22/9/21

کتھارسس کی نفسیاتی اہمیت اور ادبی معنویت - مضمون نگار: وحیدالظفر خاں

 



انسانی تہذیبوں کے عروج و زوال کے تاریخی تسلسل میں سب سے اہم اور قابل غور مسئلہ انسانی نفسیات کے عناصر ترکیبی میں استحکام اور پائیداری کا ہے تغیر و تبدل کے اس عظیم ترین منظرنامہ میں صرف انسان کی ذہنی محسوساتی اور جذباتی کشمکش کا جو نفسیاتی میکینزم موجود ہے وہ ہابیل اور قابیل کی ذہنی اور جذباتی کیفیت کی طرح آج بھی غیرمبتدل ہے۔ لالچ، حسد، خوف، ترحم، غم پذیری دلگیری، غصہ، نفرت، تکبر، محبت، ایثار وغیرہ جذبوں سے معمور انسانی نفسیات ایک انتہائی پیچیدہ تخلیق ہے۔ ان متضاد جذبات کو ایسے سلیقے سے پیوست کیا گیا ہے کہ خود انسان کو بھی کسی جذبے سے متاثر ہونے یا مغلوب ہونے کا احساس تک نہیں ہوتا۔ جذبات کے اس پیچیدہ اور نادیدہ نظام کو نفسیات انسانی کا نام دیا گیا ہے۔ ہر جذبہ موجود ہوتے ہوئے بھی ناموجود رہتا ہے انسانی رشتوں کے تصادم سے تحریک پاکر ہی کوئی جذبہ ابھرتا ہے اور کبھی کبھی وہ جذبہ اس قدر دطاقتور ہوتا ہے کہ انسانی وجود اور اس کی توانائیاں خس و خاشاک کی طرح بہہ جاتی ہیں اور وہ انسان بھی اسی کے ساتھ بہہ جاتا ہے۔ اسی نفسیاتی نظام میں جہاں طغیانی ہے وہاں اس کا سدّ باب بھی موجود ہے جس طرح انسانی خون میں سرخ و سفید ذرات کا لائحہ عمل موجود ہے جو انسانی جسم میں کسی بھی فساد کے لیے دفاعی میکینزم کا کام کرتا ہے اسی طرح جذبات کی افراط و تفریط کا نظام برپا کیا گیا ہے۔ جذبات پر غالب آنا یا مغلوب ہونا دونوں کا اختیار انسان کو دیا گیا ہے۔ بے راہ رو جذبات کی سرکشی جب انسان کے عملی اقدام کی تحریک بنتی ہے تواس کی اذیت و عقوبت کا ایک سلسلہ بھی ساتھ لاتی ہے  جو اس کے تزکیہ نفس کے لیے ایک محرک کا کام کرتی ہے۔

ادب انسانی زندگی کے تقریباً تمام داخلی و خارجی مضمرات و محرکات کا جائزہ لے کر انسانی فہم و فراست کو بالیدگی عطا کرتا ہے۔ انسانی تزکیۂ نفس کی اہمیت کے پیش نظر ان عوامل کو پرکھنا بھی ضروری ہے جو کسی المیہ کی بنیاد بنتے ہیں۔ یونانی فلاسفر ارسطو نے تزکیہ نفس جس کو یونانی زبان میں Catharsis کہا جاتا ہے کو ایک ڈرامائی تھیوری کے طور پر پیش کیا ہے جس کے ذریعے انسانی جذبات کی حربیت اور تضبیط کی جاسکتی ہے۔ یہ اصطلاح اردو ادب میں مستعمل نہیں کیونکہ اردو ادب میں المیہ ڈراموں کا وفور اس سطح پر نہیںہوا کہ اس کی مقصدیت یا معنویت کے لیے کسی اصطلاح کی ضرورت محسوس ہوئی۔ یونانی ٹریجڈی جس کو اردو ادب میں المیہ کہا جاتا ہے ایک مخصوص ترین تعارف سے متصف ہے۔ ہر المناک منظر جہاں انسانی زندگی کے جان و مال کا زیاں ہو ٹریجڈی نہیں کہا جاسکتا جیسے سونامی، سمندری طوفان، زلزلہ، آتش فشاں کے گرم سرخ بہتے ہوئے لاوے سے انسانوں کی بستیوں اور زندگیوں کا ضائع ہوجانا۔ ایسے حادثات کے لیے Natural Calamity کی اصطلاح وضع کی گئی ہے درحقیقت ایسے منظر سے بڑا المیہ اور کیا ہوسکتا ہے کہ پل بھر میں سب کچھ بے منظر ہوجائے اور انسان بے دست و پا دیکھتا رہ جائے۔ دراصل ٹریجڈی کا مقصد ہر دور کے ہر انسان کے لیے ذہنی و نفسیاتی تربیت ہے تاکہ انسان ان کوتاہیوں سے پرہیز کرے اور ان لغزشوں کا اعادہ نہ کرے جس کے ردعمل نے کسی ٹریجڈی کو جنم دیا۔ انسانی فطرت ہمیشہ مسرت و انبساط کو ترجیح دیتی ہے۔ طربیہ ڈرامہ اس ضرورت کو ایک حد تک پورا کردیتا ہے لیکن یہ بھی ایک صداقت ہے کہ طرب و نشاط کی کیفیت انتہائی عارضی اور اکتا دینے والی ہوتی ہے انسانی روح میں کوئی تموج یا کوئی ہلچل پیدا نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس المیہ کا منظرنامہ انسانی عمل اور ردعمل کا آئینہ دار ہوتا ہے زندگی کی سچی حقیقتوں سے جو بصیرت افروز مسرت کا احساس ابھرتا ہے وہ ایک نئے علم کا انکشاف کرتا ہے۔ جب کوئی انسان ناجائز خواہشوں کی تکمیل میں ناجائز طریقے اختیار کرتا ہے تو خواہش کی ناکامی کے ساتھ ساتھ اپنے وجود کا سارا اثاثہ بھی گنوا دیتا ہے۔ ایسے المناک اور کربناک منظرنامہ کا شریک ہر فرد المیہ کے ہیرو پر خود کو قیاس کرنے لگتا ہے انسانی نفسیات کی گرہیں کھلنے لگتی ہیں۔ عروج و زوال کے اس منظرنامہ کے محرکات و مضمرات آشکارا ہونے لگتے ہیں او رہر انسان اپنی آزادی اور اختیار کے حدود پر نظرثانی کرنے لگتا ہے۔

ارسطو نے المیہ ہیرو کے لیے کچھ شرائط وضع کی ہیں جو شخص ان شرائط کا حامل ہوتا ہے وہی المیہ ہیرو بننے کا اہل سمجھا جاتا ہے ہر عام شخص المیہ ہیرو تسلیم نہیں کیا جاسکتا چاہے وہ اذیت کی ہولناک ترین صورت حال کا شکار ہو۔ المیہ ہیر وکے لیے ضروری ہے کہ وہ عوام الناس میں اپنی شخصی حیثیت کے اعتبار سے بلند ترین منصب پر فائز ہو جیسے بادشاہ، شہزادہ، فوجی کمانڈر وغیرہ اور عوام اس کو اچھی نظر سے دیکھتی ہو۔ وہ شخص اپنے کردار و عمل سے ایک نارمل انسان ہو نہ بہت زیادہ نیک خصلت اور نہ ہی بدی کا مجسمہ کیونکہ بدکردار انسان کے بدانجام سے انسانی جذبات کی تزکیہ کاری ممکن ہی نہیں البتہ ایک نارمل نیکوکار انسان کے زوال سے خوف اور دردمندی کے جذبات برانگیختہ ہوکر تزکیہ نفس کا سبب بنتے ہیں۔المیہ کردار میں تمام خوبیوں کے باوجود ایک ایسا داخلی نقص موجود رہتا ہے جو اس کی تباہی و بربادی کا سبب بنتا ہے جس کو یونانی اصطلاح میں Hamartia (ہمارشیا) کہا جاتا ہے۔ انسانی زندگی میں بشری کمزوری کا اعتراف اس لیے ضروری ہے کہ وہ انسان کو بااختیار ہونے اور آزادی کے ساتھ اپنے جذبات و شہوات پر قدرت کاملہ کے التباس کا احساس کراسکے۔ ایسا نقص ہی دراصل انسانی سرشت میں پیوست رہتا ہے جو وقت، نسل، قوم او رمقام کی زد میں نہیں آتا۔ ہر دور کے ہر انسان کے نفسیاتی خمیر میں گندھا رہتا ہے اور تخریب کا سبب بنتا ہے لیکن اس کا اہم ترین پہلو دراصل انسانی عمل کی کارکردگی میں مضمر رہتا ہے۔ اگر وہ نفسیاتی نقص عمل کی شکل میں نہیں ڈھلتا تو انسانی کردار کی عظمت و حرمت کو کوئی زوال نہیںا ٓتا۔ انسان کے عمل میں اختیار کی آزادی کی اہمیت اسی لیے دوچند ہوجاتی ہے کہ نیک و بد دونوں پہلو اس کے پیش نظر رہتے ہیں اور دونوں کے درمیان انتخاب کی آزادی کا حق اور عمل کی قوت و قدرت کے ساتھ عمل کا فیصلہ اس کے مستقبل کا ضامن ہوتا ہے۔ ہر انسان اپنی تدبیر کا خود ہی معمار ہے یہ تصور ارسطو کے المیہ کا ہے۔

