہ کبھی کبھی افسانوں کے عنوانات میں بھی اسے شامل کرکے بدلتے اسلوب کی جانب اشارہ کردیاہے۔مثلاً فزکس،کیمسٹر ی، الجبرا  (مشرف ذوقی)  بیسمنٹ (جابر حسین) سنسکرتی کا پانچواں ادھیائے (ذکیہ مشہدی)لالی پاپ (اشتیاق سعید)پشپ گرام کا اتہاس (ابرارمجیب) ریلٹی شو(اختر آزاد) ہستک چھیپ (ابن کنول) لافٹر شو(سلام بن رزاق) پنک پینتھر (شائستہ فاخری)کپل وستو (عشرت ظہیر) اور دکھ نکلوا (اسلم جمشید پوری)وغیرہ۔نئے افسانوں کی زبان میں علاقائی،مقامی اور انگریزی لفظیات کے استعمال سے بیانیہ میں نیاپن اور حقیقی رنگ پیدا ہواہے جو افسانوی اسلوب کے لیے نیک فال ثابت ہوگا۔

آخری بات: مختصر یہ کہ موجودہ افسانوں میں عہد نو کے جتنے موضوعات،مسائل اور اسالیب ہو سکتے ہیں وہ سب برتے جارہے ہیں اور تشفی بخش تعداد میں افسانے سامنے بھی آرہے ہیں۔موضوعات و مسائل اور زبان کے لحاظ سے نہ تو اردو افسانہ کم تر ہے اور نہ ہی تہی دامن۔مگر ایک سوال ذہن میںضرور پیدا ہوتا ہے کہ نئی صدی میں بھی دو دہائی کا عرصہ بیت گیا،افسانوںکی ایک معتد بہ تعداد سامنے آچکی،مگر اب تک اِن افسانہ نگاروں میں سے اکثر نے نمایاں شخصیت قائم کیوںنہیںکی؟ یا ان کے افسانوں نے وہ توجہ حاصل کیوں نہیں کی جنہیں بلا تردد اردو افسانوںکے کسی انتخاب میں بغیر کسی اختلاف کے شامل کیا جاسکے۔اِس کی دو وجوہات  مجھے فوری طور پر نظر آتی ہیں۔ اول تو یہ کہ ہمارے نئے افسانہ نگار بہت جلد confidence  Over کا شکار ہو جاتے ہیں۔وہ اپنی ذہانت اور تجربہ پر تو اعتماد کرتے ہیں مگر مطالعے اور مشوروں کو خاطر میں نہیں لاتے۔ تمام بڑے افسانہ نگاروں نے یہ مانا ہے کہ لکھنے کے لیے مطالعے کا وسیع ہونا ضروری ہے۔ جتنا زیادہ مطالعہ ہوگا،تحریر میں اتنی زیادہ نیرنگی،قوت اور تاثیر پیدا ہوگی۔سوشل میڈیا نئے لکھنے والوںکو بہت جلد پہچان دے دیتاہے،مختلف سائٹس پر افسانہ پہنچ کر ڈھیر سارے لائکس اور کمنٹس بٹورلیتاہے اور افسانہ نگار کو غلط فہمی ہوجاتی ہے کہ اس کے فن میںکسی قسم کی کمی نہیں ہے۔ جبکہ ادب میںلکھنے والے کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ سوشل میڈیا کی تعریفیں تنقید کا معیار نہیں،اور نہ ہی صد فی صد حقیقت پر مبنی ہوتی ہیں۔نئے لکھنے والے کاتا اور لے دوڑی کا شکار بھی ہیں۔ وہ فوراً افسانے کی اشاعت اور اس کا معاوضہ چاہتے ہیں۔وہ افسانے پر سخت تنقید برداشت نہیںکرپاتے،یہاں تک کہ کسی مضمون میں ان کا نام شامل نہ کیا جائے تو وہ ناقد کو ہی معتوب قرار دے دیتے  ہیں۔ ادب کی تاریخ میں ایسا نہیںہوتا۔ مقبولیت دھیرے دھیرے حاصل ہوتی ہے اور فن میں پختگی بھی آہستہ آہستہ پیدا ہوتی ہے۔صبر وتحمل سے نئے لکھنے والوں کو اس وقت کا انتظار کرنا چاہیے جب وہ اۡس منزل پر پہنچ جائیںکہ کسی بھی تحریر میں ان کا ذکر ناگزیر ہو جائے۔

