8/11/21

محرکِ تعلیم مصلحِ ملک و ملت نواب مشتاق حسین وقارالملک - مضمون نگار: ناشر نقوی


 


ہندوستان کی پہلی جنگ آزادی 1857  کے دوران ملک کی مسلم آبادی میں تعلیمی شعور بیدارکرنے والی اہم ترین شخصیات میں نواب وقارالملک مشتاق حسین زبیری کا کلیدی رول رہاہے۔ آپ اپنے زمانے کے مشہور سیاست داں،مصلحِ قوم، ماہر تعلیم، مترجم اور منتظم تھے جن کی غیر معمولی صلاحیتوں کو پرکھ کر تعلیم اور ادب کے سرخیل سرسیداحمد خاں نے وقارالملک کو اپنی علی گڑھ تحریک کا علمبردار بنایاتھا۔ یہ وہ تحریک تھی جس کے زیرِ اثر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی قائم ہوئی اور ہندوستانی مسلمانوں میں تعلیم کا شعور عام ہوا۔

نواب وقار الملک کے لقب سے مشہور،مشتاق حسین کے اجداد کا تعلق تومیرٹھ سے تھا لیکن ان کا ننہال امروہہ کارہا۔ آپ کی ولادت 24 ؍مارچ 1841  کو میرٹھ میں ہوئی، ابھی چھ مہینے ہی کے تھے کہ مشتاق حسین کے والد فضل حسین زبیری کا انتقال ہوگیا جس کے کچھ عرصہ بعد وقارالملک کی والدہ مقبول النسائ بیگم بیٹے کو لے کر امروہہ آگئیں اور اس طرح وقار الملک اپنے نانا کے گھرمحلہ شاہی چبوترہ کا حصہ بن گئے اور ان کا اپنا وطن امروہہ بن گیا۔ آپ نے ابتدائی تعلیم بھی امروہہ ہی میں حاصل کی اور ابتدائی عملی زندگی بحیثیت ٹیچر بھی امروہہ سے ہی شروع کی۔

وقارالملک کا امروہہ سے جوعشق رہااس کے ثبوت ان کے وہ کارنامے ہیں جو امروہہ کی ترقی کی بنیاد کہے جاسکتے ہیں۔ آج امروہہ میں جوسرکاری ہسپتال،سرکاری کالج اور دہلی مرادآباد ریلوے لائن ہے وہ وقار الملک کی ہی محنت کا ثمرہ ہے۔جب پہلی بار 1902 میں دہلی مرادآباد ریلوے لائن ڈالی جارہی تھی تو اس کی تجویز قصبہ جویا سے قریب موجودہ این ایچ 24 کے ساتھ ساتھ تھی۔ اس پر وقارالملک کو اعتراض ہوا جو انھوں نے مرکزی حکومت تک کیا۔ ان کے احتجاج کو قبول کرتے ہوئے حکومت نے ریلوے کاموجودہ روٹ بنایا اور اس طرح امروہہ کو ریلوے لائن ملی تھی۔

وقارالملک کے شعور نے جب آنکھیں کھولیں تواس وقت ہندوستان انگریزوں کا غلام تھا اور ملک کی آزادی کے لیے پہلی تحریک 1857 اپنے شباب پرتھی، ادھرانھوں نے محسوس کیاکہ مسلمانوں میں تعلیم کا وہ چلن نہیں ہے جس کی اشد ضرورت ہے۔ چنانچہ انھوں نے پہلے خود اور پھر دوسرے لوگوں کو اردو فارسی کی رسمی تعلیم کے ساتھ انگریزی زبان سے وابستہ کیا۔ 1859 میں وقارالملک 18 ؍برس کی عمرمیں امروہہ کے تحصیل اسکول میں ٹیچر بن گئے لیکن یہ ملازمت عارضی تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ضلع مرادآباد میں سخت قحط پڑا تھا اور سرسید احمد خاں ایک اعلیٰ افسر کی حیثیت سے مرادآباد آگئے تھے۔ وقارالملک کے پھوپھا منشی امام الدین اس وقت مرادآباد کے تحصیل دار تھے جن کے توسط سے وقارالملک سرسید احمد خاں سے قریب ہوئے اور قحط کوکنٹرول کرنے والے محکمے سے وابستہ ہوگئے۔ وقارالملک نے اس وقت بنائے گئے ’محتاج خانہ‘میں جو فلاحی کام کیے انھوں نے سرسید احمدخاں کا دل جیت لیاتھا۔

1865 میں وقارالملک کا تقررسررشتۂ تعلیم میں ہوگیا اور اب وہ براہِ راست سرسید احمد خاں کے دستِ راست ہوکر علی گڑھ منتقل ہوگئے،  جہاں ان کی صلاحیتوں کے جوہر کھلتے چلے گئے۔ سرسید احمد خاں نے مشتاق حسین پر بہت بھروسہ کیا اور ان کی سروس بُک میں انھوں نے لکھا:

’’منشی مشتاق حسین کی دیانت داری پر مجھے ایسا یقین ہے جیسا اپنی موت پر جس عہدے پر یہ شخص مامور ہے اس سے بہت زیادہ بڑے عہدے کی عمدہ قابلیت اس میں موجود ہے۔‘‘ (سیداحمد خاں:صدرالصدور)

منشی مشتاق حسین نے تیرہ برس انگریزی حکومت میں مختلف عہدوں پر رہ کر گزارے۔ ان کے اندربھی انگریزوں سے نفرت تھی اور عبادات سے محبت، اس لیے ایک انگریزافسر نے جب ان کی نماز پر اعتراض کیاتو حکومت کی ملازمت سے استعفیٰ دے دیا جس کے چرچے دکن کی حکومت تک پہنچے۔ مشتاق حسین کی جرأت، ہمت اور حمیت سے متاثر ہوکر حیدرآباد کے وزیراعظم سرسالار جنگ نے سرسیداحمد کی فرمائش پر مشتاق حسین کو حیدرآباد بلاکر سرکاری تنخواہ سے چار گنازیادہ مشاہرہ دے کردکن کی حکومت میں شامل کرلیا۔ 1875  میں مشتاق حسین سب سے پہلے ریاست دکن کے ناظم دیوانی مقرر ہوئے ان کی محنت، لگن اور ان کے حسن انتظام سے متاثر ہوکر سالار جنگ نے موصوف کو ایک ہی برس کے اندر گلبرگہ کا ’صدر تعلق دار‘مقرر کردیا۔ دس برس اہم عہدوں پر رہ کر مشتاق حسین دکن کے ایک صوبے کے گورنربن گئے اور اس طرح بعد کوپورے دکن کے ریونیوسکریٹری کے عہدے تک پہنچے۔

دکن میں بہترین انتظامی کارکردگیوں کے لیے مشتاق حسین کو حکومت دکن کی جانب سے متعدد اعزازات اور خطابات سے بھی سرفراز کیاگیا۔ ان خطابات میں ’نواب وقارالدولہ‘، ’خاں بہادر‘، ’انتصارِ جنگ‘ اور ’وقار الملک ‘ اہم ہیں۔ اس آخر الذکر خطابِ سے ہی مشتاق حسین کی آخر عمر تک پہچان رہی۔

وقارالملک کی بے پناہ مقبولیت جب دکن میں ہوئی تو علاقائی عہدہ داروں میں حسداور احساسِ کمتری بھی بڑھنے لگاجس کاشکار وقارالملک بھی ہوئے۔ سالار جنگ کے کان وقارالملک کے خلاف بھرے جانے لگے اور انھیں بتایاگیا کہ یہ موصوف برطانوی سامراجیت کے خلاف ہیں۔ سالار جنگ انگریزوں کے اس لیے حامی تھے کہ انگریزوں نے ان کی محدوددکنی سرکار کو مصلحتاً نہیں چھیڑا تھا۔ انگریزوں کی مخالفت کے جرم میں وقارالملک پہلے 1879  میںبر طرف ہوئے اور پھر1892 میں مستقل طور پر حیدرآباد کو خیرباد کہہ کر اور اپنی پینشن کو برقرار رکھواکر اپنے وطن امروہہ لوٹ آئے جس وقت امروہہ آئے اس وقت ان کی پینشن سات سو روپے ماہانہ تھی۔