Every man is an architect of his own destiny

اس تصور کے برخلاف انسانی اختیار و عمل میں انتخاب و آزادی کا تصور ٹامس ہارڈی کی المیاتی کائنات میں موجود نہیں ہے۔ ٹامس ہارڈی ملکہ وکٹوریہ کے دور کا ایک نہایت مشہور شاعر اور ناولسٹ ہے اس کا عقیدہ ہے کہ یہ کائنات خدا کے وجود سے خالی ہے۔ انسان ایک مجبور محض ذی روح ہے جو اپنی قسمت اور تقدیر ساتھ لے کر پیدا ہوا ہے اور اسی کے تابع رہ کر اپنی پوری زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ اس کا ہر عمل پہلے سے طے شدہ ہے جس پر وہ گامزن رہتا ہے۔ ساتھ ہی ہارڈی کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ اس دنیا میں کچھ نادیدہ منتقمانہ قوتیں برسرپیکار ہیں جو انسان کو ایک کٹھ پتلی کی طرح استعمال کرتی ہیں اور ہمہ وقت آمادہ رہتی ہیں کہ انسان کو کوئی مسرت کا لمحہ میسر نہ ہو ہارڈی اپنے مشہور ناول میئر آف کیسٹر برج (Mayor of Casterbridge) میں رقم طراز ہے کہ:

"Happiness is an occasional episode in the general drama of pain."

انسانی زندگی آلام و مصائب کی ایک درد بھری داستان ہے جس میں خوشی صرف ایک اتفاقی واقعہ ہوسکتی ہے جس دنیا میں خدا کا تصور نہ ہو اس کے وجود پر یقین نہ ہو وہاں بے بسی بے کسی اور قنوطیت کا تسلط ہوتا ہے ایسی دنیا کا انسان صرف Chance اور Fateکو ہی محرک حیات مانتا ہے کیونکہ وہ خود کسی بھی فعل و عمل کے لیے نہ مختا رہے اور نہ ہی ردعمل کے لیے ذمے دار۔

ارسطو نے کتھارسس کے Process کو ایک فلسفیانہ نظر سے دیکھنے کی کوشش کی ہے ۔ ارسطو کے پیش نظر خدا اور انسان کے مابین ایک بے حد مقدس اور روحانی رشتہ ہے۔ البتہ خدا انسانی معاملات میں دخیل نہیں لیکن انسان خدا کی ذات اور اس کی صفات پر پورا یقین رکھتا ہے۔ وہ خدا جو اس دنیا میں اور مابعد دنیا(Here and Here after) میں جزا  اور سزا کا مختارکل ہے۔ انسانی تہذیب اور نفسیات کی تہذیبی ساخت میں اس عقیدے کی کارفرمائی نہایت اہم اور موثر رول ادا کرتی ہے۔ ارسطو کے تصور خدا کے مطابق انسانی دل اس جذبے سے معمور ہے کہ اس سے محبت کرنے والا ایک دوست آسمان میں ہے جو غم و الم میں اس کی پکار سنتا ہے جو اس کی امیدوں اور آرزوؤں کا مرکز ہی نہیں مددگار بھی ہے اور اس عظیم کائنات کے ہر حرکت و عمل کے پس پردہ اسی کی قدرت اور حکمت کارفرما ہے۔ خدا کے وجودکا یہ تصور انسانی معاشرے میں باہمی رشتوں کی اہمیت کو زیادہ جلا بخشتا ہے اور ہر فرد کو دوسرے فرد کی اخلاقی ذمے داری کا احساس دلاتا ہے۔ کسی بھی ٹریجڈی کا ہیرو زندگی کے کسی بھی بلند منصب پر فائز ہو لیکن بہ حیثیت انسان اگر وہ جرم یا گناہ کا ارتکاب کرتا ہے تو سزا کے قانون سے بچ نہیں سکتا۔ مثال کے طور پر اگر کسی شخص کا ہاتھ آگ میں پڑجائے تو ردعمل کے طور پر یقینا جل جائے گا کیونکہ اگر عمل سرزد ہوگیا چاہے دانستہ طو رپر یا نادانستہ طور پر ردعمل ضروری ہے۔ فطرت کے وضع کردہ قانون میں کسی طرح کی لچک کا امکان ہی نہیں۔ المیہ کردار کی نمایاں ترین خصوصیت دراصل عمل کی آزادی کا غلط یا ناجائز استعمال ہے۔ یہاں اراد ہ یانیت اچھی یا بری کسی طرح بھی قابل لحاظ نہیں۔ کوئی بھی شخص اپنے دل میں کسی کو قتل کرنے، زنا کرنے، چوری کرنے جیسے جرائم کرنے کا اراداہ رکھتا ہے وہ کسی سزا کا مستوجب قرار نہیںپاتا جب تک اس کا ارادہ اس کو عمل پر آمادہ نہ کرے اور عمل سرزد نہ ہو۔