دوسری بات یہ ہے کہ افسانہ صر ف موضوع یا مسئلے سے افسانہ نہیںبنتاہے۔کسی کہانی کو افسانہ بنانے کے لیے موضو ع سے زیادہ اسلوب پر توجہ دینی پڑتی ہے۔یعنی موضوع تو اہم ہے مگر لکھنے والے کا اس کے ساتھ فنی ٹریٹمنٹ کیسا رہا ہے؟ اظہار کا کون سا اسلوب اس نے اپنایا ہے؟ جب تک اس پر توجہ نہیں ہوگی،افسانہ ’کامیاب افسانوں‘ کی فہرست میں شامل نہیںہو سکے گا۔ جس طرح شعر موضوع اور اسلوب کو ملاکر’ بنایا‘ جاتاہے اسی طرح افسانہ بھی صناعی کا تقاضا کرتا ہے۔ اسے بنانا پڑے گا۔میں نے پہلے بھی ایک جگہ لکھا تھا کہ ادب کو غیر ادب سے جو چیز ممتاز کرتی ہے وہ ’اسلوب‘ ہے۔یعنی اصل مسئلہ ’اسلوب‘ کاہے۔اسلوب افسانے کو کہانی سے آگے بڑھا کر ’فن پارہ‘بناتاہے۔یہ درست ہے کہ ہر موضو ع اپنا اسلوب خود لے کر آتاہے مگر اِس اسلوب کو شتر بے مہار بننے سے روکنا فنکار کا کام ہے۔ آج زیادہ تر نئے افسانہ نگاروںکا حال یہ ہے کہ اۡن کے یہاں موضوع،طرزِبیان پر حاوی ہے۔کس موضوع پر قلم اٹھایاجائے،اِ س پر بہت توجہ دی جارہی ہے مگر اس موضوع پر افسانہ کیسے لکھاجائے اِس پر کم سوچا جارہا ہے۔ پاپولرلٹریچر اور ادبی تحریر میںیہی تو فرق ہے۔پاپولر لٹریچر میں صرف کہانی پیش کی جاتی ہے جبکہ ادبی فن پارے میں ’فن ‘ بھی پیش کیا جاتاہے۔لہذا جب تک ہمارے نئے افسانہ نگار موضوع کے ساتھ ساتھ اسلوب اور فنی ٹریٹمنٹ پر توجہ نہیںدیں گے، ان کے افسانے تعداد میں تو اضافہ کریں گے،ہمارے ادبی ذخیرے میں اضافے کا باعث نہیں بن سکیں گے۔عہد حاضر کے افسانہ نگاروں کو اِس مسئلے پر سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔

 

Dr.Shahab Zafar Azmi

Associate Professor

Department of Urdu

Patna University,Patna (INDIA)800005

Email: drshahabzafar.azmi@gmail.com

Mob: 8863968168

 

ماہنامہ اردو دنیا، جون 2021

6/7/21

اردو ادب و صحافت کے امام: افتخار امام صدیقی - مضمون نگار: شمع اختر کاظمی

 



ماضی سے عہد حاضر تک اردو کے بے شمارادبی و نیم ادبی رسائل و جرائد شائع ہوئے لیکن تجزیہ نگاروں اور علم و ادب کے پارکھیوں نے پہلے آگرہ اور پھر ممبئی سے نکلنے والا رسالہ ماہنامہ ’شاعر‘ کو ادبی رسالوں کا سرتاج ہی نہیں قافلۂ سالارکہا۔ ’شاعر‘ کو یہ افتخار حاصل ہے کہ ہر دور میں اسے ممتاز و مقتدر اہل قلم کا تعاون حاصل رہا، بلکہ اردو ادب کے قابل قدر قلم کاروں نے اپنی تخلیقات کے شاعر میں شائع ہونے پر فخر محسوس کیا۔

شاعر کے تاحال ایڈیٹر افتخار امام احمد صدیقی 16 ستمبر 1947کو آگرہ میں پیدا ہوئے اور طویل علالت کے بعد 4 اپریل 2021 کو اس دارفانی سے کوچ کرگئے۔ وہ ایک ایسے گھرانے کے چشم و چراغ تھے جو نہ صرف شعر و ادب کا شیدائی بلکہ شعرا و ادبا کا قدردان، منکسرالمزاج، مہمان نواز اور انتہائی مہذب بھی ہے۔ اپنے والد محترم اعجاز صدیقی کی رحلت کے بعد تاجدار احتشام صدیقی کے ایما پر رسالہ شاعر کی باگ ڈور افتخار امام صدیقی نے سنبھالی۔غالباً یہ مارچ 1978 کا زمانہ تھا۔ ادبی رسالے کے مسائل اور اس کا کرب ان پر ظاہر تھا پھر بھی اپنے اسلاف کی ادبی وراثت کو زندہ رکھنے کی خاطر بہت ساری قربانیاں دیں۔ شاعر جیسے تاریخ ساز رسالے کو ایک تاریخی تسلسل سے ہم کنار رکھا۔ خرابیِ صحت کے باوجود اردو زبان کے کسی رسالے یا مجلے کی طویل مدتی اشاعت، ادبی صحافت کے چٹیل میدان میں لالہ و گل کھلانے کے مترادف ہے۔

