10/2/22

غزل کائنات کا آئینہ گر: شائق مظفرپوری - مضمون نگار : اختر آزاد

 



 نیا سورج کا تحفہ دے رہا ہوں

زمانہ خواب سے بیدار بھی ہے

شائق مظفر پوری نے 1983 میں اپنے پہلے شعری مجموعے ’نیا سورج ‘ کے انتساب میں ’بیدار آنکھوں کے نام‘یہ شعر لکھ کر نہ صرف اپنے ہونے کا احساس کرایابلکہ ادبی پارکھوں کے روبرو یہ اعلان بھی کیاکہ میں اردو شاعری کے آسمان میں قوس و قزح رنگوں کے حسین امتزاج سے ایک نیا سورج طلوع کر رہا ہوں۔ یہ میری طرف سے نئے زمانے کے لیے تحفہ ہے۔ جو خواب غفلت میں ہیںوہ بیدار ہو جائیں۔اپنے شعور کی کھڑکیاں کھول لیں تاکہ میرے اشعار کی کرنوں سے اندرون منور ہو سکے         ؎

کاسۂ ظلمت میں دے گا کون پھر کرنوں کی بھیک

وقت سے پہلے اگر سورج کو ڈھل جانا پڑا

ان کا نام سیّد معین احمد تھا۔تعلیم میڑک تک حاصل کی۔ٹسکو کمپنی ( جمشید پور )جوائن کیا اور ریٹائرڈ بھی یہیں سے ہوئے۔ 1958 سے شاعری کا آغاز کیا۔ سروش مچھلی شہری کی شاگرد ی اختیار کی۔آج شائق مظفر پوری اردو شاعری کا وہ معتبر نام ہے جن کی شناخت بحیثیت استاد شاعر کی ہے۔ انھوںنے اپنی شاعری سے غزل کائنات کے بال و پر ہی نہیں سنوارے،بلکہ پچاسوں شاگردوں کو بھی اس لائق بنایا کہ وہ ان کی زلفیں سنوار سکیں۔ آج اس میں کوئی شک نہیں کہ شہر سنگ و آہن جمشید پور اور جمشید پورسے باہر بھی کچھ ایسے شعرا ہیں جو شائق مظفر پوری کی غیر موجودگی میں اپنے ہونے کا احساس کرا رہے ہیں۔یا یوں کہا جائے کہ شائق مظفر پوری کی شعری روح،شاگردوں کی روشنائی میں تحلیل ہو کر ہمیشہ ان کی تحریروں میںزندہ رہے گی کیونکہ سوچ کبھی نہیں مرتی۔ خیالات منتقل ہوتے رہتے ہیں۔اس لیے شائق بھی صدیوں باقی رہیں گے۔

شائق مظفر پوری کی پوری شاعری ایک ایسا نگار خانہ ہے جس کی دیواریں شیشے کی لیکن فرش چاک کی ہے۔ اس چاک پرشاعری کی گوندھی مٹی رکھی ہوئی ہے جسے شائق وقت کے ہاتھوں گھماکر غزل پیکر میںڈھالا کرتے تھے۔وہ خوبصورت شعر دیکھیے جس میں انھوں نے کائنات کا فلسفہ خالق اور مخلوق کے حوالے سے نئے تناظر میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے اور یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ ہم جو کچھ بھی ہیںوہ کسی کی مرہون مّنت ہے۔کل کیا ہو جاؤں گا یہ بھی نہیں جانتا۔ پیدائش سے موت تک انسان کو زندگی کے کتنے اسرارورموز سے گزرنا پڑتا ہے اسے جس طرح شائق نے دو چھوٹے چھوٹے مصرعوں میںپرویا ہے وہ لائق ستائش ہے۔ شعر دیکھیے      ؎

میںپھر ایک چاک پر رکھا گیا ہوں

نہ جانے کیا بنایا جا رہا ہوں

مجھے لگتا ہے کہ یہ وہ شعر ہے جسے کسی بھی بڑے شاعرکے اہم شعر کے مد مقابل رکھا جا سکتا ہے۔شائق مظفر پوری کی شعری کائنات چار شعری مجموعوں پر مشتمل ہے۔ ’نیا سورج‘ (1983)’سفر لہجے کا ‘(2003) آئینہ احساس کا (2007) اور’نقطہ اور زاویہ‘(2016)۔آخری مجموعہ ان کی وفات کے بعدشائع ہوا۔ان مجموعوں کے مطالعے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوںکہ شائق مظفر پوری کوئی عام شاعر نہیں تھے۔پچاسوں شاگرد یوں ہی نہیں ہوئے۔ بحیثیت انسان وہ سراپا سادگی کا پیکر تھے۔خلوص و محبت کا ایسا پیکر جو ایک بار ان سے مل لیتا، اسی سانچے میں ڈھل کر ہمیشہ کے لیے ان کی اپنائیت کا اسیر ہو جاتا تھا۔ کم گو لیکن بلا کے ذہین۔ سبھوں کو ساتھ لے کر چلنے والے۔ جب تک زندہ رہے’ حلقہ شائق‘ کے لیے ’سائبان‘ بنے رہے       ؎

چاہیے منزل تو شائق دھوپ کی چادر سنبھال

     وقت کا اصرار ہے اب سائباں سر پر نہ رکھ

وہ جانتے تھے کہ جو لوگ دورانِ سفر دھوپ سے بچ کر چھاؤں کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں، منزل ان سے دور ہوتی چلی جاتی ہے اور ایسے لوگ جو اپنی منزل نہیں پا سکتے وہ اوروں کے لیے منزل نہیں بن سکتے۔ لیکن جن کے اندر دوسروں کے لیے کچھ کر گزرنے کا جنون ہے انھیں آگ اگلتی سڑک پر چلنے اور گہرے ساگر میں اترنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔لیکن اس لیے شرط ہے کہ اسے چلنا اور ساگر کی گہرائی ناپنے کا تجربہ ہونا چاہیے۔

 آگ اگلتی راہ پر چلنا کچھ اتنا آسان نہیں ہے

ہم سے پوچھوکیا ملتا ہے اوروں کا دکھ اپنانے میں

جس ساگرمیں سیپی چنتے عمر ہماری گزری ہے

وہ ساگر کتنا گہرا ہے ہم کو ہے معلوم میاں

آنکھوں کے سمندر کی تہہ میں ہر خواب سہانا لگتا ہے

تعبیر کے موتی چننے میں اے دوست زمانہ لگتا ہے

نئی امید لے کرجنوری آتی تو ہے لیکن

گزرتے سال میں ہم تا دسمبر ٹوٹ جاتے ہیں

نقطہ ہی میں سہی تو کوئی زاویہ بنا

تیرے لیے ہے کام یہ دشوار تو نہیں

غزل کائنات کی سڑک پر انھیںہر لمحہ اس بات کا احساس تھاکہ وہ ’نقط ‘سے’ دائرہ ‘کی طرف سفر کر رہے ہیں۔ ذات سے کائنات میں تبدیل ہو رہے ہیں۔اور یہ تبدیلی تب واقع ہوتی ہے جب انسان کی زندگی ’آئینہ‘ ہو جائے۔ جس میں وہ خود کو دیکھ سکیں۔ اندر بھی اور باہر بھی۔لیکن یہ مشکل اَمرَہے۔اس کے باوجودشائق مظفر پوری نے اپنی سہل پسندی سے اسے آسان بنا دیا ہے۔لفظوں کوبرتنے کا ہنر بھی انھیں خوب آتا ہے۔وقت، روشنی، عشق، زندگی، پرندہ، دنیا، زمین، آسمان، سمندر، صحرا، جنگل، سورج، آگ،  قطرہ، آنکھ، پتھر، شیشہ اور آئینہ بار بار اشعار میں استعمال ہوئے ہیں۔ جن سے انہوں نے اپنی شاعری میں مفاہیم کی ایک نئی دنیا آباد کی ہے۔جذبۂ حب الوطنی، قوم پرستی، عشق ِ دنیا داری،حوصلہ مندی، کچھ کر گزرنے کی تمنّا،حقوق کی خاطرمر مٹنے کی آرزوجہاں اشعار میں جا بہ جا دکھائی دیتے ہیں وہیں انسان کو اس کے حرکات وسکنات دیکھ کر پہچاننے کا ہنر بھی شائق مظفر پوری کے یہاں بدرجہ اتم موجود تھا۔شعر دیکھیے اور ساتھ ہی تخیّل کی اڑان بھی۔بالکل عام فہم زبان میں کتنی بڑی بات کہہ دی ہے۔آپ سنیں گے عش عش کرنے پر مجبور ہو جائیں گے      ؎