وقارالملک کے حیدرآباد جانے سے پہلے اور حیدرآباد میں قیام کے دوران جو سرسید احمد خاں کی تعمیر اور تعلیمی تحریکات سے رشتہ تھا وہ بدستور برقرار رہا چنانچہ حتمی طور پر جب وقارالملک دکن کی ملازمت سے سبکدوش ہوکر امروہہ آگئے توپھرسرسید کی علی گڑھ تحریک سے وابستہ ہوگئے۔ سرسیداحمد خاں نے وقارالملک کو امروہہ سے علی گڑھ بلالیا اور اپنے مشہور زمانہ رسالے’ تہذیب الاخلاق ‘کو جاری رکھنے کی ذمے داری سونپ دی۔ اس رسالے کے لیے وقارالملک نے متعددومنثور بندی اصلاحی اور ترغیبی مضامین لکھنے شروع کئے جنھیں نہ صرف عوام نے بلکہ خودسرسید احمد خاں نے خصوصی طور پر سراہا۔ یہ مضامین دوچار صفحات کے نہیں ہوتے تھے بلکہ ایک ایک مضمون 70 سے 80 صفحات پر مشتمل ہوتاتھا۔ قابلِ ذکر ہے کہ ’تہذیب الاخلاق‘کے ایسے ہی مضامین کواردوادب کی تاریخ میں اردو نثرکے آغاز سے تعبیر کیاجاتاہے۔ سرسید احمدخاں کی علی گڑھ تحریک کا ابتدائی اردو نثر نگاری میں کلیدی رول رہاہے اور اس رول میں سرسید کے ساتھی وقارالملک کی خدمات کو نظرانداز نہیں کیاجاسکتا۔

وقارالملک کے متذکرہ تحریری کاموں کے علاوہ تدبیری اور تعمیری کارنامے بھی بہت نمایاں رہے ہیں۔ موصوف نے سرسید احمد خاں کے دست راست ہوکر علی گڑھ کی سائنٹفک سوسائٹی کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس سوسائٹی کی نگرانی میں علی گڑھ کالج تھا جو بعد کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے روپ میں ہندوستانی مسلمانوں کے تعلیمی وقار کی علامت بن کر گذشتہ سو برس سے قوم وملت کو عزت دے رہاہے۔ ابتدا میں اس یونیورسٹی کے لیے دامے، درمے اور قدمے کام ہوئے جو بڑے صبرآزما تھے۔ وقارالملک نے ازخود اس کے لیے بہت بڑی رقم چندے میں دی اورپھراپنے تعلقات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دکن سے بڑی رقم جمع کرنے اور یونیورسٹی کی عمارتیں بنوانے میں وقارالملک نے دن ورات ایک کرکے جوکام کیے ہیں انھیں فراموش نہیں کیاجاسکتا۔

 یہ وہ زمانہ تھا جب شاطرانگریز نہیں چاہتے تھے کہ مسلمان اعلیٰ تعلیم سے بہرہ مندہوں۔ اس وقت کے منصبدار اور زمیندار اپنی اگلی نسلوں کے لیے تعلیم کی طرف متوجہ نہیں تھے۔ ایسے حالات میں وقارالملک نے قریہ قریہ شہرشہر جاکر نئی نسلوں کو تعلیم سے وابستہ کیا۔ یونیورسٹی کے لیے طلبا کا جو پہلا ہوسٹل بنااس کے پہلے وارڈن نگراں وقارالملک ہی بنے۔ ہوسٹل کے بچوں کے لیے ان کی جانفشانی کے چرچے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تاریخ کا اہم باب ہیں۔ یونیورسٹی کے ابتدائی تعمیری امور میں اکثر ٹرسٹینر کے جذباتی فیصلوں سے وقارالملک الگ ہوجاتے تھے جس کے سبب ان میں اور سرسیداحمد خاں میں دوری بھی ہوئی لیکن موصوف ہمیشہ اپنے موقف پر قائم رہتے تھے درحقیقت سرسیداحمد خاں اور وقارالملک میں یہ بات قدرے مشترک تھی کہ دونوں ایک سی طبع افتاد کے مالک تھے دونوں صاف گواوراپنے موقف میں شدت پسند تھے۔ اچھی بات یہ تھی کہ دونوں اپنی نیک نیتی کے سبب اختلافات جلدہی دورکرلیتے تھے، 1892  سے 1912  تک وقارالملک نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعمیر میں جو خدمات انجام دی ہیں وہ ہندوستان میں تعلیمی بیداری کی تاریخ کا اہم باب ہیں۔

علی گڑھ میں رہ کر سائنٹفک سوسائٹی کے دوسرے اہم کاموں میں فرسودہ رسم ورواج کو ترک کرنے کی بھی تحریک شامل تھی۔ وقارالملک نے اجتماعی اور انفرادی طور پر اس سمت جوپیش رفت کی وہ بھی مسلم تاریخ میں سنہرے الفاظ میں لکھی جاتی رہیں گی۔ شادی بیاہ کے موقع پر فضول خرچی کو روکنے کے لیے وقارالملک نے اہم کام کیے اور بے جامصارف سے عوام کو بچاکر غریب اور بے سہارا نادار لوگوں کی مدد کرنے کی تحریک دی اپنے ایک مضمون میں وقارالملک نے تہذیب الاخلاق میں لکھا:

’’صاحبو! جب ضرورت کی حالت میں تم نفل نماز چھوڑ سکتے ہوتو بے جارسموں کا ترک کر دینا تمھارے لیے کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ اس تجویز کے ذریعے ہم اپنی قوم کو خست کی تعلیم نہیں کرتے بلکہ صرف دولت کے مصرف کو بدل دیتے ہیں اور ایک ضروری اور فضول خانے کی رقم کو اٹھاکر نہایت ضروری خانے میں رکھ دیتے ہیں۔

اگرسماج سے پیاس پیاس کی آواز بلند ہورہی ہوتو نفل نماز کو چھوڑکر ڈول اسی ہاتھ میں لے لواور پانی بھرکر پیاسوں کی پیاس بجھاؤ۔

وقارالملک نے اپنے اس تعمیری جذبے کو امروہہ آکر بھی جاری رکھا۔ امروہہ کے غربااور مسکینوں میں جاجاکر وہ نہایت سلیقے کے ساتھ مدد کرتے تھے اور کہتے تھے۔

بہت لمبی فہرست میرے ایسے متعلقین کی ہے جن کا رزق خدا نے میرے ساتھ اتاراہے۔ مجھ سے جہاں تک ممکن ہے میں نے اپنے اوران سب کے قوتِ لایموت کے واسطے پوری کفالت شعاری سے کوشش کی ہے۔

قابلِ ذکر ہے کہ وقار الملک نے نئی نسل کو زیورِ تعلیم سے مالا مال کرنے کے لیے  امروہہ سے متصل سات گاؤں، (مِلک پہاڑ موو،ڈھاکی، شیخوپورہ،کورال، سلطانپور انتقام علی خاں، پٹّی وغیرہ) کی آراضی جو 11 ایکڑ کے قریب تھی، وقف کی تھی۔، جس کا ریکارڈ آج بھی’ نواب مشتاق حسین وقارالملک وقف رجسٹرڈ‘ کے صدر منصور احمد صدیقی ایڈوکیٹ کے پاس موجود ہے۔امروہہ سب رجسٹرار کے دفتر میں اس وقف کا اندراج 12 جون سنہ 1915 کو ہوا تھا۔

وقارالملک ایک باعمل مصلح قوم تھے۔ موصوف نے اپنے والدین کی وقتی ناراضگی کو برداشت کی لیکن اپنی شادی بغیر کسی شور شرابے کے ساتھ کرنی پسند کی تھی۔ وقارالملک کی تربیت میں ان کے بیٹے محمد احمد بارایٹ لا،ہوکر انگلستان سے لوٹے جو غالباً امروہہ کے پہلے ’بارایٹ لا‘ تھے افسوس کہ جب وہ امروہہ لوٹ کر آئے تو زیادہ عرصے زندہ نہ سکے۔ وقارالملک کی تین بیٹیاں ہوئیں جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوئیں۔

مشتاق حسین وقارالملک کا انتقال 28 جنوری 1917  کو امروہہ ہی میں ہوا۔ ان کی موت کا غم پورے ہندوستان نے منایا۔ علی گڑھ کی تعلیمی فضائیں اداس ہوئیں۔ علی گڑھ تحریک کے لوگوں نے چاہاکہ وقارالملک کی قبر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے قبرستان میں بنے لیکن وقارالملک کی خواہش کے مطابق انھیں امروہہ ہی میں دفن کیاگیا۔