ایک متحرک و متنوع شخصیت کا نام افتخار امام صدیقی تھا جن کی ذات بہت سارے اوصاف کی جامع خوبیوں کی حامل تھی۔ صحافتی، علمی، ادبی ہر میدان میں ایک انفرادی مقام رکھتے تھے۔ باکمال شاعر و صحافی ہی نہیں باوصف انسان بھی تھے۔ جن کا ذہن و قلم ہمہ دم تروتازہ رہا۔ وہ اپنی فطری ذہانت کے ساتھ اپنے چاہنے والوں پر خلوص پسند مشوروں کے لعل و گہر لٹاتے۔ شاعری ‘ ادب و صحافت کی روشنائی سے انسانیت کی راہ اجالنے والے افتخار امام جنھیں رب العالمین نے کمال خوبیوں سے نوازا تھا۔ انھوں نے اپنی زندگی برسوں کنج تنہائی میں گزاردی، جس گھر میں شعور کی آنکھیں کھولی وہاں ہر طرف شعرو سخن کے چرچے تھے، شعرا و ادبا کی آمدورفت تھی، ادبی محفلوں کی دھوم اور طبیعت میں خداداد شعری صلاحیت تھی، یہی وجہ ہے کہ دیکھتے ہی دیکھتے وہ ممبئی اور پھر عالمی مشاعرے کے ایک مقبول ترین غزل گو شاعروں کی صف میں شمار کیے جانے لگے۔ ان کے کلام میں غیر صالح خیالات و جذبات کا کہیں گذر نہیں۔ قربان جایئے کہ بڑھتی ہوئی عمر اور نقاہت کے باوجود تخلیقی قوتوں میں کوئی فرق پڑا نہ یادداشت میں بلکہ حافظہ غضب کا رہا۔ شاعری ذاتی تجربات و ذہنی کیفیات کی دین رہی وہ عالمگیر سطح پر عام انسانوں کے مسائل اور مقتدر جماعت کے کارناموں سے بھی واقف تھے        ؎

ایسا نہ ہو کہ خواب ہی ہوجائے آدمی

آبادیوں میں پھیلتے جنگل کو روکیے

جب افکار کے دریچے کھلتے تو لفظیات کی تلاش اور جملوں کے دروبست انھیں حیران نہیں کرتے۔ نئے اچھوتے لفظ اور جملے خلق کرتے۔ ایسی ایک دنیا ان کے سوچ کینوس میں آباد تھی اس کا بھلا مشاہدہ رسالہ شاعر کے ہر شمارے میں کیا جاسکتا ہے۔ کسی فنکار، انشا پرداز کی شخصیت و کردار اور اس کے کارناموں کا اختصار نویسی کے ساتھ لفظوں کی جادوبیانی سے ایسا مرقع تراشتے کہ قلم کار پردۂ خفا سے کاغذ پر اترآتا۔ محسوس یہ ہوتا گویا چند جملوں میں تخلیق کار کو اس کی فنی خوبیوں اور کارناموں کے حوالے سے قاری کے روبرو کردیا گیا ہو۔ ایسی تحریری تصویر کشی سے ان کے باریک بین، گوہر شناس اور بصیرت افروز نقدو نظر کا اندازہ ہوتا ہے۔

افتخار امام صدیقی کی طبیعت میں کمال بے نیازی کا غرّہ تھا۔ تمکین و تمکنت کے جذبے سے نہاں حلم و انکساری بھی دامن گیر تھی لیکن مزاج میں نہ خودسری اور نہ درشتی تھی وہ پرخلوص، مشفقانہ احترام کے جذبے سے نہال تھے۔ کرب تھا تو برسوں کی بے کراں تنہائی کا، وہ ہمیشہ رجائیت پسند رہے۔ ہزارہا کرب آزار و تنہائی کے نئے چراغوں کی باتی بڑھاتے، ان کے ظاہر و باطن میں کوئی فرق نہ تھا۔ نیک طینت، شریف النفس، خوش فکری اور نرم خوئی ان کے کردار و افکار کو اونچا بناتی تھی۔ کبھی کبھی گفتگو کے دوران خاموشی کا لمحہ طویل ہوجاتا یہ بیماری کا تقاضہ تھا یا فطرت کا خاصہ، پتہ نہیں۔ یہ فرض کفایہ مانی بھائی (ناظر نعمان صدیقی) ادا کرتے۔ ایک محفل پسند شاعر کی ایسی اتھاہ خاموشی میں پنہاں صبر ان کے کرب کو سمجھنے پر دلالت کرتا ہے۔ وہ علم و ادب کے سفیر تھے۔ اپنا کرب اپنے سینے میں سمیٹے ادب کے قاری کو ادب فہمی اور ادب نوازی کے ہزارہا طریقے بتاتے رہے۔ زندگی میں ماندگی کے کئی موڑ آئے مگر مثبت انداز فکر اورحوصلے سے سب کا رخ موڑ دیا۔ حادثے انھیں آزماتے رہے اور عارضے اپنا شکار بناتے رہے۔ یہاں تک کہ بصارت اور سماعت تھک گئیں۔ مطالعے کی خاطر بلوری شیشے کا سہارا لیتے، جسم کی ہڈیاں خستہ جاں ہوچکی تھیں۔ ہمہ وقت بھائی مانی سائے کی طرح ساتھ رہتے۔ بقول مانی بھائی۔ ’’ ہم تو اب زرد پتہ ہیں کب جھڑ جائیں پتہ نہیں، مگر یا اللہ مجھے افتخار کے بعد اٹھانا میرے بعد ان کا کیا ہوگا...؟ یہ ایک بھائی کی اپنے بھائی کے لیے ایسی دردمندی کہ جس میں محبت کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر پنہاں تھا۔ اپنا گھربار، بیوی بچے، کہیں آنا جانا وہ سب کچھ بھائی افتخار کی دیکھ ریکھ پر قربان کر بیٹھے تھے۔