اسی ضمن میں ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اس دنیا میں جرم و گناہ کے پرکھنے کا معیار کیا ہوگا کیونکہ ہر ملک و قوم کے جرم و سزا کے قوانین مختلف ہیں۔ ایسی صورت حال میں المیہ کردار کے جرم و گناہ کے پرکھنے کا پیمانہ کیا ہوگا؟ ارسطو نے جرم و گناہ کے جس پیمانے کو متعارف کیا ہے اور شیکسپیئر نے اپنی ٹریجڈیز میں المیہ کرداروں کی لغزشوں کے ذریعے نمایاں کیا ہے وہ ایک ایسا آفاقی پیمانہ ہے جو زمان و مکان کی حدود سے ماورا ہے۔ اس پیمانے کے مطابق ہر وہ انسانی عمل سزا کا مستحق ہے جو عدل و قسط کی تقویم اور معاشرے کی صحت و سلامتی کے لیے خطرہ ہو۔ قتل و غارت گری، ظلم و تعدی، چوری ڈکیتی وغیرہ جیسے جرائم ہر دو رکے انسانی معاشرے میں جرائم ہی تسلیم کیے جاتے ہیں اسی بنیاد پر ارسطو کے وضع کردہ پیمانے اس کے المیہ کردار کی حیثیت کو پوری پوری اہمیت کا حامل بنا دیتے ہیں اور دنیا کے ہر سماج ہر دور میں ایسے المیہ کرداروں کی پذیرائی ہوتی رہی ہے اسی ضمن میں ایک تصور یہ بھی ہے کہ اس دنیا میں کچھ نادیدہ پراسرار قوتیں متحرک ہیں جو انسان کے مجرمانہ اعمال و افعال کی سزا پر مامور ہیں جیسے ہی کسی انسان سے کوئی لغزش سرزد ہوتی ہے یہ قوتیں انتقام پر کمربستہ ہوجاتی ہیں۔ یونانی اصطلاح میں ان پراسرار اور نادیدہ قوتوں کو Nemesis کہا جاتا ہے۔ جن کی سزا فوری طور پر موت نہیں بلکہ اذیت و ابتلا کا ایک ایسا تسلسل ہوتا ہے جو شدید سے شدید تر ہوتا جاتا ہے اور یہ اذیت ناک تسلسل ذہنی، روحانی،  جسمانی ہر سطح پر مجرم کو کرب میں مبتلا رکھتا ہے۔ مجرم جو ایک انتہائی باعزت اور عالیشان زندگی بسر کررہا تھا دھیرے دھیرے تنہا ہوتا جاتا ہے اس کے احباب اور متعلقین اس سے کنارہ کش ہوتے جاتے ہیں اس کی زندگی کا ماحول جو عیش و طرب، عزت و وقار سے لبریز تھا، دھندلا جاتا ہے۔ اس پر ان دیکھے خوف کے سائے لہرانے لگتے ہیں اور وہ زندگی کی ہم آہنگی، سرخوشی اور مسرت سے محروم ہوجاتا ہے اس کا ذہن اندیشوں کی آماجگاہ بن جاتا ہے اس کے دوست اس کے دشمن بن جاتے ہیں، اس کی روح ایک زندہ جہنم بن جاتی ہے اور وہ خود وَسواسِ الخَنَّاس کے تاریک جنگل میں بھٹکتا پھرتا ہے۔ دھیرے دھیرے وہ خود اپنی ذات سے ہی نفرت کرنے لگتا ہے۔ اپنا محاسبہ کرتے ہوئے آخرش وہ اپنے اعمال و افعال کا جائزہ لیتا ہے او راس طرح وہ اپنے جرم کا اعتراف کرتا ہے کہ جس سزا اور عقوبت سے وہ گزرا ہے وہ حق بجانب تھی۔ اس اعتراف سے اس کو ایک طرح کی طمانیت کا احساس ہوتا ہے اور انتہائی سکون کے ساتھ وہ موت کو گلے لگا لیتا ہے۔ Suffering یعنی ابتلا اور اذیت کا کربناک تسلسل اس کا روحانی تزکیہ کرتا ہے جس کی بنا پر وہ یہ تسلیم کرلیتا ہے کہ اپنے گناہ کی سزا اس نے اسی دنیا میں بھگت لی ہے اور آنے والی زندگی میں اس سزا سے معتوب نہ ہوگا لیکن اس منظرنامے کا دوسرا پہلو جو عوام الناس سے متعلق ہے وہ بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ سادہ لوح عوام کی آنکھیں جب ایک عظیم المرتبت شخصیت کو اقتدار اور ثروت کی بلندیوں سے قعر مذلت میں گرتے ہوئے دیکھتی ہیں تو ان کے جذبات میں ایک انقلاب برپا ہوتا ہے۔ یہ دیکھ کر کہ گناہ کی سزا ایک عظیم انسان کو کس قدر اذیت ناک طریقے سے ملی ہے ان کا دل المیہ ہیرو کے دردناک انجام سے دردمندی، رحم اور تاسف بھر جاتا ہے اور ہر دل اس خوف سے لرز جاتا ہے کہ ہم سادہ عام لوگ کس طرح ایسی سزا سے بچ سکتے ہیں اگر ہم بھی ایسے گناہ کے مرتکب ہوں۔ اس طرح عام لوگ خوف کے جذبات سے لرزتے ہوئے اور المیہ ہیرو کے لیے ہمدردی کے احساس سے بھرے ہوئے تنقیہ کے عمل سے گزرتے ہیں۔ Catharsis کا پروسیس صرف جرم و گناہ کی کدورت اور سفلی جذبات کا تزکیہ ہی نہیں کرتا بلکہ روح کو مجلا و مصفا بنا کر اس کو اعلیٰ ترین خیالات و جذبات سے آراستہ بھی کرتا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ انسانی رشتوں کی تعمیر و تربیت میں انسانی جذبات کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ معاشرتی رشتوں کا باہمی تسلسل جذبات کے نازک تانے بانے میں پیوست رہتا ہے۔ ہر فرد سماج کی ایک اکائی کی حیثیت سے اپنے طرز عمل میں بے اعتدالی کی وجہ سے پورے سماجی Fabric کو متاثر کرتا ہے جس کا محرک اس کے جذبات بنتے ہیں۔ قرآن کے نزول سے سیکڑوں سال قبل ارسطو نے اپنی المیہ تھیوری کے ذریعے جن اصطلاحوں جیسے کتھارسس ہمارشیا (Catharsis- Hamartia)کو متعارف کرایا ہے، قرآن بھی سورہ والشمس میں اس کی توثیق کرتا ہے جس میں بڑی وضاحت کے ساتھ انسانی نفس کی تشکیل و تخلیق کے عناصر ترکیبی بیان کیے گئے ہیں اور انسانی زندگی کی معنویت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ وَنَفۡسٍ وَّمَا سَوّٰہَاo فَاَلۡہَمَہَا فُجُورَہَا وَتَقۡوٰھَاo قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ ذَکّٰہَا وَقَدۡ خَابَ مَنۡ دَسّٰہَاo میں واضح اشارہ ہے کہ جو فجور انسانی سرشت میں پیوست کیا گیا ہے اور جس کا علم دے کر یہ ہدایت کی گئی ہے کہ فلاح کا راستہ فجور کے تزکیہ سے ہی ممکن ہے گویا انسان خیر و شر دونوں پر پوری طرح قادر ہے۔ انتخاب کے ساتھ عمل کی بھی پوری آزادی دی گئی ہے اور نفس کی آلودگی کے تصفیہ و تزکیہ کے لیے پوری رہنمائی بھی واضح کردی گئی ہے جس کو مقصد حیات کی کلید بھی کہا جاسکتا ہے۔ خیر و شر کے اس Paradox کو جو کائنات کبریٰ سے کائنات صغریٰ میں اندرونی مماثلت کا اشاریہ ہے اگر وسیع معنی میں دیکھا جائے تو یہ ایک ایسا Code of Conduct بن جاتا ہے جس کی تعمیل انسانی معاشرے کو خوشحال اور پرامن گہوارے میں منقلب کرسکتی ہے۔

ارسطو کی اصطلاح Hamartia یعنی انسانی کردار کا داخلی نقص بعینہٖ فُجُورٰہا سے عیاں ہے۔ اسی طرح Catharsis تقویٰ کی نمائندگی کرتا ہے، جو تزکیہ کے عمل کو مہمیز دیتا ہے،۔ جس کے زیریں ارتعاش میں خوف مضمر رہتا ہے۔ اگر بہ نظر غائر دیکھا جائے تو ارسطو کی المیہ تھیوری کا لب لباب اس آیت کی تشریح میں موجود ہے۔ اس صداقت جرم کے پیش نظر ارسطو کی کتھارسس کی تھیوری کو اس کے Prophetic vision پر محمول کیا جاسکتا ہے۔ قرآن ادبیات عالیہ کی ام الکتاب ہے۔ اس کو صرف دینیات کے دائرے میں محصور کرنا اس کی آفاقی افادیت اور Utility کے عظیم مقاصد سے صرف نظر کرنا ہے۔


 

Prof. Waheed-uz-Zafar Khan

Masood Mahal, Lal Diggi Road

Aligarh - 202002 (UP)

Mob.: 9258130100


ماہنامہ اردو دنیا، اگست 2021


21/9/21

عصر جدید میں طلبا میں اضطراب: مسائل اور حل - محمد اطہر حسین

 