وقارالملک کے بارے میں یہ بھی پڑھنے کو ملاکہ انھوں نے تین کتابیں بھی لکھیں لیکن باوجود بسیار تلاش کے ان کے نام مجھے نہیں مل سکے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں وقارالملک سے منسوب ایک ہال آج بھی ان کی عظمت کا پتہ دے رہا ہے۔ امروہہ کی سابق چئیرپرسن بیگم آفتاب سیفی کی خدمات قابل قدر ہیں جنھوں نے اپنی چیئرمین شپ میں امروہہ میونسپل کونسل سے ’وقارالملک‘ گیٹ تعمیر کرایا۔میڈم نے ہی پہلی بار وقار الملک کی شخصیت پر ایک کتاب شائع کی تھی جس سے امروہہ کی اس عظیم شخصیت کی عظمتوں کا اندازہ شہر والوں کو ہوا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ امروہہ میں وقارالملک کی قبرکو بھی خوبصورت مقبرے کی شکل دی جائے تاکہ تعلیم سے عشق کرنے والے عقیدت مند اور امروہہ والے اپنے وطن کے اس فرزند کے مزار پر جاکر فاتحہ پڑھتے رہیں اور خود پر فخر کرتے رہیں۔ شاعرِ مشرق علامہ اقبال نے وقارالملک کی جو تاریخ کہی وہ مند رجہ ذیل ہے۔

نواب وقارالملک وملت

افشاندسوئے جناں رکابش

برلوحِ مزار اور شتم

انجام بخیر، باخطابش

وقار الملک انجام بخیر

1335 ھ مطابق 1917

مختصر یہ کہ ہندوستان کی آزادی، اردو ادب کی تاریخ اور ہماری قومی و مِلی تہذیب نواب وقار الملک کی شخصیت پر ہمیشہ ناز کرتی رہے گی۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اپنی تاریخ ساز ہستیوں کو یاد کرتے رہیں تاکہ اگلی نسلیں گذشتہ شخصیات سے تحریکِ حیات لیتی رہیں۔

 

Prof. Nashir Naqvi

Mahal: Darbar Kalan

Amroha - 244221 (UP)

Mob.: 9814960786

 

 

 


 

 

 

 

 


3/11/21

سرسید کے زینو بھیا (سید زین العابدین) (14 جون 1832- 27 ستمبر 1905) - مضمون نگار: صغیر افراہیم


 

موجودہ ترقی یافتہ دور میں ہر روزیادگاری جلسے ہوتے ہیں۔ دولت مندوں، جنگی سورماؤں، فلمی ہستیوں پر،  علاقائی سیاست، لسانی اہمیت، سماجی اور ثقافتی ضرورت پر۔ تحریکات، رجحانات، نظریات یا پھر ان سے وابستہ شخصیات پر سمیناروں کا ایک سلسلہ ہے۔ شہرت کے لحاظ سے اِن برپا ہونے والے یادگاری جلسوں میں اُن چھوٹے بڑے ادیبوں اور دانشوروں کو بھی شامل کرلیا جاتا ہے جو اپنی تشہیر اور تعلقات اور معاملات کے تانے بانے بُننے اور اُن کا پروپیگنڈا کرنے میں ماہر ہوتے ہیں۔ انھیں اعزازات اور انعامات سے نوازا جاتا ہے، جشن ہوتے ہیں، مقدس یادوں کا سیلاب امنڈتا ہے اور پھر ان سب کو یکجا کرنے کے لیے کتابیں ترتیب دی جاتی ہیں، یادگاری مجلے نکلتے ہیں، سمینار، ویبینار منعقد ہوتے ہیں، البتہ اِن دنیاوی منصوبوں کے تناظر وتفکر میں وہ شامل نہیں ہونے پاتے جو حرص وہوس اور شہرت ومقبولیت سے دُور،تعمیری وتشکیلی خدمات انجام دینے میں مشغول رہتے ہیں اور علمی، اصلاحی، فلاحی مقاصد کو پائیداری عطا کرنے کے لیے بھیڑ بھاڑ اور چمک دمک کے ماحول سے خود کو ممکن حد تک الگ رکھتے ہیں۔ اِس عمل سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے ابن الوقت، ابوالوقت کی گوشہ نشینی کے اصل مقصد کو فراموش کرتے یا پھر اُن کو اپنے توسط سے اُجاگر کرتے ہیں لیکن نظام فطرت ایسے مجاہدِ علم وعمل کے دامن میں رنگا رنگ گُل بوٹے ٹانکنے اور قدم بوسی کے لیے مجبور ہوتاہے۔

در اصل آج ضرورت ایسے ہی کرداروں کو ابھارنے اور نفسا نفسی کی بھیڑ میں گُم ہوجانے والی شخصیات کی بے لوث خدمات اُجاگر کرنے کی ہے جنھوں نے اپنے آپ کو انسانی خدمت کے لیے وقف کردیا تھا۔ ایسا کرکے ہم نہ صرف اُن کے عزم و حوصلے کا اعتراف کریں گے بلکہ نئی نسل کو ایک تعمیری سوچ بھی مہیا کریں گے۔ اس مثبت قدم سے ہم پردۂ خفا میں رہنے والی شخصیات کی عزت نہیں بڑھائیں گے بلکہ خود اپنی علم دوستی اور مردم شناسی کے طرۂ دستار میں انسانیت اور شرافت کے پھول سجالیں گے۔ اوراِس عملِ صالح سے خود ستائی اور خود نمائی کے غُبار کوتھوڑا کم کرسکیں گے۔

ایسے ہی نامورمگر گوشہ نشین شخصیات میں ایک نمایاں نام سید زین العابدین کاہے، جنھوں نے اپنی 73سالہ زندگی کابیشتر حصہ نمودونمائش سے بچاتے ہوئے ملک وملت کے نام وقف کردیا تھا۔ شاید اسی سبب اُن سے متعلق ادبی، علمی اور تعمیری خدمات کا افسوس ناک حد تک فقدان ہے۔ پھر بھی اِس تشنہ پہلو پر حالی، اسماعیل پانی پتی، مرزا حیرت جھنجھانوی، شیخ محمدعبداللہ، سرراس مسعود، عبدالباقی، مولوی بشیر الدین، اخلاق احمد، عبداللہ جان، مولوی عبدالماجد، مصطفی حسین منظر، مقتدیٰ خاں شروانی، ظفر علی خاں، نقاش کاظمی، نواب احمد سعید خاں چھتاری، غلام پنجتن، جسٹس ہدایت اللہ، فرخ جلالی، اشتیاق عارف، افتخار عالم، اصغر عباس، کی تحریروں سے روشنی پڑتی ہے۔ اِس روشنی میں جہانِ عابدین کو احاطۂ تحریر میں لینے کے کئی زاویے بنتے ہیں۔ مثلاً بچپن کے واقعات، مدرسے کے احباب، مختلف شہروں کی کیفیات، مناصب، عدالتی خدمات، سماجی سروکار، سرسید سے وابستگی، علی گڑھ تحریک کو استحکام شامل ہوسکتے ہیں۔

شخصیت کو احاطۂ تحریر میں لیں تو سید زین العابدین، مفتیوں کے جعفری خاندان میں 14جون 1832 مطابق 12محرم الحرام 1248ھ کو محلہ قضیانہ، قصبہ مچھلی شہر، ضلع جونپور میں پیدا ہوئے۔ دادا، سید محمدحسن اور والد سید محمدحسین، عربی وفارسی کے عالم تھے۔ گھر کاماحول مذہبی تھا۔ والدہ کا تعلق دُور دراز واسطے سے سرسیداحمد خاں کے خاندان سے تھا۔ ابتدائی تعلیم قریب کے مدرسے میں اور ثانوی تعلیم قصبہ کے اسکول میں حاصل کی۔ وکالت کی ڈگری کلکتہ یونیورسٹی سے لی۔

ملازمت کا آغاز بنارس سے ہوا۔ مرزا پور، بریلی، غازی پور، شاہجہاںپور، مرادآباد میں پوسٹنگ رہی۔ سب جج کی حیثیت سے 1885 میں ریٹائر ہوئے۔ اعزازی طور پر جج کہلائے۔ حکومتِ وقت کی جانب سے خان بہادر کا خطاب ملا۔ پینشن کے ساتھ تین سال ریاست رامپور کی جوڈیشیل کونسل کے ممبر بنے۔ 1889 میں مستقل طور پر علی گڑھ آگئے۔