افتخار امام صدیقی نے اپنی معذوری کو ہمیشہ مثبت انداز میں قبول کیا۔ کبھی شکوہ سنج نہ رہے۔ برسوں گوشہ نشینی کا کرب جھیلا پھر بھی انسان دوستی کا فریضہ ادا کیا۔ ٹرین حادثے میں زخمی ہوئے اور پھر لگاتار کوئی نہ کوئی افتاد انھیں آزماتی رہی۔دو دہائیوں سے زائد عرصہ وہ صاحب فراش رہے۔ پے در پے عارضے کا حملہ مگر واللہ کیا ذات رب پر توکل کامل، ہمہ وقت ان کا دماغ منصوبے ترتیب دیتا، جدت پسندی شاعر کے ہر شمارے میں دیکھی جاسکتی تھی۔ ادبی اختراع اور یادداشت کی درستگی پر سخت حیرت کہ اس لاغر و ناتواں جسم کا دماغ اتنا توانا... آخر یہ ناتواں جسم کس قدر بوجھ برداشت کرتا، حافظہ اور حوصلہ جسم و جاں سے مطابقت بھی نہیں رکھتے تھے۔ اپنے ایک شعر میں انھوں نے درست ہی کہا        ؎

کون ہے کس کی دعاؤں کی چھاؤں میں

چل رہی ہے سانس تلواروں کے بیچ

مرحوم کی حمدونعت، سلام و منقبت جیسی تقدیسی شاعری اپنی پوری تابانی کے ساتھ دین فطرت سے مستعار نظر آتی ہے۔ حتی کہ نظموں اور غزلوں میں بھی ان کے پاکیزہ خیالات، معاشرے و سماج کی فکرمندی، انسانیت و اقدار کے زوال کا درد اور فطرت کا عکس ان میں نظر آتا ہے۔ انھوں نے امریکہ، کینیڈا، لندن، پاکستان اور خلیجی ممالک کے مشاعروں میں شرکت کی۔ ان کے دو شعری مجموعے ’چاند غزل‘ اور ’یہ شاعری نہیں ہے‘ زیر ترتیب تھے۔ حمد اور نعت کی بھی دو کتابیں ترتیب دے چکے تھے۔ افتخار صاحب کی غزلوں کو اپنی آواز سے سجانے والوں میں چترا سنگھ، جگجیت سنگھ، چندن داس، پنکج اداس اور سدھا ملہوترا ہیں۔

مستقل علالت اور کمزوری کے باوجود وہ بستر ہی سے ماہنامہ شاعر کی ادارتی ذمے داری کو ادا کررہے تھے۔ شاعر کے متعدد خصوصی شمارے شائع ہوئے جس نے ادبی رسالوں میں اپنی منفرد پہچان بنائی۔ اردو کی نئی بستیوں کے قلم کاروں کو متعارف کرانے میں اہم رول ادا کیا۔ زندگی کے آخری ایام تک تقریباً سو قلم کاروں سے تحریری انٹرویو لیے، باصلاحیت خواتین کی ادب کی راہ تک رہنمائی کی اور شاعر کے صفحات ان کے اعتراف ذات میں پیش کیے۔ شاعر ان کی ادارت میں مارچ 1978 سے تاحال بلاناغہ اسی آن بان اور شان سے جاری ہے جس طرح ان کے والد مرحوم اعجاز صدیقی اور دادا سیماب اکبرآبادی نے جاری رکھا تھا۔ رسالہ شاعر کا طرۂ امتیاز یہ بھی ہے کہ اس میں خالص ادبی و لسانی مواد کو زیربحث لایا جاتا ہے۔ ادبی نظریات، ترجیحات و تبادلۂ خیال ترسیل کا ذریعہ بنتے ہیں جو اپنے عہد کے لسانی رجحانات اور افکار و مزاج کا عکاس ہوتے ہیں۔

شاعر کے ایک قدیم شمارے میں کائنات، آدمی، نظریہ اور زندگی کے عنوان سے تحریر کردہ اداریے اس بات کی توثیق کرتے ہیں کہ نثرنگاری کے فن میں بھی انہیں مہارت حاصل تھی۔ ایک خودساختہ مشن کے ذریعے نئے قلم کاروں کو دعوت فکر دیتے رہے ہیں۔ شاعر کے اداریے میں وہ لکھتے ہیں۔