عصر جدید میں طلبا کے سامنے چیلنجزکی بہتات ہے۔ ہر روز ان کے سامنے  نت نئے مسائل درپیش ہوتے ہیں۔ تعلیمی مسائل، اکتسابی مشکلات، روزگار سے متعلق مسائل وغیرہ۔ متذکرہ بالا سارے مسائل طالب علم کو ذہنی اذیت میں مبتلاکرتے ہیں  جس کا براہ راست اثر طلبا کی تعلیمی کارکردگی پر ہوتا ہے اور ان کی اکتسابی حصولیابیوں میں کمی  آنے لگتی ہے۔ اور یہ ساری مشکلات طلبا کے اندر بے چینی اور غیر سکونی کا ماحول پیدا کرتی ہیں اور ان کے ذہنی خلفشار کو ہوا دیتی ہیں۔ طلبا کی اسی بے چینی اور بے سکونی کو اصطلاح عام میں ــــ’اضطراب ‘کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جو در حقیقت تعلیمی، سیاسی، سماجی، گھریلو ماحول سے ممتزج ہوکر طلبا کو ذہنی اذیت کا مریض بنا دیتی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ملک کی بہتر ترقی اور اس کا سنہرا مستقبل طلبا کے ہاتھوں میں ہوا کرتا ہے۔ ہمارے ملک میں بھی طلبا کا ملکی جدوجہد میں بڑاحصہ ہے او ر  زریں کردار ادا کیا ہے خواہ وہ سیاسی لڑائی ہو یا سماجی جدو جہد، معاشی تنگی کا حل ہو یا تعلیمی بیداری کا مسئلہ ہو۔ اور یہ صرف ہمارے ملک کی خاصیت نہیں بلکہ عالمی سطح پر مختلف ممالک کے طلبا و طالبات نے ملکی سرگرمیوں میں حصہ لے کر اس میں اپنی ذمے داریاں نبھائی ہیں۔ انیسویں صدی میں روس، جرمنی اور فرانس کے طلبا کا وہاں کی ملکی سیاسی سرگرمیوں میں حصہ  ناقابل  ِفراموش ہے۔

دور حاضر میں تعلیمی ادارے اضطرابی عوامل سے خالی نہیں ہیں۔ ان میں نظم و ضبط کی کمی ہے۔ کہیں کہیں تعلیمی سہولیات کا  بھی فقدان ہے۔ اس سے طلبا کے اندر منفی رجحانات بڑھ رہے ہیں۔ توڑ پھوڑ کرنا، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا، بسوں کو نذر ِآتش کرنا، اساتذہ کے ساتھ بدزبانی و بد تمیزی، بات بات پر احتجاج کرنا اور بھوک ہڑتال کرناجس سے تعلیمی ادارے کی ساکھ بدنام ہو۔ امتحان کا بائیکاٹ کرنا، ناجائز حقوق کا طلبگار ہونا وغیرہ۔ کوٹھاری کمیشن نے اپنی سفارشات میں کہا ہے کہ طلبا کے ذریعے اس طرح کے پر تشدد واقعات میں لگاتار اضافہ ہو رہا ہے۔ اور  ان سارے واقعات کا ظہور اعلی تعلیمی اداروں میں زیادہ ہے۔ اور ہر بیتے دن کے ساتھ حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں  اور اس طرح کے کاموں کو کرنے میں طلبا کا رجحان بڑھتا ہی جا رہا ہے۔

اثرات: موجودہ دور میں طلبا میں پائے جانے والے ــ’اضطراب‘ کے  اثرات کے نتائج نہایت مہلک ثابت ہو رہے ہیں۔ طلبا کی تعلیمی و اکتسابی کارکردگی پوری طرح سے متاثر ہوئی ہے۔ ان کے اندر بد نظمی،  بے صبری، بد لحاظی، بے مروتی، بد گوئی، تشدد، نفرت کا رجحان لگاتار بڑھ رہا ہے  جس سے ملک کے سنہرے مستقبل اور ایک قابل رشک معاشرے کی تشکیل کی امیدوں کو شدید  دھچکا  پہنچا ہے۔      

طلبا میں بڑھتے اضطراب نے جہاں ایک طرف سماجی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا اور سماج  میں ایک طرح کی نا امیدی اور تعلیمی اداروں کی منفی تصویر پیش کی وہیں دوسری طرف طالب علم اور معلم کے جذباتی اور  قابل تکریم  رشتے پر بھی کاری ضرب  لگائی ہے۔ اس اضطراب نے معلم و متعلم دونوں کے میٹھے رشتے میں بھی  زہر گھول دیا۔ اس رشتے کی مٹھاس باقی نہ رہی۔ طلبا کی بے جا  بد گوئیوں نے اس میں کڑواہٹ پیدا کردی۔ اس کے علاوہ سماجی، معاشی، سیاسی ماحول میں بھی اس  اضطراب کا  اثر براہِ راست دکھائی پڑتا ہے۔ 

عوامل:   طلبا میں بڑھتے اضطرابی ماحول کے پس پردہ  بے شمار وجوہات کی شمولیت ہے۔ اس طوفان کے لگاتار اضافے میں سماجی، معاشی، سیاسی و دیگر عوامل کا بھی دخل ہے، ان  کے اسباب کا تفصیل سے جائزہ لینا ناگزیر ہے۔

سماجی عوامل:سماج کی حیثیت ہمارے درمیان اس درخت کے مثل ہے جس کے  سایہ تلے ہماری نسلیں پروان چڑھتی ہیں۔ اسی  ماحول سے متاثرہوکر  بچوں کی نشو ونما اور ان کی تعلیم و تربیت کا راستہ ہموار ہوتا ہے۔ اس لیے بچوں کی بہتر تربیت سازی اور ان کے سنہرے مستقبل کے لیے سماج کا بہتر، منظم، تعلیم یافتہ بغض و حسد سے پاک ہونا  بے حد ضروری ہے۔ ایک ایسا معاشرہ، جہاں مظلوموں کو  ان کا حق دیا جاتا ہو، بچوں میں انسا نی اقدار پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی بہتر خیال سازی کرتا ہے۔ اور ان کے بہتر مستقبل کا ضامن بھی ہوتا ہے۔    

لیکن عصر جدید میں آپسی رنجش، بغض و حسد، کنبہ پروری، مظلوم کشی ہمارے سماج کے وہ عناصر ہیں جس سے طلبا لگاتار متاثر ہو رہے ہیں۔ وہ ایک ایسے سماج کا حصہ ہیں جہاں بدزبانی و بد لحاظی عام ہے۔ اور سماج کی یہ باتیں طلبا کے خیالات کا حصہ بن کر ان کے اعمال میں شامل ہو جاتی ہیں۔ اور یہ ان کے ذہنی اضطراب میں اضافے کا باعث ہے۔         

معاشی عوامل:جن عوامل نے طلبا کے اضطراب میں اپنا اہم  کردار ادا کیا ہے ان میں معاشی عوامل کا  بڑا حصہ ہے۔ روزگار کی فکر اور بے روز گاری نے جہاں طلبا کے ذہنی اضطراب میں اضافہ کیا  وہیں ان کے تعلیمی رجحان میں کمی کا باعث بھی بنا۔ گھریلو معاشی حالات کی تنگی بھی طلبا کی ذہنی  روش کو بے سمت کر نے میں اہم کردار نبھا رہی ہے۔

مشکل منتقلی:  کسی نئے ماحول میں کسی بھی طالب علم کو خود کو سیٹ کرنے اور وہاں کی فضا سے خود کو ہم آہنگ کرنے میں بڑی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔ کیونکہ سابقہ تعلیمی نظام سے ایک دوسرے  نظام میں خود کو منتقل کرنا اور وہاں کے رنگ میں خود کو رنگنا  بڑا کٹھن مرحلہ ہوتا ہے۔ اور بسا اوقات یہ چیزیں طلبا کو تناو ٔ  کا شکار بنا دیتی ہیں۔ وہ خود میں سمٹ کر رہ جاتے ہیں۔ وہ نئی چیزوں کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی مکمل شخصیت اس تناؤ کا شکار ہو جاتی ہے وہ تعلیمی کارکردگی پر توجہ نہیں دے پاتے  اور ناہی ان کی اخلاقی و تعلیمی نشو ونما  ہوپاتی ہے۔ ایسے طلبہ اکثر اساتذہ کی نظروں سے بچے رہنا چاہتے ہیں  اور یہی تعلیمی و اخلاقی بحران ان کو غلط سمت دکھانے میں معاون ہوتے ہیں۔ اور فیصلے کے طور پر وہ غلط راستوں پر گامزن ہوجاتے ہیں۔