ذمے داری کا احساس اس سے بھی عیاں ہے کہ اہل وعیال کے ساتھ ساتھ تمام متعلقین کا بھی پورا خیال رکھتے تھے۔ اُن کے چار بیٹے اور پانچ بیٹیاں تھیں۔ آل اولاد کی پرورش کے ساتھ اُن کی نگہداشت سے وابستہ افراد کو بھی ممکن مدد پہنچاتے۔ سب سے بڑے بیٹے سید زین الدین ڈپٹی کلکٹر ہوئے۔1939 میں اُن کا علی گڑھ میں انتقال ہوا۔ یونیورسٹی قبرستان میں تدفین ہوئی۔ عبدالباقی، اخلاق احمد، خان بہادر مولوی بشیر الدین، مقتدیٰ خاں شروانی، نقاش کاظمی کی تحریروں سے پتہ چلتا ہے کہ میرس روڈ پر انھوں نے ’’حمید منزل‘‘ کے نام سے جو مسکن بنوایا تھا، اُسے ان کی بیٹی رفیقہ بیگم نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو دے دیا تھا۔ دوسری روایت کے مطابق حمید منزل نہیں بلکہ اُس کوٹھی کا نام حامد منزل تھا جو عبداللہ گرلس کالج کے چوراہے پر واقع تھی اور جسے یونیورسٹی نے رفیقہ بیگم سے خرید لیا تھا۔ بہر حال سید ضیائ الدین اور سید نور الدین بھی اعلیٰ منصب پر فائز رہے۔ چوتھے بیٹے سید عین الدین نے آئی سی ایس افسر کی حیثیت سے تمام ذمے داریوں کو بخوبی نبھاتے ہوئے اپنے والد کا نام روشن کیا۔ سید عین الدین کا 1952میں انگلستان میں انتقال ہوا۔ اُن کے بیٹے سید عین العابدین، سرسیدنگر،علی گڑھ میں یکم جنوری 1983 کو، 62 سال کی عمر میں رحلت فرماگئے۔ بیٹیوں نے بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کی خصوصاً بیٹی واجدہ بیگم اور اُن کی بیٹی ساجدہ بیگم اعلیٰ ادبی ذوق رکھتی تھیں۔ چوتھی نسل کی نمائندگی میں نمایاں نام سید نور العابدین اور طیبہ عابدین کے شامل کیے جاسکتے ہیں تو پانچویں پشت میں حنا قدوائی جیسے کئی نام سامنے آتے ہیں۔

سید زین العابدین کی مثالی شخصیت بننے کے مدارج مرادآباد سے شروع ہوتے ہیں، جہاں وہ سرسید کے قریب آتے ہیں۔ 1861 کی ابتدا میں سرسید کی اہلیہ پارسا عرف مبارک بیگم کا مُرادآباد میں انتقال ہوتاہے اور اسی برس زین العابدین کی بیگم اس جہانِ فانی سے رخصت ہوتی ہیں۔ دونوں کی تدفین فیض گنج روڈ پر واقع شوکت باغ حویلی کے پاس، دور سہی مگر مسجد کے سائے میں ہوتی ہے۔ کتبے پر درج ہے ’’سرسید کی اہلیہ کے پہلو میں ان کی عزیز ترین سہیلی اور رازدار، اہلیہ مولانا زین العابدین دفن ہیں۔‘‘ اس سے اس کا بھی علم ہوتا ہے کہ جیسے ایک سہیلی دوسری کی جُدائی براشت نہیں کرسکی، اور بعد از مرگ ہمیشہ کے لیے دونوں ایک جگہ آرام فرما ہوئیں۔ اکتوبر 1863 میں سرسید، نواب عبداللطیف کی محمڈن لٹریری سوسائٹی کی دعوت پر ’ترغیبِ تعلیم انگریزی‘ کے موضوع پر خطبہ پیش کرنے کے لیے کلکتہ گئے تھے۔ وہاں کی تعلیمی ترقیات سے وہ اس حد تک متاثر ہوئے کہ تین ماہ بعد غازی پور میں انھوں نے محمدعبدالصمد، حافظ محمدعلی قادری اور دیگر بہی خواہان کی مدد سے سائنٹفک سوسائٹی کاخاکہ تیار کیا، جس نے جلد ہی عملی شکل اختیار کی۔ 1864 میں زین العابدین اس سائنٹفک سوسائٹی کے ممبر بنے۔

شخص سے دل پذیر شخصیت بننے کے مدارج طے کرنے پر مثالی کردار وجود میں آتاہے۔ زین العابدین کا یہ اعلیٰ انسانی کردار سرسید کی قربت کارہینِ منت ہے۔ وہ 1864میں فکری اور عملی طور سے سرسید سے وابستہ ہوئے۔ 1889 میں سرسید کی درخواست پر باقاعدہ علی گڑھ منتقل ہوئے، اور پھر اپنے آپ کو باغِ سرسید کی آبیاری کے لیے وقف کردیا۔ انھیں علم تھا کہ 1876میں سرسید نے علی گڑھ کو وطنِ ثانی بنالیا ہے اور اب اُن کی مستقل توجہ ایم۔اے۔ او۔ کالج اور قوم کی تعلیم وتربیت پر مرکوز ہوچکی ہے۔ 1883 میں جب سرسید نے ’محمڈن سول سروس فنڈ‘ قائم کیا تو زین العابدین نے بے حد خوشی کا اظہار کیا بلکہ سول سروس کے امتحان میں شرکت کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کے لیے خط لکھا اور چندہ بھی ارسال کیا۔ اُن کے ریٹائر ہونے سے چند ماہ قبل اطلاع ملی کہ سرسید کو لارڈ فرن نے سول سروس کمیشن کا ممبر مقرر کیا ہے، تو وہ اس خبر سے باغ باغ ہوگئے۔ زین العابدین ریاست رامپور کی جوڈیشیل کونسل کے ممبر کی حیثیت سے رامپور میں مقیم تھے کہ سرسید نے انھیں سید محمود کی شادی میں شرکت کے لیے مدعو کیا، اور ساتھ ہی ساتھ یہ درخواست بھی کی کہ آپ میرا ہاتھ بٹانے کے لیے اب مستقل طور پر علی گڑھ آجائیے۔ زین العابدین نے ان کی دعوت پر لبیک کہا اور اگلے سال 1889 میں علی گڑھ آگئے۔

علی گڑھ تحریک کے اساسی پہلو اُجاگر کرنے کے لیے عہدِ سرسید کو مختلف زاویوں سے پیش کیا گیا ہے۔ رفقائے سرسید، احباب سرسید، معاون ومددگار اور دستِ راست سرسید پر ان گنت تحریریں موجود ہیں۔ خود سرسید نے اپنے رفیقوں کا ذکر بڑی اپنائیت اور خلوص کے ساتھ کیا ہے لیکن اعتبار، اعتماد، محبت اور جھنجھلاہٹ کا جو برملا اظہار زین العابدین کی شکل میں اُبھرتا ہے، وہ اُن کے دیگر احباب کے ذکر میں جلوہ گر نہیں ہونے پاتا ہے۔ ثبوت کے طور پر سرسید کے اُس خط کا اقتباس ملاحظہ ہو جو انھوں نے 26اپریل 1894 کو لکھا تھا:

’’مکرمی زینو بھیّا

ابھی تمھارا خط پہنچا، کچھ شبہ نہیں کہ تم کو مجھ سے جُدا ہونے کا ایسا ہی رنج ہے جیسا کہ تم نے لکھا، مگر تم تو اُس رنج کو کسی قدر لکھ بھی سکے، مگر مجھ کو تمھارے چلے جانے سے جو رنج ہے وہ لکھا بھی نہیں جاسکتا۔ زبان کُھجلاتی ہے اور کوئی یہاں نہیں کہ اُس کو بُرا کہوں۔ دل میں غصہ آتا ہے اور کوئی یہاں نہیں ہے جس پر غصّہ نکالوں۔ ہاتھ کُھجلاتے ہیں اور کوئی یہاں نہیں ہے جس کو ماروں۔ حقیقت میں تمھارے جانے سے مکان سونا نہیں ہوا بلکہ دل سُونا ہوگیا۔ صبح اُٹھ کر خدا یاد نہیں آتا مگر تم یاد آتے ہو۔‘‘