پرند وقت سے پہلے اڑان چاہتا ہے

زمیں کا اہل نہیں آسمان چاہتا ہے

میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ سارے مضامین ان کے یہاں بالکل نئے نہیں ہیں۔ لیکن جس طرح سے انہوں نے اپنے اشعار میں پرانے مضامین کو برتا ہے اس سے نیا پن ضرور پیدا ہوا ہے۔ اور یہی ایک فنکار کی سب سے بڑی خوبی ہوتی ہے۔کچھ ویسے ہی مضامین جو انہوں نے اپنے اشعار میں باندھے ہیں ان پر بھی ایک نظر ۔۔۔۔۔  جیسے شکستہ پا ہونے کے باوجود زمانے کا اس کی چال پر رشک کرنا۔خود کو بھولنے کے لیے بھی کسی بہانے کی تلاش کرنا، بے معنی ہونے کے باوجود کسی کتاب میں لفظ بن کر محفوظ ہونے کی خواہش کا پیدا ہونا،خون سے تاریخ کا لکھا جانا اور اخبار میں اپنی ہی موت کی خبر شائع ہونے پراخبار کا ممنون ہونا وغیرہ میں انہوں نے نہایت ہی فنّی مہارت دکھاتے ہوئے خوبصورت اشعار نکالے ہیں: چند اشعار پیش خدمت ہیں         ؎

    چلو تو یوں کہ زمانے کو رشک آ جائے

یقیں نہ آئے کسی کو شکستہ پا تم ہو

 میں خود کو بھول جانا چاہتا ہوں

مگر کوئی بہانا چاہتا ہوں

میں حرف حرف بکھرنے لگا ہوں بے معنیٰ

تو کوئی لفظ بنا کر مجھے کتاب میں رکھ

دنیا نے میرے خون سے تاریخ لکھی ہے

ممنون میرا کون سا اخبار نہیں ہے

 شائق مظفر پوری کی شاعری کوایک لفظ میں کوئی نام دیناہو تو میں سمجھتا ہوں کہ یک زباں ہو کر سب کہیں گے  ’آئینہ ‘ ۔۔۔۔۔۔کیونکہ ان کے چاروں مجموعے میں سیکڑوں اشعار ایسے ہیں جس میں انھوں نے آئینہ کو نہ جانے کتنے روپ میں دیکھا ہے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ ایک لفظ’ آئینہ‘ اور  اشعار میں موضوع کی مناسبت سے اس کی تصویریں، معنی الگ۔ایسا لگتا ہے کہ ہر شعر کو لکھنے کے بعد وہ آئینے میں اس کا عکس دیکھتے ہوں، یا آئینے کو دیکھ کر وہ بحرو اوزان کے سمندر میں غوطہ لگاتے ہوں۔ ہر کسی کی تحریر میں کچھ الفاظ ایسے ہوتے ہیں جو شاعر کی آواز بن کر سامنے آتے ہیں اور یہی وہ آواز ان کے اسلوب کو زندگی عطا کرتی ہے۔ لاشعوری طور پر بھی ایک لفظ کا بار بار آناکسی کے اسٹائل کا حصہ بن سکتا ہے۔ لیکن شائق مظفر پوری کے یہاں یہ ایک شعوری عمل ہے، کیوں کہ انہوں نے اپنے آخری مجموعے کو ترتیب دیتے وقت ایسے نوے اشعار شامل کیے ہیں جس میں لفظ’ آئینہ‘ کاخوبصورت استعمال ہوا ہے    ؎

میرے محبوب کی تصویر آنکھوں نے اتاری ہے

اٹھا کر آئینہ کو آئینہ کہنے کو جی چاہے

وہ پتھر پھینکتے ہیں آئینوں پر

مگر شوق خود آرائی بہت ہے

  تم تو خود کو مجھ میں پا کر ہو چکے ہو مطمئن

میں بھی خود کو دیکھ لوں وہ آئینہ دینا مجھے

  اپنی آنکھوں میں برا تو بھی نہیں میں بھی نہیں

ہر نظر میں آئینہ تو بھی نہیں میں بھی نہیں

اب آئینے میں سنورنے لگا ہے وہ شائق

تری پسند پہ کتنا دھیان رکھتا ہے

آئینے کو روبرو کرتا چلوں

خود سے بھی کچھ گفتگو کرتا چلوں

وقت احساس کا آئینہ دکھائے مجھ کو

اپنے ہونے کا یقین پھر بھی نہ آئے مجھ کو

   مجھ سے ملنا ہو جسے آئینہ لے کر آئے

میں بھی دیکھوں تو ذرا کون چھپا ہے مجھ میں

نظر پہلے ملاؤ آئینے سے

پھر اس کے بعد تم پتھر چلانا

ایسے بے شمار اشعار بکھرے پڑے ہیں جس میں لفظ’ آئینہ‘ اپنے نئے مفاہیم کے پیکر میں آپ کو ملیں گے۔

کہیں آئینہ محبوب کی آنکھ ہے۔کہیں آئینہ چہرہ کتاب ہے۔کہیں آئینہ روشنی کا منبع ہے۔کہیں آئینہ خانۂ دل ہے۔کہیں آئینہ زندگی کا استعارہ ہے۔کہیں آئینہ حسن مجسم ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

کہیں گفتگو آئینہ ہے،کہیں سادگی آئینہ ہے،کہیں تحریر آئینہ ہے،کہیں تصویر آئینہ ہے،کہیں لمس آئینہ ہے، کہیںاحساس آئینہ ہے۔

کبھی عشق آئینہ، کبھی فرار آئینہ، کبھی وقت آئینہ،کبھی دوست آئینہ،کبھی شناخت آئینہ، کبھی شعور آئینہ، کبھی نور آئینہ۔

کہیں شوق خود آرائی سے عبارت، توکہیں صداقت کا نام آئینہ

 کہیں سچ کی علامت،  تو کہیںدنیا کی تعبیر آئینہ

کہیں ٹوٹتی بکھرتی زندگی کا نوحہ، تو کہیںخوشیوںکا گہوارہ آئینہ

یعنی اپنے اشعار میں شائق مظفر پوری نے زندگی کے تمام جذبات واحساسات کو آئینے کے سامنے رکھ کرہر زاویے سے دیکھنے اور رنگ بھرنے کا کام کیا ہے۔ اورجب کبھی آئینے پر گرد جمی ہے۔ تصویر دھندلی ہوئی ہے۔ اسے وقت کے ہاتھوں صاف کیا ہے۔اس لیے ان کی غزل کائنات کا آئینہ ہمیشہ صاف و شفاف اور چمچماتا ہوا نظر آیا ہے۔آئینہ ان کی شاعری کا محور ہے۔