تناؤ:طلبا جب اپنا ماضی چھوڑ کر کسی بھی نئے ماحول میں آتے ہیں تو ان کی سابقہ زندگی ان پر پوری طرح حاوی ہوتی ہے۔ وہ زندگی کے ہر شعبے میں اپنے پرانے ڈھرے پر قائم رہنا چاہتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ وہ نئے ماحول کے چیلنجز سے ناآشنا ہوتے ہیں یا آشنا ہوکر بھی تغافل برتتے ہیں۔ایسے میں نئی جگہ کے قوانین، طور طریقے، تدریسی حکمت عملیاں اور نصاب وغیرہ کا بوجھ دن بہ دن ان کو بڑھتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ اور یہ ساری چیزیں اس کے ذہنی اشتعال کو ہو ا دیتی ہیں۔ ان کا یہ اندرونی اشتعال متواتر بڑھتا رہتا ہے اور بالآخر ذہنی اضطراب کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔

غیر یقینی صورت حال: غیر یقینی صورت حال کسی سمت یا تحریک کے بغیر کسی اہم چیزکا احساس خاص طور پر جب طالب علم کے تمام دوستوں کو محسوس ہو کہ جیسے انہیں اپنی ہی پڑی ہے یقینی طور پر اضطراب کا باعث ہے۔ یہ بھی بات یقینی ہے کہ پریشانی انجانے میں پروان چڑھتی ہے۔ اور جب طلبا غیر یقینی صورت حال کا شکار ہوتے ہیں تو یہ ان کے سر چڑھ کے بولتا ہے۔ انھیں معلوم نہیں ہوتا ہے کہ کل کو ان کا مستقبل کیا ہوگا۔ انھیں ملازمت ملے گی بھی یا نہیں۔ یوں ہی اگزامز کے دنوں میں وہ اپنی تیاریوں اور نتیجے کو لے کر بھی غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہوتے ہیں۔ اور یہ یقینا ان کے ذہنی اضطراب میں بڑھوتری کا  باعث ہے۔

طریقۂ زندگی میں تبدیلی: ایک انسان پیدائش کے بعد جس ماحول میں رہ کر اپنی زندگی گذارتا ہے وہ اسی کا عادی ہوتا ہے۔ اس کے طور طریقوں کو اپنا لیتا ہے۔ اس کے آداب و تہذیب کے رنگ اس میں گھل جاتے ہیں۔ اس کا کھانا پینا، اٹھنابیٹھنا، سونا جاگنا، لکھنا پڑھنا اس کے طرز معاشرت کی گواہی دیتی ہیں۔ لیکن یہی طالب علم جب اپنے سماج کو چھوڑ کر ایک نئی دنیا میں پہنچتا ہے تو وہاں کا رنگ ڈھنگ الگ ہوتا ہے۔ وہاں کے طور طریقے بالکل نئے اور نرالے ہوتے ہیں۔ با قاعدگی سے نیند کا نظام الاوقات، صحت مند خوراک اور باقاعدگی سے ورزش میں افسردگی کی علامات کو کم کیا گیا ہے۔ لیکن کالج کی زندگی میں دیر رات تک بیدار رہنا اور کیفے کے کھانے کی وجہ سے صحت میں کمی اوراضطراب میں بڑھوتری  دونوں قسم کا نقصان ہوتا ہے۔

دیگر عوامل:بیان کردہ عوامل کے علاوہ طلبا میں نظم و ضبط کی کمی، اساتذہ اور طلبا کے آپسی رشتے کی کڑواہٹ، تعلیمی اداروں کا حد سے زیادہ خرچیلہ ہونا، بڑھتی ہوئی بے مروتی و بد لحاظی بھی اضطرابی ماحول کو مسلسل سازگار کر رہے ہیں۔  

عام طور پر یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ تعلیمی اداروں میں طلبا کے ساتھ معاشی زیادتیاں بھی ہوتی ہیں۔ اسٹاف تعاون نہیں کرتا ہے،بعض مواضعات میں کمیشن خوری بھی عروج پر ہے۔ تعلیمی نظام میں طلبا کی سہولیات کی طرف دھیان نہ دینا بھی ان کے ذہنی اضطراب کو ہوا دے  رہا ہے۔

اعلی تعلیمی اداروں میں بھی طلبا کے فلاح و بہبود کے لیے بنی کمیٹیاں اوریونین بھی اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرکے ذہنی اضطراب کو فروغ دے رہے ہیں۔

حل:طلبا میں بڑھتا  اضطراب ایک حل طلب مسئلہ ہے۔ اس کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ حالانکہ مختلف تعلیمی کمیٹیوں اور کمیشنوں نے طلبا میں ذہنی بے چینی کو کم کرنے کے لیے بہت سی مفید سفارشات پیش کی ہیں۔     

ڈاکٹر رادھا کرشنن کمیشن کے مطابق اعلی تعلیمی اداروں میں طلبا کی صحت کا ہر حال میں خیال رکھا جانا چاہیے۔ اس کے لیے انھیں صحت مند غذا دی جائے اور وقتاً  فوقتاً ان کی صحت کی جانچ ہو۔ ساتھ ہی جسمانی تعلیم بھی دی جائے  تاکہ وہ ذہنی اذیتوں سے دوچار ہونے سے بچ سکیں۔

ان کی سفارشات میں طلبا یونین کی کارگزاری کو  تیز کر نے اور یونیورسٹی افسران کی بے جا مداخلت کو روکنے کی تجویز بھی شامل ہے۔     

کوٹھاری کمیشن کی سفارشات میں تعلیمی معیار میں قابل قدر اصلاح اور طلبا کو ہوسٹل  سہولت کی فراہمی پر زور  دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے طلبا کو صحیح سمت کی جانب رہنمائی  کی سفارش بھی کی ہے۔  

ڈاکٹر تری گونا سین کمیٹی نے اپنی سفارشات میں بہت سی اہم چیزوں کو شامل کیا ہے۔ مثلاً تعلیم کو روزگار سے جوڑنا، قابل اور ہنر مند اساتذہ کی تقرری، نظم و ضبط کی پابندی،وغیرہ۔ 

اس کے علاوہ  طلبا میں ذہنی اضطراب کو کم کرنے کے لیے سماج کو پاک صاف، منظم، تعلیم یافتہ بنانا بے حد ضروری ہے۔ معاشی تنگی کو کم کرنے  اور طلبا کے سروں سے ان کے تعلیمی خرچ کا بوجھ ہٹانا اضطراب کو کم کرنے کی جانب ایک شاندار قدم ثابت ہو سکتا ہے۔   

مزید برآں تعلیمی اداروں کی بدنظمیوں پر نکیل کسنا اور طلبا کی سہولیات سے لیس کرنا بھی اضطرابی ماحول کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

آج کے زمانے میںذہنی اذیت کے فروغ میں سب سے بڑا کردارایک تعلیم یافتہ شخص کی بے روزگاری کا ہے،  جس سے معاشی تنگی پید اہوتی ہے۔ اس سمت اقدامات کیے جانے کی فوری ضرورت ہے تا کہ تعلیم کی تکمیل کے بعد طلبا مختلف  میدان میں اپنی قابلیت اور صلاحیت کا مظاہرہ کر سکیں۔ اور ذہنی اضطراب پرقدغن لگایا جا سکے۔        

متذکرہ بالا نکات کے علاوہ والدین، معلم، اسکول انتظامیہ اور ذرائع ابلاغ کا کردار بھی طلبا میں اضطرابی ماحول کے خاتمے میں نا قابل فراموش ہے۔

والدین سے بہتر شاید ہی کوئی دوسرا شخص اولاد کو جانتا ہو۔ وہ اس کی تمام خوبیوں خامیوں سے واقف ہوتے ہیں۔ وہ اس کے اندرونی  و بیرونی تمام طرح کی خاصیتوں سے آشنا ہوتے ہیں۔ ایسے میں والدین طلبا کے اضطراب کو کم کرنے یا اس کو مکمل ختم کرنے کے بہترین محرک بن سکتے ہیں۔ گھر کے اضافی بوجھ اور مالی مسائل کا تذکرہ بچوں کے سامنے ان کے منفی خیالات کو ہوا دیتا ہے۔ بچوں کی بہتر نشوو نما بھی  ان کے ذہن سے منفی رجحانات کو ختم کر دیتی ہے۔