اسلامیہ انٹر کالج اٹاوہ کے بانی ڈاکٹر مولوی بشیر الدین جنھوں نے علی گڑھ تحریک کاابتدائی دور اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ اُن کا سرسید اور رفقائے سرسید کے ساتھ بہت قریبی اور گہرا ربط تھا۔ پروفیسر رشید احمد صدیقی (صدر شعبۂ اردو، نگراں علی گڑھ میگزین) نے بشیر صاحب کی ضعیفی کے باوجود سیدِوالا گہر اور ان کے احباب کے تعلق سے اپنے تاثرات بیان کرنے کی درخواست کی جسے انھوں نے قبول کیا۔ میگزین کے ایڈیٹر نسیم قریشی نے ایڈیٹوریل بورڈ کے ممبر نثار قریشی کو اس کام پر مامور کیا اور انھوں نے کئی نشستوں میں بشیر صاحب کے تاثرات کو قلم بند کیا، جنھیں ’علی گڑھ تحریک کے معمار‘ کے عنوان سے مذکورہ میگزین کے خصوصی شمارے (55تا 1953) میں شائع کیا گیا۔ اقتباس ملاحظہ ہو:

’’زین العابدین دبلے پتلے تھے، قد لمبا تھا، داڑھی لمبی تھی، بڑے خوش مزاج، وضع دار اور شریف طبیعت انسان تھے۔ اُن کا ذکر آتا ہے تو محبت وشرافت کی زندہ تصویر نگاہوں کے سامنے پھر جاتی ہے۔‘‘

مولوی بشیر الدین مزید فرماتے ہیں:

’’مولوی زین العابدین کی ذات محبت وفداکاری کا پیکر جمیل تھی۔ یہ گویا سرسید میں اس قدر کھوگئے تھے کہ من تو شدم تو من شدی کا نقش اُبھرآیا تھا۔ سرسید بھی ان کو بے انتہا چاہتے تھے۔ زینو کہہ کر پکارتے تھے۔ اکثر فحش قسم کا مذاق بھی ہوتا تھا۔ سرسید سے ان کے عشق کا یہ عالم تھا کہ جب سرسید کا انتقال ہوا، اور ان کا مزار بننے لگا تو یہ دھوپ میں چھتری لیے بیٹھے رہتے تھے اور سارا سارا دن اسی طرح گزار دیتے تھے۔ مولوی زین العابدین نے اپنی دولت، قوتِ عمل اور محبت سے سرسید کے کاموں میں جو آسانیاں پیداکیں، وہ اُن کی فداکاری کا ایک روشن نمونہ پیش کرتی ہیں‘‘۔ (ص255)

سرسید کے ہم نوا، قدم سے قدم ملاکر چلنے والے، ان کے خلاف ہونے والے اعتراضات کا مدلل جواب دینے، اور تمام حساب کتاب رکھنے والے، مثبت سوچ کے مالک، زین العابدین نے، عمر کے آخری پڑاؤ میں اپنی اکلوتی بہن کو اُس کا حصّہ دے کر جو جائیداد بچی اُسے فروخت کرکے سرسید کے مشورے سے ایک ایکڑ زمین خریدی جس میں کچی اینٹوں سے بنگلہ بنا تھا، چھت پھوس سے ڈھکی ہوئی تھی۔ حفاظت کے خیال سے انھوں نے میدان کے چاروں طرف خاردار تاروں سے احاطہ بندی کرائی جس کی وجہ سے وہ تار والے بنگلے کے نام سے مشہور ہوا۔ سرسید کی وفات سے قبل انھوں نے بنگلے کو ایم۔ اے۔ او۔ کالج کے نام وقف کردیا، اس وصیت کے ساتھ کہ میرے بعد میری اولاد نہ تو اس جائیداد کی حقدار ہوگی اور نہ اپنے تصرف میں لاسکے گی۔ اولاد دراولاد تربیت ایسی کہ انھوں نے نہ صرف وصیت پر فخر کیا بلکہ ہمیشہ ادارے کے لیے کچھ کرنے کی سعادت تلاش کرتے رہے۔

یادگار عمارتوں کا انحصار ان کی پائیدار بنیاد اور مضبوط ستون پر ہوتی ہے۔ نقش ونگار اور چمک دمک کا ذکر تو عام طور پر کیاجاتا ہے، مگر اساس اور اساسی ستون کا ذکر اس اہتمام سے نہیں کیا جاتا ہے۔ علی گڑھ تحریک کی تعمیر وتشکیل میں زین العابدین نے بڑا کردار ادا کیاہے۔ سرسید مردم شناس اور معاملہ فہم انسان تھے۔ اس لیے وہ ادارے کو ایک ظاہری شکل دینے اور اس کے تنظیمی ڈھانچے کو زین العابدین کے سپرد کرکے مطمئن ہوگئے تھے۔ سرسید کے پیش نظر اُن کے مناصب، عدالتی اور سماجی خدمات کے ساتھ اُن کا بے لوث جذبہ تھا، زین العابدین سرسید کی توقعات پر پورے اُترے اور انھوںنے زندگی کے آخری سترہ برس باغِ سرسید کی آبیاری میں صرف کیے۔ مبصرین رقم طراز ہیں کہ وہ علی الصباح ٹہلنے نکلتے، تعمیرات کا معائنہ کرتے، پھر دن بھر کے منصوبے بناتے۔ اُن کے عزم وحوصلے کو دیکھ کر بیماری بھی اُن کے سائے سے گُریز کرتی تھی۔ 1904 میں قوتِ مدافعت لڑکھڑائی۔ بیمار ہوئے، اور سخت بیمار ہوئے۔ انہی دنوں سرلاٹوش، لیفٹیننٹ گورنر صوبہ جات متحدہ (موجودہ اترپردیش)، ممتاز بورڈنگ ہاؤس کا سنگ بنیاد رکھنے کے لیے علی گڑھ آئے تھے۔ صحت کی خرابی کی اطلاع ملتے ہی سب سے پہلے عیادت کو پہنچے۔ پھر سنگِ بنیاد رکھا۔ انھوں نے آرام کا مشورہ دیا، مگر زین العابدین آرام کو حرام سمجھتے تھے۔ بیماری نے طول پکڑا اور وہ 27ستمبر 1905، مطابق 2رجب 1323ھ کو اپنے مالکِ حقیقی سے جاملے۔ رفقا نے اس کا خیال رکھا کہ جس طرح دونوں کی بیگمات ایک ہی احاطہ میں (مرادآباد میں) آرام فرما ہیں، اسی طرح، ایک دوست کی اپنے عزیز ترین دوست کے قریب، تدفین ہونی چاہیے۔ ان کی تدفین کا یہ عمل اِس کا غماز ہے کہ زین العابدین جس طرح حیات میں سرسید کے بے حد قریب تھے، اسی طرح بعد از مرگ بھی ان کے قریب ہیں۔

 

Prof. Sagheer Afraheim

Ex. Head Dept. of Urdu

Aligarh Muslim University

Aligarh - 202001 (UP)

Email.: s.afraheim@yahoo.in

 

 


 

 

 

 

 


2/11/21

شمیم کرہانی کی انقلابی شاعری - مضمون نگار: اعظم عباس شکیل

 



بیسویں صدی کے ادائل میں ایسے شعرا کی لمبی فہرست ہے جو آزادی ملنے سے پہلے اپنے قلم سے وار کرتے رہے اور آزادی کے بعد بھی عوام میں حب الوطنی کے جذبے سے سرشار گیتوں، نغموں اور نظموں سے مجاہدین وطن کو  حوصلہ اور ہمت دیتے رہے ہیں۔ آزادی ملنے سے پہلے یہ اہل قلم  اپنے نوک قلم کو ہتھیار بنا کر  غیر ملکی حکومت پر کاری وار کر تے رہے ہیں اور ساتھ ہی  مظلوم عوام کے دلوں میںجوش، جذبہ اور ہمت پیدا کر رہے تھے اور عمل کی ترغیب دے رہے تھے۔ انھیں شعرا میں ایک ممتاز نام تھا شمیم کرہانی۔