شائق مظفر پوری کی شاعری میں ہمیں ایک وژن نظر آتا ہے۔ ان کی زبان چست درست اور کلاسیکی آہنگ سے لبریز دکھائی دیتی ہے۔ جس میں جدّت طرازی بھی ہے۔کہیں کہیں صوفیانہ رنگ صاف جھلکتا ہے۔کہیں عاجزی و انکساری، فقیرانہ انداز بیان اس طرح غالب ہے کہ پڑھتے وقت روحانی طمانیت کا احسا س جاگزیں ہوتاہے۔تشبیہ و استعارے کے برمحل استعمال نے ان کے یہاں ایک ایسی تخلیقی فضا قائم کی ہے جس سے ان کا شعری نظام، عہد حاضر کی المناکی،عصری حقائق،زمانے کی شکست وریخت کاتجربہ و مشاہدہ،صرف ان کا نہیںرہ جاتا بلکہ دورانِ مطالعہ قاری بھی اس میں برابر کا شریک نظرآتا ہے۔ جس کے باعث شعر کی ترسیل آسان ہو جاتی ہے اورقاری ذہنی کسرت سے بچ جاتا ہے۔یہ بہت بڑی خوبی ہے ان کی شاعری کی۔

یوں تو’نیا سورج‘ کے جنم کے ساتھ ہی شائق مظفر پوری کے اسلوب کی روشنی چہار سو پھیلنے لگی تھی۔ ’سفرلہجے کا‘ جب آہستہ آہستہ اپنی منزل کے آخری پڑا ؤ پر پہنچا تو انھیںاس بات کا احساس ہوا کہ’ آئینہ احساس کا‘ کے اندر ’نقطہ اور زاویہ ‘ کا عکس جھلک رہا ہے۔ بار بار آئینے کے بیچ ایک ’نقطہ‘ ابھرتا ہے جو الگ الگ’زاویہ‘ بناتاہے۔کبھی90  ڈگری کا،کبھی 180 اور کبھی۔۔۔۔۔۔ وہ مستقبل کی آنکھوںسے یہ بھی دیکھ رہے تھے کہ آگے بھی’ نقطہ‘ ابھرے گا اوراسی طرح’ زاویہ‘ بھی بڑھتا جائے گا۔17؍ مئی 1939 کو خواجہ چاند چھپرہ میںجو ایک’ نقطہ‘ بن کر ابھرا تھاوہ ’غزل کائنات کا آئینہ گر‘اپنی زندگی کی سترویں بہار میںمختلف شعری زاویے بناتا ہوا آخر کار2؍ اکتوبر 2008 کوعید کے دن دائرے میں تبدیل ہو کراپنے مکمل ہونے کا ثبوت فراہم کر گیا            ؎

  شائق ہمارے بعد بھی روشن رہے ڈگر

ایسا کوئی چراغ سر رہگزر جلے

کاش اس حقیقت سے لوگ آشنا ہوتے

اک چراغ سے شائق سو چراغ جلتے ہیں

اور چراغ سے چراغ جلانے کا کام اب شروع ہوگیا ہے اور امید ہے یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ 


Dr. Akhtar Azad

House No.: 38, Road No.: 1

Azad Nagar

Jamshedpur - 832110

Mob.: 9572683122

Email.: dr.akhtarazad@gmail.com

 



8/2/22

جارج برنارڈ شا کا شاہکار ڈرامہ’آرمس اینڈ دی مین‘ - مضمون نگار : محبوب حسن

 



نوبل انعام یافتہ جارج برنارڈ شا عالمی ادبیات کا نہایت محترم نام ہے۔ ولیم شیکسپیئر کے بعد انگریزی ڈرامے کی روایت کو پروان چڑھانے والے قلم کاروںمیںجارج برنارڈ شا کوخاص اہمیت حاصل ہے۔ ان کی پیدائش /26جولائی 1856میں ڈبلن، آئرلینڈ میںہوئی۔ان کے والد شراب کی لت میں بری طرح مبتلا تھے۔ان کی والدہ نہایت مہذب اور ذمے دار عورت تھیں جنھوں نے برنارڈ شا کو اپنے شوہر سے دور رکھا تاکہ بیٹے پر شرا ب نوشی کا برااثر نہ پڑے۔ جارج برنارڈشا کی والدہ نے ان کی تعلیم و تربیت اور ذہنی پرورش پرخصوصی توجہ صرف کی۔وہ بچپن سے ہی نہایت ذہین تھے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم مس کیرولین نامی استانی سے حاصل کی۔اپنے والد کی غیر ذمے دارانہ حرکتوں کے سبب انھیں مالی دشواریوں کا سامنابھی کرنا پڑا۔ان ناموافق حالات کی وجہ سے ان کی ابتدائی زندگی مشکلات سے دو چار رہی۔ /2نومبر 1950 کو یہ ادیب اس جہان فانی سے ہمیشہ کے لیے کوچ کر گیا۔

جارج برنارڈ شا کوزندگی کے ابتدائی دور سے ہی علمی، ادبی اور تہذیبی اقداروروایات سے خاص دلچسپی تھی۔اپنی اس ادبی تشنگی کی تسکین کے لیے انھیں لندن آنا پڑا،جہاں ان کا ادبی ذوق رفتہ رفتہ نکھرتا گیا۔ لندن جیسے ادبی مرکز میں بطور ادیب اور ڈرامہ نگار اپنی شناخت قائم کرنے میںانھیں شدید جدوجہد سے گزرنا پڑا۔انھوں نے ادب کو پیشے کے طور پر اختیار کیا تھا۔ادب سے اپنی اس خاص دلچسپی کا سبب بیان کرتے ہوئے موصوف نے لکھا ہے کہ ’’روزی روٹی کے لیے ادب کو اختیار کرنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ قارئین ادیب کو دیکھتے نہیں بلکہ اس کی تحریریں پڑھتے ہیں۔اس لیے اچھی پوشاک کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ڈاکٹر،تاجر، وکیل اور فن کار بننے کے لیے اچھے اورصاف ستھرے کپڑے پہننے پڑتے ہیں۔ادب ہی ایک ایسا مہذب پیشہ ہے، جس کی اپنی کوئی مخصوص پوشاک نہیں۔اس لیے میںنے اس پیشے کا انتخاب کیا۔‘‘ جارج برنارڈ شا کی مذکورہ باتوںسے ان کے ادبی مزاج اور فکری میلان کابخوبی اندازہ ہوتاہے۔

جارج برنارڈ شاکو بچپن سے کتب بینی کا شوق تھا۔انھوںنے ابتدائی عمر میں ہی عالمی ادبیات کابغور مطالعہ کر لیا تھا۔جارج برنارڈ شا کی شخصیت بے حد پہلوداراور ہمہ جہت تھی۔انہوں نے ڈرامہ،ناول،تنقید اور سیاست کے میدان میں اپنے گہرے نقوش ثبت کیے ہیں۔اپنی ادبی زندگی کے آغاز میں انھوں نے "Immaturity""Irrational Knot""Love Among the Artist""An Unsocial Socialist"جیسے ناول تخلیق کیے لیکن انھیں خاطر خواہ کامیابی نہ مل سکی۔یہ نکتہ قابل غور ہے کہ جی بی شاکا پہلا ناول ان کی زندگی میں شائع نہ ہو سکا۔ابتدا میں ہی انھیں اس بات کا احساس ہو گیاتھا کہ ناول نگاری کی دنیا میں ان کا چراغ روشن نہ ہو سکے گا۔اس لیے وہ جلد ہی ڈرامہ نگاری کی جانب راغب ہو گئے۔برناڈ شا کی ڈرامہ نگاری کا آغاز انیسویں صدی کے نصف آخرسے ہوا۔ ا ن کا پہلا ڈرامہ "Widower's Houses" 1882میں منظر عام پر آیا۔اس ڈرامے کو اسٹیج پر پیش بھی کیا گیا۔جارج برنارڈ شا کا یہ پہلا ڈرامہ در اصل ان کی تخلیقی زندگی کا ایک ایساموڑ ہے، جہاں سے شہرت اور کامیابی کی راہیں ہموار ہوتی ہیں۔ان کے دوسرے اہم ڈراموں میں "Arms and the Man""Candida""Man and Superman""The Philanderer""Man and Dstiny""Mrs. Warren's Proffession""The Apple Cart""The Dostor's Dillema""Heartbreak House""The Devil's Disciple""Saint Joan" وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ان میں بیشتر ڈرامے لندن،امریکہ،جرمنی،روس اور آسٹریا جیسے ممالک میں اسٹیج کیے گئے۔ ان کی بے پناہ تخلیقی عظمت کے پیش نظر سویڈیش اکادمی نے انھیں ادب کے نوبل انعام سے نوازا۔انعام کے پیسوں سے انہوں نے "Anglo Swedish Literary Foundation" جیسا اہم ادبی ادارہ قائم کیا۔