طلبا کی زندگی میں معلم کی حیثیت اس سایہ دار درخت کی مانند ہے جس کے سائے میں وہ اپنی تمام تھکان اور مصیبتوں سے چھٹکارا پا لیتا ہے۔ وہ اس کے زیر سایہ اپنی زندگی گذارتا ہے اوراسی کا اثر قبول کرتا ہے۔ طلبا کے اضطراب میں کمی لانے کا کردار اس سے زیادہ بہتر انداز میں کوئی نہیں ادا کر سکتا۔ طلبا کے ساتھ ہمدردی، شفقت، محبت، رہنمائی کے ذریعے ان کو بہترین مستقبل کی امید دلاکران کو سنہرے راستوں کا مسافر بنا سکتا ہے۔ اور بلا شبہ ان اقدامات سے ان کے ذہنی اضطراب کو پھلنے پھولنے کا موقع نا مل سکے گا۔

یوں ہی اعلی تعلیمی اداروں میں انتظامیہ بھی اس موذی مرض کو بڑھنے سے روکنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے ضروری یہ ہے کہ اندرون کالج ماحول کو خوش نما بنایا جائے۔ طلبا کے لیے سازگارمواقع فراہم کیے جائیں۔ ان کی ضروریات کاخیال رکھا جائے۔ ڈر کا ماحول ختم ہو۔ غیر یقینی صورت حال بھی انجام کو پہنچے۔

عصر حاضر میں طلبا کا اضطراب یہ ذی شعور اور ذی فہم لوگوں کے لیے اب ایک چیلنج کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ لہٰذا اس کے خاتمے کے لیے ذرائع ابلاغ نے اپنی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ اب اخبارات کے ذریعے تحریریں شائع کی جا رہی ہیں۔  ٹی۔وی چینلوں پر بحث و مباحثے بھی جاری ہیں۔ ماہرین کے ذریعے طلبا کو کیریئر (Career)کے بارے میں معلومات فراہم کی جاتی ہیں جس سے ان کا ذہنی دباؤ کم ہو اور اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ ذرائع ابلاغ کی یہ کوششیںاب نتیجوں میں تبدیل ہونے لگی ہیں۔

 

Dr. Md Athar Hussain

Asst Prof. Dept of Education and Training

Maulana Azad National Urdu University

Gachibowli

Hyderabad- 500032 (Telangana)

Mob.: 9849253580

 

 ماہنامہ اردو دنیا، اگست 2021

 

 

 

 

 

 


9/9/21

تمل ناڈو میں اردو افسانہ - مضمون نگار: اسانغنی مشتاق رفیقی

 



 

تمل ناڈو میں اردو زبان کی تاریخ پانچ  صدیوں پر محیط ہے، نثر نگاری کے ابتدائی نمونے سترہویں صدی میں مل جاتے ہیں، لیکن افسانہ نگاری کی شروعات بیسویں صَدی کے نصف بعد ہی ہوئی ہے۔ بہ نسبت شاعری کے افسانہ نگاری کی طرف تمل ناڈو کے مشاہیر ادب کی توجہ ایک عرصے تک نہ ہونے کے برابر رہی۔شروعاتی دور میں یہاں جو افسانے لکھے گئے ان میں سطحی رومانیت کا عنصر غالب رہاپھر دھیرے دھیرے اس روش میں تبدیلی آئی۔ اعلیٰ درجے کی رومانیت کے ساتھ حقیقت نگاری کا رجحان بڑھتا گیااور یہ سفر ہنوز جاری ہے۔

تمل ناڈو سے وابستہ جن افسانہ نگاروں نے عالمی پہچان بنائی ان میں پہلا نام حجاب امتیازعلی کاآتا ہے۔ علیم صبا نویدی نے اپنے ایک تحقیقی مضمون میں حجاب امتیازعلی کی پیدائش 1907 شہر وانم باڑی بتائی ہے۔ حجاب کی پیدائش کے بعد اُن کے والد کو حیدر آباد میں ملازمت مل گئی اور وہ اہل وعیال کے ساتھ وانم باڑی سے حیدر آباد منتقل ہوگئے۔ اُنہی دنوں حیدر آبادمیں طاعون پھیلاتو انھوں نے بیگم اور بچوں کو مدراس بھیج دیا۔ حجاب کی والدہ عباسی بیگم اپنے دور کی ایک نامور اہل قلم خاتون تھیں، ان کا انتقال شہر وانم باڑی میں ہوااور وہ یہیں مدفون ہوئیں۔ حجاب امتیاز علی تقسیم کے بعد پاکستان منتقل ہوگئیں۔اردو کی فکشن نگار خواتین میں حجاب کا نام صف اول میں لیا جاتا ہے،  اُن کے افسانوں میں رومانیت کا عُنصر زیادہ ہے، بقول سجادحیدر یلدرم ـ’’ حجاب کے تخیل نے ایک نئی دنیا خلق کی ہے اور اس دنیا میں ایک نئی اور نہایت دلکش مخلوق آباد کی ہے۔ یہ دنیا جس میں ہم اور آپ رہتے ہیں اِس سے علیحدہ ہے،گو اُس سے ملتی جلتی ہے اور جو لوگ اِس دنیا میں آباد ہیں وہ ہم سے مشابہ تو ضرور ہیں مگر بالکل ہماری طرح نہیں ہیں۔ـ ‘‘(حجاب امتیاز علی، آزاد دائرۃ المعارف ویکیپیڈیا)

حجاب امتیازعلی کے بعد تمل ناڈو سے وابستہ کسی ادیب نے اگر اپنی الگ پہچان بنائی ہے تو وہ علیم صبا نویدی ہیں۔ ایک کامیاب ادیب، شاعر اور نقاد ہی نہیں شعر و نثر کی ہر صنف پر مکمل دسترس رکھنے والی تمل ناڈو کی شخصیت۔ بحیثیت افسانہ نگار علیم صبا نویدی کی پہچان 1967میں ہوئی جب ان کا پہلا افسانوی مجموعہ’’ روشنی کے بھنور میں‘‘ جس میں زیادہ تر روایتی انداز میں لکھے گئے افسانے تھے، شائع ہوا۔ اس کے بعد علیم صبا نویدی کی فکرمیں واضح تبدیلی آتی گئی اور وہ ایک جدید لب و لہجے کے علامتی اور تجریدی انداز کے ساتھ باغی افسانہ نگار کی حیثیت سے اپنی پہچان منوانے میںکامیاب رہے۔ منٹو، عصمت اور وہی وہانوی کے طرز پر علیم صبا نویدی کے افسانوں میں بھی جنسی مسائل اور جنسی تلذذ کا اظہار بڑی بے باکی سے ملتا ہے۔

تمل ناڈو میں حجاب امتیازعلی اور علیم صبا نویدی کے علاوہ بیسویں صَدی کے نصف آخر اور اکیسویں صَدی کے اوائل میں افسانہ نگاروں کی ایک طویل فہرست سامنے آتی ہے۔ جن کے یہاں روایتی اور سطحی رومانیت پائی جاتی ہے۔ صرف چند ہی ممتاز افسانہ نگارایسے ہیں جن کے یہاں اعلیٰ رومانیت کے ساتھ ساتھ حقیقت نگاری کا عنصر بھی پایا جاتا ہے، اِن میں سر فہرست شروعاتی دور میں شاکر نائطی، ارشد حیدری، حبیب خان سروش، ریاض جنیدی، سید موسیٰ کلیم ید الٰہی، دوسرے دور میں محمد حبیب اللہ، مصباح الزماں،  محمد عباس، شاہ ضیا ئ میر، خورشید حسن نقوی، حبیب اللہ باشاہ، سید امان اللہ عباسی، علی اکبر آمبوری، تیسرے دور میں ادیب بھارتی، فرحت کیفی، راجی صدیقی، راز امتیاز، نورس خیامی، ایس ایم حیات، دانش فرازی، انور ربانی،عابد صفی، مہر طلعت آمبوری، رشید احمد فاروقی، عزیز تمنائی، رشید مدراسی، ساحل رشید، فیضی صدیقی کے نام آتے ہیں۔