  سید شمس الدین حیدر عرف شمیم کرہانی کی پیدائش  1913  میں ہوئی تھی جب  یہ ملک غلام تھا۔ ان کے شباب کے دن آئے تو  جنگ آزادی بھی اپنے شباب پر تھی۔ انقلاب نے اپنے قدم گاڑ دیے تھے۔ زمانہ انگڑائی لے رہا تھا۔ فنکار اور با لخصوص شاعر کا دل عموماًــ  بہت حساس ہوتا ہے۔ اپنے ارد گرد کے ماحول سے متاثر ہونا فطری ہے۔ آٹھ سال کی عمر میں غزل کے ایک شعر سے شاعری شروع کرنے والے شمیم کرہانی بھی جلد ہی انقلاب کے بل کھاتے ہوئے سمندر میں کود پڑے۔ علی جواد زیدی، حسرت موہانی جیسے قلمکار تو عملی طور پر میدان کارزار میں سینہ سپر تھے جنھوں نے نوجوانوں کی رہبری کی اور جیل کی صعوبتیں بھی جھیلی ہیں۔  تو پھر شمیم کرہانی جیسا حساس شاعر بھلا کیسے چپ رہ سکتا تھا۔

برق  و  باراں‘  شمیم کرہانی کا  شائع ہونے  والا پہلا شعری انتخاب تھا۔ اسے انجمن ترقی پسند مصنّفین نے خود  1939 میں انڈین بُک ڈپو، لکھنؤ کے  زیر انتظام سرفراز قومی پریس،لکھنؤ سے  چھپوایا  تھا۔ اس کے بعد  اگست  1942 میں ہندوستان میں بڑے پیمانے پر آزادی کے حصول کے لیے جو حالات نے ایک نیا موڑ لیا اس سے متاثر ہوکر شمیم کرہانی نے جو نغمے لکھے انھیں  1946 میں ’روشن اندھیرا‘ کے نام سے سرفراز پریس، لکھنؤ سے چھپوایا۔  اس کتاب میں جناب علی جواد زیدی کا بیش قیمت مقدمہ بھی ہے جس سے اس وقت کے حالات کے ساتھ شمیم  کرہانی کی انقلابی شاعری پر بھی ان کا خاطر خواہ تبصرہ موجود ہے۔

انجمن ترقی پسند مصنّفین کی بنیاد سجاد ظہیر، ملک راج آنند وغیرہ نے  1935 میں رکھی تھی جس نے اردو  ادب کا رُخ روایتی شاعری سے یکسر موڑ دینے کی کوشش کی تھی۔ ساری دنیا میں جب عالمی جنگ کے بعد ہل چل مچی تھی، مارکسی نظریہ فروغ پا رہا تھا  تب سامراجی راج کے چنگل سے نکلنے کے لیے ہندستان ہی نہیں اور بھی خطوں میں انقلاب کی آوازیں اٹھ رہی تھیں۔ دبے، پسے، غریب مزدوروں اور مظلوموں کے حق میں آواز اٹھ رہی تھی۔ ایسے حالات میں انجمن  ترقی پسند مصنّفین نے طے کیا کہ ادبی تخلیقات کا رُخ بدلنا چاہیے۔ چنانچہ ادیبوں اور افسانہ نگاروں نے پسماندہ لوگوں کی مشکلوں اور مصیبتوں کو محور بنا کر ادب تخلیق کرنا شروع کیا۔ شمیم کرہانی نے پوری طرح اس سے متاثر ہو کر نظمیں اور گیت تخلیق کرنے شروع کیے۔ ایسی ہی تخلیقات کے انتخاب کا نام ’برق و باراں‘ ہے۔ یہ کتاب فہرست کے بعد سب سے پہلے جس صفحے سے شروع ہوتی ہے اس پر صرف ایک مصرع لکھا ہے          ؎

مرا  ہندوستاں  بے  چین  ہے آزا د  ہونے کو

(شمیم)

شاعر کے دل میں آزادی حاصل کرنے کی خلش جاگ چکی تھی۔ یہ آزادی سادہ لفظو ں میں صرف جغرافیائی قید سے آزاد ہونے کی لیے نہیں تھی۔ یہ سماج میں پھیلی ہوئی غربت، جہالت، اونچ نیچ  اور بے شمار برائیوں سے چھٹکارا پانے کی جنگ تھی۔ جہاں ایک طرف اپنے ملک کو انگریزی حکومت سے آزاد کرانا مقصود تھا تو وہیں دبے کچلے انسانوں کو جگانے کا کام بھی تھا۔

   شمیم کرہانی مشرقی اترپردیش کے ایک بڑے زمیندار خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔ انھوں نے جب آنکھ کھولی تو ابھی زمینداری کی تمام آن بان شان باقی تھی۔ نوکر چاکر اور حاکم اور رعایا کا تصور ابھی باقی تھا۔ حالانکہ ان کا خاندان تہذیب و تمدن اور ادبی  ذوق و شوق کا حامل تھا۔رعایاپر ظلم تو درکنار ان کا خاندان سخاوت کے لیے مشہور تھا۔لیکن دور ایسا تھا جب  عام طور پر رعایا پر حاکم کی غلامی فرض مانی جاتی تھی۔ ظلم اور زیادتی کی کہانیاں بھی عام تھیں۔ اس کے علاوہ  سماج میں غیر ضروری  رسم و رواج اور قدامت پسندی نے عوام  اور خصوصاً  گاؤں اور دیہات میں غربت اور جہالت کا ماحول پیدا کیا ہوا تھا۔  انجمن ترقی پسند مصنّفین اسی ظلم و زیادتی کے خلاف مارکسی نظریے کے ساتھ قائم کی گئی تھی تا کہ اہل قلم حضرات اپنی تحریر سے سماج میںخوش آئند انقلاب لاسکیں۔ چنانچہ منشی پریم چند اورعلی عباس حسینی جیسے ادیبوں نے اپنی کہانیاں، ناولیں اور افسانے گاؤں کے پس منظر میں لکھنے شروع کیے اور سماجی برائیوں کو اجاگر کیا۔ شاعروں نے بڑے زور  و  شور سے گیت، نظم وغیرہ لکھنا شروع کیا جو عوام میں مقبول ہونے لگے۔ جہاں جوش ملیح آبادی جیسے شاعر نے اپنے قلم سے الفاظ کے شعلے اگلنے  شروع کیے وہیں شمیم  جیسے شاعروں نے اپنے گیتوں سے سینوں میں دبی آگ کو بھڑکا نا شروع کیا۔

برق و باراں‘  شمیم کا ایسا شعری انتخاب ہے جس  میں  شامل کچھ  تو نظمیں اور گیت مزدورں، کاریگروںاور سماج کے پچھڑے ہوئے لوگوں کو موضوع بنا کر کہی گئیں ہیں یا پھر جوانوں اور جیالوں کو للکارا گیا ہے کہ وہ اٹھیں اور غاصبوںکے چنگل سے اپنے ملک کی مٹی کو آزاد کرائیں۔ اس کتاب کو آٹھ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر ایک حصہ شروع ہونے سے پہلے ایک  ورق پر صرف  ایک مصرع شاید بطور عنوان لکھا ہے۔  پہلا حصہ جس میں گیارہ نظمیں ہیں اس کی پہلی ہی نظم  ’میں آگیا میدان میں‘ ملک کے سوئے ہوئے جوانوں کو جگاتے ہوئے ایک عظیم انقلاب کے لیے میدان ِ عمل میں آنے کی دعوت دیتی ہے۔ شاعر خود بے توجہی اور بے خبری کی چادر ہٹاتے ہوئے آ گے آتا ہے اوراپنے ہم وطنوں کو ان کے حال سے مطلع کرتے ہوئے مستقبل کی راہ دکھاتا ہے۔ اس نظم میں  9  بند ہیں جس میں تمام عالم میں پھیلے ہوئے انتشار کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ نظم کا خالق شیطان کے بہکاوے میںنہ آتے ہوئے اپنے سماج کی برائیوں کو دور کرنے کے لیے آخر میدا نِ عمل میں کود پڑتا ہے۔ اسے بہرحال اپنے وطن میں ایک امید کی کرن نظر آتی ہے۔ ملاحظہ فرمائیں اس نظم کا پہلا اور آخری بند          ؎