ڈرامہ "Arms and the Man"جارج برنارڈ شا کی شاہکار تخلیق ہے۔ ’’آرمس اینڈ دی مین‘‘ 1894 میں منظر عام پر آیا جو تین ابواب پر مشتمل رومانی اور طربیہ قسم کی تخلیق ہے،جسے "Anti War Play" یا "Problem Play"بھی کہا جا تاہے۔ "Problem Play"ڈرامے کی ایک ایسی قسم ہے،جس میں متعلقہ عہد کے سنجیدہ سماجی،سیاسی،اقتصادی اور تہذیبی مسائل کو حقیقت پسندانہ انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔اس نوع کے ڈراموں کا آغاز انیسویں صدی میں انگلینڈ میں ہو ا۔ جارج برنارڈشا کے بیشتر ڈراموں میں یہ خوبیاں نظر آتی ہیں۔انھوں نے  خیالی اور تصوراتی دنیا سے قطع نظر اپنے دور کے سلگتے ہوئے حالات و مسائل کو کلیدی اہمیت دی۔ یہی وجہ ہے کہ جارج برنارڈ شا ایک حقیقت پسند قلم کار کے طور پرہمارے سامنے آتے ہیں۔ جارج برنارڈشا نہایت پرآشوب دور سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس عہد میں عالمی سطح پر کئی جنگیں ہوئیں۔سماجی،سیاسی،مذہبی اور اقتصادی اعتبار سے دنیا ایک نئی کروٹ لے رہی تھی۔ جارج برنارڈ شا نے ایسی غیرمعمولی تبدیلیاں اپنی آنکھوں سے دیکھی تھیں۔جنگ و جدال،قتل و خون،ظلم و استحصال اورسسکتی ہوئی انسانی قدروں نے انھیں شدید طور پر متاثر کیا۔ انھوں نے اپنے بیشتر ڈراموں میں جنگوں کا مذاق اڑایاہے۔ان کی تخلیقات میں غیر انسانی حرکتوں کے خلاف محبت اور امن و آشتی کا پیغام موجود ہے۔ انھوں نے اپنے کردارو ں کے توسط سے طبقاتی کشمکش کو بھی طنز کا نشانہ بنایا ہے۔ان کا شاہکار ڈرامہ "Arms and the Man" اس کی عمدہ مثال ہے۔جارج برنارڈ شا نے اپنے اس ڈرامے میں بلغاریہ اور آسٹریاکے درمیان ہونے والی عالمی جنگ کو پس منظر کے طور پر استعمال کیا ہے۔ ڈرامے کا عنوان بھی اس جانب اشارہ کرتا ہے۔

جارج برنارڈ شا انگریزی زبان و ادب کی دنیا میں ایک روایت شکن تخلیق کار کی حیثیت سے مشہور ومعروف ہیں۔ جدت پسندتخلیقی مزاج کے مالک جارج برنارڈ شا نے اپنے تخلیقی امتیازات سے انگریزی ڈرامے کی روایت کو فکروفن کی نئی بلندیوں سے ہم کنار کیا۔ موصوف نے اپنے پیش رو ڈرامہ نگاروںکی تخلیقی روایات کو یکسرنظر انداز نہیں کیا بلکہ اسے نت نئی جہتوں سے آشنا کیا۔طربیہ ڈرامہ "Arms and the Man" ان کی جدت پسندی کی عمدہ مثال ہے۔تین حصوں پر مشتمل ڈرامہ ’’آرمس اینڈ دی مین‘‘اپنی موضوعاتی وابستگی اور تکنیکی انفرادیت کے سبب قارئین /ناقدین کی توجہ کا مرکز بنا۔مغربی نقادوں اوردانشوروں کے درمیان ان کی اس تخلیقی کاوش کو خاطر خواہ پذیرائی حاصل ہوئی۔ یہ ڈرامہ پلاٹ،کردارنگاری، مکالمہ نگاری، زبان و بیان اور اسلوب کے اعتبار سے خوبصورت فن پارے کی حیثیت رکھتا ہے۔جارج برنارڈ شا نے پلاٹ میں تجسس اور دلچسپی کے عناصر پیدا کرنے کی غرض سے کشمکش/ تصادم سے کام لیا ہے۔ مکالمہ نگاری کے عمدہ نمونے موجود ہیں۔ حسب ضرورت طنزومزاح کے رنگ بھی ہیں۔ اس ڈرامے کے اہم کرداروں میں بلنٹشلی، رینا، سرجیس، میجر میٹکاف، کیتھرین اورلوکا، پلاٹ کی ترنگوں پر ہچکولے کھاتے نظر آتے ہیں۔بلنٹشلی اور رینا ڈرامے کے مرکزی کردار ہیں۔میجر میٹکاف ہیروئن رینا کے والد اورکیتھرین ماں ہیں۔لوکا رینا کے گھر میں نوکرانی  ہے۔

ڈرامے کا آغاز ہیروئن رینا کی خواب گاہ سے ہوتا ہے۔ہیروئن رینا اپنی بالکونی پرتنہا بیٹھے بیٹھے رات کی رومانی فضامیں کھوئی ہوئی ہے۔ڈرامے کی ہیروئن رینا کی ماں کیتھرین تیز تیز قدموں سے چل کراس کی خوا ب گاہ میں داخل ہوتی ہیں۔وہ اسے خوش خبری سناتے ہوئے بتاتی ہیں کہ اس کے منگیتر سرجیس نے اپنے دشمنوں پر فتح حاصل کر لی ہے۔ اس خبر سے ماں بیٹی بے حد جذباتی ہو جاتی ہیں۔تبھی اچانک گلیوں میں گولیوں کی آوازیں سنائی پڑتی ہیں۔رینااور نوکرانی لوکاتیزی سے کھڑکیاں بند کرتی ہیں۔ رینا بلب بجھا کر اپنے بستر پر لیٹ جاتی ہے۔اسی درمیان بلنٹشلی نامی سربیا کا ایک فوجی افسرہاتھ میں پستول لیے اس کی خواب گاہ میں چپکے سے داخل ہوتا ہے۔اسے دیکھ کر رینا گھبرا جاتی ہے لیکن بلنٹشلی کی منت سماجت پروہ اسے پردے کے پیچھے چھپا دیتی ہے۔ بلنٹشلی کی تلاش میں روسی فوج کاایک افسر رینا کے کمرے میں داخل ہوتا ہے اورخالی ہاتھ واپس لوٹ جاتا ہے۔نوکرانی لوکا یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتی ہے۔ تھوڑی دیر بعد بلنٹشلی پردے سے باہر آتا ہے اور رینا سے اپنی حقیقت ظاہر کرتا ہے۔ بلنٹشلی رینا سے بتاتا ہے کہ میںآسٹریا اور سربیا کا نہیں بلکہ سوئٹزرلینڈ کا پیشہ ور فوجی ہوں۔میرے پستول میں گولیاں نہیں تھیں۔وہ کہتا ہے کہ’’ جنگ میں گولیاں بے کار ہوتی ہیں۔ میںہمیشہ کارتوس کی جگہ چاکلیٹ رکھتا ہوں۔‘‘رینا اس کی باتو ںمیں دلچسپی لیتی ہے اور اسے چاکلیٹ کا ڈباتھما دیتی ہے۔ بلنٹشلی چاکلیٹ کھاکر اسے ڈبا لوٹا دیتا ہے۔رینا اوربلنٹشلی کے درمیان فوج اور جنگ کے متعلق باتیں ہوتی ہیں۔رینا بلنٹشلی سے کہتی ہے کہ ہمارے فوجی ایسے بالکل نہیں ہیں۔ بلنٹشلی اس کے فوجیوں کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ بیوقوف اور ناتجربہ کار ہیں۔ دوران گفتگو رینااسے اپنے منگیتر سرجیس کی تصویردکھاتی ہے۔تصویر دیکھتے ہی بلنٹشلی اسے پہچان لیتا ہے۔ بلنٹشلی سرجیس پر طنز کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اس نے دھوکے سے فتح حاصل کی ہے۔رینا کو اپنے منگیتر سرجیس کی تذلیل بالکل پسند نہیں۔ رینا اس سے بے حد محبت کرتی ہے۔اس لیے وہ بلنٹشلی کی باتوںسے ناراض ہو تی ہے۔لیکن وہ بلنٹشلی کی میزبانی اور خاطر تواضع میں کوئی کمی نہیں کرتی۔رینا بلنٹشلی کو Chocolate Cream Soldier" " کہہ کر پکارتی ہے۔