’’سوال یہ ہے کہ کیا نظریے کے بغیر ادب تخلیق نہیں ہوسکتا...؟ سوال یہ بھی ہے کہ نظریے کے بغیر زندگی بسر کی جاسکتی ہے کہ نہیں...؟ مگر میں فکرمندہوں نئی نسل کے لیے جو ترقی پسندی یا جدیدیت کے الجھاؤ میں پڑے بغیر ادب تخلیق کرنا چاہتی ہے یا ادب تخلیق کررہی ہے۔ دراصل نظریہ یا رجحان جو بھی کہہ لیں، اس نے قلم کار اور قاری دونوں ہی کا مزاج خراب کردیا ہے۔ ترقی پسندوں نے اپنا ادب اور جدیدیوں نے اپنا ادب دونوں ہی نے انتہا پسندی کی بھی انتہا کردی۔ نظریہ مذہبی ہو یا مادی، نظریہ ساز بھول جاتے ہیں کہ ان کے اختیار میں کچھ بھی نہیں۔ نا ابتدا کی خبر ہے نا انتہا معلوم سانسوں کا شور اور اپنے ہونے کا تھوڑا بہت ادراک اور اپنے آس پاس کو ٹھیک ٹھاک رکھنے کی خواہش اور خواہش کی تعمیر، ارتقا پذیر دنیا میں کوئی بھی آئیڈیا لوجی بہت دور تک نہیں جاتی، اپنا اچھا برا کردار ادا کرتی ہے، یا تو ختم ہوجاتی ہے یا پھر شکل بدل لیتی ہے۔ شب و روز کے تسلسل میں چلتے پھرتے آدمی کی بنیادی جبلتیں مر تو نہیں گئیں۔ ایک دوسرے سے خوفزدہ آدمی سرحد وںسے باہر کب آیا ہے...؟ ہاں اتنا شائستہ ضرور ہوگیا ہے کہ بہت پہلے پتھروں سے اپنا دفاع کرتا تھا۔بیسویں صدی کے ختم ہوتے ہوتے اس نے جدید مہلک ہتھیار بنالیے ہیں۔ آدمی کے بنیادی مسائل اپنی جگہ ہیں اور اس کی ساری تگ و دَو اسی کے لیے ہیں۔ کوئی پل کوئی لمحہ ایسا نہیں جس نے آدمی کو اپنی بنیادی ضرورتوں سے بے نیاز کردیا ہو۔ طاقت، اقتدار اور تحفظ کسی بھی نظریے کا تصور اور نفاذ ان کے بغیر ممکن نہیں۔ نظریوں کی تاریخ تو یہی بتاتی ہے کسی بھی نظریے کے اچھے برے اثرات تو مرتب ہوتے ہیں، کسی عالمی سماج کی تشکیل و تعمیر کا خواب دیکھنے کی عملی صورتوں میں اختلاف بھی شامل ہوتا رہتا ہے۔ یہ ایک فطری عمل ہے۔ اس کی نفسیاتی و جمالیاتی سطحیں بھی اپنا دفاع کرتی رہتی ہیں۔

اردو میں نقاد و دانشور یہ تو بتارہے ہیں کہ عالمی سطح پر جدید فکری صورت حال کیا ہے۔ سیاسی، سماجی، علمی اور ادبی سطح پر نظریوں کو اب کس طرح دیکھا جارہا ہے۔ وہ باخبر تو ہیں اور بضد بھی کہ جو اطلاعات وہ فراہم کررہے ہیں انہیں تسلیم کیا جائے۔ لیکن چونکہ ان کا اپنا کوئی فکری نظام نہیں ہے۔ لہٰذا نئی نسل یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ اسے اب بھی ترقی پسند نظریے کے تحت اپنا ادب تخلیق کرنا ہے یا پھر جدیدیت یا مابعد جدیدیت کے رجحان کو اپناتے ہوئے اپنا تخلیقی نظام قائم کرنا ہے۔ مگر ایک تیسری صورتحال بھی ابھر رہی ہے۔ (تیسری دنیا نہیں) اور وہ یہ کہ بغیر کسی نظریاتی وابستگی کے آزادانہ طور پر ادب تخلیق کیا جائے۔ تمام نظریوں کی کسی مشترک فکری اساس کے بغیر۔

تخلیقی ذہن، نظریوں کا پابند نہیں ہوتا،  اگر وہ بڑا اور سچا فن کار ہے تو اپنا نظریہ خود پیش کرتا ہے۔ وہ نظریوں سے سچ کو اخذ کرتا ہے اور اسی کا آزادانہ اظہار کرتا ہے۔ خاموشی کو لفظ دیتا ہے، لفظوں میں اپنی آواز رکھتا اور یہ آواز سفر کرتی ہے۔ اس آواز کی روح جتنی توانا ہوگی، آواز باقی رہے گی، روشن رہے گی، عہد بہ عہد سفر کرے گی اور ہر عہد کو منور کرے گی۔