1960 کے بعد افسانہ نگاروں کی ایک نئی پود منظر عام پر آئی جن میں فضل جاوید، حسن فیاض، نکہت اقبال، وہاب نازش، صلا ح الدین برق،علیم صبا نویدی، نثار احمد ریحان، سبیل عرفان، اعجاز شاکری، ظہیر آفاق، کاظم نائطی، فخر اعجاز، عبداللطیف نازی، فیاض حسین، احمد علی اعجاز، متین ہوش، میر مومن علی،جہاں آرا، فاطمہ رئیس، نذیر احمد مشعل،  منیر احمد نیازی قابل ذکر ہیں۔ اس کے بعد ساتویں اور آٹھویں دہائی میںافسانہ نگار کے طور پر قبولیت پانے والوں میں محمد یعقوب اسلم، انور کمال،ڈاکٹر جلال عرفان،وی رحمت اللہ، مختار بدری،اکبر زاہد، شبیب احمد کاف، امین الماس، امیرالنسائ، شاکر قدسی، شاذیہ مسرور،نسرین جمیل، منور رشید، صبا مصطفٰے،  حوا ما رشیدی، نگار سلطانہ جلیلی، عرفانہ تزئین شبنم، نزہت نازنین، شاذیہ نازنین، غزالہ پروین بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔موجودہ دور میں افسانہ نگاروں کے اس کارواں میں جو نئے نام شامل ہوئے ہیں ان میںمحمد جان وفا اعظمی، فرحت جبین، غیض الدین، اشفاق اسانغنی،ایم این عبداللہ باشاہ، مدورئے منیر، ڈاکٹرطیب خرادی اور خاکسار کے نام قابل ذکر ہیں۔ ان میں سے اکثر کے لکھے ہوئے افسانے ملک کے معتبر ادبی رسالوں میں چھپتے رہے ہیں۔

ڈاکٹر عابد صفی، تمل ناڈو کے افسانوی ادب میں ایک خاص مقام رکھتے ہیں۔ ان کے لکھے افسانے ملک کے معتبر جرائد میں شائع ہوتے رہے ہیں۔ہلکی سی رومانیت لیے ان کے افسانے سطحیت سے ماورا ہوتے ہیں۔ کہانیوں کو پیکر نگاری اور منظر کشی کے ذریعے دلچسپ بنانا انھیں خوب آتا ہے۔ ڈاکٹر جلال عرفان ان پرتبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں،’’ آپ تمل ناڈو کے نمائندہ افسانہ نگار ہیں، ابتدائی دور کے افسانوں میں ترقی پسند ی کا رنگ غالب تھا۔ لیکن آگے چل کر موضوعات میں وسعت اور تنوع پیدا ہوگیا۔ مجروح انسانی جذبات کی عکاسی اور نفسیاتی مسائل کی پیش کش بڑے موثر اور دلکش انداز میں کرتے ہیں۔‘‘ (تملناڈو میں اردو افسانے کا ارتقا: ڈاکٹر عابد صفی، مشعل وانم باڑی شمارہ 43ص49) بقول ڈاکٹر سجاد حسین، ’’عابد صفی کی بہترین کہانیاں صنف نازک کی نفسیات اور مسائل کی ترجمان ہیں۔ ان کا مشاہدہ گہرا اور احساس نہایت تیز ہے۔ اس لیے وہ کسی بھی چیز کی تصویر کشی میں باریک بینی سے کام لے کر اس کے خدوخال روشن کردیتے ہیں۔‘‘

(شہر مدراس میں اردو افسانہ نگاری:ڈاکٹر سید سجاد حسین، مشعل وانم باڑی شمارہ 43،ص40)

محمد یعقوب اسلم کے افسانوں کا مجموعہ ـ’چہروں کی دیوار‘ تمل ناڈو کے افسانوی ادب میں ایک بیش بہا اضافہ ہے۔ اس میں کل دس افسانے ہیں اور یہ1986 میں شائع ہوا۔ روایتی اسلوب میں حقیقت نگاری، بے ساختہ پن، فکر کی بلندی،قدروں کی منظر کشی،اُن کے افسانوں کا طرہ امتیاز ہے۔بقول ڈاکٹر عزیز تمنائی ’’ ایک اچھا افسانہ نگار روزمرہ کے مشاہدات کو کہانی کا روپ دیتا ہے۔ خلوص اور سچائی کے زیورات سے آراستہ کرتا ہے اور سطحی رنگ آمیزیوں سے انھیں پاک صاف رکھتا ہے۔ یہ ساری خوبیاں یعقوب اسلم کے افسانوں میں یک جا ہوگئی ہیں۔‘‘

(چہروں کی دیوار،افسانوں کا مجموعہ: محمد یعقوب اسلم)

مختار بدری، تمل ناڈو میں اردو زبان و ادب کے خاموش اورپُرخلوص خدمت گاروں میں ایک نمایاں نام ہے۔ تمل اور اردو زبان و ادب پر یکساں قدرت و مہارت کے حامل کئی کتابوں کے مصنف مختار بدری نے اردو زبان کے کئی معروف ادیبوں کی تخلیقات کا تمل زبان میں ترجمہ کراکے انھیں تمل دنیا سے متعارف کرایا ہے۔اردو تمل، تمل اردو ڈکشنری آپ کا بہت بڑا کارنامہ ہے۔ بحیثیت افسانہ نگار مختار بدری ایک منفرد شناخت رکھتے ہیں۔ بیک وقت ترقی پسند اور روایتی فکر سے متاثر آپ کے افسانے سادگی اور حقیقت نگاری سے مرصع ہوتے ہیں۔لفظوں کو برتنے کا فن آپ کو خوب آتا ہے، بقول علیم صبا نویدی،’’ مختار بدری کے یہاں اکثر اوقات الفاظ کی شان و شوکت اور ان کا جاہ و جلال بھی بہت مزہ دے جاتا ہے اور بڑی دیر تک سماعت میں ایک حسین گونج قائم رہتی ہے۔ الفاظ کی یہ گہماگہمی انھیں روایت کے بالکل قریب لے جاتی ہے۔‘‘(روشن چہرے:علیم صبا نویدی ص148)

صبا مصطفٰی، مدراس کی افسانہ نگار خاتون ہیں جنھوں نے بطور فن صنف افسانہ اختیار کیا۔انھوں نے اپنے افسانوں میں عورتوں کی نفسیات اور مصیبت زدہ پریشان حال مسلم گھرانوں کے مسائل کو بڑی شائستگی کے ساتھ صاف اور سلیس زبان میں پیش کیا ہے۔ اپنا نقطہئ نظر قاری تک، اُسے الفاظ کی بھول بھلیوں میں بھٹکائے بغیر عام فہم انداز میں کامیابی کے ساتھ پہنچاتی ہیں۔روایت کی پاسداری اور اصلاحی پہلو اُن کے افسانوں میں بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔

علی اکبر آمبوری کا شمار تمل ناڈو کے صف اول کے افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ ان کے افسانوں کا مجموعہ ’برف سی اجلی‘ 1965 میں شائع ہوا۔ انسانی نفسیات کا گہرا مشاہدہ اور بلند تخیل کے ساتھ آپ بیتی کو جگ بیتی بنا کر اپنے ماحول اور معاشرے کو افسانوں میں پیش کرنے کی کوشش ان کی پہچان ہے۔قاضی حبیب ان کے افسانوں پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’علی اکبر اپنے افسانوں کے لیے خام مواد اپنے اطراف سے حاصل کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کے افسانوں میں جنوبی ہند کے لوگوں کی تہذیب اور نفسیات کی گہری چھاپ موجود ہے۔ ‘‘

(آمبور اور پرنامبٹ میں افسانہ نگاری:قاضی حبیب احمد، مشعل وانم باڑی شمارہ 43،س30)

امیرالنسائ جن کا تعلق ایک سرمایہ دارروایتی گھرانے سے ہے، حقیقت نگاری اور عورت کو موضوع بنا کر اصلاحی افسانہ نویسی میں اپنا ایک خاص مقام رکھتی ہیں۔ ان کی زبان عام فہم اور تصنع سے پاک ہونے کے باوجود مشاہدات کی گہرائی سے آراستہ ہے۔ اخلاق اور مذہب ان کے افسانوں میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔’بند عور ت‘ ان کے افسانوں کا مجموعہ ہے جس میں کل پندرہ افسانے ہیں۔