 ماں کی چھاتی کوٹتا  تھا  مامتا  کا   اضطراب

نیند میں تکتے رہے بچوں کے عارض کے گلاب

منتظر  تھا  سیج پر پھولوں کی،  بیوی  کا  شباب

شوق کا  آغوش  پھیلائے ہوئے انداز خواب

سب کو ٹھکرا کر مگر میں آگیا  میدان میں

سارا  عالم  ایک  طوفانی  نظارے کی  طرح

ہر قدم پر مشکلیں پُر  زور  دھارے کی طرح

ہمسفر  مایوس، افسردہ،  شرارے کی  طرح

اک کرن مشرق میں تنکے کے سہارے کی طرح

اُس کرن کو  دیکھ کر  میں آگیا  میدان میں

اس کے علاوہ ا س  حصہ میں دس نظمیں اور ہیں۔ اس میں  قومی گیت، جوان جذبے، آغازِ بیداری، انقلاب، آماجگاہِ بغاوت وغیرہ وہ نظمیں ہیں جو جوان دلوں میں حرارت پیدا کرنے والی ہیں، اکسانے والی ہیں او ر سرمایہ داری اور انگریز حکومت کے سامنے سینہ سپر ہو کر کھڑے ہونے کی ترغیب دینے والی ہیں۔ دیکھیے ’جوان جذبے‘   میں کیسے جوش دلاتے ہیں         ؎

یہ ظلم ِ شہنشاہی، جس  وقت  مٹا دیں گے

سوئی ہوئی دنیا کی قسمت کو  جگا  دیں گے

افلاس  کے سینے سے شعلے جو  لپکتے   ہیں

محلوں میں  امیروں کے وہ آگ لگا دیں گے

ہیں آج  بغاوت  پر تیار جواں جذبے

جلاد حکومت کی  بنیاد  ہلا   دیں  گے

ان اشعار میں مجھے وہی تیور نظر آرہے ہیں جو  علامہ اقبال کے مشہور اشعار میں ہیں          ؎

 اٹھو میری دنیا کے غریبوں کو  جگا دو

کاخ  ِ امرا  کے  در  و  دیوار  ہلا  دو

جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں روزی

 اس کھیت کے ہر خوشہ  ٔگندم کو جلا دو

اسی باب میں ایک نظم ہے  ’فرشتے کی سیر‘۔ اس کو  پڑھیے تو لگتا  ہے جیسے یہ ایک منظوم ڈرامہ ہے جس میں  9  سین ہیں۔ نظم شروع ہوتی ہے، گویا  پردہ ٔ سیمیں  اٹھتا ہے         ؎

رات آدھی آ چکی تھی، کل جہاں خاموش تھا 

دیدہ  ٔ  ہستی  وفور ِ خواب سے مد ہوش تھا

اس کے بعد      ؎

ناگہاں بجلی سی چمکی اور فلک کا در کھلا

اک  فرشتہ  اس فضائے تلخ میں داخل ہوا

اور  پھر  وہ  فرشتہ  ’نور کا پیکر‘  آدم زاد کو  سارے عالم کی سیر کا مژدہ  سناتا  ہے۔ اس کو  اپنے ساتھ ہوا کے پروں پر لے  اڑتا ہے۔ پہلے وہ تمام عالم کے دلکش نظارے جنھیں خلاق  ِ عالم نے خلق کیا ہے اس کا نظارہ کراتا ہے۔پردہ  ٔ غیب کھلتا  جاتا ہے۔ وہ خوب صورت زمین جسے آدم  و  حوا  نے  جنت سے آکر سجایا تھا اور      ؎

چاند کی زرپاش کرنوں میں وفور ِناز  سے

جگمگاتی تھی یہی  دنیا  عجب انداز  سے

پردہ پھر اٹھتا  ہے  اور  اس  بار منظر بدل جاتے ہیں۔  اس  کرہ ارض کا  دوسرا  رُخ نظر آنے لگتا ہے جہاں  قیامت کے منظر زمین  پر نظر آنے لگتے ہیں۔  انسان میں  در آئے ہوئے شیطان نے اس جنت کو  جہنم سے بد تر بنا دیا ہے۔ ہر طرف عورتوں، بچوں، مزدوروںاور محنت کشوں کا استحصال ہو رہا ہے۔ ظلم و استبداد کی نئی کہانیاں لکھی جا رہی ہیں۔ لوٹ مار، قتل و غارت اور آگ زنی کا منظر ہے      ؎

 دل میں غیظ آلود  لہریں پیچ وخم کھانے لگیں

 دفعتاً آنکھیں  ملک کی آگ برسانے لگیں

کج  ہوئے  لب اور یہ  نکلی صدائے جاں گزا

  ظلم کے  پتلے   اسی عالم پہ  تجھ کو ناز  تھا؟

آدم زاد  ا ن نظاروں کو دیکھ کر  فرط  ِ خوف سے بے ہوش ہو  جاتا ہے۔

دوسرے حصے میں چار نظمیں فخر ہندوستان، تحفۂ درویش، شاعر اور ’آزاد مسافر‘کے عنوان سے شامل ہیں۔ ’آزاد مسافر‘کے صرف دو شعر ملاحظہ فرمائیے جس میں کیا ہمت اورخود اعتمادی کا مظاہرہ ہے      ؎

وہ موج  ِ ہوا  ہوں میں جس کا، پایاں ہی نہیں، ساحل  ہی  نہیں

اے  طالب منزل میرے لیے، محدود کوئی منزل  ہی  نہیں

وہ دل کو  یقین  ِ جوانی ہے،  پتھر  بھی  نظر  میں   پانی ہے

نا ممکن  بھی  امکانی ہے،  مشکل  تو  کوئی  مشکل  ہی  نہیں

تیسرے حصے میں تین نظمیں ہیں جنگجو ہندوستانی، جمنا کے تیر اور ’کانی عورت‘ تیسری نظم  کانی عورت مختصر ہے مگر چونکانے والی ہے۔ ایک دلکش اور خوبرو  دوشیزہ دریا کے کنارے ٹہلتی ہوئی نظر آتی ہے۔ شاعر اس کے حسن میں کھونے کو تھا کہ وہ قریب آتی ہے اور شاعر حیران رہ جاتا ہے کہ اس کی ایک آنکھ میں بینائی نہیں ہے۔ وہ اپنے اس نقص پر شرماتی ہوئی گزر جاتی ہے اور تب دیکھیے شاعر کا ذہن کہاں پہنچ جاتا ہے۔ یہ نظم کے آخری دو اشعار ہیں       ؎

دیکھتے ہی  ہو گیا  دل  اس  تصور  سے  دو  نیم

مسلم  و ہندو  بھی ہیں اک ماں کی دو آنکھیں شمیم

پھوٹ جائے ایک پھر کس  طرح منھ دکھلائے گی

مادر  ِہندوستاں  بھی   تو  یونہی  شرمائے  گی

چوتھے حصے میں چار نظمیں ہیں خواب، شہر، جوانی کی نیند، اور ’آزادی کا حق‘ نظم ’شہر‘ ایک ایسے شہر کا مرقع ہے جس میں  ہر طرف افرا تفری کی تصویر ہے،  شور ہے، ہنگامہ ہے، امیر  اور  غریب کی تفریق ہے اور یہ سب تضاد اس قدر بڑھا  ہوا ہے کہ یہی انقلاب کا پیش خیمہ بن جاتاہے۔یہ ان مصرعوں سے شروع ہوتی ہے: ع۔ شور،  ہنگامہ، بغاوت، قتل، غارت، اژدہام/مکر ،  خود بینی، ستم رانی،  خباثت،  انتقام:  اور ختم ہوتی ہے       ؎

آفتاب  اک اور  بعد ِ  آفتاب آنے کو  ہے

انقلاب آنے کو ہے، اب انقلاب آنے کو ہے

 اگلے حصے میں پانچ نظمیں ہیں برسات کی شام، مغنی، معیار جمال، دیہاتی عورت اور ’اے غزل گو‘ دیہات میں برسات کی ایک شام گلرنگ منظر بکھیر رہی ہے، گھاس کے قالین بچھے ہیں، دور تک دھان کے لہلہاتے کھیت  ’جیسے کوئی سو گیا ہو سبز چادر تان کے‘  وغیرہ وغیرہ۔ شاعر نے اس نظم میں بہترین منظر کشی کرتے ہوئے دیکھا ہے کہ دہقان کی آنکھیں بارش ہوتے دیکھ چمک جاتی ہیں اور اس کے دل میں ایک نئی امید کی کرن جاگ اٹھتی ہے      ؎