فن کار چاہے جس آئیڈیا لوجی سے وابستہ ہو اسے سچ بولنا ہے‘ سچ لکھنا ہے وہ اپنے فکری رویوں سے فن پارے کو جیتا ہے اور اجتماعی آئیڈیالوجی کو سنوارتا ہے‘ نا کہ نظریے کا مبلغ بن جاتا ہے۔ اردو میں مبلغ و مقلد بہت ہوئے ہیں مگر جنوئن یا جئنیس فنکاروں کی کمی رہی ہے۔ سچا فنکار قطعی آزاد مزاج ہوتا ہے وہ کہیں ٹھہرنا پسند نہیں کرتا کھلی آنکھوں اور کشادہ ذہن سے دیکھتا اور سوچتا ہے۔ اپنے آپ میں جذب کرتا رہتا ہے۔ ہم عصر اردو ادب میں فلسفۂ جمالیات اور تنقید کے دبستانوں کی اہمیت اپنی جگہ لیکن تخلیقی ذہن بہرحال ان دبستانوں میں قید نہیں ہوتا وہ ان میں رچ بس جاتا ہے اور پھر ان سے ابھر جاتا ہے۔ ساری کوششیں اسی کے لیے ہونی چاہئیں جو عموماً ہوتی نہیں ہیں۔ کیونکہ نئے قلم کاروں کو گمراہ کرنے والی تنقیدی تحریریں اپنا کام بھی کرتی رہتی ہیں۔ آج بھی یہی ہورہا ہے۔

مگر نئے قلم کاروں کو نہ صرف یہ کہ اپنے عہد کو پوری طرح محسوس کرنا ہے بلکہ آنے والے زمانوں کی دھمک کو بھی سننے کی سعی پیہم کرنا ہے۔ نظریہ چاہے سیاسی ہو سماجی یا مذہبی، انتہاپسندی سے بچتے ہوئے اس سے استفادہ کرنے اور ادب و فنون میں اس کے مناسب نفوذ کا شعور پیدا کرنا چاہیے۔ میں مذہب کو برا نہیں سمجھتا مگر ان کے خلاف ہوں جو مذہب کی گفتگو کرنے والوں کو بنیاد پرست کہتے ہیں۔ نظریوں کی زندگی یا موت کی بحث میں مذہب زیر بحث آنا چاہیے مگر وہ مذہب نہیں جو سیاسی ہو۔‘‘

افتخار امام صدیقی کی مقبولیت اور عظمت کا راز دراصل ان کی صلاحیتوں اور بے پایاں فکر و فن میں پوشیدہ ہے۔ گو کہ وہ ایک منفرد لب و لہجے کے جدت پسند شاعر تھے لیکن انھیں اداریہ نگاری میں یدطولیٰ حاصل تھا۔ اردو میں اداریہ نگاری کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ یہ مشکل فن ایک بیدار متنوع ذہن چاہتا ہے۔ اداریے کے مطالعے سے حالات حاضرہ سے لے کر ادب، تاریخ، فلسفہ، طنز و مزاح سب کچھ صحافی کے قلم کی زد پر رہتا ہے اور جن کے پاس بے پناہ مدیرانہ صلاحیتیں، ادب و شاعری تینوں جوہر موجود ہوں تو ان کی زبان اور ذہن میں خلاقانہ شان پیدا ہوجاتی ہے تب اداریہ دل و دماغ کی تربیت کا فریضہ ادا کرتا ہے، ادبی مسائل کی گرہ کشائی کرتا ہے ادب کے کھوکھلے پن کو اجاگر کرتا ہے اور ادب کی صالح اور دیرپا قدروں کے فروغ میں حصہ لیتا ہے۔ رسائل و جرائد کے اداریے سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ یہ کن قدروں کا پاس دار ہے۔ اس کا مزاج کیسا ہے۔ افتخار امام صدیقی کے اداریے ہمیشہ منفرد، نئے موضوعات و ادبی مسائل پر اپنا اشارتاً نہیں بلکہ واضح طور پر اپنا مدعا بیان کرتے، کسی خاص نظریے اور موضوع کے تحت تحریر کیے جانے والے اداریے عصری حسیت کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔ انھوں نے مدیرانہ، مدبرانہ اور شاعرانہ زبان میں بسا اوقات حق اداریہ ادا کیا۔ مختصر اور جامع اداریے بھی تحریر کیے مگر اپنی اثرپذیری سے ایک جہاں کو متاثر کیا۔ ان کی تحریروں میں الفاظ اور جملے بھرتی کے نہیں ہوتے بلکہ ہر لفظ اور جملے سے معنی کا ایک جہاں ابھرتا تھا۔ ادب، جمالیات اور صحافت سے متعلق اپنا واضح نظریہ ’افتخار‘ رکھنے والے ’امام‘ نے ادب اور ادبی صحافت کی خدمت کو اپنا وظیفۂ حیات بنالیا تھا۔ رسالہ ’شاعر‘ کے اداریے کے ذریعے انھوں نے میدان ادب میں فرمانروائے فکر و فن کی حیثیت اختیار کرلی تھی۔ اپنی بات کو نئی سوچ، نئے رنگ، نئے احساس، نئی زبان، نئی لفظیات اور نئے جملوں کے قالب میں ڈھال کرقاری کو نئی طرز تحریر سے آشنا ہی نہیں کیا بلکہ نئی اسلوبی راہیں بھی دریافت کیں۔ انھوں نے اعترافی ادب میں بھی اسی جدت طبع سے کام لیا۔ اداریہ نگاری ایسا بحرذ خار کہ اچھے اچھوں کو اس میں ڈوبتے دیکھا گیا۔ اس کی تھاہ پالینا سب کے بس کی بات نہیں۔