ڈرامے کے دوسرے باب کا آغاز میجر میٹکاف کے باغ میں ہوتا ہے۔ میجر میٹکاف ڈرامے کی ہیروئن رینا کے والد ہیں۔وہ جنگ سے واپس ہوتے ہیں۔میجر میٹکاف اپنی بیوی کیتھرین سے جنگ کے متعلق گفتگو کرتے ہیں۔صلح کی بات سن کرکیتھرین کوذرا بھی خوشی نہیں ہوتی۔ان کی خواہش تھی کہ جنگ کے ذریعے سربیا پر اختیار حاصل کیا جائے۔ٹھیک اسی درمیان سرجیس کی آمد ہوتی ہے۔کیتھرین محبت آمیز انداز میں اس کا استقبال کرتی ہیں۔ انھیں اپنے ہونے والے داماد سرجیس پر ناز ہوتا ہے۔ سرجیس اداس اداس نظرآتا ہے۔کیتھرین اداسی کی وجہ پوچھتی ہیں تو وہ بتاتاہے کہ غلط طریقے سے جنگ جیتنے کی وجہ سے اس کا پرموشن نہ ہو سکا۔اس لیے اس نے استعفا دے دیاہے۔بلنٹشلی کا جنگ سے بھاگ نکلنے کے متعلق بھی باتیں ہوتی ہیں۔اسی درمیان ہیروئن رینا اور سرجیس ایک دوسرے سے تنہائی میںملتے ہیں۔دونوں میںپیار محبت بھری باتیں ہوتی ہیں۔ڈرامے میں جگہ جگہ داخلی کشمکش/ تصادم بھی نظر آتا ہے۔ نوکرانی لوکا سرجیس اوررینا کے درمیان دراڑیں ڈالنے کی کوشش کرتی ہے اور کامیاب بھی ہو تی ہے۔لوکا سرجیس سے بلنٹشلی اور رینا کی ملاقات کا ذکر کرتی ہے۔وہ سرجیس سے کہتی ہے کہ دونوں ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔ سرجیس نوکرانی لوکا کی باتوں پر اعتبارکرلیتا ہے۔وہ اب لوکا میں دلچسپی لیتا ہے۔ ان چاروں کرداروںکے درمیان غضب کی رقابتیں چلتی ہیں۔

جارج برنارڈ شا نے واقعات و کردار کی تشکیل میں فنی مہارت کا ثبوت پیش کیا ہے۔ ڈرامے کے کرداروں کی آپسی کشمکش اوررقابت سے پلاٹ میں تجسس کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔جارج برنارڈ شانے کرداروں کے حرکت وعمل سے جگہ جگہ طنزیہ ومزاحیہ فضا تخلیق کی ہے۔ان کے بیشترکردار وںکے قول وعمل میں تضاد نظر آتا ہے۔ ہیروئن رینا اپنے منگیتر سرجیس کو چھوڑ کربلنٹشلی سے شادی کر لیتی ہے جبکہ سرجیس کی زندگی کی ڈور نوکرانی لوکا سے جڑ جاتی ہے۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اس ڈرامے کا بنیادی موضوع عشق،محبت اور جنگ ہے۔جارج برنارڈ شا نے پلاٹ اور کرداروںکا تانا بانا عشق اور جنگ کے توسط سے ہی بنا ہے۔ڈرامہ نگار نے اس ڈرامے کے ذریعے محبت اور جنگ کو فلسفیانہ انداز میں پیش کیا ہے۔ظاہر ہے کہ ان کا تعلق نہایت پرآشوب دور سے رہا ہے۔ انہوں عالمی جنگوں کے الم ناک نتائج کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ اس لیے انھوں نے اپنی بیشتر تخلیقات میں جنگوں کا مذاق اڑایا ہے۔ان کا خیال ہے کہ گولیاں انسانی دکھ درد کا پیش خیمہ ہوتی ہیں۔ انسانی خوشیوں اور امیدوں سے ان کا کوئی واسطہ نہیں۔ جارج برنارڈ شا محبت کے ترانوں میں زندگی کی خوشحالی اور کامیابی تلاش کرتے ہیں۔انھیں عشق کا افلاطونی نظریہ اور شدید جذباتیت پسند نہیں۔بلکہ ان کے یہاں ایک نوع کی متانت اور سنجیدگی نظر آتی ہے۔ اس لیے ان کے کردار جنگ سے گھبراتے ہیں اور محبت کی گھنی چھاؤں میں پناہ لیتے ہیں۔ڈرامے کا ہیرو بلنٹشلی اس کی عمدہ مثال ہے۔ جارج برنارڈ شا ایک حقیقت نگار ادیب ہیں۔ وہ زندگی کی سچائیوں سے آنکھ نہیں چراتے۔ انھوں نے انسانی سماج کو طبقاتی کشمکش کے برعکس مثبت اور صالح قدروں کا پیغام دیا ہے۔لوکا نوکرانی ہے جبکہ سرجیس کا تعلق سماج کے اعلی طبقے سے ہے لیکن دونوں رشتہ ازدواج میں بندھ جاتے ہیں۔

روایت شکن مغربی قلم کار جارج برناڈ شا نے انگریزی ڈرامے کی دنیا کوفکروفن کی نئی راہوں پر گامزن کیا۔ جارج برنارڈ شاکے ڈراموں میںان کی تخلیقی جدت پسندی اورفکری انفرادیت آشکارا ہے۔ "Arms and the Man" انگریزی زبان وا دب کا ایک لافانی فن پارہ ہے۔معروف مغربی نقاد George Orwell  نے ’آرمس اینڈ دی مین‘ کو جارج برناڈ شا کے فن کی معراج قرار دیتے ہوئے لکھا ہے"Arms and the man was written when Shaw was at the height of his powers as a dramatist."  یہ ڈرامہ ہمیںانسانی زندگی کے فلسفیانہ شعور اور نفسیاتی آگہی سے آشنا کرتا ہے۔ اس ڈرامے سے جارج برناڈ شا کی تخلیقی تہہ داری، فکری ہمہ جہتی اورفنی باریک بینی کا بخوبی احساس ہوتا ہے۔


 