شام ابرو برق ہے  یا صبح ِ رنگیں عید کی

روئے دہقاں پر چمکتی ہے کرن امید کی

مغنّی‘  میں  مغنی لحن ِ غم انگیز چھیڑتا ہے، ماحول سوگوار ہو جاتا ہے         ؎

دل میں اک موج ِ تپاں اٹھتی ہے بل کھائی ہوئی

سانس جو سینے سے آتی ہے وہ گھبرائی ہوئی

شاعر اس فرسودہ طرز فکر سے اکتا جاتاہے اور کہتا ہے کہ اس لحن ِ غم انگیز کو اب زنگ لگ چکا ہے۔ اب اسے انقلابی آب و رنگ دے۔ آخری شعر ہے        ؎

  ایسے نغمے چھیڑ دے جن سے وطن بیدار ہو

تیرے طوفانی ترانوں میں یہ بیڑا پار ہو

معیار  ِ جمال‘ میں شاعر تخیل کی پری کو جو حسین ِ پاکباز ہے، مہ جبین  ِ خوش خصال ہے اسے بوڑھوں کا معیار ِ جمال بتاتا ہے۔ عورت کے وجود کو رسم و رواج، جہالت اور محض خاتون خانہ کے حصار سے نکلنے کے لیے آمادہ کرتا ہے۔ مجازنے آنچل سے پرچم بنا لینے کا مشورہ دیا تھا تو شمیم  نے کیا کہا دیکھیے      ؎

آ  مری محفل میں ! جان ِ  جذبہ ٔ  بیدار  بن

تھی کھلونا آج تک، اب قوم کی تلوار  بن

چھٹے حصے میں چار نظمیں ہیں کسان کا سفر، آگے چل کر، ڈومن، بھوکا بھکاری۔

 کسان کا سفر، گاؤں کے چھوٹے سے اسٹیشن پر کھڑی اک ریل گاڑی پر سوار ایک مزدور کام کے لیے شہر جاتا ہے  اور کھڑکی کے باہر ایک غریبی کی ماری لاغرسی عورت  اپنے شوہر کو  رُخصت کرنے کھڑی ہے۔ سیٹی بجتی ہے، گاڑی کھسکتی ہے اور ادھر گھبرائی ہوئی عورت چکرا کر گر جاتی ہے۔ بہترین منظر کشی کرتے ہوئے نظم یوں ختم ہوتی ہے         ؎

اُس طرف گاڑی چلی اور اس طرف یہ دل جلی

صید ِ زخمی کی طرح، جھومی، رکی،  اور گر  پڑی

جن سے جاں مضطر، نگہ بیتاب، دل غمگین ہیں

پردہ ٔ  افلاس  پر  ایسے  ہزاروں  سین ہیں

آگے چل کر‘ بھی ایک ایسی ہی نظم ہے جس میں ایک وسیع کھیت کا منظر ہے جہاں کسان، اس کی شریک ِ حیات کھیت جوتنے میں مشغول ہیں اور ان کے ساتھ ان کا ننھا بچہ بھی مٹی میں کھیل رہا ہے اور ماں ایک طرف اپنے شوہر کا ہاتھ بٹا رہی ہے اور دوسری طرف بچے پر بھی برابر نظر رکھے ہے۔ اسے پڑھیے تو ایک خوبصورت منظر نامے کا لطف آتا ہے۔’ڈومنی‘ اور ’بھوکا بھکاری‘ میں بھی پسماندہ کرداروں کی مجبوری اور سرمایہ دارانہ نظام کی بالا دستی کا ذکر ہے۔

ساتویں حصے میں  تین نظمیں ہیں دیسی نمائش، بسکٹ والی اور ’قدامت کا مقبرہ‘ان نظموں میں بھی غربت، قدامت پسندی اور سرمایہ داروں کی زیادتیوں کو موضوع بنایا گیا ہے۔ آٹھویں اور آخری حصے میں آٹھ نظمیں ہیں  نیا ادب، کنور کی تفریح، یقین صحت، جہالت مرد ہ باد، پانی کا گھر، لیڈر، 1939 اور ’نوجوانوں سے‘ان نظموں میں بھی  غریبی  اور پسماندگی کو اپنے وطن ِ عزیز سے نکال پھینکنے  کا  جذبہ حاوی نظر آتا ہے جو پہلی نظم  ’نیا  ادب‘ کے اس آخری شعر سے ظاہر ہے        ؎

مجھ کو باغوں میں نہ اونچے اونچے کاشانوں میں ڈھونڈھ

ڈھونڈنا ہو تو غریبوں کے سیہ  خانوں میں  ڈھونڈھ

کنور کی تفریح‘  یہ نظم بھی اونچ نیچ اور سرمایہ داری کے خلاف ہے مگر اس میں رُخ بدل گیا ہے۔ یہاں کنور یعنی شہزادے صاحب اپنے محل سے کچھ دور چہل قدمی کرتے ہوئے ایک دوشیزہ کو دیکھتے ہیں کہ وہ سر پر اپلوں کا بوجھ لیے ان کے قریب سے گزر جاتی ہے۔یہ جانتے ہوئے کہ دونوں کے بیچ دولت  و  ثروت کی کھائی ہے، متعصب سماج ہے، اس کو اپنی رانی بنانے کے لیے بیتاب ہو جاتے ہیں۔ جب سماج بیچ میں آتا ہے تو وہ بغاوت پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔راج  اور تاج سے ٹکرا جاتے ہیں اور نظم اس شعر پر تمام ہو جاتی ہے      ؎

 جہاں  سے ظلم  کا  لاشہ اٹھا کے دم لوں  گا

یہ  فرق  شاہ  و گدا  کا  مٹا کے دم لوں  گا

پانی کے گھر‘  قومی یکجہتی پر مبنی شدید طور پر ایک جذباتی نظم ہے۔  اس کا پہلا اور آخری شعر ملاحظہ فرمائیں          ؎

ہائیں  یہ کیا  ایک  اسٹیشن  پہ  دو  پانی  کے گھر ؟

ایک  پر لکھا  ہوا   ’ہندو‘، ’مسلماں‘  ایک  پر ؟

بھائی  بھائی   کے  لہو  کے  واسطے   بیتاب  ہے

اور  اس جھگڑے  میں خود  ہندوستاں بے آب ہے

آخری نظم  ’ نوجوانوں سے‘  جوش اور جذبے سے بھر پور ہے۔  وہ نوجوانوں سے للکار کے کہتے ہیں      ؎ 

اٹھو نوجوانو!  اٹھو  نوجوانو!

سنو  وہ بگل  کی  صدا  آ رہی ہے

فضاؤں میں موسیقیت  چھا رہی ہے

کوئی  فوج  بڑھتی چلی  آ رہی  ہے

اٹھو نوجوانو!  اٹھو  نوجوانو !

اٹھو  اور  جوشِ   جوانی  دکھا  دو

بڑھو  اور آگے بڑھو  بڑھتے  جاؤ

اٹھاؤ    نشانِ    بغاوت    اٹھاؤ

اٹھو نوجوانو!  اٹھو  نوجوانو!

اس کتاب میں جو نظمیں اور گیت شامل ہیں ان کے تیور کا  اندازہ شاید ہو گیا ہوگا۔  تمام کلام کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ شمیم کے لہجے میں وہ چنگھاڑتے ہوئے الفاظ نہیں ہیں جو  صرف جوش  ملیح آبادی کا  ہی خاصہ ہے۔ مگر شمیم کی نظموں میں بھی وہی آگ ہے، وہی تڑپ ہے لیکن اکثر  نرم اور خوب صورت الفاظ میں سجائے ہوئے اور لطیف پیرائے میں پیش کی گئی ہے۔ یہ کتاب  1939 میں  شائع ہوئی ہے یعنی اس میں آزادی حاصل ہونے سے تقریباً  10  سال پہلے کی نظمیں ہیں۔ شمیم آزادی کے  بعد بھی قومی یکجہتی اور حب الوطنی پر نظمیں کہتے رہے ہیں۔ مہاتما گاندھی کے انتقال پر ان کی نظم  ’جگاؤ نہ باپو کو نیند آگئی ہے‘  نے  عوام و خواص دونوں کو بے حد متاثر کیا اور وہ بہت مقبول ہوئی۔ 

 

Azam Abbas Shakeel

Flat No.: 83, AIMS Apartment

Mayur Kunj

Delhi - 110096

Mob.: 9717581666

 

ماہنامہ اردو دنیا، ستمبر 2021

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...