مہر طلعت،مقصدی ادب کی تخلیق کا  رجحان رکھنے والی ایسی افسانہ نگار ہیں جن کے افسانوں میں حقیقت نگاری اور کردارسازی کمال کو پہنچی ہوئی ہوتی ہے۔ فطری مکالمے، کرداروں کی حقیقت پسندی، صاف ستھری عبارت، مربوط جملے ان کے افسانوں کی دیگر خصوصیات ہیں۔ ان کے لکھے افسانے خواتین کے رسالوں میں کثرت سے چھپتے رہے ہیں۔  ڈاکٹر عابد صفی ان  کے افسانوں پرتبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’ مہر طلعت کے افسانوں کی فضا بڑی دلکش اور انداز بیان بڑا  دل فریب ہوتا ہے۔ ان کے افسانے زیادہ تر رومانی ماحول میں سانس لیتے اور سماجی پہلوؤں کے اردگرد چکر لگاتے ملتے ہیں۔‘‘

(تملناڈو میں اردو افسانے کا ارتقا: ڈاکٹر عابد صفی، مشعل وانم باڑی شمارہ 43ص49)

شبیب احمد کاف، تمل ناڈو کے جواں مرگ افسانہ نگار جنھوں نے مختصر عرصے میں ایسے شہ پارے تخلیق کیے کہ ایک دنیا اُن کی گرویدہ ہو گئی۔شبیب احمد کاف، وانمباڑی میں 1955 میں پیدا ہوئے۔1982 سے انھوں نے لکھنا شروع کیا، ایک اندازے کے مطابق سو کے قریب افسانے لکھے،1991 میں ان کا انتقال ہوگیا۔ اس حساب سے ان کی ادبی زندگی آٹھ نو سال کی رہی۔ ان کے افسانوں کا مجموعہ ’ حق تو یہ ہے‘ ان کی وفات کے بعد ان کی اہلیہ نے 1992میں شائع کیا۔ شبیب احمد کاف کے افسانوں میں اصلاحی پہلو سب سے نمایاں ہے،ان کے افسانوں کی زبان صاف اور شستہ، ان کا اسلوب منفرد، ان کا بیانیہ تاثیر سے پُر ہوتا ہے۔ ڈاکٹر حیات افتخار اُن کے متعلق لکھتے ہیں’’ سماج کے ایک ذمہ دار اور حساس فر دکی حیثیت اپنے اردگرد کی معاشرت کی سچی تصویر پیش کی ہے اور ایک سچے فنکار کی طرح اپنے نقطہئ نظر کو عام طور پر بالواسطہ نہیں بلکہ باواسطہ طور پر پیش کیا ہے۔‘‘

انور کمال تمل ناڈو کے ایسے افسانہ نگار ہیں جنھوں نے اپنے فن کے اظہار کے لیے علامتی طرز نگارش اختیار کی۔ ابتدائی دور میں سماجی مسئلوں کو موضوع بنا کر لکھے چند افسانوں کے بعد انھوں نے اپنی پوری توجہ علامتی افسانہ نگاری کی طرف پھیر لی۔ زبان و بیان پر مکمل گرفت اور تہہ داری لیے ان کے افسانے سحر پیدا کردیتے ہیں۔ ڈاکٹر جلال عرفان اُن کے افسانوں کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں ’’انور کمال کے علامتی افسانوں میں ایک دیو مالائی فضا ملتی ہے۔ دھندلے اور نیم خوابیدہ جہانوں کی غیر یقینی کیفیت اور کسک ملتی ہے۔ رہ گم کردگان کے بے نتیجہ اور لامتناہی سفر کی تھکن ملتی ہے۔ علامتی انداز نگارش نے انور کمال کے افسانوں میں ایک ایسی تہہ داری پیدا کردی ہے جو اشعار غالب کا وصف ہے۔‘‘

(انور کمال کا تخلیقی سفر:ڈاکٹر جلال عرفان، مشعل وانم باڑی شمارہ 32ص15)

اکبر زاہد منفرد اسلوب میں جذبات و محسوسات کو وضاحت کے ساتھ پیش کرنے کا فن رکھتے ہیں۔ان کے افسانوں میں علامتی فضا اور حقیقت نگاری ساتھ ساتھ چلتی ہے۔اُن کا کمال یہ ہے کہ جانے پہچانے کردار تراش کر قاری کو اپنائیت کا احساس دلاتے ہوئے اُسے خود بھی اپنی کہانی کا ایک کردار بنا لیتے ہیں۔ وہ معاشرے کو آئینہ تو دکھاتے ہیں لیکن اصلاح کے نام پر اپنے افکار و نظریات اس پر تھوپنے کی کوشش نہیں کرتے۔ بقول ڈاکٹر جلال عرفان ’’ اکبر زاہد افسانے میں وعظ و نصیحت بالکل نہیں کرتے مگر افسانے کی تاثیر ایسی ہوتی ہے کہ قاری کا سارا وجود احساس کے شعلوں کی لپیٹ میں سما جاتا ہے اور اس کا نفس پاک ہونے لگتا ہے۔ ‘‘ (ایک نیزہ اونچا آسمان، افسانوں کا مجموعہ:اکبر زاہد،ص ض) 21، افسانوں پر مشتمل ان کے افسانوں کا مجموعہ ’ایک نیزہ اونچا آسمان‘ اپریل 1997 میں شائع ہوا۔

عرفانہ تزئین شبنم کا تعلق ایک مذہبی گھرانے سے ہے، ان کے والد ایک عالم دین اور کثیر المطالعہ شخصیت تھے، جن کی تربیت کی بازگشت ان کے لکھے افسانوں میں جا بجا سنائی دیتی ہے۔ بوجھل لفظوں سے پاک عام فہم زبان، رواں اسلوب، ان کے نگارشات کی پہچان ہے۔ انسانی زندگی کی الجھنیں اور نفسیاتی پیچیدگیاں ان کے افسانوں کا موضوع ہوتے ہیں۔  عرفانہ تزئین شبنم کے افسانوں کے دو مجموعے شائع ہوچکے ہیں،پہلا مجموعہ ’جائے پناہ‘ جس میں 16فسانے ہیں،1999 اپریل میں شائع ہوا، دوسرا مجموعہ ’شہر تخیل‘ جس میں دس افسانے ہیں نومبر 2007 میں شائع ہوا۔

تمل ناڈو کے اکثر افسانہ نگاروں کی تخلیقات میں وعظ و نصیحت کا رنگ غالب رہتا ہے۔ قاری کے ذہنوں پر یہ تخلیقات کوئی دیر پا اثر مرتب نہیں کرپاتیں۔حالات کے بدلتے ہوئے منظر نامے میں امید کی جانی چاہیے کہ یہ جمود ٹوٹے گا اور یہاں سے ایسے فنکار ابھریں گے جو عالمی سطح پر اردو ادب میں اپنی کوئی منفرد پہچان بناسکیں۔

اس مضمون کی تیاری میں درج ذیل کتابوں سے مدد لی گئی:

1       تمل ناڈو کے مشاہیر ادب از علیم صبا نویدی، فروری 1999

2       مدراس میں اردو مرتبہ ڈاکٹر جلال عرفان،دسمبر 1992

3       مٹی کی خوشبو (سوانحی اور تعارفی خاکے) از محمد یعقوب اسلم، نومبر2010

4       چہروں کی دیواراز محمد یعقوب اسلم،1986

5       اُجلی مسکراہٹ از علیم صبا نویدی مرتب پروفیسر عابد صفی،مئی 2020

6       ایک نیزہ اونچا آسمان از اکبر زاہد،اپریل1997

7       شہرِ تخیل از عرفانہ تزئین شبنم، نومبر 2007

8       مشعل( اسلامیہ کالج،وانم باڑی) شمارہ 32 اور43

9       میرا مطالعہ (تبصرے اور مضامین) از علیم صبا نویدی، دسمبر2018

 

 

Asangani Mushtaq Ahmed

9/258, 2nd Street Basheerabad

Vaniyambadi - 635751

Tirupattur, (Tamilnadu)

Mob.: 989404606

Email.: asanganimushtaq@gmail.com


ماہنامہ اردو دنیا، اگست 2021

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...