Dr Mahboob Hasan

Asst. Professor, Department of Urdu

Deen Dayal Upadhyay Gorakhpur

University, Gorakhpur- 273009 (UP)

Mob.: 8527818385

 

 


اکیسویں صدی کی شاعرات بنگالہ اور تانیثی ڈسکورس - مضمون نگار: سعدیہ صدف

 



عورت قدرت کا حسین شاہکار ہے ۔ اس کا وجود فطرت کی دلکشی کا مظہر ہے۔ عورت، خاندان میں پائیدار ترقی اور معیار زندگی کی کلید ہے۔ انسان کو خدا نے اشرف المخلوقات بنایا ہے لیکن ماں کا درجہ اس سے بھی زیادہ ہے۔ماں ہونا ایک خدائی اعزاز ہے جو صرف اور صرف عورتوں کو ہی حاصل ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر اقبال نے کہا تھا       ؎

وجودِ زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں

گرچہ ایک طویل مدت تک عورت کو اس کے حقوق سے دور رکھا گیا۔اسے آزادیِ اظہار کے لیے ناقابل اعتنا سمجھاگیا۔ فطرت کی اس معاون کے ساتھ کب تک یہ جبر جاری رہتا ؟آخر وہ وقت آیا جب عورتیں جسم سے ہٹ کر بھی دیکھی گئیں۔انھیں بھی شعور سے پیراستہ سمجھاگیا۔ اور انھیں مزید خود مختار بنانے کے لیے زیورِتعلیم سے آراستہ کر کے اپنے فیصلے لینے کے لائق بنانے کا عمل شروع ہوا۔ اس طرح خواتین کے حوصلے بلند ہوتے گئے اوراب وہ سماج میں اپنی شناخت کے ساتھ موجود ہیں۔کیونکہ عورت صرف ثانوی جنس نہیں بلکہ معاشرے کی اکائی کا مساوی حصہ ہے۔ آج women empowerment  بھی معاشرے کا اہم موضوع بحث ہے اور کیوں نہ ہو آخر خواتین اب کسی سے پیچھے نہیں رہیں۔تعلیمی ادارے ہوں‘ کھیل کی دنیا ہو یا دفتری معمولات ‘ ہر جگہ تانیثیت تذکیریت پر حاوی نظر آتی سہے۔ یہاں پدری و مادری نظام سے بحث مقصود نہیں۔یہاں مقصد اکیسویں صدی میں خواتین کی شعوری و فکری ارتقا کی ترجمانی ہے۔

اس تیزرفتار دور میں خواتین بھی وقت کی نباض بن چکی ہیں۔اب وہ نہ صرف خود کفیل ہیں بلکہ سربراہی بھی کررہی ہیں۔ادب کے حوالے سے بھی اپنی شناخت قائم کررہی ہیں اور اپنی تخلیقات کے ذریعے دنیا کو اپنی منفرد فکر سے حیران بھی کررہی ہیں۔ جو اس بات کا اعلانیہ ہے کہ لو اب ہم نے بھی اپنی زباں کھول دی ہے !۔یہ اور بات کہ عورت کی بے باکی اور اس کی smartness   کو معاشرے کے تنگ نظرافرادبے شرمی سے تعبیر کرتے ہیں۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ خواتین کی ترقی سے خوش نہیں۔ مگر اب وفا و اخلاص کی یہ پتلی زمانے سے آنکھیں ملانے کا حوصلہ رکھتی ہے۔ضرورت پڑنے پر یہ چنڈی، کالی اور درگا کا روپ بھی دھارنا جان چکی ہے۔

زندگی کے تمام شعبوں میں عورت اپنے ہنر کے اختصاص کے ساتھ موجود ہے۔ ادب کی دیگر اصناف کی طرح شاعری میں اور بالخصوص غزلیہ شاعری میں خواتین، نسوانی جذبات کی عکاسی خوب خوب کررہی ہیں۔ اردو کی پہلی صاحب دیوان شاعرہ ماہ لقا بائی چندا سے لے کر پروین شاکر تک،شاعرات کی کم سہی لیکن تعداد موجود رہی ہے۔ہر زمانے میں شاعرات نے اپنے عہد کے تقاضوں کے تحت شاعری کی ہے۔ ابتدا میںخواتین کی شاعری میں صرف ہجرو وصال، بے وفائی اور تصوف کے موضوعات ملتے تھے۔تضادات زمانہ سے خواتین بھی متاثر ہوئیں۔ اور انھوں نے ان موضوعات کے ساتھ زندگی کے دیگر مضامین کو بھی اپنی شاعری میںجگہ دی۔یعنی اب شاعرات نے غزلوں میں اپنے جذبات و احساسات کی ترجمانی شروع کردی تھی۔ان روایت شکن شاعرات میں پروین شاکر، کشور ناہید، سارا شگفتہ، ساجدہ زیدی اور فہمیدہ ریاض وغیرہ کے نام سر فہرست ہیں۔

بنگال میں اٹھارہویں صدی سے شاعری کے نقوش ملتے ہیں۔ شعرا کے زیر اثر خواتین نے بھی اپنے جذبوں کی طغیانی کو شعری صورت دینا شروع کیا۔ کہا جا تاہے کہ بنگال کی پہلی شاعرہ شرف النسا ہیں۔ لیکن موجودہ تحقیق کے مطابق بنگال کی اولین صاحب دیوان شاعرہ ہونے کا اعزاز واجد علی شاہ کی زوجہ عالم آرا بیگم کو حاصل ہے۔ یکے بعد دیگرے شاعرات اپنے خیالات کو پیش کرتی رہیں۔ ضابطے کی پیروی کرتے ہوئے یا اس سے انحراف کرتے ہوئے خواتین بر سر اظہار رہیں۔ اکیسویں صدی کی شاعرات قدما  سے مختلف ہیں۔ ان کے یہاں غزل کی کلاسیکیت کے ساتھ عصری شعور کی عکاسی بھی موجود ہے۔ ذیل میں مغربی بنگال کی نمائندہ شاعرات کے فکری سوتے ملاحظہ فرمائیں۔

1       نغمہ نور

مغربی بنگال کی شاعرات میں نغمہ نور اپنی شوخی کے سبب جانی جاتی ہیں۔ نغمہ کی شاعری اپنے آس پاس کے ماحول کا احاطہ کرتی ہے۔ متوسط طبقہ اور اس کے مسائل ان کی شاعری میں موجود ہیں         ؎

ہیں نغمہ اپنی روٹیاں سب سینکنے والے

کہ دل میں جذبۂ خدمات اردو کون رکھتا ہے

نغمہ کے یہاں پراعتمادی کاجذبہ بھی ہے۔ جو ان کے عزائم و بلند حوصلگی کو ظاہر کرتا ہے۔عورت ہونا جن کے نزدیک کمزوری ہے ان کے لیے نغمہ کے یہ اشعار ہی کافی ہیں         ؎

میرے آنسو مجھے کمزور نہیں کرسکتے

ہمت و عزم کی اک آ ہنی دیوار ہوں میں

میرے مضبوط ارادوں کا کرشمہ ہے یہ

اک دیا میں نے ہتھیلی پہ جلا رکھا ہے

اب ان کا یہ شعر دیکھیں جو ترقی پسند مزاج خواتین کے رویے کو ظاہر کرتا ہے۔اکیسویں صدی میں جہاں کئی ملکوں میں عورتوں کی حالت بدلی ہے وہاں اب بھی کئی ایسے ممالک موجود ہیں جہاں عورت آج بھی اپنی شناخت کی تلاش میں سرگرداں ہے۔نغمہ نے اسی موضوع کے تحت اس شعر میں ان خواتین کی حمایت کی ہے۔کہ عورت بھی کھلے آسمانوں کی حقدار ہے        ؎