زبان ویسے بھی تغیر بذیر شئے ہے اور اردو زبان تو بہت سے چولے بدل کر ہم تک پہنچی ہے۔ یہ کسی کے ہاتھ کی کٹھ پتلی نہیں، یہ خود ساختہ زبان و زماں، ذہنوں ذہن سفر کرتی سوچ کو لفظ عطا کرتی، مزدور، کاریگر، صنعت کار، فنکار اور تخلیق کاروںکے الفاظ، سوچ فکر، خودداری اور خود اعتمادی کے ساتھ مسکراکر سب کو اپنا محبوب بناکر اور اپنا نیا روپ دکھا کرآگے بڑھ جاتی ہے۔ یہ سلسلہ صدیوں صدی سے جاری ہے۔ کچھ جگمگاتے، حیرت زدہ کرتے، سنہرے الفاظ کے جادو کی چھڑی اپنے دیوانوں کو سونپ کر کہیں اور نکل جاتی ہے۔ جدیدلفظوں کی یہ شہزادی ہر دور میں آتی رہی ہے اور آئے گی۔

افتخار امام نے نصف صدی سے زائد عرصے تک کاروان ادب و صحافت کی سالاری کی، تہذیب و ثقافت کے دیے روشن کیے ان کی واحد دلچسپی ادب، ادبیات اور ادبی صحافت سے تھی۔ محبت اور جاںنثاری کے جس شعبے سے وہ اٹھتے تھے وہ ان کی پسندیدہ اور تخلیق کردہ تھی۔ اخباری صحافت کی بنسبت ادبی صحافت کے مسائل بہت زیادہ ہیں۔  چونکہ ادبی رسائل سیاست دانوں کے بیان اور تقریر نہیں چھاپتے نہ تبصرے کرتے نہ تصویر شائع کرتے ہیں۔ وہ سیاسی پارٹیوں کے اتار چڑھاؤ اور ابن آدم کے خرید و فروخت کے دام تک نہیں بتاسکتے۔، کسی معجون اعظم، قرص مقوی کے اشتہار ہوں یا ضرورت رشتہ کا اشتہار وہ شائع نہیں کرتے۔ اپنی پوری توجہ، زبان و ادب، لسانیات، ادبی مسائل، ادبی شخصیات، اجرا و وفات پر رکھتے ہیں۔ یہ ایسا جرم کہ جس کی وجہ سے ان کا حلقۂ اشاعت، تعداد اشاعت دونوں متاثر و محدود ہوجاتا ہے۔ ساتھ ہی طباعت کے مصارف، اشاعت کی مشکلات، کاغذ کی فراہمی، سرکیولیشن کا مسئلہ مسلسل سر پر سوار رہتا ہے۔ وزیروں، سفیروں اور سیاست دانوں اور سرمایہ داروں کو ان سے کوئی نسبت بھی نہیں ہوتی۔ ان کی نظر کرم ایسے خشک رسالوں تک بھلا کیوں پڑے...؟ اس پر افتاد یہ کہ ادبی رسائل اپنے معیار و وقار کے دائرے میں محبوس اور زرآمد کے ذرائع مفقود۔ رسالے کا وقت پر شائع ہونا ہی بڑا مسئلہ ہوتا ہے۔ ایسے مسائل سے اکیلے شخص کا گزر نا پل صراط طے کرنے کے برابر ہوتا ہے جس کا اعتراف افتخار صاحب نے برجستہ اپنے اداریے میں بارہا کیا تھا۔ تمام اخراجات کا بار ان کے نوک قلم پر ٹکا ہوا تھا۔ ساتھ ہی زندگی کی ضروریات، مسائل اور شکم کے تقاضے بھی تھے۔ اپنی ذہانت اور جدوجہد سے رسالہ شاعر کو بلندی تک پہنچایا۔ ایک خوددار، آزردہ اور خلوت انجمن پسند انسان، صحافت کے کالے بازار میں معاش اور ادب کی خاطر یرقانیت کے کاروبار کا جھولا لٹکائے برسوں کھڑا رہا مگر اس کے ہاتھ اور کردار ہمیشہ اجلے رہے۔ وہ دنیا سے چلا گیا۔ اپنے پیچھے مال و زر نہیں عزت و افتخار چھوڑگیا۔

ایک دین دار، متقی، پرہیزگار، نیک طنیت انسان جن کی فطرت میں انکساری اور متحمل مزاجی رچی بسی تھی، شاعروں، ادیبوں اور تخلیقی فن کاروں کی قدر و منزلت کرنے والے افتخار امام جیسے محسن اردو کی غیر معمولی کوششوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ کسی کی موت کے بعد ان کے حوالے سے ہم سب بارہا باتیں کرتے ہیں۔ موت نے کیسے کیسے باغ و بہار شخص سے ہمیں محروم کردیا جن کا ہم احترام کرتے ہیں۔ ان کے لیے تعزیتی کالم لکھنا کتنا مشکل کام ہوتا ہے۔

شاعر خاندان نے جس طرح مصائب و افتاد کا سامنا کیا اور ثابت قدم رہے۔ نامساعد حالات کے باوجود ثابت قدمی کی بنیاد بیگم اعجاز صدیقی رہیں۔ محترمہ نسیم بانو اعجاز صدیقی دراصل حالات کے مارے اس خاندان کی سب سے بڑی طاقت و قوت تھیں۔ ماہنامہ شاعراور شاعر خانوادے کو ایک برانڈ بنادیا۔ اس کی حرمت اور دائمیت کو قائم رکھنے میں محترمہ نسیم بانو اعجاز صدیقی کا کردار اہم ہی نہیں اساسی نوعیت کا حامل بھی ہے۔

افتخار امام صدیقی نے جس گھرانے میں آنکھیں کھولی، بچپن گزرا، وہاں خونی رشتوں کا ہی نہیںبغرض ملاقات آنے والوں کا بھی احترام کیا جاتا، ادبا و شعرا کا خیرمقدم ہوتا، آگرہ سے ممبئی تک ہر دور میں زبان و ادب سے وابستہ خواتین بصد شوق ملاقات کو جاتیں تو خانوادۂ سیماب کی مستورات ان کی خوب پذیرائی اور خاطر مدارت کرتیں۔ ایک ملاقات کے دوران افتخار صاحب نے بتایا کہ

’’ہمارے بچپن کے زمانے میں مہنگائی ایسی نہ تھی لوگ بڑے مخلص تھے۔ کوئی تخلیق کار خاتون ہمارے گھر ملنے آتیں تو گھر کی عورتیں انہیں گھیر لیتی، خوب خاطر ہوتی، ہماری دادی جان ان کی آمدورفت کے اخراجات اور جوڑے انہیں دیتیں، ہتھیلی پر کچھ نذرانے بڑے شوق سے رکھتیں اور پھر کسی قریبی رشتے سے وابستگی باندھ لیتیں اور ہمیشہ اسی رشتے سے ان کا ناطہ جڑ جاتا۔ یہ ہمارے ادبی خاندان کی تہذیبی روایت رہی ہے۔۔۔‘‘

آج ایک خوش خلق اور مشفق شخصیت ہماری نگاہوں سے ہمیشہ کے لیے اوجھل ہوگئی۔ افتخار صاحب کی موت ایک بڑا ادبی خسارہ ہے۔ جس کا ازالہ تقریباً ناممکن ہے ان کی مقبولیت اور شہرت کو سرحدوں میں قید نہیں کیا جاسکتا۔ ماہنامہ شاعر جو عنقریب اپنی اشاعت کے سو سال مکمل کرلے گا۔ بلاشبہ افتخار امام صدیقی اردو کی ادبی صحافت کا افتخار تھے۔ افسوس کہ ادب کے اس ’’امام‘‘ کی آواز ہمیشہ کے لیے بے صدا ہوگئی۔

پتہ نہیں پہلے پہل میں نے انھیں بھائی کب کہا یا انھوں نے مجھے بہن کا درجہ دیا لیکن اس مقدس رشتے کا تمام حسن انہوں نے قائم رکھا۔ ہمیشہ میرے ساتھ ان کا برتاؤ ایک محترم بھائی کے خلوص کی صداقت کا مظہر رہا۔ وہ سراپا مہر و مروت رہے۔ اردو ادب و صحافت سے محبت اور رشتوں کی نگہبانی کرنے والے میرے محترم بھائی میں بڑی خوبیاں تھیں         ؎

درد کی ساری تہیں اور سارے گزرے حادثے

سب دھواں ہوجائے گا ‘ ایک واقعہ رہ جائے گا


Shama Akhtar Kazmi

12/14, Sai Nagar,

Gaibi Nagar,

Bhiwandi - 421302 (M.S.)

Mob.: 9284690949

 

 

 



تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...