کھلے موسم میں اڑنے کا مزہ کچھ اور ہوتا ہے

حصارِ قید میں رہ کر تو پر اچھا نہیں لگتا

نسوانیت سے بھر پور یہ شعر ملاحظہ فرمائیں جس میں فطری جذبے کا موثر اظہار ملتا ہے      ؎

خود کو محسوس میں کرتی ہوں مکمل عورت

جب مرا بچہ لپٹ جاتا ہے آنچل کی طرح

2       شگفتہ یاسمین غزل

شگفتہ یاسمین غزل نے اپنے انفرادی رنگ سے شاعری کی دنیا میں جگہ بنائی ہے۔ان کے یہاں ایک عورت کی بلند نظری، رواداری، اعتماد اور زمانے کے تضادات سے آنکھیں ملا نے اور مقابلہ کرنے کا حوصلہ ملتا ہے۔ ان کا یہ شعر ملاحظہ کریں جو عورت کی خودکفالت پر دال ہے       ؎

کنواں کھود سکتی ہوں اپنے لیے میں

مجھے بادلوں کی ضرورت نہیں ہے

شگفتہ کی شاعری میں جہاں خود کفیل عورت زمانے کے سردو گرم سے نبرد آزما ہوتی نظر آتی ہے وہاں اس کے حوصلے میں تیور بھی شامل ہے۔اب عورت کو مرد کے بغیر بھی جینا آگیا ہے اور وہ اس بات کا اظہار کرنے کا ہنر بھی رکھتی ہے۔ ذیل کے اشعار اس بات کے غماز ہیں          ؎

اب کے روٹھے تو صنم تم کو منائیں گے نہیں

ہم بھی تیار ہیں اب خود کو بدلنے کے لیے

غزل کی شاعری کا وصف ہے سب سے جداگانہ

ادا سے‘فکر سے‘اسلوب سے‘ جدت سے‘ تیورسے

حوصلے کی انتہا تو دیکھیے کہ عورت رواداری کے ساتھ بھی اپنا بھرم قائم رکھنا جانتی ہے        ؎

گھر سے باہر اوڑھ لے تو مسکراہٹ کی ردا

آنسوؤں سے بھیگے تکیے چار دیواری میں رکھ

3       صابرہ حنا

عصر حاضر کی شاعرات میں صابرہ حنا بھی نمائندہ ہیں۔ ان کے یہاں عورت کا عزم،اس کی فکر اور اس کا زاویۂ نظر موجود ہے۔یعنی وہ اوروں کے بنائے اصولوں پہ اکتفا نہیں کرتی بلکہ اس کا اپنا شعور بھی ہے جو اسے غور و خوض کی دعوت دیتا ہے اور اپنی راہ کاتعین بھی کرواتا ہے۔مجاز نے کہا تھا      ؎

ترے ماتھے پہ یہ آنچل بہت ہی خوب ہے لیکن

تو اس آنچل سے اک پرچم بنا لیتی تو اچھا تھا

صابرہ کہتی ہیں         ؎

مرے ہاتھوں میں وہ پرچم تھما کر

مرے ماتھے پہ آنچل ڈھونڈتا ہے

خواتین کی جانب سے آزادیِ اظہار کا بیان اس شعر میں صابرہ صاحبہ کس سلیقے سے کرتی ہیں          ؎

برس پڑے مرے تپتے وجود پر آخر

ہے آرزو کہ وہ چھوٹا سا ابر پارہ ہو

یہ دوشعر ملاحظہ فرمائیں جن میں حوصلے کی اڑان دیدنی ہے       ؎

غم کا طوفان کیا بگاڑے گا

دل میں جب تک ہے حوصلہ باقی

نہ بال و پر میں ہے سستی نہ حوصلے میں کمی

مری حیات مسلسل ابھی اڑان میں ہے

4       سلمیٰ سحر

عصر حاضر کی شاعرات میں سلمیٰ سحر اپنی خوبصورت نسائیت سے بھر پور شاعری کے سبب جانی جاتی ہیں۔ نسائیت سے بھر پور اور بے باک اظہار کا حامل ان کا یہ شعر دیکھیں         ؎

صبا نے‘گل نے‘ کلی نے‘مجھے چھوا لیکن

تمھاری طرح کسی نے نہیں چھوا مجھ کو

عورت کو ہمیشہ جسم کی حد تک دیکھنے والوں کو سلمیٰ نے کیاخوبصورت انداز میں اس شعر کے ذریعے طنز کیا ہے کہ سرسری نگاہ سے نہیں ہمیں توجہ سے پڑھنے کی ضرورت ہے      ؎

نگاہ جس نے بھی ڈالی ہے سرسری ڈالی

کہاں کسی نے توجہ سے ہے پڑھا مجھ کو

5       زرینہ ذریں

زرینہ زریں کا اختصاص یہ ہے کہ ان کے یہاں مابعد جدید رنگ کلاسیکی رنگ سے ہم آمیز نظر آتا ہے۔ ساتھ ہی خیالات کی بلندی،ہمت اور حوصلے کا پیغام دیتی نظر آتی ہے۔ اس حوالے سے مغربی بنگال کے ادبی حلقوں میں آپ کا نام محترم ہے۔ چند اشعار اس ضمن میں ملاحظہ ہوں          ؎

فضا میں تھے ریت کے بگولے

سمجھ رہے تھے کہ آسماں ہے

دوستوں نے مل کے کی تھیں سازشیں

یہ نیا سا تجربہ اچھا لگا

آسماں سے جس گھڑی بجلی گری اچھی لگی

آشیاں میرا ‘جلا ان کی ہنسی اچھی لگی

6       ریحانہ نواب:

ریحانہ نواب ستر کی دہائی سے شاعری کررہی ہیں۔ ان کی شاعری نجی تجربات کا عکس پیش کرتی ہے۔اعلیٰ ظرفی، بلند حوصلگی، ذاتی کرب ان کی شاعری کے خاص موضوعات ہیں۔ان کے یہاں عورت اپنی تمام محرومیوں اور مجبوریوں کے ساتھ موجود نظر آتی ہے        ؎

دامن کی کشیدہ کاری پر دنیا کی نگاہیں ہیں لیکن

یہ کس کو پتہ ہے پھولوں سے دھبوں کو چھپایا جاتا ہے

منزل پہ پہنچنے کی قسم کھائی ہے ہم نے

کچھ غم نہیں رسنے لگے گر پاؤں کے چھالے

نجی تجربا ت کو سلیقے سے اپنی غزلوںمیں سمونے سے شاعرہ خوب خوب واقفیت رکھتی ہیں         ؎

میں جو ٹوٹ کر گری ہوں تو سبب ہے ٹوٹنے کا

نہ لچک ہو جس میں کوئی وہی شاخ ٹوٹتی ہے

ان کی غزلوں کے مطالعے سے یہ بھی آشکارا ہے کہ مجبور و محروم عورت جب اپنی ضد پہ آجائے تو وہ اپنے محبوب سے بدلہ لینے کا حوصلہ بھی رکھتی ہے۔یہ وصف روایت سے بغاوت کی علامت بن جاتا ہے۔ اشعار ملاحظہ ہوں          ؎

غیروں کی طرح اس سے سلوک اب کے کریں گے

اس بار ملے گا تو مروت نہ کریں گے

جو میری پیاس کو سمجھے‘جو میرا ظرف پہچانے

ہے جتنی پیاس مجھ کو اتنا پیاسا کوئی تو ہوگا

7       کوثر پروین کوثر

کوثر صاحبہ کلاسک کی گرویدہ نظر آتی ہیں۔ ان کی فکر کلاسک سے کچھ یوں ہم آہنگ ہوئی ہے کہ ان کے تجربات اسی پیکر میں ڈھل کر صفحۂ قرطاس پر نمو پاتے نظر آتے ہیں۔عشق و محبت، ہجر و وصال، خواہش الفت،جہد و عمل، طنز، تلمیح و تصوف،عقل و دل کی کشمکش اور حالات حاضرہ کا بیان ان کی غزلوں کے خاص موضوعات ہیں جنھیں وہ استعاراتی انداز میں کامیابی کے ساتھ غزلوں میں پیش کردیتی ہیں          ؎

اب ہواؤں کو جھیلیے کوثر

آپ نے شمع کیوں جلائی ہے

نور جیسے دلوں سے غائب ہو

چہرہ چہرہ بجھا سا لگتا ہے

کوثر پروین روایت کی امین ہیں۔خالص کلاسیکی انداز کے چند اشعار دیکھیں جس سے اس بات کی تصدیق ہوجاتی ہے     ؎

کوثر یہی تو زندہ کرامت ہے شیخ کی

پی عمر بھر شراب مگر پارسا رہا

اجنبی ہے نہ آشنا کوئی

دور تک بے کسی کے سائے ہیں

پی کے کوثربھی جام ِبے خودی

آج پیرِ مغاں ہوگئی

8       شہناز نبی

شہناز نبی، مغربی بنگال میں اردو غزل کو متنوع موضوعات سے رنگا رنگ کرنے والی شاعرہ ہیں۔ کون سا موضوع ہے جو ان کے قلم سے بچ سکا ہے۔کلاسیکی رنگ ہو کہ جدید موضوعات کا بیان، ذاتی انتشار ہو یا محرومی کا بیان،ان کے یہاں سب موجود ہے۔عشق کے معاملات میں ان کے یہاں عام شاعرات سی کیفیت نہیں ملتی۔آپ بچھڑنے کے بعد بھلانا بھی جانتی ہیں اور آگے بڑھنا بھی۔ یعنی ان کے یہاںمحبوب کا شکوہ مفقود ہے۔شکوہ کسی صورت میں ہے بھی تو خدا سے ہے۔ اس سلسلے میں یہ شعر ملاحظہ کریں          ؎

قسام ازل نے بڑی خست ہے دکھائی

جنت رکھی قدموں میں جہنم سے گزارا

شاعرہ نے تانیثیت کے تمام پہلووں کو اپنی شاعری میں سمو دیا ہے۔ ان کی شاعری میں عورت کا باغی روپ بھی نظر آتاہے اور بغیر مردکے سہارے کے اپنے فیصلے لینے کا حوصلہ بھی ملتا ہے۔ان کے یہاں عورت نہ صرف خود مختار و خود کفیل ہے بلکہ اپنی سمت بھی متعین کرنا جانتی ہے          ؎

مٹاتی اور لکھتی ہوں نوشتہ اپنی قسمت کا

کسی تقدیر کی تقدیر ہونے سے ہراساں ہوں

اک آبجو کہ جو تھی اسیرِ محیط وہ

بہنے لگی ہے اپنی طرح سے طلاق میں

جذبات کے اظہار میں مرد اور عورت کے درمیان کشمکش اب ختم ہوچکی ہے۔ پہلے کبھی خواتین اپنے جذبات کو بے باکی سے بیان کرنے سے قاصر ہوا کرتی تھیں۔ لیکن تانیثیت کی لہر نے خواتین کے اندر پوشیدہ عناصر کو کچھ اس طرح مہمیز کیا کہ وہ نہ صرف روشن ہوئیں بلکہ معاملات اظہار میں مردوں پہ سبقت بھی لے گئیں          ؎

ہم نے بھی تو لفظوں میں نئے رنگ بھرے ہیں

اک تم ہی رہو در پئے اظہار بہت خوب

گلوبل ولیج میں سانس لیتے انسان کی زندگی مشینوں کی مرہون منت بن چکی ہے۔ ایسے میں صنعت کاری کی تیز رفتاری نے نہ صرف فطرت کی خوبصورتی کو متاثر کیا ہے بلکہ انسانی صحت پر بھی مضر اثرات مرتب کیے ہیں۔ شاعرہ کی حساس فکر اس کی ترجمانی یوں کرتی ہے         ؎

چاروں طرف دھوئیں کی بڑھتی ہوئی لکیریں

یہ شہر ہے کہ جیسے شمشان ہورہا ہے

شہناز نبی عصری میلانات سے ہم آہنگ ہیں۔وہ عورتوں کے ساتھ روا مظالم کے خلاف احتجاجی صدا بلند کرتی ہیں۔انھیں عورت کی ہنر مندی کا احساس ہے جو کہیں نہ کہیں چولہے چوکے کی نذر ہوجایا کرتی ہے۔ ایسی عورتوں کی آواز ان کی آواز میں سنائی دیتی ہے جو کچھ کر گزرنے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔ جو روایت سے بغاوت کرنا جانتی ہیں۔ درج ذیل اشعار اسی تیور کے حامل ہیں           ؎

چوکا‘ چکی‘ نل اور کل

کب تک برتن باسن میں

مجھے اپنا چہرہ ابھی یاد ہے

ہٹو‘ آئینہ مت دکھاؤ مجھے

ان مثالوں سے صاف ظاہر ہے کہ اکیسویں صدی کی شاعرات ِ بنگالہ کا تانیثی ڈسکورس کس قدر واضح اور بیباک ہے۔یہ خواتین نہ تو زمانے سے ڈرتی ہیں نہ ہی اس کے ضابطے کی اندھی تقلید کرنا چاہتی ہیں۔ بلکہ وہ اپنی الگ راہ اختیار کرچکی ہیں اور اسی ڈگر پر اپنے آپ کو پانے کی آرزو مند ہیں یا یوں کہیے کہ خود کوپا چکی ہیں۔موجودہ معاشرے کی خاتون تخلیق کاروں کی self discovery  کے تناظر میں شہناز نبی صاحبہ اپنی کتاب ’تانیثی تنقید‘ میں لکھتی ہیں:

’’خواتین کی تخلیقی حسیت کا جائزہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ عورتیں بہ حیثیت قلم کار خود کو دریافت کرچکی ہیں۔‘‘

(تانیثی تنقید: شہناز نبی،  ص64، کلکتہ یونیورسٹی، کولکاتا، 2009)

مختصر یہ کہ اکیسویں صدی کے تیور سے ہماری شاعرات ہم آہنگ ہیں۔ مزاج کے اختلاف کے باوجود ان کے یہاں،عصری مسائل کی عکاسی، تشکیک،تشخص کا بحران، جیسے مسائل موجود ہیں۔تانیثیت کے مسائل و مباحث بھی ان کے زیر نظر رہے ہیں۔ یہ اور بات کہ شعوری یا غیر شعوری طور پر اس کااظہار کیا جاتا رہا ہے۔ عصر حاضر میں عورت کی زندگی، اس کے مسائل، اس کی خواہشات کی تکمیل اور عدم تکمیلیت کسی نہ کسی صورت میں ان شاعرات کے یہاں مل جاتی ہیں۔ گرچہ کسی کے یہاں عصری شعور کی بہتات ہے تو کسی کے یہاں ذاتیات کا بیان زیادہ ہے۔ کوئی کلاسیکیت سے ہم آہنگ ہے تو کسی کے حوصلے کی بلندی اپنی طرف مائل کر لیتی ہے۔ بعض خواتین نے ان تمام موضوعات کو احاطۂ تحریر میں لے لیا ہے جن پر صرف مرد کی نظر ہی جا سکتی تھی۔  شاعرات اپنی اپنی سطح پر کوششیں کررہی ہیں۔ کچھ کے یہاں روایت کی توسیع ہے تو کچھ شاعرات کے یہاں امکانات روشن ہیں۔


 

Sadia Sadaf

Research Scholar, Dept of Urdu

Aliah University

Kolkata- 700156 (West Bengal)




تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...